درندے کی محبت

سسپنس ،کراہم، ایکشن، اور رومانس

اردو افسانے

مکمل ناول

views
0
درندے کی محبت

قسط_1

اٹھ جاؤ بیٹا فجر کی نماز کا ٹائم ہوگیا ہے۔

ابراہیم کی آواز نتاشا کے کانوں  میں پڑی۔اٹھ گئی بابا نتاشا نے جلدی سے کہا ۔اور  وضو کے لیے اٹھ گئی نماز سے فارغ ہونے کے بعد ُاس نے اپنے کمرے کی کھڑکی کھولی سامنے  تاحد نگاہ خوبصورت جنگل پھیلا ہوا تھا۔

جنگل سے آتی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا ُاس کے چہرے کو چُھو رہی تھی۔ پرندوں کی چہچہاہٹ اور ٹھنڈی ہوا میں وہ ایسا مگن ہوئی کہ اس کو اپنی کھڑکی پر سانپ رینگتا ہوا نظر نہیں آیا۔

سانپ اس کے بالکل قریب پہنچ چکا تھا لیکن وہ ابھی تک باہر دیکھنے میں ہی مگن تھی۔

سانپ جیسے ہی نتاشہ کو ڈسنے لگا۔تو کسی نے ُاسے پیچھے سے آ کر گردن سے دبوچ لیا۔

نتاشا نے گھبرا کر کھڑکی کی جانب دیکھا تو اسے وہاں پر کالا ناگ نظر آیا جو کہ اب ابراہیم نے دبوچ رکھا تھا۔ بابا یہ کہاں سے آیا نتاشا نے ابراہیم کی طرف دیکھا۔

ابراہیم نے  خفگی گھڑی نگاہوں سے نتاشا کو دیکھا اور کہا کہ جب آپ جنگل کو دیکھنے میں مگن  تھیں۔

سوری بابا صبح صبح جنگل کا منظر بہت ہی حسین لگ رہا تھا تو میں اس میں کھو گئی۔

چلو کوئی بات نہیں بیٹا آئندہ دھیان رکھنا یہ بہت ہی  زہریلا سانپ تھا۔

خیر  چھوڑو آپ جاکر ناشتے  کرو  میں اس کو باہر جنگل میں چھوڑ کر آتا ہوں۔ ہاں بابا پلیز اس کو مارے گا مت اس نے مجھے کاٹا تو نہیں۔ نتاشہ نے اپنی فطرت سے مجبور ہو کر کہا  کیوں کے اس  کو جانوروں سے بہت پیار تھا۔

ہاں چلو بیٹا آپ جاؤ میں آتا ہوں ابراہیم نے نتاشہ کی طرف دیکھ کر پیار سے کہا۔

نتاشہ کے جانے کے بعد ابراہیم نے سانپ کو کھینچ کر بیچ میں سے دو ٹکڑوں میں تقسیم کردیا۔

جو میری بیٹی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا میں اس کے ایسے ہی ٹکڑے کاٹ دوں گا ابراہیم کی آنکھوں میں ایک عجیب سی وحشت تھی۔

ابراہیم ایک بزنس مین تھا  اس کا دنیا میں کوئی نہیں تھا  اس کے ماں باپ اور بیوی کی ایک حادثے میں موت ہو گئی تھی۔

وہ شروع سے ہی منہ میں سونے کا چمچ لے کر پیدا ہوا تھا۔ لیکن قسمت نے اس کے ساتھ عجیب کھیل کھیلے۔

اتنے امیر ہونے کے باوجود بھی اسے سکون میسر نہیں تھا۔

ماں باپ اور بیوی کے جانے کے بعد ابراہیم بہت اکیلا ہو گیا تھا۔ تو اس نے نتاشہ کو گود لے لیا جو  صرف ابراہیم اور اس کا خاص دوست جانتا تھا۔ نتاشہ اس بات سے لاعلم تھی۔

