Mysterious Valley پراسرار وادی

خوفناک کہانیاں

اردو افسانے

مکمل ناول

views
0
Mysterious Valley پراسرار وادی

مکمل ناول

 

یہ قصہ برصغیر کا ہے ۔۔

ہمارے قاری محترم بہت نیک اور پرہیزگار انسان تھے وہ لوگوں کا روحانی علاج کرتے تھے ان کے روحانی علاج سے مستفید ہو کر ہمارے قصبے کے علاؤہ اور بھی جگہ سے لوگ آتے تھے ان کے پاس مسلمانوں کا ہی آنا جانا تھا ایک دن میں قرآن پاک پڑھ رہا تھا کہ میرے ساتھ دیگر لڑکے بھی چونگ پڑے جب ایک شخص قاری محترم کے پاس آیا اور ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو گیا اسے دیکھ کر قاری صاحب بولے ہاں بھئی کیسے انا ہوا؟؟؟ جو بھی بات ہے کھل کر بتاؤ ۔۔۔

وہ شخص ہندو تھا اور ہاتھ باندھے کھڑا تھا اس کی آنکھوں میں آنسو تھے استاد صاحب کی بات سن کر وہ بولا کہ میرے بیٹے کی طبیعت بہت خراب ہے آپ مہربانی فرما کے اسے دیکھ لئے ہمیں کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ اسے کیا بیماری ہے ۔۔

ٹھیک ہے رام داس اسے کل اس وقت یہاں لے انا ہم دیکھ لیں گئے کہ اسے کیا مسلہ ہے قاری صاحب بولے۔۔

یہ سن کر رام داس نے کہا ٹھیک ہے اور باہر چلا گیا۔۔

اگلے دن ٹھیک ایسی وقت رام داس ایک بیس یا بائیس سال کے لڑکے کو مدرسے میں لے کر داخل ہوا قاری صاحب پہلے سے ہی مدرسے میں بیٹھے ہوئے تھے اور رام داس سے پہلے آئی ہوئی عورت کو دم کر رہے تھے اس عورت پر کیسی نے جادو ٹونا کیا ہوا تھا رام داس اور اسکا بیٹا قاری صاحب کے پاس بیٹھے گئے فری ہو کر قاری صاحب نے رام داس سے پوچھا کہ کیا معاملہ ہے۔۔۔

یہ میرا بیٹا ہے اور آج سے ایک ہفتہ پہلے یہ غلطی سے شکار کرنے وہاں چلا گیا جہاں کے بارے میں مشہور تھا کہ وہاں جن چڑیلیں بھوت بلائیں رہتی ہے اور اس طرف کیسی کا جانا نہیں ہوتا تب سے ایسے نا جانے کیا ہوگیا ہے ۔۔۔ عجیب عجیب سی حرکتیں کرتا ہے نا سوتا ہے نا کھاتا ہے اور جب کھاتا ہے تو دس دس بارہ بارہ روٹیاں کھا جاتا ہے اور 5 6 جگ پانی پی جاتا پی جاتا ہے پھر عجیب عجیب سی خوفناک آوازیں نکالتا ہے اور بھیانک قسم کے قہقہے لگاتا ہے اور سب سے حیرت والی بات کہ جب یہ بولتا ہے تو کبھی اپنی آواز میں بولتا ہے اور کبھی کیسی بھیانک عورت کی آواز میں بولتا ہے میں نے ایسے کئی پنڈت سے دیکھا لیا ہے لیکن ایسے کہی سے بھی آرام نہیں ایا۔۔

قاری صاحب نے لڑکے سے پوچھا کہ تمہارا نام کیا ہے اسنے کہا شنکر۔۔

قاری صاحب ہاں شنکر بیٹا تم کہا ہوا ہے تمہیں ۔۔۔ اور کہا گئے تھے تم۔۔۔

شنکر۔۔۔ جی ایک۔ہفتہ پہلے لوگوں کا وہم سمجھتے ہوئے شکار کیلئے وہاں چلا گیا جہاں کے بارے میں مشہور تھا کہ وہاں جن بھوت چڑیلیں رہتی ہے ۔۔ وہاں جانا تو ایک طرف اس جگہ کا نام سن کر ہی لوگ کانپ جاتے ہیں اور ڈر کی وجہ سے وہاں نہیں جاتے اس کے باوجود جو بھی اس علاقے میں جاتا ہے اگلے دن اس کی لاش ہی وہاں سے ملتی ہے ۔۔۔۔

یہ بات سچ بھی ہے لیکن تم کیسے زندہ بچ گئے قاری صاحب نے کہا۔

جب میں اس علاقے میں گیا تو میں نے دیکھا کہ یہاں ہر طرف بہت لمبی چھاڑیاں اور کانٹے دار پودے ہیں اور کہی کہی شبنم اور پیپل کے درخت تھے وہاں مجھے کوئی انسان بھی نظر نہیں آیا اور نا ہی وہاں کوئی پرندہ تھا۔ دوپہر ہو چکی تھی لیکن مجھے وہاں کوئی شکار نہیں ملا میں پسنے سے شرابور تھا پھر میں پیپل کے ایک درخت کے نیچے بیٹھ گیا۔

اچانک میری نظر جھاڑیوں سے ہوتی ہوئی ایک محل نما عمارت پر پڑی تو میں چونگ گیا کیونکہ وہاں سے دھواں نکل رہا تھا اور وہ سیدھا اوپر کو جا رہا تھا میں بہت حیران تھا کہ یہ دھواں کیسا ہے؟؟؟

