مکمل ناول
آدھی رات کو جب طوفانی بارش کی آواز سنائی دی اور میری آنکھ کھل گئی تو میں نے اپنے وجود میں عجیب سی بےکلی محسوس کی بارش کی سنسناتی آواز مجھے پاگل کر رہی تھی تجھے بری طرح خون طلب محسوس ہونے لگی میں گھبراکر باہر لان میں نکل آئی ہر طرف سناٹا طاری تھا لیکن میرے قدم جیسے میرے اختیار میں نہ تھے زیادہ دیونہ گزری تھی کہ مجھے اپنے عقب میں اسی لڑکی کی آواز سنائی دی میں نے پلٹ کر دیکھا تو وہ لڑکی سامنے کھڑی تھی
اس لڑکی نے اپنا ہاتھ بڑھایا میں نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دے دیا پھر ہم آج اسی جگہ پر تھے وہاں آج بھی ایک انسان موجود تھا لے لیں پھڑ پھڑا رہا تھا لڑکی نے پھر شہ رگ کاٹی چاقو سے میں نے اس دین کی طرح اپنا منہ اس کی شبہ رگ پر رکھ دیا فارغ ہوئی پراٹھایا تو پھر وہی سب کچھ ہوا میں اپنے لان میں کھڑی تھی میری زبان
خون کے نمکین ذائقے کی تصدیق کرہی تھی اب تو یہ معمول بن گیا تھا کہ جب بارش ہوتی تو وہ لڑکی آجاتی لیکن جب بارش نہ ہوئی تو وہ لڑ کی نہ آتی ایک دفعہ تو طویل عرصے تک بارش نہ ہوئی تو میرا نشہ بری طرح ٹوٹنے لگا یہاں تک کہ میں اپناہی جسم جھنجور نے لگی مجھے کچھ کجھ نہ آی ای عالم میں میں نے گاڑی نکالی اور بناکس سمت کا
تعین کئے چل پڑی اور بلا وجہ سڑکوں پر گاڑی دوڑانے لگی میں ایک ویران سڑک پر پہنچی تو وہاں ایک لڑکے نےلفٹ مانگی جو میں نے کسی بے فکری کے بغیر دے دی رستے میں معلوم ہوا وہ مزدور ہے اور واپسی گھر جارہا تھا ہوا
گم با تو مجبور الفٹ لینا پڑی اس کا گھر زیادہ دور نہ تھا اس نے مجھے چائے کی دعوت دی جو میں نے بخوشی قبول کرلی ہم اندر چلے گئے اور پھر کیا تھا کہ میں موقع ملتے ہی اس کو دھر لیا اور اس کا خون پینے لگی چھری کے تیز وار سے میں نے اس کی گردن کافی تھی اس کا خون بہت ہی لذیز تھا دل کو سکون مل سا گیا اور پھر واپس لوٹ آئی –
اچھا یار چائے بن رہی ہے میرے کام کا کیا بنا ہے
سمن بی بی آئی ہیں میں نے ان کوبیگم صاحبہ ڈرائنگ روم میں بٹھایا ہے ملازم نے وہ ہی تو بتانے آئی ہوں سمن نے جواب دیا پھر اس نے عائشہ کو بتایا جو کہ اپنے کمرے میں رسالے کے مطالعے اپنے پرس سے اخبار نکالا اور عائشہ کو دے دیا عائشہ نے
میں مصروف تھی اچھا تم چائے بناؤ میں آتی ہوں جی بہتر اخبار کو دیکھا اور بڑے بیزار ہو کر کہا۔
ملازم نے جواب دیا عائشہ اور یمن بچپن کی سہلیاں ہیں وہ اس کا میں کیا ہے یار اس میں ایک عامل کا پتہ ہے
ایک دوسرے کی زندگی کی ہر حقیقت کی واقف ہیں ان کی جو دل کی ہر خواہش پوری کرتا ہے لیکن پیسے اپنی مرضی کے دوستی کو پچیس سال ہو گئے عائشہ نے ڈارئنگ روم میں لیتا ہے عائشہ نے اخبار میں دیکھا تو ا میں لکھا تھا ہر مشکل کا داخل ہوتے ہی سمن کو ڈالنا شروع کر دیا۔ کیونکہ وہ آج حل عاشقوں کو قدموں میں لانا ہوشو ہر کو غلام بنانا ہوساس
پندرہ دن کے بعد اس سے ملنے آئی تھی تو یہ آتے ہی شروع سے چھٹکارا لانری کا نمبر لگانا ہو بے اولادی کا حل صرف ہوگئی ہو مجھے چائے پانی تو پی لینے دیتی اچھا اب جلدی سے ایک آدمی گردشگر کے پاس خوشی اور کامیابی آپ کے قدم چومے کی اشتہار کے نیچے اس کا پتہ لکھا تھا۔ چائے پلاؤ ۔
اے سمن کی بچی یہ کس ڈھوٹی بابا کا اشتہاراٹھا لائی کئی اسے ایسا لگا جیسے اس کی آواز بند کر دی ہو مین بھی باریک ہو میں نے ایسے ڈھوٹی بابا کے بارے میں بہت سنا ہوا ہے کبھی پھر بابا نے کہا۔ ان کے پاس ہوتا کچھ نہیں بس پیسے ضائع ہوتے ہیں بچہ مجھے سب پتہ ہے تمہاری مراد پوری ہوگئی تمہار عائشہ نے تفصیلے لہجے میں کہا ارے نہیں یار یہ بہت پہنچے اشو ہر تمہارے قدموں میں ہوگا ۔ بابا نے اپنی بھاری اور
ہوئے بابا ہیں یار وہ اپنی فرینڈ نہیں تھی نوشی وہ بھی اس بھری آواز میں کہا عائشہ حیران رہ گئی کہ باباجی کو کیسے –
بابا کے پاس کتنی تھی اس کا اولاد والا مسئلہ بابا کے پاس ہی چلا بچہ یہ میرے لیے معمولی باتیں ہیں حیران ہونے کی حل ہوا ہے سمن نے مسلسل بولتے ہوئے کہا سچ میں عائشہ ضرورت نہیں میری مدد کریں بابا میری مدد کریں میں محسن سے بہت پیار کرتی ہوں پلیز میری مدد نے حیران ہوتے ہوئے کہا۔
ہاں یار سچ امید ہے کہ محسن بھائی بھی ٹھیک ہو جا ئیں کریں بچہ کیا کرسکتی ہو اپنے شوہر کو پانے کے لیے بابانے گے پھر سچ ہی باباجی کے پاس چلتے ہیں محسن ایک بزنس شیطانی مسکراہٹ کے ساتھ مسکراتے ہوئے کہا۔
مین ہے عائشہ محسن کی بیوی ہے ان کی شادی کو سات سال میں کچھ بھی کرنے کو تیار ہوں بابا نے اسے دودن ہو گئے نہیں پانچ سال ان کے ہنسی خوشی گزرے اس کے کے بعد آنے کا کہا ساتھ کہا کہ کیلے آنا ہے رات کو جی بابا بعد ان میں ایک لڑکی کی وجہ سے اختلافات پیدا ہو گئے میں آج جاؤں گی لیکن باباجی رات کو محسن گھر پر ہوتا ہے
شادی کو سات سال ہونے کے باوجود اولاد کی نعمت سے میں کیسے آؤں گی بابا نے کہا بچہ تو اس کی فکر نہ کر میں یہ کام محروم تھے اس لیے حسن کی توجہ دوسری طرف ہو گئی حالات اپنے بیرو سے کروالوں گا تو رات کے وقت دروازہ اند دن بدن خراب ہوتے جارہے تھے تلخیاں بڑھتی جارہی اسے بند کر کے آنکھیں بند کر لینا میرا بیرد تمہیں میرے تھیں اب تو محسن نے عائشہ سے بات کرنا بھی چھوڑ دی تھی پاس پہنچادے گا۔
وہ دونوں الگ الگ کمروں میں سوتے تھے دوسرے دن لیکن باباجی رات کو کیوں بچہ ایک عمل کرنا ہے بچہ حسب معمول محسن جب آفس چلا گیا تو عائشہ کاموں سے زیادہ سوال نہ کر جو کہا ہے وہ کر ٹھیک ہے بابا جی اب جا بچہ فارغ ہو کر سمن کا انتظار کرنے کی تا کہ وہ جلدی جلدی اور نذرانہ باہر دیتے جانا اور دودن بعد اپنے کمرے میں
گرو شنکر کے پاس جائے تمن اور عائشہ گاڑی میں بیٹھی آنکھیں بند کر کے بیٹھ جانا۔بابا کی طرف جارہی تھیں ۔ آج عائشہ کو بابا کے پاس سے آئے ہوئے دوسرا
جب وہ بابا کے پاس پہنچی تو ان کے پاس کافی رش دن تھا کل اس نے چلے کے لیے جانا تھا اسے بہت ڈر لگ تھا ایک گھنٹہ انتظار کے بعد جب ان کی باری آئی تو سب رہا تھا اتنے میں ملازم نے آکر بتایا کہ صاحب کچھ دنوں
لوگ جاچکے تھے صرف وہ دونوں رہ گئی تھیں عائشہ اور یمن کے لیے دوینی چلے گئے ہیں محسن عائشہ سے بات نہیں
جب گرو نگر کے کمرے میں داخل ہوئی تو اندر اندھیرا تھا کرتا تھا اس لیے ملازم کو بتا کے پہلا گیا عائشہ نے شکر کیا کہ
اور دھواں دھواں سا تھا نجیب کی چیز چلنے کی بدبو آ رہی تھی چلو یہ مسئلہ تو حل ہو گیا۔
ان دونوں کے دلوں کی ڈھر کنیں تیز ہو گئیں دونوں کو ایسے آج عائشہ کو بابا کے پاس چلے کے لیے جانا تھا
لگا جیسے ابکائی آنے لگی ہوا بھی وہ دونوں خود پر قابو پانے کی عائشہ نے آج جلد ہی کھانا کھا لیا اور نوکروں کو ان کے کوشش کر رہی تھیں کہ بابا کی آواز آئی۔
کمروں میں بھیج دیا لیکن عائشہ کا دل ڈر رہا تھا لیکن محسن کو اندر آ جاؤ بچہ وہ دونوں ڈرتی ڈرتی اندر جانے لگیں پانے کے لیے وہ کچھ بھی کرسکتی تھی فارغ ہو کر عائشہ اپنے
مایا کی پھر آواز آئی ڈرو نہیں وہ دونوں بابا کے پاس جا کر بیٹھے کمرے میں چلی گئی دروازے کو اندر سے لاک کرنے کے نہیں تو بابا نے اپنا منہ او بر کیا تو ں نشہ کی بیچ نکلتے نکلتے رہ بعد وہ اپنے بیڈ پر بیٹھ گئی اور آنکھیں بند کریں جب آنکھیں کھولیں تو وہ بابا کے پاس تھی اس نے دائیں طرف آنکھیں کھولیں تو وہ اپنے بیڈ پر تھی وہ لیٹ گئی اور مدہوش دیکھا تو ایک عجیب و غریب مخلوق کھڑی تھی اس کی تین ہو گئی۔ صبح جب عائش کیا نکھ کھلی تو دروازہ زور زور سے بیج آنکھیں تھیں ناک نہیں تھا ہونٹ چیٹے تھے اس کیا یک رہا تھا عائشہ نے آٹھ کر دروازہ کھولا تو سامنے اس کی نا ئنگ تھی اس کے پورے جسم پر بال تھے عائشہ کی نظر جب نوکرانی پریشان کھڑی تھی۔
اس پر پڑی تو بے ہوش ہو گئی عائشہ کو جب ہوش آیات بی بی جی کیا ہوا تھا آپ کو آپ کی طبیعت تو ٹھیک باباجی سامنے بیٹھے تھے اور کوئی نہیں تھا۔
ہے دوپہر کے دو بج چکے ہیں آپ نے دروازہ کیوں نہیں
ڈر گئی تھی بچہ گرو شنکر نے اپنی بھر 5 آواز میں کہا کھولا میں بہت پریشان ہوگئی تھی نوکرانی نے ایک ہی باباجی وہ کدھر ہے عائشہ نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کا نیتی سانس میں سب کچھ کہہ دیا کچھ نہیں سکینہ رات کو دیر سے ہوئی آواز میں کہا ڈر نہیں وہ میرا بیر و تھا جس کو دیکھ کر تم سوئی تھی اس لیے آنکھ نہیں کھلی کچھ طبیعت بھی خراب تھی تم
زرگئی تھی لیکن باباجی وہ کدھر ہے عائشہ ابھی بھی ڈری ہوئی جاؤ اپنا کام کرو بی بی جی کچھ کھانے کے لیے لاؤں ہاں ناشتہ تیار کرو میں آتی ہوں عائشہ اپنے کمرے میں آگئی تھی۔۔
بچہ وہ چلا گیا ہے تو میری بات غور سے سن اگر تو اپنے تو نہا دھو کر فریش ہو کر ناشتے کیلیے چلی گئی آج وہ اپنے آپ خاوند کو اپنا تابعدار بنانا چاہتی ہے تو تمہیں ایک آزمائش کو بلکا پھلکا محسوس کر رہی تھی سارا دن کام میں گزر گیا شام سے گزرنا ہوگا ۔ بابا جی میں محسن کو پانے کیلیے کچھ بھی کر سکتی کو عائشہ کو بہت پیاس محسوس ہوئی اس نے جی بھر کے پانی گروشنکر بھی ہوں گرو شنکر نے اسے ایک پیالہ میں سرخ رنگ کا ایک پیالیکن اس کی پیاس نہیں بھی عجیب بے چینی تھی جو ختم نہ محلول
دیا اور کہا ۔۔ بچہ مشروب سمجھ کر پی جاؤ یہ تیری پہلی ہوری تھی اتنے میں گروشنکر کے پاس جانے کا ٹائم بھی
آزمائش ہے عائشہ نے پیالہ پکڑ کر اس کو غور سے دیکھتے ہو گیا تھا جلدی جلدی اپنے کمرے میں جا کر اپنے بستر پر
ہوئے یوں لگا کہ جیسے اس میں خون ہو لیکن اس نے کہا کچھ بیٹھ گئی اور آنکھیں بند کر لیں کچھ دیر بعد گرو شنکرتی بھدی
نہیں اور اپنے خیال کو جھنک دیا اور پیالہ منہ سے لگالیا آواز سنائی دی۔۔
ابھی ایک گھونٹ ہی اندر گیا تھا تو اسے ایسا لگا جیسے ابکائی بچہ آنکھیں کھول دو تو اپنی منزل کے بہت قریب
آنے لگی ہو اس نے پیالہ کو منہ سے ہٹادیا گرو شنکر نے جب ہے باباجی آج میری حالت بہت خراب
تھی پھر عائشہ نے
وہ سب کچھ بتادیا بچہ فکر نہ کر یہ سب مشروب کیوجہ سے ہے
دیکھا تو کیا۔
بچہ پی جاؤ ر کو نہیں میں نے اس پر عمل کیا ہے پی جاؤ سب ٹھیک ہو جائے گا یہ لے بچہ پی جاتیری بے چینی ٹھیک
