Rasam رسم

رومانوی داستان

رایٹڑ نبیلہ اغجاز

مکمل ناول

views
0
نبیلہ اغجاز

مکمل ناول

طلاق ؟ کتنی ہی دیر سے اس کے دماغ میں اس ایک لفظ کی بازگشت ہو رہی تھی اور کتنی ہی دیر سےوہ کچھ کہ نہیں سکا تھا۔ اس کے لب ہی خاموش نہیں ہوئے تھے وہ تو جیسے سر سے پاؤں تک خاموش ہو گیا تھا۔ اس نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا کہ دوسری طرف سے طلاق کا مطالبہ بھی ہو سکتا ہے۔ کیوں برخوردار خاموش کیوں ہو گئے؟ سید سراج حسین کی بارعب آواز پر وہ یکدم چونک کر اس سنگین لفظ کے حصار سے باہر آیا تھا اور یہ فیصلہ محض چند سیکنڈز میں ہی اپنے تمام تاثرات پر قابو پاتے ہوئے ان کی طرف متوجہ ہوا تھا۔

آپ کا ہے یا پھر میری زوجہ محترمہ کا؟ اس کا لہجہ دوبارہ سے پر سکون اور ہموار ہو چکا تھا۔

فیصلہ چاہے کسی کا بھی ہو تمہیں اس سے کوئی سروکار نہیں ہو نا چاہئے۔ وہ بھی کافی تحمل سے بولے

میری زندگی ”اس نے لفظ “ کیوں نہیں ہونا چاہئے مرشد سائیں؟ یہ میری زندگی کا معاملہ ہے۔

پر کافی زور دے کر کہا تھا۔ یہ تمہاری زندگی کا ہی نہیں برخوردار ہماری عزت، غیرت اور رسم ورواج کا معاملہ بھی ہے ، جو بقول تمہارے کچھ زیاد و اہمیت نہیں رکھتے ، مگر تم یہ نہیں جانتے کہ ہمارے لئے ہماری عزت، غیرت اور رسم ورواج موت اور زندگی کیسی اہمیت کیسی اہمیت ایک پل کے لئے سید سراج حسین کی رنگت رکھتے ہیں اور ان کے لئے ہم کچھ بھی کر سکتے ہیں۔

غصے کی آنچ سے سرخ پڑ گئی تھی۔

مر شد سائیں آپ کو شاید میری بات سنے میں غلط فہمی ہوئی ہے، میں آپ کی عزت و غیرت کو غیر

اہم کہنے کا کبھی سوچ بھی نہیں سکتا۔ البتہ آپ کے رسم ورواج کے خلاف میں کل بھی تھا اور آج بھی ہوں، آپ نہ جانے کب سے اس بے جار سم پر عمل کرتے ہوئے کتنی زندگیاں تباہ کر چکے ہیں اور کتنے دلوں کو برباد کیا ہے آپ لوگوں نے ؟ لیکن ایک بات یادرکھیں مر شد سائیں اس بار میں ایسا نہیں ہونے دوں گا، میں اپنے دل سے وابستہ ایک دل کو عمر بھر کی تنہائی اور خاموشیاں نہیں سوچنے دوں گا چاہے کچھ بھی ہو جائے۔ وہ کافی مضبوط اور سنجیدہ لہجے میں کہتا اپنی جگہ سے کھڑا ہوگیا تھا۔ “دیکھوڑ کے ! آج سے کچھ عرصہ پہلے ایک فیصلہ تم نے کیا تھا اور اپنی بات منوائی تھی لیکن ہم چپ رہے تھے۔ آج ایک فیصلہ ہم کر رہے ہیں اور اپنی بات منوائیں گے لیکن تم صرف چپ رہو گے۔ وہ انتہائی دوٹوک اور غصیلے انداز میں بولے تھے لیکن کسی سے مرعوب ہونے والا اور اپنے مقام سے پیچھے ہٹنے والا وہ بھی نہیں تھا، وہ اگر سید فرید حسین کے بیٹے تھے تو وہ بھی سلطان

گردیزی کا اکلوتا لاڈلا پوتا تھا، اپنی وسیع جاگیر کا تنہا وارث ! میں حق پر تھا اور میں نے ایک جائز فیصلہ

کیا تھا، جبکہ آپ سراسر ظلم کر رہے ہیں۔ وہ ان کی ہر بات ، ہر فیصلے سے انکاری تھا۔ اگر مظلوم خود کہہ دے کہ مجھ پر کوئی ظلم نہیں ہوا تو پھر ؟ سید سراج حسین فخریہ انداز میں سکون سے بولے تھے

لیکن وہ یکدم بُری طرح سے چونک گیا تھا، ایک پل میں اس کی سوچ کہاں سے کہاں چلی گئی تھی مگر پھر فورا ہی اپنے آپ کو کہنا کیا چاہتے ہیں آپ؟ اس نے بغور ان کا چہرہ جانچا تھا۔

جو تم بخوبی سمجھ چکے ہو۔ ” وہ ابھی بھی پُر سکون تھے لیکن میں طلاق پھر بھی نہیں دوں گا۔ اس نے سختی سے کہتے ہوئے نفی میں گردن ہلائی تھی۔ دیکھو تم شاید بھول رہے ہو کہ اس وقت بھی تم نے یکطرفہ فیصلہ کیا تھا اور آج بھی تم یکطرفہ فیصلےپہ اڑے ہوئے ہو وہ تمہارے فیصلے میں نہ کل شامل تھی اور نہ آج ہو گی، تمہاری زبردستی کرنے سے کچھ نہیں ہو گا۔ انہوں نے اس کی ہمت توڑنے کی ایک بھر پور کوشش کی تھی لیکن وہ کچھ اور ہی سوچ رہا تھا۔

میں ایک بار اس سے ملنا چاہتا ہوں، پھر آپ نے جو کہا میں وہی کروں گا، یہ میرا آپ سے وعدہ

اس نے کافی “ ہے، ایک مرد کا وعدہ۔ سلیقے سے ان کو اپنی بات پر لانا چاہا تھا۔

اپنی بیوی ” تم جانتے ہو تم کیا کہہ رہے ہو ؟ انہوں نے غصے سے کہا تھا ۔ جی میں جانتا ہوں کہ میں اس نے بڑے احترام سے طنز کا تیر “ سے ملنے کی اجازت اس کے چاحضور سے مانگ رہا ہوں۔

اور اگر ہم اس چیز کی اجازت نہ دیں تو ؟ وہ صوفے پہ ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے بیٹھے تھے انداز میں تو پھر دوبارہ بھی طلاق کے لفظ کو سوچنے کا بھی مت ! وہ ان کے لئے حد سے زیادہ سختی تھی۔

میر الثابت ہورہا گھرکا ہے میں ہی ٹیڑھا ثابت ہو رہا تھا۔ برخوردار ہم چاہتے ہیں کہ یہ معاملہ گھر کا ہے تو گھر میں ہی نبٹ جائے نہ تمہاری عزت بگڑے اور نہ ہمارا نام اُچھالا جائے ، ورنہ کوٹ کہ تو میں نہ اور نہ

کچہری تک جانا کوئی مشکل کام نہیں ہے ہمارے لئے۔ انہوں نے اسے تقریب دھمکی دی تھی

جیسے کچھ باور کروانا چاہا ہو ۔ ٹھیک ہے مرشد سائیں آپ اگر کورٹ کچہری تک جانے کا شوق بھی پورا کرنا چاہتے ہیں تو یہی کر لیتے ہیں اب میں آپ کی طرف سے عدالتی کارروائی کا منتظر رہوں گا

اور دیکھوں گا کہ عدالت اور شریعت کا مجرم کون ہے ؟ وہ ان کے منہ سے عدالت کا ذکر سن کر بہت خوش ہوا تھا، کیونکہ اسے یقین تھا کہ وہ کبھی بھی عدالت کارخ نہیں کریں گے۔ لیکن میں آپ سے پھر یہی کہوں گا کہ میں ایک بار رو برواس سے ملنا چاہتا ہوں، پھر چاہے تو طلاق ہو جائے اور چاہے تو وہ اپنا جملہ ادھورا چھوڑتے ہوئے ان کے سامنے آکھڑا ہوا تھا جبکہ سید سراج حسین شدید کشمکش کا شکار نظر آرہے تھے، جیسے فیصلہ اور اس کا انجام سوچ رہے ہوں۔

دیکھیئے مر شد سائیں میں ایک مرد بچہ ہوں اور اللہ کے فضل و کرم سے عزت دار اور غیرت مند

بھی ہوں ، اپنا وعدہ، اپنی زبان نبھانا جانتاہوں ، آپ فکر نہ کریں، یکطرفہ فیصلہ اور کوئی زبردستی نہیں کروں گا۔ اس نے انہیں بھر پور یقین دہانی کروائی تھی اور وہ کچھ سوچتے ہوئے صوفے سے کھڑے ہو گئے تھے۔ جیسے کسی نتیجے پر پہنچ گئے ہوں۔

ٹھیک ہے کل تم حویلی آجانا۔ وہ کہہ کر کے نہیں تھے ، بلکہ تیزی سے ڈرائنگ روم سے باہر آگئے تھے، جہاں ان کے سکیورٹی گارڈزالرٹ کھڑے تھے ، جبکہ وہ ڈرائنگ روم کے بیچوں بیچ کم کم کھڑا تھا، اس کی سوچ کہیں اور تھی،

 

کیونکہ اس سارے قصے میں ایسا ایک نقطہ بھی تھا جو فراموش نہیں ہو سکتا تھا، مگر اسی نقطے پر نہ انہوں نے بات کی تھی نہ ہی اس نے خود ذکر کیا تھا، حالانکہ سب سے اہم پوائنٹ وہی تھا اور اسی پہ بات نہیں ہوئی تھی۔

شہر بانو ! سنا ہے تمہاری شادی ہونے والی ہے ؟ سید سراج حسین کی بڑی بیٹی زہرا نے کافی گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا تھا۔ آپ نے سنا ہے تو ٹھیک ہی سنا ہو گا۔ شہر بانو بھی ابھی وضو کر کے آئی تھی اور نماز پڑھنے کے لئے سر پر دوپٹہ لپیٹ رہی تھی، جب اس کی چازاد بہن اپنے چہرے پر ڈھیروں تجس سجائے اس کے کمرے میں داخل ہوئی تھی لیکن شہر بانو نے کچھ خاص رسپانس نہیں دیا تھا، بس ناریل سے انداز میں جواب دے کر آگے بڑھ گئی تھی لیکن زہر اوا پس جانے کی بجائے وہیں بیٹھ کر اس کے نماز سے فارغ ہونے کا انتظار کرنے لگی تھی، اسے شہر بانو کی شادی کا سن کر بہت تجسس اور دلچسپی ہو رہی تھی کہ آخر شہر بانو کا کیا بنے گا، وہ کیا کرے گی ؟ کیسے رہے گی عمر بھر اس طرح؟ کیونکہ اس شادی، اس رسم کو نبھانا تارک الدنیا ہو جانے کے برابر ہی تھا، ہر دنیاوی چیز کو چھوڑ دینا اتنا آسان کام نہیں تھا جیسے پھوپھو فاطمہ زندگی بسر کر رہی تھی، اسی طرح اب شہر بانو کو بھی زندگی گزار نا تھی۔ کیا بات ہے زہرا آپی، آپ اس طرح کیوں بیٹھی ہیں ؟

زہرا کی سوچ کا تسلسل شہر بانو کی آواز سے ٹوٹا تھا، جو نماز پڑھ کر آچکی تھی۔

کچھ نہیں شہر بانو میں سوچ رہی تھی کہ تم کس طرح سب کچھ چھوڑ دو گی ؟ دون رات عبادت میںا؟ دون را عمر

کیسے گزارو گی ؟ زندگی تو پورے گھر میں گزارنے کیلئے ہوتی ہے ، گھر کے ایک کونے میں نہیں۔ زہر ا بے چاری بیچ ہی تو کہ رہی تھی مگر اس رسم کو زندہ جاوید رکھنے والوں کو بھلا کون سمجھاتا؟ اگر پھوپھی فاطمہ اپنے باپ اور بھائیوں کے لئے یہ سب کر رہی ہیں تو میں بھی کر لوں گی وہ بھی تو میرے جیسی اور میری ہم عمرہی تھیں جب انہوں نے یہ شادی کی تھی۔ وہ بے حد نرمی سے بولی تھی، جبکہ زہرا نے ناگواری سے دیکھا تھا۔

اونہہ میں ہوتی تمہاری جگہ تو ہیں تو ایسا ہر گزنہ کرتی یہ بھی بھلا کوئی رسم ہے ؟ زہرا اپنے بڑوںاف تھی اور مزاج میں بھی خاصی تیز طرار تھی لیکن شہر بانو سب لڑکیوں میں سے خاصی کے خلا، ھیلی ڈھالی سی نرم فطرت کی لڑکی تھی کسی سے لڑنا جھگڑنا یا اپنے حق میں بولنا اسےخاموش  ہر گز نہیں آتا تھا ، وہ کسی بھی نا انصافی اور زیادتی پر بول ہی نہیں سکتی تھی، بڑوں کے سامنے تو بالکل بھی نہیں۔ اس کی نظر میں جیسا ہے ، جو بھی ہے بس اچھا ہے۔ وہ کبھی کسی چیز پہ اعتراض نہیں کرتی تھی ، کچھ لوگ اس کی اس فطرت کو اس کی ادا سمجھتے تھے لیکن بیچ تو یہ تھا کہ اس کی خوبصورتی ہی کا کچھ ایسی تھی کہ وہ جو بھی کہتی ، جو بھی کرتی وہ اس کی ادا بن جاتا تھا۔ شہر بانو انکار کر دو اس قسم کی شادی سے صرف کلے ہی تو پڑھنے ہیں اور پھر عمر بھر کے لئے ایک کو ٹھڑی میں بیٹھ جانا ہے۔

نہیں زہرا آپی میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتی۔

لیکن یار میں ہوتی تو ضرور سوچ سکتی تھی مجھ میں اور آپ میں فرق بھی نہ معراج حسین کی سب سے چھوٹی صاحبزادی

سیدہ شہر بانو ، جس کے ماتھے پر صدقے کی لکیر ہے اور آپ سید سراج حسین کی سب سے بڑی صاحبزادی سیدہ زہر ابتول ہیں جس کے ماتھے یہ شادی کی لکیر ہے اور یہی لکیر ہمیں ایک دوسرے سے مختلف بناتی ہے۔ وہ کافی سادگی۔ پہ شادی لکیر ہےاور بھی میں دوسرے سے بناتی وہ کافی سادگی سے بولی تھی۔

 لیکن شہر بانو ز ہرانے کچھ کہنا چاہا تھا۔

نہیں زہر ا آپی ایسا کچھ نہیں ہو سکتا، میں جانتی ہوں آپ میرے لئے اچھا سوچ رہی ہیں لیکن ساتھ میں یہ بھی تو ہے کہ میں اپنے باپ اور بھائیوں کے لئے اچھا سوچ رہی ہوں، میری ایسی زندگی بھلا کس کام کی جو میرے اپنوں  کام نہ آئے ، میں تو خوش قسمت ہوں جسے انہوں نےبننے کا اعزاز دیا ہے۔ “صدقہ شہر بانو نے نرم ملائم لہجے میں کہتے ہوئے زہرا کو سمجھانے کی کوشش کی تھی لیکن وہ سمجھنے والی نہیں تھی، اسی لئے اللہ نے اس کی مدد کے لئے مریم کو بھیج دیا تھا۔

کیا ہو رہا ہے بھٹی دونوں کزنز بڑے سنجیدہ موڈ میں لگ رہی ہو ؟ مریم نے مسکراتے ہوئے آکر شہر بانو کو کہنی ماری تھی۔ کچھ نہیں، بس ایسے ہی باتیں کر رہے تھے۔ اس نے بات کو ٹال دیا تھا، وہ ہر ایک کے سامنے اس شادی کے ذکر کو چھیڑ کر ان کےلگتا

سوالوں کا نشانہ نہیں بن سیتھی، بلکہ وہ وہ منہ طور پر اس ذکر سے بچنے کی کوش کرتی تھی۔ کوک لگے ہے اس حویلی میں اللہ نے ایک یہی معام کا مندروح بھیجی ہے، جو سب چاہتے ہیں وہی کرتی ہے۔ زہر انے شہر بانو کو دیکھ کر طنزیہ کہا اور اٹھ کھڑی ہوئی تھی، شہر بانو چپ کھڑی تھی۔ اونہہ پاگل ! وہ سر جھٹک کر چلی گئی تھی۔ وہ عشاء کی نماز پڑھ کر فارغ ہوا ہی تھا کہ بڑی اماں کا پیغام رساں آگیا۔

صاحب جی ! بڑی اماں نے آپ کو اپنے کمرے میں بلایا ہے۔ ملازمہ نے مودب سے لہجے میں پیغام دیا تھا، لیکن اسے اس پیغام سے کافی حیرانی ہوئی تھی۔

بھلا اس وقت آدھی رات کو ایسا کون سا ضروری کام آن پڑا تھا کہ انہوں نے اسے اپنے کمرے میں ٹھیک ہے میں ابھی آتا ہوں ! اس نے اپنی حیرت کنڑول کراتے ہوئے ملازمہ فوری طلب کیا تھا۔

کو جانے کا اشارہ کیا تھا اور پھر جائے نماز سمیٹ کر بیڈ سے اپنی گرم چادر اٹھا کے کندھوں پر ڈالتے ہوئے خود بھی باہر نکل آیا تھا۔ باہر پوری حویلی میں گہر اسناٹا چھایا ہوا تھا۔ راہداری اور بال کمرے کے تمام فانوس مجھے ہوئے تھے، البتہ نائٹ بلب ہر دیوار پر روشن تھے ، جن کی مدھم روشنی میں وہ مضبوط قدم اٹھانا سیٹرھیاں اتر آیا تھا۔ بڑی اماں کے کمرے کے ادھ کھلے دروازے سے ٹیوب لائٹ کی روشنی ایک لکیر کی سی صورت باہر تک آرہی تھی۔

اس نے دستک دے کر اجازت چاہی تھی۔ کیا میں اندر آسکتا ہوں؟

”آجاؤ میرے بیچے آجاؤ ، اپنی دادی سے اجازت کیسی ؟ بڑی اماں اپنے جہازی سائز بیڈ پہ گاؤ تکیےسے ٹیک لگائے تسبیح ہاتھ میں پکڑے نیم دراز بیٹھی تھیں، اس کی آواز سن کر اپنی کہنی کا سہارا لیتے ہوئے اٹھ بیٹھی تھیں۔اس نے اندر داخل ہوتے ہی تشویش کا اظہار کیا تھا۔ “السلام علیکم بڑی اماں آپ ٹھیک تو ہیں نا؟

ہاں پتر میں بالکل ٹھیک ہوں تم یہاں بیٹھو میرے پاس۔ انہوں نے کمبل ہٹا کر اس کے بیٹھنے کے لئے جگہ بنائی تھی۔ وہ سعادت من سر قریب ہی بیٹھ گیا تھا، مگر چونکا وہ اس وقت جب سےاس کی نظر دائیں دیوار سے لگے صوفے کی سمت اٹھی تھی، جہاں اس وقت اس کے ابا سائیں اور اماں سائیں براجمان تھے اور کافی متفکر نظر آرہے تھے۔

خیریت تو ہے بڑی اماں آپ لوگ اس طرح کیوں بیٹھے ہوئے ہیں، کوئی پریشانی ہے کیا ؟ اس نے گردن موڑ کر بڑی اماں کو دیکھا۔

’ہاں پتر سب خیر ہے تم پریشان نہ ہو ، یہ بتاؤ کیا کر رہے تھے ؟ کہیں نیند سے تو نہیں جگاد یار ضیہت پریشان نہ ہو ،

نے ؟ بڑی اماں نے پیار سے اس کےکندھے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا تھا۔ نہیں میں ابھی نماز پڑھ رہا تھا۔

اس وقت نماز ؟ باجماعت کیوں نہیں پڑھی؟ بڑی اماں نے استفسار کیا تھا۔ شہر سے واپس گاؤں آتے ہوئے دس بج گئے تھے راستے میں پتہ ہی نہیں چلا اس لئے مسجد نہیں جاسکا۔ اس نے وضاحت دی تو انہوں نے اثبات میں سر ہلایا تھا۔ کھانا کھا لیا تم نے؟ پری نہیں کیوں وہ اس سے چھوٹے چھوٹے سوال کر رہی تھیں، جیسے کچھ کہنے سے پہلے تمہید باندھ رہی ہوں۔ جی نماز پڑھنے سے پہلے کھاناہی کھایا تھا۔ اب اسے اندر ہی اندر الجھن سی ہونے لگی تھی کہ کیا مسئلہ ہے جو وہ لوگ رات کے اس پہر حل کرنے کے لئے بیٹھے ہوئے ہیں،اس نے ایک نے ایک وار نے والدین کی سمت دیکھا جو خود کی کشمکش کا شکار لگ رہے تھے۔ لتا ہے تم کچھ بڑی اماں نے اپنے بہو اور بیٹے کو دیکھتے ہوئے پوتے سے تقریباً چوتھا سوال کیا تھکے ہوئے ہو ؟

تھا، وہ خود کچھا بھی ہوئی لگ رہی تھیں۔ جیسے کچھ کہنے اور نہ کہنے کی کشمکش میں ڈول رہی ہوں۔ نہیں بڑی اماں ایسی کوئی بات نہیں جھکن بھلا کیسی ؟ آپ بتائیں، آپ نے شاید مجھے کسی کام سے بلا یا تھا؟ بالآخر اس نے خود ہی پوچھ لیا تھا، کیونکہ وہ تو ٹال مٹول ہی کرتی نظر آرہی تھی جیسے اسے بلا کر کچھ بتانے کا ارادہ بدل گیا ہو ۔

