مکمل ناول
نکاح ! آپ کا دماغ ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔۔ میں آ پ سے نکاح نہیں کر سکتی۔۔۔ وقفے سے بولی۔ محرماں جی ! نکاح تو ہونا ہی ہے آپ کا وہ بھی ابھی اور اسی وقت۔ اور وہ بھی ارحم آفندی سے۔ دنیا کی کوئی طاقت اس نکاح کو روک نہیں سکتی۔ ارحم ٹھوس لہجے میں بولا۔
مجھے یہ نکاح نہیں کرنا پلیز۔۔۔۔۔۔ محرماں نے اس کے سامنے ہاتھ جوڑ دیئے۔ محرماں جی ! مجھے مجبور نہ کرو۔ باہر چلو۔ مولوی صاحب آچکے ہیں۔ اور ویسے بھی نکاح کے بعد میں آپ کو یونیورسٹی واپس چھوڑ آوں گا۔ جلدی کرو۔ دیر ہو رہی ہے۔ آپ کا بھائی آنے والا ہو گا۔ ارحم جلدی سے بولا۔ آپ کو اللہ کا واسطہ مجھ پر رحم کرو۔۔۔۔۔!۔۔۔ میں نہیں جانتی کہ آپ کی مجھ سے میرے خاندان سے کیا دشمنی ہے۔ پلیز مجھے یونیورسٹی چھوڑ آؤں۔ وہ رونے لگی۔ اور اس کے قدموں میں بیٹھ کر ہاتھ جوڑ دیئے۔۔۔۔
ٹھیک ہے۔ نکاح نہیں کرتے۔ تمہاری مرضی۔ نکاح کے بغیر ہی تمہارے ساتھ وقت گزار لیتا ہوں۔ نکاح خواں کو واپس بھیج دیتا ہوں۔ تمہیں ایسے ہی مناسب لگتا ہے تو مجھے بھی کوئی اعتراض نہیں۔ ارحم نے دروازے بند کیا اورکنڈی چڑانے لگا۔
محرماں کے ہاتھ اس کی اپنی گود میں گر گئے۔ وہ جو اس کے قدموں میں ہاتھ جوڑ کر بیٹھی تھی۔ اس کی حالت ایسی تھی۔ جیسے جسم میں جان نہ ہو۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ اس نے اپنا سر جھکالیا۔ جیسے اپنی ہی قسمت سے ہار گئی ہو۔ وہ بولی تو اس خود بھی اپنی بات پر یقین نہ آیا۔
میں۔۔۔ میں ۔۔۔۔ نکاح کے لیے تیار ہوں۔ محرماں آہستہ سے بولی۔
ٹھیک ہے۔ تو پھر باہر آجاؤ ۔ یہ کہتے ہوئے ارحم باہر چلا گیا۔
تھوڑی دیر بعد نکاح ہو گیا۔ وہ محرماں شاہ سے محرماں ارحم آفندی بن گئی۔ اسے اپنی قسمت پر یقین نہیں آرہا تھا۔ کیا سے کیا ہو گیا تھا۔ وہ محرماں بی بی تھی۔ جس کی پاگیزگی کی گواہی پورا گاؤں دیتا تھا۔ اس کا گھرانہ مذہبی تھا۔ وہ بچپن سے پردہ کرتی آئی تھی۔ بابا اور بھائی کے علاوہ آج تک اسے کسی نے نہیں دیکھا تھا۔ پھر یہ سب کیسے ہو گیا۔ کون ہے یہ شخص۔۔۔۔!۔۔۔ یہ مجھے کیسے جانتا ہے۔ کیا جواب دوں گی بابا اور بھائی کو ۔ بابا تو مر جائیں گے یہ سب ۔ سن کر ۔ اپنی بے گناہی کا کیسے یقین دلاؤں گی سب کو ۔ وہ زور زور سے رونے لگی۔ ارحم علی اور باقی لوگوں کو چھوڑ کر واپس آیا۔ تو وہ سامنے صوفے پر بیٹھی رو رہی تھی۔ اس نے بلیک کلر کی چادر اوڑھی ہوئی تھی۔ جس سے اس کا پورا جسم تقریب ڈھکا ہوا تھا۔ وہ پہلی ہی نظر میں اس کی معصومیت پر دل ہارا بیٹھا تھا۔ یہ نہیں کہ اس نے خوبصورت لڑکیاں نہیں دیکھی تھیں۔ بچپن سے لے کر آج تک اس کی بہت سے لڑکیاں دوستی رہی تھی۔ لیکن دل نے صرف محرماں کو چنا۔ اسے پہلی دفعہ دیکھ کر اس نے فیصلہ کر لیا تھا۔ ارحم کی دُلہن صرف محرماں بنے گی۔ اُسے روتے دیکھ کر اس کے دل کو کچھ ہونے لگا۔۔۔۔۔۔۔
محرماں !۔ میں ایسا نہیں چاہتا تھا۔ اگر آپ کے بابامان جاتے تو یہ سب نہ ہوتا۔۔۔۔۔
اسے دیکھ کر محرماں ایک دم سے کھڑی ہو گئی۔ مجھے یونیورسٹی چھوڑ آئے۔ مجھے کوئی بات نہیں سننی آپ کی۔ وہ غصے سے بولی۔ آپ میری بات سنے بغیر یہاں سے نہیں جائیں گی۔ وہ پیار سے بولا۔ اور ساتھ ہی اسے بازؤں سے پکڑ لیا۔ محرماں کو ایسا لگا جیسے پورے جسم میں آگ کی لہر دوڑ گئی ہو۔ پتہ نہیں اب یہ شخص میرے ساتھ کیا کرنے والا ہے۔ اسے
سمجھ نہیں آرہی تھی۔ کیا کرے۔؟؟؟؟
چھوڑو مجھے !۔۔۔!۔۔ محرماں نے اسے زور سے پیچھے دھکیلا۔ اور ساتھ ہی میز سے فروٹ کاٹنے والی چھری اٹھا؛؛؛؛
لی۔ اور کا بنتی ہوئی آواز میں بولی۔ اب میرے قریب نہ آنا۔ اس کے ہاتھ میں چھری دیکھ کر ارحم کی جان نکلنے لگی۔۔۔۔۔
محرماں اسے رکھ دو۔ پلیز میری بات سنو۔ وہ آگے بڑھنے لگا تا کہ اس سے چھری لے سکے۔ میرے قریب مت آنا۔ وہ زور سے چلائی۔ اور ساتھ ہی اپنے چھری سے اپنے ہاتھ کی رگ کاٹ لی۔ تیزی سے۔۔۔۔
خون بہنے لگا۔ لیا۔ محرماں !۔۔۔ محرماں !۔۔۔ یہ اپنے بازؤں میں تھام لیا۔ تم نے کیا کر دیا۔ وہ بھاگ کر اس کے پاس گیا۔ “””
مجھے تم سے نف۔ رہ رت ہے۔ اور ساتھ ہی وہ بے ہوش ہو گئی۔ محرماں !۔ محرماں ! آنکھیں کھولو۔ وہ زور سے چلانے لگا۔
فیض شاہ اور اس کی مسز رخسانہ یونیورسٹی گیٹ پر پہنچے۔ اس نے رخسانہ سے کہا۔ محرماں کو بلا کر لے آئے۔ رخسانہ اندر گئی۔ لیکن اسے محرماں کہیں نظر نہ آئی۔ اس نے گیٹ پر کھڑے گارڈ سے محرماں کے بارے میں پوچھا۔ ؟؟؟
کچھ گارڈ نے اسے بتایا۔ وہ سن کر حیرت زدہ رہ گئی۔ اس نے گارڈ کو کچھ کہا۔ اور پیسے دے کر واپس آگئی۔ جب فیض۔۔
شاہ نے پوچھا۔۔۔
محرماں نہیں آئی۔
تو اس نے کہا۔۔۔
محرماں کسی لڑکے ساتھ بھاگ گئی ہے۔۔۔۔
کیا بکواس کر رہی ہو۔۔!۔۔۔ رخسانہ !۔۔۔ وہ گاڑی سے نکلا اور بھا گتا ہوا گیٹ کی طرف گیا۔ گارڈ کو گر بیان سے
پکڑ کر بولا۔۔
میری بہن کدھر ہے۔
صاحب ! مجھے کیا پتہ۔ یہاں تو روازنہ ہزاروں لڑکیاں اپنے یاروں کے ساتھ جاتی ہیں۔ آپ کی بہن بھی کسی کے مجھے۔۔
ساتھ چلی گئی۔ مجھے کیا پتہ۔
بکواس بند کرو۔ میری بہن ایسی نہیں ہے۔ وہ بہت معصوم ہے۔ فیض شاہ غصے سے بولا۔
صاحب!۔ ہر کوئی یہی کہتا ہے، میری بہن ایسی نہیں، میری بیٹی ایسی نہیں۔ میں نے اپنی ان گناہ گار آنکھوں سے
اسے لڑکے کے ساتھ گاڑی میں بیٹھتے ہوئے دیکھا ہے۔
گاڑی کا نمبر بتاؤ ۔۔ جلدی بتاؤ ۔ فیض شاہ بولا ۔
صاحب! میں نے نمبر نہیں دیکھا۔ گارڈ کی یہ بات سن کر وہ ہاری ہوئے جواری کی طرح واپس آگیا۔ اور گاڑی میں
بیٹھ گیا۔
میری محرماں ایسی نہیں ہے۔ وہ اپنے آپ سے بولا۔
