مکمل ناول
میرا نام صدف ہے اور میں چھبیس برس کی ہوں۔۔
شہر کے اس حصے میں رہتی ہوں جہاں صبحیں پرانی مندر کی گھنٹیوں کی آواز سے نہیں بلکہ سبزی فروشوں کے اوازوں سے شروع ہوتی ہیں۔۔۔
اور شامیں مٹیالی دھوپ کے ساتھ آہستہ آہستہ بجھتی ہیں۔۔۔
ہمارا فلیٹ پہلی منزل پر ہے سیڑھیاں چڑھتے ہوئے دیوار سے اٹھتی سیلن کی بو اور سرد ریلنگ مجھے ہر دن یاد دلاتی ہے کہ یہ جگہ یہ میری ذمہ داریوں کی مستقل علامت ہے۔۔۔
دروازہ کھلتے ہی ایک چھوٹا سا ہال ہے جس کی چھت پر پرانا پنکھا گھومتا رہتا ہے۔۔
اس کی یکساں آواز کبھی لوری لگتی ہے اور کبھی دل کی دھڑکنوں سے الجھ جاتی ہے۔۔۔
قالین کے رنگ اڑ چکے ہیں مگر اس پر چلتے قدموں نے برسوں کی کہانیاں سمیٹ رکھی ہیں۔۔۔
میری صورت آئینے میں مجھے ہمیشہ دوہری لگتی ہے۔۔۔
ایک چہرہ وہ جو دنیا دیکھتی ہے دودھیا رنگت ہلکی سی چمک جو دھوپ میں ابھر آتی ہے۔۔۔
بڑی بڑی آنکھیں جن کے کناروں پر تھکن کی باریک لکیریں ہیں۔۔
مگر گہرائی میں اب بھی روشنی باقی ہے۔۔۔
پلکیں لمبی ہیں جو پلک جھپکتے وقت کسی خاموش راز کی طرح مل جاتی ہیں۔۔۔
ناک سیدھی، ہونٹ قدرتی طور پر بھرے ہوئے بال سیاہ گھنے اور لمبے۔۔
کبھی کندھوں پر بکھر جاتے ہیں تو کبھی میں انہیں بے دھیانی میں جوڑے کی صورت باندھ لیتی ہوں۔۔
جسم خوبصورت ہے نسوانی حسن اتنا زیادہ کہ ائینے میں خود کو دیکھ کر شرما جاتی ہوں۔۔
گھر سے نکلوں تو لوگوں کی نظریں میرے جسمانی خدوخال کو دیکھ کر ستائش سے بھر جاتی ہیں۔۔
اور میں ہمیشہ سوچتی ہوں کہ اس خوبصورتی نے اس جسم نے اج تک کچھ نہیں دیا مجھے۔۔
محبت ہوئی جب اکیس کی تھی اس کا انجام صرف یہ ہوا کہ میں لڑکی نہیں رہی۔۔
اس محبت نے چند مہینوں میں ہی میری معصومیت اور میرا کنوارپن چھین کر مجھے عورت بنا دیا۔۔
غم اس کا نہیں کہ کنواری نہیں رہی یا محبت میں دھوکا ہوا۔۔
افسوس اس بات کا ہے کہ اسے مجھ سے کبھی محبت تھی ہی نہیں۔۔
صرف اپنے جسم کی تسکین کے لئے اس نے میرا استعمال کیا۔۔
دل بھر گیا تو رابطہ ختم تعلق ختم۔۔
دوسری بار محبت کی تو اس کا انجام بھی وہی رہا مگر اس بار۔۔
بہانہ یہ رہا کہ تم کنواری نہیں ہو ایسی لڑکی سے میں تعلق نہیں رکھ سکتا۔۔۔
مگر مزے کی بات یہ ہے کہ یہ سب اس نے مجھ سے تعلق بنانے کے بعد جتایا۔۔
دونوں محبتوں نے صرف اتنا کیا کہ میرا جسم جو پہلے بند کلی کی طرح تھا۔۔
دونوں محبتوں نے اسے گلاب کی طرح کھلا دیا۔۔
مگر خوش قسمتی رہی کہ دونوں بار صرف دو چار بار ہی استعمال ہوئی۔۔
کنوارپن تو نہیں رہا مگر جسمانی خوبصورتی اور کشش بے پناہ بڑھ گئی۔۔
تب میں نے سوچ لیا محبت نام کی کوئی چیز دنیا میں نہیں ہوتی۔۔
میرے کمرے کی کھڑکی مشرق کی طرف کھلتی ہے۔۔۔
صبح سورج کی روشنی سیدھی میرے بستر پر آتی ہے۔۔۔جیسے مجھے اٹھنے پر مجبور کر رہی ہو۔۔
کھڑکی کے شیشے پر بارش کے دنوں میں بوندیں ٹھہر جاتی ہیں اور میں انہیں انگلی سے گنتی رہتی ہوں۔۔
جیسے ہر بوند کے ساتھ کوئی دعا باندھ دی ہو۔۔۔
کھڑکی کے پاس ایک چھوٹا سا شیلف ہے اس پر میری کتابیں رکھی ہیں۔۔
امی کی موجودگی گھر کو باندھے رکھتی ہے۔۔۔
ان کے ہاتھوں کی لکیریں گہری ہیں، برسوں کی محنت کی گواہ۔۔۔
جب وہ میرے سر پر ہاتھ پھیرتی ہیں تو مجھے لگتا ہے جیسے ساری دنیا تھوڑی دیر کے لیے رک گئی ہو۔۔۔
بھائی کی ہنسی گھر کی سب سے تیز آواز ہے، وہ جب اسکول سے آتا ہے تو بستہ ایک طرف پھینک کر میرے پاس آ بیٹھتا ہے۔۔
اپنی باتیں سناتا ہے، اپنے خواب دکھاتا ہے، اور میں ہر بار مسکرا کر سر ہلاتی ہوں۔۔
حالانکہ اندر کہیں ڈر بیٹھا ہوتا ہے کہ میں اس کے خوابوں کی حفاظت کر پاؤں گی بھی یا نہیں۔۔۔
ابو کی غیر موجودگی ایک خالی کرسی نہیں ایک خالی زندگی ہے۔۔۔
ان کی گھڑی اب بھی الماری کے خانے میں رکھی ہے کبھی کبھی میں اسے نکال کر کان سے لگا لیتی ہوں۔۔۔
جیسے اس کی ٹک ٹک میں ان کی آواز سنائی دے گی۔۔۔
ان کے جانے کے بعد میں نے سیکھا کہ آنسو چپکے سے کیسے بہائے جاتے ہیں، بات کیسے بدلی جاتی ہے، اور رات کو کیسے خاموشی سے ٹوٹا جاتا ہے تاکہ صبح مضبوط دکھائی دے سکوں۔۔۔
دن کا زیادہ حصہ کام میں گزر جاتا ہے۔۔۔
کبھی لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھی، آنکھیں اسکرین میں گاڑے، انگلیاں کی بورڈ پر دوڑتی ہوئی۔۔
کبھی کسی دفتر میں، جہاں چہرے اجنبی ہیں اور مسکراہٹیں مصنوعی۔۔۔
میں نے خود کو ہر جگہ ڈھالنے کی کوشش کی، آواز نرم رکھی، سر جھکائے رکھا، مگر ہر مہینے کے آخر میں حقیقت ایک ہی رہی۔۔
کمی پیسوں کی، کمی وقت کی، کمی سکون کی۔
راتیں سب سے مشکل ہوتی ہیں۔۔۔
جب امی سو جاتی ہیں، بھائی کے سانسوں کی آواز کمرے سے آتی ہے، اور میں اکیلی رہ جاتی ہوں اپنی سوچوں کے ساتھ۔۔۔
پنکھے کی آواز بڑھ جاتی ہے، باہر گلی کے کتے بھونکتے ہیں، کہیں دور کوئی موٹر سائیکل گزرتی ہے، اور میں بستر پر کروٹیں بدلتی رہتی ہوں۔۔۔
موبائل ہاتھ میں آ جاتا ہے، جیسے لاشعوری طور پر۔ اسکرین پر روشنی پھیلتی ہے، اور اسی روشنی میں وہ اشتہار، وہ پیغامات، وہ وعدے چمکنے لگتے ہیں۔۔۔
جن میں ان لائن ارننگ اور کہیں ویب سائٹ پر ایپلی کیشن پر چہرہ چھپا کر صرف جسم دکھانے کے پیسے ملتے ہیں۔۔
میں خود سے نظریں چرا لیتی ہوں، پھر واپس دیکھتی ہوں، کیونکہ نظر چرانا اب بھی ایک آسائش لگتی ہے۔۔۔
اس رات ہوا میں نمی تھی بادل چھائے ہوئے تھے مگر بارش نہیں ہو رہی تھی۔۔
میں نے امی کی دواؤں کی فہرست دیکھی، بھائی کی فیس کا میسج پڑھا، اور اپنے بینک اکاؤنٹ کا بیلنس دیکھا۔۔۔
