مکمل ناول
آج رات میرے لئے اذیتوں میں لپٹی ہوئی رات تھی اس کا ایک ایک لمحہ زہریلی ناگن بنے مجھے ڈسنے میں محو تھا ہر کروٹ پر دل خراش ٹیسیں ابھرتی محسوس ہورہی تھیں سگریٹوں پر سگریٹ سلگائے اپنی سانسوں کو دھوئیں کی نظر کر رہا تھا
کمرے میں بکھرے سگریٹوں کے شکرے اس بات کی غمازی کرتے تھے کہ میرا ایک پل بھی سکون کی نذر نہ ہوا تھا بے سکونی اور بیتائی تھی میں نے آج اس کی آنکھوں میں چمکتے ہوئے آنسو دیکھے تھے اس کے چہرے کو افسردگیوں میں ڈوبا ہوا پایا تھا لبوں پر مسکراہٹ کی جگہ طویل خاموشی تھی وہ چند لمحوں کے لئے میرے سامنے آئی تھی وہ چند لمحوں کے لئے میرے پاس آئی تھی اور چلی گئی تھی۔ اس کی یہ حالت کیوں تھی۔ ا سے کون ساغم اور دکھ تھا وہ مجھ سے کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن کہ نہ پائی تھی غمزدہ چہرے سے واپس لوٹ گئی تھی اس کا اداسیوں۔ میں بھر ڈوبا اور بھیگا چہر بار بار میری بیتابی میں اضافہ کرتا چلا جارہا تھا اس سے مسکراتے ہوئے لبوں پر دکھ کیوں تھا نکھرے اور گلاب کی مانند چہرے پر غم کیوں تھا۔ میں نے کلاک پر نظر ڈالی رات کا ایک بجے والا تھارات کا پچھلا پہر شروع ہو چکا تھا اف خدایا میں کیا کروں لیٹا رہوں یا اس کے پاس جاؤں اسے میری ضرورت ہے۔
وہ مجھے کچھ کہنے آئی تھی لیکن کچھ کہے بغیر ہی چلی گئی ہے۔ اسے کون سا دکھ ہے وہ پریشان کیوں ہے مجھے اس وقت اس سے ملنا چاہیے اسے پو چھنا چا ہیے کہ وہ اس قدراداس اور مسکین کیوں ہے ہاں مجھے جانا چاہیے اس کے پاس۔ دور بہت دور گاؤں سے باہر مجھے اس اداسی کا۔پوچھنا ہو گا ہاں مجھے پوچھنا ہو گا یہی سوچ کر میں بستر سے اٹھ کھڑا ہوا. الماری کھولی اپنی ٹارچ پکڑی اور آہستہ سے دروازہ کی کنڈی کھول کر کمرے سے باہر نکل گیا گھر والے خرگوشی خواب میں مست تھے وہ اس بات سے بے خبر تھے کہ میں گھر میں کیا کر رہا ہوں اس کا بیٹا کسی اذیت و کرب میں مبتلا ھےاس کی آنکھوں سے نیند کیوں غائب ہے؟
یہ صرف میں جانتا تھا۔ بیرونی دروازہ کھولتے ہی میں نے ہاتھ میں پکڑی ہوئی ٹارچ روشن کر دی اور اندھیرے گلیوں میں روشنی کرتے ہوئے آگے بڑھتا جانے لگا میرا رخ سحرش کے گھر کی جانب تھا جو قبرستان سے دوسری جانب تھا آج پہلا موقع تھا کہ رات کی سیاہ تاریکی میں میں قبرستان سے گزرتے ہوئے اس کے گھر کی جانب بڑھتا جار ہا تھا
چند لمحوں کو تو قبرستان سے خوف وڈر محسوس ہوا لیکن محبوب کے اداس و پریشان چہرے نے اس کی گری ھوی حالت نے اس خوف کو ختم کر دیا تھا۔ چلتے چلتے میں اس کے گھر تک جا گھر میں جھانک تاک کر کے اسے ڈھونڈ نے لگاوہ کہیں دکھائی نہ دی یا خدا وہ دکھائی کیوں نہیں دے رہی ؟ شاید سو رہی ہے ہاں وہ سور ہی ہوگی .. یہ سوچ میرے دماغ میں ابھری تبھی اس کا گھر تاریکیوں میں ڈوبا ہوا ہے اگر وہ سوتی نہ ہوتی تو یقینا اس کے گھر میں روشنی ہوئی پورے گھر میں نہ سہمی کم از کم گھر کے کسی کونے میں روشنی دیکھنے کو نسر و رماتی لیکن وہاں مکمل سکوت تھا کئی لمحات تک میں اسکی دیوار کے ساتھ کھڑ اندر جھانکتار ہا پھر واپس مرنے لگا تو میری نظر او پر چھت پر جالگای . وہ چھت کی منڈیر پر ایک کونے میں اداس اور پریشان بیٹھی دکھائی دی میں نے اسے پہچان لیا تھا اور اپنی ٹارچ کی روشنی اس پر خبر دی وہ ذرابھی خوفزدہ نہ ہوئی نہ ہی ڈری وہ ہمت والی اور مضبوط دل کی مالک تھی راحت اوپر آجائیں. اس کی زبانی اپنا نام سن کر میں حیرتوں میں ڈوبتا چلا گیا. سیاہ اندھیرے میں اسے کیسے پتہ چل گیا تھا کہ گلی میں کھڑ انسان میں ہی ہوں لیکن اس سوچ کو زیادہ دیر تک اپنے اوپر حاوی نہ ہونے دیا کیونکہ جس طرح میں نے اسے اندھیرے میں پہچان لیا تھا شاید اس نے بھی مجھے پہچان لیا ہو گا لیکن مجھے اس کے باپ کا خوف تھا اسے دیکھا نہ تھا میں نے سنا تھا کہ بہت سخت طبیعت کا مالک ہے کسی غیر انسان کو اپنے گھر کے آس پاس دیکھ کر ہنگامہ کھڑا کر دیتا تھا آجائیں جناب جس بات کا آپ کو خوف وڈر ہے وہ گھر نہیں ہیں کیا ……. کیا. کہا کیا میں چونگا
کیسے ہو سکتا ہے کہ اس نے میری سوچ کو پڑھ لیا ہو ۔ حیرت کا ایک شدید جھٹکا تھا جس نے مجھے چند لمحوں کو نہ صرف ساکت کر دیا تھا
بلکہ ہزاروں وسوسات میں ڈال دیا اب کی بار اس کی آوازہ ستائی نہ دی بلکہ وہ ہی ڈگمگاتے قدموں کے ساتھ نیچے اترتی چلی آئی گاؤں سے یہاں تک چلے آئے، لیکن اندر آنے سے خوفزدہ ہو اس نے میرے قریب آتے ہوئے یہ فقرہ کہا تو میں حیرت زدہ پھیکی سی
مسکراہٹ مسکرا دیا۔ اور کہا سحرش تم جانتی ہو کہ میں کمزور دل کا نہیں بلکہ مضبوط اعصاب کا
مالک ہوں …. جانتی ہوں اس نے سرد آہ بھرتے
ہوئے کہا اسکا چہرہ ویسے ہی افسردگیوں میں ڈوبا ہوا تھا تمہیں کیا ہوا ہے تمہارا چہرہ کیوں اترا ہے رنگت کیوں زرد ہے اور یوں تماری مسکراہٹ مرجھا سی گئی ہے میں نے وہ الفاظ کہہ دیئے جنہوں نے مجھے گھر سے
یہان تک پہنچنے میں بے چین کر رکھا تھا میری بات پر وہ سسک پڑی مہیب سناٹے میں اس کی سسکیوں کی اواز یوں پھیلنے لگی جیسے اسکی سسکاری میں زمانہ بھر کا دردوغم امڈ آیا ہو
بولوناں مجھ سے اس کی یہ حالت نہ دیکھی گئی میں جیسے چیخ ہی پڑا ،
راحت ایک بات تم سے کہنی ہے اس نے روتے روتے،
ہا ہاں ہاں کہو تمہاری بات ہی سننے کے لئے تیرے پاس آیا ہوں ۔
اس نے اپنے بہتے آنسو پونچھ ڈالے شاید میرے لفظوں نے اسے بہت بڑا سہارا دے دیا تھا۔ اس نے ایک گہری نظر مجھ پر ڈالی کتنی محبت کرتے ہو مجھ سے اس کی بات پر میں اچھل پڑا،
ایک گہری نظر اس پر ڈالی جیسے کہہ رہا ہوں کہ یہ تو تم بھی جانتی ہو کہ میں تم سے کتنی محبت کرتا ہوں لیکن خاموش رہا۔
وہ خود ہی بولی جانتی ہوں بہت زیادہ کرتے ہو میں یہ بھی جانتی تھی کہ تم میری پریشانی سے متعلق جاننے کے لئے یہاں میرے پاس ضرور آؤ گے اس یقین کے تحت تمہاری منتظر رہی اور تم آگئے۔
لیکن میری جان۔ مجھے اپنانے کے لئے تجھے ایک کڑے امتحان سے گزرنا ہوگا۔
امتحان میں نے ٹوٹے ہوئے لفظ ادا کئے ہاں امتحان …اگر تمہیں مجھ سے سچی محبت ہوگی تو اس امتحان سے ضرور گزر جاؤ گے،
سحرش تمہیں پانے کے لئے ایک تو کیا ہزاروں امتحانوں سے گزرنا پڑا تو پیچھے نہیں ہٹوں گا گھر کے کمرے دیکھ رہے ہوناںیہ سب خالی ہیں یہاں میرے علاوہ کوئی اور نہیں ہے.
