Gahri Chaal گہری چال

Crime Story _ کراہم کی دنیا

تحریر عاطر شاہین

مکمل ناول

views
0
Gahri chaal crime story

مکمل ناول

اس دن سے طاہر بے چین تھا۔ جس دن سے وہ نازیہ سے مل کر آیا تھا۔ نازیہ کی بری حالت نے اس میں اضطراری کیفیت پیدا کر دی تھی۔ چھ دن ہو چکے تھے مگر ابھی تک نازیہ نے طاہر سے رابطہ نہیں کیا تھا۔ انجانے وسوسے طاہر کو پریشان کئے ہوئے تھے کہ  کہیں عرفان کو طاہر کی آمد کا پتہ نہ چل گیا ہو۔ اس نے نازیہ پر تشدد نہ کیا ہو۔ اسے اس بات کی خوشی بھی تھی کہ نازیہ ابھی تک اسے پسند کرتی تھی۔ کیونکہ وہ نازیہ کی آنکھوں میں اپنے لئے پسندیدگی کے تاثرات دیکھ چکا تھا۔ اب صرف نازیہ کا اشارہ ملنا باقی تھا۔۔

اسے معلوم نہیں تھا کہ نازیہ اسے یوں دھوکا دے گی۔ اس سے بے وفائی کر کے اس کی زندگی ویران کر کے اس عیاش اور آوارہ عرفان نے شادی کرے گی۔ اگر اسے پہلے ہی معلوم ہو جاتا کہ نازیہ اسے یوں داغ مفارقت دے گی ۔ تو وہ ہر گز اس سے محبت نہ کرتا۔ مگر اب کیا ہو سکتا تھا۔ تقدیر کے فیصلے کون بدل سکتا تھا۔

طاہر کا تعلق ایک متمول گھرانے سے تھا۔ اس کے والد کا امپورٹ ایکسپورٹ کا کامیاب بزنس تھا۔

طاہر اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا۔ انتہائی وجیہہ اور دراز قد، گوری رنگت ، خوبصورت نین نقش کا مالک تھا۔ جولڑ کی

بھی اسے دیکھتی تھی۔ ٹھنڈے سانس لے کر رہ جاتی تھی۔ بہت سی لڑکیوں نے اس سے دوستی بڑھانے کی کوشش

کی تھی۔ مگر وہ ایسا نو جون نہ تھا جو بیک وقت بہت ساری لڑکیوں کو محبت کے جال میں پھانس لیتا۔ وہ اپنے

والدین کے ساتھ آسودہ حال زندگی گزار رہا تھا کہ اچانک ہی طاہر کے والد کو دل کا دورہ پڑا اور وہ اس جہان فانی

سے کوچ کر گئے ۔ اس کی والد و طاہر کے والد کی اچانک ناگہانی موت کا صدمہ برداشت نہ کر سکی اور وہ بھی بستر

سے جالگی۔ چند مہینوں کے بعد وہ بھی وفات پا گئی۔ اپنے والدین کی وفات کے بعد طاہر اب اس بھری دنیا میں

اکیلا رہ گیا۔ اس نے خود کو سنبھالا اور یہ جان گسل صدمہ برداشت کرنے کے لئے اپنے اندر ہمت پیدا کرنے لگا

اپنے والد کی موت کے بعد سارا بزنس اس نے سنبھال لیا تھا۔

نازیہ اس کے کالج کے زمانے کی کلاس فیلوتھی۔ وہ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتی تھی۔ وہ طاہر کی کمپنی

میں جاب کے لئے آئی تھی۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ وہ جس کمپنی میں جاب کے لئے اپلائی کر رہی ہے۔ اس کمپنی کا

مالک اس کے کالج کا کلاس فیلو طاہر ہوگا ۔ نازیہ اتنی خوبصورت تو نہ تھی ۔ مگر قبول صورت ضرور تھی۔ اس کا رنگ

سانولا اور نین نقش غضب کے تھے۔ طاہر سے اس کی ملاقات پورے ڈیڑھ سال بعد ہورہی تھی۔ اس تھوڑے

عرصے میں نازیہ کے حسن میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا تھا۔ وہ اب اتنی پرکشش اور جاذب نظر تھی کہ طاہر کے پورے وجود پر سر شاری کی کیفیت طاری رہنے لگی اور بے اختیار ہی وہ اس کی طرف جھکتا چلا گیا۔ اسے نازیہ سے

شدید محبت ہو گئی تھی اور اس نے اپنی اس خاموش محبت کا اظہار کئی بار کرنا چاہا تھا۔ مگر ہر بارزبان اس کا ساتھ چھوڑ

جاتی تھی۔ طاہر نے بھی یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ نازیہ سے اپنی محبت کا اظہار ضرور کرے گا اور اس سے شادی کی بات

کرے گا۔ اس نے کئی بار نازیہ کی آنکھوں میں اپنے لئے پسندیدگی کے آثار دیکھے تھے۔ اسے یقین تھا کہ دوا سے ضرور پسند کرے گی۔ دفتر میں اس کا اور نازیہ کا رشتہ باس اور ماتحت کا تھا۔ وہ طاہر کو سر کہ کر مخاطب کرتی تھی۔

طاہر جانتا تھا کہ دفتر میں نازیہ سے اظہار محبت کرنا درست نہیں ہے۔ ایک دن شام کی چائے پر اس نے نازیہ کو دعوت دے ڈالی اور نازیہ نے بھی ظاہر کی دعوت بخوشی قبول کر لی تھی۔ اسی دن طاہر نے اپنے اندر ہمت پیدا کر