سینے میں ایک بھاری پتھر سا آ گیا۔۔۔
میں نے آنکھیں بند کیں، لمبی سانس لی، اور پھر موبائل پر سرچ بار میں وہی نام ٹائپ کیا جس سے میں کئی دنوں سے بھاگ رہی تھی۔۔۔
تفصیلات کھلتی گئیں، دعوے سامنے آتے گئے، اور ہر لفظ میرے اندر کسی کمزور حصے کو چھوتا گیا۔۔۔
ویب سائٹ پر لڑکیاں بناء لباس ان لائن مجھے شرم اگئی۔۔
میرا ہاتھ ڈاؤن لوڈ کے بٹن پر ٹھہر گیا۔۔۔
انگلی کے نیچے شیشہ ٹھنڈا تھا میں نے اپنے آپ کو آئینے میں دیکھا، اس لڑکی کو جو کبھی بڑے خوابوں کے ساتھ یونیورسٹی کے لان میں چلتی تھی۔۔
اور اس عورت کو جو اب بلوں اور ذمہ داریوں کے درمیان سانس لے رہی ہے۔۔۔
میں نے خود سے کہا کہ یہ فیصلہ خواہش نہیں، ضرورت ہے، مگر یہ جملہ بھی مجھے پوری طرح تسلی نہ دے سکا۔۔۔
جب انسٹالیشن شروع ہوئی تو اسکرین پر چلتی لکیر کے ساتھ ساتھ میرے اندر بھی کچھ بدل رہا تھا۔۔۔
مجھے لگا جیسے میں اپنے ہی سائے سے ایک قدم آگے نکل آئی ہوں۔۔۔
ایک کمزور سی امید نے بھی سر اٹھایا کہ شاید یہ اندھیری سرنگ کے آخر میں کوئی روشنی ہو۔۔۔
ایپ کا آئیکن نمودار ہوا تو وہ عام سا لگا، مگر میرے لیے وہ ایک دروازہ تھا۔۔
جس کے پیچھے نامعلوم راستے، آزمائشیں، اور شاید وہ سب کچھ چھپا تھا جس کے بارے میں میں ابھی سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی۔۔۔
میں نے موبائل ایک طرف رکھا، بستر پر سیدھی لیٹ گئی اور چھت کو گھورتی رہی۔۔۔
پنکھا گھومتا رہا، وقت گزرتا رہا، اور میرے دل میں بس ایک ہی احساس گونجتا رہا کہ میں خوبصورت ضرور ہوں، مگر اس خوبصورتی کے ساتھ جڑی کمزوریوں کو دنیا بہت آسانی سے استعمال کر لیتی ہے۔۔۔
میں نے دل ہی دل میں عہد کیا کہ چاہے یہ راستہ کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو، میں خود کو مکمل طور پر کھونے نہیں دوں گی۔۔
مگر اس عہد کے نیچے بھی ایک لرزش تھی، ایک ڈر، جو مجھے بتا رہا تھا کہ اصل امتحان اب شروع ہونے والا ہے۔۔۔
رات کا سناٹا اب کمرے کی دیواروں میں جذب ہو چکا تھا۔۔۔
پنکھا آہستہ آہستہ گھوم رہا تھا اور اس کی یکساں آواز میرے اندر کی بےچینی کو اور نمایاں کر رہی تھی۔۔۔
پروفائل کھلا تھا ہر خانے کے ساتھ ایک سوال جڑا ہوا، ہر بٹن کے پیچھے ایک اندیشہ چھپا ہوا۔۔۔
میں دیر تک صرف دیکھتی رہی، جیسے دیکھنے سے سب کچھ رک جائے گا، جیسے یہ لمحہ خود بخود گزر جائے گا۔۔۔
دل میں جھجھک اس حد تک تھی کہ آنکھیں بار بار جھک جاتیں۔۔۔
کیمرا کھول کر کچھ عکس بنائے بناء چہرے کے۔۔۔
وہ زاویے جو کسی کے سامنے لانے کے لیے نہیں ہوتے۔۔۔
مگر حالات نے مجھے وہاں لا کھڑا کیا تھا جہاں اب کچھ چھپانا ممکن نہیں رہا تھا۔۔۔
میں نے ایک تصویر چنی، پھر دوسری، پھر تیسری۔۔۔
ہر بار انگلی کانپتی، ہر بار سانس رکتی۔۔۔
ایسا لگ رہا تھا جیسے ہر تصویر کے ساتھ میں اپنے اندر کا ایک پردہ ہٹا رہی ہوں۔۔۔
اپلوڈ کا بٹن دبانے سے پہلے میں نے کئی بار آنکھیں بند کیں۔۔۔
جب تصویریں اسکرین پر نمودار ہوئیں تو دل میں ایک عجیب سی سنسنی دوڑ گئی۔۔۔
شرم، جھجھک اور ڈر سب اکٹھے ہو گئے۔۔۔
میں نے فوراً نظر ہٹا لی جیسے اپنے ہی عکس سے نظریں چرا رہی ہوں۔۔۔
پھر ویڈیو کا مرحلہ آیا، اور یہ مرحلہ پہلے سب سے زیادہ بھاری تھا۔۔۔
کیمرے میں وہ سب کچھ صاف نظر آ رہا تھا جو میں دنیا سے چھپاتی آئی تھی۔۔
میں نے فریم بدلا، روشنی مدھم کی اور چند سیکنڈ کی ریکارڈنگ کر لی۔۔
ریکارڈ بند کرتے ہی میں نے موبائل سینے سے لگا لیا۔۔
جیسے یوں سب واپس آ جائے گا۔۔۔
دل کہہ رہا تھا ڈیلیٹ کر دو، سب ختم کر دو، ابھی وقت ہے۔۔۔
مگر پھر وہی ضرورتیں اور ساتھ کچھ سنسنی اور ایڈوینچر کی کیفیت بھی تھی۔۔ہاتھ پھر سے لرزا…
اور آخرکار وڈیو بھی اپلوڈ ہوگئ۔۔
لوگ پیسے دے کر تصاویر اور وڈیو کھول سکتے تھے اور کمیشن کٹ کر وہ سارے پیسے مجھے ملتے۔۔
وہاں لائیو آنے کا اپشن بھی تھا مگر میں نے اسے ایکٹو نہیں کیا۔۔
پھر نوٹیفکیشن آنے لگے ایک کے بعد ایک۔۔۔
ہر آواز پر دل اچھلتا ہر لمحہ سانس تیز ہو جاتی۔۔۔
میں نے فون الٹا رکھ دیا، مگر چند ہی لمحوں بعد پھر اٹھا لیا۔۔۔
یہ کمزوری تھی یا اس راستے کی پہلی لت میں خود نہیں جانتی تھی۔۔۔
میں بستر پر لیٹ گئی۔۔۔
چھت کو دیکھتی رہی۔۔۔
پنکھا گھوم رہا تھا، رات ویسے ہی گہری تھی، دنیا ویسے ہی چل رہی تھی۔۔۔
مگر میرے اندر کچھ ایسا بدل چکا تھا جسے واپس پہلے جیسا کرنا اب ممکن نہیں لگ رہا تھا۔۔۔
میں ایک ایسی حد پار کر چکی تھی جس کے بعد ہر قدم پہلے سے زیادہ بھاری، پہلے سے زیادہ خطرناک، اور پہلے سے زیادہ فیصلہ کن ہونے والا تھا۔۔۔
رات اب بوجھ نہیں رہی تھی ایک زندہ تجربہ بن چکی تھی۔۔۔
پنکھے کی آواز پس منظر میں رہ گئی اور ساری توجہ موبائل کی اسکرین پر مرکوز ہو گئی۔۔۔
میں نے فون ہاتھ میں لیا تو اس بار انگلی نہیں کانپی، بلکہ ایک ٹھہراؤ تھا۔۔
پروفائل مکمل تھا نام بدلا ہوا تعارف نپا تلا چند ایسی تصویری جھلکیاں جو پوری کہانی نہ بتاتیں مگر تجسس کو زندہ رکھتیں۔۔۔
اسکرین پر پہلی بار بیلنس شو ہوا تو ایک عجیب سی سنسنی دل میں دوڑ گئی۔۔
جیسے کسی نے کہہ دیا ہو کہ ہاں، یہ سب محض وہم نہیں تھا۔۔۔
اس کے بدلے واقعی کچھ مل رہا ہے۔۔۔
نوٹیفکیشن ایک کے بعد ایک آنے لگے۔۔۔
پہلے دل تیز دھڑکا، پھر ایک طرح کی عادت سی بننے لگی۔۔۔
کچھ پیغامات سطحی تھے، کچھ حد سے بڑھے ہوئے، اور کچھ ایسے جنہیں پڑھ کر ہونٹوں پر بے اختیار ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔۔۔
