عمیرہ اور ویران جزیرہ
مظہر کلیم ایم اے
عمرو بڑے اطمینان سے ایک بڑے بحری جہاز پر سفر کرتا ہوا سمندر کے درمیان واقع دور ایک جزیرے کی طرف جا رہا تھا ۔ یہ مسافر بردار جہاز تھا اور عمروکے ساتھ اس جہاز میں اور بھی بے شمار مسافر سوار
تھے ۔ چونکہ اس جہاز نے اس جزیرے کے قریب سے گزرنا تھا اس لئے عمرو اس جہاز میں سوار ہو گیا تھا اور جہاز کے کپتان نے اس سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اسے جزیرے پر اتار دے گا ۔ اس جزیرے کا نام تو کوئی اور تھا لیکن اس جزیرے کو سب لوگ بوڑھی جادو گرنی کا جزیرہ کہتے تھے کیونکہ کہا جاتا تھا کہ پرانے زمانے میں حداس جزیرے پر ایک بوڑھی جادوگرنی رہتی تھی جو بے ظالم تھی اور لوگوں کو زندہ جلا دیتی تھی اس لئے یہاں کی ساری آبادی بھاگ گئی تھی پھر جادو گرنی مرگئی لیکن اب بھی طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود
اس جزیرے پر کوئی آبادی نہ تھی وہ ویران تھا
کیونکہ لوگوں کے مطابق اب بھی بوڑھی اور ظالم جادو گرنی کی روح اس جزیرے پر رہتی تھی اور جو بھی اس جزیرے پر جاتا تھا وہ رات پڑتے ہی مر جاتا تھا
لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی بے حد مشہور تھی کہ یہ بوڑھی جادوگرنی بے حد امیر تھی اور اس کا بہت بڑا خزانہ اب بھی اس جزیرے پر واقع پہاڑوں کے درمیان موجود ہے ۔ بے شمار لوگوں نے وہاں جا
کر وہ خزانہ حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن وہ سب پراسرار طور پر مر گئے ۔ جب عمرو کو اس خزانے کی خبر ہوئی تو اس نے اپنی لائی طبیعت سے مجبور ہو کر فیصلہ کر لیا کہ وہ اس جزیرے پر جائے گا اور وہاں سے خزانہ حاصل کرے گا وہ عمروعیار تھا اس لئے وہ کسی جادوگرنی سے نہ ڈرتا تھا اور اب وہ خزانہ حاصل کرنے کے لئے اس بحری جہاز پر سوار ہو کر جزیرے پر
جا رہا تھا ۔ گو جہاز کے سب مسافروں حتی کہ جہاز کے کپتان نے بھی اسے جزیرے پر جانے سے ڈرایا تھا لیکن عمرو عیار نے کسی کی ایک نہ مانی تھی کیونکہ وہ ہر صورت میں خزانہ حاصل کرنا چاہتا تھا ۔ ابھی ابھی وہ
جزیرہ کافی دور تھا کہ اچانک سمندر میں ایک خوفناک طوفان آگیا
طوفان اس قدر شدید تھا کہ جہاز کو نہ بچایا جا سکا اور جہاز ٹکڑے ٹکڑے ہو کر سمندر میں غرق ہو گیا ۔ عمروعیار نے بڑی مشکل سے ایک چھوٹی سی کشتی پر قبضہ کر کے اسے سمندر میں ڈال لیا تھا
اس لئے وہ اس کشتی میں ہونے کی وجہ سے سمندر میں ڈوبنے سے بچ گیا ۔ جہاز اپنے مسافروں سمیت غرق ہو گیا تو عمر و عیار چپو چلاتا ہوا سمندر میں آگے بڑھتا چلا گیا طوفان بھی ختم ہو گیا ۔ یوں لگتا تھا جیسے یہ طوفان آیا ہی جہاز کو غرق کرنے کے لئے ہو اور سوائے عمرو کے باقی اور کوئی مسافر بھی زندہ نہ بچا تھا۔ اگر عمرو طوفان کشتی پر کے آثار دیکھتے ہی اپنی عقلمندی کی وجہ سے
قبضہ کر کے اسے سمندر میں نہ ڈال دیتا تو وہ بھی یقیناً پریشان اس جہاز کے دوسرے مسافروں کے ساتھ سمندر میں غرق ہو چکا ہوتا ۔ لیکن اب بھی وہ بے حد تھا کیونکہ دور دور تک کوئی جزیره یا زمین نظر نہ آ رہی بدقسمتی تھی اور عمرو کے پاس نہ پینے کا پانی تھا اور نہ کھانے کا سامان – کشتی بھی چھوٹی سی تھی ۔ سب سے زیادہ تھی کہ اڑانے والی سنہری چپلوں کی معیاد ختم ہو گئی تھی