بچہ عائشہ نے پیالہ پھر منہ کیسا تھ لگا لیا اور ایک ہی سانس ہو جائے گی عائشہ پھر مست ہورہی تھی گرو شنکر نے اپنے
میں پی گئی اسے ابکائی تو آئی لیکن وہ برداشت
کر گئی کیونکہ پیرو کو اشارہ کیا اور عائشہ اپنے کمرے بیڈ پر پہنچ گئی ای
وہ اپنے شوہر کا پیار پانے کے لیے کچھ بھی کر سکتی تھی مبارک طرح عائشہ گلے کئی دن گرو شنکر کے پاس جاتی رہی اور ہر
سے کہا۔
ہو بچہ تو پہلی آزمائش میں کامیاب ہو گئی ہے عائشہ کو ایسا روز ہی اسے مشروب پینے کو ملتا۔۔
لگا جیسے اسے نیندارہی ہو اس نے اپناس پکڑ لیا اور باباجی عائشہ اپنے کمرے میں سوئی ہوئی تھی تو دروازہ زور
زور سے بجنے لگا عائشہ کی آنکھ کھلی تو آواز آرہی تھی بی بی حجمی
باباجی مجھے نیند آرہی ہے اب میں اپنے گھر کیسے صاحب جی آگئے ہیں اور آپ
کو بلا رہے ہیں عائشہ ایک
جاؤں کی بچہ تو پریشان نہ ہو مجھے گھر پہنچادیا جائے گا ہا باجی دم اٹھ کر بیٹھ گئی اور فٹافٹ دروازہ کھولا اور حسن کے کمرے
نے اسے آنکھیں بند کرنے کو کہا عائشہ نے آنکھیں بند کیں کی طرف چل دی اس کو یقین نہیں آرہا تھا کہ محسن نے
پھر بابا کی آواز آئی بچہ آنکھیں کھول دو عائشہ نے جب اسے بلایا ہے دل میں ڈر بھی رہی تھی کہ شاید کوئی غلطی ہوگئی
ہے جس کی سزا دینا چاہتے ہیں عائشہ جب کمرے دروازے پر پہنچا دیتا ہوں وہاں ہے
میں داخل ہوئی تو محسن بے اختیار اس کے گلے میں لگ گیا تہہ خانہ صاف کر کے اونچی جگہ پر رکھ دینا اور ایک دیا بھی
ضرور جلاد بیتا جب بھی خون سے نہلا نا ہو تو اس طریقے سے
روتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
عائشہ مجھے معاف کردو میں تم سے بہت پیار میں نے کہا ہے ۔ اب جابچہ جا۔
عائشہ نے آنکھیں بند کی اور جب آنکھیں کھولیں تو
کرتا ہوں عائشہ کو یقین ہو گیا کہ گرو شنکر نے سب کیا ہے
اب
گروشنگر کے پاس جانے کا ٹائم ہور ہا تھا اور حسن اپنے اپنے تہہ خانے کے دروازے کے سامنے کھڑی تھی عائشہ
اپنے پاس بیٹھا کر پیار کرنا چاہتا تھا ابھی عائشہ سوچ رہی تھی کے ہاتھ میں بت تھا اس نے جلدی سے تہہ خانے کا
تو گر و شکر کی آواز آئی بچہ اس کا انتظام ہو جائے گا تو محسن دروازہ کھولا اور بت کولیکر اندر چلی گئی تہہ خانہ بہت گندہ تھا
کے ساتھ پیار کر کافی دیر وہ محسن کیساتھ رہی پھر حسن نے کہا عائشہ نے جلدی سے ایک سائیڈ پر پڑا میز صاف کیا اور
مجھے نیند آرہی ہے چلو سوتے ہیں وہ اور محسن لیٹ گئے اس پر بت کو رکھ دیا اور جلدی سے اپنے کمرے میں واپس
تھوڑی دیر بعد محسن گہری نیند سو گیا تو عائشہ نے بھی آنکھیں آگئی اور مست ہو کر سوگئی دوسرے دن عائشہ کو شام ہوتے
بند کر لیں تو گر و شنکر کی آواز آئی بچہ آنکھیں کھول دو عائشہ ہی بے چینی نے گھیر لیا تھا اس نے آج بت کو بھی نہلانا تھا
نے آنکھیں کھولی تو وہ گرو شنکر کے پاس تھی بابا اگر محسن عائشہ کو سمجھ نہیں آرہی تھی وہ بے چین کیوں ہے کافی دیر
ادھر ادھر گھر میں گھومنے کے بعد وہ تھک کر بیٹھ گئی ات پھر
جاگ گیا تو مسئلہ ہو جائے گا۔
بچہ تو فکر نہ کر ہماری مرضی کے بغیر وہ نہیں جاگے گا بھی اپنی بے چینی کی سمجھ نہ آئی تو اس نے سوچا کہ بت کو
بابا میں آپکا شکریہ کس طرح ادا کروں بچہ یہ تیرا چلے کا نہلائے جلدی جلدی پھر محسن آگئے تو مشکل ہو جائے گی
آخری دن ہے آج آخری بار مشروب پینا ہے تجھے اب اب مسئلہ یہ تھا خون کہاں سے لے کافی دیر سوچنے کے بعد
سب ٹھیک ہو جائے گا اور ہاں اب میں تمہیں نہیں ملوں گا اس کی نظر اپنے بہنے کے ملازم کو آواز دی رحمو ۔ جی بی بی جی
میں کچھ عرصہ کے لیے دور جارہا ہوں تجھے اپنا ایک کام جھاڑو لے لو تہ خانے کی صفائی کرنی ہے خود جلدی سے
سونپ رہا ہوں بول کرے گی ہاں بابا میں کروں گی آپ حکم کچن میں چلی گئی وہاں سے تیز دھار چھری کی اور اپنے
کریں تو سن بچہ یہ جو سامنے غار ہے اس میں ایک بت پزا دوپٹے میں چھپالی اتنے میں رحمو آ گیا چلیں بی بی جی ہاں
ہوا ہے وہ بت نہیں ہے اس میں طاقتیں ہیں اس میں اور چلو اتنے میں فون کی گھنٹی بج اٹھی تو اس نے فون ریسو کیا
جس سے وہ خوش جائے اسے طاقتیں دیتا ہے تو اسے اپنے فون محسن کا تھا اس نے لیٹ آنے کا بتایا عائشہ نے سوچا ہیں
ساتھ لے جا اور سنبھال کر رکھنا اسے ہر ہفتہ بعد انسانی اور بھی اچھا ہے پھر وہ اور ملازم تہہ خانے میں چلے گئیر جو
نے صفائی شروع کردی بی بی جی یہ بت کہاں سے آیا ہے تم
خون سے نہلا نا ہوتا ہے۔
کیا خون باباجی میں انسانی خون کہاں سے لاؤں اس کو چھوز و اپنا کام کرو عائشہ نے اسے جھڑک دیا جی بہتر
گی ہاں بچہ خون ۔۔ خون کا انتظام تجھے خود کرنا ہو گا اگر تو بی بی جی اب رحمو پھر اپنے کام میں مصروف ہو گیا اب
نہیں لینا چاہتی تو تیری مرضی اتنا یا درکھ اگر تو نہ لے گی تو عائشہ شیطانی مسکراہٹ کے ساتھ رحمو کی طرف بڑھ رفا
برباد ہو جائے گی محسن تجھ سے نفرت کرنے لگے گا تو بڑی تھی اس نے دوپٹے کے نیچے سے چھری نکالی اور رحم کی کیے
نصیب والی ہے آقا نے تجھے چنا ہے نہیں نہیں باباجی میں میں گھونپ دیا دوتین دفعہ وار کیا رحمو کے منہ سے درد
کراہٹیں نکلیں عائشہ نے اسے پینے کا موقع بھی نہ دیا اس
لے کر جاؤں گی انہیں۔
پھر گردشگر نے اسے سب کچھ سمجھا دیا۔ اب اپنی عائشہ نے خون جمع کرنے کے لیے برتن تلاش کیا تھوڑ
آنکھیں بند کر تھے میں تیرے گھر کے تہہ خانے کے دیر کی کوشش کے بعد اسے ایک چینیت والا خالی ڈبہ بیل
اب عائشہ نے چھری رحموعی گردن پر چلا کر ڈبے میں خون میں پولیس کو بتاتا ہوں ۔ عائشہ نے حسن کو دکھانے کے لیے
جمع کیا اور گرو شنکر کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ایک چکر گھر کا لگایا اور کوئی چیز غائب نہ ہونے کا بتادیا
بت کے آگے جھکی اور کہا۔
پولیس آئی اور ملازم کا نام پستہ پوچھ کر چلی گئی محسن آفس
آقا بھینٹ قبول کرو اور ڈبہ بت کے سر النا دیا پورا چلا گیا اور عائشہ اپنے کمرے میں عائشہ کی نظر آئینے پر یزی
بت خون سے نہا گیا بت سے آواز آئی بالکی ہم پرسن ہوئے تو حیران رہ گئی کیونکہ وہ پہلے سے بھی زیادہ خوبصورت ہوگئی
آج سے تم کو ایک طاقت دیتا ہوں تجھے آنے والے تھی اس کے گال سرخ ہو گئے تھے جسم بھر گیا تھا پھر عائشہ کو
خطرے کا احساس : و جایا کرے گا شکریہ آقا ۔ آقا اس لاش خیال آیا یہ میں نے کیا کر دیا ہے میں قاتل ہوں میں نے
کا کیا کروں اور مجھے بے چینی کیوں ہو رہی ہے لاش کی فکر خون پینا شروع کر دیا ہے اتنے دن میں بابا نے مجھے خون
نہ کر اور اس کی گردن پر منہ رکھ تیری بے چینی خود ہی ختم پلایا ہے عائشہ کے چہرے پر گھبراہٹ سے پسینہ آ گیا
ہو جائے گی اس کے بعد بت سے آواز آیا بند ہوگئی عائشہ گھبراہٹ سے وہ تہہ خانہ میں چلی گئی اور بت کے سامنے
پہلے کراہٹ ہوئی پر بے چینی جو بڑھ رہی تھی مجبور ہو کر اس گر گئی اور رونے لگی۔
نے رحمو کی گردن پر مند رکھ دیا اور غٹاغٹ خون پینے لگی اور اتنے میں بت سے آواز آئی عائشہ تو پریشان نہ ہو تو
اسے اب اپنی بے چینی کم ہوتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی اب نے کچھ بھی غلط نہیں کیا ہے تجھے محسن کا پیار مل گیا ہے تو
مزا بھی آرہا تھا جب خوب جی بھر کر کون پی لیا تو اسے خیال خوبصورت ہو گئی ہے اور تجھے کیا چاہے لیکن آقا اگر کسی کو
آیا کہ کہیں محسن نہ آجائے اس نے جلدی سے ایک کپڑا پتہ چل گیا تو مجھے پھانسی ہو جائے گی اور یہ گناہ ہے گناہ
منہ صاف کیا اور جلدی سے اپنے کمرے کی طرف بھاگی اور نیک میں کچھ نہیں ہوتا اور تجھے میرے ہوتے ہوئے
لیکن تہہ خانہ کا دروازہ بند کرنا نہ بھولی تھی اپنے کمرے کچھ نہیں ہوگا اور تجھے وہ کچھ ملے گا جو تو نے سوچا بھی نہیں
میں آکر نہائی اور کپڑے بدلے اور بیڈ پر لیٹ گئی اس ایجا اور کل پھر تو نے مجھے نہلانا ہے یاد ہے ناں آقاوہ لاش
پر نشہ چھانے لگا آہستہ آہستہ ہوگئی صبح جب آنکھ کھلی تو حسن کہاں گئی ہے بچہ اس
کی فکر نہ کر اور بے فکر ہو جا جا اور سکون
واش روم میں تھا وہ جلدی سے اٹھی اور ملازم کو آواز دے کر سے سو جا تجھے میرے ہوتے ہوئے کچھ نہیں ہوگا پھر عائشہ
ناشتہ کے لیے کہا اتنے میں محسن باہر آ گیا رات کو تم اتنی اپنے کمرے میں واپس آ گئی آج عائشہ نے بت کو نہلانا تھا
جلدی سوگئی اور کھانا بھی نہیں کھایا تمہاری طبیعت تو ٹھیک آج وہ سوچ رہی تھی وہ کس کو اپنا شکار بنائے اتنے
ہے ناں محسن نے پیار سے اس کے پاس بیٹھ کر کہا پہلے تو میں نوکرانی نے آکر چائے اس کے سامنے رکھی تو عائشہ کی
عائشہ محسن کے پیار پر حیران ہوئی پھر جلدی سے جواب دیا نظر اس پر پڑی اس نے ذہن میں آیا نوکروں کا کیا ہے
بس محسن آپ کا انتظار کرتے کرتے پتہ نہیں چلا چلو کوئی اور مل جائیں گے لیکن اس سے بہتر کوئی شکار نہیں مل سکتا
بات نہیں محسن نے اس کے سر پر بوسہ دیا اور کہا آؤ ناشتہ عائشہ نے فورا سکینہ سے کہا تم میرے ساتھ چلو مجھے تہہ
کریں سکینہ اتنی دیر میں ناشتہ لگا چکی تھی دونوں اب ناشتہ خانے میں کام ہے ابھی چلو چائے بعد میں پی لوں گی پھر
کی میز پر تھے ابھی ناشتہ ختم کیا ہی تھا کہ سکینہ آئی محسن نے صاحب بھی آجائیں گے وہ ناراض ہوں گے جلدی کر
کہا ر حمو سے کہو میری گاڑی صاف کر لے صاحب جی میں وعائسہ نے ادھر ادھر دیکھا کوئی دیکھ تو نہیں رہا ویسے تو باقی
آپکو بتانے لگی تھی رحم کل شام سے نائب سے کیا اور تم مجھے نوکر چھٹی پر تھے تو اس نے پھر بھی احتیاط کرنا ضروری تھا
اب بتارہی ہو کہیں چوری کر کے بھاگ تو نہیں گیا عائشہ نو جکرانی آگے آگے چل پڑی تھی عائشہ بھی جلدی جلدی
کوئی چیز غائب تو نہیں۔
اس کے پیچھے چل پڑی چھری پہلے ہی تہہ خانے میں اس
پتہ نہیں محسن دیکھوں تو پتہ چلے گا چلو دیکھو اور بتاؤ نے چھپا تھی تھی سکینہ نے لائٹ آن کی 1 ریڑھیوں سے
نیچے اترنے لگی سکینہ سامنے بت
کو دیکھ کر ڈر گئی وہ تھا ہی اتنا ہو جائے گا آج ڈنر باہر کرنے کا موڈ ہے تو جلدی گھر جانا
ہے سو وہ جلدی جلدی اپنا کام ختم کرنے لگا اور گھر جانے
ذروانا۔۔
بی بی جی ۔۔ بی بی جی یہ کیا ہے عائشہ نے نیچے آتے کے لیے نکل پڑا محسن نے ہارن بجایا اور چوکیدار نے
ہوئے تہہ خانہ کا دروازہ بند کر دیا تا کہ کوئی مشکل نہ ہو تم دروازہ کھولا محسن کو آج خلاف توقع گھر میں خاموشی محسوس
