Giraft گرفت

Crime Story _ کراہم کی دنیا

ایم الیاس

مکمل ناول

views
0
Giraft by M Alyas crime story

مکمل ناول

مون ہوٹل کے ڈائننگ ہال میں کھا ناختم کرنے والا آخری جوڑ ا شانتی اور اس کے شوہر انیل داس تھے۔
ہوٹل کے منیجر نے داخلی دروازے پر پہلے ہی ہوٹل بند ہونے کی اطلاع دینے ولی تختی آویزاں کر دی تھی۔ اس ہوٹل میں صرف دو ملازم تھے۔ ایک ہوٹل کا منیجر اور دوسری اس کی بیوی۔ منیجر کی بیوی کھانا پکاتی تھی اور منیجر کھانا میزوں پر سرو کر دیتا تھا۔
اس ہوٹل میں بہت کم مسافر قیام کرنا پسند کرتے تھے۔ کمروں کی صفائی کے لئے دن کے وقت بڑھیا آتی تھی۔ شانتی اور انیل ہون ہوٹل کی چوتھی منزل پر ٹھہرے ہوئے تھے، جس وقت انہوں نے کھانا ختم کیا اس وقت ہوٹل کا منیجر اور اس کی بیوی ڈائٹنگ بال کی صفائی تقریباً مکمل کر چکے تھے۔
انیل داس دونوں پیروں سے معذور تھے اور وہ وہیل چیئر پر بیٹھے ہوئے تھے۔ شانتی نے آگے بڑھ کر لابی کا دروازہ کھولا اور اپنے شوہر کا انتظار کرنے لگی۔ وہ آہستہ آہستہ وہیل چیئرچلاتا ہوا دروازے کی طرف بڑھ رہا تھا۔ انیل داس عموماً اپنی بیوی کو وہیل چیئر دھکیلنے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اس طرح وہیل چیئر چلانے سے اچھی خاصی ورزش ہو جاتی ہے۔ انیل داس روزانہ سویرے قریب ترین جمنازیم میں ہاتھوں کے بل ورزش کیا کرتے تھے ۔ اس لئے نچلا دھڑبےکار ہونے کے باوجود ان کا اوپری جسم تندرست اور پرکشش تھا۔ وہ خوبصورت تھے اور اپنی عمر سے دس برس چھوٹے نظر آتے تھے۔ شانتی سارا کام اپنے ہاتھوں سے انجام دیتی تھی۔ وہ اکہرے بدن کی ایک پر کشش عورت تھی۔
انیل داس نے آگے بڑھ کر لفٹ کا دروازہ کھولا اور جب شانتی کو اطمینان ہو گیا کہ اس کا شوہر بحفاظت لفٹ میں داخل ہو گیا ہے تو اس نے چوتھی منزل کا بٹن دبادیا اور جب وہ اپنے کمرے میں داخل ہوئے تو انیل داس نے پائپ میں تمبا کو بھرا اور لائٹر کے لئے جیبیں ٹولنے لگے۔
جان من انہوں نے معذرت آمیز انداز میں کہا۔ ” میرا خیال ہے کہ میں اپنا لائٹر نیچے میز پر چھوڑ آیا ہوں۔“
اوہ میں لے کر آتی ہوں۔ شانتی کمرے سے باہر نکل گئی۔
جب وہ لفٹ سے نکل کر ڈائننگ ہال میں آئی تو میجر اور اس کی بیوی صفائی ختم کر کے جاچکے تھے۔ جس میز پر انہوں نے کھانا کھایا تھا وہ صاف پڑی تھی ۔ ہوٹل کا کچن ڈائننگ ہال سے ملحق تھا۔ شانتی نے کچن کا دروازہ کھولا اور جھانک کر اندر دیکھا۔ کچن میں ایک میز رکھی تھی، اس کے گرد تین افراد بیٹھے ہوئے تھے۔ میجر، اس کی بیوی اور ایک اجنبی آدمی۔ اسے شانتی نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اجنبی کی عمر چالیس برس کے لگ بھگ ہوگی۔ وہ دہرے جسم کا ایک دراز قد آدمی تھا۔ اس کے چہرے کے دائیں جانب آنکھ کے پاس سے جبڑے کے نچلے حصے تک زخم کا ایک لمبا سانشان تھا۔ اجنبی کی آنکھیں بے حد سر تھیں۔
میز پر ایک سوٹ کیس کھلا ہوا رکھاتھا اور اس باکس میں سے لال نوٹوں کی موٹی موٹی گڈیاں نکال کے تین حصو میں تقسیم کر رہاتھا۔ پور سوٹ کیس نوٹوں سے بھرا ہوا تھا۔
شانتی نے اپنی زندگی میں کبھی ایک جگہ اتنے سارے نوٹ نہیں دیکھے تھے۔ جیسے ہی اس نے دروازہ کھولا تو کئی آنکھیں اس پر مرکوز ہوگئیں۔ اجنبی نے پھرتی سے نوٹوں کی گڈیاں اٹھا کر دوبارہ سوٹ کیس میں ڈالیں، حالانکہ وہ تیسرا شخص اس کے لئے قطعا اجنبی تھا۔ اس نے فوراہی سوٹ کیس بند کر دیا۔ شانتی کا دل زور زور سے دھڑ کنے لگا۔ شانتی نے دوسرے لمحے اسے پہچان لیا تھا۔
ابھی تین روز پہلے اس نے اخبار میں اس شخص کا چہرہ دیکھا تھاجو پولیس کے مصور نے بچی کے بیان کی مددسے بنایا تھا۔ اخباروں میں دو اسکیچ اور شائع ہوئے تھے لیکن وہ دونوں اسکیچ واضح نہیں تھے۔ وہ اسکیچ اور اس کی بیوی سے ہلکی سی مشابہت رکھتے تھے۔ اگر شانتی نے اس وقت منیجر اور اس کی بیوی کو اس اجنبی کے ساتھ بیٹھا ہوانہ دیکھا ہوتا تو وہ کبھی ان دونوں اسکیچوں میں ان کی مطابقت نہیں ڈھونڈ سکتی تھی۔ چوں کہ دونوں اس اجنبی کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، اس لئے یہ ثابت ہوتا تھا کہ اس بچی کو اغوا کرنے والے مجرموں میں منیجر اور اس کی بیوی بھی شامل تھے۔
شانتی کوفورا احساس ہو گیا کہ وہ بہت غلط وقت پر کچن میں داخل ہوئی ہے۔ صاف ظاہر تھا کہ مجرم بچی کے اغوا سے ملنے والی دولاکھ کی رقم آپس میں بانٹ رہے تھے۔
اغوا ہونے والی بچی کی عمر چھ برس تھی۔ وہ ایک بڑے اور معروف صنعت کار کی بیٹی تھی۔ مجرموں نے لڑکی کے باپ سے دولاکھ روپے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس نے پولیس کو اطلاع دیئے بغیر یہ رقم ادا کردی تھی۔ مجرموں نے وعدے کے مطابق بچی کو چھوڑ دیا تھا۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ بچی کی کم عمری دیکھتے ہوئے مجرموں کو یقین تھا کہ وہ واپس جا کر ان کے حلیوں سے
آگاہ نہیں کر سکے گی۔ شاید اس لئے انہوں نے بچی کے سامنے اپنے چہرے چھپانے کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کی تھی لیکن ان کا خیال غلط ثابت ہوا۔
