Devta دیوتا ناول

ایکشن، رومانس ، سسپنس ، ایڈونچر ، کراہم

مصنف محی الدین نواب

قسط وار ناول

views
0
Devta Novel PDF by Mohiuddin Nawab (Complete 56 Parts)

قسط_1

 

فرہاد علی تیمور ضلع شیخو پورہ کی تحصیل شاہ کوٹ کے ایک بہت بڑے زمیندار کا بیٹا تھا ۔ ان کی زمینیں پانچ سو ایکڑ تک پھیلی ہوئی تھیں۔ قسمت کی خوبی دیکھیے کہ پیدا ہوتے ہی ماں سے محروم ہو گیا اور چھ سال کی عمر میں باپ بھی نہ رہا ۔

اس کے چچا ناصر علی جو کہ شہر میں رہتے تھے اور زمینداری سے کوئ دلچسپی نہ رکھتے تھے ۔ بھائ کے مرتے ہی ساری زمینوں اور جائیداد پر قابض ہو گئے اور فرہاد علی تیمور کو اپنے ساتھ لے کر لاہور آ گئے ۔یہاں آ کر اسے معلوم ہوا کہ چچا کی وہ سب پیار و محبت ایک سراب تھا ۔ چچی اسے دھتکارنے کا کوئ موقع جانے نہ دیتیں ۔ ان کے بچے ظہیر علی اور غزالہ دونوں اس سے بڑے تھے بہت مغرور اور نک چڑھے تھے ۔ غزالہ اس سے پاؤں تک دبوایا کرتی جبکہ چھوٹی شاہینہ ہر وقت گود میں سوار رہتی۔

ایک دن چچا نے چچی کی نفرت انگیز باتیں سن لیں ۔ بھلے ہی اس کی جائیداد پر قابض تھے لیکن اس کی سایئڈ لیتے ہوئے کہنے لگے

میں نے ہزار بار تمہیں سمجھایا ہے لڑکے سے اچھی طرح پیش آیا کرو اگر یہ بدک کر پھوپھی کے ہاں چلا گیا تو اس کی زمینوں کی آمدنی بھی ساتھ ہی چلی جائے گی ۔

چچی کہنے لگی میں کدھر کچھ کہتی ہوں لیکن مجھے اس کی آنکھیں دیکھ کر وحشت ہوتی ہے ۔ تم نے شاید غور نہیں کیا اس کی آنکھوں میں عجیب سی چمک ہے۔

میں سچ کہتی ہوں اس کے اندر شاید کوئی بدروح گھسی ہوئی ہے ۔ چچی کی نفرت انگیز باتیں سن کر فرہاد علی تیمور کو اپنے والد کی کہی ہوئی بات یاد آ گئ

“میرے بیٹے کی آنکھوں میں قدرتی چمک ہے ، فرشتوں کا نور ہے ۔ یہ اپنے مخاطب کا دل موہ لیا کرے گا “

