Kangri ۔ کنجری

بولڈ ، رومانیٹک

مصنف سید عاطف کاظمی

قسط وار ناول

views
0
مصنف سید عاطف کاظمی

قسط_1

کالے ۔۔ او کالے ۔۔ بات سن ۔۔ مزید کتنا سفر رہ گیا ہے ؟ میرے جسم کی تو ساری ہڈیاں کھڑکنے لگی ہیں اور اکڑوں بیٹھ بیٹھ کے کمبخت کمر بھی جواب دے گئی ھے ۔۔۔

شادو نے گدھا گاڑی دوڑاتے ہوۓ کالے کی قمیض کھینچ کر اپنی طرف توجہ مبذول کرواتے ہوئے سوال کیا تو کالا بولا ۔۔

تو اتنی نازک ھے نہیں جتنی بنتی ہے۔ ابھی کچھ دیر پہلے تو ہم گدھا گاڑی روک کر سستاۓ ہیں اور تو کہ پھر سے تھک گئی۔ صبر کر کچھ میل رہ گئے ہیں اس کے بعد ہم اپنے گھر پہنچ جائیں گے ۔۔۔

شادو نے گدھا گاڑی پہ ہچکولے کھاتے ہوۓ اپنے وجود کو بمشکل سنبھالا اور برا سا منہ بناتے ہوۓ بولی ۔۔

نازک مزاج نہ میں تھی نہ ہی تو نے بننے دیا۔ کنجروں کے گھر جو پیدا ہو وہ نازک مزاج کبھی نہ ہو سکتا اور تو جو کہہ رہا کہ گھر پہنچ جائیں گے۔ ارے کونسا گھر کیسا گھر ہمارے مقدر میں گھر کہاں ۔ ہم تو سارا گھر گدھا گاڑی پہ لاد کر کبھی مشرق تو کبھی مغرب نجانے کدھر کدھر لے جاتے ہیں۔ اصلی گھر تو قبر میں ہی ملے گا شاید ۔۔۔

یہ کہہ کر شادو نے اپنے چھ ماہ کے بچے کو چادر سے ڈھانپا جو ہوبہو اپنے ابا یہ گیا تھا ویسا ہی گہرا سیاه رنگ چھوٹی چھوٹی آنکھیں اور طوطے جیسی ناک شادو سوچنے لگی اگر یہ بھی اپنے ابا پہ چلا گیا تو پھر میری ساری زندگی سمجھو اجیرن ہو جائے گی۔ پہلے ساری زندگی باپ کے تلوے چاٹتے گزری اور بعد میں بیٹے کی فرمائشیں پوری کرتے گزر جائے گی۔

پھر اس کے ذہن نے پلٹا کھایا ۔۔

نہیں نہیں ۔۔ ہو سکتا ہے یہ اپنے باپ یہ نہ جاۓ، ہو سکتا ہے یہ کیچڑ میں کنول کا پھول ثابت ہو ۔۔ ہو سکتا ہے یہ شریف نکلے ۔۔۔

شادو تھوڑا سا مثبت سوچنے کے بعد دوبارہ پرانی لائن پہ آئی اور بڑبڑانے لگی ۔۔ یہ اپنے باپ سے الگ نہیں ہو گا۔ کچھ تو اس جیسا ہو گا۔ پت پت پہ گھوڑا۔۔۔ بوہتا نئیں تے تھوڑا ۔۔۔

شادو کے بڑبڑانے پہ کالے نے اسے پلٹ کر دیکھا اور ایک چابک گدھی کو رسید کرتے ہوئے بولا ۔۔

بو ہو ہو .. پھرر پھرر .. او گدهی تیز چل ۔۔ لگتا ہے تیری بھی ہڈیاں کھڑکنے لگی ہیں تیرے بھی گوڈوں میں پانی پڑ گیا ۔۔ حرامزدی تو بھی تھک گئی ھے ۔۔۔

شادو نے کالے کی بات یہ گدھے گاڑی سے پرے تھوک دیا اور پاس ہی پڑی ایک گودڑی جسم پہ لے کر لیٹ گئی اور اپنے بچے کو چوم کر سینے پہ سلاتے ہوئے آنکھیں موند لیں۔ اسکی کمر کے نیچے گدھا گاڑی سے نکلا ایک چھوٹا سا کیل بوری بچھانے کے باوجود اسے تنگ کر رہا تھا لیکن تھکاوٹ اس قدر تھی کہ وہ کچھ ہی دیر بعد سو گئی ۔۔

پانچ گدھا گاڑیوں یہ مشتمل یہ قافلہ اس گاؤں کی طرف گامزن تھا جس کے بارے کچھ دن قبل ہی سب کو پتہ چلا کہ وہاں سڑک کے کنارے کچھ سرکاری اراضی پڑی ہے جس پہ جھگیاں لگائی جا سکتی ہیں۔ یہ سب لوگ ایک ہی خاندان برادری سے تھے اور وقتاً فوقتاً اپنی ضرورت کے تحت ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے رہتے تھے۔

کنجر سنسکرت کے لفظ کننا چرا سے ماخوذ ہے۔ کننا چرا کے لغوی معنی جنگل میں آوار گرد کے ہیں۔ کنجروں کا دعوی ہے کہ وہ راجستھانی الاصل ہیں۔ تمام کنجر اپنا شجره نسب اجداد مشترک منو گرو اور اس کی بیوی تنهیا کنجون سے ملاتے ہیں جن کی بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ دونوں مقیم کاشتکار تھے۔ کنجروں کی اکثریت مغلوں کے جورو ستم سے بھاگ کر جنگلوں میں جا چھپی اور وہیں مسکن بنا لیے۔ شکم پروری کے لیے شکار ذریعہ بنایا، پنجاب پر مغلوں اور سکھوں کی حکمرانی کے دور میں کنجر جلاد مہیا کرتے رہے۔ کنجروں کا ایک قبیلہ کسی نامعلوم وقت میں مسلمان ہو گیا تھا۔ پنجاب کے مسلمان کنجر اسی قبیلے کی اولاد ہیں۔

