مکمل ناول
را کشاد یوی
تحریر سنبل اور رخسانہ صوابی
ناجانے رات کا وہ کونسا پہر تھا کہ افضال کی آنکھیں ایک آہٹ سے کھل گئیں اس کے ساتھ خیمے میں گو ہر نیلم اور صاہمہ بھی تھیں اس نے ادھر ادھر دیکھا کہ شاید کوئی جانور ہو اس نے جب سامنے دیکھا تو خیمے کی دیوار پر ایک کالا سایہ دکھائی و یا خوف سے اس کی سانسیں رکنے لگیں اس نے اپنی ساری ہمت کو یکجا کر کے پوچھا کہ لگ کون ۔ سائے نے مرکردبکھا تو افضال بے ہوش کے قریب تھا سائے کی آنکھوں سے سرخ شعلے نکل رہے تھے اور اگلے ہی لمحے سایہ غائب تھا۔
اور افضال نہایت گہرے دوست تھے دونوں ایف ایس سی میں کالج میں ساتھ پڑھتے تھے ان کے گھر بھی ایک گلی میں واقعہ تھے
اس لیے ایک ایک دوسرے کے گھر بھی اتے جاتے تھے کلاس میں دوسرے لڑکوں کے ساتھ بھی نرمی سے پیش اتے تھے دونوں پڑھائی میں بھی بہت تیز تھے اس کے علاوہ ان کے کلاس میں لڑکیاں بھی تھیں جن میں سائمہ نیلم اور ماریہ اپنی مثال اپ تھیں کو ہر فیلم سے پیار کرتا تھا مگر ابھی تک اظہار نہن کر پایا تھا اور آخر ایک دن اس نے اظہار کر ہی دیا اسی
طرح دن گزرتے گئے افضال نے صائمہ سے اظہار محبت کر دیا مگر وہ بولی۔
میں سوچوں گی اس دن تو سب کلاس والوں کی خوشی کی انتہا نہ رہی جب پروفیسر قادر نے کلاس میں اعلان کر دیا کہ اگلے ہفتے ہم سب ٹور پر جائیں گے اور یہ توور پر پرنسپل صاحب نے اپنی طرف سے رکھی ہے کہ سارا خرچہ پرنسپل صاحب خود ہی کریں گے خواہ کتنا ہی کیوں نہ آنے-
سیلم اور گوہر تو خوشی سے پاگل ہورہے تھے اور افضال نجانے کن سوچوں میں گم تھا گوہر نے پوچھا یار کیا بات ہے کیا تمہیں اس ٹور پر کوئی اعتراض ہے یا تم جانا نہیں چاہتے ہو افضال نے کہا مجھے تو کوئی اعتراض نہیں ہے مگر میں صائمہ کی وجہ سے پریشان ہوں ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا گوہر بولا یار اتنی بھی کیا جلدی ہے سب ٹھیک ہو جائے گا تھوڑا سا صبر کر لو اور دونوں ہنستے ہوئے گھروں کی طرف جانے لگے اگلے دن پروفیسر صاحب نے کلاس میں اعلان کر دیا کہ تیار رہنا صرف ایف ایس سی والے جائیں گے اور پروگرام پیر کو طے ہو گیا ہے آج جمعہ تھا اور ابھی دو تین دن تھے یہ دو تین دن تیاریوں میں گزر گئے اور پیر کے خوشگوار صبح کو وہ سب بس میں بیٹھے جارہے تھے گو ہر بہت ہی زیادہ خوش دکھائی دے رہا تھا اور نیلم بھی گوہر نے پروفیسر صاحب سے پوچھا سر کہاں جائیں گے