میں کہتی رہی۔ شہر میں داخلہ نہ کرواؤ۔ وہاں جا کر لڑکیاں خراب ہو جاتی ہیں۔ پر میری کون سنتا ہے۔ سب کو لگتا ہے۔ میں اس خاندان کی اور محرماں کی دشمن ہوں۔ اب دیکھ لو۔ کیا گل کھلایا ہے اس نے۔ بس کر جاؤ رخسانہ۔ محرماں ایسی نہیں ہے۔ تم جانتی ہو اسے۔ وہ بہت معصوم ہے۔ فیض بہن کی حمایت میں بولا۔ اچھا ٹھیک ہے۔ تو پھر کدھر ہے وہ تمہاری معصوم بہن۔ بولو۔ رخسانہ نے اس کی بات کائی۔ ڈھونڈ لوں گا اسے۔ چپ کر جاؤ تم۔ اور پھر گاڑی تیزی سے گاؤں کے راستے پر موڑ دی۔
ارحم آفندی محرماں کو اپنے بازؤں میں اٹھائے ہسپتال میں پہنچا۔ مما کہاں ہے۔ اس نے ریسپشن پر پوچھا۔ اور ایمر جنسی کی طرف بھاگا۔ وہاں بیٹھی ڈاکٹر نازلی ارحم کے بازؤں میں لڑکی دیکھ کر حیران رہ گئی۔ اور ساتھ والی لڑکی سے کہا۔
جلدی سے میڈم کو بلاؤ ۔
اب اگلی حیران ہونے کی باری ڈاکٹر فرزین کی تھی۔ وہ بیڈ پر بے ہوش پڑی لڑکی کو ایسے دیکھ رہی تھی۔ جیسے وہ کوئی بچھو ہو جو ابھی اسے ڈس لے گا۔ اس نے ساتھی ڈاکٹر کو کچھ کہا۔ اور باہر آگئی۔ جہاں سامنے کھڑا اس کا بیٹا ارحم رو
رہا تھا۔ اسے دیکھ کر وہ بھاگ کر ماں کے پاس آیا۔ اور بولا۔
مما ! محرماں کو بچالو۔ بچالو اسے پلیز۔ زندہ دہ نہیں رہ پائے گا آپ کا بیٹا اس کے بغیر۔ ارحم ! یہ لڑکی تمہارے ساتھ ۔۔ وہ حیرت زدہ تھی۔
مما ! ، وہ میری بیوی ہے۔ میں نے اس سے نکاح کر لیا ہے۔ آپ آپ کی بہو ہے۔ بچالیں اسے۔ ڈاکٹر فرزین حیرت سے اپنے بیٹے کو دیکھ رہی تھی۔
مما ! اجان ہے اس میں آپ کے بیٹے کی۔
ڈاکٹر فرزین جلدی سے واپس ایمر جنسی میں چلی گئی۔ ارحم !۔ ڈاکٹر نازلی جو پیچھے کھڑی سب سن رہی تھی۔ دکھ اور شاک کی کیفیت میں بولی۔ وہ بھی تو ارحم سے پیار کرتی تھی ۔۔
نازلی !۔ دعا کرو۔ محرماں کو کچھ نہ ہو۔ محرماں !۔ نازلی نے نام دہرایا۔ اور بولی۔ کہیں یہ وہ لڑکی تو نہیں جس کا رشتہ آنٹی اور انکل تین دفعہ لے کر گئے۔
ہاں نازلی یہ وہی لڑکی ہے۔ میں نے اس سے نکاح کر لیا ہے اب میری بیوی ہے وہ۔ نازلی پلیز دعا کرو محرماں کو کچھ نہ
ہو۔ ارحم ! تسلی رکھو۔ اسے کچھ نہیں ہو گا۔ تمہاری ماں اسے بچالے گی۔ کیونکہ اس کی جان تم ہو۔ اور اسے پتہ ہے اس کے بیٹے کی جان محرماں میں ہے تو پھر وہ کیسے محرماں کو کچھ ہونے دے سکتی ہے۔ نازلی بھرائے ہوئے لہجے میں
بولی۔ کیسے بتاتی اُسے کہ ارحم میں نے تو بچپن سے تمھارے خواب دیکھنے شروع کیے تھے۔ لیکن ارحم کو اس کی محبت کبھی نظر نہ آئی۔ وہ صرف اسے اپنی دوست سمجھتا تھا۔
ارحم ! میں تمھارے ۔ لیے کچھ کھانے کو لے کر آتی ہوں۔ کہہ کر وہ چلی گی۔
فرزین نے محرم کی ٹرینگ خود ی۔ خون بہ جانے کیوجہ ے وہ بھی بے ہوش تھی۔ وہ ہی اس کے پاس بیٹھ گی۔ اور اس کے چہرے کی طرف دیکھنے لگی۔ بلاشبہ وہ بہت خوبصوت لڑکی تھی۔ سفید رنگ، گلابی گال، گھنیری پلکیں، اور اُس کی خوبصورتی کی سب سے بڑی وجہ اس کے چہرے کی معصومیت تھی۔ محرماں کو دیکھ کر اس پر ویسے۔۔۔
ہی پیار آرہا تھا جیسے ارحم پر آتا تھا۔ یہ لڑکی اب اس کی بہو تھی۔ اس کے بیٹے کی بیوی سب سے بڑھ کر اس کے بیٹے۔۔۔۔
کی محبت تھی۔ ڈاکٹر فرزین نے اٹھ کر اس کی پیشانی پر بوسہ دیا۔ اور دعا کی۔ للہ سب ٹھیک کر دینا۔ میں جانتی ہوں میرا بیٹا کچھ غلط ہی کر کے آیا ہے۔ لیکن کیا کروں وہ میرا بیٹا ہے۔ اکلوتا بیٹا۔۔!۔۔ جسے میں نے بڑی منت اور مرادوں سے آپ سے لیا۔ یا اللہ سب ٹھیک کر دینا۔ اور اس لڑکی کے دل۔۔۔
میں بھی میرے بیٹے کی محبت ڈال دینا۔ ماں ہوں اس کی۔ اس کے لیے خوشیاں مانگنا میر افرض ہے۔
ڈاکٹر فرزین اور سرمد آفندی نے محبت کی شادی کی۔ ڈاکٹر فرزین جب میڈیکل کالج کی سٹوڈنٹ تھی۔ تو ساتھ والی یونیورسٹی میں سرمد آفندی بزنس کا طالب علم تھا۔ ان دونوں کی ملاقات یونیورسٹی کی کینٹین پر ہوئی۔ ڈاکٹر فرزین
اپنی دوستوں کے ساتھ آئی تھی۔ پہلے ان دونوں کی آپس میں دوستی ہوئی۔ پھر کب یہ دوستی محبت میں تبدیل ہوئی۔ انہیں پتہ بھی نہ چلا۔ دونوں اکثر گھنٹوں یونیورسٹی میں بیٹھے باتیں کرتے رہتے تھے۔ ڈاکٹر فرزین کا تعلق مڈل کلاس سے تھا۔ لیکن سرمد آفندی لاہور کے ایک مشہور کاروباری خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ ابھی بھی یونیورسٹی کے بعد کاروبار کو دیکھ رہے تھے۔ اس کی ایک بہن ماہین تھی۔ جو شادی کے بعد امریکہ چلی گئی تھی۔ اپنےشوہر کے ساتھ ۔ فرزین کی ایک چھوٹی بہن نورین تھی۔ اس کے باپ کلرک تھے۔
ڈاکٹر فرزین کی پڑھائی مکمل ہونے کے بعد سرمد آفندی نے اس سے شادی کر لی۔ وہ دونوں امریکہ چلے گئے۔ لیکن دو سال گزرنے کے بعد بھی ان کی کوئی الا ور نہ ہوئی۔ ڈاکٹر فرزین ہر وقت پریشان رہتی۔ ان دونوں نے بہت علاج کروایا لیکن بچہ نہ ہوا۔ اس کی پریشانی کو دیکھتے ہوئے سرمد واپس پاکستان آگئے۔ اور لاہور میں گھر کے قریب۔۔۔۔۔
ایک ہسپتال فرزین کے نام سے بنوایا۔ تا کہ فرزین مصروف رہے۔
اسی دوران اس کی بہن نورین کی شادی ایک بنک آفیسر سے ہو گئی۔ اور شادی کے ایک سال بعد اللہ نے اسے بیٹی دی۔ جس کا نام انہوں نے نازلی رکھا۔ ڈاکٹر فرزین اپنی بھانجی سے بہت پیار کرتی تھی۔ ایک سال بعد نورین کے گھر بیٹا پیدا ہوا تو فرزین نازلی کو اپنے گھر لے آئی۔ لیکن نورین کے شوہر افضل کو یہ پسند نہیں تھا۔ اس لیے وہ نازلی کو واپس چھوڑ آئی۔۔
ڈاکٹر فرزین اپنے ہسپتال میں مصروف ہو گئی لیکن الاود کی کمی شدت سے محسوس ہوتی۔ اور وہ ہر وقت ذہنی طور پر پریشان رہتی تھی۔ آخر شادی کے سات سال بعد اللہ نے انہیں ایک بیٹا دیا۔ جس کا نام اس نے ارحم رکھا۔ ارحم کے بعد کوئی الا ور نہ ہوئی۔ ارحم فرزین اور سرمد کی کل کائنات تھی۔ ڈاکٹر فرزین نے اپنے بیٹے کی کبھی خواہش ردنہ کی۔۔
وقت گزرتا گیا۔ ارحم بڑا ہو گیا۔ اسے بھی اپنے باپ کی طرح بزنس سے دلچسپی تھی۔ اور وہ ایک پر ای ڈٹ یونیورسٹی سے ایم بی اے کر رہا ہے۔ سرمد کا بزنس پہلے بھی زیادہ وسیع ہو چکا ہے۔ اس کا شمار پاکستان کے مشہوربزنس مین میں ہوتا ہے۔
ابھی تین مہینے پہلے ارحم اسے بتاتا ہے۔ کہ اسے ایک لڑکی پسند ہے۔ وہ لڑکی شاہدرہ سے آگے ایک گاؤں میں رہتی ہے۔ وہ سید خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔۔
سال بڑی تھی۔ اور 4 ڈاکٹر فرزین کی خواہش تھی کہ وہ اپنی بھانجی نازلی کو اپنی بہو بنائے۔ جو ارحم سے ڈاکٹر بن چکی ہے۔ اور اس کے ہی ہسپتال میں کام کرتی ہے۔ لیکن جب ارحم سے بات کی تو اس نے کہا۔
مما! آپ کیسی باتیں کر رہی ہیں۔ نازلی کو میں نے ہمیشہ بہن سمجھا ہے۔ وہ میری اچھی دوست ہے۔ لیکن میں اس سے شادی نہیں کر سکتا۔۔
بیٹا! نازلی میں کیا کمی ہے۔ خوبصورت ہے۔ ڈاکٹر ہے۔ اور سب سے بڑھ کر تم اسے بچپن سے جانتے ہو۔ ساتھ کھیل کر بڑے ہوئے ہو۔ ڈاکٹر فرزین بولی۔۔ مما! پلیز مجھے محرماں سے شادی کرنی ہے۔ مجھے اس سے محبت ہو گئی ہے۔ مما! میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ کہ مجھے ایک گاؤں کی لڑکی سے محبت ہو جائے گی وہ بھی پہلی نظر میں ۔
مما ! آپ کو پتہ ہے جب میں اور علی شاہدرہ سے آگے علی کے جو رشتے دار رہتے ہیں۔ ان کے گھر گئے تھے۔ واپس آتے ہوئے ہمیں راستے میں ایک گاڑی نظر آئی۔ جس کا ایکسیڈنٹ ہو ا ہو ا تھا۔ ڈرئیوار باہر کھڑا تھا۔ میں مدد۔۔۔۔
کرنے کے خیال سے ان کے پاس گیا۔ تو ڈر ئیوار نے کہا۔۔ گاڑی سٹارٹ نہیں ہو رہی۔ اور محرماں بی بی کو چوٹ بھی لگ گئی ہے۔ پیچھے سے ایک بزرگ خاتون کار سے نکلی۔ اور کو اس نے کہا۔۔
اللہ وسایا۔ جلدی کر میری بیٹی کا خون بہہ رہا ہے۔ کا
ماں۔ اگر آپ کہے تو ہم آپ کو گھر چھوڑ آتے ہیں۔
پہلے تو وہ خاتون نہ مانی۔ پھر مان گئی۔۔۔۔
میں نے علی سے کہا ! وہ وہاں پر ہی میرا انتظار کرے۔ میں گاڑی میں بیٹھ گیا۔ اس خاتون کے ساتھ ایک اور خاتون بھی تھی۔ پھر وہ دونوں ایک لڑکی کو پکڑ کر میری کار میں لے آئی۔ جس کا چہرہ گلابی رنگ کی چادر سے ڈھکا ہوا تھا۔۔
ابھی ہم تھوڑی دور گئے تھے۔ کہ میری اچانک نظر شیشے سے پیچھے پڑی ۔ تو اس لڑکی کے چہرے سے چادر ہٹی ہوئی تھی ۔۔
مما ! وہ بہت خوبصورت ہے۔ اس کے چہرے پر عجیب سی معصومیت اور نور سا تھا۔ جس نے مجھے اپنی لپیٹ ۔۔۔
۔ لے لیا ۔ میں اس نور میں رنگ گیا۔۔۔
مما! مجھے نہیں پتہ باقی کا سفر کیسے کٹا۔ بس وہ چہرہ میری آنکھوں میں بس گیا۔۔ مما! آپ میری ماں نہیں بہترین دوست بھی ہیں۔ میں اس کے بغیر خوش نہیں رہ سکوں گا۔ آپ پلیز میرا رشتہ لے کر جائے۔۔
ارحم ۔ مجھے تو حیرت ہو رہی ہے تم پر جہ جس لڑکی کو تم جانتے یہ نہیں۔ وہ کیسی ہے، اس کا مزاج، کردار کیسا ہے۔ تم بس۔۔
اس کی خوبصورتی پر دل ہار بیٹھے ہو۔ ڈاکٹر فرزین نے کہا۔
مما ! میر ادل کہتا ہے۔ اس کا کردار بھی اس کی طرح معصوم اور اچھا ہو گا۔ ارحم بولا۔ ٹھیک ہے بیٹا میں اور تمھارے پاپا جائیں گے۔ تمھاری خوشی سے بڑھ کر ہمارے لیے کچھ نہیں۔ تم تو میری زندگی ہو۔ اگر میرے بیٹے کو پسند ہے تو وہ تمہاری ماں کی پسند ہے۔
مما ! شکریہ ، آئی لو یو۔ آپ دنیا کی سب سے اچھی ماں ہے۔ ارحم نے ماں کو گلے لگا کر کہا۔
بس کرواب۔۔!۔۔ ماں باپ کے لیے الاود سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا۔ اور اولاد تو چیز ہی ایسی ہے۔ کہ آپ اس کی ہر بات کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اللہ تمہیں خوش رکھے ۔ تمہاری ماں کی ہر خوشی ، تم سے لے کر صرف تم تک ہے۔ ڈاکٹر فرزین نے بیٹے کے سر پر بوسہ دیا اور آسمان کی طرف نظر اٹھا کر اپنے بیٹے کے لیے دائمی خوشیوں کی دعا کی۔
اکبر شاہ شاہدرہ سے آگے ایک گاؤں کیچ والی میں رہتا ہے۔ اس کی شادی اپنی تایا زاد زینب سے ہوئی۔ ان کے دو۔۔۔
بچے فیض شاہ اور محرماں شاہ ہیں۔ ان کے گھر میں پردے کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ فیض شاہ محرماں سے سات سال بڑا ہے۔ اس کی شادی ساتھ والے گاؤں کی سید فیملی کی رخسانہ سے ہوئی ہے۔ رخسانہ بد زبان اور جھگڑالو عورت ہے۔ اکبر شاہ اور فیض، محرماں سے بہت پیار کرتے ہیں۔ فیض ہر وقت اپنی بہن۔؟؟؟؟
فیض ہر وقت اپنی بہن ۔محرماں کے لاڈ اٹھاتا ہے۔ محرماں ان کے خاندان کی سب سے خوبصورت لڑکی ہے۔ فیض اور رخسانہ کا دو سال کا بیٹا۔۔۔۔
توصیف شاہ ہے۔ محرماں نے ایف۔ اے۔ تک کی تعلیم گاؤں کے کالج سے حاصل کی۔ وہ آگے پڑھنا چاہتی ہے۔ اس نے ماں سے۔۔۔
بات کی۔ تو ماں نے کہا۔۔۔
محرماں ! جتنا تم نے پڑھ لیا کافی ہے۔ اب حارث چھٹی پہ آئے گا۔ تو ہم تمہاری شادی کر دے گے۔ ماں مجھے ابھی پڑھنا ہے۔ شادی ں نو نہیں کرنی۔ بابا سے کہے مجھے لاہور کے کالج میں داخلہ دلائے۔ وہ ماں سے بولی۔ محرماں پتر ۔ اتنا پڑھ کر کیا کرے گی۔ تمہیں پتہ ہے ہمارے خاندان کی لڑکیاں اتنا نہیں پڑھتی۔ بس بیٹی بڑی ہوئی۔ اور اس کی شادی کر دیتے ہیں۔ ویسے بھی لاہور میں داخل کے لیے تمہارے بابا نہیں مانے گے ۔ ماں نے۔۔۔۔۔
اسے پیار سے سمجھایا۔
ماں ! میں فیض بھائی سے بات کروں گی۔ وہ میری بات نہیں ٹالتے۔ بابا کو وہی منائے گے۔ بیٹا۔ تمہاری بھابھی کو بھی نہیں اچھا لگے گا۔ پہلے بھی بہت ڈرتی ہوں۔ حارث کی ضد کی وجہ سے ان لوگوں نے رشتہ تو کر لیا۔ لیکن رخسانہ خوش نہیں ہے۔ اللہ تمہارے نصیب اچھے کرے۔ میں جا کر کچن میں دیکھتی ہوں۔
نوراں مائی نے کھانا بنوایا ہے یا نہیں۔ ماں اٹھ کر چلی گئی۔ ماں کے جانے کے بعد وہ سوچنے لگی۔ حارث اور میری زندگی پتہ نہیں کیسے گزرے گی۔ بظاہر تو اچھا نظر آتا ہے۔ لیکن اگر وہ بھی بھابھی کی طرح ہوا تو کیا ہو گا۔ اس کے دل میں کبھی حارث کے لیے جذبات نہیں جاگے تھے۔
حارث اس کی بھابھی کا اکلوتا بھائی ہے ۔۔۔
وہ آرمی میں جاب کرتا ہے۔ جب توصیف پیدا ہوا تو اکبر شاہ نے پوتے کی پیدائش کی خوشی میں بہت بڑی دعوت کی۔ جس میں تمام گاؤں والے اور حارث کے گھر والے آئے ہوئے تھے۔ تب محرماں بھا بھی کے کمرے میں