یہ چپلیں ایک سال تک کام دیتی تھیں پھر ان کی معیاد ختم ہو جاتی تو انہیں ایک ماہ کے لئے رکھ دیا جاتا ۔ ایک ماہ گزرنے کے بعد چپلیں دوبارہ استعمال ہوتیں اور ایک سال تک کام آیا تھا
کرتیں ۔ اس لئے سنہری چپلیں وہ کھری کہ یہ ورنہ تو اسے بحری جہاز پر سفر کرنے کی بھی ضرورت نہ رہتی اور وہ ان چپلوں کی مدد سے اڑ کر جزیرے پر
پہنچ جاتا دور سےعمرو کشتی چلاتا ہوا آگے بڑھا چلا جا رہا تھا کہ اچانک اسے دور انسانی شیخ سنائی دی ۔ عمرو نے چونک کر سر اٹھایا تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ دور سمندر کے پانی کا ایک ریلا فضا میں بلند ہو کر آرہی
دائرے کی صورت میں گھوم رہا تھا اور اس دائرے کے اندر ایک بوڑھی اور بدشکل عورت دونوں ہاتھ اٹھائے ہوئے اسے دیکھ رہی تھی ۔ اس کے منہ کے دونوں کناروں پر دو بڑے بڑے دانت تھے ۔ سر کے بال لمبے اور دونوں بازوؤں پر پھیلے ہوئے تھے ۔ اس کے جسم پر سفید رنگ کا لباس تھا ۔ اس کے پیچھے پہاڑ نظر آ رہا تھا چیخوں کی آوازیں اس دائرے سے ہی تھیں ۔ ابھی عمرو یہ دیکھ ہی رہا تھا کہ یکھت دائرہ عمرو کی طرف بڑھنے لگا اور پھر پلک جھپکنے میں وہ عمرہ پر چھا گیا ۔ عمرو کو یوں محسوس ہوا جیسے وہ پانی میں ڈوب گیا ہے لیکن چند لمحوں بعد اچانک اسے محسوس ہوا کہ وہ خشکی پر کھڑا ہے تو اس نے حیرت سے ادھر ادھر دیکھا تو دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہ واقعی سمندر کی بجائے ایک جزیرے پر کھڑا تھا ۔ وہ
کشتی بھی غائب ہو چکی تھی
اور اس جزیرے پر دور اسے وہی پہاڑ نظر آ رہے تھے جو اس نے پانی میں
دیکھے تھے ۔
وہ میں کہاں آگیا ہوں” ۔ عمرو نے حیرت بھرے لہجے میں کہا ۔
” تم میرے جزیرے پر ہو عمروعیار”۔ اچانک ایک چیختی ہوئی آواز سنائی دی تو عمرو چونک کر ادھر دیکھنے لگا جدھر سے آواز آئی تھی اور پھر اس نے اسی
بدصورت عورت کو اپنی طرف آتے دیکھا جسے اس نے دائرے میں دیکھا تھا کون ہو تم ۔ عمرو نے اس سے پوچھا
مجھے بوڑھی جادو گرنی کہا جاتا ہے اور یہ جزیرہ میرا ہے ۔ یہاں میرا خزانہ ہے اور مجھے معلوم ہے کہ تم یہ خزانہ حاصل کرنے آ رہے تھے اس لئے میں نے اپنے جادو کے زور سے اس جہاز کو ہی غرق کر دیا لیکن تم
بچ گئے ۔ پھر میں نے تمہیں یہاں جزیرے پر لیا تاکہ یہاں میں تمہیں زندہ جلا سکوں۔ جادوگرنی کہا۔
لیکن تم کیسے وہ بوڑھی جادوگرنی ہو سکتی ہو ۔
اس کے متعلق تو مجھے بتایا گیا ہے کہ وہ بوڑھی اور انتہائی بدصورت جادوگرنی تھی جب کہ تم تو ابھی جوان ہو اور خوبصورتی میں بھی کسی سے کم نہیں ہوتمہارے یہ ریشم جیسے لمبے لمبے بال ۔ تم کیسے وہ ہو سکتی ہو۔۔ عمرو نے فوراً ہی اپنی عیاری شروع کرتے
ہوئے اس بوڑھی جادوگرنی کی تعریف کرنا شروع کر دی تو بوڑھی کے چہرے پر حیرت کے تاثرات ابھر آئے ۔
ہو جبکہ تم مجھے خوبصورت اور جوان کہہ رہے ہو
میری عمر ہزاروں سال ہے اور میں جادو کے زور پر زندہ ہوں ورنہ کب کی مرکھپ گئی ہوتی اور مجھے تو سب بدصورت اور ظالم کہتے ہیں”۔ بوڑھی جادوگرنی نے
حیرت بھرے لہجے میں کہا ۔
” جو کہتے ہیں وہ بالکل غلط کہتے ہیں ۔ تم خوبصورت ہو اور جوان بھی”۔ عمرو نے جواب دیا ۔
لیکن میرے بال تو خشک ہیں اور میرے چہرے پر جھریاں ہیں پھر تم مجھے کیسے جوان کہہ سکتے ہو”۔
بوڑھی جادو گرنی نے کہا ۔
