Chalak Borye چالاک بوڑھے

Crime Story _ کراہم کی دنیا

اردو افسانے

مکمل ناول

views
0
chalak Borye Crime story

مکمل ناول

 

ہیری کا شراب کھانا ایک الگ تھلگ اور خاموشی جگہ پر واقع تھا وہاں زیادہ تر بوڑھے لوگ ہی ایا کرتے تھے اس کی وجہ

 یہ تھی کہ ہیری کے شراب خانے میں نوجوانوں کی دلچسپی اور کشش والی کوئی چیز نہ تھی نہ ہی وہاں جگمگاتے رنگین  تتلیاں اور نا ہی کوی نوجوان لڑکیاں وہاں تھا تو صرف ایک ٹیلی ویژن تھا اور نہ ہی روشنیاں پیدا کرنے والی مشینیں اور نہ ہی شور مچاتا ھوا ماحول  البتہ ہیری نے ایک ریڈیو سیٹ ضرور رکھا ہوا تھا جس کے ذریعے اس کے شراب خانے پر انے والے بڑی عمر کے لوگ ملکی اور غیرملکی خبریں سنا کرتے تھے ہیری کو اپنے ان بزرگوں سے جو امدنی ہوتی تھی اسی میں وہ گزربسر کرتا تھا ہیری کے ہاں باقاعدگی سے انے والوں میں ایک ارنلڈ تھا وہ ایک اپوائنٹمنٹ ہاؤس کا چوکیدار تھا اور ہر روز ڈیوٹیوں ختم کرنے کے بعد وہاں ضرور اتا تھا دوسری ایک خاتون تھی جس کا نام مس مارچ تھا لیٹر نام کا ایک ریٹائرڈ ریلوے ملازم تھا ایک شخص وہاں چارلی نام کا بھی اتا تھا جو ایک ٹیکسی ڈرائیور تھا ان لوگوں کے شراب خانے کا مالک ہیری خود بھی شامل ہو جاتا تھا جب یہ سب لوگ اکٹھے ہوتے تو بچے بن جاتے تھے خوب گپ شپ کرتے اپنی اپنی پسند کی شراب پیتے اور لفظ مکمل ہونے والے معاملے حل کرتے اس طرح ان بوڑھے لوگوں کو شب روز گزار رہے تھے ایک شام ارنلڈ نے مس مارچ سے کہا تم نے کچھ سنا ہے اج کل اس علاقے میں لوٹ مار کی کافی وارداتیں ہو رہی ہیں

 ۔ اچھا ہیری کوئی نئی وردات ہوئی ہے مس مارچ نے اپنی گہری نیلی انکھیں ارنلڈ کے چہرے پر جما کر سوال کیا،

 ہاں یہاں سے تین بلاک دور ایک عورت پر چند لفنگوں نے حملہ کیا اور اس کا پرس چھین کر فرار ہو گیے،

 کیا وہ عورت زخمی بھی ہوئی تھی مس مارچ نے بے پرواہی سے سوال کیا-

 اس خبر سے وہ ذرا بھی خوفزدہ نظر نہیں ارہی تھی بلکہ بڑے اطمینان سے گلاس سے چسکیاں لے رہی تھی-

 نہیں زخمی تو نہیں ہوئی ارنلد نے جواب دیا مگر وہ بھی سکتی تھی اج کال اس علاقے میں لوٹ مار اور رازانی کی ورتاتوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور خاص طور پر خواتین زیادہ خطرے میں ہیں

 تو مس محتاط رہا کرو یہ سنتے ہی مس مارچ کی ہنسی نکل گئی اس نے ہنستے ہوئے کہا ارے مجھے مجبوری کو کون لوٹے گا میرے پاس رکھا ہی کیا ہے اور پھر میرے ساتھ لیٹر بھی تو ہوتا ہے لیٹر وہ بیچارہ تو خود ایک کمزور بوڑھا ہے ارنلد کہا ایک ریٹائر اور پنشن یافتہ شخص تمہاری کیا حفاظت کرے گا وہ اپنی حفاظت کے قابل تو نہیں ہے