کے اپنی محبت ، چاہت کا اظہار بھی کر دیا۔ نازیہ بھی طاہر کو دل ہی دل میں چاہتی تھی۔ لہذا اس نے طاہر کی محبت کا

جواب مثبت انداز میں دیا اور یوں وہ محبت کی سرشاری میں ڈوبتے چلے گئے۔ ان کی محبت کو ایک سال ہو چکا تھا۔

کریں گی تو وہ بھی بات کرے گا۔

ایک دن آفس سے گھر جاتے ہوئے اچانک اس کی نظرناز یہ پر پڑ گئی۔ اس نے بے اختیار کار روک دیا

اور نازیہ کی طرف دیکھنے لگا۔ نازیہ عرفان کے ساتھ ایک کولڈ اسپاٹ پر موجود تھی اور دونوں ہنس ہنس کر ایک

دوسرے کے ساتھ باتیں بھی کر رہے تھے اور جوس بھی پی رہے تھے۔ یہ دیکھ کر طاہر کے وجود میں آگ سی لگ

گئی۔ اسے نازیہ کا ہنس ہنس کر عرفان سے باتیں کرنا بہت برا لگ رہا تھا۔ وہ عرفان کو اچھی طرح جانتا تھا۔ وہ

ایک عیاش اور آوارہ قسم کا نوجوان تھا۔ وہ اس کے کالج کے زمانے کا دوست تھا اور کئی سالوں کے بعد طاہر اس کی

شکل دیکھ رہا تھا۔ طاہر یہ بھی جانتا تھا کہ عرفان نے کتنی لڑکیوں کے ساتھ فلرٹ کیا ہے اور ان کی زندگی برباد کی

ہے لیکن شاید نازیہ عرفان کے بارے میں نہیں جانتی تھی اور اگر وہ اس کے بارے میں جانتی تھی تو پھر وہ کیوں اس

سے مل رہی تھی۔ ان دونوں کا آپس میں کیا تعلق ہو سکتا ہے۔

اسے وہ منظر اس قدر برا لگا تھا کہ رات کو وہ ٹھیک طرح سے سو بھی نہ سکا۔ ساری رات اس نے سوتے جاگتے میں گزاری تھی۔ صبح بیدار ہوا تو اس کی آنکھیں سرخ تھیں۔ وہ اپنے سر میں ہلکا ہلکا درد بھی محسوس کر رہا تھا۔

اس نے ہلکا پھلکا ناشتہ کیا اور دفتر روانہ ہو گیا۔ سارا راستہ وہ گزشتہ واقعہ کے بارے میں ہی سوچتارہا تھا۔ دفتر پہنچتے

ہی اس نے انٹر کام کا رسیور اٹھایا اور بولا۔

مس نازیہ کو اندر بھیجیں —

-یس سر اس کی سیکرٹری نے جواب دیا–

 اس نے رسیور رکھ دیا اور بے چینی سے اٹھ کر ٹہلنے لگا۔ چندلموں کے بعد ناز یہ اندر داخل ہوئی۔ آج وہ اپنی تمام حشر سامانیوں کے ساتھ اتنی حسین اور پرکشش لگ رہی تھی کہ طاہر بغوراسا کے سراپا حسن کو دیکھنے لگا۔

 آپ نے مجھے بلایا ہے؟ نازیہ شائستگی ۔

آں ہاں ۔“ وہ بوکھلا گیا۔

آؤ بیٹھو۔

نازیہ ادا کے ساتھ چلتی ہوئی اس کے سامنے والی کرسی پر براجمان ہوگئی۔ طاہر بھی بیٹھ گیا۔ وہ چند لمحے

سوچتا رہا پھر بولا۔

مس نازیہ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ میں اس وقت تم سے تمہارے باس کی حیثیت سے نہیں بلکہ وہی پرانے

دوست کی حیثیت سے بات کر رہا ہوں۔ اس لئے اب تم مجھے سر نہیں کہو گی ۔ اوکے ۔‘ وہ چند لمحے خاموش ہوا پھر

اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے بولا ۔

نازیہ۔ کل میں نے تمہیں اقبال مارکیٹ کے پاس عرفان کے ساتھ دیکھا تھا۔ مجھے تمہارا عرفان سے

یوں ملنا بالکل اچھا نہیں لگا۔“

طاہر ۔ وہ تو مجھے اچانک ہی راستے میں مل گیا تھا۔ نازیہ نے کہا۔

مجھے نہیں معلوم تھا کہ جس بس میں میں سفر کر رہی ہوں عرفان بھی اسی میں ہوگا۔ خیر … جس طرح وہ

تمہارا دوست رہ چکا ہے اسی طرح وہ میرا بھی دوست رہ چکا ہے۔ تمہیں مجھ پر یوں شک نہیں کرنا چاہیے۔“

ا ہو ۔ “ طاہر گڑ بڑا گیا۔

تم تو برا مان گئی میرے کہنے کا یہ مطلب تھا کہ آئندہ تم اس سے نہ ملنا۔ تم شاید عرفان کے بارے

میں نہیں جانتی۔ وہ کتنا عیاش اور بد کردار انسان ہے۔ نازیہ، میں نہیں چاہتا کہ تم بھی عرفان کے چنگل میں

پھنس جاؤ اور میں تمہارے بغیر ادھورا رہ جاؤں نازیہ سر جھکائے بیٹھی تھی۔

اس بات کو کئی دن گزر گئے اس دوران نازیہ سے طاہر کی ایک بار بھی ملاقات نہ ہوئی تھی۔ طاہر نے ایک بات