وہ بچی بلا کی ذہین تھی۔ وہ پولیس کو زیادہ معلومات فراہم نہیں کر سکی لیکن اس نے یہ ضرور بتا دیا کہ اسے ایک لمبے چوڑے تہہ خانے میں رکھا گیا تھا۔ اس نے خصوصاً مجرموں کے حلیے کافی تفصیل سے پولیس کو بتائے تھے۔ ان حلیوں کی مدد سے پولیس کے آرٹسٹ نے مجرموں کی خیالی تصویریں بنائی تھیں۔ یہ تصویریں شام کے اخبارات نے شائع کی تھیں۔
ہندوستان میں نابالغ بچوں کا اغوا زیادہ بھیانک جرم تصور کیا جاتا ہے۔ اس لئے مجرموں کو گرفتار کرنے کے لئے عوام اور اخبارات پولیس سے ہرممکن تعاون کرتے ہیں۔
شانتی نے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ اس نے سوٹ کیس اور نوٹ نہیں دیکھے ہیں۔ اس نے سوٹ کیس نظر انداز کرتے ہوئے منیجر کی طرف دیکھا۔ اس کا حلق خشک ہورہا تھا۔
میرے شوہر اپنا لائٹر میز پر بھول گئے تھے مسٹر رندھیر ! کیا آپ کو وہ لاکٹر ملا ہے؟”
منیجر رندھیر شانتی کو اس طرح دیکھ رہاتھا، جسے شیر پنجرے میں بند ہو جائے تو راہ فرار تلاش کرتا ہے۔ شانتی کے لہجے نے یہ امید پیدا کر دی تھی کہ اس نے نوٹوں کی گڈیاں نہیں دیکھیں،
اگر دیکھیں تو ان کی اہمیت نہیں سمجھ پائی۔ اس لئے میجر نے زبر دستی مسکرانے کی کوشش کرتے ہوئے اپنی جیب سے لائٹ نکالا اور بولا۔ جی ہاں مسز انیل داس … امید ہے یہ آپ کے شوہر کا لائٹر ھوگا منیجر شانتی کو لائٹر دینے کے لئے اٹھنے لگا۔ ٹھیک اسی وقت اجنبی نے غیر متوقع طور پر حیرت انگیز پھرتی کا مظاہرہ کیا، اس نے کرسی کھسکائی اور آگے بڑھ کر شانتی کو تیزی سے اندر گھسیٹنا اور اسے کچن کے درمیان کھڑا کر کے خود دروازے پر کھڑا ہو گیا تا کہ وہ وہاں سے فرار نہ ہو سکے۔
تم احمق ہو۔ رندھیر اجنبی میجر نے کہا۔ یہ عورت بڑی چالاک معلوم ہوتی ہے. مجھے یقین ہے کہ اس نے مجھے دیکھتے ہی پہچان لیا تھا۔ لعنت ہے اس تصویر اور لڑکی پر جس کو چھوڑ دیا تھا منیجر کی بیوی نے غصے سے اپنے شوہر کی طرف دیکھا۔ میں پہلے ہی کہہ رہی تھی کہ اس لڑکی کو چھوڑنا مناسب نہیں۔ وہ اتنی بھولی نہیں تھی جتنی نظر آتی تھی۔“
منیجر کی بیوی کے الفاظ سن کر شانتی کو زبر دست دینی دھچکا لگا۔ اس کے اس جملے سے صاف ظاہر تھا کہ وہ اس بچی کو رہا کرنے کے خلاف تھی اور اسے ہلاک کرنے کے حق میں تھی ۔ منیجر نے اپنی بیوی کو نظر انداز کرتے ہوئے شانتی کو دیکھا اور پھر اجنبی کی طرف دیکھ کر بولا ۔ اب کیا کیا جائے؟“
یہ کون ہے؟ اجنبی نے شانتی کو اوپر سے نیچے تک گھورتے ہوئے میجر سے پوچھا۔
یا اپنے شوہر کے ساتھ چوتھی منزل پر میں نمبر کمرے میں ٹھہری ہوئی ہے۔ دونوں کو یہاں آئے ہوئے صرف ایک ہفتہ ہوا ہے۔ اس کے شوہر مسٹر انیل داس گولڈن نائٹ کلب میں کسی قسم کا مظاہرہ کرتے ہوئے روزی کماتے ہیں۔“
خوب … اجنبی نے کلائی پر بندھی ہوئی گھڑی دیکھتے ہوئے کہا۔ دس بج چکے ہیں۔ آخر یہ لوگ ابھی تک یہاں کیوں موجود ہیں؟“
” آج پیر ہے… پیر کی رات کو گولڈن نائٹ کلب بندرہتا ہے۔ منیجر نے جواب دیا۔
اجنبی بہت غور سے شانتی کا جائزہ لینے لگا۔ کچھ دیر کمرے میں خاموشی طاری رہی۔
“مسٹر انیل داس کا نچلا دھڑ مفلوج ہے، لہذا وہ ہر وقت وہیل چیئر پر بیٹھے رہتے ہیں۔ منیجر نے خاموشی کا قفل توڑتے ہوئے کہا۔
یہ کس قسم کا مظاہرہ کرتا ہے؟“
شعبدے بازی … مسٹر انیل داس خیالات پڑھنے کے ماہر کی حیثیت سے مشہور ہیں۔ کسی زمانے میں جب سرکس کا رواج تھا اس میں وہ کرتب دکھاتے تھے۔“
اجنبی نے منیجر کی بیوی کو غور سے دیکھا۔ ” تم بتاؤ کرن ! اب کیا کیا جائے؟”
میں کیا بتاؤں ؟ کرن نے جواب دیا۔ لیکن میں ایک پیش گوئی کرسکتی ہوں کہ اگر ہم نے شانتی کو یہاں روکے رکھا تو اس کا شوہر جلد ہی نیچے فون کر کے اپنی بیوی کے متعلق دریافت کرے گا ۔ اسے معلوم ہے کہ یہ نیچے لائٹر لینے آئی تھی۔ اسے یہ جواب دیا کہ ہم نے اس کی بیوی کو نہیں دیکھا تو چوں کہ وہ اپانچ اور خود اپنی بیوی کو تلاش نہیں کر سکتا، اس لئے فوراً پولیس کو ٹیلی فون کر دے گا اور دس منٹ بعد ہوٹل کے چپے چپے پر پولیس موجود ہوگی۔”
اجنبی نے اثبات میں سر ہلایا اور کچھ سوچنے لگا۔ چند لحوں بعد بولا ۔ ” تم ٹھیک کہ رہی ہوں، گویا اب یہ ضروری ہو گیا ہے کہ ہم اس کے شوہر کو بھی اس معاملے میں شامل کر لیں۔“
نہیں ! شانتی نے جلدی سے کہا۔ ”میرے شوہر کو اس معاملے میں شامل مت کرو۔ میں وعدہ کرتی ہوں کہ اپنی زبان بند رکھوں گی۔“
اجنبی نے سرد نظروں سے شانتی کو گھورا۔ اس کی آنکھوں سے بے یقینی کے آثار جھلک رہے تھے۔
شاید تم یہ کہنا چاہتی ہو کہ اگر ہم تمہیں چھوڑ دیں تو تم اس کمرے سے باہر نکل کر پولیس کو فون کردوگی اور انہی اپنے شوہر کواس معاملے کی اطلاع دوگی کیوں؟“
شانتی نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ جاتی تھی کہ خواہ وہ کچھ بھی کہے یہ لوگ اسے کسی قیمت پر نہیں چھوڑیں گے۔ اس لئے اس نے اس قسم کی کوشش کرنے کا خیال ہی ترک کر دیا۔
اجنبی نے کوٹ کی اندرونی جیب سے ریوالور نکال کر شانتی کو نشانے پر رکھتے ہوئے بولا۔ امید ہے تم مجھے یہ چلانے پر مجبور نہیں کروگی رندھیراشانتی کو لائٹر دے دو۔ ہم تینوں اس کے ساتھ چل کے اس کے شوہر سے ملتے ہیں۔“
منیجر نے لائٹر شانتی کے حوالے کر دیا۔ جب وہ بیسمنٹ میں داخل ہورہے تھے تو کرن نے اجنبی سے کہا۔ جگدیش وعدہ کرو کہ تم ہوٹل میں کوئی غلط حرکت نہیں کرو گے؟“
شاید ہمیں کوئی غلط حرکت کرنے کی ضرورت پیش نہ آئے ۔ جگدیش نے جواب دیا۔ ” پہلے ہم انیل داس کو پیسوں سے رام کرنے کی کوشش کریں گے … اس کے بعد دیکھا جائے گا۔“
