قسط وار ناول
بھائی محض ایک رشتہ نہیں، بلکہ گلی محلے کے اوباشوں کے لیے ایک انتباہ ہوتا ہے۔ جب شرپسند عناصر یہ دیکھتے ہیں کہ گھر میں کوئی مرد نہیں جو ان کا گریبان پکڑ سکے، تو ان کی ہمتیں بڑھ جاتی ہیں۔
جس لڑکی کو بچپن ہی سے سودا سلف کے لیے بازاروں کے مردوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنی پڑے، وہ اپنی حیا کی ڈھال کھو دیتی ہے۔ اسے لگتا ہے کہ وہ “مضبوط” ہے، مگر یہی بے باکی بعض اوقات اسے حد سے زیادہ پر اعتماد بنا کر خطرے کی پہچان سے محروم کر دیتی ہے۔
بھائی کی شفقت سے محروم بہنیں اکثر کسی “محافظ” کی تلاش میں ہوتی ہیں۔ شکاری مرد “ہمدردی اور بھائی چارے” کا لبادہ اوڑھ کر ان کے اسی خلا کو نشانہ بناتے ہیں۔
ایسے گھرانوں میں جہاں بیٹا نہ ہو، وہاں لڑکیاں اپنی مشکلات اور ہراسانی کی باتیں والدین سے چھپاتی ہیں کہ وہ پہلے ہی بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ یہی خاموشی شکاری کے لیے راستہ ہموار کرتی ہے۔
میری یہ داستان ان تمام لڑکیوں کے لیے سبق ہے جو کسی کی “ہمدردی” کو سچ سمجھ کر اپنے گھر کی چابیاں اور اپنی روح کا چین اس کے حوالے کر دیتی ہیں۔ یاد رکھیں، ہر بڑھنے والا ہاتھ ہمدردی کا نہیں ہوتا، اور کچھ گناہ ایسے ہوتے ہیں جن کا کفارہ صرف موت ہی ہو سکتی ہے۔
میں دسویں کلاس میں پڑھتی تھی—ایک ایسا زمانہ جہاں کتابوں کے اوراق ابھی بھی معصوم تھے، مگر آنکھوں کے آئینے میں سوال اُگ آئے تھے۔ میں اکثر سوچتی کہ وقت کی رفتار اتنی خاموش کیوں ہوتی ہے؟ جسمانی خدوخال کیسے بدل گئے اور کب بچپن جوانی میں بدل گیا—یہ سوال میں نے آئینے سے نہیں پوچھا، نہ ہی کیلنڈر کے دنوں سے۔ آئینے تو صرف عکس دکھاتے ہیں، حقیقت تو گرد و پیش کے بدلتے ہوئے رویوں میں چھپی تھی۔
یہ سب مجھے محلے کے آوارہ لڑکوں کی چبھتی نظروں سے اندازہ ہوا۔ وہ نظریں جو تپتی دوپہروں کی حدت جیسی تھیں، جن میں حیا کی ٹھنڈک نہیں بلکہ تجسس کی تپش تھی۔ وہ نظریں جو لفظوں کے بغیر بولتی تھیں، جو اچانک ٹھہر جاتیں، جو گزرتے لمحوں میں بدن پر بوجھ بن جاتیں۔ گلی کا وہ موڑ جو کبھی کھیل کود کا راستہ تھا، اب ایک کڑی آزمائش بن چکا تھا۔
انہی لمحوں میں مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ بچپن خاموشی سے رخصت ہو چکا ہے، اور جوانی نے بنا دستک دیے دہلیز پار کر لی ہے— ایک ایسی دستک جس کی چاپ سنائی نہ دی مگر جس کا اثر روح تک پھیل گیا۔ یہ وہ جوانی نہیں تھی جس کے گیت کتابوں میں پڑھے تھے، بلکہ یہ ایک ایسی جوانی جس میں رومان کم اور خوف زیادہ تھا، جس میں خود سے آشنائی کم اور دوسروں کی نظر زیادہ بھاری تھی۔ —انہی لڑکوں میں ایک آوارہ اور ماہر بدچلن پختہ عمر کا مرد بھی تھا—ایک ایسی آنکھوں والا شخص جس کی مسکراہٹ میں تجربے کی مکاری چھپی ہوئی تھی، اور جس کی خاموشی میں نیتوں کا شور۔ اس کی موجودگی فضا میں ایک گھٹن پیدا کر دیتی تھی، جیسے کسی طوفان سے پہلے کی بوجھل خاموشی ہو۔ وہ مجھے اپنا نیا شکار کے طور پر دیکھ رہا تھا، جیسے نظر کے کانٹے آہستہ آہستہ روح میں پیوست ہو رہے ہوں۔ اسے معلوم تھا کہ معصومیت کو کس طرح ہدف بنایا جاتا ہے اور اسے خبر تھی کہ کچے ذہنوں پر اپنی دہشت یا سحر کیسے طاری کرنا ہے۔
اور میں… میں بالکل بے خبر تھی۔ اپنی بےباک اور بے فکری دنیا میں مگن، جہاں زندگی ابھی کھیل لگتی تھی اور ہر راستہ محفوظ محسوس ہوتا تھا۔ میری دنیا کتابوں، تتلیوں اور ان سپنوں پر مشتمل تھی جو ابھی تعبیر سے ناآشنا تھے۔ ایک انجان خطرہ میرے گرد سایہ بن کر منڈلا رہا تھا، مگر میں بالکل بے خبر تھی—اس لیے نہیں کہ میں کمزور تھی، بلکہ اس لیے کہ مجھے سکھایا ہی نہیں گیا تھا کہ کچھ مسکراہٹیں زہر آلود بھی ہوتی ہیں، اور کچھ نظریں صرف دیکھتی نہیں، ناپتی اور تولتی بھی ہیں۔ مجھ میں اور اس میں وہی فرق تھا جو ایک کھلے آسمان میں اڑتی چڑیا اور زمین پر بچھے شکاری کے جال میں ہوتا ہے۔ میرا دکھ یہ نہیں تھا کہ میں اس کے سامنے تھی، دکھ یہ تھا کہ میری معصومیت مجھے یہ بتانے سے قاصر تھی کہ ہر بڑھنے والا ہاتھ ہمدردی کا نہیں ہوتا۔
ہم لاہور کے ایک گنجان آباد علاقے میں اپنے ذاتی گھر میں رہتے تھے—ایک ایسا گھر جو اینٹوں اور سیمنٹ سے زیادہ رازوں، خاموشیوں اور غیر کہی ذمہ داریوں سے بنا تھا۔ اس گھر کی ہر دیوار گویا ابا کی محنت اور ان کی زندگی کے پیچ و خم کی گواہ تھی۔ میرا گھر میرے ابو نے اپنی سروس کے دوران خریدا تھا۔ ایک حساس ادارے میں انتہائی اعلیٰ عہدے پر فائز ہونے کی وجہ سے انہوں نے وہ مکان میرے نام پر خریدا تاکہ وہ کسی حکومتی تفتیش کی نظروں میں نہ آ سکیں۔ اس طرح، وہ مکان محض چھت نہیں تھا، بلکہ میرے نام کے ساتھ جڑی پہلی بڑی “ذمہ داری” اور ایک چھپا ہوا “راز” بھی تھا، جس نے لاشعوری طور پر مجھے یہ احساس دلایا کہ میں اس گھر کی وارث بھی ہوں اور محافظ بھی۔ اس گھر کی دیواریں مجھے تحفظ دیتی تھیں، مگر ساتھ ہی ایک ان دیکھے خوف کی پرچھائیں بھی ان کے ساتھ جڑی ہوئی تھیں۔
ہم تین بہنیں تھیں جن میں بالترتیب میرا دوسرا نمبر تھا۔ گو کہ ہم سبھی بہنیں کافی خوبصورت تھیں لیکن میں سب بہنوں میں سب سے حسین تھی—یہ حسن میرے لیے فخر کم اور آزمائش زیادہ بن گیا۔ حسن جب شعور سے پہلے آ جائے تو وہ اکثر ایک بوجھ بن جاتا ہے، جسے سنبھالنے کا ہنر کوئی نہیں سکھاتا۔ آئینے میں نظر آنے والا چہرہ وقت سے پہلے سوال بن چکا تھا، اور لوگ اس سوال کا جواب اپنی نظروں سے دینے لگے تھے۔ ہمارا کوئی بھائی نہ ہونے کی وجہ سے بچپن ہی سے میں باہر کی دنیا سے آشنا ہو چکی تھی۔ سبھی گھر کے کام کاج کی ذمہ داری میں نے چھوٹی عمر میں ہی سنبھال لی تھی۔ بازار کی رونقیں ہوں یا گھر کے سودا سلف کے جھگڑے، میں نے خود کو ایک ایسی ڈھال بنا لیا تھا جو اپنے گھر والوں کو ہر مشکل سے بچاتی تھی۔ یوں میرا بچپن آہستہ آہستہ ذمہ داریوں کی نذر ہو گیا، اور کھیلنے کی عمر میں میں سنبھالنا سیکھ گئی۔ اس لیے شرم و حیا مجھے چھو کر بھی نہیں گزری تھی—نہ اس لیے کہ میں بے پرواہ تھی، بلکہ اس لیے کہ مجھے مضبوط ہونا سکھایا گیا تھا، اور اس مضبوطی کی قیمت معصومیت نے ادا کی۔ جس لڑکی کو بازاروں میں سودے بازی کرنی ہو اور مردوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنا حق مانگنا ہو، وہ اپنی حیا کو شرم کے پردوں میں نہیں، بلکہ اپنے اعتماد کی مضبوطی میں تلاش کرتی ہے۔میری ایک کلاس فیلو سے گہری دوستی تھی—ایسی دوستی جس میں بھروسہ سانس کی طرح شامل ہوتا ہے۔ ہم ایک ہی کتاب کے دو صفحوں کی طرح جڑے ہوئے تھے، ایک جیسی مسکراہٹیں اور ایک جیسے خواب۔ وہ ہمارے ہی محلے میں رہتی تھی اور اکثر اس کے گھر آنا جانا بھی تھا۔ ہنسی، راز، اور مستقبل کے خواب ہم ایک دوسرے سے یوں بانٹتے تھے جیسے دنیا میں کوئی اندھیرا سرے سے موجود ہی نہ ہو۔ میرا اس کے گھر جانا دراصل اپنے ہی ایک دوسرے گھر میں جانے کے مترادف تھا۔
لیکن تقدیر کے پردے کے پیچھے کچھ اور ہی لکھا جا رہا تھا۔ مجھے علم نہیں تھا کہ وہی شکاری مرد اس کا ناصرف آشنا تھا، بلکہ پردوں کے پیچھے ایک خاموش سازش بھی پل رہی تھی۔ جس مرد کی نظروں سے میں خوفزدہ تھی، وہی مرد میری سہیلی کی زندگی کا محور تھا۔ میں جسے اپنی سہیلی سمجھتی تھی، جس کے کندھے پر سر رکھ کر میں نے اپنے ڈر بھلائے تھے، وہ اس مرد کے ساتھ مل کر کیا کھیل کھیلنے والے تھے—اس کی مجھے کچھ خبر نہ تھی۔ وہ میرے سامنے میری غم خوار بنتی تھی اور پیٹھ پیچھے اسی شخص کے ساتھ مل کر میری معصومیت کی قیمت لگا رہی تھی۔