اچانک میرے نشانے کے سامنے ایک پرندہ اں بیٹھا تو میں بہت خوش ہوا میں نے ابھی اسکا نشانہ باندھا ہی تھا کہ وہ پرندہ اچانک سے غائب ہوگیا میں بڑا حیران ہوا اچانک سے وہ پرندہ پھر سے ظاہر ہوا میں نے پھر سے نشانہ باندھ اور وہ پھر سے غائب ہوگیا میں بہت ڈر سا گیا تھا اور خوفزدہ ہوکر کانپنے لگا گیا تھا کیونکہ میں جس پیپل کے درخت کے نیچے بیٹھا تھا مجھے وہاں سے کوئی نسوائی خوفزدہ قہقہوں کی آوازیں انے لگی میں نے اوپر دیکھا تو کچھ نا تھا لیکن قہقہوں کی آوازیں مسلسل آرہی تھی مجھے ۔۔۔ پھر میں نے خوفزدہ ہوکر دوڑ لگا دی مگر کچھ دور بھاگنے کے بعد جیسے میرے پاؤں جھگڑ سے گئے اور پھر مجھے کوئی نادیدہ بھیانک نسوانی آواز آئی ۔۔۔۔

“”تم نے بہت بڑی غلطی کی یہاں آنے کی۔۔ یہاں کوئی بھی نہیں آتا اگر کوئی یہاں اجائے تو وہ زندہ واپس نہیں جاتا لیکن تمہیں زندہ چھوڑنا ہماری مجبوری ہے لیکن تمہیں یہاں آنے کی سزا ملے گئی””

میں پھر سے خوفزدہ ہوکر دوڑنے لگا اور گرتا پڑتا گھر پہنچا جب گھر پہنچا تو میرا بہت برا حال تھا پھر جب آدھی رات کو میں سویا ہو تھا تو مجھے کیسی نے جگایا جب میں اٹھا تو میرے سامنے ایک بد شکل نما ایک چڑیل کھڑی تھی جس کے لمبے لمبے دانت لمبے لمبے بال اور لمبی لمبی بھیانک آنکھیں تھی ہونٹ تو اتنے بڑے تھے کہ بیاں سے باہر تھے میں اسے دیکھ کر چیخنے لگا تو اسنے مجھے بالوں سے پکڑ لیا اور زمین سے کئی فٹ اوپر اٹھا لیا اور پھر مجھے زور سے زمین پر پھنک کر غائب ہوگئی

اس رات سے خاص کر وہ چڑیل روز رات کو مجھ سے ملنے آتی ہے اور مجھے کوئی نا کوئی تکلیف ضرور دیتی ہے یہ بول کر شنکر چپ ہوگیا۔۔۔

قاری صاحب نے شنکر کی ساری بات سن کر اسے اپنے پاس بیٹھے کو کہا پھر قاری صاحب شنکر کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کافی دیر منہ میں کچھ پڑھتے رہے پھر اچانک سے شکر کو جھٹکا سا لگا اور وہ ہلنے لگا

قاری صاحب نے پوچھا کیا نام ہے تیرا ۔۔

میں اپنا نام نہیں بتاؤ گئی شنکر کے منہ سے نسوانی آواز نکلی ۔۔

تمہں اپنا نام بتانا ہو گا یہ کہ کر قاری صاحب پھر سے کچھ پڑھنے لگے ۔۔

اچانک وہ رونے لگی تو قاری صاحب نے پھر سے پوچھا ۔۔

ہاں اب بتا کیا نام ہے تیرا؟؟

پہلے یہ سب پڑھنا بند کر پھر بتاتی ہو شنکر کے منہ سے آواز نکلی ۔۔ یہ سن کر قاری صاحب نے پڑھنا بند کر دیا تو وہ بولی میرا نام دیویہ ہے

قاری صاحب:: تم کیوں اسے تنگ کر رہی ہو؟؟

شنکر:: یہ ہمارے علاقے میں داخل۔ہوا تھا اس لئے۔۔

لیکن یہ تو کوئی جرم نہیں ہے یہ سب تو خدا کی زمین ہے اور ویسے بھی اس نے تمہارے علاقے سے کوئی چیز نہیں چرائی اس لئے اب اس کی جان چھوڑ دو اور جو اسنے کیا اس کی اسے تم نے بہت زیادہ سزا دے دی ہے۔۔

نہیں میں اسے نہیں چھوڑوں گئی شنکر کے منہ سے نسوانی آواز نکلی۔۔۔۔

قاری صاحب بولے ۔۔ آئے چڑیل ایک بات بتاؤ ۔۔۔ جو بھی تمہارے علاقے میں جاتا ہے تم لوگ اسے مار کر اپنے علاقے سے اسے باہر پھینک دیتے ہو تو اس کو کیوں جانے دیا تم نے؟؟؟

ایک مجبور نے ایسا کرنے سے روک لیا وہ بولی ۔۔۔

قاری:: ایسی کیا مجبوری تھی؟؟

چڑیل کی بات سن کر قاری صاحب بہت حیران ہوئے کیونکہ اسنے کہا کہ ہم اپنے علاقے صرف مسلمان لوگوں کا ہی خون چوس کر انہیں اپنے علاقے سے باہر پھینک دیتے ہیں اور یہ شنکر ہمارے ہی ہندو مذہب کا تھا ایسی لئے ہمیں ایسے چھوڑنا پڑااا ورنہ یہ بھی مرا ہوا ملتا۔۔

میں تجھے زندہ نہیں چھوڑوں گا قاری صاحب غصے سے بولے اور پھر آنکھیں بند کر کے کچھ پڑھنے لگ گئے

جوں جوں قاری صاحب قرآن پاک کو پڑھتے رہے توں توں چڑیل غصے سے بھڑ بھڑانے لگی پھر زور زور سے رونے لگی پھر چیخنے لگی اور پھر اپنی زندگی کی بھیک مانگنے لگی۔۔۔

“” بھگوان کیلئے مجھے چھوڑ دو آئیندہ میں کیسی بھی مسلم کو نہیں مارو گئی””

میں تجھے زندہ نہیں چھوڑوں گا قاری صاحب نے اپنی آنکھیں کھول کر کہا اور پھر دوبارہ سے آنکھیں بند کر کے قرآن پاک پڑھنے لگ گئے کہ اچانک چڑیل نے کہا کہ تم جو پڑھ رہے ہو تمہں اسکا واسطہ مجھے چھوڑ دو۔۔۔

