Madfan مدفن

خوفناک پراسرار

تحریر باے عتیقہ فیض

مکمل ناول

views
0
Best Urdu Horror Story مدفن باے عتیقہ فیض

مکمل ناول

“میں کہہ رہی ہوں جی اسکو نکال باہر کرو “(نجمہ نے کرخت لہجے میں کہا تھا)کریم سر پکڑ کر بیٹھے تھے یہ آئے روز کا سر درد تھا نجمہ کو بالی کا وجود اس گھر میں ناقابل برداشت تھا شرمندہ تو وہ بھی اپنے حلقہ احباب میں بہت ہوتے تھے مگر کیا کرتے خواجہ سراء ہی سہی’ تھا تو انکی مرحومہ بیوی کی آخری نشانی۔۔۔۔۔

(دروازے کے پاس کھڑے بالی کا اپنے باپ کی خاموشی پر خون کھولا )

“ابا میں بھی بہت شرمندہ ہوتا ہوں اپنے دوستوں میں ایک تو وہ اتنا بھیانک ہے “بالی کا سوتیلا بھائی شوقت بھی میدان میں کودا تھا( اس نے کہتے ہوئے جھرجھری سی لی جیسے بالی اسکے سامنے کھڑا ہو)

ابا کریم خالی خالی نظروں سے نجمہ اور شوقت کو دیکھ رہے تھے

سوچ کیا رہے ہیں نکالیں اسکو اب کیا قبر میں ساتھ لے کر جائیں گے مرحومہ کی آخری نشانی کو ۔۔۔۔۔آپ تو چلے جاتے ہیں پیچھے مجھے لوگوں کی باتیں سننے کو ملتی ہیں”وہ زہر خند لہجے میں بولی (بالی مٹھیاں بھینچ کر کمرے میں آیا تھا نجمہ نے اسکو دیکھ کر منہ موڑا )

نکالنے کی کیا “ضرورت میں خود جا رہا ہوں”وہ نجمہ کی طرف دیکھ کر چبا چبا کر بولا تھا اور کمرے سے نکل گیا کریم اسکو روکنا چاہتا تھا لیکن روک نہ پایا( پیچھے نجمہ نے ایسے ہاتھ ہلایا تھا جیسے کہہ رہی ہو خس کم جہاں پاک ۔۔۔۔)

فون کی گھنٹی مسلسل بج رہی تھی وہ کچن سے نکلی نیپکن سے ہاتھ پونچھ کر اس نے فون اٹینڈ کیا تھا دوسری طرف ایک آدمی تھا۔۔۔

“کیا یہ قاسم باجوہ کا گھر ہے؟”دوسری طرف سے استفسار ہوا تھا

“جی میں انکی وائف بول رہی ہوں”

” آپکے گھر اس “وقت کوئی مرد ہے؟”پوچنے والے کی سنجیدگی پر یاسمین کا دل کسی انہونی کے احساس سے شدت سے دھڑکا تھا( اسکا ہاتھ کانپا)

“نہیں۔۔۔۔کیوں خیریت؟”(اسکی آواز لرز رہی تھی)

“دیکھئے مس آپکے ہزبنڈ کا ایکسیڈینٹ ہو گیا ہے اور ۔۔۔۔۔”دوسری طرف سے اور بھی کچھ کہا جا رہا تھا مگر وہ ایکسیڈینٹ کا سن کر ہی بے ہوش ہو گئی تھی

چلتے چلتے وہ ایک ویرانے میں پہنچ گیا تھا اسکو بھوک و پیاس شدت سے لگی تھی ہونٹوں پر پیڑیاں جن گئی تھیں اور رات بھی ہونے والی تھی وہ آنکھوں میں نمی لئے چل رہا تھا کہ اسکو ویرانے کے پاس ایک گندی سی جھونپڑی میں امید کی کرن نظر آئی تھی وہ دوبارہ ہمت مجتمع کرکے جھونپڑی کے پاس آیا اور اندر جھانکا ایک نگ دھڑنگ سادھو بیٹھا اور آس پاس بوسیدہ ہڈیاں گندے کپڑے اور نجانے کیا کیا رکھا تھا بالی جانتا تھا کہ وہ کالا علم کر رہا ہے اور وہ یہ بھی جانتا تھا کہ کالے علم والوں کہ پاس طاقت ہوتی ہے جو انتقام لینے میں مدد کرتی ہیں نجانے کیوں اچانک اسکے دل میں یہ علم سیکھنے کی طلب جاگی تھی وہ جھونپڑی کے پردے کی جھری سے کپکپاتے ہوئے اندر کا منظر دیکھ رہا تھا۔۔۔۔اچانک سادھو نے آنکھیں کھولیں اور اپنی بھاری آواز میں بولا تھا

اندر آجا بچہ ۔۔۔۔؟

بالی کے پسینے چھوٹ پڑے وہ وہاں سے بھاگ جانا چاہتا تھا مگر پھر پیٹ اور دل کی طلب سے مجبور ہوکر ڈرتے ڈرتے اندر آگیا۔

سادھو نے بنا کچھ کہے اسکے آگے پھلوں کی ایک تھال کی تھی جسکو بالی نجانے کب سے للچائی نظروں سے دیکھ رہا تھا بالی نے پیٹ بھر کر کھائے تھے کھانے کے دوران سادھو اسکا جیسے دل پڑھ رہا تھا۔۔۔۔

“شکریہ۔۔۔۔”بالی نے پانی پی کر اسکو ممنون نظروں سے دیکھا تھا

کیوں بالک یہ سیکھنا ہے۔

جج ۔۔۔۔جی

جانتا ہے کیا ہے یہ

اتنا نہیں بس یہ کہ اسکا ماہر جو چاہتا حاصل کر لیتا ہے

لیکن بہت کچھ کھونا بھی پڑتا ہے (سادھو نیم باز آنکھوں سے اسے دیکھتا معنی خیز سا مسکرایا تھا)

“کھونے کو مرے پاس کچھ ہے ہی نہیں ۔۔۔۔اب تو بس حاصل کرنا چاہتا ہوں”بالی کے لہجے میں ایک عزم چھلک رہا تھا

(سادھو نے اثبات میں سر ہلایا)

“ٹھیک ہے بالک میرے جانے میں کچھ سمے ہے تب تک تیری چاہ پر ہے کہ تو کتنا سیکھنا چاہتا ہے سیکھ گیا تو بہت کچھ پا لے گا”

سادھو کی بہت کچھ پا لینے والی بات پر بالی کی آنکھیں چمکی تھیں۔۔

ابھی پانچ ماہ پہلے ہی تو شادی ہوئی ہوئی تھی اور اب دیکھو۔۔۔۔پرسے کیلئے آئی ایک عورت دوسری سے محو گفتگو تھی اسکے لہجے میں افسوس چھلک رہا تھا مگر پتا نہیں کیوں یاسمین کو لگا کہ جیسے وہ اسکا مذاق بنا رہی ہوں اس نے کلس کر اپنے آنسو صاف کئے اور یسری کو دیکھا ۔۔۔۔۔یسری اسکی بڑی بہن تھی اسکی شادی بھی اسی شہر میں اور یاسمین کے ساتھ ہوئی تھی ۔۔۔۔مگر اسکا بہنوئی ذاہد تو ٹھیک ٹھاک تھا ۔۔۔۔۔وہ کیوں ناں مر گیا ۔۔۔۔منحوس کا ٹھپہ یسری پر لگ جاتا تو کیا ہوتا؟۔۔۔۔وہ خالی ذہن کے ساتھ جانے کیا کیا سوچے جا رہی تھی دل میں کہیں حسد کی آگ پنپ رہی تھی

بالی نے جو چاہا وہ حاصل کر لیا تھا سادھو اسے اپنا سارا شیطانی علم سکھا کر نجانے آگے کس کو بھٹکانے چلا گیا تھا بالی کے آگے اب لوگ بچھ بچھ جاتے اور جب وہ اسکی مدد طلب کرتے وہ اپنے آپ کو طاقت کل سمجھ کر اور غرور میں مبتلا ہو جاتا تھا۔۔۔۔ وہ یہ بھول چکا تھا کہ اللّٰہ نے ابھی اسکی رسی ڈھیلی کی ہوئی ہے

“تم یہاں ہی کوں نہیں رہ لیتیں”(یسری نے یاسمین کے ہاتھ سے جیم بریڈ لے کر اسکو کہا تھا وہ سر جھکائے جیم لگاتی رہی )۔۔۔۔یسری امید سے تھی آخری دنوں میں اس سے کام نہیں ہوتا تھا تو ذاہد یاسمین کو لے آیا تھا مگر یہاں آکر جب جب یاسمین اسکو اور ذاہد کو دیکھتی احساس کمتری میں مبتلا ہو جاتی تھی اور ایک حسد کی آگ میں جلتی رہتی ۔۔۔۔۔

“کیا سوچ رہی ہو؟”یسری کی آواز سے وہ خیالوں سے چونکی۔۔۔

“اں ہاں ۔۔۔۔نہیں جاب پر جانا ہے واپس ۔۔۔ابھی تو لیو پر ہوں”یاسمین نے بجھے بجھے لہجے میں کہا تھا اور اٹھ کر چلی گئی۔۔۔۔یسری نے جاتے ہوئے اسکو تاسف سے دیکھا تھا۔۔

نرس بجھے چہرے کے ساتھ کمرے میں سے نکلی تھی اسکو سمجھ نہیں آ رہا تھا وہ آپریشن تھیٹر کے باہر بے چینی سے ٹہلتے ذاہد کو کیا کہے ۔۔۔۔

