مکمل ناول
یہ کہانی ایک لڑکی کی زندگی پر ہے۔ اس کہانی میں لکھے گئے نام اور کریکٹر کا حقیقی زندگی سے کوئی واسطہ نہیں۔ لہذا گزارش ہے کہ اسے کسی کی زندگی کے کے ساتھ نہ جوڑا اور نہ سوچا جائے۔۔۔
ریما ایک درمیانے خاندان سے تعلق رکھتی تھی ریما کے ابو لاہور کی ایک فیکٹری میں ملازم تھے ڈے نائٹ ڈیوٹی کی وجہ سے وہ اکثر فیکٹری میں رہتے ان کا خود کا گھر بھی لاہور میں واقع تھا لیکن فیکٹری سے کافی دور تھا ریما کی ماں ہاؤس وائف تھی ریما ایک اکیس سال کی خوبصورت جوان لڑکی تھی دراز قد سفید رنگت، گول چہرہ ، شوخ بڑی آنکھیں ،باریک ہونٹ اور کولہوں کو چھوتے ہوئے لمبے سیاہ بال، اس کے چہرے پر کوئی نشان نہ تھا سوا اک چھوٹے سے تل کے جو اس کے ہونٹوں کے قریب تھا اور خوبصورتی میں اضافہ کر رہا تھا اسے اپنی خوبصورتی کا اندازہ تھا اس کے ساتھ ساتھ اس کی سادہ پسند دوسروں سے الگ ہوتی جو اس کو اور حسین بنا دیتا، ریما نے خود بیوٹیشن کا کورس کر رکھا تھا اور اپنی کیئر خود کرتی تھی اس کے علاوہ اس نے بی اے پارٹ سیکنڈ کے پیپر ابھی دے کر فری ہوئی تھی اسے پڑھائی میں کوئی دلچسپی نہ تھی اس کا شوق ناولز، سوشل ایپس اور بیوٹیشن تھا اور اسی وجہ سے اس نے بیوٹیشن کا کورس بھی کیا اور گھر میں چھوٹا سا بیوٹی پارلر کا سیٹ آپ بنا دیا اس سے 4 سال بڑا ایک بھائی کاشف دبئی میں ایک ہوٹل مینیجر کی جاب کرتا تھا۔ کاشف کی شادی کو ابھی چند ماہ ہی ہوۓ تھے۔ ریما سے 2 سال چھوٹی ایک بہن تھی کرن جو ایف ایس سی پارٹ فرسٹ کی طلبہ تھی۔کرن بھی حُسن کے لحاظ سے ریما کے مدِ مقابل تھی ایسے لگتا جیسے دوسری ریما ہو لیکن اس کا قد ریما سے تھوڑا چھوٹا تھا۔۔ کرن زیادہ تر پڑھائی کو وقت دیتی تھی۔۔۔
یہ سردیوں کی رات تھی ریما اور کرن کا روم ایک ہی تھا روم کافی بڑا تھا دونوں کے الگ الگ بیڈ تھے جن میں کچھ فاصلہ تھا ۔ ریما جو ہمیشہ کی طرح آج بھی بیٹھی فسبک دیکھ رہی تھی۔۔ اس نے بہت سے گروپ جوائن کر رکھے تھے جس میں کچھ اچھے اور کچھ برے تھے ،آج اس کا موڈ کچھ عجب سا تھا بوریت سی تھی وہ ایسے ایف بی سکرول کر رہی تھی کہ اس کی نظر اک رومینٹک تصویر پر رک گئی جس کے ساتھ اک سیکسی کہانی لکھی ہوئی تھی۔ وہ اس کو پڑھنے لگی وہ پہلے بھی ایسی تصویریں دیکھا کرتی تھی لیکن اس طرح کی تحریر پہلی بار پڑھ رہی تھی وہ کہانی کو پڑھتے پڑھتے خود کو کہانی میں محسوس کرنے لگی اسکی دھڑکن تیز ہونے لگی اتنا سردی کے ہوتے ہوئے اُسے گرمی سی لگ رہی تھی اور اک ہاتھ سے کمبل کو خود پر اُڑھ کر تھما ہوا تھا۔ وہ جیسے جیسے پڑھتی جارہی تھی اُسے اپنے اندر اک عجیب سی فیلنگز کا احساس ہوتا جا رہا تھا کہ اچانک اپنے ٹراوزر کے درمیان سے زور سے پکڑ لیا اور آنکھ بند کر کے بیڈ سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔اپنے ہونٹوں کو دانتوں میں دبائے خود سے کہنے لگی شٹ شٹ شٹ نہیں نہیں او پلیز نہیں ۔۔۔اسے ایسے لگا جیسے اسکے جسم سے کچھ بہہ گیا ہو۔۔ اسے سردی میں پسینہ سا آگیا تھا وہ دھڑکن کے صحیح ہونے کا انتظار کرنے لگی ۔وہ اور آگے کہانی کو اب پڑھنا نہہں چاہ رہی تھی اسکی ہمت جواب دے چکی تھی۔۔ وہ آنکھیں بند کیے بس بیٹھی تھی اسے اب خود پر غصہ سا آرہا تھا کہ یہ کیا ہوا۔۔
اسی لمحہ میں اس سے دوسرے ہاتھ سے پوسٹ پر لائک ہوگئی ۔ پوسٹ کے لائک کا ساونڈ اس نے سن لیا تھا لیکن اسنے بند آنکھیں ابھی نہ کھولیں۔ کچھ پل بعد اُسنے آنکھیں کھولیں پوسٹ کو ان لائک کیا اور جلدی سے واش روم چل دی۔۔۔
فریش ہو کر آنے کے بعد اُسنے موبائل دوبارہ اُٹھا لیا۔۔ اس نے دیکھا کہ میسنجر ٹیکسٹ کا نوٹیفکیشن آیا ہوا ہے۔ اس نے میسج ریکویسٹ کو چیک کیا تو میسج کسی دانیال کا تھا جس کی وہ پوسٹ تھی۔ ریما نےمیسج دیکھا اور پڑھنے لگی۔ ۔
“آپ نے پوسٹ کو لائک کر کے آن لائک کیوں کیا؟ کیا اتنا بُرا لگا ؟” ریما کو مسیج پڑھ کر غصہ آیا ۔۔۔ پھر اس نے رپلائے دیا۔
“نہایت ہی گھٹیا انسان ہو تم اور ویسے ہی گھٹیا سوچ، پوسٹ غلطی سے لائک ہوئی ، اب ٹیکسٹ نہ آئے”۔۔
اس سے پہلے کہ وہ کچھ لکھتا، ریما نے میسنجر سے بلاک کردیا۔
ریما نے آئی ڈی اپنے نام سےبنا رکھی تھی وہ کبھی اپنے چہرے کی تصویر تو نہیں لگاتی تھی بس کبھی کبھی اپنے سائیڈ پوز میں لمبے بالوں کی تصاویر لگا لیتی لیکن وہ میسنجر پر صرف جاننے والوں سے بات کرتی تھی یہ آج محض اتفاق تھا کہ اُسنے کسی انجان کو جواب دیا ورنہ وہ ہمیشہ اگنور کرتی۔ ریما نے موبائل کو اک طرف رکھ کر لیٹ گئی اور کمبل کو خود پر اوڑھ لیا۔ وہ آنکھیں بند کیے کہانی کے بارے میں سوچنے لگی ۔
دانیال 26 سال کا لڑکا تھا جو فیصل آباد کے ایک امیر گھرانے سے تعلق رکھتا تھا اس کے ابو گاڑیوں اور پراپرٹی کا کام کرتے تھے، دانیال ماں باپ کا اکلوتا تھا دیکھنے میں سمارٹ سا تھا چہرے پر ہلکی سی شیو ، کالی نشیلی آنکھیں، اک ڈمپل جو اس کے چہرے میں کشش بنا دیتا تھا اس کی گندمی رنگت خود لڑکیوں کی کمزوری بن جاتی اس کے علاوہ اس کے اندر لڑکیوں کو پھسانے کی اک مہارت تھی خود بھی اس نے ماسٹر سائیکالوجی میں کیا تھا وہ اکثر ان لڑکیوں کو ان کی سائکی سے جج کرتا۔ ان کی پروفائل دیکھتا کسی کو اپنی امیرت دیکھا تھا تو کسی کو اپنی رومینٹک لائف سنا کر فیلنگز جگاتا تو کبھی کسی کی دکھ بھاری لائف سن کر اُسکا سہارا بنتا ، لیکن حقیقت میں اُسکا ایک ہی ٹارگٹ ہوتا لڑکی کے ساتھ سیکس کرنا اور اسکی ویڈیوز اور برہنہ تصاویر بنانا ہوتا ۔۔دانیال سوشل میڈیا یا حقیقی زندگی میں صرف خوبصورت لڑکیوں سے ہی دوستی کرنے کا شوق رکھتا تھا۔ وہ سوشل میڈیا پر بھی ایک بار تصویر لینے تک اپنی جھوٹی باتوں کا جال بیچھاتا رہتا اور جھوٹا اعتبار بناتا لڑکی کے فیس کی تصویر لینے کے بعد وہ دیکھتا کے آگئے بات کرے یا نہ کرے۔ اُسے اس بات کی فکر نہ ہوتی کہ لڑکی کہاں کی ہے وہ بس ڈیٹ پلین کرتا اور اپنی گاڑی لے کر پہنچ جاتا۔ وہ ہر اک لڑکی سے ایک یا حد دوبار ڈیٹ کرتا اور بس چھوڑ دیتا۔۔۔
آج بھی وہ اپنی مختلف پوسٹ پر آنے والی لڑکیوں کو ٹیکسٹ اور اُنکی ڈپی دیکھ رہا تھا کہ اچانک اُسکی سیکسی سٹوری پر کسی ریما نامی لڑکی کا نوٹیفیکیشن آیا اُسنے فورا اپنی پوسٹ میں جاکر اسکی پروفائل کو کھولا اور چیک کرنے لگا۔۔۔ کچھ وقت پرفائل کو دیکھنے کے بعد اس نے سٹوری کے کمنٹس دیکھے کہ گویا کوئی اس لڑکی نے کمینٹ بھی کیا ہے یا نہیں؟ لیکن کچھ نہ تھا وہ پھر سے پوسٹ کے آپشن میں گیا کہ اُسے میسج یا فرینڈ ریکویسٹ کر سکے لیکن اُسے یہ دیکھ کر حیرانگی ہوئی کہ اب اُسکا نام لائکس میں نہیں آرہا تھا۔۔دانیال مسکرا دیا اور خود سے بولنے لگا ” آہاں تو مس ریما ان لائک بھی کر گئی واہ اتنا جلدی” اُسنے ریما کو اُس گروپ کے ممبرز میں سرچ کیا اور بہت جلد اُسکو آئی ڈی مل گئ اور اسنے میسج کردیا اور موبائل کو سامنے رکھ دیا اور خود صوفے پر آکر ایک سگریٹ سلگا کر ٹی وی دیکھنے لگا کہ اچانک نوٹیفکیشن آیا۔۔ دانیال کو اندازہ ہو گیا تھا کہ ریما نے میسج کا رپلائے دے دیا ہے۔ وہ سگریٹ کو ہونٹوں سے لگائے اُٹھا اور موبائل کو ان لاک کر کے میسج دیکھنے لگا۔ اس سے پہلے وہ ریما کے میسج کا جواب دیتا وہ اس کو بلاک کر گئی۔
دانیال ایک دم بھڑکا فک یارررر شٹ شٹ!۔۔۔۔۔
ریما نے اُسے صرف مسنجر سے بلاک کیا تھا۔۔ اس کا موڈ تھوڑا سا خراب ہو گیا ” ایک ہی لڑکی نے سیکسی پوسٹ پڑھی اور بلاک ۔۔ کیا فائدہ ایسی پوسٹ کا یار ہنہ! ” وہ خود سے بڑبڑایا
اُس نے اپنی اس پوسٹ کو ڈیلیٹ کیا اور اپنی دوسری پوسٹس میں اور لڑکیوں کے کمنٹس دیکھنے لگا۔۔۔
“کیا میرے علاوہ اور لڑکیاں بھی ایسی پوسٹ پڑھتی ہیں”؟ ریما لیٹے لیٹے خود سے پوچھنے لگی۔۔اسے نیند نہ آرہی تھی وہ پھر سے اُٹھی اور پوسٹ کو اُس گروپ میں تلاش کرنے لگی۔ لیکن پوسٹ مل ہی نہ رہی تھی ریما نے دانیال کے نام سے گروپ میں پوسٹ دیکھیں پر اُسے وہ پوسٹ نہ ملی۔۔”بغیرت نے لگتا ہے پوسٹ ڈیلیٹ کردی ” لیکن کیوں؟؟ وہ سوچنے لگی۔۔ پھر اس نے مسسنجر اوپن کیا اور دانیال کو ان بلاک کیا اور میسج لکھنے لگی
“ویر از یوور پوسٹ ؟”
دانیال جو ابھی تک سکرولنگ کر رہا تھا میسج کے نوٹیفکیشن سے مسسنجر اوپن کرنے لگا۔ ریما کے ٹیکسٹ کو دیکھ کر وہ دوبارہ سے اک شیطانی مسکراہٹ سے مسکرا دیا اور کچھ پل کے بعد رپلائے دینے لگا۔
“بہت خوبصورت بال ہیں آپ کے “
ریما : یہ میرا سوال نہیں تھا۔
دانیال: غصے کی بھی تیز ہو ، ویسے حسن والوں کو اچھا لگتا ہے ۔
وہ کچھ دیر روکا اور پھر سے لکھنے لگا
” بلاک تو تم نے مجھے پھر سے کر دینا ہے سوچا تمہاری تعریف کردوں تاکہ افسوس نہ رہے کہ اک پیاری لڑکی سے بات کی اور بلاک ہونے سے پہلے تعریف بھی نہ کر سکا”
ریما دانیال کے انداز بیان سے مسکرا دی۔ اور لیٹے لیٹے دوبارہ لکھنے لگی
” لگتا ہے لڑکیوں سے بلاک ہونے کا کافی تجربہ ہے جناب کو ۔۔۔۔” وہ رکی اور پھر سے لکھنے لگی “خیر اس پوسٹ کو ڈیلیٹ کرنے کی وجہ ؟”
دانیال: میں اُس پوسٹ کو اسی وقت ختم کر چکا تھا جب تمہارا غصے سے بھرا جواب پڑھا۔ لیکن اس سے پہلے میں کچھ کہتا تم نے بلاک کر دیا۔
دانیال باتوں سے باتیں بنانے لگا۔ ۔۔اور ریما اس سے باتیں کرنے لگی اس کا ارادہ کوئی دوستی کا نہ تھا لیکن باتیں کرتے سنتے دانیال اسے ایک اچھا لڑکا لگنے لگا جو اپنے بارے میں سب کچھ بتا رہا تھا جب کے حقیقت میں ریما کو بتانے والی اکثر باتیں بس اک جھوٹ پر مبنی تھیں وہ جانتا تھا کہ ریما کو سیٹ کرنے کے لئے اس کا اعتبار کا ہونا ضروری ہے چاہے وہ جھوٹا ہی کیوں نہ ہو۔ ۔۔
ریما اکثر لیٹ تک جاگتی تھی لیکن کسی انجان لڑکے کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے فجر ہوجائے گی اُسے اندازہ نہ تھا۔
ریما کی زندگی میں یہ پہلی بار تھا کسی انجان سے دوستی ہونا۔ اس وجہ سے بھی ریما نے دانیال کو بس روزمره کی باتیں بتاتی اور کچھ اپنے اسکول ، کالج کی باتیں شیئر کردیتی۔ ویسے بھی وہ اپنی پرسنل باتیں کسی انجان کو بتانا تو دور اپنی دوستوں کو بھی کم بتاتی تھی۔ لیکن اسے دانیال کی باتیں اچھی لگتی کچھ دن تک چیٹ کرنے کے بعد دانیال نے کال پر بات کرنے کا اظہار کیا۔ پہلے تو ریما ایک دو دن تک انکار کرتی رہی لیکن دانیال نے یہ کہہ کر اپنی بات منوا لی کہ تم ایک بار وائس میسج ہی کردو۔ وہ ریما کی ہچکچاہٹ کو دور کرنا چاہ رہا تھا آخر کار ریما نے وائس میسج کر دیا
دانیال نے جب آواز سنی تو وہ تعریف کے بنا نہ رہ سکا ریما کی خوبصورتی کی تعریف تو بہت ہوتی تھی لیکن آواز بھی جادو رکھتی ہے یہ پہلی بار سنا اور خود دانیال کی آواز کافی جاندار تھی اُوپر سے اس کا انداز ریما کو پسند آتا گیا اور اسی وجہ سے وائس مسیج اور پھرکال کا اک سلسلہ شروع ہوتا چلا گیا۔۔
ریما اور کرن کیونکہ اک ہی روم میں ہوتے تھےاس لیے وہ کرن سے کچھ نہ چھپاتی دانیال کا بھی اسے پتہ تھا ۔ لیکن چھوٹی ہونے کی وجہ سے کرن اسے منع نہ کرتی۔ ۔۔دانیال اب اپنے اگلے ٹارگٹ کی طرف تھا جو کال پر رومینس کرنا تھا لیکن جب بھی کال پر رومینٹک بات کرتا ریما اسے منع کرتی ، کبھی کبھی کال کٹ کر دیتی۔ دانیال اس کی اس عادت سے کبھی چڑ بھی جاتا لیکن وہ جانتا تھا کہ کچھ لڑکیاں بھی ایسی ہوتی ہیں خاص کر ایسی لڑکیاں جو پہلی مرتبہ ایسے وقت سے گزر رہی ہوں اور یہ سوچ کر وہ اپنے ارادے اور مضبوط کرلیتا۔۔
تقریبا دو ہفتے سے ذیادہ دن ہو چکے تھے۔ لیکن ابھی تک نہ وہ کال رومینس کرنے میں کامیاب ہوا اور نہ ہی چہرے کی تصویر دیکھ سکا۔
دانیال کا اس طرح وقت دینا ریما کو اچھا لگنے لگا وہ بھی وقت دینے لگی۔۔وہ یہ جانتی تھی کہ وہ دانیال کو اس کی گندی باتوں سے منع کر دیتی ہے لیکن اسے یہ بھی اب یقین ہونے لگا کہ دانیال اس انکار سے اِس سے ناراض نہیں ہوتا۔ ۔۔ ۔
آج رات دانیال اک پلین کے ساتھ اپنی اک ڈیٹ کا بتانے لگا(جو اک منگھڑت کہانی تھی ) ۔۔ وہ آج کچھ بھی کر کے ریما کے اندر کی فیلینگز کو ابھارنا چاہتا تھا۔ وہ کال پر اپنی ڈیٹ کا بتانے لگا کہ وہ کیسے اک لڑکی سے ملا اور اُسے اپنے فلیٹ پر لے آیا پھر کسینگ اور رومینس کا بتانے لگا۔۔
اُس نے محسوس کیا کہ آج ریما خاموش ہے اور غور سے سن رہی ہے۔
ادھر ریما دانیال کی باتوں میں مدہوش ہو رہی تھی اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو رہی تھی وہ دانیال کی رومنٹک آواز اور اُسکی کہانی سن کر عجیب سا محسوس کر رہی تھی۔۔۔ وہ کانوں میں ہینڈ فری لگائے بس باتیں سن رہی تھی اور خود کو اُس لڑکی کی جگہ محسوس کرنے لگی۔اسے ایسے لگا جیسے وہ خود اُس روم میں اس لڑکی کی جگا پر ہے اور دانیال اسکے بہت قریب ہے وہ جیسا جیسا کہہ رہا تھا ریما خود کے جسم کے ساتھ ہوتا محسوس کرنے لگی۔ وہ بند آنکھیں کیے اپنے ہاتھوں کو اپنی شرٹ پر پھیرنے لگی۔ دانیال نے جب اس کی پھلتی سانس کی آواز سنی تو رومینس سے آگے سیکس کی طرف بڑھنے لگا اور آہستہ سے سرگوشی کرتا ہوا کہانی میں لڑکی کی جگہ جان بوجھ کر ریما کا نام لے دیا کیونکہ وہ جان چکا تھا کہ اب تیر نشانے پر ہے اور ایسا ہی ہوا جیسے دانیال نے سرگوشی سے کہا “ریماا ا ا۔ ۔۔ میں تمہں اپنے بہت قریب محسوس کر رہا ہوں تمہارے ہاتھوں کو اپنے ہوتھوں سے جکڑ رہا ہوں تمہارے جسم کو آہستہ سے بےلباس کر کے تمہارے اوپر سما رہا ہوں اور تمہیں پیار کر رہا ہوں”۔۔
خود کا نام سن کر ریما دانیال کی مدہوش آواز سے پاگل سی ہو گئ تھی وہ واقعی میں ایسا محسوس کرنے لگی جسے دانیال اُسکے ساتھ ہے جیسے دانیال نے کہا کہ وہ اُسکے اندر سما رہا ہے وہ دانیال کو روکنے لگی لیکن اس کے انکار میں وہ انکار کا لہجہ نہ تھا وہ خود روکنا نہیں چاہتی تھی اسکے سمندر میں طوفان برپا ہوچکا تھا لہریں بار بار اس کے ساحل سے ٹکرا رہی تھی آخر کار ندی کی طرح بہہ نکلیں۔ ۔ وہ فوراً سے بولی جان۔۔جان۔۔پلیز! بس کر دو اب مجھے جانے دو ، لیکن دانیال یہ ہی موقع چاہتا تھا وہ اُسے مست کرتا رہا اور بار بار مدہوش کرتا رہا یہاں تک کہ ریما تھک گئی۔۔۔۔
ریما کی آواز نڈھال سی تھی اُسکا جسم سن سا تھا وہ اب بھی دانیال کو اپنے ساتھ محسوس کر رہی تھی۔۔۔ اُسے دانیال آج اس زمین پر سب سے زیادہ چاہنے والا انسان لگ رہا تھا۔۔۔
دانیال جانتا تھا کہ آج اُس نے ریما کو اپنی آواز کے جادو سے سکون دے دیا ہے وہ اسی پل کا فائدہ اُٹھا کر ریما کو ایک کِس کرتے ہوئے بولا
ریمااا۔ ۔۔۔ آئی لو یو!!!۔۔۔اُمممممممہ ہ ہ
ریما مسکرائی جیسے وہ اس انتظار میں تھی ۔ وہ جان کر بولی آچھا کیسے؟؟ ریما کی آواز اب بھی نڈھال سی تھی
دانیال: آج تم نے مجھے اپنا سب کچھ دے دیا میرا اتنا بھی حق نہیں بنتا کہ تمہیں پیار کر سکوں ؟
ریما: ( اک خاموشی کے بعد) لیکن میں اگر کہوں میں کسی اور کو چاہتی ہوں تو؟؟؟
دانیال: تو میں کہوں گا کہ اس کو تمہاری قدر نہیں ورنہ میں تمہارے اتنا قریب آگیا اور اس کو معلوم نہ چلا۔۔۔۔۔ کیا واقعی تمہاری لائف میں کوئی اور ہے؟ اس نے جواب کے بعد سوال کر دیا۔۔۔۔
ریما کچھ دیر بعد پھر بولی” پتا نہیں۔۔۔ خیر یہ بتاو تم نے تو مجھے دیکھا بھی نہیں پھر یہ پیار وغیرہ سب کیوں ؟
دانیال: نہیں جانتا ایسا کیسے اور کیوں ہوا لیکن ریما ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں بس تمہیں چاہتا ہوں اور ہاں اب دیکھنا بھی چاہتا ہوں کہ جس کے اتنا پاس ہوں وہ کیسا ہے؟؟؟ دانیال ہونٹ کو دانت میں بیچ کر جواب کا انتظار کرنے لگا۔ ۔
ریما کچھ دیر کہیں کھو سی گئی۔۔ پھر بولی “دانیال تم واقعی بہت اچھے ہو اور یہ سچ ہے اتنے کم وقت میں، میں تم پر اعتبار کرنے لگی ہوں اور یہ حقیقت ہے کہ اتنا میں آج تک کسی کے قریب نہیں آئی ۔۔۔لیکن یار تصویر۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ خاموش ہوگئی۔۔۔ اس سے پہلے دانیال مایوس ہو کر کوئی دلاسہ دیتا۔۔۔ریما بولی “او۔ کے ٹھیک ہے تم مجھے دیکھ سکتے ہو۔۔۔”رکو۔ ۔۔
دانیال اس کی بات سن کر سیدھا ہو گیا۔۔۔ اور شدت سےتصویر کا انتظار کرنے لگا۔۔۔ کچھ وقت میں ریما نے اپنی ایک تصویر بھیج دی۔۔ دانیال اک پل کو حیران رہ گیا کہ اتنا خوبصورت لڑکی ۔۔۔وہ خاموشی سے تصویر کو بڑا کر کے دیکھنے لگا اور پھر اس کے حسن کی تعریف کرنے لگا جو واقعی تعریف کے قابل تھی اُسے ابھی تک یقین نہ تھا کہ اتنا حسین لڑکی سے وہ بات کر رہا ہے۔۔ اس کے جسم میں اک شیطانی لہر سی دوڑنے لگی۔ ۔۔اور وہ دل میں کہنے لگا ” اب تو اس کے جسم کو ضرور پینا پڑے گا”
اسد ریما کا چچا زاد کزن تھا عمر میں وہ کاشف کے برابر کا تھا ، سفید رنگت ڈارک براؤن بال کلین شیو اور طاقت ور جسم کی وجہ سے وہ کافی ہیڈ سم اور انگریز دِکھتا تھا ۔ وہ بھی دبئی رہتا تھا لیکن کاشف اور یہ الگ رہتے تھے۔ ۔وہ پاکستان 3 سال سے نہیں آیا تھا حالانکہ اسد کاشف کا سالا بھی تھا اور ابھی جب کاشف کی شادی اس کی سگی بہن فوزیہ سے ہوئی تب اسنے چھٹی نہ ملنے کا بہانہ بنایا اور پاکستان نہ آیا۔ ۔