پریشان نہ ہو سکینہ تم وہاں دیکھو میں نے کچھ گملے رکھوائے ہوئی اس نے سکینہ کو آواز دی کہ چائے لائے اور عائشہ کو
تھے ۔ عائشہ نے جلدی سے چھری نکالی اور جلدی سے سیکھنہ دیکھنے کے لیے کمرے میں گیا لیکن اسے نہ ملی ادھر سکینہ بھی
کے منہ ہر ہاتھ رکھ کر چھری اس کے گلے پر رکھ دی لیکن چائے نہ لے کر آئی تھی وہ تھوڑا حیران ہوا کہ آج کیا مات
اسکے گلے پر چلا نہ سکی کیونکہ سکینہ نے عائشہ کا ہاتھ پکڑ لیا تھا ہے وہ فورا باہر گیا اس نے چوکیدار کو آواز دی اور پوچھا
وہ عائشہ کو گرانا چاہتی تھی اس نے عائشہ کو جھٹکے دے کر خود کو سب کہاں ہیں تو اس نے لاعلمی کا اظہار کیا اور یہ بھی کہا کہ
بچانا چاہا لیکن عائشہ نے اسے نہیں چھوڑا وہ عائشہ سے باہر کوئی بندہ نہیں گیا سب اندر ہی ہوں گے اس نے
اپنے آپ کو چھڑانے کو بھر پور کوشش کر رہی تھی لیکن وہ پورے گھر کو چھان مارا لیکن گھر میں کوئی نہیں تھا عائشہ کی
عمر رسیدہ عورت اور عائشہ جوان تھی لیکن پھر بھی کافی دیر کی سب چیزیں بھی موجود تھیں وہ صوفے کی پشت سے
کوشش کے بعد وہ عائشہ سے اپنے آپ کو چھڑانے میں سرنکائے سوچ رہا تھا سب کہاں گئے ہیں اس کے ذہن
کامیاب ہوگئی اور سیڑھیوں کی طرف بھاگی عائشہ بھی فورا میں آیا کیوں نہ پولیس کو اطلاع کرے اس فون کرنے کے
اس کی طرف لپکی کیونکہ اس نے ساتھ ساتھ بچاؤ بچاؤ کہنا لیے آنکھیں کھولی تو اس کی نظر فرش پر پڑی تو وہاں سرخ
بھی شروع کر دیا تھا عا ئشہ نے اسے چوتھی سیڑھی پر جالیا اور خون کے قطرے تھے ایک لائن میں تھے جو باہر کی طرف
نیچے کی طرف کھینچا اور اس کے بازوؤں کو قابو کر کے اس جا رہے تھے جہاں پچھلا دروازہ تھا گھر کا اس نے ہاتھ پر
کے دل میں خنجر اتار دیا عائشہ کے لیے آج بہت مشکل ہوئی لگا کر دیکھا تو وہ خون تھا یہ کیا ہے وہ بہت سخت پریشان
تھی وہ بانپ رہی تھی اب اس نے خنجر اس کی گردن پر پھیرا ہو گیا کہیں عائشہ کو کچھ ہو تو نہیں گیا وہ اندر کی طرف بھاگا
اور ایک برتن میں اکٹھا کیا اور بہت پر ڈالا اور جلدی ہے جہاں سے خون کے قطرے آرہے تھے خون کے قطروں پر
گردن پر رکھ دیا خون دیکھ کر اس پر وحشت طاری ہو گئی تھی دیکھتے ہوئے وہ تہہ خانے کے دروازے تک پہنچ گیا
وہ خون پی رہی تھی یکدم سے اسے لگا جیسے کوئی دروازہ پیٹ اور پریشانی میں دروازہ بجانے لگا عائشہ دروازہ کھولو کیا ہوا
رہا ہو تہہ خانے کا بڑے زور سے وہ سیدھی کھڑی ہوئی ہے تمہیں کیا ہوا ہے وہ پریشانی میں دیکھ ہی نہ سکا کہ دروازہ
اور پریشان نظروں سے دروازے کا طرف دیکھنے لگی اس باہر سے بند ہے کافی دیر دروازہ پیٹنے کے بعد جب دروازہ
کے ذہن میں ہلچل ہو رہی تھی اسے کچھ کجھ نہیں آرہا تھا یہ کیا نہ کھلا تو وہ تھک ہار کر بیٹھ گیا اچانک اس کی نظر دروازے
ہور ہا ہے اس نے بت کو دیکھا اور آنکھیں بند ہونے کے کے ہینڈل پر پڑی تو اس نے اسے پکڑ کر کھولا تو دروازہ کھلتا
قریب تھیں کہ ایک دم خاموشی چھا گنا۔
ہی چلا گیا جب اس نے اندر کا منظر دیکھا تو اسے لگا کہ اس
کی آنکھیں بند ہورہی ہیں منظر ہی کچھ ایسا تھا ایک دم
محسن اپنے آفس میں بیٹھا ہوا تھا وہ سوچ رہا تھا کہ خاموشی چھائی تو عائشہ اپنے ہوش حواس میں لوٹ آئی
اس نے اپنی بیوئی کے ساتھ اچھا نہیں پا ایک بے وفائر کی عائشہ خالی خالی نظروں سے دروازے کی طرف دیکھ رہی
کے لیے اپنی بیوی کو دور کیا اگر وہ اپنی آنکھوں سے نہ دیکھتا تھی کہ کیا ہوا ہے اتنے میں بت کی آنکھیں روشن ہوئیں
تو بھی یقین نہ کرتا اچھا ہوا جو مجھے پتہ چل گیا ورنہ میں اپنی عائشہ میرے پاس آ میں تجھے بتاتا ہوں کہ کیا ہوا ہے یہ
بیوی کو ہمیشہ کے لیے کھودیتا شکر ہے اب سب ٹھیک سب اس طاقت کا کرشمہ ہے جو میں نے تجھے دی ہے
تیرے لیے خطرہ ہے تیرا شوہر آنے والا ہے اور تیرے تیز لائٹ اس کی آنکھوں میں پڑی اور کوئی چیز اس کے
لیے بہتر ہے کہ تو یہاں سے چلی جامجھے تیرا آنے والا وقت ساتھ ٹکرائی شدید درد کا احساس ہوا اسے اس کے بعد اسے
نظر آرہا ہے اگر تو یہاں رہی تو بہت بڑی مشکل میں پھنس کچھ ہوش نہ رہا۔
جائے گی اور میں بھی کچھ نہیں کر سکوں گا کیونکہ تیرا شوہر پکا عائشہ کی جب آنکھ کھلی تو وہ ایک عالی شان کمرے
مسلمان ہے وہ بھی برداشت نہیں کرے گا جو تو سب کچھ کے بیڈ پر تھی آہستہ آہستہ اس کے ذہن میں گزرے
کرتی ہے تو چل یہاں سے جلدی کر لیکن آقا یہ سب کیا واقعات گھومنے لگے دروازہ بج رہا تھا وہ اپنے ہی گھر سے
ہورہا ہے کیوں میں محسن کو چھوڑ کر کیسے جاسکتی ہوں بھاگ نکلی تھی پھر اس کی تک کسی سخت چیز سے ہوئی اور
میں نے اس کے لیے سب کچھ کیا تھا بچہ خطرہ بڑھ رہا ہے اسے کچھ ہوش نہ رہا تھا اب اسے محسین کی یاد آ رہی تھی کہ پتہ
چل یہاں سے چلی جا جلدی مجھے اٹھا اور پر آقا با ہر کون نہیں وہ کتنا پریشان ہو گا وہ حیران تھی کہ کہاں ہے کون لایا
ہے کوئی نہیں ہے بچہ چل بچہ آقا یہ لاش بچہ لاش کو غائب ہے اسے یہاں اسے محسن کی یا دستیار ہی تھی اس کی آنکھوں
کرنے کا ٹائم نہیں ہے عائشہ نے جلدی سے بت کو اٹھایا میں آنسو آگئے اس نے یہ سب محسن کا پیار پانے کے لیے
اور دروازے کی طرف بڑھی۔
کیا تھا اب اس سے ہی بھاگ رہی تھی پتہ نہیں وہ کیسا ہوگا
لیکن مجھے یہاں کون لایا ہے میں اس سے بڑے خطرے
محسن نے جب دروازہ کھولا تو سامنے خون ہی خون میں پھنس گئی تو کیا ہوگا عائشہ فورا اٹھ کر بیٹھ گئی اس نے سوچا
تھا اسے لگا اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا آرہا ہو اس مجھے یہاں سے جلد نکل جانا چاہیے دو بیڈ سے نیچے اترنے
نے خود کو سنبھالا اور اندر کی طرف گیا تو اس نے دیکھا کہ لگی تھی کہ دروازہ کھلا ایک ادھیڑ عمر شخص اندر داخل ہوا
میکند کی لاش کی گردن کئی پڑی ہے عائشہ یہاں بھی نہیں لی دیکھنے سے ہی وہ بارعب اور شریف انسان لگ رہا تھا۔
اس کی پریشانی بڑھ گئی عائشہ کہاں ہے کہیں عائشہ کو کچھ بیٹا آپ کو ہوش آگیا شکر ہے بیٹا آپ کو زیادہ
ہونہ گیا ہو اللہ نہ کرے وہ فورا سٹنگ روم میں آیا اور پولیس چوٹ نہیں آئی بیٹا آپ اس سڑک کے درمیان کیوں بھاگ
کو فون کیا پولیس آئی اور جائزہ لیکر چلی گئی اور اسے قاتل کو رہی تھیں اس شخص نے آتے ہی پوچھا عائشہ و ہوہ میں چلو
ڈھونڈ نے لگی محسن کی پریشانی بڑھتی جارہی تھی اس نے بیٹا ر ہنے دو ابھی تمہاری طبیعت کیسی ہے بھوک لگی ہے وہ
عائشہ کو خود ہی ڈھونڈنے کا فیصلہ کر لیا اس نے اپنے تمام آپ مجھے بیٹا آپ مجھے انکل کہہ سکتی ہو انکل مجھے یہاں
جاننے والوں کو فون کیا عائشہ کی سہلیاں سب سے پتہ کیا آپ لے کر آئے ہیں۔
لیکن نہیں بھی پتہ نہیں چلا۔
نہیں بیٹا آپ میری بیٹی کی گاڑی سے ٹکرا گئی تھیں
پھر اس نے اپنی بیٹی سانیہ کو آواز دی بیٹا مہمان کے لیے
عائشہ مورتی لے کر پچھلے دروازے سے باہر نکلی تو کچھ کھانے کے لیے لاؤ پھر ایک لڑکی جس کے حسن کی
نام کا اندھیرا تھاوہ مورتی کونے کر شمال کے رخ پر بھاگنے تعریف جتنی بھی کروں کم ہوگی خوبصورت نین نقش بھرے
گئی اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیا کرے کس طرف بھرے گال اور پنک رنگ وہ کسی پری کی طرح پاک
جائے اس کا گھر غیر گنجان آباد علاقے میں تھا عائشہ کو صاف پاکیزہ لگ رہی تھی۔
جانتے ہوئے دو گھنٹے ہو گئے تھے اب وہ کافی تھک چکی تھی اوہ آپکو ہوش آگیا میں سانیہ ہوں مجھے پیار سے سنی
عام حالات میں عائشہ شاید دس منٹ بھی نہ بھاگتی لیکن کہتے ہیں آپکا کیا نام ہے جتنی وہ خود خوبصورت بھی اتنی ہی
نسانی خون پینے کا اثر تھا کہ وہ مردوں سے بھی زیادہ خوبصورت ہی اس کی آواز بھی میرا نام عائشہ ہے اچھا آپ
۔ رہی تھی عائشہ نے سڑک کا موڑ مڑا تو ایک دم کوئی کچھ کھا لو پھر آرام سے باتیں کریں گے اچھا بیٹا آپ آرام
کر او بعد میں ملاقات ہوگی سانیہ نے مجھے جوس دیا اور محسن بھائی کیسے ہیں آپ عائشہ کا کیا حال ہے
ساتھ کچھ سنیکس بھی تھے عائشہ اور کچھ چاہیے ہو تو بتا دیں میں پچھلے دس دن سے شہر سے باہر گئی ہوئی تھی کل واپر
نہیں بس کافی ہے عائشہ جب سنیکس سے فارغ ہوئی تو ہوئی ہے آج میں عائشہ سے ملنے کے لیے آنا تھا جوار
میں محسن نے سب کچھ بتادیا ساری تفصیل سننے کے بعد
سانیہ نے کہا۔
عائشہ آپ بھاگ کیوں رہی تھی کیا آپ کے پیچھے کا رنگ از گیا سے کچھ سمجھائی نہیں دے رہاتھ پھر اس
کوئی لگا ہوا تھا کوئی عائشہ نے ذہن میں سوچا اسے سچائی محسن کو اپنے ساتھ گھر آنے کا کہا لیکن محسن نے انکار کر
نہیں بتانی چاہیے عائشہ نے کہا ہاں میرے پیچھے کچھ آوارہ نے محسن کانسیل نمبر لے لیا تا کہ عائشہ کے بارے میں
نز کے لگ گئے تھے میں اپنے جارہی تھی کہ گاڑی رہتے چلتا رہے۔
میں خراب ہو گئی تو گھر زیادہ دور نہیں تھا میں نے کہا پیدل
ہی چلی جاتی ہوں کہ وہ آوارہ لڑ کے پیچھے لگ گئے اوہ اسی صبح عائشہ کی آنکھ کھلی تو سانیہ نے اسے ناشتہ کر
لیے آپ میری گاڑی سے ٹکراگئی تھیں اچھا آپکے گھر میں اس کے دونوں گپ شپ کرنے لگتی عائشہ نے اس سے
کوان کون ہے میرا شوہر محسن وہ ملک سے باہر ہے عائشہ مورتی کے بارے میں پوچھا منگوائی ہے کہ نہیں اس نے
نے جھوٹی کہانی بناتے ہوئے کہا اچھا آپ کے ہاتھ میں منگواتی ہوں عائشہ دل میں سوچنے لگی اس لڑکی میں بہر
ایک مورتی تھی آپ کا نام مسلمانوں والا ہے آپکا مذ ہب کیا خون ہے سرخ سرخ اس کے رخسار اس کی خونی پیاس کو
رہے تھے اس نے سوچا کیوں نہ اس کا ہی آج خون
بند و ے۔۔
نہیں میں مسلمان ہوں
وہ تو میں میرا مطلب ہے جائے سانہ بھی اس کی طرف ہی دیکھ رہی تھی یکدم ما
کہ مجھے پرانی چیزوں کا جنون ہے تو میں ایسی چیزیں اکثر چوٹی اور حیرت سے عائشہ اچھل ہی پڑی جب سایہ نے
خریدتی رہتی ہوں اچھا وہ ہے کہاں۔۔
خون کا انتظام ہے تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت
وہ گاڑی میں پری ہے رات کافی ہو چکی ہے صبح ہے میں ابھی لیکر آئی اور جب سانیہ کمرے میں داخل )
اسے منگوالیں گے آپ آرام کریں صبح بات ہوگی گڈ نائٹ تو اس کے ہاتھ میں جگ تھا اور دو گلاس تھے اس نے اے
سانیہ کہہ کر چلی گئی اور عائشہ نے بھی آنکھیں بند کر لیں اور گلاس میں عائشہ کے لیے خون ڈالا ایک میں اپنے
گزرے ہوئے حالات کے بارے میں سوچنے لگی اور پھر عائشہ حیران پریشان سانیہ کو دیکھ رہی تھی سانیہ نے اس