“تمہارا مطلب یہ ہے کہ کیا تم اسے بھی حصے دار بناؤ گے جگدیش ! کرن نے حیرت سے کہا۔
پورا حصے دار ہیں۔ جگدیش نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔ ” اسے صرف چند ہزار روپے دیں گے تا کہ یہ لوگ اپنی زبان بند رکھیں ۔راہ داری میں انہیں کسی نے نہیں دیکھا۔ منیجر رندھیر نے کمرے کا دروازہ اپنی چابی سے کھولا۔ وہ سب اندر داخل ہو گئے۔
انیل داس ٹی وی دیکھتے ہوئے مزے سے پائپ کے کش لے رہے تھے۔ انہیں کمرے میں شاید ماچس مل گئی تھی۔ انہوں نے گردن موڑ کر حیرت بھری نظروں سے اپنی بیوی شانتی کے ساتھ میجر اور اس کی بیوی کو دیکھا۔ ان کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ جگدیش نے دروازہ بند کیا اور شانتی نے آگے بڑھ کر ٹی وی آف کر دیا۔
خوش آمدید… مسٹر رندھیر انٹیل داس نے مسکراتے ہوئے کہا۔
پھر ان کی نظریں جگدیش کے چہرے پر پڑیں تو ان کی مسکراہٹ ایک دم رخصت ہو گئی۔ اپنی بیوی کی طرح وہ بھی جگدیش کو دیکھتے ہی پہچان گئے تھے۔ پھر فورا انہیں اپنی بیوی کے غیر معمولی طرز عمل کا بھی احساس ہوا۔ انہوں نے سوالیہ نظروں سے اپنی بیوی کی طرف دیکھا۔
تم نے ٹھیک پہچانا جان شانتی نے اپنے شوہر سے کہا۔ مسٹراور مسز رندھیر ہی مجرم ہیں جن کے اسکیچ اخباروں میں چھپے تھے۔
آپ مسٹر رندیر انیل داس نے شدید حیرت سے منیجر کو دیکھا۔ منیجر کا چہرہ ندامت سے سرخ ہو گیا۔
جہاں تک آپ کی بیوی کا تعلق ہے میں سمجھ سکتا ہوں کہ وہ آخر کیوں جرم کی طرف راغب ہوئی۔ انیل داس بولے میں بڑی صاف گوئی سے یہ کہوں گا کہ جب پہلی مرتبہ میں نے آپ کی بیوی کو دیکھا تھا تو ان کے متعلق میرا تاثر یہی تھا کہ یہ عورت دولت کی بھوکی ہے اور دولت کے حصول کے لئے کوئی بھی کام کر سکتی ہے لیکن آپ مسٹر دینر میر … آخر آپ ایسے جرم کی جانب مائل کیوں ہو گئے ؟“
منیجر رندھیر نے سر ہلاتے ہوئے جگدیش کی طرف دیکھا اور وضاحت کے انداز میں بولا ۔ جگدیش میری بیوی کا کزن ہے۔”
اوه نیل داس نے کہا۔ تو آپ کو خراب صحبت نے تباہ کیا۔ یہ کہ کر انہوں نے مڑکر جگدیش کی طرف دیکھا اور بولے۔ آپ کو شرم آنی چاہئے۔”
جگدیش نے چند سیکنڈ تک انیل داس کو خاموشی سے گھورتے ہوئے ان کی بیوی کو مخاطب کیا ۔ آپ کے شوہر تو اچھے خاصے کامیڈین ہیں۔ شریمتی .. میرا خیال تھا کہ یہ خیالات پڑھنے کے ماہر ہیں۔“ہاں لیکن اس میں شعبدے بازی کا زیادہ دخل ہوتا ہے، جس انداز میں ہم اپنا شو پیش کرتے ہیں اسے دیکھنے والے بہت پسند کرتے ہیں۔ شانتی نے آگے بڑھ کر اپنے شوہر کی جیب میں لائٹر ڈالتے ہوئے جواب دیا۔
اور تم ان لوگوں میں کیسے پھنس گئیں شاختی انیل داس نے اپنی بیوی سے پوچھا۔
بد قسمتی سے میں اس وقت ان کے پاس ملنے گئی ، جب یہ لوگ آپس میں رقم تقسیم کر رہے تھے۔ اتفاق سے جگدیش کے پاس ریوالور بھی ہے۔ شانتی نے جگدیش کی طرف دیکھتے ہوئے اپنے شوہر کو متنبہ کیا۔
خیر اگر اس کے پاس ریوالور نہ بھی ہوتب بھی یہ تنہا ہم دونوں سے آسانی سے نمٹ سکتا ہے۔ انیل داس نے پر سکون لہجے میں کہا۔ ”ویسے ان کے کیا ارادے ہیں ؟ کیا یہ ہمیں قتل کرنا چاہتے ہیں؟“
نہیں بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ ہماری خاموشی دولت کے عوض خریدنا چاہتے ہیں۔
انیل داس نے بغور اپنی بیوی کی طرف دیکھا۔ ان دونوں کی نظریں ایک سیکنڈ کے لئے ملیں۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ان دونوں میں نظروں کے ملاپ کے ذریعے خیالات کا تبادلہ ہورہا ہے۔ پھر انیل داس نے جگدیش کی طرف دیکھا اور بولا ۔ ” تمہارے خیال میں ہماری خاموشی کی مناسب قیمت کیا ہوسکتی ہے مسٹر جگدیش !”
ابھی میں نے اس مسئلے پر غور نہیں کیا ۔ جگدیش نے جواب دیا۔ اس کا انحصار تمہاری معاشی حالت پر ہے، ہم اپنی شعبدے بازی سے کتنا کما لیتے ہو؟“
بس گزر اوقات ہو جاتی ہے۔”
یقی … اگر تمہارے پاس معقول رقم ہوتی تو تم کبھی اس ہوٹل میں قیام نہ کرتے ۔ جگدیش نے کمرے پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہوئے کہا۔ “اگر بالفرض تمہیں چند ماہ تک کوئی کام نہ ملے تو تمہاری مالی حالت کیا ہوگی؟“
اکثر ایسا ہوتارہتا ہے۔ میں اس صورت میں معذوروں کی مدد کرنے والے ادارے سے الاؤنس لے کر گزارہ کرتا ہوں ۔ انیل داس نے خشک لہجے میں جواب دیا۔
اس سے یہ ثابت ہوا کہ تمہاری معاشی حالت بہت نازک ہے. میرے نزدیک ہر شخص کی ایک قیمت ہوتی ہے۔“
“تمہارا خیال درست بھی ہے اور غلط بھی نیل داس کہنے لگا۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ جس بچی کو اغوا کیا گیا تھا وہ زندہ سلامت اپنے والدین کے پاس موجود ہے۔ بچی کا باپ کروڑ پتی ہے، اس لئے اس نے آسانی سے دولاکھ کی رقم ادا کردی۔ دولاکھ روپے اس کے لئے کوئی خاص حقیقت نہیں رکھتے۔ ہاں اگر صورت حال اس کے برعکس ہوتی اور بچی کو قتل کر دیا جاتا تو میں ایک لمحے کے لئے تم لوگوں سے کسی قسم کی مفاہمت کے بارے میں غور نہ کرتا۔“