ابراہیم  زیادہ تر  اپنا وقت جنگل میں موجود اپنے پیارے سے لکڑی کے گھر میں گزارتا تھا۔

اب بھی وہ شہر سے جنگل نتاشہ کے ساتھ اپنی ٹری ہاؤس میں آیا تھا۔

آج ان کا آخری دن تھا کل انہوں نے واپس شہر جانا تھا۔ جب ابراہیم ناشتے کی ٹیبل پر آیا تو نتاشہ اپنے باپ کا انتظار کر رہی تھی۔ ارے بیٹا آپ نے ابھی تک  ناشتہ نہیں کیا ابراہیم نے پیار سے نتاشا کو کہا۔

نہیں بابا میں آپ کا انتظار کر رہی تھی۔ آپ چھوڑ آئے سانپ کو جنگل میں ؟

ہاں بیٹا چھوڑ آیا جہاں  اس کو ہونا چاہیے تھا وہاں پرابراہیم  نے کہا۔

بابا میں نے آپ سے ایک بات کرنی تھی۔

نتاشہ نے ڈرتے ڈرتے کہا۔

ہاں جانتا ہوں  آپ کیا کہنا چاہتی ہو۔

بابا پلیز مان جائیں میرا خواب ہے  کے میں ایک ڈاکٹر بنوں۔

ٹھیک ہے نتاشہ  میں ہار گیا اور تم جیت گئی۔ کال ہی شہر جاکر تمہارا کالج میں ایڈمیشن کروا دوں گا۔تھینک یو بابا  آپ دنیا کے سب سے اچھے بابا ہیں۔ اچھا اب  مکھن نہ لگاؤ اور جاؤ کمرے میں جاکر آرام کرو۔

نتاشہ چلی گئی۔

نتاشا نے  میٹرک بہت اچھے نمبروں سے پاس کیا تھا۔ وہ ڈاکٹر بننا چاہتی تھی لیکن ابراہیم نتاشہ کو کالج پڑھانے کے حق میں نہیں تھا۔ وجہ یہ نہیں تھی کہ  وہ پرانی سوچ  رکھتا تھا یا کوئی  دقیانوسی سوچ کا حامل تھا۔

اسے نتاشہ کی معصومیت اور خوبصورتی سے ڈر لگتا تھا نتاشہ 19 سال کی تھی۔

لیکن وہ بہت ہی خوبصورت تھی۔  سرخ و سفید رنگت کے اوپر  نیلی کانچ سی آنکھیں اور ہنستے ہوئے گالوں پر ڈمپل

دیکھنے والوں کو مہبوت  کر دیتے تھے۔ نتاشہ بہت ہی معصوم تھی۔  اس کی ساری دنیا صرف اور صرف  اُسکے بابا تھے۔

وجہ یہ نہیں تھی کہ ابراہیم دنیا سے ڈرتا تھا۔ بلکہ وہ اپنے آپ سے ڈرتا تھا کہ کہیں وہ نتاشا کی محبت میں  کسی کو نقصان نا پہنچا بیٹھے۔ بظاہر تو  اس نے  نتاشہ کو گود لیا تھا۔ لیکن وہ اُسے سگے باپ سے بھی زیادہ پیار کرتا تھا۔

دوپہر کے دو بجے نتاشہ اور ابراھیم شہر کے لئے گاڑی میں نکل چکے تھے۔ ایک گھنٹے کی مسافت کے بعد جب ابراہیم اپنے محل نما گھر میں داخل ہوا۔تو سامنے ہیں۔ اس  کا خاص دوست  خاور لاؤنج میں صوفے پر بیٹھا ہوا تھا۔

جب ابراہیم اندر داخل ہوا۔خاور  نے ابراہیم کی طرف افسوس سے دیکھا۔

اسلام علیکم انکل  خاور نتاشہ نے سلام کیا

وعلیکم السلام کیسی ہو بیٹا۔

جی انکل میں بالکل ٹھیک ہوں۔

نتاشا بیٹا آپ سفر سے تھک  گئی ہوگی جا کر کمرے میں آرام کرو ابراہیم نے نتاشا کو کہا۔

