مکمل ناول
میں نے اُس دن بھی چولہے پر ہلدی والا دودھ گرم کیا تھا۔ میری چھ سالہ رومیسہ کی ناک بہ رہی تھی، اور ڈاکٹر نے کہا تھا کہ اسے گلا خراب ہے۔ دوپہر کے بعد اسکول سے چھٹی تھی، لیکن مجھے فوری طور پر بینک جانا تھا۔ وقت تین بجے کا تھا، اور بینک چار بجے بند ہو جاتا تھا۔ ایک اہم دستاویز پر دستخط کروانے تھے۔ میرے شوہر دفتر میں تھے۔ ماں باڈی پین میں تھی۔ میں نے اردگرد دیکھا۔
سامنے والے مکین کے دروازے پر ایک بوڑھا آدمی بیٹھا ہوا تھا۔ عابد چاچا۔ محلے کا وہ واحد شخص جس کے بارے میں ہر کسی کی رائے اچھی تھی۔ پچیس سال سے ہمارے “لالہ زار روڈ، نوشہرہ” والے اس کوچے میں رہ رہے تھے۔ وہی تھے جو ہر بچے کو چاکلیٹ دیتے، عید پر اچھے نوٹ دیتے، محلے کی ہر شادی میں ضرور مدعو ہوتے۔ ان کی اپنی اولاد نہیں تھی۔ بیوی کا انتقال ہو چکا تھا۔ لوگ کہتے تھے، “اللہ کے بندے ہیں، نیک دل ہیں۔” اُن کی آنکھوں میں ایک خاص قسم کی معصومیت تھی، یا شاید میں نے اُسے معصومیت سمجھ لیا تھا۔
میں نے رومیسہ کو اپنے پاس بٹھایا۔ “بیٹا، اماں تھوڑی دیر میں آتی ہوں۔ تم عابد چاچا کے پاس بیٹھو گی؟ دودھ پی لو گی، میں تمہارے لیے جیلی بھی لاتی ہوں۔”
رومیسہ نے اپنی بھری ہوئی ناک صاف کی۔ “چاچا کے پاس؟ وہ مجھے کہانی سنائیں گے؟”
“ہاں بیٹا، ضرور سنائیں گے۔” میں نے اُس کے بال سنوارے۔ میرا دل تھوڑا سا بوجھل تھا، لیکن میں نے سوچا، “کیا ہو سکتا ہے؟ عابد چاچا ہیں۔ محلے کے سب بچے اُن کے پاس آتے جاتے ہیں۔”
میں نے رومیسہ کا ہاتھ پکڑا اور عابد چاچا کے پاس لے گئی۔ وہ اپنے دروازے پر ایک پرانی چارپائی پر بیٹھے اخبار پڑھ رہے تھے۔ اُن کے کپڑے ہمیشہ کی طرح صاف ستھرے تھے۔
“چاچا، ذرا میری بیٹی کو دیکھ لیجیے گا؟ میں بینک سے فوراً واپس آتی ہوں۔ بمشکل سات آٹھ منٹ لگیں گے۔”
عابد چاچا نے اپنی چمکتی ہوئی آنکھیں اُٹھائیں۔ اخبار نیچے رکھ دیا۔ “ارے بھئی، ضرور۔ تم فکر مت کرو۔ رومیسہ میرے پاس بیٹھی گی۔ میں اِسے کہانی سناتا ہوں۔ تم آرام سے اپنا کام کرو۔”
اُن کی آواز میں وہی پرانا شائستہ لہجہ تھا۔ میں نے رومیسہ کو چارپائی پر بٹھا دیا۔ “میں ابھی آتی ہوں، ٹھیک ہے؟”
میں نے جلدی سے اپنا پراس دبایا، موٹر سائیکل اسٹارٹ کی۔ پیچھے مڑ کر دیکھا تو عابد چاچا رومیسہ سے کچھ کہہ رہے تھے اور وہ مسکرا رہی تھی۔ میرے دل کو قرار سا آیا۔ “دیکھو، سب ٹھیک ہے۔”
بینک میں لائن لگی ہوئی تھی۔ ہر گزرتا سیکنڈ میرے لیے عذاب بن رہا تھا۔ میں نے اپنا فون چیک کیا۔ کوئی میسج نہیں۔ کوئی کال نہیں۔ “چھوڑو، یہ میری ہی پریشانی ہے۔” میں نے اپنے آپ کو تسلی دی۔
آخرکار، میرا نمبر آیا۔ کام جلدی جلدی نمٹایا۔ کل ملا کر سات منٹ لگے۔ سات منٹ۔ زندگی بھر کے لیے کافی لمبے سات منٹ۔
میں واپس گلی میں داخل ہوئی۔ موٹر سائیکل اُن کے دروازے کے سامنے رکی۔ چارپائی خالی تھی۔ میں نے آواز دی۔ “رومیسہ؟ چاچا؟”
کوئی جواب نہیں۔ میرا سانس اکھڑا۔ میں نے دروازے کے پٹکے پر دستک دی۔ دروازہ اندر سے بند تھا۔ “چاچا! رومیسہ!”