جس جگہ جا کر یہ جھگیاں لگاتے وہیں ان کو الگ الگ ناموں سے بلایا جاتا تھا۔ کوئی انہیں “نٹ” کہتا کوئی “کنجر” یا “چنگڑ ” کہتا، کوئی “فقیر” کہتا تو کوئی انہیں “خانہ بدوش” کا نام دیتا لیکن زیادہ تر دیہی علاقوں میں انہیں نٹ اور کنجر کہہ کر پکارا جاتا تھا اور دلچسپ بات یہ تھی کہ کنجر کہلوانے پہ ان کو برگز برا محسوس نہ ہوتا تھا بلکہ وہ اس یہ فخر کرتے تھے کہ وہ اس نسل سے ہیں۔

شادو کا تعلق چند سو نفوس پہ مشتمل جس مخصوص برادری سے تھا انہیں کنجر ہی کہا جاتا تھا۔ ان کے خاندان میں وہی رواج تھا جو کہ شہد کی مکھیوں میں پایا جاتا ہے۔ جس طرح شہد کی مکھیوں کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ کہیں سے بھی خوراک کا بندوست کریں اور نکھٹووں کا پیٹ بھریں بالکل اسی طرح اس گھر کی عورتوں نے بھی خوراک کا بندوست کرنا ہوتا تھا اور یہی انکی اولین ذمہ داری تھی۔ ان کے شوہر بالکل نکھٹو کی طرح ہی تھے جن کا کام محض افزائش نسل بڑھانا، اونچی آواز میں بات کرنا، انہیں بلا ضرورت مارنا پیٹنا اور مردانگی کا رعب جھاڑنا تھا۔

اس خاندان کی تمام عورتیں ایک ہی وقت میں بہت سے کام کرتی نظر آتی تھیں۔ کوئی تو بالٹی سر پہ رکھے سب لوگوں کے دروازے بجا بجا کر اپنی جھگیوں کی طرف اشارہ کرتی اور سب سے ایک ہی جملہ کہتی نظر آتی کہ ہم بہت دور سے اس گاؤں میں آئے ہیں۔ پردیسی ہیں کچھ دن یہاں رہنا ہے۔ کچھ کھانے پینے کو دے دیں دعا کریں گے ۔۔۔

اس طرح مانگنے پہ گاؤں بستی کے بہت سے لوگ ترس کھا کر انہیں آٹا یا دال چاول جو بھی بن پڑتا دے دیتے تھے۔ کچھ عورتیں مٹی اور کاغذ سے بنے گڈیاں پٹولے لیکر گلی گلی گھومتیں اور بدلے میں پیسہ یا گندم لے آتی تھیں۔ کچھ خواتین ہاتھ میں گڑوی اٹھاۓ گانے گا کر اور کبھی کبھار ٹھمکے لگا کر پیسے کماتیں اور ان میں سے ہی بعض جسم فروشی سے بھی باز نہ آتی تھیں۔ لیکن عمومی طور پر یہی دیکھا گیا تھا کہ یہ عورتیں کسی بھی وقت کوئی بھی کام کرنے سے گریز نہ کرتی تھیں اور انہیں ہر حال میں اپنی دیہاڑی لگانے سے غرض رہتی تھی۔ تمام تر عورتوں کے مرد گھر پہ رہتے اور بچے سنبھالتے تھے یا پھر تاش کھیلتے تھے۔ مردوں کی سگریٹ بیڑی اور چرس افیم کا خرچ پورا کرنا انہی خواتین کی ذمہ داری تھی اور اگر وہ اس خرچ سے پہلو تہی کرتیں تو انہیں سخت سے سخت جسمانی سزا دینا اس خاندان کا قانون تھا۔

شادو ۔۔ او شادو کنجری ۔. اب آنکھیں کھول دے ہم گاؤں پہنچ چکے ہیں ۔۔۔

شادو گدھا گاڑی پہ بے سدھ پڑی سو رہی تھی۔ کالے نے اسے کندھوں سے پکڑ کر خوب جھنجھوڑا تو شادو مٹی سے اٹی نیند سے بھری آنکھیں ملتی ہوئی اٹھ بیٹھی۔ شام کا سورج ڈھلنے کو تھا جس کی میٹھی روشنی شادو کو بہت بھلی محسوس ہو رہی تھی منزل تک پہنچنے کی خوشی نے جیسے اسکی ساری توانائی بحال کر دی اس نے منے کو بازوؤں میں اٹھایا جو اب جاگ کر اپنی چھوٹی چھوٹی آنکھوں سے گویا اس نئے ماحول کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ سامنے ہی ایک کافی بڑا میدان تھا جس سے دو فرلانگ پہ ایک گاؤں نظر آ رہا تھا۔

جس جگہ پہ انہوں نے جھگیاں لگانی تھیں یہ جگہ گاؤں کی آبادی سے ہٹ کر تھی۔ یہ لوگ ہمیشہ ایسی جگہ کا ہی انتخاب کرتے تھے کہ جو کسی بھی شہر گاؤں یا بستی سے تھوڑا ہٹ کر ہو کیونکہ ایسی جگہ پہ جھگیاں لگانے سے کسی کو اعتراض نہ ہوتا تھا اور اگر کچھ عرصہ رہنے کے بعد کوئی اعتراض کرتا بھی تو یہ کسی اور مقام پہ مناسب جگہ دیکھ لینے کے بعد خاموشی سے وہ علاقہ چھوڑ دیتے تھے۔

گدھا گاڑیاں رکتے ہی سب لوگ نہایت بھرتی سے سامان اتارنے لگے اور کپڑے اور بوریوں سے بنے خیموں کو مضبوطی کے ساتھ زمین پہ گاڑنے لگے۔ اس سارے کام پہ انہیں کافی وقت لگ گیا اور رات گئے کام ختم کرکے سب مرد و زن تھکے ماندے چادریں تان کر اس طرح سوۓ کہ دن چڑھے انکی آنکھ کھلی۔

ناشتہ کرنے کے بعد شادو نے اپنی روزمرہ روٹین کے مطابق بچے کو دودھ پلایا اس کے میلے کچیلے کپڑے اتار کر ایک ڈرم میں پھینکے اور کالے کو مخاطب کر کے بولی ۔۔

میں کام پہ جا رہی ہوں دن کی روٹی بنا کر رکھ دی ہے، کاکے کو دودھ پلا دیا ہے، اب اسکا خیال رکھنا تاش ھی نہ کھیلتے رہنا ۔۔۔

شادو کی بات یہ کالے نے جواب دیا ۔۔

چل جا جا زیادہ باتیں نہ کر ۔۔ پہلے کونسا تیری ماں خیال رکھتی ہمارے منے کا .. تو کام پہ جا اور گیہوں ہی نہ اٹھا لانا کچھ نقدی بھی لیتی آنا پینے کو سگریٹ تک نہ ھے ۔۔۔

تیری سگریٹ بیڑی کی ایسی کی تیسی ۔۔.