ذاہد اسکو دیکھ کر بے چینی سے اسکی طرف بڑھا تھا کیا ہوا؟(ذاہد کا چہرہ خوشی سے تمتما رہا تھا )پیچھے کھڑی یاسمین حسد سے جیسے مرنے کو تھی

“آپکے یہاں ٹرانس جینڈر بچے کی پیدائش ہوئی ہے “نرس نے سنجیدگی سے کہا تھا اور وہاں سے چلی گئی پیچھے وہ سر پکڑ کر بیٹھتا چلا گیا تھا یاسمین کے ہونٹوں پر زہر خند مسکراہٹ رقصاں تھی۔۔۔۔اخر کار اسکی حسد ذاہد اور یسری کی خوشیاں نگلنا شروع ہو گئی تھی

محفل اپنے عروج پر تھی وہ تین اپنے   بدن کے ساتھ ناچ ناچ کر ناظرین کو مزید لبھا رہے تھے تا کہ ان پر ذیادہ سے ذیادہ نوٹوں کی برسات ہو سکے مگر ان تینوں کے ساتھ ایک جھمری بھی تھا جسکو شاید قدموں میں پڑے نوٹوں سے کوئی دلچسپی ہی نہیں تھی وہ بس ناچ رہا تھا بنا کسی ادا کے بنا کسی لالچ کے۔۔۔۔بس وہ محو رقص تھا اور اتنا ناچنا چاہتا تھا کہ اسکی سانسیں پھول جائیں اور پھول کر بس رک جائیں وہ بھاگ رہا تھا گھر سے خود سے اور۔۔۔۔  اچانک اسکے پاؤں کے پاس شراب کی بوتل جو ناظرین میں سے کسی منچلے  نے اپنی مدھوشی میں چور ہو کر اسکی طرف پھینکی تھی آکر گری اور پل بھر میں کانچ کے ٹکڑے ادھر ادھر بکھر گئے کانچ کے بکھرے ٹکڑوں نے اسکے پاوں کو لہو لہو کر دیا تھا  اسکی آنکھوں میں اذیت بھرے آنسو تھے مگر وہ رکا نہیں اسکو نجانے کیا کیا یاد آ رہا تھا وہ چاہتا تھا اسکی جان یہاں ہی   نکل جائے وہ گھر نہیں جانا چاہتا تھا جہاں ہر مخصوص وقت کے بعد ایک منحوس آواز اسکے کانوں کو پھاڑتی تھی ایسی چیخیں سنائی دیتی تھیں جو اسکی اذیت میں اضافہ کریں۔۔۔۔

ناچتے ناچتے اچانک اسکے ارد گرد کا ماحول تحلیل ہو گیا تھا جھمری رک گیا ارد گرد اندھیرا چھا گیا تھا وہ اب خوف زدہ ہوگیا تھا اس نے گھپ اندھیرے میں ادھر ادھر دیکھنا چاہا مگر جیسے سب ختم ہو گیا تھا ہوا میں تحلیل اسکے علاؤہ ہوا کوئی تھا ہی نہیں۔۔۔

اس سے پہلے کہ وہ چلاتا اسکو جھمری کی کرخت آواز آئی تھی۔

“وہ بچہ کہاں ہے ری۔۔۔”(جھمری نے اسکی آواز سن کر اپنے خشک لبوں پر زبان پھیری)۔۔۔وہ خوف سے جیسے مرنے کو تھا

“بتا نہ وہ بچہ کہاں ہے۔۔۔تیری بالی تکلیف میں ہے رے”(بالی کی سسکیوں بھری بھاری آواز پر اس  نے اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ لئے تھے)۔۔۔وہ ہلنے تک کا بھی حوصلہ خود میں نہیں پاتا تھا۔۔۔۔

اچانک اس کے رونگٹھے کھڑے ہو گئے بالی سامنے سے اچانک اپنے ہاتھوں اور پاؤں سے تیز تیز چلتا اسکے پاوں میں آیا تھا جھمری خوف سے چیخا اور پیچھے ہٹنا چاہا مگر اس سے پہلے ہی بالی نے اسکا پاؤں پکڑ کر اسکے لہولہان پاؤں پر زبان پھیری تھی۔۔۔۔ بالی کے ہونٹ اسکا خون لگنے سے سرخ ہو گئے تھے وہ اور خوف ناک لگ رہا تھا۔۔۔بے حد۔۔۔(اسکا ہاتھ سرد تھا اور آنکھیں لال انگارہ۔۔۔۔)

“بچہ بتا کہاں ہے؟”(بالی کی آواز اب بہت بھاری اور مکروہ ہو گئی تھی اسکی گرفت جھمری کے پاؤں پر سخت اور تنگ ہو گئی تھی)۔۔۔۔وہ اسکی لال آنکھوں اور خوفناک آواز کو سہہ نہیں پایا اور بے ہوش ہو کر گر پڑا۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔آسمان آج گرجنے کے ساتھ ساتھ تیزی سے برس بھی رہا تھا بارش کی تیز بوچھاڑ اسے پورا بھگو چکی تھی مگر ایک جنون سوار تھا اس پر۔۔۔وہ کھرپی سے زمین کھودنے کے ساتھ ساتھ لحاف میں لپٹے بلکتے بچے پر ایک حقارت بھری نگاہ ڈال لیتا تھا سردی سے معصوم بچہ اب جان کنی کی حالت میں تھا اور اس حیوان کو زرا رحم نہیں آرہا تھا آخر کار اس تیز بارش نے اس معصوم کی آخری ہچکی اپنی بوندوں میں جذب کر لی اور وہ جو کھرپی سے اسکے لئے اپنے گھر کے ہی لان میں قبر بنا چکا تھا بے دردی سے اس بچے کی لاش کو اٹھا کر اس گڑھے میں گرا دیا۔۔۔۔ کھرپی سے مٹی برابر کرتے ہوئے اسے ایک چیخ سنائی دی تھی اس نے بے زاریت سے سر اٹھا کر دیکھا اسکی سالی یاسمین کھڑکی سے اسے کب سے دیکھ رہی تھی اور اسکی ایسی درندگی پر ہوش کھوتی بے ہوش ہو گئی تھی ۔۔۔۔(وہ سر جھٹک کر  یاسمین سے بے پرواہ پور پور بھیگا اندر آیا تھا اور کمرے میں اپنی بیوی کی سسکیوں کو سن کر خاصا بدمزہ ہوا)۔۔وہ بیڈ پر بے جان اپنے نومولود کیلیے ہلکان ہو رہی تھی۔۔

“رونا بند کرو۔۔۔وہ زندہ رہتا تو ہماری بدنامی ہوتی۔۔”(اس نے کرخت لہجے میں اپنے گناہ کو ڈھانپنا چاہا )

‘تم ایک بار اسکا چہرہ ہی دیکھنے دیتے مردہ ہوا تھا تو کیا ٹرانس جینڈر تھا تو کیا؟”(یسری تکلیف سے چیخ بھی نہ پائی۔۔)

“ابھی فی الحال مجھے سونے دو ورنہ تمہارے ساتھ جانور بننے میں پل بھی نہیں لگے گا”(وہ خونخوار لہجے میں اسکو دیکھتا اسکا منہ دبوچ کر غرایا تھا وہ خوفزدہ ہوگئی اور دبی دبی سسکنے لگی۔۔۔زاہد اب سکون سے سو رہا تھا) وہ جو ہسپتال سے آنے کے بعد سے اب تک انگاروں پر لوٹ رہا تھا اب اپنے خون کو درگور کر کے سکون سے سو رہا تھا ۔

رات کا آخری پہر شروع ہوا تھا ایک ہیولہ گھر سے نکل کر اس جگہ آیا تھا جہاں اس نومولود کو اسی کے باپ نے درگور کر دیا تھا وہ اپنے کپڑوں کی پرواہ کئے بنا وہی ڈھہ گئی اور رونے لگی وہ رو کیوں رہی تھی وہ شاید خود بھی نہیں جانتی تھی بارش ابھی بھی ہلکی ہلکی ہو رہی تھی۔۔۔

“اے زمین ۔۔۔اے نھنھی سی جان گواہ رہنا میں تمہارا بدلہ ضرور لوں گی اور اپنی خوشیوں کا بھی ۔۔۔۔۔”(وہ اس جگہ کی گیلی مٹی کو مٹھی میں بھنچ کر عزم سے بولی تھی اور کھرپی سے اس جگہ کو کھود کر اس ننھے لاشے کو نکال کر چوما تھا) چومتے ہی اسکو ایسا لگا بچہ سسکا ہو اس نے حیرانی و خوف سے بچے کے چہرے کو بغور دیکھا لیکن وہ ساکت تھا اس نے یہ اپنا وہم سمجھا تھا  اور اپنی چادر میں چھپاتی باہر کی طرف قدم بڑھا دئے۔۔۔

رات کا طوفان کئی راز لئے تھم چکا تھا صبح کا اجالا پھیلا تو یاسمین کی آنکھ کھلی تھی رات میں جو درندہ صفت روپ اس نے اپنے بہنوئی کا دیکھا تھا اسے گھن آ رہی تھی وہ اٹھ بیٹھی اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ یہاں سے آج ہی چلی جائے گی۔۔۔بس یسری کو منانا تھا لیکن وہ یہاں مزید نہیں رک سکتی تھی۔۔۔۔اب وہ جو کر چکی تھی یہی کافی ہونا تھا اسکی حسد کی تسکین کیلیے

“کیوں آئی ہو۔۔۔؟”بالی دھوتی میں اپنی کریہہ صورت کے ساتھ اسکے سامنے تھا (وہ یکدم اسکو اس حالت میں دیکھ کر خوف سے جھنجھنا اٹھی تھی)