میں معصوم اعتماد کے حصار میں تھی، اور وہ دونوں مل کر میرے لیے ایک انتہائی مکروہ جال بن چکے تھے—ایک مہلک جال بچھایا گیا اور پھر انتظار، مچھلی کے پھنسنے کا انتظار۔ ایسا جال جو محبت کے نام پر بچھایا گیا، جس میں تاریں دوستی کی تھیں اور کھینچنے والے ہاتھ دشمنی کے۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ وہ گھر جسے میں سکون کی جگہ سمجھتی تھی، جلد ہی میری زندگی کا سب سے بڑا قید خانہ بننے والا تھا۔ میری خود اعتمادی اور میری بے باکی اس گہرے دھوکے کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہونے والی تھی کیونکہ دشمن باہر نہیں، بالکل ساتھ کھڑا تھا۔ایک دن اس نے مجھے سکول سے چھٹی کے بعد کسی ضروری کام کے بہانے اپنے گھر آنے کا کہا۔ میں چونکہ اس پر مکمل اعتماد کرتی تھی، اس لیے میں نے اس کے گھر جانے کی ہامی بھر لی۔ اعتماد—جو دوستی کا سب سے خوبصورت زیور ہوتا ہے—اسی لمحے خاموشی سے میرے گلے کا پھندا بنتا جا رہا تھا، اور مجھے اس کا ذرا سا بھی اندازہ نہ تھا۔
میں چھٹی کے بعد جیسے ہی گھر گئی، میں نے جلدی جلدی سکول کی یونیفارم بدلی اور اپنا بہترین پسند کا لباس پہنا، اور بے فکری سے اپنی سہیلی کے گھر روانہ ہوگئی۔ الماری سے وہ خاص لباس نکالتے ہوئے میرے دل میں ایک عجیب سی خوشی تھی، جیسے کوئی تہوار ہو۔ آئینے میں دیکھتی ہوئی وہ لڑکی مجھے معصوم لگ رہی تھی، جسے یہ خبر نہ تھی کہ وہ اپنے قدم کس سمت بڑھا رہی ہے، اور کون سی نگاہیں اس کے ہر قدم کا حساب رکھ رہی ہیں۔
وہاں میں نے خلاف توقع سہیلی کو گھر میں اکیلا پایا۔ اس نے بجائے کوئی کام بتانے کے بڑی چالاکی سے اسی مرد کی باتیں شروع کر دیں۔ وہ پہلے بھی اکثر مجھے اس کی باتیں کرتی تھی، اور اشارے سے جہاں وہ کھڑا ہوکر مجھے دیکھتا تھا، اسے دیکھاتی بھی تھی۔ آج تو اس نے باتوں باتوں میں بتایا کہ وہ مرد تم کو پسند کرتا ہے، اور تمہارا بھائی بن کر تمہارے گھر کے سارے کام کرنا چاہتا ہے، وہ تم سے ہمدردی کرتا ہے۔
یہ الفاظ میرے کانوں میں کچھ اس طرح اترے جیسے کسی نے خوف کے اندھیرے میں ہمدردی کا دیا جلا دیا ہو—اور میں اس روشنی کو سچ سمجھ بیٹھی۔ مجھے لگا کہ شاید میری تنہائی اور ذمہ داریوں کا بوجھ بانٹنے والا کوئی مسیحا مل گیا ہے۔ پتا نہیں کیوں مجھے یہ بات بہت اچھی لگی، اور میرے دل میں بھی اس مرد کے بارے تجسس پیدا ہونا شروع ہوگیا۔ شاید اس لیے کہ پہلی بار کسی نے مجھے توجہ کے لائق سمجھا تھا، یا شاید اس لیے کہ معصوم دل بعض اوقات خطرے کو بھی اپنائیت کا نام دے دیتا ہے۔
وہ تجسس جو ایک معصوم کلی کو آگ کی طرف کھینچ رہا تھا، دراصل ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ تھا۔ اس وقت تک مجھے ان کے اصلی ارادوں کا علم نہیں تھا، اور نہ ہی یہ معلوم تھا کہ وہ اسی گھر کے ایک کمرے میں بیٹھا یہ سب باتیں سن رہا ہے—خاموش، محتاط، اور پوری منصوبہ بندی کے ساتھ۔ وہ شکاری اپنی باری کا انتظار کر رہا تھا، جبکہ اس کی آلہ کار سہیلی لفظوں کے جال سے میرے گرد حصار تنگ کر رہی تھی۔ کمرے کی اس خاموشی میں صرف میری معصومیت کی دھڑکنیں تھیں اور دوسری طرف ایک درندے کی جاہلانہ تسکین۔کچھ دیر بعد میں واپس گھر آگئی اور دل ہی دل میں بہت خوش تھی کہ کوئی تو ہے جو ہم بہنوں کا خیال کرتا ہے، ہم سے ہمدردی کرتا ہے، جو ہمارے گھر کے کام کرے گا۔ اس خیال نے میرے کندھوں سے ذمہ داریوں کا وہ بوجھ ہلکا کر دیا جو میں برسوں سے اکیلی اٹھائے ہوئے تھی۔ مجھے لگا کہ جیسے میری بے رنگ زندگی میں کوئی سہارا رنگ بھرنے آ رہا ہے۔
اب جب میں اس مرد کو اپنے گھر کے آس پاس منڈلاتے دیکھتی تو وہ مجھے اپنا اپنا سا لگتا۔ وہی نظریں جو پہلے بوجھ لگتی تھیں، اب ہمدردی کا پیغام محسوس ہونے لگیں۔ اور جب میں سکول جاتے اسے اپنی مقررہ جگہ پر اس کے دوستوں کے درمیان کھڑا ہوتے دیکھتی تو وہ بھی مجھے ہی دیکھ رہا ہوتا۔ اب ان نظروں کے درمیان خوف کی دیوار گر چکی تھی اور اس کی جگہ ایک عجیب سے تجسس نے لے لی تھی۔
اس دن میں اسے دیکھ کر مسکرا دی اور اس کو میں نے بہت گہری نظروں سے ناپا۔ میری نظریں اس کا احاطہ کیے ہوئے تھیں، اس کی نگاہیں بھی مجھ پر پیوست تھیں۔ یہ پہلی بار تھا کہ میں نے اسے ایک شکاری کے بجائے ایک انسان کے طور پر دیکھا، مگر وہ نگاہیں صرف دیکھ نہیں رہی تھیں، بلکہ وہ ایک فاتح کی مسکراہٹ چھپائے ہوئے تھیں۔ پھر میں اس سے دور ہوتی اپنے سکول میں داخل ہو گئی۔ میں نے اپنی سہیلی سے اس کا نام پوچھا تو اس نے مجھے اس کا نام کاکا (ایک فرضی نام) بتایا۔
وقت گزرتا گیا اور جال کے تانے بانے مزید مضبوط ہوتے گئے۔ ایک دن میری سہیلی نے کہا کہ وہ مرد یعنی سنجے دت (کاکا) تم سے ملنا چاہتا ہے اور اس کے لیے تم چھٹی کے بعد میرے گھر آجانا۔ یہ ایک ایسی دعوت تھی جس میں تباہی کے سوا کچھ نہ تھا، مگر میرا معصوم شعور اس کا ادراک نہ کر سکا۔ میں نے کچھ بھی سوچے سمجھے بغیر اس کی بات مان لی۔ میرا وہ “بغیر سوچے سمجھے مان لینا” دراصل میرے اس بھروسے کی انتہا تھی جو میں نے اپنی سہیلی پر کیا تھا، اور اس پیاس کی شدت تھی جو ایک بے سہارا لڑکی کو کسی محافظ کے لیے ہو سکتی ہے۔ میں اپنی زندگی کے سب سے بڑے جال میں خود چل کر جانے کے لیے تیار تھی۔میں اس دن بہت پرجوش تھی۔ ایک انجان مرد میرا منتظر تھا، تو میں بھی اس سے ملنے کے لیے بیتاب تھی۔ دل میں ایک عجیب سی ہلچل تھی—ایسی ہلچل جو خوشی کے نام پر دھڑکنوں کو تیز کر دیتی ہے۔ وہ جوانی کی پہلی دہلیز تھی جہاں قدم اٹھتے نہیں بلکہ اڑتے محسوس ہو رہے تھے۔ میں نے جلدی جلدی وردی بدلی، بہت اچھا سا سوٹ نکالا، زیب تن کیا، اور تقریباً ناچتے دل کے ساتھ اس کے گھر کی طرف روانہ ہو گئی۔ ہر قدم کے ساتھ تجسس بڑھتا جا رہا تھا، اور عقل کہیں پیچھے رہ گئی تھی۔ مجھے لگا کہ میں کسی خواب کی تعبیر پانے جا رہی ہوں، یہ سوچے بغیر کہ خواب اکثر کرچیوں میں بھی بدل جاتے ہیں۔
میں جب سہیلی کے گھر پہنچی تو مجھے میری سہیلی ایک کمرے میں لے گئی، جہاں پہلے سے سنجے دت بیٹھا تھا۔ وہ مجھے اندر آتا دیکھ کر اٹھ کھڑا ہوا، اور میں اسے اتنے قریب دیکھ کر جیسے دیکھتی ہی رہ گئی۔ اس کمرے کی دیواریں اچانک سمٹتی ہوئی محسوس ہوئیں اور صرف اس کا وجود میرے سامنے تھا۔ وہ کھڑا ہوا تو جیسے بڑھتا ہی گیا—اس کا سر چھت سے ٹکراتا ہوا سا محسوس ہوا۔ بھلے ہی میرا قد پانچ فٹ چھ انچ تھا، لیکن میں اس کے بمشکل کاندھے تک ہی آ رہی تھی۔ اس کا یہ قد آور وجود مجھے تحفظ کا احساس دلا رہا تھا، جبکہ حقیقت میں یہ اس کی برتری اور میرے لاچار ہونے کی خاموش علامت تھی۔
میں نے بھرپور آنکھوں سے اسے دیکھا—ایک نظر جو تجسس سے بھری تھی، اور ایک دل جو اپنے فیصلوں پر سوال نہیں کر رہا تھا۔ اس نے بے باکی سے میری طرف مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔ اس کے ہاتھ کی وسعت میں میری تمام بے باکی جیسے ایک ہی لمحے میں قید ہونے والی تھی۔ میں نے بھی کسی سحر زدہ کی طرح اس کا ہاتھ تھام لیا۔ اس نے بڑی گرمجوشی سے میرا ہاتھ دبایا، اور نجانے کیوں مجھے ایسا لگا جیسے میرے جسم میں کرنٹ سا لگا ہو۔ وہ ایک ایسا ارتعاش تھا جس نے روح کے بند دریچوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ وہ لمس چند لمحوں کا تھا، مگر اس نے میرے اندر ایک ایسا ارتعاش چھوڑ دیا جسے میں اس وقت خوشی سمجھ رہی تھی—اور یہی وہ لمحہ تھا جہاں معصومیت اور نادانی ایک دوسرے سے گلے مل رہی تھیں، بے خبر اس انجام سے جو آہستہ آہستہ قریب آ رہا تھا۔ وہ ہاتھ جو میں نے تھاما تھا، وہ صرف ایک مصافحہ نہیں تھا، بلکہ وہ اس جال کی پہلی گرہ تھی جس میں میری پوری زندگی الجھنے والی تھی۔ وہ “کرنٹ” دراصل خطرے کی وہ گھنٹی تھی جسے میرے جذباتی ہونے نے ایک مسحور کن راگ سمجھ لیا۔