جی پاپا میں کافی تھک گئی ہوں ۔  نتاشا اپنے کمرے میں چلی گئی۔

ابراہیم خاور کے پاس  صوفے پر بیٹھ گیا۔

آخر کب تک خود کو ایسی اذیت دیتے رہو گے ابراہیم۔

خاور نے ابراہیم کی طرف دیکھ کر کہا۔

تم سب کچھ جانتے ہوئے بھی یہ بات مجھے بول رہے ہو۔

میں جانتا ہوں تمہاری اذیت لیکن  تمہیں ان سب سے نکلنا ہوگا۔

پلیز  خاور کوئی اور بات کرو میرا  فلحال اس ٹوپک پر بات کرنے کا موڈ نہیں ہے۔

میں کل نتاشا کو کالج میں ایڈمیشن کروانے لے کے جا رہا ہوں۔ کیا سچ میں خاوند نے خوشی سے کہا۔

ہاں ابراہیم نے کہا۔

میں تمہیں پہلے ہی کہہ رہا تھا کہ اس کو ایسے قید کرنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ وہ بچی ہے آہستہ آہستہ سب سمجھ جائے گی جیسے جیسے دنیا کے ماحول کو دیکھے گی۔

شاید تم صحیح کہہ رہے ہو لیکن خاور میں دنیا سے زیادہ خود سے ڈرتا ہوں۔

مجھے ذرا بھی برداشت نہیں ہوگا کہ نتاشا کو کوئی تکلیف پہنچائے۔

کچھ نہیں ہو گا اچھا سوچو  خاور نے کہا۔

اگلے دن نتاشا کو ابراہیم کالج میں ایڈمیشن کروانے لے گیا۔

کالج کا ماحول ان کو اتنا خاص پسند نہیں آیا ہر جگہ لڑکا لڑکی ہاتھوں میں ہاتھ لے کر گھوم رہے تھے۔

خیر نتاشا کی  ضد کے آگے اسے ہار ماننا ہی پڑی۔

کالج کا پرنسپل  ابراہیم کو بہت اچھے سے جانتا تھا کیونکہ ابراہیم ایک جانا مانا بزنس ٹائیکون تھا۔

وہ ابراہیم  کے آگے بچھ بچھ  جا رہا تھا۔

لیکن ابراہیم سنجیدہ چہرے کے ساتھ کرسی پر بیٹھ گیا۔

ابراہیم کے چہرے میں  ایک ایسی کرختگی  اور آنکھوں میں سرد تاثر  ہوتا تھا کہ دیکھنے والوں  کی ریڑ کی ہڈی میں سنسناہٹ سی دوڑ جاتی تھی۔

ایسا ہی کچھ حال پرنسپل کا ہوا تھا۔

میری بیٹی کو یہاں کسی قسم کی کوئی تکلیف نہ ہو اس بات کا خیال تم رکھو گے۔ ورنہ تم مجھے جانتے نہیں سمجھے۔۔  جی جی جی آپ پریشان نہ ہوں پرنسپل نے ہکلاتے ہوئے کہا۔

ابراہیم نے پرسرار سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ میں پریشان نہیں ہوتا ہاں البتہ پریشان ضرور کر دیتا ہوں۔

چلتا ہوں ابراہیم آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتا چلا گیا۔

آفس سے باہر آکر  اُس نے  نتاشہ کو یہ خوشخبری دی کہ  آپ کا  ایڈمیشن ہو گیا ہے۔

نتاشہ بہت خوشی ہوئی اور خوشی سے باپ کو گلے لگا لیا۔

نتاشہ اور ابراہیم  گھر واپس آ رہے تھے تو راستے میں گاڑی کا پٹرول ختم ہو گیا۔ راستے میں  پٹرول پمپ نہیں ملا۔ لیکن آگے جا کے ایک چھوٹا سا   ہوٹل مل گیا۔