خوف اب بھی تھا مگر اس کے ساتھ ایک احساس اور جڑ چکا تھا اختیار کا احساس۔۔۔
میں نے کچھ فیچرز لاک کر دیے کچھ مواد صرف مخصوص لوگوں کے لیے محدود رکھا۔۔۔
اسکرین پر انگلی آہستہ آہستہ پھسلتی رہی۔۔۔
نام بدلتے رہے پیغامات کی قطار لمبی ہوتی گئی، اور ہر چند لمحوں بعد فون کی ہلکی سی وائبریشن دل میں ایک نئی لہر چھوڑ جاتی۔۔۔
موبائل کی ٹھنڈی روشنی چہرے پر پڑتی تو یوں لگتا جیسے اندھیرے میں کوئی اور ہی دنیا کھل رہی ہو۔۔
ایک ایسی دنیا جو صرف میرے لیے جاگ رہی ہے۔۔۔
باہر گلی خاموش تھی، پنکھا یکساں آواز میں گھوم رہا تھا۔۔۔
مگر میرے اندر شور بڑھتا جا رہا تھا، ایک زندہ سا شور، جو خوف بھی تھا ایڈوینچر بھی سنسنی بھی اور کشش بھی۔۔۔
میں نے کیمرا دوبارہ کھولا تو چند لمحوں کے لیے بس خود کو دیکھا۔۔
آنکھوں میں ایک ایسی چمک تھی جو دن کے وقت کبھی نظر نہیں آتی۔۔۔
میں نے اس بار چہرے پر کرونا والا ماسک لگا لیا تھا کپڑے کا۔۔
اگرچہ ابھی تک سب کچھ بناء چہرے کے تھا مگر پھر بھی بس شاید دل کی تسلی۔۔۔
میں نے کیمرے کا رخ نیچے کی جانب کیا۔۔اب کی بار مختلف زاوئے۔۔۔مختلف پوز۔۔کچھ چھپا ہوا۔۔کچھ کھلا ہوا۔۔کچھ ٹرانسپیرنٹ کرنا تھا۔۔
یہ سب اب محض اتفاق نہیں تھا میں سوچ سمجھ کر ہر چیز کو ترتیب دے رہی تھی۔۔۔
مجھے اندازہ ہونے لگا تھا کہ اثر کیسے بنتا ہے تجسس کہاں سے جنم لیتا ہے، اور نظر کس جگہ ٹھہر جاتی ہے۔۔۔
ریکارڈنگ شروع ہوئی تو دل کی دھڑکن تیز ضرور تھی۔۔۔
مگر ہاتھ کانپ نہیں رہے تھے۔۔۔
یہ چند سیکنڈ میرے لیے عام لمحے نہیں تھے۔۔
یہ وہ لمحے تھے جن میں میں خود کو کسی اور روپ میں محسوس کر رہی تھی۔۔۔
ریکارڈنگ ختم ہوئی تو میں نے ویڈیو ایک بار خود دیکھی۔۔۔
تو میرے چہرے پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔۔۔
اپلوڈ کرتے وقت انگلی لمحہ بھر کو رکی پھر بٹن دب گیا۔۔۔
جیسے کسی بند دروازے کو خود اپنے ہاتھ سے کھول دیا ہو۔۔۔
چند لمحے خاموشی رہی۔۔۔
وہ خاموشی عجیب تھی، بھاری سی، جیسے ہوا بھی سانس روک کر کھڑی ہو۔۔۔
پھر اسکرین جگمگا اٹھی۔۔۔
ایک نوٹیفکیشن، پھر دوسرا، پھر جیسے سلسلہ چل نکلا۔۔۔
فون بار بار ہلکا سا لرزتا، اور ہر بار دل کے اندر کچھ اور جاگ اٹھتا۔۔۔
بیلنس بدلنے لگا، آہستہ آہستہ، مگر واضح طور پر۔۔۔
یہ صرف عدد نہیں تھے، یہ اس بات کا ثبوت تھے کہ کوئی دیکھ رہا ہے، کوئی رکا ہوا ہے، کوئی لوٹ کر آیا ہے۔۔۔
میں نے چند پیغامات کھولے۔۔۔
الفاظ مختلف تھے، انداز مختلف، مگر ان سب میں ایک مشترک بات تھی۔۔
کہیں سوال تھا، کہیں حیرت، کہیں بس خاموش دلچسپی۔۔۔
مجھے یوں لگ رہا تھا جیسے میں کسی اسٹیج پر کھڑی ہوں جہاں دیکھنے والے نظر نہیں آتے۔۔۔مگر موجود ضرور ہیں۔۔۔
یہ احساس عجیب تھا نہ مکمل خوشی نہ مکمل خوف، بس ایک مسلسل سنسنی۔۔۔
دل کے کسی کونے میں خدشہ بھی تھا اگر کوئی پہچان گیا تو؟
اس کا حل یہی تھا اپنے لباس اور اردگرد سے کوئی ایسی چیز وڈیو میں نہ ائے جو پہچانی جا سکے۔۔
جسم تو یقینا کوئی نہیں پہچان سکتا چہرے کے بناء کہ کس کا ہے۔۔
اسی لمحے فون نے پھر ہلکی سی لرزش دی، ایک اور نوٹیفکیشن۔۔
رات مزید گہری ہو گئی تھی گھر سو رہا تھا، دیواریں خاموش تھیں، مگر میرے اندر ایک اور دنیا پوری طرح جاگ چکی تھی۔۔۔
میں بستر پر ٹیک لگائے بیٹھی تھی موبائل ہاتھ میں، آنکھیں اسکرین پر جمی ہوئی، دل میں ڈر، تجسس اور ایک انجانی سی کشش آپس میں الجھی ہوئی۔۔۔
مجھے بس یہ ڈر لگ رہا تھا کہ اگر یہ ابتداء ہے تو اس کا اختتام کیا ہو گا۔۔
میرے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔۔
میں نے آنکھیں بند کیں تو بھی اسکرین کے بدلتے ہوئے اعداد ذہن میں چلتے رہے۔ جیسے کسی خاموش کمرے میں بھی تالیوں کی گونج رہ جاتی ہے، ویسے ہی وہ اضافہ، وہ حرکت، وہ سب کچھ میرے اندر زندہ تھا۔ دل کی دھڑکن اب گھبراہٹ نہیں رہی تھی، ایک ردھم بن چکی تھی—تیز، مگر مانوس۔ میں نے گہری سانس لی، پھر آہستہ سے آنکھیں کھولیں، جیسے خود کو اسی لمحے میں واپس بلا رہی ہوں، جیسے یہ یقین دلانا چاہتی ہوں کہ میں ابھی یہاں ہوں، ابھی ہوش میں ہوں۔
میں نے دوبارہ ایپ کھولی۔ اس بار کوئی جلدی نہیں تھی، بس ایک ٹھہرا ہوا تجسس تھا جو انگلیوں کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔ ہر تصویر اور ویڈیو کے نیچے وقت بدل رہا تھا، رسائی کی علامتیں بڑھ رہی تھیں، اور مجھے یوں لگ رہا تھا جیسے میں کسی شیشے کے پیچھے کھڑی سب کچھ دیکھ رہی ہوں—بغیر دکھائی دیے، بغیر بولے۔ یہ احساس عجیب تھا؛ نظر آنا بھی اور چھپے رہنا بھی۔ اسی تضاد میں مزہ بھی تھا اور سنسنی بھی، ایک ایسی سرشاری جو آہستہ آہستہ رگوں میں اترتی جا رہی تھی۔
میں نے کمرے کی روشنی اور کم کر دی۔ اندھیرے میں موبائل کی چمک زیادہ واضح ہو گئی، جیسے یہی واحد کھڑکی ہو جس سے دنیا دکھائی دے رہی ہو۔ پردے کی دھاری دیوار پر لرزی، پنکھے کی آواز پس منظر میں دب گئی۔ میں نے ایک نئی تصویر بنائی—اس نیت سے نہیں کہ سب کچھ دکھا دوں، بلکہ اس لیے کہ سوال باقی رہیں، کہ نظر ٹھہرے اور دل رکے۔ اپلوڈ کے لمحے میں دل نے پھر وہی ہلکی سی چھلانگ لگائی۔ یہ ڈر نہیں تھا؛ یہ انتظار تھا، اور انتظار خود ایک لطف تھا۔
چند لمحوں بعد اسکرین نے حرکت کی۔ ایک کے بعد ایک نشان، جیسے کہیں دور کسی نے خاموشی سے سر ہلایا ہو۔ بیلنس میں ایک اور تبدیلی آئی—چھوٹی سی، مگر صاف۔ میں نے اپنی خوشی دبائی، مگر یہ احساس کہ کوئی نظر رکھے ہوئے ہے، کوئی پلٹ کر دیکھ رہا ہے، کوئی رک رہا ہے، پسند کر رہا ہے، تعریف کر رہا ہے—یہ سب مل کر ایک الگ ہی انجوائمنٹ بن گیا جو آہستہ آہستہ جسم و جان میں پھیلنے لگا۔ اور میں خود بھی اپنی اس کیفیت پر حیران تھی، جیسے اپنے ہی اندر کسی اجنبی کو پہچان رہی ہوں۔