شادو کا دل تھا کہ وہ کچھ اور بھی اسے سناتی لیکن صبح کا وقت تھا اگر یوں منہ ماری کرتی رہی تو اس کی دیہاڑی پہ بھی برا اثر پڑتا ۔ وہ عجلت بھرے انداز میں خیمے کے ایک کونے میں گئی، اپنے ہاتھوں سے بنے مٹی کے گڈیاں پٹولے اور رنگ برنگے کاغذوں کے گھگھو گھوڑے بڑے سے ٹوکرے میں ڈال کر سر پہ رکھے اور کمر مٹکاتی گاؤں کی طرف چل دی ۔

اس کے من میں بس یہی بات تھی کہ آج کی دیہاڑی بہت اچھی لگ جائے وگرنہ شام کو کالے سے جھگڑا لازمی ہو جانے کا ڈر تھا کیونکہ گزشتہ تین دن سے وہ مسلسل سفر میں رہے تھے جس کی وجہ سے جو چند پیسے اس کی چولی کے نیچے بندھے کپڑے میں تھے وہ بھی خرچ ہو گئے تھے۔ گاؤں کے قریب پہنچ کر جیسے ہی آبادی شروع ہوئی اس نے بلند کراری آواز میں ہانک لگانی شروع کر دی ۔۔

اے ۔۔ مٹی دے پٹولے لے لو ۔۔ ٹک ٹک والی گاڑی لے لو ۔. رنگ برنگیاں گڈیاں لے لو .. گھگھو گھوڑے لے لو ۔۔۔

اسکی بانک یہ گاؤں کی گلیوں میں چلتے جوانوں بوڑھوں نے اسے دیکھا تو اسکی چڑھتی جوانی دیکھتے ہی رہ گئے، جبکہ بالے بچے اسکی آواز پہ دوڑتے ہوئے گھروں سے باہر چلے آئے۔ شادو نے ٹوکرا زمین پہ رکھا اور بچوں کو پچکارتے ہوئے کھلونوں کی نمائش شروع کر دی۔ شادو کو صرف اپنا کالا کلوٹا منا ہی نہیں لبھاتا تھا بلکہ اسے دنیا کے سارے ہی بچے بہت پیارے لگتے تھے، وہ کچھ اس طرح سے بچوں سے پیش آتی کہ بچے کھلونے لیکر ہی بنتے تھے، ایسے میں اگر کوئی غریب بچہ نظر آتا تو وہ مفت بھی کھلونا دے جاتی تھی اسکی انہی اداؤں کی وجہ سے وہ جس بستی جس گاؤں جاتی وہاں سب اس کے گرویدہ ہو جاتے تھے، اس کے علاوہ شادو کی آواز میں بھی سوز تھا، کچھ دیہاتی عورتیں اسے گھر پہ بلا کر کچھ گانے کو کہتیں تو وہ پرات لے کر بیٹھ جاتی اور اس ادا سے گاتی کہ واپسی پہ اسکے پاس کافی پیسے جمع ہوتے تھے۔

آج اس گاؤں میں بھی کھلونوں کے بدلے کسی بچے نے پیسے دیے تو کسی نے گندم کے دانے دیے اور وہ کافی اچھی دیہاڑی لگا کر گھر کو لوٹی اور اس طرح کرتے کرتے کچھ ہی دن میں شادو نے گاؤں کے بہت سے بچوں کے دل موہ لیے اور کچھ خواتین سے بھی اسکی جان پہچان ہو گئی۔

نئے گاؤں میں آنے کے کچھ دن بعد ہی شادو کی روزی روٹی کا سلسلہ اچھے سے چل پڑا۔ وہ جیسے ہی گاؤں میں داخل ہوتی اور ہاتھ میں پکڑی گڑوی بجاتی یا پھر بلند آواز میں ہانک لگاتی ۔۔

اے…. مئی دے پٹولے لے لو، ٹک ٹک والی گڈی لے لو… رنگ برنگیاں گڈیاں لے لو ۔۔۔

تو سب بچوں کے کان کھڑے ہو جاتے، وہ خوشی سے اور مسرت سے چہکتے ہوۓ اپنے اپنے گھروں سے نکل کر پہلے اسکے ہونے کی تصدیق کرتے کہ واقعی وہ آ چکی ہے اس کے بعد فوراً دوبارہ گھر کو واپس دوڑتے اور واویلہ شروع کر دیتے ۔۔

اماں ۔۔ اماں ۔۔ کنجری آ گئی۔ کنجری آ گئی.. پیسے دو نا میں نے کھلونا لینا ہے ۔۔۔

کچھ مائیں تو شادو کی آواز سنتے ہی ناک بھوں چڑھا لیتیں۔

لے ۔۔ فیر آ گئی اے کنجری… اس منحوس نے بھی اسی وقت نازل ہونا ہوتا ہے مٹی کاغذ کے کچے کھلونے دے جاتی ہے جو چار دن بھی نہیں نکالتے اور بدلے میں گیہوں اور پیسے لے جاتی ہے ۔۔۔

جبکہ کچھ مائیں مسکرا کر اپنے کم سن بچوں کو لیکر باہر آتی اور شادو سے گپ شپ لگاتے کھلونے خرید لیتیں۔

شادو نے سر پہ ایک بہت بڑا ٹوکرا رکھا ہوا ہوتا تھا اور اپنے دونوں بازو اوپر کر کے اس نے بھاری بھر کم ٹوکرے کو مضبوطی سے پکڑا ہوتا تھا تاکہ کھسک کر ٹوکرا گر نہ جائے اور اسکے محنت سے بنائے کھلونے ٹوٹ نہ جائیں۔ بازو اوپر کرنے کی وجہ سے تنگ چولی میں اس کی پتلی کمر اور ۔۔۔۔۔ نمایاں ہونے لگتا، وہ چلتی تو اسکے ۔۔۔۔۔ خاص ردھم میں تھرکتے ہوۓ محسوس ہوتے، اور جب وہ اس اٹھان کے ساتھ آوازیں لگاتی لگاتی گاؤں کے چوک چوراہوں سے گزرتی تو وہاں کھڑے جوان مشٹنڈے اور بوڑھے شادو کو دیکھ کر اپنی کیفیات پہ قابو نہ رکھ سکتے، انکے دل مچل جاتے اور جذبات گرما اٹھتے، وہ شیطانی سے ایک دوجے کو دیکھ کر آنکھیں مارتے اور دل پہ ہاتھ رکھ کر کہتے۔