اس کی آنکھیں بند ہونے لگیں۔
سامنے ایک گلاس خون کا غٹاغٹ لی گئی زیادہ مت
آدم خورد و شیزہ
محسن اسے سب جگہ ڈھونڈ دھونڈ کر تھک گیا تھا پر لیکن تم کیسے جانتی ہو اور تم بھی ایسا کیوں عائش
کہیں پتہ نہیں چلا تھا اس کے دل میں بار بار یہ خیال منہ سے ٹوٹے ہوئے الفاظ نکل رہے تھے مجھے اپنی
یر ہاتھا نہیں اس نے عائشہ کو مارنہ دیا ہو جس نے سکینہ کو سمجھو میرے بارے میں کسی کو علم نہیں تھا کسی کو بھی
قتل کیا۔ آخر کار محسن کے بھی ذہن نے یہ قبول کرنا لیکن اب تمہیں پتہ ہے سرف میں تمہیں سب بتاتی ہو
شروع کر دیا تھا کہ اب عائشہ اسے نہیں ملے گی ایک دن پہلے یہ پی لو اگر ڈیڈی آ گئے تو مشکل ہو جائے گا عائشہ
محسن بازار سے کچھ چیزیں خرید رہا تھا کہ اسے کسی نے پکارا گلاس ہونٹوں سے لگا لیا اور پی گئی ایسے جیسے کوئی بہت
آواز نسوانی تھی اس نے پلٹ کر دیکھا تو پیچھے من گھڑی مزیدار مشروب ہو خون ختم کرنے کے بعد سامیہ برتن
عائشہ کی بچپن کی دوست اس کی اس سے ملاقات آج کر چلی گئی اور تھوڑی دیر بعد وہ لوٹ کر آئی مجھے ا
دو سال بعد ہورہی تھی۔
مزا نہیں آتا تھا اب تم مل گئی ہو تو کیا خوب گزرے گی
urduے بعد وہ دونوں بہنے لگیں حد تک شوق تھا میں لائبریری میں کتا ہیں لینے گئی تو دیکھا
ابھی وہ ہنس رہی تھیں کہ اس کے ڈیڈی اندر آگئے ہاں بھئی ڈیڈی وہیں تھے ایک الماری جسے ہر وقت تالا لگا رہتا تھا
خوب باتیں ہو رہی ہیں اس کے ڈیڈی نے صوفے پر بیٹھتے کھول کر اسمیں سے کوئی کتاب تلاش کر رہے تھے میں بھی
دبے پاؤں ان کے پاس جا کر کھڑی ہوگئی اس الماری
ہوئے کہا جی زیدی ۔
بیٹا اگر تم ٹھیک ہو تو تمہیں گھر چھوڑ آؤں عائشہ کی میں بڑی بڑی رنمین تصاویر والی لیکن پرانی اور بوسیدہ
جنسی یکدم غائب ہو گئے وہ سوچنے لگی میں گھر کیسے جاسکتی کتا بیں تھیں مجھے اپنے پاس پا کر ڈیڈی تھوڑ اسا چونکے پھر
ہوں وہاں محسن کو پتہ چلا کہ میں خون پیتی ہوں تو وہ مجھے انہوں نے تیزی سے الماری کے پٹ بند کرنے چاہیے
زندہ نہیں چھوڑے گا سانیہ عائشہ کے بولنے سے پہلے ہی لیکن میں دیکھنے کی ضد کر بیٹھی انہوں نے مجھے کتابیں
بول پڑی ڈیڈی اس کا کوئی گھر نہیں ہے یہ بے سہارا ہے دیکھنے کیا جازت دے دی لیکن اس شرط پر کہ صرف دیکھنی
اور بہت ہی دکھی ہے اس نے مجھے سب بتا دیا ہے میرا میں با ہر نہیں نکالنی دیکھ کر اندر ہی رکھ دینی نہیں اس بات کی
خیال ہے اسے آرام کرنے دیں میں آپ کو سب بتاتی انہوں نیکوئی وجہ پیش نہیں کی جس سے میرے دل
ہوں آپ چلیں میرے ساتھ پھر سانیہ اور اس کینڈیڈی چلے میں کتابوں کو بغور سے دیکھنے کی خواہش جڑ پکڑتی گئی میں
گئے عائشہ لیٹ کے سوچنے لگی شاید سانیہ نے میرے دل کتابوں کو دیکھنے میں دانستہ دیر لگائی جس سیا کتا کر ڈیڈی
کی بات پڑھ لی ہے یہ لڑکی پتہ نہیں اپنے اندر کیا کیا کی نظر جیسے ہی ادھر ادھر ہوئی میں نے ڈیڈی کی نظرت
پر اسرار طاقتیں لیے ہوئے ہے جو بھی ہے اس نے مجھے بچا کر ایک بڑی موٹی کتاب چھپا کر رکھ لی پھر موقع ملتے
اپنے پاس رکھا ہے یہ ہی کافی ہے اتنے میں سانیہ اندر آ گئی ہی اسے اپنے کمرے میں لے آئی بس اس رات سے
سانیہ تم نے کیسے جانا کہ میں گھر نہیں جاسکتی تم نے اپنے میری زندگی کا ایک نیا دور شروع ہو گیا سانیہ نے کہا اس
ڈیڈی سے کیا کہا ہے سب بتاتی ہوں پہلے اپنے بارے رات اس رات سانیہ سسک پڑی میں نے اپنے کمرے کا
میں مجھے سب بتاؤ پھر میں بھی بتاتی ہوں عائشہ نے اپنے دروازہ حسب معمول اندر سے بند کر لیا بستر پر بیٹھ کر کتاب
بارے میں سب کچھ اسے بتادیا جسے سن کر سانیہ نے افسوس کو سامنے رکھ لیا یہ بڑے سائز کی کتاب تھی جس کے باب
کا اظہار کیا عائشہ نے کہا اب تم بتاؤ کہ یہ ایک لمبی کہانی ہے نامانوس زبان میں کچھ لکھا تھا وہ شاید اس کتاب کا نام تھا
جب میں نے ہوش سنبھالا تو ٹھیک تھی سوائے اس کی کھانے جسے میں ابھی پڑھنے کی کوشش کر رہی تھی کہ اچانک
میں سبزیاں اور دالیں ذرا پسند نہیں تھیں اور گوشت کی میں میں نے محسوس کیا کہ یہ زبان میرا از بین قبول کر رہا ہے لکھا
بری طرح دیوانی تھی جب بھی گھر میں گوشت یا قیمہ نہ پکتا تھا زرکاش قبیلے کی تاریخ اور رسم و رواج تفصیل پڑھنے سے
تو میں پورا گھر سر پر اٹھا لیتی تھی میری وجہ سے ممی ڈیڈی ہر پتہ چلا کہ یہ افریقہ کے دور دراز علاقوں میں آباد کوئی قدیم
وقت فریج میں گوشت مچھلی اور قیمہ رکھتے تھے لیکن مجھے پر اسرار قبیلہ جو مہذب دینا سے ناواقف ہے اس کتاب کی
گوشت کی اتنی شدید طلب ہوتی کہ بعض اوقات فریج تصاویر انتہائی خوفناک بلکہ کراہت آمیز تحصین ورق گردانی
میں سے کچا گوشت ہی نکال کر کھانا شروع کر دیتی اور سے پتہ چلا کہ یہ قبیلہ ابلیس کی پوجا کرتا ہے اور یہ آدم خور
آہستہ آہستہ میری کچا گوشت کھانے کی عادت پختہ ہوتی قبیلہ معمولی پتوں سے ستر پوشی کرتے ہیں اور تنگ و تاریک
چلی گئی لیکن میں یہ کام نہایت راز داری سے کرتی سوائے جنگل کے دلدلی علاقوں میں رہتے تھے انکے قریب ایسا
میریذات کے اور کوئی اس میں انوالو نہیں تھا یہ اندنوں کی پہاڑ ہے جس کے اندر ہی اندر قدرتی غاروں کے اندر
بات ہے جب میں آٹھویں جماعت نہیں پڑھتی تھی میرا رہائش رکھی ہوئی ہے اس قبیلے کا نظم ونسق ایک سردار اور اس
کمرہ شروع سے ہی الگ تھا مطالعے کا بھی مجھے منون کی کے پانچ مذہبی پیشوا چلاتے ہیں اس قبیلے میں جو بھی بچہ
پیدا ہوتا ہے اس کو مقدس سمجھا جاتا ہے اور پیدائش سے حسن گھر میں بیٹھا ہوا تھا وہ عائشہ کو ڈھونڈ ڈھونڈ کے
دو سال بعد قبیلے کے مذہبی پیشوا اسے ایک خاص کنیا تھک چکا تھا پولیس نے بھی کوئی جواب نہ دیا سراغ لگایا تھا
میں رکھ کر اس پر مختلف تجربات اور عمل کرتے ہیں جس سے انٹیمیں دروازے پر بیل ہوئی نوکرانی نے دروازہ کھولا تحسن
اس بچے میں چند مافوق الفطرت خصوصیات پیدا ہو جاتی نے کھانا پکانے کے لیے نئی نوکرانی رکھی تھی تا کہ کھانے کا
باقی کاموں کا مسئلہ حل ہو جائے اتنے میں سمن کی آواز محسن
ہیں۔
وہ کون سی خصوصیات ہیں۔ عائشہ پوچھے بنا نہ رہ سکی بھائی ہیں گھر پر تو نوکرانی نے اسے اندر لے آئی محسن بھائی
ہیں یہ کہ وہ لوگوں کے ذہن پڑھ لیتا ہے دوسری یہ کہ کیا حال ہے عائشہ کا کچھ پتہ چلا نہیں۔ محسن نے جواب
فاصلے اس کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتے تیسری یہ کہ وہ دیا محسن بھائی جب آپ عائشہ سے ناراض تھے تو ہملوگ
ایک بار بابا کے پاس گئے تھے وہ بہت پہنچا ہوا ہے اس کی
اپنی بھی شکل میں رو بدل کر سکتا ہے۔
حیرت انگیز عائشہ کے منہ سے نکلا ۔ اس کتاب میں وجہ سے عائشہ اور آپ پھر جنسی خوشی رہنے لگے ہیں۔
جو تصویر میں تھیں وہ بھی حیران کن تھیں عام آدمی انہیں د یکھ کیا کیا مطلب ہے تمہارا محسن نے کہا پھر سمن نے
کر ہی حواس باختہ ہو سکتا ہے ایک تصویر میں زندہ انسانوں مشورہ دیا اس کے پاس چلنے کا جب وہ لوگ اس بابا کے
کا گوشت قبیلے کے لوگ گدھے اور سور کے پیوند والے پاگئے تو وہاں بابا موجود نہیں تھا انہیں بتایا گیا تھا کہ یہاں
جانور کی پوجا کر رہے ، اور ایک تصویر میں لوگ زرکاش کوئی بابا نہیں رہتا ہے اور سمن یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ
نیچے کے دل اور دمات کھول کر مذہبی پیشوا اسے مافوق وہاں پر وہ عمارت نہیں تھی جس میں وہ پہلے آچکے تھے من
الفطرت بنارہے ہیں اسی نے ایک اور تصویر میں بھی سفید نے محسن سے کہا۔
چیز کی والے مہذب دنیا کے لوں الٹے لٹکے ہوئے ہیں اور محسن بھائی مجھے طرح یاد ہے یہاں ہی ہم دونوں
ان کی شبہ رئیں کئی ہوئی ہیں نیچے تالاب میں زرکاش آئی تھیں سمن شاید تمہیں غلط نبی ہوئی ہے نہیں محسن بھائی
بچوں
کو نہلایا جارہا ہے خون سے اسی طرح تصویروں کو کوئی غلط نہیں نہیں مجھے یاد ہے سب اب کیا کریں محسن نے
دیکھتے دیکھتے میں ایک ایسی تصویر ک جار کی جس میں کہا۔ یمن تھوڑی دیر سوچتی رہی پھر بولی محسن بھائی میں
ز رکاش نسل کا ایک مرد اور عورت ابلیس دیوتا کے بہت کی ایک اور بابا کو جانتی ہوں اس کے پاس چلتے ہیں پھر وہ
و جا کر رہے ہیں ان کی آنکھیں آنسوؤں سے لبریز تھیں دونوں گاڑی میں بیٹھ کر اس بابا کی طرف چل دیئے اس بابا
میں تصویر کو با غور دیکھ رہی تھی کہ مجھے محسوس ہوا کہ تصویر میں کا ٹھکانہ شہر کے شمال میں قدرے ویران علاقے میں تھا
موجود ابلیس دیوتا کی آنکھوں نے حرکت کی ہے پہلے تو جب ہم اس کے ٹھکانے پر پہنچے تو وہاں اپنوں کی دو کنال
میں نے اسے
و ہم سمجھا جب دوسری بار آنکھوں نے حرکت کے رقبے پر چار پانچ فٹ اونچی دیوار بنی تھی اس کے اندر
کی تو میرے سارے جسم میں سرائیکی پھیل گئی میں صفحہ ایک اینوں
کا کرہ تھا وہاں لوگوں کا کافی رش تھا ہماری باری
النے کی بہت کوشش کی لیکن میرے ہاتھوں نے حرکت دو گھنٹے بعد آئی و اندر گئے تو اندر ایک گندا مندرا اور نبی
کرنے سے انکار کر دیا اور میں ساکت ہوگئی ابلیس کا بت داڑھی والا اسے دیکھ کر کراہت آرہی تھی آدمی بیٹھا ہوا تھا
بار بار آنکھوں کی تبدیلیوں کی جنبش سے مجھے دیکھنے لگا جب ہم نے اسے اپنا مسئلہ بتایا تو اس نے آنکھیں بند
اور پھر اس کے پتھر یلے ہونٹوں نے حرکت کی اور ان پر کرلیں اور کچھ منہ میں پڑھتارہا ایک دم اس نے آنکھیں
ہ مسکراہت نے بسیرا کر لیا میرا دل دھک دھک کھول لیں اس کی آنکھیں سرخ انگارہ ہورہی تھیں پھر اس
نے ہمیں دیکھتے ہوئے کہا۔
کرنے لگا۔
تم لوگ یہاں سے چلے جاؤ میں تم لوگوں کی مدد نہیں
کر سکتا لیکن بابا کیوں ۔ کیا مسئلہ ہے کیا ہے ہم آپ کو جتنے صورتحال کا مقابلہ نہ کر سکی بے ہوش ہو گینی آنکھ کھلی تو صبیح
آپ مانگیں گے اس سے زیادہ پیسے دیں گے پلیز ہماری ہو چکی تھی دیکھا تو وہ کتاب کمرے میں نہ تھی میں اس واقع
مدد کریں میری بیوی غائب ہے میری نوکرانی قتل ہوگئی ہے کا کسی سے ذکر نہ کیا وقت دھیرے دھیرے گزرتا رہا اں
کچھ تو بتا ئیں محسن نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا وہ لوگ جن واقعے کو دو سال بیت گئے ایک دن میری ماں کا
کی وجہ سے یہ سب ہوا ہے وہ مجھ سے بڑی طاقت والا ہے روڈ ایکسیڈنٹ ہو گیا
