Horain Aur Star,s حورین اور تاروں

حورین ایک چھوٹی سی لڑکی تھی جو اپنے نانا کے ساتھ ایک پہاڑی کے اوپر رہتی تھی۔ رات کے وقت وہ آسمان میں تاروں کو دیکھتی اور سوچتی کہ کاش وہ ان تاروں سے کھیل سکتی۔

ایک رات، حورین نے دیکھا کہ ایک تارہ ٹوٹ کر ان کے باغ میں گر گیا ہے۔ وہ دوڑتی ہوئی باہر گئی تو دیکھا کہ ایک چھوٹا سا تارہ زمین پر پڑا ہلکی سی روشنی دے رہا ہے۔

تارہ بولا: “ہیلو حورین! میں آسمان سے گر گیا ہوں۔”

حورین نے پوچھا: “کیا میں تمہاری مدد کر سکتی ہوں؟”

تارہ مسکرایا: “ہاں! اگر تم مجھے واپس آسمان پر پہنچا دو گی تو میں تمہیں ایک انعام دوں گا۔”

حورین نے اپنی چادر میں تارہ لپیٹا اور پہاڑ کی چوٹی پر چڑھने لگی۔ راستے میں اسے اکیلے چڑھنا مشکل لگ رہا تھا۔

تب اسے ایک چیونٹی ملی جو اپنے لیے راستہ ڈھونڈ رہی تھی۔ حورین نے اسے اپنی انگلی پر چڑھا کر سہی راستہ دکھایا۔

تھوڑی دیر بعد اسے ایک بھوکا خرگوش ملا۔ حورین نے اسے اپنا آدھا کھانا دے دیا۔

جب وہ پہاڑ کی چوٹی پر پہنچی، تارے نے کہا: “تم نے دوسروں کی مدد کی، اب میں تمہیں انعام دوں گا۔”

تارے نے اپنی چادر جھٹکی اور اس میں سے ہزاروں چھوٹے تارے نکلے۔ وہ سب مل کر آسمان میں ایک نیا تارا منڈل بنا گئے۔

تارا بولا: “یہ تمہارے لیے ہے۔ اب تمہارے پاس اپنا خود کا تارا منڈل ہے۔”

اگلی رات، جب حورین نے آسمان کی طرف دیکھا، تو اسے ایک نیا چمکتا ہوا تارا منڈل دکھائی دیا۔ وہ جان گئی کہ دوسروں کی مدد کرنے سے ہمیں سب سے بڑا انعام ملتا ہے۔

**سبق**: مہربانی اور دوسروں کی مدد کرنا ہمیں سب سے خوبصورت تحفہ دیتا ہے۔

**ختم**

5 1 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments
error: Content is protected !!
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x