وہ بہت خوف ناک اور کریہہ صورت تھا اور کالے علم نے اسکے چہرے کو اور بدصورت اور مکروہ بنا دیا تھا وہ ہر وقت ماتھے پر کالا تلک لگائے ہوتا تھا۔۔۔اسکی ناک کا بانسا شاید کسی حادثے میں پھٹ گیا تھا جو اسکی شکل کو سب سے زیادہ بھیانک بناتا تھا کمر تک آتی کھچڑی بال جو اسکی کمر اور چہرے پر پڑے رہتے۔۔۔ لمبا چوڑا وجود جس پر صرف دھوتی ہوتی تھی اور گلے میں منکے اور مالائیں۔۔۔

(اس نے نظریں چرا کر تھوک نگل کر چادر کے نیچے سے اس بے جان لاشے کو اسکے سامنے کیا۔۔۔)

“میں اسکا انتقام چاہتی ہوں”(وہ بھیگے لہجے میں بولی تھی اسکا بدن پسینے سے شرابور تھا)۔۔۔وہ بالی کے وجود سے خوف کھا رہی تھی۔۔۔ایسا بھیانک انسان اس نے کبھی نہیں دیکھا تھا

“کیا ہوا ری اسکو۔۔۔”(بالی نے آگے بڑھ کر اس بچے کو لیا تھا جو بے جان تھا اور اپنی بھاری آواز میں استفسار کیا۔۔۔وہ دو قدم پیچھے ہوئی)

“اسکو اسکے باپ نے درگور کر دیا..”(وہ زہر خند سا بولی تھی بالی کے چہرے پر غصہ در آیا) وہ مزید بولی تھی “اسکا جرم تمہاری برادری میں سے ہونا تھا”یہ سنتے ہی بالی کے تن بدن میں آگ سلگ گئی تھی۔

“تو جانتی ہے ری کہ اب اسکو کیا کیا سہنا پڑے گا”اس نے بچے کو اپنی گود میں کے کر جتایا تھا۔

وہ بالی کے سنگین لہجے پر ٹھٹکی اور سوچا کیا وہ ٹھیک کر رہی تھی؟… لیکن پھر اس نے معصوم وجود کو دیکھا اور اپنی سوچ کو جھٹکا حسد میں وہ بھول رہی تھی کہ وہ بچے کا انتقام نہیں بلکہ اپنی حسد کی آگ کا سامان کر رہی ہے۔۔۔۔

“اتنا تو نہیں نہ جتنا اس نے سہا” (وہ بھیگے لہجے میں کہتی وہاں سے چلی گئی تھی) بالی کی کریہہ صورت سے اسکو خوف آرہا تھا دوسرا وہ بدبو جو نا قابل برداشت تھی۔۔۔(بالی نے اپنی گھاگ نظروں سے اس بے جان وجود کو دیکھا )

 پھر اس کمرے کی جانب بڑھ گیا جہاں وہ اپنا کالا علم سر انجام دیتا تھا وہ اپنے علم کو کل سے شروع کرنا چاہتا تھا

اسکو ہوش آیا تو وہ اپنے گھر میں کھٹیا پر پڑا تھا جھمری کے ساتھ جانے والے دوسرے خواجہ سراؤں نے اسکو واپس اسکے ٹھکانے پر پہنچا دیا تھا جہاں پہلے وہ بالی کے ساتھ رہتا تھا بالی کے برعکس  وہ حلال کما کر کھانے کو ترجیح دیتا تھا لیکن وہ بالی کو چھوڑ نہیں سکتا تھا کیونکہ بالی نے اسکا ساتھ تب دیا تھا جب جھمری کےبڑے بھائی جہانگیر نے اسے گھر سے دھکے دے کر نکال دیا تھا  بالی اسے بے سروسامانی کی حالت میں اپنے گھر لے آیا تھا وہ کافی سالوں سے ساتھ ساتھ تھے جھمری اسکے کالے کرتوتوں سے واقف تھا مگر اسکو کچھ کہہ نہیں پاتا تھا بالی کے مرنے کے بعد سے  اس گھر کی در و دیواروں سے وحشت ٹپکتی تھی اور ہر رات ایک  مخصوص وقت پر جس کمرے میں بالی اپنے چلے کاٹ کر شیطانی طاقتوں کے زریعے لوگوں کے الٹے سیدھے کام کرتا تھا وہاں سے بالی کی دردناک چیخوں کی آواز آتی تھی ایسی درد ناک چیخیں جن کو سن کر جھمری کا کلیجہ منہ کو آجاتا تھا وہ بچہ مانگتا تھا اور یہ راز جھمری ہی جانتا تھا  کہ اس بچے کا کیا انجام ہوا جسکو اسکے باپ نے درگور کر دیا تھا اور بالی اسکو اپنے شیطانی عمل میں استعمال کرکے اسکے وجود کی بے حرمتی کرنا چاہتا تھا چاہے اس بچے کے انتقام لینے کیلئے ہی سہی مگر کالے علم کے ذریعے یہ غلط تھا۔۔۔کیونکہ  بےشک اللّٰہ ہی بدلہ لینے والا ہے لیکن بالی تو نجانے کب سے اللّٰہ کو بھولا کر شیطانی طاقتوں کو پاکر کافر ہو گیا تھا اور اب۔۔۔۔۔۔۔

وہ ہوش میں آتے ہی وہ سسک اٹھا۔۔۔۔

اسکی نظر سامنے دیوار کی جانب اٹھی تھی وہ دوبارہ  خوف سے جھنجھنا اٹھا پانچ منٹ باقی تھے بس یہ گھڑی بالی نے ہی اسکو دی تھی اسکی سالگرہ پر۔۔۔پھر وہی دردناک چیخیں اور آہیں سنائی دینی تھیں۔۔۔خوف تو اسکی زات سے جونک کی طرح چمٹ گیا تھا آس پاس والے تو پہلے ہی ان دونوں سے خار کھاتے تھے اب کون پوچھتا جھمری کو کہ وہ کس اذیت میں جی رہا تھا۔۔۔۔

اچانک سے ایک تیز چیخ سنائی دی تھی جھمری جی جان سے لرز اٹھا۔۔۔اور اٹھ بیٹھا۔۔۔وقت ہو چکا تھا۔۔۔بالی کی بے چین روح آگئی تھی۔۔۔

“بچہ لا دے ناں جھمری۔۔۔”  اسکی کراہیں اسکے معبد خانے سے آ رہی تھیں اسکی آنکھیں اذیت سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔۔۔وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔کچھ آوازیں اور تھیں جیسے بہت سے لوگ سرگوشیاں کر رہے ہوں

“بچہ لادے دیکھ یہ مجھے تکلیف دے رہے ہیں ری۔۔۔۔آآآ”اسکی التجاؤں میں کراہیں بھی شامل ہو گئی تھیں جیسے کوئی گلہ کاٹ رہا ہو اسکا۔۔۔۔۔پھر اچانک اسکی کھلکھلاہٹ شامل ہو گئی تھی جھمری کانوں پر ہاتھ رکھے ذور ذور سے بلکتا بے بس تھا اور پوری رات اسکی آہوں اور سسکیوں میں کٹی۔۔۔جھمری کو اب احساس ہوا تھا کہ وہ ایک نیکی کر کے کس عذاب میں پھنس گیا تھا کاش اسے پتا ہوتا تو یہ سب نہ کرتا ۔۔۔۔ صبح کی پہلی کرن کے نمودار ہونے کے ساتھ چیخیں رکتے ہی وہ متورم آنکھیں لئے دیوار پر لگی گھڑی کے پاس آیا اور دیوانوں کی طرح آگے بڑھ کر اسے اتار کر کمرے کی کھڑکی سے باہر پھینکا تھا۔۔۔۔

یہ ہی تھی فساد کی جڑ یہی تھی۔۔۔ فساد کی جڑ۔۔۔۔وہ پاگلوں کی طرح خودکلامی کرتا اس گھر سے نکل گیا تھا کبھی نہ واپس آنے کیلئے۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔دو دن بعد یاسمین چلی گئی تھی لیکن جاتے ہوئے نجانے کیوں وہ مضطرب تھی خوف زدہ سی ۔۔۔۔اس رات کے بعد سے یسری بھی بجھ سی گئی تھی زاہد سے بھی اسکی بات چیت محدود ہو گئی تھی وہ نہیں جانتی تھی کہ اسکے بچے کے ساتھ کیا کیا ہے کہاں دفن کیا ہے بس ایک بےکلی سی طاری تھی۔۔۔۔۔۔کبھی دل بھراتا تو یاسمین کو فون کر کے دل ہلکا کر لیتی۔۔۔یاسمین حتی المقدور اسکو تسلیاں دیتی تھی مگر اندر سے پرسکون سی ہوتی اسکو صرف ایک بات پریشان کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔

ایک دن یسری کچن میں کام کر رہی تھی کہ ڈور بیل ہوئی ذاہد آفس گیا ہوا تھا وہ دوپٹہ درست کرتی گیٹ تک آئی۔۔۔گیٹ کھول کر اس نے دائیں بائیں دیکھا تھا گلی بلکل سنسان تھی کسی بچے کی شرارت سمجھ کر وہ دوبارہ دروازہ بند کرتی کہ اسکی نظر نیچے زمین پر پڑے گفٹ ریپر  پر گئی تھی وہ اٹھا کر اندر لے آئی۔۔۔اندر آکر  اس نے اس گفٹ کو کھولا تو اس میں چھوٹے سائز کی ایک گھڑی تھی رومن اردو میں لکھی ہوئی گنتی اور تلوار کی تیز دھار کی طرح چھوٹی چھوٹی سنہری سوئیاں ۔۔۔عجیب سی کشش لئے وہ چھوٹا سا وال کلاک یسری کو بہت بھلا لگا تھا۔۔۔اس نے ایک میکانکی انداز میں اسکو دیوار پر لگا لیا لیکن حقیقت میں اس نے ایک آفت کو گھر میں آنے کی دعوت دی تھی۔۔۔۔اور اپنا باقی ماندہ کام نبٹانے کچن میں چلی گئی۔۔۔۔اچانک ایک کھلکھلاہٹ اس کمرے میں گونجی تھی اور اس گھڑی کی سوئیاں رک گئیں۔۔۔