خیر مجھے خوشی ہے کہ تم ہم سے سمجھوتا کر کے اپنے ضمیر کے ہاتھوں تکلیف نہیں اٹھاؤ گے۔ اس لئے میں تمہاری قیمت جاننا چاہتا ہوں ۔“ جگدیش نے لمبا سانس لے کر کہا۔ لیکن اس سے پہلے میں ایک بات واضح کر دوں۔ میرے نزدیک اس مسئلے کا آسان حل یہ ہے کہ تم دونوں کو قتل کر دیا جائے ۔ مگر اس میں ذراسی قباحت ہے۔ قتل کے بعد دولاشیں ٹھکانے لگانا آسان کام نہیں ہو گا اور اس کے بعد ممکن ہے پولیس تمہاری تلاش میں یہاں بھی آئے۔ اس سے بھی نمٹنا پڑے گا۔ لہذا میں سوچ رہا ہوں کہ اگر تین چار ہزار کی رقم سےتمہارا منہ بند ہوسکتا ہے تو ان مصیبتوں میں پڑنے کی کیا ضرورت ہے؟“
انیل داس بڑی سجیدگی سے کچھ دیر غور کرتے رہے۔ پھر بولے ”تمہارا نقطہ نظر بہت معقول ہے جگدیش جس خوبصورتی سے تم نے حالات کا تجزیہ کیا ہے، اس کے پیش نظر میں مجبور ہو گیا ہوں کہ میں مباحثے سے کام نہ لوں۔ میری ٹانگیں دیکھ رہے ہو؟ یہ ایک حادثے کا نتیجہ ہیں۔ آٹھ برس پہلے میں ایک سرکس میں ملازم تھا۔ تب یہ حادثہ پیش آیا تھا۔ میری ٹانگیں اب بھی درست ہو سکتی ہیں لیکن اس کے لئے آٹھ ہزار روپے درکار ہیں، دو ہزار اور شامل کر لو۔ کیونکہ میں آپریشن کے کچھ عرصے تک کوئی کام نہیں کر سکوں گا۔ یہ رقم دس ہزار ہوئی۔
میرا خیال ہے کہ ہماری خاموشی کی یہ قیمت زیادہ نہیں ہے۔”
دس ہزار روپے ؟ جگدیش نے منیجر کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
قتل جیسا جرم کرنے سے بہتر ہے کہ دس ہزار کی رقم ادا کر دی جائے؟ منیجر نے اس کی نظروں کا مطلب سمجھتے ہوئے جواب دیا۔ یہ میرا ذاتی خیال ہے کرن سے بھی پوچھ لو… وہ کیا کہتی ہے؟”
کرن کو مارو گولی ۔ جگدیش نے کہا۔ “اگر وہ کوئی گڑ بڑ کرے تو اس کے دو چار دانت توڑ دینا، بلکہ یہ حرکت تو تمہیں برسوں پہلے کردینی چاہئے تھی۔ ہاں شریمتی شانتی ! آپ کا کیا خیال ہے اس سودے کے بارے میں “
”ہمارے سارے فیصلے میرے شوہر کرتے ہیں۔ شانتی نے جواب دیا۔
خوب جگدیش نے کہا۔ زندیر تم اور کرن نیچے جاؤ اور سوٹ کیس سے دس ہزار روپے نکال لاؤ۔ اگر کروہ بکواس کرے تو ایک گھونسا میری طرف سے فورا مار دینا۔“
کرن نے خونخوار نظروں سے جگدیش کی طرف دیکھا اور پیر پٹختی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی۔ اس کے پیچھے میجر بھی تھا۔
کمرے میں جگدیش ، شانتی اور انیل داس رہ گئے۔ تینوں خاموشی سے میجر کی واپسی کا انتظار کرنے لگے۔ دس منٹ گزر گئے جگدیش بے چینی سے کمرے میں ٹہلنے لگا۔
میرا خیال ہے کہ کرن ضرور کوئی بکواس کر رہی ہے، ورنہ رندھیر کواتنی دیر نہیں لگ سکتی تھی ۔ جگدیش نے بڑبڑاتے ہوئے کہا۔ “اگر رندھیر مزید پانچ منٹ تک نہ آیا تو مجھے نیچے جانا پڑے گا۔“
ڈونوں اس وقت مردہ ہوتے ۔ “
میرا خیال ہے کہ وہ اس بچی کو بھی قتل کرنے کے حق میں تھی ؟ شناختی
” بے شک جگدیش نے جواب دیا۔ کرن غلط مقام اور غلط وقت پر پیدا ھوی اسے تو جرمنی میں ہٹلر کے دور حکومت میں پیدا ہونا چاہئے تھا۔ میں خود بھی کوئی اچھا آدمی نہیں اس لے کوی بھی کام کرنا میرے لئے خطرناک ہوگی تو میں کسی تکلف کے بغیر تم دونوں کو ہلاک کر دیتا۔ اس صورت میں یہ اقدام قتل نہ کہلاتا۔ میں اپنے دفاع کے لئے سب کچھ کر سکتا ہوں۔“
ظاہر تھا کہ جگدیش اس جملے سے ان دونوں پر یہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ وہ ڈرپوک قسم کا آدمی نہیں کردے گا۔
” بے شک خود حفاظتی اقدام کی نوعیت دوسری ہوتی ہے۔ انیل داس نے کہا۔
اس کے علاوہ تم لوگوں کو دس ہزار روپے دینے میں میرا حصہ صرف تین ہزار تین سوار تینتیس روپے ہوگا۔ میں یہ معمولی ی رقم بچانے کے لئے آخر قتل جیسے جرم کا ارتکاب کیوں کروں؟
جب کہ میرے پاس چھیاسٹھ ہزار سے زیادہ رقم موجود ہے۔ کیوں نہ میں سوا تین ہزار دے کر اطمینان سے آزادی کی زندگی بسر کروں اور جو دوات میرے حصے میں آئی ہے اس سے لطف اٹھاؤں۔”
جگدیش تمہاری سوچ بے حد منطقی ہے۔ انیل داس نے کہا۔ یہ فیصلہ سب کے لئے بہتر ہوگا۔ اس کے علاوہ ہمیں قتل کرنا تمہارے لئے بے حد نقصان دہ ثابت ہوگا۔
کیونکہ پولیس قتل کا سراغ لگا کر تم لوگوں تک پہنچ سکتی ہے۔“
ہاں ایسا ہوسکتا ہے اور میں اس نکتے پر بھی غور کر چکا ہوں۔“
اس وقت منیجر رندھیر کمرے میں داخل ہوا۔ اس کے ہاتھ میں کاغذ کی ایک تھیلی تھی اور چہرے پر تازہ خراشوں کے نشانات تھے۔
مجھے کرن کو سبق دینا پڑا جگدیش اوہ مان نہیں رہی تھی۔ منیجر نے فخریہ لہجے میں کہا اور کاغذ کا تھیلا اس کے حوالے کر دیا۔
شادی کی پہلی ہی رات تمہیں کرن کو ایسا سبق دے دینا چاہئے تھا، وہ اسی سلوک کی مستحق ہے۔ جگدیش نے تیزی سے کہا۔ پھر اس نے لفافہ کھول کر نوٹوں کی گڈیاں نکالتے ہوئے ان کی گنتی کی۔ اس میں چھوٹے بڑے نوٹوں کی گڈیاں تھیں لیکن بڑے نوٹوں کی گڈیاں زیادہ تھیں۔ اس نے نوٹوں کی گڑیوں کو بغور معائنہ کرنے کے بعد دوبارہ تھیلی میں ڈال دیا۔ اس تھیلی میں ایک اور تھیلی تھی جس میں دس ہزار روپے رکھ کے وہ تھیلی اس نے انیل داس کی گود میں پھینک دی۔
نوٹ نئے اور اصلی ہیں۔ پھر بھی احتیاطاً آپ لوگ انہیں استعمال کرنے سے پہلے دو چار مہینے انتظار کر لیں۔ شاید بینک والوں نے ان کے نمبر اخبار میں شائع کر وا دیے ہوں۔“
ٹھیک ہے، جہاں آٹھ برس انتظار کیا ہے وہاں دو چار مہینے اور سہی۔ انیل داس بولے۔
کچھ دیر کمرے میں خاموشی طاری رہی۔ پھر منیجر نے جگدیش سے پوچھا۔ ”جگدیش اب تمہارا کیا ارادہ ہے؟ کیا سوچ رہے ہو؟“
میں کل صبح ہی اس شہر سے چلا جاؤں گا ۔ جگدیش نے جواب دیا۔ کیوں کہ اس تصویر کی اشاعت نے اس شہر میں میرا رہنا دو بھر کر دیا ہے۔“