پروفیسر صاحب نے بتایا کہ وہ چترال سے ہٹ کر جو کالے پہاڑ ہیں وہاں پر ا ایک ہفتہ گزاریں گے اور انشاء اللہ جلد واپس بھی آجائیں گے۔ ای دوران بس میں ٹی وی سکرین پر فلم چلنے لگی اور سب فلم کے ڈائیلاگز سے محظوظ ہونے لگے افضال آج
بہت خوش تھا کیونکہ صائمہ اسے بار بار دیکھ رہی تھی اورجب وہ اس کی طرف دیکھتا تو وہ شرما کر نظریں جھکا لیتی افضال ساری باتے سمجھ گیا تھا کہ معاملہ گڑ بڑ ہو گیا ہے اور سائمہ کی طرف بھی محبت کی آگ لگ گئی ہے اور صائمہ بھی اس سے محبت کرنے لگی ہے یہ بات اس نے گو ہر کو بھی کہی جسے سن کر وہ بھی بہت خوش ہوا ۔
کالے پہاڑوں پر اس وقت گھٹا ٹوپ اندھیرا چھایا ہوا تھا اور رات کے اندھیرے میں یہ پہاڑ بہت خوفناک لگ رہے تھے اس پہاڑوں کے ایک غار میں را کشاد یوکی چڑیل بیٹھی ہوئی تھی جو چلہ کر رہی تھی اور اس کے سامنے سمی آئینہ موجود تھا جو دیوار جتنا بڑا تھا اور وہ اس میں آنے والے واقعات آسانی سے دیکھ سکتی تھی راکشا چڑیل بہت ہی ظالم تھی اور وہ اب تک وہ بے شمار انسانوں کو موت کے بھینٹ چڑھا چکی تھی یہاں تک کہ اس نے جانوروں کو ۔ بھی نہیں بخشا تھا اور کالے پہاڑوں کے سارے جانور ختم کر ڈالے تھے اور جو جانور بچ گئے تھے وہ پہاڑوں سے بھاگ گئے تھے۔
را کشا چڑیل آدھی رات کے وقت خوفناک غار میں بیٹھی ہوئی چلہ کر رہی تھی اور کالا بت اندھیرے میں بمشکل
نظر آرہا تھا مگر را کشا چڑیل کی ظالم آنکھیں تو ہزار وولٹ کے دو بلب تھے جسے اندھیرے میں بھی آسانی سے سب
کچھ نظر آتا تھا ابھی وہ آدھا چلہ ہی کر پائی تھی کہ طلسمی آئینے سے شعائیں نکلنے لگیں اور سیدھی را کشا چڑیل کی آنکھوں
پر پڑی آئینہ کو دیکھ کر وہ چونک گئی کیونکہ آئینہ میں ایک بس کا منظر نظر آ رہا تھا جس میں سکول کے لوگ بیٹھے ہوئے تھے اور
سب ایک دوسرے سے زیادہ خوش دکھائی دے رہے تھے
وہ اس منظر کو دیکھ کر نہایت حیران ہوگئی تھی اور اگلے ہی لمحے اس نے آئینے پر پھونک ماری اور آئینہ بالکل بے جان
ہو گیا اس نے چلہ چھوڑا اور منہ ہی منہ میں کچھ بڑبڑانے لگی منتر پڑھ کر اس نے غار کی چھت کی طرف پھونک ماری
اور دیکھتے ہی دیکھتے چھت کے ساتھ الٹی لٹکی چمگاڈ رسیدھی زمین پر آگری اور اس کے ارد گرد کالا دھواں چھانے لگا اور
اگلے ہی لمحے چمگاڈر کی جگہ ایک بھیانک شکل کا بھوت کھڑا تھا جس کا سر جھکا ہوا تھا۔۔