بچپن میں ریما اور اسد کی دوستی کافی تھی اور ویسے بھی دونوں جانتے تھے کہ ان کے گھر والوں نے ان کی شادی آپس میں ہی کرنی ہے تو دونوں ایک دوسرے کو پسند بھی کرتے تھے ۔جیسے جیسےدونوں بڑے ہوتے گئے ریما تو بے پناہ محبت کرنے لگی لیکن اسد کے دل سے ریما کی محبت کم ہوتی گئی اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کے وہ اسد کو وہ کچھ کرنے کا موقع نہیں دیتی تھی جو وہ شادی سے پہلے چاہتا تھا اور اسی وجہ سے وہ اور لڑکیوں میں انٹرسٹ رکھنے لگا۔۔۔ دبئی آجانے کے بعد شروع شروع میں تو ان کی باتیں ہوتی تھیں۔ لیکن پھر اسد دبئی کی خوبصورتی میں کھو سا گیا اور ریما کو اور اگنور کرنے لگا۔ لیکن جب جب بھی اسد اکیلا محسوس کرتا یا اس کا دل کرتا وہ ریما کو میسج کال کرتا ریما ہمیشہ جواب دیتی جیسے وہ انتظار میں ہو، اسد کو اتنا یقین تھا کہ وہ چاہے جتنا ریما سے دور رہے ریما کسی اور کی نہیں ہو گی۔۔۔اس کا پلان بھی یہی تھا کہ ابھی مزے کر لے ادھر اُدھر سے پھر شادی بھی کرلےگا۔ ۔۔
کرن نوٹ کرنے لگی کہ ریما اب ہر وقت خاص کر آدھی آدھی رات تک دانیال سے بات کر نے لگی ہے۔۔۔۔ پہلے ریما اسد کے ان لاہن ہونے نہ ہونے کا انتظار کرتی تھی لیکن اب وہ دانیال کے ساتھ خود کو مصروف رکھنے لگی تھی۔ ۔
ادھر دانیال اب ہر دوسری تیسری رات ریما کو کال پر رومینس کر کر کے اُسکو سکون دینے لگا۔۔ وہ تب تک سکون نہ لیتا جب تک وہ اندر سے بھیگ بھیگ کر تھک نہ جاتی اور اسی وجہ سے ریما کو صبح غسل کرنا پڑتا۔۔۔
کرن ویسے تو گہری نیند سوتی تھی لیکن اک رات یہ کال پر جب رومینس کر رہے تھے تو کرن کی آنکھ کھل گئی اور وہ ریما کے سیسکنے کی آواز کو غور سے سننے لگی “بس کرو یار بس کرو میں تھک گئی ہوں “۔۔
وہ ریما کے پاس آئی اور کمبل ہٹا دیا اور پوچھا کہ ریما کیا کر رہی ہو؟ یہ کیا ہو رہا ہے ؟؟ یہ کہتے ہوئے لائٹ آن کر دی اس نے ریما کو اُوپر سے نیچے تک دیکھنے لگی جو پسینے میں شرابور تھی ۔
ریما نے جلدی سے خود کے جسم کو سمیٹا کال کٹ کی اور غصہ سے کرن کی طرف دیکھ کر بولی کیا بتمیزی ہے؟؟ تم سوئی نہیں ؟؟ یہ کہتے ہوئے وہ اُٹھی ،دانیال کو ویٹ کا میسج کیا اور ایک نظر کرن کو دیکھتے ہوئے ایک لمبی سانس لی اور بولی “اٹھ گئی ہو تو چائے بنا آو” یہ کہہ کر وہ فریش ہونے کے لیے واش روم چل دی۔ کرن ابھی تک حیرانگی سے اُس کے حلیے اور حالت کو پیچھے سے دیکھ رہی تھی پھر کچن میں گئی اور چائے بنانے لگی۔۔۔
ایک کپ چائے کا ریما کو بڑھاتے ہوئے وہ بھی اس کے بیڈ پر بیٹھ گئی اور ریما کے بولنے کا انتظار کرنے لگی جو خود دانیال سے میسج پر بات کر رہی تھی پھر دانیال کو بائے کہا اور موبائل سائیڈ پر رکھ کر مسکراتے ہوئے بولی “جی میڈیم تم کب اُٹھی تھی؟ ” اور ساتھ میں چائے کا کپ ہونٹوں سے لگا کر سپ لینے لگی ۔ جوابًا کرن نے سوال کر دیا کہ” میں کب اور کیوں اُٹھی یہ ضروری نہیں لیکن تمہیں کیا ہو گیا ہے یار؟ کیوں تم اس گھٹیا انسان سے بات کرتی ہو جو تمہاری عزت کو مجروح کر رہا ہے۔۔”اس نے بستر کی طرف نظروں سے اشارہ کیا۔ ۔۔ کرن کچھ دیر خاموش ہوئی اور پھر سے بولی “تم جانتی ہو کہ تمہاری شادی اسد بھائی سے ہونی ہے۔۔، بلکہ ہوچکی ہوتی اگر اُن کو چھٹی ملی ہوتی ، تم خود بھی تو اسد بھائی سے پیار کرتی ہونا؟ پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “وہ پھر رکی اور پھر بولی۔ ۔۔” میں اسد بھائی کو بتاتی ہوں وہ خود تمہیں سمجھاہیں گے “وہ ریما سے موبائل لینے کا اشارہ کرتے ہوئے بولی۔۔۔
ریما نے چائے کا کپ ختم کیا اور سکون سے بیڈ کو ٹیک لگا کر کرن کو دیکھتے ہوئے بولی ” اُٹھاو۔ ۔ کرو میسج اور دیکھو کتنے عرصے کے بعد وہ سین کرے گا “۔۔۔پھراک ہنہ سے اس نے گردن کو جھٹکا دیا۔۔۔اک خاموشی کے بعد بولی ” یار میں نے کچھ غلط نہیں کیا، دانیال اچھا لڑکا ہے بلکہ اسد سے زیادہ اچھا ہے اسد کو میری فکر نہیں تم جانتی ہو آخری بار اُسنے خود مجھے کب کال کی؟؟؟۔۔۔۔ ہاں ٹھیک ہے ہم دونوں شروع سے ایک ساتھ رہے لیکن یار جتنا میں اُسے چاہتی ہوں مجھے اُسکے اندر اُتنا چاہ نظر نہیں آئی، وہ جب پاکستان میں تھا تب بھی جب اُسکا دل چاہتا وہ بات کرتا اور جب میں چاہتی تب۔۔۔۔۔” وہ چپ ہو گئی۔۔۔۔ اک پل کے بعد پھر بولی “مجھے کبھی کبھی لگتا ہے جیسے وہ میرے پاس ہوتے ہوئے میرے پاس نہیں ، اور اب میں اُسکو کال کروں یا میسجھ تو بس سین کرلینا یا اگنور کر لینا اور جواب جب دل کرے ۔۔ بس سہارے کے لیے اتنا کہ دینا کہ ہم نے ویسے بھی شادی کرنی ہے تو ابھی کیا کریں گے بات کر کے۔۔۔۔۔۔ تو یارررر تم بتاؤ میں اپنی فیلنگز کس سے شیئر کروں؟۔
ریما کی آنکھوں میں آنسو تھے ۔۔ وہ کرن سے نظریں ہٹا کر آنسو کو چھپانے لگی۔ اور پھر بولی ” تمہیں کیا لگتا ہے ؟؟ دانیال مجھے کیوں اچھا لگنے لگا ہے؟؟ میں اُس سے کیوں بات کرتی ہوں؟ کیا مجھے یہ سب چاہئے( وہ بستر کی سلواٹوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی)۔۔۔۔۔ یار وہ مجھے وقت دیتا ہے مجھے سنتا ہے میرا خیال رکھتا یے۔۔۔ کوئی ایسا پل نہیں جب میں نے کہا اور اُسنے بات نہ کی ہو کیا وہ مصروف نہیں ہوسکتا؟ اُسے میری فکر ہوتی ہے اور ہر لڑکی یہی چاہتی ہے کہ اُسے چاہنے والا اور فکر کرنے والا مرد ملے۔۔۔۔۔۔۔تم نے اسد کو بتانا ہے تو بتادو ۔۔ مجھے فرق نہیں پڑے گا۔۔۔۔۔ ویسے بھی دانیال اپنے پیرنٹس سے میری بہت جلد بات کرے گا۔”
وہ خاموش ہوگئی اور کرن نے اک لمبا سانس لیا اور کچھ سوچنے لگی پھر بولی” تمہیں لگتا ہے وہ واقعی تمہارے لیے سنجیدہ ہے؟ ؟ اور اُس کے گھر والے مان جائیں گے؟ اور یہاں امی ابو ؟؟؟”
ریما کچھ دیر سوچتی رہی اور پھر بولی “یار دانیال میرا دوست بن چکا ہے وہ ہر بات اپنی شیئر کرتا اعتبار کرتا ہے اسی وجہ سے وہ مجھے اچھا لگتا ہے۔۔ ہاں اگر اُس کے گھر والے یا ہمارے گھر والے نہ مانے تو چھوڑ دوں گی۔۔۔۔ اور اسد کے لیے بھی اسے چھوڑ دوں بلکہ ایسا قدم ہی نہ اُٹھاتی اگر وہ مجھے زرا سمجھ سکتا۔۔۔۔”
پھر ماحول کو ذرا بدلتے ہوئے اُسنے کرن کو آنکھ ماری اور پھر سے بولی ویسے تم نے میرا آج کا مزہ خراب کر دیا اور شرارتی مسکراہٹ سے ہنسنے لگی۔۔ کرن مسکراتی ہوئی اٹھی اور بولی ” پتہ نہیں تمہارا کیا بنے گا لڑکی میں تو لگی سونے ” کرن نے لائٹ کو بند کیا اور بستر میں جا کر سو گئی۔
ریما دل ہی دل میں اس بات سے شرمندہ تھی کہ دانیال سے بات کرتے کرتے کس حد تک پہنچ گئی کہ آج اپنی چھوٹی بہن کی نظروں میں گر گئی۔ اُسے اچانک خود سے گھن آنے لگی۔ وہ کچھ دیر سوچنے لگی پھر اُس نے موبائل اُٹھایا اور دانیال کو مسیج کیا کہ آج کے بعد ہم بات نہیں کریں گے۔۔۔ یہ کہ کر اُسنے دانیال کو واٹس ایپ ، فیس بک ہر جگہ سے بلاک کردیا اور نمبر کو بھی بلاک میں ڈال دیا اور کچھ پل رو کر من ہلکا کیا اور اسد کو کال کی لیکن اسد نے اٹینڈ نہ کی اُسنے مسنجر پر ٹیکسٹ کیا “آئی مس یو! اور آئی لو یو سو مچ” ۔۔
پھر موبائل رکھ کر سو گئی۔۔۔
دانیال کو جب ریما کا میسج آیا کے کرن جاگ گئی ہے اور اب صبح بات کریں گے تو وہ کچھ دیر سوشل میڈیا پر ٹائم پاس کرنے کے بعد سو گیا۔
صبح کو اکثر ریما کال کر کے جگاتی تھی لیکن آج جب دانیال اُٹھا کوئی کال میسج نہ تھا اُسنے واٹس ایپ دیکھا تو ڈیپی شو نہ ہورہی تھی اُسے اچانک اک شاک سا لگا کہ یہ کیا ؟ اُس نے فوراً سے کال کی لیکن کال نہ ملی اُسے اندازہ ہوگیا کہ ریما نے بلاک کردیا ہے۔۔۔دانیال کے پاس دو موبائل تھے ، لیکن اس نے ریما کو صرف ایک نمبر دیا تھا ۔۔ پہلے تو وہ کچھ دیر انتظار کرتا رہا پھر اپنے دوسرے نمبر سے کال ملا دی۔۔۔ کچھ دیر تک بل جاتی رہی پھر کال اٹنڈ ہوئی
ریما: ہیلو؟
دانیال: (اک پل خاموشی کے بعد ) ٹائم پاس کرنا تھا تو بتا دیتی، مجھ سے اچھا ٹائم پاس اور کون کر سکتا ہے۔۔۔۔دانیال رُکا اور پھر سے بولا۔ ۔”آواز بھی پہچان لی یا وہ بھی اک رات میں بھلا دی؟”
ریما: دانیال میں تم سے اب کوئی بات نہیں کرسکتی پلیز مجھے کال نہ کرنا۔(دانیال فوراً سے بولا)دانیال: ریما۔ ۔۔۔۔ جان۔ ۔۔ یار ایسا کیا ہوا؟ مجھ سے کوئی غلطی ہوئی؟ ؟ میں یہاں تم سے شادی کرنا چاہتاہوں اور تم۔۔۔۔۔
ریما: نہیں ہماری شادی نہیں ہوسکتی نہ ہی میں ایسا چاہتی ہوں اللہ حافظ۔
دانیال: او-کے غلطی میری ہے اور سزا تم خود کو کیوں دو؟ ایسا کرتا ہوں میں خود کو ختم کردیتا ہوں آج پہلی صبح ہے جس میں تمہاری کال نہیں آئی اور یہ آخری صبح ہوگئی۔۔۔
ریما: کیا مطلب؟
دانیال : کچھ دیر تک پتہ چل جائے گا اور یہ نمبر میرا نہیں ہے نہ اس پر کال کرنا یہ کہہ کر کال کٹ کر دی۔ اور اس نمبر کو بند کر دیا۔
ریما ہیلو کرتی رہی لیکن کال کٹ ہوچکی تھی۔ اُسے ڈر لگنے لگا کہ کہیں واقع دانیال اُسکے پیار میں کچھ کر نا جائے وہ پہلے بھی کہتا تھا کہ “یار اب تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا” ۔۔
کچھ ہی دیر میں ریما نے صرف واٹس اپ سے ان بلاک کر دیا اور ٹیکسٹ کردیا کہ ان بلاک کردیا ہے لیکن فری ہو کر بات کروں گی۔ وہ اس سوچ میں تھی کہ آہستہ آہستہ اب اس سے دور ہو جائے گی۔
لیکن دانیال نے جب دیکھا کہ رہما نے ان بلاک کر کے ٹیسکٹ کردیا ہےتو اب اُسنے ٹھان لی کہ اس سے پہلے یہ دوبارہ دور ہو کسی طرح ڈیٹ لگائے اور اس سے جان چھڑوائے۔۔۔۔
رات میں جب دانیال نے کال کا کہا تو پہلے ریما نے منع کردیا اور اس سے مسیج کے دوران وہ اسد کو کال اور میسج کرنے لگی اسد نے کال کٹ کردی اور میسج کیا کہ وہ دن میں بات کرے گا ابھی تھوڑا مصروف ہے۔ اسد کے میسج سے وہ اداس ہوگئ اور پھر خود ہی دانیال کو کال کا بول دیا۔ ۔
دانیال پہلے ہی سے اس انتظار میں تھا۔ اور اس نے کال ملا دی۔ لیکن آج وہ ریما سے سیکسی یا رومینٹک باتیں نہیں بلکہ وہ اس کو احساس دلانا چاہتا تھا کہ وہ اس دنیا میں صرف اسی کے لئے ہے ۔
انہی باتوں کے جال پر اور اسد کے ٹھیک سے ریسپونس نہ دینے پر ریما دوبارہ سے دانیال سے باتیں کرنے لگی وہ دانیال کو اسد سے جب کمپیئر کرتی تو دانیال اسد سے بہت باہر ہوتا۔
اب دانیال صرف ریما کی کیئر کرنے لگا رومینٹک باتیں چھوڑ دیں۔ ایک بار باتوں ہی باتوں میں ریما نے کہا کے مجھ سے اتنا کیوں بات کرتے ہو؟
دانیال کچھ پل خاموشی کے بعد بولا
” باتیں نہیں پیار کرتا ہوں اور بہت کرتا ہوں۔۔۔۔ اورسچ سنو تو تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔
میں تو اب تک بات بھی کرچکا ہوتا اگر اُس دن تم نے مجھ ایسے خاموش نہ کیا ہوتا”
ٹھیک ہے میں جب کہوں گی تب تم پیرینٹس سے بات کرنا ریما نے دانیال کی بات پر اعتبار کرتے ہوئے بولا۔ وہ واقعی اب دانیال سے شادی کرنے کا سوچنے لگی۔
دانیال کو اتنا پتہ چل گیا کہ ریما اب اس پر اعتبار کرنے لگی ہے اس نے موقع اچھا سمجھا اور کچھ دنوں بعد باتوں ہی باتوں میں بولا ریما میں لاہور آرہا ہوں!
ریما: کیوں؟
دانیال: یار تمہیں تو پتہ ہے کہ ابو کا کتنا بڑا بزنس نیٹ ورک ہے بس اُنہوں نے کہا ہے۔ اور ویسے بھی لاہور آتا جاتا ریتا ہوں۔۔۔
ریما: لاہور کس جگہ اور کب آنا ہے؟؟؟
دانیال: دو دن تک اپنی ہی گاڑی پر آؤں گا اور گلبرگ کی طرف آنا ہے ۔۔۔۔ یہ کہہ کر اک پل کو خاموش ہو گیا اور پھر بولا گھبراو نہیں ریما، میں تم سے ملنے نہیں آرہا اور ویسے بھی جانتا ہوں کہ اتنا اعتبار ابھی تم مجھ پر نہیں کرتی۔۔۔وہ طنزیہ لہجے میں بولا ۔۔۔۔ بس بتایا اس لیے کہ اب عادت سی ہے ہر بات تمہیں بتانے کی۔۔۔
ریما اتنے وقت سے بات کرنے کی وجہ سے وہ اعتبار کرنے کے ساتھ دل میں اک چاہت رکھنے لگی تھی۔۔۔ دانیال کے ساتھ بات کرتے اسے دن کا احساس نہیں ہوتا تھا دوسرا دانیال کا ہر بات شیئر کرنا مشورہ لینا اچھا لگتا اسے ایسے لگنے لگا جیسے دانیال اس کے ساتھ ہو۔ ۔۔
ریما دانیال کی بات سن کر پہلے خاموش ہوئی اور پھر بولی بات اعتبار کی نہیں لیکن میں آج تک کسی لڑکے سے ملنا تو دور کی بات سوچا بھی نہیں۔۔۔ میں جانتی ہوں تم اتنے برے نہیں نہ ہو۔۔۔۔ نہ ہی میرے ساتھ کچھ برا کرو گے لیکن یار! وہ پھر سے خاموش ہوگئی۔
دانیال: لیکن ؟؟ لیکن کیا۔۔۔۔۔ دانیال نے سگریٹ کا کش لیتے لیتے رک گیا اور سنجیدگی سے بولا ریما کبھی نہ کبھی تو ہمیں جاننے کے لیے ملنا ہوگا۔۔۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ملیں ۔۔۔۔ لیکن سوچنے میں حرج تو نہیں؟ اور اگر واقع ہمیں رشتہ بنانا ہے تو شاید آمنے سامنے ہوجانے میں کوئی مسئلہ نہیں۔ ۔۔۔۔
ریما: ہمممممم۔۔۔۔ وہ کانوں میں ہینڈ فری دیےہوئے موبائل پر اسد کے ان لائن ہوتے ہوئے مسیج کو سین تک نہ کرنے کا منظر دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔ پھر خاموشی کو توڑتے ہوئے بولی “ٹھیک ہے اگر مناسب لگا اور موقع بنا تو میں دکھوں گی لیکن اک وعدہ کرو کہ ہم میں کچھ غلط نہیں ہوگا اور مجھے ٹچ تک نہیں کرو گے بلکہ ہم پبلک پلیس پر کہیں ملیں گے پراویٹ جگہ نہیں ۔۔۔”
دانیال: وعدہ کرتا ہوں بلکہ قسم کھاتا ہوں کہ کچھ نہیں کروں گا اور ہاں۔۔۔ جہاں تم کہو گی وہی مل لیں گے۔ جو کہو گی وہی ہوگا۔۔ تمہیں انکار تھوڑی کرنا ہے وہ اک اعتماد دیتی ہوئی مسکراہٹ سے بولا۔ ۔
کچھ دیر بات کرتے رہے پھر ریما کو نیند آنے لگی اور سونے کا کہہ کر کال کٹ ہو گئی۔
دانیال نے ہاتھ سے یس کا اشارہ کیا اور اک شیطانی مسکراہٹ ہونٹوں پر لایا ۔۔۔ وہ آج اپنے پلان کے کامیابی کے قریب پہنچ گیا تھا۔۔
ریما نے دانیال کو ملنے کا کہہ تو دیا لیکن اب سوچنے لگی کہ کیا یہ ٹھیک ہے ؟ کیا اسے ایسا کرنا چاہئے ؟ اس کا دل ابھی سے تیز دھڑک رہا تھا پھر اس نے کرن سے بات کرنے کا ارادہ کیا کیوں کہ وہ جانتی تھی بغیر کرن کے وہ باہر اکیلی نہیں جا سکے گی۔۔۔
کرن نے ریما کی بات سنتے ہی ناراضگی کا اظہار کیا کہ یہ سب غلط ہے اور وہ اس معاملے میں اس کا ساتھ بلکل نہیں دے گی۔ لیکن ریما نے اُسے اس بات کا اعتماد دلایا کہ وہ کچھ غلط نہیں ہونے دے گی وہ صرف ایک بار آمنے سامنے ملنا چاہتی ہے اور اس بات کا ریما کو خود پر بھی یقین تھا۔ اس کے پاس صرف آج کا دن تھا کرن کو منانے کے لئے کیونکہ صبح دانیال نے آنا تھا۔ خیر آخر کار کرن نے ہار مان لی اور بولی ” ٹھیک ہے بھئی ٹھیک ہے جو تم کہو لیکن میں ساتھ نہیں جاری باقی جو کہو “۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ریما آئینے کے سامنے خود کے بالوں میں کنگھا کرتے ہوئے بولی ” بس گھر سے ہم ساتھ چلیں گے آگے تم اپنی فرینڈ کے گھر چلی جانا اور میں دانیال سے ہو لوں گی۔۔ میں جیسے وہاں سے فری ہوں گی تمہاری دوست کے نمبر پر ٹیکسٹ کردوں گی پھر ساتھ آجائیں گے ، بس۔ ” کرن کو اچھا نہ لگ رہا تھا ایسے اپنی دوست کے گھر جانا لیکن ریما کی خاطر اپنی دوست سے کہا کہ” اگر تم کل فری ہو تو میں تم سے ملنے گھر آجاؤں”؟ جس پر اس کی دوست مان گئی ۔۔۔۔ویسے بھی کرن کی دوست اکثر اُسے اپنے گھر آنے کا کہتی تھی۔ لیکن کرن اک اد بار ہی گئی تھی۔
شام میں جب ریما نے دانیال کو کنفرم کردیا کہ وہ آئے گی تو دانیال فوراً سے اپنے ایک دوست کے پاس پہنچ گیا جس کا میڈیکل سٹور تھا۔ وہ اکثر کنڈوم اور پریکاشنز کی میڈیسن اس سے لیتا۔ دانیال نے دوست کو بتا دیا کہ نئی لڑکی ہے اور آسانی سے نیچے نہیں آئے گی اس لیے کوئی ایسی گولی دے جو بیہوش بھی نہ کرے اور سب کچھ کرنے سے منع بھی نہ کر سکے اس کا دوست سمجھ گیا اُسنے دو مختلف انجیکشنز کو ایک سرنج میں ڈالا اور تھوڑی سی ضائع کر کے 3ml تک کا انجکشن بنا کر اوپر کوور لگا دیا اور دانیال سے بولا “یہ لے عیش کر، اِسے جوس میں ملا کر پلا دینا یا پانی میں بھی بس پانی میں اس کا اثر کم ہوتا ہو ورنہ 1 گھنٹہ لڑکی ہوش کھو دے گی اور سن وہ اشارے سے بولا ویڈیو ضرور بنا لینا میں انتظار کروں گا” اسکا دوست جانتا تھا کہ یہ ہر لڑکی کی ویڈیو ضرور بنالیتا ہے۔ ۔۔
دانیال نے اک قہقہ لگایا اور کنڈوم کی طرف اشارہ کیا چار کنڈوم لئےاور پیسے تھما کر چل دیا۔
اگلی صبح پلان کے مطابق دانیال نے اپنی ہونڈا سی وک کار نکالی، آج وہ بلیک ڈریس بلیک کھیڑی ، آنکھوں پر بلیو گلاسیز ، کلائی میں اُریجنل رولیکس کی گھڑی پہنے ڈیشنگ لگ رہا تھا۔ اس نے دو کنڈوم کو کار کے گلو باکس یعنی فرنٹ باکس میں رکھا اور دو کو اپنے وائلٹ میں رکھ دیا۔۔۔ اس کا پلان یہ تھا کے وہ کنڈوم شو کرے گا اگر ریما بُرا مان گئی تو انجیکشن کا استعمال کرے گا ورنہ ایسے ہی۔۔۔۔
لاہور سے ابھی کچھ ہی دور تھا کہ دانیال نےکانوں میں بلیوٹوتھ لگائی اور ریما کو کال ملا دی جو کچھ دیر بعد اٹینڈ ہوئی ۔