چند لھوں کے بعد وہ دونوں انیل داس سے مصافحہ کر کے رخصت ہو گئے ۔ شانتی نے دروازہ بند کر دیا اور اپنے شوہر کے سامنے کھڑی ہوگئی۔ دونوں کی نظریں ملیں۔
” کیا تمہارے پاس ریز گاری ہے ؟ انیل داس نے چند سیکنڈ کے بعد سر گوشی میں پوچھا۔
شانتی نے اپنا پرس اٹھا کر ایک سکہ نکالا جو پانچ روپے کا تھا۔
ابھی ٹھہر جاؤ ممکن ہے۔ وہ دونوں باہر کھڑے ہوئے لفٹ کا انتظار کر رہے ہوں ۔ انیل داس نے دھیمے لہجے میں کہا۔
وہ جس ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے وہاں ہر کمرے میں ٹیلی فون کی سہولت موجود نہیں تھی۔ البتہ ہر منزل پردیوار کے ساتھ ایک ٹیلی فون لگا ہوا تھا۔ اس میں پانچ روپے کا سکہ ڈال کر ٹیلی فون کیا جا سکتا تھا۔ شانتی نے دس منٹ تک انتظار کیا، پھر بڑی احتیاط کے ساتھ تھوڑا سا دروازہ کھول کر راہداری میں نظر ڈالی۔ راہداری سنسان پڑی تھی۔
وہ کمرے سے باہر نکلی اور پھرتی سے راہداری عبور کر کے ہال کی جانب بڑھی۔ وہاں ٹیلی فون لگا ہوا تھا۔ ٹیلیفون کے قریب آگ بجھانے والا آلہ رکھا تھا اور آگ لگنے کی صورت میں جان بچانے کے لئے شیشے کے بکس میں ایک کلہاڑی لٹکی ہوئی تھی۔
شانتی نے سکہ سوراخ میں ڈال دیا اور زیرو ڈائل کیا۔
“ہیلو آپریٹر شانتی نے دھیمے لہجے میں کہا۔ “کسی قریبی پولیس اسٹیشن سے رابطہ قائم کرا دو۔“
آپر یٹ نے فورا عمل کیا اور۔ دوسری جانب تین مرتبہ گھنٹی بجنے کے بعد کسی نے ریسیور اٹھایا۔ پہلو پولیس ہیڈ کوارٹر میں سب اسپکٹر پر کاش آئند بول رہا ہوں ۔ ایک مردانہ آواز ابھری۔ سب انسپکٹر شانتی نے جلدی سے کہا۔ میں کلینک اغوا کیس کے مجرموں کا نام اور پتا جانتی ہوں۔ آپ فورا نوٹ کرلیں۔“
“آپ کون ہیں شریمتی جی؟ سب انسپکٹر نے تیز لہجے میں دریافت کیا۔
اس سے پہلے کہ شانتی کوئی جواب دیتی ایک ہاتھ نے پیچھے سے ٹیلی فون کا ہک دبا کر سلسلہ منقطع کر دیا اور دوسرے ہاتھ نے شانتی سے ریسیور چھین لیا۔
دوسرے ہی لمحے شانتی اور منیجر کی بیوی کرن آپس میں بلیوں کی طرح گتھم گتھا ہوگئیں۔ وہ بری طرح ایک دوسرے کو نوچ کھسوٹ رہی تھیں اور لاتیں مار رہی تھیں تھیٹروں نے ان کے چہرے سرخ کر دیے تھے۔
موقع پاتے ہی شانتی نے ایک مرتبہ خود کو کرن کی گرفت سے آزاد کر لیا اور تیزی کے ساتھ الٹے قدموں اپنے کمرے کی جانب بھاگنے لگی ۔ پھر ایک جگہ وہ کسی چیز سے ٹھوکر کھا کر بری طرح فرش پر گر پڑی۔ کرن نے موقع سے فائدہ اٹھایا۔ وہ بھاگتی ہوئی ٹیلیفون کے پاس گئی۔ اس نے شیشے کا بکس کھول کر اندر کلہاڑی نکالی اور اسے دونوں ہاتھوں سے سر سے بلند کر کے شانتی کی طرف لپکی شانتی چند لمحے دہشت زدہ نظروں سے کرن کو اپنی طرف آتا ہوا دیکھتی رہی۔ پھر وہ تیزی سے اپنے کمرے کی طرف بھاگی۔ خوف اور دہشت کی وجہ سے اس کی ٹانگوں میں بلا کی پھرتی آگئی تھی۔ وہ اتنا تیز بھاگنے کے بارے میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ جب وہ اپنے کمرے کے دروازے پر پہنچی تو کرن سے چھ فٹ کے فاصلے پر تھی۔ ان چند لھوں میں شانتی پھرتی سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی، اور دروازہ بند کر لیا۔
اس کی سانس بری طرح پھولی ہوئی تھی۔ وہ دروازے سے ٹیک لگا کر اپنا تنفس درست کرنے لگی۔ پھر اچانک اس نے دروازے میں چابی گھومنے کی آواز سنی۔ کرن ماسٹر چابی کی مدد سے دروازے کا قفل کھول رہی تھی۔ شانتی نے دہشت بھری نظروں سے دروازے کی طرف دیکھا۔ دروازے میں چھٹی نہیں تھی ، البتہ اندر کی طرف ایک کنڈی جھول رہی تھی ۔ شانتی نے پھرتی سے کنڈی لگادی۔ ایک لمحے کے بعد دروازہ کھلا لیکن کنڈی لگنے کے باعث دروازہ چند انچ سے زیادہ نہ کھل سکا۔ کرن دروازے سے منہ لگائے خونخوار نظروں سے شانتی کو دیکھ کر دانت پیس رہی تھی ۔ شانتی دروازے سے دور ہٹ گئی۔ اچانک کرن نے دروازہ بند کر دیا۔ خود کار قفل بند ہو گیا۔
” کیا ہو رہا ہے؟ انیل داس وہیل چیئر گھماتے ہوئے دروازے کے پاس آگئے۔
” جب میں فون کر رہی تھی تو کرن نے مجھے جکڑ لیا۔ شانتی نے جواب دیا۔ ” مجھے اس کی آمد کا پتا نہیں چل سکا۔ اس نے میرے ہاتھ سے ریسیور چھین کر سلسلہ منقطع کر دیا اور پھر مجھے ہلاک کرنے کے لئے کلہاڑی لے کر میرے پیچھے بھاگی۔
” کیا تم نے پولیس کو پیغام دے دیا ہے؟“
نہیں ۔ شانتی نے نفی میں سر ہلایا۔ اس کا موقع نہیں مل سکا۔ مجھے یقین ہے کہ کرن نے میری گفتگوسن لی تھی۔ اس لئے ہمیں فوراً کچھ نہ کچھ کرنا چاہئے۔ شانتی اگے بڑھ کر دروازہ کھولنے لگی۔
ا بھی نہیں انیل داس نے تنبیہ کی۔ ممکن ہے وہ باہر انتظار کر رہی ہوگی۔“
میں دروازہ نہیں کھول رہی۔ کنڈی تو لگی ہوئی ہے۔ میں ذرا اس دروازہ کھول کر دیکھ رہی ہوں کہ وہ کیا کر رہی ہے؟ شانتی نے ادھے کھلے دروازے سے باہر کی طرف دیکھا۔ منیجر کی بیوی ٹیلی فون استعمال کر رہی تھی۔
وہ ٹیلی فون کر رہی ہے۔ شانتی نے دروازہ بند کرتے ہوئے بتایا ۔ میرا خیال ہے کہ وہ جگدیش اور رندھیر کو نیچے سے اپنی مدد کے لئے بلا رہی ہے۔”
افسوس . انیل داس افسردگی سے بولے ” کاش ! کرن کے پاس پانچ روپے کا سکہ نہ ہوتا اوراسے ان لوگوں کو بلانے کے لئے نیچے جانا پڑتا۔ ایسی صورت میں تم موقع سے فائدہ اٹھا کر پولیس کو فون کرسکتی تھیں یا کسی اور کو اپنی مدد کے لئے بلاسکتی تھیں۔“