شاید ہر انسان کے اندر ایک دوسری شخصیت بھی ہوتی ہے—بولڈ، کریزی، ایڈونچر پسند، پرتجسس—جو کبھی سامنے نہیں آ پاتی۔ وہیں کہیں اندر، بند دروازوں کے پیچھے، سانس لیتی رہتی ہے۔ میں بستر کے کنارے بیٹھ گئی۔ باہر رات اپنی پوری رفتار سے گزر رہی تھی، مگر میرے لیے وقت جیسے ذرا سا سست ہو گیا ہو۔ ذہن میں امکانات ابھرنے لگے: کیا ہوگا اگر میں یہی رفتار رکھوں؟ کیا ہوگا اگر ایک دن یہ کھیل زیادہ بڑا ہو جائے؟ ان سوالوں میں خوف بھی تھا، مگر اس خوف کے ساتھ ایک کشش بھی تھی جو مجھے پیچھے نہیں ہٹنے دے رہی تھی۔
میں نے فون بند کیا، مگر ہاتھ نے اسے چھوڑا نہیں۔ انگلیاں اس کے کنارے کو محسوس کرتی رہیں، جیسے کسی وعدے کو چھو رہی ہوں—ایسا وعدہ جو کہا نہیں گیا، مگر مان لیا گیا ہو۔ یہ ابھی شروعات تھی، مجھے اس کا اندازہ تھا۔ اصل مزہ شاید آگے تھا—اگلے موڑ پر، اگلی حد کے قریب۔ اور اسی خیال کے ساتھ دل میں ایک نرم، گرم سی سنسنی جاگی جو کہہ رہی تھی کہ یہ رات ابھی ختم نہیں ہوئی۔
اچانک مجھے محسوس ہوا کہ کچھ بدل رہا ہے—میرے اردگرد کے ماحول میں۔ کمرے میں سب کچھ اپنی جگہ تھا، مگر فضا میں ایسی گھٹن اتر آئی جیسے دیواروں کے بیچ ہوا قید ہو گئی ہو۔ پنکھا چل رہا تھا، مگر اس کی ہوا بےجان لگ رہی تھی، جیسے وہ کمرے تک پہنچ ہی نہ پا رہی ہو۔ اندھیرا اچانک گہرا ہو گیا تھا، اتنا کہ آنکھیں اس میں ڈوبتی محسوس ہو رہی تھیں۔ دیواروں پر سائے ٹھہرے ہوئے تھے—ساکت، مگر بھاری—اور میرا دل بےقابو ہو چکا تھا۔
دھڑکنیں سینے سے ٹکرا کر کانوں میں شور مچانے لگیں، کیونکہ دیوار کے ایک کونے میں ایک سایہ سا پھیلنے لگا تھا۔ جیسے کوئی چیز دیوار کے اندر سے خود کو دھکیل رہی ہو۔ میری ریڑھ کی ہڈی میں سرد لہر دوڑ گئی۔ سانس خود بخود رک گیا۔ میں چیخنا چاہتی تھی، مگر آواز گلے میں جم گئی—جیسے کسی نے اندر سے دبا دی ہو۔ آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں، پلکیں بھی حکم ماننے سے انکار کر چکی تھیں۔
وہ سایہ دیوار سے الگ ہونے لگا۔ دیوار کی سطح جیسے ریت کی بن گئی ہو—جیسے مٹی ہو جو آہستہ آہستہ پھٹ رہی ہو۔ اگلے ہی لمحے وہ باہر آ گیا۔ اس کی کوئی واضح شکل نہیں تھی، مگر اس کی موجودگی چیخ چیخ کر اعلان کر رہی تھی کہ وہ یہاں ہے۔ کمرے کا درجۂ حرارت یکدم بدل گیا—ایک بھاری، گھٹن زدہ بوجھ جیسے سینے پر رکھ دیا گیا ہو۔ ہوا گاڑھی ہو گئی، سانس لینا محنت بن گیا۔
میرا جسم ساکت ہو گیا۔ ہاتھوں کی انگلیاں سن ہونے لگیں، پاؤں جیسے زمین سے چپک گئے ہوں۔ وہ سایہ فرش پر سرکنے لگا—بالکل بےآواز—مگر ہر حرکت کے ساتھ میرے اندر کوئی چیز ٹوٹتی جا رہی تھی۔ مجھے یوں لگا جیسے کمرہ سکڑ رہا ہو؛ دیواریں قریب آ رہی ہوں، چھت نیچے جھک رہی ہو۔ پنکھے کی آواز کہیں بہت دور گم ہو گئی۔ اب صرف دل کی دھڑکن تھی—وحشی، بےترتیب—جو ہر لمحے اور بلند ہوتی جا رہی تھی۔
سایہ کمرے کے بیچ میں آ کر رک گیا۔ اس کے گرد اندھیرا اور گہرا ہو گیا، جیسے روشنی اس جگہ سے بھاگ گئی ہو۔ مجھے صاف محسوس ہو رہا تھا کہ وہ مجھے دیکھ رہا ہے، حالانکہ اس کی آنکھیں نہیں تھیں۔ ایک گھمبیر، بےرحم توجہ مجھ پر جمی ہوئی تھی۔ میرے ذہن میں خوف چیخ بن کر ابھرا: یہ کیا ہے؟ یہ کیوں آیا ہے؟ اور سب سے خوفناک بات—یہ ابھی کیوں رکا ہوا ہے؟
اچانک ہوا میں ایک سرسراہٹ سی ابھری، جیسے کسی نے کان کے قریب آہستہ سے سانس لی ہو۔ میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ آنکھوں کے سامنے اندھیرا لہرانے لگا، اور مجھے یوں محسوس ہوا جیسے وقت لڑکھڑا گیا ہو، جیسے لمحے ایک دوسرے پر چڑھ گئے ہوں۔ سایہ ایک قدم آگے بڑھا—صرف ایک قدم—مگر اس ایک قدم نے میرے اندر کی ساری ہمت نچوڑ لی۔
میں نے پوری قوت سے حرکت کرنے کی کوشش کی، مگر جسم نے ساتھ نہیں دیا۔ خوف اب صرف احساس نہیں رہا تھا؛ وہ حقیقت بن چکا تھا—جیتی جاگتی، سانس لیتی حقیقت—جو میرے سامنے کھڑی تھی۔ سایہ میرے بہت قریب تھا، اتنا قریب کہ کمرے کی خاموشی چیخنے لگی۔ خوف اور دہشت سے میرا دل جیسے بند ہونے لگا ہو، سانس ٹوٹ ٹوٹ کر آنے لگی ہو۔
مجھے نہیں پتہ چلا کب ہوش و حواس نے ساتھ چھوڑا۔ آنکھوں کے کنارے سیاہی پھیلنے لگی، آوازیں دور ہوتی گئیں، اور میں بیہوشی کی گہری کھائی میں اترتی چلی گئی۔
اندھیرے میں کوئی آواز نہیں تھی، پھر بھی مجھے یوں لگا جیسے کوئی مسلسل پکار رہا ہو۔ ہوش و حواس آہستہ آہستہ لوٹ رہے تھے، جیسے کسی گہرے پانی میں سے اوپر کی طرف کھینچا جا رہا ہو۔ پلکیں بھاری تھیں، آنکھیں کھولنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ جسم سن تھا۔
میں نے آنکھیں کھولنے کی کوشش کی تو منظر ٹوٹا ہوا سا لگا۔ چھت گھومتی محسوس ہوئی، دیواریں اپنی جگہ پر نہیں ٹھہر پا رہی تھیں۔ کمرے میں وہی اندھیرا تھا، مگر اب اس میں ایک اور طرح کی خاموشی شامل ہو چکی تھی—بھاری، دبی ہوئی، جیسے کچھ گزر چکا ہو مگر اپنی موجودگی چھوڑ گیا ہو۔ پنکھا اب بھی چل رہا تھا۔۔
میں نے بمشکل سر موڑا۔ دیوار کا وہی کونا…جہاں سے سایہ نکلا تھا وہاں اب کچھ نہیں تھا۔ نہ دراڑ، نہ حرکت، نہ کوئی نشان۔ بس سادہ سی دیوار۔ مگر دل ماننے کو تیار نہیں تھا۔ سینہ جیسے اندر سے دب رہا تھا۔ میں نے خود کو سمجھایا کہ یہ سب وہم ہے، دماغ کا کھیل، مگر جسم کا ردِعمل اس دلیل کو جھٹلا رہا تھا۔