دانیال: جی تو میڈم کہاں مصروف ہو؟
ریما: میں ابھی واش روم سے باہر آئی ہوں نہا رہی تھی اس لیے دیر سے اٹینڈ کی کال ( لانگ ٹاول میں خود کو سمیٹے ہوئی تھی)
” اچھا آپ نے کون سا کلر کا ڈریس پہنا ہے ” وہ الماری میں اپنے ڈریسیز کو دیکھتے ہوئے بولی ۔
دانیال: بلیک سوٹ، لیکن کیوں؟ (مسکراتے ہوئے پوچھا)
ریما: ہماری پہلی ملاقات ہے توووووو سوچا تھوڑا کلرز کنٹراسٹ تو ہونا چاہئے ۔ وہ الماری سے بلیک شارٹ (چھوٹی) باڈی شرٹ اور وائٹ ٹروازر نکالتے ہوئے بولی۔۔۔
دانیال: تم نے کیا پہنا ؟
ریما : میں نے ؟؟ یہ سرپرائز ہے دیکھ لینا۔ ۔۔
دانیال: ویڈیو کال کریں؟
ریما : افففف بس کر دو آ رہی ہوں دیکھ لینا۔۔۔ وہ مسکراتے ہوئے بولی۔۔
اچھا اب کال کٹ کر رہی ہوں جب یہاں سے نکلوں گی تو بتاؤں گی آپ پھر پک کر لینا۔۔۔
اوکے کرنے بعد ریما نے کال کٹ کردی اور ڈریس پہننے لگی۔۔ریما نے بلیک ڈریس کے ساتھ بلیک برا پہن لیا۔۔ وائٹ اور بلیک کے کمبینیشن سے نیل پینٹ کیے وہ اس وقت بہت پیاری لگ رہی تھی پھر اس نے گلے سے شرٹ کو شولڈر تک کھینچا اور ایک سائیڈ پوز کے ساتھ برا سٹریپ کی تصویر بنائی ۔۔ اور خود سے کہنے لگی” میں جانتی ہوں دانیال۔ ۔ تم آج خود پر بہت کنٹرول کرو گے اور اس کنٹرول کا گفٹ واپس آکر دوں گی اس تصویر کو بھیج کر”
ریما کی آنکھیں بڑی بڑی سی تھی آج اُسنے پینسل سے ان کو کیٹ آیز کی ہلکی سی شیپ دی پھر سمال سائز کے بلیک ایئر رِنگز لگائے، ہونٹوں پر ریڈیش براوُن لپسٹک لگا دی۔ وہ کسی ایکٹریس سے کم نہ لگ رہی تھی۔
کرن بھی تیار ہو گئی تھی کچھ دیر ریما کو دیکھا اور بولی “آج تو اللہ خیر ہی کرے ۔۔۔ ماشاءاللہ بہت پیاری لگ رہی ہو”
ریما نے مما کو بتا دیا تھا کہ وہ کرن کے ساتھ اک فرینڈ کے گھر جارہی ہے۔ ۔ اس کی مما جانتی تھی کہ ریما کی فرینڈز کافی ہیں اور وہ بھی آتی ریتی ہیں اس لیے منع نہ کیا، اور وہ ویسے بھی ایک تو ریما عبایا پہنتی تھی اور نقاب کرتی تھی دوسرا وہ اکیلی نہ تھی۔۔۔۔
گھر سے نکلنے سے پہلے ریما نے دانیال کو کال کی وہ لاہور داخل ہو چکا تھا اُس نے ریما کو لوکیشن واٹس ایپ کرنے کو کہا تاکہ میپ روٹ کے زریعے پہنچ سکے۔
لوکیشن سینڈ کرنے کے بعد ریما کو اچانک اسد سے کنٹیکٹ کا یاد آگیا کہ کہیں دانیال سے ملنے کے دوران اس کا میسج یا کال نہ آجائے عموما ایسا ہونا مشکل تھا پھر بھی وہ ریسک نہیں لینا چاہتی تھی۔ ۔ اس نے پہلے بلاک کا سوچا لیکن بھائی یا کسی اور کی کال نہ آجائے اس لیے اس نے نمبر کو بند کرنے کا ارادہ کیا۔اس نے کرن کو بھی کہ دیا کہ وہ نمبر کچھ دیر کے لیے بند کردے گی۔
کرن کی دوست کا گھر ان کے گھر سے ایک دو سٹریٹ کے فاصلے پر تھا کرن کو اُسکی فرینڈ کے گھر چھوڑ نے کے بعد وہ دانیال کا انتظار کرنے لگی۔
لوکیشن ملتے ہی دانیال نے کار کو میپ پر ڈال دیا اور جلد ہی لوکیشن پر پہنچ گیا دانیال نے دور سے ہی ریما کو دیکھ لیا اور کار کو اس کے قریب جا کر روک دیا۔۔ فرنٹ ڑور اوپن کردیا۔۔۔
ریما کار میں بیٹھ گئی لائٹ میوزک میں نصرت فتح علی خان کی غزل لگی ہوئی تھی اور پوری گاڑی دھیمی خوشبو سے مہک رہی تھی۔۔ دانیال نے اک نظر ریما کی خوبصورت آنکھوں میں دیکھا اور اک سمائل دی (جب دانیال حقیقت میں مسکراتا اُسکے لِفٹ سائیڈ پر ڈیمپل پڑتا)، اُسنے گیر لگایا اور سائیڈ کے ایریاز کی طرف جانے لگا۔ پراپرٹی لنکس کی وجہ سے اُسے لاہور کے ویران اور انڈر کنسٹرکشن ایریاز کی کافی انفو تھی۔
ریما مسلسل اُسے دیکھ رہی تھی لائٹ شیو، بلیک کھڑے پیچھے کیے ہوئے بال ، بلو گلاسز وہ اسے عمران ہاشمی سے کم نا لگا۔
دانیال جانتا تھا کہ ریما مسلسل اُسے دیکھ رہی ہے وہ ریما کو بن دیکھے بولا ” قتل کرنے کا ارادہ ہے ان خوبصورت آنکھوں سے”
ریما اب تک نقاب میں تھی اُسنے اپنی نظروں کو جماتے ہوئے اور شرارتی مسکراہٹ سے بولی۔ ” آنکھیں خراب ہے جو مجھ سے چھپا رہے ہو” ؟
دانیال نے گلاسز اُتارے اور اک نظر ریما کی نظروں سے ملا کر سامنے دیکھنے لگا۔
دانیال کی شوخ آنکھیں دیکھتے ہوئے بولی ” آنکھیں تو تمہاری پیاری ہے “
دانیال رائٹ سائیڈ مرر میں دیکھ کر مسکرایا تو ڈیمپل دوبارہ بنا جو ریما کے بلکل سامنے تھا۔ وہ اسکے ڈیمپل کو دیکھ کر مسکرانے لگی اچانک اُسے موبائل کا یاد آیا۔ اس نے فوراً سے موبائل پرس سے نکالا اور بند کر دیا۔
دانیال نے اک نظر دیکھا تو وجہ پوچھی کہ کیا ہوا کیوں بند کر رہی ہو۔ جس پر ریما نے کہا کہ بھائی یہ کسی کی کال آسکتی ہے۔۔۔
دانیال سلو سپیڈ سے گاڑی چلا رہا تھا اور ساتھ میں گفتگو کرتا رہا۔ اُنکو آدھا گھنٹہ تقریباً ہونے والا تھا وہ ایسےگفتگو کرتے رہے کہ پھر سے دانیال بولا ” کیا میری آنکھیں اتنا بری ہیں جو تمہارے چہرے کا دیدار نہیں کر سکتی؟ وہ بناوٹی سمائل کے ساتھ بولا۔
ریما: ٹھہر جاو تھوڑا سانس تو لینے دو۔
دانیال: جان؟ ہاں لے لو ،جان ہی لے لو۔ ۔ (وہ لفظ سانس کو جان بوجھ کر جان بنا کر تنگ کرتے ہوئے بولا)
ریما: (فورا سے بولی ) جااان نہیں ساااااانس۔۔ بہرے بھی ہو کیا دونوں مسکرانے لگے۔۔۔ریما کو دانیال سے باتیں کر کے سکون سا ملنے لگا پہلے جو ڈر تھا گھر سے نکلتے وقت وہ اب بلکل نہ تھا اُسے دانیال ایسے لگا جیسے وہ اُس سے پہلے مل چکی ہو۔ یہ سوچتے ہوئے اُس نے نقاب اور عبایا اُتار دیا اور پیچھے سیٹ پر پھینک کر خود کو سیٹ کرنے لگی۔
اک سنسان جگہ پہنچ کر دانیال نے گاڑی روک دی اور ہینڈ برک لگا کر ریما کو دیکھنے لگا۔۔۔۔ وہ روشن بلب کی طرح چمک رہی تھی ،وہ واقعی بہت پیاری تھی۔۔ دانیال نے اپنی نظریں اُس کی آنکھوں سے آہستہ آہستہ نیچے کی طرف اُتارتا گیا خوبصورت ہونٹوں کے بعد وہ اُسکے اُبھاروں کو محسوس کرنے لگا، وہ اس کے لمبے بالوں کو دیکھنے لگا جو اس کی کمر پر گھیرا ڈالے ہوئے تھےاس کے جسم میں کرنٹ کی لہر سی دوڑ گئی ۔ پھر اک آہ بری اور سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔
ریما نے اچانک اسے یوں سیدھا ہوتے ہوئے دیکھا تو پوچھا کیا ہوا؟ اُسے لگا شاید وہ اُسے پسند نہیں آئی ۔
دانیال نے کہا کہ اتنا حسن ایک ساتھ دیکھنا میرے بس میں کہاں۔ اُس نے سگریٹ نکالی اور ہونٹوں سے لگادی ریما کو دانیال کی سموکنگ کا انداز پسند تھا۔۔۔ وہ اکثر کالز پر اس کےلمبے کش کی آواز سے پرسکون ہوجاتی۔ وہ انجان بنتے ہوئے لائٹر کو اپنی جیب میں دیکھنے لگا ۔ پھر ریما سے کہا کہ دیکھو باکس میں تو نہیں پڑا۔ وہ اصل میں اب اپنے پلین کی طرف آنا چاہتا تھا ریما نے باکس اُپن کیا تو سامنے لائٹر پڑا تھا اور ساتھ ہی اُسکی نظر کنڈم پر پڑگئی۔ وہ فوراً سنجیدہ ہوکر دانیال کی طرف دیکھنے لگی اور پھر بولی دانیال یہ کیا ہے؟ دانیال نے انجان بنتے ہوئے بولا کیا؟؟
ریما نے ڈیش بورڈ سے اک ٹشو لیا اور کنڈم کو اٹھا کر دانیال کو دیکھانے لگی ۔ دانیال اک پل خاموش رہا اور پھر بولا ” ریما۔۔۔۔۔۔ میں نہیں جانتا کہ یہ کب کے ہیں ہاں میں براُ ہوں۔۔۔۔ لیکن اگر تم سے ایسا کرنا ہوتا تو میں ان کو وہاں کیوں رکھتا اور کیا میں نہیں جانتا کہ تمہیں یہ سب پسند نہیں؟؟؟ ۔۔۔ وہ سنجیدہ انداز میں بولا ۔۔ میں تو تمہیں ٹھیک سے دیکھ بھی نہیں پا رہا۔ کہ تمہیں کہیں برا نہ لگے اور تم۔۔۔۔۔”
وہ سنجیدگی کی ایکٹینگ کرکے ہونٹوں سے سگریٹ لگا کر لائٹر سے سلگا کر کش لینے لگا۔ ۔۔
ریما کچھ پل خاموش تھی اُسے لگا جیسے دانیال ٹھیک کہہ رہا ہے وہ ہی زیادہ سوچ رہی ہے۔ بلکہ ابھی تک دانیال نے اُسے ٹچ تک نہ کیا تھا۔۔۔ اُس نے فرنٹ ڈور ونڈو کا بٹن پریس کیا اور دونوں کنڈمز کو ٹشو کے ساتھ پھینک دیا۔۔۔
دانیال نے دیکھا اور سگریٹ کو ختم کیا گاڑی سٹارٹ کر کے آبادی کی طرف لے لی۔۔۔وہ دونوں اب خاموش تھے کچھ دیر بعد وہ مین روڑ پر آگئے ۔۔
دانیال اب انجیکشن کو استمال کرنے کا سوچنے لگا۔ وہ سمجھ گیا کہ یہ ایسے ہاتھ نہیں آئے گی۔۔
سامنے اک پمپ کے ٹک شاپ کی طرف گاڑی لے لی۔ گاڑی روک کر وہ ریما کو دیکھنے لگا جو اب تک خاموش تھی۔۔
“کیا لو گی؟؟۔۔۔۔اور یار ایسے خاموش کیوں ہو؟ ؟ یا ایسے بس خاموش رہنا ہے؟ ؟
آہ۔۔۔۔۔ او-کے میں خود سے سب کچھ لے آتا ہوں جو دل کرے لے لینا پھر گھر چلتے ہیں۔
وہ ڈور اُپن کر کے اُترنے لگا کہ ریما بولی
“سوری” ۔۔۔۔
دانیال اچانک حیران ہوا۔۔ اور واپس بیٹھ گیا ۔۔ اور بولا کیوں؟ ؟
ریما سر جھکائے پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولی بس ایسے ہی تم پر شک کیا۔۔
دانیال اُسکی آنکھوں میں دیکھنے لگا جس میں اُسے خود کے لیے بے انتہا پیار نظر آیا۔
ریما پھر سے بولی آچھا آپ میرے لیے لیز اور پانی بس لیتے آئیے گا بھوک بھی لگ رہی ہے۔
دانیال کچھ دیر ریما کی جھکی ہلکی سی نم آنکھوں کو دیکھتا رہا پھر گہرے خیالوں کے ساتھ گاڑی سے اُترا اور ٹک شاپ میں چلا گیا اک بڑا پیکٹ لیز اور دو جوس لیے اور ٹک شاپ سے دوسری سائیڈ پر چلا گیا۔ اور جلدی سے انجیکشن جوس میں انجیکٹ کرنے لگا۔ لیکن آج پہلی بار اس کا دل تیز تیز دھڑکنے لگا اُس کا دل نہیں مان رہا تھا ناجانے کیوں اُسے ایسا لگ رہا تھا کہ ریما بہت معصوم ہے وہ اس کے ساتھ بہت برا کرنے لگا ہے وہ تو بہت پیار کرتی ہے اعتبار کرتی ہے وہ یہ سوچنے لگا کہ ایسی لڑکی اُسے کبھی نہیں ملے گی۔۔۔۔
آخرکار اُس نے فیصلہ کر لیا کہ وہ آج اپنی پیاس بجائے گا وہ خود سے کہنے لگا “پھر کون لاہور آئے ، ایسا موقع پھر کہاں ملنا ہے اور مجھے کونسا اس سے شادی کرنی ہے ہنہ۔۔” پھر فورا سے انجیکشن کو جوس میں انجیکٹ کیا اور گاڑی کی طرف آیا اور اک فیک مسکراہٹ سے ریما کو جوس دیا ، سینٹر میں لیز اُپن کر کے رکھ دیے اور گاڑی سٹارٹ کردی۔۔
ریما نے بے تکلفانہ انداز میں ایک دو لیز لیے اور پھر جوس کو پینے لگی اُسے پہلے ہی کافی پیاس لگی تھی۔ جوس کے ختم کرنے سے پہلے ہی اُسکے جسم اک عجیب سی لہر دوڑنے لگی اس سے پہلے وہ سنبھلتی اُسے چکر آنے لگے فوراً سے دانیال کو کہا کہ مجھے گھر چھوڑو مجھے کچھ ہو رہا ہے دانیال خاموشی سے گاڑی تیز دوڑاتا ہوا دوبارہ سنسان جگہ لے آیا
ریما اب غنودگی کی حالت میں تھی اسکا مائینڈ کچھ کچھ چل ریا تھا لیکن وہ ہمت نہ کر پارہی تھی۔انجکیشن کی وجہ سے اُسکے جسم میں عجیب سی بے چینی ہونے لگی۔
دانیال نے ہینڈ بریک لگائی اور گاڑی سے اترا اور ریما کو اک نظر دیکھا اسے اندازہ ہو گیا کہ انجیکشن نے اپنا کام کردیا ہے۔۔۔۔وہ ریما کو اتار کر پیچھلی سیٹ پر لے جا کر لیٹانے لگا۔ اُسنے اُسکے پیچھے پڑے عبایا کو بیک سیٹ کے پیچھے رکھا ور وہاں سے کشن اٹھا کر اس کے سر کے نیچے رکھ دیا اور اس کے جسم کو دیکھنے لگا۔
وہ موقع کو ضائع کیے بغیر ریما کے اُوپر آنے لگا اور اس کے چہرے سے بالوں کو ہٹا کر اپنے ہونٹوں کو اسکے ہونٹوں سے ملا کر چوسنے لگا۔ وہ اس کے ہونٹوں کو پینےکے ساتھ اس کی شرٹ کو اُوپر کرنے لگا۔ شرٹ کو اوپر کرنے کے بعد وہ اُس کے بلیک برا کو دیکھتے ہوئے خود سے بولا “آہ کمال کی میچینگ کی ہے” ۔ پھر اس کو کھول کر پینے لگا
ریما کو محسوس ہو رہا تھا کہ دانیال اس کی شرٹ کو اوپر کر کے اس کے جسم کو بے لباس کر رہا ہے لیکن وہ اس کے جسم میں روکنے کی طاقت نہ تھی ریما بس زبان سےٹوٹے ہوئے لفظوں میں اتنا کہہ پارہی تھی “دانیال نہیں کرو پلیز، خدا کا واسطہ مجھے گھر چھوڑ دو پلیز جانے دو “
دانیال نے موبائل نکالا اور اس خوبصورت بے لباس ابھاروں سے لطف اُٹھاتے ہوئے کی ویڈیو بنانا سٹارٹ کردی۔
آخرکار دانیال نے اپنے اور ریما کے نیچے والے حصہ کو بے لباس کر کے ویڈیو بنانے لگا۔ پھر اُس پر جھکنے لگا اور اپنے جسم کو ریما کے جسم سے ملانے لگا۔۔۔۔
ریما کو انداذہ ہورہا تھا کہ دانیال اُسکی ندی کے آس پاس ہے اور اس کے بند کو کھولنے لگا ہے لیکن وہ روکنے کی حالت میں نہ تھی اُسکا جسم کانپ رہا تھا۔ اچانک اک ذرب سے اُسکی چیخ سی نکلی اسے خود میں کسی اور کو داخل ہونے کا اندازہ ہوگیا تھا اُسکی آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے اور وہ درد سے کرہانے لگی اُس کے منہ سے سیسکنے اور آہیں بھرنے کی آواز یں نکلنے لگی۔دانیال اسکی سسکتی آواز کو سن کر اس کی کان کی لو کو کاٹتے ہوئے سرگوشی کرتے بولا ” ریمااا بس اسی آواز کو تو ترس رہا تھا اب وہ اُس پر مکمل وزن ڈال چکا تھا ۔۔۔۔وہ اُسے اک جنگلی بھیڑیا کی طرح نوچنے لگا اور وہ اُس پر مسلسل زربوں کی برسات کرتا رہا۔ دانیال یہ جان گیا تھا کہ وہ پہلا مرد ہے جو اس کی نرم زمین پر حملہ آور ہوا ۔۔۔
دانیال اب کافی تھک چکا تھا اور دونوں کنڈومز کا استمال کر چکا تھا۔۔وہ گاڑی کے باہر آیا اور سگریٹ پینے لگا اور ریما کے ٹھیک ہونے کا انتظار کرنے لگا۔
ریما کا جسم ٹوٹ چکا تھا وہ جیسے جیسے ہوش میں آرہی تھی وہ درد کی شدت کا احساس کر رہی تھی ۔ وہ اپنے آپ کو بے لباس محسوس کرنے کے ساتھ ٹانگوں میں گیلا پن اور اندرون درد کا شدید احساس کرنے لگی وہ جلدی سے اُٹھی اور خود کو دیکھنے لگی خون کے چھیٹے اور لیس دار پانی کو دیکھ کر رونے اور چلانے لگی اور پھر جلدی سے بے لباس جسم کو چھپانے لگی پھر شرٹ کو ٹھیک کرنے اور ٹراوزر پہننے لگی ۔۔
دانیال اُسکی چیخوں کی آواز سن رہا تھا وہ خاموشی سے اگنور کیے سگریٹ کو ختم کرنے کے لیے کش لگاتا رہا۔۔پھر اچانک آ کر ڑرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی سٹارٹ کرنے لگا۔
ریما عبایا میں منہ چھپائے رو رہی تھی کہ دانیال تھوڑا سخت لہجے میں بولا ” ریما ایسا کیا ہوا ہے ؟ جو تم اتنااااااااا چلا رہی ہو؟؟؟۔۔۔ یار تم سے پیار کرتا ہوں اور بس ہو گیا۔۔اور یہ ہونا ہی تھا۔۔۔۔
ریما اک دم بھڑک اُٹھی ” بکواااس بند کرو!” ریما نے باہر کا نظارہ دیکھا لیکن وہاں کوئی نہ تھا ویران جگہ تھی ۔۔۔اس کا سر ابھی بھی بھاری تھا۔۔۔ وہ چلائی “خدا کے واسطہ مجھے گھر چھوڑوووو یا مجھے ابھی اور نوچنا ہے ؟؟؟؟” وہ آنکھیں بند کیے اپنی جسم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے چلائی اور چیخ چیخ کر رونے لگی لیکن وہاں کوئی نہ تھا ۔۔۔۔۔وہ دانیال کا چہرہ تک نہ دیکھ پا رہی تھی ۔۔
دانیال خاموش ہو گیا اور گاڑی کو اُس روٹ کی طرف لے دیا جہاں سے ریما کو اُٹھایا تھا۔
جیسے گاڑی سٹارٹ ہوئی ریما عبایا پہننے لگی اور دوبارہ دوپٹے سے نقاب لگانے لگی۔ اُسکی آنکھوں سے آنسو مسلسل بہہ رہے تھے ۔ اُس نے جلدی سے موبائل اُن کیا اور کرن کی دوست کو میسج کیا کے کرن سے کہو گھر آجائے میں گھر ہی آرہی ہوں۔۔۔ یہ کہہ کر اُس نے دوبارہ نمبر بند کر دیا۔
بلڈ ابھی بھی اُسکی رگوں سے آہستہ آہستہ بہہ کر اُسکے سفید ٹراوزر پرلگ رہا تھا۔ دانیال وِیو مرر سے ریما کی حالت کو دیکھ کر اب تھوڑا شرمندہ ہو رہا تھا اسے احساس ہو رہا تھا کے آج اس نے غلط کیا ۔ لیکن وہ خاموشی سے گاڑی چلاتا رہا۔ اُسی جگہ پہنچ کر دانیال نے گاڑی سلو کرنے کے بعد روک دی اور پوچھا کہ آگے کس طرف جانا ہے لیکن ریما بن کچھ کہے اتری اور ڈور کو بند کرنے سے پہلے روتی ہوئی آواز میں بولی کہ “دانیال ۔۔۔ میں تم پر اعتبار کرکے آئی تھی لیکن آج جو تم نے میرے ساتھ کیا وہ میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی ۔۔۔۔ اور اب میرا خدا تم سے اس کا حساب لے گا ” وہ زور سے ڈور کو بند کیے چل دی۔۔
دانیال کو اس کی بات دل پر لگی وہ ایسے فورا سے روکنا اور منانا چاہ رہا تھا کہ اُس سے غلطی ہوئی ۔ لیکن وہ اب جا چکی تھی ۔ دانیال نے گاڑی کو لاک کیا اور پیچھے جانے لگا جیسے ہی ریما گھر میں داخل ہوئی دانیال دیکھتا رہا پھر دانیال مڑ کر واپس اپنی گاڑی کی طرف بڑھا۔۔ اک شاپ سے گولڈ لیو لی اور پی کر لمبے لمبے کش لینے لگا۔۔اور گاڑی میں بیٹھ گیا پیچھلی سیٹ کی طرف دیکھا اور بولا ” میں نے اس کے ساتھ غلط کیا یار۔۔شیٹ۔۔۔۔” آہ۔ ۔۔۔۔۔پھر موڈ کو بدلنے کے لیے اُس نے موبائل نکالا اور ریما کی تصویر دیکھی اور آہ بھر کر بولا ۔۔۔۔ اتنی جوبصورت لڑکی کو کیسے نہ کام ڈالتا یار؟ ؟ اور وہ اتنا آچھی ہوتی تو آتی ؟؟۔ وہ مطمئن ہو کر مسکرایا اور پھر سے نصرت فتح علی خان کی اک غزل لگی اور ریما کو کال کرنے لگا لیکن نمبر ابھی بھی بند تھا پھر اپنے دونوں موبائل اور وائلٹ کو سائیڈ والی سیٹ پر رکھ کر اس نے ریس بڑھا دی۔۔۔ وہ ریما کو سوچ رہا تھا اور ایک ہاتھ سے اپنے خاص حصے کو پکڑ کر اُس پر فخر کر رہا تھا ۔۔۔
پھر ریما کو سوچتے ہوئے اُس نے ریما کے ساتھ بنائی ہوئی سیکسی ویڈیو چلا کر دینے لگا “کمال یار کیا سائز ہے۔۔۔ کیا چیز تھی مزا آگیا “۔ ۔۔۔ وہ ویڈیو میں کھو سا گیا کہ اچانک اس کی نظر سامنے کتے پر پڑی اُس نے فل زور سے بریک پر پاؤں رکھا لیکن سٹیرنگ ان بیلنس ہو گیا اور گاڑی قلابازیں کھاتی دوسری سائیڈ پر جا گری اور اک تیز رفتار ٹرک سے جا ٹکرائی۔ دانیال کا سر چکرا رہا تھا وہ ہل نہیں پارہا تھا گاڑی کا فرنٹ اندر کی طرف دھنس گیا جس کی وجہ سے دانیال کی ٹانگیں ہل نہ پا رہی تھیں گاڑی میں ہر طرف دھواں تھا۔ وہاں سے گزرتے مسافروں کا رش لگنے لگا لوگوں نے کوشش کر کے فرنٹ ڈور کھلا اور سیٹ بلٹ کو کھلنے لگے۔