یہ اپنے مخاطب کا دل موہ لیا کرے گا۔ “والد مرحوم کے محبت آمیز اور بچی کے نفرت انگیز قیاسات میرے کچھے دماغ میں گڈمڈ ہونے لگے۔ میں اپنی جگہ سے اٹھ کر دوسرے کمرے میں آیا اور آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی آنکھوں کو دیکھنے لگا۔ مجھے اپنی انکھیں بہت اچھی اور بہت ہی پرکشش نظر آئیں۔ آئینے کے سامنے عورت ہو یا مرد سب ہی خوش فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ میری آنکھوں میں نیکی اور محبت کی چمک ہے یا بدی اور نفرت کی چنگاریاں ؟ حقیق جو کچھ بھی ہو اسے یہ سن کر خوشی ہوتی تھی کچھ میری انکھوں سے ڈرتی ہیں۔ وہ مجھ سے بڑی تھیں۔ مجھے گالیاں دیتیں تو میں جوا با گالیاں نہیں دے سکتا تھا۔ وہ مجھے مار میں تو میں پلٹ کرین پر ہاتھ نہیں اٹھاسکتا تھا۔ گرنتی طور پر مجھے ایک ایسا ہتھیار مل گیا تھا جس سے میں انھیں ڈرا سکتا تھا۔ میرے دماغ میں جو بات آئی، میں اسی پر عمل کرنے لگا۔ اب اکٹویٹوں ہونے لگا کہ جب بھی اچھی سے سامنا ہوتا تومیں انھیں تیر بجھتی ہوئی نظروں سے دیکھنا شروع کر دیتا۔ وہ دہشت زدہ ہی ہو کر مجھے گالیاں دینے لگتیں کبھی میری اچھی طرح پٹائی کردیتیں۔ ایسے وقت میں نے یہی دیکھا کہ وہ میری آنکھوں میں نہیں دیکھتی تھیں۔ مجھے گالیاں دیتے وقت مجھ سے نظریں چراتی رہتی تھیں کبھی مارنے سے پہلے میرا بازو پکڑ کر ایک جھٹکے سے مجھے دوسری طرف گھما دیتی تھیں تا کہ میرا منہ دوسری طرف ہو جاتے اور میں تھیں اپنی تانکھوں سے دہشت زدہ نہ کرسکوں کئی بار انھوں نے بڑی بڑی قسمیں کھا ئیں کہ وہ میری آنکھیں پھوڑ ڈا لیں گی۔ یوں ہمارے درمیان نفرتیں پیروان پیر ھو رہی تھیں بلکہ یوں کہنا چاہیئے کہ میں اس ماحول سے نفرت اور عداوت کا درس لے رہا تھا۔ چچی کی گالیاں۔ چچا جان کی دوغلی محبت اظہیر کی عداوت اور غزالہ کا حکمانہ انداز پرتمام جیتے جاگتے نفرت انگیز عناصر میرے اندر لاو سے کی طرح کہتے رہتے تھے

 

ان ہی دنوں کی بات ہے۔ ایک رات چچا جان کاروبار کے سلسلے میں شہر سے باہر گئے ہوئے تھے۔ غزالہ اور ظہیر اپنے نہال میں تھے۔ شاہینہ میرے بہتر پر آکر لیٹ گئی تھی۔ بچی نے بھی اس رات بڑی فراخدلی کا ثبوت دیتے ہوئے اس بات کی اجازت دے دی تھی کہ شاہینہ میرے پاس سوئے گی۔ وہ اجازت دے کر اپنے کمرے میں چلی گئیں۔ میں رات گئے تک شاہینہ کو پریوں اور شہزادوں کی کہانیاں سناتا رہا۔ وہ معصوم بچی کہانیاں سنتے سنتے سوگئی ۔ نیند کی حالت میں وہ زیادہ معصوم لگ رہی تھی۔ میں نے اس کی پیشانی کو محبت سے چومتے ہوئے سوچا کہ میری شاہینہ آرام وہ پلنگ پر سونے کی عادی ہے اور میں فرش پر سوتا ہوں۔ وہ محض اس لیے آرام سے سوگئی تھی کہ وہ ایک بھائی کا بستر تھا لیکن میں چاہتا تھا کہ میری بہن ہمیشہ پھولوں کی سیج پر سوئے۔ میں وہاں سے اٹھ کر کچھی کے کرنے کی طرف جانے لگا تاکہ ان سے کہہ دوں کہ وہ شاہینہ کو اٹھا کر اس کے بستر پر لے جائیں۔ چی کی خوابگاہ کا دروازہ اور کھڑکیاں بند تھیں۔ میں نے بے دھڑک دروازے پر پہنچ کرد شک دی ۔ چند لمحوں تک خاموشی رہی ۔ پھر اچھی کی آواز سنائی دی : کون ہے ؟  فرہاد کیا کم ہو ؟ “جی ہاں، شاہینہ سو گئی ہے۔ اسے اٹھا کر لے جاہئے۔ “

اسے سونے دو۔ میں بعد میں اگر اسے لے جاؤں گی تم میری نیستندخواب نه کردبچی ، آپ نیند میں رہیں گی اور وہ بے چاری فرش پر پڑی رہے گی۔ گدھا کہیں کا ۔ ان کی مغصہ بھری آواز سنائی دی مب دیکھو بحیث کرنے پر تل جاتا ہے۔ جا۔ بھاگ جا یہاں سے نہیں توجو تے لگاؤں گی۔