ہاں ہاں دیکھ رہا ہوں۔ بلکہ پوچھنا چاہتا تھا کہ تیرا بابا کہاں ہے؟
اس نے سر آہ بھری اور کہا راحت یہی امتحان سے میرے بابا کوکسی نے اغوا کر لیا ہے۔ ک۔ کیا اور یہ بھی کہ اغواہ کرنے والے کو میں جانتی ہوں لیکن تم جاتے ہو میں اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی اور اب سمجھا بس اتنی سی بات تھی جس وجہ سے تم نے اپنے لبوں کی مسکراہٹ کھودی ہے چہرے کا حسن زرد کر دیا ہے۔ چلومسکراو میں نے
اسی انداز میں کہا جو اسے بہت پیارا تھا لیکن وہ مسکرائی نہ،۔۔۔۔
بلکہ بولی۔۔۔۔ راحت جب تک میر ابابا واپس نہیں آ جاتا نہ تو میں مسکراؤں کی اور نہ ہی اپنے اصل حسن میں آؤں گی۔
بس یونہی بکھرتی چلی جاؤں گی۔
پلیز سحرش ایسی اذ بیت دینے والی باتیں نہ کرو چلو بتاؤ
کون ہے؟ جس نے تیرے بابا کو اغوا کیا ہے میں صبح جا کر اسے واپس لے آؤں گا مجھ سے تمہاری اداسی پریشانی نہیں
دیکھی جاتی اس نے میرے ہاتھ سے ٹارچ پکڑ لی اور اندر کمرے میں چلی گئی میں باہر کھڑا اس کا انتظار کرنے لگا۔
لمحوں بعد وہ واپس آئی . اس کے ہاتھ میں ایک کاغذ تھا
اس نے وہ کاغذ مجھے پکڑا دیا اور کہا راحت یہ
شخص ہے جس نےمیرے بابا کو اغوا کیا ہے اور ہوسکتا
ہے کہ قتل بھی کردیا ھو کیونکہ وہ بہت زیادہ خود غرض ہوتے ہیں۔ اپنے مطلب کی خاطر جان لے لیتے ہیں اس نے افسردگی سے کہا میں نے
اسے دلاسہ دیا اور کہا ایک بات کہوں ہاں
بولیں تم یہاں اکیلی ہو۔ تمہارا بابا گھر نہیں ہے۔
مجھ سے برداشت نہیں ہو پا رہا کہ تم یہاں تنہار ہوچلو میرے ساتھ میرے گھر نہیں راحت تم میری فکر نہ کرو
مجھے کچھ نہیں ہوگا تم جانتے ہو شروع سے اکیلی رہ رہی
مجھے گاوں والوں سے ذرا سا بھی خطرہ نہیں ہے اور اگر کسی نے مجھ پر غلط نظر ڈالی تو مجھے ان اے نمٹانا اتا ھے
چلو اوتمہیں قبرستان پار کر دا دو … اس نے زندہ دلیری سے کہا یہ الفاظ کہے گھر جا کر سوچنا ۔
اگر کامیاب ھوگے تو میں تمہارے گھر میں ایک دلہن کے روپ میں موجود ہوں گی
اور اگر نا کام ہوئے تو جانتے ہو بابا کے بغیر میں جی نہیں سکتی۔…
اتنا کہہ کر وہ گھر سے باہر نکل آئی۔ اور میرے ساتھ ساتھ چلنے لگی ۔
ان قبرستانوں سے کیا ڈرنا …
اس ۔ے قبرستان میں داخل ہوتے ہوئے کہا۔
یہ لوگ تو اپنے کیے کا پھل پا رہے ہیں یہ بھلا زندہ انسانوں کو خوفزدہ کیسے کریں گے۔
۔ اس نے بہت اچھی بات کی تھی ۔ میرے دل
کو لگی واقعی وہ تو اس چیز کا پھل پارہیں تھے جو انہوں نے دنیا میں رہ کر ا کٹھا کیا
چاہیے اچھا چاہے برا خوف تو صرف اندھیروں سے
آتا ہے رات کی تاریکیوں سے آتا ہے یا پھر شاید تنہائیوں سے آتا ہے میں نے سوچا…… تو وہ بولی تمہارے دل کی سوچیں
بالکل ٹھیک ہیں کہ کیا میں چونکا۔ … اور پھر خود ہی
بول پڑا سحرش پتہ نہیں تمہارے پاس کیا علم ہے کئی بار میں نے محسوس کیا ہے کہ تم میرے دل کی باتیں بھی پڑھنا جاتی ہو
وہ مسکرائی نہ ۔۔۔۔صرف اتنا کہا یہ علم میں تجھے بھی دے دوں گی لیکن امتحان کے بعد۔۔۔۔
قبرستان بہت پیچھے رہ گیا تھا
وہ گلی کی نکڑ تک میرے ساتھ آئی اور پھر بولی۔ اب میں واپس چلتی ہوں۔
نہیں سحرش . یہیں میرے پاس ہی رک جاؤ خوفناک تاریکی
پھیلی ہوئی ہے تمہارا کیلے واپس جانا مجھ سے برداشت نہیں ہو پائے گا
وہ بولی آپ کو بتایا ہے ناں مجھے
سرد آہ بھری مجھے تاریکیوں میں جاتا
اور نا خوف آتا ہے اور نہ یہ اندھیر مجھے کچھ پر اثر کرتا ھے
یہ کہ کر وہ واپسی کی منتظر رہوں گی کامیابی کے ساتھ لوٹے تو مجھے حسین صورت نکھرے روپ
اور میٹھی مسکراہٹ کے ساتھ اپنی دلہن کے روپ میں
دیکھو گے میں تمہارے کامیابی کے ساتھ لوٹنے کی منتظر رہوں گی۔
اتنا کہ کر وہ واپس چل دی میں اسے دیکھتارہا چلتے چلتے وہ
تاریکیوں میں ڈوبتی چلی گئی اور میں سوچوں میں کھویا ہوا واپس گھر کی
جانب چل دیا اسکی باتوں نے مجھ پر عجیب سا تاثر چھوڑ دیا تھا اندر تھا اندر کمرے میں پہنچ کر بھی دھیان اس کی جانب رہاوہ زیادہ عرصہ نہیں ہوا
تھا بلکہ تقریباً تین ماہ قبرستان کی دوسری جانب پرانے اور خستہ حال کھنڈرات میں آباد ہوئے تھے نجانے آباد کب سے تھے دیکھا تین ماہ
قبل ہی تھاوہ بھی اس گہری اندھیریرات کی بات تھی کہ میں شہر سے واپس لوٹا تھا سیدھا راستہ لمبا تھا سو میں نے شارٹ کٹ مارا اور فصلوں کے بیچ
چلتا چلتا گاؤں کے قریب چھیٹر تک جا پہنچا مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس رات چاند پوری جوانی میں تھا اس کی ٹھنڈی روشنی سے ہر چیز اجلی
اجلی دکھائی دے رہی تھی چھپر کنارے پہنچتے ہی میری ملاقات سحرش سے ہو گئی وہ دنیا والوں سے بالکل بے خبر چھیٹر کے شفاف پانی سے
اٹھکیلیاں کر رہی تھی اسے یوں و اکیلے اور تنہا دیکھ کر چند لمحات تک
تو میں ٹھٹھک کر اپنی جگہ پر رکار ہا۔ بار بار چریل کا تصور دل و دماغ میں خوف بھر کر وجود کولرزا رہا لیکن پھر ہمت کر کے آگے بڑھا تو اس
نے مجھے دیکھ لیا مجھے دیکھتے ہی وہ چھپر کنارے سے اٹھے کر چل دی اپنا
آنچل لہراتے وہ چلتی رہی اور بار بار مڑ کر بھی مجھے دیکھتی میں سکتہ کے عالم میں کھڑا اسے جاتا ہوا دیکھتارہا۔ فصلوں کے بیچ
پہنچی تو اس کی ایک چیخ مجھے سنائی دی شاید وہ چلے چلتے پاؤں پھسلنے
سے نیچے گر گئی تھی میں اس کی طرف بھاگا وہ در دشدت سے آہیں بھر
رہی تھی اس نے مجھے اپنی طرف بھاگتے ہوئے دیکھ لیا تھا لیکن مجھے
سے زیادہ اس کی توجہ اپنے پاؤں کی جانب تھی جسے وہ ہاتھ میں پکڑے
ہوئے تھی لگتا ہے گرنے سے آپ کے پاؤں کو موچ آگئی ہے میں نے اس کے پاس بیٹھتے ہوئے اس کے پاؤں کو چھوتے ہوئے کہا
میرے ہاتھ لگانے سے وہ بری طرح تراپی شاید میں نے سختی سے اسے
چھوا تھا اس کی آنکھوں میں تیرتے ہوئے آنسو تھے جو اس شدید درد
کی وجہ سے آنکھوں میں اتر آئے تھے آؤ میں آپ کو آپ کے گھر تک
چھوڑ آؤں میں نے اسے سہارا دے کر اوپر اٹھانا چاہا لیکن وہ چیخ اٹھی
حسرت بھری نظروں سے وہ میری طرف دیکھتی جارہی تھی اور میں اس
کے لئے کچھ بھی نہ کر سکا تھا تب وہ خود ہی اٹھی اور لنگڑاتے لنگڑاتے
ایک طرف چلنے لگی میں اسے جاتا ہوا دیکھتارہ گیا۔ راستہ میں کئی بار گرتے گرتے بچی تھی میری نظریں پوری طرح اس کا تعاقب کر
رہی تھیں اسے دیکھنے کے بعد میرے دل میں خوف نہ رہا تھا بلکہ زندگی
یہ چند لمحات میرے لئے خوش کن اور دلکش بن گئے تھے میں گھر پہنچ کر
پوری رات سو نہ سکا تھا یار بار اس کا آنسوؤں سے تر چہرہ میری نظروں کے سامنے ٹپکتا رہا۔
نجانے کیوں میں اپنے آپ میں ایک نئی مہک سی محسوس کرنے لگا تھا
یوں لگنے لگا تھا جیسے وہ میری زندگی کا حاصل ہو کیونکہ ایسی ہی لڑکی
میری آئیڈیل تھی۔ میں رات بھر کبھی اس سے متعلق سوچ کر مسکرا دیتا
اور کبھی اداس ہو جاتا ایک بیتابی تھی جو دل کو بار بار جھنجھوڑ رہی تھی کہ
راحت تمہاری ادھوری زندگی اس کے دم سےمکمل ہو سکتی ہے اسے
اپنے قریب کر دو اپنی زندگی کو اسے حاصل کر سکے مکمل کر لو۔
آج پہلی رات تھی جو میں نے کسی لڑکی سے متعلق اس قدر گہرائی میں
سوچا تھا صبح سویرمیں کمرے سےنکل کر پھیر کنارے جا پہنچا
لیکن وہاں کچھ نہ تھا صرف لہراتا پانی ہی دکھائی دیا نجانے کیوں میرے قدم کھنڈرات کی جانب اٹھنے لگے میں دیکنھا چاہتا تھا
که رات والا منظر حقیقت تھا یا وہم.