جھمری ایک درگاہ کے کونے میں بیٹھا سوچ رہا تھا کہ کاش اس رات وہ یاسمین اور بالی کی گفتگو نہ سنتا۔۔۔نہ اسکے دل میں ہمدردی جاگتی اور نہ وہ اس آفت میں مبتلا ہوتا۔۔۔۔اس سے اگلے دو دن اسکے لئے کافی منحوس تھے اور اب تک وہ منحوسیت اس کی زندگی کا احاطہ کئے ہوئے تھی وہ سوچتے سوچتے ماضی میں چلا گیا۔۔۔۔

رات میں وہ آفس سے تھکا ہارا آیا تھا یسری نے اسکو ایک نظر دیکھا اور رخ موڑ کر اسکے لئے کھانا لینے کچن میں چلی گئی۔۔۔وہ اسکی خاموشی پر جھنجھلاتا کمرے میں آیا تھا نجانے کیوں سر بہت درد کر رہا تھا وہ ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتا کپڑے بدلے بنا ہی بیڈ پر ڈھہ گیا آنکھیں بند کرکے اس نے انگلیوں سے ماتھے کو مسلا تھا سر درد شدید تھا۔۔۔اچانک کمرے میں اسکو گنگناہٹ محسوس ہوئی تھی اسکو اچھنبا ہوا کہ کہاں یسری بجھی بجھی سی رہتی تھی اور کہاں یہ گنگناہٹ۔۔۔۔پھر  اسکو اطمینان ہوا چلو آہستہ آہستہ مکمل ٹھیک ہو جائے گی۔۔۔کمرے میں یسری کی گنگناہٹ مترنم سر بکھیر رہی تھی۔۔۔۔۔

“ایک کپ چائے ہی بنا دو۔۔۔”اس نے بنا آنکھیں کھولے کہا تھا وہ ہنسی ۔۔۔اسکے لئے مزید حیرانگی کا باعث تھی یسری کی ہنسی۔۔۔چند لمحوں بعد اسکا ہاتھ پکڑ کر یسری نے سائیڈ پر کیا تھا اور خود دبانے لگی وہ مسرور ہوا تھا مگر آنکھیں نہیں کھولیں۔۔۔۔وہ آہستہ آہستہ سر دبا رہی تھی ذاہد کو عجیب سا احساس ہوا تھا اسکا سرد ہاتھ ۔۔۔افففف۔۔۔جیسے برف ہاتھ میں پکڑی ہو۔۔۔۔۔”

تمہارا ہاتھ اتنا سرد کیوں ہو رہا ہے ؟”زاہد نے محبت سے کہتے اسکا ہاتھ پکڑا تھا اور آنکھیں کھولیں اسی وقت دروازے پر کھٹکا ہوا زاہد کو بچھو نے ڈنک مارا تھا کیونکہ یسری چہرے پر سنجیدگی لئے دروازے پر کھڑی تھی اور اسکو اجنبیت لئے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ اگر یسری وہاں تھی تو ابھی ساتھ کون تھا وہ خوف سے کپکپا اٹھا۔۔۔۔اس نے اپنے خالی ہاتھ کو دیکھا تھا جہاں کسی کا سرد لمس ابھی بھی موجود تھا۔۔۔۔

“کھانا کھا لو آکر ۔۔”یسری کی سنجیدہ آواز اسکے کانوں میں پڑی تھی وہ خیال سے بری طرح چونکا ۔۔۔۔وہ کچھ بھی مان سکتا تھا مگر یہ وہم نہیں تھا وہ کسے بتاتا یسری تو کہہ کر الٹے قدموں واپس چلی گئی تھی۔۔۔۔

“میں سوچ رہی ہوں کہ کچھ دن کیلئے یاسمین کے باس چلی جاؤں۔۔۔”کھانے کی ٹیبل پر یسری نے اسکی طرف بنا دیکھے کہا تھا وہ جو کمرے میں خود کے ساتھ ہوئے واقعے پر کہیں کھویا ہوا تھا اسکی آواز سے بری طرح چونکا ۔۔۔

“آں ہاں کیا کہا تم نے۔۔۔۔؟”

“میں کچھ دنوں کیلئے یسری کے گھر جانا چاہتی ہوں”وہ روکھے لہجے میں بولی تھی اور کھانا کھانے لگی اسکو کھویا کھویا وہ بھی محسوس کر رہی تھی مگر اس سے اب یسری کو کوئی سروکار نہ تھا۔ ۔۔۔زاہد کو تو شاہد اپنے کئے پر پچھتاوا بھی نہیں تھا ۔۔۔۔

“ہاں۔۔۔ٹھیک ہے چلی جاؤ”اس نے بجھے بجھے لہجے میں کہہ کر  کھانا شروع کیا تھا اس کے دماغ پر ابھی بھی اسی واقعے کا اثر ہو رہا تھا وہ ذہن سے وہم سمجھ کر جھٹک رہا تھا مگر پھر بھی بار بار وہ خیال در آتا ۔۔۔۔

اس نے بالی اور یاسمین کی باتیں سن لی تھیں۔۔۔۔وہ مضطرب تھا ایک طرف اسکے دل میں اس بچے کیلئے ہمدردی تھی اسکا دل بچے کیلیے خون کے آنسو رو رہا تھا وہ حیران تھا کہ ایک باپ اپنی اولاد کو خود اپنے ہاتھوں سے درگور کر سکتا ہے؟ ۔۔۔۔وہ یاسمین اور بالی کو حق بجانب سمجھ رہا تھا مگر دوسری طرف اسکا یقین تھا کہ حقیقی بدلہ لینے والے اللّٰہ ہیں انسانوں کو کیا اختیار کے وہ بدلہ لیں اور وہ بھی شیطانی طاقتوں کے زریعے۔۔۔۔بے چینی حد سے بڑھی تو وہ اٹھ کر میکانکی انداز میں بالی کے معبد خانے کی طرف بڑھا تھا۔۔۔۔آج وہ اس بچے کے زریعے کوئی خاص علم کر رہا تھا

اس نے زرا سا دروازہ کھول کر اندر جھانکا اندر ایک الاؤ روشن تھا بالی بچے کو گود میں لئے اس پر کچھ پڑھ پڑھ کر پھونک رہا تھا اور ایک گندی بدبو پھیلی تھی جھمری نے اپنے ناک پر بے اختیار ہاتھ رکھا۔۔۔۔وہ پہلی بار اسکے معبد خانے کو اندر سے دیکھ رہا تھا

بالی نے پاس پڑا پیالہ اٹھا کر اپنے سامنے کیا تھا اور بچے کا منہ تھوڑا سا کھول لیا  جھمری کیلیے یہ سب نیا اور حیران کن ہونے کے ساتھ ساتھ تکلیف دہ بھی تھا۔۔۔

بالی نے کچھ پڑھنے ہوئے اپنی ایک انگلی اس پیالے میں موجود مشروب میں ڈالی تھی اور باہر نکالی جھمری کی آنکھیں خوف سے پھٹ گئی تھیں وہ خون تھا بالی نے اپنی انگلی اس بچے کے منہ میں ڈالی تھی اور خون اس مردہ بچے کی زبان کو لگنا تھا کہ اس بچے کو بری طرح جھٹکا لگا تھا جھمری کو ابکائی سی آگئی اس نے ایک ہاتھ سے دیوار کا سہارا لیا تھا اور دوسرے ہاتھ سے ابکائی روکی اب بالی نے دوسری بار اس بچے کے اندر خون کی بوند کو ڈالا تھا بچے کو پہلے سے شدید جھٹکا لگا۔۔۔جھمری کیلیے اب مزید برداشت کرنا مشکل ہو رہا تھا وہ کسی بھی حال میں اس بچے کو اس گھناونے کام کے لئے استعمال ہوتا نہیں دیکھ سکتا تھا۔۔۔۔بالی اب بچے کو زمین پر چت لٹا کر پاس پڑا خنجر اٹھا چکا تھا مردہ بچے کے وجود میں ہلکی ہلکی جنبش ہو رہی تھی یہ یقیناً اس شیطانی خون کی بوندوں کا اثر تھا جو کچھ لمحے پہلے اسکے اندر انڈیلی گئی تھی  اس سے پہلے کے بالی اس خنجر سے بچے پر وار کرتا جھمری تیزی سے اندر آیا تھا اور بالی کو دھکا دے کر بچے کو اٹھا کر کمرے سے نکل گیا تھا بالی کو کچھ سمجھنے کا موقع ہی نہیں ملا تھا۔۔۔اتنے میں بالی کچھ سمجھ پاتا جھمری بچے کو لئے کمرے سے کیا شاید گھر سے ہی نکل گیا تھا ۔۔۔۔بالی خوف زدہ ہو کر اٹھا اسکا عمل بیچ میں رک گیا تھا اب پتا نہیں شیطانی طاقتیں اسکے ساتھ کیا کرتیں وہ اپنے آپ کو طاقت کل سمجھنے والا بری طرح ڈر گیا تھا وہ اللّٰہ کی قدرت اور طاقت کے آگے ہار گیا تھا اس نے اٹھ کر باہر جانا چاہا مگر دروازہ اچانک غائب ہو گیا تھا چاروں طرف دیواریں تھیں وہ منہ ہی منہ میں پڑھ پڑھ کر پھونکتا رہا کہ دروازہ ظاہر ہو جائے مگر سب طاقتیں جو پہلے اسکا ہتھیار تھیں اب اسکے خلاف ہو گئی تھیں۔۔۔۔اچانک درودیوار سے کالے سائے نکل کر اسکی طرف بڑھنے لگے وہ آگ کے الاؤ کے پاس پسینے سے شرابور کھڑا تھا تھر تھر کانپتی ۔۔۔۔وہ سائے اب قریب آگئے تھے اور  اسکے وجود کو دبوچ رہے تھے ایسے جیسے سوئی سے کو جسم کی کھال ادھیڑ رہا ہو وہ تکلیف سے چلاتا رہا اچانک آگ کا الاؤ بھی بجھ گیا تھا ۔۔۔۔۔افسوس آج اسے کالے علم نے جس کو وہ اپنی طاقت سمجھتا تھا اسکی جان لے لی تھی ۔۔۔۔اگلے دن  جھمری تھکے تھکے قدموں سے واپس گھر لوٹا تو اسکی سر پر بالی کی دردناک موت کی خبر بم بن کر گری تھی۔۔۔وہ تو بالی سے معافی مانگنے کا ارادہ رکھتا تھا کہ اس نے بالی کے بھروسے کو توڑا ضرور تھا مگر کوئی غلط حرکت نہیں کی تھی۔۔۔۔وہ بچے کی لاش کی بے حرمتی نہیں دیکھ سکتا تھا