نوٹ کی تھی کہ نازیہ کے رویہ میں کچھ تبدیلیاں آگئی تھیں۔ کبھی کبھی تو وہ طاہر کو یوں نظر انداز کر دیتی تھی کہ ایسا لگتا تھا

جیسے طاہر کے وجود کا اسے احساس ہی نہ ہو اور یہی بات طاہر کو کھائے جارہی تھی کہ نازیہ کو کیا ہوگیا ہے۔ وہ اسے کیوں

نظر انداز کر دیتی ہے۔ کئی بار اس نے نازیہ سے بات کرنے کی کوشش کی تھی۔ مگر ناز یہ ہر بار کوئی نہ کوئی بہانہ کر کے چلی

جاتی تھی۔ طاہر تو کچھ اور سوچ رہا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ وہ نازیہ سے اپنی شادی کے بارے میں بات کرے تا کہ اس کی

طرف سے مثبت جواب ملتے ہی وہ نازیہ کی والدہ سے بات کرے ۔ مگر نازیہ اس کی بات ہی نہ سنتی تھی۔

آج طاہر نے نازیہ سے ہر صورت بات کرنے کا ارادہ کر لیا تھا۔ اس نے نازیہ کو اپنے کمرے میں بلایا۔

آپ نے مجھے بلایا ہے سر نازیہ نے اندر آ کر پوچھا۔

ہاں۔ احسان کمپنی والی فائل لائیے گا۔ طاہر نے کہا تو وہ چلی گئی تھوڑی دیر کے بعد وہ فائل لئے دوبارہ آئی۔

بیٹھیں ۔“ طاہر نے اس کے ہاتھ سے فائل لیتے ہوئے کہا۔ وہ بیٹھ گئی۔ طاہر فائل کھول کر صفحے الٹنے

پلٹنے لگا۔

ود مس نازیہ مال کی کیا پوزیشن ہے؟ اس نے پوچھا۔

سر احسان کمپنی والوں کو مال بھیجنے کے لئے پیک ہو رہا ہے۔ نازیہ نے بتایا۔

جیسے ہی مال پیک ہوگا۔ روانہ کر دیا جائے گا۔“

گڈ “ طاہر نے فائل بند کرتے ہوئے کہا۔

مس نازیہ۔ آج شام کو کیا کر رہی ہیں۔ میرے کہنے کا مطلب ہے کہ آج شام آپ میرے ساتھ کسی

ریسٹورنٹ میں چائے پینا پسند کریں گی؟ میں نے آپ سے ضروری بات بھی کرنی ہے۔“

نازیہ چند نانیے خاموش رہی پھر بولی۔

سر۔ آج تو میں نہیں جاسکتی۔ ہاں البتہ کل کا وقت رجھ لیں ۔ آج گھر میں کسی مہمان نے آنا ہے اس

لئے مجھے گھر ذرا جلدی پہنچنا ہے۔“

او کے کل ہی سہی مگر بھول مت جانا۔“

وہ اٹھی اور فائل لے کر چلی گئی۔ طاہر نے ابھی بھی یہی محسوس کیا تھا کہ نازیہ اسے مسلسل نظر انداز کر رہی

تھی۔ مگر وہ ایسا کیوں کر رہی تھی کیا اسے طاہر سے محبت نہیں تھی ؟ یا کوئی اور وجہ تھی ۔ چہ جائیکہ وہ اب دوسرے دن

کا شدت سے انتظار کر رہا تھا۔ اپنے دل کی بات کہنے کے لئے وہ بے تاب تھا۔

دوسرے دن دفتر ٹائم ختم ہوتے ہی طاہر نے اسے ساتھ لیا اور ایک ریسٹورنٹ میں آگئے ۔ چائے پینے

کے دوران ان دونوں کے درمیان طویل خاموشی رہی۔ پھر طاہر نے ہی اس خاموشی کو توڑا۔

نازیہ میں تم سے ایک بات کرنا چاہتا ہوں۔“

نازیہ اتنا کہ کر طاہر خاموش ہو گیا۔ ناز یہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔ طاہر نظریں جھکائے

چند لمحے بیٹھا رہا پھر بولا ۔

نازیہ تم جانتی ہو کہ میں تمس سے شدید محبت کرتا ہو۔ اب میرا تمہارے بغیر رہنا بہت مشکل ہو گیا

ہے۔ کوئی کام بھی صحیح نہیں کر سکتا۔ میں ہر وقت تمہارے بارے میں ہی سوچتارہتا ہوں“

پھر اسے خاموش دیکھ کر نازیہ نے بات مزید آگے بڑھائی۔

میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں نازیہ ظاہر نے بمشکل کہا۔

” کیا تم اس کے لئے تیار ہو؟“

اتنی سی بات کہنے کے لئے تم گھبرا ر ہے تھے … ناز یہ ہنس کر بولی۔

اس کا مطلب ہے کہ تم “ طاہر نے خوشی سے کہنا چاہا۔

نہیں طاہر … نازیہ نے اس کی بات کاٹ دی۔

کیا مطل؟ طاہر حیرانگی سے اسے تکنے لگا۔

طاہر … ناز یہ کپ رکھتے ہوئے بولی۔

” مجھے بہت افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ میں تم سے شادی نہیں کر سکتی ۔“

طاہر کو اپنی سماعت پر یقین نہیں آرہا تھا۔

تم کہنا کیا تو ظاہر لرزہ خیز آواز پر

مگر میری ایک مجبوری ہے۔“

ایسی کون سی مجبوری ہے جو ہمارے راستے میں دیوار ثابت ہور، طاہر جذباتی انداز میں بولا۔