کیوں بلایا ہے مجھے را کشاد یوی ۔ بھوت کے منہ سے آواز خارج ہوئی تو ایسے لگا جیسے غار درمیان سے پھٹ گیا ہو کالے بھوت جاؤ اور معلوم کرو کہ یہ کون لوگ ہیں اور کس طرف آرہے ہیں را کشا نے حکم دیا اگلے ہی لمحے کالا بھوت چمگاڈر میں تبدیل ہو کر غار کے منہ سے باہر نکل
بس فراٹے بھرتی ہوئی منزل کی طرف رواں دواں تھی اور وہ سب بس میں بھٹے ھوے خوشی سے ناچ رے تھے عصر کے وقت انہیں دور سے کالے پہاڑوں کے آثار دکھائی دیئے تھے وہ سب بے اختیار خوشی سے اچھل پڑے کیونکہ پہاڑ بہت ہی دلکش نظر آرہے تھے وہ بہت بے صبری سے بس کے پہنچنے کا انتظار کرنے لگے کیونکہ وہ جلد از جلد کا بے پہاڑوں پر پہنچ جانا چاہتے تھے آخر انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں اور بس کالے پہاڑوں کے ساتھ ہی رک گئی وہ سب بڑی بے تابی سے نیچے اترے اور آگے
بڑھنے لگے شام تک وہ پہاڑوں پر ویسے ہی گھومتے رہے سردی اپنے جو بن پر تھی اور تاریکی آہستہ آہستہ اپنے پر پھیلا رہی تھی اور تاریکی میں کالے پہاڑ ایسے لگ رہےتھے جیسے بڑے بڑے دیو ہیکل جن کھڑے ہوں دن کو جو پہاڑ انہیں بہت ہی دلکش نظر آرہے تھے رات کو وہ پہاڑ اتنے ہی بھیا تک لگ رہے تھے رات کو انہیں پہاڑوں سے خوف محسوس ہو رہا تھا۔
پروفیسر صاحب نے کا حکم دیا کہ خیمے لگا دیئے جائیں موسم بہت ہی سرد ہے انہوں نے جلدی جلدی خیمے تھا دیئے اور کھانا کھانے لگے کھانا کھا کر سب اپنے اپنے خیموں میں گھس گئے تھکن کی وجہ سے وہ سب بہت جلد سو گئے نجانے رات کا کون سا پہر تھا کہ افضال کی آنکھیں ایک آہٹ سے کھل گئیں اس کے ساتھ جیسے میں گو ہر نیلم اور صائمہ بھی تھین اس نے ادھر ادھر دیکھا کہ شاید کوئی جانور ہو اس نے بے ساختہ سامنے دیکھا تو خیمے کی، یوار پر ایک کالا ساقیہ دیکھائی دیا خوف سے اس کی سانسیں رکنے لگیں اس نے اپنی ساری ہمت کو یکجا کر کے پوچھاک لک ۔۔ کون سائے نے مڑ کر دیکھا تو افضال بے ہوش ہونے کے قریب تھا سائے کی آنکھوں سے سرخ شعلے نکل رہے تھے اور اگلے ہی لمحے سایہ غائب تھا۔
.را کشا چڑیل اپنے غار میں کالے بھوت کا انتظار کر رہی تھی کہ اچانک وہ چمگاڈر کی روپ میں اندر داخل ہوا زمین پر گرتے ہی اس نے کالے بھوت کی شکل اختیار کر لی را کشاد یوی میں نے ان کے بارے میں معلوم کر لیا ہے وہ کالے پہاڑوں کے ساتھ خیمے لگا کر یہاں چند دن گزاریں گے راکشا نے یہ سنا تو آگ بگولہ ہوگئی اور اس کی آنکھوں میں خون تیرنے لگا ان کی یہ ہمت کے میرے.