توصیف کے پاس بیٹھی تھی۔ اسے اپنا سرخ سفید ، گول مٹول بھتیجا بہت پیارا لگ رہا تھا۔ حارث کمرے میں آیا تو وہ بیڈ پر توصیف کے پاس بیٹھی اس سے باتیں کر رہی تھی۔ اس کے ریشمی بال اس کی کمر پر لہرا رہے تھے۔ حارث اسے دیکھتا رہ گیا۔ وہ اسے تکے جار ہا تھا۔ جب محرماں کو اپنے چہرے پر کسی کی نظروں کی تپش محسوس ہوئی۔ جب اس نے دیکھا تو کمرے کے وسط میں کھڑالڑکا اسے پر شوق نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
آپ کون ہے۔ اور کمرے میں کیسے آئے۔ اس نے جلدی سے چادر سر پر لی۔۔۔۔۔
وہ میں رخسانہ باجی سے ملنے آیا تھا۔ اور توصیف کی مبارک باد دینے آیا تھا۔ آپ کون ہے۔ یہ میری نند محرماں ہے۔ حارث تم کب آئے۔ میں ذرا باہر مہمانوں سے ملنے چلی گئی تھی۔ رخسانہ نے بھائی کو گلےلگاتے ہوئے جواب دیا۔ محرماں جلدی سے کمرے سے باہر چلی گئی۔ اور وہ دونوں بہن بھائی بیٹھ کر باتیں کرنے لگے۔۔۔۔۔
ایک ہفتے کے بعد حارث پھر رخسانہ سے ملنے آیا۔ اور اس سے کہا کہ وہ محرماں سے شادی کرنے چاہتا ہے۔ بھائی کی بات سن کر رخسانہ حیرت زدہ رہ گئی۔ اور صدمے سے بولی۔۔۔۔
نہیں باجی مجھے محرماں سے شادی کرنی ہے۔ وہ بہت خوبصورت ہے۔ سب سے بڑھ کر آپ کی نند ہے۔ باہر جانے کی کیا ضرورت ہے۔ میں نے فیصلہ کر لیا ہے۔ شادی کروں گا تو بس محرماں سے۔ آپ ابا اور اماں سے بات کرو۔ اور میرا رشتہ لے آؤ ۔ حارث یہ کہ کر چلا گیا۔ اور رخسانہ پریشان بیٹھی رہ گئی۔۔۔۔
پھر اس نے والدین سے بات کی۔ وہ تو بہت خوش ہوئے۔ لیکن وہ خود خوش نہیں تھی۔ اسے ہمیشہ محرماں سے نفرت اور حسد محسوس ہوا تھا۔ کہ اس کا ابا اور بھائی اس سے اس سے اتنا پیار کیوں کرتے ہیں۔ فیض نے کبھی اسے اتنی اہمیت نہیں دی تھی۔ جتنی اپنی چھوٹی بہن محرماں کو دیتا ہے۔ وہ گھر بھر کی لاڈلی ہے۔ گھر میں بیٹھے اس کی ہر خوائش پوری کر دی جاتی تھی۔ فیض محرماں کی بات کو حرف آخر سمجھتا تھا۔ اوپر سے وہ خوبصورت بھی بہت تھی۔ رخسانہ کا دل کرتا تھا۔ اس کے بس میں ہو تو محرماں کو اپنی زندگی سے نکال کر کسی سمندر میں پھینک آئے۔ جہاں سے وہ کبھی واپس نہ آسکے ، گاؤں کی عورتیں بھی آکر محرماں کی خوبصورتی، معصومیت اور پاکیزگی کے گن گاتی تھی۔ کہ محرماں بی بی کتنی معصوم اور خوبصورت ہے۔ رخسانہ کا بس نہیں چلتا تھا۔ کیا کرے۔ اب اوپر سے اس کے بھائی حارث کو بھی لڑکی پسند آئی تو وہ محرماں۔ تواب ہر جگہ سسرال اور میکے میں محرماں کی خوبصورتی کے چرچے ہو گے ۔ شاہد رخسانہ کی قسمت میں پس منظر میں ہی
رہنا لکھا تھا۔ پہلے تو فیض ، حارث کے رشتے کے لیے نہیں مانے کہ ابھی محرماں بہت چھوٹی ہے۔ اور یہ کہ وہ ابھی آگے پڑھناچاہتی ہے۔ بٹیا ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ آپ اسے پڑھائے۔ بس میرے حارث کے رشتے کے لیے ہاں کر دے۔ یہ ہماری خوش قسمتی ہوں گی اور جہاں تک شادی کی بات ہے۔ وہ محرماں کی تعلیم مکمل ہونے پر کرے گے۔ رخسانہ کے ابا
بولے۔ ابا۔ آپ نے سنا نہیں کہ فیض کو رشتہ منظور نہیں۔ اور محرماں کا بھائی نہیں بلکہ بیٹیوں کی طرح پالا ہے اسے۔ وہ محرماں کے لیے غلط فیصلہ تھوڑی کرے گے۔
کیوں فیض ! میں ٹھیک کہہ رہی ہوں نا۔ رخسانہ نے اپنی بات کی تائید فیض سے چاہی۔
ہاں اچھا۔ رخسانہ ٹھیک کہہ رہی ہے۔ محرماں صرف میری بہن نہیں بلکہ بیٹی ہے۔ اور رخسانہ کے والد حیران تھے کہ ان کی بیٹی بھائی کے رشتے کی حمایت کرنے کی بجائے مخالفت کر رہی ہے۔ وہ پھربھی بولے۔ بھائی صاحب۔ آپ ایک دفعہ پھر سوچے۔ حارث گھر کا بچہ ہے۔ محرماں بیٹی کو خوش رکھے گا۔ اس نے اکبر شاہ سےکہا۔ ٹھیک ہے۔ مجھے رشتہ منظور ہے۔ ابھی کوئی چھوٹی سی رسم کر لیتے ہیں۔ شادی محرماں کی تعلیم مکمل ہونے کے بعد کر لیں گے۔ اکبر شاہ نے رشتہ کے لیے ہاں کر دی۔ انہوں نے یہی سوچا کہ دیکھ بھال لڑکا ہے۔ اس کی محرماں کوخوش رکھے گا۔
لیکن ابا۔ فیض جلدی سے بولا۔
فیض ای حرماں میری ہی ہے جو فیصلہ کروں گا۔ چیک کروں گا۔
فیض چپ ہو گیا۔ پھر ایک چھوٹی سی رسم کر کے اسے حارث کی منگیتر بنا دیا گیا۔ گھر میں محرماں اور رخسانہ کے علاوہ تقریباسب خوش تھے۔ رخسانہ محرماں کو بھا بھی نہیں بنانا چاہتی تھی۔ اور محرماں ابھی ذہنی طور پر اس رشتے کے لیے تیار نہیں تھی۔
محرماں نے فیض سے لاہور میں اپنے ایڈمیشن کی بات کی۔ پہلے تو فیض رضامند نہیں ہوا۔ محرماں ! وہاں اتنی چالاک لڑکیاں ہوں گی۔ تمہیں کھا جائے گی۔ میں تمہیں کتا بیں لا دیتا ہوں۔ تم گھر میں تیاری کر۔
کے پیپر دے دینا۔؟؟
بھائی۔ میں اب بڑی ہو گئی ہوں۔ چھوٹی بچی نہیں رہی۔ آپ ابھی بھی مجھے بچی سمجھتے ہیں۔ محرماں منہ پھلا کر بولی۔ محرماں۔ میرے لیے تو ہمیشہ چھوٹی رہے گی۔ تم کبھی اس حویلی سے باہر نہیں گئی۔ پہلے ابو کے بنائے کالج میں پڑھتی رہی۔ جو گھر کے پاس ہے۔ اور ساری لڑکیاں تمہیں اکبر شاہ کی بیٹی ہونے کی وجہ سے بڑی عزت دیتی تھی۔ باہر حالات بہت خراب ہیں۔ مجھے ڈر لگتا ہے۔ تمہیں کچھ ہو نہ جائے۔ فیض فکر مندی سے بولا۔ بھائی ! کچھ نہیں ہو گا۔ آپ ابو سے بات کرے۔ پلیز میری خاطر بھائی مان جائے۔ وہ روہانسی ہو کر بولی۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اچھا ٹھیک ہے۔ رونامت۔ میں ابو سے بات کرتا ہوں۔ اور تمہاری بھا بھی اور توصیف کو دیکھ لوں۔ ورنہ ناراض ہو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
جائے گی۔ اور دونوں بہن بھائی ہنسنے لگے۔
فیض شاہ نے اکبر شاہ کو منالیا۔ لیکن اکبر شاہ نے کہا کہ خواتین کی یونیورسٹی میں داخل کرواؤں۔ پھر فیض شاہ ، رخسانہ اور اماں اس کے ساتھ گئے۔ اور فیض شاہ نے اسے لاہور کی خواتین یونیورسٹی میں داخلہ لے کر دیا۔ واپسی پر فیض کو کوئی کام تھا۔ اس نے اللہ وسایا سے کہا کہ خواتین کو گاؤں چھوڑ کر آئے پھر مجھے لے جائے۔ واپسی پہ گھر سے تھوڑی دور اللہ وسایا کی آنکھ لگ گئی۔ اور گاڑی درخت سے ٹکراگئی۔ جس سے گاڑی کا نقصان تو ہوا ۔ لیکن محرماں کے ماتھے پر گاڑی کا شیشہ ٹوٹ کر لگا۔ اور خون بہنے لگا۔ جس سے وہ بے ہوش ہو گئی۔ رخسانہ اور زینب بہت پریشان ہو گئی کہ فیض شاہ ناراض ہو گا۔ اللہ وسایا بھی پریشان تھا کہ فیض شاہ نے اسے ذمہ داری سونپی اور وہ پوری نہ کر سکا ٹھیک طرح سے۔ اتنے میں ایک گاڑی ان کے پاس آکر رکی۔ جس میں سے دولڑ کے نکلے ۔ دونوں حلیے سے شہر کے باسی لگ رہے تھے۔ ان میں سے ایک لڑکے نے کہا یہ کیا ہوا۔ پھر اس نے کہا وہ گھر چھوڑکر آتا ہے۔۔۔