ابراہیم گاڑی سے اترا  اور نتاشا کو کہا آپ میرا انتظار کریں میں پٹرول کا پتہ کر کے آتا ہوں۔

ٹھیک ہے بابا جلدی آئے گا۔

ابراہیم ہوٹل کے اندر چلا گیا۔

نتاشا  موبائل میں گیم کھیل رہی تھی۔

گاڑی کا شیشہ نیچے تھا۔ اچانک ایک سائیڈ سے  بائیک پر دو لڑکے  آ رہے تھے۔

خلیے سے بدمعاش اور اوباش معلوم ہوتے تھے۔

ان کی نگاہ  اچانک گاڑی میں نتاشا کی طرف پڑی

اور وہ سیٹی بجاتے ہوئے گاڑی کے گرد چکر لگانے لگے

نتاشہ یہ سب دیکھ کر خوفزدہ ہو گئی۔

پیچھے بیٹھے لڑکے نے گاڑی کے شیشے میں سے نتاشا کے کندھے کو چھوا۔ اور دوسرے نے آنکھ ماری۔

اتنے میں ابراہیم  پٹرول  لے کر ہوٹل سے باہر آ رہا تھا۔

اور دونوں لڑکوں کی  یہ حرکت دیکھ چکا تھا۔

وہ  بجلی کی تیزی سے بھاگتا ہوا گاڑی کی طرف آیا۔

لڑکے اس کو آتا دیکھ کر وہاں سے فرار ہو گئے۔

ابراہیم جلدی سے گاڑی میں بیٹھا۔ اس کی آنکھوں میں  خون سوار تھا۔

نتاشہ بہت ڈری ہوئی تھی اور رو رہی تھی۔

کچھ نہیں ہوا بیٹا  چپ کر جاؤ  میرا بیٹا تو بہت بہادر ھے۔

بابا نتاشہ نے روتے ہوئے کہا۔  اس نے مجھے پکڑنے کی کوشش کی بابا۔ نتاشہ بہت ڈری  ہوئی تھی۔

ابراہیم نے زور سے اسٹیئرنگ کو پکڑتے ہوئے غصے کو کنٹرول کیا۔

نہ میرے  بچے رو مت آپ کے بابا ہے نہ؟ آئندہ ایسا کچھ

نہیں ہوگا۔۔

بابا  وہ پھر آگے تو؟

نتاشا نے کہا۔

نہیں ایسا کبھی نہیں ہوگا ابراہیم نے پرسرار مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔

دو روز بعد پولیس کو جنگل کے پاس  سے دو لڑکوں کی لاشیں ملیں۔ جن کو بہت بے دردی کے ساتھ چیر پھاڑ  کر دیا گیا تھا۔

لیکن حیرت کی بات یہ تھی  کے ایک کا بازو کاٹ کر دور پھینک دیا گیا تھا اور دوسرے کی  ایک آنکھ  نکال کر بازو کٹے لڑکے کے منہ  کے اوپر  لگا دی تھی۔

اور پاس کسی بہت بڑے جانور کے پنجوں کے نشان نظر آ رہے تھے۔۔۔

پولیس کو یہ کسی جانور یا شیر کا حملہ لگ رہا تھا۔

لیکن ٹی وی دیکھتے خاور کو جھٹکا سا لگا۔۔

ابراہیم اسٹڈی روم میں بیٹھا فائلز سائن کر رہا تھا۔ ابراہیم کے موبائل پر خاور کی کال آ رہی تھی۔