گاڑی کا دھواں کافی بڑھنے لگا لوگوں نے دانیال کو زور سے کھینچ کر گاڑی سے الگ کیا۔ ۔ اُسکے جسم سے خون جگہ جگہ سے نکل رہا تھا خاص کر ٹانگیں خون میں لدی ہوئیں تھی، ایئر بیگ اور سیٹ بیلٹ کی وجہ سے اس کے صرف چہرے اور سر پر ہلکی چوٹ نظر آئی۔ جیسے ہی دانیال کو گاڑی سے الگ کیا گاڑی میں آگ بھڑک اُٹھی جس میں اُس کا وائلٹ اور دونوں موبائل بھی موجود تھے۔
ریما خود کو کنڑول میں کرتے ہوئے گھر داخل ہوئی اور روم میں آگئی جہاں کرن پہلے سے انتظار میں تھی کرن نے جیسے میسج دیکھا تھا گھر آگئی تھی اور مما سے کہا کہ ریما مارکیٹ سے ہو کر آرہی ہے۔
ریما بغیر عبایا اتارے بستر پر اُلٹی گر گئی اور تکیے میں منہ دیے رونے لگی
کرن نے کوئی وجہ فلحال پوچھنا مناسب نہ سمجھا بس وہ اتنا جانتی تھی کہ کچھ بہت غلط ہوا ہے۔ ریما پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی کرن مما کو دیکھنے لگی کہ وہ کہیں روم میں نہ آجائیں ویسے وہ اس وقت کچن میں تھیں اور بھابی بھی اپنے میکے گئی تھی کچھ دن سے۔۔۔
کچھ دیر رونے کے بعد وہ اُٹھی ، عبایا اُتارا اور واش روم چلی گئی۔ ۔
خشک خون بہنے لگا اسے جگہ جگہ درد ہو رہا تھا جب اُس نے خود کو واش روم کے مرر میں دیکھا تو اُس کی گردن اور اُبھاروں پر کاٹنے کے نشان تھے ۔ غسل کرنے کے بعد اس نے اپنے سفید ٹراوزر کو اک نظر دیکھا اس پر خون کے ہلکے سے نشان تھے۔۔۔ وہ سادہ شلوار قمیض پہنے باہر آگئی ۔۔
کرن جو اب تک خاموشی سے دیکھ رہی تھی پوچھ ہی لیا کہ کیا ہوا ہے؟
ریما نے جواب دیا “کیا ہونا تھا؟ اُسکو جو چاہئے تھا وہ لے گیا اور مجھے جو چاہئے تھا وہ مل گیا۔ ۔۔
کرن: لے گیا؟ مل گیا؟ مطلب
ریما: اس نے میرے ساتھ سیکس کیا۔ ۔۔۔ وہ بس میرا جسم لینے آیا تھا جو وہ لے گیا ۔۔۔۔۔
کرن (آہستہ آواز میں پوچھنے لگی) ” اور تمہیں کیا ملا؟ ؟”
ریما: سبق،۔۔۔۔۔۔۔۔ نصیحت۔۔۔۔۔۔۔ کہ آئیندہ اعتبار نہ کروں کسی پر۔۔۔۔۔۔۔ وہ خاموش ہوگی۔ ۔۔ اور پھر بولی ” لیکن یار اب میرے پاس کچھ ہے ہی نہیں جس پر میں غرور کر سکوں گی”
وہ پھر خاموش ہوئی اک آنسو بہا اور دانتوں میں ہونٹ بِچتے دوبارہ بولی۔۔
اس میں یا کسی میں اتنا دم نہیں تھا کہ تمہاری بہن کو حاصل کر سکے اس لیے اُس نے مجھے بےہوش کیا۔ ۔ وہ کرن کی طرف دیکھ کر بولتی لگی۔ ۔۔کرن خود اس کی بات سن کر حیران تھی اور پوچھنے لگی کہ وہ بے ہوش کیسے ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ریما موبائل کو فلحل آن ہی نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ وہ اب دانیال سے رابطہ رکھے یا اُس کے کالز یا میسج دیکھے اسے خود سے نفرت ہو رہی تھی اب اُس نے ارادہ کر لیا کہ اب وہ ہر وہ اکاؤنٹ اور تعلق ختم کر دے گی جو دانیال سے وابستہ ہوا۔۔۔
گاڑی کا فیول ٹینک پھٹنے سے آگ بھڑک اُٹھی تھی۔ آگ لگنے سے دانیال کا وائلٹ اور دونوں موبائل کے ساتھ اُس کی گاڑی بھی کافی حد جل گئی۔ موٹر وے پولیس بھی پہنچ گئی تھی ڈیمج کار کو اپنی کسٹیڈی میں لیا اور دانیال کو چیک کرنے لگے۔
دانیال کا کافی خون ضائع ہوچکا تھا اور وہ بے ہوش تھا۔ اس کے پاس کوئی موبائل وائلٹ کچھ نہ تھا کہ اس کے گھر والوں کو انفارم کیا جا سکے۔ کچھ دیر میں پولیس اور ریسکو والے بھی پہنچ گئے اور ایسے لاہور کے سرکاری ہسپتال میں لے گئے
دانیال کی حالت کافی سیریس ہو رہی تھی پولیس کے کہنے پر ڈاکٹرز نے آپریشن سٹارٹ کردیا ۔ دانیال کی ایک ٹانگ ایک بازو فریکچر ہونے کے علاوہ اُسے مثانے پر گہری چوٹ آئی تھی اور اس چوٹ کی وجہ سے مثانے میں بلڈ جما تھا جو نفس سے بہہ رہا تھا۔ مثانے کے لیے اک یورولوجسٹ کو بلا لیا گیا۔ یورولوجسٹ کو اندازہ ہو گیا کہ مثانے کی رگوں کے ساتھ پینس کی بھی کافی رگیں ڈیمج ہو چکی ہیں۔
دانیال کا آپریشن ہوئے پانچ گھنٹے ہو چکے تھے ۔ اُسے آہستہ آہستہ ہوش آرہا تھا۔ نرس نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ ” گھبراہیں نہیں لیٹے رہیں آپ ٹھیک ہیں” اور ایک بے ہوشی کا انجیکشن لگا دیا – دانیال جوغنودگی کی حالت میں ہلنے کی کوشش کر رہا تھا، انجیکشن لگنے کے بعد دوبارہ سے بےہوش ہوگیا۔۔۔
مغرب کی آزان ہونے لگی آج کافی دنوں کے بعد ریما نے وضو کیا اور نماز پڑھنے لگی، وہ توبہ کرنے لگی اُسے اپنی غلطی کا احساس تھا وہ رو رو کر اللہ سے معافی مانگنے لگی اور ساتھ دانیال کے برے انجام کی بد دعا کرنے لگی ۔۔۔۔ اُس نے ابھی تک موبائل آف کیے ہوئے تھی۔
رات سوتے وقت سارا منظر اُسکے سامنے آرہا تھا۔ اچانک وہ اُٹھ کر بیٹھ گئی اور کچھ یاد کر کے خود سے بولی “اُسکے کنڈوم میں نے خود پھینکے تھے گاڑی سے ۔۔۔۔۔۔ پھر اُس نے دوبارہ یوز کیے تھے یا نہیں؟ کہیں میں پرگنینٹ ۔۔۔” یہ سوچ کر اُسکے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی۔ ۔ “اب کیسے کروں؟ یا کروں ” وہ پریشان ہونے لگی۔۔۔ اُسے اب پھر سے ڈر لگ رہا تھا کہ دانیال کی وجہ سے پریگنینٹ نہ ہوجائے۔۔ وہ اب سوچنے لگی۔۔۔۔۔
ریما نے موبائل ان کیا اور سیدھا دانیال کو کال کی لیکن اُسکا نمبر بند تھا اُس نے میسنجر بھی چیک کیا لیکن بند تھا۔ اُسے اب اور غصہ آنے لگا وہ اُٹھی اور اس غصے کو اپنے لمبے بالوں پر نکال دیا اور ان کو اوپر تک کٹ کر دیے۔۔۔۔
دانیال کو جب دوبارہ ہوش آنے لگا وہ اب اتنے ہوش میں تھا کہ بول پا رہا تھا اُس نے پانی مانگا ، نرس نے پانی پلایا اور ڈاکٹر کو بلانے چلی گئی ۔ دانیال نے اپنی حالت کو دیکھنے لگا۔وہ بس اک جبہ میں تھا بغیر شلوار کے،اس نے دیکھا نفس پر اک بھاری پٹی ہے اور اک پیشاب کی ٹیوب لگی ہے اور اُسکا اک کندھا اور اک ٹانگ پوری (ران سے پاوُں تک) پلستر میں تھے۔دوسری ٹانگ پر بھی بینڈیج کی ہوئی تھی دوسرے ہاتھ میں اک ڈرپ لگی ہوئی تھی اُسے سر پر ہلکی پٹی کا احساس ہوا۔ وہ بس دعا کر رہا تھا کہ کوئی ذیادہ مسئلہ نہ ہوا ہو ۔ اتنے میں ایک پولیس والا اور ڈاکٹر روم میں آئے۔ ڈاکٹر معائنہ کرنے لگا اور ساتھ پوچھنے لگے، “بیٹا کیسی طبیعت ہے؟ ؟ زرا اپنے بارے میں بتاو؟
دانیال نے اپنے بارے میں بتایا کہ وہ کون ہے اور کہاں سے ہے ۔ پھر نرس کو دیکھتے ہوئے بولا ” میرا موبائل کہاں ہے مجھے ڈیڈ کو کال کرنی ہے وہ اب کافی پریشان تھا ۔تب پولیس والے نہ مزید کہا کہ آپ کی جیب سے کچھ نہیں ملا، اور آپ کی گاڑی مکمل طور پر جل چکی ہے ۔۔ اب آپ اپنے ابو کا نام اور نمبر بتا دیں تاکہ اُن کو آگاہ کر سکیں۔ ۔۔
ڈاکٹرز کے جانے کے بعد دانیال نرس کو دیکھنے لگا جو خود بہت حسین تھی۔ وہ خود سے کہنے لگا ” کیا قسمت ہے یار میری ماشاءاللہ ، ہر طرف حسن ہی حسن مل رہا ہے۔ ۔ جاتے وقت تک اس سے دوستی تو کر ہی لوں گا” ۔۔پھر وہ نرس سے مخاطب ہوا ” آئینہ ہے؟”
نرس: سوری؟ ؟؟؟؟؟؟ آئینہ؟؟؟؟ کیوں؟
دانیال: چہرا دیکھنا ہے کہ کوئی خراش تو نہیں آئی؟؟؟
نرس نے نہیں کا جواب دیا اور ڈرپ اُتار۔کر وہاں موجود دوسرے مریض کے پاس چلی گئی۔۔۔۔۔۔۔
دانیال کے ابو اطلاع ملتے ہی ہسپتال پہنچے اور وہ اُسے اس حالت میں دیکھ کر بہت پریشان ہوئے پھر اس سے ملنے کے بعد ڈاکٹر سے ملے۔۔ ڈاکٹر نے اُن کو اپنے بیٹے کی رپوٹ اور حالت تفصیل سے بتاتے ہوئے کہا کہ اس حادثے کی وجہ سے اُس کے مثانے اور پینس پر شدید چوٹ آئی ہے جس کی وجہ سے وہ اب شادی کرنے کے بلکل قابل نہیں رہا۔۔ یہ خبر سن کر اس کے ابو کے پاوں کے نیچے سے زمین نکل گئی اُنہوں نے اس کا حل جاننا چاہا کہ کوئی حل ؟؟؟ وہ اس علاج کے لیے دنیا کے کسی بھی کونے میں جانے کے لیے تیار تھے لیکن ڈاکٹر نے صاف صاف کہہ دیا کہ نفس کی رگیں بلکل ختم ہوچکی ہیں اب اس کا کہیں کوئی حل نہیں۔
چار دن بعد جب ہسپتال سے ڈسچارج ہونے لگے تو دانیال کو اندازہ ہوا پیشاب کی نالی اب تک نہیں ہٹائی گئی تب اُسے اپنی رپورٹ کی حقیقت کا پتہ چل گیا ۔ وہ وہیں ہسپتال میں چلا چلا کر رونے لگا ۔ اُس کے ماں باپ نے اُسے تسلی دی لیکن وہ چھوٹے بچے کی طرح روتا رہا۔ اُسے اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ لٹ چکا ہے اُسے کیے کی سزا مل گئی ہے ۔ وہ شرمندگی کی وجہ سے نظر تک نہ اُٹھا پا رہا تھا اسے ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے وہ اک ذندہ لاش ہے وہ ابھی کے ابھی مرنا چاہ رہا تھا کیونکہ وہ اب جانتا تھا کہ اب مرنے سے بھی بدتر زندگی ہونے والی ہے۔ ۔۔ اس کے دماغ میں ریما کی آخری بات یاد آرہی تھی ۔۔۔۔۔ وہ جان گیا کہ اس کو کیے کی سزا مل گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔
ریما دو دن تک دانیال کا نمبر ملاتی رہی لیکن اس کا نمبر بند تھا اُسے اندازہ ہوگیا کہ دانیال جیسے لڑکے مطلب نکال لینے کے بعد نمبر چینج کر لیتے ہیں۔۔ وہ جلد کچھ کرنا چاہتی تھی ، پیریڈز کو ابھی سات آٹھ دن پڑے تھے لیکن وہ اتنا انتظار بھی نہیں کرنا چاہتی تھی۔ اُس نے اپنی ایک دوست نور سے بات کرنے کا سوچا۔
وہ جانتی تھی کہ نور اک اُپن مائنڈِڈ لڑکی ہے جو سموکنگ ، ڈرنک کے ساتھ ساتھ اکثر ڈیٹ وغیرہ پر بھی جاتی ہے وہ ضرور اس کا حل بتائے گی۔
ریما نےنور کو کال کی اور بتایا کہ اس کے ایک کزن نے اس کے ساتھ سیکس کیا ہے تو اب وہ اپنی پریگنینسی چیک کرنا چاہتی ہے تو کیا وہ اُسے سٹرپ لے کر دے سکتی ہے۔ نور پہلے تو اس بات سے کافی حیران ہوئی کہ وہ ایسے کیسے سیکس کروا سکتی ہے کیونکہ اول تو وہ ایسی ہے نہیں دوسرا سٹارٹ سے اسد کا ذکر کرتی تھی اور نور یہ بھی جانتی تھی کہ اسد فیلحال باہر ہے۔ خیر اُس نے تفصیل ریما سے مل کر پوچھنے کا سوچا اور جواب دیا کہ وہ خود تو کبھی سٹرپ لینے نہیں گئی۔ بلکے عمیر (اس کا بی ایف ) لے دیتا ہے۔
“مجھے لے دو کل ہی پلیز ” ریما نے جلدی سے اس کی بات کو ٹوکتے ہوئے بولا ۔۔
” او-کے او-کے میں عمیر سے کہتی ہوں پھر کل ہی تمہارے پاس لیتی آوں گی پھر چیک کر لینا۔ “
نور اس بات سے حیران تھی ویسے تو یہ دونوں کافی کلوز فرینڈز تھی لیکن ریما اس سے اس بات سے اکثر چڑتی کہ وہ کیسے عمیر سے مل لیتی ہے اکیلے میں بغیر شادی کہ۔۔۔۔۔
نور نے جب عمیر کو سٹرپ کا کہا تو اُس نے وجہ پوچھی تو نور نے بتا دیا کہ اس کی ضرورت میری ایک ایسی دوست کو ہے جو سیکس سے بھاگتی تھی وہ آج مانگ رہی ہے۔ عمیر کے دل میں اک خواہش سی پیدا ہونے لگی۔ لیکن اُس نے فل وقت کوئی سوال نہ کیا۔ اور کہنے لگا “ٹھیک ہے کل پھر ملتے ہیں دو سٹریپ دی دوں گا” ۔۔۔ “دو کیوں؟ ؟” نور نے پوچھا ۔۔۔ ” اب ملنےآو گی ایسے تو نہیں جاو گی وہ ہنسا” ۔۔۔ عمیر بسس کر دو ، میں تھک جاتی ہوں لیکن آپ نہیں۔۔
نور ٹھہر کے پھر بولی کریں گے فل حال کل اس سے ہو لوں پھر دیکھتے ہیں۔۔۔۔
نور سٹرپ لے کر ریما کے گھر پہنچ گئی۔ریما نے کرن کو چائے بنانے کا کہا، چائے دینے کے بعد کرن مما کے روم میں چلی گئیں۔۔ نور نے سٹرپ دی اور سٹرپ کے استعمال کا طریقہ بتایا اور ریما کچھ دیر بعد واش روم گئی ۔۔۔ اُس کے دل کی دھڑکن تیز تھی ۔ کچھ پل کے بعد اُس نے سٹرپ کو دیکھا وہاں ایک سرخ لکیر تھی اُس نے اک پھولا ہوا سانس نکالا اور نور کے ساتھ ریلیکس ہو کر لیٹ گئی۔ شکر بچ گئی ۔۔۔ ریما مسکراتے ہوئے بولی۔۔ نور اس کی گال پر ہاتھ لگا رہی تھی اُسکی گال کافی نرم و ملائم تھی اُس کا دل کر رہا تھا کہ اسے زووور سے چوم لے۔۔۔۔ اتنے میں ریما اُٹھ کر بیٹھ گئی ، نور نے موڈ میں ہوتے ہوئے پوچھا کس خوش نصیب نے چوس لیا اس خوبصورت جسم کو ، وہ اس کے جسم پر نظر گھما رہی تھی۔۔۔ ریما نے اک آہ بھری اور خاموش ہوگئی وہ کچھ نہیں بتانا چاہتی تھی ۔۔ ۔ پھر اک جھوٹی کہانی بنا دی کہ اک دور کا کزن آیا ہوا تھا وہ گھر اکیلی تھی اور اُس نے زبردستی کی ۔۔۔۔۔۔
نور مسکرائی اور بولی یہ کزن بھی عجیب ہوتے ہیں مفت میں مزے لے لیتے ہیں۔۔۔۔
دو ہفتے گزر گئے لیکن دانیال کا نمبر اب تک بند تھا۔ ریما اس تجسس میں ملا لیتی کہ بند کیوں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت دنوں کے بعد اچانک اسد نے کال کی اور کہا کہ”میری ٹکٹ ہو چکی ہے میں ایک ہفتے تک پاکستان آرہا ہوں” تم شادی کے لیے تیار ہوجاو، 6 ماہ کی چھٹی لے کر آرہا ہوں۔ اور واپس اپنے ساتھ دبئی لے جاوں گا۔ وہ اچانک اسد کی اس کال سے حیران رہ گئی ۔۔۔
اس نے اب اپنی سم بدل لینے کا ارادہ کیا وہ نہیں چاہتی تھی کہ دانیال اب کبھی اس سے رابطہ کرے وہ اسد کہ واپس آنے پر اب اتنا خاص خوش نہ تھی۔ لیکن اسے لگا شاید اسد کے سامنے ہونے پر وہ دانیال اور اس واقعے کو بھول سکے گی اور شاید اسد کے ساتھ ویسے ہوجائے گی جیسے پہلے تھی۔۔۔۔۔
اسد کے ابو نے اسد کے کہنے پر ریما کے گھر والوں سے تین ماہ کی ڈیٹ دے دی۔
2 دن بعد رات کے ڈھائی بج رہے تھے کہ ریما کے گھر پر دستک ہوئی ، اتفاق سے ریما کے ابو پر گھر تھے وہ دروازے پر پہنچے اور پوچھا کون؟ جواب ملنے اور آواز پہنچاننے کے بعد دروازہ کھولا تو سامنے اسد تھا وہ یوں اچانک اسد کو سامنے دیکھ کر حیران رہ گئے۔
اسد کو سرپرائز دینے کی بھی عادت تھی اُس نے سب کو اک ہفتہ کا کہا، جبکہ اُسکی فلائٹ دوسرے دن تھی ۔ وہ ویسے تو ریما سے دور رہتا تھا اور لڑکیوں میں لگا رہتا لیکن اسے ریما پر ٹرسٹ تھا اور اس ٹرسٹ کی وجہ سے اسے پسند کرتا اُسے پتا تھا کہ وہ کہیں بھی منہ مار لے اُسے اس جیسی لڑکی نہیں ملنی۔
ریما کے ابو اور امی سے ملنے کے بعد اسد ریما کہ روم میں گیا ۔۔ روم میں اک زیرو واٹ بلب جل رہا تھا۔ اسد نے روم کی لائٹ ان کی اور اک پلاسٹک چیر لے کر ریما کے بیڈ کے پاس بیٹھ گیا۔ ۔ ریما پینک کلر کے نائٹ ڑریس میں اُلٹی سو رہی تھی اُس کا چہرہ دوسری طرف تھا۔ اس کا خوبصورت جسم دیکھ کر اسد کا دل اسے چھونے کا کر رہا تھا لیکن وہ ریما کی عادت سے واقف تھا۔۔۔۔ ۔ وہ ابھی اس کو جگانے کا سوچ ہی رہا تھا کہ کرن (جو اسد کی بیک سائیڈ پر لیٹی ہوئی تھی) کی آنکھ کھل گئی ۔ اس نے جب ریما کے بیڈ کے قریب کسی کو دیکھا چلا اُٹھی۔ “بھوووووووووت ، چورررررر چووررررر ، پاپااااا مماااااا ۔ اسد اچانک ڈر گیا اور مڑ کر کرن کو دیکھنے لگا جو اب آنکھیں بند کیے چلائے جا رہی تھی ۔ ریما کے پاپا مما ان کے روم کے باہر ہی تھے آواز سن کر فوراً اندر آگئے اور بولے ” کیا مصیبت ہے دیکھ نہیں سکتی کہ کون ہے ؟
تمہارے اسد بھائی ہیں۔ ۔”
اسد نے واپس مڑ کر دیکھا تو ریما اُٹھ کر بیٹھی ہوئی تھی اور گھور کر اسد کو دیکھ رہی تھی۔ “تم ؟؟ تم کب آئے؟ وہ جلدی سے بال سیٹ کرتی بولی۔
کرن نے سلام کیا اور۔ بولی ” سوری اسد بھائی میں ڈر گئی تھی” ۔۔ کیوں میں بھوت جیسا لگتا ہوں؟ ہینڈ سم نہیں ہوں؟ پھر وہ ریما کی طرف دیکھنے لگا ، اور بولا نیند میں پیاری لگ رہی تھی، پھر کرن سے بولنے لگا کہ تم مجھ سے ڈر گئی اور اس کے خوفناک خراٹوں سے نہیں ڈرتی؟ اس کی بات سے سب ہنسنے لگے۔۔ریما شرمندہ ہوتے ہوئے بولی تم نے کب خراٹے میرے سن لیے۔ ۔ اسد پیار سے بولا ” اکثر خیالوں میں ” پھر اسد ریما کی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔ اسد کافی ہینڈ سم لگ رہا تھا ، لیکن ناجانے کیوں اسد اُس کے سامنے تھا پر اس کا دل مطمئن نہ تھا۔
شادی کی تیاری کا سلسلہ اگلے کچھ ہی دنوں میں شروع ہو گیا ۔ ریما نے بھی نمبر بدل لیا کے کہیں دانیال اب رابطہ نہ کرے اور ویسے بھی وہ شادی کے بعد اسد کے ہمراہ باہر جانے والی تھی۔ ریما کی بھابی کو بھی کاشف نے ان کے ساتھ آنے کو کہہ دیا۔
دوستوں اور رشتے داروں کی دعوتوں اور ملاقاتوں کے بعد وہ کچھ وقت اپنی شوپنگ اور کچھ وقت ریما کے گھر دیتا۔ ویسے بھی اسد لوگوں کا گھر بھی ان کے گھر سے کچھ ہی فاصلے پر تھا۔
ایک بار وہ صبح سویرے ناشتہ کے ارادے سے ریما کے گھر آیا اور ریما کو خود ناشتے بنانے کا کہا۔ اس میں کوئی شک نہ تھا ریما کے ہاتھ میں ٹیسٹ تھا اور وہ اسد کی پسند کو ویسے ہی جانتی تھی۔۔ وہ ناشتے میں مصروف ہوگئی اور اسد باہر ہال میں بیٹھ گیا، کرن کمروں میں جھاڑ پونج کرنے کے بعد صحن میں جھاڑو لگانے لگی جو اُس کا روز کا معمول تھا۔ وہ روز کی طرح جھک کر جھاڑو دے رہی تھی اُس کے گلے میں دوپٹہ نہ تھا اور ویسے بھی اُن کے گھر کم ہی مرد رہتے تھے تو کام کرتے وقت وہ دوپٹہ کم استعمال کرتی تھی۔ اسد کی نظر اچانک کرن کی طرف پڑی کرن نے نائٹ شرٹ ابھی تک پہنی ہوئی تھی جس کا بڑا گلا تھا وہ جیسے جھکی ہوئی تھی اُس کے اُبھار پنک برا سے اُسے صاف دیکھ رہے تھے۔ اسد باغور اس کا جائزہ لینے لگا۔ اُسے آج کرن کی جوانی کا اندازہ ہوا۔