ہاں پتر بہت دنوں سے میں تم سے بات کرنا چاہ رہی تھی ، مگر کبھی تم دیر سے گھر آتے تھے اور کبھی شہر ہی رک جاتے تھے ، اسی لئے سوچا آج بات کر ہی لوں۔ بڑی اماں بات کرتے کرتے ایک بار پھر وقفہ لینے کے لئے رک گئیں، کیونکہ انہیں پتہ تھا کہ ان کا لاڈلہ، چیتا پوتا جتنا سعادت مند ، سمجھدار اور اچھا ہے اتنا ہی ضدی اور با اصول بھی ہے ، غلط بات تو برداشت ہی نہیں ہوتی تھی اور نہ ہی کسی کی حق تلفی ہوتے دیکھ سکتا تھا، چاہے وہ حق تلفی اس کے اپنے گھر میں اس کے ملازموں کے ساتھ ہور ہی ہوتی تھی وہ ان کے حق میں بھی بول اٹھتا تھا۔

جی کہیے بڑی اماں میں سن رہا ہوں۔ وہ ان کے سامنے سر جھکائے بیٹھا تھا۔

دیکھو بیٹا میں نے تمہارے پیدا ہونے سے پہلے ایک منت مانی تھی اور اب اس منت کو پورا کرنے کا وقت آگیا ہے لیکن یہ منت تب تک پوری نہیں ہو سکتی جب تک تم میر اساتھ نہ دو۔ اس لئے میں چاہ رہی تھی کہ پہلے تم کو بتادوں اور تم سے پوچھ لوں۔انہوں نے کچھ متنذ بذب سے انداز میں کہا تھا اور وہ اپنی سی بات پر حیران ہوا تھا۔

ارے بڑی میں بھلا ارے بڑی اماں آپ کی منت میں بھلا میں کیا کہوں گا؟ آپ پوری کر دیں اپنی سنت۔ وہ بہت ریلیکس انداز میں بولا تھا۔ نہیں بیٹا میری منت میں پوری نہیں کر سکتی ، میری منت تو تم نے پوری کرنی ہے۔ وہ آہستگی سے بول رہی تھیں اور ان کے چہرے پر کا چھائی پر یشانی اور عاجزی نے اسے ٹھٹکا دیا تھا۔ اب اسے احساس ہوا کہ کوئی گمبھیر مسئلہ ہے اور یہ پایانی راجا نے سے یا اس احساس ہوا لوگ مجھ سے کہہ نہیں پار ہے۔ ابا سائیں آپ بتائیں کیا مسئلہ ہے، کیسی منت پوری کروانی ہے بڑی اماں نے ؟ اس نے اپنے والد محترم زمان گردیزی کو استفہامیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا تھا۔ اور زمان گردیزی اپنی والدہ محترمہ کو دیکھتے ہوئے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔

ہارون بیٹا میں تمہیں ساری بات تفصیل سے بتاتا ہوں لیکن تمہارا کام ہے اسے غور سے سننااور گہرائی سے سمجھنا، کیونکہ اگر تم گہرائی میں جاکر نہیں روادای، اپنی ماں اور سے تمہارے پیدا ہونے سے پہلے تھے۔ انہوں نے گے تو پھر تم اپنی خاندان کے احساسات نہیں سمجھ۔

کمرے میں ٹہلتے ہوئے بات شروع کرنے سے پہلے ذراسی تمہید باندھی۔

”جی میں سن بھی رہا ہوں اور سمجھ بھی رہا ہوں آپ بات شروع کریں۔ اس نے انہیں تسلی دلائی۔

تمہارے دادا جان سلطان گردیزی کے صرف دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی، رحمان گردیزی، زمان گردیزی اور رابعہ گردیزی۔ تمہارے دادا جان سلطان گردیزی کی جاگیر داری اور سیاست کے میدان میں اپنی ایک ساتھ تھی ان کا اپنے گاؤں میں ہی نہیں بلکہ آس پاس کے علاقے میں بھی اچھا خاصاد بد بہ اور ایک نام تھا، وہ بہت بااصول، انصاف پسند اور نرم دل انسان تھے ، اپنی زندگی اور جاگیر داری سے بہت خوش اور مطمئن تھے۔ انہوں نے جدی پشتی حکمرانی کی بنا پر کبھی کوئی محرومی یا کی نہیں دیکھی تھی، یہی چیز ان کو مطمئن رکھتی تھی، لیکن ان کا یہ اطمینان اور خوشی اس وقت رخصت ہو گئے تھے جب انہوں نے اپنے دونوں بیٹوں کی شادیاں کی تھیں، لیکن شادیوں کے سات سال بعد بھی انہیں اپنی حویلی میں کسی بچے کی آواز سنائی نہیں دی تھی۔ دونوں بیٹے اولادا کے لئے ترس رہے تھے ، رحمان گردیزی کے ہاں تو سات سال سے کوئی بچہ ہو ہی نہیں تھا، جبکہ زمان گردیزی کے ہاں دو بچے پیدا ہوئے تھے لیکن وہ چار ، پانچ دن سے زیادہ زندہ نہیں رہ پائے تھے اور بچوں کی پیدائش کے چار ، پانچ دن بعد کا یہ صدمہ پوری حویلی کو توڑ کے رکھ دیتا تھا۔

سلطان گردیزی اور بڑی اماں (دادی) کے دلوں میں پوتے پوتی کی خواہش کسی روگ کی طرح چمٹی ہوئی تھی جو ان کو اندر ہی اندر تر سارہا تھا، لاشعوری طور پر حویلی کے ہر فرد کو بچے کی خواہش نے گھیر رکھا تھا۔ رحمان گردیزی اور ان کی بیوی بھی بچے کی آواز کو ترست سلطان رہے

گردیزی اور بڑی اماں کو بھی ایک وارث کی شدید خواہش تھی ارمان تھا، اور زمان گردیزی بھی اپنے ہونے والے بچوں کے لیے زندگی کی دعامانگتے تھے، اور یہ دعاؤں کا ہی اثر تھا کہ اللہ نے ایک بار پھر امید کی کرن دکھا دی اور کبھی اپنی اپنی جگہ منتیں اور مراکو میں ماننے لگے تھے کہ اللہ ہمارے ہونے والے بچے کوزندگی دے اور ہماری دعائیں قبول فرمائے ۔

سلطان گردیزی نے اپنی چھوٹی بہو کی پریکٹینسی کی خبر سنتے ہی صدقہ اور خیرات دینا شروع کر دیاپردیناشروع تھا کئی پیروں فقیروں کے پاس گئے، کئی دیگیں چڑھائی تھیں اور کتنے ہی نوافل پڑھ ڈالے تھے ،

اسی طرح بڑی اماں بھی کبھی کسی ملنگ سے دعا کروانے چلی جاتیں کبھی کسی مزار پر دھاگے سے گرا کرتے ایک روز وہ اپنے مرشد سائیں پیر فرید حسین کے پاس جا باندھ آئیں اور یہی سب شریف فرما پہنچیں جو اپنے باپ، دادا کے سجا نشین تھے اور مزار کے ساتھ بنے ہوتے تھے ، جہاں وہ اپنے مریدوں کے دکھ ، پریشانیاں اور مسئلے مسائل سنتے تھے اور ان کا حل

بتاتے تھے ، ان کے لئے دعا کرتے تھے اور ضرورت پڑنے پر تعویذ وغیرہ بھی لکھ دیتے تھے، بڑی اماں اتنے لوگوں کے رش میں اپنی باری کا انتظار کرتی رہیں اور جب باری آئی تب شام ہو چکی تھی،

بڑی اماں نے کچھ کہنے کے لئے اپنی مشکل اپنا کھ بتانے کے لئے لب کھولے ہی تھے کہ انہوں نے ہاتھ اٹھا کر روک دیا تھا۔

بی بی تمہیں ایک وارث چاہئے جو تمہاری نسل کو آگے بڑھا سکے اور تمہارے خاندان کا نام سلامت رکھے۔ انہوں نے بڑی اماں کے دل کی بات کہہ ڈالی تھی اور بڑی اماں کا عقید ہبل میں پختہ ہو گیا تھا، وہ ان کے سامنے شدت سے روپڑی تھیں۔

مرشد سائیں میری جھولی بھر دو، میری مراد اللہ سے پوری کر دو، میں آپ کی تو کر آپ کی غلام پر فرید “ بن جاؤں گی، آپ جو کہیں گے وہی کروں گی، آپ جو کہو گے وہی چڑھاوا دوں گی۔

حسین کی نظریں جھکی ہوئی تھیں لیکن اس کے باوجود وہ مسکرائے تھے ان کے پر شفقت نورانی چہرے پر عجیب سا تاثر تھا، کیونکہ انہیں پتہ تھا کہ کبھی کبھی چڑھاوا دیا اور منتیں مرادیں پوری کرنا ہمارے خاندان میں ؟ کس کے ساتھ مرشد سائیں ؟ بڑی اماں کو حیرت ہوئی تھی۔

تمہارے ہونے والے پوتے کے ساتھ ، اور تم یہ منت مان چکی ہو تم یہ چڑھا واضر ور دو گی، ہمارے بڑے بیٹے کی صاحبزادی کا نکاح تمہارے پوتے سے ہو گا، ہاں ایک بات اور بتادیں کہ تمہارا ہوتا کبھی ہماری صاحبزادی کو طلاق نہیں دے گا اور نہ ہی کبھی اس پر اپنا حق جتائے گا نہ شادی کے دن ، نہ باقی ساری زندگی ، البتہ وہ جہاں چاہے اپنی دوسری شادی کر سکتا ہے ، ہماری طرف سے کوئی پابندی یار کاوٹ نہیں ہوگی، بس تمہار اچڑھاوا یہی ہو گا کہ ہماری بیٹی ہماری عزت تمہارے پوتے سے منسوب رہے گی اور وہ بڑی ساری زندگی آپ لوگوں سے کچھ طلب نہیں کیا جائیگا۔

اماں کو اس رسم کو ہر اونچی پہنچ سے آگاہ کر رہے تھے ، بڑی اماں جو متفکر سی لگ رہی تھیں ان کی باتوں سے کچھ پر سکون کی ہو گئی تھیں۔

دو لیکن مرشد سائیں یہ رسم ، یہ منت کب پوری کرنی ہو گی ؟ وہ آہستگی سے بولیں۔

”جب ہمارے بچے جوان ہو جائیں گے ، ابھی تو نہ تمہار اپوتا پیدا ہوا ہے اور نہ ہمارے بیٹے کی صاحبزادی، لیکن ہماری اس رسم میں یہ رشتہ پیدا ہونے سے پہلے ہی طے کیا جاتا ہے جو آج ہم نےکر دیا ہے ، بس دعائے خیر کرنی ہے۔ انہوں نے ہاتھ اٹھا کر دعا کی اور بڑی اماں واپس کتنا مشکل ہو جاتا ہے۔ نیک بی بی سوچ لو ایک بار انہوں نے بڑی اماں کو سوچنے کی مہلت دی مگر وہ

مہلت لینے پر راضی نہیں تھیں۔

بڑی اماں آپ جو بھی کہہ دیں گے میرے لئے وہ پتھر پہ لکیر ہو گا، آپ سے منکر نہیں ہو سکتی۔ نے فیصلہ کر لیا تھا۔سب نیک بی بی ہمارے خاندان میں صدیوں سے یہ رسم چلی آرہی ہے کہ ہر لڑی (ہر نسل میں سے بڑا بیٹا سجادہ نشین ہوتا ہے اور اس سجادہ نشین کی بیٹی کو صدقہ کیا جاتا ہے، اس کے باپ اور بھائیوں کا صدقہ ، یعنی اس کا نکاح کر کے ایک دن کے لئے دلہن بنا کر رخصت کیا جاتا ہے اور پھر شادی کے دوسرے روز ہی اسے واپس گھر لے آتے ہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ، پھر وہ بیٹی تمام عمر عبادت میں گزار دیتی ہے، دنیاوی کاموں سے دور ہٹ جاتی ہے اور دینوی کاموں کو اپنا لیتی ہے،

اس کے شوہر کا، اس کے باپ دادا اور بہن، بھائیوں کا اس پر کوئی حق اور اختیار نہیں رہتا، وہ بس اللہ کی راہ پر لگ جاتی ہے، کیونکہ وہ صدقہ کر دی جاتی ہے۔ ہماری لڑی میں ہماری بیٹی صدقہ کی گئی

تھی جو آج تک عبادت میں وقت گزار رہی ہے اور اب ہمارے بیٹوں میں سے معراج حسین کی بیٹی صدقہ کی جائے گی جس کا نکاح تمہارے خاندان میں ہو گا اور نکاح کے دوسرے روز ہی ہماری انہوں نے تفصیل سے بتایا تھا۔ بیٹی ہمارے گھر آجائے گی۔

گھر آئیں۔ اور پھر اس منت کے بعد تم پیدا ہوئے اور تمہارے پیدا ہونے کے بعد لالہ سائیں(رحمان گردیزی) کے ہاں بھی دو بیٹیاں پیدا ہوئی تھیں، تم جان سکتے ہو کہ اس کے بعد بڑی اماں کا یا پھر ہمارے خاندان کا مر شد سائیں پہ کتنا پکا عقیدہ ہو چکا ہو گا اور وہ منت پوری کرنا بھی ہمارے لئے لازم ہو گیا تھا لیکن ان کے بیٹے سید معراج حسین کے تین صاحبزادے تھے اس لئے آٹھ سال تک یہ رسم ڈانواڈول سی رہی تھی ، مگر جب تم آٹھ سال کے ہوئے تو ان کے ہاں صاحبزادی کی پیدائش ہوئی اور تمہارے لئے مانی جانے والی منت کی ہو گئی تھی۔ لہزار سم کے مطابق سید معراج حسین اور پیر فرید حسین چاہتے تھے کہ شادی تب ہو جب لڑکی میں سال کی ہو جائے تو بیٹا تمہیں اس لئے بلایا ہے کہ تم ہماری اور اپنی بڑی اماں کی مجبوری سمجھ سکو، کیونکہ وہ لوگ چند دنوں زمان گردیزی نے تفصیل سے ساری یک نکاح کرنا چاہتے ہیں، وہ بھی صرف ایک دن کے لئے بات بتانے کے بعد پلٹ کر ہارون کو دیکھا۔ جو ان کی تفصیلی بات سننے کے بعد ششد رسا بیٹھا تھا،

اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کہ ان سب سے۔ ہارون ہم تم سے کچھ پوچھ رہے ہیں بیٹا ؟ انہوں نے دوبارہ اسے متوجہ کیا تھا، بڑی اماں متفکری بیٹھی تسبیح کے دانے گرار ہی تھیں اور دعامانگ رہی تھیں کہ ان کا یوتا ان کی لاج رکھ لے۔ کفر کی ہارون، زمان گردیزی نے قریب آکر اس کےتھی پستانزمان گردیزی نے قریب آکر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا اور یکدم اس شاک سے باہر آیا تھا۔

ایم سوری ابا سائیں میں آپ کی ایسی کوئی منت نہیں پوری کر سکتا، میں یہ نکاح نہیں کروں گا، مں یہ نکاح نہیں کروں گا، ایک

لڑکی کو اپنی عزت ، اپنی غیرت بنانے کے بعد اسے آزاد نہیں چھوڑ سکتا؟ وہ اپنی جگہ سے کھڑا ہو گیا تھا۔ اس کا انداز دوٹوک تھا۔ بے لچک اور بے مروت۔؟

یہ کیا کہ رہو بیٹا؟ اشکال کتاب گم کی پیشکش میں ٹھیک کہہ رہا ہوں آپ لوگ انہیں انکار کر دیں، وہ اس کام کے لئے کسی اور کو ڈھونڈ لیں میری طرف سے انکار ہے۔ وہ کہتے ہوئے کمرے سے نکل گیا تھا، بڑی اماں کا بوڑھا چہرہ پریشانی سے پیلا پڑ گیا تھا، زمان گردیزی اور ان کی بیوی بھی چپ رہ گئے تھے۔

صبح ہوتے ہی وہ شہر کے لئے روانہ ہو گیا تھا اور زمان گردیزی اس سے دوبارہ بات کرنے کا سوچتے رو گئے تھے۔ ہارون سے بات کی آپ لوگوں نے ؟ کیا کہتا ہے وہ؟ صبح ناشتے کی میز پہ لالہ سائیں نے پہلا سوال یہی کیا تھا۔

ہاں کی تھی لیکن وہ مانے کو تیار نہیں ہے۔ وہ بیٹے کی ضد کو جانتے تھے تبھی آہستگی سے بولے تھے۔ کی تھی لیکن جانے تیارنہیں آہستگی بولے اماں سائیں کیا کہتی ہیں ؟ انہوں نے دوسری پارٹی کا پوچھا، لہجہ کچھ متبسم تھا، شاید انہیں پہلے سے ہی پتہ تھا کہ ہارون نہیں مانے گا۔ وہ رات سے بہت پریشان ہیں اپنے آپ کو بُرا بھلا کہ رہی ہیں،

اپنے مرنے کی دعائیں کر رہی ہیں کہ وہ اپنے مرشد سائیں کو کیا منہ دکھائیں گی ؟ زمان گردیزی یوں بات کر رہے تھے جیسے بڑی اماں کے وہی مجرم ہوںتھے ہمیں تو ہارون کے بچپن سے ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ یہ شادی نہیں کرے گا۔

اولاد کے طور طریقے اور تیور دیکھ کر ہی اس کے مزاج کا پتہ چل جاتا ہے زمان گردیزی۔ بیٹا تو وہ تمہارا ہے لیکن سمجھتے اسے ہم ہیں۔ تم فکر نہ کر وہ مان جائے گا ہم اسے سمجھائیں گے ۔ انہوں نے اطمینان سے چائے کا کپ اٹھاتے ہوئے تسلی دی تھی۔ مجھے بس اماں سائیں کی طرف سے فکر ہو ، رہی تھی۔ کہ وہ کیا سوچ رہی ہوں گی۔ یہ منت بھی تو انہوں نے ہمارے لئے ہی مانی تھی نا۔

ارے ٹھیک ہے بس تم پریشان نہ ہو اماں سائیں کو بھی تسلی دو اور مرشد شادی کے لئے تیار ہیں اور وہ دن بتادیں

تا کہ ہم دلہن کے لئے کچھ سامان خرید لیں۔

” مگر لالہ سائیں؟لبس زمان گردیزی ہم نے کر دیا سارون کو ہم سنبھال لیے اگر تواند فراخ گے۔ وہ کندھا تھپک کر وہاں سے

مزارعوں کے ساتھ آج زمینوں پہ جانا تھا، جہاں منجھی (چاول کی فصل ) ہونے کا کام ہو رہا تھا،

زمان گردیزی لالہ سائیں کو دیکھتے رہ گئے اور یہ بیچ تھا کہ دونوں تایا بھیجے میں کافی انڈرسٹینڈنگ تھی، دونوں کے خیالات ملتے تھے اور دونوں کی گپ شپ ہمیشہ دوستوں کی طرح ہوتی تھی۔ کھر ملتے اور کی کی پیشکش کیا ہم اندر آ سکتے ہیں ؟ رحمان گردیزی نے اس کے آفس روم کے دروازے پر دستک دے کر اجازت طلب کی تھی اور ہارون گردیزی اس وقت ایک بہت اہم فائل پر کافی مصروف سے انداز میں کام کر رہا تھا، ان کی آواز سن چچا سائیں اندر آئیں، آپ وہاں کیوں کھڑے ہیں ؟ پلیز کر یکدم احترام سے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔

وہ اپنی فائل چھوڑ کر سیٹ سے اٹھ آیا تھا اور قریب “ مجھے شرمندہ نہ کریں۔ آکر رحمان گردیزی کو آگے بڑھنے کو کہا۔رشتے اور عمر کے لحاظ سے وہ اس کے تایا اتا تھے لیکن وہ ہمیشہ سے ان کو چا سائیں کہہ کے بلاتا تھا۔

بیٹھئے چا سائیں آج مجھ سے ملنے کا خیال کیسے آگیا؟ وہ صوفے کی سمت اشارہ کرتے ہوئے کافی دلچپسی سے پوچھ رہا تھا۔ ہارون گردیزی نہ تم معصوم بچے ہو اور نہ ہم ۔ ایک ماہ سے گھر پہ تمہارا انتظار کر رہے ہیں، مگر تم روز آج اور کل پہ ٹالے جارہے تھے ، ہم نے توآخر آناہی تھا، کیونکہ تم سے کام ہمیں تھا، تمہیں تو نہیں۔ وہ ہارون پر چوٹ کرتے ہوئے بولے تھے ، وہ سچ مچ شر مندہ ہو کے رہ گیا تھا۔ ایم سوری چاسائیں ایسی تو کوئی بات نہیں تھی ، دراصل یہاں کام ہی کچھ اتنازیادہ تھا کہ گاؤں جانے کا ٹائم ہی نہیں ملا، انشاء اللہ چار   ،پانچ روز تک چکر لگاؤں گا۔ اس نے وضاحت پیش کی تھی۔

ا تمہیں چکر لگانے کی کیا ضرورت ہے ؟ اب ہم جو یہاں آگئے ہیں۔ وہ چپی سے بولے تھے۔ یہ بھی ٹھیک کہہ رہے ہیں آپ اور سنائیں بڑی اماں اور باقی سب کیسے ہیں ؟ رابعہ پھوپھو سے اس نے سب کی ملاقات ہوئی آپ کی ؟

خیریت پوچھی، حالانکہ روز حویلی فون کر کے گاؤں کی خیر خبر لیتارہا تھا۔

سب سے ملاقات ہو جائے گی پہلے تم سے تو ہو جائے اور بڑی اماں کا تو تمہیں پتہ ہے انہیں آج کل کیا روگ لگا ہوا

بہت ریلیکس انداز میں کہہ جاتے تھے اور بہت ہی نرمی سے بات منوا بھی لیتے تھے اور انہیں اپنا یہ ور جهان گردیزی کی یہ بہت اچھی عادت تھی کہ وہ بڑی سے بڑی بات بھی اکلوتا بھتیجا اپنے بیٹے کی طرح عزیز تھا، وہ اسے ایک باپ کی طرح ہی چاہتے تھے۔ ہارون بڑی اماں کے متعلق سن کر چپ ساہو گیا تھا، کیونکہ وہ ان کے لئے کچھ نہیں کر سکتا تھا، ان کی منت بہت