یہ سنتے ہی قاری صاحب نے پڑھنا بند کر دیا اور بولے

جس کا۔تم نے مجھے واسطہ دیا ہے اس کیلئے تو جان بھی حاضر ہے میں تجھ کو چھوڑتا ہو۔۔۔

لیکن ایک شرط یہ ہے کہ تو اب اس لڑکے کو مزید تنگ نہیں کرے گئی اور۔ چلی جائے گئی اور آج کے بعد تم کیسی بھی مسلم کو نہیں مارو گئی ۔۔۔

میرا وعدہ ہے کہ میں ائیدہ کیسی بھی مسلم کو نہیں مارو گئی اور اس لڑکے کے پاس بھی کبھی نہیں آؤں گئی۔۔

چڑیل کی یہ بات سن کر قاری صاحب نے شنکر کا ہاتھ چھوڑ دیا تو وہ لڑکا بے ہوش ہوگیا ۔۔۔ کچھ دیر بعد جب وہ ہوش میں آتا تو وہ اپنی ہی زبان بول رہا تھا۔۔۔

قاری صاحب بولے رام داس اب اپنے بیٹے کو لے جاو اب یہ بالکل ٹھیک ہے آئیندہ اسے کوئی بھی چڑیل تنگ نہیں کرے گئی ۔۔۔

رام داس اپنے بیٹے کو لے کر چلا گیا اور میں قاری صاحب کے کندھے دبانے لگ گیا۔۔۔

مسلم فساد بڑھتے جا رہے تھے اور یہ خبریں اتی جا رہی تھی کہ اب مسلمان ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہندوستان چھوڑ کے پاکستان جا رہے ہیں یہ خبر سن کر ہندو اور سکھوں نے مسلمانوں کو مارنا شروع کر دیا جو پاکستان کی طرف ا رہے تھے میں گھر بیٹھا ہوا تھا اور تمام گھر والے مشورہ کر رہے تھے کے تمام مسلمان پاکستان جانا شروع ہو گئے ہیں اب ہمیں بھی پاکستان جانے کی تیاری شروع کر لینی چاہیے ابو نے کہا کہ کل میں محلے والوں کو مسجد میں جمع کر کے یہ بات ان سے کہوں گا ۔۔۔

میں اور میری بہنیں بہت خوش تھی کہ ہم اپنے ایک الگ ازاد ملک پاکستان میں جائیں گے ابو نے محلے والوں سے بات کی تو طہ پایا کہ پاکستان جانے کی تیاری آج ہی کرے گئے اور رات کو پاکستان کی طرف سب روانہ ہوگئے ۔۔۔

پاکستان کی سرحد ہمارے قصبے سے ڈیڑھ سو کلو میٹر دور تھی اور ہمیں آج رات ہمارے پورے محلے نے ہندوستان ہمیشہ ہمیشہ کیلئے چھوڑ دینا تھا اور نکلانا تھا پاکستان کیلئے ۔۔۔

رات ہوئی تمام محلے والے ایک جگہ اکھٹے ہوئے ۔۔۔ اور تمام عورتوں کو بھی اکٹھا کیا گیا اور رات کے تقریباً دس بجے ہم سب نئے وطن نکل پڑے ۔۔ آدھے مرد آگئے اور آدھے مرد پیچھے تھے جبکہ عورتیں درمیان میں تھی ہم مخصوص راستے پر چل پڑے جو پاکستان کو جاتا تھا۔۔

ہم اہستہ اہستہ باتیں کرتے ہوئے پاکستان کی طرف جا رہے تھے ہمیں چلتے ہوئے تقریبا 30 40 منٹ ہو گئے تھے اور ہم نے پانچ کلو میٹر کا سفر طے کر لیا تھا میں نے اپنی بہن سے پوچھا کیا اپ لوگوں نے سامان میں میرا قران پاک رکھا تھا تو انہوں نے کہا کہ ہمیں نہیں پتہ ہم نے کیا کیا رکھا ہے اور کیا کیا نہیں امی نے کہا کہ ہم نے تمہارا قران پاک نہیں رکھا ہمیں علم نہیں تھا کہ اس کو بھی ساتھ رکھنا میں پریشانی کے ساتھ قافلے کے ساتھ چلنے لگا تاکہ یہاں کے مردوں کو شک نہ ہو اور ابو بھی پریشان نہ ہو میں نے چلتے چلتے دیکھا کہ ابو لوگوں کے ساتھ باتوں میں مصروف ہے تو میں موقع پا کر قافلے سے بچھڑ گیا اور اپنے گھر کی طرف واپس سے دوڑ لگا دی تاکہ میں اپنا قران پاک واپس لا سکوں میں وہاں سب کو بتائے بغیر اس لیے بھاگا کہ اگر میں نے امی کو بتایا تو وہ یہ ابو کو بتائیں گی اور یہ بات سب کے لیے پریشانی کا باعث بنے گی اور مجھے کوئی گھر واپس نہیں انے دے گا اور مجھے میرا قران پاک ہر قیمت پر چاہیے تھا کیونکہ ہندو قران پاک کی بے حرمتی کر سکتے تھے اسی لیے میں جتنی جلدی بھاگ سکتا تھا بھاگا میں جلدی جلدی بھاگ رہا تھا تاکہ جلدی سے قران پاک لے کر میں دوبارہ سے اپنے قافلے کے ساتھ جا کر ملوں تیز بھاگنے کی وجہ سے میرے پیٹ میں شدید درد شروع ہو گیا اور میں تمام درد کو فراموش کر کے دوڑتا جا رہا تھا اور میں 20 منٹ میں اپنے گھر پہنچ گیا تھا سارا محلہ سنسان پڑا تھا میں اپنے گھر میں داخل ہوا الماری سے قران پاک نکالا اور اب بھی دروازے تک ہی پہنچا تھا کہ میں لرز اٹھا