ہیلو ابراہیم  ٹی وی دیکھا؟ خاور نے ابراہیم سے پوچھا۔

ابراہیم کے ماتھے پے َبل آگئے۔

تم میں میں اتنا فری نظر آتا ہوں۔ جو آفس کا کام چھوڑ کر ایسی فضولیات دیکھوں گا؟

بات گھمانے کی کوشش مت کرو خاور نے ابراہیم سے کہا۔

کون سی بات ابراہیم نے ِزچ ہو کر پوچھا۔

پولیس کو جنگل سے دو لاشیں ملی ہیں۔ ان کو کسی جانور نے مارا ہے پولیس شیر کا حملہ سمجھ رہی ہے۔

ہاں تو تم مجھے کیوں بتا رہے ہو؟ میرے کونسے  رشتہ دار تھے ابراہیم نے مسکراتے ہوئے کہا۔

ابراہیم نا تو میں بچہ ہونا پاگل جو شیر کے حملے اور ایک درندے کے حملے کو نہ پہچانو اور  یہ تم اچھے سے جانتے ہو۔

بابا  نتاشا دروازہ کھول کے اندر آئی۔ خاور میں بعد میں بات کرتا ہوں نتاشا آگئی ہے۔

خاور نے بند موبائل کی طرف دیکھ کر گہری سانس لی۔

جی بابا کی جان ابراہیم نے پیار سے  نتاشا کی  طرف دیکھ کرکہا۔

باباآاپ کیا کر رہے تھے؟  ڈسٹرب تو نہیں کیا آپ کو ؟

نہیں بیٹا

بس کچھ فائنل سائن کر رہا تھا جو ہوگی ہیں۔

بابا کل میرا کالج میں پہلا دن ہے تو مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔ نتاشاہ ُاس دن والے واقعے سے بہت زیادہ خوفزدہ تھی۔

بابا کی جان  کچھ نہیں ہوگا پریشان ہونے والی بات نہیں آپ کے بابا ہیں نا۔ اور ایسا رہا تو آپ کبھی بھی بہادر نہیں بن پاؤگی

ہممممم  آپ ٹھیک  کہہ رہے ہیں میں آپ کا بہادر بچہ  بن کے دکھاؤں گی۔  نتاشا نے مسکراتے ہوئے کہا

اگلے دن نتاشا تیار ہوکر ناشتے کی میز پر آئی جہاں ابراہیم پہلے ہی موجود تھا۔

آ گیا میرا بچہ چلو جلدی سے ناشتہ کرو ڈرائیور آپ کو  کالج چھوڑ کے آتا ہے۔ اینڈ بیسٹ آف لک ۔

نتاشا اندر سے ابھی بھی ڈری ہوئی تھی لیکن وہ شو نہیں کروا رہی تھی۔ ُاس نے جلدی سے ناشتہ ختم کیا۔

نتاشاہ جا کر گاڑی میں بیٹھی اور دل کو سمجھایا کہ ایسا کچھ  نہیں ہوگا۔

اس بات سے انجان کے  آج پہلے دن ہی ُاسے پھر سے ایک جھٹکا لگنے والا تھا۔

ابراہیم ناشتہ کر کے فارغ ہوا تو وہ آفس جانے کے لئے تیار ہو رہا تھا۔ اتنے میں ملازم پیغام لے کر آیا کہ خاور صاحب آپ سے ملنے آئے ہیں۔

ابراہیم کے چہرے پر ایک انوکھی مسکراہٹ  چمکی۔ تم جا کر ان کو   بٹھاؤ میں ابھی آتا ہوں ابراہیم نے ملازم کو کہا۔

ابراہیم لاؤنج  میں آیا تو خاور سامنے موبائل کے ساتھ لگا ہوا تھا۔ آج تو بڑی بڑی ہستیاں آئی ہیں زہے نصیب ابراہیم نے ہنستے  کوے خاور کی طرف دیکھا۔

اپنی بکواس  بند رکھو خاور  نے ناراضگی کے ساتھ کہا۔

کیا ہوا بھابھی سے جوتے تو نہیں کھا کر آیا جو اتنا  بھڑکا ہوا ہے۔

تم اچھے سے جانتے ہو ابراہیم کے میں کیوں ناراض ہوں۔

تم نے ُان دونوں لڑکوں کو کیوں مارا؟

پوچھ سکتا ہوں۔   ابراہیم کی آنکھوں میں خون اتر آیا  اور اس نےغرڑا کہا کہ جو بھی میری بیٹی کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھے گا میں اس کا یہی حال کر دوں گا۔

