قاتل دلہن ناول

کراہم ،رومنٹک ارمی بیس

زارا رایٹڑ

قسط وار ناول

views
0
www.urduafsane.com

قسط_1

وہ سرخ جوڑا پہنے بڑا سا گھونگھٹ نکالے اس سجے ہوئے کمرے میں اس کا انتظار کر رہی تھی۔

دل میں خوف تھا تو پیار بھی اپنی جگہ بنائے بیٹھا تھا وہ اس کی یونیورسٹی کا عاشق تھا جس نے کئی پاپڑ بیلنے کے بعد آخر کار اسے حاصل کر لیا تھا اور وہ اس کی دلہن بن کر اس کے انتظار میں تھی۔

گھر بہت بڑا نہیں تو چھوٹا بھی نہیں تھا کمرہ بھی اس کے جہیز کے سامان سے بھرا ہوا تھا اور وہ دھڑکتے دل کے ساتھ ان سب چیزوں کو دیکھ رہی تھی۔

وہ بزدل تو نا تھی مگر آج کچھ غلط ہونے کا احساس مسلسل اس کی دھڑکن تیز کیئے ہوئے تھا۔

نئے لوگ یا نیا گھر کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ آخر وہ کس بات پر فیصلہ نہیں کر پا رہی۔

دروازے پر دستک ہوئی اور وہ اندر داخل ہوتے ہی اس کے سامنے آ کر بیٹھ گیا۔

وہ اس کی پیار بھری باتوں کی منتظر تھی مگرتھوڑی دیر یونہی گزر گئی۔

دل زور زور سے دھڑکنے لگا تھا کہ اچانک اس نے اس کے گھونگھٹ کو کھینچ لیا اور فرش پر گرا دیا

اس نے حیران ہو کر اسے دیکھا کہ کوئی اپنی نئی دلہن کا گھونگھٹ ایسے اٹھاتا ہے اور وہ بھی وہ شخص جو اس کا پرانا عاشق ہو۔

سر ابھی اٹھایا تھا کہ زور دار تھپڑ رسید کر دیا گیا۔

وہ بے یقینی کی کیفیت سے اسے دیکھنے لگی کہ وہ شدید غصے سے بولا۔

روشانے ظفر علی یہ تھپڑ اس تھپڑ کا بدلہ جو یونیورسٹی میں تم نے مجھے مارا تھا اور ساتھ ہی ایک اور تھپڑ رسید کیا یہ اس بے عزتی کے لیے جو سب کے سامنے میری ہوئی۔

وہ اٹھ کر کھڑی ہو گئی اس سے پہلے کے وہ کچھ اور کرتا روشانے نے زور دار تھپڑ اس کے منہ پر رسید کیا اور بولی گھٹیا انسان تم یہ سب کچھ بدلہ لینے کے لیے کر رہے تھے؟؟

بے غیرت؟ وہ چلایا

خبردار اگر تم میرے قریب آئے تو؟؟ روشانے نے اسے انگلی دکھائی۔

اس نے روشانے کو بالوں سے پکڑ لیا اور چلایا۔

میں تمہاری کھال نوچ لوں گا خرافہ۔

خبردار اگر تم نے مجھے گالی دی تو۔۔وہ بھی غصے سے چلائی تھی

اس سے پہلے کے وہ دوبارا اس پر ہاتھ اٹھاتا روشانے نے چھری ہوا میں لہرائ۔۔۔جو شاید فروٹ کاٹنے کے لیے رکھی گئی تھی مگر تیز دھار تھی۔

اوہ تو چوہیا مجھے چھری سے ڈرائے گئی؟؟وہ

قہقہہ لگا کر آگے بڑھا ہی تھا کہ اچانک سے مڑا اور زمین پر گیا۔

روشانے نے گھبرا کر اسے دیکھا اور پھر بیڈ پر ڈھے گئی۔

تھوڑی دیر کے بعد ہوش آیا تو اسے ہلانے لگی وجاہت۔

وجاہت۔

مگر وہ نہ ہلا اور نہ ہی کچھ بولا تھوڑی دیر یونہی اسے گھورنے کے بعد روشانے نے باہر کی طرف دوڑ لگا دی۔

رات کافی ہو چکی تھی اور سردی بھی شدید تھی تو سب اپنے اپنے کمروں میں دبکے سو رہے تھے کسی نے بھی اسے باہر جاتے نہیں دیکھا اور وہ پسینے میں شرابور گھر سے باہر نکل گئی۔