اچانک کرن کی نظر اسد پر پڑی جو اُسے غور سے دیکھ رہا تھا پہلے تو اس نے دھیان نہ دیا لیکن جب اُسے احساس ہوا کہ دوپٹہ اُس کے گلے میں نہیں ہے وہ فوراً سے اندر گئی اور دوپٹہ سے اپنے سینے کو ڈھانپا اور دوبارہ کام کرنے لگی۔اب اسد جان بوج کر اُس پر نظر جمائے ہوئے تھا کرن کن آکھیوں سے باربار دیکھ رہی تھی کہ اسد اُسے باغور دیکھ رہا ہے۔ اُسے شرم سی آرہی تھی ایسا اُس کے ساتھ پہلی بار ہو رہا تھا۔۔ وہ کام ختم کر کے اندر جانے لگی تو اسد نے آہستہ آواز سے کہا پنک کلر پیارا ہے۔ کرن نے سن لیا تھا وہ روم میں آئی اور بیٹھ گئی اس کا جسم ٹھنڈا پڑھ گیا۔ اُسے بہت عجیب سا لگ رہا تھا۔ وہ دوبارہ اسد کے سامنے نہیں جانا چاہتی تھی۔
اسد کے جسم میں اک لہر سی دوڑ گئی تھی اسے اندازہ نہ تھا کہ کرن کی ایسی جوانی کا۔۔۔ ناشتہ کرنے کہ بعد وہ وہیں چائے پینے اور سب سے گپ شپ کرنے بیٹھ گیا وہاں ریما ،ریما کی بھابھی(فوزیہ) کرن اور ریما کی مما تھیں۔ باتوں ہی باتوں میں اسد نے سب کے سامنے ریما سے کہا کے “کرن ماشاءاللہ سے بڑی ہوگئی ہے میں نے آج اسے غور سے دیکھا” اور کرن کو دیکھنے لگا۔ کرن شرمسار سی ہونے لگی اس نے اسد کو اک نظر دیکھا جو ہاتھ میں کپ لیے اُسے ابھی بھی غور سے دیکھ رہا تھا۔۔۔جس پر ریما نے فخرانہ انداز میں جواب دیا “آخر بہن کس کی ہے؟ ؟”۔۔۔
اسد کرن کے جسم کو دیکھنے کے بعد اس کے ارد گرد رہنے لگا۔۔۔ اس نے سوچ لیا کہ ریما تو ویسے ہی ہے پڑی کیوں نہ وہ کرن کے جسم کا بھی مزہ لیتا جائے ۔ اب وہ بس موقع کی تلاش میں تھا۔
آک بار اس نے دیکھا ریما اپنی کسی کسٹمر کا میک آپ کرنے میں مصروف ہے پھر اُس نے اک جھلک کرن کو دیکھا جو اپنے روم میں سو رہی تھی اس نے یہی موقع اچھا سمجھا وہ اُس روم میں آہستہ سے گیا اور کرن کو دیکھنے لگا ۔۔ اسد کے جسم میں آگ سی لگنے لگی۔ وہ جیسے ہی کرن کے بیڈ کے قریب آیا کرن جاگ گئی اسے محسوس ہوگیا کوئی اس کے قریب ہے لیکن اُس نے ڈر کے مارے آنکھیں نہ کھولیں اُسے اندازہ ہوگیا تھا کہ اسد روم میں ہے۔ اسد نے آہستہ سے کرن کی گال کوچوم لیا اور اک ہاتھ سے اس کی کمر پر لگاتا ہوا ہپ پر لے گیا اور دبانے لگا وہ ساتھ ساتھ اندر زور دینے لگا اُس نے کرن کے ہاتھوں کو دیکھا جو زور سے مٹھی بند کیے ہوئے تھی اُسے اندازہ ہوگیا کہ وہ جاگ رہی ہے۔ ۔ کرن کو جیسے جیسے وہ چھو رہا تھا اُس کے دل کی دھڑکن تیز ہورہی تھی اُس کے جسم میں عجیب سی فیلنگز آنے لگیں وہ اپنے کنٹرول کو کھو رہی تھی ۔اسد اس کے نرم جسم کو دباتا رہا پھر اُٹھا اور روم سے باہر چلا گیا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ کوئی آجائے لیکن اُسے اندازہ ہوچکا تھا کہ کرن اب راضی ہے اسے بس اب اکیلے میں ملنا ہے۔۔۔۔
اسد کے جانے کے بعد کرن نے دیکھا اس کا جسم بھیگ چکا ہوا ہے ۔ اس کو ڈر سا لگنے لگا کہ وہ کیوں نہ روک سکی ؟وہ اس کی بہن کا ہونے والا شوہر ہے اور وہ خود اسے بھائی سمجھتی ہے۔۔ اُسکی آنکھوں میں اب آنسو آنے لگے اور وہ تکیے میں منہ دے کر رونے لگی ، اس نے اب سوچ لیا کہ وہ اب ہر وقت ریما یا مما کے ساتھ رہے گی اور اسد نے اگر اب کچھ کیا تو سب کو بتا دے گی۔۔۔۔۔۔
ایک دن ریما نے اسد کو کال کی کہ وہ آج مما کے ساتھ مارکیٹ جا رہی ہے۔ اُس کی اب یہ عادت تھی کہ ہر بات اسد سے پوچھ کر کرنے لگی۔۔ اس کی یہ عادت دانیال نے ڈال دی تھی۔ ۔۔ اسد یہ بات سن کر خوش ہوا۔ کچھ وقت کے بعد وہ ریما کے گھر پہنچ گیا۔ دروازہ اسد کی بہن فوزیہ نے کھولا، اس نے بتایا کہ ریما نہیں ہے تم دوسرے روم میں بیٹھ جاو، پانی وغیرہ پینے کے بعد اُس نے یہیں آرام کرنےکا بہانہ کیا اور فوزیہ اپنے روم میں چلی گئی۔ اسد کچھ پل کے بعد اُٹھا اور کرن کے روم کی طرف بڑھا۔۔۔
کرن بیٹھی اپنے نوٹس بنا رہی تھی وہ اس کے روم میں گیا۔ اسد کو ایسے اپنے روم میں دیکھ کر وہ اٹھنے ہی لگی تھی کہ اسد نے فوراً سے پکڑ کر منہ پر ہاتھ دے دیا اور دیوار سے لگا دیا۔ اسد کی باڈی اور طاقت کے سامنے وہ کچھ نہ تھی۔ وہ ہل نہ پا رہی تھی اسد نے ایک ہاتھ بڑھا کر دروازے کو لاک کیا اور دوسرے ہاتھ سے اس کے منہ کو پکڑے رکھا۔ ۔ لاک لگانے کے بعد وہ اسے چومنے لگا ۔ اس کے بالوں سے کس کے پکڑ کر کرن کو تھوڑا اوپر اٹھا کر اپنے ہونٹوں سے اس کے ہونٹوں کو چوسنے لگا۔۔اور آنکھیں بڑی کرتے ہوئے آہستہ آواز لیکن سخت لہجے میں بولا “چپ۔۔۔بس چپ” کرن اپنے ہاتھوں سے خود چھڑوانے کی نا کام کوشش کر ہی تھی ۔ آخر اسد اس کے ابھاروں کے ساتھ جسم کے خاص نرم جگا کو مسلنے لگا۔ بہت جلد کرن تھکنے اور کمزور پڑنے لگی اور ڈھیلی ہونے لگی اُس نے اسے اُٹھایا اور بیڈ پر لیٹا دیا اور جسم کو پینے لگا آہستہ آہستہ وہ اس کے جسم کو بے لباس کرتا گیا کرن اب اپنی آنکھیں بند کیے مزاحمت کر رہی تھی لیکن اب وہ چلا نے کی کوشش نہیں کر رہی تھی بے لباس کرنے کے بعد اسد اس کو زور سے پکڑ کر اُوپر آنے لگا وہ اسد کے بھاری جسم کو اپنے اُوپر آتا محسوس کر رہی تھی۔ اسد نے اپنے جسم کو کرن کے جسم سے ملا کر زور دیا۔ کرن کی اک چیخ زور سے نکلی اسے اپنے جسم کے کٹ جانے کا احساس ہو رہا تھا۔ وہ رونے لگی اور اسد کو اُتارنے کی پوری کوشش کرنے لگی وہ اسے ناخون مار رہی تھی کاٹ رہی تھی لیکن اسد کو اس کا کوئی اثر نہ ہو رہا تھا۔۔ وہ مسلسل مسلسل وار پر وار کر رہا تھا۔کرن درد سے چلا رہی تھی ۔ کچھ وقت کے بعد کرن نڈھال ہوگئی اور اپنے جسم کو ڈھیلا کر دیا۔۔۔دوسری بار اسد کے کرنے پر پہلے اسے دوبارہ درد ہوا لیکن اس بار اس نے زیادہ مزاحمت نہ کی وہ اب خود اسد کو اندر سے قبول کرنے لگی اور وہ اسد کو کس کرنے لگی کرن کے چومنے سے اسد کے جسم میں اور آگ آگئی اور وہ زور سے اپنے جسم کا احساس دلانے لگا اچانک کرن کا جسم ٹوٹ کر بہنے لگا اور وہ مکمل نڈھال ہوگی۔ اسد اُسکی گہرائی میں اپنے نقش کو اتارنے اور تھک جانے کے بعد اس کے اوپر سے اُترا کچھ پل ساتھ لیٹا رہا اور کھڑا ہوکر آہینہ میں خود کو دیکھنے لگا اس کی چیسٹ پر جگہ جگہ کرن کے ناخونوں کے نشان تھے۔ پھر مڑ کرکرن کی حالت کو دیکھنے لگا بستر پر خون کے ساتھ اُن دونوں کی جوانی کے ثبوت جگہ جگہ تھے۔ کرن کا لباس کمرے میں الگ الگ بکھرا ہوا تھا وہ اب بیڈ کی چادر کو زور سے تھامے ہوئے تھی پھر بولی “یہ غلط کیا آپ نے ۔۔۔۔ آپ تو ریما سے پیار کرتے ہیں پھر میرے ساتھ یہ سب، وہ بیڈ کی شیٹ میں خود کو اکھٹا کرتے ہوئے بولی اسد مسکرانے لگا اور پینٹ پہننے لگا ، وہ پھر بولی اسد ؟ آپ واقعی ریما سے پیار کرتے ہو؟ اسد نے جب کرن کے منہ سے صرف اسد سنا تو پھر سے مسکرا دیا اور جواب دیا ” نہیں۔۔ بس فیملی کی وجہ سے کر رہا ہوں “۔۔ ۔ اسد نے اس کے کپڑوں کو اُٹھایا اور اس کی طرف پھینکا اور بولا “کپڑے پہن لو” ۔ وہ کپڑے پہننے لگی اور ساتھ بولی ” کیا یہ پیار تھا ہم دونوں میں ہوا؟ ؟”۔۔اسد نے سن کر خاموش ہو گیا وہ کرن کے قریب آیا اور گہرایوں کے ساتھ ہونٹوں کو چوما اور آہستہ آواز میں بولا اب تم صرف میری ہو اور یہی پیار ہے پھر خود روم سے باہر نکلنے لگا۔ جیسے وہ روم سے باہر نکلا سامنے اُس کی بہن فوزیہ ٹھہری تھی۔۔ جو غصے سے لال آنکھیں کیے ہوئے اُسے دیکھ رہی تھی۔ ۔
فوزیہ اسد کو پانی پلانے کے بعد اپنے روم میں آ کر بیٹھ گئی اور ٹی وی دیکھنے لگی اچانک اُنہیں کرن کی چیخ سنائی دی وہ جلدی سے روم کی طرف گئی تو ایسے لگا جیسے کیسی نے ابھی لاک کیا ہو ۔۔ فوزیہ کو اک کھٹکا سا ہوا وہ فوراً اُس روم میں گئی جہاں اسد سونے لگا تھا لیکن وہاں اب کوئی نہ تھا۔ فوزیہ کے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی وہ سمجھ گئی۔وہ کرن کے روم کے باہر آکر غور سے سننے لگی وہ کرن کی مزاحمت اوراسد کی درندگی سن رہی تھی۔ فوزیہ حیران و پریشان تھی کہ اب کرے تو کیا کرے وہ بس اب اسد کے نکلنے کا انتظار کرنے لگی۔۔۔۔
جیسے اسد روم سے باہر آیا اس نے اسے غصے سے دیکھا اور اپنے روم میں آنے کا اشارہ کیا۔ اسد فوزیہ کو دیکھ کر ڈر گیا۔ وہ عمر میں فوزیہ سے 2 سال بڑا تھا۔ لیکن جو اُس نے کیا تھا اس کی وجہ سے اب شرمسار تھا۔
روم میں آنے کے بعد فوزیہ رونے لگی اور کہنے لگی کہ آپ کیسے بھائی ہیں ؟؟؟؟ یہ آپ نے کیا کر دیا ؟ آپ کو عورت کی عزت کا اتنا خیال نہیں ؟ اگر یہ بات ریما، کاشف یا اسکے گھر والوں کو پتا چل گئی تو ہماری عزت رہے گی؟؟؟ کیا وہ مجھے اس گھر میں رہنے دیں گے؟؟؟ فوزیہ بولتی چلی گئی.. فوزیہ کی باتیں اسد کو دل پر لگ رہی تھیں اسے اک پل کو احساس ہوا کہ اس نے غلط کیا پھر کچھ پل خاموش ہونے کے بعد اُس نے اس بات سے مطمئن کیا کہ کرن اب اس کہ ساتھ راضی ہے وہ کچھ نہیں بتائے گی۔۔۔
کچھ وقت کے بعد اسد نے فوزیہ کو کرن کے پاس جانے کا کہا کہ وہ جا کر اس کی طبیعت پوچھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کرن غسل کرنے کے بعد آئی اور ابھی ہوئے واقعے کے بارے میں سوچنے لگی کہ اچانک یہ سب کیسے ہوا اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے اور اس کے ساتھ اچانک اتنا کچھ کیسے ہوگیا ہے؟؟۔۔۔وہ ابھی اسی سوچ میں تھی کہ فوزیہ روم میں آگئی اور کرن کی طبیعت کا پوچھنے لگی۔۔۔۔پھر یقین دلایا کہ وہ گھبرائے نہیں اسد نے اسے سب بتا دیا ہے اب اسے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ۔۔۔اس کی باتوں سے کرن کو تسلی ہونے لگی۔۔۔۔۔۔اور یوں آگے اسد اب فوزیہ کے روم میں کرن کو بلوا کرملنے لگا۔۔۔۔
کرن اب جب بھی ریما کو اسد سے بات کرتا دیکھتی یا اس کے قریب دیکھتی اُسے اُلجھن ہوتی وہ ریما سے اچانک چڑنے لگی۔۔۔ وہ اس بات کو برداشت نہیں کر پارہی تھی کہ اسد ریما سے اب شادی کرے اُس نے ٹھان لی کہ وہ اسد کو کسی حالت میں ریما کا نا ہونے دے گی۔۔
اگلی بار اسد جب کرن سے فوزیہ کے روم میں مل رہا تھا اس نے اسد کو ریما اور دانیال کے بارے میں سب بتا دیا اور یہ بھی کہ دانیال نے اس کے ساتھ سیکس کیا۔ اسد کو کرن کی بات سن کر غصہ سا آیا وہ اس بات کو سن کر حیران رہ گیا کہ ریما تو اُس سے بے انتہا پیار کرتی تھی پھر یہ سب کیسے ہو گیا؟؟؟؟ لیکن کرن کی بات سن کر اُس نے جلد ہی ریما سے اس بات کو جاننے کا ارادہ کر لیا کیونکہ اس کے دل میں تھا کہ شاید کرن جھوٹ بول رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ریما دانیال کو بھول تو نہ سکی لیکن اسد کے سامنے ہونے کی وجہ سے وہ اس کا اب نہ سوچتی ریما نے کئی بار اس بات کا ارادہ کیا کہ وہ اسد کو دانیال کے بارے میں بتا دے لیکن ہر بار اس بات سے ڈر جاتی کہ نا جانے اسد کا کیا ری اکشن ہو؟ کہیں وہ اسے چھوڑ نہ دے۔۔۔۔۔
شادی کو تقریبا 2 ہفتے رہتے تھے اسد نے ریما کو کال کی اور باتوں ہی باتوں میں پوچھا ” ریما ایک بات بتاو۔۔ جھوٹ نہ بولنا، کیا تمہاری لائف میں میرے علاوہ کوئی اور آیا ہے ” ؟؟؟
ریما کی دل کی دھڑکن تیز سی ہونے لگی۔ وہ خاموشی سے جواب سوچنے لگی۔۔۔ “تم سے کچھ پوچھ رہا ہوں ” اسد نے تھوڑا سنجیدہ اور سخت انداز میں پوچھا۔۔۔
ریما: ہممممم۔ ۔۔ جی (آہستہ آواز میں بولا)۔۔ ۔۔۔۔ پھر کہنے لگی “میں آپ کو بتانا چاہتی تھی لیکن ڈر تھا”۔ ۔
اسد: کون تھا؟؟؟؟ اور کیا تم ملی بھی تھی؟ ؟ اسد اُسکی بات کو پورا ہونے سے پہلے ہی پوچھنے لگا۔
ریما نے ساری بات بتانا شروع کردی جو جو اس کے ساتھ ہوا جو اسد پہلے ہی کرن سے سن چکا تھا۔ ریما کے بتانے کے دوران ہی اسد غصے میں آگیا اور اُسے خاموش ہونے کا کہا۔۔۔ پھر اُس نے کال کٹ کر کے ریما کو بلاک کر دیا۔
ریما کا دل گھبرا رہا تھا وہ بار بار اسد کا نمبر ملا رہی تھی اور میسج کر رہی تھی اسے ڈر تھا کہ کہیں اسد اب رشتہ نہ توڑ دے۔
ادھر اسد کی نظروں میں ریما گر گئی۔۔۔وہ ریما کے بارے میں اب بُرا سوچنے لگا اُسے یہ تو پتہ چل چکا تھا کہ کوئی ریما کے جسم کو پی چکا ہے ، آخر اسد نے فیصلہ کر لیا کہ اب وہ ریما سے کبھی شادی نہیں کرے گا۔ اُس نے سوچ لیا کہ وہ اب کسی اور سے شادی کرے گا ۔ اس نے اپنے گھر والوں سے بات کی۔ اسد کے گھر والے اچانک اُس کی اِس بات کو بچپنا سمجھے اور اسد کو سمجھانے لگے کہ اب کیسے وہ ریما کا انکار کریں ، جبکہ شادی کو چند دن رہ گئے ہیں؟؟؟اسد کے ابو نے سختی سے منع کیا کہ وہ اب ریما کے علاوہ کسی کا نہ سوچے ورنہ اُن سے بُرا کوئی نہیں ہوگا۔ ۔۔
لیکن اسد ایسی لڑکی سے شادی نہیں کرنا چاہتا تھا جو اسی اور کو اکیلے میں مل چکی ہو۔ اسد کے پاس فل حال کوئی حل نہ تھا۔۔۔۔اُس شام اسد جب فوزیہ کے نمبر پر کرن سے بات کر کے کرن کو سارا حال دے رہا تھا تو کرن نے موقعہ اچھا سمجھا اور بول دیا “اسد تم مجھ سے شادی کرلو؟؟ ویسے بھی ہم دونوں ایک۔دوسرے کو پیار کرتے ہیں؟؟” ۔۔ اسد کرن کی بات سن کر خاموش ہو گیا اور بات گھما دی اور پھر کال کٹ کر کے سوچنے لگا کہ وہ کرن سے پیار تو نہیں کرتا، پر کرن میں کوئی کمی نہیں اور اس کی زندگی میں ہے بھی وہ پہلا شخص۔۔۔آخرکار اس نے سوچ لیا کہ وہ کرن سے شادی کرے گا وہ بھی گھر والوں کو بتائے بغیر کیونکہ اب آٹھ دن شادی کو رہ گئے تھے اور وہ جانتا تھا کہ اب اس کے گھر والے کبھی نہیں مانے گے۔۔۔
اسد نے اک پلان بنایا اور اگلی شام فوزیہ کو فون کر کے کرن سے بات کی ۔۔ اس نے کرن سے اب خود پوچھا کے کیا وہ شادی کرنا چاہتی ہے؟ کرن تو ویسے ہی پہلے تیار تھی فورا ہاں ملا دی۔۔ پھر اسد نےکرن کو اگلی صبح ملنے کو کہا۔۔
فوزیہ کو اسد کے اس پلان کا پتہ نا تھا۔ وہ سمجھتی تھی کہ اسد کرن سے ٹائم پاس کر رہا ہے شادی وہ ریما کہ ساتھ کرے گا۔۔
اگلی صبح کرن مارکٹ سے کچھ لینے کے بہانے سے گھر سے باہر چلی گئی۔ اور اسد کے بتائے ہوئے پتہ پر پہنچ گئی جہاں اسد پہلے سے اک نکاح خواں اور ایک دو دوستوں کے ہمراہ تھا۔ کچھ دیر کے بعد نکاح خواں نے دونوں کی رضامندی جاننے کے بعد نکاح پڑھوا دیا اب کرن اسد کے نکاح میں تھی وہ کرن کو لیے اپنے گھر چلا گیا۔ کرن کافی ڈر رہی تھی لیکن وہ جانتی تھی کہ اب اگر وہ کہیں انکار کرتی ہے تو اسد اسے نہیں ملے گا اور اب یہ سب اسد کو حاصل کرنے کے لیے ضروری تھا۔۔۔۔
اسد جب کرن کو گھر لے کر گیا تو اُس کے ابو امی اس کی بات سن کر سکتہ میں آگئے۔ اُن کو اس بات کا زرا علم نہ تھا کہ اسد اس حد تک چلا جائے گا اور اب اُن کو اس بات کی فکر ہونے لگی کہ اس گھر میں بھی اُن کی بیٹی ہے۔ اسد کے ابو نے اسد کو جب خوب ڈانٹا تو اسد نے کھل کر ریما سے شادی نہ کرنے کی وجہ بتا دی ،جس پر اس کے ابو خاموش ہوگئے اور بولے کہ پہلے وہ سب کچھ بتاتا تو ایسے قدم اُٹھانے کی نوبت نہ۔ آتی۔۔۔۔۔۔پھر کرن کو فلحال گھر جانے کا کہا اور خاموش رہنے کا کہا کہ کسی کو نہ بتائے۔۔۔۔ کرن فوراً واپس گھر پہنچ گئی۔۔۔۔
اسد کے ابو (جو ریما کے ابو کے سگے اور لیکن چھوٹے بھائی تھے) نے ریما کے ابو کو کال کر کے واپسی گھر آنے کا پوچھا۔۔۔
رات کے کھانے کے دوران ریما نے نوٹ کیا کہ آج اسد کے ساتھ ساتھ چچا اور چچی بھی اُسے اگنور کر رہے ہیں۔ کھانے کے بعد ریما کے ابو نے اسد اور اس کے گھر والوں کو روم میں آنے کو کہا۔۔ ریما کو کچھ ٹھیک نہ لگ رہا تھا اُس کا دل بیٹھا جا رہا تھا۔ وہ دل ہی دل میں دعائیں کرنے لگی کہ “یا اللہ سب ٹھیک ہو بس اک بار اسد معاف کردے وہ کبھی ایسا نہیں کرے گی”۔۔
اسد کے ابو پہلے تو حال چال پوچھتے رہے پھر وہ بھابھی(ریما کی ماں) کی طرف مخاطب ہوئے اور بولے بھابھی یہ دانیال کون ہے؟ ؟؟؟ ریما کی مما کو سمجھ نہ آیا اور سوالیہ انداز میں پوچھا کہ کون دانیال؟ وہ پھر بولے ” جس سے ریما کی دوستی تھی” ۔۔ یہ سن کر ریما کی مما کی آنکھیں کھولی رہ گئیں جبکہ ریما کے ابو سخت لہجے میں بولے “اختر بات کھل کے کرو کیا بات ہے”۔۔۔۔۔
اسد کے ابو زرا رکے پھر بولے “بات صرف اتنا ہے اسد اب ریما سے شادی نہیں کرسکتا۔ کیونکہ آپ کی بیٹی کا کسی دانیال نامی لڑکے کے ساتھ ناجائز تعلقات ہیں یہ سب اُس نے خود اسد کو بتایا ہے۔ اتنے میں اسد بولا ” انکل آپ خود ریما سے پوچھ لیں اور ثبوت کے لیے میرے پاس اُس کی کال ریکارڈنگ بھی ہے جس میں اُس نے سب بتایا”۔۔۔
ریما کے ابو نے تیز دھڑکتے دل کے ساتھ سخت لہجے میں ریما کو آواز دی، ریما آواز سنتے ہی سہم گئی کہ آج کچھ گڑبڑ ہے۔ وہ کرن کے ساتھ لیے مما پاپا کے روم میں آئی اور مما کے ساتھ بیٹھ گئی۔ ریما کے ابو نے جھکی نظروں کے ساتھ پوچھا ریما” کیا تم اپنے باپ کی عزت اُچھال چکی ہو؟” ریما کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے وہ رحم کی نظر سے اسد کو دیکھنے لگی۔۔ ریما کے ابو نے پھر پوچھا کہ تم سے کچھ پوچھا ہے۔۔۔۔ ۔۔