اچانک مجھے احساس ہوا کہ میرا لباس دھجیوں کی شکل میں زمین پر پڑا ہوا ہے۔ جیسے کسی وحشی جانور نے اسے بھنبھوڑ کر اس کے چیتھڑے کر دئے ہوں۔۔میرے دل کی دھڑکن پھر سے تیز ہو گئی۔۔اور خوف نے مجھے جکڑ لیا۔۔کانپتے ہاتھوں سے چادر سے خود کو ڈھکا۔۔وہ وہم نہیں تھا۔۔میرا نوچا کھسوٹا ہوا لباس چیخ چیخ کر کہ رہا تھا کہ وہ صرف سایہ نہیں تھا۔۔
میں نے خود کو چادر میں لپیٹ کر سمیٹ لیا کپڑا میری مٹھی میں الجھا ہوا تھا، انگلیاں اس قدر کانپ رہی تھیں کہ گرفت ڈھیلی پڑنے لگتی۔ دانت بےاختیار بج رہے تھے، اور دل اس زور سے دھڑک رہا تھا کہ لگتا تھا خاموشی کو چیر دے گا۔ فرش پر بکھری دھجیاں کسی گواہ کی طرح پڑی تھیں۔۔خاموش، مگر الزام لگاتی ہوئی۔ میں نے نظریں چرا لیں، مگر وہ منظر پلکوں کے پیچھے بھی روشن رہا۔
سانس لیتے ہوئے سینہ جل رہا تھا، جیسے ہوا کم پڑ گئی ہو۔ ہر سانس ایک بوجھ تھی، ہر سانس کے ساتھ دل میں یہ سوال اور گہرا ہوتا جا رہا تھا کہ اگر وہ سب وہم تھا تو یہ کیا ہے؟ دروازے پر نظر گئی۔۔وہ بند تھا، مضبوط، اپنی جگہ قائم—مگر اب تحفظ کا احساس نہیں تھا، قید کا احساس تھا۔
کمرے میں بس بھاری سی خاموشی بکھری تھی جو شور سے زیادہ ڈراؤنی ہوتی ہے۔
میں نے موبائل کی طرف ہاتھ بڑھا تو انگلیاں سن سی لگیں۔ اسکرین آن کی۔۔بہت سے نوٹیفکیشن۔۔بیلنس میں اضافے کے۔۔لوگوں کی پسند کے۔۔فالوورز کے۔۔میں نے موبائل بند کیا۔ اسی لمحے فرش سے ایک ہلکی سی چرچراہٹ ابھری، بہت آہستہ، جیسے کپڑے کے ریشے آپس میں رگڑ کھا رہے ہوں۔ میں ساکت ہو گئی۔ آواز دوبارہ آئی—اسی کونے کے پاس۔ میں نے چادر کو مضبوطی سے پکڑ لیا، جیسے وہ واحد ڈھال ہو۔سانس بےترتیب ہو گئی، نظر پھر اسی کونے کی طرف کھنچ گئی جہاں سے چرچراہٹ آئی تھی۔ کچھ بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا، مگر احساس ایسا تھا جیسے دیکھنے والا کوئی اور ہے۔
میں نے چادر کو دونوں ہاتھوں سے کھینچ کر یوں اوڑھ لیا جیسے وہ مجھے اس دنیا سے چھپا لے گی۔ دل کانوں میں دھڑک رہا تھا، اور ہر دھڑکن کے ساتھ یہ یقین گہرا ہو رہا تھا کہ کمرے میں کوئی اور بھی موجود ہے۔
چادر کے نیچے اندھیرا تھا، مگر اندھیرے میں بھی آنکھیں جاگ رہی تھیں۔ پنکھے کی آواز اب دور لگ رہی تھی، جیسے کسی اور کمرے سے آ رہی ہو۔ ہوا بھاری ہو چکی تھی میرا جسم اکڑ گیا، ہاتھوں میں کپکپی پھیل گئی۔ میں نے خود کو منایا کہ یہ وہم ہے، مگر وہم اتنا مضبوط نہیں ہوتا کہ دل کو یوں جکڑ لے۔ چادر کا کنارہ ہلکا سا سرکا، جیسے کسی نے انگلی سے چھوا ہو، اور اسی لمس کے ساتھ خوف نے میری ریڑھ کی ہڈی میں سردی بھر دی۔
میں نے ہمت جمع کی اور چادر کے اندر سے آہستہ آہستہ چہرہ باہر نکالا۔ اسی لمحے سانس سینے میں اٹک گئی۔ میرے بستر کے پاس ایک وجود کھڑا تھا—سایہ نہیں، کیونکہ سائے زمین پر ہوتے ہیں۔ یہ وجود زمین کو چھوئے بغیر کھڑا تھا، جیسے ہوا میں معلق ہو۔ اس کا جسم شفاف تھا، ٹرانسپیرنٹ، مگر اتنا واضح کہ نظر ہٹانا ناممکن ہو جائے۔ جیسے دھواں شیشے میں قید ہو گیا ہو؛ اس کے پار کمرے کی دیوار مدھم سی دکھائی دیتی تھی، مگر وہ خود پوری شدت سے موجود تھا۔
اس کا قد ایک لمبے چوڑے انسان جتنا تھا، مگر تناسب بگڑا ہوا۔ کندھے غیر فطری طور پر چوڑے اور پھیلے ہوئے، گردن معمول سے لمبی، سر ذرا سا جھکا ہوا، جیسے وہ مجھے دیکھنے کے لیے زاویہ درست کر رہا ہو۔ چہرہ مکمل نہیں تھا؛ انسانی خدوخال کی ایک ادھوری کوشش، جہاں آنکھوں کی جگہ دو گہرے خلا تھے—سیاہ،—جن میں کوئی چمک نہیں تھی مگر توجہ پوری طرح مجھ پر جمی ہوئی تھی۔ اس وجود کے جسم کے کنارے مسلسل ہل رہے تھے، جیسے وہ ایک شکل میں ٹھہر نہیں پا رہا ہو؛ کبھی بازو واضح ہو جاتے، کبھی دھندلا کر تحلیل ہونے لگتے۔ انگلیاں حد سے زیادہ لمبی تھیں، نوکیلی نہیں۔۔
میں نے چیخنے کی کوشش کی مگر چیخ نہ سکی آواز گلے میں ہی دفن ہو گئی۔ آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔۔وہ وجود حرکت نہیں کر رہا تھا، بس کھڑا تھا—نگاہ جمائے—جیسے انتظار میں ہو۔ کس بات کا انتظار؟ میری حرکت کا، میری چیخ کا، یا میرے ٹوٹنے کا؟
اچانک سے چادر میرے وجود سے خودبخود سرکنے لگی، جیسے اس نے مجھے پہچاننے سے انکار کر دیا ہو۔ میں نے پوری طاقت سے اسے پکڑنے کی کوشش کی، مگر انگلیوں میں جان ہی نہیں تھی، مٹھی بنتی ہی نہیں تھی۔ ہاتھ میرے نہیں رہے تھے، جیسے اعصاب ایک ایک کر کے خاموش ہو رہے ہوں۔ چند لمحوں میں چادر زمین پر پڑی تھی، اور میں بستر پر نہیں بلکہ کسی ایسی حقیقت کے سامنے تھی جس سے بھاگنے کا راستہ بند ہو چکا تھا۔ دل کی دھڑکن بےقابو تھی، مگر جسم ساکت، جیسے خوف نے مجھے اندر سے جکڑ لیا ہو۔
وہ وجود اب حرکت میں تھا۔ وہ زمین کو چھوئے بغیر میرے سامنے تیر رہا تھا، اور اب اس کی سمت واضح تھی۔۔سیدھی میری طرف۔ جیسے ہی وہ قریب آیا، ہوا میں ایک شدید سردی سی بھر گئی، ایسی سردی جو ہڈیوں کے اندر تک اترتی چلی گئی۔ میرے سینے پر دباؤ بڑھا، سانس لینا مشکل ہو گیا، اور مجھے یوں لگا جیسے کسی نے میرے دل باندھ دیا ہو۔ کانوں میں ایک بھاری سی گونج بھرنے لگی، کوئی آواز نہیں، مگر ایک مسلسل دباؤ جو دماغ کو کچل رہا ہو۔
وہ میرے بالکل سامنے آ کر رکا۔۔اس نے مجھے چھوا نہیں، مگر اس کے باوجود میرے سینے میں ایک ٹھنڈی، چبھتی ہوئی لہر داخل ہوئی۔ یہ لمس نہیں تھا، یہ داخلہ تھا۔ وہ ٹھنڈ میرے سینے کے درمیان سے جیسے اندر اترتی چلی گئی، جیسے کسی نے میرے وجود میں دروازہ کھول دیا ہو۔ ایک جھٹکے کے ساتھ سانس رک گئی، اور مجھے محسوس ہوا جیسے دل کی دھڑکن پر میرا اختیار ختم ہو رہا ہے۔