وہ عروسی جوڑے میں ملبوس سڑک پر بھاگ رہی تھی۔

سردی شدید نہ ہوتی اور دھند نا چھائ ہوتی  تو کوئی نہ کوئی ضرور اسے دیکھ لیتا مگر اس وقت وہ اکیلی پاگلوں کی طرح دوڑتی جا رہی تھی۔

پھر اچانک وہ کسی گاڑی سے ٹکرائی اور بہوش ہو گئی

رو رو کر برا حال ہوگیا تھا مگر ان کو سکون نہیں آ رہا تھا دل بار بار روشانے کی طرف سے پریشان ہو جاتا اور وہ پھر سے رونے لگتیں۔

حرا بیگم بس بھی کریں اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ ہماری بیٹی اپنے گھر کی ہو گئی ہے۔

ظفر صاحب دل کو سکون نہیں آ رہا کیا کروں بار بار لگتا ہے روشانے ٹھیک نہیں ہے وہ کسی مشکل میں ہے۔

اللہ نہ کرے حرا آپ کیسی باتیں کر رہی ہیں؟؟

دعا کریں کہ ہماری بچی اپنے گھر میں خوش وخرم رہے۔

آمین ظفر بس دل میں خوف سا ہے

اچھا آپ پریشان مت ہوں اور اب آرام کریں۔ ظفر صاحب نے انہیں تسلی دی تو۔

ٹھک ٹھک ٹھک ٹھک ٹھک ٹھک ٹھک۔۔ابھی حرا بیگم لیٹی ہی تھیں کہ دروازہ شدت سے بج اٹھا تھا

ارے کون ہے اس وقت؟؟ظفر گھبرا گئے تو حرا اللہ تعالیٰ خیر کرنا کہتے ہوئے اٹھیں تھیں۔

میں دیکھتا ہوں۔

ٹھک ٹھک ٹھک ٹھک ٹھک ٹھک ٹھک۔ دستک مسلسل اور زوردار تھی۔

ارے دروازہ توڑو گئے کیا ؟؟؟؟؟؟؟ آ رہا ہوں۔۔ ظفر صاحب نے آواز دی

ابھی دروازہ کھولا ہی تھا کہ۔

کہاں ہے وہ قاتل؟؟؟ بولو ظفر کہاں ہے وہ قاتل؟؟؟؟ کریم نے ظفر کو گلے سے پکڑ لیا

ک۔ک۔کون قاتل ؟؟؟؟ کریم بھائی کچھ بتائیں۔

اتنے معصوم نہ بنو ظفر ۔۔۔۔۔ وہ چلایا

ارے بھائی میں واقعی کچھ نہیں سمجھ سکا۔۔۔اود آپ پولیس کیوں لے کر آئے ہیں؟؟؟؟؟ سب خیریت ہے ناں؟؟؟؟ وہ فق رنگ لیے پوچھ رہے تھے

اوے زیادہ ڈرامے نہ کر تلاشی لو اوے برآمد کرو اس قاتلہ کو؟ انسپکٹر نے آرڈر دیا۔

ارے انسپکٹر صاحب کس چیز کی تلاشی؟ ظفر صاحب نے گھبرا کر پوچھا۔

اوے تمہاری بیٹی کریم صاحب کے بیٹے اور اپنے شوہر وجاہت کریم کو قتل کر کے فرار ہو گئی ہے.

آہ چیخ کی آواز آئی تھی۔ حرا بیگم زمین پر گر گئی تھی نہیں نہیں یہ جھوٹ ہے میری بیٹی ایسا نہیں کر سکتی۔

ابو امی کیا ہوا کیسا شور ہے یہ؟؟؟؟؟

عامر شور سن کر باہر نکل آیا تھا اور ساتھ سنبل بھی تھی۔

پولیس والوں نے سارا گھر چھان مارا تھا اب باہر نکل آئے تھے کہ وہ نہیں ہے ادھر سر جی۔

اوے پکڑو اوے اس شہزادے کو۔۔۔۔۔ یہ بتائے گا سب

نہیں نہیں آپ ایسا نہیں کر سکتے میری بیٹی بے قصور ہے وہ ایسا نہیں کر سکتی۔

ظفر دہائیاں دے رہے تھے اور حرا بیگم زمین پر گری ہوئی تھی۔

ارے کچھ بتائیں تو ہوا کیا ہے عامر زور زور سے پوچھ رہا تھا مگر وہ اسے گاڑی میں ڈال کر لے گئے تھے جبکہ سنبل اور حرا بس چیختی ہی رہ گئیں تھیں۔