اگر وہم تھا تو مجھے اپنے ارادوں کو بدل دینا چاہیے اور اگر حقیقت ہے تو پھر حقیقت میں اپنی
زخمی اور دکھی زندگی کو مہکانا چاےا نہیں تصورات کے بوجھ تلے میں دیا کھنڈرات کی بیرونی دیوار میں خستہ کھنڈرات تک جا پہنچا۔
کھنڈرات کی خستہ حالی سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھیں باہر کھڑے ہی اندر کے
تمام منظر دیکھے جاسکتے تھے کھنڈرات پہنچتے ہی میری متلاشی نظر میں اسے ڈھونڈ لگیں ایک کمرے میں وہ مجھے اپنے بال سنوارتی دکھائی
دی اس کا چہرہ دوسری جانب تھا کر میری جانب تھی میں نے اس کے برہنہ بازوؤں اور ہاتھوں کی دلکشی سے اندازہ لگالیا کہ وہ پری چہرہ
بہت دلکش اور حسین ہے میرا انداز و غلط نہ تھا کیونکہ اسے شاید محسوس ہو
گیا تھا کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے اس نے اپنا رخ میری جانب کیا میں اسے دیکھتے ہی اس کی خوبصورتی میں کھو گیا خدا
تعالٰی نے واقعی فرصت کے لمحات میں اس کی تخلیق کی تھی زمانے بھر کا حسن اس کے اندر سما دیا تھا اسے شاید میر اوہاں جانا ناگوار نہیں تھا
کیونکہ اس کے لبوں کی مسکراہٹ نے مجھے بتا دیا تھا کہ اس نے مجھے پہچان لیا ہے کہ جس شخص سے چاندنی رات میں چھیر کنارے ٹکراؤ ہوا
تھاوہ وہی ہے لیکن پھر جلد ہی اس نے اپنے لیوںکی مہکتی ہوئی
مسکراہٹ کو سمیٹ لیا اور ہاتھ کے اشارے سے مجھے بتایا کہ اس کےعلاوہ بھی گھر میں کوئی ہے میں بچہ نہ تھا کہ اس
کا اشارہ نہ سمجھ پاتا۔
سوحسین تصوارت نکھری سوچوں کے ساتھ میں واپس پلٹ آیا میں
اسے چلتا ہوا دیکھنا چاہتا تھا کہ کہیں اس کے پاؤں میں دردتو نہیں ہے
لیکن ایسا نہیں تھاوہ اب ٹھیک تھی اور اپنی رات والی تکلیف کو بھی بھلا
چکی تھی اسے خوش دیکھ کر میں بھی خوشی سے پاگل ہو گیا تھا۔
راہ چلتے اس کا حسین چہرہ میری نظروں کے سامنے رہا۔
جب تک گھر پہنچاوہ میرے دل ورگ میں سما چکی
تھی میں روزمرہ کے ماحول بھول گیا صرف یاد تھا کہ اس کا چہرہ اس کی مسکراہٹ میری
نظریں ہر وقت کھنڈرات کا تعاقب کرتی رہتیں میں نے اپنے کسی یار
بیلی کو اس سے متعلق کچھ نہیں بتایا میں جانتا تھا کہ اگر کسی کو بتادیا تو وہ مجھے
سے بھی زیادہ اس میں دلچسپی لینے لگیں گے بلکہ میں حسب عادات ان
کے دلوں میں خوف ہی بھرتا رہتا تھا۔
جن بھوتوں کے جھوٹے قصے سنا کر انہیں کھنڈرات سے خوفزدہ کرتا
رہتا لوگ تو پہلے ہی کھنڈرات سے کتراتے تھے اس کی محبت نے مجھے
زمانے والوں سے جدا کر کے رکھ دیا تھا۔ نہ کسی سے باتیں
کرنا اچھا لگتا تھا اور نہی کھیل کو د میں دلچسپی ہی رہی تھی بس یہی دل چاہتا
تھا کہ بالکل تنہار ہوں اور اس سے متعلق سوچتا ہوں . لیکن
اسے کیا خبر کہ میں اس سے شدید محبت کرنے لگا ہوں اس کے بنا جینے
کا تصور بھی گھائل کر رہا ہے۔
تو وہ مجھے دوست بیلی کو اس سے متعلق کچھ نہ بتایا میں جانتا تھا کہ اگر کسی کو نا پینا سے بھی زیادہ اس میں دلچسپی
لینے لگیں گے بلکہ میں حسب عادات ان کے دلوں میں خوف ہی بھرتا رہتا تھا۔
مجھے دل کی پوشیدہ باتوں کو اس پر عیاں کر دینا چاہیے … میں
اپنے ان خدشات کو بھی اس پر وضع کر دینا چاہتا تھا کہ جو میری زندگی کو
نہ صرف تلخ بنار ہے تھے بلکہ اذیت سے میرے اندر زہر گھول رہے
تھے کہ اگر اس نے مجھے ٹھکرا دیا تو میرا جینا مشکل ہو جائے گا گردش
خون میں چلنے والی سانسیں بوجھ بن جائیں گی چہرے کی اجلی رنگت
مر چھا جائے گی ہر بات دل میں بٹھا کر میں رات کی تاریکی پھیلنے کا
نے لگا دان کے بعد رات اور رات کے بعد دن
انتظار مسی دستور زمانہ بھی ہے اور قانون قدرت بھی
مہکتے رہیں سو دھیرے دیتیر ۔
روشنی کے بعد زمین میں اپنی گردن دھنستا ہواز مین کو تاریکیوں کے
بعد
سپر دکر کے روپوش ہو گیا .. اندھیرا اجالے پر حاوی ہوتا چلا
… چاہے لمحات ناگن بن کر ڈسٹے رے
تاریکی کے خوف سے لوگ کمروں میں دیکھتے چلے
بنائے خوف لیئے وحشت بھر نے لگے میں نے کمرے
سے نکل کر دروازہ کو کنڈی لگا دی اور بنا آہٹ کے صحن سے
گزرتا ہوا باہر گلی میں آگیا گلی میں مکمل سکوت تھا
میرے قدم چھپر کے کنارے کی جانب بڑھتے چلے گئے میں نے۔دل میں پختہ ارادہ کر لیا تھا کہ آج میں اسے حال دل سنا کر رہوں گا۔
اسے وہ تمام باتیں کہہ دوں گا جو میرے دل میں کئی دنوں سے ہلچل پیدا کئے ہوئے تھیں جو مجھے دن رات تڑ پارہی تھیں جو مجھے راتوں کو
سونے نہیں دے رہی تھیں مجھے جواب چاہیے تھا اپنی ترپ کا اپنی محبت کا اپنی چاہت کا اپنی نیندوں کی بیداری کا اپنی بے بسی کا۔ ہزاروں
باتیں میں دل میں لئے چلتے چلتے چھیڑ کنارے تک جا پہنچا مجھے چھپر
کنارے کوئی سایہ لہراتا ہوا دکھائی دیا تو وہ…
ہی تھی شاید وہ میری منتظر تھی کیونکہ چھپر
کنارے اس کا گھومنا اس بات کی غمازی تھا کہ وہ کسی کی منتظر ہے
میری خوشی دو بالا ہوتی جانے لگی پاؤں میں قدرتی طاقت بھرتی اگئی مجھے دیکھتے ہی وہ مسکرائی۔ اس کی مسکراہٹ سے مجھے یوں
محسوس ہوا جیسے میری سانسیں مہکتی جانے لگی ہوں
آ گئے ۔۔۔
میں تمہاری ہی منتظر تھی اس نے اپنے چہرے پر
گرے لمبے بالوں کو ہٹاتے ہوئے کہا اس کے ان الفاظوں نے
میرے جسم میں نئی روح پھونک دی آپ کو کیسے معلوم تھا کہ میں یہاں
آؤں گا میں نے کچھ زروں اور کچھ کچھ چہکتے ہوئے کہا؟۔
میرے دل نے گواہی دی تھی کہ وہ مجھے چھپر کنارے ضرور ملے
. او تو آپ کا دل گواہیاں دینے لگا ہے میں نے اس مرتبہ
پیار بھرے لہجے میں کہا وہ مسکرا دی ہاں میری جان
دل نے جس چیز کی طلب کی ہے وہ مجھے ضرور
ملی ہے . میں اس کی بات پر اچھل پڑا
ہاں
اور کہا آپ نے میری طلب کیا بات
شد ید طلبه … اس نے دوپٹہ کا پلو
انگلیوں میں دباتے ہوئے کہا مجھے اس کا شرمانا محفوظ کر گیا۔ بھی
چاہا کہ وہ یونہی ہمیشہ اور سدا کے لئے میرے سامنے اسی طرح مسکراتی
رہے شرماتی رہے اور میں اس کی ان اداؤں سے اپنی سانسوں کو مہکاتا
رہوں … اور پھر میں نے اس سے وہ تمام باتیں کہہ ڈالیں۔
جنہوں نے کئی دنوں سے مجھے بے چین و بے تاب کر رکھا تھا میری
محبت کا جواب تو مجھے پہلے ہی مل گیا تھا لیکن حال دل اور بیتا بی دل
ستانا ضروری تھا وہ مسکراتی رہی اور میں سناتا رہا لیکن یکدم میرے دل میں ایک وسوسے اور خوف نے جنم لیا ۔ نجانے
کیوں رات کی تنہائی میں حسین لڑکی کا تنہا مجھے اندیشوں میں گرفتار
کیا تب میں نے پوچھ لیا کیا آپ
کو تنہائیوں اور
اندھیروں سے خوف نہیں آتا۔ میرے لفظوں پر وہ مسکرادی
مجھے اندھیرے اچھے لگتے ہیں جانتے ہو دن بھر بابا گھر میں رہتے ہیں
کہیں باہر نکل نہیں سکتی اور رات کو وہ چلے جاتے ہیں ویسے بھی بابانے
مجھے دن میں نہ نکلنے کا حکم دے رکھا ہے انہوں نے کہا ہے کہ تم اس
وقت گھر سے نکلا کرو جب تمام ہستی والے محو خواب ہوں
کوئی تجھے
خوفزدہ نا کرے انہیں معلوم ۔
میرے بابا میرے بے پناہ حسن سے خوفزدہ ہیں
میں اس کی بات پر حیران رہ گیا۔ اور خوش بھی ہوا کہ اس کی سوچیں اور میری سوچیں پوری طرح عکاسی کرتی ہیں میں بھی یہی
چاہتا تھا کہ اسے میرے علاوہ کوئی دوسرانہ دیکھے اور اس کی بھی خواہش
تھی کہ وہ کسی اور کو دکھائی نہ دے دیسے بھی میری پیروں ویرانوں سے خوف کیسا ؟ خوف تو دلوں میں ہوتا ہے اندھیرے انسان
کو کچھ نہیں کہتے میں نے تمہیں اس لئے منتخب کیا ہے کہ تم بھی ویرانوں
اندھیروں سے خوفزدہ نہیں ہوتے مجھے کمزور دل انسان اچھے نہیں
لگتے میری خواہش تھی کہ میں اسے اپناؤں اسے محبت دوں جو
اندھیروں میں آگے ہی آگے بڑھا جائے … اس نے سچ کہا تھا
واقعی مجھے ویرانے سنسانے ، اندھیرے خوفزدہ نہیں کر سکے تھے میں
شروع سے خطروں کا کھلاڑی تھا حالانکہ لوگ مجھے جن بھوتوں
چڑیلوں کے قصے سنا کر اندھیروں سے خوفزدہ کرتے رہتے تھے لیکن
میں نے کبھی ان کی باتوں پر دھیان نہ دھرا تھا۔ لگتا ہے ماضی
میں کھو گئے ہو. اس کی بات نے مجھے چونکا دیا۔
تم نے کیسے جان لیا کہ میں ماضی کے تصورات میں کھویا ہوں میری
بات پر وہ مسکرادی اور بولی۔ میرے بابا ہاتھ شناس ہیں۔ نہ چہرہ
شناس بلکہ وہ انسان کی سانسوں کی گونج سن کر بتا دیتے ہیں کہ اس
کے دل میں کیا ہے اور بابا نے اپنے علم کا کچھ حصہ مجھے بھی دیا ہے
کیا۔ میں چونکتے ہوئے بولا۔ مجھے
یوں لگا جیسے اس نے میرے دل کی بات کہہ دی ہو.
کیونکہ
مجھے بھی بچپن سے ایسے ہی علموں کی جستجو رہی اس کا مطلب ہے کہ
مجھے آپ کے بایا کی بھی غلامی کرنی پڑے گی تا کہ میں بھی ایسے علم
حاصل کر سکوں وہ میری اس بات پر ایک دم اداس ہوگئی اور بولی
جان۔ میں اپنے بابا کی فطرت سے بخوبی واقف ہوں وہ میرے لئے
نرم دل اور باقی سب لوگوں کے لئے سخت طبیعت رکھتے ہیں میں بلکہ
میں کہنے والی تھی کہ دن کی روشنی میں آپ کھنڈرات میں نہ آیا کریں
میں وعدہ کرتی ہوں کہ ہر رات آپ کسے یہاں مل لیا کروں گی آپ کی طرح میرے دل میں بھی بے چینی رہتی ہے جب تک آپ کو دیکھ
نہ لوں چھین نہیں آتا۔ ویسے مہکتے تو آپ میری سانسوں میں ہیں لیکن
آپ سے باتیں دمیرے
دے سکتا ہوں۔ زمانہ والوں سے لڑ سکتا ہوں ۔ وہ مسکرادی
…… اور بولی بس جان یہی چاہتی ہوں میں کہ آپ میرے لئے
اتنا کچھ کر جائیں کہ بابا تم پر راضی ہو جائیں اور بن مانگے ہی میرا
ہاتھ آپ کے ہاتھوں میں دے دیں … کاش ایسا ہو
جائے . میں نے کہا تو وہ مسکرادی اور بولی آپ کا
دوست فیاض. بس آپ اس سے نہ ملا کر یں ۔
وہ اچھا انسان نہیں ہے فیاض کا نام سنتے ہی میرے تن بدن میں آگ لگ گئی کیونکہ میں اس کی فطرت سے بخوبی واقف تھی ابھی میں نے کیا
بتاؤ۔ بتاؤ۔ کیا کیا اس نے ۔ سحرش روہانسی ہوگئی اور
بولی بس آپ اس
سے ملنا چھوڑ دیں پلیز سحرش بتاؤ تو سہی اس نے کیا کہا ہے آپ
سے۔ مجھے صرف بتا دو پھر دیکھنا اس کا وہ حال کرتا ہوں کہ وہ تمام
زندگی یا در کھے گا پلیز بتاؤ کیا کیا ہے اس نے میں غصہ سے پیتے
ہوئے بولا۔
کل شب میں یہاں
تمہارا انتظار کر رہی تھی کہ وہ کہیں سے چلا
آیا مجھے تنہاد یکھ کر اس کی آنکھوں میں جوش بھر آئی .
چھی چھی بری شکل والا .
تھپڑ کا بدلہ ایسا لوں گا کہ تم اپنے آپ
کو بھی منہ نہ دکھا سکو گی
سحرش کی باتوں نے میرے دماغ میں طیش بھر دیا .