شانتی چندلمحوں تک غور کرتی رہی ۔ ممکن ہے کوئی مسافر ہمارے دروازے کے سامنے سے گزرے تو ہم اسے پکار کر مدد کے لئے بلا سکتے ہیں۔“
ہمیں یہاں ٹھہرے ہوئے ایک ہفتہ ہو چکا ہے۔ اس عرصے میں تم نے یہاں کتنے مسافروں کو آتے جاتے دیکھا ہے؟“
اس سوال نے شانتی کو مایوس کر دیا۔ یہ حقیقت تھی کہ وہ ہوٹل چھوٹا اور قدیم ہونے کے باعث آدھے سے زیادہ خالی تھا۔ بعض بوڑھے وہاں مستقل مقیم تھے، مگر وہ رات کو بہت جلد سو جایا کرتے تھے۔
اب کیا کیا جائے؟“ شانتی نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
“میرا خیال ہے کہ ہمیں سب سے پہلے کھڑکی سے باہر دیکھنا چاہئے ذرا اس کمرے کی کھڑکی تو کھولو “
شانتی نے کھڑکی کھولی اور باہر جھانک کر دیکھا۔ کھڑ کی ایک گلی میں کھلی تھی جو بالکل سنسان پڑی تھی۔ اس وقت رات کے گیارہ بج رہے تھے۔ وہ علاقہ اندھیرا ہوتے ہی سنسان ہو جاتا تھا۔ کیوں کہ اندھیرا ہوتے ہی وہاں لچوں لفنگوں کی حکمرانی شروع ہو جاتی تھی۔ اس کے علاوہ وہ پیر کی رات تھی، اس دن علاقے کے تمام گھٹیا شراب خانے بند ہوتے تھے۔ اس لئے وہاں اور بھی سناٹا تھا۔
شانتی نے کمرے کی کھڑکی بند کر کے خواب گاہ کی کھڑ کی کھولی۔ خواب گاہ کی کھڑ کی ایک بڑی شاہراہ پر کھتی تھی مگر نیچے سے ایک بھی راہ گیر نظرنہیں آیا، البتہ موٹریں اور اسکوٹر ز آتے جاتے نظر آ رہے تھے۔ باہر ہوا کافی تیز چل رہی تھی۔ اس لئے شانتی کسی گاڑی یا اسکوٹر والے کو چلا کر اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کرتی تو ناکام رہتی ۔ تیز ہوا کی بنا پر اس کی آواز چوتھی منزل سے نیچے نہیں پہنچ سکتی تھی۔ اس نے سڑک کی طرف سے مایوس ہو کر نچلی منزل پر دائیں بائیں کھڑکیوں کی طرف دیکھا۔ سخت سردی کے باعث تمام کھڑکیاں بند تھیں ۔ اگر وہ پوری آواز سے بھی چلاتی تو کسی کمرے میں آواز پہنچنے کی امید نہیں تھی ، اس نے مایوس ہو کر کھڑکی بند کردی۔
کیا ہماری دونوں سمتوں میں کمرے ہیں؟“ اس نے اپنے شوہر سے دریافت کیا۔
معلوم نہیں انیل داس نے جواب دیا۔ اگر تم اس امکان پر غور کر ہی ہو کہ پڑوسیوں کو متوجہ کرلوگی تو یہ خیال ترک کر دو۔ یہ ہوٹل پرانے زمانے کا بنا ہوا ہے۔ اس وقت بے حد ٹھوس اور موٹی دیوار میں تعمیر کرنے کا رواج تھا۔ کیا تم نے کبھی برابر کے کمرے سے کسی قسم کی آواز آتی ہوئی محسوس کی ہے؟“
نہیں شانتی نے یادداشت پر زور دینے کے بعد اقرار کیا۔
بس اب ایک ہی ترکیب ہے کہ کھڑ کی کھول کر راہ گیر کا انتظار کیا جائے اور جب کوئی شخص گزرے تو چلا کر اپنی طرف متوجہ کیا جائے؟“
شانتی کھڑ کی کھول کر باہر جھانکنے لگی۔ اس نے اچانک کمرے کا داخلی دروازہ کھلنے کی آواز سنی۔ کنڈی ملنے کی کھنکھناہٹ ہو رہی تھی۔ شانتی دوڑتی ہوئی خواب گاہ سے نکلی اور ڈرائنگ روم میں داخل ہوگئی۔ انیل داس اس کے پیچھے تھا۔ دروازہ چند انچ کھلا ہوا تھا، صرف لوہے کی کنڈی نے اسے پورا کھلنے سے روکے رکھا تھا۔ انیل داس نے ایک مضبوط ہاتھ دیکھا، جس میں نٹ بولٹ کاٹنے والا آلہ نظر آ رہا تھا۔
یہ لوگ کٹر سے کنڈی کاٹ رہے ہیں ۔ شانتی نے تشویش سے اپنے شوہر سے کہا۔
پھر اس نے پلٹ کر اپنے شوہر کی وہیل چیئر زور سے دھکیلی۔ وہیل چیئر پھسلتی ہوئی خواب گاہ میں داخل ہو گئی۔ شانتی خود بھی دوڑ کر خواب گاہ میں آگئی۔ اس نے خواب گاہ کا دروازہ بند کر دیا۔ خواب گاہ کے دروازے کا قفل بھی خود کار تھا، لیکن اس کا مقفل کرنے اور کھولنے کا نظام اندر کی طرف تھا۔ ایک چھوٹا سا بٹن اوپر نیچے کر کے تالا کھولا یا بند کیا جاسکتا تھا۔ اس دروازے کے خود کار قفل میں باہر یا اندر کی جانب چابی ڈالنے کا کوئی سوراخ نہیں تھا۔ یہ ایک پرانے طرز کا مضبوط تالا تھا۔
شانتی نے خواب گاہ میں رکھی ہوئی میز کھس کا کر دروازے کے آگے لگا دی۔ اس نے دروازہ پہلے ہی اندر کی طرف سے بٹن اونچا کر کے مقفل کر دیا تھا۔ پھر وہ حالات کی نئی کروٹ کا انتظار کرنے لگی۔
چند ھوں کے بعد کنڈی ٹوٹنے کی آواز آئی۔ پھر قدموں کی آہٹیں خواب گاہ کے دروازے پر آ کے رک گئیں۔ کسی نے پوری قوت سے کندھے کا زور لگا کر دروازہ توڑنے کی کوشش کی لیکن دروازہ بہت مضبوط تھا۔ پھر شانتی دروازے سے کان لگا کر باہر ہونے والی گفتگو سننے لگی ۔ کرن کہہ رہی تھی کہ دروازہ کلہاڑی سے توڑ دیا جائے ۔ جگدیش نے اس تجویز کی مخالفت کی اور اس کا کہنا تھا کہ دروازے پر کلہاڑی آزمانے سے بہت زیادہ شور ہوگا۔ ممکن ہے دوسرے مسافر شور سن کر معاملے کی تحقیق کے لئے آجائیں۔
باہر چند لمحے خاموشی طاری رہی ۔ پھر جگدیش نے اچانک منیجر کو یاد دلایا کہ اس کے گودام میں سوراخ کرنے کی ایک مشین اور بجلی سے چلنے والی ایک بہت بار یک آری ہے۔ کیوں نہ مشین کے ذریعے پہلے دروازے میں سوراخ کیا جائے۔ پھر آری کے ذریعے تالے کے چاروں طرف کی لکڑی کاٹ دی جائے۔ تالا باہر نکلتےہی دروازہ کھل جائے گا۔ کرن نے فورا اس
تجویز کی تائید کی۔ شانتی نے کسی کے واپس جانے کی چاپ سنی۔ منیجر مطلوبہ اوزار لینے گودام میں جارہا تھا۔
شانتی نے اپنے شوہر کو ان کا منصوبہ بتانے کے بعد پوچھا۔ اب کیا کیا جائے؟“
انیل داس خاموشی سے کچھ سوچتے رہے۔ شانتی نے کھڑکی سے جھانک کر نیچے دیکھا۔ سڑک اب بھی خالی تھی۔ دور دور تک کوئی راہگیر نظر نہیں آرہا تھا، البتہ گاڑیوں کی آمد ورفت جاری تھی۔