ناز یہ چند لمحوں کے بعد بولی۔

اہر …. میرے والد ایک فیکٹری میں کام کرتے تھے۔ ایک دن میرے والد کے دونوں ہاتھ مشین میں

آگئے تھے۔ جس کی وجہ سے ان کے ہاتھ نا کارہ ہو گئے۔ اگر اس وقت اس فیکٹری کے مالک اکبر صاحب ہماری

مالی مدد نہ کرتے تو نجانے آج ہم کس حال میں ہوتے ۔ خیر اب انہوں نے اپنے بیٹے کے لئے مجھے پسند کر لیا

ہے اور ہماری ی منگنی بھی ہو چکی ہے۔ اگلے مہینے ہماری شادی ہے۔“

دمگر تم نے تو اس بارے میں کبھی ذکر بھی نہیں کیا تھا کہ تمہارے والد کے ہاتھ نا کارہ ہیں ۔ طاہر نحیف

سی آواز میں بولا۔

اور نہ ہی کبھی تم نے اپنی منگنی کا ذکر کیا تھا ؟”

میں یہ بتا کر آپ کو افسردہ نہیں کرنا چاہتی تھی ۔ نازیہ سر جھکائے بولی۔

طاہر کو یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے اس کے وجود سے کسی نے جان نکال لی ہو۔ وہ خود کو بہت ہی نحیف و نزار محسوس کر رہا تھا۔ اس نے نازیہ کے بارے میں کیا کیا خواب دیکھے تھے مگر وہ سارے خواب چکنا چور ہو گئے تھے۔

اس خوش نصیب کا نام کیا کیا ہے؟“ طاہر نے پوچھا۔

عرفان نازیہ نے بتایا۔

عرفان کا نام سنتے ہی طاہر انگشت بدنداں رہ گیا۔ وہ حیرت بھری نظروں سے نازیہ کی طرف دیکھنے لگا۔

چہرے پر اطمینان تھا۔ حالانکہ وہ عرفان   چال   چالن کے بارے میں اچھی طرح جانتا تھا اور نازیہ بھی

جانتی تھی۔ اس کے باوجود نازیہ اس سے شادی کر رہی تھی۔

اچھا ہر اب چلیں امی میرا انتظار کر رہی ہوں گی نازیہ نے اس کے خیالات کو توڑا۔

ہاں چلو وہ کمزور آواز میں بولا پھر اس نے بل ادا کیا اور دونوں پارکنگ لاٹ کی طرف بڑھ گئے ۔

مسلسل چار دنوں سے ناز یہ دفتر نہیں آرہی تھی۔ پانچویں دن اس نے دفتر میں قدم رکھا تو وہ دم بخودرہ

گیا۔ نازیہ بہت تبدیل ہو چکی تھی۔ اس کے بناؤ سنگھار اور کپڑوں میں تبدیلی آگئی تھی ۔ نازیہ نے ہی طاہر کو بتایا

تھا کہ اس کی عرفان کے ساتھ شادی ہو گئی ہے اور وہ یہ نوکری چھوڑ رہی ہے۔

وہ نوکری چھوڑ کر چا چکی تھی اور طاہر اس کی جدائی کی آگ میں جل رہا تھا۔ اسے نازیہ سے شدید محبت تھی

مگر اسے کیا معلوم تھا کہ جس سے وہ اتنی محبت کرتا ہے وہ اس کی محبت کی قدر بھی نہ کرے گی اور اپنے باپ کے

اوپر کئے گئے احسانوں کے آگے سرتسلیم خم کرے گی۔ وہ ہر وقت نازیہ کے بارے میں ہی سوچتا رہتا تھا اس کا دل

اتنا ملول ہو چکا تھا کہ ایک دن اس نے دلبرداشتہ ہو کر لندن جانے کا فیصلہ کر لیا۔ لندن میں اس نے اپنا ذاتی بزنس شروع کیا اور نازیہ کو بھولنے کی کوشش کرنے لگا۔

پورے۔ دو سال اس نے لندن میں گزارے۔ پھر وہ پاکستان آ گیا۔ وہ یہاں اپنی ساری جائیداد

فروخت کر کے مستقل لندن میں رہائش رکھنا چاہتا تھا اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ اب

کبھی بھی شادی نہیں کرے گا

اور نازیہ کی یاد میں تجرد کی زندگی گزارے گا۔ اسے کراچی آئے تین ہفتے ہو چکے تھے مگر اس دوران اس نے ایک

بار بھی نازیہ سے رابطہ کرنے کی کوشش نہ کی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ اگر اس نے نازیہ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو

اس کا شوہر عرفان شک میں مبتلا ہوسکتا ہے اور یہی شک نازیہ کی زندگی میں زہر گھول سکتا ہے۔

اس نے پراپرٹی ڈیلر سے رابطہ کیا ہو تھا۔ جلد ہی ایک پارٹی اس کی کوٹھی دیکھنے کے لئے آرہی تھی ۔ وہ جلد

از جلد یہ جائیداد فروخت کر کے لندن واپس جانا چاہتا تھا۔اس دن شام کے وقت ہو رہا تھا۔ سورج غروب ہو رہا تھا۔ طاہر لان میں بیٹھا چائے پی رہا تھا کہ اچانک نے موبائل آن کیا اور کان سے لگا کر بولا۔

”ہیلو“

مگر دوسری طرف سے خاموشی طاری رہی ۔

ہیلو کون ہے. دوسری طرف ؟

ظاہر ہم میں نازیہ بول رہی ہوں۔

سے نازیہ کی آواز سنائی دی۔ طاہر حیران و پریشان ہو گیا۔ نازیہ کی آواز اتنی ہلکی تھی کہ طاہر کو لگا جیسے وہ کسی مصیبت میں گرفتار ہو۔

