Blue Queen Kids Story نیلی ملکہ

ایک دفعہ کی بات ہے، ایک دور دراز کے برفیلے جنگل میں، ایک جادویی ملکہ رہتی تھی جس کا نام ایلارا تھا۔ وہ موسم سرما کی دیوی کی بیٹی تھی، نیلی لباس میں ملبوس، سر پر فر کی ٹوپی اور ہاتھ میں سونے کا عصا لیے۔ اس کے سنہرے بال ہوا میں لہراتے تھے، اور اس کی آنکھیں برف کی طرح چمکتی تھیں۔

ایلارا کے پاس تین جادویی گھوڑے تھے – تین بھائی جو ایک ہی روح سے جڑے ہوئے تھے۔ وہ روسی طرز کی ٹروئیکا کی طرح تھے، تینوں ایک ساتھ دوڑتے، لیکن کوئی سلیج نہیں کھینچتے۔ ایلارا ان تینوں پر بیک وقت سوار ہوتی، ایک کے بیچ میں اور دوسرے دونوں طرف۔ گھوڑے برف پر تیز رفتار سے دوڑتے، ہوا کو چیرتے ہوئے۔

ایک دن، ملکہ ایلارا کو خبر ملی کہ اس کے ملک پر ایک بڑا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ سمندر کی دیوہیکل لہر، جو جادو سے پیدا ہوئی تھی، برفیلے جنگلوں کی طرف بڑھ رہی تھی۔ یہ لہر موسموں کو الٹ پلٹ کر دے گی، سرما کو ختم کر کے ہمیشہ کی بہار لا دے گی – لیکن اس کی قیمت بہت زیادہ تھی، کیونکہ یہ لہر تباہی بھی لائے گی۔

ایلارا نے فیصلہ کیا کہ وہ خود اس لہر کا مقابلہ کرے گی۔ وہ اپنے تین وفادار گھوڑوں پر سوار ہوئی، جن کے پٹے سونے اور جواہرات سے سجے ہوئے تھے۔ گھوڑے برف پر گرجتے ہوئے دوڑے، برف کے فوارے اڑاتے ہوئے۔ پیچھے سے وہ دیوہیکل لہر آ رہی تھی – نیلی اور سفید، برف اور پانی کی آمیزش، آسمان کو چھوتی ہوئی۔

ایلارا نے اپنا عصا اٹھایا اور جادو کیا۔ اس کی طاقت سے لہر رک گئی، برف میں تبدیل ہو کر پھیل گئی۔ لہر اب ایک خوبصورت برفیلی دیوار بن گئی جو جنگل کی حفاظت کرتی تھی۔ ایلارا اور اس کے گھوڑے واپس لوٹے، فاتح بن کر۔

اس دن سے، لوگ کہتے ہیں کہ جب برفیلے طوفان میں تین گھوڑوں کی آواز سنائی دے اور نیلی لباس والی ملکہ نظر آئے، تو جان لو کہ سرما کی دیوی اپنے ملک کی حفاظت کر رہی ہے۔ اور وہ دیوہیکل لہر اب بھی دور افق پر کھڑی ہے، یاد دلاتی ہوئی کہ طاقت اور خوبصورتی ایک ساتھ ہو سکتی ہیں۔

ختم۔

نوٹ / Note:

آپ کا نام اور *ای میل* محفوظ ہیں اور کسی بھی صورت میں پبلک نہیں کیے جائیں گے۔

براہِ کرم ناول پڑھنے کے بعد اپنا قیمتی کمنٹ ضرور کریں۔
آپ کی رائے ہمارے لیے بہت اہم ہے اور لکھاری کی حوصلہ افزائی کا باعث بنتی ہے۔
Your *name* and *email* are secure and will not be shown

Please make sure to leave your valuable comment after reading the novel.
Your feedback is very important to us and motivates the writer. to other users.

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments
error: Content is protected !!
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x