میں نے تمہیں کچھ بتایا تو مجھے جلا کے بھسم کر دیا جائے گا ہم جب ہسپتال پہنچے تو ماں اکھڑی اکھڑی سانسیں
تمہاری بیوی کالے جادو اور شیطانی طاقتوں کے چکر میں لے رہی تھیں انہوں نے میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر
پڑ گئی ہے بس اس سے زیادہ کچھ نہیں بتا سکتا چلے جاؤ جاؤ۔ مجھے قریب ہونے کے لیے کہا پاپا اس وقت دوائی لینے گئے
بابا ہم پر رحم کریں کچھ تو بتا ئیں۔
تھے پھر میری ماں ایک انکشاف
کیا بیٹا میں تمہاری سگی ماں
ٹھیک ہے تمہاری مدد صرف ایک آدمی کر سکتا ہے نہیں تمہیں بنی کی چاہا اور ہمیشہ اپنی بیٹی سے بھی زیادہ پیار
اس کے پاس چلے جاؤ ہو سکتا ہے وہ کچھ مدد کریں پھر اس کیا میری بخشش کی دعا کرنا یہ تمہارا مجھ پر احسان ہو گامی یہ
نے ہمیں ایک پتہ بتایا ہم نے اس وقت وہاں جانے کا کیا کہہ رہی ہیں باں میری بچی یہ بچی ہے ماں میرے
فیصلہ کر لیا کیونکہ میں بہت پریشان ہو گیا تھا شیطانی طاقت والدین کہاں ہیں
کا سن کر ہم جب وہاں پہنچے تو وہ ایک مزار تھا ہم نے ادھر بیٹا ایک دفعہ تمہارے ابو اور میں میرے لیے گئے وہ
ادھر دیکھا نہیں بابا نظر نہیں آئے وہاں کافی لوگ جو نظرانہ افریقہ کا ایک پسماندہ علاقہ کا نگو تھا افریقہ کے جنگلات
عقیدت پیش کرنے آئے تھے ایک طرف جھونپڑی تھی بہت مشہور ہیں ہم نے جنگل کی سیر کے لیے ایک بیلی کا پر
وہاں بھی کافی لوگ تھے ہم اس طرف گئے تو محسن نے ایک لیا اس کا پائلٹ جانی تھا جو تمبر را گائیڈ بھی تھا وہ اس
سارے علاقے کے بارے میں بھی نرخ جانتا تھا ہم نو
آدمی سے پوچھا۔
مطلوبه
یہاں کیوں رش ہے تو اس نے بتایا کہ ہم یہاں بجے نہیلی کاپٹر پر سوار ہو کر روانہ ہوئے جانی ہمیں ساتھ
اپنے مسئلے باباجی سے حل کروانے کے لیے آئے بہت ساتھ جنگل کے بارے میں بتایا جار ہا تھا اس نے ہمیں بتانا
اچھے اور پر ہیز گار بابا جی میں تو محسن کو پتہ چل گیا کہ ہمارا شروع کیا کہ جنگل بہت گھنا ہے : جنگل کے درمیان بہت
شخص یہ ہی ہے تو محسن اپنی باری کا انتظار کرنے لگا خطر ناک اور عجیب و غریب رسوم والے ایسے قبائل آباد
سب سے آخر میں محسن اور من کی باری آئی تو وہ لوگ اندر ہیں جو آدم خور نہیں کہ قبائل مہذب : نیا سے پوری طرح
گئے تو محسن نے دیکھا وہ باباجی بہت بارعب اور نوارنی کے ہوتے ہیں اگر وہ عرب دنیا کے لوگ ان کے قریب بھی
چہرے والے بابا میں انکے چہرے پر سفید داڑھی اور چلے جائیں تو وہ ا نو کپڑے کر ان کچا کھا جاتے ہیں، ہاں
ہاتھوں میں تسبیح ہے بابا کی آواز گونجی اندر آ جاؤ وہاں کیوں کی وجہ سے سیاح نے جنگلات کے قریب بھی نہیں جھنکتے
گھڑے ہو حسن بیٹا۔
اپنی قبائل میں ایک نبیلہ زر کاش ہے جو انتہائی غیر مہذب
محسن بڑا حیران ہوا کہ باباجی کو کیسے پتہ چلائن خطر ناک وحشی اور آدم خور ہونے کے ساتھ ساتھ بے حد
اندر جاکر ان کے پاس بیٹھ گیا اور پوچھا بابا جی آپ کو کیسے پر اسرار ہے اس قبیلے کے لوک نیرت انگیز صلاحیتوں کے
تم ہوا ۔ بچہ خدا کی مہربانی ہے آپ بتاؤ کیا مسئلہ ہے جن مالک ہوتے ہیں جانی کی باتیں سن کر تمہارے ؟ یکی کا
نے اپنا سارا مسئلہ باباجی کو بتایا یہ بات سن کر وہ بزرگ اشتیاق بڑھتا گیا تمہارے ڈیڈی نے جانی سے فرمائش کی
یک اور کمرے میں چلے گئے ۔
کہ وہ اس قبیلے وہ سب سے دیکھنا چاہتے ہیں پیتے تو
بیں ہی تو تھی رات کے سنانے میں ایسی خوفناک تمہارے ڈیڈی کے کہنے پر جانی نے انکار کر دیا کہ وہاں
جان کا خطرہ ہے لیکن تمہارے ڈیڈی کے اصرار کے آگے ساتھ پہرہ بھی لگا دیا سب کچھ چند منٹوں میں ہو گیا ہم
ہتھیار ڈالنے پڑے جانی نے ہیلی کاپٹر کا رخ اس قبیلے کی سیاح سے قیدی اور وہ بھی آدم خور قبیلے کے بن گئے تھے ہم
طرف کر دیا موسم صاف تھا پرواز قدرے بیچی تھی میرے سب کے چہروں پر موت کی زردی چھا گئی تمہارے ڈیڈی
پاس جدید نیمرہ تھا جس سے میں گاہے بگا ہے تصویر میں نے مجھے حوصلہ دیا اور کہا۔
نے رہی تھی تقریبا دس منٹ بعد جانی نے بتا یا ادم خور قبیلے کا ہمیں یہاں سے نکلنے کی ترکیب سوچنی چاہیے اس
علاقہ شروع ہو گیا۔
لیے کہ میرا رو رو کے برا حشر ہو رہا تھا کچھ دیر بعد گھاس
وہاں ہمیں جھونپڑی اور وحشی بھیجنگ دکھائی : پے پھوس بنایا جانے لگا اور پھر اوپر سے بدشکل وحشیوں کے
جانی نے بدایت کے مطابق پرواز اور نیچی کر لی اب بیلی چہرے جھانکتے نظر آنے اور پھر رسیوں کی بنی سیڑھی لڑکائی
کا پیر زمین سے 300 فٹ کی بلندی پر تھا اور دائرے میں گئی زبان تو ہم ان سمجھ نہیں سکتے تھے مگر ہم نے اندازہ لگایا
چکر لگا رہا تھا تا کہ نیچے کا منظر آسانی دیکھ سکیں اور تصاویر کہ وہ چاہتے ہیں ہم باہر آئیں کچھ وہ اشارے بھی گر
بھی لے سکیں وحشی ہمیں دیکھ کے شور و غل کرنے کیلئے رہے تھے باہر صورتحال بڑی عجیب تھی دائرے میں تمام
تمہارے ڈیڈی نے واضح دیکھنے کے لیے جانی کو نیلی کا پر وحشی کھڑے تھے ایک طرف آگ کا الا و روشن تھا جسے دیکھ
اور نیچے لے جانے کے لیے کہا اب بستی کا منظر صاف نظر آ کر ہم سہم گئی ایک طرف چبوترے پر بڑی بھیا تک شکل
رہا تھا بنعم سب بہت خوش تھے کہ اچانک بیلی کا پیر کے فن والا شخص بیٹھا تھا۔
روٹر کسی چیز سے ٹکرائے اور میل کا پنیر ڈولنے لگا دراصل ہم ہمارے ماء و 3 اور آدمی تھے ہم لوگ سمجھ گئے کہ
بستی کا نظارہ کرنے میں اتنے محو تھے کہ جانی کا دھیان بھی ہمارا آخری وقت آگیا ہے ان لوگوں نے صبح کا ناشتہ
ہٹ گیا بیلی کا پیٹر کے فن روٹر درختوں کی شاخوں سے ٹکرا ہمارے گوشت سے کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور پھر پتھر پر
گئے جس سے ہیلی کاپٹر کا رخ بدل گیا جانی نے اونچی آواز بیٹھے شخص نے عجیب و غریب زبان میں تیز تیز کچھ کہا تو
میں کہا ہیلی کاپٹر کو کنٹرول کرنے کے لیے نیچے اتارنا اچانک ہی وہ سب کچھ ہو گیا جو ہم نے سوچا بھی نہ تھا اس
ضروری ہے ورنہ تباہی کا خطرہ ہے اس نے ہمارا جواب شخص کی آواز سنتے ہی ایک وحشی نے جس کے ہاتھ میں
سے بغیر ہیلی کاپٹر نیچے تار دیا جانی کا خیال تھا چند نے نیزہ تھا وہاں موجود جو آدمی تھے ان میں سے ایک آدمی کے
توقف کے بعد ہیلی کاپٹر کو دوبارہ اٹھا کر اس کے رخ پیٹ میں گھونپ دیا اور اسے کچھ ایسے مخصوص انداز میں
تبدیل کر لیں گئے مگر خیال خیال ہی رہا نہیلی کاپٹر زمین پر زور دے کر گھمانے لگا جیسے پہنچے کس کو کماتے ہیں چند ھوں
بیچ
اترتے ہی زرکاش قبیلے کے باشندے درختوں کی اوٹ میں وہ آدمی مر گیا پھر وہ وشی : دسر ہے آدمی کی طرف
سے نکل کر بیلی کا پٹر کی طرف سرپٹ بھاگے اس سے پہلے بڑھنے لگا اس آدھی کے بعد ہماری باری تھی ہم خوف سے
کہ بیٹی کا پر ہم اوپر اٹھاتے وحشیوں نے بہیلی کاپٹر کوگھیر لیا تھر تھر کانپنے لگے۔
تھا دیکھتے ہی دیکھتے زرکاش وحشیوں نے مہیلی کاپٹر پر قبضہ جب بزرگ واپس آئے محسن بیٹا میری بات غور
تے سنو تمہاری بیوی کو شیطان نے برائی کے رستے پر ڈال
کرلیا۔
چند ایک جانی پائلٹ کو زدو کوب کرنا شروع کر دیا جہاں سے اس کی واپسی ممکن نہیں تمہارے اور تمہاری بیوی
نس سے رہی سہی امیدیں دم توڑ نئیں چند ہی لمحات میں کے درمیان تعلقات خوشگوار تھے تو یہ بچی اسے لے کر
انہوں نے کتنی کمائی کر نہیلی کاپنے سے اتار لیا گیا وہ ہمیں شیطان کے غلام گرو شنکر کے پاس گئی تا کہ تم اس سے
کیا میں لے کے چل دیئے تھوڑی ہیں اور جا کر ہمیں بارہ پیار کرنے لگ گر شنکر کو بھی ایک عورت کی تلاش تھی
رتے میں احکاہے کہ مراد یا او رام پر پتے رکھ دئیے اور جو اپنے خاوند سے بہت پیار کرنی ہو اور اپنے خاوند کے
لیے کچھ بھی کر سکتی ہو اس کے پیچھے اس کا خاص مقصد تھا فوراہی اپنی سیٹ سنبھال لی اور میں بھی
تک تو برائیوں کو پھیلا تا دو میرا اپنے اس شیطان کو خوش کرنا ہدایت کرنے لگا۔
کیونکہ تمہاری بیوئی پر ہیز گار بھی اس طرح برائیوں کی جیت مین اسی وقت تمہارے ڈیڈی کی نظر دو سالہ نہیں
ہوتی پھر بزرگ نے ساری تفصیل محسن کو بتادی محسن کو ایسے آنکھوں والی بچی پر پڑی جو ملکے سانولے رنگ
کی تھی اور وہ
جیسے اس کے سر پر آسمان ٹوٹ پڑا ہو حسن کے آنسو نہیں وحشیوں ہے الگ تھلگ محسوس ہورہی تھی میں بھی اس بچی
رک رہے تھے بزرگ نے کہا صبر کرو بینا صبر ہی سب کو دیکھ چکی تھی تو ہم دونوں کی نظریں ملیں میرا خیال تھا یہ
کسی ایسے جوڑے کی بچی ہے جن کے والدین کو یہ وحشی
مشکلات کا حل ہے۔
بابا جی اب
کیا ہو گیا جینا اب وہ انسانیت کی دشمن بن کھا چکے ہیں اسے ہم ساتھ لے چلتے ہیں اتنی دیر میں جانی
چکی ہے ہم اگر اس
کو ڈھونڈ بھی لیں تو کوئی فائدہ نہیں اس کو بیلی کا سپر سٹارٹ کر چکا تھا اور وہ آدمی جانی کے ساتھ بیٹھ
خون پینے کی عادت پڑ گئی وہ عادت نہیں چھوڑے گئی چکا تھا تمہارے ڈیڈی نے لپک کر اس بچی کو اٹھا لیا
چاہے کچھ بھی ہو نہیں بابا جی کچھ تو حل ہوگا کوئی تو طریقہ ہو اور تیزی سے ہیلی کاپٹر میں داخل ہوتے ہوئے بچی جو بری
کیا اسے بچانے کا نہیں بیٹا اب کچھ نہیں ہو سکتا اب تم کو ایک طرح مدافعت کرہی تھی اس کو میں نے دبوچ لیا
اہم فیصلہ کرنا ہو گا چونکہ تمہاری بیوی انسانیت کے لیے اور تمہارے ڈیڈی نے پھرتی پھرتی سے دروازہ بند کر دیا
خطرہ ہے اور اس کا ایمان بھی خراب ہو گیا ہے وہ اب کافر وحشیوں کا غول نظر آیا جو کہ مہیلی کاپٹر کی طرف دوڑ رہا تھا
ہے اس کا خاتمہ ضروری ہے اسے صرف تم ختم کر سکتے ہو بیلی کا پٹڑاب بلند ہو چکا تھا۔
ک کیا بابا جی میں ایسا کیسے کر سکتا ہوں بیٹا بچی ابھی تک گلا پھاڑ کر چیخ رہی تھی تمہارے زید
تمہیں ایسا کرنا پڑے گا بیٹا میرے پاس دو دن بعد آنا میں نے اس آدمی سے اس کا نام پوچھا اس آدمی نے اپنا نام
تمہیں سب سمجھا دوں گا اور اس کا پتہ بھی بتادوں گا پھر جمیل بتایا وہ بھی جنگل کی سیر کرنے کے لیے آئے تھے کہ
وحشی دوسرے آدمی کی طرف بڑھنے لگا وحشی کو اپنے پاس راستہ بھولنے کی وجہ سے ان کے قابو آ گئے ہم اس کے بہت
آتے ہوئے دیکھا تو اس آدمی نے فورا ہاتھ پنڈلی کی شکر گزار تھے کہ اس کی وجہ سے ہماری جانیں بچ گئیں
طرف بڑھا یا جب اس کا ہاتھ باہر آیا اس کے کے ہاتھ بہت کوشش کے باوجود اس آدمی کا پتہ نہ چل سکا جس کی یہ
بچی تھی تو ہم نے اس بچی کو گود لے لیا اور وہ بچی جیسی ہی تھی
میں ریوالور تھا۔