بیشک یہ ہماری پہلی ملاقات تھی، لیکن ایسے لگا جیسے ہم برسوں سے ایک دوسرے کو جانتے ہوں۔ ہر لفظ، ہر مسکراہٹ، ہر چھوٹی سی بات میں ایک عجیب سی پہچان تھی، جو دل کے سب سے گہرے گوشوں میں بیٹھ جاتی ہے۔ وہ شکاری لفظوں کا ایسا ماہر تھا کہ اس نے اپنی باتوں سے میرے گرد ایک ایسا حصار کھینچ دیا جہاں خوف کی کوئی گنجائش نہ رہی۔ ہم گھنٹوں ایک دوسرے سے باتیں کرتے رہے، وقت جیسے رک گیا ہو، اور باہر کی دنیا ہمارے گرد نہیں، بس ہماری گفتگو میں گھل گئی تھی۔ مجھے لگا کہ زندگی کی تمام محرومیاں اب ختم ہونے کو ہیں اور میرے پاس اب ایک ایسا کندھا ہے جس پر سر رکھ کر میں دنیا سے لڑ سکتی ہوں۔
میرے پاس بٹنوں والا موبائل تھا۔ اس نے مجھے اپنا نمبر بتایا، جسے میں نے فوراً اپنے فون میں محفوظ کر لیا۔ وہ نمبر محض چند ہندسے نہیں تھے، بلکہ وہ اس کے وجود تک پہنچنے والی ایک پوشیدہ گلی تھی جہاں اب میں جب چاہتی جا سکتی تھی۔ ہر بار جب میں اس نمبر کی طرف دیکھتی، دل میں ایک چھپی ہوئی خوشی چھلک اٹھتی—ایک چھوٹی سی لکیریں جو شاید بڑے خواب کی نوید دیتی تھیں۔ پھر وہ رخصت ہو گیا، اور میں بھی کچھ دیر سہیلی سے باتیں کر کے اپنے گھر لوٹ آئی۔ وہ سہیلی جو اب تک ایک مجرمانہ مسکراہٹ کے ساتھ سب دیکھ رہی تھی، اس نے میرا کام تمام کر دیا تھا۔ گھر کی خاموشی، دیواروں کے بیچ بکھرا ہوا سکون، اور دل کی دھڑکنیں—سب کچھ اس ملاقات کی بازگشت سے بھر گیا تھا۔ گھر کی وہی دیواریں جو ابا نے میرے تحفظ کے لیے بنائی تھیں، اب مجھے ایک نئی خوشی کی گواہ لگ رہی تھیں۔ اس طرح ہماری بات چیت شروع ہو گئی، اور ہر دن، ہر لمحہ، اس تجسس اور خوشی کی مٹھاس سے بھرا ہوا تھا جو معصوم دل کو خواب کی طرح بہا لے جاتا ہے۔ میں روزانہ اس سے بات کرتی، اپنے گھر کے حالات سناتی، اور وہ “ہمدرد” بن کر میرے ہر دکھ کو چن لیتا۔ مجھے خبر نہ تھی کہ یہ فون کالز دراصل میری زندگی کی قیمت طے کر رہی ہیں اور ہر گزرتا لمحہ مجھے اس دلدل کے قریب لا رہا ہے جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہ تھا۔میری بہنوں کو اس میں کوئی دلچسپی نہیں تھی کہ میں کس سے باتیں کرتی رہتی ہوں۔ ہر ایک اپنی دنیا میں مصروف تھی، اور مجھے لگتا تھا جیسے میری چھوٹی چھوٹی خوشیاں اور راز، کسی کو محسوس ہی نہیں ہوتے۔ ہم ایک ہی چھت تلے رہتے ہوئے بھی جزیروں کی طرح الگ الگ تھے۔ میری ماں بھی اپنی دنیا میں کھوئی رہتیں—خاموش، مہربان، مگر اپنی سوچوں کی دیوار میں بند۔ ان کی شفقت میں وہ تیزی نہ تھی جو میری آنکھوں میں پلتے ہوئے نئے رنگوں کو بھانپ سکتی۔ ابو اب ریٹائر ہو چکے تھے، تو وہ بھی کئی کئی گھنٹے اپنے دوستوں کے ساتھ باہر ہی رہتے۔ جب وہ واپس آتے، تو اپنے کمرے سے نہیں نکلتے تھے۔ ان کا نظم و ضبط اب گوشہ نشینی میں بدل چکا تھا۔
یوں گھر کی فضا میں خاموشی چھائی رہتی، اور میں اپنے دل کی دھڑکنوں اور رازوں کے ساتھ تنہا رہ جاتی۔ جب اپنوں کی آنکھوں میں اپنے لیے سوال ختم ہو جائیں، تو انسان غیروں کی نظروں میں جواب تلاش کرنے لگتا ہے۔ چونکہ ہمارا گھر کافی وسیع و عریض اور کشادہ ہونے کے ساتھ ساتھ کئی کمروں پر محیط تھا، اس لیے مجھے کسی کونے میں جا کر باتیں کرنے میں کوئی دقت پیش نہیں آتی تھی۔ وہ در و دیوار جو کبھی میری پہچان تھے، اب میرے رازوں کے امین بن گئے۔ ہر کونا، ہر چھوٹا سا کمرہ، میرے لیے محفوظ جنت بن گیا تھا، جہاں میں اپنے خیالات اور تجسس کو آزاد چھوڑ سکتی تھی۔ وہاں میں آزاد تھی، بغیر کسی روک ٹوک کے، اور اسی آزادی کے سحر میں، میں بھول گئی کہ ان خالی کمروں میں گونجتی میری آواز کسی شکاری کے لیے ایک ایسی پکار تھی جس کا وہ برسوں سے منتظر تھا۔ میں جسے اپنی “جنت” سمجھ رہی تھی، وہ دراصل اس جال کا پھیلاؤ تھا جہاں مجھے خاموشی سے جکڑا جا رہا تھا۔
ایک دن میں نے کاکے کو اس کی موٹر سائیکل پر گھومانے کے لیے کہا۔ دل میں ایک عجیب سا جوش اور ہلکی سی سنجیدگی تھی—خوشی اور تجسس کے درمیان کا وہ لمحہ جو معصوم دل کو بہکانے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ وہ ایک ایسی طلب تھی جو برسوں سے میرے اندر دبی ہوئی تھی۔ چونکہ ہمارا کوئی بھائی نہیں تھا، اور ابو کو بھی موٹر سائیکل چلانی نہیں آتی تھی، میرا دل موٹر سائیکل سیر کرنے کو بہت چاہتا تھا۔ یہ خواہش سادہ لگتی تھی، مگر اس میں میرے اندر کی آزادی اور معصوم شوق چھپا ہوا تھا۔ مجھے لگا کہ ہوا کے دوش پر اڑتے ہوئے میں ان تمام زنجیروں کو توڑ دوں گی جو ایک لڑکی ہونے کے ناطے مجھ پر لدی ہوئی تھیں۔
میں نے اپنی بڑی بہن سے اجازت مانگی، جو سنجے دت کو میرا بھائی سمجھتی تھی اور ان کو بھی اس رشتے سے کوئی اعتراض نہیں تھا۔ کتنا ہولناک ہوتا ہے وہ لمحہ جب آپ کے اپنے ہی آپ کو بھیڑیے کے حوالے یہ سوچ کر کر دیں کہ وہ محافظ ہے! انہوں نے خوش دلی سے کہا، “ٹھیک ہے، چلی جایا کرو۔” یہ اجازت میرے دل کو اڑان دینے کے لیے کافی تھی۔ اس ایک جملے نے تمام سماجی اور اخلاقی ڈر ختم کر دیے تھے۔
میں بخوشی سنجے کے ساتھ بیٹھ گئی۔ وہ مجھے سیر کراتے کراتے اپنے ایک خفیہ ٹھکانے پر لے گیا، کچھ دیر آرام کے بہانے۔ اس کی پیٹھ کے پیچھے بیٹھے ہوئے مجھے لگ رہا تھا کہ میں دنیا کی سب سے محفوظ پناہ گاہ میں ہوں، مگر وہ راستہ بستیوں سے نکل کر ویرانی کی طرف مڑ رہا تھا۔ میرے دل میں خوشی، تجسس اور ایک ہلکی سی ہچکچاہٹ سب ایک ساتھ گھل رہی تھی۔ وہ ہچکچاہٹ شاید روح کی وہ آخری پکار تھی جو مجھے خطرے سے آگاہ کرنا چاہتی تھی، مگر خوشی کا شور بہت زیادہ تھا۔ وہ لمحہ بے خبر خطرے اور بے پناہ تجسس کا ایک عجیب سا امتزاج تھا، جس میں معصوم دل ابھی نہیں جانتا تھا کہ یہ سادگی اور خوشی کسی آزمائش کا دروازہ بھی کھول سکتی ہے۔ وہ “خفیہ ٹھکانہ” محض ایک مکان نہیں تھا، وہ اس شکاری کی کچھار تھی جہاں اس نے اپنی تمام تر درندگی کو چھپا رکھا تھا اور میں، ایک معصوم ہرنی کی طرح، خود چل کر اس کے جال میں اتر چکی تھی۔
وہ گھر بالکل ویران تھا اور آس پاس کوئی آبادی بھی نہیں تھی۔ اس نے مجھے ایک کمرے میں بٹھایا اور خود باتھ روم چلا گیا۔ میں بھی وقت گزارنے کے لیے کمرے کا جائزہ لینے لگی۔ اس ویرانی میں ایک عجیب سی دہشت تھی، مگر میں اپنی معصومیت کے لبادے میں اس قدر لپٹی ہوئی تھی کہ خطرے کی چاپ نہ سن سکی۔ ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ مجھے کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی مجھے معلوم تھا کہ سنجے کے علاوہ کوئی نہیں یہاں اس لیے میں نے عام سے انداز میں مڑ کر دیکھا۔ لیکن دیکھتے ہی جیسے میرے اوسان خطا ہو گئے۔ وہ تھا تو سنجے ہی لیکن وہ جس حالت میں میرے سامنے کھڑا تھا میں اسے دیکھنے کی تاب نہیں لا سکی اور مارے شرم کے اپنی آنکھیں جھکا لیں۔ پتا نہیں وہ اپنے کپڑے کہاں بھول آیا تھا۔ وہ لمحہ میرے شعور پر ایک کاری ضرب کی طرح لگا۔ حیا اور صدمے کے اس ملے جلے جذبے نے مجھے سنبھلنے کا موقع ہی نہ دیا۔ میرا وجود کانپ اٹھا تھا، مگر اس شکاری نے جال اس قدر مہارت سے بچھایا تھا کہ بھاگنے کی ہمت بھی مجھ سے چھین لی گئی تھی۔