میں نے دیکھا کہ پانچ چھ بلوائی ہماری گھر کی دیواریں پھیلانگ کر ہمارے گھر میں گھس رہے ہیں میں باہر بھی نہیں جا سکتا تھا کیونکہ قران پاک میرے ہاتھ میں تھا میں فورا سے کمرے کی طرف بھاگا کمرے کے دوسری طرف ایک چھوٹا سا دروازہ تھا جو دوسرے کمرے کو جاتا تھا میں اس میں گیا پھر میں نے سوچا کہ یہ تو کمرہ ہے یہاں پر وہ تلاشی لے سکتے ہیں اب میں کیا کروں میں نے کمرے کا دروازہ کھولا اور گھر کے دوسرے صحن کی طرف جہاں اندھیرا تھا وہاں سے نکلا ۔۔۔اور وہ کمرے کی طرف ہی ارہے تھے اور میں اہستہ اہستہ قدم اٹھاتا ہوا گھر کے صحن میں لگے ہوئے جامن کے درخت کے موٹے سے تنے کے ساتھ لگ کر کھڑا ہو گیا کیونکہ جامن کے درخت کے نیچے اور ارد گرد فل اندھیرا تھا یہاں پر کوئی چھپا ہوا انسان اپ کو نظر نہیں ا سکتا تھا

وہ کبھی باہر کبھی اندر کمروں میں جا رہے تھے اتنے میں ایک موٹے آدمی کی آواز آئی کہ یار یہ مسلے پتہ نہیں کب بھاگ گئے ہمارا منصوبہ تو ناکام ہوگیا اس کے علاؤہ وہ مسلمان عورتوں کے بارے میں بہودہ خیالات اور منصبوں کی باتیں کر رہیں تھے میں خاموشی سے درخت کے تنے کے ساتھ ہاتھ میں قرآن پاک لئے ان کی بہودہ باتیں سن رہا تھا پھر ان میں سے ایک بولا کہ یار یہ مولوی مطلب ( میرے ابو) کے گھر کو تباہ کرنا میری دلی خواہش تھی اسنے مجھے بہت تنگ گیا ہوا تھا اس کی بات سن کر دوسرا بولا کہ اگر ہم۔ہمت کر کے ان کا۔پیچھا کریں تو ہم ان تک پہنچ سکتے ہیں اور اپنی دلی خواہش پوری کر سکتے ہیں میں ان کی باتیں سن کر کانپ اٹھا اور وہ سنکھ باہر نکل گئے ۔۔

جب میں مطمئن ہوا کہ وہ دور جا چکے ہیں تو میں درخت کے پیچھے سے نکلا اور کمرے میں گیا وہاں ایک کپڑا ڈھنڈ کر اس میں قرآن پاک کو لپٹا اور اسے الماری میں رکھ دیا پھر میں نے اپنی قمیض اتاری میں نے نیچے سے بنیان پہنی ہوئی پھر میں نے کپڑے میں لپٹے ہوئے قرآن پاک کو اٹھایا اور اسے زور سے اپنے سینے کے ساتھ باندھ لیا اور اوپر سے قمیص پہن لیا تاکہ اگر بلوائی مجھے دیکھ بھی لیں تو ان کو قرآن پاک نظر نا ائے اور نا ہی وہ اس کی بے حرمتی کر سکے ۔۔۔

پھر میں کلمہ طیبہ کا ورد کرتا ہوا احتیاط سے کمرے سے باہر نکلا اور آہستہ آہستہ باہر والے دروازے تک پہنچا جو پہلے سے ہی کھلا تھا میں نے دروازے سے سر باہر نکلا کر بڑی احتیاط سے جھانکا تو مجھے گلی میں کوئی بھی فرد محسوس نا ہوا تو میں آہستہ آہستہ چلنے لگا میرے اندازے کے مطابق رات کے بارہ بجنے والے ہوگئے میں نہایت احتیاط سے چلتا ہوا گاؤں سے باہر نکل آیا اور تیزی سے اس راستے پر دوڑنے لگا جس راستے پر ہمارا قافلہ گیا تھا کہ پھر اچانک سے میرے پیچھے سے مردانہ آواز آئی

ارئے دلیر سنگھ وہ دیکھو کوئی بھاگے جا رہا ہے لگتا ہے کوئی مسلا ہے وہ لوگ تھوڑے ہی فاصلے پر میرے پیچھے بھاگتے آرہے تھے میں تیزی سے بھاگتا رہا اور وہ میرے پیچھے مسلمانوں کو گالیاں دیتے ہوئے میرا تعاقب میں تھے ۔۔۔ لیکن کافی دور تک بھاگنے کے بعد وہ میرے نزدیک نا اسکے ۔۔۔ ان کی آوازوں سے لگتا تھا کہ کہ وہ مجھ سے زیادہ دور نہیں ہیں یا شاید ہمارے بھاگنے کی سپیڈ ایک جیسی تھی۔۔۔

کہ تب مجھے آہستہ سے ایک ہلکی سی آواز سنائی دی کہ ہم تم تمام مسلا کو نہیں چھوڑے گئے تم سب کو مار دیں گئے اور ان کو بھی ماریں گئے جو بھاگ گئے ہیں۔۔۔ ان کی یہ بات سن کر میں مزید خوفزدہ ہوگیا مگر میں بھاگتا رہا ۔۔

پھر میرے ذہین میں ایک بات بجلی کی طرح آئی کہ میں تو ایسی راستے پر بھاگ رہا ہو جس پر میرا قافلہ گیا ہے اور اگر میں مزید ایسی راستے پر بھاگتا رہا تو یہ بلوائی بھی میرا پیچھا کرتے ہوئے میرے قافلے تک پہنچ جائے گئے ۔۔ نہیں نہیں میں ایسا نہیں ہونے دو گا میں نے خود سے کہا۔۔ میں خود مر جاو گا پر ان کو اپنے قافلے تک نہیں پہنچنے دو گا۔۔۔

یہی سوچتے ہوئے میں نے اپنا رخ جو کہ پاکستان کی طرف تھا اسے تبدیل کر کے مغرب کی بجائے شمال مغرب کی طرف کر لیا اور یہ میرا فیصلہ درست ثابت ہوا لیکن اچانک مجھے کانٹا سا لگا کیونکہ میں جس طرح بھاگ رہا تھا اس طرح کانٹے دار پودوں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا میں پریشانی ہوگیا تھا کہ۔۔۔۔ مجھے پیچھے سے آواز سنائی دی ۔۔