پہلے تو زینب بی بی نہ مانی کہ گاؤں والے کیا سوچیں گے کہ سید زادیاں ایک اجنبی لڑکے کے ساتھ آرہی ہیں۔ وہ تو____
آج تک کسی غیر مرد کے ساتھ کبھی نہیں گئی تھی۔ وہ بات کر کے واپس گاڑی میں بیٹھنے لگی تھی۔ لیکن محرماں کی پیشانی سے بہتے ہوئے خون کو دیکھ کر پریشان ہو گئی ۔ لڑکے کی بات مان گئی۔ اور محرماں کو چادر اچھی طرح لپیٹ کر باہر نکالا۔ اور اس لڑکے کی گاڑی میں بٹھا دیا۔ اللہ وسایا بھی ساتھ گیا۔ اس طرح وہ لڑکا انہیں گھر چھوڑ آیا۔
فیض جب گھر واپس آیا۔ تو پوری بات سن کر اللہ وسایا پر بہت ناراض ہوا۔ تم اندھے ہو کر گاڑی چلا رہے تھے۔ تمہیں پتہ بھی تھا ساتھ گھر کی عورتیں ہیں۔ پھر ایک اجنبی کے ساتھ انہیں۔۔
■۔۔۔لے کر گھر آگیا۔۔۔■
شاہ جی۔ بڑی اماں نے کہا تھا تو میں لے آیا۔ اللہ وسایا بولا۔
بس کرو اللہ وسایا مجھے تم سے اس طرح کی لاپرواہی کی امید نہیں تھی۔ دور ہو جاؤ میری نظروں سے۔ یوں محرماں کا یونیورسٹی میں داخلے کا پہلا دن کچھ نہ رہا۔ وہ ماتھے پر زخم ہونے کی وجہ سے پہلے ہفتہ کی کلاسیں نہ لے سکی۔ اس کے بعد وہ جانے لگی۔ فیض شاہ خود بہن کو یونیورسٹی لے جاتا اور واپس لے آتا۔ اُس دن کے بعد اُس نے۔۔
۔۔۔اللہ وسایا پر بھروسانہ کیا۔۔۔۔
ارحم آفندی نے ڈاکٹر فرزین پر زور ڈالنا شروع کر دیا۔ وہ رشتہ لے جائے۔ شروع میں تو سر مد نہ مانے۔ پھر بیٹے کی محبت میں مان گئے۔ اور رشتہ لے کر اکبر شاہ کی حویلی چلے گئے۔ سرمد باہر بیٹھے اور ڈاکٹر فرزین گھر کے اندر چلی گئی
۔ رخسانہ اسے دیکھ کر بولی۔
آپ ڈاکٹر فرزین ہیں نا۔ لاہور کی مشہور ڈاکٹر۔۔۔
جی آپ نے درست پہچانا۔ میں ڈاکٹر فرزین ہوں۔ وہ دھیمے لہجے میں بولی۔ نوراں ، جنت آؤ ۔۔ دیکھو ڈاکٹر فرزین آئی ہے۔ یہ لاہور کی بہت بڑی ڈاکٹر ہے۔ اور ان کا اپنا ہسپتال ہے۔ ان کے شوہر بھی بہت بڑے آدمی ہیں۔ رخسانہ ہاتھ لہر الہرا کر ملازماؤں کو اس کے بارے میں بتارہی تھی۔ اور ڈاکٹر فرزین شرمندہ ہو رہی تھی۔ اپنی اتنی تعریف سن کر ۔
اتنے میں زینب بی بی آگئی۔ وہ بڑے احترام سے ڈاکٹر فرزین سے ملی۔ اور نوراں کو چائے لے آنے کے لیے کہا۔ ڈاکٹر فرزین بھی اس باوقار خاتون سے متاثر ہو ہیں۔ اتنے میں محرماں یونیورسٹی سے آگئی۔ اسلام علیکم۔ اس نے۔۔۔
۔۔۔سب کو سلام کیا۔۔۔۔
و علیکم السلام ۔ ڈاکٹر فرزین نے سلام کا جواب دیا۔ اور کالے رنگ کی چادر میں اس گلابی مکھڑے والی لڑکی کو دیکھا ۔ جو شاہد اپنی عمر سے چھوٹی لگتی تھی۔ تھی اور انہیں اپنے بیٹے کی پسند دل سے اچھی سکول جانے والی لڑکی لگ رہی۔۔۔۔
لگی۔۔۔۔
محرماں کمرے میں چلی گئی۔
یہ کون ہے۔۔۔!۔۔ ڈاکٹر فرزین نے پوچھا۔۔۔؟؟
یہ میری بیٹی محرماں ہے۔ زینب نے بتایا۔۔۔۔
ماشا اللہ ۔ بہت پیاری بچی ہے۔ ڈاکٹر فرزین نے کہا۔۔۔
اتنے میں اللہ وسایا اسے بلانے آگیا۔۔۔۔
اتنی جلدی ابھی تو آئی ہے۔ بیٹھے آپ ڈاکٹر صاحبہ ۔ رخسانہ جلدی سے بولی۔
نہیں شکریہ ۔ پھر کبھی آؤں گی۔ یہ کہہ کر ڈاکٹر فرزین چلی گئی۔۔۔۔۔
راستے میں سرمد نے اسے بتایا کہ محرماں کی منگنی ہو چکی ہے۔ اور اس کی جلد شادی ہونے والی ہے۔ ڈاکٹر فرزین یہ سن کر پریشان ہو گئی۔ ارحم کو کیا بتائے گی۔ وہ بھولی سی صورت والی لڑکی ان کے من کو بھی بھا گئی تھی۔ گھر پہنچے
تو ارحم بے صبری سے ان کا انتظار کر رہا تھا۔ علی بھی موجود تھا۔ مما! جلدی سے بتائے۔ کیا کہا ان لوگوں نے آپ بات پکی کر آئی ہے نا۔ ارحم بے صبری سے بولا۔ ارحم بیٹا۔ ابھی میں تھک گئی ہوں۔ رات کو بات کرے گے ڈاکٹر فرزین اپنے کمرے کی طرف جانے لگی۔
مما! آپ مجھے ابھی بتائے اسے لگ رہا تھا کچھ گڑ بڑ ضرور ہے۔ ارحم فکر مندی سے بولا۔ ارحم بیٹا بیٹھو۔ میں سب بتاتا ہوں۔ سرمد آفندی بولے۔ دونوں صوفے پر بیٹھ گئے۔ اور سرمد نے اسے بتایا کہ۔ بیٹا اس کی شادی ہونے والی ہے۔ وہ کسی اور کی منگیتر ہے۔
نہیں پایا۔ ایسا نہیں ہو سکتا۔ وہ صرف میری ہے۔ میرے دل نے صرف اسے چنا ہے۔ وہ کسی اور کی کیسے ہو سکتی ہے۔ ارحم بیٹا۔ جو میں بتارہا ہوں حقیقت یہی ہے۔ تم اسے بھول جاؤ ۔ جہاں تم کہو گے ۔ میں تمہاری وہاں شادی کروںگا۔ میرے بزنس سرکل میں ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت لڑکی ہے۔ سرمد بولے۔ پاپا۔ مجھے نہیں پتہ دنیا میں کتنی خوبصورت لڑکیاں ہیں۔ مجھے صرف ایک لڑکی سے شادی کرنی ہے۔ اور وہ صرف محرماں ہے۔ اس کے علاوہ اور کوئی نہیں۔ وہ تیز تیز بولتا کمرے میں چلا گیا۔ ارحم ! فرزین پکارتی رہ گئی۔ سرمد ۔ آپ تھوڑا صبر کر لیتے۔ میں اسے سمجھا دیتی۔ اتنی جلدی کس بات کی تھی۔ فرزین وہ کوئی کھلونا نہیں ہے جس کی تم ڈبل قیمت ادا کر کے اپنے بیٹے کے لیے لے آؤ گی۔ وہ ایک جیتی جاگتی لڑکی
ہے۔ اس کے خاندان والے نہیں مان رہے۔ تو میں کیا کر سکتا ہوں۔
علی بیٹا۔ آپ ذرا جا کر ارحم کو دیکھو۔ ڈاکٹر فرزین نے علی سے کہا۔
ٹھیک ہے آنٹی میں دیکھتا ہوں اُسے۔ علی چلا گیا۔ ڈاکٹر فرزین سرمد کو سمجھانے لگی۔ اتنے میں ارحم کے کمرے سے آوازیں آنے لگی۔ ڈاکٹر فرزین اور سر مد بھاگ کر او پر گئے تو ارحم کمرے کی ہر چیز توڑ رہا تھا۔ اس نے قیمتی ڈیکوریشن پیس کیا ہر چیز کا حلیہ بگاڑ دیا تھا۔ ڈاکٹر فرزین حیرت سے اپنے بیٹے کو دیکھے جارہی تھی۔ انہیں اپنے بیٹے سے اتنی شدت پسندی کی امید نہیں تھی۔ کبھی بیٹے کی طرف دیکھتی کبھی سرمد کی طرف جیسے اس سے شکوہ کر رہی ہو۔ کہ ارحم کی اس حالت کے ذمہ دار آپ ہیں۔ علی ارحم کو سنبھالنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ارحم کمرے کے وسط میں بیٹھ کر رونے لگا۔ ڈاکٹر فرزین بیٹے کے پاس آکر دوزانوں بیٹھ گئی۔