کڑی منت تھی۔

کیا سوچ رہے ہو تم ؟

کچھ نہیں چھا سائیں۔ کافی کچھ تو سوچا ہے تم نے ؟

ہاں، مگر جو میں نے سوچا ہے وہ میں بیان نہیں کر سکتا۔ اس نے اعتراف کیا تھا۔ تم پیر فرید حسین وہ نے تھا۔ تم پیر کی اس رسم کے تاریک پہلو پر غور کر رہے ہو ، اسے روشن کرنے کا سوچ رہے ہو تو بیان کیوں نہیں رحمان “کر سکتے ؟

گردیزی کی بات پہ ہارون کے یکدم کرنٹ کھا کے ان کی سمت دیکھا تھا، ان کا چہرہ وہی کچھ بیان کر رہا تھا جو ہارون دل میں سوچ رہا تھا۔

چا سائیں آپ بھی وہی سوچتے ہیں جو میں ؟ وہ بے یقین سا ہونے لگا تھا۔ کفر کی پیشکش تم باقی سب چھوڑو یہ بتاؤ کہ اپنی بڑی اماں کی منت پوری کرو گے یا نہیں ؟ ہم آج اسی لئے آئے ہیں ، آج تمہیں فیصلہ کرنا ہو گا۔ وہ اپنے تاثرات غائب کرتے ہوئے گویا ہوئے تھے۔ ہارون نے پانچ منٹ سوچاہر پہلو پر اک بار پھر غور کیا اور پھر رضامندی دے دی تھی۔

ٹھیک ہے میں اس شادی کے لئے تیار ہوں، آپ جو کہیں گے میں وہی کروں گا اور جو میں کہوں گا اگےمیں وی کروں گا ور جو میں اس نے ہامی “ وہ آپ کو بھی کرنا ہو گا۔

بھر لی اور رحمان گردیزی مسکرا دیئے تھے۔

بانو ، وہ یہ آج شہر بانو کی مہندی اور تیل کی رسم تھی ، وہ لوگ یہ ایک دن کی شادی بھی تمام رسموں اور پورے اہتمام کے ساتھ کرتے تھے اپنے طور پر وہ بیٹی کا ہر حق ادا کر تے تھے ، بالکل اسی طرح جس طرح قربانی کے جانور کا حق ادا کیا جاتا تھا اور پھر قربانی کے دن دھوم دھام سے اسے ذبح کر کے قربان کر دیا جاتا تھا اور آج اس قربانی کے لئے شہر بانو کو تیار کیا جارہا تھا، بس فرق یہ تھا کہ وہ جانوروں کی قربانی ہوتی تھی وہ بھی اللہ کی راہ میں اور اللہ کی رضا یہ ہوتی تھی، جبکہ یہ انسانوں کی

تان کبھی صرف بیٹیوں کی جو باپ اور بھائی کے لئے قربانی ہو جاتی تھیں ، ہر نسل میں ایک بیٹی اس رسم کی بھینٹ چڑھا دی جاتی تھی اور اب باری شہر بانو کی تھی جو تین بھائیوں سے چھوٹی اور اکلوتی بہن تھی لیکن پھر بھی اس کی ماں اسے اس رسم سے نہیں بچاسکتی تھی، کیونکہ صدیوں سے اور کئی نسلوں سے چلی آنے والی یہ رسم تو آخر نبھانا ہی تھی ، حالانکہ ان کا اپنی نازک کا پھولوں کی بیٹی کے لئے بہت دل تڑپتا تھا کہ وہ جیتے جی دنیا سے کٹ کے رہ جائے گی ! یہی سوچیں اور یہی دیکھ آج کل ان کو نڈھال کے رکھتا تھا وہ بہت چپ چپ کی رہتی تھیں۔ تائی اماں آپ یہاں بیٹھی ہیں ؟ چلیں آپ کو سب نیچے بلا رہے ہیں، شہر بانو کو مہندی لگنے والی ہے۔  

 ” مریم نے ان کے کمرے میں آتے ہی پیغام دیا تھا۔ لیکن وہ اسی طرح بیٹھی رہیں۔ تائی اماں چلیں ناسب کو دیر ہو رہی ہے۔ مریم نے مزید کہتے ہوئے ان کا ہاتھ بھی پکڑ لیا تھا اور وہ گم سم افسردہ ی اٹھ کر اس کے ساتھ آگئیں جہاں نازک، گداز سرخ گلابوں کی شہر بانو زر و لباس میں اپنی تمام تر پاکیزگی اور سادگی کے ساتھ چہرہ جھکائے بیٹھی تھی اور کبھی اس کی ماں کےانتظار میں بیٹھے تھے ، کیونکہ بیٹی کو تیل اور مہندی لگانے کا آغاز انہوں نے ہی کرنا تھا۔

ٹائم ہو رہا ہے۔ ان کی دیورانی سید بیوی نے انہیں آگے بڑھنے کا کہا لیکن ان کے دل کے ایسے بھر جائی شہر بانو کو مہندیم عمر بس چلتا تب نا! انہوں نے آگے بڑھ رہی تھی، کوئی کیسے جان سکتا ان کا بس چلتا تو وہ یہ رسم ہمیشہ ہمیشہ کے کر کے کھڑے کھڑے بیٹی کو مہندی اور تیل لگایا اور پلٹ کر واپس چلی گئیں۔ بعد میں کیا کچھ ہوتارہا انہیں کوئی خبر نہیں تھی، وہ سر درد کا کہہ کر اپنے کمرے میں بند ہو گئیں۔ شہر باتو تمہیں کوئی دکھ تونہیں اندر سے ؟ کیا اس رسم پہ اداس ہو ؟ مومنہ پھوپھو کی بیٹی فروانے کافی سنجیدگی سے سوال کیا فروابی بی ہماری شهر با تو تو اللہ کی گائے ہے اسے بھلا کوئی دکھ یا اداسی کیوں ہونے لگی ؟ وہ سب کی خوشی میں خوش رہتی ہے ، ہاں دکھ یا اداسی تو ہمیں ہوئی تھی، اگر اس کی بجائے ہمارا نکاح ہو رہا ہوتا۔ صرف نام نہاد نکاح۔ زہر انے جلتے ہوئے طنز کیا تھا۔ اسے شہر بانو کی چپ رہنے کی عادت پر کافی غصہ آتا تھا، وہ چاہتی تھی کہ شہر بانو اپنے حق میں آواز اٹھائے ، وہ ان پڑھ لڑکیوں کی طرح اس فرسودہ رسم کی بھینٹ نہ چڑھے، مگر شہر بانو اس قسم کی گستاخی یا سر کشی کی مرتکب نہیں ہو سکتی تھی، اس نے کبھی بھی زہرا کی گفتگو کو دل پر نہیں لیا تھا۔ “کاش کہ یہ صدقہ کی رسم تم پر آئی ہوتی

!” مریم نے زہرا کو چھیڑ ا تھا۔ قسم سے یار میں بھی یہی سوچتی ہوں کہ کاش شہر بانو کی جگہ میں ہوتی اور پھر سب کو بتائی کہ ایک انسان کو صدقہ کیسے کیا جاتا ہے ؟ اونہ عقل ٹھکانے لگادیتی سوکی ! ز ہرانے بے بسی سے مٹھی بھینچ کر کہا تھا اور اس کے انداز پہ سب ہنس پڑی تھیں، لیکن شہر بانو ابھی بھی خاموش بیٹھی تھی، حالانکہ اس کی بڑی پھوپھو کی بیٹیاں فروا، اور اقراء اس کے ہاتھوں پر مہندی لگانے اور مذاق کرنے میں مشغول تھیں، پھر بھی اس کا دھیان نہ جانے کہاں سے کہاں

– پہنچا ہوا تھا۔

فروا یہاں پھیلی پر شہر بانو کے شوہر کا نام بھی لکھ دو۔ زہرا نے پھر مداخلت کی۔

کیا نام ہے ان کا ؟ فروانے پوچھا۔ “

بارون گردیزی شہر بانو نے یکدم فردا کے ہاتھ سے اپنی تھیلی کھینچ لی تھی ، مبادا وہ سچ سچ ہی اس کا نام نہ لکھ ڈالے۔ ہاتھ کیوں کھینچ لیا شہر بانو ؟ اس کا نام لکھنے کا کہا ہے نا جس کے نام تم اپنی پوری زندگی تنگش پلیز آپی مجھے ڈسٹرب نہ کریں میرے ساتھ جو ہو رہا ہے ہونے دیں،اگر لکھنے جارہی ہو ؟

ہمارے ساتھ اچھا نہیں کیا جارہا تو اس کا خیال ہمارے ماں ، باپ اور بڑوں کو کرنا چاہئے ہمیں نہیں، کیونکہ جن کو بن کہے کوئی احساس نہیں ہوتا انہیں ہمارے کہنے پہ بھی کوئی احساس نہیں ہو گا، مجھے میرے بابا اور بھائیوں نے ہمیشہ بہت پیار دیا ہے لاڈلہ بنا کے رکھا ہے میری ہر چیز کا خیال رکھتے ہیں تو آج اگر میں ان کے لئے قربان ہو جاؤں گی تو کوئی نقصان کی بات نہیں ہو گی، بلکہ میرے تو پر لئے تو فخر ہے کہ میں اپنے بھائیوں اور بابا کا صدقہ بن رہی ہوں ان کے نام پر سے وار کی جارہی ہوں اتنی چاہتوں کے بدلے یہ کام تو کوئی معنی نہیں رکھتا۔ اس نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا اور زہرا کو سمجھانا چاہا تھا جو ہمیشہ ہی شہر بانو کی بات نہیں سمجھتی تھی۔ اور پھر نکاح کا دن بھی آگیا۔ شادی کا جوڑا پورے اہتمام کے ساتھ اس کے سرال سے آیا تھا بڑی اماں نے بہووں سے کہہ کر ہر چیز بہت شوق اور بڑے چاؤ کے ساتھ خریدی تھی اپنی طرف سے ہر شگن پورا کیا تھا، رابعہ گردیزی بھی اپنے شوہر تھا،رابعہ اور اپنے بچوں کے ساتھ شریک ہوئی تھیں اور حویلی کے کبھی افراد اس رسم میں شامل ہونے جارہے تھے۔ سید معراج حسین کی طرف سے بہت سے لوگ اس شادی میں شریک ہوئے تھے اور سبھی لوگ اس شادی کی نوعیت کو جانتے تھے کہ یہ ایک رسم کی تحت ہو رہی ہے ، اس لئے ماحول بھی کچھ رسمی رسمی سا تھا۔ ہارون نے بس اپنے چند ایک جاننے والوں کو اور دو، تین دوستوں کو ہی انوائیٹ کیا ہوا تھا، مغرب کے بعد ان کانکاح ہوا، پھر کھانا وغیرہ }

کو ہی بعد کا کھا یا گیا اور ایک دور سم ادا کی گئی تھیں تب جاکر رخصتی کا وقت آیا۔ باقی سب تو شہر بانو کے گلے لگ کے بہت نارمل سے انداز میں ملی تھیں کہ کل صبح شہر بانو نے دوبارہ گھر جو آجاتا ہے، لیکن شہر بانو کی ماں، بیٹی کو گلے لگا کر بہت شد مجھے کیونکہ انہی کو تو احساس تھا کہ ان کی بیٹی قربان ہو گئی ہے بے شک اس نے کل صحیح سلامت واپس گھر آجانا تھا لیکن ساتھ یہ دکھ بھی تو تھا کہ وہ پوری دنیا سے کٹ جائے گی۔ ہارون کی بڑی اماں نے آگے بڑھ کر ان کو الگ کیا اور بہوؤں کو اشارہ کیا کہ وہ شہر بانو کو گاڑی میں بٹھائیں۔

گاڑی میں بٹھائی مرشد سائیں ہمیں اب اجازت دیں۔ بڑی اماں نے احترام سے کہا، البتہ ان کے لیجے میں بے پناہ

خوشی تھی کہ انہوں نے اپنی منت پوری کر لی ہے۔

اجازت ہے بڑی اماں ہماری امانت آپ کے حوالے ہے۔ سید معراج بھی جو اہا کافی ادب سے بولے تھے اور ان کی بات پہ ہارون نہ جانے کیوں نظریں پھیر کر دوسری سمت دیکھنے لگا جہاں اس وقت تمام سید زادیاں کھڑی اپنی لاڈلی صاحبزادی کی رخصتی کا منظر دیکھ رہی تھیں زہرا، مریم ، فروااور سکینہ وغیر ہ نے ہارون گردیزی کو دیکھتے ہی اس کی شاندار پر سنالٹی کو خوب سراہا تھا، بلیک تھری ہیں سوٹ میں ملبوس اپنے چچا سائیں کے ہمراہ کھڑا اس وقت نہ جانے کیا بات کر رہا تھا، وہ بھی اسے دیکھتی رہ گئیں، یہاں تک کہ ماں جی نے بھی اپنے داماد کو دل ہی دل میں بے حد سر رہا تھا مگر حد سر رہاتھا کیا فائدہ اس سب کا ؟ تھوڑی دیر بعد واپنی بلیک مرسیڈیز میں بیٹھا اور دلہن کے ساتھ روانہ ہو گیا

تھا۔ ہارون یہ کہاں جارہے ہو تم ؟” وہ اپنے کوٹ کے بٹن کھول کر اسے باز و پر ڈالتاسیڑھیاں چڑھ رہا تھا، جب زمینی آپا کی آواز نے اچانک اس کے قدم روک دیے تھے ، اس نے سیڑھیوں پر کھڑے کھڑے گردن موڑ کر ڈرائنگ روم کے وسط میں کھڑی زینی آپا کو تعجب بھری نظروں سے دیکھا تھا۔

اپنے بیڈ روم میں اور کہاں؟ اس نے کافی لا پروائی سے جواب دیا تھا۔ “کیا؟ بیڈ روم میں ؟ مگر تم “

بھلا بیڈ روم میں کیسے جا سکتے ہو ؟ وہاں تو ۔ وہ کہتے کہتے یکدم خاموش سی ہو گئیں اور گھبراہٹ ان کے پورےچہرے سے جھلکنے لگی تھی، کیونکہ انہیں احساس ہو چکا تھا کہ وہ شہر بانو کو ہارون کے بیڈ روم میں بٹھاسے جھکنے لگی چکا تھاکہ بانو کر کتنی بڑی اور کتنی سنگین غلطی کر چکی ہیں۔ وہاں کون ہے ؟ وہ جان بوجھ کر انجان بنا تھا۔

وہ وہ شہر بانو ! زینی آپا کو کچھ مجھے نہیں آرہا تھا کہ وہ ہارون کو کیسے ہینڈل کریں۔

اس نے پھر سوال کیا تھا۔ وہ جس کے ساتھ آج تمہاری شادی ہوئی ہے۔ زینی آیا گون شہر بانو ؟

کو مجبوراً کہنا ہی پڑا تھا کیونکہ اور کوئی جواب بھی تو نہیں تھا اور انہیں کیا پتہ تھا کہ وہ جان بوجھ کر انجان بن رہا ہے۔ جس کے ساتھ آج میری شادی ہوئی ہے ، پھر وہ تو میری بیوی ہوئی نام میری منکوحہ ! اس لحاظ سے میرا اپنے بیڈ روم میں جانا کوئی غلط بات تو نہیں ہے ، آپ کیوں اتنی پریشان ہو رہی ہیں ؟ وہ پلٹ کر سیڑھیاں اتر آیا تھا۔

عجیب بات ہے زینی آیا؟ گھر میرا ہے ، بیڈ ، لیکن بارون تم نہیں جا سکتے اس کا اختیار نہیں ہے۔

روم میرا ہے، بیوی میری ہے اور مجھے ہی اختیار نہیں ہے ؟ یہ بھلا کس کتاب میں لکھا ہے ؟ اس نے کافی خنگی اور حیرانی کا اظہار کیا تھا۔ تم رسم ادا یہ ہارون تم جانتے تو ہو یہ شادی ایک رسم ادا کرنے کے لئے ہوئی ہے ، یہ ویسار شتہ نہیں ہے جیسا تم سمجھ رہے ہو، تمہارا شہر بانو پہ کوئی حق جھیں مجھ نہ بانو نہیں ہے ، وہ اپنے باپ دادا کی رسم کے مطابق صدقہ کی گئی ہے۔ زینی آپا کے لئے بہت مشکل ہو لئے بہت مشکل ہو رہا تھا ہارون کو سمجھانا، کیونکہ وہ ان کی ہر بات ہر جواز میں نقص نکال رہا تھا اور اپنی دلیلیں دے رہا تھا۔

ایک انسان کی قربانی، ایک انسانی صدقہ تو اللہ تعالی نے بھی نہیں لیا جو بڑی اماں کے مرشد سائیں لے رہے ہیں، اگر ایسا ممکن ہوتا تو سب سے پہلے انسان کی قربانی کی صورت میں حضرت اسماعیل علیہ السلام قربان ہوتے اور پھر ہر سال ہر انسان کو اپنے پیارے اللہ کی راہ میں قربان کر نا پڑتے ، کچھ سوچیے زینی آپا پیر فرید حسین کی خاندان میں یہ رسم نہیں ظلم ہو رہا ہے اور میں یہ ظلم نہیں ہونے دوں گا میں نے یہ شادی اسی لئے کی ہے کہ ان کی اس رسم کو مٹایا جاسکے ، سو پلیز ہیلپ می، وہ نرمی سے کہتازینی آپا کا کندھا میں اپنے بیڈ روم میں جارہا ہوں، گڈ نائٹ کل ملاقات ہو گی۔تھپک کر سیڑھیاں چڑھ گیا تھا لیکن زینی آپا کا دل نہیں مان رہا تھا، انہوں نے جا کر بڑی اماں اور ج سائیں زمان گردیزی کے سروں پر بم پھوڑ دیاتھا، بڑی اماں نے تو دوہتر سے اپنا سینہ پیٹ لیا تھا، جبکہ زمان گردیزی اور ان کی بیوی اپنی اپنی جگہ پر ساکت سے ہو گئے تھے کہ اب کیا ہو گا ؟ البتہ رحمان گردیزی نے ذرا کم ہی نوٹس لیا تھا۔

ہارون گردیزی کی تا یازاد بہن زینی آپا سے تقریبا ایک گھنٹہ پہلے اس بیڈ روم میں چھوڑ کر گئی تھیں لیکن اسے نہیں پتہ تھا کہ یہ بیڈ روم کس کا ہے ، اسی لئے اس بیڈ روم کو تھوڑی دیر کے لئے اپنی آرام گاہ سمجھ کر دن بھر کی اکڑی ہوئی کمر کو ریلیکس کرنے کی غرض سے ذراسی نیم دراز ہو گئی تھی

اور زینی آپا کا انتظار کرنے لگی جو اسے تھوڑی دیر بعد آنے کا کہہ کر گئی تھیں، لیکن پھر آدھا گھنٹہ گزرنے کے بعد بھی نہیں آئی تھی ، اب شہر بانو کو اپنے بناؤ سنگھار سے کوفت سی ہونے لگی تھی وہی اس زینی آپا کا انتظار کرتے کرتے بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ ابھی وہ آگے بڑھنے ہی والی تھی کہ اس کی نظر سائیڈ ٹیبل پر رکھی تصویر کی سمت اٹھ گئی تھی اس نے ہارون گردیزی کو ٹھیک طرح سے دیکھا تو نہیں تھا، مگر رخصتی کے دوران ایک سرسری سی نظر تو اس پر پڑی ہی تھی اسی لئے پہچاننے میں دیر نہ لگی کہ یہ تصویر ہارون گردیزی کی ہے! اور بے ساختہ ہی وہ اس خوبصورت فریم میں بھی ہارون گردیزی کی متاثر کن پرسنالٹی کو دیکھے گئی اور ساتھ یہ بھی احساس ہو گیا کہ یہ کمرہ ہارون و و ہ ہ ہ ہی یہ ھی ایسا گیا کمرد گردیزی کا ہی ہے۔

وہ شہر کر رخصت کرا کے حویلی لے جانے کی بجائے اپنے شہر والے گھر میں لے کر آیا تھا، البتہ حویلی جانے کے لئے اس کے کیا ارادے تھے ، ابھی کچھ پتہ نہیں تھا شہر بانو نے کھڑے کھڑے کیا پورے کمرے کا جائزہ لے ڈالا تھا، اس در وا وہ چلتی ہوئی کمرے کے بیچوں چ آکھڑی ہوئی تھی

کہ اچانک ہی ہلکی سی دستک کے ساتھ دروازہ بھی کھل گیا تھا۔ آنے والے کے قدموں کی آہٹ ابھری تھی، شہر بانو نے گھبرا کر رخ موڑ لیا تھا، کیونکہ وہ جان چکی تھی کہ اندر آنے والا مرد ہے

عورت نہیں ! تقریباً تین یا چار سیکنڈ کے وقفے کے بعد دروازہ دوبارہ بند ہو گیا تھا۔ السلام علیکم !