وہ وجود میرے جسم میں اتر رہا تھا۔ پہلے سینے میں، پھر آہستہ آہستہ پھیلتا ہوا، جیسے دھواں کسی بند کمرے میں بھر جاتا ہے۔ میری ریڑھ کی ہڈی کے ساتھ ساتھ ایک برفیلی لکیر نیچے اترنے لگی، ہر مہرہ جیسے جل کر بجھتا جا رہا ہو۔ بازوؤں میں سنسناہٹ دوڑ گئی، انگلیاں بےحس ہو گئیں، اور ٹانگوں میں ایسی کمزوری پھیل گئی جیسے وہ میرا وزن بھول چکی ہوں۔ میں نے محسوس کیا کہ میری سانسیں بدل رہی ہیں، جیسے کوئی اور انہیں گن رہا ہو، کوئی اور ان کی رفتار طے کر رہا ہو۔
میرے ذہن میں شور مچ گیا۔ یادیں ایک ایک کر کے پیچھے ہٹنے لگیں، بچپن کے منظر، آوازیں، چہرے—سب دھندلا گئے، جیسے کوئی انہیں میرے اندر سے ہٹا رہا ہو۔ اس خالی ہوتی جگہ میں وہ وجود گہرائی تک اترتا چلا گیا۔ دل کی دھڑکن اب میری نہیں لگ رہی تھی، ردھم بدل چکا تھا، سانسوں کا وزن مختلف ہو گیا تھا۔ میں چیخنا چاہتی تھی، مزاحمت کرنا چاہتی تھی، مگر زبان پتھر بن چکی تھی، اور جسم مکمل طور پر اس کے قبضے میں تھا۔
میرے جسم میں مستی اور سرور کی شدت بڑھتی گئی۔ سانسیں گہری ہوئیں، پھر بےترتیب، جیسے کوئی اندر بیٹھ کر رفتار طے کر رہا ہو۔ دل کی دھڑکن ایک لمحے کو تیز ہوئی، پھر ایک عجیب ٹھہراؤ میں آ گئی—نہ تیز، نہ سست—بس مضبوط، بھاری، غالب۔ حواس تیز ہو گئے؛ معمولی سی آواز بھی کانوں میں گونج بن کر اترتی، جلد پر ہوا کا لمس کئی گنا بڑھ کر محسوس ہوتا۔ آنکھوں کے سامنے روشنی اور اندھیرا آپس میں گھلنے لگے، جیسے دنیا اپنی شکل بدل رہی ہو۔ بہت عجیب سا مزہ تھا جس پورے جسم میں پھیل کر ہر حد کو پار کر رہا تھا۔
پھر ایک اور لہر اٹھی، پہلی سے زیادہ شدید۔ ریڑھ کی ہڈی کے ساتھ ایک مضبوط بہاؤ نیچے اترا، ہر مہرہ جیسے جاگ اٹھا ہو۔ بازوؤں میں سنسناہٹ، ٹانگوں میں لرزش، اور انگلیوں میں ایسی گرمی کہ انہیں سمیٹنا مشکل ہو گیا۔ ذہن میں شور تھا، مگر اس شور کے بیچ ایک گہری سرشاری بھی—ایسی سرشاری جو خوف کو پیچھے دھکیل دیتی ہے۔ مجھے یوں لگا جیسے میں خود سے بڑی کسی کیفیت میں ڈھل رہی ہوں، جیسے جسم اور ذہن ایک ہی لمحے میں نئے قاعدے سیکھ رہے ہوں۔جسم نے ایک شدید جھٹکا لیا اور پھر میرا وجود جیسے ٹھنڈا ہونا شروع ہوگیا۔۔پسینہ جسم کے ہر مسام سے بہ نکلا۔۔میں نے محسوس کیا کہ میں اوپر اٹھ رہی ہوں، یا شاید اندر ہی اندر گہری کھائی میں گرتی جا رہی ہوں۔ سمت کا اندازہ ختم ہو چکا تھا۔ بس یہ یقین باقی تھا کہ یہ کیفیت پورے جسم میں ہے، اور اس سے نکلنا ممکن نہیں۔
پھر اچانک وزن بڑھ گیا۔ وہی شدت بوجھ بننے لگی۔ سر بھاری ہوا، آنکھوں کے کناروں سے سیاہی اندر کی طرف لپکنے لگی، اور کانوں میں ایک مسلسل گونج رہ گئی۔ سانسیں ٹوٹنے لگیں، دل کی دھڑکن دھندلی پڑتی گئی، اور جسم ایک ایک کر کے خاموش ہونے لگا۔ آخری لمحے میں بس اتنا محسوس ہوا کہ وہ پھیلاؤ، وہ طاقت، وہ شدت—سب میرے اندر ٹھہر چکی ہے۔ اس کے بعد ہوش نے آخری بار روشنی دکھائی، پھر بجھ گیا، اور میں مکمل بیہوشی کی گہری تاریکی میں اترتی چلی گئی۔
اندھیرا اب بھی کمرے میں پھیلا ہوا تھا مگر اس کی نوعیت بدل چکی تھی۔ پہلے وہ باہر تھا، اب وہ میرے اندر سانس لے رہا تھا۔ ہوش پوری طرح لوٹ آیا تو احساس ہوا کہ جسم میرا ہو کر بھی میرا نہیں رہا۔ دل کی دھڑکن کانوں میں سنائی دے رہی تھی، اور ہر دھڑکن کے ساتھ سینے میں ایک بھاری سی گونج پھیلتی جا رہی تھی اور میں بس بستر پر پڑی ہوئی تھی۔۔
میں نے ہاتھ اٹھانے کی کوشش کی۔ ہاتھ اٹھ گیا مگر اس حرکت میں میرا ارادہ شامل نہیں تھا۔ انگلیاں سیدھی ہوئیں، پھر مڑیں جلد پر ہلکی سی سنسناہٹ دوڑتی رہی، ریڑھ کی ہڈی کے ساتھ ایک سرد لہر اوپر چڑھی اور گردن تک پہنچ کر ٹھہر گئی۔ میں بولنا چاہتی تھی مگر گلا بند تھا۔ آواز اندر ہی گونجی اور اسی کے ساتھ ایک دوسرا احساس بھی ابھرا—کوئی جواب دے رہا تھا، میں نے آنکھیں بند کرنے کی کوشش کی مگر پلکیں آدھی جھپک کر رک گئیں، جیسے دیکھنا اب میرے اختیار میں نہیں رہا۔
کمرے کی دیواریں وہی تھیں مگر ان کے کنارے دھندلا گئے تھے۔ کونے کی تاریکی گہری ہو کر ایک جگہ ٹھہر گئی، پھر آہستہ آہستہ تحلیل ہو کر جیسے میرے اندر اتر آئی۔ سانس ایک لمحے کو رکی، پھر پہلے سے زیادہ گہری ہو گئی۔ اسی لمحے دل کے اندر واضح احساس پیدا ہوا کہ وہ اب باہر نہیں رہا۔ وہ یہاں ہے، میرے اندر، میرے حواس کے بیچ، میرے ردعمل کے پیچھے۔ میں بیٹھ گئی حالانکہ میں نے فیصلہ نہیں کیا تھا۔ ہاتھ گھٹنے پر آ کر ٹھہر گیا، انگلیاں بےساختہ سطح کو چھونے لگیں جیسے لمس کو پہچان رہی ہوں۔
میرے ذہن میں ایک خیال ابھرا مگر وہ میرا نہیں تھا۔ نہ آواز، نہ الفاظ، صرف ایک یقین اب میں اکیلی نہیں ہوں۔ اس یقین کے ساتھ ایک وزن سینے پر ٹھہر گیا، ایسا وزن جو تکلیف نہیں دے رہا تھا مگر انکار کی گنجائش بھی نہیں چھوڑ رہا تھا۔ میں نے آئینے کی طرف دیکھا۔ چہرہ وہی تھا مگر نگاہ ساکت تھی
میں نے موبائل اٹھایا۔ اسکرین روشن ہوئی تو نوٹیفکیشنز قطار میں کھڑے تھے، بیلنس بڑھا ہوا تھا، پیغامات ایک کے بعد ایک بڑھ رہے تھے۔ میں انہیں پڑھنا چاہتی تھی، انگلی اسکرین پر لے گئی، مگر وہ رک گئی۔ جیسے کسی نے کلائی پکڑ لی ہو۔ میں نے زور لگایا، انگلی ہلکی سی کانپی مگر نیچے نہیں گئی۔ اندر سے ایک سخت سی مزاحمت اٹھ رہی تھی، صاف محسوس ہو رہا تھا کہ یہ میرا فیصلہ نہیں رہا۔ میں دیکھ سکتی تھی، سمجھ سکتی تھی، مگر عمل نہیں کر سکتی تھی۔ دماغ سوچ رہا تھا مگر جسم مان نہیں رہا تھا۔