کوئی راہ گیر نظر نہیں آیا ؟ شانتی نے مایوسی سے پلٹ کر کہا۔ “تمہارے خیال میں ان لوگوں کو سوراخ کرتے اور تالا کاٹنے میں کتنی دیر لگے گی۔”
ندھیرا بھی نیچے گیا ہے اسے اوزار تلاش کرنے میں چند منٹ لگیں گے، پھر وہ اوپر آئے گا۔ دروازے کی لکڑی بہت مضبوط اور موٹی ہے۔ میرا خیال ہے کہ اس پورے کام میں بیس منٹ ضرور لگیں گے ؟ نیل داس نے حساب کرتے ہوئے جواب دیا۔
شانتی ایک مرتبہ پھر کھڑکی سے باہر جھانک کر دیکھنے لگی۔ انٹیل داس اپنی وہیل چیئر بالکل اس کے قریب لے آئے۔ شانتی نے پلٹ کر عجیب لہجے میں اپنے شوہر سے پوچھا۔ ” آپ کے خیال میں اس کھڑ کی اور سڑک کے درمیان کتنا فاصلہ ہوگا ؟
انیل داس نے کرسی کھڑکی کے قریب کی اور باہر جھانک کر نیچے دیکھا۔
ہر کمرے کی چھت دس فٹ اونچی ہے۔ انیل داس حساب لگاتے ہوئے کہنے لگے۔ اس طرح چلی تین منزلوں کی اونچائی میں فٹ ہوگئی۔ ان کے درمیان ایک ایک فٹ موٹی چھت بھی لگالو۔ تینتیس فٹ، گراؤنڈ فلو کا فرش سڑک سے کم از کم چارفٹ اونچا ہے۔ کل سینتیس فٹ ہوئے۔“
اور یہ کھڑ کی اس کمرے کے فرش سے تین فٹ اونچی ہے۔ یعنی کل چالیس فٹ ؟ شانتی نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
آخر تمہارا کیا ارادہ ہے؟ انیل داس نے حیرت سے اپنی بیوی کی طرف دیکھا۔
شانتی نے اپنے شوہر کا سوال نظر انداز کرتے ہوئے ایک بار پھر کھڑکی سے نیچے جھانک کر دیکھا۔
آپ وہ تار دیکھ رہے ہیں ؟ شانتی نے نیچے کی طرف اشارہ کیا۔ وہ سب سے نچلا تار جو بہت موٹا ہے۔ وہ انداز اسڑک سے کتنا اوپر ہوگا ؟“
انیل داس نے کرسی کے ہتھوں پر کہنیوں کے بل جھک کر نیچے دیکھا۔ انہیں سڑک کے موڑ پر ایک کھمبا نظر آیا۔ کھمبے پراوپر کی طرف دوبار یک تار کھنچے ہوئے تھے۔ ان سے چند فٹ نیچے تین چارتار اور گزر رہے تھے اور ان تاروں سے تقریباً چھ فٹ نیچے ایک خاصا موٹا تار جارہا تھا ، جس کا قطر آدھے انچ سے کم نظر نہیں آتا تھا۔ وہ کچھ دیر موٹے تار اور سڑک کے درمیان کا فاصلہ دیکھتے رہے۔ میرا خیال ہے کہ سڑک کا درمیانی فاصلہ پندرہ فٹ سے کم نہیں ہے؟“
اس کا مطلب یہ ہوا کہ موٹے تار اور اس کھڑکی کا درمیانی فاصلہ پچیس فٹ ہے ۔ شانتی نے کہا۔ ” کیا اس تار میں کرنٹ ہوگا !
نہیں ۔ انیل داس نے جواب دیا۔ یہ بجلی کے تار ہیں ہیں۔ ٹیلی فون کے تار ہیں مگر تمہارا ارادہ وہی ہے جو میں سمجھ رہا ہوں تو اس ارادے سے باز آ جاؤ ۔ ایسی کوشش خود کشی کے مترادف ہوگی۔ اگر تم یہ سوچ رہی ہو کہ یہاں سے چھلانگ لگا کر وہ موٹا تار پکڑ لوگی تو ممکن ہے تم اس تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاؤ لیکن اتنے اوپر سے چھلانگ لگانے پرتم تار پکڑو گی تو تمہارے ہاتھوں کو زبردست جھٹکا لگے گا اور وہ جھٹکا تم برداشت نہیں کر سکوگی تمہارے ہاتھوں سے تار چھوٹ جائے گا اور تم سیدھی سڑک پر جا گرو گی۔“
لیکن جب تم سرکس میں ملازم تھے اور اس قسم کی قلابازیاں کھا یا کرتے تھے تو میں تمہیں بڑے غور سے دیکھتی تھی تمہاری ایک ایک جنبش میرے ذہن میں محفوظ ہے۔ میرا خیال ہے کہ میں بڑی کامیابی سے تمہاری نقل کر لوں گی اور پھر مجھے تیر نابھی تو آتا ہے۔“
مگر میں کبھی اتنے فاصلے سے قلابازی نہیں کھاتاتھا۔ یہ واقعہ آٹھ برس پہلے کا ہے تم یقینا بہت ی باتیں بھول چکی ہوگی، نہ وہ مہارت ہے نہ تمہارے بدن میں پھرتی اور نہ تمہارے اندازے اتنے درست ہیں کہ یہاں سے چھلانگ لگا کر اس تارتک پہنچ سکو۔ یہ خیال ذہن سے نکال دو۔ تم دیکھ رہی ہو ایک مرتبہ میرا اندازہ غلط نکلا اور میں آٹھ برس سے وہیل چیئر پر بیٹھا ہوں۔ اگر تمہارا اندازہ غلط ثابت ہو گیا تو تمہاری ایک ہڈی بھی سلامت نہیں رہے گی ۔“
کوشش کرنے میں کیا حرج ہے؟ شانتی نے کہا۔ یہیں بیٹھے بیٹھے اپنے قتل کئے جانے کا انتظار کرنا کون سی دانش مندی ہے۔ کیوں نہ ایک کوشش کی جائے۔ اگر میں اس کوشش میں کامیاب ہوگئی تو ہم دونوں زندہ بچ جائیں گے۔ دوسری صورت میں زندہ بچنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔“
شانتی نے لمحے بھر کی دیر نہیں کی۔ اس نے فورا ہی الماری سے انیل داس کی جینز اور جرسی نکال کر پہنی۔ اتفاق سے یہ جوڑ سرکس کے زمانے کا تھا جو ابھی تک کسی وجہ سے رکھا ہوا تھا۔
وہ بولی ۔ شادی کے بعد سے عام غذا اورگھریلو کام کاج کے باعث میرا جسم ابھی تک متناسب اور چھریرا ہے، جس کے باعث یہ لباس قدرے ڈھیلا ہے لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑے
“آج سے پہلے تم نے کبھی چھلانگ نہیں لگائی۔ البتہ سوئمنگ پول میں جا کر تیرتی رہی ہو۔ کودنے اور نہانے میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ پاگل نہ بنو۔ اس طرح خود کشی کرنے سے کیا
اس طرح قتل ہونے سے بھی کیا فائدہ؟ شانتی نے تکرار کے انداز میں کہا۔ “اگر میں اپنی کوشش میں کامیاب ہوگئی، جس کی پچاس فیصد سے زیادہ امید ہے تو ہم دونوں بچ جائیں
گے، ورنہ دوسری صورت میں ہمارا زندہ رہنا ناممکنات میں سے ہے۔“
آری چلنے کی آواز نے دونوں کو چونکا دیا۔ بجلی سے چلنے والی وہ بار یک آری دروازے کو اس طرح کاٹ رہی تھی جس طرح چھری مکھن کی نکیہ کالتی ہے۔
شانتی فورا جھک کر جذباتی لہجے میں بولی۔ “گڈ بائی۔ میری جان ! مجھے یا درکھنا۔ میں نے ہمیشہ تم سے محبت کی ہے۔”