پھر بجلی کوندی اس نے ڈرڈ ز تین فائر کئے ایک تو وہ – سانیا اپنی کہانی سنا کر خاموش ہوگئی۔
جو چبوترے پر بیٹھا اور دوسرا جو اس کی طرف بڑھ رہا تھا اس کا مطلب یہ ہوا تم کسی ایسے والدین کی اولاد ہو
تیسرا جو ہمارے پیچھے کھڑا تھا ان کو نشانہ بنایا اور وہ اپنی جگہ جو آدم خوروں کی خوراک بن گئے ہیں اور تم نے کچھ عرصہ
پر شہتیروں کی طرح گر پڑے جس سے سائیڈوں پر اکھٹے زرکاش قبیلے میں پرورش پائی ہے عائشہ نے کہا۔
وشیوں میں کھلبلی مچ گئی اور جس وحشی کا جدھر منہ تھا ادھر ماما نے یہ بھی بتایا میں وحشیوں کے ساتھ رہتی اس
بھاگنے لگا پھر وہ آدمی ایک طرف بھاگ نکلا اور ہمیں بھی لیے ویسی ہی حرکتیں کرتی لحاظہ ماما پوری توجہ مجھ پر مرکوز
بھاگنے کا اشارہ کیا ہم بھی اس کے پیچھے بھاگے چند لحوں کر دی تب ایک سال بعد مجھ میں سیدھار آیا وہ لمحات ماما
میں میدان صاف ہو چکا تھا ہمارے تعاقب میں کوئی نہ آیا کے میرے ساتھ آخری تھے کتاب میں آنکھیں ملنے والے
جلد بق ہم درختوں کے جھنڈ میں جا گھسے اور جیسے ہی واقعے کے بعد کوئی واقعہ پیش نہ آیا لیکن میرے دل میں
درختوں سے ذرا آگے نکلے تو مسرت کے مارے ہم کی کوئی بات مسلسل چھ رہی تھی لیکن پھر ایک ایسا واقعہ ہوا کہ
چیخیں نکل گئی سامنے ہی ہمارا بیلی کا پر کھڑا تھا جائی نے میری پر سکون زندگی اتھل پتھل ہو گئی اس دن میں گھر میں
اکیلی تھی بلی ملکی بارش ہورہی تھی ہر طرف خاموشی چھائی ڈرو نہیں سانیہ میں ہوا سے ہے
ہوئی تھی میں برس پر کھڑی موسم سے لطف اندوز ہورہی تھی ہوں ۔
کہ یکا یک میری چھٹی حسن پھڑ کی مجھے احساس ہوا میرے ک – – ک ۔۔ کون ہو تم میں تمہاری دوست ہوں
پیچھے کوئی کھڑا ہے میں نے فورا پیچھے دیکھا ہے میرا منہ آؤ چلیں اس نے ہاتھ بڑھایا کہاں ۔ میرے منہ سے انکار
حیرت سے کھلا کا کھلا رہ گیا۔
و ہیں جہاں سے تمہیں لایا گیا ہے بچین میں زرکاش قبیل
کچھ دنوں بعد محسن باباجی کے پاس پہنچ گیا بابا جی میں میں تمہیں نہیں جانتی میں تمہارے ساتھ نہیں جاؤں گی
کچھ لوگوں کے ساتھ مصروف تھے ابائی نے حسن کو سائیڈ اچھا نہ جاؤ میری بات تو سنو لڑ کی بے تکلفی سے بولی جسے
پر مجھے کا الٹا ہو یا جیسے ہی یا بائی نے ان حضرات کو فارغ پا کر تم پاگل ہو جاؤ گی۔
سن کو اپنے پاس آنے کا اشارہ کیا بیٹا میری بات غور یہ کہتے ہوئے اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور مجھے ایسے
سے سنو تمہاری بیوی انسانیت کی دشمن ہے اسے ختم کرنے لگا جیسے میرے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی ہو اور ہوا
کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے بیٹا تمہاری بیوی ایک ایسی بھی یہ ہی تھا جب میرے پاؤں کے نیچے زمین آئی تو
لڑکی سے جاملی ہے جو زر کاش قبیلے کی ہے وہ بھی تمہاری میں بہت سے درختوں کے درمیان کھڑی تھی وہاں کا منظر
ہیوئی کی طرح آدم خور ہے اور زرکاش قبیلے کی اصل طاقت دیکھ کر میری حرانی دو چند ہوگئی وہاں ایک خوبصورت لڑکا
ہے اور پھر بابا نے سانیہ کے بارے میں سب کچھ بتا دیا بیٹا جس کے ہاتھ پاؤں اور منہ سختی سے بندھے ہوئے تھے
اگر سانیہ واپس زرکاش قبیلے میں چلی گئی تو ان کی طاقتیں ایک درخت کے تنے کے ساتھ بندھا تھا۔ میری ہمشکل
واپس آجا ئیں تم سانیہ کو ایسے سمجھو جیسے وہ ایک تالی کی چابی لڑکی نے ایک تیز دھار چاقو لڑکے کی گردن پر پھیر دیا تو
گرم گرم ابلتے خون کا فوارہ اس کی گردن سے نکلنے لگا
بیا اگر و وزر کاش قبیلے میں واپس چلی گئی اور وہاں ۔ پی لو اس نے مجھے اشارہ کیا میں تو گوشت بھی صرف
کے سردار سے شادی کرلی تو وہ بے انتہا شیطانی طاقتوں کی حلال جانوروں کا کھاتی تھی مجھے نہیں پتہ تھا میرے ساتھ
مالک بن جائے گئی پھر تمہارے لیے اسے ختم کرنا مشکل کیا ہوا میں جلدی سے جھکی اور اپنے ہونٹ اس لڑکے کی
ہو جائے گا جتنی جلدی ہو سکے اس کام کو پورا کرو خیر اب شہہ رگ پر رکھ دیئے اور لپ شپ خون پینے لگی خون پینے
بھی وہ تمہارے لیے خطرہ ہے کیونکہ تم جب اس کے میں اتنی محو ہوئی کہ مجھے لڑکی کے بارے میں بھی یاد نہ رہا
سامنے جاؤ گئے وہ تمہارا ذہن پڑھ لے گی تمہیں جانے خوب سیر ہو کر خون پینے کے بعد اٹھ کر دیکھا تو مجھے لڑکی
سے پہلے ایک رات کا چلہ کرنا ہے جو ہے تو بہت مشکل لیکن کہیں دکھائی نہ دی تو میں گھبرا گئی اور خوف محسوس کرنے لگی
اس کا نا ئم کم ہوگا یہ آسانی ہے تمہارے لیے اور مشکل یہ کہ میرے دل میں دو خیالات یکدم سراٹھانے لگے ایک یہ کہ
ایک ٹانگ پر کھڑے ہو کر کرتا ہے بابا نے سارا طریقہ محسن میں گھر کیسے جاؤں گی دوسرا یہ کہ میرے ہاتھوں ایک
کو سمجھا دیا حسن بابا کو مطمئن کر کے واپس گھر کی طرف چل انسان بھی قتل ہو چکا ہے۔
پڑا۔
کہاں ہو میرے سامنے آؤ مجھے اس کا نام بھی معلوم
دوسری طرف ہو بہو بمشکل کھڑی تھی مجھے لگا کہ نہ تھا میں اسے کس نام سے پکاروں اس گھبراہٹ میں میر کی
میں آئینہ دیکھ رہی ہوں اور پر اسرار انداز میں مسکرارہی نظر پھر لاش پر پڑی تو بری طرح چوٹی جس جگہ لاش پڑی
ہوں حالانکہ میں مسکر انہیں رہی تھی میرا سر چکرانے لگا برس تھی وہاں زمین شک ہورہی تھی اور لاش از خود اس شک
پر آئینہ کہاں سے آئے گا دروازہ بھی بند تھا اس سے پہلے کہ زمین کے شگاف میں گرگئی پھر زمین آپس میں مل گئی میں
میں اپنے ہوش سے بے گانہ ہوتی اس ہمشکل کے لب ہلے نے دیکھا کہ وہاں اب خون اور لاش کو نام و نشان نہ تھا پھر
میرے دماغ پر بوجھ پڑنے لگا اور غبار چھانے لگا میں نے کئے چل پڑی اور بلاوجہ سڑکوں پر گاڑی دوڑانے لگی میں
دونوں ہاتھوں سے سر تھام لیا ذرا دیر بعد غبار چھینا تو ایک ویران سڑک پر پہنچی تو وہاں ایک لڑکے نے لفٹ مانگی
میں نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو اسی طرح بارش ہو رہی تھی جو میں نے کسی بے فکری کے بغیر دے دی رہتے میں معلوم
گھبراہٹ ایک لازمی امر تھا میں اپنے کمرے کے ٹیرس پر ہوا وہ مزدور ہے اور واپسی گھر جارہا تھا ہوا گم ہوا تو مجبورا
تھی بارش اسی طرح ہو رہی تھی میں دوڑتی ہوئی اپنے لفٹ لینا پڑی اس کا گھر زیادہ دور نہ تھا اس نے مجھے چائے
کمرے میں آئی اور آئینے کے سامنے کھڑی ہو گئی تو یہ سب کی دعوت دی جو میں نے بخوشی قبول کر لی وہ تھوڑا پریشان
تمہارا وہم تھا۔
ہو گیا کیونکہ اس نے مجھ سے اخلاقا پوچھا تھا ہم دونوں اندر
عائشہ نے پوچھا نہیں عائشہ ایسا نہیں ہے آئینے میں چلے گئے اس نے مجھے ایک کمرے میں چار پائی پر بٹھایا اور
میں نے دیکھا کہ میرے کپڑے پانی سے شرابور ہیں خود لینے چلا گیا۔
اور منہ خون لنھڑا ہوا ہے میں فورا ہاتھ روم کی طرف بھاگی میں نے کمرے کا جائزہ لیا تو وہاں مجھے چھریاں
اور جلدی جلدی نہا کر کپڑے بدل کر اپنے بیڈ پر لیٹ گئی پڑی نظر آئیں پھر وہ واپس آگیا میں چھریاں ہاتھ میں
تجسس عروج پر تھا پھر میری زندگی ایک نئے ڈگر پر چل نکلی لے کر چیک کرنا شروع کر دیں اور اس کی طرف سوالیہ
جس کا ڈیڈی کو کچھ علم نہ تھا لیکن ایک دن پھر آدھی رات کو نظروں سے دیکھا اس نے کہا یہ میں کبھی کبھی عید پر قصائی
جب طوفانی بارش کی آواز سنائی دی اور میری آنکھ کھل گئی تو والا کام بھی کرتا ہوں وہ لڑکا بہت صحت مند تھا اس سے بہتر
میں نے اپنے وجود میں عجیب سی بے کلی محسوس کی بارش کی شکار کیا ہو سکتا تھا میں نے ایک دم پلٹ کر اس پر چھری کا
سنسناتی آواز مجھے پاگل کر رہی تھی تجھے بری طرح خون وار کیا جو سیدھا اس کی گردن پر ہوا وہ گر کر تڑپنے لگا اس کی
طلب محسوس ہونے لگی میں گھبرا کر باہر لان میں نکل آئی ہر آنکھوں میں حیرانی تھی میں منہ اس کی گردن پر رکھ دیا اور
طرف سناٹا طاری تھا لیکن میرے قدم جیسے میرے اختیار غٹاغٹ خون پینے لگی مجھے اپنے آس پاس کی کوئی خبر نہ تھی
یہ میرا پہلائل تھا جو میں نے اپنے ہاتھوں سے کیا تھا خون
میں نہ تھے۔
زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ مجھے اپنے عقب میں اس پینے سے فارغ ہو کر میں نے اس کے کپڑوں سے جلدی
لڑکی کی آواز سنائی دی میں نے پلٹ کر دیکھا تو وہ لڑکی جلدی منہ صاف کیا اور گاڑی میں بیٹھ کر واپس آگئی اس
سامنے کھڑی تھی اس لڑکی نے اپنا ہاتھ بڑھایا میں نے اپنا رات ایک اور واقعہ ہوا جس نے مجھے مکمل کود اعتماد
ہاتھ اس کے ہاتھ میں دے دیا پھر ہم آج اسی جگہ پر تھے۔ اور مافوق الفطرت خون آشام بنادیا حسن نے فیصلہ کیا کہ وہ
وہاں آج بھی ایک انسان موجود تھا لے لیں پھڑ پھڑ رہا تھا چلہ کل رات کرے گا آج کی رات وہ آرام کرے گا رات
لڑکی نے پھر شہہ رگ کاٹی چاقو سے میں نے اس دن کی کا کھانا کھا کر محسن جلدی ہی سو گیا رات کا پتہ نہیں کون سا
طرح اپنا منہ اس کی شہہ رگ پر رکھ دیا فارغ ہوئی سر اٹھایا پہر تھا جب محسن کی آنکھ کھلی کمرے میں گھپ اندھیرا تھا
تو پھر وہی سب کچھ ہوا میں ا۔ اپنے لان میں کھڑی تھی میری محسن رات کو لائٹ بند کر کے سوتا تھا محسن کو کمرے میں کسی
زبان خون کے نمکین ذائقے کی تصدیق کرہی تھی اب تو یہ ذی روح کی موجودگی کا احساس ہوا محسن بڑ بڑا کر اٹھ بیٹھا
معمول بن گیا تھا کہ جب بارش ہوتی تو وہ لڑکی آجاتی اس نے چاروں طرف غور سے دیکھا اسے ایک جانور کا
لیکن جب بارش نہ ہوتی تو وہ لڑکی نہ آتی ایک دفعہ تو طویل ہیولہ نظر آیا اسی وقت اس کی غراہٹ ابھری اور نیلے رنگ
عرصے تک بارش نہ ہوئی تو میرا نشہ بری طرح ٹوٹنے لگا کی روشنی کمرے میں پھیلتی چلی گئی محسن نے دیکھا کہ ایک
یہاں تک کہ میں اپنا ہی جسم بھنبھور نے لگی مجھے کچھ سمجھ نہ آیا سیاہ رنگت کا جانور جس کی شکل سوں اور کتے کی پیوند کاری
اس عالم میں میں نے گاڑی نکالی اور بنا کسی سمت کا تعین معلوم ہوتی تھی شعلہ مار نظروں سے دیکھنے لگا محسن کے
اور بھری آواز سنائی دی۔
پورے بدن میں خوف کی لہر دوڑ گئی جانور کا منہ کھلا محسن بے میں پاس دیکھا تو کچھ نظر نہ آیا محسن کی ایک دم
سامنے نظر اٹھی ایک بہت بڑا اژدھا بہت تیز رفتاری سے
تمہارے لیے بہتر ہے کہ تم زر کاش قبیلے کی رانی کو تم آرہا تھا محسن کو ڈر کی وجہ سے پسینہ آرہا تھا محسن بھاگنے ہی
چھو بھی نہیں سکتے آخر کار اس نے لوٹ کر آنا ہے ہمارے لگا تھا کہ وہ اثر دھا دائرے سے ٹکرا گیا اور غائب ہو گیا محسن