میں چیخا ۔ اس کی یہ جرات اس کا ایسا حال کروں گا کہ یاد کرے گا۔
نہیں جان نہیں آپ اسے کچھ نہ کہنا خواہ مخواہ
دوشمنی پڑ جائے گی بس اس سے کنارہ کشی اختیار
کر لیں نہیں
سحرش نہیں میری خاموشی سے وہ فائدہ اٹھا سکتا ہے اور تمہیں کوئی
نقصان پہنچا سکتا ہے میری بات سن کروہ مسکرائی اور بولی شہزادے
اب میں جان گئی ہوں کہ میرا انتخاب غلط نہ تھا میں نے کسی جرائت
مند انسان سے محبت کی ہے بہا در انسان کو چاہا ہے اگر تم نے فیاض کو
سبق سکھانا ہی ہے تو پھر تم اس کا قتل کر دوک کیا
سحرش کی بات پر میں لرزا ہاں میں نہیں چاہتی کہ اس کے
درندے نما ہاتھ میری گردن تک پہنچیں۔ مجھے اپنی سانسیں بہت
پیاری میں میں تمہارے لئے جینا چاہتی ہوں وہ بات کرتے کرتے
سک کر رو پڑی ٹھیک ہے ایسا ہی ہوگا۔ تمہیں میں نے کہا
ایساہی بوگا
ہے نا کہ میں تمہارے پیار میں بہت آگے نکل جاؤں گا ۔۔
کام میرے لئے اتنا اہم نہیں۔ اس ذلیل کو اب جینے کا
کوئی حق ہے۔ اچھا جان اب میں چلتی ہوں اتنی دیر میں کبھی بھی
باہر نہیں رہی بس تمہارے پیار نے مجھے روکے رکھا سوچتی ہوں کتنی
قسمت والی ہوں کہ تم میری زندگی میں آئے ورنہ شاید زندگی تنہائیوں
کی نظر ہو جاتی کبھی کبھی تنہائیاں مجھے ا سنے لگتی ہیں اپنے آپ سے بھی
بیزار ہونے لگتی ہوں آئینہ کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی حسین جوانی
دیکھ کر سوچا کرتی تھی کہ مجھے چاہنے والا کیوں نہیں ملتا کوئی ایسا شخص جو
میری اتنی تعریف کرے میں نازاں ہو سکوں کہ واقعی میں بہت حسین
اس نے اپنا آنچل لہراایا اور
پر چلنے لگی میں اس کا پیار دل میں لیئے اور فیاض کے لئے آتشی انتقام
لئے واپس چل پڑا گلی کی نکڑ پر پہنچا ہی تھا کہ مجھے ایک دلخراش چیخ سنای دی
۔ یہ چیخ سعرش کی ہی تھی
راحت ۔۔۔
یہ الفاظ لہراتے ہوئے میرے کانوں تک
پہنچے میں پاگلوں کی طرح واپس بھاگ پڑا کھیتوں
کو چیرتا ہوا قبرستان
جا پہنچاوہ قبرستان میں بے ہوش ملی … ایک قبر کے ساتھ خون میں لت پت تھی سر سے فواروں کی مانند خون بہہ رہا تھا۔
سحرش سحرش میں نے تڑپتے ہوئے اسے تھام لیا اور اسے
ہوش میں لانے لگا میرے گلے میں مفلر تھا میں نے اس مفلر سے اس کا سر باندھ دیا بہتا خون رکنے لگا اور پھر اسے ہوش دلوانے لگا اس نے
دھیرے دھیرے اپنی آنکھیں کھول دیں حسرت بھری نظریں میرے
چہرے پر ڈالی اس کے لب کپکپائے آواز لہرانے لگی جان۔ جان۔
وہ ۔ وہ یہاں ہی چھپا ہوا ہے۔ کون کون بتاؤ کون؟
میں نے آگ کی تپش نظروں میں لاتے ہوئے کہاو ہی آپ کا گھٹیا سوچوں والا دوست … سحرش کی زبانی فیاض کا نام سن کر میں
آگ بگولہ ہو گیا اور چیختے ہوئے بولا۔ میں اس بے غیرت اور ذلیل انسان
کو نہیں چھوڑوں گا کہاں چھپا ہے وہ میں نے سحرش کو قبر
کے قریب لٹایا اور قبرستان میں فیاض کی تلاش کرنے لگا میں بالکل
وحشی ہو چکا تھا سر پر موت کا بھوت سوار تھا میں چیختے چیچنتے اسے پکارتا
جار ہا تھا کہ باہر نکل ڈرپوک انسان چھپ بیٹھا ہے باہر نکل تیرے جسم
سے ٹکڑے نہ کر دوں تب کہنا میں اس کو تلاش کرتے کرتے پورا
قبرستان چھان مارا لیکن وہ مجھے کہیں بھی دکھائی نہ دیا تب میں دوبارہ
سحرش کے پاس آیا وہ درد کی شدت سے کراہ اور سسک رہی تھی میں نے
حوصلہ دیا
میں اس خبیث انسان کو
قتل کر دوں گا چین سے نہیں بیٹھوں گا چلو آؤ میں تمہیں تمہارے گھر
چھوڑ آؤں اتنا کہہ کر میں نے اسے اٹھایا۔ اور کھنڈرات
کی طرف لے گیا۔
میں نے دیکھا کہ وہاں چار پائی کا نام ونشان تک نہ تھا
دل کو ایک چوٹ سی لگی کہ میری جان نیچے زمین پر سوتی ہے
اس کا سر زیادہ نہ پھٹا تھا۔ اگر زیادہ پھٹ جاتا تو شاید
زندگی ہار جاتی میں مسلسل اسے دلا سے دیتا رہا کہ باہر سے
قدموں کی آواز سنائی دی۔
اس نے آواز پہچان لی ۔ اور بولی راحت دوسرے کمرے
میں چھپ جائیں بابا آ گئے ہیں اگر انہوں نے آپ
کو دیکھ لیا
تو قتل کر دیں گے میں نے یہ سنا ہی تھا کہ دوسرے کمرے میں جا چھپا
ایک بھاری وجود والا انسان اندر کمرے میں آیا … سحرش نے
سر پر دو پٹہ اوڑھ لیا۔ شاید وہ ظاہر نہیں ہونے دینا چاہتی تھی
کہ اسے شدید چوٹ پہنچی ہے بہت گھبرائی ہوئی ہو ۔ ایک بھاری بھر کم
آواز میرے کانوں سے ٹکرائی چھت سے گر پڑی تھی
سحرش نے سفید جھوٹ بولا تھا۔ کیوں جاتی ہو چھت پر کہا ہے کہ باہر گھوم پھر لیا
کرو لیکن تم میرا کہنا نہیں مانتی اگر تمہیں کچھ ہو جائے تو بابا
اس کے سر کی چوٹ کو دیکھتے رہے اور سحرش کا دھیان میری طرف تھا
میں نے محسوس کیا کہ باتوں کے دوران مجھے نکل جانے کا اشارہ کر
رہی تھی میں گرمی دیوار سے ہوتا ہوا باہر نکلنے میں کامیاب ہو گیا لیکن
گھر نہ گیا .. قبرستان میں ہی گھومتا رہا میں جانتا تھا کہ فیاض
یہیں کہیں چھپا ہوا ہے رات بھر ایک ایک کونہ دیکھ لیا لیکن
وہ نہ ملا رات کے آخری پہر میں گھر چلا گیا گھر میں مکمل
سکوت اور خاموشی تھی میں بنا آہٹ کے اپنے کمرے میں چلا گیا
سحرش کا چہرہ بار بار میری نظروں
سوچوں میں
کے سامنے گھومتار ہ محبتوں بھری یہ رات اذیتوں
میں بدل گئی آتش
انتقام سے میرا دماغ پکھلتار رات کا ایک ایک لمحہ چیخ چیخ کر فیاض کا قتل کرنے کو کہہ رہا تھا میں وحشت میں ڈوبا ترپتا رہا صبح ہونے کا منتظر
رہا۔ اس خبیث نے میری عزت پر ہاتھ ڈالا تھا میرے پیار کو
ختم کرنے کی کوشش کی تھی میں اسے کسی بھی صورت میں زندہ نہیں
چھوڑوں گارات نے کٹنا تھا سو کٹ گئی صبح سویرے ہی میں فیاض کے
گھر جا پہنچا اور دروازہ پر دستک دے ڈالی اس نے دروازہ کھولا میری
آتشی آنکھوں کی تاب نہ لا کر جھینپ سا گیا راحت کیا بات ہے تمہارا
چہرہ آگ کی طرح سرخ دکھائی دے رہا ہے جی چاہا تھا کہ اس کا
گریبان پکڑ کر گھسیٹتا ہوا اندر لے جاؤں اور بالکل اسی طرح اس کا سر پھوڑ دوں
جس طرح اس نے سحدش کا ٹورا ھے
لیکن برداشت کر گیا
اور مسکرا کر اس کہا
ی۔ نے ایک ڈروانہ خواب دکیکھا ھے
وہ ڈرا سہا گیا تھا
کیا بول رے ھو
ایک ڈراؤنا خواب دیکھا ہے
میں نے. میں نے
ہوئے کہا ایک بھیانک سائے کاہاتھ ۔ پہنچتا دیکھا ہے وہ مسکرا دیا اف خدایا تم نے تو اپنے چہرے پر
اس قد روحشت پکا رکھی ہے جیسے وہ بھیانک سایہ میر اہی تھا۔
بہرحال نہ
ہر حال اپنا موڈ درست کرو ورنہ میں خوف سے بے ہوش
ہو جاؤں گا اس کی بات پر میں مسکرادیا اور پھر چند لمحات ٹھہرنے کے
بعد واپس گھر چلا آیا اس سے کسی قسم کی بات نہ کی صرف دیکھنے گیا تھا
کہ وہ کسی روپ میں ملتا ہے دن اپنے کام میں گزار دیا بار بار دھیان
رات والے واقع کی جانب جا کر ٹھہرجاتا تھا نجانے سحرش کس حال
ہو گی کیا کر رہی ہوگی اس بیچاری کا قصور صرف اتنا ہی تھا کہ وہ
خوبصورت اور حسین ہے ورنہ تو کئی جوان لڑکیاں گھروں میں موجود
ہوتی ہیں۔ اور دوسری طرف فیاض کا بھیا تک روپ میرے
قہر وغصہ میں اضافہ کرتا جارہا تھا میں نے اسے ختم کرنے کا منصوبہ
پوری طرح ترتیب دے رکھا تھا۔
اسے قبرستان میں لا نا تھا میں اسے ختم کر کے لاش کو کسی گڑھے میں
پھینک دینا تھا اور یہ مشہور کر دیتا تھا کہ اسے چڑیلوں آسیبوں نے قتل
کیا ہے اس منصو بہ کو عملی جامہ پہ بنانے کے لئے میں نے تیز دھار خنجر
بھی اپنی کمر میں باندھ
لیا تھا انتظار تھا تو صرف اندھیرا پھیلنے کا
ادھر اندھیرا پھیلنا تھا دھر اس کی زندگی کا چراغ گل کر دینا
تھا
دن زیادہ لمبا نہ تھا شب وروز سردیوں کے تھے صبح
سویرے ہی گاؤں کے گردونوات گہری دھند پڑ جاتی تھی ۔
یہی حال رات کاتھا
میں بھی ہوتا تھا۔ رات ہوئی تو میں
وہ گھر نہ تھا ۔ پتہ چلا کہ کہیں باہر
وہ نہ تھا۔
ہی کھیتوں میں موجود ہے اس کا گھر نہ ہونا مجھے مزید شک میں ڈال گیا
رات والا منظر دوبارہ نظروں کے سامنے ابھر نے لگایوں لگا جیسے وہ
آج پھر سحرش کے گھر کا رخ کرے گا سحرش کا خیال آتے ہی میں نے اپنا رخ قبرستان کی جانب کر لیا قبرستان پہنچ کر مجھے یوں محسوس ھوا کہ کوی یہاں موجود ھے
موجود ہو ۔ کون .
