رات کی تاریکی میں ایک پرانا پتھریلا گھر تھا، جس کی چھت پر گھاس اگی ہوئی تھی۔ آسمان ستاروں سے بھرا ہوا تھا، اور ایک لالٹین کی مدھم روشنی دیوار پر پڑ رہی تھی۔
گھر کے سامنے ایک سیاہ گھوڑا کھڑا تھا، جس پر ایک نوجوان شہزادہ سوار تھا۔ وہ قدیم زمانے کے لباس میں ملبوس تھا – سرخ کوٹ، سفید شرٹ اور ٹوپی۔ شہزادہ گھوڑے پر بیٹھا اوپر دیکھ رہا تھا، جہاں گھر کی کھڑکی سے ایک خوبصورت لڑکی جھک کر باہر دیکھ رہی تھی۔
لڑکی کے لمبے سیاہ بال کھڑکی سے لٹک رہے تھے، جو زمین تک پہنچ رہے تھے۔ وہ بال ایک رسی کی طرح نظر آ رہے تھے، اور شہزادہ انہیں پکڑ کر اوپر چڑھنے کی تیاری کر رہا تھا۔ لڑکی مسکرا رہی تھی، اور اس کی آنکھوں میں محبت جھلک رہی تھی۔
راپنزل ایک خوبصورت لڑکی تھی جسے ایک ظالم جادوگرنی نے ایک اونچے برج میں قید کر رکھا تھا۔ برج کا کوئی دروازہ نہ تھا، صرف ایک کھڑکی۔ جادوگرنی روزانہ آتی اور کہتی: “راپنزل، راپنزل! اپنے بال لٹکا دو!” اور راپنزل اپنے لمبے سنہری بال نیچے لٹکا دیتی، جن سے جادوگرنی اوپر چڑھ جاتی۔
ایک دن ایک شہزادہ جنگل سے گزرا تو اس نے راپنزل کی خوبصورت آواز سنی۔ وہ برج کے پاس آیا، جادوگرنی کا طریقہ دیکھا، اور رات کو خود آیا۔ راپنزل نے اسے بھی بالوں سے اوپر چڑھنے دیا۔ دونوں کو ایک دوسرے سے پیار ہو گیا۔ شہزادہ روز آتا، اور وہ فرار ہونے کا منصوبہ بناتے۔ راپنزل ریشم کی سیڑھی بنانے لگی تھی، اور فرار کے بعد شہزادہ اسے اپنے گھوڑے پر بٹھا کر لے جاتا۔
لیکن جادوگرنی کو پتہ چل گیا۔ اس نے راپنزل کے بال کاٹ دیے اور اسے جنگل میں پھینک دیا۔ جب شہزادہ آیا تو جادوگرنی نے دھوکے سے اسے اوپر چڑھایا اور دھکا دے دیا۔ شہزادہ کانٹوں میں گرا اور اندھا ہو گیا۔
پھر بھی کہانی خوشی سے ختم ہوتی ہے۔ شہزادہ راپنزل کو ڈھونڈتا رہا، آخر مل گئی۔ راپنزل کے آنسوؤں سے اس کی بینائی واپس آ گئی، اور دونوں خوش و خرم رہنے لگے۔
آپ کا نام اور *ای میل* محفوظ ہیں اور کسی بھی صورت میں پبلک نہیں کیے جائیں گے۔
براہِ کرم ناول پڑھنے کے بعد اپنا قیمتی کمنٹ ضرور کریں۔
آپ کی رائے ہمارے لیے بہت اہم ہے اور لکھاری کی حوصلہ افزائی کا باعث بنتی ہے۔
Your *name* and *email* are secure and will not be shown
Please make sure to leave your valuable comment after reading the novel.
Your feedback is very important to us and motivates the writer. to other users.