ہوا کیا تھا خاور پوچھنے لگا۔

تو ابراہیم نے ُاس  کو ساری بات بتائی۔ تو تم نے اتنی سی بات پڑ ان کو مار دیا وہ بھی اتنے برے طریقے سے خاور نے چڑ کر کہا۔

اس بات پر ابراہیم کا دماغ گھوم گیا اس نے پاس  پڑے شیشے کے ٹیبل پر ہاتھ مارا  جو چھناکے سے چکنا چور ہو گیا۔

یہ تم اتنی سی بات نظر آتی ہے۔ اچھا  کام ڈاؤن میرے کہنے کا مطلب یہ نہیں تھا خاور ابراہیم کے غصے کو اچھی طرح جانتا تھا۔ لیکن میں یہ نہیں چاہتا ابراہیم کے جو آج سے 22 سال پہلے ہوچکا ہے وہ دوبارہ کسی اور کے ساتھ ہو۔

ابراہیم وحشت سے مسکرایا۔ اُس کے لئے زندہ ہونا لازمی ہوتا ہے۔

تم بھول گے ہو وہ رات خاور نے ابراہیم سے کہا۔ تمہیں لگتا ہے کہ میں کبھی وہ رات بھول سکتا ہوں ابراہیم نے دکھ کے ساتھ کہا۔

دوسری طرف جب نتاشہ نے کالج میں قدم رکھا تو اس کا سارا اعتماد اڑن چھو ہو گیا۔  کیونکہ  کالج کا پہلا دن تھا تو بہت  زیادہ بچے تھے جگہ جگہ لڑکا لڑکی بیٹھے پتا نہیں کون سے راز و نیاز کرتے تھے۔

سینئر سٹوڈنٹس ریگنگ میں مصروف تھے اور نتاشا انہیں سب سے ڈر رہی تھی۔

اس نے ڈرتے ڈرتے کالج کے اندر قدم رکھا۔

وہ اپنا ڈیپارٹمنٹ ڈھونڈ رہی تھی۔ کسی نے پیچھے سے ُاس کے کندھے کو پکڑا۔پیچھے دو لڑکیاں اور ایک لڑکا کھڑا تھا جو کہ سینئر تھے

آپ کو کچھ چاہیے لڑکی نے کہا۔ نتاشا ڈرتے ہوئے کہا مجھے اپنا ڈیپارٹمنٹ ڈھونڈنا ہے۔

بس اتنی سی بات پر اتنا پریشان ہونے والی کونسی بات ہے ۔ لڑکی نے مسکراتے ہوئے کہا۔

چلیں میں آپ کو ڈیپارٹمنٹ کا راستہ دکھا دو ورنہ  یہ شرارتیں اسٹوڈنٹس آپ کی ریگنگ کرنے میں دیر نہیں لگائیں گے۔

سب سے اینڈ والے فلور میں چلی جاؤ آپ کو آپ کا ڈیپارٹمنٹ مل جائے گا۔ لڑکی نے مسکراتے ہوئے نتاشہ سے کہا آپ کا بہت بہت شکریہ نتاشا نے لڑکی کے ساتھ ہاتھ ملایا۔

اور  چلی گئی پیچھے سے دونوں لڑکیاں اور لڑکے ہاتھ میں ہاتھ مار کے ہنس رہے تھے کتنی آسانی سے بے وقوف بنا دیا ہم نے اس کو۔ اس بات سے انجان کے آب اُن کے ساتھ اور نتاشا کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔

نتاشا جب لاسٹ فلور پر پہنچی تو دیکھا کہ وہ سنسان اور خالی ہے وہاں ٹوٹی ہوئی کرسیاں پڑی ہوئی تھی اور ہر کلاس روم لاک تھا۔ نتاشا یہ بات سمجھ گئی کہ ُاس کے ساتھ ریگینگ ہو گی ہے۔وہ غصے سے واپس آنے لگی تو ُاس کو ایک کرسی کے پیچھے کسی کا ہاتھ نظر آیا۔وہ رک گئی ُاس نے سوچا یہاں کوئی کیسے ہو سکتا ہے۔

شاید کوئی مشکل کا شکار ہو۔ وہ ڈرتے ڈرتے آگے بڑھی تو  دور سے وہ لڑکی معلوم ہو رہی تھی۔

جونہی  وہ ُاس کے پاس پہنچی تو نتاشا کی چیخ نکل گئی۔ اور وہیں پہ بھی ہوش ہوگئی

نتاشہ کی چیخ  نچلے فلور پر پہنچ گئی تو وہاں سے کچھ سٹوڈنٹ اور ٹیچر اوپر والے فلور پر آئے۔

اور اب چیخنے کی باری ان کی تھی۔ کیونکہ نتاشہ جس چیز کو دیکھ کر چیخیں اور بے ہوش ہوئی تھی۔

وہ ایک لڑکی کی  بغیر سر  کے لاش تھی۔

ابراہیم اور  خاور  گھر بیٹھے ماضی کی باتیں دہرا رہے تھے اتنے میں  ابراہیم کے موبائل میں کالج سے کال آئی۔ جس کو سنتے ہوئے ابراہیم غصے سے پاگل ہو گیا۔اورخاورسے کہا جلدی سے کالج لو۔ پر ہوا کیا خاور  نے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے ابراہیم سے پوچھا۔

ابراہیم نے کوئی جواب نہیں دیا اور بہت ہی ریش  ڈرائیونگ کرتا ہوا کالج پہنچا۔اور سیدھا پرنسپل کے پاس گیا۔ اور اسکا  کالر پکڑ کر زور سے جھٹکا۔ جاھل انسان میں نے تمہیں کہا تھا نہ کہ میری بیٹی کو کچھ نہ ہو۔

ابراہیم کی کالی سیاہ آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا۔

سر آپ میری بات  تو سننے میں آپ کو بتاتا ہوں۔ بس سینئرز میں بچوں نے کچھ شرارت کر دی اور نتاشا کو

لاسٹ فلوٹ پر بھیج دیا۔  لیکن وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ وہاں پر کسی لڑکی کی لاش بغیر سر کے  پڑی ہوگی۔

سارا کالج خود بہت خوفزدہ ہے اور ہم بھی کی یہ کیسے ہوا اور کس نے کیا۔

ابراہیم اور خاورنے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔

میری بچی کہاں ہے۔ ابراہیم نے پرنسپل کو چھوڑ تے ہوئے کہا۔

سر  ُاس کو ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے پرنسپل نے کالر ٹھیک کرتے ہوئے کہا۔

ابراہیم اور خاور پرنسیپل کے آفس سے نکل رہے تھے۔ تو راستے میں دو لڑکیاں اور ایک لڑکا کھڑے  تھے۔ یہ وہی تینوں تھے جنہوں نے نتاشہ کو لاسٹ فلاور پے بھیجا تھا۔

تینوں سامنے کھڑے ہوگئے اور ابراہیم سے معافی مانگتے ہوئے کہا سر ہمیں معاف کر دیں۔

ہمیں  نہیں پتا تھا کہ نتاشا آپ کی بیٹی ہے۔

کیا مطلب میری بیٹی ہے؟

کسی اور کی بیٹی ہوتی تو تم لوگ یہی کرتے؟  ابراہیم نے غصے سے کہا۔

ہم ہم ہمارا مطلب وہ نہیں تھا۔ لڑکے نے کہا کہ ہمیں یہ بھی نہیں پتا تھا کہ اوپر ایسا کچھ ہوگا۔