ریما نے آنکھیں بند کی اور ہاں میں سر ہلا دیا ، ریما کی مما نے ایک زور دار تھپڑ ریما کو مارا لیکن اس تھپڑ کے درد کا احساس اُس درد سے بہت کم تھا جو اسد کی وجہ سے اُس کے دل میں تھا۔ وہ اُٹھی اور بابا کے قدموں میں گر پڑی، اور بتایا کہ بابا اس لڑکے نے مجھے بےہوش کر دیا تھا اور رونے لگی کہ اُس سے یہ پہلی اور آخری غلطی ہوئی وہ پھر کبھی ایسا نہیں کرے گی جس سے ان کی عزت پر آنچ آئے بس اس بار معاف کردیں۔ وہ اسد اور چچا چچی سے بھی ہاتھ جوڑ کر منتیں اور معافی مانگنے لگی۔ ۔ لیکن ایسا لگ رہا تھا وہاں سب پتھر ہیں۔۔اب وہاں فوزیہ بھی آگئی تھی وہ بھی خاموشی سے سب سننے لگی۔ ۔
کچھ وقت کے بعد ریما کے ابو نے ریما کو دیکھا اور پھر خود ہی اختر سے کہنے لگے ” اگر آپ نے رشتہ ختم کرنا ہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں لیکن اگر آپ لوگ میری بیٹی کو اک موقع اور دیتے ہو تو میں اس بات کی ضمانت دیتا ہوں کہ اب وہ ایسا نہیں کرے گی۔”۔۔۔۔ اسد کے ابو نے اک نظر اسد کو دیکھا اور آہستہ آواز میں بولے “بھائی جان ہم خود رشتہ ختم کرنے نہیں آئے ، اور باقی دن ہی کتنا رہ گئے ہیں۔ لیکن۔۔۔۔۔۔” وہ خاموش ہوگئے۔۔۔ ریما رشتہ نہ ٹوٹنے کی بات سن کر شکر ادا کرنے لگی کہ بس وہ اسد کے قدموں میں پڑی رہے گی صرف یہ برا وقت آج ٹل جائے۔۔۔۔۔
ریما کی مما بولیں “لیکن کیا بھائی صاحب ؟؟”
“لیکن یہ کہ اب اسد ریما سے نہیں کرن سے شادی کرے گا”۔۔۔ یہ بات سن کر ریما کا دل پھٹنے سا لگا وہ حیرت سے سب کے چہروں کو دیکھنے لگی ،خود ریما کے ابو اور مما کے ساتھ فوزیہ بھی سن کر حیرت میں پڑھ گئی وہ خود نہیں جانتی تھی کہ ایسا بھی ہوگا۔ ۔۔۔۔
ریما کی مما کرن کو دیکھتے ہوئے بولیں ” خدا کا خوف کریں وہ ابھی بچی ہے اور پڑھ رہی ہے ہم نے خود اُس کی شادی کا فلحال نہیں سوچا اور آپ”۔۔۔۔ پھر ریما کے ابو بولے ” اختر ! تمہارے بیٹے نے رضا مندی سے ریما سے شادی کرنی ہے تو ٹھیک ہے ورنہ رشتہ یہیں ختم کر دو ۔۔ بس”۔۔۔۔۔۔
“میں کرن سے نکاح کر چکا ہوں “اسد جو کچھ دیر سے خاموش بیٹھا تھا بول اُٹھا۔ یہ سننا تھا ریما کے ساتھ اس کے مما پاپا کے پاوں کے نیچے سے زمین نکل گئی، ریما کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ ہو کیا رہا ہے وہ بس اتنا چاہ رہی تھی کہ زمین پھٹ جائے اور وہ اُس میں دفن ہوجائے۔۔۔ فوزیہ حیرات زدو تھی اُسے اسد کی یہ حرکت حیران کن لگی اُسے ریما کی حالت پر ترس آرہا تھا اُسے احساس ہو رہا تھا کہ جیسے وہ خود بھی اس کی جرم دار ہے۔۔۔
ریما کے ابو غصہ میں اٹھے اور اسد کو زور سے اک تھپڑ مارا اور جھنجھوڑ کر بولا کہ کیا کہا تو نے؟ ؟؟ ؟؟ وہ خاموش رہا اور کانپتی آواز میں بولا ” جی انکل یہ سچ ہے کرن سے پوچھ لیں ۔۔۔۔ کرن بھی مجھے پسند کرتی تھی اور آپ لوگ منع نہ کرو اس لیے یہ قدم اُٹھایا۔۔”
ریما کے ابو نے اک نظر کرن کو دیکھا جو سر جھکائے جرم کا اعتراف کر رہی تھی اور خود پیچھے صوفہ پر واپس بیٹھ گئے۔۔۔۔ ان کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ ان کی دونوں بیٹیوں نے آج کیسا دن دیکھا دیا اُسے کی عزت کا زرا خیال نہ کیا۔۔۔ اُن کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔۔ ریما کی مما خود روتی آنکھوں کے ساتھ آئیں اور ریما کے ابو کے آنسو صاف کرنے لگیں۔۔۔۔۔۔
کافی دیر گزرنے کے بعد ریما کے ابو نے اختر کی بات کی حامی بھرتے ہوئے فیصلہ سنادیا کہ اب اُسی دن ریما کے بدلے کرن کی بارات جائے گی۔۔۔ لیکن اس کے بعد کرن یا اسد سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سب کے جانے کے بعد ریما کے ابو نے کرن اور ریما کو اپنے روم میں روک لیا اور کچھ دیر خاموشی کے بعد بہتے آنسوں کو صاف کرتے ہوئے بولے “بیٹیاں جس گھر میں ہوتی ہے اس گھر میں رحمت ہوتی ہیں کیونکہ وہ ۔۔۔۔وہ ماں باپ کا غرور ہوتی ہیں۔۔۔ میں جب بھی گھر آتا تھا ۔۔۔صرف تم دونوں کو دیکھتا تھا تو تھکن دور ہوجاتی تھی۔۔۔۔۔۔۔ بیٹا گھر نہ ہو کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن بیٹی اگر اک پل کو آنکھوں سے اُوجھل ہو تو دل بیٹھ جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بیٹا ! ہم نہیں جانتے کہ ہماری پرورش میں کہاں کمی رہی کس چیز کی کمی رہی جو تم دونوں نے ایسا غلط راستہ اختیار کیا۔ ۔۔”۔وہ خاموش ہو گئے۔۔
دونوں کے چہروں کو اک نظر دیکھنے کے بعد سخت لہجے میں بولے “جو کرنا تھا تم دونوں نے کر دیا۔ ۔ آج کے بعد میں تم دونوں کی شکل نہیں دیکھوں گا۔ ۔۔ اب جاو اپنے کمروں میں اور تم (کرن) شادی کی تیاری کرو۔ ۔اب دیکھتا ہوں کہ کیسے اس گھر میں واپس قدم رکھتی ہو۔ ۔”
ریما بس ذندہ لاش کی طرح واپس روم میں آئی اور بیڈ پر گر پڑی۔۔ اس کے سر میں شدید درد ہو رہا تھا ۔۔ وہ آنکھیں بند کیے اپنی بدقسمتی پر آنسو بہانے لگی اور ناجانے کب اُس کی آنکھ لگ گئی۔
کرن کو اپنے کیے پر بہت شرمندہ تھی اسے احساس ہو رہا تھا کہ اس نے ریما کے ساتھ بہت غلط کیا اسے ان دونوں کے درمیان نہیں آنا چاہئے تھا۔۔ وہ سب ٹھیک کرنا چاہتی تھی لیکن وہ جانتی تھی کہ اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ وہ نکاح کر چکی تھی۔۔۔
فجر کی نماز کے بعد ریما رو کر اپنے گناہوں کی معافی مانگنے لگی اور توبہ کرنے لگی ۔۔۔ اتنے میں اس نے دیکھا کرن اس کے پاوں پکڑے ہوئے تھی اور معافی مانگ رہی تھی۔ ۔ ریما نے اُسے اُٹھایا اور اپنے پاس بیٹھایا اور پیار کرتے ہوئے بولی ” کرن یہ سب نصیب کی بات ہے اسد میرے نصیب میں نہ تھا یا شاید میں اسد کے نصیب میں نہ تھی۔۔۔۔ سچ پوچھو تو مجھے خوشی ہے وہ انسان میرا نہیں ہوا جو مجھ پر اعتبار ہی نہیں کر سکا۔۔۔ میں تمہارے لئے خوش ہوں بس دعا ہے کہ الله تمہارے نصیب آچھے کرے۔ ۔”
تین دن بعد کرن کی شادی ہوگئی۔ سب مہمان حیران تھے کہ شادی ریما کی تھی بارات کرن کی۔۔۔ لوگ جان بوجھ کر ریما سے اور اس کے گھر والوں سے پوچھتے رہے تعنے دیتے رہے اور کہانیاں کستے رہے۔ ۔۔
کچھ دنوں میں کرن کا پاسپورٹ بن گیا اور وہ تینوں( اسد، کرن اور فوزیہ) باہر چلے گئے۔ ۔۔۔۔۔
کرن کو گئے چھ ماہ ہو گئے تھےریما زیادہ تر اپنے کمرےمیں ہی رہنے لگی. اسکے ابو بھی اس سے نہ بولتے تھے. اب وہ پانچ وقت کی نماز پڑھنے لگی جس سے اسکے چہرے پر نور آنے لگا باقی وقت وہ اپنے پارلر کے سیٹ اپ میں دیتی. ریما نے ایک دو بار دانیال کا نمبر ملانے کی کوشش کی تاکہ اسے بتا سکے کہ اس کی وجہ سے اس کی کیا حالت ہو گئ ہے. لیکن اسکا نمبر بند تھا. اور تمام سوشل اکاؤنٹ سے آف تھا. جسکے بعد اسنے اپنے دل کو اللہ سے جوڑنے کا فیصلہ کر لیا. شادی ٹوٹنے کی وجہ سے لوگ سوال کرنے لگے اسی وجہ سے اسنے تمام کزن سے رابطہ ختم کر دیا. … بس ایک نور تھی جو کبھی وقت گزارنے یا میک اپ کروانے آ جاتی تھی…. ریما کے ابو نے ریما کی مما سے صاف کہ دیا کہ. کوئی اچھا رشتہ دیکھ کے اسکی شادی کر دیں.. لیکن فلحال کوئی اچھا رشتہ نہ ملا اب خاندان میں اور محلے میں وہی بُری اور بد قسمت لڑکی سمجھی جانے لگی…….
آج بھی جب نور آئی تو ریما جائے نماز پر بیٹھی تھی. نور نے عمیر سے وڈیو کال ملائی اور سموکنگ کرنے لگی…..
ریما جیسے اسکے پاس آ بیٹھی اسنے کال بند کر دی… اور ریما کو. دیکھنے لگی نور اسکے نکھرے چہرے کو دیکھ کر بولی کافی پیاری ہوتی جا رہی ہو…..
کیا چکر ہے؟؟؟ اسنے کہا تمہیں ہی لگتی ہوں..اور تم یہ سموکنگ کیوں نہیں چھوڑ دیتی؟؟؟؟
نور نے لمبا کش لگا کے کہا پہلے شوک تھا اب مجبوری ہے….
ویسے عمیر دیکھنے میں خوبصورت تھا..
لمبی ہائٹ… Sixپیکس کے ساتھ… فرنچ سٹائل.. لمبے بال جو ہمیشہ پونی میں باندھ کے رکھتا تھا..
لیکن وہ ایک کرپٹ لڑکا تھا.. دو نمبر…. شراب.. چرس… ہیروئن.. مرڈر اور آئس کےنشے میں ملوث تھا.. اور پولس. میں اشتہاری ملزم تھا..
نور ریما سے ایسی باتوں کا ذکر کر چکی تھی ریما نور کو عمیر سے ملنے سے منع کرتی تھی……. عمیر نور سے ریما کی تعریفیں سن سن کے پک چکا تھا… تبھی ریما سے ملنے کا شوق پیدا ہونے لگا. …….
ایک دن نور عمیر کے پاس موجود بےلباس تھی…. عمیر نور کو تھانے میں مصروف تھا.. اچانک اسے ریما کا خیال آیا.. وہ موبائل اٹھا کر ریما کی تصویر دیکھنے لگا…. اس کے جوش میں تیزی آ گئی اور وہ نور کی گہرائی تک اتر کر اسے درد دیئے جا نے لگا…
نور نے چیخنا شروع کر دیا….
عمیر نے مدھم آواز میں نور کے کان کی لو پر ہونٹ رکھ کر کہا…..
ریما بس تھوڑا اوووووررر…..
نور نے ریما کا نام سن لیا تھا لیکن مدہوشی کی وجہ سے عمیر کو زور سے تھامے ہوئے تھی…
ایک تیز رفتار جھٹکے کے بعد وہ سائڈ پر ہو گیا….
نور عمیر کا الیکٹرک شیشہ اٹھا کے پینے لگی… اور شرارت سے بولی.. ریمااااا اچھاااااا…
عمیر مسکرایا…
تم ہر وقت ریما کا ذکر کرتی ہو تبھی منہ سے نکل گیا ….
لیکن وہ ہم جیسی نہی ہے یااااااااررر وہ بہت شریف ہے.. یہ کہ کر نور کسی گہری سوچ میں چلی گئ…. پھر ایک کش لیکر سموک عمیر کےمنہ میں چھوڑ کر کہنے لگی سیکس کروگے اسکے ساتھ؟؟؟؟
عمیر کے جسم میں بجلی س دوڑ گئی… اسکا جسم اکڑنے لگا… نور اسکے بالوں میں انگلیاں پھیر کر ہاتھ نیچےلاتے ہوئے بولی…انہوں نے اگلی ملاقات میں منگنی کرنے کی خواہش کر دی… ریما کو مدثر میں کوئی خامی نظر نہی آئی….
اسکی خواہش نہی تھی کہ کوئی حیسن لڑکا اسکی زندگی میں آئے لیکن وہ چاہتی تھی جو بھی اسکی زندگی میں آئے اسے وہ اپنا ماضی ضرور بتائے..
یہی سوچ کر اسنے مدثر کو مسج کر کے کال پر سب بتانے کا فیصلہ کیا ……
حال چال پوچھنے کے بعد اسنے اپنے ماضی کے باری میں بتانے لگی……
مدثر خاموشی سے سنتا رہا اسنے اپنی جنسی زیادتی ک بارے میں بھی بتا دیا….
اسنے کہا اسے اسکے ماضی کے بارے میں کوئی لینا دینا نہیں… غلطی سب سے ہوتی رہتی ہے…
ویسےبھی وہ اب کافیبدل چکی ہے اور اب وہ اسکی عزت بننے جا رہی ہے تو اب اسکا اعتماد نہیں توڑے گی….
ریما کو یہ سن کر بہت خوشی ہوئی…
وہ اب مدثر کو کال پر وقت دینے لگی..
اور ہر کام مدثر سے پوچھ کر کرتی….
اس رشتے کے بعد اسکے ابو اس سےبات کرنے لگے باہر گھومنے لگے….
ڈھائی مہینے بعد ریما کی شادی طے ہو گئ….
ریما نور کے ساتھ کہیں بھی جانے سے انکار کرتی رہی جسکی وجہ سے ریما اسکی ضد بنگئ… وہ اسکی عزت لٹوا کے ہی رہے گی… عمیر نے اسے ریما کے سامنے اچھا بننے کی ایکٹنگ کرنے کا کہا.. ایک دن ریما کی مما کی طبیعت خراب ہوگئی .. اسے مارکٹ سے کچھ سامان لینے جانا تھا.. تو اسنے نور کوہ کال کر کے ساتھ جانے کا کہا نور کو یہ موقع اچھا لگا…
اسنے عمیر کو آنے کا کہا نور اپنی گاڑی لیکر آ گئریما نے مدثر کو بھی بتا دیا شوپنگ کا … مدثر کو یہ تسلی ہوئی کہ ریما اکیلی نہیں ہے… شاپنگ کے بعد اچانک نور نے کہاکچھ سامان لینا ہے ائرپورٹ سے مماکا وہ لیکر بس چلتے ہیں… ریما نے سوچا ابھی دوپہر 12 بجےکا وقت ہے وہ بھی نور جو اپنے ساتھ لائی ہے تو اسکا کام بھی کروا دے تبھی ریما مان گئ .
. نور روڈ پر گاڑی دوڑانے لگی….
تقریباً آدھے گھنٹے بعد گاڑی بنگلور کے باہر تھی…. بنگلور کے باہر دو گارڈز تھے جو نور کو جانتے تھے. ریما نے دیکھا کہ بنگلور میں امپورٹڈ گاڑیاں کھڑی تھیں….
نورنے ریما سے کہا..
” یار میں نے جھوٹ بولا تھا عمیر مجھ سے ناراض تھا میں اسے منانے آئ ہوں”….
ریمانے نور کے آگے ہاتھ جوڑے کی چلو یہاں سے.. نور نے اسے تسلی دیتے کہا کہ تم میری بچپن کی دوست ہو تمہیں کچھ نہیں ہوگا…
یہ کہ کر وہ گاڑی سے اتر گئیں …. ریما نے موبائل نکال کر مدثر کو کال کرنے کی کوشش کی..
مگر سنگل نہ ہونے کی وجہ سے وہ سر پکر کربیٹھ گئی..
اتنے میں عمیر نورآئی ……عمیر کو وہ تصویر سے زیادہ خوبصورت لگی…
اسنے کہا نور کی دوست ہو ؟؟؟
ریما نے سر ہلا دیا… عمیر نے کہا ایسے گاڑی میں بیٹھی اچھی نہیں لگ رہی اندر آ جاؤ
ریما نے کہا نئ میں ٹھیک ہو… تم بات کرو… عمیر نے اک نظر نور کو دیکھا اور کہا بری ضدی ہے اسکی یہ ٹون سن کر ریما کے ہوش اڑ گئے… وہ اسے گھسیٹ کر ہال میں لے گیا جہاں ہلکا ہلکا میوزک چل رہا تھا آٹھ سے دس لڑکے لڑکیاں تھے..
یہ جسم فروشی کا اڈا تھا ریما نے سنبھل کر مدثر کو کال کرنا چاہی پر عمیر نے موبائل چھین لیا… اسنے کہا میں تمہارے ساتھ زبردستی نہی کرنا چاہتا بس تم بیٹھ کر تماشا دیکھو.. کیونکہ وہ جانتا تھا کہ آئس کے دھونویں سے اسے نشا آ جائے گا….
.نور نے اپنی شرٹ کے بٹن کو براہ تک کھول لیا اور وہاں موجودلڑکے لڑکیوں کے ساتھ ڈانس کرنے لگی…
ریما کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا..
وہ بس آنکھوں سے آنسو بہاتے عمیر کو دیکھ رہی تھی…. اور اسکی منت کر رہی تھی…..
جو کہ چرس کے کش لگاتا دھواں اس پر پھینک رہا تھا…
کچھ دیر بعد ریما کو چکر آنے لگے..
عمیر نے نور کو آہستہ سے آواز دی…..
اور ہاتھ سے ڈرنک کا اشارہ کیا… نور نے ریما کو پانی کے بہانے ڈرنک پلا دی…
ریما کو پانی کڑوا لگا….
لیکن نور پلاتی رہی اور اسکا دماغ سن ہو گیا…
شراب پلانے کے بعد وہ ریما کے ساتھ بیٹھ گئ .. اور چرس کے لمبے کش لگاتی دھواں اس پر چھوڑنے لگی…
وہ ریما سے لپٹی اسکے ہونٹوں کو پینے لگی..
کیونکہ وہ اسکے ہونٹ پینے کی حسرت رکھتی تھی ….
وہ ہال میں ہی ریما کے اوپر کے حصے کو ننگا کرنے لگی.. عمیر نے اسےاوپر کے کمرے میں لانے کا اشارہ کیا…
اوپر لاتے ہی نور ریما سے بےلباس ہو کے لپٹ گئی… اور اسکے نرم جسم کے مزےلینے لگی…..
عمیر صرف جینز کی پنٹ پہنے کمرے میں نور کو دیکھنے آیا….
کوئی ریما کے گداز جسم کے مزے لےرہی تھی..
عمیر دیوار سے لگا ریما کے جسم کا ایک ایک حصہ دیکھنے لگا…
آخر کار وہ اپنی جینز کا بٹن کھول کر ریما کے اوپر آگیا..
عمیر نے نور کے ہونٹوں کو چومہ اور پھر ریما کے جسم کو چومنے لگا……
ریما اپنی مما کے سینے سے لگی رونے لگی اپنی بےگناہی
بتانے لگی اسکی مما کو اسپر یقین تھا کہ وہ ایسی گھناؤنی حرکت نہیں کر سکتی…
لیکن انسپکٹر نے انہیں جھوٹی رپورٹیں دکھا دی کہ وہ نشے اور ڈرگز میں ملوث ہے اسکے جسم میں ابھی نشاندہی ہوئی ہے….
ریما کے پاپا نے انسپکٹر کے آگے ہاتھ جوڑے کے وہ اپنی بیٹی کو تھانے میں نہیں دیکھ سکتے…
انسپکٹر ریما کو چھوڑنے پر راضی نہیں تھا.. کیونکہ وہ ریما کو بےلباس دیکھ چکا تھا… اسکی نیت ریما کے لیے خراب ہو گئی تھی…. اسنے ریما کے گھر والوں کو بھاری رقم لانے کو کہا انسپکٹر نے کہا وہ انہیں چار پانچ لاکھ لا دے باقی وہ خود سنبھال لے گا….
اسکے پاپا کو کچھ سمجھ نہیں آیا کہ وہ کہاں سے لائیں… انہوں نے کاشف کو کال کر کے سب بتایا… کاشف نے سب کہانی سنتے ہی اسے کا نیا ڈرامہ سمجھتے ہوئے نفرت کا اظہار کیا…
آخر ریما کے پاپا اسکی مما کے کہنے پر گھر سے ریما کےجہیز کے لیے سونا اور پیسا اکٹھا کیا لانے کو کہا….. .
سب کچھ پولیس کے حوالے کرنے کے بعد وہ گھر لوٹ آئے.. مدثر نے تھانے میں ریما کی رپورٹ پڑھ لی تھی….
ریما کی ماما نے اسے گھر آنے کو کہا لیکن مدثر نے کہا رات ہو گئی ہے ابھی پھر کبھی آئے گا….
ریما کےپاپا نے بھی اسکا چہرہ پڑہتے ہوئے کہا کہ ٹھیک ہے ابھی جاؤ…
وہ گھر آۓ اور ریما کے سر پر ہاتھ رکھ کر بولے بیٹے جانے والے کو روکا نہیں جاسکتا….
وہ سمجھ گئے تھے کہ مدثر ریما کی زندگی سے جا چکا ہے……
وہ بھیگی آنکھوں سے کمرےمیں آئی..
ریما کو اپنی قسمت پر رونا آرہا تھا وہ اپنی ماں سے لپٹی موت کے آرزو کرنے لگی…..
اسے اب سمجھ میں آیا کہ خودکشی حرام کیوں ہے……
دو دن بعد مدثر کی ماں نے کال کر کے رشتہ ختم کر دیا….
ریما مدثر سے بات کرنا چاہتی تھی….
کال اٹینڈ ہونےکے بعد ریما نے کہا شکریہ….
مدثر : شکریہ کس بات کا ؟؟؟؟
ریما :یہ بتانے کے لیے کہ کتنا اعتبار ہے مجھ پر….
اس بار آزمائش میری نہیں تمہاری بھی تھی…..
مدثر : لیکن بات عزت کی تھی.. بعد میں ان بچوں کا کیا ہوتا.. ان سے شادی کون کرتا ؟؟؟
ریما : اگر میں تمہاری بیوی ہوتی اور بعد میں یہ سب ہوتا تو ؟؟؟
مدثر : تو بھی میں الگ ہو جاتا.. اور وہ خاموش ہوگیا… تھوڑی دیر بعد کال کٹ گئی….
ریما گہرائی میں کھو گئی… ابھی وہ بے گناہ ہے اور اسے سمجھنے کا پیمانہ صرف اتنا ہے ؟؟؟؟؟؟
بے گناہ ہوتے وہ مجرم بن گئی تھی….
اس واقعے کے بعد محلے والوں نے انکے گھر آنا چھوڑ دیا….
رشتے کروانے والی بھی نہیں آتی تھی…
ریما کے ابو نے گھر بیچ کر فیکٹری کے قریب ایک چھوٹا سا گھر لے لیا…
گھر کے قریب ایک دینی درس گاہ تھی جہاں قرآن پاک پڑھایا جاتا تھا….
اور بیان کے ساتھ قرآن پاک کا ترجمہ بھی پڑھایا جاتا….
تھا…
ریما نے اپنا معمول بنا لیا تھا بیان سننے کا اور قرآن پاک ترجمے کے ساتھ پرہتی تھی….
وہ لڑکی جس کے کمرےمیں میک اپ کا سامان ہوتا تھا…. ڈائجسٹ ہوتے تھے.. وہاں اب اسلامی کتابوں کا ایک زخیرہ تھا.. وہ لڑکی ساری رات موبائل استعمال کرتی تھی.. اب وہ دن رات تسبیحات کرتی….