محلے والوں کا کہنا تھا کہ بالی کے وجود سے ایک انتہائی گندی بدبو کے بھبھکے اٹھ رہے تھے کہ انکو جلدی جلدی میں وہ لاش سمندر کے سپرد کرنی پڑی ورنہ وہ جھمری کا انتظار ضرور کرتے۔۔۔۔۔۔لوگوں کے کچھ ہمدردی، کچھ دکھی، کچھ متنفر الفاظ کا بوجھ لئے وہ نم آنکھوں کے ساتھ اندر آگیا اس نے ٹھہر کر معبد خانے میں دیکھا تھا کمرے میں خون کی بوندیں تھیں اور باقی سب جیسے چھو منتر ہو گیا تھا وہ یہ سوچ کر سر جھٹک گیا کہ محلے والوں نے صفائی کر دی ہو گی۔۔۔۔

یاسمین کو جب بالی کی موت کا پتا چلا تو وہ جی جان سے لرز گئی تھی۔۔۔اسکی موت ایک معمہ تھا سب محلے والوں کیلئے۔۔۔۔سب محلے والوں کا متفقہ خیال تھا کہ بالی کی موت اسکے گندے عملیات میں گڑبڑ کی وجہ سے ہوئی ہے جس نے اس کی جان لے لی ۔۔۔۔کچھ خس کم جہاں پاک کے مصداق بہت شکرگزار تھے۔۔۔۔کچھ میں یاسمین تھی جو ڈری ہوئی تھی کہ اگر وہ بچہ وہاں سے مل گیا کسی کو تو سب ان گھر والوں پر بھی شک کرتے اور ذاہد تو جیتے جی اسکا گلہ دبا دیتا۔۔۔۔مگر شام تک اسکو اطمینان ہو گیا تھا کیونکہ لوگوں کو وہاں خون کی چند بوندوں اور بالی کی بدبو دار لاش کے سوا کوئی چیز نہیں ملی تھی۔۔۔۔

رات میں اچانک اسکی آنکھ عجیب سی آوازوں سے کھلی تھی  وہ جلدی سے اٹھ کر بیٹھا۔۔۔۔صحن میں کوئی چہل قدمی کر رہا تھا۔۔۔۔لیکن اسکے علاؤہ تو گھر میں کوئی تھا ہی نہیں  اور گھر کا دروازہ بھی وہ اچھی طرح بند کر کے لیٹا تھا پھر کون ہو سکتا ہے۔۔۔۔

“کون ہے؟…اس نے صحن میں کسی کی آہٹ محسوس کی تو تھوک نگلتے تھوڑی بلند آواز میں پوچھا تھا جواب میں اسکو  ہنسنے کی آواز آئی تو وہ خوف سے پیلا پڑ گیا وہ فطرتی طور پر ڈرپوک واقع ہوا تھا۔چہل قدمی کی آواز مسلسل آ رہی تھی اس سے پہلے کے وہ کچھ پوچھتا صحن کی لائٹ اچانک خودبخود جل گئی تھی اور اس نے جو دیکھا وہ اسکی روح کھنچنے کے لئے کافی تھا۔۔۔۔بالی اپنے ہاتھوں اور گھٹنوں کے بل چلتا اسکے سامنے گھر کے ایک کونے سے اپنے معبد خانے کی طرف گیا تھا جھمری نے ایک چیخ ماری وہ خوف سے لرز اٹھا تھا اسکے اعصابوں نے جواب دینے سے پہلے سنا تھا

“جھمری بچہ کہاں ہے ری۔۔۔”اسکی آواز پچکارتی ہوئی سی تھی پھر اچانک معبد خانے سے اسکی چیخوں کی آوازیں آنا شروع ہو گئی تھیں اور پھر جھمری بے ہوش ہو گیا۔۔۔۔

اس رات جھمری کے ساتھ ساتھ کسی اور کے اعصاب پر بھی بجلی گری تھی ۔۔۔۔یاسمین نے صبح چلے جانا تھا وہ اپنا پیک سوٹ کیس بیڈ کے ساتھ رکھ کر سست قدموں سے چلتی کھڑکی کے پاس آئی اور پردہ ہٹا کر سامنے والے گھر کے صحن میں نگاہ ڈالی تھی اوپری منزل پر کمرہ ہونے کی وجہ سے وہ سامنے والے گھر کا پورا صحن دیکھ سکتی تھی پورا  گھر اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔۔۔۔اچانک اس نے ایک خوفناک منظر دیکھا تھا بالی ہاتھوں پاؤں کے بل چلتا ہوا تیزی سے اپنے معبد خانے میں غائب ہو گیا تھا۔۔۔۔اسکی سانسیں رک گئیں یہ چند لمحوں میں ہوا تھا اسکو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا اور اسکی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔۔۔۔صبح وہ اٹھی تو بیڈ پر تھی۔۔۔وہ حیران تھی کہ بے ہوش تو وہ زمین پر ہوئی تھی مگر یہاں کیسے آ گئی۔۔۔۔اسکو رات والا واقع بھی وہم نہیں لگا تھا اسلئے کچھ مزید برا ہونے یا دیکھنے سے پہلے وہ اپنے گھر چلی آئی تھی جو اسی شہر میں مگر یہاں سے دور تھا۔۔

صبح وہ یسری کو یاسمین کے گھر چھوڑتا گیا تھا۔۔۔رات میں آفس سے آیا تو گھر سنسان پڑا تھا۔۔۔وہ کپڑے بدل کر کھانا گرم کرنے کچن میں آیا تو اچانک لاؤنچ میں سے کسی عورت کے لوری دینے کی گنگناہٹ سنائی دی تھی۔۔۔۔ذاہد کا ہاتھ لرزا۔۔۔۔

 وہ فرئج کا دروازہ بند کرتا متحیر سا لاؤنچ میں آیا تو صوفے پر یسری کو بیٹھے دیکھ کر اسکے قدموں تلے سے زمین نکلی تھی وہ پاؤں اوپر کئے  لحاف میں لپٹے ایک بچے کو گود میں لئے تھپکیاں دے رہی تھی اسکے لبوں پر ممتا بھری مسکان تھی اور وہ یک ٹک اس بچے کو محبت پاش نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔۔زاہد کے ماتھے پر ننھی ننھی بوندیں نمودار ہوئی تھیں۔۔۔

“تم ۔۔۔تم کب آئیں ؟”الفاظ اسکے حلق میں اٹک رہے تھے وہ دل ہی دل میں یہ سوچ کر خود کو تسلی دے رہا تھا کہ دروازہ کھلا تھا شاید اسکے آنے کے بعد آگئی ہو۔۔۔لیکن وہ ان سنی کرکے اس بچے کو لوریاں دیتی رہی۔۔۔

“میں نے پوچھا تم کب آئیں اور یہ بچہ کس کا اٹھا لائی ہو؟۔۔۔”وہ اب قدرے برہم ہو کر تھوڑی تیز آواز میں بولا تھا۔۔۔یسری نے ایک جھٹکے سے اپنا سر اٹھا کر اسکو خونخوار نظروں سے دیکھا تھا وہ اسکی آنکھوں کی خوفناک سیاہی دیکھ کر تھوڑا پیچھے ہوا۔۔۔۔یسری نے اسکی طرف یونہی دیکھتے اپنا ہاتھ اٹھا کر کھڑکی کی طرف اشارہ کیا تھا۔۔۔وہ میکانکی انداز میں چلتا کھڑکی کی طرف آگیا باہر کا موسم شدید آندھی طوفان  کا تھا اسے یاد تھا تھوڑی دیر پہلے جب وہ گھر آ رہا تھا تو آسمان پر ایسے موسم کے آثار نہیں تھے۔۔۔۔اسکے گھر کا گیٹ طوفان کی شدت سے کھل گیا تھا اس سے پہلے کہ وہ کھڑکی کے پاس سے ہٹتا اس نے ایک روح فرسا منظر دیکھا تھا۔۔۔گیٹ سے بالی اپنے ہاتھوں پاؤں کے بل تیزی سے رینگتا اسکے گھر کے لان میں آیا تھا اور ہاتھوں منہ کے ساتھ مٹی اکھیڑںے لگا وہ دیوانوں کی طرح مٹی کھود رہا تھا تیز طوفان سے بالی کے لیے بال ہوا میں ہی رقص کر رہے تھے اور کھڑکی سے یہ خوفناک منظر دیکھتے ذاہد کا سارا لہو جیسے نچڑ گیا تھا۔۔۔۔