انیل داس کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے ۔ وہ اپنی بیوی کو کھڑکی کے دوسری طرف چھیجے پر تر تا ہوا دیکھنے لگے۔ چند ھوں کے بعد کسی نے ان کے عقب میں زور سے دھکا دے کر دروازہ کھول دیا۔ دروازے پر لگی ہوئی میز کھسک گئی۔ انیل داس نے اس طرف کوئی توجہ نہیں دی۔ وہ پرسکون انداز میں اپنی بیوی کو دیکھتے رہے جو چھجے پر کھڑی ہوئی تھی۔
خواب گاہ میں داخل ہونے والا پہلا شخص جگدیش تھا۔ وہ دوڑ کر اندر داخل ہوا تھا لیکن درمیان میں اچانک اس کے قدم رک گئے اور وہ منہ پھاڑ کے کھڑکی کی طرف دیکھنے لگا۔
دوسرے ہی لمحے منیجر اپنی بیوی کے ساتھ اندر داخل ہوا۔ وہ دونوں بھی دندناتے ہوئے اندر گھس آئے تھے لیکن جیسے ہی ان کی نظر کھڑکی پر پڑی ان کے قدم بھی رک گئے۔
شانتی کھڑکی کے باہر سفید چست لباس میں ملبوس کھڑی تھی۔ اس کا رخ سڑک کی طرف تھا۔ وہ اپنے دونوں ہاتھوں سے کھڑکی کی اوپری چوکھٹ پکڑے ہوئے تھی، نیچے چھلانگ لگانے سے قبل شانتی نے پلٹ کر تینوں مجرموں کی طرف دیکھا اور پھر مسکراتے ہوئے فضا میں چھلانگ لگادی۔
تینوں مجرموں نے بہ مشکل اپنی حیرت پر قابو پایا اور بجلی کی طرح کھڑکی کی طرف لپکے۔ شانتی کا بدن فضا میں کسی بگلے کی طرح ساکت نظر آیا۔ اس کی مرمریں کمر کمان کی طرح مڑی ہوئی تھی اور اس کے دونوں ہاتھ آگے کی طرف پھیلے ہوئے تھے، جیسے سوئمنگ پول میں چھلانگ لگا رہی ہو۔
موت سے پندرہ منٹ کے فاصلے پر شانتی کے ہاتھوں نے سب سے نچلا اور موٹا تار پکڑ لیا۔ نہایت تیزی سے نیچے کی طرف گرنے کی وجہ سے اس عمل میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔ اس کا بدن ایک جھٹکا کھا کر آسمان کی طرف بلند ہونے لگا اور اس کی ٹانگیں نوے ڈگری کے زاویے سے بالکل سیدھی آسمان کی طرف اٹھ گئیں۔ چندلمحوں تک اس کا بدن اسی طرح فضا میں ساکت رہا۔ پھر اس نے بڑی پھرتی سے ٹانگیں نیچے کیں اور اس موٹے تار پر بیٹھ گئی۔ اسنے چوتھی منزل کی کھڑکی کی طرف منہ اٹھا کر ہاتھ ہلایا۔ یہ عورت جگدیش نے خوف زدہ آواز میں کہا۔
پھر وہ کوٹ کی اندرونی جیب سے ریوالور نکال کر شانتی کا نشانہ لینے لگا۔ انیل داس جگدیش کے بالکل پیچھے تھے۔ انہوں نے وہیل چیئر کی پشت سے ٹک کر پوری قوت سے پیسے آگےکی طرف گھمائے۔ وہیل چیئر آگے بڑھ کر جگدیش کی پشت سے ٹکرائی۔ جگدیش کے منہ سے بے ساختہ ایک چیخ نکل گئی۔
اس کے ہاتھ سے ریوالور چھوٹ کر کھڑکی سے باہر گر گیا۔ اگر وہ فورا چوکھٹ نہ پکڑ لیتا تو سر کے بل خود بھی کھڑکی سے باہر گرتا۔ منیجر اور کرن نے فور اجگدیش کو سہارا دے کر پیچھے ہٹایا۔
جگدیش نے گھوم کر پوری قوت سے انیل داس کی طرف گھونسا گھمایا۔
انیل داس اس حملے کے لئے تیار تھے۔ پیسے انہوں نے بڑی تیزی سے پیچھے لگا دیے تھے۔ ان کی کرسی پھسلتی ہوئی خواب گاہ کے باہر ڈرائنگ روم میں آگئی۔
دیکھو دیکھو وہ کیا کر رہی ہے؟ منیجر رندھیر نے چلا کر کہا۔
جگدیش نے انیل داس کے تعاقب میں جانے کا ارادہ ملتوی کردیا اور کھڑکی کے قریب آکر نیچے دیکھنے لگا۔
شانتی موٹا تار دونوں ہاتھوں سے پکڑے ہوئے تھی۔ اس کا بدن فضا میں جھول رہا تھا۔ وہ ہاتھوں کی مدد سے آہستہ آہستہ کھمبے کی طرف بڑھ رہی تھی۔ کئی گاڑیاں چلتے چلتے سڑک پر کھڑی ہو گئیں اور لوگ گاڑیوں سے باہر نکل کر آسمان کی طرف سر اٹھائے حیرت بھری نظروں سے وہ منظر دیکھ رہے تھے اور گاڑیاں بھی رک رہی تھیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے شانتی کے نیچے اچھا خاصا ہجوم ہو گیا۔ شانتی آہستہ آہستہ کھبے کے پاس پہنچ گئی۔ اس نے تار چھوڑ کرکھمبا پکڑ لیا اور کھمبے سے پھسلتی ہوئی سڑک پر کھڑی ہوگئی۔
ٹھیک اسی وقت مخالف سمت سے پولیس کی ایک جیپ پوری رفتار کے ساتھ چلتی ہوئی آئی اور شانتی کے بالکل قریب آکر رک گئی۔ اندر سے دو پولیس والے چھلانگ لگا کے باہرکلے۔ پولیس کو دیکھتے ہی شانتی ان کی طرف بڑھی۔ جلدی جلدی انہیں کچھ بتانے لگی۔
یہ منظر دیکھ کر وہاں سے بھاگنے والا پہلا شخص جگدیش تھا۔ اس کے پیچھے کرن تھی اور سب سے آخر میں ہوٹل کا منیجر رندھیر انیل داس نے انہیں بھاگتے ہوئے دیکھ کر ان پر کوئی توجہ نہیں دی۔ انہیں بھاگتے ہوئے دیکھ کر پہلےہی اپنی کرسی راستے سے ہٹائی تھی۔ وہ تینوں کمان سے نکلے ہوئے تیروں کی طرح سنسناتے ہوئے ان کے قریب سے گزر گئے۔
ان لوگوں کا پکڑے جانا یقینی ہے۔ انیل داس نے سوچا ممکن ہے یہ ہوٹل سے فرار ہو جائیں لیکن چوں کہ اب ان کی شناخت ہو چکی ہے اس لئے شہر سے فرار نہیں ہوسکیں گے۔ پھران کے ذہن میں ایک خیال اور بھی آیا۔ ظاہر ہے ان کی گرفتاری کے بعد پولیس کو دو لاکھ کی رقم دستیاب ہو جائے گی یا اس رقم میں سے بیشتر حصہ مل جائے گا۔ یہ رقم اغوا کی جانے والی بچی کے بات کو واپس کر دی جائے۔ اس طرح انیل و اس کی رقم بھی اسے واپس ملنی چاہئے۔

سوچاتو اس نے بہت کچھ تھا لیکن سب سے زیادہ خوشی اسے اس بات کی تھی کہ وہ اس اکی بیوی دونوں ہی نا صرف دشمن کی چال سے محفوظ رے بلکہ اب ارام کی زندگی گزارں گے
ختم شد

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments
error: Content is protected !!
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x