پھر میں نے ایک آواز سنی۔ اندر سے۔ میری بیٹی کی آواز نہیں تھی۔ یہ ایک دبی ہوئی، گھٹی ہوئی سی آواز تھی۔ میں نے زور سے دروازہ ہلایا۔ “کھولو دروازہ! رومیسہ!”
دراڑ میں سے میں نے دیکھا۔ اندر کمرے میں، عابد چاچا کھڑے تھے۔ اور میری رومیسہ… میری رومیسہ دیوار کے ساتھ دبکی ہوئی تھی۔ اُس کا چہرہ خوف سے سفید پڑ گیا تھا۔ اُس کی آنکھیں میری آنکھوں سے ملیں اور فوراً ہی بھر آئیں۔ اُس کے ہونٹ کانپ رہے تھے، لیکن وہ بول نہیں پا رہی تھی۔
“کھولو یہ دروازہ ورنہ میں توڑ دوں گی!” میں چلائی۔
دروازہ کھلا۔ عابد چاچا کا چہرہ اب وہ نہیں تھا۔ اُن کی آنکھوں میں وہ معصومیت نہیں، بلکہ ایک گہری، تاریک چالاکی تھی۔ اُن کے ہونٹوں پر ایک عجیب سی، بے جا مسکراہٹ تھی۔ “ارے بھئی، پریشان کیوں ہو رہی ہو؟ بچی تو اندر آ کر کھیل رہی تھی۔”
میں نے اُسے دھکا دے کر اندر داخل ہوتے ہوئے رومیسہ کو اپنی طرف کھینچ لیا۔ وہ میرے سینے سے چمٹ گئی اور زور زور سے رونے لگی۔ اُس کا پورا جسم کانپ رہا تھا۔
“بیٹا، کیا ہوا؟ اُس نے تمہیں کیا کہا؟ چھوا؟” میں نے اُس کا چہرہ دیکھا۔
رومیسہ نے صرف سر ہلایا۔ وہ بول نہیں پا رہی تھی۔ صرف سسکیاں لے رہی تھی۔
میں نے عابد چاچا کی طرف دیکھا۔ میری آنکھوں میں آگ تھی۔ “تم نے میری بیٹی کے ساتھ کیا کیا؟”
“کچھ نہیں۔ وہ تو کہنے لگی کہ اُسے ٹوائلٹ جانا ہے۔ میں اُسے اندر لے آیا۔ بس۔ تمہیں شک ہے تو پولیس بلا لو۔” اُن کی آواز میں ایک عجیب بے حسی تھی۔
میں جانتا تھا کہ یہ سچ نہیں ہے۔ میں اپنی بیٹی کی آنکھوں میں دہشت دیکھ سکتی تھی۔ وہ خوف جو معمولی باتوں سے نہیں آتا۔ میں نے رومیسہ کو اُٹھایا اور باہر نکل آئی۔ گلی میں کچھ لوگ جمع ہونے لگے تھے۔
“کیا ہوا بہو؟” پڑوسی نے پوچھا۔
میں نے کوئی جواب نہ دیا۔ میں اپنے گھر میں داخل ہوئی، دروازہ بند کیا، اور رومیسہ کو سیدھا باتھ روم میں لے گئی۔ میں نے اُس کے ہاتھ منہ دھلائے۔ اُس نے مجھے دیکھا اور پھر سے رونا شروع کر دیا۔
“اماں… وہ… اُنہوں نے میرا منہ بند کر دیا تھا۔ کہا… کہیں مت بتانا… ورنہ…”
میرا دل ٹوٹ گیا۔ میں نے اُسے چپ کرایا۔ “نہیں بیٹا۔ تو ہر بات اماں کو بتائے گی۔ کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ بتا، اُنہوں نے کیا کیا؟”