علاقے میں قدم رکھیں میں ان کا خون پی جاؤں گی وہ غصے سے دھاڑی تو ایسے لگا جیسے پہاڑوں میں آتش فشاں پھٹ پڑا ہو۔۔
نہیں چھوڑوں گی ۔ نہیں چھوڑوں گی ۔۔ میں ان کمینوں کو نہیں چھوڑوں گی۔ انہیں پتہ نہیں کہ میرے علاقے میں قدم رکھنے والوں کا کیا حشر ہوتا ہے میں ان کی تکہ بوٹی کر ڈالوں گی راکشا کی اجازت کے بغیر کالے پہاڑو میں پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا را کشا چڑئیل کے غصے کو دیکھ کر کالا بھوت بھی نہم گیا را کشا نے منتر پڑھ کر بھوت پر پھونکا تو وہ چمگاڈر بن کر چھت سے دوبارہ لٹک گیا را کشانے اسی لمحے ایک اور منتر پڑھ کر دیوار پر پھونک ماری تو دیوار سے سرخ رنگ کا دھواں نکلنے لگا دیکھتے ہی دیکھتے اس دھویں سے چار سرخ رنگ کے ڈھانچے بن گئے کیا حکم ہے را کشا دیوی ۔۔ سب نے ایک ساتھ مل کر کہا را کشا نے حکم دیا کہ جاؤ ان لوگوں کو خوفزدہ کرو کہ یہاں سے چلے جائیں یہ راکشا کی سلطنت ہے یہاں پر وہ آدم زاد کو برداشت نہیں کرسکتی را کشا کا حکم سن کر ڈھانچے غائب ہو گئے۔
افضال کو ساری رات ڈر کی وجہ سے نیند نہیں آئی اور وہ صبح ہونے کا انتظار کر رہا تھا صبح ہوتے ہی اس نے سب کورات والا واقعہ سنایا کہ مجھے یہ پہاڑ آسیب زدہ لگتے ہیںی۔
گوہر نے اس کی باتوں پر یقین نہیں کیا کہ اس دور میں آسیب کا وجود نہیں ہے پہاڑ ہیں ان میں آسیب کا کیا کام وہ شام تک پہاڑوں کی دلکشی سے لفظ اندوز ہوتے رہیں اس وقت افضال بھی رات والا واقعہ بھول چکا تھا اور وہ بھی ان کے ساتھ لطف اندوز ہو رہا تھا شام کو جب وہ واپس خیموں کی طرف آرہے تھے تو ان کے سامنے شرخ رنگ کا دھواں پھیلنے لگا اور سب بہت خوفزدہ ہو گئے اچانک ان کے سامنے چار سرخ رنگ کے ڈھانچے نمودار ہوئے لڑکیاں تو ڈھانچوں کو دیکھ کر ہی بے ہوش ہو گئیں ڈھانچےایک ساتھ گرچے یہ را کشا دیوی کی سلطنت ہے یہاں پر جو بھی زندہ آیا واپس نہیں گیا تمہارے لیے ایک موقع ہے
کہ یہاں سے چلے جاؤ ورنہ انجام کے ذمہ دار تم خود ہوں گے گوہر بولا جاؤ جو کر سکتے ہو کر و ہم یہاں سے ایک ہفتہ گزار کر ہی جائیں گے اور تمہاری را کشا کو بھی دیکھ لیں گے اور ڈھانچے اس کے ساتھ ہی غائب ہو گئے سب نے اسے سمجھایا مگر وہ اپنی ضد پر اڑا رہا اور یہاں سے جانے کے لیے تیار نہیں تھا۔