 کیا مطلب تمہارا مس مارچ  نہے قدر غصے سے کہا

 ارے بھائی تم تو برا مان گئی ارنلڈ نے جلدی سے کہا تم صرف واپسی میں لیٹر کے ساتھ جاتی ہو مگر اتی تو اکیلی ہو ایسے میں ذرا متعد رہنے کی ضرورت ہے میں اپنی حفاظت خود کر سکتی ہوں مس مارچ نے کہا ارنلڈ خاموش ہو گیا شراب خانے کا مالک ہے ہیری بھی ان دونوں کی باتیں سن رہا تھا وہ بھی لوٹ مار کے کسی سن چکا تھا اکثر بیشتر پریشان رہتا تھا چند روز پہلے اس موضوع پر ہیری چارلس اور ان سے یہ بات کر چکا تھا ان سبھی کو مس مارچ کی فکر تھی اس موقع پر چارلی نے کہا تھا کہ کمزور اور بوڑھا لیٹر مشکل وقت میں مس مارچ کی حفاظت نہیں کر سکے گا مگر مس مارچ کسی کی سنتی بھی تو نہیں ہیری نے کہا اس کے ساتھ لیٹر کی بجائے اگر جوان اور صحت مند شخص ہونا چاہیے ارنلدنے کہا اس کی موجودگی میں کسی گنڈے بدمعاش کی ہمت نہیں ہوگی کہ وہ مس مارچ کی طرف اٹھا کر بھی دیکھے میرے خیال میں اس کام کے لیے ہیری کا کزن جارج بالکل مناسب رہے گا چارلس چارلی نے تجویز پیش کی وہ غالبا پولیس میں ملازم ہے وہ کسرتی جسم کا مالک ہے ایک بہادر شخص ہے تم اس سے کہہ دو کہ  وہ واپسی کے وقت مس مارچ اور لیٹر پر نلگا رکھا کرے تاکہ یہ دونوں باحفاظت اپنے گھر پہنچ جائیں

 ہاں جارج پولیس میں ملازم ہیں ہیری نے کہا وہ کراٹے کا بھی ماہر ہے مگر اس کا محکمہ سے اجازت نہیں دے گا کہ وہ ہر روز لیٹر اور مس مارچ کو ان کے گھر چھوڑنے جائے

 ارے محکمے کو بتانے کی کیا ضرورت ہے ارنلد نے کہا وہ یہ کام خاموشی سے کر سکتا ہے نہیں یہ ناممکن ہے ا ہیری نے کہا جارج اصول پسند اور دیانت دار پولیس افسر ہے اور محکمی اجازت کے بغیر وہ کوئی کام نہیں کرے گا محکمے کو اس کی ضرورت ہے کسی بھی وقت پر سکتی ہے اگر وہ اس وقت اپنے دفتر میں نہیں ہوگا تو اس کی فر ض شناسی پر فرق ائے گا

 یہ کئی روز بعد کی بات ہے ہیری شراب خانے میں مس مارچ اور لیٹر اپنی مخصوص میز پر بیٹھے تاش کہہ رہے تھے وہ ایک طوفانی رات تھی ہواتیز تھی ساتھ ہی موسلادار بارش بھی ہونے لگی جس کی وجہ سے ہر طرف اندھیرا چھا گیا ہیری کی شرب خانے میں مس مارچ اور لیٹر کے علاوہ چارلی اور بھی تھے اچانک شراب خانے کا دروازہ بےہن طریقے سے کھلا اور نوجوان ایک نوجوان اندر داخل ہوا وہ شکل و صورت سے ہی کوئی غنڈا بدمعاش دکھائی دے رہا تھا اس کی انکھوں میں اسفاقی تھی اس کے شعلے برساتی انکھوں سے شراب خانے میں موجود تمام لوگوں کی طرف دیکھا اور کراٹ لہجے میں بولا 

یہ دروازہ بند کر کے لاک کر دو اور کھڑکیوں کو بھی بند کر دو تم سب اس وقت میرے رحم کرم پر ھو ۔