افف يار…. دیکھو تو …. خدا نے یہ کنجری بھی کیا مست چیز بنائی ہے۔ اسکی ادائیں تو دیکھو دل کرتا ہے بس اسے پکڑ کے .. بائے ہاۓ ۔۔۔

اس طرح کے آدھے ادھورے زومعنی جملوں کے بعد بلند قہقہوں میں اسی طرح کی مزید تعریفیں شروع ہو جاتیں اور جب تک شادو وہاں سے غائب نہ ہو جاتی یہ سب چلتا رہتا۔ جہاں جوان ایسی باتیں کرتے وہیں بوڑھے بھی دل پشاوری کرنے کو جوانوں سے چسکے لگانے لگ جاتے۔

او یار تم لوگ تو گھبرو جوان ہو ۔۔ اس کنجری کو دیکھ کر ہم بڈھے بھی جوان ہو جاتے ہیں، یوں لگتا جیسے یہ تو مردوں میں بھی جان ڈال دیتی ہے ۔۔۔

بڈھوں کے ان خباثت بھرے جملوں پہ وہ طوفان بدتمیزی پیدا ہوتا کہ پھر یہ نہ پتہ چلتا یہاں کون سلجھا ہوا بڑی عمر کا ہے اور کون کم عقل چھوٹی عمر کا جوان تھا۔ وہاں صرف ایک بی شناخت ہوتی کہ یہ سب مرد تھے۔ وہ مرد جن کی آنکھیں تو چلتی پھرتی نیک پروین برقع پوش عورت کا بھی پوسٹ مارٹم کر لیتی ہیں شادو تو بےپردہ گلی گلی گھوم کر کھلونے بیچنے والی ایک غریب کنجری تھی جس کے سارے خدوخال واضح تھے۔

یہ وہی مرد تھے جن کی آنکھیں سات پردوں کی تہہ میں پہنچ کر یہ بھی دیکھی لیتی ہیں کہ اس عورت کی کمر کا سائز کیا ہے اور اس عورت نے زیر جامہ کیا پہن رکھا ہے۔

ٹھرک مرد کی فطرت کا لازمی جزو ہے اور اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ وہ مرد ہی کیا جو ٹھرکی نہ ہو۔ بس کچھ مرد دل میں سوچتے ہیں جبکہ کچھ چوراہوں پہ کھڑا ہو کر سب کے سامنے عورتوں کے متعلق نازیبا گفتگو کرتے ہیں۔

چوکوں چوراہوں سے گزرتی شادو مردوں کی ان تمام تر باتوں سے مکمل طور پہ واقف تھی، یہ تو نامکن ہے کہ ایک عورت اپنے حسن کے جلوے سے آشنا نہ ہو، شادو بھی اپنی جسمانی ساخت دلنشیں آواز اور چال ڈھال سے آگاہ تھی اور اسے یہ بھی معلوم تھا کہ اسے دیکھتے ہی مردوں کے جذبات بھڑک اٹھتے ہیں،

لیکن وہ اس قدر نڈر اور جھگڑالو تھی کہ گاؤں کے کسی مرد جوان کی ہمت نہ پڑتی تھی کہ وہ کسی بھی قسم کی غلط بات اس کے منہ پہ کہہ سکتا۔ شاید گاؤں کے جوان اور بوڑھے شادو سے ڈر بھی گئے تھے، اور اس ڈر کی سب سے بڑی وجہ گاؤں کا سب سے لچا اور شہہ زور جوان گاما تھا۔ گاما نہایت دل پھینک اور منہ پھٹ تھا اور یہ اسی دن شادو پہ عاشق ہو گیا تھا جس دن شادو پہلی بار اس گاؤں میں داخل ہوئی اور گامے کی نظر شادو کی لچکتی کمر پہ پڑی تھی ۔۔۔۔

گامے کا شمار اس طرح کے مردوں میں ہوتا تھا جو عورتوں کو دور سے آتا دیکھ کر کتے کی طرح رال ٹپکانے لگتے ہیں۔ ایسے مردوں کی نظریں اس قدر ہوس زدہ ہوتی ہیں کہ عورتیں ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں جان جاتی ہیں کہ یہ کیا چاہتے ہیں۔

گاما اپنے حلقہ احباب میں ٹھرکی مشہور تھا۔ لیکن اسکی ایک عجیب عادت تھی کہ وہ اپنے گلی محلہ کی خواتیں کو چھیڑ خوانی سے حتی الامکان اجتناب برتتا تھا لیکن اپنے ہمسایہ گاؤں یا خوشی غمی یا مختلف وجوہات کی بنا پر اپنے گاؤں میں آئی پردیسی خواتین پہ لائن مارنے سے باز نہ آتا تھا۔ گو کہ گاما ایک قبول صورت مضبوط جسم کا مالک تھا لیکن گامے کا انداز بیان اس قدر لچر ہوتا تھا کہ لڑکیاں اس سے متاثر ہونے کی بجائے الٹا اس سے متنفر ہو جاتی تھیں۔

شادو پہلے دن گاؤں میں داخل ہوئی تو اس کا شباب دیکھ کر گامے کا دل تھرتھلی پہ لگ گیا، وہ پلکیں چھپکے بغیر ایک ٹک اسکی لچکتی کمر اور حسن کے جلوے دیکھ رہا تھا۔ وہ لہک لہک کر چلتی اٹھلاتی جب گامے کے پاس سے گزری تو گامے نے ایک لمبی سانس لے کر اس کے بدن کی خوشبو کو سانسوں میں سمانے کی کوشش کی لیکن اس کے حصہ میں کچھ نہ آیا۔ شادو کو دیکھتے ہی گامے کو یوں لگا کہ یہ عورت لائن مارنے کے لیے نہیں بنی بلکہ یہ تو دل میں بٹھانے کے قابل ہے۔