روزانہ درس گاہ جاتے ایک فقیرنی اسے راستے میں بیٹھی گھورتی رہتی تھی…
کرن کی شادی کو چار سال گزر گئے تھے …ایک دن اسکی کال مما کے نمبر پر آئی… اسنے کہاکہ وہ بہت بےچین ہے.. اور وہ رونے لگی… مما سے معافی مانگنے لگی.. اور بابا سے بھی معاف کرنے کا کہا…
روتے روتے اسنے ریما سے بات کرنے کا کہا…
ریما نے آواز سے اندازہ لگایا کہ اسکی آواز بہت تھکی ہوئی ہے اور وہ بیمار لگ رہی تھی..
وہ ریما کی آواز سنتے ہی رونے لگی اور معافی مانگنے لگی…
ریما نے کہا کہ اسکے دل میں کوئی خلش نہی ہے…
لیکن وہ اپنے گناہ کا اعتراف کرنے لگی…
کرن نے کہا کہ اسے ریما اور اسد کے درمیان آنے کی سزا مل رہی……
اور یہ بھی کہ اسکا دل اسکے دل جتنا بڑا نہیں ہے….
کہ یہ سب برداشت کر لوں….
میں تو اندر ہی اندر تم سے حسد کرتی رہی..
اور جب خود پر وقت آیا تو پتا چلا..
اب وہ تم دونوں کی زندگیوں سےدور جا رہی ہے…
اسد آج بھی تمہارا ہے وہ تم سےمحبت کرتا ہے مجھ سے نہیں…
ہو سکے تو اسے اپنا لینا….
زندگی رہی تو دوبارا بات ہوگی..
اللہ حافظ……
ریما بت بنے سب سنتی رہی.. کال بند ہو گئی..
اسکے دل میں کرن کے لیے کوئی خلش نہیں تھی…
اور اسد اسکے دل و دماغ میں نہیں تھا…
نہ ہی وہ اسے سوچنا چاہتی تھی۔۔۔۔
یہاں سے جانے کے بعد اسد کو پتا چلا کہ کرن کو گھر داری نہیں آتی تھی…
اسے احساس ہوتا کہ ریما اسے کتنا چاہتی تھی…
وہ بات بات پے کرن کو طعنے دیتا…
اسی ٹینشن کی وجہ سے اسکا پہلا مس کیرج ہوا اور اسکی بچہ دانی کا سائز بھی نارمل نہی تھا….
ڈاکٹر نے اسے دو سال وقفے کا کہا…
دو سال بعد دوبارہ پریگنینسی میں اسے خون کی کمی ہوئی تو دوبارا مس کیرج.. اس بار بچہ ‘ بچہ دانی میں ٹھہر گیا..
ڈاکٹر کو فوری آپریشن کرنا پڑا…
اب اسے احساس ہوا کہ وہ نہیں بچنے والی…
اسنے ایک بار ریما کے گھر والوں سے معافی مانگنے کا سوچا…
اسد سے بھی ریما کو اپنانے کا کہا….
اسد ریما سے کی گئی زیادتی پر شرمندہ تھا…
اور یہ کہ کرن کا خیال نہ رکھ سکا…
کرن کی وفات کے بعد اسکی تدفین وہیں کر دی…………
ریما آج بھی معمول کے مطابق درس جا رہی تھی..
اسنے آج بھی فقیرنی کو اسی طر ح دیکھا تو اسکی طرف چل پڑی..
وہ ایک پرات میں باسی روٹی کے ٹکروں کو سالنوں میں مند رہی تھی..
“تم یہاں ہر وقت بیٹھی رہتی ہو تمہارا کوئی نہیں ہے کیا.؟؟؟؟
ریما نے پوچھا..
فقیرنی نے اسکا ہاتھ پکڑ کر بیٹھا کربنا جواب دیے کہا…
آج بڑی دیر سے آئی.. میں کب سے انتظار کر رہی تھی….
فقیرنی نے ریما کا ہاتھ پکڑ کر نیچے بیٹھا لیا..
اسکا جواب دیے بغیر… اوپردیکھتے ہوئے بولی. ” وہ آزماتا بھی اسے ہی ہے جسے وہ چاہتا ہے”
وہ ابھی اسکی بات سمجھی ہی ہوگی کہ فقیرنی نے اسکا ہاتھ پرات میں رکھ دیا…
کھا لے کھا لے سب تیرا ہی ہے…
ریما اس پرات کے قریب اسے دیکھنے لگی کہ وہ دوبارا بولی ” کھا لے سب تیرا نصیب ہے… “
ریما نے آنکھیں بند کر کے پاگلوں کی طرح کھانا شروع کر دیا…
فقیرنی نے زور سےقہقہ لگایا اور کہا ” یہ کامیاب ہو گئی اب توں جانے اور تیرا فیصلہ “
ریما روتے ہوئے کھا رہی تھی..
جب اسنے آنکھیں کھولیں تو وہاں کوئی نہیں تھا…
اسکے ہاتھوں میں مٹی تھی..
لیکن منہ میں سالن کا ذائقہ ابھی موجود تھا…
وہ حیرت سے اٹھی اور درس گاہ کے طرف چل دی…
کرن کی وفات کو ایک سال ہوگیا تھا..
اسد نے خود کو بدل لیا تھا.. وہ ریما سےشادی کرنا چاہتا تھا.. وہ اب ریما کی پسند کے مطابق بدلنا چاہتا تھا.. وہ پاکستان واپس آتے ہی ریماسے ملنا چاہتا تھا…
اسنے فیصلہ کیا کہ وہ ریما کی تمام غلطیوں کو بھول کر اسے اپنائے گا..
اسنےپاکستان واپس آتے گھر والوں سے ریما کے گھر جانے کا کہا..
اسکے گھر والے اس بات پر راضی نہیں ہوئے..
لیکن اسد کی ضد کیوجہ سےمان گئے.. وہ ریما کے گھر آۓ اور اسکےابو سے اسکا ہاتھ مانگا…
اختر نے بتایا کہ اسدبہت شرمندہ ہے…
ریما کے ابو نے صاف انکار کر دیا کہا اسد کا اب کوئی تعلق نہیں ہے ریما سے..
اگلے دن اسد ریما کے گھر آ گیا… ریما کے ابو گھر نہیں تھے. دروازہ کھلا تھا. اسد کھلا دیکھ کر اندر آ گیا..
سامنے ریما بیٹھی ہوئی تھی..
ریما پہلے سے زیادہ خوبصورت ہو گئ تھی.
وہ فوراً ریما کے پاؤں پر کر رونے لگا اور معافی مانگنے لگا..
ریما نے جلدی سے پردہ کیا اور اپنی مما کو آواز دی. وہ محرم اور نامحرم کا فرق جان چکی تھی..
اور اسد اسکے لیے نا محرم تھا..
کچھ دیر بعد ہی ریما کے ابو آگے. انہوں نے اسد کے اسطرح آنےپر غصہ کیا…
اسد اس بات پر شرمندہ تھا.. اسد نے ریما سے صرف ایک بار ملنےکا کہا اور یہ بھی کہ وہ صرف پردے میں بات سن لے… ریما کی مما نے اس سے اجازت طلب کی جو کہ اس نے دے..
اسد پردے کے پیچھے بیٹھا اپنے گناہوں کا اعتراف کر رہا تھا..
اور کہا کہ اگر وہ اسے ایک موقع دے تو وہ اسکی ساری غلطیوں کو نظر انداز کر کے اس سے شادی کر کے اسے خوش رکھے گا..
وہ ہاتھ جوڑے ریماکے جواب کا منتظر تھا…
ریما اسد کی بات سن کر ہنسنے لگی…
تم ؟؟؟
تم مجھے معاف کرو گے؟؟؟؟
میرے ماضی کو نظرانداز کرو گے…
تم ؟؟؟
واہ کیا بات ہے!…
اسد مجھے تم سے کوئی شکایت نہیں ہے..
اور رہی بات گناہ کی تو وہ میں خود گناہ گار ہوں…
میری نظر میں کوئی برا نہیں یے ہر کسی نے اپنا حساب دینا ہے…
تم آزاد تھے …..
آزاد ہو…
میرے پاس تمہیں دینے کیلئے کچھ نہیں ہے…
اور رہی بات خوشی کی تو وہ اسکے راستے پر منحصر ہے..
اور میں جس راستے پر ہوں خوش ہوں …
اور آخری بات جو حق کے راستے پر چلتے ہوں انہیں حق والےہی سمجھتے ہیں….
اسد گہری سوچ میں ریما کی بات سن کر پچھلا وقت یاد کرنے لگا…
ریما اب بدل گئ تھی.ابو وہ انمول ہیرابن چکی تھی..
اور تراشی جا چکی تھی…
اب اسکا کوئ مول نہیں …
ریما اسد کے جاتے نوافل پڑھنے لگی کہ اسکا ہر راستہ حق کا راستہ ہو…
ریما کی والدہ کو اسکی شادی کی فکر ہونے لگی.
ریما کے والد کہتے نیک بیٹیاں بوجھ نہیں ہوتی…
ادھر عمیر کو عمر قید کی سزا ہو چکی تھی..
نور کی طبیعت بے چین رہتی…
اسے ڈرگز کی عادت ہو گئی تھی…
جسکے نہ ملنے کیوجہ سے وہ جسم فروشی کے اڈے پر جا بیٹھی تھی…
وقت گزرنے کے ساتھ لوگوں نے اسے منہ لگانا چھوڑ دیا..
اب وہ بھیک مانگنے پر آ گئی…
شعبان کا مہینہ چل رہا تھا .
ایک دن ریما کے والد نے ریما مما کو کہا کہ انھوں نے فیکٹری کے موجودہ امام صاحب جو کہ عالم دین ہیں, ابو بکر صاحب کو گھر پر کھانے کی دعوت دی ہے.
اگلے دن ریما نےمشروب کے ساتھ کھانے بھی بناۓ.. ریما کے والد اور امام صاحب
دونوں نے کمرے میں بیٹھ کر کھانا کھایا اور گھریلو امور پر باتیں کیں… اور عشاء کی نماز کے لیے چلے گئے.
اس دوران ریما کی مما اور ریما دونوں اپنے کمرے میں رہی….
اسنےنہ امام مسجد کو دیکھا نہ سنا…
ابو بکر صاحب کچھ دن پہلے ہی فیکٹری میں امام مکرر ہوے تھے.. انکا اخلاق بہت اچھا اور ملنسار تھا. جو لوگوں کو ملنے پر مجبور کر دیتا تھا..انکی عمر 33 سال تھی اور انکی شادی نہیں ہوئی تھی..
ریما کے والد نےریما کی مما سے ابو بکر صاحب کی فیملی کے بارے میں بات کی..
اور بتایا کہ ابو بکر صاحب کے والد انکے رشتے کے سلسلےمیں گھر آنا چاہتے ہیں..
جسکے لئے ریما کی مما نےہامی بھری اور ریما کو اپنے کمرے میں بلایا…
اور کہا بیٹی یہ مت سمجھو کہ تم ہم پے بوجھ ہو..
لیکن اگر تم اجازت دو تو ایک رشتے کی بات کروں ؟؟؟؟
ریما نے کہا بابا کیسی باتیں کر ہیں.؟؟؟
آپ میرے بڑے ہیں.. آپ کہیے جو کہنا چاہتے ہیں..
ریما کے والد کچھ سوچ میں کے بولے
“بیٹی جو امام صاحب اس دن گھر آئے تھے وہ تم سے شادی کرنا چاہتے ہیں..
تم پر کوئی زبردستی نہیں لیکن میں تمہارا فرض ادا کرنا چاہتا ہوں..
اور یہ رشتہ تمہارے لیے مجھے معقول لگا ہے..
لوگ انکی بہت عزت کرتے ہیں مجھے امید ہے کہ وہ تمہیں خوش رکھیں گے..
ریما نے سر جھکاۓ کہا آپ میرے بابا ہیں آپ میرے لیے غلط سوچ سکتے..
اپکا فیصلہ مجھے منظور یے..
کہ کر وہ اپنےکمرے میں چلی گئی..
اسکا جواب سن کر انہیں اطمینان ہوا…
شادی کی بات سن کر ریما گھبرانے لگی وہ نا محرم لوگوں کے سامنے آ آ کےتھک چکی تھی..
اسے لگا کہ پھر سے کوئی آزمائش ہے , وہ ہاتھ جوڑے دعا کرنے لگی..
اس رات اسنے خواب میں دیکھا کہ وہ ایک منڈی میں ہے جہاں بہت سے لوگ اسے نوچ رہے ہیں…
اور اسے بے لباس کر رہے ہیں..
اچانک سے دانیال اسے سب سے بچا لے جاتا ہے…
ریما کی اچانک سے آنکھ کھل گئی اور وہ پسینے سے شرابور تھی.
اسکا جسم کانپ رہا تھا..
اسنے ٹائم دیکھا تو تہجد کا تھا..
اور وہ معمول کی مطابق تہجد پڑھنے لگی…
تہجدکے بعد اسکے ہاتھ دعا کے لیے اٹھے خواب یاد آتے ہی اسکو دانیال کی یاد آنے لگی…
اسکی آنکھیں اشک بار تھیں…”اے میرے رب میں تیری رضا میں راضی ہوں مجھے ویسا بنا دے جیسے تجھے پسند ہوں, میرے دل سے دانیال اور اس دنیا کی محبت نکال دے , بس ویسا بنا دے جیسے تجھے پسند ہوں”
اچانک سے دانیال کے بار بار خیال آنے پر اسنے سوچا کہ وہ ابو بکر صاحب کو اپنے ماضی کے بارے میں ضرور بتائے گی…
اگلے دن ریما نے اپنے ابو کو ایک خط ابو بکر صاحب کو دینے کا کہا جس میں اسکے ماضی کے بارے میں سب لکھا تھا..
اور کہا کہ جو انکا جواب ہو وہ آخری سمجھ لیجیے گا.
ریما نے وہ خط ایک اور لفافے میں ڈال کر اسے گوند سے چپکا دیا تاکہ اسکے بابا نہ پڑھ سکیں..
ظہر کی نماز کے بعد ریما کے والد نے وہ خط ابو بکر صاحب کو دیتے ہوئے کہا کہ یہ میری بیٹی کا خط ہے وہ آپ کو اپنے ماضی کے بارے میں بتانا چاہتی ہے.
ابو بکر نے وہ خط مٹھی میں لے کر آسمان کی طرف دیکھا اور کھول کر پڑھنے لگا..
رات کو عشاء کی نماز کے بعد ابو بکر نے ریما کے والد کو چند باتیں کی اور جواب لکھ کر دے دیا..
” آپ نے تو اتنی آسانی سے سب لکھ کے دے دیا. میں خود ایک گناہ گار انسان ہوں..
ناہی خوب صورت اور سلیقہ مند ہوں, بس کوشش کروں گا کہ آپ کو خوش رکھ سکوں.
بس میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے شادی کے بعد دیکھیں, کہیں مجھے دیکھ کر انکار نا کر دیں.
اسلیے اسے میری التجا سمجھیں…
ابو بکر نے ریما کے والد کو کہا کہ دو دن بعد میرے گھر والے نکاح تاریخ کے سلسلےمیں آئیں گے, انکا ارادہ ہو تو ہاں کر دیجیے گا…
ریما کا جواب پڑھ تھوڑا عجیب لگا , لیکن وہ اس التجا پر راضی تھی وہ خود بھی نہیں چاہتی تھی کہ نکاح سے پہلے اسے کوئی نا محرم دیکھے…
ریما کی فیملی دیکھنے میں ڈیسنٹ تھی..
ابوبکر کی والدہ نے اسے ابو بکر کے بارے میں بتانا شروع کیا..
“میرا بیٹا عالم یے وہ چاہتا ہے کہ نکاح کے بعد ہی تم دونوں ایک دوسرے کو دیکھو۔۔۔۔۔۔۔
وہ تھوڑی دیر رکیں اور پھر بولیں ” میرا بیٹا جیسا بھی ہے لیکن تمہیں خوش رکھے گا “
پھر انہوں نے ریما کی مرضی جانی…
ریما خود ہی چاہتی تھی کہ نکاح پردے میں ہو..
اسنے اللہ کا نام لے کر حامی بھر لی…
اور 18رمضان کو نکاح کی تاریخ مقرر ہوئی کیونکہ اس کے بعد ریما نے اعتکاف میں بیٹھنا تھا…
ابو بکر کی والدہ نے اسکا منہ میٹھا کروایا اور کہا رخصتی بھی جلد ہوگی بغیر کسی رسم کے. جیسے ابو بکر کو بہتر لگے گا..
اگلے دن فوزیہ نے ریما کو کال کر کے اسد کے بارے میں سوچنے کا کہا اور احساس دلانا چاہتی تھی ک وہ اب بدل گیا ہے…
اور مزید کہا کہ وہ تمہیں تمہارا ماضی بھلا کر قبول کرنا چاہتا ہے جو کہ کوئی اور مرد نہیں کر سکتا… تمہاری زندگی کا فیصلہ ہے. سوچ کر تو دیکھو.
لیکن ریما کے لیےاسد کی کوئی اہمیت نہ تھی… اسنے صاف انکار کردیا…
اور کہا کہ آئندہ اس موضوع پر بات نہ کرے…
ریما کے دل و دماغ میں یہ بات بیٹھ گئی تھی کہ کوئی بھی اسکے ماضی کو بھلا نہیں سکتا…
عشاء کی نماز کے بعد ریما سوچنے لگی کہ فل وقت تو ابو بکر نے خط پڑھ کر کچھ نہیں کہا لیکن کیا وہ شادی کے بعد اسکے جسم کی خیانت قبول کرے گا ؟؟؟؟
اگلے دن ریما کے والد نے خوش خبری سنائی کہ وہ ریما کی والدہ اور اسکے ساتھ عمرہ کے لیے جارہے ہیں عید کے بعد…
ریما کی مما نے جب پیسوں کا پوچھا تو انہوں نے ریٹائرمنٹ سے ملنے والے پیسوں کا بتایا…
ریما یہ بات سن کر بہت خوش ہوئی…
لیکن اسنے بابا سے کہا کہ وہ ابو بکر سے اسکے جانے کی اجازت لیں…
اور خود بھی ارادہ کیا کہ وہ نکاح کے بعد ابو بکر سے اجازت ضرور لے گی..
آخر رمضان کی 18 تاریخ آ گئی..
ابو بکر اپنے ایک انکل اور والدین کے ساتھ آ یا.
ریما اپنے کمرے میں سادہ سے لباس میں اپنی والدہ اور اپنی ایک باجی عالمہ کے ساتھ موجود تھی..
نکاح خواں نے پردے میں اسکا نکاح پڑھانے کی اجازت مانگی…
ریما نے اجازت دی..
ریما نے حق مہر کے علاوہ باقی شرائط سے منع کر دیا…
نکاح خواں نے ریما کو ابو بکر سے بطور نکاح تین بار قبول کرایا…
ریما کے دستخط کے بعد گواہان کے دستخط کئے گئے..
پھر خطبہ دیا.. ابو بکر کے مطابق نکاح پردے میں ہوا…
ابو بکر ریما کے والد سے ملکر مسجد کی طرف چل دیے…
کچھ دیر بعد ریما کی فیملی نے بھی اجازت چاہی…
اور ریما سے ملنے اسکے کمرے میں آ گئی اور ملنے کے بعد کہا کہ ابو بکر جلد لینے آ ۓ گا..
ریما کو لگا کہ نکاح سے بعد ابو بکر اسے ملنے کمرے میں آ ئے گا لیکن اسکے جانے کا سن کے اسے حیرت ہوئی..
ریما نے اعتکاف میں بیٹھنے سے پہلے ابو بکر سے بات کرنے کا سوچا اور عمرے کی بات کرنے کے لیے اسے میسج کیا ابو بکر نے کوئی جواب نہ دیا
ریما کو لگا ک اسکے دل میں کوئی بات ہے….
اسنے کہا اگر اپکے دل میں کوئی بات ہے تو بیشک نکاح ختم کر دیں.. میں نے اپکو عمرے کا بتانے کے لیے مسیج کیا اور میں اعتکاف بیٹھنے کا بتا رہی تھی…
ابو بکر کا رپلائی آیا..
نہیں میں موبائل کم استعمال کرتا ہوں.. اور میں منزل پڑھ رہا تھا..
مسج نہیں دیکھا..۔۔۔۔۔۔
ریما نے عمرے کے لیے اجازت لی..
اور اسکا ہاں میں جواب پا ک خوش ہوئی..
لیکن اس نے کہا کہ آ پ بھی ساتھ چلیں..
ابو بکر نے کہا آپ مجھے ساتھ محسوس کر لیجے گا…
ریما نے فون رکھا اور اعتکاف کی تیاری کرنے لگی…
عید کی نماز کے بعد ابو بکر ریما کے ک ساتھ کافی دیر مسجد میں موجود رہے…
پھر ریما کی والدہ کو کال کی لیکن ریما سے بات کیے بغیر کال بند کر دی اور کہا کہ اسے مبارک باد دے دیں..
ریما کو بہت زیادہ برا لگا کہ وہ اب نکاح میں ہے لیکن پھر بھی مبارکباد نئ دی..
ریما نے مسج کیا کہ اگر مصروف نئ تو کال پر بات ہو سکتی ؟؟؟
کوئ جواب نہ دینے پر ریما نے کال کی تو نمبر مصروف کر دیا اور دوبارا کال کرنے پر ابو بکر نےاٹینڈ کی اور آہستہ آواز میں سلام کیا
ریما!! اسلام و علیکم!!
کیسے ہیں ؟؟؟
ابو بکر!! وعلیکم اسلام
ریما!! عید مبارک..
ابو بکر! خیر مبارک… جی ؟؟
ریما! اگر تھوڑی دیر بات ہو سکتی ہو تو…..
ابو بکر! نہی… ابو بکر ٹوٹی ہوئی آ واز میں بولا…
ریما نے گھبراتے ہوئے کہا وہ عمرے کی اجازت چاہیے تھی..
بلکہ میں چاہتی ہوں ساتھ چلیں آ پ….
ریما ایک سانس میں بول رہی تھی کی کہیں کال نہ بند ہو جائے اور وہ ہو بھی گئی..
اور مسج آ یا…. کیا آ پ دانیال سےمحبت کرتی ہیں ؟؟
ریما!! میرا دل صرف اللہ کی ذات کے لئے ہے
کیا آپ نے اسے معاف کر دیا ؟؟
ریما… میرے دل میں کوئی خلش نہیں, معاف کیا میں نے… ابو بکر نے کہا خیر میں اجازت دے دی آپ جاسکتی ہیں میں عمرے کے بعد لے جاؤں گا آ پکو..
مسج دیکھ کر آ ہ بھری اور موبائل مما کو دے دیا… دو دن بعد فلائٹ تھی…
جو کہ ڈائریکٹ لاہور سے جدے کی تھی پھر آ گے مکہ جانا تھا.. اس سب وقت میں ابو بکر نے کوئی رابطہ نہ کیا..
شام کو چچا چچی ملنے آئے…
جانے سے پہلے اسنے ابو بکر کو کال کی اور نمبر بند ملا…
اسے بہت برا لگا… خیر اللہ کا نام لیکر چل پری .. ائیر پورٹ پر چیکنگ کے بعد اعلان کیا گیا تو احرام باندھنے لگے…
آ خر جہاز نے اران بھری…
ریما ونڈو سے باہر کا منظر دیکھ رہی تھی.. ہاتھ میں تسبیح لیے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی.. جدے پہنچ کر چیکنگ, فنگر پرنٹس اور پھر تصدیق کے بعد گاڑی میں مکہ مکرمہ روانہ ہوگئے.. گاڑی نے ہوٹل پر انکو روکا.. سامان ہوٹل کے کمرے میں رکھا..
اور عمرہ کی ادائیگی کے لیے روانہ ہوگئے.. جیسے جیسے ریما کے قدم اٹھ رہے تھے ریما نے آ نکھیں بند کیے بغیر دعا کے لیے ہاتھ اٹھا لیے…
اپنے گناہوں کی معافی مانگنے لگی…
“میرے مالک !!!
آج تیرے گھر تیری رضا سے ٹھہری ہوں. میں اس قابل تو نہیں لیکن اپنے گناہوں کی معافی مانگتی ہوں.. اور اپنے والدین اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی معافی مانگتی ہوں.. وہ گڑگڑاتے ہوے دعا مانگتی رہی.. ریما طواف کرتے جا رہی تھی اور سوچ رہی تھی کہ سات سال اسے کہاں لے گئے ہیں..
جسنے پیار کہا اسنے برباد کیا..
اپنی بہن کو کھویا..
دوست نے دوستی کے مطلب کا مذاق بنایا. اسکے آ نسوں تکبیرات کے ساتھ گرنے لگے.. طواف کے بعد صفہ و مروع کا چکر لگا کے نوافل پڑھنے کے بعد ریما کے والد نے ریما اور اسکی والدہ بال ایک پور تک کاٹے…واپس ہوٹل آ نے کے بعد فرش ہو کر دوبارو فجر کی نماز کے لیے حرم روانہ ہوگئے.. یہ حرم شریف میں انکی پہلی فرض نماز تھی…ریما ایک طرف جائے نماز بچھا کر سامنے کا مناظر دیکھنے لگی.. صبح کی کرنیں پھوٹنے لگی…
ہر طرف ہوائیں بکھرنے لگیں..
ایسا لگا رہا تھا جیسے پرندے بھی اللہ کے گھر کا طواف کر رہے ہوں.. جب وہ سامنے دیکھ رہی تھی تو اسے ایسے لگا کہ کوئی اسکے بائیں جانب جائے نماز بچھا کر بیٹھا ہوا ہو… اسکی جائے نماز اسکے پچھلے حصے سے ٹچ ہو رہی تھی
ریما اس بات کو اگنور کیے سامنے دیکھ رہی تھی.. کچھ لمحے بعد ریما نے آ نکھیں بند کیں اور دعا کرنے لگی…
اچانک اک آ واز نے خلل پیدا کیا….