نازیہ تم خیریت تو ہے “ طاہر بے اختیار بول پڑا۔

تم کہاں ہو اس وقت؟

طاہر … میں بہت مصیبت میں ہوں نازیہ لرزہ آواز میں بولی۔

” خدا کے لئے میری مدد کرو طاہر میری مدد کرو ورنہ ورنہ وہ  مار ڈالے گا …. طاہر میری مدد کرو۔“

کیا کیا ہوا تم اس وقت کہاں ہو… مجھے بتاؤ۔ میں ابھی آتا ہوں … طاہر اس کی آواز پر ہی بے چین ہو گیا تھا۔ نجانے ایسی کیا بات تھی۔

کون تمہیں مارنا چاہتا ہے؟”

اہر … میں اس وقت شاہرہ ریشم کی طرف مڑنے والی سڑک سے دور ایک بنگلے میں قید ہوں ۔ نازیہ

اسے ایڈریس بتانے لگی ۔ آخر میں وہ بولی۔

اہر …. مجھے اس درندے سے بچالو۔“

میں ابھی آتا ہوں تم پریشان مت ہو۔ اتنا کہہ کر طاہر نے موبائل آف کیا اور تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا اپنی کار کی طرف بڑھا۔ اسے دیکھتے ہی چوکیدار نے گیٹ کھول دیا تھا۔ کوٹھی سے کار نکالتے ہی طاہر نے اس کی رفتار میں اضافہ کر دیا تھا۔ وہ جلد از جلد نازیہ کی مد کو پہنچنا چاہتا تھا۔ جو اس وقت کسی مصیبت میں گرفتار تھی کوئی اسے مارنا چاہتا تھا۔ وہ جو بھی تھا ناز یہ کو کیوں مارنا چاہتا تھا۔

ہوئے پتے پر پہنچ گیا۔ وہ تھلگ بنا ہوا بنگلہ تھا جس کے چاروں طرف لو ہے کی باڑ لگی ہوئی تھی۔

پتے پر پہنچ گیا۔ وہ ایک الگ جس کے چاروں طرف لوے جلد ہی وہ اس کے بتائے ہو اور درختوں کے جھنڈ میں ملک بنا ہوا نان باڑ لگی طاہر نے دی تھی اور پیدال ہی اس بنگلے کی بڑھ رہا تھا۔ بنگلے پر موت کی کی خاموشی مسلط تھی۔ ایسا لگا تھا جیسے یہاں کوئی رہتاہی نہ ہو۔ اس نے بنگلے کا گیٹ کھولا اور قریب وجوار کا جائزہ لینے لگا۔

بڑھا۔ انجانا سا ایک خوف اس کے وجود میں سما چکا تھا۔ گہری خاموشی اسے کار کوئی ہے اس نے ایک بار پھر پکارا۔

نازیہ تم کہاں ہوں نازیہ اس نے ایک کمرے کے دروازے پر زور دیا تو وہ چر چراہٹ کی آواز پیدا کر اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے۔

نازیہ اس نے ایک بار پھر نازیہ کو پکار انگر جواب نہ ملا۔ اس نے جیب سے لائٹر نکالا اور آگ کی روشنی میں کمرے کا جائزہ لینے لگا۔ اس کے دائیں طرف والی دیوار پر ایک اور دروازہ تھا اس نے وہ دروازہ بھی کھولا اور اندر داخل ہو گیا۔ مگر وہاں بھی تاریکی کا راج تھا۔ اس نے تین چار کمرے چھان مارے مگرا سے نازیہ نظر نہ آئی۔ ایک کمرے کے قریب سے گزرتے ہوئے اسے ایسی آواز آئی جیسے کوئی کر اور رہا ہو۔

نازیہ اس نے پھر نازیہ کو آواز لگائی۔ جواب میں اسے ہلکی ہلکی سسکیوں کی آواز سنائی دی۔ وہ ایک اور کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تو اگلے ہی لمحے حیرت و پریشانی سے اس کے ماتھے پر پسینہ آ گیا۔

نازیہ رسیوں سے بندھی ہوئی پڑی تھی۔ اس کے قریب ہی ٹیلی فون اوندھا پڑا تھا۔ جو شاید طاہر سے بات کرنے کے دوران میز پر سے گر گیا تھا۔ طاہر نے فون اٹھا کر جگہ پر رکھا اور پھر اس کے ہاتھ پاؤں کھولنے لگا۔ نازیہ کی حالت ایسی ہو رہی تھی جیسے وہ برسوں کی بیمار ہو، بال الجھے ہوئے تھے، لباس بھی شکن آلود تھا۔ نازیہ کو آزاد کرتے ہی اسے سیدھا کیا۔

“نازیہ تم تمہاری یہ حالت کس نے بنائی ہے۔ نازیہ نے اس سے پوچھا۔

طاہر۔ نازیہ روہانسی لیجے میں بولی۔

ے سے بچالو …. مجھے بچالو …. ورنہ وہ مجھے اذیت دے دے کر مار ڈالے

مجھے کچھ بتاؤ تو سہی طاہر تڑپ کر بولا ۔

“کون ہے وہ عرفان نازیہ نے بتا یا خوف کی پر چھائیاں ابھی تک اس کے چہرے سے مترشح تھیں۔