-معمولی باتیں ہیں ۔ میں حکیم الحکما ہوں ۔ دنیا کا سب سے بڑا حکیم ۔ میرے پاس ایک ایسا نسخہ ہے کہ جس کے لگاتے ہی تمہارے بال انتہائی خوبصورت اور چمکدار ہو جائیں گے ۔ تمہارے چہرے پر موجود جھریاں بھی ختم ہو جائیں گی ۔ تمہارا یہ دبلا پتلا جسم بھر جائے گا اور تم اس قدر خوبصورت ہو جاؤ گی کہ پرستان کی شہزادی بھی تمہارے سامنے بدصورت نظر آنے لگ جائے گی۔ خواجہ عمرو نے اسے چکر دیتےہوئے کہا ۔
کیا واقعی ایسا ہو سکتا ہے”۔ بوڑھی جادوگرنی نے کہا تو عمرو دل ہی دل میں ہنس پڑا کیونکہ اب اسے معلوم ہو گیا تھا کہ یہ بوڑھی جادوگرنی اس کے عیاریکے جال میں پوری طرح پھنس گئی ہے۔
” ہاں ۔ کیوں نہیں ۔ ابھی اس کا تجربہ ہو جائے گا
لیکن میری ایک شرط ہے اور وہ شرط یہ ہے کہ تم یہ بتاؤ کہ تمہاری جان کس میں ہے۔ عمرو نے کہا تو بوڑھی جادوگرنی چونک پڑی ۔ اس کے چہرے پر غصے کے تاثرات ابھر آئے تھے ۔
کیوں ۔ تم کیوں پوچھ رہے ہو ۔ اس کا مطلب ہے کہ تم میرے ساتھ عیاری کر رہے ہو۔ بوڑھی جادو گرنی نے غصے سے چیختے ہوئے کہا ۔ ۔ ارے نہیں ۔ میں اس لئے پوچھ رہا ہوں کہ یہ نسخہ اس وقت اثر کرتا ہے جب کسی کی جان اس کے اپنے جسم کے اندر ہو ۔ چلو تم مجھے نہ بتاؤ کہ تمہاری جان کس میں ہے بلکہ تم خود ہی اسے وہاں سے نکال
کر اپنے جسم کے اندر ڈال لو – پھر مجھ سے نسخہ لو اور قیامت تک کے لئے جوان بھی بن جاؤ اور خوبصورت بھی”۔ عمر و عیار نے کہا ۔
کہاں ہے وہ نسخہ ۔ پہلے مجھے دکھاؤ ۔ پہلے میں اس کا تجربہ کروں گی”۔ بوڑھی جادوگرنی نے کہا تو عمرو نے زنبیل میں ہاتھ ڈالا اور روغن عیاری کی شیشی نکال کر
ہاتھ میں پکڑ لی ۔ لو کر لو تجربہ ۔ لیکن چونکہ تمہاری جان تمہارے جسم کے اندر نہیں ہے اس لئے یہ نسخہ تمہارے جسم اور چہرے پر اثر نہ کرے گا البتہ صرف تمہارے ایک ہاتھ پر اثر کرے گا ۔ لاؤ دکھاؤ مجھے اپنا ہاتھ – عمرو نے کہا تو بوڑھی جادو گرنی نے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھا دیا ۔ عمروعیار نے روغن عیاری کی شیشی کھولی اور روغن کے چند قطرے اس بوڑھی جادو گرنی کےبدصورت جھریوں بھرے ہاتھ پر ڈال دیئے اور پھرنمیشی بند کر کے اس نے اسے واپس زنبیل میں ڈالا اور ان قطروں کو بوڑھی جادوگرنی کے ہاتھ پر ملنے لگ گیا ساتھ ہی وہ دل ہی دل میں کہہ رہا تھا کہ اس بوڑھی جادوگرنی کا ہاتھ انتہائی خوبصورت اور جوان یہی
عورت کا ہاتھ بن جائے ۔ روغن عیاری میں صفت تھی کہ اسے لگاتے ہوئے جو کچھ دل میں کہا
جائے وہ فوراً پورا ہو جاتا تھا ۔ چنانچہ وہی ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے بوڑھی عورت کا ہاتھ جوان بھی نظر آنے لگا اور انتہائی خوبصورت بھی ۔ بوڑھی جادوگرنی اپنا خوبصورت اور جوان ہاتھ دیکھ کر خوشی سے اچھل پڑی ۔ وہ بڑی حیرت بھری نظروں سے اپنے ہاتھ کو
اسے یقین نہ آ رہا ہو ۔
اب تو یقین آگیا تمہیں ۔ عمروعیار نے مسکراتے دیکھ رہی تھی ؟
“ہوئے کہا ۔
” ہاں ۔ اب مجھے یقین آگیا ہے ۔ تم واقعی حکیم الحکما ہو ۔ ٹھیک ہے ۔ میں اپنی جان اپنے جسم میں ڈال لیتی ہوں پھر تم مجھے جوان اور خوبصورت بنا دو اس کے بدلے میں تمہاری جان بخش دوں گی اور تمہیں ہلاک نہیں کروں گی۔ بوڑھی جادوگرنی نے
خوش ہوتے ہوئے کہا ۔
” بے حد شکریہ۔ خواجہ عمروعیار نے کہا تو بوڑھی جادوگرنی نے اپنے دونوں ہاتھ فضا میں اٹھائے ۔ پھر ایک مٹھی بند کی اور اسے اپنے منہ کے پاس لا کر
کھول دیا .