“” اوئے دیکھو وہ تو بھوت محل میں داخل ہوگیا ہے””

یہ الفاظ جب میرے کانوں سے ٹکرائے تو میرے قدم رک گئے ۔۔

اوئے دیکھو تو وہ بھوت محل میں داخل ہوچکا ہے۔۔

جب یہ الفاظ میرے کانوں سے ٹکرائے تو میرے قدم وہی روک گئے ۔۔

کیا۔۔۔ کیا۔۔۔ کیا ؟؟؟؟میں بھوت محل کے علاقے میں آگیا ہو

میں اب واپس بھی نہیں جا سکتا تھا البتہ انتہائی خوف کی حالت میں میں نے جنوب کی طرف دوڑ لگا دی دوڑتے دوڑتے میں ایک جگہ گِر گیا لیکن گرتے وقت بھی میں نے قرآن پاک کو جو میرے سینے سے لگا ہوا تھا اسے زمین پر لگنے نہیں دیا۔۔

میں دوڑتے ہوئے خوف سے کانپ رہا تھا مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ جھاڑیوں میں بھاگنے سے میرے جسم پر ہلکے ہلکے سے ٹک لگ گئے ہیں اور ان سے خون بھی نکل رہا ہے اور مجھے سخت درد بھی ہو رہا تھا میں نے ہمت کی اور پھر سے دوڑنے کیلئے اٹھا

اور جب اٹھ کر میں سیدھا ہوا تو میری جان ہی نکل گئی میرے سامنے ایک درخت تھا اور اس درخت سے روشنی ہو رہی تھی اور اس روشنی میں کوئی بہت ہی ہیبت ناک اور انتہائی خوفناک مخلوق کھڑی تھی شاید وہ چڑیلیں تھیں۔۔

کیونکہ ان کے لمبے لمبے بال تھے جیسے عورتوں کے ہوتے ہیں اور ان کی تعداد چار تھی ۔۔ ایک چڑیل کے جسم پر بال ہی بال تھے اور دوسری کی آنکھیں ہی بہت لمبی اور بڑی تھی اور لمبی سی ناک تھی بڑے بڑے ہونٹ تھے اور ان ہونٹوں سے خون ٹپک رہا تھا تیسری کافی لمبی تھی پر وہ بس ہڈیوں کا ڈھانچہ ہی تھی اس ڈھانچے سے تیز شغلے نکل کر میری آنکھوں کو چندھیا رہے تھے اور چوتھی بھی بہت خوفناک تھی اس کی کھوپڑی پیالہ نما تھی اور اس پیالہ نما کھوپڑی میں آگ جل رہی تھی ۔۔۔ میں یہ سب دیکھ کر اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ کے چیخنے لگا خوف سے میری جان نکل رہی تھی اور اچانک میرے ذہین کو انتہائی خوفناک جٹکا لگا اور میں وہی گر کے بے ہوش ہوگیا مجھے کوئی ہوش نا رہا کہ میں کہا ہو۔۔۔

جب مجھے ہوش آیا تو میں نے دیکھا کہ میرے اردگرد روشی ہی روشنی ہے آگ ہی آگ جل رہی تھی شاید ۔۔۔ یا کوئی پرانا محل تھا شاید ۔۔۔ میں وہاں زمین پر پڑا ہوا تھا اور میرے اردگرد خوفناک چڑیلیں جن بھوت کھڑے تھے اور ان کے قہقہوں سے میرے کان پٹھے جارہے تھے اچانک ایک زور دار آواز گونجی اور سب قہقے رک گئے میں نے اس کی طرف دیکھا تو خوف سے چیخ اٹھا کیونکہ میرے سامنے ایک بہت ہی بھیانک چڑیل ایک خوبصورت تختہ پر بیٹھی ہوئی تھی ۔۔

اس چڑیل کے لمبے لمبے کان بڑی بڑی آنکھیں اور زبان اتنی لمبی کہ منہ سے باہر نکل رہی تھی۔۔

اس کی آواز سنائی دی ۔۔۔ کیا تم جانتے ہو کہ ہمارے علاقے میں اگر کوئی مسلمان اجائے تو وہ زندہ بچ کر نہیں جاتا اس کے خون سے میں اور میری رعایا اپنی پیاس بجھاتی ہے ۔

میں وہاں کوئی جواب دینے کی بجائے روئی جا رہا تھا۔۔ اسنے پھر کہا ۔۔۔

کیا تم کوئی جادوگر ہو ۔۔ جو ہم جیسی طاقت بھی تمہیں چھو نہیں سکتی؟؟ لگتا ہے تمہارے پاس کوئی علم ضرور ہے۔۔۔

اور یہ تم نے اپنے سینے پر کیا باندھا ہوا ہے؟؟

میں نے کہا کہ میرے پاس کوئی بھی علم نہیں ہے اور سینے پر میں نے قرآن پاک باندھ رکھا ہے اور اس قرآن پاک میں اتنی طاقت ہے کہ تم تمام چڑیلیں ایسے چھوتے ہی مر جاو گئی میری بات سن کر وہ چڑیل اچنبھے میں پڑ گئی پھر ایک ایک کر کے کئیوں نے مجھے پکڑنے کی کوشش کی وہ جیسے ہی مجھے پکڑنے کیلئے میرے جسم کو ہاتھ لگاتی تو ساتھ ہی وہ دور جا کر گر جاتی یہ دیکھتے ہوئے وہ سب کی سب مجھ سے دور ہو گئیں ۔

ان کا ہر وار خطا ہو رہا تھا اور اب مجھ میں تھوڑی ہمت پیدا ہوگئی تھی ان کی سردار چڑیل کو بہت غصہ آرہا تھا وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور بولی ایسے زیر کرنا بہت مشکل ہوگیا ہے لیکن پھر بھی ایسے سبق سیکھانا پڑے گا