محسوس ہوا جیسے وہاں
پکپاہٹ تھی آواز میں لرزش تھی مجھے دیکھ کر جیسے وہ حوصلہ مند
ہو گیا بولا شکر ہے تم آگئے ورنہ نجانے میرے ساتھ کیا ہو جاتا تم نے تو
خواب میں کسی سائے کو اپنے قریب دیکھا تھا اور میں نے حقیقت میں
اسے دیکھا ہے ایک لڑکی کو ۔ وہ دیکھو درختوں کی اوٹ میں کھڑی ہے
اس نے میری توجہ درختوں کی جانب کروائی میں نے درختوں کی اوٹ
میں دکھا کچھ دکھائی دیا مجھے شک محسوس ہوا جیسے وہ مجھ سے بہت بڑا
ڈرامہ کر رہا ہے کیونکہ میں نے بروقت یہاں پہنچ کر اس گھناؤنے
منصوبے کو ناکام بنادیا تھا میر اہاتھ کمر پر باندھے خنجر کی جانب بڑھتا
گیا میں نے اسے محسوس بھی نہ ہونے دیا کہ میں اسے قتل کرنے لگا ہوں اس کا کیا گیا ڈرامہ میں نے شروع کر دیا فیاض تم سچ کہتے ہو۔
واقعی وہاں کچھ ہے مجھے بھی وہ دکھائی دے رہی ہے تم تو ڈر پوک واقع
ہوئے ہو لیکن وہ میرے ہاتھ سے بچ کر نہیں جاسکتی انہیں لفظوں کے
ساتھ میں نے خنجر نظروں کے سامنے کر لیا وہ خوف وڈر سے پسینہ
پسینہ ہونے لگا میں نے پھرتی اور مہارت سے کام لیتے ہوئے ایک
زور در وار کر دیا ایک بھیانک چیخ اس کے حلق سے نکل کر
ویرانے میں گونجی اس کے بعد اس نے حسرت بھری نگاہوں سے
میری طرف دیکھا جیسے کہہ رہا ہو کہ راحت تم نے مجھے بے گناہ کو قتل کر
دیا ہے حالانکہ میں بے قصور تھا میر اتمہاری سحرش سے کسی قسم کا کوئی
تعلق واسطہ نہیں تھا لیکن کچھ بھی نہ کہہ سکا۔ اکھڑتی ہوئی سانسوں کے
ساتھ وہ چند گھڑیوں کے لئے ترپٹا رہا اس کے بعد ہمیشہ ہمیشہ کے لئے
آنکھیں بند کر لیں . میں نے محسوس کیا کہ میرے علاوہ بھی
اس
قبرستان میں کوئی موجود ہے جو یہ تمام منظر دیکھ ہا ہے کیونکہ کسی کا
سایہ مجھے درخت کے ساتھ اوجھل ہوتا ہوا دکھائی دیا تھا خوف وڈر سے
میرا دماغ چکرانے لگا لیکن جلد ہی پرسکون ہو گیا کیونکہ درخت کے
پیچھے پوشیدہ سایہ سحرش کا تھا جو آہستہ آہستہ چلتی ہوئی
میرے قریب آئی اس کے لبوں پر فاخرانہ مسکراہٹ تھی آنکھوں میں
ٹھاٹھیں مارتا پیار کا سمندر بھی تھا جان ۔ اس شخص سے میں
بہت خوفزدہ ہو گئی تھی اگر تم اسے قتل نہ کرتے تو یقینا میری زندگی کی شمع
ی گل کر دیتا۔ وہ کئی دنوں سے میرا پیچھا کر رہا تھا اب بھی اس
نے ایسا ہی کیا مجھے اس قبرستان میں اس نے دیکھ لیا اس کی آنکھوں
میں وحشت تھی میں اسے دیکھتے ہی ڈرگئی اور ادھر اُدھر چھپنے لگی لیکن وہ
بہت چالاک اور تیز تھا میرا پیچھا کرتار ہا مجھے پکڑنے کی کوشش کرتا رہا
تب میری نظر تم پر پڑی تو میں نے کہا۔ دیکھ میر شہزادہ آ رہا ہے اب تیرا کام تمام کر دے گا میری بات سن کر اس نے تمہیں دیکھ لیا اور پھر
چھپنے لگا لیکن چھپ نہ سکا پکڑا گیا اور مارا بھی گیا تم نے نہ صرف
میرے دل میں اپنے پیار کو مضبوط کیا ہے بلکہ میرے اعتماد کو بھی پختگی
بخشی ہے۔ اب میں بالکل پرسکون ہوں یوں جیسے آزاد ہوائیں
سحرش کو مطمئن دیکھ کر میں بھی پرسکون ہو گیاوہ بولی بابا گھر
میں ہیں۔صرف تمہاری خاطر یہاں تک پہنچی ہوں میں جانتی تھی کہ تم
اب میں جاتی ہوں کل رات چھپر کنارے ملوں
نے اس کو یہ لاش کو ٹھیکا نے “
اتنا کہہ کر وہ چل دی اور
متعلق سوچتار با کافی دیر تک سوچوں میں محور بنے کے بعد میں نے
اسے
اٹھایا اور ایک گہرے گڑھے میں پھینک دیا اس کام سے فارغ
ہونے کے بعد میں چلتا ہوا چھپر کنارے پہنچا شجر کو سچ چھپر میں پھینک
کر پرسکون سانس لی . مجھے فیاض کے قتل کا ذرا
بھی
پچھتا وانہ تھا بلکہ اسکے علاوہ کوئی اور بھی میری سحرش کے قریب ہونے
کی کوشش کرتا اسے بھی قتل کر دیتا جب گھر پہنچا تو ہر طرف سکوت اور
ہو کا عالم تھا میں نے کمرے میں پہنچ کر اپنا جائزہ لیا تو لرز کر رہ گیا
کیونکہ بالکل خونی اور قاتل انسان دکھائی دیا کپڑوں پر اس کے خون
کے نشان جگہ جگہ نمایاں تھے میں نے جلدی سے کپڑے تبدیل کر لئے
اور اتارے ہوئے کپڑوں کو آگ لگا کر اس کے پاس بیٹھ گیا یہی بس
ایک نشانی تھی جو مجھے لوگوں کے سامنے قاتل ٹھہر اسکتی تھی اور میں کوئی
بھی ایسا نشان باقی نہ چھوڑ نا چا ہتا تھا دل مطمئن تھا کپڑے مسلسل جلتے
جارہے تھے۔ اندر کمرے میں دبکے گھر والوں کو اس بات کی
خبر تک نہ ہوئی۔ کہ ان کے گھر میں ان کے درمیان ایک خونی اور
قاتل انسان بھی موجود ہے۔
جب کپڑے جل کر خاک بن گئے تو میں نے تمام خاک کو بکھیر دیا اس کے بعد جب دل کو پوری طرح تسلی ہو گئی تب اندر کمرے میں بستر
میں جا گھسا چند لمحات گزرے ہوں گے کہ مجھے محسوس ہوا جیسے کسی نے
دروازے پر دستک دی ہو … دستک دینے کا انداز بہت
ہی دلکش تھا راحت مجھے سحرش کی آواز سنائی دی اس کی آواز سنتے ہی
میں اچھل پڑا اور فوراً دروازہ کھول دیا. وہ لبوں پر مسکراہٹ
سجائے کھڑی تھی تم تم اور یہاں ہاں یا با
چلا گیا ہے چلو چھپر کنارے چلتے ہیں اتنا کہہ کر وہ واپس گلی میں چل
پڑی اس کا حوصلہ دہمت دیکھ کر میں ابھی تک تجس و حیرت میں ڈوبا
ہوا تھا کیسی لڑکی تھی وہ جسے اندھیروں سے بالکل خوف وڈر نہ آتا تھا۔
یوں جتنی سردی بھی ہو
ہو حالانکہ باہر کا ماحول بھی
وحشت زدہ تھا لیکن میں کیسے رک سکتا تھا پیار
کرنے والوں کو موسموں
اور اندھیروں سے کیسا خوف وہ تو کچھ بھی کر سکتے ہیں ایسی ہی کیفیت ان لیے میری بھی تھی میں نے سیاہ چادر اوڑھی اور اس کے پیچھے چل
پڑاوہ گاؤں سے کافی آگے نکل چکی تھی میں بھا گنا نہیں چاہتا تھا
کیونکہ بعض گھر ایسے بھی تھے جن کے درواز ے گلیوں میں کھلتے تھے
میری جنونی قدموں کی آہیں انہیں نیند سے بیدار بھی کر سکتی تھیں۔
سو بنا آہٹ کے تیز قدموں کے ساتھ چلتا ہی رہاوہ گاؤں کے باہر
ایک درخت کے ساتھ کھڑے ہو کر میر انتظار کرنے لگی میرے قریب
پہنچتے ہی بولی راحت نجانے تمہارے پیار نے مجھ پر کیسا
جادو کر دیا ہے کہ تمہارے علاوہ کہیں بھی دل نہیں لگتا۔ بس یہی دل
چاہتا ہے کہ تم ہو میں ہوں اور گہری تنہائی ہو اور مہیب سناٹے ہوں
میں دعائیں کر رہی تھی کہ بابا گھر سے نکلیں اور میں
تمہیں ملوں۔ آج
جی بھر کر باتیں نہ کی تھیں اس لئے دل کو سکون نہ ملا تھا۔ بابا ابھی گھر پہنچی
سے نکلے ہی تھے کہ میں بھی نکل پڑی پہلے چھپر کنارے تمہیں ڈھونہ
رہی کہ تم دکھائی دو لیکن جب تم یہاں نظر نہ آئے تو پھر تمہارے گھر جا
مجھے بتاؤ تم پر کسی کو شک تو نہیں ہوا۔ کیونکہ تمہارے
کپڑے فیاض کے خون سے سرخ ہو گئے تھے مجھے گھر میں بس یہی
خوف تھا کہ کہیں تمہیں کسی نے دیکھ نہ لیا ہو میں نے کہا نہیں
سحرش مجھے کسی نے نہیں دیکھا اور گھر والے بھی پرسکون ہوئے ہوئے
ہیں میں نے کپڑے بدال لئے ہیں ان کپڑوں کو جلانے کے بعد میں
اپنے بستر پر لیٹا ہی تھا کہ تم آگئیں۔ میری باتیں دوبڑے غور اور
دھیان سے سنتی رہی اس
کا چہرہ بالکل سپاٹ
تھا جیسے کسی قسم کا خوف بھی
وہ اپنے اندر برداشت نہ کرنا چاہتی ہو .. سحرش میں بھی ایسی
کیفیت سے دو چار تھا ویسے ایک بات تو بتاؤ تمہاری ہمت و طاقت
اور حوصلہ دیکھ کر کئی مرتبہ تو میں خود بھی خوف زدہ ہو جاتا ہوں کہ تم
عورت ہو یا کوئی اور مخلوق کسی بھی چیز سے تمہیں خوف نہیں آتا میری
بات پر اس کے منہ سے ایک قہقہ پھوٹا اور نجانے کتنے
لمحات تک وہ ہنستی چلی گئی مخلوق اور میں . … جان
تمہیں پہلے دن سے کہہ دیا تھا کہ مجھے اندھیرے، تنہائیاں ویرانیاں،
سنسانیاں
اچھی لگتی ہیں کیونکہ میں نے آنکھ بھی ایک ویرانے میں کھولی
تھی مجھے بابابتاتے ہیں کہ میری پیدائش پر ہی ماں چل بسی تھی۔
میری پیدائش جنگلوں میں بنی ایک جھونپڑی میں ہوئی تھی
بابا نے کسی بات پر بستی والوں سے ناطہ رشتہ تو ڈرکھا تھا ….. دنیا
والوں سے بالکل الگ تھلگ میری ماں کو لے کر رہتے تھے۔
بچپن میں ہی میں نے اندھیرے اور ویرانیاں دیکھ لی تھیں ۔
اوران اندھیروں نے میرے اندر خوف وڈرٹہ بھرا تھا بلکہ حوصلہ ہمت
اور طاقت بھر دی مجھے اندھیروں سے پیار ہونے لگا آج بھی ایسی ہی کیفیت ہے حالانکہ بابا چاہتے تو گاؤں میں بھی رہ سکتے تھے لیکن ان کو
پی نہیں انسانوں سے کیسا خوف ہے کہ مجھے انسانی نظروں سے چھپا
کر ر کھتے ہیں سحرش نے درخت سے ٹیک لگائے تمام کہانی سناڈالی
اور بولی ارے تم نے مجھے کن باتوں میں لگا دیا ہے آؤ چھپر
کنارے چلیں . وہاں پانی کی ٹھنڈمی لہروں سے کھیلتے ہیں
ما میں ٹھنڈے پانی .