ہارون نے اپنا کوٹ بیڈ پہ ڈالتے ہوئے اپنی نئی نویلی اجنبی دلہن کو سلام کیا جو اس کی سمت پشت آپ کون ؟ وہ گھبرائی ہوئی بولی تھی۔ جس سے آپ کی ساری زندگی منسوب ہو چکی ہے۔ وہ سکون بے “ سے کہتا اپنی گھڑی اتار کر سائیڈ ٹیبل پر رکھ رہا تھا۔ شکش مگر آپ یہاں کیوں آئے ہیں ؟

شک شہر بانو بہت نازک اور خاموش طبع تھی، مگر ایسی حرکت برداشت نہیں کر سکتی تھی ذرا ترشی اس نے اپنا والٹ اور موبائل نکال کر وہ بھی سائیڈ پر ڈال “ اگر یہی سوال میں آپ سے کروں تو ؟، شہر بانو اس کے سوال پر ٹھٹک گئی تھی۔ لیکن پھر فوراہی سنبھل گئی اسے اپنا دفاع کرنا تھا۔ دمیں یہاں مہمان ہوں۔ وہ مضبوطی سے بولی تھی۔

حالانکہ میں آپ کو مالک سمجھ رہا ہوں، کیونکہ یہ گھر آپ کا ہے ، یہ کمرہ آپ کا ہے اور سب سے بڑی بات کہ میں بھی آپ کا ہوں پھر آپ مہمان کیسے ہو گئیں ؟ وہ دلچسپی سے کہتا عین اس کے سامنے آکھڑا ہوا تھا، جہاں شہر بانو کارنگ فق ہوا تھا، وہیں ہارون گردیزی کی نگاہیں بھی ایسی دلکشی پہ اپنی ذات بھلا بیٹھی تھیں، کتنے ہی لمحے ہارون کی نظروں کی نذر ہو گئے تھے لیکن شہر بانو کی بد حواسی نے یکدم اس کی یہ سحر زدہ ہی کیفیت خاک میں ملاڈالی تھی، وہ تیزی سے پلیٹ کر دروازے کی سمت لیکی تھی اور اسی تیزی سے ہینڈل گھما کر لاک کھولنے کی ناکام کوشش کی تھی،

کیونکہ وہ لاک کے ساتھ ساتھ بولٹ بھی چڑھا آیا تھا۔

یہ بھاگنے دوڑنے سے بہتر ہے کہ آپ ایک بار آرام سے بیٹھ کر میری بات سن لیں۔ ہارون نے قریب آتے ہوئے کہا تھا، شہر بانو ڈری سبھی کھڑی تھی، اس کے قریب آنے سے تھوڑی اور دور ہٹ گئی۔

میں آپ کی کوئی بات نہیں سننا چاہتی۔ آپ یہاں سے چلے جائیں یا مجھے جانے دیں۔ شہر بانو نے بہت کی ہمت مجتمع کر کے جواب دیا تھا، ورنہ تو اس کے ہاتھ پیر کانپ رہے تھے، پورا جسم ٹھنڈا پرچکا تھا اور دودھیا پیشانی پر پینے کے قطرے نمودار ہونے لگے تھے ، دل کی دھڑکنیں اسی طرح دھڑ  دھڑار ہی تھیں جیسے کوئی دروازے پر دستک دے رہا ہو ! اور یہ دستک ذرا فاصلے پر کھڑے ہارون گردیزی کو بھی باآسانی محسوس ہورہی تھی۔ آپ میری بات نہیں سنا چاہتیں تو کوئی بات نہیں

لیکن یہاں سے چلے جانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، کیونکہ ہم دونوں نے اب یہاں ہی رہنا ہے

آج بھی کل بھی اور آئندہ ساری زندگی بھی، وہ اس لئے کہ میں آپ کو ایک دن کے لئے نہیں اپنی پوری زندگی کے لئے اپنی ہمسفر بنا کے لایا ہوں، اب میں اچھا ہوں بابر اہوں آپ مجھے چھوڑ کر کہیں نہیں جاسکتیں اور آپ اچھی ہیں یا بری میں بھی آپ کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گا، بے شک میں آپ کو جانتا نہیں تھا میں نے آپ کو دیکھا نہیں تھا اور نہ ہی آپ کو چاہا تھا، لیکن مجھے امید ہے کہ میں آپ کو جانے لگا، دیکھنے لگا تو پھر چاہنے بھی لگوں گا، بہت جلد مجھے آپ سے محبت بھی ہو

جائے گی۔ کیونکہ محبت کے آہیر تو مجھے ابھی سے نظر آنے لگے ہیں، میرا اول محبت پہ مائل سالگ رہاہے۔ وہ ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بڑی دلکشی سے کہتا اپنے پورے استحقاق سے شہر بانو کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے قریب کر چکا تھا، ہارون گردیزی کی قربت کی تپش سے شہر بانو کا جسم ہی نہیں روح بھی جل اٹھی تھی، وہ اسے اپنے مضبوط بازو کے حلقے میں لے کر بیڈ تک لے آیا تھا۔پلیز بارون ؟ ہارون نے جیسے ہی اس کی چوڑیاں اتاریں وہ جیسے ہوش میں آگئی تھی۔

سیکس کی چوریاں اتاری ہو جیسےیا تھوڑی دیرجیولری تو آپ نے اتارنی ہی ہے اس نے بے نیازی سے کہا۔

آپ میری اجازت اور میری مرضی کے بغیر کچھ نہیں کر سکتے۔ وہ یکدم اپنا ہاتھ چھڑا کر دور ہٹ گئی تھی۔ میں بہت چاہتا تھا کہ آپ کے ساتھ کوئی زور زبردستی نہ کروں لیکن مجھے لگتا ہے کہ آج زبر دستی کئے بغیر گزارا نہیں ہو گا، کیونکہ آپ میرے حق میں نظر نہیں آرہیں۔ وہ بیڈ سے کھڑا ہو گیا تھ تھا۔ )

”آپ میرے ساتھ کوئی زبردستی نہیں کر سکتے، کیونکہ میرا آپ سے ہمیشہ کار شتہ نہیں ہے۔ وہ جنتی سے بولی، اس نے بڑی ہمت سے اپنے او کے فرض کر لیتے ہیں کہ ہمارا رشتہ ہمیشہ کا نہیں لیکن ایک رات کے لئے تو ہے نا؟ اس نے شہر

بانو کا چہرہ اونچا کرتے ہوئے اس کیآنکھوں میں دیکھ کر کافی ذو معنی لہجے میں کہا تھا۔

کرادیا۔شہر بانو نے کچھ کہنے کے لئے لب کھولے ہی تھے کہ ہارون نے لیکن میں آپ کے ساتھ نہیں۔

اس کے ہونٹوں پہ ہاتھ رکھ کر خاموش شک لکھے مت ہمیشہ ان میں اس وقت آپ کی باتیں بھی رہوں اور جب بھی ہوں مجھےا پکی  کیفیت کا اندازہ بخوبی ہو رہا ہے،

لیکن اس کے باوجود میں آپ کو ایک بات سمجھا دینا چاہتا ہوں کہ میں کبھی کسی کی حق تلفی نہیں کرتا اور نہ ہی اپنا حق تلف ہونے دیتا ہوں۔ لہذا آپ یہ بھول جائیں کہ میں آپ کو پرائی امانت کسی کا صدقہ یا پھر سجر ممنوعہ سمجھ کر چھوڑ دوں گا، آپ پر میرا پورا پورا حق ہے اور میں اپنا ہر حق وصول کروں گا چاہے زبر دستی کرنا پڑے، چاہے آپ کی رضا سے ، کیونکہ آپ ہر طرح سے مجھ پہ حلال ہو چکی ہیں۔ وہ بہت ہی نپے تلے الفاظ میں کہتا شہر بانو کو بہت کچھ باور کروا د کا تھا، وہ اپنی جگہ یہ جوں توں ہوگئی اسکے ہاتھ کر کرنے چلاگیا جوں کی توں کھڑی رہ گئی اور وہ اس کے ہونٹوں سے ہاتھ ہٹا کر کپڑے پھینچ کرنے چلا گیا تھا، واپس )

آیا تو وہ ابھی تک وہیں کی وہیں تھی، اس نے زیر و پاور کا بلب جلا کر بیڈ روم کی تمام لائٹس آف کر ڈالی تھیں اور شہر بانو ہا تھ تھام کر اپنے پاس لے آیا تھا۔

ایم سوری شہر بانو میں اس طرح کچھ بھی نہیں کرناچاہتا تھا، لیکن جس طرح ایک پرندے کو اپنے پاس رکھنے کے لئے اس کے پر کاٹنا ضروری ہوتا ہے اسی طرح تمہیں اپنے ساتھ رکھنے کے لئے بھی یہ سب بہت ضروری ہے ، میں تمہ

تمہاری واپسی کے سارے راستے بند ذات، اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتا ہوں ، تاکہ ہارون اس کی ساری جیولری اتار چکا تھا اور شہر بانو کے آنسو بے اختیار ہو گئے تھے، اس نے ہر ممکن طریقے سے ہارون کو باز رکھنے کی کوشش کی تھی

کتنی بار ٹوٹے پھوٹے سے بے ربط الفاظ میں اسے روکنا چاہا تھا مگر وہ جو ٹھان چکا تھا اس سے باز کیسے آجاتا؟ شہر بانو کی سکیاں اس کے مضبوط کشادہ سینے میں دب کے رہ گئی تھیں اور وہ کچھ بھی نہ کر سکی تھی، اس کی مضبوط گرفت کے سامنےکر چکا تھا لیکن ہوئی اس وہ تو اپنی من مانی کر چکا تھا، لیکن صبح پوری حویلی میں جیسے صف ماتم بچھی ہوئی تھی، بڑی ماں کا بی پی ہائی ہو چکا تھا، زمان گردیزی غصے کی حالت میں تھے، جبکہ اماں سائیں، زینی آپا، رابعہ پھوپھو اور تائی اماں چپ چپ اور خفا خفاسی دکھائی کیا آج ناشتہ نہیں ملے گا؟ اس نے زینی آپ کو دیکھ کر کہا، شاید وہ ہارون سے دے رہی تھیں۔

کچھ کہتیں، لیکن ابا سائیں (رحمان گردیزی) کے اشارے پر خاموشی سے ہارون کے لئے ناشتہ لینے چلی گئیں۔ کیسی طبیعت ہے صاحبزادے؟

اطبیعت ہے۔

رحمان گردیزی نے اخبار پھیلاتے ہوئے سنجیدگی سے سوال کیا تھا۔

آپ کی دعائیں ہیں چا سائیں ؟ وہ کرسی گھسیٹ کر ان کے مقابل بیٹھ گیا تھا۔ چائیں؟ وہ کرسی تحصیٹ کر ان “ اور ہماری بہو کیسی ہے ؟اس نے شرارت بھرے انداز میں کہ کر اپنی مسکراہٹ روکنے کی کوشش کی بہت اچھی ہے !

لیکن چچا سائیں اس کی یہ شرارت یہ سرشاری بھانپ چکے تھے۔

” اب کیا ارادہ ہے ؟

میں اسے زمینی آپا اور تائی ماں کے ساتھ گاؤں بھیج رہا ہوں۔ زینی آپ ناشتہ رکھ کے گئیں تو اس نے وہ ناشتے کے دوران باتیں بھی کر “ اپنی بات شروع کی۔ اور تم خود ؟ میں بعد میں چلا جاؤں گا۔ کا رہے تھے۔ مر شد سائیں سے کیا کہو گے ؟ تھوڑی دیر تک تو وہ لوگ شہر بانو کو لینے کے لئے آتے گھر کی پیشکش بس آپ میرے 13 میل کی اس میں سب سنبھال لوں گا۔ دونوں “ ہوں گے ؟

چا بھتیجا ہی بہت ریلیکس تھے ، جیسے انہیں کسی کی بھی پروا نہیں تھی۔ ٹھیک ہے ، پھر تم ان لوگوں کو بھیجنے کی تیاری کرو، ہم تب تک اماں سائیں کی خیریت معلوم کرتے ہیں۔ وہ اخبار سمیٹ کر اٹھ تھے اتنے میں بارون بھی ناشتہ کر چکا تھا۔ زینی آپا۔ اس نے ڈرائنگ روم کی سمت جاتی زینی آپا کو آواز دی جو عمر میں ہارون سے پورا ایک سال چھوٹی تھیں لیکن ہارون اور باقی آواز کز نزان کے سگھڑا ہے، بردباری اور مزاج کی وجہ سے انہیں زینی آپا کہتے تھے ، ورنہ کزنز میں سب سے بڑا ہارون ہی تھا۔

جی فرمائیے ؟ وہ جنگی کا اظہار کر رہی تھیں۔

اگر آپ کو زحمت نہ ہو تو محترمہ شہر بانو کو بھی ناشتہ کر واد یجئے، کیونکہ میرے خیال میں انہوں نے رات سے کچھ نہیں کھایا۔ وہ بڑے سکون سے کہتا نیپکن سے ہاتھ پونچھ کر کھڑاہو گیا تھا اور زینی آپا کو یکدم شہر بانو کا خیال آتے ہی اپنی کوتاہی کا دوبارہ سے احساس ہوا تھا، ایک غلطی انہوں نے رات کو کی تھی، اسے ہارون کے بیڈ روم میں چھوڑ کر اور ایک غلطی ابھی ابھی کی تھی کہ صبح سے اس کی کوئی خیر خبر ہی نہ لی تھی، ہارون سے خفگی کا اظہار کرتے کرتے وہ شہر بانو کو ہی بھول بیٹھی تھیں جو اس گھر میں بالکل انجان تھی، نا سمجھ اور اکیلی تھی۔ ہائے میں مر جاواں۔ وہ اپنے سر پر ہاتھ مارتی فور اسٹیٹر ھیوں کی سمت بھاگی تھیں اور ہارون ان کی یہ بوکھلاہٹ دیکھتارہ گیا تھا۔ زینی آپا ادھ کھلے دروازے کو دھکیلتی ہو ئیں عجلت میں اندر آئی تھیں۔

شہر بانو شہر بانو تم ٹھیک تو ہو ؟ انہوں نے شہر بانو کو کسی بت کی طرح بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے

ہوئے دیکھا تو مزید گھبراگئیں شہر بانو بولونا کیا بات ہے، طبیعت تو ٹھیک ہے ؟ زینی آپانے اس کے قریب بیٹھ کر اس کا چہرہ تھی کا تو ان کی سوچ کی محویت ٹوٹ گئی اور وہ اگلے پیپل زینی آپا کے گلے لگ کے پھوٹ پھوٹ کے روپڑی تھی۔ شہر بانو اپنے آپ کو سنجاوہی تمہاری قسمت میں ہارون کا ساتھ شاید اسی طرح لکھا تھا، ورنہ تمہاری شادی کہیں اور بھی تو ہو سکتی تھی۔ وہ شہر بانو کو سمجھانے کی کوشش کرنے لگیں۔

”ہمارے ساتھ دھو کہ ہوا ہے، فراڈ کیا ہے آپ کے گھر والوں نے اور آپ کے بھائی نے۔ وہ روتے روتے ان سے الگ ہو گئی تھی۔ تم شاید یقین نہیں کرو گی شہر بانو گھر والوں کا اس میں کوئی قصور نہیں ہے ، یہ فیصلہ سراسر ہارون کا اپنا فیصلہ تھا، بڑی اماں ، چچا سائیں ، اورچی اماں کو تو پتہ بھی نہیں تھا وہ تو رات کو میں نے جا کر بتایا تھا کہ ہارون اپنا ارادہ اپنی نیت بدل چکا

ہے ، ورنہ کل تک تو وہ بالکل نا ما قاری کے فیصلے پہ راضی تھا اچانک پر یہ نہیں کیسے اور کیوں یہ سب سوچ لیا ؟ زینی آپانے سب کی طرف سے صفائی پیش کی تھی۔

 

بہت برا ہوا ہے یہ سب اتنا سائیں اور پہچا سائیں کبھی معاف نہیں کریں گے آپ لوگوں کو ۔

وہ کوروتے ہوئے بولی تھی، زینی آپا جز بزی ہو رہی تھیں کہ اس سے بھلا اور کیا نہیں ۔

السلام علیکم اچانک دروازے پر دستک کے بعد جانی پہچانی سی آواز ابھری تھی۔ زہرا آپی ! شہر بانوبے تابی سے پکارمی اور بیڈ سے اٹھ کر ان کے گلے لگ گئی ، زہرا کے پیچھے بچی بیگم بھی تھیں۔ ( زہراکی والدہ سید(سراج حسین کی بیوی) آرام سے شہر بانو آرام سے ، اس طرح پاگل کیوں ہو رہی ہوا بھی رات کو ہی تو ملے تھے ہم ۔ زہرا نے اسے مسکرا کر اپنے سے الگ کیا تھا لیکن اس کے کھلے سیاہ گھنے نم بال، دھلا دھلا یاسا سراپا، سرخ روئی روئی کی آنکھیں اور اس کے جسم سے اٹھتی کسی اور جسم کی مہک نے چونکا کے رکھ دیا

تھا ، زینی آپا ان لوگوں سے کچھ بھی کہے بغیر باہر نکل گئی تھیں۔ شہر بانوی سب زہرہ کا اشارہ اس کے سراپے اس کی حالت کی طرف تھا۔

بارون گردیزی نے دھو کہ کیا ہے ہمارے ساتھ ۔ آپی اس نے مجھے داغ دار کر ڈالا ہے ؟ وہ بلک۔ مجھے ڈالا وہ بلک کر روتی سب بتارہی تھی اور چی بیگم دھک سے رہ گئیں، البتہ زہرا نے دل ہی دل میں ایک نعرہ لگایا تھا۔ یا ہو ! اس کا جی چاہا وہ ہارون گردیزی کا کندھا تھپک کر اسے اس کارنامے پر شاباشی در کھیلوں کا ہار پہنائے جو رسم آج تک بے زبان جانور کی طرح ان کا ہر مرید نبھاتا آیا تھاوہ رسم ہارون گردیزی نے اپنی مردانگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک رات میں توڑ ڈالی تھی، زہر بہت خوش ہوئی تھی ، وہ اب بار بار شہر بانو کو شرارتی نظروں سے دیکھ کر پر کھ رہی تھی چھیڑ رہی تھی،

جبکہ بچی بیگم معاملے کی سنگینی کا سوچ کر ہی کانپ گئی تھیں ، ان کے ساتھ شہر بانو کو لینے کے لئے سید سراج حسین آئے ہوئے تھے۔ یہ کیا بکواس ہے ؟ وہ یکدم مشتعل ہو کر اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے تھے۔ یہ بکواس نہیں میر احق ہے مرشد سائیں ہر میاں بیوی کو ایک ساتھ رہنے کا حق اللہ تعالی نے خود دیا ہے آپ بھلا کیسے روک سکتے ہیں؟ آپ بھی تو اپنی بیویوں کے ساتھ رہتے ہیں، ہم نے اگر یہ بات کیا بُرا ہے ، ہر مرد اپنی بیوی کو اپنی عزت کو اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے اور میں بھی یہی کہہ رہا ہوں کہ میری بیوی میرے گھر میں میرے ساتھ رہے گی اور کہیں نہیں جائے گی۔ ہارون اپنے فیصلے پہ جم چکا تھا، سید سراج حسین کا غیض و غضب سے بُرا حال ہونے لگا۔

دو لیکن میں نے یہ شادی عمر بھر کا ساتھ “ ہم نے یہ شادی صرف ایک رسم کے تحت کی تھی۔ اس نے نبھانے کے لئے کی تھی، میں آپ کی صاحبزادی ( بسیجی) کو شرعی بیوی مان چکا ہوں۔

انہیں جیسے کچھ باور کروانا چاہا تھا۔

ہارون گردیزی تم نہیں جانتے کہ ہماری رسمیں ہمارے لئے کیا ہیں ؟ وہ دانت پیس کر بولے میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ آپ کی رسمیں آپ کے لئے کیا ہیں؟ جو صرف بیٹیوں سے شروع ہو جو صرف بیٹیوں سے شروع ہو کر بیٹیوں پر ہی ختم ہو جاتی ہیں کبھی ان کو کاری کر دیا جاتا ہے، کبھی قرآن سے نکاح کر کے کونے میں ڈال دیا جاتا ہے اور کبھی نام نہاد صدقے کا ڈھونگ رچا کر جیتے جاگتے مار دیا جاتا ہے ! مجھے ان سر مرشد سائیں کہ آپ کی نسل ، ایک لڑی میں کبھی کسی بیٹے کو کاری کیا گیا ہے؟

کبھی کسی بیٹے کا صدقہ دیا گیا ہے اس طرح؟ اورنہ یہ سب رسمیں آپ کی خود ساختہ رسمیں ہیں اورصرف اور   صرف دنیا کی نظر میں منفر د بننے کے لئے ، اپنے مریدوں کو متاثر کرنے کے لئے جبھی تو آپ جس بیٹی کو صدقہ کرنے کے لئے شادی کرتے ہیں اس کی شادی میں ہزاروں لوگوں کو انوائیٹ کرتے ہیں تاکہ لوگوں پر آپ کی دھاک بیٹھ جائے کہ آپ اپنے اصولوں کے بہت پیچکے ہیں، اور آپ کے اصولوں اور رسموں سے آپ پر بھلا کیا اثر پڑتا ہے ؟ زندگی تو بیٹی کی تباہ ہو جاتی ہے نا؟ اور اس شخص کی ذہنی کیفیت کا اندازہ آپ کو بھلا کیسے ہو سکتا ہے جو آپ کی بیٹیوں سے شادی کر کے عمر بھر ان کا نام بھی نہیں لے سکتا، حالانکہ جتنا حق اسے ہوتا ہے اتنا تو آپ کا بھی نہیں ہوتا، بے شک وہ آپ کی بیٹی ہوتی ہے ، اور ہاں ایک بات اور کہنا چاہتا ہوں کہ آپ یہ رسم یہ نکاح کے کسی مرد کے ساتھ کیوں نہیں کرتے ؟ کیا اس میں اتنا حوصلہ نہیں ہوتا؟ یا پھر آپ کو اس پہ اعتماد نہیں ہوتا؟ ہارون بولنے پہ آیا تو سبھی دیکھتے رہ گئے تھے، زمان گردیزی کی بھی آنکھیں کھل گئی تھیں، اور سید سراج حسین کا تو بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ کیا سے کیا کر ڈالیں۔

مر شد سائیں پیر فقیر بناتو بہت آسان ہے اگر کسی کا مر شد بنا بہت مشکل ہوتا ہے اپنی خوشی اور اپنے غم کے لئے تو انسان کچھ بھی کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں ان کے غموں کو اپنا ہتھیار نہیں بنانا چاہیے میری بڑی اماں آپ لوگوں کے پاس ایک اس ایک امید لے کر گئی تھیں کہ آپ اُن کے لئے اللہ سے دعا کریں گے ، آپ ان کی دعا کا وسیلہ بنیں گے ، انہیں دعا دیں گے ، مگر آپ لوگوں نے دعا کے بدلے پوری زندگی کی قیمت مانگ لی؟ آپ نے دعا کا سودا کیا۔ کیا کبھی دعا بھی بیچی جاتی ہے ؟ انسان کا چڑھاوا، انسان کا صدقہ تو اللہ تعالی نے بھی نہیں لیا،صدآپ کیسے لے سکتے ہیں؟

بے شک آپ سید زادے ہیں، میں آپ کا اور آپ کی آل اولاد کادل کی گہرائیوں سے احترام کرتا ہوں، مگر آپ کے اس فلم میں کسی بھی مروت اور لحاظ سے کام نہیں لوں گا، لہذا آپ سمجھ جائیں میں وہ بات ختم ہکہ شہر بانو میری بیوی ہے اور آپ کے ساتھ نہیں جائے گی، یہ میرا فیصلہ ہے۔