اس وقت ہیری بار کاؤنٹر میں کھڑا ہوا ایک گلاس سفید کپڑے سے  چمکا رہا تھا اس نے کپڑا ایک طرف رکھا اور  اس نوجوان کو دیکھنے لگا نوجوان نے جیب میں ہاتھ ڈال کر کٹکے دار چاکو نکال لیا اور اسے مخصوص انداز میں  کھولا جلدی کرو اس نے ہیری کو حکم دیا ہیری کی نظریں چاکو کے چمکدار پھل پر جمی ہوئی تھی اس نے کوئی حجت نہیں کی بلکہ کاؤنٹر کے  پیچھے سےنکلا اور نوجوان کے کام کی تکمیل کرنے لگا 

مس مارچ لیٹر اور  ارنڈسبھی سیم کر دم بخود ہو گئے تھے غنڈے نے اعتماد اطمینان بری نظروں سے ان سب کا جائزہ لیا اس نے ایک کرسی پر لات ماری اور دوسری بار بیٹھ گیا چاقو اب بھی اس کے ہاتھ میں تھا اس کے جسم پر گندی جینز ایک ڈیلی ڈالی ٹی شرٹ اور پیروں میں کچرہ دار جوتے تھے بڑے بڑے بالوں والے اس نوجوانوں کی عمر با شکل 20 21 سال ہوگی

مس مارچ اب زیادہ سنبھل گئی تھی اور اس کے چہرے پر خوف اور دہشت کی علامت نہیں تھی

وہ اس گنڈے کی طرف دیکھ رہی تھی اور سوچ رہی تھی کہ یہ کسی عورت کا پرس چھین کر باگا ہے اور پولیس سے بچنے کے لیے اس شراب خانے میں گھس ایا ہے جہاں اسے مزید لوٹ مار کا موقع مل گیا ہے

سوچوں ہی سوچوں سے اسے ایسی چھینک ائی کہ ہونڈا بری طرح اچھل پڑا اور وہ خون خوار نظروں سے مس مارچ کی طرف دیکھنے لگا

 کیا بات ہے سکون سے نہیں بیٹھا جا رہا ذرا بے ننگی ہو رہی ہو ابھی دماغ ٹھیک کر دوں گا

 

نے غضب ناک لہجے میں کہا

تم ایک غنڈے ہو مس مارچ نے ہمت کر کے کہہ ہی دیا اس کی بات سن کر ہیری اور چارلی ارنرڈ سبھی لرز کا رہ گئے

وہ سب یہ سوچ رہے تھے کہ اب مس مارچ کی خیر نہیں اس نے اس لفنگ کو چھیڑ دیا ہے 

  بکواس بند کر بڑھیا

  غنڈے پنکارا

تم ذلیل ہو کمینے ہو مس مارچ نے صرف اس بات پر اتفاق نہیں کیا اور اس غنڈے کے سامنے اس کو کھری کھری سنا دی تم محنت مزدوری کر کے بھی پیٹ پال سکتے ہو جبکہ لچے لفنگے کام کر کے لوگوں کو ڈرا دھمکا کر عورتوں سے پرس چھین کر تم کوئی تیر نہیں مار رہے 

 اپنی زبان بند رکھو نوجوان چیخا 

کہ تم جیسے غنڈے دن دہاڑے شریف لوگوں کو لوٹیں تم کمینے خبیث ہو مس مارچ اج پوری طرح فارم میں تھی اس نے گنڈے کو منہ پہ کھری کھری سنا دی

 یہ سنتے ہی غنڈے نے مس مارچ کے منہ پر زوردار تھپڑ رسید کر دیا جس سے وہ بوڑھی عورت لڑکھڑا کر نیچے زمین پر گر گئی

اب وہ خونی نظریں نظروں سے غنڈے کو گورنے لگی تھی شراب خانے میں سناٹا چھا گیا غنڈے کے علاوہ شراب خانے میں چار اور مرد بھی تھے مگر وہ چاروں بوڑھے اور کمزور تھے اس لیے ان میں سے کسی نے بھی نوجوان بدمعاش سے مقابلہ کرنے کے لیے کوشش نہیں کی وہ حیرت اور صدمے کے عالم میں فرش پر گری ہوئی مس مارچ کو دیکھ رہے تھے 

غنڈے نے کہا بڑی بھی شکر کرو میں نے ہاتھ ہلکا مارا ہے اگر میں تھوڑا تکڑا ہاتھ مارتا تو تمہارا چہرہ بگڑ چکا ہوتا 