کیا۔ کیا ۔ ان کے ہی ہے تو پھر کیا ہوا محبت کرنے
والوں کے
پاؤں پانی میں رکھ کر پانی سے کھیلنے گئی اور پانی کے کئے چھینٹے اس نے
مجھ پر بھی ڈالے سردی سے میرے دانت تو پہلے ہی ایک سازینہ بنے ہوئے تھے اس کے اس فعل سے میرا پورا جسم لرزنے لگا اور کا چھنے لگا
میں نے کہا سحرش شدت سردی سے لگتا ہے ٹھٹھر
کر مر جاؤں گا …… میری بات پر اس نے عجیب نظروں سے مجھے
دیکھا اور بولی جان تم بھی دوسرے لوگوں کی طرح نکلنے لگے ہو۔
حالانکہ تم نے مجھے وعدہ دیا ہے کہ میری ہر خوشی تمہاری ہوگی
ہاں لیکن میں نے بولنا چاہا تو وہ مسکرادی
اور بولی۔ جان اپنی راہوں کو نہ بدلو چورا ہیں مجھے پسند ہیں ان
پر چلو .. وعدہ کرو کہ ہمیشہ میراساتھ دو گے ہاں میں
وعدہ کرتا ہوں . لیکن میں نے پھر کچھ کہنا چاہا تو وہ بولی
جان تم پانی سے خوفزدہ ہو ہاں ایسا ہی ہے میں نے کہا تو وہ
بولی ڈرپوک کہیں کے چلوں لگاؤ چھلانگ پانی میں دیکھتی
ہوں تم میری محبت کا کیسا ثبوت دیتے ہو؟ محبت کا لفظ سنتے ہیں
میں نے چھیٹر میں چھلانگ لگادی وہ کنارے بیٹھی ہنستی رہی اور بار بار
پانی کے چھینٹے مجھے پر ڈالتی رہی ۔۔
جان یقین کرو تم بالکل ویسے نکلے جیسے میں سوچا کرتی تھی۔ اس کے
یہی الفاظ تھے جس نے مجھے والوں سے جدا کر رکھا تھا اچھا چلونکل
آؤ باہر اس نے مسکراتے ہوئے ہاتھ آگے بڑھا دیا اور میں اس کا ہاتھ
تھامے پانی سے باہر نکل آیا جسم میں ایک کپکپی طاری تھی لیکن وہ
تصورات میں بہت دور نکل گئی تھی جان میں کبھی سوچ بھی نہ سکتی تھی کہ
کوئی اس قدر مجھے چاہنے والا ملے گا سچ پوچھیں تو تنہائیوں
سے میں بھی اکتا گئی تھی اکیلے میں راستے کٹھن اور دشوار گزار
اکتا .
دیکھائی دینے لگے تھے لیکن آج میں اکیلی اور تنہا نہیں ہوں تمہارا پیار
تمہاری چاہت میرے ساتھ ہے دیکھا آج فضائیں کیسے مہک رہی
ہیں ہر چیز میری خوشیوں کی مسرت میں ڈوبی ہوئی ہے ایک وہ انسان
تھا جو مجھے اندھیرو میں دھکیلنا چا ہتا تھا اچھا کیا تم نے اس کا قتل کر دیا
میری راہوں کو مار کر دیا وہ وحشت پر اتر آیا تھا لیکن جان
ایک بات یا اور کھنا اگر میرے علاوہ کسی اور لڑکی کو اپنی زندگی میں لانے
کی کوشش کی تو تم جانتے ہو میں نہ تو موت سے ڈرتی ہوں اور نہ قتل
کرنے سے میرے اعتماد کو ہمیشہ بحال رکھنا اگر ٹھیس پہنچی
اعتماد و تارا ہمیں جدا ہوئیں تو دھرتی کو آگ لگا دوں
گی تمہیں جلا دوں گی ۔ خود بھی جل مروں گی اور اسے بھی
جلا دوں گی جو تمہارے نزدیک آنے کی کوشش کرے
گی.
میری محبت تمہارے لئے انمول ہے اسے وحشتوں میں نہ بدل دینا
دور ہی تمہیں ہر سو بکھری ہوئی انسانی جسموں کی راکھ ہی ملے گی
اتنا کہ کر وہ کھنڈرات کی جانب چل دی اور میں سردی میں ٹھہراتا
ہوا بس اسے ہی دیکھتار ہا جب اندھیروں نے اسے روپوش کر لیا تو
میں گھر آ گیا جن راستوں سے چل کر گھر آباد ہ راستے پانی سے بھیگتے
چلے گئے آتے ہی میں نے کپڑے تبدیل کئے اور لحاف میں گھس گیا
سردی کی شدت نے مجھے بخار کردیا۔ صبح گھر والے میری
حالت پر تڑپ سے گئے کیونکہ میراجسم سردی سے بالکل ٹھنڈا تھا
انہوں نے میرے کمرے کو گرم کر کے رکھ دیئے اور کئی لحاف میرے
او پر دے دیئے میں نے گھر والوں کے لئے بہانا تلاش کر
لیا تھا کہ چھیڑ کنارے چلتے وقت پاؤں پھسل گیا تھا
اور میں ٹھنڈے
پانی میں گر پڑا تھا لیکن ہوش بحال ہوئے تو ب …… پورادن
تھا تب.
ایسے ہی گزر گیا۔
لیکن چہرے پر خوفزدگی کے اثرات نمایاں نہ کئے ویسے ہی
حیران و پریشان رہا دو آدمیوں نے قبرستان سے گزرتے ہوئے
فیاض کی لاش کو ایک گڑھے میں پڑا د یکھ لیا تھا اور پھر چند لوں میں
گاؤں میں شور یہ پا ہو گیا تھا کہ فیاض کا قتل ہو گیا ہے اسے مار دیا گیا
ہے ایک ایک کر کے پورے گاؤں کے مرد قبرستان جا پہنچے تھے۔
پہنچے
وہاں جو بھی فیاض کی لاش دیکھتا تو خوفزدہ ہو جا تا ہر کسی کی زبان پر اپنی
سٹورمی تھی زیادہ تر لوگوں کی زبان پر یہی بات تھی کہ اسے جن بھوتوں
نے مارڈالا .
ڈالا ہے لیکن حقیقت کا کسی کو بھی علم نہیں تھا جب لاش گاؤں
لائی تو کہرام مچ گیا میرے گھر والے بھی اس کی لاش کو دیکھنے کے
لئے گئے تھے اور انہوں نے ہی مجھے خبر دی تھی کہ فیاض کو جن بھوتوں
نے قتل کر دیا ہے میں سن کر مطمئن تھا کہ کسی کا بھی شک مجھ پر نہیں تھا
ور نہ گاؤں میں ایک نیا سلسلہ شروع ہو جاتا اور ویسے بھی میرے
گاؤں والے سادہ تھے ۔
……
وہ غریب لوگ تھے اس لئے ما
سوائے اسے دفن کرنے کے کچھ بھی نہ کر سکے رات گہری ہوتی تو مجھے اپنے کمرے کا دروازہ ہلتا ہوا محسوس ہوا۔ کنڈی میں نے بند نہ کی تھی
میں نے اپنا منہ بستر سے باہر نکال لیا میرے سامنے ایک
سیاہ نقاب پوش کھڑا تھا۔ سیاہ چادر میں اس نے خود کو ڈھانپ
رکھا تھا اسے یک دم اپنے سامنے دیکھ کر میں ڈرا اور خوف سے کا اپنے
لگا خیال آیا کہ کہیں اس نے مجھے فیاض کا قتل کرتے دیکھ تو نہیں لیا تھا
کہیں مجھے قیاض کی طرح قتل کرنے نہیں آگیا ہے چند
کون ہے؟
لمحات خوفزدہ رہنے کے بعد میں کشمیر
جواب میں میلمی ہی مسکراہٹ سنائی دی وہ نقاب پوش میرا
کوئی دن نہتھا میری اپنی سعرش تھی کی طبیعت ہے؟ اس نے آہستگی
سے پوچھا۔ بہتر ہوں لیکن تم ہاں چند گھٹڑیوں کے لئے آئی تھی
با با گھر میں ہی ہے تمہاری خیریت دریافت کرنے آئی تھی جان بہت شرمندہ ہوں کہ خواہ خواہ تمہیں پانی میں کودنے کے لئے کہہ دیا پی نہیں کبھی کبھی ایسا کیوں ہو جاتا ہے بس سے جاناں جے میں دل کی ہیں
ہوں وہ مجھے سے کتنا پیار کرتا ہے ایسی آئندہ کبھی نہیں ڈالوں گی اچھا اپنا دھیان رکھو
میں چلتی ہوں . یہ نہ سمجھنا گھر میں پرسکون رہوں گی.