کرتے ہوئے بولا تھا اور سید سراج حسین نہ جانے کیا سوچتے ہوئے اپنی بیوی اور بیٹی کو ساتھ لے کر واپس چلے گئے تھے ، شہر بانو روتی بلکتی رہ گئی تھی ، ہارون گردیزی نے اسے اس کے اپنوں سے جدا کر ڈالا تھا۔

اس نے شادی کے دوسرے روز ہی شہر بانو کو باقی سب کے ساتھ حویلی بھیج دیا تھا، البتہ خود وہ شہر ہی رک گیا تھا، اسے اپنا ایک بہت اہم کام نبٹانا تھا، حالانکہ رحمان گردیزی نے اسے بھی ساتھ چلنے کے لئے بہت اصرار کیا تھا، مگر وہ چاہتے ہوئے بھی گاؤں نہیں جاسکا تھا، بڑی اماں ابھی بھی ہارون سے ناراض تھیں اور ان کی طبیعت بھی کچھ خراب تھی لیکن شہر بانو کے ساتھ ان کا رویہ بہت اپنائیت بھر اتھا، بلکہ اندر سے شہر بانو کے سامنے آکر اپنے آپ کو شر مندہ محسوس کرتی تھیں، وہ اپنے آپ کو مجرم گردانتی تھیں، مگر وہ یہ نہیں سوچتی تھیں کہ جوڑے آسمانوں پہ بنتے ہیں، شاید یہ بھی اللہ کی طرف سے حکم ہی تھا کہ شہر بانو کی زندگی تباہ ہونے سے بچ گئی تھی۔ اور شہر بانو ؟ اسے تو ایسی چپ گئی تھی کہ زہرا آپی اور چی بیگم کے جانے کے بعد سے اب تک زبان سے ایک لفظ بھی نہیں کہا تھا، وہ تو جیسے گم سم ہو کر رہ گئی تھی، زینی آپا نے اسے چادر اوڑھائی اور ساری چیزیں ۔

سمیٹ کر اسے ساتھ چلنے کا کہا تھا۔

راستے کے دوران بھی زینی آپا نے اسے مخاطب کرنے کی کوشش کی مگر اس نے پھر بھی کوئی جواب نہیں دیا تھا۔ شکن ناوہ لوگ حویلی پہنچے تو رحمان گردیزی کی چھوٹی بیٹی ثانیہ جو اپنے پیپر کی تیاری کی وجہ سے ان کے ساتھ شادی میں نہیں جا سکی تھی، تمام میں ملازموں اور گاؤں کی چند عورتوں کے ہمراہ پھولوں سے بھری پلیٹیں لئے اپنی نی نو ملی بھائی کاشہر بانو گاڑی سے اتری تو سب ہائے بھائی کیسی ہیں آپ؟ استقبال کرنے کیلئے تیار کھڑی تھی۔

نے پھولوں کی برسات کر ڈالی تھی، بثانیہ جلدی سے پھولوں کی پلیٹ زینی آپا کو تھما کر شہر بانو کے پاس آکر بہت خوشی سے چپکی تھی، جیسے برسوں سے جان پہچان ہو ! اب بھابی نے کچھ کہا ہے یانہیں وہ کچھ بھی سوچے سمجھے بغیر اس کے گلے لگ گئی تھی، اسے تو یہی دیکھ کر بے پناہ خوشی ہو رہی تھی کی اتنی خوبصورت ہیں ہارون بھائی کی جوڑی بہت سجے گی۔ ثانی اب بس کرو شہر بانو اتنا سفر کر کے آئی ہے تھکی ہوئی ہے ، راستہ دوا سے زمینی آپا نے ثانیہ کو گھورا اور ایک ہاتھ سے اسے پیچھے بنا یا تھا۔ آئے بھائی اندر آئیے ! وہ جلدی سے پیچھے ہٹ گئی تھی ، رحمان گردیزی اس کی عجلت اور خوشی پہ مسکراتے ہوئے آگے بڑھ گئے تھے۔ چلونا بیٹارک کیوں گئی ہو ؟ زمان گردیزی اور خدیجہ بیگم نے اسے آگے بڑھنے کا کہا، وہ خاموشی سے کسی سوچ میں ڈوبی افسردہ کی اندر آگئی تھی۔ بولا تھا۔تم گاؤں کب آرہے ہو ؟ ایک ہفتہ ہو گیا تھا ان لوگوں کو حویلی آئے ہوئے لیکن ہارون ایک بار بھی نہیں آیا تھا۔ وبس کام ختم ہوتے ہی آجاؤں گا، کیوں خیریت تو ہے نا؟ اس نے فکر مندی سے پوچھا، کیونکہ رحمان گردیزی کافی سختی سے پوچھ رہے تھے۔

کام ختم کرو اور جلدی آؤ، بلکہ کل ہی آجاؤ ، کام وام پھر کبھی ہوتے رہیں گے ۔ وہ جھنجھلا کر بولتے رہیں گے۔ دور جا کر روکے لیکن چچا سا میں کچھ بتائیں تو سہی؟ ایسی کیا آفت آن پڑی ہے ؟ ” صاحبزادے تمہیں پڑتا ہے ہو یاں بھی کسی آف سے کم نہیں ہوتیں۔۔ اوہ اچھا اچھا کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ ہماری آفت سوری بیوی وہ کافی دلچسپی اور شرارت بھرے لہجے میں کو کیا ہوا ہے؟

”بیٹا یہی تو مسئلہ ہے کہ اسے کچھ نہیں ہوتا، وہ ہر بات پہ چپ رہتی ہے ، اس کا پورا دن خاموشی میں گزر جاتا ہے ، کمرے میں کھانا کھاتی ہے، نماز پڑھتی ہے اور سو جاتی ہے ، بس یہی اس کی زندگی ہے اور اماں سمائیں اسے دیکھ کر جلتی رہتی ہیں، ان کی طبیعت بھی مسلسل خراب ہے۔ رحمان گردیزی اب کچھ متفکر سابول رہے

اوکے کی،او کے میں کوشش کرتا ہوں جلدی آنے کی ، آپ پریشان نہ ہوں آکر سب ٹھیک کر لوں گا۔ وہ کہتے کہتے پھر شرارت سے کہہ گیا تھا۔ ہاں ہمیں بھی پتہ ہے کہ تمہارے آنے سے سب ٹھیک ہوجائے گا، اس لئے تو تمہیں آنے کا کہہ رہے ہیں۔ وہ بھی ہنس دیتے تھے۔

” انشاء اللہ آرہا ہوں۔

“اور سناؤ مر شد سائیں کی طرف سے کوئی رسپانس ملا؟

نہیں ان لوگوں نے تو دوبارہ کوئی رابطہ ہی نہیں کیا، اب پتہ نہیں وہ میری بات سمجھ گئے ہیں یا پھر کوئی ری ایکشن سوچ رہے ہیں ؟

BASTI

ہارون نے لا پروائی سے کہا تھا۔

وہ سب تو ٹھیک ہے، لیکن تم پھر بھی اپنا خیال رکھا کرو، ایسے لوگ بدلہ لیتا بھی نہیں بھولتے ، کہیں رحمان کوئی نقصان نہ کر دیں۔

گردیزی فکر مند ہونے لگے۔ ڈونٹ وری چاسائیں اللہ سب بہتر کرے گا۔ اس نے انہیں تسلی دے کر فون بند کر دیا تھا۔ کاایک ہفتے کا کہتے کہتے اسے دو ہفتے لگ گئے تھے اور وہ شام ڈھلے اتنے طویل سفر کے بعد تھکا ہارا گھر آیا واتفاقا پہلا سامنا شہر بانو سے ہی ہوا تھا، وہ حویلی کے لان کی سیڑھیوں پہ بیٹھی نہ جانے کیا سوچ رہی تھی، جب اتنی بڑی روش پر پھیلی ہارون کی بلیک مرسڈیز سیٹر ھیوں کے قریب ہی آئی تھی، اس نے ہارن پہ ہاتھ رکھ کر شہر بانو کی ساری محویت توڑ ڈالی تھی، اس نے چونک کر چند قدم کے فاصلے پر کھڑی گاڑی کو دیکھا، اتنے میں وہ خود بھی گاڑی سے اتر آیا تھا، گرے کلر کے سمپل سے

شلوار سوٹ میں ملبوس وہ سچ سچ کافی تھکا ہوا لگ رہا تھا ، لیکن شہر بانو کو سامنے دیکھ کر اس کی تھکن میں کافی حد تک کمی آئی تھی۔ کیسی ہیں آپ؟” وہ قریب آکر کچھ بولا ہی تھا کہ شہر بانو یکدم اٹھ کر اندر آئی آکر بولاری اٹھ کر اندر ( بھاگ گئی تھی اور وہ دیکھتا رہ گیا، اسے اس استقبال کی امید تو ! بالکل نہیں تھی لیکن خیر ہارون تم کب آئے ؟ یہاں کیوں کھڑے ہو بہتائی اماں نہ جانے کس کام سے باہر نکلی تھیں ، ہارون کو دیکھ کر خوش ہو گئیں۔

دم بھی آیا ہوں تائی اماں آپ سائیں کیسی ہیں ؟ وہ سر جھٹک کر ان کے ساتھ اندر آگیا۔ آگیا۔ کھر ہارون بھائی ! عما یا اسے دیکھ کر یکدم صوفے سے اتری تھی، اس کا لہجہ خوشی سے بھر گیا تھا۔ “کیسی ہو چھوٹی ؟ کیا کر رہی ہو آج کل ؟ ہارون اسے بازو کے گھیرے میں لے کر صوفے پر بیٹھ گیا تھا۔ سلام اماں سائیں۔ خدیجہ بیگم کو دیکھ کر اسے ایک بار پھر صوفے سے اٹھنا پڑا تھا۔

جیتے رہو ، آباد ہوا وہ دو ہفتے بعد بیٹے کی صورت دیکھ رہی تھی ، لہذا ساری خفگی بھلا کر اس کے ماتھے پیار دیئے بنا نہ رہ سکیں۔ بھائی اتنی دیر کیوں لگادی؟ بھائی تو ہم سے بات بھی نہیں کرتیں، میں تو! بلا بلا کر تھک جاتی ہوں، میں بہت مس کر رہی تھی آپ نے اپنا قصہ شروع کر ڈالا اور وہ دلچسپی سے بیٹھ کر ہنستا رہا تھا۔ اگر تم میں ذراسی بھی عقل ہے تو ! اپنے بھائی کو کمرے میں جانے دوہ تھکا ہوا آیا ہے اس نے ابھی کپڑے بھی تبدیل کرنے ہوں گے تائی اماں دوبارہ ڈرائنگ روم میں آئیں تو بیٹی کی حماقت پر اسے ڈانٹنے لگیں۔ اوہ سوری بھائی مجھے تو خیال ہی نہیں رہا کہ بھائی آپ کا انتظار کر رہی ہوں گی۔ وہ شر مندہ ہونے لگی۔ نده برای ” نہیں آپ پہلے کپڑے پینج کر لیں۔ ارے پاگل ایسی کوئی بات نہیں بیٹھو تم  سویٹ ہارٹ۔ وہ اس کا گال تھپک کر سیڑھیاں چڑھ گیا تھا اور اپنے بیڈ روم میں آتے ہوئےاس کی چال کچھ اور ہو چکی تھی جیسے بالکا سا خمار چھو کے گزر گیا ہو۔ وہ کمرے میں داخل ہوا توکمرہ خالی نظر آیا تھا۔ ایک پل کے لئے اسے تشویش کی ہوئی لیکن اگلے ہی پل باتھ روم سے پانی گرنے کی آواز سن کر مطمئن ہو گیا تھا اور تھکے تھکے سے انداز میں بیڈ پر ڈھیر ہو گیا، اسے اسی طرح چاروں شانے چت لیٹے نہ جانے کتنی دیر گزرگئی، لیکن شہر بانو واش روم سے باہر نہیں آئی تھی ، ابھی وہ اسے پکارنے کا سوچ ہی رہا تھا کہ وہ خود ہی باہر آگئی تھی، اس کے ہاتھ پاؤں اور چہرہ بھیگا ہوا تھا، یقیناوہ وضو کر کے آئی تھی۔

لگتا ہے مجھ سے ناراض ہیں آپ؟” وہ جائے نماز لے کر پلٹی ہی تھی کہ ہارون بیڈ سے اٹھ کر اس کے سامنے آگیا تھا۔

پہلے آپ میری بات کا جواب دیں۔

میں نماز پڑھنے جارہی ہوں پیچھے ہٹیں۔ شہر بانو خفگی سے بولی۔ نماز پڑھنے تو مجھے بھی جاتا ہے ابھی مغرب کی اذان ہونے میں بھی دس منٹ باقی ہیں، زوجہ محترمہ آپ کو نماز کی اتنی جلدی کیوں ہورہ ہے؟ اس نے شہر بانو کے ہاتھ سے جائے نماز لے کر ٹیبل پر رکھ دی اور اس کے دونوں ہاتھ تھام لئے تھے۔

اس لئے کہ میں آپ کو دیکھنا نہیں چاہتی ! وہ غصے سے کہتی اپنے ہاتھ چھڑا کر رخ موڑ گئی تھی، جبکہ ہارون کا فلک شگاف قہقہہ بلند ہوا تھا شاید زندگی میں پہلی بار وہ اس طرح بے ساختہ اور دل کھول کے ہنسا تھا۔

اوہ تو آپ مجھے چھوڑ کر نماز میں پناہ ڈھونڈ رہی ہیں؟ لیکن آپ کو ایک بات بتادوں کہ اگر آپ مجھے نہیں دیکھیں گی تو اللہ تعالی آپ کو نہیں دیکھے گا۔ آپ ابھی میرے حقوق نہیں جانتیں زوجہ اس نے رخ موڑ کے کھڑی شہر بانو کو بہت نرمی اور استحقاق سے بانہوں میں کھا لیا تھا اور محترمہ شہر بانو اس کی اس قدر بے باک حرکت پر گھبرا گئی تھی، اس کے پہلے سے بھیگے ہاتھوں میں پسینہ اترآیا رہا کی ہو، کا آیا تھا، یوں لگ رہا تھا شہر بانو کی جان ہارون کی بانہوں کے گھیرے میں بندھ گئی ہو ، اس کا دل سینے کے پنجرے سے ٹکر انکر ا کر پاگل ہونے لگا تھا، شرم سے گال تپ اٹھے تھے۔

آپ کو کیسے بتاؤں میری جان میں نے آپ کا کچھ سنوار ہی ہے بگاڑا نہیں ، پھر بھی آپ مجھ سے ” اس نے عقب سے شہر ہی خفا ہیں ؟

بانو کے کان میں کافی کمپھر لہجے میں کہا تھا، جبکہ شہر بانو اس کے حصار میں جکڑی کچھ بھی کہنے کے قابل نہیں رہی تھی۔

پلیز مجھے جانے دیں نماز کا وقت ہو رہا ہے ؟ وہ لرزتی ہوئی آواز میں بمشکل بولی تھی۔

! نہ خدا ہی ملانہ وصال صنم ند ادھر کے رہے ، نہ ادھر کے رہےہے وہ بہت ہی دلکش لجے میں کہتا اپنے لفظوں ، اپنی و جاہت اور مردانگی کا سحر اس کے چہار سو کھرارہا تھا، وہ ازل سے کمزوروں کی نرم کول ہی ڈھیلی ڈھالی لڑکی بے بسی سے اپنی دھڑکنیں سنبھالتی رہ گئی تھی۔

اللہ کو پالینے کی طلب میں ، اس کے دیے ہوئے رشتوں سے منہ پھیر لینا بھی اللہ کو پسند نہیں شہر بانو، اس نے بانہوں کا حصار کھولتے ہوئے شہر بانو کا رخ اپنی سمت موڑ لیا تھا، وہ نظریں جھکائے ہوئے تھی۔ ہم لوگ صرف نماز ادا کر کے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ہمارا رب ہم سے خوش ہو گیا ہے اور ہم نے جنت خرید لی ہے، لیکن ہم یہ سوچنے کی کوشش نہیں کرتے کہ ہمارے رب کی خوشی تو اور بھی بہت سے کاموں میں ہے ، جیسے ایک میاں بیوی کے خوشگوار تعلقات میں، جیسے گھر میں موجود بڑوں کا احترام کرنے میں ، جیسے ہر کام کو رب کی رضامانے میں، جیسے ساس، سر کو بھی اپنا ماں، باپ سمجھنے میں اور جیسے ایک اچھی بیوی بنے میں۔ اس نے بڑی خوش اسلوبی سے اپنے مطلب کی بات کہہ ڈالی تھی اور شہر بانو نے اگلے ہی ہل چونک

کر اسے دیکھا تھا۔ لیکن وہ گہری سانس شہر بانو نے اسکے خارج کرتا سامنے سے ہٹ گیا تھا۔ تم نماز پڑ ھو تب تک میں بھی وضو کر لیتا ہوں۔ وہ آہستگی سے کہ کر وار ڈروب سے کپڑے نکالنے لگا شہر بانو کھوئی کھوئی کی آگے بڑھ گئی، وہ کپڑے بدل کر وضو کر کے نکلا، تب جا کر اذان کی آواز سنائی دی تھی ، وہ جو اتنی دیر سے نماز، نماز پکار ہی تھی ، اب اذان ہوئی تو نظریں چرانے پر مجبور ہو گئی تھی، البتہ وہ کچھ بھی جتائے بغیر اپنی جیب سے سفید ٹوپی نکالتا باہر نکل گیا تھا۔ اسے مغرب کی نماز پڑھنے کے لئے مسجد جانا تھا اور مسجد ان کی حویلی سے کافی زیادہ دور تھی۔ شہر بانو نے ہارون کی اتنی گہری بات کا اثر بھی کافی گہرائی سے ہی لیا تھا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ صبح ثانیہ کے بلانے پہ ناشتا کرنے چلی آئی، حالانکہ وہ اتنے دنوں سے اکیلی بیڈ روم میں ہی ناشتہ اور کھانا وغیرہ لیتی تھی اور ثانیہ روزانہ اسے بلانے آتی اور ناامید لوٹ جاتی تھی۔ لیکن آج تو ثانیہ کے دل کی کلی بھی کھل اٹھی تھی۔ السلام علیکم ! اس نے ٹیبل پہ موجود افراد کو سلام کیا تھا اور وہ سب پہلی بار اس کی آواز سن کر بہت خوش ہوئے تھے۔ جیتی رہو بیٹا خوش رہو ! رحمان گردیزی نے باقاعدہ اُٹھ کر اس کے سر یہ ہاتھ پھیرا تھا۔

السلام علیکم زمان گردیزی ڈائننگ روم میں داخل ہوئے تو اس نے انہیں بھی سلام کیا تھا اور زمان گردیزی اسے سب کے ساتھ بیٹھا دیکھ کر بے انتہا خوش ہوئے تھے

اور خوش تو بڑی اماں بھی بہت ہو رہی تھیں وہ جو اتنے دنوں سے اپنے مرشد سائیں سے دھو کے کا روگ لئے بیٹھی تھیں، آج کچھ دیر کے اس میں کہہ رہا ہوں آپ کمرے میں جائیں۔ اب کی بار اس کی آواز قدرے بلند تھی اور شہر بانو ہاں موجود تمام افراد پر نگاہ ڈالتی، آنکھوں میں آنسو لئے ہوئے چلی گئی تھی اور ہارون اباسائیں اور چاچاسائیں کے ساتھ حویلی کے مردان خانے میں آگیا تھا، جہاں سید سراج حسین اور سید قائم حسین ان کے منتظر بیٹھے تھے۔

السلام علیکم مرشد سائیں۔ ” ہارون نے سلام میں پہل کی تھی۔ سید سراج حسین سے تو وہ لوگ واقف تھے ،البتہ سید قاسم حسین سے پہلی مرتبہ ملاقات ہو رہی، کیونکہ وہ تقریبا چھ سات روز قبل ہی انگلینڈ سے واپس آئے تھے اور یہاں ہونے والے کارنامے کا انہیں ابھی پتہ چلا تھا، وہ شہر بانو کے سب سے بڑے بھائی تھے ، جنہیں وہ لالہ جی کہتی تھی۔

کا آغاز کیا۔

کیسے ہیں مرشد سائیں ؟ آج ہمیں کیسے یاد کر لیا ؟ ہارون نے بہت اچھے طریقے سے ماحول میں رچی سنگین خاموشی کو توڑا تھا اور بات تم اپنی سناؤ برخوردار تم کس حال میں ہو ؟ اور ہم تمہیں کیسے بھول سکتے ہیں تم نے ہمارے ساتھ کیاہی کچھ ایسا ہے کہ بھولنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ وہ اب بھینچتے ہوئے بولے تھے۔

میں نے آپ کے ساتھ کچھ نہیں کیا، بس آپ کی رسم کے خلاف قدم اٹھایا ہے ، مر شد سائیں میں نے ایک لڑکی کی زندگی برباد ہونے سے بچائی ہے ، کوئی گناہ نہیں کیا میں نے۔ وہ ہمیشہ کی طرح آج بھی اپنے موقف پر ڈٹا ہوا تھا۔ تم نے ماری لڑی میں سے چل آنے رسم بڑے کے رواج اور داغ ہے تم تم نے ہماری لڑی میں صدیوں سے چلی آنے والی رسم کو توڑا ہے ، ہمارے بڑے بزرگوں کے رواج اور روایات کو داغ لگایا ہے تم نے اچھا نہیں کیا۔ خیر چھوڑو اس بات کو شہر بانو کہاں ہے بلاؤ اس کو ۔ وہ بہت ہی بے نیازی سے بولے وجہ پوچھ سکتا ہوں اس سے ملنے کی ؟ اس نے استفسار کیا وہ ہماری بیٹی ہے، کیا یہ وجہ کافی نہیں ہے ؟ وہ بہت ضبط کرتے ہوئے بولے۔آپ کی بیٹی اب میری بیوی ہے ، اس لئے میر احق ہے کہ میں اس سے ملنے والے ہر بندے سے ” وہ بھی بحث کرنے وجہ پوچھ سکوں۔