ارحم بیٹا۔
مما! آپ کے بیٹے کو اس سے محبت ہو گئی ہے۔ میں نہیں رہ پاؤں گا اس کے بغیر مما! پلیز کچھ کرے۔ وہ اپنے ہوش میں نہیں لگ رہا تھا۔ چھوٹے بچے کی طرح اپنی ماں سے ایک لڑکی کے لیے ضد کر رہا تھا۔ Don’t worry my بیٹا! میں سب ٹھیک کر دوں گی۔ - dear sonڈاکٹر فرزین نے بیٹے کوگلے لیا۔
ڈاکٹر فرزین اور سر مد آفندی اس کے بعد دو دفعہ اکبر شاہ کے پاس گئے۔ لیکن اکبر شاہ اور فیض شاہ نہ مانے۔ سرمد آفندی نے ہر طرح سے ان لوگوں کو منانے کی کوشش کی۔ لیکن وہ نہ مانے۔ اکبر شاہ نے کہا۔
اگر میری بیٹی حارث کی امانت نہ بھی ہوتی۔ تو بھی میں سید خاندان سے باہر کبھی اپنی بیٹی کارشتہ نہ کرتا۔ ہم سید
خاندان کے باہر اپنی بیٹیاں نہیں دیتے۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر فرزین اور سرمد مایوس ہو کر واپس آگئے۔ اور ارحم کو محرماں کو بھول جانے کے لیے کہہ دیا۔ ارحم چپ چپ رہنے لگا۔ یونیورسٹی جاتا۔ واپس آکر آفس چلا جاتا۔ اس موضوع پر دوبارہ کوئی بات نہ ہوئی۔ ڈاکٹر فرزین اور سرمد سمجھے کہ ارحم نے حالات سے سمجھوتہ کر لیا ہے۔ اور اس لڑکی کو بھولنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے بھی اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا۔
وہ نہیں جانتے تھے کہ ارحم محرماں کو بھولا نہیں۔ بلکہ اُسے پانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ ارحم نے علی کے ساتھ مل کر محرماں کی یونیورسٹی کا پتہ لگایا۔ اور اس کے آنے جانے کے بارے میں معلومات حاصل کی۔ محرماں کو بھائی چھوڑنے اور لینے آتا تھا۔ اکثر فیض لیٹ ہو جاتا تھا۔ اور محرماں کو انتظار کرنا پڑتا تھا۔ اس چیز کا اس نے فاہدہ اٹھایا۔ اور ایک دن چھٹی کے فورا بعد یونیورسٹی گیٹ پر پہنچ گئے۔ علی علی نے یونیورسٹی کے گیٹ پر کھڑے گارڈ کو محرماں کو
بلانے کے لیے کہا۔۔۔۔۔۔
محرماں گیٹ سے باہر آئی۔ اسے فیض بھائی نظر نہ آیا۔ اتنے میں ایک لڑکا اس کے پاس آکر بولا۔
محرماں بی بی۔ آپ کے بھائی اس گاڑی میں انتظار کر رہے ہیں۔ گاڑی تو فیض بھائی کے پاس نہیں محرماں اس کے ساتھ چلنے لگی۔ لیکن گاڑی کے قو ، قریب پہنچ کر اس نے دیکھا۔ یہ ہے۔ اسے کچھ گڑ بڑ کا احساس ہوا۔ وہ واپس مڑنے لگی تھی۔ کہ پیچھے سے کسی نے اس کے منہ پر رومال رکھ دیا۔ اور وہ بے ہوش ہو گئی۔ علی اور ارحم نے اسے گاڑی میں ڈالا۔۔۔۔۔۔
سکیورٹی گارڈ دیکھ کر پیچھے بھاگا۔ لیکن تب تک گاڑی چل پڑی تھی۔ اس نے گاڑی کا نمبر نوٹ کر لیا۔ اس لڑکی کو اس یونیورسٹی آتے ہوئے تین ماہ ہوئے تھے۔ ہر وقت نقاب کیسے رکھتی تھی۔ گارڈ نے سوچا کہ اس کے بھائی کو فون کرے۔ لیکن اس کے پاس تو نمبر نہیں تھا۔ چلوا بھی لینے آئے گا تو بتاتا ہوں۔
فیض شاہ گاڑی دوڑا کر گاؤں پہنچا۔ رخسانہ کو اُتارا اور اس سے بولا۔۔۔۔۔۔۔۔
کسی کو ابھی اس بات کا پتہ نہیں چلنا چاہیے۔ اور گاڑی بھگا کر لے گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پتہ تو چلے گا سب کو فیض شاہ۔ رخسانہ نے خود کلامی کی۔ رخسانہ یہ موقع ضائع نہیں کرے گی۔ سامنے اسے اللہ وسایا آتا نظر آیا۔ جو شاہد کہیں جارہا تھا۔ اللہ وسایا۔ میری بات سنو۔ ایک کام ہے تم سے۔ رخسانہ اس سے بولی۔۔۔۔۔۔
جی بی بی جی۔ آپ حکم کریں۔ وہ ادب سے بولا۔ جو بات میں کر رہی ہوں۔ اسے غور سے سنو۔ محرماں یونیورسٹی سے کسی لڑکے کے ساتھ بھاگ گئی ہے۔ یہ بات پورے گاؤں کو شام ہونے سے پہلے پتہ چل جانی چاہیے۔
نہیں بی بی جی۔ میں ایسا نہیں کر سکتا۔ میں نے اس گھر کا نمک کھایا ہے۔ اور ویسے بھی محرماں بی بی ایسا کر ہی نہیں سکتی۔ اللہ وسایا نے نفی میں سر ہلایا۔
تمہاری محرماں بی بی ایسا کر چکی ہے۔ ویسے اللہ وسایا جس دن یونیورسٹی سے واپسی محرماں کو چوٹ لگی تھی۔ فیض شاہ نے تمہاری کتنی بے عزتی کی تھی ایک دفعہ نہ سوچا کہ تم کتنے سالوں سے اس گھر کی خدمت کرتے آئے ہیں تمہاری بیوی ماں سب ہماری خدمت کرتی ہیں۔ کیا ملا ہے تمہیں۔ بولو۔ رخسانہ نے اسے جذباتی کرنے کی کوشش کی ۔۔۔۔۔
لیکن محرماں بی بی۔ اللہ وسایا ڈھیلا پڑ چکا تھا۔ اللہ وسایا۔ میں تمہیں اس کام کی قیمت دوں گی۔ وہ بھی منہ مانگی۔ رخسانہ نے کہنے کے ساتھ ہی بیگ سے کچھ پیسے
نکال کر اللہ وسایا کو دے دیے۔
بی بی جی ۔ اگر کسی کو پتہ چل گیا یہ بات میں نے پھیلائی ہے۔ اللہ وسایا بولا۔ یہ سب اب تم پر منحصر ہے۔ کہ تم کیسے یہ کام کرتے ہو۔ بس شام تک کا ٹائم ہے۔ رخسانہ کہہ کر حویلی میں چلی گئی ۔ اندر گئی تو زینب بی بی نوراں مائی کے ساتھ مل کر اچار بنا رہی تھی۔ کیونکہ محرماں کو اچار بہت پسند ہے۔ کمرے میں آکر اس نے چادر بیڈ پر پھینک دی۔ اور صوفے پر بیٹھ گئی۔ اس کے چہرے پر لمبی سی خوشی تھی۔ اس نے ایک تیر۔۔۔۔
سے دو شکار کیے تھے۔۔۔۔
محرماں بی بی۔ دیکھو اب کیا ہوتا ہے۔ نہ تم فیض شاہ کی پیاری بہن رہو گی۔ اور نہ حارث کی محبوبہ ۔ بدنامی کے سوا
اب تمہاری قسمت میں کچھ نہیں ہے۔۔۔۔
افسوس۔۔۔۔۔۔ بے چاری۔۔۔۔۔۔ ! معصوم ، پاکیزہ جس کے کردار کی گواہی گاؤں دیتا تھا۔ اب وہی گاؤں تم پر تھو تھو کرے گا۔ میرے حصے کی خوشیاں تم لیتی تھی۔ اب میں لوں گی۔ اور تم رؤں گی۔۔۔۔
ویسے محرماں کو اغوا کس نے کیا۔ مجھے کیا جو اغوا کرے۔
ہاہاہا۔۔۔۔ فیض شاہ آج تمہارے ساتھ بازار جانا کام آگیا۔ اور وہ یونیورسٹی کے سکیورٹی گارڈ کے بارے میں سوچنے لگی۔ گارڈ نے اسے بتایا کہ محرماں کو اغوا کیا گیا ہے۔ دو لڑکوں نے اسے بے ہوش کر کے گاڑی میں ڈالا اور کہیں۔۔۔۔
لے کر گے ہیں۔ گاڑی کا نمبر اسے پتہ ہے۔ لیکن رخسانہ نے اسے پیسے دے کر اس کا منہ بند کروادیا۔ رخسانہ نے