پھر اس نے میری ٹھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھا اور میرا چہرہ اوپر اٹھایا میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھا جہاں ایک جوش اور پیار بھرا تھا۔ وہ “پیار” دراصل ایک درندے کی وہ بھوک تھی جسے میں اپنی سادگی میں اپنائیت سمجھ بیٹھی۔ اس کے لمس میں وہ کرنٹ اب ایک زہریلی لہر بن کر میرے خون میں دوڑنے لگا۔ پھر اس نے مجھے بھی اپنے کپڑے بھول جانے کا کہا جو میں نے تھوڑی پس و پیش کے بعد مان لیا۔ میرا وہ “مان لینا” دراصل اس نفسیاتی سحر کی انتہا تھی جس میں اس نے مجھے جکڑ رکھا تھا۔ میں اپنی مرضی سے نہیں، بلکہ اس کے مکر اور اپنے اندر کے اس خلا کی وجہ سے ہاری تھی جسے اس نے “محبت اور ہمدردی” کے جھوٹے وعدوں سے بھرا تھا۔ وہ کمرہ اب صرف ایک کمرہ نہیں رہا تھا، بلکہ وہ میری معصومیت کی مقتل گاہ بننے والا تھا، جہاں میں خود اپنے ہاتھوں سے اپنی ردائے حیا اتارنے پر آمادہ ہو چکی تھی۔
اب ہم دونوں بالکل اسی حالت میں تھے—وہی حالت کہ جو حالت آدم و حوا کی پہلی بار گندم کا دانا کھانے کے بعد ہوئی تھی۔ ایک ایسی برہنگی جس میں لباس کے ساتھ ساتھ روح کی ڈھال بھی چھین لی گئی تھی۔ میرے گرد کا ماحول دھندلا گیا تھا اور مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے کائنات کی تمام وحشتیں اس ایک کمرے میں سمٹ آئی ہوں۔ میں نے مارے شرم کے اپنے ہاتھ آنکھوں پر رکھ لیے۔ میں اس حقیقت کو دیکھنا نہیں چاہتی تھی، میں اس منظر سے بھاگنا چاہتی تھی، مگر میرے قدم جیسے زمین میں گڑھ گئے تھے۔
اس نے بڑے پیار سے مجھے اپنی باہوں کے حصار میں گھیر لیا۔ وہ حصار جس میں تحفظ کا جھوٹا وعدہ تھا، اب شکاری کی گرفت بن چکا تھا۔ اس کے لمس میں وہی مکاری تھی جس نے مجھے یہاں تک پہنچایا تھا۔ پھر مجھے جیسے نشہ سا ہو گیا اور ایک بہت گرم سلاخ میرے کنوارے پن کو جلاتی چلی گئی۔ وہ درد صرف جسمانی نہیں تھا، وہ میری روح کا کرب تھا، میری برسوں کی لاڈلی معصومیت کا جنازہ تھا جو اس آگ میں جل رہا تھا۔ وہ لمحہ ایک ایسی قیامت تھی جس نے میرے بچپن، میری بے باکی اور میرے فخر کو ایک ہی وار میں راکھ کر دیا۔ میں جو ایک محافظ کی تلاش میں نکلی تھی، اس کے ہاتھوں اپنی سب سے بڑی متاع لٹا بیٹھی۔ وہ “نشہ” دراصل اس گہرے صدمے کا نتیجہ تھا جہاں عقل خاموش ہو جاتی ہے اور صرف اذیت باقی رہ جاتی ہے۔اب ہم یک جان اور دو قالب کی کیفیت میں تھے۔ یہ وہ اتحاد نہیں تھا جس کے گیت شاعر لکھتے ہیں، بلکہ یہ ایک شکاری کی جیت اور ایک معصوم خواب کی مٹی میں مل جانے کی کیفیت تھی۔ میرا وجود اب میرا نہیں رہا تھا، اس پر اس شخص کے سحر اور تسلط کی مہر لگ چکی تھی۔
کاکے کے کرکٹ کے بیٹ کا ہنڈل کافی لمبا تھا لیکن باریک تھا جسے میں نے تجسس اور پیار کے ملے جلے تاثرات سے غور سے دیکھا۔ وہ تجسس جو مجھے اس ویرانے تک لایا تھا، اب بھی میرے اندر دم توڑتے ہوئے سوالات پیدا کر رہا تھا۔ میں اس طاقت اور اس حاکمیت کے ہر زاویے کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی جس نے مجھے مغلوب کر دیا تھا۔ اس نے مجھے میرے ہاتھ سے سہلانے کا کہا جو میں نے اپنے ہاتھ میں پکڑا اور تمام زاویوں سے گھما کر دیکھا۔ اس لمحے میں جیسے میں نے اپنی تمام مزاحمت دفن کر دی تھی۔ وہ “ہنڈل” محض ایک شے نہیں تھی، وہ اس کی مردانگی اور میری بے بسی کا وہ استعارہ بن گیا تھا جس نے میری زندگی کے رخ کو ہمیشہ کے لیے موڑ دیا۔
پھر اسے اپنے پاس کہیں کسی کونے میں چھپا لیا۔ میں نے اس اذیت، اس لمس اور اس گناہ کو اپنے اندر کے کسی تاریک گوشے میں اس طرح چھپا لیا جیسے کوئی قیمتی مگر زہریلا راز چھپایا جاتا ہے۔ مجھے لگا کہ اگر میں اسے دنیا سے چھپا لوں گی تو شاید میں خود کو بھی اس سچائی سے بچا پاؤں گی کہ میں اب وہ نہیں رہی جو اس کمرے میں داخل ہونے سے پہلے تھی۔ وہ کونہ میرے دل کا وہ حصہ بن گیا جہاں اب صرف خوف اور ایک انجان وابستگی کا ڈیرا تھا۔
جب اس کا سکور پورا ہو گیا، تو وہ ایک جانب تھک کر گر گیا اور میں نے اس سے سوال کیا کہ یہ سب کیا تھا کاکے؟ میرے اس سوال میں وہ تمام معصومیت اور وہ تمام خوف شامل تھا جو اس وقت میری روح کو جھنجھوڑ رہا تھا۔ میں چاہتی تھی کہ وہ کہے کہ یہ ہماری محبت کا عہد ہے، وہ کہے کہ وہ میرا محافظ ہے، مگر اس کا جواب میرے سینے میں تیر کی طرح پیوست ہوا۔ تو اس نے کہا کہ فکر کرنے کی کوئی بات نہیں آج کل یہ سبھی چلتا ہے، سب ہی یہ کام کرتے ہیں کوئی نئی بات نہیں۔ ان الفاظ نے مجھے ایک ہی لمحے میں زمین پر پٹخ دیا؛ جس عمل نے میری زندگی بدل دی تھی، وہ اس کے لیے ایک عام سی، روزمرہ کی بات تھی۔ میری ہستی کی قیمت اس کی نظر میں اس قدر معمولی تھی کہ اسے ذرا سا پچھتاوا بھی نہ تھا۔
میں نے اسے بتایا کہ مجھے کافی تکلیف ہو رہی ہے۔ وہ تکلیف صرف جسمانی نہیں تھی، وہ اس توہین کی تھی جو میری ذات کے ساتھ ہوئی تھی۔ اس نے مجھے کہا کہ میرا ایک دوست ڈاکٹر ہے اس کو دکھا کر معائنہ کروا کر میں تم کو گھر چھوڑ دوں گا لیکن دھیان رہے یہ سب کسی کو بتانا مت۔ اس کی آواز میں اب وہ ہمدردی نہیں تھی، بلکہ ایک حکم تھا، ایک دھمکی تھی جو “ڈاکٹر کے معائنے” کے پردے میں چھپی ہوئی تھی۔ وہ “دوست ڈاکٹر” شاید اس کے اسی مکروہ دھندے کا ایک اور حصہ تھا، اور اس کا یہ کہنا کہ “کسی کو بتانا مت”، دراصل اس زنجیر کی آخری کڑی تھی جس نے مجھے ہمیشہ کے لیے اس کے حصار میں جکڑ لینا تھا۔ میں جس تکلیف سے گزر رہی تھی، اسے اس کا احساس نہیں تھا، اسے صرف اس بات کی فکر تھی کہ اس کا یہ مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے نہ آ جائے۔ میں ایک مقتل سے نکل کر دوسرے مقتل کی طرف بڑھ رہی تھی، بالکل خاموش اور بالکل بے بس۔
اس نے مجھے میرے گھر سے کچھ فاصلے پر اتارا، اور ہلکی سی تسلی دے کر موٹر سائیکل واپس موڑ کر چلا گیا۔ وہ تسلی نہیں تھی، بلکہ ایک بوجھ تھا جو اس نے میرے کندھوں پر منتقل کر دیا تھا۔ اس کا پیچھے مڑ کر نہ دیکھنا اس بات کا اعلان تھا کہ اس کا کام مکمل ہو چکا ہے۔ میں بوجھل قدموں سے گھر کی طرف چل دی۔ دل بھاری تھا، اور ہر قدم کے ساتھ دل کی دھڑکنیں تیز اور بے چین ہو رہی تھیں۔ مجھے لگ رہا تھا کہ گلی کی دیواریں، چلتے ہوئے لوگ اور آسمان سب مجھے دیکھ رہے ہیں اور سب کو میرا راز معلوم ہو چکا ہے۔
میٹھی میٹھی درد اور عجیب سے گیلے پن کے ساتھ میری ٹانگیں کچھ تھکی تھکی سی تھیں۔ وہ تھکن صرف جسمانی نہیں تھی، وہ اس بوجھ کی تھی جو میری روح پر لاد دیا گیا تھا۔ جیسے تیسے میں گھر پہنچی اور سیدھے باتھ روم میں گھس گئی۔ جسم اور دل دونوں میں ایک عجیب سا سکڑاؤ اور تھکن تھی، جو صرف خاموشی میں محسوس کی جا سکتی تھی۔ میں اپنوں سے نظریں چرانے لگی تھی، وہ گھر جو میری پناہ گاہ تھا، اب مجھے کسی کٹہرے کی طرح لگ رہا تھا۔
رفع حاجت کرتے وقت مجھے جلن سی محسوس ہوئی، اور جب پانی سے دھونے لگی، تو سرخی مائل سا پانی میرے ہاتھ کو رنگین کر گیا۔ وہ سرخی صرف لہو کی نہیں تھی، وہ میری اس معصومیت کا جنازہ تھا جو اس ویرانے میں دفن ہو چکی تھی۔ وہ منظر میرے دل پر ایک عجیب سا دھبہ چھوڑ گیا—ایک درد، شرم اور تجسس کا ملا جلا احساس، جو میرے دل کی ہر دھڑکن میں چھلک رہا تھا۔ میں اپنے ہی ہاتھوں کو دیکھ کر کانپ اٹھی؛ یہ وہ رنگ تھا جس نے مجھے ہمیشہ کے لیے ایک ایسے راز کا قیدی بنا دیا تھا جسے میں اب نہ کسی کو سنا سکتی تھی اور نہ ہی خود بھول سکتی تھی۔ وہ “تجسس” اب ایک ایسے خوف میں بدل چکا تھا جس کا سایہ میری پوری زندگی پر پھیلنے والا تھا۔
