AirHostes ائیر ہوسٹس

رومانوی داستان

رایٹڑ سنہیہ خان

مکمل ناول

views
0
AirHostes Urdu story ائیر ہوسٹس

مکمل ناول

میرا تعلق پنجاب، پاکستان سے ہے۔ اس وقت میں ایک بہت بڑی ائیر لائن میں ملازمت کر رہی ہوں۔ میرا تعلق ایک مڈل کلاس خاندان سے تھا۔ والد صاحب کا جوتوں کا اسٹور تھا، اور میں بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھی۔ مجھے گھر کے حالات بدلنے تھے۔

گریجویشن کے بعد ایک عزیز نے بتایا کہ ائیر ہوسٹس کی کچھ سیٹس ہیں، اگر تم جوائن کرنا چاہو۔ میں نے ہاں کہہ دی، گھر والوں نے بھی اجازت دے دی۔

ابتدا ہی میں ایک کریو ممبر کو مجھ سے محبت ہو گئی۔ اس نے کہا کہ وہ شادی کرنا چاہتا ہے، مگر ابھی وقت لگے گا۔ ہم ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارنے لگے۔ اس وقت مجھ میں اتنی عقل نہیں تھی کہ فرق سمجھ پاتی۔ ہم جہاں جاتے، اکٹھے ہوتے، ساتھ رہتے، گھومتے پھرتے۔

وقت کے ساتھ مجھے احساس ہونے لگا کہ وہ میرے ساتھ صرف وقت گزار رہا ہے۔ میں پیچھے ہٹنا چاہتی تھی۔ والدین نے میرے لیے رشتے دیکھنے شروع کیے، مگر کوئی بھی پڑھا لکھا، اچھا لڑکا ائیر ہوسٹس سے شادی کے لیے تیار نہیں تھا۔

مجھے یوں محسوس ہونے لگا جیسے میں ائیر ہوسٹس نہیں بلکہ طوائف بن گئی ہوں۔ لوگ مجھے عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے تھے۔ کچھ لوگ فلائٹ میں ٹپ کے ساتھ اپنا نمبر دے دیتے اور کہتے رابطہ کرو۔ تجسس میں آ کر رابطہ ہوتا بھی تو سامنے صرف حیوانیت نظر آتی۔ روح کا ساتھی کہیں نہیں ملتا تھا۔ دل مسلسل پریشان رہتا۔

اللہ نے عمرے کی سعادت عطا کی تو میں نے سب کچھ اس کے سپرد کر دیا۔ اس کے بعد جو بھی یقین دلاتا، وہ جھوٹ لگتا۔ جن مردوں سے بات ہوئی، وہ مجھے جاننے کے بجائے میرے جسم کو جاننے کی کوشش کرتے رہے۔

میں نے بہن بھائیوں کی شادیاں عزت سے کر دیں اور اپنی شادی کی فکر چھوڑ دی۔ پھر ایک شادی شدہ مرد کو چنا، صرف اس امید پر کہ شاید وہ مجھے عزت دے سکے۔ اس نے نکاح کیا، چھ ماہ ساتھ گزارے۔ جب میں نے بچے کی خواہش ظاہر کی تو اس نے طلاق دے دی۔

اس کے بعد مجھے سمجھ نہیں آتا تھا کہ وقت کیسے گزاروں۔ کچھ عرصہ چھٹی لی، اپنی روح کو جھنجھوڑا۔ والدہ روز پوچھتیں، جاب کب شروع کرو گی؟ گھر سے دل برداشتہ ہو کر دوبارہ کام شروع کر دیا۔

وقت گزرتا گیا، جیسے مجھے نوچتا رہا۔ مجھے سمجھ نہیں آتا تھا کہ وقت مجھ سے کیا چاہتا ہے۔ میں نے کبھی کوٹھیوں اور گاڑیوں کا خواب نہیں دیکھا تھا، بس ایک صاف ستھری، باعزت زندگی چاہتی تھی۔

میں نے پوری دنیا دیکھی، کئی ممالک کے ویزے ملے، سینکڑوں بار وقت گزاری کی آفرز ہوئیں۔ مگر ائیر ہوسٹس کی نوکری میرا شوق نہیں، میری مجبوری تھی۔ اس کے سوا میں کچھ اور کر بھی نہیں سکتی تھی۔

مکہ میں موجود ایک پاکستانی بزنس مین نے مجھے نکاح کی پیشکش کی۔ میں نے سوچا، مکہ میں رہتا ہے، اللہ کا بندہ ہوگا، اللہ سے ڈرتا ہوگا۔ وہ روز منتیں کرتا، روز ہاں کے لیے اکساتا رہا۔ آخرکار میں مان گئی۔

ہم ملے، لنچ کیا، اور اس نے شادی کا فیصلہ سنا دیا۔ پھر وہ مجھے اپنے فلیٹ پر لے گیا۔ میں پہلے ہی اندر سے ٹوٹ چکی تھی۔ اس کی باتوں میں آ گئی، اور اس نے مکہ کی حرمت کا بھی خیال نہ رکھا، نکاح کے نام پر۔

بعد میں میں نے کہا کہ ابھی نکاح کر لیتے ہیں۔ اس نے کہا، کر لیں گے۔ اور پھر اس نے مجھے بلاک کر دیا۔

مجھے نہیں معلوم کہ میں کس جرم کی سزا بھگت رہی ہوں۔ میں نے ہمیشہ شادی چاہی، بچے چاہے، اپنی ایک فیملی کا خواب دیکھا۔

اس کے بعد مجھ میں ہمت نہیں رہی کہ کوئی اور مجھے دوبارہ ڈسے۔

ہمارا معاشرہ عورت کو برا بنا دیتا ہے۔ عورت بدکار کہلاتی ہے، مگر یہ کیوں نہیں مانتا کہ بدکاری کرنے والا ایک مرد بھی ہوتا ہے؟

میں نے بہت عمرے کیے، توبہ کی، نفلی عبادتیں کیں، مگر آج یوں لگتا ہے جیسے ہم سب آزمائش میں ہیں۔

میرے پاس مرد کی حیوانیت کے لیے اب الفاظ نہیں بچے۔ بس اتنا کہوں گی:

کسی بے بس کے ساتھ کھیل کر وقتی لذت حاصل کرنے والے یہ بات یاد رکھیں—یہ ایک ایسی قیمت ہے جو ضرور ادا کرنی پڑتی ہے۔

عورت نکاح چاہتی ہے، مگر مرد اکثر کسی ایک عورت کا ساتھ نہیں دے پاتا۔ اسے ہر روز نئی عورت چاہیے ہوتی ہے۔

نوٹ ۔سب مرد ایک جیسے نہیں ہوتے لیکن میجورٹی ایسے ہی مردوں سے بھری ہوئی ہے ۔

ہمارا مقصد عورت اور مرد کو برا بنانا نہیں معاشرے کی اصلاح ہے ۔اللہ پاک ہر بیٹی کو محفوظ رکھے ۔

 

5 1 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments
error: Content is protected !!
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x