 فرش پر پڑی پڑے مس مارچ نے ذرا سی کروٹ بدلی تو نوجوان بری طرح چل پڑا 

مس مارچ  کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا دھاتی پستول تھا اس سے پہلے کے بدمعاش کچھ پاتا اس دھاتی پستول سے ایک فار نکلی  اور نوجوان کے چہرے پر پڑی وہ بری طرح چیخنے لگا جنونی انداز میں اسے اپنی انکھوں کو مسئلے لگا اس کی حالت عجیب ہو رہی تھی یہ موقع غریبت جان کر ہیری نے شراب کی ایک بوتل اٹھائی اور بدمعاش کے سر پردے ماری بدمعاش کوئی اوار اواز نکالے بغیر فرش پر دیر ہو گیا

 یہ کیا ہے مس مارچ سب سے پہلے ارنڈ پوچھا ہیری چارلی اور لیٹر بھی اس دھاتی کیپسول پستول کو دیکھ کر حیران رہ گئی وہ اس کے بارے میں جاننا چاہ رہے تھے یہ ایک دفعہ ہی ہتھیار ہے مس مارچ نے مسکراتے ہوئے کہا اسے ہم ایک طرح کی انسو گیس کہہ سکتے ہیں تم لوگ کئی روز سے اس علاقے میں ہونے والی لوٹ مار اور رازانی کی باتیں کر رہے تھے تبھی میں نے مخص حفاظتی اقدامات کے طور پر یہ پستول خرید لیا تھا مگر یہ کسی کو نقصان نہیں پہنچاتا نوجوان کی بے ہوشی کی وجہ یہ پستول نہیں بلکہ وہ تو ہیری کے وار سے بے ہوش ہوا ہے بہرحال تم نے اج جس جرات کا مظاہرہ کیا ہے اس نے ہم سبھی کو حیران کر دیا ہے

 ارنڈمس مارچ کی طرف متلاشی ستائشی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا چارلی اور لیٹر بھی حیرت اور خوشی سے مس مارچ کو دیکھ رہے تھے اس بوڑھی عورت نے مردوں کی موجودگی میں یہ کارنامہ انجام دیا تھا میں نے اسے ذلیل حقیر کمینہ صرف اس لیے کہا تھا کہ وہ طیش میں ائے مگر اصل کام تو ہیری نے کیا مس مارچ نے مسکراتے ہوئے کہ

ا مس مارچ  میں نے تو تمہارے پیش کردہ ڈرامے کا ڈراپ سین کیا ہے ہیری کا یہ کارنامہ پورا کا پورا تمہارا ہے اور اس کی کامیابی کا سہرا ہی تمہارے سر جاتا ہے وہ سب فرش پر پڑے ہوئے اس بے ہوش غنڈے کو دیکھ رہے تھے اخر ہیری نہیں وہ خاموشی توڑتے ہوئے کہا سوال یہ ہے کہ اب اس شخص کو کیا کر دیا جائے میرے خیال میں تو ہمیں پولیس کو اطلاق کر دینی چاہیے چارلی نے  کہا ہاں مناسب تو یہی ہے ہیری نے کہ

 لیٹر نے کہا کیا اس کے علاوہ بھی کوئی راستہ ہے پولیس ائے گی اور اس بدمعاش کو پکڑ کر لے جائے گی ہرجارج مگر اس کے بعد کیا ہوگا تم سب جانتے ہو ہاں میں تمہاری بات سمجھ گئی میں مس مارچ نے کہا پولیس غنڈے کوا علی عدالت میں پیش کرے گی جہاں جج اس کی اس کی نوجوانی کو دیکھتے ہوئے سرجش کرے گا صحیح راستے پر چلنے کی تنقید کرے گا تھوڑی سی لعنت ملامت کرے گا تھوڑا سا لیکچر دے گا اور یہ نوجوان ایک بار پھر سڑک پر ا جائے گا اس کے بعد یہ سیدھا ہمارے پاس ائے گا اور ہم سے کہے گا کیا بگاڑ لیا تم نے میرا اس موقع پر ہمارے پاس اس کی بات کا کوئی جواب نہیں ہوگا بلکہ ہمارے سلامتی کے لیے زیادہ  خطرہ پیدا ہو جائے گا یہ ہم سے انتقام لیے بغیر باز نہیں ائے گا اج کل تو یہی ہو رہا ہے مگر  اب بھی کوئی اس نے ہمارے لیے خطرہ پیدا کیا تھا ہیری نے کہا تم نے دیکھا نہیں کہ یہ کس بدتمیزی سے اندر داخل ہوا تھا ہاں اور اس نے اتے ہی ہم سب پر  چاکو بھی تان لیا تھا لیٹر نے بھی ہری کی ہاں میں ہاں ملائی ہاں میں جانتی ہوں کسی کو چاکو دکھا کر ڈرامہ ٹھمکانا  قانون جرم ہے