چند دنوں کے وقفے سے پھر یہی کچھ ہوا۔ پھر اس نے مجھے بلایا، میں ایک ممکنہ اور متوقع حالات سے پھر دوچار ہونے والی تھی۔ میرے اندر کا ڈر اب ایک عجیب سی خاموش قبولیت میں بدل چکا تھا۔ نجانے کیوں میں نے جانے سے انکار نہ کیا اور میں اس کے ساتھ موٹر سائیکل پر جا بیٹھی۔ شاید وہ خلا جو اپنوں کی بے توجہی نے پیدا کیا تھا، اب اس کے “لمس اور توجہ” سے بھر رہا تھا، چاہے وہ توجہ زہریلی ہی کیوں نہ ہو۔ اس بار وہ مجھے سیدھا اپنے ٹھکانے پر لے گیا۔ مجھے معلوم تھا کہ کیا ہونے والا ہے، مگر میرا وجود جیسے میری اپنی حاکمیت سے باہر نکل چکا تھا۔
آج اس نے گھر میں موجود ٹی وی کو آن کر کے وی سی آر پر ایک انتہائی ہیجان آمیز فلم لگائی اور مجھ سے انہی افعال کو اس کے ساتھ دہرانے کا کہا۔ وہ اسکرین پر چلتے مناظر میرے لیے کسی دوسری دنیا کا قصہ تھے، ایک ایسی دنیا جہاں حیا کا وجود نہ تھا۔ جو میں نے بغور دیکھ کر اور نیا تجربہ سمجھ کر مان لیا۔ میں نے اس ننگی فلم میں ایسے مناظر دیکھے کہ بغیر پیئے ہی مجھ پر نشہ طاری ہو گیا۔ وہ مناظر زہر کی طرح میرے شعور میں اتر رہے تھے، میری فطری شرم و حیا کو کچلتے ہوئے۔
اور میں جیسے اس کی لذتوں کی تکمیل کی غلام بن گئی۔ میں پیرالائز سی ہو گئی، ہیپنوٹائز ہو گئی، مدہوش ہو گئی اور اس کی ہر گھنونی بات ماننے لگی۔ میری اپنی کوئی سوچ، کوئی مزاحمت باقی نہ رہی تھی۔ اس نے مجھے ایک ایسی کٹھ پتلی بنا دیا تھا جس کی ڈوریاں اس کے ہاتھ میں تھیں۔ اس نے اپنے بیٹ کا ہینڈل میرے حلق میں اتار دیا جسے میں کسی بچے کے فیڈر کی طرح چوسنے لگی۔ اس لمحے میں، میں نے اپنی انسانیت اور اپنی عزتِ نفس کو مکمل طور پر اس کے قدموں میں ڈھیر کر دیا تھا۔ وہ عمل جو کسی بھی انسان کے لیے ذلت آمیز ہو سکتا تھا، میرے دھندلاہٹ بھرے شعور میں صرف ایک “حکم کی تعمیل” بن کر رہ گیا تھا۔ میں اب ایک جیتا جاگتا وجود نہیں، بلکہ اس کی ہوس کا ایک بے جان کھلونا بن چکی تھی، جس کی معصومیت اب مکمل طور پر راکھ ہو چکی تھی۔
اس دن مجھے بہت اچھا لگا۔ یہ وہ اچھا لگنا نہیں تھا جو کسی خوشی سے ملتا ہے، بلکہ یہ اس مکمل سپردگی کا احساس تھا جہاں انسان اپنی ذات کی جنگ ہار کر دشمن کے رحم و کرم پر آ جاتا ہے۔ میری زندگی کی تمام تلخیاں، گھر کی تنہائی اور اپنوں کی بے توجہی اس ایک لمحے کے سحر میں دب گئی تھیں۔ تکلیف تو ہوئی لیکن درد میں ایک عجیب مٹھاس بھی محسوس ہو رہی تھی جس کو بیان کرنا الفاظ کے بس میں نہیں۔
وہ درد جو جسم کے پور پور میں سرایت کر گیا تھا، اب میرے لیے ایک انجانی اپنائیت کا استعارہ بن چکا تھا۔ وہ مٹھاس دراصل اس زہر کی تھی جو میرے خون میں شامل ہو رہا تھا—ایک ایسا زہر جو انسان کو جینے بھی نہیں دیتا اور مرنے بھی نہیں دیتا۔ الفاظ واقعی اس کیفیت کو بیان کرنے سے قاصر ہیں جہاں ایک لڑکی کی حیا، اس کا فخر اور اس کا شعور ایک ہی نقطے پر آ کر فنا ہو جائیں اور وہ اس فنا ہونے کو ہی اپنی معراج سمجھنے لگے۔ میں اس شکاری کے ہاتھوں میں وہ موم بن چکی تھی جسے وہ جس مرضی سانچے میں ڈھال لیتا، اور میں نے اس تکلیف کو اپنی تقدیر سمجھ کر سینے سے لگا لیا تھا۔کاکا اس سامنے چل رہی ہیجان آمیز فلم کے مطابق مجھے مختلف زاویوں سے ناپتا رہا، تولتا رہا، مجھ سے گتھم گتھا ہوتا رہا۔ اس کے لیے میں ایک زندہ وجود نہیں تھی، بلکہ اس مٹی کی طرح تھی جسے وہ ان ناپاک مناظر کی نقل کرنے کے لیے استعمال کر رہا تھا۔ اس کی نظروں میں ایک ایسی کاروباری سردی تھی جو مجھے ایک “شے” کی طرح پرکھ رہی تھی۔ اور میں نے جیسے اپنے آپ کو اس کے سپرد کر دیا تھا۔ میری مزاحمت دم توڑ چکی تھی، میری حیا کے پہرے سو گئے تھے، اور میں نے اس طوفان کے سامنے ہتھیار ڈال دیے تھے۔
اب مجھے سب اچھا لگنے لگا تھا اور میں بھی اس کا بھرپور ساتھ دینے لگی تھی۔ یہ وہ موڑ تھا جہاں گناہ اور لذت کی سرحدیں مٹ گئی تھیں۔ وہ نشہ جو اس نے میرے ذہن پر طاری کیا تھا، اب میرے خون میں رقص کرنے لگا تھا۔ میں بھول گئی تھی کہ میرا گھر کہاں ہے، میرے ابا کون ہیں، اور وہ کون سا گھر ہے جو میرے نام پر ایک راز کی طرح رکھا گیا تھا۔ اس لمحے صرف وہ تھا، اس کی ہوس تھی اور میری وہ مدہوشی جس نے مجھے ایک فعال آلہ کار بنا دیا تھا۔ میں جس “بھرپور ساتھ” کا ذکر کر رہی ہوں، وہ دراصل میری روح کی وہ چیخ تھی جو اب خاموش ہو کر اس کی آواز میں آواز ملانے لگی تھی۔ میں اس کے ہر اشارے پر رقص کرنے والی وہ کٹھ پتلی بن چکی تھی جسے اپنی ڈوریاں شکاری کے ہاتھ میں دیکھ کر اب خوف نہیں، بلکہ ایک انجانی سی تسکین محسوس ہونے لگی تھی۔
فرحت، سکون اور کیف کے لمحات ختم ہوئے تو اس نے جلدی جلدی واپسی کی راہ لی، مجھے میرے گھر اتارا اور خود مڑ گیا۔ میں لطف و سزا کے ملے جلے جذبات لے کر گھر کے اندر داخل ہو گئی۔ وہ سزا جو ضمیر دیتا ہے، اور وہ لطف جو حواس پر طاری تھا، ان کے درمیان ایک جنگ جاری تھی۔ دن گزرتے رہے اور ہم دونوں وقفے وقفے سے اسی مکان میں رنگ رلیاں مناتے رہے۔
ایک دن مجھے ایک ترکیب سوجھی، میرے ذہن میں ایک شیطانی خیال آیا۔ کیونکہ اب مجھے بھی جسمانی ضرورت پوری کرنے کا ایک ذریعہ مل چکا تھا۔ پہلے پہل تو چوری اور احساسِ گناہ بھی شدت سے تھا، لیکن چند دن گزرنے کے بعد ہمت بہت بڑھ گئی، اب میں اس ضرورت کو پورا کرنے کی خود سے ترکیبیں سوچنے لگی تھی۔ وہ معصوم لڑکی جو کبھی نظر اٹھاتے ہوئے ڈرتی تھی، اب خود سازشیں بن رہی تھی۔ ہمارا ٹھکانہ میرے گھر سے کافی دوری پر تھا اور آنے جانے کے لیے وقت، لمبا فاصلہ اور انتظار اب نہیں ہوتا تھا۔ ہوس کا یہ تقاضا تھا کہ فاصلے مٹ جائیں، چاہے اس کی قیمت کچھ بھی ہو۔
اس لیے ایک دن میں نے کاکے سے کہا کہ کاکے تم مجھے نیند کی گولیاں لا دو، میں وہ اپنے گھر والوں کو پلاؤں گی۔ جب سب سو جائیں گے تو میں تم کو کال کروں گی اور باہری دروازہ کھول دوں گی، تم بغیر کسی آہٹ کے میرے گھر داخل ہو کر گیراج میں موجود کار کے اندر چھپ جانا۔ اس نے مجھے گولیاں لا دیں، ان پر (ایٹیوان) لکھا تھا۔ میں نے رات کے کھانے کے ساتھ چائے میں ملا کر سب کو پلا دیں۔ کتنا بڑا ظلم تھا کہ جن ہاتھوں کو اپنوں کی خدمت کرنی تھی، وہی ہاتھ ان کے سکون میں زہر گھول رہے تھے۔ سبھی گھر والے کچھ دیر بعد بوجھل سے ہو کر اپنے اپنے کمروں میں گہری نیند سو گئے۔ میں نے تسلی کرنے کے بعد کہ سب گہری نیند میں چلے گئے کہ نہیں؟
دھڑکتے دل سے کاکے کو فون کیا اور اسے جلدی جلدی گھر آنے کا کہا۔ اب مجھ سے صبر نہیں ہو رہا تھا۔ اور وہ کچھ دیر بعد گھر کے اندر تھا۔ جیسے ہی وہ مقررہ جگہ پر پہنچا، میں نے اسے فرحتِ جذبات سے نیچے گرا لیا۔ بغیر وقت ضائع کیے اور اپنے ہونٹوں سے اس کا لعاب چکھنا شروع کر دیا۔ وہ گھر جو ابا کے فخر اور عزت کا نشان تھا، اب ایک ایسی گواہی دے رہا تھا جسے دیواریں بھی دیکھ کر کانپ اٹھتی ہوں گی۔ میں نے اپنے ہی گھر کو مقتل گاہ بنا لیا تھا، جہاں میں اپنی ہی عزت کا سودا ایک ایسے شخص سے کر رہی تھی جس نے مجھے اس مقام تک پہنچانے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا تھا۔اس دن اس نے مجھے خوب لطف اندوز کیا؛ انجانے خوف، پکڑے جانے کے ڈر اور عزت کا جنازہ نکل جانے جیسے ملے جلے احساس کے ساتھ ہم نے اپنا کام پورا کیا۔ وہ خوف جو رگوں میں دوڑ رہا تھا، اس نے اس وحشت کو ایک عجیب سی تیزی عطا کر دی تھی۔ مجھے لمحہ لمحہ یہ لگ رہا تھا کہ کہیں ابا کی آنکھ نہ کھل جائے، کہیں ماں کی ممتا میرے اس گناہ کو بھانپ نہ لے—مگر یہ خوف ہی میرے لیے اس وقت کا سب سے بڑا نشہ بن چکا تھا۔ وہ زیادہ سکور نہیں کر پایا لیکن اس نے بہت تابڑ توڑ اننگز کھیلی۔ اس کی ہر حرکت میں ایک ایسی بیباکی تھی جیسے وہ میرے گھر پر نہیں، بلکہ میری روح پر اپنی جیت کا جھنڈا گاڑ رہا ہو۔