میں کچھ ضرورت سے زیادہ ہی ضدی ہوں۔ میں وہیں کھڑا رہا اور درواز سے کو گھورتا رہا۔ اگر وہ دروازہ کھلا ہوتا تومیں خود ہی شاہینہ کو اٹھا کر لے جاتا اور چاچھی کے پاس سلادیتا۔ گھر بھی ایسی بد مزاج تھیں کہ اٹھ کر دروازہ تک نہیں کھول رہی تھیں۔ نہ جانتے ہیں کتنی دیر تک اس دوران سے کو گھورتا رہا۔ پھر مجھے دروازہ سے کے پیچھے سے دھیمی دھیمی سی آواز سنائی دی ۔ وہ کسی مرد کی آواز تھی۔ وہ کہہ رہا تھا:  ڈارلنگ  تم خواہ مخواہ پریشان ہو رہی ہو۔ وہ لڑ کا چلا گیا ہے۔ “ نہیں تم نہیں جانتے ۔ چاچھی کی سہمی ہوئی آواز سنائی دی” مجھے یوں لگ رہا ہے جیسے اس کی آنکھیں مجھے گھور رہی ہیں۔ کتنی ہی بار میں نے خواب میں اس کی آنکھیں دیکھتی ہیں۔ وہ کسی انسان کا بچہ نہیں ہے۔ شیطان کا بچہ ہے ۔میں نے اپنی آنکھوں پر دونوں ہاتھ رکھ لیے ۔ اس وقت مجھے احساس ہوا کہ میں بہت دیر سے دروازے کو چھیتی ہوئی نظروں سے دیکھ رہا ہوں اور خیالی نظروں سے چچی کے بند کمرے کی تاریکی میں بھٹک رہا ہوں۔ اور اپنی نظروں سے پوچھ رہا ہوں کہ آپ دروازہ کیوں نہیں کھو نہیں ؟ وہ دروازه ذرا سا کھل گیا۔ ان کے کمرے میں واقعی تاریخی تھی۔ کاری در کی روشنی میں مجھے صرف ان کا چہرہ اور شانے نظر آئے۔ پھر انھوں نے یہ کہ کر ایک جھٹکے سے دروازہ بند کر دیا کہ تم جاوہ میں آرہی ہوں ۔ میں سر جھکا کر کاریڈور سے چلتا ہوا اپنے کمرے کی طرف جانے لگا۔ اس وقت میرے کچے ذہن میں یہ بات پک رہی تھی کہ چھی کے کمرے میں کون شخص ہے اور کیوں ہے ہے وہ واقعہ میری مجھ میں نہ آیا۔ کسی حد تک سمجھنے کی کوشش بھی کی، تو۔ کہوں گا کہ کچھی کا گھبرانا دماغ پر دھندی چھا گئی۔کچھ سمجھنے اور نہ سمجھنے کے درمیان الجھ گیا۔ ہاں اتنا ضرور کمرے کی تاریکی اور ایک اجنبی مرمکی آواز ان سب میں ایسی اسراریت تھی کہ انکے متعلق سوچتے سوچتے میری کم غیر محسوس طریقے سے جوانی کی طرف کروٹ بدلنے لگی۔

 

  چچیتھوڑی دیر بعد بھی میرے کمرے میں آئیں۔ انھوں نے مجھے غصے سے دیکھا پھر شاہینہ کو میرے بستر سے اٹھانے کے لیے جھک گیئں۔ اسی وقت میں نے پوچھا،