وہ مجھے مار ڈالے گا۔ طاہر میں نے اس وقت تمہاری بات نہیں مانی تھی ….. مجھے معاف کر دو… کاش میں اس وقت تمہاری بات مان جاتی اور مجھے آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا عرفان واقعی انسان نہیں حیوان ہے. اب میں مزید اس کے ساتھ نہیں رہ سکتی …. طاہر مجھے یہاں ۔جہاں یہ درندہ بھی بھی نہ پہنچ سکے ۔”

فکر مت کرو… طاہر نے اسے تسلی دی۔

اصل بات کیا ہے مجھے کچھ تو بتاؤ تم دونوں اتنی دور شہر سے ہٹ کر اس بنگلے میعرفان کہاں ہے …؟

وہ ڈاکٹر کے پاس گیا ہوا ہے۔ نازیہ نے بتایا۔

ڈاکٹر کے پاس طاہر حیرانگی اور تذبذب سے بولا ۔

پوری بات بتاؤ ؟”

طاہر … شادی کے بعد ہی مجھے معلوم ہوا تھا کہ عرفان شراب اور شباب کا رسیا ہے ۔‘ناز یہ بتانے لگی۔

وہ بے انتہا شراب پیتا ہے۔ کئی روز گھر سے غائب رہنے لگا۔ بلکہ بعض اوقات تو وہ غیر عورتوں کو بھی گھر لانے لگا تھا۔ اس پر جب میں نے احتجاج کیا تو مجھے بہت مارا پیٹا۔ غلیظ گالیاں دیں۔ ایک رات وہ شراب کے نشے میں دھت کار ڈرائیو کرتا گھر آرہا تھا۔ شراب نے اس کے حواس بالکل مفلوج کر دیئے تھے۔ اس طرح اس کا ایکسیڈنٹ ہو گیا اور ایک ٹانگ سے محروم ہو گیا۔ اسپتال سے گھر آتے ہی وہ کچھ چڑ چڑا سا ہو گیا۔ بات بے بات لڑنا جھگڑنا شروع کر دیا۔ وہ مجھ سے ہر بار یہی کہتا ہے کہ شاید مجھے اس سے شدید نفرت ہوگئی ہے۔ میں سے چھوڑ کر چلی جاؤں گی۔ چہ جائیکہ اس نے ایک دن مجھے ساتھ لیا اور اس بنگلے میں قید کر دیا۔ اب جب بھی وہ ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے تو مجھے رسیوں سے باندھ کر قید کر کے چلا جاتا ہے۔ اس کا خیال ہے کہ میں اس کی عدم موجودگی میں یہاں سے بھاگ جاؤں گی۔ اس کے باوجود بھی وہ مجھ پر بے انتہا تشدد کرتا ہے۔ مجھے مارتا رہتا ہے۔ طاہر عرفان نفسیاتی مریض بن گا ہے۔ خدا کے لے مجھے یہاں سے لے چلو میں اب اس کا مزید ظلم  اب برداشت نہیں کر سکتی ۔

اتنا کہہ کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔.

تم فکر مت کرو میں آگیا ہوں ” طاہر نے اسے دیکھنے لگی۔

” سب ٹھیک ہو جائے گا۔”

سے طاہر کی جانب

اوه ……اوه ..

و … وہ درندہ آ گیا ہے. ناز یہ خوف سے بولی۔

طاہر تم چلے جاؤ اگر اس درندے نے تمہیں یہاں دیکھ لیا تو نجانے وہ کیا کر بیٹھے تم چلے جاؤ”

مگر مگر میں تمہیں اب اکیلا کیسے چھوڑ دوں؟ میں تمہیں ساتھ لے کر ہی جاؤں گا ۔ طاہر نے تیز لہجے میں کہا۔ اگلے ہی لمحے اس بنگلے کے فرش پر بیساکھی کی کھٹ کھٹ کی آواز سنائی دی۔

اس وقت تم چلے جاؤ۔ میں تمہیں پھر فون کر کے بلالوں گی نازیہ ڈرتے ہوئے بولی۔

”جاؤ ظاہر ۔ وہ آ رہا ہے۔ جاؤ”

“اگلے ہی لمحے طاہر اٹھا اور کمرے سے باہر نکلتا چلا گیا۔

اس دن سے طاہر بے چین تھا۔ جس دن سے وہ نازیہ سے مل کر آیا تھا۔ نازیہ کی بری حالت نے اس میں

اضطراری کیفیت پیدا کر دی تھی۔ چھ دن ہو چکے تھے مگر ابھی تک نازیہ نے طاہر سے رابطہ نہیں کیا تھا۔ انجانے

وسو سے طاہر کو پریشان کئے ہوئے تھے کہ کہیں عرفان کو ظاہر کی آمد کا پتہ نہ چل گیا ہو۔ اس نے نازیہ پر تشدد نہ کیاہو۔ اسے اس بات کی خوشی بھی تھی کہ نازیہ ابھی تک اسے پسند کرتی تھی۔ کیونکہ وہ نازیہ کی آنکھوں میں اپنے لئے پسندیدگی کے تاثرات دیکھ چکا تھا۔ اس کا دوست کے ہاں جائے گا۔

 تھا کہ وہ نازیہ کو فوراً لے کر لاہوراہے تھے تو بودکچھ دن وہاں گزارنے کے بعد وہ لندن چلے جائیں گے۔ اس نے اپنی کوٹھی بھی بیچ دی تھی۔ رقم گھر میں موجود تھی۔ اب صرف نازیہ کی طرف سے اشارہ ملنا باقی تھا۔

اس دن دو پہر کو وہ کمرے میں بیٹھا نازیہ کے بارے میں ہی سوچ رہا تھا کہ اسی وقت اس کے موبائل کی

گھنٹی بج اٹھی۔ اس نے لپک کر موبائل اٹھایا اور او کے کا بٹن پریس کر کے کان سے لگالیا۔