پھر جیسے ہی وہ آیا تھا ویسے ہی خاموشی سے چلا گیا۔ اس کے جانے کے بعد گھر کی خاموشی پہلے سے کہیں زیادہ بوجھل اور اذیت ناک ہو گئی۔ اور میں نے مسرت بھرے انداز سے ایک راحت کے ساتھ دروازہ لاک کر دیا اور گاڑی کی سیٹ کو ایک کپڑے سے صاف کر کے اپنے کمرے میں آگئی۔ وہ “سیٹ صاف کرنا” دراصل اپنے گناہ کے نشانات مٹانے کی ایک ناکام کوشش تھی۔ میں نے دروازہ تو لاک کر دیا، مگر اس دروازے کے پیچھے جو معصومیت اور جو فخر کبھی بسا کرتا تھا، وہ ہمیشہ کے لیے رخصت ہو چکا تھا۔ میں اپنے کمرے میں آ تو گئی تھی، مگر اب میں اس گھر کی بیٹی نہیں رہی تھی، بلکہ اس شکاری کی وہ آلہ کار بن چکی تھی جس نے اپنی ہی چھت تلے اپنے ہی باپ کی عزت کا سودا کر لیا تھا۔ وہ رات ختم ہو گئی، مگر اس کے اثرات میری زندگی کی صبح کو کبھی روشن نہیں ہونے دینے والے تھے۔
جب اگلی صبح میری آنکھ کھلی تو خلاف توقع سبھی گھر والے بہت ہشاش بشاش تھے۔ چھوٹی بہن سکول جا چکی تھی، امی روزمرہ کے کام میں مصروف تھیں، بڑی بہن کالج گئی ہوئی تھیں۔ گھر کی اس نارمل فضا نے میرے اندر کے مجرم کو ایک اطمینان بخشا، جیسے قدرت بھی میرے اس فعل پر پردہ ڈال رہی ہو۔
میں نے اٹھنا چاہا تو ٹانگوں میں جیسے جان ہی نہیں تھی، ناف تک ٹھیسیں اٹھ رہی تھیں۔ پچھلی رات بڑے بے درد وحشی سے مقابلہ ہوا تھا۔ وہ تکلیف جو جسم کی پور پور میں رچی ہوئی تھی، میرے لیے اس رات کی گواہی تھی۔ مجھے یہ جان کر کافی سکون محسوس ہوا کہ رات کی کاروائی کا کسی کو کچھ پتا نہیں چل پایا تھا۔ میں نے منہ ہاتھ دھویا؛ ان دنوں مجھے غسلِ جنابت جیسی پاکیزگی کا علم نہیں تھا۔ اس لیے بغیر پاک ہوئے صرف منہ دھویا اور کھانا کھایا۔ وہ نادانی جس میں جسم کے ساتھ ساتھ روح کی ناپاکی کا بھی احساس مٹ چکا تھا، مجھے ایک اندھی کھائی کی طرف لے جا رہی تھی۔
اسی طرح چند دن گزر گئے۔ البتہ کاکے سے روزانہ فون پر بات ضرور ہوتی تھی ۔ کچھ دن گزرنے کے بعد میرا دل دوبارہ گرم لوہا سیکنے کو کیا تو میں نے کاکے سے نیند کی گولیاں لانے کو کہا۔ وہ اشتہا جو ایک بار جاگ جائے تو پھر حیا اور خوف کے بندھن توڑ دیتی ہے، اب مجھ پر حاوی تھی۔ وہ تو ویسے بھی روزانہ ملنے کو کہتا تھا لیکن میں ڈرتی تھی اس لیے اسے ٹالتی رہی لیکن اب میرے زخم بھر چکے تھے اور میرا اندر دوبارہ مار کھانے کو بیتاب تھا۔ اس نے حسب معمول پچھلی واردات کی طرح چپکے سے مجھے گولیاں تھما دیں۔ جو میں نے بڑے طریقے سے گھر والوں کو پلا کر اسے فون پر آگاہ کر دیا اور اسے گھر کے قریب ہی کہیں رکنے کا بولا تاکہ جیسے ہی گھر والے سو جائیں وہ فوراً اندر آکر چٹنی بنانا شروع کرے۔ اور پھر ایسا ہی ہوا۔ اور روز روز ہونے لگا۔ یہاں تک کہ تین سال بڑی صفائی سے ہم نے کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہونے دی—تین سال، جن میں، میں نے اپنی ماں کی ممتا اور باپ کی عزت کو ہر رات نیند کی گولیوں کے حوالے کیا، تاکہ میں اپنی اس آگ کو ایندھن دے سکوں جو ایک شکاری نے میرے اندر لگائی تھی۔
لیکن میں یہ بات بھول گئی کہ میری کنواری جگہ کی دھجیاں اڑ چکی ہیں۔ ایک دن اچانک میں نے اسے آئینے میں دیکھا اور پھر مجھ پر حقیقت کھلی کہ یہ میں نے یہ کیا کیا اپنے ساتھ! وہ لمحہ جیسے آسمان سے بجلی گرنے کا لمحہ تھا۔ آئینے میں نظر آنے والا وہ وجود اب وہ معصوم لڑکی نہیں تھی جو تین سال پہلے تھی۔ وہاں صرف ایک اجڑی ہوئی بستی تھی، ایک ایسا جسم جس کی حرمت میں خود اپنے ہاتھوں نیلام کر چکی تھی۔ وہ “دھجیاں” صرف جسم کی نہیں تھیں، وہ میرے فخر، میری عزت اور میرے مستقبل کی تھیں۔ آئینے کے اس بے رحم عکس نے مجھے چیخ چیخ کر بتایا کہ میں نے ایک شکاری کی ہوس کی خاطر اپنی پوری زندگی کی قیمت لگا دی ہے۔پھر ایک دن میری ماہواری مقررہ دن نہیں ہوئی تو میں بہت پریشان ہوئی، انجانے خدشات نے جنم لیا۔ وہ خاموشی جو جسم کے اندر چھائی تھی، میرے لیے کسی قیامت کا پیش خیمہ محسوس ہو رہی تھی۔ مجھے لگا کہ میرے پیٹ میں کوئی نئی زندگی تو پیدا نہیں ہو گئی، مجھے ڈر لگنے لگا اور میں نے کاکے کو باہر کسی جگہ ملنے کو بولا—ایک ایسی پکار کے ساتھ جو کسی ڈوبتے ہوئے انسان کی ہوتی ہے۔
وہ جب مجھے ملا تو میں نے اس سے قریب جا کر اپنی طرف سے بہت درد ناک اور راز بھرے لہجے میں کہا کہ، “کاکے، مجھے ماہواری نہیں ہوئی”۔ میرا دل حلق میں آ رہا تھا، میں چاہتی تھی کہ وہ میرا ہاتھ تھام لے، مجھے تسلی دے کہ وہ میرے ساتھ ہے، اور مجھے اس بھنور سے نکال لے گا جہاں اس نے مجھے خود دھکیلا تھا۔ مجھے لگتا تھا کہ وہ بھی میری طرح پریشان ہو گا۔ میں نے اس کی آنکھوں میں وہی فکر تلاش کرنی چاہی جو ایک محافظ کی ہوتی ہے۔
لیکن اس نے ٹکا سا جواب دیا کہ “مجھے کیا کہتی ہو۔ نہیں آرہا حیض تو میں کیا کروں؟” وہ الفاظ نہیں تھے، بلکہ برف کے سرد ٹکڑے تھے جو میری تپتی ہوئی روح پر گرے اور مجھے سن کر دیا گیا۔ اس کے لہجے میں نہ کوئی ملال تھا، نہ کوئی ذمہ داری، اور نہ ہی وہ پرانا “پیار” جس کا ناٹک اس نے برسوں رچایا تھا۔ میں تو اسے دیکھتی رہ گئی کہ جس کو بے لوث جسم دیا وہ یوں مجھے بول دے گا۔ وہ لمحہ میری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی تھا؛ میں نے اپنی پوری ہستی، اپنا گھر، اپنے والدین کی عزت اور اپنا کنوارہ پن اس شخص کے نام کر دیا تھا جس کے نزدیک میری زندگی کی یہ سب سے بڑی آزمائش محض میرا اپنا مسئلہ تھا۔ میں اس کے سامنے ایک بار پھر اکیلی کھڑی تھی، مگر اس بار میرے پاس نہ معصومیت تھی اور نہ ہی کوئی جائے پناہ۔
پھر اس کو میں نے کہا کہ خبردار اگر دوبارہ مجھ سے ملنے کی کوشش کی، تم کتنے خود غرض نکلو گے مجھے اندازہ نہیں تھا۔ یہ وہ آخری احتجاج تھا جو ایک ہاری ہوئی لڑکی اپنے شکاری کے سامنے کر سکتی تھی۔ میرے ان الفاظ میں غصہ کم اور وہ کرب زیادہ تھا جو کسی اپنے کے بدل جانے پر ہوتا ہے۔ میں نے جس شخص کے لیے اپنی حیا کی چادر نیلام کی، اس نے ایک ہی لمحے میں مجھے “اجنبی” کر دیا تھا۔ میری آنکھوں میں اب اس کے لیے وہ پرانا تجسس نہیں، بلکہ ایک ایسی نفرت ابھر رہی تھی جو اپنی ہی نادانی پر پیدا ہوتی ہے۔
میں روتی اور اندر ہی اندر آنسو بہاتی ٹوٹے دل کے ساتھ گھر آگئی۔ وہ واپسی کا راستہ میری زندگی کا طویل ترین راستہ تھا۔ ہر قدم پر مجھے اپنے باپ کی دستار اور اپنی ماں کی وہ خاموش دعائیں یاد آ رہی تھیں جنہیں میں نے تین سال تک نیند کی گولیوں کے حوالے کیے رکھا تھا۔ گھر کی وہی دیواریں جو کبھی میرے گناہوں کی گواہ تھیں، اب مجھے طعنے دے رہی تھیں۔ وہ آنسو جو میرے گالوں پر بہہ رہے تھے، وہ صرف اس خوف کے نہیں تھے کہ اگر میں حاملہ ہو گئی تو کیا ہو گا، بلکہ وہ اس اذیت کے تھے کہ میں نے ایک بے وفا اور خود غرض انسان کے لیے اپنی پوری کائنات لٹا دی تھی۔ میں گھر تو آ گئی تھی، مگر میرا دل وہیں اس ویرانے میں مر چکا تھا جہاں پہلی بار میں نے اس کا ہاتھ تھاما تھا۔پھر کچھ عرصے کے لیے میں نے اس سے ملنا چھوڑ دیا۔ میں نے سوچا کہ شاید اس کی بے رخی اور اس کے وہ پتھر جیسے الفاظ مجھے سنبھلنے کا حوصلہ دیں گے۔ میں نے ان گلیوں اور اس ویران گھر کے خیال کو ذہن سے جھٹکنے کی کوشش کی جہاں میری معصومیت کی چادر تارتار ہوئی تھی۔ میں اپنے گھر والوں کی نظروں میں دوبارہ وہی پرانی بیٹی بننے کی اداکاری کرنے لگی، تاکہ اپنے ضمیر کو دھوکہ دے سکوں۔