 مس مارچ نے کہا مگر اس کی اتنی بڑی سزا نہیں ملے گی کہ یہ ائندہ ادھر کا راستہ ہی بھول جائے یہی تو مسئلہ ہے ہیری نے کہا اس کا پکا انتظام ہونا چاہیے کوئی راستہ تلاش کرو 

 ہم ایک غنڈے بدمعاش کو کیا سزا دے سکتے ہیں چارلی نے کہا یہ کام ہمارا ہے میرے ذہن میں ایک ترکیب ہے ہیری نے کہا وہ  سب اس کے پاس اگئے میں تمہیں بتاتا ہوں

 کوئی 15 منٹ بعد جب اس بدمعاش کو ہوش ایا تو اس نے خود کو ایک کرسی کے ساتھ بندے ہوئے پایا وہ کرسی پر بیٹھا ہوا تھا اور رسیوں سے اسے کرسی کی پشتو ٹانگوں کے ساتھ مضبودی باندھ دیا گیا تھا   غنڈے نے  اپنی جگہ کا جائزہ لیا تو وہاں اس کرسی کے علاوہ اور کوئی چیز نظر نہ ائی جس کے ساتھ وہ بندہ ہوا تھا وہ ایک چھوٹا سا سٹور نما کمرہ تھا جس میں کوئی کھڑکی تک نہ تھی وہ صرف ایک دروازہ تھا وہ بھی بہت موٹا دکھائی دیتا تھا اور  مضبوط لکڑی کا بنا ہوا معلوم ہوتا تھا غنڈے کے  سر کے اوپر مدم روشنی کا ایک بلب جل رہا تھا اس نے ہڑبڑا کے عالم میں ادھر ادھر دیکھا اس  وقت دروازہ کھلا اوروہ پانچوں اندر داخل ہوئے مس مارچ کے ساتھ ہیری ارنر لیٹر اور چرلی اندر ائے تھے اس نوجوان کو غور سے دیکھ رہے تھے جو مسلسل اپنی کرسی کے ساتھ زورازمائی کر رہا تھا یہ سب کیا ہے میں کہاں ہوں بدمعاش نے پوچھا تم اس وقت تہ خانے کے سٹور میں ہو ہیری نے مسکراتے ہوئے کہا جتنا جی چائے  چیخوں چلاؤ تمہاری اواز باہر نہیں جائے گی اور نہ ہی کوئی تمہیں چھڑانے ائے گا میں نے یہاں ہر صورت اور ہر ضروری اور غیر ضروری چیز ہٹا دی ہے تاکہ تم کوئی حرکتیں نہ کر سکو جواب میں غنڈے نے قہر الود نظروں سے ہیری کو دیکھا اور بولا کیا چاہتے ہو تم 

میں تمہارا مطلب نہیں سمجھا 

میں نے اج اس رات شراب خانے کو بند کر دیا ہے ہیری نے سے کہا اور ایک ماھ کی چھٹیاں منانے اس شہر سے باہر جا رہا ہوں میں نے تمام کمرے بند کر دیے ہیں اس سٹور اور تہ خانے کو بھی لاک کر کے جا رہا ہوں یہ سنتے ہی نوجوان کے چہرے پر پریشانی اور خوف کے اثار ہو گئے اس کی پیشانی پر پسینے کے قطرے جگمگانے لگے تم سب پاگل ہو ختمی ہو