کیا ۔۔ اس کی یہ ہمت کہ میری ہی سلطنت میں ڈینگیں مارے میں دیکھ لوں گی سب کو شاید یہ لوگ ابھی میری طاقت سے واقف نہیں ہیں کہ را کشا کیا کچھ کر سکتی ہے اس نے ڈھانچوں پر پھونک ماری تو وہ سرخ دھویں میں تبدیل ہو کر دیوار میں غائب ہو گئے را کشا بہت غصے میں تھی وہ سوچ سمجھ کر ان آدم زادوں کے خلاف قدم اٹھانا چاہتی تھی جس نے اس کو للکارا تھا وہ رات کو ان میں اپنی پسند کا شکار کرنا چاہتی تھی اس کی آنکھوں سے انگارے نکل رہے تھے اور وہ رات ہونے کا انتظار کر رہی تھی اس نے منتر پڑھ کر طلسمی آئینے پر پھونکا تو اس میں خیموں کا منظر نظر آنے لگا وہ سب بڑی آرام سے سورہے تھے ایسے جیسے انہیں کسی چیز کی خبر نہ ہورا کشا نے ایک زور دار قہقہہ لگایا اور وہ بیٹھے بیٹھے اپنی جگہ سے غائب ہو گئی۔
وہ سب بڑے آرام سے سورہے تھے ان سب کی خراہٹیں خیموں میں گونج رہے تھے اچانک ملا کتنا چڑیل خیموں کے پاس نمودار ہ کی وہ ایک قیمے میں بھئی اندر پروفیسر قادر اور تین لڑکیاں سورہی تھیں اس نے دولڑکیوں کو اٹھایا اور خیمے سے باہر نکل گئی جسم میں کسی چیز کی چھین محسوس کر کے دونوں لڑکیاں جاگیں اور جب ان کی نظر را کشا کے چہرے پر پڑیں تو انہوں نے ایک بھیانک تیچ ماری مگر اگلے ہی لمحے راکشا چڑیل بجلی کی سی تیزی سے لڑکیوں سمیت اپنی جگہ سے غائب ہو گئی تھی ۔ نیم کی آواز سن کر باقی لوگ جاگ گئے شیخ کی آواز باہر سے آئی تھی
پروفیسر صاحب ہانپتے کا پتے باہر نکلے ۔ کیا ہوا۔۔ کیا ہوا۔ افضال نے پوچھا وہ ۔ وہ سویرا اور کنول دونوں اپنی جگہ سے
غائب ہیں ۔ پروفیسر نے ہانپتے ہوئے کہا ۔ کیا۔ وہ سب ایک ساتھ چلیں اور انہیں تلاش کرنے لگے مگر وہ وہاں ہو تیں تو مانتی ناں ۔ مجھے لگتا ہے یہ سب را کشاد یوی کا کام ہے گوہر بولا ہاں ہم نے تمہیں بہت سمجھایا تھا کہ یہاں نے چلیں مگر تم نے ہماری ایک نہیں مانی اب بھگتو میں را کشا کو زندہ نہیں چھوڑوں گا میں اپنے ساتھیوں کا بدلہ لے کر ہی رہوں گا چلو یہاں سے چلیں ورنہ ہمارا بھی انجام بہت بھیا تک ہوگا ذیشان جو کہ بہت ہی ڈرپوک تھا بولا خاموش ہو جاؤ چلو کے بچے گو ہر چیخ پڑا ہم یہاں سے کہیں
نہیں جائیں گے اگر جائیں گے تو راکشا کو مار کر ہی جائیں گے ورنہ سب یہیں مریں گے۔
را کشا دونوں لڑکیوں کو لے کر غار میں آگئی وہ دونوں ابھی تک بے ہوش تھیں را کشرا نے اپنے لمبے لمبے دانت کنول کی گردن پر رکھے اور اگلے ہی لمحے وہ کنول کا سارا خون پی چکی تھی اس کے بعد اس نے کنول کی لاش کو اڈ ھیر کر رکھ دیا اور سارا گوشت کھا لیا پھر اس نے سویرا کا بھی یہی حال کیا اور پھر بت کی پوجا کرنے میں مصروف ہو گئی آدھے گھنٹے کے بعد جب وہ پوجا سے فارغ ہوئی تو قہقہے لگا رہی تھی کہ اب بھگتو را کشا کے ظلم وہ بولی اور پھر اگلی رات کا انتظار کرنے لگا اگلی رات وہ پھر خیموں کے پاس نمودار ہوئی اس بار اس کا رخ افضال کے خیمے کی طرف تھا