پر آتا تو پھر کچھ بھی نہیں دیکھتا تھا۔ نہارون بیٹا چھوڑو ان سب باتوں کو جاؤ شہر بانو کو لے کر آؤ۔ رحمان گردیزی نے درمیان میں بول کر ہارون کے کچھ کہنے کی گنجائش ہی نہیں چھوڑی تھی، مجبور اوہ اٹھ کر اپنے بیڈ روم میں آگیا جہاں وہ اکیلی بیٹھی آنسو بہار ہی تھی۔ چلئے زوجہ محترمہ آپ کی ملاقات آئی ہے۔ وہ اسے آنسو بہاتے دیکھ کر نہ جانے کیوں طئر کرنے

سے باز نہیں آیا تھا۔کون آیا ہے؟ وہ بے تابی سے استفسار کر رہی تھی۔

چل کر خود دیکھ لیجئے۔ وہ دروازے کا ہینڈل پکڑے کھڑا تھا، شہر بانو جلدی سے چادر اوڑھ کر باہر نکل آئی تھی۔ رحمان گردیزی اور زمان

گردیزی ان کو تنہائی فراہم کرتے تھوڑی دیر کے لئے باہر نکل گئے تھے، البتہ ہارون اندر ہی صوفے پر براجمان تھا، شہر بانو اپنے لالہ جی اور چچا سائیں سے گلے مل کر خوب روئی تھی، یہاں تک کہ اس کی ہچکیاں بندھ گئی تھیں۔ سے کام لو بیٹا صبر سے ، ہم تمہیں لینے کے لئے ہی آئے ہیں۔ انہوں نے اس کے سر پہ ہاتھ رکھتے ہوئے اسے تسلی دی تھی، جبکہ ہارون نے بُری طرح چونک کر ان کو دیکھا تھا، وہ جیسے کچھ سوچ کر آئے تھے وہاں۔ اتنے میں ہارون کا سیل فون بج اٹھا تھا، کال یقینا خاصی اہم تھی، تبھی وہ اٹھ کر راہداری کی سمت چلا آیا تھا، اب سید سراج حسین سید قاسم حسین اور شہر بانو کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا۔ تقریباً پانچ منٹ کال سننے اور پانچ منٹ اپنا کوئی کام نبٹانے کے بعد دوبارہ اندر داخل ہوا تو وہ لوگ جانے کے لئے اٹھے۔ ۔کھڑے ہوئے تھے۔

“شہر بانو ہمارے ساتھ جارہی ہے۔

کس سے پوچھ کر ؟ اس کا انداز سر تھا۔ اس کے اس انداز پر شہر بانو اور سید قاسم نے ٹھٹک کر دیکھا ایک بیٹی کے باپ کی طبیعت خراب ہوا اور وہ ہسپتال میں پڑا ہو تو ہمار اخیال ہے کوئی بھی روکنے کا حق نہیں رکھے گا۔ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں، آپ اسے روکنے کا کوئی بھی حق نہیں رکھتا، ہوائے اس کے کے۔ وہ کافی سخت لہجے میں بول رہا تھا۔ برخوردار تم جان بوجھ کر دیکھئے مرشد سائیں آپ چاہے جو جتن کر لیں، میں اپنی بیوی کو آپ کے ساتھ نہیں بھیج سکتا، چاہے اس کے والد محترم بیمار پر اوکے اگر آپ میری اجازت کے بغیر جائیں، چاہے پورا خاندان۔ ہم اسے لے کر جارہے ہیں۔

اسے یہاں سے لے کر جا سکتے ہیں تو ٹھیک ہے جائے۔ وہ ذراسا پیچھے ہٹ گیا تھا لیکن اس کے خاص ملازم کافی بھاری بھر کم اسلحہ لئے کھڑے تھے ، وہ لوگ اس وقت نشانے کی زد میں تھے۔

شہر بانو کا رنگ فق ہو گیا تھا۔

اللہ کے لئے ہارون آپ کچھ خیال کریں۔ شہر بانو پہلی بار اس طرح مخاطب ہوئی تھی ، وہ کسی اور موڈ میں ہوتا تو ضر و ر انجوائے کرتا مگر اس وقت

سرد مہری کے سوا کچھ نہیں تھا اس کی اس بلینا واں میرے بابا سائیں کی طبیعت خراب ہے، مجھے جانے دیں پلیز ۔ وہ کوئی بدمزگی نہیں کروانا چاہتی تھی، جب ہی لجاجت سے کام لیا تھا۔ ” ہے آج کی گئی بھی واپس نہیں آئیں گی، شہر بانوالہذا بہتر یہی ہے کہ آپ کہیں کہ کسی طور مانے والا نہیں تھا، یہاں تک کہ شہر بانو نے ہاتھ بھی جوڑ دیئے تھے۔ ٹھیک ہے ہارون گردیزی آپ نے جو چاہادہ کیا۔ اب جو ہم چاہیں گے وہ ہو گا، چلئے چھا سائیں چلتے ہیں اب سید قاسم حسین پہلی بار بولے تھے اور فیصلہ کن بولے تھے شہر بانو کا ہاتھ چھوڑ کر انہیں چلنے کا کہا تھا اور وہ بھی خاموشی سے اب بھینچ کر وہاں سے چل پڑے تھے۔

چاسائیں، لالہ جی۔ وہ پیچھے سے پکاری تھی لیکن سید قاسم حسین نے اسے روک دیا تھا، خود تیز سے باہر نکل گئے تھے ، ہارون نے اپنے آدمیوں کو جانے کا اشارہ کیا اور اس کی سمت پلٹا، مگر وہ لہرا کر فرش پہ آرہی تھی، اسے ان کے چلے جانے کا اتنا گہر اصدمہ ہوا تھا کہ وہ اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھی تھی اور ہارون کچھ گھبر اسا گیا تھا۔

کمرے میں نائٹ بلب کی مدھم روشنی گنگنا رہی تھی اور گہر اسناٹا دم سادھے کھڑا تھا، اس کی آنکھ کھلی تھی، اس نے کچھ یاد آنےپہ چونک کر گردن موڑی، ہارون چند انچ کے فاصلے پہ لیٹا سورہا تھا۔ لیکن اس کا ہاتھ شہر بانو کے او پر پورے استحقاق سے رکھا تھا، کوئی اور وقت ہوتا تو وہ اس کے لمس ، اس کی اتنی قربت سے یکدم تڑپ کے اٹھ جاتی لیکن آج کچھ ایسا تھا کہ وہ اس کے لمس کی وجہ سے نہیں اپنے اندرانڈ نے والی کے آج ایسا تھاکہ وہ اس نفرت کی وجہ سے اٹھ بیٹھی تھی اور اس کے اس طرح یکدم جھٹکے سے اٹھ جانے کی وجہ سے ہارون کی نیند بھی ٹوٹ گئی تھی۔ صبح وہ گہرے صدمے کی وجہ سے بلڈ پریشر لوہو جانے کی بنا پر بے ہوش ہو گئی تھی اور ڈاکٹر نے اس کے لئے ڈر تجویز کی تھی، اس لئے دوائی کے زیر اثر وہ رات گئے تک غنودگی میں تھی آپ ٹھیک تو ہیں نا؟ ہارون نے کہنی کے بل اٹھتے ہوئے اس کی کلائی چھو کر دیکھی۔

“کیوں ہاتھ نہ لگاؤں؟ یہی تو وقت ہوتا ”پلیز مجھے ہاتھ مت لگائیں۔ وہ ناگوار لہجے میں بولی تھی۔

ہے آپ کو ہاتھ لگانے گا۔ اس نے معنی خیزی سے کہتے ہوئے شہر بانو کو بازو سے پکڑ کر اپنی سمت جھکا لیا تھا، کمرے میں نیم تاریکی کی وجہ سے وہ ابھی تک اس کے چہرے کے تاثرات نہیں دیکھ پایا تھا۔

مگر مجھے آپ کا لمس اذیت دیتا ہے، بُرا لگتا ہے ، نفرت ہوتی ہے مجھے آپ سے۔ آپ انسان نہیں بہت بے رحم اور بے حس جانور یکدم ہارون کا ہاتھ اٹھا تھا اور شہر بانو کے چہرے پر نشان چھوڑ گیا تھا۔ کبھی کسی اور کی شہر بانو وجہ سے مجھ سے اونچی آواز میں بات کی تو مجھ سے بڑا کوئی نہیں ہو گا۔ ہاں اگر تمہارے ساتھ کچھ ناانصافی یا کچھ بُرا کروں تو پھر چاہے کچھ بھی کر لینا، کچھ بھی۔ وہ لفظ چباچبا کر کہتا بستر سے اُٹھ گیا تھا۔

شہر بانور وتی ہوئی دوبارہ تکیے پر گرگئی تھی، جبکہ ہارون در وازہ کھول کر ٹیرس پہ چلا گیا تھا اور اس نے ساری رات ٹھنڈک میں میرسا پڑھنے کے لئے مسجد چلا گیا۔

کھڑے گزار دی تھی، فجر کی اذان ہوئی تو وہ نماز وہ دوبارہ اس سے کوئی بات کئے بغیر شہر واپس چلا گیا تھا، اتنی جاگیر ،اتنی جائیداد ہونے کے باوجود وہ اپنا بزنس کرتا تھا، اسے باپ، دادا کی کمانی پہ عمر بھر عیش کرنے کا کوئی شوق نہیں تھا، حالانکہ رحمان گردیزی اور زمان گردیزی اسے منع کرتے تھے کہ اور کاموں میں پڑنے کی بجائے وہ اپنی جاگیر سنبھالے تو انہیں خوشی ہو گی لیکن اسے ابھی سے جاگیر داری کے جھنجٹ میں پڑنا پسند نہیں تھا۔ اگر چہ وہ لوگ اصرار بھی کرتے رہتے تھے۔ وہ چاہتے تھے ان کا اکلوتا لاڈلا سپوت ہر وقت حویلی میں نظر آتار ہے ، مگر وہ وہ جو پہلے ایک، دو ہفتے بعد آجاتا تھا، اب دو ماہ گزر جانے کے بعد بھی حویلی آنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ شہر بانو مسلسل دوماہ سے اپنے کمرے سے نہیں نکلی تھی، اس نے سب سے ترک تعلق کر رکھا تھا، یہاں تک کہ ثانیہ اور زینی آپی سے بات بھی نہیں کرتی تھی، حالانکہ زینی آباد و بارہ اپنے سسرال سے بطور خاص اس سے ملنے کے لئے آئی تھیں لیکن وہ تو جیسے گونگے کا گڑ کھا بیٹھی تھی۔ شہر بانو تم بتاتی کیوں نہیں بولو کیا ہوا ہے، کوئی

ناراضی ہوئی ہے تم دونوں میں ؟ اس نے تم سے کچھ کہا ہے ؟ اللہ کے لئے کچھ تو بتاؤ، ہم سے بات تو کرو۔ زینی آپا نے بالآخر اسے جھنجوڑ ڈالا تھا۔

کیوں کروں آپ سے بات؟ کیا رشتہ ہے میرا اور آپ کا؟ کس حیثیت سے مجھ سے بات کرنا چاہتی ہیں؟ اونہہ جس حوالے سے آپ مجھے دیکھ رہی ہیں اس حوالے کو دوماہ سے میں نے تسلیم کرنا چھوڑ دیا ہے ، آپ سب لوگ دھو کے باز ، دوغلے اور انتہائی بے رحم لوگ ہیں ، انسانیت ختم ہو چکی ہے آپ لوگوں سے میں آپ سب کی شکل بھی ، یکہ نہر ماہتی ، چلی جائیں یہاں سے ، آپ لوگوں کے ساتھ بیٹھنے اور بات کرنے سے بہتر ہے میں اکیلی خاموش کمرے میں بیٹھی رہوں۔ وہ یکدم پھٹ پڑی تھی اور اس کے اندر ملنے والا ز ہر پوری شدت سے باہر آیا تھا، زینی آپا کتنے ہی لمحے ششدری بیٹھی رہ گئی تھیں، اس کے الفاظ، اس کا لہجہ سن کر وہ بے یقین ہی ہو رہی تھیں کہ کیا یہ سب کچھ شہر بانو نے ہی کہا ہے نا؟ وہ شہر بانو جو ذراسا اونچا بولتے ہوئے بھی سو بار سوچتی تھی، جسالہ ہی ان بانوس کا لہجہ ہی اتنا ملائم ہوتا تھا کہ ہر بات میٹھی لگتی تھی۔ دو لیکن شہر بانو اس کی کوئی وجہ بھی تو ہو گی نا؟

آخر ہوا کیا ہے ؟ زینی آپا نے اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے دوبارہ سے سلسلہ کلام جوڑا تھا۔ جب آپ کا بھائی میرے گھر والوں کے ساتھ ایسا سلوک کر سکتا ہے ،میرے بابا کی طبیعت خراب کا سن کر بھی اس پر کوئی اثر نہیں ہو سکتا، میرے رشتوں کی عزت نہیں کر سکتا، میرے بڑے بزرگوں کی رسم وروایات توڑ سکتا ہے تو میں بھی اس کر سکتے میں بھی اس کے رشتنا ط نبھانے کی پابند نہیں ہوں۔ وہ پی گئی تھی اور زینی آپا کو سارا معاملہ سمجھ آگیا کہ وہ کس وجہ سے ایسی ہو رہی ہے۔

شہر بانو وہ بھی تو تمہارا بھلا ہی چاہتا ہے تمہاری زندگی کو بے رنگ ہونے سے بچارہا ہے ، بلکہ مہی نہیں تمہاری آئندہ نسل میں پیدا ہونے والی بیٹیوں کو بھی بچانے کی کوشش کر رہا ہے ، آج اگر تم اس رسم کی بھینٹ چڑھ جاتیں تو کل تمہارے بڑے بھائی کی بیٹی کو بھی اس رسم کے نام پر قربان کیا جا سکتا تھا، کیا تم چاہو گی کہ تمہاری بھتیجی کے ساتھ ایسا کچھ ہو؟ زینی آپانے اسے آئندہ کا منظر دکھانے کی کوشش کی تھی۔ وہ اپنی بھتیجی کا سن کر چونک گئی تھی۔ ” تم اپنے بارے میں نہ

 سوچو مگر ایک بار آنے والی نسل کی بیٹیوں کو سوچو، ان کا کیا حال ہو گا؟ اور پھر یہ بھی سوچنا کہ“ہارون کس حد تک غلط ہے ؟ وہ اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر چلی گئیں اور شہر بانو حقیقتا ٹھٹک کر گئی تھی۔ اپنے سے آگے تو اس نے سوچا ہی نہیں تھا کہ اس کی بھتیجی بھی؟ کتاب کم چند دنوں سے اس کی طبیعت کچھ بو جھل بو جھل سی ہو رہی تھی لیکن نہ تو وہ کمرے سے

ماہر کی تھی اور نہی کسی اور کو طبیعت کی خرابی کا بتایا تھا، اسی لئے دن گزرتے رہے اور اس کی صحت گرتی رہی، اسے اپنی کمزوری اور نقاہت کا احساس تو تھا، مگر اپنا خیال رکھنے کا احساس نہیں تھا، ا۔ اپنی تھا، اپنا کا اسے بس اپنوں سے جدائی اور رسم اور روایات کے ٹوٹنے کا غم کھائے جار ہا تھا، وہ دن بھر بس یہی سوچتی رہتی تھی ، اب تو دماغ بھی چکرانے لگا تھا۔ پہلے اس  حاتم والوں نے نوٹ کی تھی اور آج آج تو ہارون بھی اسے دیکھ کر ٹھٹک گیا تھا۔

ظہر کا وقت تھا جب وہ شہر سے گاؤں آیا تھا، پہلی ملاقات چاسائیں اور اباسائیں سے ہوئی تھی ، وہ لوگ کسی پنچائیت سے واپس آئے تھے ، ان سے مل کر بڑی اماں کو سلام کرتاوہ اپنے کمرے میں آگیا تھا۔ شہر بانو بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے بیٹھی کسی غیر مرئی نقطے کو گھورتی ہوئی گہری سوچ میں گم تھی، دروازہ کھلنے کی آہٹ پہ بھی اس کی سوچ کا تسلسل نہیں ٹوٹا تھا۔ ہارون اسے اس حال میں دیکھ کر چونک ہی تو گیا تھا، کیونکہ وہ اسے اچھے بھلے حال میں چھوڑ گیا تھا، اس کی صحت بھی ٹھیک ٹھاک اس کی صحت بھی ٹھیک ٹھاک تھی لیکن اب تو وہ کافی بیمار نظر آرہی تھی۔

السلام علیکم ! اس نے اپنے اور شہر بانو کے درمیان موجود حظی اور غصے کی دیوار کے باوجود سلام کرتے ہوئے اسے مخاطب کیا تھا، شہر بانو نے یکدم چو نکلتے ہوئے سر اٹھا کر اس کی سمت دیکھا تھا۔ کیسی ہیں آپ؟ اس کی طرف سے سلام کا جواب نہ پا کر اسنے کا اھ ہارون بیڈ کی پاکتی والی سائیڈ سے گھوم کر اس کی سائیڈ میں آیا اور اس کے سراٹھاکر اسکی ہیں کی قریب ہی بیٹھ گیا تھا۔ لگتا ہے آپ کی طبیعت خراب رہی ہے ؟ آپ کی صحت بہت ڈاؤن لگ رہی ہے۔ اس نے بہت ہی نارمل سے انداز میں فورا ہی اپنی تشویش کا اظہار کر دیا تھا۔ میری صحت ڈاؤن ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے ؟ زندہ تو ہوں وہ لیٹی سے کہتی بیڈ سے اٹھے گی تھی کہ ہارون نے اس کا ہاتھ پکتی سے تھام لیا تھا۔

شہر بانو آپ کی اس بد گمانی اور جنگی کی وجہ سے میں اتنے دن حویلی نہیں آیا، مجھے پتہ ہے کہ آپ کو مجھ سے چڑ ہو گی، مجھے پر بار بار غصہ آئے گا، جس کی وجہ سے میر اموڈ بھی آف ہو گا۔ تو اس سے بہتر تھا کہ ہم لوگوں کا سامناہی نہ ہوتا، لیکن ایک انسان اپنے گھر سے کتنی دیر دور رہ سکتا ہے۔ میں بھی آج چلا آیا، آپ کی خفگی اور بد گمانی مثانے کے ارادے سے۔ وہ اس

کا ہاتھ نرمی سے د بار ہا تھا۔ اونہہ بد گمانی مثانے کے ارادے سے جس طرح آپ اپنے گھر سے دور نہیں رہ سکتے تھے ، اسی طرح میں بھی نہیں رہ سکتی، میرا بھی دل چاہتا ہے اپنوں سے ملنے کو ، اپنے گھر جانے کو سب کو دیکھنے کے لئے میں بھی تڑپتی ہوں۔ وہ دبےلہجے میں چیچ کر کہتی اپنا ہاتھ چھڑانے لگی۔ میں آپ کو اپنوں سے ملنے سے کبھی نہ روکتا، اگران کے عزائم اچھے ہوتے ، اگر وہ آپ کو دوبارہ میرے پاس آنے دیتے، میں آپ کا جانا تھوڑی دیر کے لئے تو افورڈ کر سکتا ہوں مگر ہمیشہ کے لئے نہیں۔ اس نے نفی میں گردن ہلاتے ہوئے کہا تھا۔ مگر میں آپ کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتا ہوں۔ وہ اس کے “مگر میں آپ کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔

ہاتھ کو نرمی سے قریب کرتے ہوئے ہاتھ کی پشت پہ بوسہ دے چکا تھا، شہر بانو گنگ سی ہو گئی تھی ، اس کے ہونٹوں کا مس جسم میں سنسی سی بھر گیا تھا، اس کے سارے احتجاج اور بد گمانیاں جیسے ٹھٹھر کے رہ گئی تھیں کہ یہ کیا ہوا ہے ؟ پلیز میرا ہاتھ چھوڑ دیں۔ وہ مرے مرے” بعداتنے دنوں بعد آیا ہوں ملیں گی نہیں مجھ سے ؟ اس کے کہنے کا انداز لہجے میں بمشکل بولی تھی۔

ہی کچھ ایسا تھا کہ شہر بانو چہرہ جھکانے پہ مجبور ہو گئی تھی اور ہارون نے اتنے نازک فسوں خیز لمحوں کو رفتہ رفتہ اپنی دسترس میں لینا شروع کر دیا تھا۔ مسلسل اتنے دنوں سے پہنی جنگ لڑ لڑ کر دونوں ہی تھک چکے تھے ، اک دوسرے کے قرب کا سہار ملاتو انکارنہیں ہو سکا تھا۔ شہر بات تو تھی ہی نرم مزاج ، وہ بختی کا خول چڑھا ہی نہیں سکتی تھی، بس باپ کی بیماری کا سن کر اتنی تلخ ہوگئی تھی اور یہ تو اس کا حق بنتا تھا کہ اس طرح غصہ کرے کیونکہ ایسے حالات میں تو بندہ نہ جانے کیا کیا کر ڈالتا ہے،

اس نے تو پھر صرف غصہ ہی کیا تھا، اور ہارون کو بھی اس کے غصہ ختم ہو “

آرام سے اسے دوبارہ سمجھا سکے لیکن پہلے اس نے پیار بھرے انداز میں سمجھاناشروع کیا تھا۔

بیٹا تم اور کچھ نہ کرو بس شہر بانو کو ڈاکٹر کے پاس لے جاؤ، اس کا چیک اپ کرواؤ، کیا مسئلہ ہے اسے ، وہ اتنی کمزور اور زرد کیوں ہو رہی ہے ؟ اماں سائیں نے ناشتے کی میز پہ پہل ذکر یہی کیا تھا کہ شہر بانو بہار لگتی ہے ، جوا با سبھی نے ہاں

ٹھیک ہے اس بار شہر جاتے ہوئے اسے بھی ساتھ لے جاؤں گا۔ آپ بھی ساتھ چلئے گا، پھر آپ بھی لے جاوں گا۔ ساتھ چلے گا، لوگوں کو واپس بھیج دوں گا اور خود ہیں رک جاؤں گا۔ اس نے پروگرام ترتیب دیا۔ ہاں ٹھیک ہے۔ وہ سر اثبات میں ہلاتے ہوئے اس کے لئے چائے بنانے لگیں۔ مگر وہ لوگ ابھی پرو گرام ہو گئی، آج صبح ماتھے کہ شہر بانو کی طبیعت زیادہ خراب بار بار ابکائی آرہی تھی،