لو اب میں جان میرے جسم کے اندر آگئی ہے
اب دو مجھے نسخہ – جادو گرنی نے کہا ۔
” ابھی لو ۔ لیکن وہ تمہارا خزانہ کہاں ہے ۔ وہ تو دکھاؤ”۔ عمرو نے کہا ۔
کیوں ۔ تم خزانہ کیوں دیکھنا چاہتے ہو”۔ بوڑھی جادو گرنی نے ایک بار پھر چونکتے ہوئے کہا ۔ وہ بڑی مشکوک نظروں سے عمرو عیار کو دیکھنے لگی تھی
–
مجھے خزانے دیکھنے کا شوق ہے اور پھر دیکھو میں تو تمہیں قیامت تک کے لئے جوان اور خوبصورت بنانا چاہتا ہوں ۔ تم میری ایک چھوٹی سی خواہش بھی پوری نہیں کر سکتی۔ عمرو نے کہا ۔
” اچھا چلو آؤ ۔ میں دکھاتی ہوں تمہیں اپنا خزانہ”۔
بوڑھی جادو گرنی نے کہا اور پھر عمرو کو ساتھ لے کر وہ پہاڑوں میں گئی ۔ وہاں ایک بڑے غار میں واقعی ایک بہت بڑا خزانہ موجود تھا ۔
گردنپردیکھ لیا خزانہ اب دو وہوہ نسخہ”۔ بوڑھی جادوگرنی نے کہا تو عمرو نے زنبیل میں ہاتھ ڈالا اور خنجر سلیمانی نکال کر تکلخت اس نے بوڑھی جادوگرنی کی
مار دیا ۔ بوڑھی جادوگرنی چیختی ہوئی نیچے گری
اس نے خنجر نکالنے کی بے حد کوشش کی لیکن وہ خنجر سلیمانی تھا جس سے وہ
وہ کیسے بچ سکتی تھی اور وہ کیسے نکل سکتا تھا ۔ چنانچہ تھوڑی دیر بعد ہی وہ بوڑھی جادو گرنی تڑپ تڑپ کر مرگئی اور اس کے ساتھ ہی ایک روتی ہوئی آواز سنائی دی وہ آواز بوڑھی جادو گرنی کی تھی وہ کہہ رہی تھی ۔ عمرو نے اسے عیاری سے مار ڈالا ۔ اس کے ساتھ ہی اس کی لاش غائب ہو گئی ۔ عمرو نے خنجر سلیمانی اٹھا کر زنبیل میں ڈالا اور پھر اس نے خزانہ اٹھا اٹھا کر اپنی زنبیل میں ڈالنا
شروع کر دیا ۔ جب سارا خزانہ اس نے زنبیل میں ڈال لیا تو وہ پہاڑوں سے نکل آیا اور پھر اس کی خوش قسمتی کہ اسے دور سے ایک بحری جہاز آتا دکھائی دیا ۔ اس کا رخ جزیرے کی طرف ہی تھا ۔ عمرو نے ہاتھ ہلانا شروع کر دیا تو جہاز جزیرے کے قریب آکر رک گیا اور عمرو اس میں سوار ہو گیا ۔ اس نے کپتان کو ایک اشرفی دی تو کپتان اسے اس کے ملک پہنچانے پر رضا مند ہو گیا اور اس نے عمرو کو ایک اچھا سا کمرہ بھی دے دیا ۔
عمرو اب خوش تھا بے حد خوش کہ اس نے اس بوڑھی جادوگرنی کا بھی خاتمہ کر دیا اور اس کا پورا خزانہ بھی حاصل کر لیا اور پھر اس ویران
جزیرے سے بھی نکل آنے میں کامیاب ہو گیا ۔
ختم شد