ہیلو کون؟ ظاہر کے لیے میں اضطراریت تھی۔

میں نازیہ بول رہی ہوں ۔ نازیہ کی آواز سنائی دی۔

اد ہونا یہ اتنے دن تم کہاں تھیں؟ ظاہر متفکر لہجے میں بولا۔

اتنے دن سے میں تمہارے لئے پریشان ہوں اور تم نے مجھ سے رابطہ تک نہیں کیا۔ کیا ہوا ؟”

طاہر مجھے فون کرنے کا موقع ہی نہ مل رہا تھا۔ نازیہ نے رک رک کر بولتے ہوئے کہا۔

” عرفان کہیں بھی نہیں جاتا۔ سارا سارا دن گھر پر ہی ہوتا ہے اب وہ باہر لان میں بیٹا ہوا ہے تو مجھے اس کے موبائل پر تم سے بات کرنے کا موقع مل گیا ہے. اس دن تمہارے جانے کے بعد عرفان نے مجھے بہت ماراپیا تھا۔ اسے شک ہو گیا تھا کہ کوئی مجھ سے ملنے آیا ہے۔ طاہر مجھے سمجھ میں کچھ نہیں آرہا کہ میں کیا کروں۔“

ہمت ہارنے کی بجائے حالات کا مقابلہ کرو۔“ طاہر نے کہا۔

” میں نے سب انتظام کر لیا ہے۔ اب تمہیں لینا باقی ہے۔ تم مجھے بتاؤ کہ میں کب آؤں …. میں تمہیں

لے کر سید ھالا ہور جاؤں گا اس کے بعد ہم لندن جائیں گے۔”

” کیا تم نے اپنی کوٹھی بیچ دی ہے۔ نازیہ نے حیرانگی سے پوچھا۔

ہاں رقم اس وقت میرے پاس موجود ہے۔ طاہر نے کہا۔

 تم نے بتایا نہیں کہ میں کب آؤں …

“سنو. عرفان کو پرسوں ڈاکٹر کے پاس جانا ہے۔ ناز یہ بتانے لگی۔

تم پرسوں ٹھیک بارہ بجے آجاتا۔ میں تیار ہوں گی۔ ہم وہیں سے ہی نکل چلیں گے۔ سنو …. عرفان اندر آ رہا ہے۔ تم پرسوں آجاتا او کے گڈبائی اتنا کہہ کر نازیہ نے رابطہ توڑ دیا۔ طاہر نے موبائل آف کر کے رکھ دیا اور پرسوں کے بارے میں سوچنے لگا۔

مقر رو دن وہ ٹھیک گیارہ بجے تیار ہو کرن کلا اور نازیہ کے بنگلے کی طرف روانہ ہو گیا۔ اس کیپاس اس

وقت اسی لاکھ روپے موجود تھے۔ بارہ بجے سے دس منٹ پہلے ہی وہ نازیہ کے بنگلے میں پہنچ گیا اور رقم سے بھرا

بریف کیس اس نے کار کی پچھلی نشست پر رکھا ہوا تھا۔ اس نے کار سے نکلتے ہی نازیہ کو آواز دینا شروع کر دی۔

“چلونکل چلیں ظاہر نے اس سے کہا۔

” چلتے ہیں طاہر . نازیہ نے کہا۔

نازیہ کمرے میں موجود تھی۔ وہ اس وقت سراپا قیامت بنی ہوئی ہیں۔

کہیں عرفان نہ آجائے .. طاہر نے بے چینی سے کہا۔

” بے فکر رہو۔ شام سے پہلے وہ نہیں آتا۔ نازیہ نے کہا۔

 تم بیٹھو میں تمہارے لئے چائے لاتی ہوں۔”

اتنا کہہ کر ناز یہ کچن میں چلی گئی۔ جب کہ طارق ۔ اتنہ لینے لگا۔ اسے ابھی تک عرفان کا خطرہو جوار

کھائے جار ہا تھا کہ وہ اچانک کہیں سے ٹپک نہ پڑے۔ ٹہلتے ٹہلتے وہ ایک تصویر کے پاس رک گیا۔ جو دیوار کے

ساتھ پینٹ کی گئی تھی ۔ وہ تصویر دیکھنے میں اتنا مگن تھا کہ اسے احساس ہی نہ ہو سکا کہ کوئی اس کے پیچھے پہنچ چکا

ہے۔ اس سے پہلے کہ وہ مڑتا۔ ایک ٹھنڈی نال اس کی گردن کے ساتھ آ لگی۔ طاہر نے خوف و تجسس سے پیچھے

مڑنا چاہا۔ عرفان کی کرخت آواز سن کر رک گیا۔

خبر دار ہر … اگر کوئی غلط حرکت کرنے کی کوشش کی ۔

طاہر حیرانگی و پریشانی کے عالم میں اس طرف مڑا تو اگلے ہی لمحے اس کی حیرت کے مارے آنکھیں پھٹنے

کے قریب ہو گئی۔ اس کے سامنے عرفان درست حالت میں موجود تھا اور اس کے ہاتھ میں ایک ریوالور تھا جس کا رخ اس کے سینے کی طرف تھا۔ اس کے ساتھ ہی نازیہ بھی کھڑی تھی جس کے ہاتھ میں اس کا رقم سے بھرا بریف کیس تھا۔ ان دونوں کے چہروں پر مکر وہ مسکراہٹ رینگ رہی تھی۔