“بتا دے نہ رے بچہ کہاں ہے؟۔۔۔”اسکو یسری کی آواز پیچھے سے آئی تھی مگر اسکا لہجہ خوجہ سرا جیسا تھا ذاہد تیزی سے پلٹا تھا لیکن لاؤنچ کو خالی پاکر وہ وہیں تھم گیا۔۔۔۔اچانک لاؤنچ میں پڑے فون کی گھنٹی بجی تھی۔۔۔وہ تیزی سے اس فون کی جانب لپکا۔۔۔

“ہ ۔۔۔۔ہیلو ۔۔!”اسکی آواز گھبراہٹ کے مارے سہی طرح نکل بھی نہیں رہی تھی ۔۔۔۔۔

“ہیلو!…کہاں تھے آپ میں ۔۔۔”

“ی ی ہسری ۔۔۔یسری تم آجاؤ گھر واپس آجاؤ یسری۔۔۔”وہ کہتے ہوئے بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا تھا۔۔۔

“لیکن ۔۔۔ہوا کیا ہے۔۔؟”دوسری طرف یسری تھوڑی پریشان سی ہوئی تھی۔۔۔۔

“وہ ۔۔۔ہ۔۔ہیلو۔۔۔یسری ۔۔۔یسری۔۔۔”لائن ڈسکنیکٹ ہو گئی تھی وہ خوف سے چیختا ریسیور لے کر وہیں بیٹھتا چلا گیا۔۔۔۔باہر طوفان ابھی تک تھا۔۔۔اور بالی کی آوازیں بھی۔۔۔۔۔

“بچہ  بتا دے ری ۔۔۔بچہ۔۔۔”لان سے اسکے دہائی دینے کی آوازیں آ رہی تھیں وہ لاؤنچ کے ایک کونے میں ڈرا سہما بیٹھا رہا۔۔۔۔صبح ہوتے ہی وہ اٹھا تھا اور لڑکھڑاتے قدموں سے باہر آیا باہر کسی بھی طوفان کے آثار نہیں تھے اور نہ ہی لان کی مٹی اکھڑی ہوئی۔۔۔اس نے جہاں اپنے بیٹے کو دفنایا تھا وہاں آیا اور روتا ہوا  ڈھہ گیا۔۔۔۔

“مجھے۔۔۔ معاف کر دو۔۔۔”وہ بلک بلک کر روتا کہتا جا رہا تھا اور مٹی کو مٹھی میں بھر بھر سینے سے لگا رہا تھا۔۔۔مگر اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔۔۔۔

“سیمی تمہارے بھائی کا رات فون آیا تھا۔۔۔۔”ناشتے کی ٹیبل پر اس نے یاسمین کو بتایا تھا۔۔۔”بلکہ میں نے کیا تھا۔۔۔میری دوائی وہاں رہ گئی تھی تو اسی کیلئے فون کیا تھا”

“کیا کہہ رہے تھے؟”

“کچھ پریشان لگ رہے تھے اور کہہ رہے تھے واپس آجاؤں “یسری نے کہا تھا

آپکو ایک بار دوبارہ فون کر کے پوچھ لینا چاہیے تھا۔۔۔۔

“کیا تھا مگر پھر اٹھایا ہی نہیں ..تم ایسا کرنا آفس جاتے ہوئے مجھے کر چھوڑ جانا۔۔۔”

“آپی کیا تم نے معاف کر دیا بھائی کو ۔۔..؟”اسکے اندر بے چینی سی بھر گئی تھی

“پوری زندگی انکے ساتھ گزارنی ہے معاف نہ بھی کروں تو انکو کونسا پچھتاوا ہے اس پر انہوں نے جو کیا ہے۔۔۔”وہ افسردگی سے مسکرا کر کہتی اٹھ کر چلی گئی تھی یاسمین دل مسوس کر رہ گئی

گھر آکر اس نے گھر کو کھلا پایا تھا ۔۔۔وہ زاہد کی بے پرواہی پر بیچ و تاب کھاتی اندر آئی اور بیگ رکھ کر بکھری چیزیں سمیٹنے لگی تھی نجانے گھر کھلا چھوڑ کر وہ کہاں چلا گیا۔۔۔وہ صفائی کر کے کمرے میں آئی تھی اور سوچنے لگی۔۔۔۔

: صبح سے دن اور دن سے رات ہو گئی تھی مگر وہ آیا ہی نہیں تھا یسری کو تشویش سی ہونے لگی کہ آخر وہ گیا ہی کہاں تھا جو اب تک لوٹا نہیں تھا  ۔۔۔۔یسری نے اسکے سیل پر کال کی تو وہ مصروف جا رہا تھا۔۔۔۔

یسری نے تین چار بار کال ملائی مگر جب چوتھی بار “مصروف ہے”سنائی دیا تو اس نے غصے سے بیڈ پر موبائل پھینکا تھا۔۔۔

“جب اسے پرواہ نہیں تو میں کیوں کر رہی ہوں؟…”(وہ زاہد پر پیچ وتاب کھاتی سونے کی کوشش کرنے لگی) کچھ دیر بعد وہ گہری نیند میں تھی۔۔۔۔

اسکی رات کے 12 بجے کھڑکی کی کھڑکھڑاہٹ سے آنکھ کھلی تھی وہ اٹھ بیٹھی۔۔۔باہر شاید طوفان آیا ہوا تھا ۔۔۔۔وہ کھڑکی بند کرنے کی غرض سے بیڈ سے اٹھی تو لینڈ لائن پر فون آیا تھا وہ کھڑکی کو چھوڑ کر پہلے فون کے پاس چلی آئی اندر ہی اندر اسے زاہد کی بھی فکر کھا رہی تھی جو بھی ہو وہ اسکا مزاجی خدا تھا۔۔۔۔

“ہیلو۔۔۔۔!”

“ہ۔۔۔ہیلو۔۔۔یسری”

کہاں ہو؟” “زاہد۔۔ کہاں ہو تمہارے فون پر میں نے اتنی کالز کیں اب انسان ایک کا تو جواب۔۔۔”

“یسری میری بات سنو میں نے یاسمین کو فون کیا تھا اس نے کہا تم گھر پر ہو۔۔۔ کیا تم گھر ہو۔۔۔؟”زاہد نے تیزی سے اسکی بات کاٹی تھی۔۔۔

“ہاں۔۔۔”باہر طوفان اپنے عروج پر تھا وہ بامشکل سن کر جواب دے پائی ۔۔۔

“اوہ میرے خدا نکلو وہاں سے۔۔۔”زاہد نے کہا تھا وہ سن نہ پائی کچھ سیکنڈ کیلئے آواز کٹی تھی پھر زاہد بولا تھا “یہاں طوفان آیا ہوا ہے میں تھوڑا لیٹ ہو جاؤں گا تم بھی گھر میں ہی رہنا باہر نہ نکلنا”پہلے کی نسبت اب اسکی آواز ٹہراؤ تھا۔۔۔۔

“یہاں بھی  طوفان آیا ہوا ہے میں سیو ہوں تم بھی جہاں ہو ابھی وہاں ہی رہنا ۔۔۔۔لگتا ہے شدید بارش ہونے والی ہے۔۔۔”اس نے کہا تھا دوسری طرف زاہد بول رہا تھا۔۔۔

“اوہ میرے خدا ۔۔۔طوفان۔۔۔تم نکلو یار پلیز ۔۔۔”وہ چلایا مگر دوسری طرف سے شاید ریسیور رکھ دیا گیا تھا۔۔۔اس نے آسمان کو دیکھا بالکل صاف تاروں بھرا تھا یہاں ہوا سے پتا بھی نہیں ہل رہا تھا۔۔۔۔وہ سرپٹ گھر کی طرف دوڑا۔۔۔

“ٹھیک ہے تم بھی اپنا خیال رکھنا۔۔۔”زاہد سے اس نے کہا تھا اور ریسیور رکھ کر کھڑکی کی جانب بڑھ گئی اسکو اتنا بھی نہیں پتا تھا کہ وہ جس سے بات کر رہی تھی وہ زاہد ہی نہیں تھا ۔۔۔۔ طوفان واقعی میں بہت تیز ہے۔۔۔۔

“اللّٰہ رحم کریں۔۔۔”اس نے لال آسمان کو دیکھ کر کہا اور جیسے ہی کھڑکی کے پٹ تھامنے کیلئے آگے بڑھی تو اس نے گیٹ کو ایک جھٹکے سے کھلتے دیکھا تھا اور پھر وہ مکروہ منظر سامنے تھا جس نے زاہد کی زندگی اجیرن کی ہوئی تھی وہ لرزتے بدن کے ساتھ خوف سے پردہ مٹھی میں بھنچے اسکو لان کی زمین اکھاڑتے ہوئے دیکھ رہی تھی وہ بہت خوفناک تھا اور اس سے زیادہ خوفناک احساس کہ وہ مر چکا تھا۔۔۔۔ یکدم بالی وہاں سے غائب ہو گیا تھا اور ہوا بھی رک گئی سب کچھ تھم گیا تھا یسری کچھ دیر کھڑی لرزتی رہی پھر ہمت کر کے اس نے کپکپا کر آگے ہو کر لان میں دیکھنا چاہا تو بالی یکدم  بالکل کھڑکی کے سامنے آکر رکا تھا یسری نے خوف سے چیخ ماری۔۔۔۔