شادو کچھ دیر گاؤں میں رہ کر دوبارہ اپنی جھگیوں میں چل دی لیکن گامے کے دل پہ وہ اثرات چھوڑ گئی کہ وہ ساری رات سو نہ پایا۔

اگلے دن وہ چوک پہ اپنے یاروں کے سنگ بیٹھا خوش گپیوں میں مصروف تھا جب اسے شادو کی دلنشین آواز سنائی دی اور اگلے ہی پل شادو اس کی نظر کے سامنے تھی۔ شادو ایک کنجری تھی اور کنجری عورتوں کے مرد ہمیشہ نشے میں دھت جھگیوں میں پڑے سوئے رہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں موجود دیگر شریف زادے ایسی عورتوں پہ جملے کسنے میں عار محسوس نہیں کرتے ہیں۔

شادو جب گامے سامنے سے گزر کر چند قدم آگے گئی تو وہ لگاوٹ سے بولا ۔۔

کچھ کھلونے ہمیں بھی دیتی جاؤ ہم بھی کھیل لیں ۔۔۔

شادو اس جملے کو نظر انداز کرکے آگے بڑھ گئی کہ گاما دوباره بلند آواز میں بولا ۔۔

ویسے تو خود بھی گڈی ھے ۔۔ ہاۓ تو اگر مل جائے تو میں صبح سے شام تک تیرے ساتھ کھیلوں ۔۔۔

گامے کے اس جملہ یہ شادو کے چلتے قدم رک گئے۔ وہ پیچھے کو پلٹی تو اس کی نازک کمر میں بل واضح ہونے لگے، وہ ایک ادا سے اٹھلاتی ہوئی گامے کے سامنے آئی اور اپنا ٹوکرا احتیاط سے ایک طرف رکھتے ہوۓ گامے کی طرف بڑھی۔ گامے کے دوست ایک دم ادھر ادھر ہو گئے جبکہ گاما تاش کے پتے پھینک کر اٹھ کھڑا ہوا۔ شادو گامے کے عین سامنے جا کر اپنی کمر پہ دونوں ہاتھ جماتے ہوۓ بولی ۔۔

کیا کہہ رہا تھا تو ذرا دوباره بول ۔۔۔

گاما کمال جرات سے مسکراتے ہوۓ بولا ۔۔

تو گڈی کی طرح نازک ہے۔ کھیلنے کے لائق ھے ۔۔۔

گامے کی اس بات پہ شادو نے ایک زور دار طمانچہ گامے کے منہ پہ مارا اور اپنا ہاتھ زبردستی اس کے ہاتھ میں دیتی ہوئی بولی ۔۔

لے پکڑ میرا ہاتھ ۔۔ اگر دم ہے تو اسی چوراہے پہ کھیل میرے ساتھ ۔ ارے تیرے جیسے گھٹیا مرد صرف عورتوں پہ پھبتیاں کسنا جانتے ہیں ان کی نظر میں عورت بس ایک کھلونا ہے گلی محلہ کدھر بھی دیکھو تم سالے مرد عورتیں تاڑنے کے سوا کچھ نہ کرتے ہو ۔۔۔

شادو کا طمانچہ لگنے کے بعد گاما سرخ گال لیے حیران پریشان کھڑا تھا جبکہ اس کے یار اور چوراہے پہ ادھر ادھر آتے جاتے مرد و زن رک کر یہ تماشا دیکھنے لگے۔ گامے کو امید نہ تھی کہ ایک کنجری اس قدر دلیری سے اسے بیچ چوراہے طمانچہ رسید کر دے گی ۔۔

کان کھول کر سن لے۔ اس کے بعد اگر تو میرے رستے میں آیا یا تو نے میرے ساتھ بدتمیزی کی تو میرا نام شادو ہے شادو ۔. شادو کنجری ۔. اگر میری عزت نہ کرے گا تو تمہاری عزت کا بھی میں فالودہ بنا دوں گی… گھٹیا سالا ۔۔ لعنتی… آہ تھو ۔۔۔

شادو نے یہ کہہ کر باقاعدہ زمین پہ تھوکا اور غصے سے تمتماتا چہرہ لیے ٹوکرا اٹھا کر اپنی راہ پہ ہولی۔ گامے کے یار اس کی طرف آئے اور بولے ۔۔

گامے یار ۔. یہ شادو دو ٹکے کی کنجری تھی اور تو طمانچہ کھا کر کھڑا ہے۔ ٹھوک دیتا سالی کو ۔۔ جو ہوتا وہ بعد میں ہم دیکھ لیتے ۔۔۔

گاما اپنا سرخ گال سہلا کر ہنستے ہوئے بولا ۔۔ ارے نہیں یار ۔۔ یہی سالی اب تم لوگوں کی بھرجائی(بھابی) بنے گی ۔۔۔

اس کے دوست حیرانی سے بولے کیا کہا ۔۔ وہ کنجری ہماری بھرجائی بنے گی؟ ہوش میں تو ہو ۔۔ وہ کنجری ھے کنجری اور تو رئیس خاندان سے ھے ۔۔۔

گاما ہاتھ اٹھا کر بولا ۔۔

بس .. بس کر دو۔ کوئی اسے کنجری نہ کہے۔۔۔ اس کے بعد میں تم لوگوں کے منہ سے ایک لفظ بھی اس کے خلاف نہ سنوں۔ وہ تمہاری بھرجائی ھے اسکی عزت کرنا اور کوئی اس پہ پھبتی نہ کسنا ورنہ میرے بارے تو تم سب کو معلوم ہی ہے نا ۔۔۔

گاما یہ کہہ کر اکڑی چال چلتا وہاں سے چل دیا جبکہ اسکے دوست یار اور وہاں موجود سبھی لوگ حیران رہ گئے کہ گامے کو کیا ہو گیا ہے۔

اس واقعہ کے بعد چوک چوراہوں پہ کھڑے لوگ شادو کے بارے باتیں ضرور کرتے لیکن کسی نے اس سے چھیڑ خانی کرنے کی کوشش نہ کی کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو یہ بات ضرور گامے تک پہنچ جاتی اور لڑائی جھگڑا ہونے لگتا۔