دون شن نازیہ تم آواز طاہر کے حلق میں پھنس گئی۔

یہ سب کیا ہے ہم ہم “

میں تمہیں بتا تا ہوں طاہر . عرفان نے کہا۔

اصل میں ہمیں تمہیں پھانسنے کے لئے یہ چال چلنی پڑی ہے۔ پہلے ہم یہ بات تم پر واضح کر دیں کہ ہم نے ابھی تک شادی نہیں کی۔ شادی کا وہ صرف ایک ڈرامہ تھا۔ ہم تو تمہاری دولت ہتھیانا چاہتے تھے۔ پہلے ہم نے یہی سوچا تھا کہ ہم نے تم سے زبر دستی کاغذات پر دستخط کروالیں گے مگر تم نے ہمارے سارے پلان کو خراب کر دیا اور خود لندن چلے گئے ۔ خیر وہ چند نظروں سے ان دونوں کی ہوئی تھی۔ بات بڑھاتے دیکھ رہا تھا۔ جن کے چہروں پر سفا کی اور درندگی و خاموش ہوا۔ کام کہو کے بولا۔ بابر لندن سے تمہارے واپس آتے ہی میرے دماغ میں یہ ڈرامہ آیا کہ نازیہ تمہیں فون کر کے اپنی مدد کے لئے اتارے بارے میں بھر کر لیا میں اس پر تشدد کرتا ہو۔ میری ٹانگ ٹوٹ چکی ہے۔ میں تھا کہ تم اب اپنی اسی لاکھ کی کوٹھی فروخت کر کے واپس لندن جا رہے ہو ۔ اس بار ہم نے میلہ سید خالہ میں اب کسی بھی صورت میں یہاں سے نہیں جانے دیں گے۔ باقی باتیں تمہیں معلوم ہیں۔“

طاہر حد درجہ پریشان ہو گیا تھا۔ اس پر عجیب سی کیفیت طاری تھی۔ ان دونوں نیا سے پاننے کے لئے بہت گہری چال چلی تھی اور وہ بھی ان کی چال میں پھنستا چلا گیا تھا۔

نازیہ میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا ۔ طاہر غصیلے لہجے میں بولا۔

” تم دونوں مجھے میری رقم واپس کردو ورنہ ور نہ کیا۔ عرفان مضحکہ خیز لہجے میں بولا۔

تم ہمارا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے ہم تمہیں ختم کر کے یہاں سے چلے جائیں گے اور کسی کو تمہاری لاش

کا پتہ بھی نہ چل سکے گا۔“

اس سے پہلے کہ طاہر مزید کچھ کہتا۔ عرفان ٹریگر دباتا چلا گیا اور طاہر ماہی بے آب کی مانند تڑپتا ہوا نیچے گرا

اور چندلمحوں کے بعد ہی ختم ہو گیا۔ ان دونوں کے چہروں پر فاتحانہ مسکراہٹ تھی۔

چالیس چالیس لاکھ روپے آفس میں بانٹ لیتے ہیں۔ نازیہ نے کہا۔

”ہمارا پلان سو فیصد کامیاب رہا ہے۔“

”ہاں بالکل عرفان مکروہ مسکراہٹ سے بولا۔

مگر میں تمہیں پھوٹی کوڑی بھی نہیں دوں گا ۔“

لگ کیا مطلب؟ اپنی طرف ریوالور دیکھ کر ناز یہ گھبرا گئی۔

یہ یہ تم کیا کر رہے ہو عرفان تم نے تو آدھی آدھی رقم کا وعدہ کیا تھا۔ پھر یہ۔۔۔”

وعدہ ضرور کیا تھا مگر میں نے یہ وعدہ نہیں کیا تھا کہ میں تمہیں زندہ چھوڑ دوں گا ۔ عرفان سفاک لہجے

میں بولا اس سے پہلے کہ نازیہ مزید کچھ بولتی عرفان نے اسے بھی گولیاں مار کر ٹھنڈا کریا۔ اس نے نازیہ

کے ہاتھ سے بریف کیس لیا اور کھول کر رقم دیکھنے لگا اس کا چہرہ رقم دیکھ کر چمک دمک رہا تھا۔

ہا ہا اب یہ ساری دولت میری ہوگئی ہے۔ وہ ہذیانی انداز میں ہنسا۔

اب میں ساری زندگی عیش و عشرت میں گزاروں گا. ہا ہا یہ ساری دولت میری ہے۔“

اس نے جیب سے سگریٹ نکالی اور سلگانے کے لئے لائٹر جیب میں تلاش کرنے لگا۔ لیکن اس کا لائٹر

کہیں گر گیا تھا۔ وہ کچن کی طرف بڑھا اس نے سگریٹ ہونٹوں میں دبائی اور ماچش اٹھا کر جیسے ہی اس نے

تیلی جلائی۔ ایک لرزہ خیز دھما کہ ہوا۔ جیسے زلزلہ آ گیا ہو۔ اس کے جسم کو آگ لگ گئی تھی ۔ پورا جسم آگ میں جل گیا

تھا۔ وہ پاگلوں کی مانند چیخنے چلانے لگا۔ چندلمحوں کے بعد ہی اس کا جسم جل کر کوئلہ بن چکا تھا۔

اس کا لائٹر نازیہ نے کہیں پھینک دیا تھا اور اس نے جان بوجھ کر گیس کھول دی تھی۔ اس کا پلان تھا کہ جب عرفان کو لائٹر نہیں ملے گا تو وہ کچن میں ماچس سے سگریٹ جلائے گا تو اس کے اس کے ساتھ وہ بھی آگ میں جل جائے گا اور طاہر کی دولت صرف اور صرف اس کی ہو جائے گی۔

 

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments
error: Content is protected !!
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x