جس کی وجہ سے وہ مزید نقاہت کا شکار ہوئی تھی اور بلڈ پر یشر بھی لو ہو گیا تھا، ملازمہ معمول کے مطابق اس کا ناشتہ دینے کمرے میں گئی تو اس کو نیم بے ہوشی کی حالت میں دیکھ کرال تھی۔ بشکش صاحب جی ! وہ بی بی جی بہت بیمار ہیں بے ہوش پڑی ہیں۔ رضیہ ہانپ رہی تھی ، ہارون پریشان ہوتا فوراً اپنی جگہ سے کھڑا ہو گیا تھا، اماں سائیں ، چی اماں اور ثانیہ بھی اٹھے

ہوئی ہی بیڈ کھڑی ہوئی تھیں ، ہارون صبح سویرے ہی بیڈ روم سے نکل آنا تھا، کبھی زمینوں کی طرف نکل جاتا تھا اور کبھی حویلی کے لان میں ہی گھاس اور شبنم کو روندتے ہوئے باتوں میں وقت گزار دیتا تھا،

آج بھی وہ زمینوں کی طرف گیا تھا اور واپسی پر ان کے ساتھ ہی ناشتہ کرنے بیٹھ گیا تھا اور اب اس کی طبیعت کی خرابی کا پتہ چلا تو اپنی کوتاہی کا احساس ہوا تھا، کیونکہ شہر بانو کی طبیعت فجر سے ہی خراب ہی تھی، وہ دو بار اٹھ کر باتھ روم گئی تھی اور وہ اسے میڈیسن لینے کا مشورہ دے کر باہر چلا آیا تھا۔

کیا ہوا ہے شہر بانو ؟ بیٹا آنکھیں کھولو۔ ہارون نے اسے بیڈ پہ ڈالا تو اماں سائیں نے فکر مندی ساس کا ہاتھ تھام کر سہلایا تھا، اس کا گال تھپکا۔ رضیہ ادھر آؤ۔ چی اماں نے شہر بانو کو اک نظر دیکھ کر کچھ سوچتے ہوئے کہا تھا۔ جاؤ وہ لیڈی ڈاکٹر ہمارے گاؤں میں رہتی ہے اسے بلا کر لاؤ۔

لیڈی ڈاکٹر کے ذکر یہ اماں سائیں اور ہارون بیک وقت چونکے تھے ۔ پنچھی اماں ؟ ہارون نے کچھ کہنا ڈاک کے ذکر پہلا سائیں اور ہارون یک وقت کے تھے۔ چی ماں بہارون نے کچھ کہنا چاہا مگر انہوں نے روک دیا تھا۔ تم باہر جاؤ بیٹا، یہ تمہار امسئلہ نہیں ہے۔ ہارون ان کے ٹوکنے پہ شر مندہ ساہو کر باہر آگیا تھا اور پھر بیچ بیچ بچی اماں کے شنک نے انہیں ایک خوشخبری سناڈالی تھی، جس سے وہ کبھی لوگ ہی نہیں ہارون بھی بے انتہا خوش ہوا تھا اور بڑی اماں تو واری صدقے ہو رہی تھیں، انہوں نے بے

ہوش پڑی شہر بانو کی بلائیں لے ڈالی تھیں۔

گھر کی پیشکش لگتا ہے آپ اس خوشخبری سے خوش نہیں ہیں ؟ ہارون پہلی نظر میں ہی شہر بانو کا کم لگتا ہےآپ اس سے خوش نہیں ہیں ؟ہارون پہلی نظرمیں کم سم رویہ دیکھ کر جان گیا تھا۔ وہ کچھ بھی کہنے کی بجائے خاموش رہی تھی، آج وہ لوگ شا تھا میں اس کا مکمل چیک اپ کروانا چاہتی تھیں، اس کے لئے بیڈ ریسٹ اور غذا و غیرہ کی تفصیل جاننا اور چاہتی تھیں، جبکہ شہر بانو کو اس چیز کی کوئی خوشی نہیں تھی، الٹا اپنا آپ قید ی نظر آنے لگا تھا۔

مگر شہر بانو میں بہت خوش ہوں، اللہ نے میری بہت بڑی خواہش پوری کی ہے ، ہمارا بچہ ہمارے گا اور ہمیں مزید قریب لے کر آئے گا ہمارار شتہ اور بھی مضبوط ہو گا، ہماری زندگی مکمل ہو جائے گی۔ وہ دل کی گہرائیوں سے اظہار کرتا اسے دونوں کندھوں سے تمام چکا تھا، جبکہ وہ تو ہارون کی شکل دیکھنے سے بھی کتراتی تھی اس وقت بھی نظر چرا گئی تھی۔

شہر بانو مجھے اپنا سمجھو، میں تمہارا ہوں اور کبھی تمہارا برانہیں چاہوں گا تم مجھ سے بد گمان نہ رہا کرو،

میرا پاکر کر آج بار میر اول بجھ جاتا ہے۔ وہ اتنی بڑی خوشخبری پا کر جذباتی پن کا مظاہرہ کر رہا تھا اور آج پہلی بار آپ

تممیک آیا تھا، شاید وہ یہ مجھ رہا تھا کہ اب ان کے بیچ کے فاصلے مٹ گئے ہیں، مگر ! اماں ” سے سائیں ساتھ جانے سے کترا تو رہی تھیں، مگر ہارون تسلی کے لئے زبردستی ان کو ساتھ لے آیا تھا، پہلا دن تو انہوں نے گھر پر ہی گزارا تھا اور ڈاکٹر سے ٹائم لے لیا تھا۔ دوسرے دن عصر اور مغرب کے درمیان وہ لوگ ہسپتال جانے کے ہسپتال اچھا ہے نا؟ اماں سائیں کے سوال پر وہ بے اختیار ہنس دیا تھا۔ نہیں میں آپ کو سرکاری ہسپتال لے کر جارہا ہوں، وہ بھلا چھا کیسے ہو سکتا ہے؟ اگلے میرے کہنے کا مطلب تھا کہ ڈاکٹر تو ماہر ہے نا؟ کئی ایسی بھی ہوتی ہیں جو نی نی سیکھ رہی ہوتی ہیں اور لوگوں کی جان خطرے میں ڈال اماں سائیں نے مسکرا کر کہا۔ اماں سائیں جس طرح میں آپ کو بہت پیارا ہوں اسی دیتی ہیں۔

طرح مجھے بھی تو اپنی اولاد پیاری ہے۔ اس نے دلچسپی سے کہتے ہوئے شہر بانو کی طرف دیکھا جو ان ماں، بیٹے کی گفتگو سے یکسر انجان اور لا تعلق بن بیٹھی تھی، سارا راستہ یو نہی کٹ گیا تھا، ہسپتال پہنچ کر ہارون پھر اپنے سنجیدہ موڈ میں آگیا تھا۔ ڈاکٹر کی ہدایت اور چیک اپ کے مطابق چند ابتدائی ٹیسٹ کروائے، الٹرا ساؤنڈ کروایا اور پھر مثبت رپورٹ

کر وہ لوگ وہاں سے نکلے تھے ، البتہ شہر بانو کی کمزوری کے پیش نظر ڈاکٹر نے کچھ دوائیاں تجویز کی تھیں جو ہسپتال سے فوری نہیں مل سکی تھیں، لہذا ہارون نے سڑک پار بنے چند میڈیکل سٹورز کی طرف رجوع کیا تھا۔ آپ لوگ گاڑی میں بیٹھیں میں دوائی لے کر آتا ہوں۔ وہ دروازہ کھول کر ان کو بٹھا کے سڑک کر اس کر گیا

تھا۔ ابھی اسے گئے چھ سات منٹ ہی ہوئے تھے کہ ان کی گاڑی کا دروازہ ایک جھٹکے سے کھلا تھا۔ شہر بانو چکر آگئی تھی۔ لالہ جی !

نیچے اتر وشہر بانو ! وہ عجلت میں بولے تھے۔

!وہ اس کی بات سنے بغیر اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنی سمت کھینچ چکے دیگر لالہ جی کی یہ شہر بانو نیچے اتر و تھے ، ایسے میں اماں سائیں تڑپ اٹھی تھیں، وہ شہر بانو کی حالت سے واقف جو تھیں، ماں جی آپ آرام سے بیٹھی رہیں، ہم آپ کو میں پہنچا ئیں گے۔ مگر اپنے بیٹے کو ان بتادیجئے گا کہ کسی پہ اچانک حملہ نہیں کرنا چاہئے، بندہ منتقل نہیں پاتا۔ وہ ایک ہی بات میں اپنا حملہ اور ہارون کا حملہ بھی واضح کر گئے تھے ، اماں سائیں نے انہیں روکنے کی ہی بات میں اپنا اور کا

 جانے کی کوشش کی مگر ان کے ساتھ مسلح افراد تھے ، شہر بانو بھی اماں سائیں کی تڑپ اور کبھی لالہ جی کا غصہ دیکھتی گھٹتی چلی گئی تھی، اسے کچھ سمجھ نہیں آیا تھا

کہ یہ اچانک کیا ہوا ہے ؟ وہ تو یہ بھی نہ جان سکی کی جما ہوا ناسی؟ ہارون کے لئے بیچ بیچ یہ حملہ بہت کاری تھا اور اس سے حملے سے سنجلنا بھی بہت مشکل کام تھا، مگر کے لئے جی یہ حملہ تھا اور سے حملے سے سنجلنا  ہارون نے یہ حملہ سہہ کر دوسروں کو بھی سنبھالا تھا اور اپنے آپ کو بھی وہ چاہتا تو ان کے اس ایکشن کاری ایکشن لے سکتا تھا، وہ پولیس کی مدد سے بھی اپنی بیوی، اپنی منکوحہ پر حق جتا سکتا تھا، مگر اس نے جان بوجھ کر ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا تھا، کیونکہ اسے پورا یقین تھا کہ وہ لوگ شہر بانو کی کنڈ یشن جان لینے کے بعد زیادہ دن اپنے کہ کنڈیشن پاس نہیں رکھیں گے اور ویسے بھی وہ اس مسئلے کو اچھالنا نہیں چاہتا تھا، کیونکہ شہر بانواب ان کی نہیں ہارون کی اپنی عزت تھی اور اسے یہ بھی پتہ تھا کہ جس زنجیر میں شہر بانو بندھ چکی ہے وہ اتنی کمزور نہیں کہ اس سے رہائی ممکن ہو شاید اسی لئے وہ کافی حد تک ریلیکس تھا، کیونکہ اگر وہ لوگ

کوئی حتمی فیصلہ کرنا بھی چاہتے تو نہیں سنا تھا۔بارتو سو بار اور یہ بیچ ہی تو تھا شہر بانو کے واپس آنے کی خوشی سب کو ہوئی تھی بھی باری باری اس سےی باری باری اس سےملنے آئے تھے اور کبھی کو اس کی کمزور حالت اور زرد رنگت پر افسوس ہوا تھا کہ ان کی بیٹی غم میں گھل کر آدھی رہ گئی ہے، مگر جب عورتوں پر اصل بات کا انکشاف ہوا تو وہ بلک کے رہ گئی تھیں۔ بچہ ؟ اس کم بخت کا بچہ اٹھالائی ہو تم ؟ تمہیں شرم نہیں آئی ؟ تم اپنے بھائیوں کا، اپنے باپ کا صدقہ تھیں تم اپنا آپ بھی نہ سنبھال سکیں ؟ داغ لگا کےرکھ دیا ہے اس لڑی (نسل) کو۔ چی بیگم نے اپنا سینہ پیٹ ڈالا تھا اور شہر بانو گھبرا کر ان کی شکل دیکھنے لگی اور پھر یہ ہوا کہ رفتہ رفتہ سب عور تں کا جمگھٹنا سالگ کیا تھا، جس میں مجرم شہر بانو سر جھکائے شر مندہ ہی مر جانے کو تیار بیٹھی تھی۔

کاش تم مر جاؤ ، ہارون گردیزی تم نے مجھے میرے اپنوں کی نظروں میں گرادیا ہے، میں مجرم ” بن گئی ہوں۔ اس نے دل ہی دل میں ہارون کو بُرا بھلا کہتے ہوئے اپنے آنسوؤں کو روکنے کی کوشش کی مگر دل اتنا بھر آیا تھا کہ آنسوؤں کو رکنے کے لئے جگہ نہ ملی تھی اور وہ چھلک آئے تھے۔

امی کیا ضروری ہے کہ آپ ہر کام میں مداخلت کریں ؟ اس میں شہر بانو کا کیا قصور ہے ؟ زہرا اس )  کے قریب آتے ہوئے اس کی ڈھال بن گئی تھی اور اپنی ماں سے خفا ہونے لگی۔

” ارے قصور کیوں نہیں ہے ؟  پلیز امی اللہ کے لئے کچھ تو خیال کر لیں یہاں کنواری، غیر شادی شدہ لڑکیاں بھی ہیں۔ اس نے بن بھی توسب کی سمت اشارہ کیا تھا جو شہر بانو کا تماشا دیکھنے کے لئے دلچسپی سے کھڑی تھیں۔ ٹھیک ہے بی بی میں کچھ نہیں کہتی ، مر دلوگ خود کہہ لیں گے ۔ وہ تنفر سے کہتی کھڑی ہو گئیں۔ ” مر د لوگ کیا کہیں گے ؟ یہ اس کی بیوی بن کے گئی تھی  بہن نہیں، اور بیوی پہ وہ ہر حق جتا سکتا تھا، ایک چھت تلے رہتے ہوئے وہ اتنا بھی مولوی یا پر ہیز گار نہیں تھا کہ اسے ہاتھ بھی نہ لگاتا، اور عورت کہاں اور کب تک بھاگ سکتی ہے ؟ مرد سے ؟ زہرا نے لڑکیوں کے جاتے ہی اپنی ماں کو صاف صاف سنائی تھیں۔

شہر بانواور ماں جی توان مشکور ہو گئی تھیں لیکن زہر ا بے شک زبان کی تلخو تیز تھی مگر دل کی کھری تھی، وہ پہلے بھی شہر بانو کا بھلا ہی چاہتی تھی اور اب بھی وہ اس کے حق میں بول رہی تھی، وہ اسے ساتھ لے کر اندر کمرے میں چلی گئی تھی، جبکہ پیچھے سر گوشیاں اور باتیں شروع ہو گی تھیں۔ شہر بانو کو واپس آئے ہوئے تین ماہ ہو چکے تھے مگر ان تین ماہ میں اس نے جی بھر کے خفت، شرمندگی اور ذلت دیکھی تھی،

وہ اپنے ہی گھر میں چوروں اور مجرموں کی طرح رو رہی تھی، گھر کے کسی بھی مرد کے سامنے نہیں جاسکتی تھی کسی خوشی اور غمی کا حصہ نہیں بن سکتی تھی، مینوں چیاں اور دونوں پھوپھیاں بھی اس کو دھتکار بیٹھی تھیں، صرف ماں جی اس کے لئے سکتی اور تڑپتی تھیں،انہیں پتہ تھا وہ کس حالت میں ہے مگر پھر بھی پریشان در فکر مند رہتی ہے، جس کی وجہ سے اس کی صحت بہت ہی خراب رہنے لگی تھی ، وہ اسے بہت سمجھاتی تھیں تسلی دیتیں ، مگر اسے یوں سب کی نظروں سے گر کر جینا بہت محال لگنے لگا تھا، وہ اپنے لئے بدعائیں مانگتی تھی اور ماں جی کا کلیجہ کانپ جاتا تھا۔ اسی پریشانی اور ٹینشن میں سارے دن گزر گئے اور شہر بانو کے ہاں بہت ہی پیار اس بنا پیدا ہوا تھا، جس کی پیدائش کی خبر سن کر سب حویلی والوں کو سانپ سونگھ گیا تھا۔ مبارک ہو شہر بانو تمہارا بیٹا بہت ہی پیارا ہے ، اپنے ماں ، باپ پر گیا ہے۔ زہرا نے کھلے دل سے سراہا اور نومولود بچے کو اٹھا کر پیار بھی سے سراہا کر پیار بھی کیا تھا۔ شہر بانو بے ساختہ رو پڑی تھی۔ اتنے بھرے پرے خاندان میں سے اس کی سماعتوں کو صرف ایک مبارک سے کوئی تھی۔ ” کہتے ہیں بیٹے ، باپ کا عکس ہوتے ہیں اور بیٹیاں ماں کا یہ بھی اپنے باپ کا عکس ہی لگ رہا ہے۔ زہر ابچے کو بغور دیکھ کر مسکرائی تھی اور پھر شہر بانو کی گود میں ڈال دیا تھا۔ اور بچے کے معصوم چہرے یہ جیسے ہی شہر بانو کی نظر پڑی اس کے آنسوؤں میں شدت آگئی تھی، اسے پہلا خیال یہی آیا تھا کہ اگر یہی بچہ ہارون گردیزی کی حویلی میں پیدا ہوا ہو تاتو کئی دن تک پورے گاؤں میں جشن منایا جاتا، صدقے دیئے جاتے نظر اتاری جاتی لیکن یہاں اس کی پیدائش کی خبر سن کر ہر ماتھے پر سلوٹ اور ہر چہرے پر ناگواری کے سوا کچھ نظر نہیں آیا تھا، سوائے ماں جی اور زہرا کے۔ شہر بانو پاگل ہو گئی ہو کیا؟ زہر انے اس کا کندھا ہلایا تھا، شہر بانو کے آنسو بچے کے نرم و ملائم چہرے یہ تواتر سے گر رہے تھے اور اس نے کسمساناشروع کر دیا۔ کاش ہارون گردیزی نے ہمیں دھوکہ نہ دیا ہوتا، اور ا گر دے ہی دیا تھا تو پھ میں یہاں دوبارہ واپس نہ آئی ہوتی، زہرا آپی مجھ سے یہ سب برداشت نہیں ہو رہا، سب مجھے قصور وار سمجھتے ہیں، کیا میں نے کہا تھا کہ وہ میرے ساتھ ایسا کچھ کرے؟ پہلے سب کی ناگواری میرے لئے تھی،

شواب میرے بچے کے لئے ہو گی، میں کیا کروں ؟ کہاں جاؤں ؟ وہ پھر سے بلک اٹھی تھی۔ اس کے پاس واپس چلی جاؤ ؟ زہرا نے سید ھاسید حاصل بتایا۔

کیا؟ وہ برک گئی تھی۔

’ہاں شہر بانواب اگر تم مر بھی جاؤ تو تمہیں وہ پہلے جیسا مقام حاصل نہیں ہو سکتا، قاسم لالہ تمہیں تمہارا اپنائیت میں واپس نہیں لے آئے ، بلکہ ہارون گردیزی کی ضد اور انتظام میں واپس لے کر آئے ہیں، تا کہ اسے شکست دے سکیں۔ لیکن شہر بانو جو شخص ساری زندگی تمہیں جانتا تک نہیں تھا، تمہارا نام بھی پتہ نہیں تھا، پھر بھی وہ تمہارے بھلے کے لیے تمہاری زندگی کو ایک فضول رسم سے بچانے کے لئے سب کے سامنے ڈٹ گیا تھا اور اپنے فیصلے پر قائم بھی رہا۔ پلیز

پلیز شہر بانو سے شکست سے دو چار مت کرنا، اسے ہارنے مت دینا، پلیز میری بات پہ دھیان دینا اور اس کے فیصلے میں اس کا ساتھ دے کر اپنے رشتے کو مزید مضبوط بنادو، ورنہ تم نہ یہاں کی رہو گی

نہ وہاں کی ہر انے اسے سمجھاتے ہوئے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا۔ کہہ رہی ہیں آپ؟ میں ٹھیک کہ رہی ہوں تم سب کو چھوڑ کر اپنے بچے کے بارے میں سوچو، جس کو تم یہاں اس حویلی میں رہ کر کبھی کوئی مقام نہیں دلا سکو گی ، جو اتنے بڑے خاندان

اور جاگیر کا وارث ہے وہ یہاں ایک ملازم بن کر رہ جائے گا، صرف تمہاری نادانی کی وجہ سے، کیونکہ بیٹیاں تو ہمیشہ ہی ماں، باپ کا گھر چھوڑ کر چلی جاتی ہیں، ہر بیٹی کو رخصت ہوتا ہی ہوتا ہے تم انوکھی تو نہیں ہو جو یہاں سے جاؤ گی، ہر بیٹی پر فرض ہوتا ہے کہ وہ ماں، باپ کا کہا مانے اور ان کی عزت کی لاج رکھے ہم نے بھی یہ سب کیا، ان کے کہنے پہ ہارون گردیزی سے شادی کی اور ان کی لاج رکھی۔ اب یہ ہارون گردیزی کا مسئلہ تھا کہ اس نے تمہارے ساتھ کیا کیا؟ تم اس کی بیوی ہو اور بیوی ہونے کے ناطے تم یہ فرض ہے کہ تم اس کا کہنا مانو اور اس کا ساتھ دو، اب تم پہ زیادہ حق تمہارے ماں، باپ کا نہیں تمہارے شوہر کا ہے اور تمہارا شوہر غلط بھی نہیں ہے، اس نے اگر ہماری اس صدقہ رسم کو توڑا ہے تو اچھا کیا ہے، کیونکہ اس رسم کاذکر نہ تو ہم نے قرآن پاک میں پڑھا ہے اور نہ ہی حدیث وغیرہ میں، یہ سراسر خود ساختہ رسم ہے جو ہم لڑکیوں کو زندہ دفن لئے بنائی گئی ہے۔ جس نے پھوپھی فاطمہ کو نگل لیا ہے، جس سے قاسم لالہ کی بیٹی زرینہ کو نگلنے کے لئے تیار کھڑی ہے، شہر بانو اپنے اور اپنے بچے کے بارے میں نہ سہی، مگر ایک بار دس سالہ زرینہ کے بارے میں ضرور سوچنا جو آئندہ اس رسم کی بھینٹ چڑھنے والی ہے ، اور ہاں یہ سب میں تمہیں اس لئے بتارہی ہوں کہ قاسم لالہ کے کہنے پہ میرے اباسائیں (سید سراج حسین ) چند دنوں تک بارون گردیزی سے تمہاری طلاق کی بات کرنے جارہے ہیں، اب یہ فیصلہ تم یہا ہے کہ تم نے طلاق لینی ہے یا اس کے ساتھ اس کی سہاگن بن کے رہنا ہے ؟ اور یہ کبھی مت بھولنا کہ میں اور تائی اماں تمہارے ساتھ ہیں۔ زہر اصاف صاف لفظوں میں سب کچھ کہہ کر اسے بیچ منجدھار چھوڑ کر چلی گئی تھی، شہر بانو سوچ کے جواسے سمندر میں اکیلی ڈوب رہی تھی اور اس سمندر میں ایک ہی جزیرہ تھا۔ ہارون گردیزی

,,، طلاق ” پناہ دے سکتا تھا، کھلے دل سے ! اور اس سمندر میں ایک ہی بھنور تھا۔

KITABI

BASTI

دل سے اور اگرجس میں ڈوب کر وہ اور بھی بیٹیوں کو ڈبو سکتی تھی سید معراج حسین بیٹی کی طلاق کے حق میں !