گارڈ کا نمبر ملایا اور بولی۔
ہاں جی۔ آپ کو اور پیسے مل جائے گے۔ بس اپنا منہ بند رکھنا۔ وقتا فوقتا تمہیں پیسے ملتے رہے گے۔ رخسانہ نے فون بند کیا اور اٹھ کر واش روم میں چلی گئی۔
ارحم محرماں کو لے کر کریم کے فلیٹ پر آگیا۔ کریم کا جنوبی پنچاب سے تعلق تھا۔ وہ یہاں پڑھنے کے لیے آیا ہوا ہے ۔۔۔
محرماں ابھی بھی بے ہوش تھی۔ ارحم اسے بیڈ پر لٹا کر باہر آگیا۔ علی، یار ۔ ذیشان ابھی مولوی کو لے کر آیا نہیں۔ میں چاہتا ہوں اسے جلدی سے واپس چھوڑ آؤں۔ ارحم بات کر رہا تھا۔ کہ ذیشان مولوی کے ساتھ اندر آگیا۔ ارحم جلدی سے اندر بھاگا۔ لیکن محرماں ابھی بے ہوش پڑی تھی۔ اس کے سر سے چادر تھوڑی سرک گئی تھی۔ اور اس کے بال نظر آرہے تھے۔ ایک لٹ اس کے چہرے پر آئی ہوئی تھی۔ ارحم اسے دیکھتے دیکھتے قریب آگیا۔ اُس نے اپنا ہاتھ بڑھا یالٹ کو ہٹانے کے لیے کہ
دروازے پر دستک ہوئی۔
ارحم ، یار جلدی سے بھابھی کو لے کر باہر آ۔ واپس یونیورسٹی بھی جانا ہے۔ ہاں ہاں۔ علی میں آ رہا ہوں۔ اس نے واپس مڑ کر دیکھا تو محرماں کو ہوش آگیا تھا۔ وہ ایک اجنبی کو کمرے میں دیکھ کر حیران رہ گئی تھی۔ سب سے پہلے چادر ٹھیک کی۔ اور کمرہ بھی کوئی اور تھا۔
میں ۔۔۔۔ کدھر ہوں۔۔۔۔۔ آپ۔۔۔۔۔ کون ہیں۔۔۔۔۔ میں یہاں۔۔۔۔ اس کا سر چکرانے لگا۔ اسے پتہ چل گیا تھا۔ کہ اسے شاہد اغوا کیا گیا ہے۔
میں ارحم آفندی۔۔ محرماں۔ پیار سے بولا۔
مجھے یونیورسٹی جانا ہے۔ محرماں جلدی سے دروازے کی طرف بڑھی۔ اس سے پہلے کہ وہ باہر نکلتی۔ ارحم نے بازو سے پکڑ کر پیچھے کھنچا۔ وہ لڑکھڑا کر اس کے سینے سے جا کر لگی۔ وہ جلدی سے پیچھے ہٹی اور جلدی سے چادر ٹھیک کی۔
مجھے جانے دو پلیز۔ وہ التجا کرتی ہوئی بولی۔
آپ نہیں جا سکتی۔ ارحم نے اسے اپنی نظروں کی حصار میں لیتے کہا۔۔۔۔
کیوں۔۔۔ آپ کون ہے اور مجھ سے کیا چاہتے ہیں۔ کیا بگاڑا ہے میں نے آپ کا۔ کیوں لائے ہو مجھے یہاں۔ میں تو آپ کو جانتی بھی نہیں۔ کیوں کیا ہے آپ نے مجھے اغواہ ۔۔۔!۔۔ وہ زور سے چینی ۔
بولو۔ کیوں اغوا کیا مجھے ۔۔۔!
مجھے آپ سے نکاح کرنا ہے۔ اس لیے اغوا کیا ہے آپ کو۔ ارحم پر سکون لہجے میں بولا۔ کیا۔۔۔۔۔۔ ! محرماں کی حالت تو ایسی تھی کہ کاٹو تو بدن میں جان نہیں۔ وہ حیرت سے اس اجنبی نوجوان کو دیکھے جا۔۔۔
ایک خوبرو نوجوان تھا۔ وہاسے زبر دستی اغواکر کے یہاں لے یا تھا۔ اور ا کہہ رہا تھا کہرہی تھی۔ جو بلا شبہ اس سے نکاح کرنا ہے۔۔۔۔
اسے۔ لگا کمرے کی چھت اس پر آن گری ہے۔
نہیں۔۔
فیض شاہ نے ہر جگہ محرماں کو تلاش کیا۔ ہسپتالوں میں ڈھونڈا، پارک ، مردہ خانہ ہر جگہ دیکھا۔ محرماں کہیں نہ ملی۔۔۔۔
وہ جب گاؤں پہنچا تو رات کے ایک بج رہے تھے۔ حویلی کے باہر گاؤں کے لوگوں کا ہجوم دیکھ کر وہ پریشان ہو
گیا۔ گاڑی سے نکل کر تقریبا بھاگتا ہو اگھر میں داخل ہوا۔ سامنے ابا سر پکڑے بیٹھے تھے۔ بے چارہ۔ ساری رات بہن کو ڈھونڈ تارہا۔ اللہ ایسی بہن کسی کو نہ دے۔ خاندان کی عزت خاک میں ملا دی۔ ایک عورت کی آواز آئی۔۔؟؟
جی فضلہ بہن ! آپ ٹھیک کہہ رہی ہو۔ پڑھائی کا بہانہ بنا کر محرماں بی بی شہر گئی۔ اور کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہے۔
اللہ تو بہ تو بہ ۔۔۔ ! دوسری نے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا۔ بس کرو۔۔۔ ! اور آپ سب اپنے گھر کو چلے جائے ۔ فیض شاہ زور سے چیخا۔ گاؤں کی عور تیں بھی حویلی میں جمع ہوئی تھی ۔۔
ہمیں بھیجنے سے کیا تمہاری عزت واپس آجائے گی۔ چلو بہنوں۔۔۔ سب گھر چلتی ہیں۔ بھلائی کا زمانہ نہیں ہے۔ ہم لوگ تو ہمدردی میں یہاں موجود تھے ۔ آخر گاؤں کا سب سے شریف گھر سمجھا جاتا تھا۔ چلو۔ ہمیں بھی کوئی شوق
نہیں اپنی بے عزتی کروانے کا۔ فضلہ نے باتیں سنائی۔ اور باقی سب عورتوں کے ساتھ باہر چلی گئی۔
اللہ وسایا۔۔۔ ! فیض شاہ زور سے دھاڑا۔ حویلی کے درو دیوار ہل گئے۔
جی شاہ جی۔ اللہ وسایا تھر تھر کانپنے لگا۔
گاؤں والوں کو یہ بات کس نے بتائی۔ کیسے پتہ چلا ان کو۔ فیض شاہ نے اسے بازو سے سختی سے پکڑتے ہوئے کہا۔
شاہ جی ۔۔۔ مجھے۔۔۔ مجھے نہیں پتا۔ تو جاؤ پتا کرو۔ کس نے یہ گستاخی کی۔ دفعہ ہو جاؤ میری نظروں کے سامنے سے۔ فیض شاہ نے اللہ وسایا کو زور سے دھکا دیا۔ فیض شاہ ! ایسی باتیں بھلا کہاں چھپی رہتی ہیں۔ آج نہیں تو کل پتہ چل ہی جانا تھا۔ جب تمہاری اپنی بہن نے تمہاری اور بابا کی عزت کے بارے میں نہ سوچا۔ باقی لوگوں سے کیا امید ۔ رخسانہ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ۔۔
رخسانہ ! تم اپنی بکواس بند کرو۔ فیض نے سختی سے اس کا ہاتھ جھٹکا۔۔۔۔
مجھ پر غصہ کرنے سے کیا ہو گا۔ میں جانتی ہوں مجھے محرماں سے بھا بھی والی تھوڑی جلن ہوتی تھی۔ لیکن اب وہ۔۔۔۔
میری بھا بھی بنے والی تھی۔ ہائے۔۔۔۔ ہائے۔۔۔۔ عزت تو میرے بھائی کی خاک میں ملی۔ دنیا والوں کو کیا بتائے گے کہ اس کی منگیتر بھاگ گئی۔ رخسانہ !۔۔۔ چٹانے کی آواز آئی۔ فیض نے زور سے تھپڑ اس کے منہ پر مار دیا۔ رخسانہ لڑکھڑا کر گر گئی۔
تم نے مجھے تھپڑ مارا۔ رخسانہ غصے سے بولی۔ بے غیرت انسان۔ بہن گھر سے بھاگ گئی اور بھائی بیوی کو مار رہا ہے۔ رخسانہ دانت چبا کر بولی۔ فیض۔ چپ کر جا۔ اندر جا۔ محرماں نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا ہے۔ تمہیں کہتا تھا۔ بہن کو اتناسر پر نہ چڑھاؤ۔ آگے پڑھانے کی کیا ضرورت تھی۔ تو یوں آج ہمارے سر میں خاک ڈال کر نہ جاتی۔ بابا نے فیض کے پاس آکر کہا۔۔۔
اور ایک تمہاری ماں اس وقت سے نیم بے ہوش پڑی ہے۔ جا جا کر اسے دیکھ۔ فیض ماں کے کمرے میں آگیا۔ وہ وہ جائے نماز پر بیٹھی دعا مانگ رہی تھی۔ فیض نیچے ان کے پاس بیٹھ گیا۔ ماں۔ یہ کیا کر دیا محرماں نے ہمیشہ کے لیے میر ا سر جھکا دیا۔ میں اسے کبھی معاف نہیں کروں گا۔ ایک دفعہ میرے ہاتھ لگ جائے۔ پھر کیا حشر کر تا ہو اس کا دنیادیکھے گی۔ کتا پیار دیا ہے۔ اور اس کے بدلے میں بھائی کو دیا۔ فیض غصے میں اٹھ کر ٹہلنے لگا۔۔۔۔