لیکن یہ سب عارضی ثابت ہوا۔ وہ آگ جو تین سال تک میرے وجود کو جلاتی رہی تھی، وہ اتنی جلدی بجھنے والی نہیں تھی۔ وہ “ضرورت” جسے اس نے میری فطرت بنا دیا تھا، اب میرے اعصاب پر سوار ہو کر مجھے دوبارہ اسی مقتل کی طرف ہانکنے لگی۔ میرا وہ غصہ، وہ احتجاج اور وہ “خبردار” کہنے کا حوصلہ آہستہ آہستہ اس تنہائی کے سامنے گھٹنے ٹیکنے لگا۔ مجھے احساس ہوا کہ میں اس شخص کی نہیں، بلکہ اس گناہ کی غلام بن چکی ہوں جس کا راستہ اس نے مجھے دکھایا تھا۔ وہ عارضی کنارہ کشی دراصل ایک طوفان سے پہلے کا سکون تھا، جس کے بعد میں نے دوبارہ اسی تباہی کی طرف لوٹنا تھا جس نے میری زندگی کی ہر روشنی چھین لی تھی۔
اس نے کچھ عرصے بعد میرے گرد جال بننا شروع کر دیا۔ اس نے بھانپ لیا تھا کہ میری ناراضگی اور میرا غصہ محض ایک عارضی لہر تھی، جبکہ وہ “ضرورت” اور وہ “خلا” مستقل تھا جو اس نے پیدا کیا تھا۔ اس نے براہِ راست سامنے آنے کے بجائے دوبارہ وہی میٹھی باتیں، وہی پرانی یادیں اور شاید وہی جھوٹے پچھتاوے میرے سامنے بچھانا شروع کر دیے تاکہ میرے دل کی دیواریں ایک بار پھر مسمار ہو جائیں۔
وہ جال جو اس بار بنا جا رہا تھا، اس میں صرف جسمانی کشش نہیں تھی، بلکہ اب اس میں میرا “خوف” اور “ماضی” بھی شامل تھا۔ وہ جانتا تھا کہ میں اب اس مقام پر ہوں جہاں سے واپسی کا راستہ صرف اس کے قدموں سے ہو کر گزرتا ہے۔ وہ آہستہ آہستہ میرے اعصاب پر دوبارہ قابض ہونے لگا، اور میں، جو آزادی کا خواب دیکھ رہی تھی، ایک بار پھر خود کو اسی شکاری کے سائے میں محسوس کرنے لگی۔ مجھے معلوم تھا کہ یہ راستہ مجھے مزید بربادی کی طرف لے جائے گا، مگر اس کے بنے ہوئے جال کی تہیں اتنی ریشمی تھیں کہ میں نے دوبارہ ان میں الجھنے کو ہی اپنی تقدیر سمجھ لیا۔اس نے اب ہمارے محلے کے ایک لڑکے کا سہارا لیا۔ وہ لڑکا جدھر مجھے دیکھتا میرے پاس آجاتا اور کاکے سے ملنے کا کہتا۔ میں پہلے تو دبے دبے الفاظ میں انکار کرتی رہی لیکن آخر کار آہستہ آہستہ میرا دل بھی پگھلنے لگا۔ وہ انکار دراصل ایک ایسی دیوار تھی جو اندر سے کھوکھلی ہو رہی تھی۔ اسی دوران ہمارا دو مہینے کا عمرے کے لیے ویزا بھی لگ گیا تھا اور ہم کچھ دنوں بعد سعودیہ روانہ ہو گئے۔ میں نے وہاں کے سکون میں خود کو ڈھونڈنے کی کوشش کی، دعائیں مانگیں کہ کاش یہ باب ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے، مگر تقدیر کے کچھ فیصلے ابھی باقی تھے۔
وہاں سے واپسی پر میں روز مرہ کے کاموں میں مصروف ہو گئی۔ ایک دن وہی محلے کا لڑکا بازار جاتے میرے سامنے آجاتا ہے اور مجھے روک کر کاکے کا پیغام دیتا ہے کہ “کاکا آپ سے ملنا چاہتا ہے”۔ میں کچھ سوچ کر ملنے کے لیے ہاں کر دیتی ہوں۔ وہ “ہاں” دراصل میری زندگی کی تمام سابقہ محنت پر پانی پھیر دینے کے مترادف تھی۔ یہیں مجھ سے اپنی زندگی کی سنگین غلطی ہو جاتی ہے جو آگے جا کر میری بربادی، میری عزت کی نیلامی اور میری شخصیت کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیتی ہے۔
مشہور کہاوت ہے: “آزمائے کو آزمائے، بے وقوف کہلائے”۔ بس میں پھر سے بے وقوف بن گئی جب پہلی بار مجھے تجربہ ہو چکا تھا کہ یہ آدمی میری عزت کا خیر خواہ نہیں اور پہلے بھی میرے کنوارے پن کو تار تار کر چکا ہے۔ میری روح جانتی تھی کہ وہ زہر ہے، مگر میرے قدم جیسے کسی جادو کے زیرِ اثر اسی کی طرف اٹھ رہے تھے۔ میں کسی سے شادی نہیں کر سکتی تھی کیونکہ ہمارے معاشرے میں کیا بلکہ کسی بھی مہذب معاشرے میں غیر شادی شدہ لڑکی کا نکاح سے پہلے ناجائز تعلق اعتماد کو تباہ کر کے رکھ دیتا ہے۔ میں خود کو ایک ایسی قیدی محسوس کر رہی تھی جس کی رہائی کا کوئی راستہ نہ تھا، کیونکہ میں اپنی سب سے بڑی گواہی خود بن چکی تھی۔ پھر یہی شخص تو تھا جو میرا اصلی دشمن تھا—ایک ایسا دشمن جسے میں نے اپنے گھر کی چابیاں، اپنے وجود کی حرمت اور اپنا پورا مستقبل تھما دیا تھا، یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ مجھے ایک بار پھر رسوائی کی اس دہلیز پر لے جائے گا جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہ ہوگا۔
وہ مجھے ایک باغ میں ملا اور اس نے اس بار نہایت شریفانہ طرز عمل اپنایا۔ اس نے کہا کہ دیکھو میں تم سے دوبارہ دوستی کرنا چاہتا ہوں اور تم سے ملتے رہنا چاہتا ہوں میں اپنے گزشتہ کیے کی معافی مانگتا ہوں۔ اس کی زبان سے نکلے ہوئے یہ لفظ شہد کی طرح میٹھے تھے، مگر ان کے پیچھے وہی پرانا زہر چھپا تھا۔ میں نے اسے کہا چلو ٹھیک ہے میں تمہاری دوست بن جاتی ہوں لیکن مجھ سے جسمانی تعلق مت رکھنا۔ اس نے اثبات میں جواب دیا۔ میں نے سوچا کہ شاید میں نے حدود قائم کر لی ہیں، مگر میں بھول گئی تھی کہ ایک درندے سے دوستی کی شرطیں نہیں منوائی جا سکتیں۔
کچھ دن تو وہ شریف بننے کی اداکاری کرتا رہا لیکن ایک دن اس نے موقع پا کر میرے سینے کے ابھاروں کو چھو لیا اور کہا کہ کیا تم اتنا حق بھی نہیں دو گی کہ میں ان ابھاروں کو ہاتھ لگا سکوں۔ میں نے کہا ہاں لگا لو لیکن صرف ہاتھ لگانا۔ دراصل میں خود ہی بجھی ہوئی چنگاری کو ہوا دے رہی تھی۔ وہ چنگاری جو تین سال کے گناہ سے لگی تھی، ایک بار پھر شعلہ بننے کو بے تاب تھی۔ اس نے ہاتھ لگایا اور لگاتا رہا پھر اس نے کپڑوں کے اندر ہاتھ لگانے کا کہا میں نے نہیں روکا حالانکہ میں انجام بخوبی جانتی تھی پر مجھے بھی تھوڑا لطف آنے لگا تھا۔ وہ مٹھاس ایک بار پھر میرے اعصاب کو مفلوج کر رہی تھی۔
اس نے اندر ہاتھ ڈال کر ابھاروں کی چابیاں گھمانا شروع کر دیں۔ اور میں مدہوش ہونے لگی اب اس کا شیطانی کھیل دوبارہ سے شروع ہو چکا تھا اس نے پھر سے میرے مردہ جذبات کو بہت شدت سے جگا دیا تھا۔ میں ایک بار پھر وہی کٹھ پتلی بن چکی تھی جس کی ڈوریاں اس کے ہاتھ میں تھیں۔ لیکن اس بار وہ ہوش میں تھا؛ اس نے اپنے سیل فون کی ریکارڈنگ آن کر رکھی تھی اور میں آنے والی بدنامی سے بے خبر آنکھیں موندے سسکاریاں مار رہی تھی۔ وہ سسکاریاں دراصل میری حرمت کا نوحہ تھیں، جو اب اس کے فون میں ہمیشہ کے لیے قید ہو رہی تھیں۔ میں جسے “محبت یا دوستی” کا حق سمجھ رہی تھی، وہ اس کے لیے ایک “ہتھیار” بن رہا تھا جس کے ذریعے اس نے مجھے، میرے خاندان کو اور میرے نام پر موجود اس جائیداد کو ہمیشہ کے لیے اپنا غلام بنانا تھا۔
اب میں نے اس کو اپنا آپ سونپ دیا۔ وہ تمام وعدے، وہ تمام حدیں جو میں نے “صرف دوستی” کے نام پر قائم کی تھیں، وہ اس کے لمس اور میری اپنی مدہوشی کی نذر ہو گئیں۔ میں نے اپنا اختیار، اپنی مرضی اور اپنی عزت کی رہی سہی ردا بھی اس کے قدموں میں ڈھیر کر دی۔
پہلے میں نوجوان تھی تو اب بھرپور جوبن پر پہنچ چکی تھی۔ وہ شباب جو کسی کے آنچل کا مان ہونا چاہیے تھا، وہ اب ایک ایسے شخص کی تسکین کا سامان تھا جو پسِ پردہ میری رسوائی کی دستاویز تیار کر رہا تھا۔ میرا یہ نکھرا ہوا روپ، میری یہ بھرپور جوانی، دراصل اس کے لیے ایک ایسی فصل تھی جسے وہ اب اپنی مرضی سے کاٹ رہا تھا۔ میں اپنے جوبن کی اس بلندی پر کھڑی ہو کر بھی کتنی پست تھی کہ میں یہ نہ دیکھ سکی کہ میری ہر سانس، میری ہر سسکی اور میرا ہر انگ اب اس کی ریکارڈنگ میں ایک قیدی بن چکا ہے۔ میں نے اپنا آپ اسے نہیں سونپا تھا، بلکہ میں نے اپنا مستقبل اس کے ہاتھوں میں قتل کروا دیا تھا۔
اس بار اس نے پھر وہی منصوبہ بنایا۔ وہی “ایٹیوان” کی گولیاں، وہی چائے کا کپ اور وہی رات کا سناٹا۔ اس نے ایک بار پھر مجھ سے تقاضا کیا کہ میں اپنے گھر والوں کے حواس چھین لوں تاکہ وہ میرے جوبن کی فصل کاٹ سکے۔ مگر اس بار ایک فرق تھا؛ پہلے میں خوفزدہ تھی، اب میں اس کی خواہش کی تکمیل میں اس کی برابر کی شریک بن چکی تھی۔