اب مجھے پکا یقین ہوگیا تھا کہ اللہ تعالیٰ اور قرآن پاک کی مہربانی کی وجہ سے ان چڑیلوں کا ہر وار خطا ہوا ہے پھر وہ تابڑتوڑ مجھ پر وار کرنے لگی تو میں اتنا بدحواس ہوا کہ آیتہ الکرسی پڑھنا بھول گیا اور شاید یہی میری غلطی تھی اور ان چڑیلوں نے مجھے پکڑ لیا اور مجھے اوپر اٹھانے لگی مجھے تقریباً بیس فٹ زمین سے اوپر لے جا کر انہوں نے مجھے چھوڑ دیا میں اس وقت چیخ رہا تھا اور مجھے اپنی موت صاف دیکھائی دے رہی تھی اور پھر وہ کچھ ہوا جس کا میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا میں جیسے ہی زمین پر پہنچا مجھے جیسے کیسی کے ہاتھوں پر اٹھا لیا ہو اور آرام سے مجھے زمین پر رکھ دیا ۔۔۔ جب مجھے کچھ نا ہوا تو وہ سب چڑیلیں حیران و پریشان ہو کر مجھے دیکھنے لگی اور میں اس غیبی امداد پر حیران تھا ۔۔۔

اچانک ایک چڑیل کی آواز آئی کی سب مل کر اس پر حملہ کرو اور اس کی بوٹی بوٹی نوچ ڈالو۔۔ پھر اچانک کئی ساری چڑیلیں میرے اردگرد آگئی۔۔

میں خوف سے چیخ رہا تھا پھر تمام چڑیلیں مجھے پکڑنے کیلئے آگئے بڑھی اور جب وہ میرے قریب پہنچی تو ایک زور دار نسوانی آواز آئی”٫ ٹھہر جاؤ ۔۔

اور سب کی سب ٹھہر گئیں اور اس آواز کی طرف دیکھنے لگی۔۔

میں نے دیکھا کہ ایک خوفناک چڑیل تختہ پر بیٹھی ہوئی اپنی سربراہ چڑیل کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑی ہے اور کہ رہی ہے۔۔۔

شگنی جی میں جانتی ہو کہ آپ کو میری بات بری لگے گئی اور آپ کو غصہ آئے گا لیکن میرا خیال ہے آپ اس لڑکے کو ختم نہیں کر سکتی ۔۔

کیا مطلب یہ تمہارا ؟؟؟ یہ اکیلا لڑکا ہم سب طاقتور چڑیلوں پر بھاری ہے؟؟! سرار شکنی نے غصے سے دھاڑتے ہوئے کہا۔۔۔

شکنی جی میں اس لڑکے کو پہلے سے ہی جانتی ہو اور دیکھ بھی چکی ہو پچھلے دنوں جب میں اپ کے کہنے پر ایک ہندو لڑکے کو تنگ کرنے پر مامور ہوئی تھی وہ تو اپنے علاج کیلئے ایک مولوی کے پاس گیا تھا جو مدرسے میں پڑھاتا تھا وہ مولوی یہی قرآن پاک پڑھتا تھا۔۔

شکنی جی یہ قرآن پاک نا جانے کتنا طاقت وار ہے اس قرآن کے پڑھنے سے اس مولوی نے نا صرف مجھے پکڑ لیا تھا بلکہ وہ جیسے جیسے ایسے پڑھتا میری جان نکلتی جاتی تھی میں نے اس وقت اس کو اس قرآن کا واسطہ دے کر ہی اس سے جان چھڑائی تھی اور میں نے اس لڑکے کو اسی مولوی کے پاس بیٹھے دیکھا تھا یہ اسی مولوی کا شاگرد ہے۔۔

یہ ہمارا نشانہ کیوں نہیں بن رہا شگنی بولی۔۔۔

کیونکہ یہ نا صرف اپنی مقدس کتاب پڑھتا ہے بلکہ اس وقت اس نے اسے اپنے سینے کے ساتھ لگایا ہوا ہے۔میرا مشورہ ہے کہ آپ اپنی اور اور اپنے ساتھیوں کی طاقت کو اس پر ضائع نا کریں ۔۔

یہ سن کر شکنی سوچ میں پڑ گئی اور بولی کہتی تو تو ٹھیک ہی ہے کل پونم کی رات ہے اور یہ اہم۔مسلہ ہے ہم کل۔یہ۔مسلہ اپنے گروہ کے سامنے رکھے گئے

یہ سن کر میں قدرے مطمئن ہوا کہ چلو آج تو جان چھوٹی کل جو ہوگا دیکھا جائے گا۔۔۔

میں اب اس چڑیل کو دیکھ رہا تھا جس کہ کہنے پر سب نے مجھ پر وار کرنا بند کر دیئے تھے۔۔ اور جس کو کچھ دن پہلے قاری صاحب نے ہندو لڑکے سے قابو کیا تھا مجھے اس کی رحم دلی صاف نظر آرہی تھی کہ وہ میری مدد کرنا چاہتی تھی ۔۔

پھر اس چڑیل نے مجھے دیکھا اور مسکراتی ہوئی ایک طرف کو چلی گئی

مجھے وہاں ایک سیاہ کمرے میں بند کر دیا گیا تھا جہاں سے مجھے بہت ہی خوفناک آوازیں آرہی تھی مجھے بہت پیاس لگ رہی تھی لیکن وہاں سے پانی کہاں سے ملتا؟؟؟ میں ابھی ایسی شش وپنج میں تھا کہ ایک خوبصورت لڑکی کمرے میں داخل ہوئی اور کمرہ روشی سے جگمگا اٹھا ۔۔۔