 

انہوں نے سید سراج حسین اور سید قاسم حسین کا فیصلہ سنا تو انہیں روکنے کی کوشش کیوں نے سید سراج حسین

تو نہیں روکنے کی کوتھی۔ لیکن وہ قائل نہیں ہوئے تھے ، حالانکہ انہوں نے بہت کوشش کی تھی۔ جوہات جہاں ہے اسے وہاں ہی رہنے دو قاسم حسین ہماری لڑی میں طلاق کو بہت بُرا سمجھا جاتا ہے اور یہ بُرا عمل شہر بانو کے پلو سے مت باند ھو ۔ وہ تھکے تھکے سے بولے تھے۔ ہماری لڑی میں تو صدقہ رسم کے ٹوٹنے کو بھی پر سمجھا جاتا ہے ابا سائیں ؟

ولیکن قاسم حسین بہتر ہے کہ اس معاملے کو دبارہنے دو، کیوں چھیڑ رہے ہو دوبارہ سے ؟

اس لئے چھیڑ رہا ہوں کہ ہارون گردیزی بہت سکون کی زندگی جی رہا ہے ، وہ ابھی بھی شہر بانو کو اپنا حق سمجھے بیٹھا ہے ، لیکن میں اس کا ہر کاہر قاسم حسین کا لہجہ بے حد سخت تھا۔ حق ختم کر دینا چاہتا ہوں ہمیشہ کے لئے۔

شہر بانو سے پوچھا تم نے ؟ وہ کیا چاہتی ہے ؟ سید معراج حسین بہت سمجھ دار آدمی تھے ، انہیں پتہ تھا

کہ شہر بانواب اکیلی نہیں ہے اس کا بیٹا بھی ہے۔ اب وہ خود اس سے نفرت کرتی ہے ، وہ بھی اس کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی اور اگر ایسا کرے گی تو ہمارے لئے ہمیشہ کے لئے مر جائے گی۔

سید قاسم حسین غصے سے لال ہو رہے تھے اور سید معراج حسین چپ سے ہو گئے تھے اور پھر سید قاسم کے کہنے پہ سید سراج حسین نے ہارون گردیزی کے ساتھ ایک میٹنگ طے کی اور مقررہ وقت پہ اس کے شہر والے گھر پہ چلے آئے تھے۔ طلاق کا لفظ بھی بھی ہارون کے دماغ کو چھن دے رہا تھا، جب سے سید سراج حسین گئے تھے وہ مسلسل اسی لفظ کے متعلق سوچ رہا تھا، اور ساتھ ساتھ یہ بھی خدشہ پل رہا تھا کہ اگر شہر بانو نے کہدیا کہ وہ میرے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تو پھر ، پھر میں اسے کیسے کنو نیس کروں گا ؟ اور میرے بیٹے کا کیا ہو گا؟ وہ ساری زندگی یا تو ماں کے پاس رہے گا یا پھر باپ کے پاس، اف خدایا، اپنا کرم کرنا مجھے وہ را کنگ چیئر پہ جھولتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھوں میں اپنا سر تھام چکا تھا۔ اس دیا جاتا تھا شہر بانو سے ملنے ، اور ابھی تک سمجھ نہیں آیا تھا کہ اس مسئلے کا اصل حل کیا ہو گا؟ شہر بانو کو یہاں سے گئے ہوئے سات ماہ ہو چکے تھے اور اب تو اس کا بیٹا تقریباً دو ماہ کا ہونے والا تھا اور ہارون نے ابھی تک نہ شہر بانو کو متا بھرے انداز میں دیکھا تھا اور نہ ہی بیٹے کی شکل دیکھ کر دل سیراب کیا تھا،

بلکہ ایسااب کرنے کے لئے تو ہارون گردیزی کے گھر والے بھی ترستے تھے ، رحمان گردیزی، زمان گردیزی اور بڑی اماں تو بات بات پہ اپنے پوتے کا ذکر کرتے تھے جو انہیں چاہ کر بھی مل نہیں رہا تھا اور یہی بات ہارون کو ڈسٹرب کئے ہوئے تھی، وہ حقیقتا پریشان تھا کہ فیصلہ ہوگا، کیونکہ وہ خود بھی سید سراج حسین سے وعدہ کر چکا تھا،

! مردوں والا و عده کیا

گمر کی سیکٹر بی بی جی آپ کو چھوٹے سائیں نے اپنے کمرے میں بلایا ہے۔ شہر بانو صبح صبح بچے کو ماں جی کے حوالے کر کے قرآن پاک کی تلاوت کرنے بیٹھ جاتی تھی اور سورج کی کر نیں نکلنے تک تلاوت کرتی رہتی تھی، ابھی بھی وہ سیپارہ ختم کرتے ہوئے قرآن پاک جزدان میں لپیٹ رہی تھی، جب ملازمہ نے آکر اطلاع دی تھی اور چچا سائیں کے بلاوے کا سن کر شہر بانوک دل کانپ گیا تھا،

اتنے عرصے میں پہلی بار انہوں نے اسے بلایا تھا۔

” کہاں جارہی ہو بیٹا ؟تھیں۔

وہ ماں جی چچا سائیں نے بلایا ہے۔ شہر بانو جاتے جاتے ٹھہر گئی تھی۔

خیریت تو ہے؟ پتہ نہیں ماں جی میں بات سن کر آتی ہوں، آپ عثمان کا خیال رکھئے گا۔ وہ کہہ کر چلی گئی تھی لیکن ماں جی کے ماتھے پہ تفکر کی لکیریں بن میں اندر آسکتی ہوں چاسائیں ؟ اس نے دستک دے کر پوچھا تھا۔

اندر چاسائیں؟اس نے دے پوچھاتھا

آجاؤ شہر بانو پھو یہاں انہوں نے سامنے صوفے کی سمت اشارہ کیا تھا۔ کمر کی پیشکش جی آپ نے اس نے سر جھکاتے ہوئے بمشکل پوچھا۔ بلایا تھا مجھے ؟ ہاں تمہیں یہ بتانے کے لئے بلایا تھا کہ آج دوپہر کو ہارون گردیزی یہاں حویلی آرہا ہے تم سے ملنے

اور شاید کوئی بات کرنے لیکن بیٹا ہم نے تم سے صرف اتنا کہنا ہے کہ ہم نے تمہاری طلاق کا مطالبہ کیا ہے اس سے اور اب تم نے ہماری ہاں میں ہاں ملا کر ہمارے فیصلے اور مطالبے کی تصدیق کرنی ہے، اسے ہر حال میں طلاق دینا ہی پڑے گی، وہ چاہے کچھ بھی کہے، اس کی باتوں میں مت آنا، ہم اس سے کہ چکے ہیں کہ تم بھی اس فیصلے میں رضامند ہو ، تم اس کے ساتھ نہیں رہنا چاہتیں۔ سید سراج حسین نے اپنے کہے کو سچ ثابت کرنے کے لئے شہر بانو کو جھوٹ پر اکسایا تھا، وہ

بھی کال بے نیازی ہے۔

رعب اور ٹھیک ہے اب تم جاؤ، جب وہ آئے گا تو تمہیں بلالیں گے۔ شہر بانو کو فیصلے کی سولی یہ لٹکاکر وہاں سے جانے کا حکم دے دیا تھا اور فیصلہ بھی کیا ؟ جس پر عمل پیرا تو وہ پہلے ہی ہو چکے تھے،

اب تو آخری قدم باقی تھا لیکن اس آخری قدم کا سن کر شہر بانو کے قدم واپس اپنے کمرے میں جاتے ہوئے لڑکھڑا رہے تھے ، اس کے ہاتھ برف ہونے لگے تھے۔

رمان، پیچھے سے زہرا نے پکارا۔ و صبح صبح اتنا سائیں کے کمرے میں ؟ خیریت تو ہے نا ؟ وہ خود ہی اس سے زہر نے پکارا۔ و ؟ نا؟ و خودی کے قریب آگئی تھی لیکن شہر بانو نے کچھ بھی کہنے کی بجائے اس کی سمت خالی خالی نظروں سے دیکھا تھا، گم سم اور نا سمجھ سے انداز میں دیکھنے کے بعد وہ خاموشی سے پلٹ کر اپنے کمرے میں چلی آئی جہاں عثمان نے رورو کر بُرا حال کی چی اسے چپ کراتے ہوئے ہلکان ہو رہی تھیں۔ کیا ہوا ہے شہر بانو ؟ ابا سائیں نے کس لئے بلایا تھا؟ زہرا اس کے پیچھے ہی چلی آئی تھی۔ کی پی

اسے بے چینی ہونے لگی تھی۔ “بولونا کیا بات کہی انہوں نے ؟ ہارون گردیزی سے میری طلاق کی بات کر کے آئے ہیں اور وہ آج یہاں حویلی آرہا ہے مجھ سے تصدیق حاصل کرنے کے لئے کہ کیا اس نے سپاٹ سے انداز میں بتایا تھا۔ “ میں طلاق چاہتی ہوں یا نہیں؟

، بابا تم

اور بابا سائیں نے کیا کہا تم سے ؟

کہ میں اس کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی، میں اس فیصلے میں برابر کی شریک ہوں۔ شہر بانو نے کہتے ہوئے اک نظر روتے بلکتے عثمان کی سمت دیکھا۔ مر کی پیداد و نہیں شہر بانو تم ان کے فیصلے میں ہر گز شریک نہیں ہو۔ زہرا نے سختی سے تردید کی تھی اور ماں جی بھی حد سے زیادہ پریشان ہو گئی تھیں.

گھر سے نکلتے وقت ہارون نے اباسائیں اور چا سائیں کو فون کر کے بتادیا تھا کہ وہ شہر بانوسے ملنے حویلی جارہا ہے اور کسی حتمی فیصلے کے لئے جارہا ہے۔ وہ سن کر خوش تو ہوئے ہی تھے لیکن پریشان بھی ہو گئے تھے کہ وہ ان کی حویلی اکیلا مت جائے، انتقام میں لوگ کچھ بھی کر ڈالتے ہیں،اس کو نقصان بھی پہنچ سکتا ہے اور تنہا جانا خطرے سے خالی نہیں ہو گا ، مگر ہارون نے انہیں تسلی دی تھی کہ وہ تمام بند و بست کر کے جارہا ہے، اسے نقصان پہنچانے کی صورت میں وہ لوگ خود بُری طرح پھنس سکتے تھے، اور وہ ہر طرف سے مطمئن ہو کر شام چار بجے حویلی پہنچ کر حویلی کے بڑے سے گیٹ پر ہارن دے رہا تھا۔ حویلی والوں کو پہلے ہی اطلاع مل چکی تھی اس لئے گیٹ کھلتا چلا گیا تھا۔ حویلی کے بڑے سے لان کی سائیڈ میں بنی روش پر چکر کاٹ کے اس کی مرسڈیز گاڑیوں کے ساتھ آر کی تھی جہاں ایک ملازمہ اس کی مدد کے لئے پہلے سے تیار کھڑی تھی، وہ گاڑی سے اتراہی تھا کہ

آگے بڑھ آئی تھی۔ وہ یابی یا اور کالک ملازم کے چھکے چل دیا تھا اوایل اداری اور راناروم کا گزرنے کے بعد لازم اسے گیسٹ روم میں چھوڑ گئی تھی، جہاں سید سران یہ قاسم حسین پہلے سے موجود تھے۔

بیٹھو۔ انہوں نے صوفے کی سمت اشارہ کیا تھا۔

شکریہ ۔ وہ ریلیکس سے انداز میں بیٹھ گیا تھا۔

کچھ سوچا تم نے ؟ انہوں نے نپے تلے انداز میں پوچھا تھا۔

جو کچھ آپ سے کہہ چکا ہوں اس کے بعد سوچنے کی گنجائش نہیں نکلتی مرشد سائیں۔اگر میری بیوی میرے ساتھ رہنا چاہتی ہے تو آپ اسے مر کے بھی نہیں روک سکتے اور اگر وہ میرے ساتھ رہنے سے انکار کرتی ہے تو میں آج ہی طلاق نامے پہ سائن کر دوں گا۔ اس کا لہجہ مضبوط تھا۔ ٹھیک ہے اگر وہ تمہارے ساتھ رہنا چاہتی ہے تو ہم سے سارے رشتے توڑ کر ہمیشہ کے لئے جاسکتی ہے اور اگر وہ تمہارے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تو تمہیں یہ رشتہ توڑ کر جانا ہو گا۔ طلاق کے کاغذات تیار رکھے ہیں ان پر سائن کر دینا۔ چلو قاسم حسین اسے فیصلہ کرنے دو۔ وہ ٹیبل پر رکھے کاغذات اورچین کی سمت اشارہ کر کے اٹھ کھڑے ہوئے تھے اور سید قاسم حسین بھی باہر نکل آئے۔ کیونکہ شہر بانو نے بھی فیصلہ سنانے کے لئے اندر آنا تھا۔ ملازمہ اس کے لئے چائے اور ساتھ میں کافی لوازمات لے کر آئی تھی، مگر ہارون کو ان چیزوں سے نہیں صرف اور صرف شہر بانو سے مطلب تھا، لیکن پھر بھی ایک اچھے مہمان کی طرح اس نے چائے کا کپ اٹھالیا تھا۔ بلیک پینٹ اور وائٹ |  ٹی شرٹ میں ملبوس ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے ہاتھ میں چائے کا کپ لئے وہ بہت شاہانہ انداز میں بیٹھا اتنا پر سکون لگ رہا تھا کہ اسے دیکھ کر شہر بانو کا دل دھڑک اٹھا تھا۔ اور شاید دھڑ کا بھی پہلی بار تھا۔ کا پتہ ہارون کو بھی چل گیا تھا تبھی تو چونک کر دروازے کی طرف دیکھا، جہاں “ اور اس دھڑ گئے

وہ خاموش سر جھکائے کھڑی تھی۔

شہر بانو۔ وہ یکدم کپ ایک سائیڈ پر رکھ کے صوفے سے کھڑا ہو گیا۔

کیسی ہو ؟ وہ اپنے دل کی لک، اپنے دلکی تر پر قابو پاتے ہوئے اپنے آپ کو کنٹرول کرتے ہوئے اس کے قریب آیا تھا، ورنہ

دل چاہ رہا تھا کہ اتنے دنوں بعد ملنے پر اسے اپنی بانہوں میں بھر ڈالے ، تا کہ اتنے دنوں سے بے چاہ رہاتھا کہ بعد اپنی بھرڈ لے تا کہ اتنے دنوں سے بے |

خاموش کیوں ہو شہر بانو ؟ اب تو تم اپنے گھر میں ہو، پہلے تم میری قید چین دل کچھ سنبھل جاتا۔ میں تھیں، اب میں تمہاری قید میں ہوں، جو چاہو فیصلہ سناد و تمہیں پورا پورا اختیار ہے ، تم حاکم ہو اس وقت اور میں غلام ہارون نے بھاری سنجیدہ آواز میں کہتے ہوئے اس کو دونوں کندھوں سے تھام لیا تھا اور اس کے ہاتھوں کی سخت گرفت سے اس کی دیوار جان کو ایک مضبوط سہار املا تھا۔ اور اس نے اس کے کندھوں پر دباؤ ڈالا اور اسے کچھ کہنے پر “ بولو شہر بانو کیا کرو گی آج قید یا آزاد ؟ اکسایا تھا، اس سے پہلے کہ وہ اس کا چہرہ اونچا کرتاوہ یکدم پھوٹ پھوٹ کر روتی ہوئی ہارون کے سینے سے لگ گئی تھی، اس کے ضبط اس کے صبر کا دامن چھوٹ چکا تھا لیکن اس کی اس بے اختیار حرکت پہ ہارون کا بے چین دل سچ سچ سنبھل گیا تھا، اس کی ایک اس کی تڑپ کو سکون ساملا تھا اور تسلی ہو گئی تھی کہ وہ اسے اپنا قیدی رکھنا چاہتی ہے،

آزاد نہیں چھوڑ سکتی۔

ون سا تھا اور تھینک یوشہر بانو تھینک یو سوچ۔ وہ اسے بانہوں میں کھینچتے ہوئے بے پناہ خوش ہوا تھا، شہر بانو نے

اسے شکست سے بچالیا تھا، اس نے اس کی محنت کو رائیگاں ہونے سے بچا لیا تھا، اس نے اس رسم کو

توڑتے ہوئے سید قاسم حسین کی بیٹی زرینہ کو بچالیا تھا اور نہ جانے کتنی بیٹیوں کی زندگی کو قبر بننے سے بچالیا تھا ، چاہے اس کے لئے اسے اپنوں سے ہمیشہ کے لئے بائیکاٹ کرنا پڑ رہا تھا، مگر یہ سودا مہنگا نہیں تھا اور اس سودے پر زہرا اور ماں جی بہت خوش تھیں،انہوں نے شہر بانو کا حوصلہ بڑھایا تھا اور ساتھ ہی اس کا چھوٹا موٹا سامان بھی تیار کر دیا تھا، عثمان کو نئے کپڑے پہنائے تھے اور جی بھر کے پیار کیا تھا۔ تب جاکر شہر بانو ہارون سے ملنے گیسٹ روم میں آئی تھی۔

کیا تھا۔ شہر یار مجھے کیا پتہ تھا تم مجھے اتنی بے تابی اور اتنے والہانہ انداز سے ملو گی۔ ورنہ قسم سے پہلے ہی مر شد

سائیں کے ساتھ یہ میٹنگ طے کر لیتا۔ بہت بڑی غلطی کی میں نے دیر کر کے۔ وہ اپنے آپ کو ک شرارت سے کوس رہا تھا اور شہر بانو اس کی بات سن کر یکدم اس سے الگ ہو گئی تھی، چہرہ سرخ پڑ گیا تھا۔ او کے یار کوئی بات نہیں،باقی کی کسر گھر جاکے پوری کر لیتا، جب تک تم کہو گی میں تمہارے سامنے سے نہیں ہٹوں گا۔ اس میں تمہارے سامنے سے نہیں ہوں گا۔ اس نے شہر بانو کا چہرہ اونچا کرتے ہوئے اسے چھیڑ ا تھا۔ پلیز بارون ! وہ رخ موڑ گئی تھی۔

د و ہارون کی جان۔ دل خرید لیا ہے تم نے تو ۔ وہ بڑے فریش موڈ اور بڑی ترنگ میں تھا، جب اس نے اسے بریک لگائے تھے۔

،“ کیا واپس نہیں چلنا آپ نے ؟

چلتے ہیں یار چلتے ہیں، پہلے تم میرے شہزادے کو تو لے کر آؤ۔ تب تک میں تمہارے چھا سائیں یعنی اپنے مرشد سائیں سے مل کر معاملہ سنبھالتا ہوں۔ وہ شہر بانو کو محبت بھر الا مس دے کر باہر نکل آیا تھا۔ اور شہر بانو کو ہارون کے ساتھ جانے کے لئے تیار دیکھ کر سید سراج حسین کے چہرے پہ ہوائیاں اڑ نے لگی تھیں اور سید قاسم حسین کا چہرہ غصے سے لال بھبھوکا ہو گیا تھا، جبکہ سید معراج حسین اور سید معراج حسین اور } باقی سبھی افراد خاموش تھے۔ شہر بانو نے کچھ کہنے کے لئے لب کھولے ہی تھے کہ سید معراج بھی ہ حسین نے اسے وہاں سے چلے جانے کا اشارہ کیا تھا، کیونکہ انہیں پتہ تھا کہ اس کا کچھ بھی کہنا فضول نے وہاں سے چاے اشارہ تا کی انہیں پہ تھاکہ اس کار ہے، کوئی بھی نہیں سنے گا اور شہر بانو سب پہ ایک کا سکتی ہوئی نظر ڈال کر پلٹ گئی تھی لیکن قدم بہت مضبوط تھے اور رسم کو توڑ ڈالنے کا خیال اور عزم اس سے بھی زیادہ مضبوط تھے ، اس کا بیگ ہارون نے تھام رکھا تھا، جبکہ عثمان کو شہر بانو نے اپنی آغوش میں بھینچا ہوا تھا۔ رب را کھا شہر بانو، اللہ تمہیں ہمیشہ خوش، آباد اور سد اسہا گن رکھے۔

سدا سہاگن

میاں جی بھی زہر انے ان کی گاڑی کے قریب آتے ہوئے

انہیں رخصت کرنے کے لئے آئی ہوئی تھیں۔ بہت شکریہاں جی۔ آپ بھی بھی حکمت کرنا آپ بھی کی کیک و شو و کروں گا یہ میرادہ ہے۔ اس نے مسکرا کر کہا۔

جیتے رہو ، خوش رہو ، اللہ جوڑی سلامت رکھے۔ انہوں نے بہت سی دعاؤں کے ساتھ انہیں رخصت کیا تھا اور ہارون ایک فرسودہ رسم کو توڑ دینے کی خوشی میں سر شار عثمان کو بار بار پیار کرتا اور شہر بانو کو شرارت سے چھیڑتا ہوا اپنے گاؤں کی سمت گامزن تھا اور شہر بانو کو یقین ہو چکا تھا کہ اگر انسان کا ارادہ اور عزم ٹھیک ہوں تو تعبیر پاہی لیتے ہیں جیسے ہارون نے پائی تھی، کیونکہ نیک ارادہ اس نے کیا تھا اور تعبیر اللہ نے دی تھی۔

5 1 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments
error: Content is protected !!
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x