“مائی ۔۔۔مائی تیرا بچہ وہاں ۔۔۔مائی بچہ دے دے نہ۔۔۔۔”وہ گلہ پھاڑتے ہوئے واویلا کرتا ہوا لان کی طرف اشارہ کر رہا تھا جہاں زاہد نے اسے درگور کیا تھا

۔۔یسری اتنے قریب سے اسکو واویلا کرتے دیکھ کر خوف کی شدت سے بےہوش ہو گئی۔۔۔۔

یسری نے اپنے چہرے پر نمی محسوس کی تو جھٹکا کھا کر بیٹھی تھی اور زاہد کو متوحش سا سامنے پا کر اسکے سینے سے لگتی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی اسکا خوف سے جسم بری طرح کپکپا رہا تھا ۔۔۔۔۔

“میں آگیا ہو ناں پریشان نہ ہو۔۔۔”زاہد نے اسے تسلی دی تھی وہ خوف سے لرزتی رہی ۔۔۔۔

“وہ ۔۔۔وہ بالی۔۔۔۔”اس نے روتے ہوئے کھڑکی کی طرف اشارہ کیا زاہد کو کل سے پچھتاوں نے مارا ہوا تھا

“جانتا ہوں۔۔۔”زاہد نے لب بھینچ کر کہا

“کیا جانتے ہو؟…تمہیں پتا وہ لان میں ایک جگہ پر اشارہ کرتے ہوئے کہہ رہا تھا میرا بچہ ۔۔۔بچہ مطلب۔۔۔؟”وہ خوف کے ساتھ ساتھ الجھن میں بھی تھی۔۔۔۔

“یسری م۔۔۔۔مجھے معاف کر دو یہ جو کچھ بھی ہو رہا ہے شاید میری وجہ سے ہو رہا ہے”یسری اسکے نم لہجے پر ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔

“ہمارا بچہ مرا ہوا پیدا نہیں  ہوا تھا وہ جھوٹ بولا تھا میں نے۔۔۔۔اسکی نہ تدفین ہوئی تھی میں نے اسے لان میں ہی۔۔۔اور شاید تب بھی وہ زندہ ہی تھا”زاہد کے کہتے کہتے آنکھوں میں آنسو آگئے تھے ۔۔۔۔یسری نے اسے بے یقین نظروں سے دیکھا۔۔۔انکھوں میں کرب تھا۔۔۔

“تم ۔۔۔۔تم انسانیت کے درجے سے اتنا گر سکتے ہو۔۔؟”وہ غم و غصے سے پھٹنے کو تھی۔۔۔۔

“مگر ۔۔۔۔”زاہد اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاہتا تھا

“اگر مگر کچھ نہیں۔۔۔”

وہ بیڈ کے دوسرے کونے پر سر ہاتھوں میں گرائے پریشان سا بیٹھا تھا اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ بالی کی روح اسکا بچہ کیوں چاہتی تھی۔۔۔۔یسری جلدی سے اٹھی اور اپنا بیگ اٹھانے لگی ۔۔۔

“کہاں؟…کہاں جا رہی ہو۔۔۔؟”وہ اسکو چادر اوڑھتے دیکھ حیرت سے پوچھنے لگا تو اس نے نفرت سے زاہد کو دیکھا تھا

“یاسمین کے پاس جا رہی ہوں میں نہیں رہ سکتی ایک درندے کے ساتھ۔۔۔”وہ تنفر سے کہتی جانے لگی تو زاہد نے اٹھ کر اسکا بازو پکڑا تھا۔۔۔

“تم ایسے کیسے جا سکتی ہو؟۔۔۔۔”وہ بولا تو یسری نے ایک جھٹکے سے اپنا بازو چھڑایا تھا اور وہاں سے نکلتی چلی گئی۔۔۔

یسری نے یاسمین کو ساری بات بتا دی تھی۔۔۔یاسمین نے ساری بات سن کر اسکے آگے ہاتھ جوڑ دئے۔۔۔یاسمین نے کرب سے آنکھیں بھنچیں ان سب واقعات میں کہیں نہ کہیں اسکا بھی ہاتھ تھا شاید۔۔۔۔

“مجھے بھی معاف کر دو پلیز۔۔۔۔”یاسمین نے جیسے ہاتھ جوڑ کر کہا تھا اسے لگا کہ وہ کسی اور راز کو منکشف کرنے جا رہی ہے۔۔۔۔اس میں مزید سننے کی تاب نہ تھی۔۔۔۔

ماضی۔۔۔۔

ہاسپیٹل کے آپریشن تھیٹر سے ایک نرس نکلی تھی (وہ شش و پنج کا شکار تھی کہ آپریشن تھیٹر کے باہر مضطرب ٹہلتے اسکے باپ کو کیا بتا ئے )

ذاہد خوشی سے تمتماتے چہرے کے ساتھ اسکی جانب بڑھا تھا

“آپکے ہاں ٹرانس جینڈر بچے کی پیدائش ہوئی ہے”نرس نے ایک سانس میں سنجیدگی سے کہتے اسکے سر پر بن پھوڑا تھا اور وہاں سے چلی گئی

پیچھے کھڑی یاسمین بھی سن چکی تھی سب اور اسکو خوشگوار حیرت کا جھٹکا لگا تھا ذاہد سر ہاتھوں میں گرائے بیٹھا تھا

“میرا ۔۔۔۔میرا تو سوسائٹی میں مذاق بن جائے گا” وہ سرگوشی میں بڑبڑا رہا تھا ۔۔۔

“نہیں نہیں یہ زندہ نہیں رہ سکتا ۔۔۔نہیں”وہ پاگلوں کی طرح خود کلامی کر رہا تھا یاسمین چہرے پر مصنوعی ہمدردی کا خول چڑھائے اسکے پاس آئی

“جو ہونا تھا ہو گیا اب۔۔۔۔”

“نہیں یہ زندہ نہیں رہ سکتا۔۔۔”اس نے یاسمین کی پوری بات سنے بنا کہا تھا اور سر اٹھا کر امید بھری نظروں سے یاسمین کو دیکھا

“یاسمین مجھے تمہاری مدد چاہیے “اس نے یاسمین کو آس سے دیکھا تھا اور یاسمین سر اثبات میں ہلا گئی ۔۔۔۔کچھ دیر بعد وہ ہاسپیٹل سے بچہ لے کر نکل رہی تھی

یسری کو ہوش آیا تو ذاہد نے اسے مردہ ٹرانس جینڈر بچے کی پیدائش کا بتا کر رخ موڑ لیا تھا۔۔۔۔مگر اللّٰہ ایک دن حقیقت ضرور سامنے لاتا ہے اور آج مجرم نے ہی اعتراف جرم کر لیا تھا

۔سب سن کر اس نے اپنے ہاتھ ان جڑے ہاتھوں سے ہٹائے تھے۔۔۔۔

“تم لوگوں نے میری ننھی سی جان کی بے حرمتی کی۔۔۔۔”وہ کرب و بے یقینی سے بولی تھی۔۔۔

“….ایک آخری بار اسکی ماں کو اسکا چہرہ تو دیکھنے دیتے اس ننھی سی جان کی زندگی کو ۔۔۔۔اسکی سانسوں کو محسوس تو کرنے دیتے”وہ لمحے بھر کیلئے رکی تھی آنسو ضبط کئے پھر بولی

“زاہد نے جھوٹ بولا کہ وہ دنیا میں آتے ہی فوت ہو گیا لیکن تم جانتی تھیں ناں۔۔۔؟…تم تو بتا دیتیں۔۔۔تم روک لیتی زاہد کو مجھے بتا دیتیں میں خود اسکے آگے ہاتھ جوڑتی ۔۔کم از کم اسکی سانسیں تو سن لیتی اس بچے کی سانسیں ۔۔۔جس نے میری کوکھ سے جنم لیا۔۔۔۔”

“اس نے دفنایا تم دیکھتی رہیں ۔۔۔اور پھر اسکے بے جان وجود کی بے حرمتی کے لئے ایک کالے علم والے کے سپرد کر آئیں۔۔۔واہ رے تمہارا بدلہ۔۔۔۔ ایک اس بدنصیب کا باپ ایسا اور خالہ۔۔۔کم از کم اس ننھی سی جان پر اتنا تو احسان کرتے کہ  اسکو غسل دے کر قبرستان میں دفنا آتے ۔۔۔۔۔مگر۔۔۔۔”بولتے بولتے اسکی آواز دوبارہ رندھ گئی تھی۔۔۔۔

یاسمین چپ چاپ شرمندگی سے آنسو بہا رہی تھی۔۔۔۔

یسری روتی ہوئی اٹھ کر چلی گئی یاسمین چہرہ ہاتھوں میں چھپائے بلک بلک کر رونے لگی اس کے اندر اتنی بھی ہمت نہیں تھی کہ وہ جاتی ہوئی یسری کو روک لیتی۔۔۔۔

جھمری کو آج بھی وہ خوفناک رات یاد تھی وہ اس جھٹکے کھاتے چھوٹے سے ننھے وجود کو سینے سے لگائے بھاگتا چلا جا رہا تھا مگر رکا نہیں اس نے اپنے پیچھے بالی کی للکاریں سنی تھیں مگر اس نے طے کر لیا تھا وہ اس ننھے وجود کی بے حرمتی نہیں ہونے دے گا۔۔۔۔