 بدمعاش نے ہلکلاتے ہوئے کہا غلط بالکل غلط مس مارچ نے ایک خاص انداز سے کہا ہم میں سے کوئی بھی پاگل یا خطبی نہیں ہے یہ باتوں اپنے ذہن سے نکال دو ہم سب بے حد ذہین اور سمجھدار ہیں مثال کے طور پر ہمیں یہ بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ انسان کھائے بغیر تو کئی ہفتے زندہ رہ سکتا ہے مگر پانی کے بغیر اس کا چند روز بھی زندہ رہنا مشکل ہے نوجوان غنڈے نے جل جلا کے  رسیوں  پر زور لگانا شروع کر دیا اس کے انداز میں وحشت ا گئی تھی اس نے چیختے ہوئے کہا تم لوگ اے ایسا ایسا نہیں کر سکتے لو بلا ہمیں کون روک سکتا ہے لیٹر نے کہا پھر وہ پانچوں دروازے کی طرف چل دیے ان میں ارنر بھی شامل تھا مگر اس کے چہرے پر ہچکاٹ صاف نظر ارہی تھی وہ غالبا اپنے ساتھیوں کی اس قدم اقدام سے متفق نہیں تھا مگر وہ کیا کر سکتا تھا خدا حافظ لفنگ انسان مس مارچ سے انہیں مخصوص انداز میں اسے مسکراتے ہوئے کہا اس کے ساتھ ہی دروازہ بند ک بند ہو گیا نوجوان نے بیرونی دروازے بھی بند ہونے کی اواز سنی  ان لوگوں نے دو دروازے لاک کر دیے تھے چند منٹ تک وہ نوجوان خاموش بیٹھا حالات پر غور کرتا رہا اس کے بعد اس نے نئے سرے سے جدوجہد شروع کر دی اور ایک بار پھر رسیوں سے روزہ  ازمائی کرنے لگا مگر نتیجہ کچھ نہ نکلا تو وہ چیخنے لگا اور اس سب کو گالیاں دینے لگا ساتھ ہی وہ انہیں بڑے نتائج کی دھمکیاں بھی دے رہا تھا مگر  اس کی چھینکوں پکار کا کوئی فائدہ نہ ہوا اس کی مدد کو کوئی نہیں ایا چیختے چیختے جب وہ نڈال ہو گیا تو رونے لگا روتے روتے تھک گیا تو اس نے دوبارہ چیخنا شروع کر دیا اسی عالم میں ایک مرتبہ اس نے اپنے جسم کو جنہوں نے انداز میں حرکت دی تو وہ کرسی سمیت پختہ فرش پر گر گیا اس کے سر اور ٹانگوں میں زوردار چوٹیں لگی ہوئی وہ تکلیف کی شدت سے کرکرانے لگا مگر اس وقت اس کی اواز سننے والا کوئی نہ تھا اگر وہ کسی نہ کسی طرح خود کو ان رسیوں سے اور کرسی سے نجات دلا دے لیتا تب بھی اس کے لیے اس سٹور سے نکلنے کا کوئی راستہ نہ تھا دروازہ مضبوط اور موٹی لکڑی کا بنا تھا اسے احساس ہوا کہ اب یہ سٹور اس کی قبر تھا اور اسی میں وہ جان دینی تھی

 یکجک نوجوان نے کوئی اٹھ سنی تو وہ چونک اٹھا باہر کوئی تھا جو دبلی قدم چل رہا تھا اس نے چیک کر انے والے کو اپنی طرف مجھے متوجہ کرنا چاہوں مگر خاموش رہا تھوڑی دیر بعد سٹور کا دروازہ کھلنے کی اواز ائی دروازے پر ارنلڈنظر ایا وہ ادھر دیکھ رہاتھا دیکھتا ہوا گویا چوری چھپے سٹور میں داخل ہو رہا تھا تم ٹھیک ہو نا نوجوان،  ارنڈنے سرگوشی سے کہا تم تم مگر میں تم پر بھروسہ کیسے کر سکتا ہوں نوجوان نے کہا اچھا پہلے میری راس  کھولو فکر مت کرو میں تمہاری خاطر ہی یہاں ایا ہوں ارنرنے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا میں نہیں چاہتا کہ تمہارے ساتھ یہ وحشانہ سلوک کیا جائے اس لیے میں نےخاموشی سے واپس اگیا ہوں دروازے میں پہلے ہی کھلا چھوڑ گیا تھا میرے دوستوں کو اس بارے میں معلوم نہیں ہے کہ میں تمہیں ازاد کرنے کے لیے ایا ہوں میں ان سے چپ کر تمہاری رسیاں ابھی ڈیلی کرتا ہوں اور تمہیں ازاد کرتا ہوں  یہ کہہ کر نوجوان بدمعاش کی بندش ٹٹولا اور انہیں کھولنے لگا میں تمہارے قتل حصہ دارنہیں بننا چاہتا