اس نے منتر پڑھ کر مار یہ پر پھونک ماری اور اسے بے ہوش کر دیا پھر اس نے پروفیسر قادر کا بھی یہی حال کیا تھا اور دونوں کو اٹھا کر غار میں لے گئی ان کے ساتھ بھی وہی کچھ کیا جو کنول اور سویرا کے ساتھ کیا تھا۔
صبح جب وہ اٹھے تو ماریہ اور پروفیسر کو نہ پا کر سب کے دل دھڑکنا بھول گئے صائمہ اور نیلام کا تو رو رو کر برا حال تھا کیونکہ اس کی دوست بھی راکشا کا نشانہ بنی وہ سب بہت ہی ۔ ہی غمگین اور ڈرے ہوئے تھے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کا پروفیسر بھی اب ان کے پاس موجود نہیں تھا اور را کشا اسے تبھی کے گئی تھی گو ہر تو مارے غم کے بے ہوش ہو گیا تھا تین دوستوں اور پروفیسر کی لا موجودگی میں بے ہوشی میں اسے ایک بزرگ کا چہرہ دکھائی دیا جس کے چہرے سے نور ہی نور برس رہا تھا وہ بولے بیٹا صبر کرو جوہونا تھا وہ و ہو گیا اب رونے دھونے کا کوئی فائدہ نہیں اس چڑیل کو ختم کرنے کے لیے تمہیں ایک رات کا چلہ کرنا ہوگا
جو بہت ہی خطرناک ہو گا لیکن تم نے ڈرنا نہیں تم ثابت قدم رہو گے یہ درد میں تمہیں بتاتا ہوں آج ہی رات چلہ کرو اور یہ ورد پڑھ کر اپنے سب ساتھیوں پر پھونکو را کشا انہیں ہاتھ بھی نہیں لگا سکے گی اللہ حافظ یہ کہہ کر بزرگ غائب ہو گئے گو ہر کو ہوش آیا اور وہ خواب سب کے سامنےبیان کرنے لگا۔
را کشا مار یہ اور پروفیسر کا خون پی چکی تھی اور گوشت بھی ہڈیوں سے کھا گئی تھی چار ڈھانچے جو کہ کنول سویرا ماریہ اور پروفیسر قادر کے تھے غار میں پڑے تھے اور غار میں جگہ جگہ خون لگا ہوا تھا اور عجیب بدبو پھیلی ہوئی تھی را کشا بہت خوش تھی کیونکہ اس نے اپنے چار دشمنوں کو اذیت کی موت مار دیا تھا۔
گوہر رات کا انتظار کرنے لگا اور یہ چلہ اسے رات کے بارہ بجے کے ٹائم شروع کرنا تھا رات ہوتے ہی اس نے حصار کھینچا اور اس میں بیٹھ گیا اس نے چلے کا ورد پڑھ کر سب پر پھونک دیا تھا اور انہیں ایک خیمے میں جمع کیا تھا اور خود حصار میں بیٹھا تھا دو گھنٹے تو سکون سے گزر گئے مگر پھر اچانکہ جون کی بارش ہونے لگی مگر یہ بارش حصار سے باہر ہو رہی تھی پھر اچانک زمین پھٹی اور بہت سے ڈھانچے نکل کر بارش میں ناچنے لگے ڈھا کچے عجیب سی آوازیں نکال رہے تھے اور اس سے ماحول بہت ہی بھیانک لگ رہا تھا خون سے سب ڈھانچے سرخ ہو گئے جو بہت خوفناک لگ رہے تھے گو ہر نے آنکھیں بند کر لیں اور تیز تیز ورد پڑھنا شروع کر دیا کچھ دیر بعد سب کچھ ختم ہو گیا