میں نے دوبارہ کوشش کی۔ اس بار پورا ہاتھ حرکت میں آیا مگر فوراً رک گیا۔ سانس تیز ہو گئی۔ دل زور سے دھڑکا۔ مجھے صاف احساس ہوا کہ اختیار میرے ہاتھ میں نہیں رہا۔ سوچ میری تھی، احساس میرا تھا، مگر حرکت کسی اور کی مرضی سے ہو رہی تھی۔ موبائل آہستہ آہستہ ہاتھ سے نیچے آ گیا اور بستر پر رکھ دیا گیا جو کہ حقیقت میں میں نے نہیں رکھا تھا۔
دروازے کے باہر امی کی آواز آئی۔ میں فوراً جواب دینا چاہتی تھی۔ منہ کھولا، مگر جو آواز نکلی وہ میری نہیں تھی۔ لفظ وہی تھے مگر لہجہ بےجان، کھردرا، جیسے کسی اور کے گلے سے نکل رہے ہوں۔ میں خود چونک گئی۔ میں انہیں پہچان رہی تھی، سب سمجھ رہی تھی، بات کرنا چاہ رہی تھی، مگر آواز بدل چکی تھی۔ امی دوبارہ بولیں تو میں نے جواب دینے کی کوشش کی، اس بار زبان نے ساتھ دیا ہی نہیں، الفاظ ٹوٹ کر نکلے اور فوراً خاموشی چھا گئی۔
بھائی کمرے کے دروازے تک آیا۔ میں نے اسے دیکھا، دل میں گھبراہٹ ہوئی، میں کہنا چاہتی تھی کہ ٹھیک ہوں، مگر ہونٹ کھلے ہی رہ گئے۔ اندر الفاظ بن رہے تھے مگر باہر نہیں آ رہے تھے۔ پھر اچانک گردن خود بخود ایک طرف مڑی، نگاہ اس پر ٹھہر گئی، اور میرے منہ سے ایک عجیب سا بے ربط جملہ نکل گیا جس کا مطلب میں خود نہیں سمجھ سکی۔ بھائی رک گیا، چند لمحے دیکھتا رہا، پھر آہستہ سے دروازہ بند کر کے چلا گیا۔
اس کے بعد جسم میں ایک جھٹکا سا آیا۔ پہلے ہاتھ کانپا، پھر پورا بازو۔ میں نے روکنا چاہا مگر جھٹکا بڑھتا گیا۔ سانس بےترتیب ہو گئی، دل کی دھڑکن حد سے زیادہ تیز ہو گئی۔ سر بھاری ہونے لگا، جیسے اندر شور بڑھ رہا ہو۔ چند لمحوں بعد پورا جسم کھنچ گیا، انگلیاں اکڑ گئیں، اور میں بستر پر سیدھی بیٹھ گئی حالانکہ میں نے اٹھنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ آنکھیں کھلی تھیں مگر نظر ساکت ہو گئی تھی۔ ذہن ہوش میں تھا، سب دیکھ رہا تھا، مگر جسم میرے قابو میں نہیں تھا۔
پھر اچانک ہنسی نکلی—تیز، بےوجہ، غیر مانوس۔ میں ہنس نہیں رہی تھی مگر ہنسی جاری تھی۔ اسی ہنسی کے ساتھ ہی جھٹکے دوبارہ شروع ہوئے، اس بار زیادہ شدت سے۔ میں محسوس کر رہی تھی کہ جیسے کوئی میرے ردعمل آزما رہا ہے، جیسے ہر حرکت پرکھ رہا ہو۔ میں اندر سے چیخ رہی تھی مگر باہر صرف بے ترتیب آوازیں نکل رہی تھیں۔ مجھے صاف سمجھ آ رہا تھا: میں موجود ہوں، مگر اختیار ختم ہو چکا ہے۔
دن ہفتوں میں بدلنے لگے وقت اب دنوں میں نہیں ناپا جا رہا تھا بلکہ کیفیتوں میں بٹ گیا تھا۔ کبھی چند گھنٹے یوں گزرتے جیسے ایک لمحہ بھی نہ گزرا ہو اور کبھی چند منٹ اتنے لمبے لگتے کہ ختم ہونے کا نام نہ لیتے۔ میں صوفے پر بیٹھی ہوتی، سامنے ٹی وی چل رہا ہوتا مگر سمجھ کچھ نہیں آتا تھا کہ کیا چل رہا ہے۔ امی آواز دیتیں تو میں چونک کر ان کی طرف دیکھتی، جیسے بہت دور سے واپس آئی ہوں۔ کبھی میں خود کچن تک چلی جاتی مگر وہاں پہنچ کر یاد نہیں رہتا کہ آئی کیوں تھی۔ ہاتھ میں گلاس پکڑ لیتی اور دیر تک دیکھتی رہتی، پھر امی آ کر پوچھتیں تو مجھے احساس ہوتا کہ میں کئی منٹ سے ویسے ہی کھڑی ہوں۔
دوروں کی شدت بڑھنے لگی تھی۔ اب صرف جسم نہیں اکڑتا تھا بلکہ پہلے ایک عجیب سا پیشگی احساس آتا تھا۔ سینے میں گھبراہٹ اٹھتی، دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو جاتی اور سر کے پچھلے حصے میں بھاری پن جمع ہونے لگتا۔ میں جان جاتی کہ اب ہونے والا ہے مگر روک نہیں سکتی تھی۔ پھر آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا جاتا، آوازیں دور ہو جاتیں، اور اگلے لمحے جسم کھنچ جاتا۔ کبھی ہاتھ مڑ کر سینے سے لگ جاتے، کبھی گردن پیچھے کی طرف جھٹکے سے چلی جاتی۔ امی گھبرا کر مجھے تھام لیتیں، بھائی پانی لے آتا، مگر مجھے صرف ایک گونج سنائی دیتی رہتی جو رکتی نہیں تھی۔ دورہ ختم ہونے کے بعد کئی منٹ تک میں سانسیں گنتی رہتی، جیسے ابھی ابھی بہت دور سے بھاگ کر آئی ہوں۔
رات کے وقت اب نیند آتی ہی نہیں تھی۔ بستر پر لیٹتی تو آنکھیں بند ہوتے ہی عجیب سی بےچینی شروع ہو جاتی۔ کبھی یوں لگتا جیسے کوئی قریب کھڑا ہے، کبھی جیسے کمرے میں سانسوں کی تعداد دو ہو گئی ہو۔ میں آنکھیں کھول دیتی مگر کچھ نظر نہیں آتا۔ پھر بھی دل مطمئن نہیں ہوتا تھا۔ کبھی اچانک جاگ جاتی اور معلوم ہوتا میں چند لمحوں کے لیے سو گئی تھی مگر اس مختصر نیند کے بعد جسم پہلے سے زیادہ تھکا ہوا ہوتا۔ صبح اٹھتی تو لگتا رات بھر جاگتی رہی ہوں۔
چند قدم چلتی تو سانس پھول جاتی۔ سیڑھیوں سے اترتے ہوئے مجھے دیوار پکڑنی پڑتی۔ ہاتھوں میں طاقت نہیں رہتی تھی، چیزیں اکثر ہاتھ سے گر جاتیں۔
امی کی پریشانی اب چھپ نہیں رہی تھی۔ وہ بار بار میرا ماتھا چیک کرتیں، نبض دیکھتیں، کبھی پانی میں کچھ پڑھ کر پلاتیں، کبھی تکیے کے نیچے کچھ رکھ دیتیں۔ کئی راتوں تک وہ میرے پاس بیٹھی رہیں، مجھے سوتا دیکھتی رہیں۔ ایک بار میں آدھی رات کو اٹھ بیٹھی تو دیکھا وہ کرسی پر بیٹھی مجھے دیکھ رہی تھیں۔ ان کی آنکھوں میں نیند نہیں تھی، صرف خوف تھا۔ انہوں نے فوراً میرا ہاتھ پکڑ لیا جیسے میں کہیں چلی نہ جاؤں۔