ڈرتی ہوئی، ٹوٹی ہوئی آواز میں، رومیسہ نے بتایا۔ جب میں گئی تو چاچا نے اُسے اندر آنے کو کہا کہ اُسے ایک نئی کار دکھاتے ہیں۔ اندر جا کر اُنہوں نے دروازہ بند کر لیا۔ پھر اچانک اُنہوں نے اُسے گھونسہ مارا، اُس کا منہ اپنے ہاتھ سے بند کیا، اور اُسے دیوار کے ساتھ دبا لیا۔ وہ چیخ نہیں پا رہی تھی۔ اُنہوں نے اُس کے کان میں کہا، “اگر کسی کو بتائی تو تمہاری اماں کو بہت برا ہو گا۔ ہم دونوں جیل چلے جائیں گے۔ تم اچھی لڑکی ہو، چپ رہو۔”
سات منٹ۔ صرف سات منٹ۔
میں نے پولیس کو فون کیا۔ میرے شوہر کو فون کیا۔ محلے میں ہلچل مچ گئی۔ جب پولیس عابد چاچا کو لینے آئی تو کئی لوگ ان کے حق میں بولنے لگے۔ “ارے، یہ غلط فہمی ہو گی۔ عابد چاچا ایسا نہیں کر سکتے۔” “بچی نے شاید کچھ غلط سمجھ لیا۔”
لیکن جب پولیس نے اُن کے کمرے کی تلاشی لی تو اُنہیں چارپائی کے نیچے سے کچھ پرانی تصویریں ملیں۔ دوسرے محلے کے بچوں کی تصویریں۔ کچھ پرانے کپڑے۔ ایک ڈائری جس میں نام درج تھے۔ تاریخوں کے ساتھ۔
پولیس نے دوسرے گھروں میں پوچھ گچھ شروع کی۔ ایک ایک کر کے، خاموشی ٹوٹنے لگی۔ ایک اور ماں آگے آئی، جس کی دس سالہ بیٹی دو سال پہلے “چل بسی” تھی۔ اُسے بھی عابد چاچا نے اپنے گھر بلایا تھا۔ اُس نے کچھ نہیں بتایا تھا۔ خاموش رہی تھی۔ ایک اور لڑکا، جو اب جوان ہو چکا تھا، آیا اور اپنی کہانی سنائی۔ اُسے بھی دھمکیاں دی گئی تھیں۔
ایک پورا محلہ، ایک پوری برادری، جو ایک “قابل اعتماد” چہرے کے پیچھے چھپی ہوئی عفریت کو دیکھنے سے قاصر رہی تھی۔
مقدمہ چلا۔ عابد چاچا، یعنی عابد حسین، کے خلاف ثبوت مضبوط تھے۔ لیکن اس سب کے دوران، سب سے مشکل جنگ رومیسہ کے اندر تھی۔ وہ راتوں کو چلاتی ہوئی جاگتی۔ دروازے سے باہر جانے سے ڈرتی۔ کسی بھی بوڑھے مرد کو دیکھ کر کانپنے لگتی۔ اُس کی معصومیت، اُس کا وہ بچپن جو گلی میں کھیلتے ہوئے گزرتا، سب اُن سات منٹوں کی بھینٹ چڑھ گیا تھا۔
اور میں؟ میں اپنے آپ سے لڑتی رہی۔ ہر رات، میں اُس چارپائی کی تصویر دیکھتی، اُس معصوم مسکراہٹ کو یاد کرتی، اور اپنے فیصلے پر افسوس کے آنسو بہاتی۔ میں نے اعتبار کیا تھا۔ میں نے اُس “چاچا” کے لیبل پر، اُس کے سفید بالوں پر، محلے کی تعریفوں پر اعتبار کیا تھا۔ میں نے اپنی بیٹی کو اُس اعتبار کی قربان گاہ پر چڑھا دیا تھا۔
آج، کئی مہینے گزر گئے ہیں۔ عابد حسین جیل میں ہے۔ لیکن میرے اور رومیسہ کے زخم ابھی تک تازہ ہیں۔
اس لیے میں آپ سے معافی مانگتی ہوں۔
میں معافی مانگتی ہوں اس لیے کہ میں آپ کو وہی پرانی نصیحت دینے آئی ہوں جو آپ نے لاکھوں بار سنی ہے: اپنے بچوں کی حفاظت کریں۔ لیکن میں اِسے ایک نئے زاویے سے کہوں گی۔