کیا آپ سے کوئی ملنے آیا ہے ؟” وہ چونک کر مجھے دیکھنے لگیں۔ زرا دیر کے لیے ان پر گھبراہٹ طاری ہوئی۔ پھر وہ سنبھل کر میری جانب بڑھتی ہوئی بولیں: اتنی رات کو کوں ملنے آئے گا با کیا تیرا و ماغ خراب ہو گیا ہے ؟ ” میں نے آپ کے کمرے میں کسی کی تو از سنی تھی۔ اس لیے میں پوچھ رہا۔ بات پوری ہونے سے پہلے ہی انہوں نے میرے منہ پر تھپڑ ھا دیا۔ پھر پر بازوسے پکڑ کر مجھے اپنے کمرے کی طرف لے جاتے ہوئے بولیں:

 تونے کس کی آواز سنی تھی ہے وہ تیرا کوئی باپ ہوگا۔ میرے سامنے کا چھو کرا اور مجھے اتنی بڑی بات کہہ رہا ہے۔ میں تجھے زندہ نہیں چھوڑوں گی۔ چل بتا کون ہے میرے کرے میں کون تیری ماں کا یار ہے جس کی آواز تو نے سنی ہے ۔ میں نے ایک جھٹکے سے اپنا باند پھڑ کر کہا: خبردار میری ماں کا نام لینا اور نہ میں لحاظ نہیں کروں گا میں

ڈٹ کر ان کے سامنے کھڑا ہوگیا۔ میرا وہ چیلنج ایسا تھا کہ وہ قدرے حیرانی سے مجھے سر سے پاؤں تک دیکھنے لگیں۔ میں بارہ برس کا تھامگر قد میں ان کے برابر ہوگیا تھا شاید پہلی باردہ میرے اپنے قد کو توجہ سے دیکھ رہی تھیں۔ پھر وہ پیچھے ہٹ کر اپنے کرنے کا روزہ کھولتے ہوئے بولیں، کو دیکھو یہاں کوئی نہیں ہے۔ تمھیں دھوکا ہوا ہے۔ تم نے کسی کی آواز نہیں سکتی ہے۔” میں نے سنی ہے ۔ میں پاؤں پہنچا ہوا کرے کے اندر چلا گی اور چاروں مغر اس شخص کو تلاش کرنے لگا۔ اتنی دی میں ہی واپس جاکر شاہینہ کو لے آئی تھیں۔ اسے بستر پر سلاتے ہوئے انھوں نے کہا: کیا ابھی تک تسلی نہیں ہوتی ہے ؟ جاؤ یہاں ہے۔ رفع ہو جاؤ۔ کم بخت اونٹ کی طرح لیا ہو رہا ہے۔ مارتی ہوں تو میرے ہی ہاتھ دکھنے لگتے ہیں۔ اچھی بات ہے تمہارے بچھا کو آنے دو۔ وہی تمہاری خبر یں گے۔ میں لا پرواہی سے او نہ کہتا ہوا اپنے کمرے میں آکر سو گیا۔ مگر مجھے فوراً

ہی نیند نہیں آئینے میں دیر تک اس شخص کے متعلق سوچتا رہا جس کی آواز میں نے سنی تھی گروہ نظر نہیں آیا تھا۔ شاید چی نے اسے جگا دیا تھا یا کہیں چھپا دیا تھا۔ میں ان کی مکاری کو نہ سمجھ سکا۔ دات کو دیر سے آنکھ لگی تھی اس لیے صبح دیر تک سوتا رہا پھر چھچاجان کی گر جار آواز سن کر ہی میری آنکھ کھلی۔ میں جلدی سے اٹھ کر بیٹھ گیا۔ وہ دلکھنے سے گیا یہ پیچ و تاب کھاتے ہوئے کہ رہے تھے ؟

جاری ہے

نوٹ / Note:

آپ کا نام اور *ای میل* محفوظ ہیں اور کسی بھی صورت میں پبلک نہیں کیے جائیں گے۔

براہِ کرم ناول پڑھنے کے بعد اپنا قیمتی کمنٹ ضرور کریں۔
آپ کی رائے ہمارے لیے بہت اہم ہے اور لکھاری کی حوصلہ افزائی کا باعث بنتی ہے۔
Your *name* and *email* are secure and will not be shown

Please make sure to leave your valuable comment after reading the novel.
Your feedback is very important to us and motivates the writer. to other users.

5 1 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
1 Comment
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments
error: Content is protected !!
1
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x