طمانچہ کھانے کے بعد گامے کو یہ احساس ہوا کہ اس کے الفاظ بہت غلط تھے اور واقعی اس کو یہ تک نہیں معلوم کہ خواتین سے کس طرح بات کرنی چاہیے۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اپنی روٹین اور عادت سے مجبور ہو کر اس نے غلطی سے شادو کو وہ الفاظ بول دیے، حالانکہ اس نے تو شادو کو یہ بتلانا تھا کہ شادو بہت خوبصورت عورت ہے اور وہ اس کے دل میں اتر چکی ہے۔ وہ دل ہی دل میں بہت سے موزوں الفاظ تلاش کرنے لگا کہ جن میں اس نے شادو سے اپنے جذبات کا اظہار کرنا تھا۔ اسے کسی ایسے موقع کا انتظار تھا کہ شادو اسے تنہا مل جائے اور وہ اپنا دل کھول کر اس کے قدموں میں ڈھیر کر دے۔

شادو جب بھی بستی میں داخل ہوتی وہ اسکا تعاقب کرنے لگتا۔ وہ جب بچوں کو کھلونے دیتے ہوۓ انہیں پچکار کر بلاتی میٹھی میٹھی باتیں کرتی اور جب کسی بچے کو ڈرتے ڈرتے اپنے قریب کرکے اسکے گال چوم لیتی تو گامے کے دل پہ جیسے چھریاں چلنے لگتیں ۔۔ وہ مچلتے ہوۓ زیر لب بڑبڑانے لگتا ۔۔

ھائے شادو .. تو میری جان لے کے رہے گی۔ یہ بچے ہی مجھ سے بہتر ہیں جو تیرے قریب تو آ جاتے ہیں جنہیں تو پیار کرتی ہے۔ اے کاش یہ سب لاڈ پیار تو مجھ سے بھی کرتی ۔۔ اے کاش تو میرے گال بھی چومتی .. مگر تو نے تو میرے گالوں پہ طمانچہ دے مارا . شاید یہ میری ہی غلطی تھی . شادو بتا نا اب تجھے کیسے راضی کروں ۔۔۔

شادو نے کئی بار یہ بات محسوس کی کہ گاما اس کا تعاقب کرتا ہے لیکن اسے کسی بات کا ڈر نہ تھا۔ وہ اس طرح کی مردوں کی عادت سمجھتی تھی کہ ان سے کس طرح سے پیش آنا ہے۔

کہتے ہیں کہ انسان کے جذبات میں سچائی ہو تو اسے موقع مل ہی جاتا ہے۔ ایک شام جب شادو گاؤں کی پگڈنڈیوں سے گزرتی واپس اپنی جھگیوں کی طرف جا رہی تھی تو گامے کو موقع مل گیا۔ گاما قریب ہی اپنے کھیتوں میں ٹریکٹر سے ھل چلا رہا تھا۔ دور سے شادو کو آتے دیکھ کر اس نے ٹریکٹر روکا اور کھیت عبور کرتے اس پگڈنڈی پہ جا پہنچا اور شادو کے رستے میں جا کھڑا ہوا۔ شادو نے گامے کو غصے سے دیکھتے ہوۓ کہا ۔۔

لگتا ہے تجھے پہلے والا تھپڑ بھول گیا ہے جو تو پھر بیچ رستے کھڑا ہو گیا ھے ۔۔۔

گاما مسکراتے ہوۓ اپنا گال آگے کرتا ہوا بولا ۔۔

شادو تیرے اس ایک تھپڑ نے ہی تو میری دنیا بدل کر رکھ دی۔ میرے اندر کے کمینے مرد کو تیرے ایک تھپڑ نے ہی مار ڈالا ۔ لے ایک تھپڑ اور مار لے ۔۔۔

شادو تیکھے انداز میں بولی ۔۔

ارے بس کر ۔۔ یہ فلمی ڈائیلاگ میرے ساتھ نہ بول ۔ میں خوب سمجھتی ہوں تم مردوں کی باتیں۔ تم اب مجھے دانہ ڈال رہے ہو ۔۔۔

گاما بولا ۔۔

نہیں شادو ۔۔ مجھے میری اماں کی قسم جو ایک لفظ بھی جھوٹ بولوں۔ یقین کر میں دل سے تیری عزت کرنے لگا ہوں۔ کوئی تجھے کنجری کہہ کر پکارے تو میرا بس نہیں چلتا اس کا سر پھاڑ دوں ۔۔۔

شادو تلخ لہجے میں بولی ۔۔ گامے اب بس کر دے۔ میں کنجری ہوں اور کنجری ہی رہوں گی۔ تیرے کہنے سے میں رئیس زادی تھوڑی میں بن جاؤں گی اور یہ تو ہر روز میرا پیچھا کرنا چھوڑ دے مجھے سب کچھ معلوم ہے جو تو چاہتا ہے۔ چل چھوڑ میرا رستہ ۔۔۔

گاما وہیں جم کر کھڑا رہا اور بولا ۔۔

کیا تو رئیس زادی بننا چاہتی ہے ۔۔ بول شادو ۔۔ میں تجھے رئیس زادی بنانے کو تیار ہوں۔ تجھے وہ عزت دونگا وہ پیار دونگا کہ تو بھول جائے گی کہ تو کیا تھی ۔۔۔

اب کے شادو جھنجھلا سی گئی ۔۔ تو میرا رستہ چھوڑتا ہے کہ ٹوکرا اٹھا کر تیرے سر پہ ماروں ۔ نکل لے یہاں سے ورنہ مجھ کنجری سے برا کوئی نہ ہو گا ۔۔۔

گاما شادو کے خطرناک تیور دیکھ کر ایک طرف ہو گیا جبکہ شادو اسے غصیلی نگاہوں سے گھورتی ہوئی آگے چل پڑی تو پیچھے سے گامے نے آواز لگائی ۔۔

شادو یاد رکھنا گاما تجھے رئیس زادی بنانے کو تیار ہے ۔۔ ارے تجھے دل کی رانی بنا کر رکھونگا .. بس تو اک واری ہاں کہہ دے ۔۔۔

شادو بنا پیچھے دیکھے بولی ۔۔

او جاجا تیرے جیسے لچر عاشق میں بہت دیکھ چکی ہوں، تیرا یہ دو دن کا بخار جلد ٹھیک ہو جاۓ گا ۔۔۔