جانتے ہو کہ میر اسکون میرا اطمینان صرف تم ہی ہو
اتنا کہہ کر اس نے آہستگی سے دروازہ کھولا اور کمرے سے باہر نکل گئی
میں تجسس بھری نظروں سے بس اسے دیکھتا ہی رہا کہ کیسی نڈر اور بے
خوف لڑکی ہے ذرا بھی اپنے اوپر گھبراہٹ کو سوار نہیں ہونے دیتی ہے
ایک ہوا کے جھونکے کے مانند ہر لمحہ میرے تعاقب میں رہتی ہے بعض دفعہ تو گمان ہوتا ہے کہ وہ انسانوں میں سے نہیں ہے عورت خواہ کتنے ہی دل کی مضبوط کیوں نہ ہو؟ یوں اندھیروں سے آنکھ مچولی کر ناویرانوں سنسانوں میں گھومنا یہ سب عورت کے بس کی بات نہیں ہوتی ہے لیکن دوسرے ہی لمحے مجھے اپنے اس خیال
کو جھٹکنا پڑا کیونکہ مجھے ایک ایسی عورت کا واقعہ یاد آ گیا تھا جو حقیقت تھا۔ اٹل حقیقت جو بانجھ تھی اور ایک جوگی نے اسے منتروں میں لگا دیا تھارات کے سیاہ اندھیرے میں وہ قبرستان میں جایا کرتی تھی بے خوف وخطر منتر پڑھا کرتی تھی لیکن جب لوگوں کو اس پر شک گزرا تو اسے قبرستان میں ہی قتل کر دیا۔
اس واقعے نے مجھے شک دو سوا سات سے باہر کھینچ
لیا اور تسلیم کر لیا کہ میری سحرش انسانی مخلوق سے ہے وہ بھی نڈر اور مضبوط دل کی ہے ہم دونوں پیار میں بہت آگے نکل گئے لیکن کسی کو بھی ہمارے بارے میں معلوم نہ ہوسکا کتنی بار تو میں دن کی روشنی میں دیوانگی کے عالم میں کھنڈرات جا پہنچتا تھا اور اس سے جی بھر کر باتیں کر کے سکون حاصل کر لیتا تھا اپنے کمرے میں لیٹے ہوئے مجھے سحرش کی تمام داستان یادآ گئی تھی ایک ایک لمحہ ایک ایک گھڑی یا دا گئی تھی اور میں جانتا تھا کہ جس طرح محبت کی یہ آگ دونوں طرف برابر لگی ہوئی تھی ہمار املاپ اکثر سیاہ راتوں میں ہوتا تھا جب اس پر بے بسی اتر آئی تو وہ ویرانوں سنسانوں سے گزرتے ہوئے میرے کمرے تک آپہنچتی تھی اور جب مجھے ہے بسی ڈسنے لگتی تو میں ہر چیز سے بے نیا نہ ہو کر اس کے گھر تک جا پہنچتا تھا اور اسے دیکھ کر آنکھوں کی پیاس بجھا لیتا تھا لیکن آج اس کی بکھری حالت مرجھایا پین لبوں پر طاری طویل خاموشی نے مجھے لرزا کر رکھ دیا تھا تبھی کھنڈرات جاہ پہنچا تھا اور اس نے مجھے کڑے امتحان میں دال دیا تھا مجھے اس کو حاصل کرنا تھا ہر حال میں اپنا نا تھا اس امتحان میں پورا اتر نا تھا میں نے اس کا دیا ہوا کا غذ کھول
دیا ایک بھیا تک کی شکل والے انسان کی تصور اس کا نڈ میں تھی جس کے تن پر کپڑے بھی نہ تھے اور سر کے بال بھی ایسے تھے جیسے ایک دوسرے سے الجھے ہوئے سانپ نہیں نہیں یہ سحرش کے باپ کو اخوا نہیں کر سکتا یہ تو خود دنیا سے بیزار انسان ہے فقیروں سے بدتر حال ہے یہ بھلا ایک وجہیہ اور دلیر انسان کو اغوا کیسے کر سکتا تھا اتصویر دیکھ کر میں سٹپٹا کررہ گیا سحرش نے غلط تصویر دے دی ہے۔ حالانکہ تصویر میں ہیبت ناک چہرہ ہونا چاہیے تھا جس کے کندھے پرلٹکی ہوئی بندوق ہوئی آگے پیچھے اردگر دمحافظ ہوتے مجھے تحرش سے جا کر تصدیق کرنی چاہیے تصویر دیکھ کر میں الجھنوں میں پھنسا دو بارہ گھر سے باہر نکل گیا میر ارخ کھنڈرات کی جانب تھا لیکن وہ مجھے قبرستان میں ہی ایک درخت کی اوٹ میں بیٹھی دکھائی دی۔ سحرش میں سحرش. نے اسے پکارا اداسیوں غموں اور دکھوں بھرا چہرہ اس نے اوپر اٹھایا
اسکی آنکھیں آنسوؤں سے تر تھیں میں تڑپ سا گیا میں نے آج سے
قبل کبھی بھی اسے ایسی خستہ اور گری ہوئی حالت میں نہ دیکھا تھا
اور میں نہ تھا
نظریں آسمان کی طرف کر کے اس نے گہری سانس لی تم گئے نہیں
ابھی تک وہ میرے بابا کو مار دے گا دکھ میں لپٹی آواز مجھے سنائی دی
ے
میں غمگین سی صورت کے ساتھ ہی اس کے قریب جا بیٹھا اور کاغذ اس
کی جانب بڑھا دیا سحرش یہ شخص جو اپنی زندگی سے بیزار ہے تمہارے
بابا کو کیسے اغوا کر سکتا ہے لگتا ہے پریشانی میں تم نے مجھے غلط تصویر دی
ہے میری بات پر اس نے گہری نظروں سے اس تصویر کی جانب دیکھا
یہی وہ بے غیرت انسان ہے جس نے میرے بابا پر اپنی گرفت ڈالی
ہے دیکھنے میں ایسا ہے لیکن اسکے کارنامے بہت گھناؤنے اور خطر ناک
ہیں راحت اگر میرے بابا کو کچھ ہو گیا تو میں خود کو آگ لگا لوں گی اس
نے بے بسی کے عالم میں کہا لگتا ہے تم مجھ سے سچا
پیار نہیں کرتے ہو۔
اگر سچا پیار کرتے تو کبھی میرے پاس نہ آتے بلکہ رات کی تاریکی میں
دور بہت
ہت دور نکل گئے ہوتے نہیں سحرش ایسی بات نہیں ہے
اگر پیارنہ ہوتا تو سرداور تاریک راتوں میں کبھی نہ تم سے ملنے آتا
تمہاری تڑپ میری بے بسی بنتی جارہی ہے صرف ایک بار
مسکرا دو میری بات پر اس نے ایک مرتبہ پھر ایک سرد آہ بھری تجھے
میرے لبوں کی مسکراہٹ دیکھنی ہے شاید تمہیں میرے دل کی اذیت
آنکھوں کی بہتی ندیاں چہرے کی ویرانی دکھائی
اسلامی میں
نے تم سے وعدہ کیا ہے کہ کامیاب لوٹو گے تو مجھے دلہن کے روپ میں
مسکراتا ہوا دیکھو گے جاؤ خدا کے لئے جاؤ …… وہ سیاہ پہاڑوں
میں چھیا جو میرے بابا کو مار
ہے وہ بہت ظالم شخص ھے
میں خاموشی سے اٹھ کھڑا ہوا میر ا رخ گاؤں کی طرف نہ تھا
اتجان اور ویران کٹھن اور دشوار گزار راستوں کی جانب ہو گیا مجھے گھر۔ والوں سے کیا کام تھا مجھے تو اپنی سحر کے آنسو اس کی بے بسی اس کی
اداسی اور اسکی غمگین صورت عزیز بھی مجھے اس کے لئے کچھ بھی کر گزرنا
تھا میں رات بھر اس سمت چلتا رہا جس سمت میری سحرش نے مجھے کہا تھا
مجھے کالے پہاڑوں تک پہنچنا تھا اس کے بابا کو چھڑا کر لانا تھا اس کے
لبوں پر مسکراہٹ دیکھنی تھی میں چلتا ہی رہا۔ سورج کی لو پھوٹنے سے
پہلے ہی میں کئی گاؤں کہ اس کر چکا تھا میرارخ ان پہاڑوں کی جانب
تھا جن میں وہ خبیث انسان چھپا بیٹھا تھا۔
میں نے چلتے چلتے عہد کر لیا تھا کہ نہ صرف سحرش کے باپ کو زندہ وہاں
سے لاؤں گا بلکہ اس خستہ حال بابے کو بھی کھینچتا ہو الا ؤں گا تا کہ سحرش
اپنے ہاتھوں اسے اذیت کی موت دے سکے لیکن ایک
انجانا
سا خوف بھم تسما دامن تھا۔۔۔۔ نہ ہتھیار اور نہ ہی اپنے
دفاع کے
لیکن ایک جذبہ تھا محبت کا جذبہ سحرش کو اپنانے کا جذبہ اسے دلہن کے
روپ میں دیکھنے کا جذبہ اور یہی ایسا جذبہ تھا جو مجھے ہوا کے جھونکوں کی
مانند آگے ہی آگے لے جارہا تھا۔ میں نے کسی کو بھی دل کی
بات نہ بتائی کہ میں کس وجہ سے محو سفر ہوں کیوں کہ خار دار راہوں کا
انتخاب کیا ہے کیوں ایک بہت بڑے گروہ سے ٹکراؤ کرنا چاہتا ہوں
خاموشی سے اپنی منزل کی جانب رواں دواں رہا۔ چند دنوں میں ہی
میری حالت بالکل بدل کی گئی شیو بڑھ گئی سر کے بال الجھ گئے کپڑے
میلے ہو گئے اور مناسب خوراک اور لمبی مسافتوں کی بدولت جسم بھی
صحت مند نہ رہا میں تھک ہار کر ایک درخت کے تنے کے ساتھ بیٹھ گیا
اور آگے کی طرف گہری نظروں سے دیکھنے لگا منزل کا نام ونشان تک
شہ تھا میرے پاؤں آگے بڑھنے سے انکاری ہونے لگے لیکن پیار کی
تڑپ میرے ارادوں
کو تقویت بخشتی رہی میری سانسیں تو سحرش کے
نام سے مہکتی تھیں خون کی گردش اسی کے پیار سے رگوں میں دوڑیں
ان دشوار گزار راستوں اور گھناؤنی منزل کا
لگا رہی تھی ورنہ میں
تعین نہ کرتا۔ کتنا حسن دیا تھا خدا نے اسے ایسے جیسے وہ
.
۔
پرستان سے اتری ہوئی پری ہو جس نے اپنی پسندیدگی
کے لئے صرف مجھے منتخب کیا تھا یا صرف وہ میرے لئے ہی اتر می تھی
انہی سہانی سوچوں کے ساتھ میں آگے چل پڑا کئی دنوں
کی لمبی مسافت کے بعد مجھے پہاڑوں کا سلسلہ
دکھائی دیا آسمان کی
وسعتوں کو چھوتے ان پہاڑوں نے مجھے تجسس میں ڈال
مجھے یوں دکھائی دینے لگا جیسے کسی انجانے ان دیکھے
دیا۔
سائے میرے تعاقب میں ہوں ۔ یہ میر اوہم نہ تھا۔ حقیقت تھی
ایک ٹھوس حقیقت مجھے واقعی دور سے دکھائی
دینے والے پہاڑوں میں چاہتی پھرتی عجیب الخلقت مخلوق دکھائی
دینے لگی تھی اور پھر ایک دم خوف و ڈر سے میں اچھا … دل
دھڑکنیں جیسے بند ہونے لگیں میرے قریب ہی دھوئیں کا
رالا واٹھنے لگا ایسے جیسے دھرتی کا پنے لگی ہے
تیز طوفان بھر نے لگے ہوں وہ صرف دھواں نہ تھا
میری
بلکه عجیب و غریب دل و دماغ کو زہر آلود کرنے والی بد بو اس میں
شامل تھی دھواں میرے گردگھو منے لگا۔ دھوئیں
کودیکھتے ہی
میری آنکھیں دھندلانے لگیں میرا دماغ چکرانے لگا ۔۔
سانسیں
الجھنے لگیں اور آہستہ آہستہ میرا دم گھنٹے لگا
بری سانسیں میر اساتھ چھوڑنے لگیں۔ میں اپنی
بند ہوتی آنکھوں سے دھوئیں کے پارد یکھنے کی کوشش کرتا
رہا لیکن دھواں میرے گردا ایک خول بنا چکا تھا اور پھر مجھے
یوں دکھائی دینے لگا جیسے میں کسی گہری کھائیوں میں گرتا جار ہا ہوں جو
عکس میرے پاس کاغذ پر موجود تھا وہی چہرہ میری نظروں کے سامنے
تھاوہی بوڑھا، وہی شکل ، وہی حلیہ ایک مرتبہ تو مجھے اس سے گھن سی
آنے لگی لیکن اسے برداشت
کرنا پڑا مجھے دیکھتے ہی وہ بوڑھا ہنسا اور
ہنستا ہی چلا گیا میں حیر ان نظروں سے اسے دیکھنے لگاوہ بو
ہ بوڑھا ضرور
حاضر ور تھا
لیکن اس کے قہقہے بوڑھوں والے نہ تھے۔
بلکہ اس کے بازوؤں میں مجھ سے زیادہ طاقت تھی بنتے بنتے اس نے