قبیلے میں تمکون ہومحسن اب تھوڑ اسا سنبھل گیا تھا میں ان کا نے خدا کا شکر ادا کیا محسن نے آنکھیں بند کیں، اور ورد
شروع کر دیا۔
ایک پجاری ہوں۔
دفع ہو جاؤ یہاں سے ورنہ محسن نے غصے سے کہا محسن کے آخری پندرہ منٹ رہتے تھے کہ ایک دم
ایک دم اس درندے نے اپنی دونوں ٹانگیں اٹھا کر حملہ کرنا زلزلہ آنا شروع ہو گیا محسن نے خود کو بہت سنبھالا لیکن اب
چاہا لیکن جیسے ہی محسن کے جسم کو مس ہوئی وہ جانور چیختا ہوا مشکل ہو رہا تھا محسن کا پاؤں زمین پر لگنے والا تھا کہ اس
غائب ہو گیا جیسے کسی نے اس کی ٹائیمیں جلادی ہوں محسن کی نظر گھڑی پر پڑی آخری دومنٹ رہ گئے تھے اس نے فٹا
نے شکر کیا کہ وہ جانور بھاگ گیا باقی پوری رات جاگتے فٹ خود کو سنبھالا حسن کی نظر جب اوپر اٹھی تو اس نے دیکھا
ہی گزر گئی دوسرے دن محسن چلے کی تیاری کر کے چلے والی روشنی کا ایک طوفان تھا جو لہروں کی صورت میں اس کی
جگہ پہنچ گیا حسن نے ایک پرانی قبر ڈھونڈی کیونکہ بابا نے طرف آرہی تھی وہ ابھی کچھ سوچ ہی رہا تھا کہ بھاگ
کہا تھا پرانی قبر کے سروالی سائیڈ پر کھڑے ہو کر کرتا ہے جاؤں لیکن دیر ہو چکی تھی وہ بہت قریب آچکی تھی محسن نے
پہلے تو حسن و قبرستان کا سناٹا دیکھ کر بہت ہی خوف آیا جیسے اپنے دونوں ہاتھ سامنے کیئے جس کو جھٹکا لگا اور وہ لہریں
ابھی قبر سے مردے باہر آجائیں گے پھر حسن نے ہمت کی محسن کے جسم میں جذب ہو گئیں اور محسن کو آواز آئی بولیں
کیونکہ اس کے گلے میں بابا کا دیا ہوا تعویذ تھا محسن نے آقا کیا کر سکتا ہوں۔
آیت الکرسی کا وردکر کے اپنے گرد دائرہ لگایا اور ایک ٹانگ تمحسن نے آس پاس دیکھا کچھ نظر نہ آیا پھر میں آپ
پر کھڑا ہو گیا اور چلے والا ورد پڑھنے لگا پہلے پانچ منٹ تو کو وہاں نظر نہیں آؤں گا کیونکہ میں آپ کے دماغ میں
آرام سے گزر گئے۔
ہوں اب آپ کی اجازت کے بغیر کوئی آپ کی سوچ نہیں
محسن آنکھیں بند کئے ہوئے ورد کر رہا تھا کہ ایک جان سکتا اور میں آپ کو ہر چیز کا حل بھی بتا سکتا ہوں اور تم
دھماکے کی آواز سنائی دی اور محسن اپنی جگہ سے لڑکھڑا گیا کیا سکتے ہو سب کچھ کرسکتا ہوں جو آپ کہیں سب سے
محسن کا دوسرا پاؤں نیچے لگنے والا تھا کہ حسن نے اپنا توازن پہلے یہ بتاؤ کہ عائشہ اور وہ لڑکی کدھر ہے آقا وہ اس وقت
ٹھیک کیا اور آس پاس دیکھا تو کچھ بھی نہیں تھا محسن نے ایک گھر میں ہیں اچھا یہ بتاؤ کیا عائشہ ٹھیک ہو سکتی ہے محسن
دوبارہ آنکھیں بند کیں اور ورد کرنے لگا کچھ دیر ہی ہوئی تھی نے امید بھرے لہجے میں کہا نہیں آقا وہ ٹھیک نہیں ہو سکتی
کہ میحسین کو شیخ سنائی دی بہت بھیانک کان پھاڑ دینے والی آپ
کو اسے ختم کرنا ہوگا اور ایک اہم بات آقادہ سری لڑکی
آواز تھی محسن نے بے اختیار اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ دیا اور کو اس کے قبیلے والے واپس لے جانے کی کوشش کر رہے
آنکھیں کھول دیں محسن نے دیکھا وہی بھیا تک شکل والا ہیں وہ اب تک وہاں اس لیے نہیں
گئی کیونکہ وہ دوسری لڑکی
جانور سامنے کھڑا ہے اور حسن کو گھور رہا ہے میں نے تمہیں کو اس کی مرضی کے خلاف نہیں لے جاسکتے ورنہ آپ اسے
رو کا تھا کہ ہماری مہارانی کا پیچھا چھوڑ دو اب اپنے انجام کبھی ختم نہ کر سکتے۔
کے خود ذمہ دار ہو گے۔
اچھا چلو چلتے ہیں ان کے پاس آقا آپ آنکھیں
دفع ہو جاؤ یہاں سے محسن نے کہا پھر اس نے شیخ بند کریں میں آپ کو وہاں پہنچا دیتا ہوں لیکن وہاں آپ
ماری تو ایسے لگا جیسے ٹنوں وزن کی کوئی چیز کھسیٹی جارہی ہو پھونک پھونک کر قدم بڑھانا ورنہ نقصان بھی ہو سکتا ہے
پہلے آپ کو اس لڑکی کو ختم کرنا ہوگا۔ بعد میں اپنی بیوی کو ۔ ہوں سانیہ بھی حیران کھڑی تھی یہ کون ہے اور عائشہ ایسے
کیوں دیکھ رہی ہے عائشہ یہ کون ہے عائشہ نے کوئی جواب
عائشہ اور سانیہ کمرے میں بیٹھی ہوئی تھیں کہ اک دم نہ دیا سانیہ نے پاس آکر عائشہ کو جھنجھوڑا تو عائشہ نے کہا یہ
دھماکہ ہوا اور دھواں پھیل گیا اور سانیہ کو اپنی ہمشکل نظر آئی محسن ہے میرا شوہر ۔
عائشہ کی تو حیرت سے آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں دونوں کیا سانیہ نے حیران ہو کر کہا۔ محسن نے اپنی طاقت
میں کوئی فرق نہیں تھا میں تم دونوں کو خطرے سے آگاہ سے پوچھا اب بتاؤ کیا کریں آقا میں آپ
کو سنجر لا دیتا ہوں
کرنے آئی ہوں ہمشکل نے کہا کیسا خطرہ سانیہ نے پوچھا آپ اس سے اسے مار سکتے ہیں عام انسان کی طرح لیکن
عائشہ کا شوہر آرہا ہے اور اس کے پاس بہت ساری طاقتیں آقا جلدی کہیں اس کی ہمشکل نہ آجائے ادھر سانیہ نے یہ
نین عائشہ کے بارے میں وہ سب کچھ جان گیا ہے سنا تو اسے لگا جیسے اس کی موت آگئی ہے اسے سمجھ
اور تمہارے بارے میں بھی وہ تم دونوں کا خاتمہ کرنے نہیں آرہی تھی کہ کیا کرے ابھی وہ سوچ رہی تھی کہ اس کی
آ رہا ہے روحانی طاقتیں اس کی مدد کر رہی ہیں تم دونوں زبان نے کچھ لفظ ادا کرنے شروع کر دیئے جب وہ منتر
میرے ساتھ قبیلے چلو تم دونوں وہاں محفوظ رہو گے نہیں ہم پڑھ رہی تھی تو اس نے دیکھا کہ محسن کے ہاتھ میں سنہری
تمہارے ساتھ نہیں جائیں گی۔
رنگ کا خنجر آپ کا تھا اور وہ اس کی طرف بڑھ رہا تھا محسن نے
عائشہ نے کہا وہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا تم جاؤ یہاں خنجر مارنے کے لیے ہاتھ اٹھایا تو سانیہ نے خف سے
سے سامیہ نے بھی غصے سے کہا ہمشکل نے افسوس سے ان آنکھیں بند کر لیں ۔
کی طرف دیکھا۔ اور کہا اگر میری ضرورت
ہو تو مجھے بلا لینا جب سانیہ نے آنکھیں کھولیں تو منظر بدلا پڑا تھا
ہا تو ۔ تو تو بول دینا میں آجاؤں کی سانیہ کو وہ الفاظ فورا سمجھ محسن نیچے گرا تھا تنجر ابھی تک اس کے پاس اور سانیہ کی
میں آگئے ہمشکل چلی گئی ۔
ہمشکل اس کے پاس کھڑی مسکرارہی تھی جبکہ عائشہ
پریشان محسن کو دیکھ رہی تھی ہمشکل نے سانیہ کو کہا میں نے
آقا ہمارا مقابلہ اس کی ہمشکل لڑکی سے بھی تمہیں کہا تھا خطرہ ہے لیکن تم نے میری بات نہ مانی محسن
ہو سکتا ہے وہ ایک بہت بڑی اور گندی طاقت ہے کالی دنیا خنجر لے کر سانیہ کے قریب چلا گیا اور اس نے خنجر مارنے
سے آئی قبیلے کی رانی کو بچانے اتنا کہہ کر ہونا چپ ہو گیا تم کے لیے ہاتھ اٹھایا ہی تھا کہ اسے چکر آیا اور وہ نیچے
پ کیوں ہو گئے ہو کیا تمہارے پاس اس کا کوئی حل نہیں گر گیا۔ اور بونے کی آواز آئی۔
ہے آقاس کو ختم کرنے کے لیے ہمیں اس کے بال کا ٹکر آقا وہ آگئی ہے آپ جس کا کہا ہے میں نے آپ
جلانے ہوں گے جو بہت مشکل کام ہے کیونکہ وہ چھلاوہ فکر نہ کریں آپ بس لیٹے رہیں میں اس کے بال لانے کی
ہے کیا تم بھی اسے نہیں پکڑ سکتے پتہ نہیں آقا کوشش تو کرنی کوشش کرتا ہوں اس کو لگ رہا ہے آپ پر اس کا وار ابھی
ہی ہے بہر حال چلو پھر چلتے ہیں ادھر ہی محسن ایک گھر کام کر رہا ہے وہ بے فکر کھڑی ہے ہم اس کے بال آسیانی
میں کھڑا تھا جو اپنی بناوٹ کے لحاظ سے بہت خوبصورت تھا سے کاٹ سکتے ہیں اب محسن کو بونے کی آواز نہیں آ رہی تھی
محسن کو کچھ آواز میں سنائی دیں۔
محسن دم سادھے لیٹا رہا ہمشکل جو کہ بڑی بے فکر سے
محسن نے اپنی بیوی کی آواز پہنچان لی تھی وہ کمرہ کھڑی تھی ایک دم گھبرا کر ادھر ادھر دیکھنے لگی پھر ایک جگہ
ڈھونڈنے میں کوئی پریشانی نہیں ہوئی تھی محسن کمرے کے محسن کے قریب اس کی نظر یک گئی۔
اندر چلا گیا آپ یہاں عائشہ سکتے کی حالت میں دیکھ رہی تم معمولی ہونے میرے بال نہیں لے جاسکتے واپس
تھی دوسری لڑکی بھی انھہ کر کھڑی ہو گئی تھی ہاں میں ہی کرو میرے بال اتنے میں بال بونے نے محسن کے ہاتھ پر
” جنون “
سحرش اسپیکینگ ، دو سری طرف کنید 0:0 TS
آواز سنائی دی سحرش کیسی ہو ٹھیک ہو ناں؟ امید ہے
تحریر = واؤ محمد یونس ناز
معلومات مکمل کرلی ہونگی؟ سحرش نے پر مسرت لیجے میں
ڈاکٹر جنید اپنی لیبارٹری میں انسان کو بڑھاپے سے کہا جی سر کام مکمل ہے، اور پھر گھڑی کی طرف دیکھتے
نجات دلانے کے لیے ایک تجربے میں مشغول تھا یہ تجربہ ہوئے ہوئی اب شام کے 4 بج رہے ہیں ہم تقریبا 8 بجے
اب آخری مراحل میں تھا چند ہی دنوں میں دنیا سے بڑھایا تک پہنچ جائیں گے
تک پہنچ جائیں گے ڈاکٹر جنید نے میرے بارے میں
غائب ہونے والا تھا اب صرف فارمولا نمبر 03 کی کمی تھی پوچھا؟ سحرش ڈاکٹر نزاکت صاحب کدھر ہیں
یہ فارمولا ملک کے شمالی علاقہ میں (پونا گڑھ) کے ایک کئی سحرش نے میری طرف دیکھتے ہوئے کیا وہ میرے
سو صدی پرانے کنوئیں میں سنہری چگوڑوں قریب ہی کھڑے ہیں یہ لیں ان سے بات کریں اور پھر
Golden.bats کے خون کے سیل میں پایا جاتا تھا۔ اس فون میرے ہاتھ میں تھما دیا، ہیلو ڈاکٹر صاحب؟ دوسری
کنوئیں کے بارے میں مشہور تھا کہ یہ بدروحوں ، جن طرف سے آواز سنائی دی ڈاکٹر نزاکت صاحب جلدی
بھوت پریت آسیبی مخلوق کا مسکن ہے رات کے وقت اس پہنچنے کی کریں میں آپ کا انتظار کر رہا ہوں میں نے کہا
کنوئیں کے دھانے سے پر اسرار روشنیاں نکلتی ہیں بہت رائٹ سر ہم ابھی پہنچے ہیں اور پھر را قطع منقطع ہو گیا ہم
سے ملکی و غیر ملکی آدمیوں نے اس راز کو افشاء کرنے کی نے رئیس کرم داد سے واپس جانے کی اجازت کی سب
کوشش کی لیکن ناکام رہے جس نے بھی کنوئیں میں سے ملنے کے بعد اپنی جیب میں بیٹھ کر وہاں سے روانہ
اترنے کی کوشش کی اپنی موت کو للکارا – را سنہری جنگاوریں ہوئے جمال پور پونا گڑھ سے مغرب کی طرف 10 کلو میٹر
Golden.Bats انا فانا اس کا گوشت نوچ لیتی اور چند کے فاصلے پر تھا اور گولڈن پلازہ ہونا گڑھ سے مشرق کی
ہی منٹوں میں ہڈیوں کا پنجر بنا دیتی اس کنوئیں کے ارد گرد طرف 20 کلو میٹر کے فاصلے پر سر سبز پہاڑوں کے درمیان
انسانی و حیوانی ڈھانچے کافی تعداد میں بھرے پڑے ہیں آبادی سے الگ تھلک پر سکون ماحول میں واقع تھا جمال
اس علاقے کو ڈینجر قرار دے دیا گیا ہے بھی سیر ہی علاقہ پور سے گولڈن پلازہ کی طرف (2) سڑکیں جاتی تھیں
سیاحوں کا مرکز تھا لیکن اب صورتحال اس کے برعکس تھی ایک سڑک ہونا گڑھ کے درمیان سے جبکہ دوسری سڑک
اب اس علاقے میں انسان تو کیا چرند پرند بھی نظر نہیں بالکل قریب سے نکلتی تھی یہ سارا علاقہ پہاڑی تھا ہماری
آتے، لیکن قدرتی دولت سے یہ علاقہ اب بھی مالا مال گاڑی باہر والی سڑک پر دوڑی جا رہی تھی بل کھاتی