جبکہ گاما مسکراتے ہوۓ بلند آواز بولا ۔۔ شادو میرا بخار تب ہی ٹھیک ہوگا جب تو میری دلہن بن کر میرے گھر آئے گی۔ میں ساری زندگی تیرا انتظار کروں گا ۔۔۔

گامے کی باتیں سن کر برے برے منہ بناتی شادو جب اپنی جھگی میں داخل ہوئی تو ساری جھگی سگریٹ کے دھوئیں سے بھری پڑی تھی۔ کالا اور ان کی برادری کے چار اور مرد بیٹھے تاش کھیل رہے تھے۔ شادو کے اندر داخل ہوتے ہی ایک مرد بولا ۔۔

کالے .. بھرجائی آ گئی۔ لگتا ہے ہمیں اب جانا چاہیے ۔۔۔

کالے نے آج خوب چرس پی رکھی تھی۔ وہ جھومتے ہوۓ بولا ۔۔ تیری بھرجائی کی ماں کی ۔۔ ارے تو بیٹھ اور اپنی باری چل .. وہ کچھ کہے تو سہی اسے ننگا کرکے ماروں گا ۔۔۔

شادو نے گودڑی پہ لیٹے ایک ٹک چھت کو گھورتے بچے کو اٹھا کر کلیجے سے لگایا اور اسے چومتی ہوئی اٹھا کر جگھی سے باہر نکل آئی۔ بچے نے شادو کو دیکھتے ہی خوشی سے کلکاریاں مارنا شروع کر دیں۔ شادو کچھ دیر اس سے لاڈیاں کرتی رہی اور پھر چولی اوپر کرکے دودھ پلانے لگی۔ اتنے میں اسکی نظر اپنی بلی پہ پڑی جو مرجھائے چہرے سے جھگی کے باہر چت لیٹی ہوئی تھی۔ یہ بلی شادو کے پاس دو سال سے تھی اور اب یہ پہلی بار بلی ماں بننے والی تھی۔ اسکی حالت دیکھ کر یوں لگ رہا تھا جیسے آج رات ضرور اس نے بچوں کو جنم دینا تھا۔ شادو نے بلی کو پچکارا تو اپنا بھاری بھر کم پیٹ لیے دھیرے دھیرے چلتی شادو کے قدموں میں آ کر بیٹھ گئی۔ شادو نے ہاتھ بڑھا کر اس کے جسم کو سہلاتے ہوۓ کہا ۔۔

آج تو بھی ماں بن جاۓ گی۔ تجھے بھی میرے جیسا کاکا ملے گا۔ ہو سکتا ہے تیرے تو دو تین کاکے ہوں۔ جب وہ تیری چھاتی سے لپٹ کر تیرا گرم گرم دودھ پیئں گے تو تجھے یوں لگے گا کہ دنیا جہان کی خوشیاں اور دولت تجھے مل گئی۔ تیرے دن بھر کی تھکاوٹ اتر جائے گی۔ تو بھی بالکل میری طرح ہو جاۓ گی ۔۔۔

اندر جھگی میں چلنے والی بیہودہ گفتگو اور قہقہوں سے دھیان بٹانے کو شادو کچھ دیر یونہی بلی سے باتیں کرتی رہی اور پھر اپنے بچے کو اٹھا کر جھگی میں چلی گئی، اسے گودڑی پہ سلا کر باہر نکلنے لگی تو کالے نے آواز لگائی ۔۔

کنجری .. کدھر جا رہی ہے۔ روٹی بنا کر دے بھوک سے برا حال ہو رہا ہے ۔۔۔

شادو نے جواب دیا ۔۔ ہاں بنا دیتی ہوں میں مٹی کو تھوڑا سا پانی لگا آؤں بہت سخت ہوئی پڑی ھے۔ پھر روٹی کے بعد گھگو گھوڑے بھی بنانے ہیں ۔۔۔

یہ کہہ کر شادو باہر گئی جہاں ایک طرف اس نے مٹی کو چھان کر گوندھ کر رکھا ہوا تھا۔ اس مٹی پہ پٹ سن کی بوری دے کر ڈھانپ دیا گیا تھا تاکہ جلد خشک نہ ہو سکے لیکن اسکے باوجود اس کی سطح خشک نظر آ رہی تھی۔ شادو نے بوری بنا کر اس پہ پانی چھڑکا اور پھر نیچے بیٹھ کر اسے آٹے کی طرح گوندھنا شروع کر دیا۔ کافی بار الٹنے پلٹنے کے بعد جب اس نے محسوس کیا کہ اب مٹی بالکل نرم ہو چکی ہے تو وہ اٹھی اپنے ہاتھ دھوئے اور آٹا گھی اٹھائے جھگی میں داخل ہو گئی جہاں سے سب نکھٹو جا چکے تھے جبکہ کالا ابھی تلک بھی سگریٹ پھونکتا کھانس رہا تھا ۔

کل رات اس نے جو سالن بنایا تھا ابھی تک پڑا ہوا تھا۔ اس نے روٹی بنائی اور بنا کر کالے کے سامنے جا رکھی۔ جبکہ خود واپس پتھروں سے بنے اس چولہے کے پاس جا کر کھانا کھانے لگی جو جھگی کے عین دروازے پہ باہر کی طرف تھا۔ کھانا کھانے کے دوران کالا مسلسل شادو کو گھورتا چلا جا رہا تھا جبکہ شادو اس کے اس انداز پہ سخت کراہیت محسوس کر رہی تھی کیونکہ جب بھی کالا چرس پیتا اور نشے میں غرق ہوتا وہ شادو کو انہی نظروں سے دیکھتا تھا اور آنے والی رات شادو کے لیے عذاب بن جاتی تھی۔

کھانے کے بعد شادو کالے کے سامنے سے برتن اٹھانے کو جھکی تو کالے نے اسکا بازو پکڑ لیا اور بولا ۔۔

یہ برتن رکھ کر سیدھی میرے بستر میں آنا.. سمجھی نا ۔۔۔

شادو نرمی سے اپنا ہاتھ چھڑاتے ہوۓ بولی ۔۔ ہاں بس کچھ کھلونے بنا لوں اس کے بعد تیرے پاس ہی آتی ہوں ۔۔۔