اللہ میری بچی۔ میری بچی کی خفاظت فرما۔وہ زاروقطار رو رہی تھی اور سنبل تو بس چیخ رہی تھی۔

یہ کیا ہو گیا ظفر؟؟؟؟؟؟

حوصلہ رکھو حرا۔۔ میں کرتا ہوں کچھ۔

ظفر کہہ کر باہر کو دوڑ پڑے تھے جبکہ سنبل حرا کو لے کر اندر کی طرف بڑھ گئی تھی۔

شادی والے گھر میں ماتم ہو گیا تھا

وجاہت کریم کی لاش ابھی ہسپتال سے واپس نہیں آئی تھی مگر کہرام مچ گیا تھا۔

پولیس اور میڈیا والے گھر کے باہر جمع ہو چکے تھے

سب کے لیے یہ ایک طوفان تھا کہ نئی نویلی دلہن نے شادی کی پہلی رات دولہے کو قتل کر دیا تھا اور وہ غائب ہو چکی تھی۔

آخر وجہ کیا تھی اور کیا ہوا تھا کہ دولہے کو قتل ہی کر دیا تھا

دلہن کدھر تھی کوئی نہیں جانتا تھا۔

کریم نے عامر کو گرفتار کروا دیا تھا اور اب وہ وجاہت کی لاش لے کر گھر پہنچ جا رہے تھے

قیامت کا منظر تھا۔

کہاں ہے وہ کمینی وہ گھٹیا؟؟؟؟؟؟

شمسہ نے آ کر کریم سے پوچھا تھا اور ساتھ ہی بہوش ہو کر زمین پر گر گئی۔

ارے جناب یہ قتل کا مقدمہ ہے اتنی جلدی ضمانت نہیں ہو گی,

لڑکی پیش کرنے تک لڑکا ادھر ہی رہے گا ہم مجبور ہیں۔

ظفر ٹوٹے پھوٹے سے گھر واپس آئے تو حرا نے سوالیہ نظر ان پر ڈالی جس کا جواب اللہ تعالیٰ خیر کرے گا انشاء اللہ کہہ کر وہ صوفے پر گر سے گئے

ظفر کیا ہوا ہے میری بچی کدھر ہے کچھ پتہ نہیں چلا آخر یہ سب کیا ہو گیا؟مسلسل روتے ہوئے بولی تھی وہ پتہ نہیں حرا بیگم مجھے تو خود کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ یہ سب کیا ہے میری بیٹی تو پرندے کو نہیں مار سکتی انسان کیسے مار سکتی ہے کوئی نہ کوئی گڑ بڑ ضرور ہے

وہ ہے کدھر آئ کیوں نہیں ابھی تک؟

کہیں ان لوگوں نے میری بیٹی کو؟

نہیں نہیں اللہ نہ کرے ایسا کچھ ہو

وہ رو پڑے تھے شاید اپنی بیٹی کے نصیب پر

ابھی تو 4 گھنٹے ہی مشکل سے گزرے تھے اسے رخصت کیے اور پھر یہ خبروہ کچھ سمجھ نہیں پا رہے تھے۔

میں اسے ڈھونڈتا ہوں کہہ کر وہ دوبارا باہر نکل گئے۔

دھند اور سردی مزید بڑھ گئی تھی۔

دور دور تک کوئی ذی روح نظر نہیں آ رہا تھا ظفر سردی میں بھی پسینہ پسینہ ہو رہے تھے مگر ان کی اکلوتی بیٹی ان کو کسی اور نظر نہیں آئی تھی۔

ساری رات مارا مارا پھرنے کے بعد وہ صبح واپس پلٹ آئے تھے ۔

نوٹ / Note:

آپ کا نام اور *ای میل* محفوظ ہیں اور کسی بھی صورت میں پبلک نہیں کیے جائیں گے۔

براہِ کرم ناول پڑھنے کے بعد اپنا قیمتی کمنٹ ضرور کریں۔
آپ کی رائے ہمارے لیے بہت اہم ہے اور لکھاری کی حوصلہ افزائی کا باعث بنتی ہے۔
Your *name* and *email* are secure and will not be shown

Please make sure to leave your valuable comment after reading the novel.
Your feedback is very important to us and motivates the writer. to other users.

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments
error: Content is protected !!
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x