ہے۔ پھل دار اور چنار کے درختوں اور چھوٹی بڑی سڑکیں اوپر سے نیچے دائیں سے بائیں پر خطر پہاڑیوں پر
پہاڑیوں آبشار ندی نالے اور جھیلوں کے نیلے اور ایسے محسوس ہو رہا تھا نجانے یہ سفر ختم ہو گا بھی یا نہیں
سنہری پانی سے اپنی کشش بر قرار رکھے ہوئے ہے ڈاکٹر نجانے یہ احساس میرے دل میں کیوں پیدا ہوا تھا شام کے
جنید مجھ سے عمر میں (2) سال بڑا تھا، بلا کا ذہین تھاڈاکٹر جنید سنائے پھیلتے جا رہے تھے کہ اچانک ڈرائیور سائیڈ والا بیک
نے امریکہ سے اعلی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنے وطن سائیڈ ٹائر دھماکے سے پھٹ گیارا میں اور بائیں سائیڈ پر
میں سائنس کی دنیا میں قدم رکھا میں نے اپنی تعلیم لندن گہری کھائی تھی گاڑی کھائی میں کرتے ہوئے بال بال بچی
سے حاصل کی اور ڈاکٹر جنید کے ساتھ ہی سائنس کی یہ تو اچھا ہوا جیپ کی رفتار تھوڑی تھی، موت کا تصور
پر اسرار دنیا میں داخل ہو گیا ڈاکٹر جنید کا اور میرانت نئے کرتے ہوئے جسم میں خوف کی جھر جھری سی ہو گئی وہ بھی
تجربے کرنے کا مشغلہ بن گیا تھا مجھے آج جمال پور میں بھیانک موت خیر اللہ تعالی کے فضل و کرم سے ہم موت
آئے ہوئے دوسرا روز تھا میرے ساتھ میری بہن سحرش کے منہ میں جاتے جاتے بچ گئے وہیل کھول کر اسپینی
بھی تھی ہم جمال پور کے وڈیرے رکیں کرم داد کی حویلی دو سرا و بیل فٹ کیا ایک نظر گھڑی کی طرف ڈالی کا بیج
میں گھرے ہوئے تھے حویلی کچھ خاص نہیں تھیں بس عام رہے تھے دوبارہ سفر کا آغاز کیا کار سحرش چلا رہی تھی
ی تھی رئیس کرم داد بھی نیک پارسا پانچ وقت کا نمازی آہستہ آہستہ رات کی سیاہی نے ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں
تھا شام کے 4 بج رہے تھے میں اور میری پیاری بہن سحرش لے لیا کار کی ہیڈ لائیٹس روشن کر دی گئی وسیع و عریض
باغ میں بیٹھے جو کہ حویلی کی 4 دیواری کے اندر تھا موسم رقبے پر پھیلا ہوا پہاڑی سلسلہ رات کی تاریکی میں پہاڑ
سے لطف اندوز ہو رہے تھے موسم خوشگوار تھا، اچانک ہیولے کی طرح نظر آرہے تھے تقریباً پونے سات بجے کا۔
موبائل فون کی گھنٹی بجی سحرش نے فون انیڈ کیا ہیلو مستر
وقت تھا ہر طرف سناٹا چھایا ہوا تھا سحرش خاموشی سے کا پٹڑ کے پروں کی ہوا نے سوکھے چوں اور مٹی کا گردو
گاڑی ڈرائیو کر رہی تھی میری نظرس سامنے سڑک پر نکی غبار سا کھڑا کر دیا تھا کچھ ہی دیر بعد یروں کی رفتار میں کمی
ہوئی تھی یہ کافی دشوار موڑ تھا دائیں طرف ٹن کر کے ہوئی پہیلی کاپڑ کی ایمر جنسی لائٹس روشن کر دی گئی طاقتور
چڑھائی شروع ہو جاتی تھی موڈ خیر خیریت سے کٹ گیا اب بلبوں کی روشنی نے دن کا سماں سا پیدا کر دیا تھا۔ ڈاکٹر جنید
گاڑی چڑھائی پر دوڑی جا رہی تھی کہ اچانک ڈرائیور دوڑتا ہوا ہمارے قریب پہنچا اور سحرش سے لپٹ کر رونے
جارہی
سائیڈ والا وہیل کھل گیا بائیں طرف پہاڑ تھا جبکہ دائیں لگا میرا دل کر رہا تھا میں بھی زور زور سے رؤوں ، لیکن
طرف سنگانش گہرائی بھی جیب لڑکھڑاتی ہوئی ہماری خوف میرے آنسو خشک ہو چکے تھے۔ میں نے ڈاکٹر جنید کو
میں دبی ہوئی چیخوں کے ساتھ کرتی چلی کی جیپ کی چھت سحرش سے علیحدہ کیا ڈاکٹر جنید کی حالت پاگلوں کی سی ہو گئی
پتھروں سے ٹکرائی ہماری چیخوں سے گنجان پہاڑیاں گونج کر تھی۔ ہم دونوں نے سحرش کے مردہ جسم کو اٹھا کر پہیلی کا پر
رہ کی خوف اور دہشت کی وجہ سے میری آنکھوں کے میں رکھا تقریبا 20 منٹ میں میں رکھا تقریبا” 20 منٹ میں گولڈن پلازہ پہنچ گئے۔ ہیلی
آگے اندھیرا چھا گیا جب مجھے ہوش آیا میں گاڑی سے باہر کا پر نیچے اتارا گولدین پلازہ کا عملہ پہلے ہی سے منتظر کھڑا
پڑا تھا۔ سانس لینے کی کوشش کی ایسے محسوس ہوا جیسے کہ تھا، ہر آنکھ اشکبار تھی۔ تخرش کو آہوں اور سسکیوں میں
پھیپھڑے کام کرنا چھوڑ گئے ہوں۔
سپرد خاک کیا۔ اور تیسرے ہی دن ڈاکٹر جنید حرکت قلب
پورے جسم میں درد کی لہریں اوپر سے نیچے آرہی بند ہونے سے انتقال فرما گیا ایک زخم ابھی بیٹا نہیں تھا
تھی ایک نظر گاڑی کی طرف ڈالی جیب کے گرد ایک کالا سا دوسرا زخم مل گیا تھا میری دنیا اندھیر ہو چکی تھی میں نے
ہیولا گھوم رہا تھا جب کی حالت ایسے تھی جسے کسی مشین صبر اور حوصلے سے کام لیا وقت اپنی رفتار سے محو پرواز
میں ڈال کر پریس کر دیا ہو اچانک سحرش کا خیال آیا سحرش کا خیال آیا سحرش رہا۔ آج 2 ماہ ہو گئے ہیں گولڈن پلازہ کا مکمل کنٹرول میں
کا خیال آتے ہی میرے دل میں طرح طرح کے خیالات
طرح کے خیالات نے سنبھال لیا ہے۔
گردش کرنے لگے میں اپنی تمام قوت یکجا کر کے کھڑا ہو گیا گولڈن پلازہ 25 ایکڑ رقبے میں پھیلا ہوا تھا جسکی اہم
جیسے ہی میں کھڑا ہوا وہ کلا ساہیولا بھی غائب ہو گیا میں نے پریکٹیکل لیبارٹریز انڈر گراؤنڈ بنائی گئی تھی، رہائش کے
اپنے جسم کو ہلا جلا کر چیک کیا جسم بالکل صحیح تھا بس پیشانی کئے کنکریٹ کی امریکن ڈایزائن کو تھی، (گولڈن پلازہ
پر پھر یا دیپ کی باڈی لگنے سے زخم ہو گیا تھا۔ جب میں پہاڑیوں کو تراش کر بنایا گیا تھا) چار دیواری 20 فٹ اونچی
پ کے قریب پہنچا اندر سحرش موجود نہ تھی۔ اب میری اور دیواروں پر (11000) وولٹ بجلی کی تنگی تاریں نکائی
آنکھیں اندھیرے میں دیکھنے کے قابل ہو گئی تھیں
کے قاتل ہو گئی تھیں گئی تھی کنکریٹ کے مورچوں میں چاک و چوبند اہل ایم
تھوڑی سی تلاش کے بعد جیپ سے 10 گز کے فاصلے پر جی 20 (20.L.M.G) گنوں سے مسلح سیکورٹی گارڈز
سحرش اوندھے منہ خون میں لت پت گری ہوئی مل گئی۔ میرے پر معمور تھے۔ اور مزید برطانوی نسل کے کیتے بھی
میں نے جلدی سے سحرش کو سیدھا کیا اور نبض چیک کی رکھے گئے تھے گولڈن پلازہ کا دفاعی حصار ایک ناقابل تسخیر
مجھے ایسے محسوس ہوا جیسے میرا دل اچھل کر حلق میں آگیا حصار تھا ہر طرح کے فضائی حملے سے نپٹنے کے لیے۔ زمین
ہو سحرش مر چکی تھی۔ میری کل کائنات سحرش مجھے تنہا سے فضا میں مار کرنے والے ایم ٹی سیونٹی میزائل
چھوڑ کر اپنے خالق حقیقی سے جاملی تھی۔ میرے ممی اور (70.M.T) نصب تھے۔ اور طاقتور ریڈائی کروں کے
ڈیڈی ایک فضائی حادثے میں مجھے سحرش اور ڈاکٹر جنید کو حامل ریڈار پر چاک و چوبند عملہ بغیر آنکھ جھپکائے بیٹھا تھا
اکیلا چھوڑ گئے تھے اور اب میری پیاری بہن بھی ہمیں ریڈار کی کمپیوٹر سکرین پر کروز میزائل کو بھی آسانی سے
اکیلا چھوڑ گئی میری آنکھوں میں آنسوؤں کا طوفان امڈ آیا دیکھا جا سکتا تھا، کروز میزائل دیکھنے کی نیکنالوجی صرف
تھا میں کافی دیر تک دھاڑیں مار مار کر روتا رہا آخر کار میں ہمارے پاس تھی گولڈن پلازہ جس کا اصل نام جے جے پی
نے اپنے دل کو سنبھالا میرے پاس اور چارا بھی کیا تھا (JJP) جس کا بانی اور تخلیق کار ڈاکٹر جنید و کڑی تھا۔ ہم
سوائے دل کو سنبھالنے کے میں نے اپنے بوٹ میں فٹ نے ایسی ادویات بنالی تھیں صرف میں این سی ایس
جدید چھوٹے سے موبائل فون کو نکالا اور (گولڈن پلازہ) (N.C.S) کیپسول کے بارے میں بتاؤں گا اس میں کیا
ڈاکٹر جنید کو آگاہ کیا۔ کچھ ہی دیر بعد ڈاکٹر جنید بیلی کا پر لیکر خوبی اور صلاحیت تھی (N.C.S) کیپسول کھاتے ہی آدمی
پہنچ گیا نزدیک ہی ہموار جگہ پر ہیلی کا پڑا تار لیا گیا۔ ہیلی ، غائب ہو سکتا تھا اور دل میں دوبارہ تصور کرتے ہی ظاہر ہو
سکتا تھا ایسی بہت سی حیرت انگیز جادو اثر ادویات بنائی کی دیکھ کرسیو
کھلتا چلا گیا کنٹرول روم کے اندر مختلف قسم کے رنگ ہمارا ارادہ تھا کہ یہ تمام ادویات سن 2000 ہزار میں
متعارف کروائی جائیں چنانچہ میں نے ڈاکٹر جنید کے برنگے بلب جل بجھ رہے تھے ہر بلب کے نیچے ایک والیم
ادھورے مشن کو مکمل کرنے کا تہیہ کر رکھا تھا۔ میں گہری اور بٹن لگا ہوا تھا دو سری طرف دیوار پر چھوٹے بڑے لیور
سوچ میں غرق تھا کہ آیا سنہری چگوڑوں کو کیسے حاصل کیا اور گیز میٹر لگے ہوئے تھے میں نے والیم نمبرا اور والیم
جائے میرے ذہن میں پروفیسر رضوان کے بارے میں نمبر 7 کو سیٹ کرنا شروع کیا اب سرخ بلبوں نے تیزی ہے
خیال آیا کیوں نہ پروفیسر رضوان کی مدد لی جائے پروفیسر جلنا بجھنا شروع کر دیا تھا یہی عمل والیم نمبر 2 اور والیم نمبر
رضوان نوری علم کا ماہر تھا بہت سے جن بھوتوں کو اپنے 10 پر دھرایا اور کچھ وقفے کے بعد دائیں اور بائیں سائیڈ
قبضے میں لے رکھا تھا پروفیسر رضوان کا فون نمبر مجھے معلوم
نمبر مجھے معلوم کے لیوروں کو اوپر کیا اب گیز میٹر کی سوئیوں نے تھر تھرانا
نہیں تھا پروفیسر کے پاس فون کرنے کے لیے اپر کیٹر روم
لیے اور کیٹر روم شروع کر دیا تھا اور آہستہ آہستہ سوئیوں نے اوپر اٹھنا
کی طرف چل دیا میرے کوٹ کر لگے ڈیجنیل آٹومیٹک شروع کر دیا گیز میٹر کی سوئی جیسے ہی (k.m.10) پر پیچی
ریموٹ سے سگنل نکل کر اپر کیٹر روم کے دروازے سے یک دم یوروں کو ڈاؤن کر دیا لیزر شعاعوں کی رینج
کوئی
ٹکرائے کمپیوٹرائز درواز نے کلک کی آواز سے کھلتے چلے (km.3) سے بڑھا کر (k.m.10) کر دی تھی ہر قسم کا
گئے اور اندر داخل ہوتے ہی خود بخود بند ہو گئے میرے پی ہتھیار اس رینج میں آتے ہی ناکارہ ہو جاتا تھا ہر چیز کا بغور
اے (R.A) ارشد قریشی نے کھڑے ہو کر سلام کیا میں معائینہ کیا سب چیزیں اپنی اپنی جگہ پر ٹھیک کام کر رہی
نے پروفیسر رضوان کے آفس کا ٹیلی فون نمبر ملانے کو کہا تھیں ہر طرف سے مطمئن ہو کر جب میں کنٹرول روم
A. ارشد قریشی نے کمپیوٹر پر ٹیلی فون ڈائریکٹری میں سے باہر آیا ایک ربوٹ پہلے ہی سے منتظر کھڑا تھا ربوٹ
سے نمبر دیکھنے کے بعد فون ملایا۔ ایک رسیور میں نے کے مصنوعی اسٹیل کے ہونٹوں میں لرزش پیدا ہوئی سر
اپنے کان سے لگالیا، پہلی رنگ میں، پروفیسر رضوان نے پروفیسر صاحب فریشنگ روم میں آپکا انتظار فرما رہے
فون کا رسیور اٹھایا رسیور کے ہیڈ فون میں سے
یڈ فون میں سے ہیں۔ میں نے کہا؟ رائٹ میں آتا ہوں؟ اور پھر ربوٹ
پروفیسر کی آواز ابھری ہیلو پروفیسر رضوان اسپیکینگ؟
رضوان اسپیکینگ؟ واپس آگیا کھلی فضا میں تازہ سانس لیا فریشنگ روم
میں گولڈن پلازہ تے ڈاکٹر نزاکت وکڑی کا P.A بول رہا کے دروازے پر پہنچ کر دروازے پر دستک دی اور اندر
ہوں بات کریں؟ ہیلو؟ پروفیسر صاحب کیا حال ہیں آپ داخل ہو گیا۔