کالا شادو کے جواب پہ پیلے دانت نکال کر مسکرایا اور زمین پہ بچھے بستر پہ لیٹ گیا۔ برتن سمیٹ لینے کے بعد شادو نے لالٹین اٹھائی اور جھگی سے باہر زمین پہ جا بیٹھی اور نہایت انہماک اور سلیقے سے برتن بنانے لگی۔ وہ جب بھی مٹی سے گڈے گڑیا بناتی یہی سوچتی کہ سب کہتے ہیں کہ ہم انسانوں کو بھی اوپر والے نے مٹی سے بنایا ہے تو کیا اس نے بھی ایسے ہی مٹی کو کوٹ کر چھان کر پانی سے نرم کیا ہو گا؟ کیا اس نے بھی اپنے ہاتھوں سے سب کو بنایا ہو گا یا اس کے پاس کوئی مشین ہو گی ۔۔

پھر وہ اپنے ان دونوں سوالوں پہ ہنسنے لگتی اور خود کو مخاطب کر کے کہتی ۔۔ شادو تو کتنی پاگل ہے۔ وہ تو پوری دنیا کا بنانے والا ہے۔ اسکے نزدیک یہ انسانی جسم بنانا کونسا مشکل ہے۔ وہ تیری طرح ایک جیسے گھگھو گھوڑے نہیں بناتا وہ تو ہر طرح کے انسان بناتا ہے۔ جیسے ۔۔ جیسے شادو .. جیسے کالا ۔۔ جیسے کاکا ۔۔ جیسے گاما .. بر انسان ایک دوجے سے الگ ہے کوئی اچھا ہے کوئی برا ہے۔ لیکن وہ سارے انسان اچھے کیوں نہیں بناتا؟ وہ کالے جیسے خبیث مرد ہی کیوں بناتا ہے؟ وہ سارے انسان ایک جیسے کیوں نہیں بناتا .. کوئی کنجر ہے ۔۔ کوئی رانا ہے ۔۔ کوئی رئیس ہے ۔۔ لیکن سب سے گھٹیا کنجری ہے ۔۔۔

شادو اور بھی بہت کچھ سوچتی لیکن اندر سے کالے نے آوازیں دینا شروع کر دیں .. شادو… اب بس بھی کر دے۔۔۔ آ جا میرے پاس… اب یہ گھگھو گھوڑے چھوڑ بھی دے ۔۔۔

شادو نے آواز دی ۔۔ آتی ہوں ۔۔ گھگھو گھوڑے چھوڑ دونگی تو تم یوں گھر پہ پڑے پڑے سکون سے کھاؤ گے نہیں۔ میری مجبوری ھے شادو یہ کہہ کر دوبارہ سے کھلونے بنانے میں مگن ہو گئی۔ وہ پھر سے سوالوں جوابوں میں الجھنے لگی تھی کہ اتنے میں کالا اندر سے ڈگمگائے قدموں سے باہر آیا اور زمیں پہ بیٹھی شادو کو پیچھے سے دبوچ کر اٹھا لیا۔

شادو کالے کی بانہوں میں کسمساتی ہوئی چلانے لگی ۔۔

کالے کیا کر رہا ہے۔ میرے ہاتھ مئی سے لتھڑے ہوئے ہیں۔ ہاتھ تو دھونے دے ۔۔۔

کالے نے شادو کی ایک نہ سنی ، وہ ڈگمگائے قدموں سے اندر جانے لگا تو گوندھی ہوئی مٹی کے قریب پڑی لالٹین الٹ گئی اسکا شیشہ ٹوٹ گیا اور وہ پھڑک کی آواز سے بجھ گئی۔ کالے نے شادو کو لا کر بستر پہ پٹخا ۔ شادو کسمساتے ہوئے اسکی بانہوں سے نکلنے کی کوشش کرنے لگی لیکن نشے میں دھت کالا اسے چھوڑنے کو تیار نہ تھا۔ اس نے شادو کو جکڑتے ہوئے کہا۔

“شادو ۔۔ تو آج ایسے کر رہی ہے جیسے میں تیرا خصم نہیں کوئی اجنبی ہوں۔ خصم جب بیوی کو آواز دے تو آٹا گوندھنا چھوڑ کر بھی اسے مرد کو سکون دینے آنا ہوتا ہے جبکہ تو نے میری ایک نہ سنی اور مٹی میں گھسی رہی۔ اور اب بھی جان چھڑوا رہی ہے کیا نیا خصم ڈھونڈ لیا ۔۔۔

یہ کہہ کر اس نے شادو کے چہرے اور گردن ۔۔۔۔۔ پھر اس نے ہاتھ بڑھا کر پاس پڑی دیا سلائی اٹھائی اور سگریٹ سلگا لیا۔

شادو کو سگریٹ کے دھوئیں سے سخت نفرت تھی۔ وہ اپنے وجود کے دردوں کو سہتی ہوئی بولی ۔۔ کالے اب بس بھی کر دے میرا جسم ٹوٹ رہا ہے۔ میرا دم گھٹ رہا ہے ۔۔۔

کالے نے سگریٹ کا ایک لمبا سا کش لیا اور سارا دھواں اس کے چہرے پہ چھوڑتے ہوۓ بولا ۔۔

آج ہی تو اتنے عرصہ بعد کچھ زیادہ وقت ساتھ گزارنے کو مل رہا ہے ۔۔۔

دھواں شادو کے نتھنوں سے پھیپھڑوں میں گیا تو وہ کھانسنے لگی ۔۔ کالے خدا کے لیے بس کر دے میں تیری بیوی ہوں۔ میں کراۓ یہ لائی ہوئی کنجری نہیں ہوں جو تو ایسا رویہ دکھا رہا ہے ۔۔۔

کالا شادو کی بات یہ قہقہے لگاتے ہوۓ اسے مزید درد دیتا ہوا پاگلوں کی طرح بولا .. ایک بار پھر سے بول شادو .. تو کنجری نہیں ہے؟ ارے تو کنجری ہی تو ہے۔ تو میری کنجری ہے ۔۔ ھاھاھاھا ۔۔۔

یہ کہہ کر کالے نے سگریٹ پرے پھینکا اور شادو کو ۔۔۔۔۔

درد جب حد سے بڑھا تو وہ چلائی ۔۔

او کالے .. اب بس کر دے۔

5 1 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments
error: Content is protected !!
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x