اسنے کہا تم نے پانی کی خواہش کی تھی یہ لو پانی اور ساتھ کھانا ۔۔

اسنے پانی اور کھانا ایک سائیڈ پر رکھ دیا

مجھے بہت ہی بھوک اور پیاس لگی ہوئی تھی میں نے جیسے ہی پانی کو منہ سے لگایا تبھی میرے کان میں سرگوشی ہوئی کہ پانی اور کھانے میں زہر ملا ہوا ہے تم ایسے مت کھانا اور پانی بھی مت پینا۔ یہ سنتے ساتھ ہی میں نے پانی کا گلاس نیچے رکھ دیا اور لڑکی سے کہا کہ تم یہ پانی اور کھانا لے جاو۔۔

وہ لڑکی بڑی حیران ہوئی۔۔ اس نے بہت اصرار کیا لیکن میں نے کھانا نہیں کھایا تو وہ کھانا اٹھا کر لے گئی۔۔

میں بہت حیران تھا کہ یہ میرے کان میں کس نے سرگوشی کی ۔۔۔ پھر رات گزر گئی اور دن بھی میرا تکلیف میں ہی گزرا پیاس اور بھوک سے میرا برا حال تھا لیکن میں جب بھی کھانا یا پانی جیسے ہی منہ کو لگاتا تو میرے کان میں سرگوشی ہوتی کہ پانی اور کھانے میں زہر ہے اسے مت کھانا اور مت پینا۔۔۔

ایک بار تو مجھے خیال آیا کہ یہ سرگوشی جان بوجھ کر میرے کان میں کی جاتی ہے تاکہ میں کھانا نا کھاؤ اور ایسے ہی بھوکھا پیاسا مر جاو۔۔۔

خیر رات کا وقت آگیا مجھے اب کمرے سے باہر ایک پنجرے میں قید کر کے لایا گیا اور چودھویں رات تھی چاند پوری آب وتاب سے چمک رہا تھا ۔۔۔

کچھ ہی دیر بعد میرے سامنے بہت سے بھوت اور چڑیلیں انے لگی اور بہت زیادہ دما چوکڑی ہوئی پھر وہ آہستہ آہستہ وہاں سے چلی گئی اور میں وہاں رہ گیا تقریباً دس منٹ میں ایسے ہی بیٹھا ادھر ادھر دیکھتا رہا ۔۔اس وقت میں وہاں اکیلا تھا ۔۔ پھر میں یک دم خوفزدہ ہوگیا کیونکہ میرے اردگرد زمین سے دھواں نکلنے لگا تھا پھر یہ دھواں ہر طرف پھیل گیا میرا دم گھٹنے لگا اور تیز ہوا شروع ہوگئی اور آہستہ آہستہ اتنی تیز ہوگئی کہ اس نے آندھی کی شکل اختیار کرلی دھواں بہت ہی اونچائی تک چلا گیا تھا اور ساتھ تیز ہوا بھی چل رہی تھی اور میرا کھانس کھانس کر برا حال تھا کہ اچانک میرے پاس سے ایک نسوانی آواز آئی احمد ۔۔۔۔ گھبرانا نہیں ہے میں تمھاری ہمدرد ہو میں تمہیں آذاد کروانے آئی ہو میں اپنی جان کی بازی لگا کر تمہیں یہاں سے بچاؤ گئی چلو میرے ساتھ۔۔۔

میں خوف سے بولا تم کون؟؟؟ اور مجھے کہاں لے کر جانا چاہتی ہو ؟؟

اس کی دوبار آواز آئی ۔۔۔ وقت ضائع نا کرو اور چلو میرے ساتھ مجھے اجازت دو کہ میں تمہارا ہاتھ تھام لو اور تمہں یہاں سے دور لے جاو۔۔۔

شاید وہ ڈر رہی تھی کہ مجھے چھونے سے اس کو کوئی نقصان نا ہواس لئے اس نے مجھ سے پہلے میرا ہاتھ تھامنے کی اجازت مانگی تھی اور ہاتھ آگئے کرتے ہی مجھے ایسا لگا جیسے میرا ہاتھ کیسی نے تھام لیا ہو۔۔۔

میرے ہر طرف دھواں تھا اور تیز ہوا چل رہی تھی میں نے کہا میں جانتا ہو تم مجھے مارنے آئی ہو۔۔۔اچانک میرے سامنے ایک بہت ہی خوبصورت لڑکی ظاہر ہوئی ۔۔۔

تم کون ہو…

میں وہی لڑکی ہو جس نے تمہیں تمہارے استاد کے ساتھ دیکھا تھا اور تمہارے کان میں بھی میں نے ہی سرگوشی کی تھی مگر کیوں میں نے کہا؟؟؟

اس نے کہا تمہارے استاد نے مجھے زندہ چھوڑ دیا تھا اور میں اس احسان کا بدلہ چکانا چاہتی ہوئ۔۔۔ دوسرا میں تمہاری اس مقدس کتاب سے بہت متاثر ہوئی ہوں ۔۔۔

اس مقدس کتاب کی وجہ سے تم ابھی تک زندہ ہو یہ کتاب اگر تمہارے پاس نا ہوتی تو ابھی تک تمہارا وجود بھی باقی نا ہوتا یہاں ۔۔۔۔

اسنے کہا اب تم اپنی آنکھیں بند کر لو۔۔ میں نے آنکھیں بند کی تو اسنے کہا بتاؤ تم نے اب کہاں جانا ہے تو میں نے کہا کہ میں نے پاکستان جانا ہے جہاں مہاجرین ہو وہاں میں نے اپنی فیملی کو ڈھونڈنا ہے ۔۔۔

ٹھیک ہے اسنے کہا۔۔۔۔

پھر میرے پاؤں زمین سے اٹھنے لگے میں زمین سے اوپر ہوتا جا رہا تھا میں ابھی خوف سے چیخنے ہی والا تھا کہ اس کی آواز چپ بالکل خاموش۔۔۔۔ تم کو کچھ نہیں ہوگا ۔۔ میں خاموش ہوگیا۔۔۔ پھر چند ہی لمحوں بعد اسنے کہاں اب تم اپنی آنکھیں کھول سکتے ہو کیونکہ اب تم پاکستان میں ہو۔۔۔میں نے آنکھیں کھولی تو میں واقعی میں مہاجرین کے کیمپ کے نزدیک ہی کھڑا تھا پھر مجھے اس کی آواز آئی اب میں چلتی ہو ۔۔۔۔