آذان میں ابھی دو گھنٹے باقی تھے وہ مسلسل ورد پڑھتارہا اگلے ہی لمحے ایک کالا بھوت اس کے سامنے نمودار ہوا اور
بولا۔۔
اے لڑکے یہ چلہ بند کر ورنہ بہت میرا ہوگا تیرا ایک ساتھی بھی نہیں بچے گا بھوت کی شکل دیکھ کر گو ہر خوف سے کا پنپنے لگا بھوت نے اسے بہت ڈرایا دھمکایا مگر اس پر کوئی اثر نہیں ہوا پھر اچانک اس کو نیلم چلتی ہوئی نظر آئی آتے ہی وہ بولی چھوڑ وھو ہر یہ سب اٹھو اور چلو را کشا کو بزرگ بابانے ماردیا ہے دیکھو بزرگ بابا میرے پیچھے کھڑے ہیں بزرگ بابا بولے ہاں بیٹا انیمو میں نے مار دیا ہے اس را کشا کی بچی کو اب وہ یہاں بھی نہیں آئے گی اس دفعہ وار کاری تھا اس لیے گو ہر اٹھ کر جانے ہی والا تھا کہ اس کی نظر نیلم اور بابل کے پاؤں پر پڑی جو الٹے تھے اسے یہ بھی راکشا کی سازش تھی اور وہ دوبارہ بیٹھ گیا نیام اور بزرگ بابا نے اسے بہت سمجھایا مگر وہ نہ مانا آخر وہ دونوں کالے رنگ کے بلاؤں میں تبدیل ہو گئے اور اس کی طرف آنے لگے حصار کے قریب وہ آکر جل گئے اور غائب ہو گئے اور خوفناک سا آواز دونوں کے منہ سے نکلا فجر کی آزان میں کچھ وقت ہاتی تھی کہ اچانک راکشا چڑیل حاضر ہوئی پہلے اس نے کو ہر کو ڈرایا مگر جب وہ نہ ڈرا تو اس نے اس کی طرف پھونا یں ماری بہت سے بچھو اس کے منہ سے نکل گئے اور گو ہر کی طرف جانے لگے لیکن جونہی حصار سے ٹکرائے تو سب جل گئے رہا کشا کو کوئی بھی وار اس پر اثر نہیں کر رہا تھا اور وہ بے بس تھی جیسے ہی فجر کی آذان بلند ہوئی گو ہر را کشا چڑیل پر پھونک ماری وہ جلنے لگی اور خوفناک آوازیں
نکالنے لگی گوہر نے اپنے ساتھیوں کا انتقام لے لیا تھا تھوڑی دیر بعد آواز آئی ۔
آو۔۔ مارد یا مجھے گوہر نے کہا کہ میرا نام را کشاچڈیل تھا پھر وہ سرخ اور نیلے رنگ کے دھوئیں میں تبدیل ہو کر غائب ہوگئی گو ہر سجدے میں گر گیا کیونکہ اس نے را کشا جیسی ظالم چڑیل کو جہنم واصل کر دیا تھا پھر وہ جیسے میں آیا اور سب کو خوشخبری سنادی سب بہت خوش ہو گئے مگر اپنے دوستوں اور اپنے پروفیسر کی کمی کو وہ پورا نہیں کر سکتے تھے اور سب واپس جانے کی تیاری کرنے لگے صبح انہوں نے دیکھا تو حیران رہ گئے کہ کالے پہاڑوں کا رنگ تبدیل ہو گیا ہے اور وہ اب رنگ برنگ دکھائی دے
رہے تھے سرسبز اور شاداب لگ رہے تھے وہ سمجھ گئے کہ یہ سب را کشا کا طلسم تھا جو اس نے پہاڑوں پر کیا تھا اب یہ طلسم ختم ہو گیا ہے پھر وہ بس میں سوار ہو کر واپس آرہے تھے مگر سب اداس اور مکین تھے۔
قارئین کرام کیسی گئی میری کہانی اپنی رائے سے ضرور نواز یے گا۔
نیے لکھاریوں کی حوصلہ افزائی ضرور کرہیں
کیمنٹ کرہیں شکریہ