عاملوں کا آنا جانا بڑھ گیا تھا۔ کوئی آ کر اونچی آواز میں پڑھتا، کوئی خاموشی سے دم کرتا، کوئی مجھے دیکھ کر سر ہلاتا اور کہتا وقت لگے گا۔ میں سب سن رہی تھی مگر ان کی باتیں مجھ تک پہنچ کر بے معنی ہو جاتی تھیں۔ جیسے میرا تعلق ان الفاظ سے کٹ چکا ہو۔ کبھی وہ مجھ سے سوال کرتے تو میں جواب دینے لگتی مگر جملہ مکمل ہونے سے پہلے ذہن خالی ہو جاتا۔ وہ دوبارہ پوچھتے تو میں انہیں دیکھتی رہ جاتی۔ امی کی آنکھیں بھر آتیں مگر وہ میرے سامنے روتی نہیں تھیں۔
آئینے میں خود کو دیکھنا مشکل ہو گیا تھا۔ چہرہ تیزی سے بدل رہا تھا۔ آنکھیں اندر دھنس گئی تھیں، ہونٹوں کی رنگت پھیکی ہو گئی تھی، گالوں کی ہڈی نمایاں ہو چکی تھی۔ بال بےجان لگنے لگے تھے۔ کپڑے جو پہلے فٹ آتے تھے اب ڈھیلے پڑ گئے تھے۔ ہاتھ اٹھاتی تو کلائیاں باریک دکھائی دیتیں، جیسے جلد کے نیچے صرف ہڈیاں رہ گئی ہو۔ کبھی کبھی میں اپنے بازو کو دباتی کہ شاید احساس ہو مگر وہاں بھی کمزوری ہی محسوس ہوتی۔
میں چلتی پھرتی تھی مگر طاقت نہیں تھی۔ بولتی تھی مگر آواز میں جان نہیں تھی۔ جاگتی تھی مگر ہوش مکمل نہیں تھا۔ میں آہستہ آہستہ اپنے جسم کے اندر سے خالی ہوتی جا رہی تھی۔ ہڈیوں کا ڈھانچہ بنتی جا رہی تھی، اور سب دیکھتے ہوئے بھی میں اسے روک نہیں پا رہی تھی۔
کئی دن اسی کیفیت میں گزر گئے تھے۔ نہ مکمل ہوش، نہ مکمل بےہوشی۔ جسم بستر پر پڑا رہتا اور میں اس کے اندر قید سی رہتی، جیسے کوئی دروازہ آدھا بند ہو اور میں نہ باہر نکل سکوں نہ اندر واپس جا سکوں۔ سانسیں ہلکی ہوتی جا رہی تھیں، دل کی دھڑکن کمزور، اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ایک خالی پن بڑھتا جا رہا تھا۔ امی مجھے اٹھاتیں، بٹھاتیں، پانی پلاتیں، کچھ پڑھتیں، مگر میں صرف محسوس کر سکتی تھی — جواب نہیں دے سکتی تھی۔ میں انہیں دیکھ رہی تھی، پہچان رہی تھی، مگر میرا جسم ان تک پہنچ نہیں رہا تھا۔ اندر کہیں ایک خاموش تھکن جم گئی تھی، جیسے زندگی آہستہ آہستہ بند ہو رہی ہو۔
پھر ایک رات سب بدل گیا۔ سانس لینے میں رکاوٹ شروع ہوئی، پہلے ہلکی، پھر شدید۔ میں نے گہری سانس لینے کی کوشش کی مگر ہوا سینے تک پہنچ کر رک جاتی۔ دل بےترتیب دھڑکا، پھر اچانک بہت سست ہو گیا۔ جسم ٹھنڈا پڑنے لگا، انگلیوں میں احساس ختم ہونے لگا۔ میں امی کو پکارنا چاہتی تھی مگر آواز پیدا نہ ہوئی۔ اسی لمحے ایک آخری جھٹکا محسوس ہوا، جیسے اندر کوئی بندھن ٹوٹ گیا ہو۔ سب کچھ خاموش ہو گیا — اتنا خاموش کہ دل کی دھڑکن بھی سنائی نہ دی۔
اگلے ہی لمحے مجھے ہلکا پن محسوس ہوا۔ بےحد ہلکا۔ میں نے خود کو اٹھنے کی کوشش کی تو میں پہلے ہی اٹھ چکی تھی۔ مگر بستر پر میرا جسم اب بھی پڑا تھا۔ آنکھیں کھلی مگر بےجان، چہرہ ساکت۔ میں اس کے قریب گئی، ہاتھ بڑھایا، مگر انگلیاں اس کے اندر سے گزر گئیں۔ کوئی لمس نہیں، کوئی رکاوٹ نہیں۔ تب سمجھ آیا — میں اس سے جدا ہو چکی تھی۔
امی کمرے میں داخل ہوئیں۔ انہوں نے مجھے ہلایا، زور سے پکارا، پھر چیخ اٹھیں۔ بھائی بھی دوڑتا ہوا آیا۔ وہ مجھے تھام رہے تھے، پانی ڈال رہے تھے، مگر میں ان کے بالکل قریب کھڑی سب دیکھ رہی تھی اور کچھ کر نہیں سکتی تھی۔ میں چیخنا چاہتی تھی کہ میں یہاں ہوں، مگر آواز وجود ہی نہیں رکھتی تھی۔
پھر اچانک کمرے کی حد ختم ہو گئی۔ میں دروازے کے پاس پہنچی تو رکنے کے بجائے گزر گئی۔ دیوار کوئی رکاوٹ نہیں رہی تھی۔ میں راہداری میں تھی، پھر صحن میں، پھر باہر گلی میں۔ قدم نہیں اٹھ رہے تھے، پھر بھی میں آگے بڑھ رہی تھی۔ مجھے سمجھ آیا میں چل نہیں رہی — بہہ رہی ہوں۔ کوئی وزن نہیں تھا، کوئی سانس نہیں، مگر احساس باقی تھا۔ میں اپنے گھر کو دیکھ رہی تھی مگر اس سے بندھی نہیں رہی تھی۔
وقت گزرنے لگا مگر اندازہ ختم ہو گیا کہ کتنا۔ دن آیا یا رات، فرق مٹ گیا۔ لوگ گزرتے، گاڑیاں چلتی رہتیں، آوازیں آتیں مگر مجھے کوئی نہ دیکھتا۔ میں قریب جا کر دیکھتی، ہاتھ بڑھاتی مگر سب کے پار گزر جاتی۔ کبھی میں ایک جگہ رک جاتی، پھر اچانک کسی اور مقام پر خود کو پاتی۔ فاصلے ختم ہو چکے تھے، مگر تنہائی پہلے سے کہیں زیادہ گہری تھی۔
میں نے اپنے گھر کو کئی بار دیکھا۔ امی کو روتے دیکھا، لوگوں کو آتے جاتے دیکھا، مگر اب ان تک پہنچنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ وقت کے ساتھ گھر بدلنے لگا، لوگ بدلنے لگے، آوازیں بدل گئیں، مگر میں نہیں بدلی۔ میں وہیں تھی، مگر کہیں کی نہیں تھی۔ نہ دنیا میں، نہ اس سے باہر۔
اب میں بس ایک موجودگی تھی — بغیر جسم، بغیر آواز، بغیر لمس۔ میں بھٹک رہی تھی، ایک جگہ سے دوسری جگہ، گلی سے سڑک، سڑک سے سنسان راستوں تک۔ نہ نیند آتی تھی، نہ تھکن ختم ہوتی تھی۔ بس ایک احساس باقی تھا کہ میں کبھی تھی… اور اب صرف رہ گئی ہوں صرف ایک روح کی صورت بھتکتے ہوئے۔
وہ کون تھا کہاں سے آیا تھا کیوں آیا تھا اب کہاں چلا گیا اور مجھے ہی کیوں چنا اس نے میرے پاس ان تمام سوالوں کے جوابات نہیں ہیں، میں سمجھتی تھی کہ کسی غیر مرئی مخلوق سے تعلق قائم نہیں ہو سکتا یہ جسم پر قبضہ ہونے کے صرف ڈھکوسلے ہوتے ہیں اصل میں یہ شیزوفینیا کی بیماری ہوتی ہے مگر میں غلط تھی۔
میں ابھی کسی انسان سے رابطہ نہیں کر سکتی کسی سے بات نہیں کر سکتی اپنا ڈکھ بیان نہیں کر سکتی مگر دنیا میں ایسے لوگ موجود ہیں جو روح سے رابطہ کر سکتے ہوں میں تلاش میں ہوں ایسے کسی کی شاید میں اپنی داستان کسی تک پہنچا سکوں روح میں اٹھنے والے ان گنت سوالوں کے جوابات تلاش کر سکوں کیا میرا گناہ محبت کے نام پر استعمال ہونا تھا یا ڈجیٹل طوائف بننا اور وہ کون تھا جس نے اپنی جسمانی تسکین کے لئے میری زندگی کو جہنم بنا کر مجھے روح کی صورت بھٹکتا چھوڑ دیا جانے کب تک کے لئے۔۔