لفظ “اعتبار” کو اپنے ذہن کے ڈکشنری سے نکال دیں۔
اعتبار ایک خوبصورت لفظ ہے، لیکن یہ وہ کڑی ہے جو ہمارے بچوں کی حفاظت کی زنجیر میں سب سے کمزور ثابت ہوتی ہے۔ ہم اعتبار کرتے ہیں رشتے پر، محلے پر، چہرے پر، عمر پر۔ ہم یہ نہیں دیکھتے کہ آنکھوں کے پیچھے کون سا دل دھڑک رہا ہے۔
آپ ہر وقت بچوں کے سر پر سائے کی طرح نہیں منڈلا سکتے، یہ سچ ہے۔ لیکن آپ کی ذہنی موجودگی، آپ کی وہ چھٹی آنکھ جو ہمیشہ کھلی رہتی ہے، وہ ضرور ہونی چاہیے۔ جب آپ کا بچہ کسی کے ساتھ جائے، تو صرف اس شخص کی “نیک نامی” پر مت جائیں۔ اپنے گٹ فیَلنگ کو سنیں۔ بچے کے رویے میں معمولی سی تبدیلی پر گہری نظر رکھیں۔
سات سال سے پہلے، گھر سے باہر اکیلا ہرگز مت بھیجیں۔ جب بچہ واضح الفاظ میں مزاحمت کرنا اور واقعہ بتانا سیکھ لے، تب بھی اُسے قریبی دکان پر بھیجیں، کسی ایسی جگہ نہیں جہاں وہ مکمل طور پر تنہا ہو۔ بچے باہر کھیلنا چاہتے ہیں؟ آپ خود وقت نکالیں۔ آپ خود ساتھ جائیں۔ کسی “قریبی” کے ذمے مت لگائیں۔ یاد رکھیں، آج کے دور میں آپ ہی اُس کے سب سے قریبی ہیں۔ باقی سب “جانے پہچانے” ہو سکتے ہیں، “قریبی” نہیں۔
اور سب سے بڑھ کر، اپنے بچے کو یہ سکھائیں کہ اُس کا جسم صرف اُس کی ملکیت ہے۔ کوئی چھو کر، ڈراکر، خفیہ رکھنے کو کہے، تو وہ فوراً چیخے، بھاگے، اور آپ کو بتائے۔ اُسے یقین دلائیں کہ آپ اُس پر ہر حال میں یقین کریں گے، چاہے دھمکی کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو۔
میرے سات منٹوں نے مجھے یہ سکھایا کہ شیطان ہمیشہ کالے کپڑوں میں نہیں آتا۔ کبھی کبھی وہ سفید کرتا، نیک نام چہرے، اور محلے کے سب سے معزز شخص کی شکل میں آ کر آپ کے گھر کے دروازے پر چارپائی بچھا لیتا ہے۔
آپ کی نگرانی، آپ کی ہوشیاری، اور آپ کا وہ رابطہ جو آپ اپنے بچے کے ساتھ بناتے ہیں — یہی وہ واحد حفاظتی دیوار ہے جو اُس عفریت کو اندر آنے سے روک سکتی ہے۔
میرے سات منٹ… کسی کے ساتھ نہ ہوں۔
خلاصہ: ایک ماں کی اپنی بیٹی کو محلے کے ‘قابل اعتبار’ بزرگ کے پاس چھوڑنے کی غلطی کے بعد کی کرب ناک کہانی، جو ہمیں لفظ ‘اعتبار’ پر سوچنے پر مجبور کرتی ہے اور والدین کو بچوں کے ساتھ گہرے رابطے اور ہر لمحہ ہوشیاری کی تاکید کرتی ہے۔ —
کیا آپ بھی اپنے بچوں کی حفاظت کو لے کر فکرمند ہیں؟ اس پیغام کو ہر اس والدین تک پہنچائیں جس کی نظر میں ایک بچہ ہے۔ “شئیر” ضرور کریں۔