  ارنڈ نے کہا مگر وہ ہیری شراب خانے کا مالک ہے وہ میری بات سننے کو تیار نہیں تھا اسی نے  دوسرے لوگوں کو بھی مجبور کیا تھا

 

  رسیاں ڈیلی پڑھنے لگی تھیں وہ  جھٹکے سے کرسی سے کھڑا ہوا اس نے اپنے ہاتھ پیر وردش کے انداز میں ہلائے تا کہ اس

 

 کا جسم کا دوران خون بحال ہو جائے پھر اس

پھر اس نے غراتے ہوئے ارنٹ کا گریبان پکڑ لیا اور اس سے پوچھا ہیری کہاں ہے وہ چھٹیاں منانے گیا ہے یہ

 چھٹیاں اس کی زندگی کی اخری ہوں گی اب وہ یا تو اسٹال جائے گا یا قبر میں یہ کہہ کر وہ گھوما اور ارنیٹ کا گریبان پکڑ لیا کہاں رہتا ہے وہ کمینہ ہےرہیری وہ جو اس کا پتہ چاہیے میں اسے اس کی بہادری کی وہ سزا دوں گا کہ ساری دنیا دیکھے گی مجھے معلوم نہیں ارنلڈ نے گلگولہجے میں کہا تم مجھے کیوں مار رہے ہو میں نے تو تمہاری مدد کی تھی وہ تم مجھے یہ بتاؤ کہ وہوہ کہاں رہتا ہے بدمعاش نے کہا ہیری نے بے بسی سے کہا مجھے معلوم نہیں مجھ سے جھوٹ مت بولو سیدھی طرح اس کا پتہ بدمعاش نے کر لیجیے میں کہا اور اس کی کلائی پکڑ کر پوری قوت سے مروڑ دیارنلڈکے چہرے پر تکلیف کے ساتھ تھے وہ بدمعاش سے احتجاج بھی نہیں کر پا رہا تھا بدمعاش نے کہا سیدھی طرح بڈھے ہیری کا پتہ بتاؤ ورنہ تمہارے دونوں بازو توڑ دوں گا مجھ پر رحم کرو ایسا مت کرو ارنل نے کہا مجھے اس کا پتہ چاہیے بدمعاش نے بے پرواہی سےبے پرواہی سے کہا ارنر نے جب دیکھا بدمعاش کی انکھوں میںغصہ اور سفاکی اور اس نے سوچا کہ میں اس بدمعاش کا زیادہ دیر مقابلہ نہیں کر سکتا تو اس نے اس کو ہیری کا پتہ بتا دیا