بھاگتے بھاگتے وہ ایک قبرستان کے سامنے آ رکا تھا اور ایک نظر قبرستان کو دیکھ کر اس نے سوچا کیوں نہ اس ننھے مردے کی تدفین کر دی جائے۔۔۔وہ گیٹ سے اندر آیا تھا رات کے اس وقت قبرستان کی ہولناکیوں میں اضافہ ہو رہا تھا وہ ننھے مردے کو سینے سے لگائے جس میں ابھی بھی ہلکی ہلکی جنبش ہو رہی تھی قبروں کے درمیان میں سے ہوتا ایک جھونپڑی نما گھر کی طرف آیا تھا۔۔۔۔اندر جھونپڑی خالی تھی۔۔۔مگر کھرپی بیلچہ پانی۔۔۔۔سب تھا جیسے قدرت نے اس ننھے مردے کی تدفین کا بیڑا اٹھا لیا تھا۔۔۔۔جھمری قبر کھودنے کے لوازمات لئے باہر آیا تھا اور بچے کو ایک سائیڈ پر لٹا کر زمین کھودنے لگا۔۔۔۔وہ نازک سے جسم والا جھمری آج قبر کھود رہا تھا وہ بھی ایک ننھے سے بچے کی اسکے ہاتھ لرز رہے تھے مگر اسکا دل صاف تھا۔۔۔ ننھی سی اپنے اندازے سے

قبر کھود کر اس نے بچے کو اٹھایا تھا وہ بچہ بلاشبہ بہت خوبصورت تھا نجانے اسکے باپ کو اس پر کیوں نہ ترس آیا جھمری نے سوچا اسکا ایک آنسو اسکی آنکھ سے لڑھک کر بچے کے ہونٹ کے پاس گرا تھا انافانا بچے کی لال لال زبان باہر نکلی تھی اور اس آنسو کو چاٹ لیا اور ایک شیطانی مسکراہٹ اسکے لبوں پر بکھری تھی جھمری نے سکتے کے عالم میں یہ منظر دیکھا تھا۔۔۔خوف سے لرزتے جھمری نے جلدی سے اس وجود کو کھودی ہوئی جگہ میں لٹا کر جلدی جلدی مٹی ڈالنا شروع کی تھی اور جیسے جیسے مٹی ڈالتا جا رہا تھا اسکے ہاتھ پر رعشہ کی مریض کی طرح کانپ رہے تھے بچے کی کلکاریاں بڑھ رہی  تھیں لیکن مٹی برابر کرتے ہوئے اچانک وہ کلکاریاں دم توڑ گئیں وہ تھوک نگلتے اٹھا تھا  ہاتھ دعا کیلیے اٹھائے۔۔۔

“میرے مالک تو جانتا ہے میری نیت کو۔۔۔۔مجھ سے جتنا ہو سکا میں نے کیا تیری مصلحتیں تو ہی جانتا ہے…. تو ہم سب کے گناہ معاف فرما۔۔۔۔آمین”۔۔۔۔وہ دعا مانگ کر تھکے تھکے قدموں سے  وہاں سے نکل گیا تھا ۔۔۔۔

“اے میرے مالک ۔۔۔۔میں نہیں جانتی وہ کہاں ہے ان ظالموں نے ایک ماں سے اسکے بچے کا آخری دیدار بھی چھین لیا لیکن میرے مالک مجھے وہ جگہ ہی دکھا دے کہ کہاں ہے وہ؟ مردہ ہی صحیح۔۔۔۔ میری ممتا کو قرار آ جائے گا  ۔۔۔۔۔مجھے اسکی آخری آرام گاہ یا ٹھکانہ بتا دے میرے مالک۔۔۔۔”وہ ہاتھ اٹھائے محو مناجات تھی ۔۔۔۔

جھمری نے خیالوں سے چونکتے آنکھیں کھول کر آواز کی سمت دیکھا تھا یسری تھوڑے فاصلے پر ہچکیوں سے روتی ہوئی التجا کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔

جھمری نم آنکھوں کے ساتھ اٹھ کر اسکے سامنے آیا تھا۔۔۔۔اور بیٹھا۔۔۔

تمہارے ننھے وجود کا آخری ٹھکانہ۔۔۔۔۔ مجھے پتا ہے باجی۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ بیڈ پر بیٹھے سر ہاتھوں میں گرائے پریشان حال بیٹھا تھا کہ یکدم ایک تیز آواز آئی تھی جیسے کوئی گھنٹا بجتا ہے آواز سن کر وہ خوف سے ایسے بدکا  جیسے بچھو نے ڈنک مارا ہو۔۔۔۔باہر لاؤنچ سے ٹک ٹک کی آوازیں آ رہی تھیں وہ باہر بھاگ جانا چاہتا تھا مگر گھر سے باہر نکلنے کیلئے بھی اسکو لاؤنچ سے ہی گزرنا پڑتا ۔۔۔۔وہ مرتا کیا نا کرتا کے مصداق لرزتے قدموں سے لاؤنچ میں آیا تھا اور اسکی روح فنا ہونے لگی۔۔۔۔

پوری دیوار پر خون سے گنتی لکھی تھی اور درمیان میں بالی دیوار سے سیدھا چپکا گھوم رہا تھا جیسے گھڑی کی سوئی گھومتی ہے۔۔۔۔

“بچہ دے دے رے۔۔۔۔ورنہ اسی طرح بلکل اسی طرح تیرا برا وقت ٹک ٹک ٹک قریب آتا جائے گا۔۔۔بالی بچہ لئے بنا نہیں جائے گا۔۔۔۔”وہ مکروہ ہنسی سے کہتا تالیاں بھی پیٹ رہا تھا

وہ خوف سے پیلا پڑتا گرتا پڑتا باہر لان میں آیا تھا اور کافی دیر دیوانوں کی طرح زمین پر بین کرنے کے بعد اٹھ کر بیلچا لایا تھا اور جہاں کچھ دن پہلے بے فضول دھرتی پر بوجھ سمجھ کر خود اس نے اپنے خون کو دفن کیا تھا اب اسی خون کی ضرورت اسے پڑی تھی۔۔۔یہ مکافات نہیں تو اور کیا تھا۔۔۔۔

کافی دیر لان کو اکھاڑنے کے بعد وہ خوف اور تھکن سے ہانپتے ہوئے ڈھہ گیا تھا مگر بچہ تو کیا اسکی ہڈیاں بھی نہ ملی تھیں ۔۔۔۔وہ ہوتا تو ملتا ناں۔۔۔۔۔

بے نام قبر پر یسری بیٹھی آنسو بہا رہی تھی پیچھے ہی جھمری نم آنکھوں کے ساتھ ہاتھ باندھے کھڑا تھا۔۔۔۔

وہ دعا کر کے اٹھی تو جھمری کو دیکھ کر اس نے کہا ۔۔۔۔

“تمہارا بہت بڑا احسان ہے مجھ پر۔۔۔تم نے میرے بچے کی لاش کی مزید بے حرمتی نہیں ہونے دی۔۔۔۔”وہ ممنون تھی

“مجھے معاف کر دو باجی مگر احسان کا لفظ نہ کہو۔۔۔میں کیا میری اوقات کیا۔۔۔۔”وہ عاجزی سے بولا۔۔۔۔۔

“نہیں اللّٰہ تمہیں اسکا اجر ضرور دے گا….اگر تم نہ ہوتے تو اس کا ننھا پاک وجود کالے علم کی بھینٹ چڑھ جاتا۔۔۔”وہ بھیگی آواز میں بولی

“لیکن بالی۔۔۔اسکی روح تو پتا نہیں کیا چاہتی ہے “جھمری نے سرد آہ بھر کر جیسے خود کلامی کی وہ اس کالے سائے کی وجہ سے گھر سے بے گھر ہو گیا تھا اسلئے اس نے کافی سوچ و بچار کے بعد شہر ہی چھوڑنے کا سوچا تھا

“وہ اس وجود کو چاہتی ہے۔۔۔”یسری نے قبر کی طرف اشارہ کیا تھا”اور اگر میں چاہوں تو اپنے مزاجی خدا کو بچانے کیلیے اسکو وہاں ہی دفنا دوں تاکہ بالی اسے لے کر ہمارا پیچھا چھوڑ دے اتنی بے حرمتی ہو گئی تھوڑی اور سہی کونسا میرا بچہ واپس آ جائے گا مگر میں اپنے مزاجی خدا کو بچانے کیلیے اپنے ٹکڑے کے وجود کی مزید بے حرمتی برداشت نہیں کر سکتی ۔۔۔۔میں بیوی ہوں مگر میں ایک ماں بھی ہوں ۔۔۔۔ماں اپنے بچے پر ہوا ظلم نہیں بھولتی۔۔۔۔”وہ کہہ کر آگے بڑھ گئی تھی۔۔۔

“جو اسکے ساتھ ہو رہا وہ یہی ڈیزرو کرتا ہے۔۔۔”اس نے دل میں سوچا تھا۔۔۔۔۔اور قبرستان سے نکل گئی اسکی منزل اسکا دوسرے شہر میں میکہ تھا

“اللّٰہ تمہاری آخری آرام گاہ تمہارے لئے پرسکون بنائے”جھمری قبر کی طرف دیکھ کر دعا مانگتا ہوا پلٹ گیا تھا۔۔۔۔۔

ان دونوں کے قبرستان سے نکل جانے کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے ہوا سے قبر کی مٹی آڑی تھی اور اچانک سرخ رنگ کی ہوگئی تھی۔

 

اختتام بخیر

 

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments
error: Content is protected !!
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x