اللہ کے گھر میں معافی ملے گی؟؟؟ریما اس آواز کو پہلے سن چکی تھی…
اسنے جب آ نکھیں کھولیں تو اسکی آ نکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں.۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ریما حیرت ذادہ آنکھوں سے دیکھنے لگی۔۔دانیال کی ایک مٹھ کے برابر داڑھی بڑھی ہوئی تھی اس کے چہرے میں اٹریکشن تو ویسے ہی تھی پر اس داڈھی نے اس کے چہرے کو اور حسین کر دیا تھا ۔۔۔۔۔۔
سر پر رومال باندھا ہوا تھا اور عربی کی طرح ایک سفید جبہ پہنا ہوا تھا۔ ۔
ریما اب تک پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی اس کے مائینڈ میں ہزاروں سوال شکوے آنے لگے کہ وہ اچانک یہاں کیسے؟ ؟؟ وہ بھی اتنے سالوں بعد۔۔۔ ۔۔ لیکن پھر اک خیال آیا وہ سب ختم کر چکی تھی۔۔۔۔
وہ بن سوال کیے گرتے آنسوں کے ساتھ فورا اٹھی اور جانے لگی اسکا دل چاہ رہا تھا کہ دانیال سے سوال کرے گلہ کرے شکوا کرے لیکن وہ اب کسی کی امانت تھی اور اس میں وہ خیانت نہیں چاہتی تھی۔۔۔۔
ریما جانے لگی اور اتنا بولی ” میرے دل میں کوئی خلش نہیں خدارہ دوبارہ سامنے مت آنا میں کسی کے نکاح میں ہوں”۔۔۔
وہ یہ کہہ کر چلنے لگی۔۔۔
“جانتا ہوں” اک آواز نے پھر ریما کے بڑھتے قدموں کو رکنے پر مجبور کردیا
وہ بن مڑے ٹھہر گئی ۔۔۔۔۔
دانیال نے اک پل خاموشی اختیار کی اور پھر بولا ” میں ہی ابوبکر ہوں”
ریما اک دم حیرت سے مڑی اور دانیال کا منہ دیکھنے لگی جو اس وقت خانہ کعبہ کی طرف نظر جمائے ٹہرا تھا۔۔ ابوبکر؟؟؟؟ریما نے آہستہ آواز میں کہا ۔۔۔ابوبکر نے ریما کے نورانی چہرے کی طرف دیکھا اور اپنی بچھی جائے نماز پر بیٹھ گیا پھر ریما کو بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خانہ کعبہ کو اک نظر دیکھا اور اک آہ بھری پھر ریما کے حیرت زادہ چہرے کو دیکھ کر کہنے لگا۔۔۔۔ ۔ ۔۔
“تم جانتی ہو اس دن تمہاری زندگی برباد کرنے کے بعد میرے ساتھ کیا ہوا تھا؟ ؟؟؟ ؟
پھر اپنی زندگی سنانے لگا۔۔۔۔
ابوبکر سوشل میڈیا پر یا انجان لڑکیوں کے لیے فیک نام دانیال استعمال کرتا تھا ۔ہسپتال سے گھر آنے کے بعد اسے انداز ہو گیا کہ اب اس کے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔۔
جس عضو خاص پر اُسے غرور تھا وہ پاس تو تھا ۔۔لیکن اس کے نفس میں کوئی طاقت نہ تھی۔ اس کے جسم میں اتنی بھی طاقت نہ تھی کہ وہ اپنے پیشاب کو بھی کچھ پل روک سکے۔
اسے بس اک احساس ہوتا کہ کچھ آرہا ہے اور وہ واش روم چلا جاتا ورنہ کپڑوں میں ہی نکل جاتا۔ ۔ وہ جانتا تھا ناجانے کتنی لڑکیوں کی زندگی خراب کر چکا ہے خاص کر ریما کی۔۔ اُسے رہ رہ کر ریما کی بد دعا یاد آتی تھی کہ تم سے اب اللہ حساب لے گا۔۔۔
اس واقعہ کے بعد ابوبکر نے اپنے سارے سوشل اکاؤنٹس ختم کردے۔۔
آہستہ آہستہ دوستوں سے بھی دور ہوتا گیا۔ ۔
ایکسیڈینٹ میں ویسے ہی اسکے دونوں موبائل جل گئے تھے ۔۔۔
اسکے بعد اس نے دوبارہ موبائل نہ لیا۔
بس گھر میں الگ رہنے لگا۔دوست لڑکیاں سب ختم کردیے اسے خود نفرت سی ہونے لگی اور نفرت اور شرمندگی بھی اتنا کہ وہ خود کو آئنے میں نہ دیکھتا، اگر دیکھتا تو رونے لگ جاتا۔
ابوبکر کے ابو نے ابوبکر کے علاج کے لیے پاک کے ساتھ ساتھ باہر ہر جگہ اس کے ٹیسٹ روپورٹس بھیجوائے، جس نے جو علاج کہا کروایا۔کسی نے دعاؤں کا کہا سب کچھ کروایا لاکھوں پیسہ پانی کی طرح بہہ دیا اور کیسے نہ بہاتے وہ ان کا اکلوتا بیٹا تھا لیکن علاج لاعلاج تھا۔۔۔
وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ محلے والے اور رشتہ دار بھی اسے کھسرا تک کہنے لگے اور مزاق اڑانے لگے اک دن تو حد ہوگئی۔کچھ ٹرانس جینڈر اس کے گھر آگئے اور ابوبکر کے والدین سے مطالبہ کرنے لگے کہ اس کو اس کے ساتھ بھیج دیں لیکن اس کے ابو نے غصہ کے ساتھ سب کو نکال دیا۔۔۔۔۔
ابوبکر اس بات کو برداشت نہ کر سکا وہ اندر گیا اور فرنیل کی گولیں کھا لیں۔۔۔ کچھ دیر بعد جب ابوبکر کی امی اندر گئی تو ابوبکر کے منہ سے جھاگ نکلتی دیکھی اور اس کی تڑپ حالت دیکھی تو چلا اٹھی
ابوبکر کے ابو نے گاڑی نکالی اور فورا ہسپتال لے گئے۔۔۔۔۔
وقت پر ہسپتال پہنچنے کی وجہ سے ابوبکر کی جان بچ گئی۔ ۔۔
جیسے ابوبکر کو ہوش آیا ابوبکر کی مما نے ابوبکر کے پاوں پر ہاتھ رکھ دیئے اور اسے چومنے لگی۔۔۔۔ اور روتے ہوئے بولی کہ “بیٹا ہم سے کوئی غلطی ہوئی جو تو ایسا کر کے ہمیں سزا دے رہا ہے؟ ؟ اگر تجھے کچھ ہوجاتا تو ہم زندہ رہتے؟ “
۔۔۔ابوبکر کے والد نے ابوبکر کو پیار کیا اور بولے ” غلطیں انسان سے ہوتی ہیں تکلیفیں انسان کا مقدر ہیں ان سے مقابلہ کیا جاتا ہے ایسے بذدل نہیں بنتے دنیا والے کچھ بھی کہیں تو آج بھی ہمارا سہارا ہے”۔۔۔
ابوبکر کو احساس ہوا کہ اس نے یہ غلط کیا۔۔
وہ صرف اپنے لیے ہی کیوں سوچتا ہے؟ ؟؟
پھر اس نے ارادہ کیا کہ آئندہ ایسا کوئی قدم نہیں اٹھائے گا۔ ۔ بلکہ اب وہ اپنی زندگی کو اللہ کے راستے پر ڈھال دے گا ۔۔۔
وقت کے ساتھ ساتھ اب اس نے پنجگانہ نماز پڑھنا شروع کردی اور خود کو مصروف رکھنے کے لیے حفظ کرنا شروع کردیا ۔۔۔ ابوبکر سارہ دن مسجد میں وقت گزارتا ۔۔۔ نا کسی سے ملتا نہ بات کرتا اب اس کا ایک ٹارگٹ تھا حافظ قرآن بننا۔ ۔۔ابوبکر کی آواز ویسے ہی ماشاءاللہ پیاری تھی تو اس کے استاد اسے قرآت کے ساتھ قرآن پڑھواتے۔۔۔ جیسے جیسے وہ قرآن کو حفظ کرنے لگا اس کا شوق اور بڑھنے لگا اور دو سال میں اس نے قرآن کو حفظ کر لیا۔۔۔
حافظ قرآن بننے کے بعد ابوبکر کے استاد نے اسے عالم بننے کا مشورا دیا. کیونکہ اس عمر میں بہت کم لوگ اتنا جلدی حفظ کرتے ہیں اورخود اب ابوبکر کا مقصد سیدھے راہ پر چلنا تھا اور اس کے لیے علم کا اور ہونا ضروری تھا۔۔ اور ویسے بھی اس کے پاس کرنے کو کچھ نہ تھا تو وہ جلد ہی عالم بننے کی کلاس لینے لگا اور خود بھی فارغ ٹائم قرآن پاک کے ترجمے کا مطالعہ کرنے لگا۔ ۔۔۔
وہ ان دو سے تین سالوں میں ریما کو نہ بھول سکا اکثر خواب میں اور خیال میں ریما کی بات یاد آتی اس نے ایک بار ریما کو کال کر کے معافی مانگنا چاہی ۔۔
لیکن اس کے پاس ریما کا نمبر نہ تھا وہ صرف اللہ سے دعا کرتا کہ ایک دوپہر بار اسے اس قابل بنا دے کہ وہ ریما سے معافی مانگ سکے ۔۔۔۔
وقت گزرتا گیا اور وہ عالم بنتا گیا اس کی زندگی کے چار سال اور بیت گئے اس کی عمر 33 سال ہو گئی تھی اور اب وہ عالم بننے کے آخری مراحل میں تھا ساتھ ساتھ وہ مسجدوں میں بیان اور خطبہ بھی دینے لگا۔ ۔۔
اس کے علاوہ وہ اپنے ابو کے بزنس کو بھی وقت دینے لگا۔۔۔ یہ مکمل طور پر بدل گیا تھا اس کا اندازه گفتگو بالکل نرم اور بااخلاق سا تھا۔ ۔ ابوبکر ہر کسی کی مدد کرنے میں پہل کرتا۔۔۔ اسے اب اس دنیا سے کوئی غرض نہ تھی کا وقت تھا وہ معمول کی طرح پیدل مسجد سے بیان کرکے واپس آ رہا تھا اس کا گلا اچانک خشک ہونے لگا اور شدید پیاس لگنے لگی۔۔۔ اسے پتہ تھا کہ اگلے موڑ میں کچھ فاصلے پر اک دکان ہے۔ ۔ وہ آگے بڑھنے لگا کہ اچانک اسے پیچھے سے کسی نے صدا دی اس نے مڑ کر دیکھا تو ایک فقیر تھا۔ ۔ کالا لباس سبز آنکھیں سفید چھوٹی سی سی داڑھی تھی۔ ۔
لباس کافی گندا تھا ہاتھ میں اک پیالہ تھا جس میں صاف شفاف پانی تھا۔ ۔۔ ابوبکر فقیر کی صدا سن کر مڑا اور اس کے قریب گیا اور جیب میں ہاتھ ڈال کر کچھ نکالنے لگا۔ ۔ فقیر نے دیکھا اور بنسا اور بولا “نا پتر نا ۔۔۔۔۔
میں لینے نہیں آیا تجھے دینے آیا ہوں۔۔۔۔۔۔ لے گا؟ ؟؟؟ ” یہ کہہ کر اس نے پیالے کی طرف آنکھوں کا اشارہ کیا اور پھر ہنستے ہوئے بولا ۔۔ “
بہت پیاس لگی ہے نہ تجھے ؟؟؟ لے یہ پی ۔۔۔۔
یہ کہہ کر اس نے پیالہ بڑھا دیا ۔۔
ابوبکر نے جیسے پیالہ پکڑا اور پانی پینے کا ارادہ کرنے لگا ہی تھا کہ فقیر نے منہ بھر کر اند تھوک دیا۔ ۔۔۔۔۔
اور ابوبکر کی طرف دیکھا اور سنجیدہ ہو کر بولا اب پی اپنے گناہوں کو۔۔۔۔۔
ابوبکر اسکی گول آنکھوں میں دیکھ رہا تھا فقیر کی بات سن کر اس کا جسم ٹھنڈا سا پڑنے لگا ابوبکر نے پیالہ تو تھام لیا تھا لیکن اسے اب بلکل پیاس نہ تھی اس کی زندگی میں ہزاروں فقراء آئے لیکن سب نے کچھ مانگا تھا کوئی دینے نہ آیا تھا۔
ابوبکر کی آنکھیں نم ہونے لگی وہ سمجھ گیا کہ وہ اس تھوک کو دیکھ کر اپنے غلیظ کاموں اور پیاس کو یاد کرنے لگا اور آسمان کی طرف دیکھنے لگا اور گرتے آنسو کے ساتھ دل میں کہنے لگا “اے اللہ بس تو مجھ سے راضی ہوجا”
اور بیٹھ کر پانی کا پیالہ پینے لگا۔۔۔۔
ابوبکر نے پیالہ خالی کر دیا وہ زاروقطار رونے لگا اسے ایسے لگا جیسے آج اس نے اپنے گند کو چاٹا ہو اور اب اس کا من صاف ہوا ہو۔ فقیر نے اک نظر آسمان کی طرف دیکھا اور قہقہ لگاتے ہوئے بولا “واہ رے مالک اُدھر وہ کامیاب ادھر یہ کامیاب۔۔۔ “
پھر ابوبکر کے پاس بیٹھا اور اس کے سر پر ہاتھ پھرا اور بولا “پتر “میں” کو مارنا بڑا|||||||| اوکھا ہے۔۔۔۔۔۔ تو اس امتحان میں پاس ہے”
ابوبکر روتے ہوئے فقیر کے گلے لگ گیا اور بولا بابا میں بہت برا ہوں میری میل ختم ہی نہیں ہوتی۔۔۔ فقیر نے اک آہ بھری اور بولا “پتر۔۔۔۔ امتحان تے ابھی اور بھی باقی ھے۔”
وہ اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے پھر بولا اچھا کیا چاہتا ہے تو؟؟؟ ؟؟؟
ابوبکر نے چہرے کو صاف کیا اور اک لمبا سانس لیا۔۔۔ پھر اک مسکرا کر بولا ” بابا۔۔۔۔ رب کو منانا ہے؟ ؟؟۔۔۔۔۔
فقیر نے فوراً جواب دیا “تو اس کے بندے کو منا ۔۔۔۔۔ پھر کہا “راستہ تیرے پاس ہے۔۔۔بسسسس پہچاننا تجھے باقی ہے”
یہ کہہ کر فقیر اٹھا اور ساتھ ابوبکر کا بھی اٹھایا اور اس کا ہاتھ پکڑے اس کے چہرے پر پھونک ماری اور بولا جا تیرا روگ دور کردیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جا۔۔۔۔۔ جا اب۔۔۔۔۔۔چلا جا۔۔۔۔بابا دوسری طرف چل دیا اور ابوبکر دوسری طرف۔۔۔
کچھ قدم آگے جا کر ابوبکر نے پیچھے دیکھا وہاں کوئی نہ تھا۔ ۔
وہ حیران ہوا، پیچھے کی طرف آیا۔۔۔
بھاگا ادھر اُدھر دیکھا لیکن دور دور تک وہاں کوئی نہ تھا۔۔۔۔۔
گھر پہنچتے ہی ابوبکر کو تیز بخار کے ساتھ ناف والی جگہ پر تیز شدید درد ہونے لگا اتنا شدید کے وہ بے ہوش ہونے لگا ۔ ابوبکر کے ابو اسے فورا ڈاکٹر کے پاس لے گئے ڈاکٹر نے ٹیسٹ کر کے یورولوجسٹ سے کنسرن کیا ڈاکٹر نے آرجینٹ اپریٹ کی پرمیشن مانگی جس کی اجازت اس کے ابو نے دے دی۔۔۔۔۔
جب آپریٹ ہوگیا تو ڈاکٹر سب حیران تھے کہ جو پہلے ایکسڈینٹ میں وینز ختم ہو چکی تھیں ان میں دوبارہ سرکولیشن سٹارٹ ہو چکی تھی ۔۔ یہ اک کرشمہ تھا۔۔۔۔۔۔۔
اُنہوں نے ابوبکر اور اس کے والدین کو مبارک باد دی۔ ۔۔
ابوبکر جانتا تھا کہ یہ سب اللہ کی طرف سے ہے اس نے مجھے اک اور موقع دیا۔۔۔ وہ بستر پر لیٹے ہوئے آنکھیں بند کیے اللہ کے سامنے سربہ سجود ہوگیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپکنے لگے۔ ۔
وہ جانتا تھا کہ وہ اس قابل اب بھی نہ تھا
ٹھیک ہونے کے بعد اس نے ریما کو تلاش کرنے کا ارادہ کرلیا اس نے سوچ لیا کہ وہ ریما سے معافی مانگے گا اور بتائے گا کہ وہ اب بدل گیا ہے اور یہ سب صرف اس کی وجہ سے اپنا عالم کا کورس دو ماہ میں مکمل کیا اور لاہور کی طرف چل دیا۔۔۔
آج پھر وہ اپنی گاڑی پر تھا لیکن اب ارادہ خود کی غلطی کو سدھارنا تھا۔ ۔۔
وہاں پہنچ کر وہ اس جگہ پہنچا جہاں اس نے آخری بار ریما کو اک گھر میں جاتے دیکھا تھا۔ ۔۔
اتنے سالوں کے بعد یہ جگہ کافی بدل گئی تھی۔ ۔ اسے اب کنفرم یاد نہ تھا۔ ابوبکر نے اک دو دکانوں سے اس کے ابو کا پوچھا تو پتہ چلا وہ لوگ یہاں سے چلے گئے ہیں ۔۔۔
اور کہاں گئے یہ نہیں پتہ۔ ۔
ابوبکر نے اک مسجد میں نماز ادا کی اور دعا کے بعد سوچنے لگا کہ اچانک اسے فیکٹری کا نام یاد آیا جس میں اس کے ابو جاب کرتے تھے۔ ۔
لیکن وہ جانتا تھا کہ فیکٹری میں ایسے داخل نہیں ہو سکتا نہ ہی وہ ایسے ریما کے ابو کو بولا سکتاہے۔۔۔۔
پھر کچھ دیر سوچتا رہا پھر گاڑی فیکٹری کی طرف دوڑا دی۔۔۔
وہاں باہر ٹھہرے گارڑ سے کسی جاب کا پوچھا۔۔
اور ایک کاغذ پر امام مسجد یا خدمت کی درخواست لکھ کر اندد بیٹھے سپروائز کو دے دی ۔۔ اور واپس گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔۔
کچھ دن بعد سپر وائزر نے کال کہ اور پیش امام اور مسجد کی دیکھ بال کی جاب ہوجانے کی مبارک باد دی ۔۔۔
تنخواہ کا ابوبکر نے نہ پوچھا نہ اسے ضرورت تھی لیکن اسے خوشی فیکٹری میں جانے کی تھی۔۔۔
بس اس کے دل میں اتنا دعا تھی کہ ریما کے ابو مل سکیں۔۔
وہ اگلے ہی دن فیکٹری کی مسجد پہنچ گیا۔ ۔۔ پچھلے امام کے جانے کے بعد تقریباً ایک ماہ سے صفائی نہ کی گئی تھی جماعتی بس آتے ان میں کوئی بھی جماعت کرادیتا تھا۔۔۔۔
ابوبکر نے آ کر مسجد میں اک رونق لگا دی وہ عشاء کے بعد مختصرا بیان کرنے لگا۔۔ وہ فارغ وقت میں فیکٹری کے ملازمین سے ملتا ان کو نماز کی تلقین کرتا۔۔۔۔ جہاں مسجد میں دہ چار لوگ آتے وہاں اب تعداد بڑھتی گئی۔۔۔
ریما کے ابو ویسے تو اکثر مسجد کے قریب رہتے ہر روز نماز پڑھتے تھے اور ابوبکر سے مصافحہ بھی کرتے لیکن کبھی گفتگو نہ ہوئی۔ اک بار ابوبکر مسجد میں بیٹھا قرات کے ساتھ تلاوت کر رہا تھا ریما کے ابو کا گزر ہوا ابوبکر کی قرات نے اُنہیں مسجد کی طرف رجو کر دیا۔ ۔۔ وہ وہاں جا کر بیٹھ گئے۔۔۔
رکوع کے بعد ابوبکر نے اک مسکراہٹ سے سلام کیا اور گفتگو شروع کی۔۔۔
ریما کے ابو کو ابوبکر سے بات کرتے اچھا لگا اور باتوں ہی باتوں میں دل کا حال دینے لگے ۔۔ لیکن باتیں سننے بعد ابوبکر کو اندازہ ہونے لگا کہ یہ ریما کے ابو ہیں اور ریما کی بات کر رہے ہیں۔۔۔۔
لیکن ابوبکر نے ریما کی شادی کا نہ پوچھا اس کی آنکھوں آنسو بہنے لگے۔۔۔۔
اور وہ دونوں ہاتھوں سے ریما کے ابو کے پاؤں پکڑ کر زاروقطار رونے لگا ۔۔۔ ریما کے ابو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے ۔۔۔
ابوبکر کہنے لگا کہ “وہ بد نصیب میں سے ہوں جس کی وجہ سے اس کی زندگی خراب ہوئی”۔۔۔
اور پھر ابوبکر نے ساری داستان سنائی ۔۔
ریما کے ابو دانیال نام سن چکے تھے جب ابوبکر نے بتایا کہ وہ دانیال بن کر اس کی زندگی میں آیا تھا تو اُن کو یقین ہوا۔۔۔۔
لیکن داستان سننے کے بعد وہ خاموش ہوگئے کیونکہ وہ سمجھ گئے کہ اسے سبق مل چکا ہے اور اب وہ نیک راستے پر ہے۔۔۔
اور جب ابوبکر نے سنا کہ ریما کی شادی ابھی تک نہیں ہوئی تو اسے فقیر کی بات یاد آئی یہ بھی اس کے لیے کرشمہ تھا وہ شکر ادا کرنے لگا اور شادی کی درخواست کی لیکن ریما کی مرضی جان کر ۔
خط کے بعد ابوبکر نے ارادہ کر لیا کہ اب وہ نکاح کے بعد ہی اس کے سامنے جائے گا۔۔۔
لیکن جب ریما نے موبائل پر دانیال کے بارے میں بات کی تب وہ سمجھ گیا کہ اس کے دل میں کوئی خلش نہیں اب وہ سرپرائز دینا چاہتا تھا جس میں ریما کے مما بابا دونوں جانتے تھے۔ اور ارادہ کیا کہ عمرہ کے بعد وہ وہیں سے ریما کے ساتھ زندگی کا سفر شروع کرے گا۔۔۔
ابوبکر نے ہی سب کے عمرہ اور ہوٹل روم کا بندوبست کیا تھا اس کا اپنا کمرہ بھی اسی ہی ہوٹل میں بک تھا جہاں ان کا بک کیا تھا اور وہ خود ایک دن پہلے آیا تھا ۔۔
ریما کو اب تک یقین نہ آرہا تھا۔۔۔۔۔۔
لیکن وہ اس چہرے کو ایسا بدلہ ہوا دیکھ کر مطمئین تھی۔۔
اب اس کے دل میں سکون سا تھا ۔
جیسے آج اسے اپنی منزل ملی ہو۔ ۔۔
وہ ابوبکر کی آنکھوں کو اپنے ہاتھوں سے صاف کرنے لگی۔ ۔
جیسے ہی ریما کے ہاتھ ابوبکر کے چہرے سے لگا دونوں کو اک حقیقی محبت کا احساس ہوا۔۔۔
ابوبکر نے ریما کے دونوں ہاتھوں کو تھما اور روتی آواز میں کہا ” میں خود کو کبھی معاف نہ کرپاتا اگر تم مجھے نہ ملتی”۔۔۔
ریما کو اک اطمینان سا تھا وہ اللہ کا شکر ادا کرنے لگی۔۔۔۔
ابوبکر نے ریما کا ہاتھ تھما اور طواف کرنے کے لیے نیچے لے آیا اور دونوں طواف کرنے لگے۔ پھر دونوں نے شکرانے کے نفل ادا کیے اور اس جگہ چل دیے جہاں ریما کے والدین تھے۔۔۔۔
عشاء کے بعد ابوبکر نے ریما اپنے ساتھ جانے کی اجازت چاہی جیسے اس کے مما بابا نے انکار نہ کیا۔ ۔ ابوبکر نے اپنا کمرہ نفیس سا ڈیکوریٹ کر رکھا تھا۔ ۔ ریما کے پاس دلہن کا ڈرس تو نہ تھا لیکن اس کے چہرے پر جو سکون تھا وہ اس کی خوبصورتی کو نکھار رہا تھا ۔۔۔
ریما ابوبکر کے ساتھ روم میں آ رہی تھی ۔۔۔
وہ اپنی اس منزل پر بہت خوش تھی کہ اللہ نے اسی انسان کو بدل کر اس کا نصیب بنایا جس کی وہ تمنا بھی نہ کر سکتی تھی۔
وہ جان گئی کہ “بے شک وہ بہترین دینے والا ہے” وہ الحمدللہ کہتے ہوئے قدم اٹھا رہی تھی اور ابوبکر کے ساتھ اپنی ازواجی زندگی کی شروعات کے لیے تیار تھی۔۔۔۔۔
ختم شده۔