 دوسری رات کو ہیری کے شراب خانے پر وہ سب لوگ حسب معمول جمع تھے جشن کا سماں تھا وہ سبھی لوگ بے حد خوش نظر ا رہے تھے ارنڈتمہاری کلائی تو ٹھیک ہے  مس مارچ نے پوچھا ان اس کمبخت نے تو حد کر دی تھی معمولی تکلیف ہے ارنڈ نے جواب دیا مگر ہم سب نے مل کر اس بدمعاش کے ساتھ جو کہ کھیلا ہے اس کے مقابلے میں میری کی میری کلائی کی تکلیف اور سوجن کچھ اہمیت نہیں رکھتی وہ ایک ادھا دن میں ٹھیک ہو جائے گی فکر کی بات نہیں ہے ویسے  ارنڈ تم نے تو کمال کر دیا چارلی نے ستائشی نظروں سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کیا غضب کی اداکاری کی ہے تم نے وہ بدمعاش واقعی یہ سمجھ ایا کہ تم نے ہم سے غداری کی ہے اور اس کی ہمدردی تمہیں اس کے پاس لے گی اس عمدہ اداکاری پر تمہیں ایوارڈ ملنا چاہیے مگر ہمارا کھیل بالکل کامیاب رہاہیری  نے ہاتھ میں پکڑے اخبار کی طرف اشارتی کرتے ہوئے کہا اس ڈرامے کے سوا ہمارے پاس اور کوئی دوسرا راستہ بھی نہیں تھا ہم یہ نہ کرتے تو کیا کرتے ہیری کے ہاتھ میں جو اخبار تھا اس میں نوجوان بدمعاشی تصویر کے ساتھ یہ خبر شائع ہوئی تھی پولیس افسر جانچ کے گھر میں زبردستی گھسنے والا لٹیرا گرفتار اس نے قانون کے محافظ کی جان لینے کی کوشش بھی کی تھی مگر پولیس افیسر کی بروقت کاروائی نہ صرف اس کی جان بچا لی بلکہ شہر کو لاحق ایک خطرے سے بھی محفوظ کر دیا جارج نامی پولیس افیسر کراٹے کا بھی ماہر ہے اس نے دو ہی ہاتھوں میں نوجوان غنڈے کو زمین  چٹا دی ویسے ہیری تمہارے پلان نے تو نہ قابل یقین کارنامہ سر انجام دیا ہے لٹیر نے کہا میں بتاتا ہوں کہ اصل کہانی کیا تھی ہیری نے مسکراتے ہوئے کہا مجھے اچھی طرح یاد تھا کہ اس روز جازج کی چھٹی ہوتی ہے اور وہ ڈیوٹی پر جانے کی بجائے گھر پر ہوگا اور یہی ہوا دوسرا مسئلہ یہ ہوا کہ ہم لوگوں کو کوئی کو اتنی  مہلت نہ ملی تھی کہ چارج کو فون کر کے ساری صورتحال بتاتے ورنہ اس سے پہلے سے معلوم ہو جاتا کہ اس کے گھر میں کوئی انے والا ہے تو وہ زیادہ خوش پرجوش طریقے سے اس کا استقبال کرتا بہرحال پھر بھی اچھا ہوا جو بھی ہوا ارنلڈ نے کہا جب بدمعاش نے میری کلائی مروڑ  اور اس نے  تمہارا پتہ پوچھا تو میں نے تمہارے گھر کے پتے کے بجائے جارج کا پتہ اسے ایسے بتا دیا جیسے اس نے جیسے خوف سے میں بتا رہا ہوں وہ اور پھر وہ ہیری کا گھر سمجھ کر جارج کے گھر میں گھسنے کی حماد کر بیٹھا جس کی سزا اسے یہ ملی کہ جارج نہیں کراٹے کہ ایک دو وار ازما کر اس کی ہڈی پسلی ایک کر دی مس مارچ نے مسکراتے ہوئے کہا اور یہی ہمارا منصوبہ بھی تھا اب اس فنگے کو کوئی بھی مچ سٹیٹ اسانی سے معاف نہیں کرے گا اور نہ ہی مخلص زبانی تنبیہ کر کے رہاکرے گا ظاہر ہے ملزم نے قانون کے محافظ کے گھر میں گھس کر  اس پر ہاتھ اٹھایا تھا اس کی سزا تم سب جانتے ہو اب وہ کئی سال کے لیے جیل میں رہے گا اور امید ہے جب وہ باہر ائے گا تب تک اس کا دماغ درست ہو چکا ہوگا یقینا چارلی نے کہا  ہم سب کو ائندہ بھی مرتد اور چوکس رہنا چاہیے اور اپنی حفاظت کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے اس کے بعد سارےغنڈے بدمعاش ہم سے ڈریں گے چلو بھائی اب جشن منائیں ہیری نے کہا تو ان سب نے زوردار نعرہ لگایا اور اپنے اپنے جام اٹھا لیں

 

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments
error: Content is protected !!
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x