اس نے وہی منصوبہ بنایا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ میں اب اس کے ریکارڈڈ جال میں پھنس چکی ہوں۔ وہ جانتا تھا کہ میں اب اسے انکار کرنے کی سکت کھو چکی ہوں۔ اس نے مجھے دوبارہ وہی گولیاں تھمائیں اور میں نے خاموشی سے انہیں قبول کر لیا، جیسے یہ گولیاں میرے گھر والوں کے لیے نہیں بلکہ میرے اپنے ضمیر کو سلانے کے لیے تھیں۔ وہی منصوبہ، وہی طریقہ، مگر اس بار انجام پہلے سے کہیں زیادہ عبرتناک ہونے والا تھا کیونکہ اب اس کے ہاتھ میں صرف میرا جسم نہیں، بلکہ میرا وہ “راز” بھی تھا جو اس نے اپنے فون میں محفوظ کر رکھا تھا۔ میں ایک بار پھر اپنے ہی ہاتھوں اپنی چھت کے نیچے اس سانپ کو راستہ دینے والی تھی جو اب مجھے ڈسنے کے لیے پوری طرح تیار تھا۔
میں نے پھر وہی کیا۔ رات کے کھانے میں اپنے ہی گھر والوں کو گولیاں کھلا کر بے ہوش کرنے کے اس عاشقِ نامراد کو فون کر کے بتایا، اس کے لیے دروازہ کھول دیا۔ میں نے سوچا وہ اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر چپکے سے اندر آئے گا، مجھ سے کھیلے گا اور جس خاموشی سے آئے گا اسی طرح واپس چلا جائے گا۔ میرا گمان کتنا معصوم تھا اور اس کی حقیقت کتنی بھیانک۔ لیکن میں اس بات سے بالکل انجان تھی کہ اس بار اس نے مجھے مغلوب کرنے کی پوری تیاری کی ہوئی ہے۔ میرے گھر کے اندر جانے سے پہلے اس نے ہمارے تمام محلے والوں کو جو اس کے دوست تھے ان سب کو جمع کیا اور ان سے کہا کہ میں اس کے گھر جا رہا ہوں، نہ صرف اس کی عزت اتاروں گا بلکہ اس دوران اس کی مزیدار سسکاریاں بھی ریکارڈ کر کے آپ کو سناؤں گا۔ وہ شخص جو کبھی میری تنہائی کا ہمراز تھا، اب میری بربادی کا اشتہار بن چکا تھا۔
پھر کیا تھا، اس نے دروازے کو دھکا دیا، اندر داخل ہوتے مڑ کر اپنے دوستوں پر ایک فاتحانہ نظر ڈالی اور میری عزت کی دھجیاں اڑانے میرے اوپر سوار ہو گیا۔ اسے میری کوئی پرواہ نہیں تھی، اسے صرف اس “سکور” اور اس ریکارڈنگ کی فکر تھی جو باہر بیٹھے مجمعے کو سنانی تھی۔ میں اس کے اس بہیمانہ سلوک کی شریکِ کار بن گئی اور قربت کے نشے میں جو بھی کہا اس نے سب اپنے موبائل میں محفوظ کر لیا۔ وہ لمحہ میری ابدی ذلت کا لمحہ تھا، جہاں میں خود اپنے ہی ہاتھوں اپنی قبر کھود رہی تھی۔
جاتے ہوئے اس نے ایک اور حرکت کی؛ اس نے میرے گلے میں موجود سونے کی چین اتار کر اسے دینے کو کہا۔ میں پہلے تو کافی حیران ہوئی لیکن آخر اس کی بات مان کر اپنی سونے کی نہایت قیمتی چین اسے اتار کر تھما دی جسے اس نے بعد میں جوئے میں اڑا دی۔ وہ چین دراصل میرے وقار کی آخری نشانی تھی جو میں نے اسے دے دی۔ اس طرح وہ روز فون پر باتیں بھی ریکارڈ کرتا اور اس دوران وہ مزید مواد اکٹھا کرنے کے لیے میرے ہی محلے کے لوگوں کے بیچ بیٹھ کر بہت بے ہودہ گفتگو کرتا اور میرے جوابات کو نہ صرف انہیں سناتا بلکہ ریکارڈ بھی کرتا۔
جب میں گھر سے باہر ضروری کام یا کچھ سودا وغیرہ لینے جاتی تو محلے کی ہر آنکھ مجھے ایسے گھورتی جیسے کھا جائے گی۔ مجھے ان کی نظریں عجیب سی لگتیں لیکن میں انہیں اپنا وہم سمجھ کر زیادہ سوچ بچار نہیں کرتی تھی۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ وہ نظریں “وہم” نہیں بلکہ وہ گواہی تھیں کہ پورا محلہ میرے ان کمروں کی باتوں سے واقف ہو چکا ہے جنہیں میں “راز” سمجھ کر سینے سے لگائے بیٹھی تھی۔ میں ایک ایسے تماشے کا مرکز بن چکی تھی جس کا ڈائریکٹر وہی “کاکا” تھا جس کے لیے میں نے اپنے ماں باپ کے سکون کا سودا کیا تھا۔پھر اس نے میری سہیلی کو اس کی خواہش پوری نہ کرنے کی پاداش میں بدنام کر دیا۔ اور اس کی ریکارڈنگ اس کے شوہر کو سنا دی۔ وہ درندہ جس کی ہوس کی کوئی حد نہیں تھی، اس نے اس عورت کا گھر بھی اجاڑ دیا جس نے اسے مجھ تک پہنچنے کا راستہ دکھایا تھا۔ میری سہیلی یہ بات برداشت نہ کر سکی اور مجھے بھی کاکے کی اصلیت سے روشناس کر دیا۔ مجھے یقین نہیں آ رہا تھا۔ میرا ذہن ماننے کو تیار نہیں تھا کہ کوئی انسان اس قدر گر سکتا ہے کہ جس کے ساتھ وقت گزارے، اسی کی جڑیں کاٹنا شروع کر دے۔
اسی نے پھر مجھے شروع سے آخر تک ساری بات بتائی کہ کیسے پہلے دن سے تمہارے پیچھے پڑا ہے اور اب دوسری بار تمہاری ریکارڈنگ کر چکا ہے تاکہ تم انکار کرو تو یہ نشر کرے۔ وہ سچائی میرے کانوں میں پگھلے ہوئے سیسے کی طرح اتر رہی تھی۔ مجھے وہ تمام لمحے یاد آنے لگے جب میں آنکھیں موندے سسکاریاں بھرتی تھی اور وہ درندہ فون پر میری آبرو کی ریکارڈنگ کر رہا تھا۔ میری سہیلی کے انکشاف نے میرے سامنے اس کا وہ مکروہ چہرہ عیاں کر دیا جسے میں “عشق” سمجھ کر پوجتی رہی تھی۔ اس نے مجھے بتایا کہ میں اس کے لیے کوئی محبوبہ نہیں تھی، بلکہ ایک ایسا “اثاثہ” تھی جسے وہ بلیک میلنگ کے ذریعے عمر بھر کے لیے قید کرنا چاہتا تھا۔ اب مجھے پتا چلا کہ وہ محلے والوں کی نظریں کیوں ایسی تھیں، وہ ریکارڈنگز اور وہ باتیں ایک جال بن چکی تھیں جس میں، میں بری طرح پھنس چکی تھی۔ اب میرے پاس پیچھے مڑنے کا کوئی راستہ نہیں تھا اور آگے صرف کھائی تھی۔
اگلے ہی دن میں نے ہمت کر کے اس کو کہا کہ اب وہ مجھ سے نہ ملا کرے، آج سے اس کا میرا رستہ الگ الگ ہے۔ بس یہ سننا تھا کہ وہ آگ بگولہ ہو گیا، اس نے مجھے سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔ اور جیسے میرے پاؤں سے زمین نکل گئی، میرے مانو ہوش ہی اڑ گئے، اس کی باتیں سن کر میرے اوسان خطا ہو چکے تھے۔ لیکن اب کیا ہو سکتا تھا! وہ درندہ اب اپنے اصل روپ میں آ چکا تھا، اور میرے پاس اس کے شر سے بچنے کی کوئی ڈھال نہ تھی۔
آخر وہی ہوا جس کا ڈر تھا؛ اگلی صبح ایک سوزوکی کار ہمارے داخلی گیٹ کے پاس کھڑی تھی اور اس کے اسپیکر سے میری آواز میں گونج دار اور بلند سسکاریاں سنائی دے رہی تھیں۔ جس میں میں کاکے کو جسمانی لذتوں کے دوران جوش دلا رہی تھی، اسے زور زور سے کرنے کو کہہ رہی تھی اور نہایت بے شرم گفتگو کر رہی تھی۔ وہ آوازیں میرے سینے میں خنجر کی طرح اتر رہی تھیں۔ وہ جملے جو میں نے مدہوشی کے عالم میں کہے تھے، اب میرے خاندان کے لیے موت کا پیغام بن چکے تھے۔
یہ باتیں میرے گھر والوں نے سنیں، محلے والے اردگرد اکٹھے تھے۔ وہ روز ہمارے گھر سے گزرتا، اسی ٹیپ کو چلاتا اور کچھ دیر گاڑی روک کر سبھی محلے والوں کو سنا کر پھر گاڑی بھگا کر لے جاتا۔ ایسے کئی دن مجھ پر قیامت بن کر ٹوٹتے رہے۔ ہر دن ایک نئی موت تھی، ہر بار وہ اسپیکر میری روح کے پرخچے اڑاتا تھا۔ میں دعا کر رہی تھی کہ کاش میں یہ سب کرنے سے پہلے مر کیوں نہیں گئی۔ اس جگہ میرے والد کی کتنی عزت تھی، جو اب روز خاک میں اڑتی تھی۔ میں اپنے باپ کی جھکی ہوئی گردن اور ماں کی پھٹی پھٹی آنکھیں نہیں دیکھ پا رہی تھی۔ وہ گھر جو میرا قلعہ تھا، اب میرے لیے ایک ایسا زندان بن چکا تھا جہاں ہر طرف میری اپنی رسوائی کا شور تھا۔
آج بھی جب کہ اس بات کو کئی سال گزر چکے ہیں، میں اپنے بکھرے ہوئے دل و دماغ کو سمیٹ نہیں پائی۔ وقت گزر گیا، وہ کار چلی گئی، شاید وہ ریکارڈنگز بھی مٹ گئی ہوں گی، مگر میرے کانوں میں وہ سسکاریاں اور لوگوں کے وہ قہقہے آج بھی گونجتے ہیں۔ میں آج بھی اسی دہلیز پر کھڑی ہوں جہاں سے میں نے پہلی بار ایک غلط ہاتھ تھاما تھا، اور میرا بکھرا ہوا وجود ان کرچیوں کی طرح ہے جنہیں کوئی بھی مرہم دوبارہ نہیں جوڑ سکتا۔