میں یک دم سے بولا۔۔۔ اگر تم واپس گئی تو وہ تمہیں مار دیئے گئے۔۔۔ اسنے کہا اب مجھے اپنی جان کی فکر نہیں میں نے اپنا بدلہ پورا کیا اور تمہاری جان بچا کر مجھے بہت خوشی ہوئی ہے ۔۔

پھر اچانک سے اس کی آواز آئی ہائے ماری گئی وہ تو بلکل میرے پیچھے ہی آرہے ہیں ۔۔۔

میں بھی یہ سن کر خوفزدہ ہوگیا۔۔۔ اب کیا ہوگا۔۔۔۔

وہ بولی اگر انہوں نے مجھے پکڑ لیا تو یہ لوگ روز مجھے تڑپا تڑپا کر مارے گئے اور میں روز تڑپ تڑپ کے مرنا نہیں چاہتی۔۔۔۔

تم ایک کام کرو میرے سر پر ایک پھول لگا ہے تم یہ اتار دو اور اس کی پتی پتی کرو دو۔۔۔

میں نے کہا نہیں ہرگز نہیں میں ایسا نہیں کرو گا تو اسنے کہا کہ میں نے تمہاری جان بچائی اب تم میری بچاؤ مجھے روز تڑپ کے نہیں مرنا۔۔۔ جلدی کرو ورنہ وہ اجائے گئے۔۔۔ اور میرے ساتھ تم لوگوں کو بھی نقصان دیں گئے۔۔۔

میری آنکھوں میں آنسو اگئے۔۔ میں نے کہا میرا دل نہیں کرتا۔۔۔ وہ بولی تم اپنے ساتھ باقی لوگوں کا بھی خیال کرو اور اس پھول کی پتیوں کو توڑ دو ورنہ وہ لوگ ہم دونوں کو نہیں چھوڑے گئے میں نے آنسوں سے بھرے آنکھوں سے اس کے بالوں سے پھول اتارا جیسے ہی پھول اتار تو وہ خوبصورت لڑکی بہت ہی بھیانک چڑیل میں بدل گئی اور جیسے جیسے میں پھول کی پتی توڑتا گیا تو وہ بھی زمیں پر گر کر ڈھیر ہوتی رہی اور کچھ ہی دیر بعد وہاں بہت ہی کالا دھواں ہوا اور سب کچھ غائب ہوگیا ۔۔۔

میں خوف سے ایک طرف دوڑ پڑا اور مہاجرین کے کیمپ میں داخل ہوگیا میں نے جنات کی وادی سے آذادی ملنے پر خدا کا شکر ادا کیا ۔۔ پھر میں کافی دیر خیموں میں گھومتا رہا اپنے والدین کو تلاش کرتا رہا ۔۔۔

یہ کوئی رات کا وقت تھا کہ مجھے کیسی خیمے سے ایک عورت کے رونے کی آواز آئی میں اٹھا اور جب اس کے پاس گیا تو لالٹین کی روشنی میں دیکھا تو وہ کوئی اور نہیں میری ہی ماں تھی میں زور سے اپنی ماں کے گلے لگ کر رونے لگ گیا اور میری ماں مجھے گلے لگا کر اور بھی رونے لگ گئی

روتے روتے ہماری آواز اتنی اونچی ہوگئی کہ قافلے کے باقی لوگ بھی جاگ گئے جب انہوں نے مجھے دیکھا تو سب بہت خوش ہوئے کہ میں بھی زندہ سلامت ے ان کے ساتھ آگیا ہو میری بہین بھی روتی ہوئی مجھ سے لیپٹ گئی اور میں بھی سب کے گلے لگ کر رونے لگا گیا پھر سب نے میری امی کو مبارکباد دی کہ آپ کا بیٹا آگیا اور ہمیں چپ کروایا ۔۔۔ پھر امی نے مجھ سے پوچھا کہ تم کہا چلے گئے تو میں نے بتایا کہ میں قرآن پاک لینے چلا گیا کیونکہ مجھے ڈر تھا کہ ہندو قران پاک کی بے حرمتی نا کریں ۔۔۔ پھر میں نے ابو اور سب کو بتایا کہ ہم بہت اچھے وقت پر وہاں سے نکل آئے ۔۔ میں نے مزید بتایا کہ ہمارے جانے کے بعد سکھ لوگ ہمارے گھر آئے تھے اور اپنے گندے گندے منصوبہ بتا رہے تھے ہمیں گالیاں بھی دے رہے تھے اور انہوں نے میرا پیچھا بھی کیا لیکن میں صحیح سلامت واپس آگیا اور ان سکھوں کے ہاتھ نہیں لگا۔ اور نا ہی ہمارا قافلہ ان کے ہاتھ لگا۔۔

اور جنات کی وادی والا سارا قصہ کیسی کو بالکل بھی نہیں بتایا پھر میں نے ہاتھ دھوئے اور قرآن پاک کو اپنے سینے سے اتارا اور امی سے کہا امی اللہ کے کلام میں بہت برکت ہے مجھے ایسی قرآن پاک نے بچا یا آپ ایسے کیسی اونچی اور محفوظ جگہ پر رکھ دیں امی نے قرآن پکڑا اور اسے چوم کر اونچی جگہ پر رکھ دیا ۔۔۔

ساری رات ہماری باتیں کرتے گزر گئی اور صبح میں نے سیر ہوکر پانی پیا اور کھانا کھایا ۔۔۔ پھر پرسکوں ہوکر اپنے خیمے سے نکل کر باقی مہاجرین کو دیکھا کہ بہت کچھ کھو دینے کے بعد بھی ہر قبیلے کے ہر شخص کہ منہ پر اپنے نئے وطن آنے کی عجیب سی خوشی تھی اور ساری فضا پاکستان ذندہ باد اسلام ذندہ آباد کے نعروں سے گونج رہی تھی ۔۔

ختم شد

 

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments
error: Content is protected !!
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x