ابراہیم خاموش رہا۔

سر آپ نے ہمیں معاف تو کر دیا ہے نا؟

ہاں کیوں نہیں ابراہیم نے پرسرار مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔

اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی۔

جو خاور نے بخوبی دیکھ لی تھی۔ جسے دیکھتے ہی خاور اندر تک دخل  گیا تھا۔

دونوں واپس گاڑی  میں آ کر بیٹھ گئے اور ہُوسپٹل کی طرف جانے لگے۔

گاڑی میں مکمل خاموشی تھی  ابراہیم تم ایسا کچھ نہیں کرو گے جو تم سوچ رہے ہو۔  خاور نے ابراہیم کی طرف دیکھ کے کہا۔

تم سے کسی نے کچھ پوچھا ہے؟

فی الحال اپنی چونچ بند رکھو مجھے جلدی سے جلدی نتاشا کے پاس پہنچنا ہے۔ ابراہیم نے غصے سے کہا۔

خاور اور ابراھیم اسپتال پہنچے تو وہاں پر پولیس کو بھی دیکھا۔

ریسپشن سے پوچھ کر وہ نتاشا کے روم میں گئے تو نتاشا ابھی تک بے ہوش پڑی تھی۔

ابراہیم نے باہر آکر ڈاکٹر سے پوچھا کہ نتاشہ ابھی تک بے ہوش کیوں ہے؟

ڈاکٹر نے کہا خطرے کی کوئی بات نہی ڈر اور خوف کی وجہ سے نتاشا بے ہوش ہو گئی ہے۔

میں نے میری انجکشن دے دیے ہیں ابھی تھوڑی دیر تک اس کو ہوش آ جائے گا۔

ابراہیم اور خاور کوریڈور میں بیٹھ گئے۔ ان کے پاس سے پولیس گزری تو خاور نے کہا ۔

کیا وہ لڑکی کی لاش بھی ادھر ہے جو کالج سے ملی تھی۔

پولیس والے نے کہا ہاں۔۔

خاور نے کہا کیا میں اس کو دیکھ سکتا ہوں۔

کیوں پولیس والے نے مشکوک نظروں کے ساتھ خاور کی طرف دیکھا۔

اس  نے کبھی لاش جو نہیں دیکھی اسی لیے اس کو اتنا تجسس ہو رہا ہے.

یا تو اس کو لاش دکھا دیں یا پھر اس کو لاش بنا دیں۔

ابراہیم نے پیچھے سے تنگ آکر کہا۔تم چپ رہو .

خاور نے ابراہیم کو آنکھیں دکھاتے ہوئے کہا۔

میں بھی ایک ڈاکٹر ہوں تو شاید میں دیکھ کے کچھ پتا لگا سکوں  کے موت کیسے اور کس ٹائم ہوئی۔

چلیں پولیس والا اس کو ساتھ لے گیا۔

ابراہیم تم بھی میرے ساتھ چلو۔

ابراہیم نے کھڑے ہوتے کہا  لگتا ہے یہ بھی تو مجھ پہ ڈالنے والےہو۔ ابراہیم نے آہستہ سے کہاخاور اس کی طرف گھور کے دیکھا۔ابراہیم اور خاور پولیس کے ساتھ ُمردہ خانے کی طرف چلے گئے۔

جب  پولیس والے نے لاش کے اوپر سے کپڑا ہٹایا۔

تو خاور اور ابراہیم نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔

کیونکہ لاش کے جسم میں ایک بھی خون کا قطرہ نہیں تھا وہ بالکل سفید پڑ چکی تھی اور اس کا سر غائب تھا۔

دونوں چپ چاپ باہر آگئے۔

ِاس کا مطلب وہ واپس آ چکے ہیں۔ ابراہیم نے خاور کی طرف دیکھ کے کہا

(جاری ہے)

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments
error: Content is protected !!
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x