ایک پتھر پر پاؤں مارا تو پتھر ذروں میں بٹ گیا ایسے جیسے کوئی کمزور
شیشہ ٹوتا ہے اس میں سے دھواں ابھر نے لگا لیکن وحشتوں بھرا ہیولہ
بنا ایک خوفناک جن میری نظروں کے سامنے ظاہر ہوا۔ میں مجسمہ پتھر
بنا اسے دیکھتار با حکم میرے آقا ۔ وہ اس بوڑھے نے آگے
جھکتے ہوئے بولا یہ نو جولان ہزاروں میل کی مسافت طے کر کے ہم
سے مقابلہ کرنے آیا ہے۔ بوڑھے نے حقارت کی نگاہ مجھ پر ڈالتے
ہوئے کہا دیکھو تو سہی کتنا بہادر سمجھتا ہے اپنے آپ کو اس بوڑھے کی
بات نے مجھے بوکھلا سا دیا کہ اسے کیسے پتہ چل گیا کہ میں ہزاروں
میلوں کی دوری سے اسے تلاش کرتا ہوا یہاں تک آیا ہوں کیا یہ بوڑھا
جادو گر تو نہیں میری سوچ پر وہ ہنسا اور بولا بچے میں جادو گر ہی ہوں
بہت بڑا جادو گر تم جاننا چاہتے ہو ناں کہ تم کسے بچانے اور چھڑانے
آئے ہو ابھی تمہیں سب کچھ دکھاتا ہوں ساتھ ہی جادو گر جن سے
بولتا کہ اس
جس کے لئے یہ آیا ہے اسے لاؤں یہاں
اصل حقیقت بتا دوں جو حکم میرے آقا جن نے کہا اور
ا
دوبارہ دھواں کے ہیولہ میں تبدیل ہو کر غائب ہو گیا میں اس کے
دوبارہ آنے کا منتظر تھا اور اس لئے یوں لگ رہا تھا جیسے میں نے یہاں
آکر زندگی کی سب سے بڑی غلطی کی ہے لیکن نہیں میں نے غلطی نہیں
کی ہے مجھے سحر ش کو اپنانا ہے اپنے وعدے کو پورا کرنا ہے میں اس
بوڑھے کا خاتمہ کروں گا۔ ہاں اس کا خاتمہ کروں گا اسے ہمیشہ کے
لئے ختم کر دوں گا میں اپنی سوچوں کو تقویت دینے لگا کہ یک دم وہی
جن دوبارہ حاضر ہوا اس کے ہاتھوں میں اس جیسا ایک اور جن تھا جو
خونی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا اس بوڑھے نے ایک گہری نظر اس پر
ڈالتے ہوئے مجھ سے کہا۔۔ جانتے ہو یہ کون ہے نہیں تم نہیں جانتے ۔
میں بتا تا ہوں
تمہیں۔ یہ ایک باغی جن ہے کھر کا باپ ہے
ک کیا. میں بوڑھے کی بات پر چونکا ہاں یہی حقیقت ہے
جس سے تم محبت کرتے ہو وہ انسان
نہیں اس کی بیٹی ہے ایک جن
زادی ہے اور یہ جن ایک قاتل ہے میرے بیٹے کا قاتل میرے
خاندان کا قاتل منتروں کے دوران اس نے میرے خاندان کو ایک
ایک کر کے ختم کر دیا تھا کہ میں اپنے منتروں کو
چھوڑ دوں لیکن میں نے
خاندان کو قتل تو کروالیا لیکن منتر نہ چھوڑے تب سے یہ بھاگ نکلا تھا۔
ساتھ بیٹی کو بھی لے گیا تھا۔ میں نے اس کا ہر سو پیچھا کیا
لیکن یہ وہ ملک چھوڑ چکا تھا جہاں میں رہتا تھا مجھے پتہ چلا تو
میرے جن مجھے اس ملک میں لے آئے اسے پتہ چلا تو اس نے دوٹہ
لگادی پھر مجھے پتہ چلا کہ وہ فلاں جگہ ہے لیکن اس کی بیٹی کسی محفوظ
ہاتھوں میں ہے کسی بزرگ کے حصار میں بند ہے سو میں نے اپنے
خاندان کے قاتل جن کو اٹھوالیا بس یہی کہانی تھی
میری اور اس جن کی اور شاید تمہاری بھی۔
بوڑھے کی باتوں نے مجھے نہ صرف حیران و پریشان کر دیا بلکہ میں
سے میں پیار کرتا ہوں وہ
سوچوں میں بھی الجھ گیا تھا کہ کیا ان
نہیں ہے جن زادی ہے۔ ے دل کے ایک کونے سے
آواز آئی کہ راحت وہ چاہے انسان ہے یا جن زادی
تمہاری محبت
ہے اور اس کی محبت بھی صرف تمہارے لئے ہے وہ تمہارا انتظار کر رہی
ہے اسے
تمہاری محبت پر اعتماد ہے اور جس کے لئے تم ہزاروں میل
گے ہرگز
باندھ دیئے اور
پیدل چل کر ان پہاڑوں پر آئے ہو گیا نا کا مروایی
نہیں ۔ تم نے اس کو اپناتا ہے ہاں اپنانا ہے۔ تب میں
بوڑھے کے قدموں میں بیٹھ گیا اس کے سام
کہا۔ بابا جی۔ یہ قاتل ہے باغی ہے جو بھی ہے اسے معافی کر دو۔
آپ کا خاندان اب واپس تو نہیں آسکتا ہے اگر آپ نے طیش میں آ
کر اسے جلا دیا تو یہ مر جائے گا اگر یہ مر گیا تو اس کی بیٹی مرجائے گی
اگر اس کی بیٹی مر جائے گی تو میں بھی زندہ نہیں رہ پاؤں گا کیونکہ مجھے
اس سے محبت ہے۔ اسے اپنا نا ہی میری زندگی کی خواہش ہے اور وہی
میر اسب کچھ ہے میری بات سن کر بوڑھاطیش میں آگیا۔
..
اور چیختے ہوئے بولا بچہ تم نے دو لفظوں میں کہانی
ختم کر ڈالی ہے لیکن میری کہانی دو لفظی نہیں ہے اس باغی جن کو
پکڑنے کے لئے مجھے کئی ملکوں ،شہروں جنگلوں ، پہاڑوں ، بیابانوں،
میں جانا پڑا ہے اپنی زندگی اس کے پیچھے تباہ کر بیٹھا ہوں اور جب پکڑا
ہے تو تم اس کے ہمدرد بن کر آگئے ہو۔ بوڑھے کی بات
نے مجھے سر سے پاؤں تک ہلا دیا تب میں نے کہا میں آپ کے پاؤں
میں گر پڑتا ہوں اس کی سزا مجھے دے لو… لیکن اسے کچھ نہ
ور نہ میری محبت مجھ سے بچھڑ جائے گی وہ بوڑھانہ
مانا اور شاید نہ اس نے مانا تھا مجھے غصہ آگیا میں ایک دم اٹھا
پھر میرے ہاتھ میں تھا میں نے زور سے اس کے سر پر دے مارا۔ اور
پھر کئی پھر اس کے سر پر مارے وہ تڑپ تڑپ کر اپنی
جان دے بیٹھا
اس کے مرتے ہی ایک بڑا طوفان اٹھا ایسا طوفان جسے میں نے اپنی
زندگی میں پہلی مرتبہ دیکھا تھا۔ یوں
لگتا تھا جیسے آج یہ طوفان ہر چیز کو فنا
کرتا ہوا گزر جائے گا شاید یہ طوفان جنات کی آزادی کا تھا جو جنات
اس کی قید میں تھے سب آزاد ہو گئے تھے میں نے اس طوفان میں خود
کو ہواؤں میں اڑتا ہوا دیکھا اور جب ہوش آیا تو میری سحرش میرے
سامنے کھڑی تھی اس کے لبوں پر خاموشی نہ تھی مسکراہٹ تھی۔ چہرے
پر ادائی نہ تھی بلکہ کہکشاؤں کا رقص تھا۔ جو جن زنجیروں میں جکڑ اہوا
تھا وہ بھی پاس کھڑا تھا میرے راجہ سحرش بولی۔ دیکھو میں
دولہن بنے آپ کی منتظر ہوں اپنا لو مجھے مجھے اپنانے میں آپ کو کسی بھی
دشواری کا سامنا نہیں کر نا پڑے گا میں بہت خوش
ہوں کہ آپ نے
میرے چہر پر خوشیاں
بکھیر دیں لبوں پر مسکراہٹ بکھیر دی میں نے سحرش
کا ہاتھ تھام لیا کہ ایک دم وہ جن بولا نہیں ایسے نہیں۔
پہلے تمہیں میری ایک شرط مانی ہوگی کیسی شرط میں چونکتے ہوئے
بولا ۔ تمہیں ہمارے ساتھ ہماری دنیا میں جانا ہو گا ۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے
میں چیختے ہوئے بولا ۔ میں اپنوں کو کیسے چھوڑ سکتا ہوں میرے راجہ سحرش
بولی۔ کیوں نہیں ہوسکتا میرے لئے تم جنگلوں پہاڑوں تک جاسکتے ہو
تو اپنوں کو نہیں چھوڑ سکتے نہیں جان میں ایسا نہیں کر سکوں گا میں نے
دوبارہ کہا تو اس کی آنکھوں میں ساون بھادوں برستے لگا۔ وہ رونے
گلی سے نہیں کیا وجہ تھی کہ اس کا رونا مجھ سے برداشت نہیں ہو پاتا تھا
میں نے اسے تھام لیا اور کہا نہیں جان اب رونا نہیں ہے میں نے اپنی
زندگی تمہارے نام کر دی ہے جہاں تم ہوگی وہاں میں
ہوں
گا اتنا کہنا
ہی تھا طوفان دوبارہ ابھرا اور کچھ پتہ نہ چلا کہ میں کہاں
ہوں جب ہوش آیا تو عجیب سے
رویانی عجیب دنیا میں تھا
یہ ایک بہت بڑی
کالی بستی تھی یہاں بسنے والے بھی سب کالے اور
ہیبت ناک شکلوں والے تھے۔ ان میں صرف ایک میری سحرش ہی تھی
تھی ۔ جو مہکتی خوشبو تھی صرف اپنی سحرش کی خاطر مجھے ان
جناتی دنیا سحرش کی شادی کا
جو چاندی کر رہنا تھا دوسری شام ہی میں
اعلان کر دیا گیا میں بہت خوش تھا کہ جسے میں عرصہ دراز سے چاہتا
آیا ہوں وہ ہمیشہ کے لئے میری ہونے والی ہے میری خوشیوں کا کوئی
ٹھکانہ نہ تھا خوشی ومسرت سے میرا پورا پورناچ رہا تھا پھر وہ لحہ بھی آگیا
جب چاند کا وہ ٹکڑا میرے آنگن میں آکر میرے دل و روح کو چھکا گیا
عجیب سی طرز سے ہمارا نگات ہوا اس نکاح میں پوری رات جشن
ہوتے رہے پھر کئی دن تک میں اس جناتی بستی میں رہا اتنے دن
گزرنے کے بعد مجھے اپنوں کی یاد ستانے لگی گھر بار بہن بھائی یاد
آنے لگے تب ایک روزہ میں نے سحرش سے واپسی کو کہا تو وہ بولی تم نے
یہاں رہنے کا وعدہ کیا ہوا ہے میں نے کہا میں اپنا وعدہ تو ڑتا ہوں میں
یہاں
نہیں رہوں گا میں اپنوں میں جاؤں گا یہ کہتے ہی میں اپنے ملک
کا سفر کرنے کے لئے چلا تو اس نے میرا بازو پکڑ لیا اور کہا جان تم
میرے لئے سب کچھ کر سکتے ہو تو کیا میں تمہارے لئے اپنے باپ کو
نہیں چھوڑ سکتی اپنی بستی کونہیں چھوڑ سکتی
میں بھی تمہارے ساتھ چلوں
گی۔ ہم دونوں مسکرادیئے اور پھر کچھ ہی لمحات میں ہم اپنے گاؤں
اپنوں میں آگئے.
ختم شد
آپ کا نام اور *ای میل* محفوظ ہیں اور کسی بھی صورت میں پبلک نہیں کیے جائیں گے۔
براہِ کرم ناول پڑھنے کے بعد اپنا قیمتی کمنٹ ضرور کریں۔
آپ کی رائے ہمارے لیے بہت اہم ہے اور لکھاری کی حوصلہ افزائی کا باعث بنتی ہے۔
Your *name* and *email* are secure and will not be shown
Please make sure to leave your valuable comment after reading the novel.
Your feedback is very important to us and motivates the writer. to other users.
آپ کا نام اور *ای میل* محفوظ ہیں اور کسی بھی صورت میں پبلک نہیں کیے جائیں گے۔
براہِ کرم ناول پڑھنے کے بعد اپنا قیمتی کمنٹ ضرور کریں۔
آپ کی رائے ہمارے لیے بہت اہم ہے اور لکھاری کی حوصلہ افزائی کا باعث بنتی ہے۔
Your *name* and *email* are secure and will not be shown
Please make sure to leave your valuable comment after reading the novel.
Your feedback is very important to us and motivates the writer. to other users.