کیا فیض بیٹا ! بات سنو، یہ بھی تو ہو سکتا ہے۔ وہ کسی مصیبت میں پھنس گئی ہو۔ اماں بس کرے۔ ایسا کچھ نہیں ہوا۔ سارے ہسپتال دیکھ کر آرہا ہوں۔ سب ختم ۔ اب اس گھر میں کوئی اس کا نام۔۔
نہیں لے گا۔ فیض بولتے ہوئے کمرے سے باہر چلا گیا۔
رخسانہ جو دروازے کی اوٹ میں کھڑی تھی۔ مسکرانے لگی۔ یہی تو سب چاہتی تھی۔ فیض کے دل سے بہن کی محبت نکل جائے۔ اور قدرت نے اسے کتنا حسین موقع دیا تھا۔ رخسانہ بیٹا۔ جاؤ فیض کو سمجھاؤ تم ۔ زینب نے رخسانہ سے التجا کی۔۔۔۔
جی اچھا! کہہ کر وہ چلی گئی۔ اور زینب بی بی جائے نماز پر بیٹھ کر بیٹی کی سلامتی کی دعا ہیں مانگنے لگی۔ انہیں ایسا لگ رہا تھا۔ جیسے محرماں کسی مشکل میں ہو۔۔۔۔
یا اللہ میری بیٹی کی حفاظت کرنا۔ وہ ایسی نہیں ہے۔ میں ماں ہوں۔ اسے پالا ہے۔ جانتی ہوں اسے۔ بس ااپ اس پر اپنا کرم کرنا۔ وہ رو رو کر دعامانگنے لگی۔
محرماں دوائیوں کے زیر اثر صبح تک سوئی رہی۔ اس کی آنکھ کھلی تو اس نے اپنے آپ کو ہسپتال کے بستر پر پایا۔ آہستہ آہستہ اس کا دماغ بیدار ہونے لگا۔ اور اس کے ذہن میں پچھلے تمام واقعات ایک فلم کی طرح چلنے لگے۔ کسی طرح اسے اغوا کیا گیا۔ اور زبر دستی اس سے نکاح پڑھوایا گیا۔ اسے وہ سب ایک ڈروانا خواب لگا۔ آنکھ بند کر۔۔۔۔۔
دوبارہ کھولی اور ادھر ادھر دیکھا۔ لیکن وہ سب خواب نہیں سچ ہے۔ محرماں کی آنکھوں سے اپنی بے بسی پر آنسو بہنے لگے۔۔۔۔
بابا اور بھائی نے میرے بارے میں کیا سوچا ہو گا۔ وہ مجھے ڈھونڈ رہے ہوں گے ۔ ماں کتنی پریشان ہو گی۔ نکاح کا کیسے۔۔۔
بتاؤں گی۔ کیسے برداشت کرے گے وہ یہ سب۔ اسی اثنا میں دروازہ کھلا اور جو شخصیت اندر آئی۔ اسے دیکھ کر وہ ششدر رہ گئی۔ یہ خاتون ان کے گھر آئی تھی۔ کوئی۔۔
ڈھائی ماہ پہلے۔۔۔
کیسی ہے میری بیٹی !۔۔ ڈاکٹر فرزین نے اس کے ماتھے پر بوسہ لیا۔۔۔
آپ !۔۔۔ کون ہے۔۔ محرماں نے پوچھا۔ تم رو کیوں رہی تھی۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ چھوٹا ساز خم تھا۔ اب بالکل ٹھیک ہو تم ۔ ڈاکٹر فرزین نے پیارےاسے دیکھا۔۔۔۔
مجھے گھر جانا ہے۔ اس لیے۔ آپ پلیز مجھے میرے گھر لے چلے۔ میرے ساتھ بہت ظلم ہوا ہے۔ آپ کو نہیں بتاسکتی۔ مجھے اپنے بھائی کو بتانا ہے۔ وہ۔۔! وہ اس لڑکے کو نہیں چھوڑے گا۔۔۔۔
محرماں رونے لگی۔۔۔۔
بیٹا ! روتے نہیں۔ ہمت کرو۔ ڈاکٹر فرزین اس کی ڈھارس بندھانے لگی۔ محرماں کا ہاتھ پکڑ لیا۔۔۔۔
مما ! محرماں کو ہوش آگیا۔ ارحم دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔ مما !۔۔۔۔ محرماں نے جلدی سے اپنا ہاتھ کھنیچ لیا۔۔۔۔
وہ آنکھیں بھاڑے کبھی ارحم کو دیکھتی کبھی ڈاکٹر فرزین کی طرف۔ وہ ایک دم سے پھر اپنے آپ کو غیر محفوظ اسے گھر لے جائے گی۔ وہ تو ارحم کی ماں نکلی۔
محسوس کرنے لگی۔ وہ جو سمجھ رہی تھی۔ یہ شفیق سی خاتون ۔۔۔۔
خالہ ! آپ کی بہو اب کیسی ہے۔ ڈاکٹر نازلی بولی۔ لیکن اندر کا ماحول دیکھ کر چپ ہو گئی۔۔۔۔
بہو!۔۔۔ محرماں کو اب یقین ہو گیا کہ یہ خاتون ارحم کی ماں ہے۔ وہ جلدی سے بیڈ سے اتری اور باہر جانے لگی۔۔۔۔
بیٹا ! کہاں جارہی ہو ۔ ڈاکٹر فرزین نے روکا۔
مجھے گھر جانا ہے اپنے۔ محرماں نے غصے سے جواب دیتے ہوئے منہ پھر لیا۔۔۔۔
بیٹا۔ ابھی تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں۔ میں خود تمہیں لے جاؤ گی۔ بس تھوڑی بہتر ہو جاؤ۔۔۔۔
مجھے ابھی جانا ہے۔ سب بتانا ہے اپنے بھائی کو اس نے ارحم کی طرف غصیلی نظروں سے دیکھا۔ کیا بتانا بھائی کو !۔۔ نکاح کیا ہے تم سے کوئی گناہ نہیں کیا ہے میں نے۔ ارحم نے بھی دو بد و جواب دیا۔ ارحم چپ کر جاؤ میں بات کر رہی ہوں نا۔ ڈاکٹر فرزین نے ہاتھ اٹھا کر اسے روک دیا۔ کیا بات کرے گی آپ مجھ سے۔ آپ کے بیٹے نے مجھے اغوا کیا ہے۔ زبردستی نکاح کیا ہے۔ آپ کیا بات کرے گی ۔ مجھے تو لگتا ہے آپ بھی اپنے بیٹے کے ساتھ ملی ہوئی ہیں۔ محرماں چادر ٹھیک کرتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔
نازلی محرماں کی بات سن کر حیرت سے ارحم کو دیکھنے لگی۔ ارحم نے محرماں کو اغوا کر کے نکاح کیا۔۔۔! محرماں بیٹا ! گھر جا کر بات کرتے ہیں۔ یہ ہسپتال ہے یہاں بات کرنا مناسب نہیں ہے۔ ڈاکٹر فرزین نے محرماں کو کہا۔۔۔۔
آپ مجھے گھر لے چلے میرے۔۔۔!۔ خدا کے لیے۔ محرماں نے روتے ہوئے ہاتھ جوڑ دیئے۔ مما! محرماں کو اس کے گھر لے چلتے ہیں۔ ارحم سے اس کے آنسو برداشت نہیں ہو رہے تھے۔ اس کی اس حالت کا۔۔۔۔
ذمہ دار وہی تو تھا۔ لیکن بیٹا۔ ڈاکٹر فرزین کو بیٹے پر غصہ بہت آیا۔ جو پہلے بھی غلطی کر چکا تھا۔ اور اب حالات کی سنگینی کو نہیں سمجھ رہا تھا۔ پتہ نہیں وہاں کیسے حالات ہو۔۔۔
مما چلے ۔ وہ محرماں کا ہاتھ پکڑ کر باہر جانے لگا۔ محرماں نے جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑالیا۔ ارحم بیٹا بات سنو۔ یہ لڑکا پتہ اب کیا کرے گا۔ بالکل پاگل ہو چکا ہے۔ ڈاکٹر فرزین ارحم اور محرماں کے پیچھے بھاگی
نازلی سوچنے لگی۔ کیا محرماں ارحم کو کبھی معاف کر پائے گی۔۔۔۔۔
محرماں ارحم اور ڈاکٹر فرزین جب گاؤں پہنچے۔ سہ پہر کے تین بج رہے تھے۔ محرماں بھاگ کر حویلی کے اندر چلی گئی۔۔
بھائی ! بابا !۔۔ وہ انہیں پکارتے ہوئے اونچا اونچارونے لگی۔ اس کے سر سے چادر گر گئی۔ بازو پر ابھی بھی پٹی بندھی ہوئی تھی۔۔۔
رخسانہ اور زینب کمرے سے باہر نکلی۔ زینب نے بھاگ کر بیٹی کو گلے سے لگانا چاہا۔
رک جاہیے ماں جی۔ پہلے بیٹی سے پوچھ تو لو۔ رات کسی عاشق کے ساتھ گزار کر آئی ہے۔ منہ کالا کر کے اب یہاں کیا۔۔۔۔
کرنے آئی ہے۔ رخسانہ کی آواز نہیں سیسہ تھا۔ جو محرماں کے کانوں میں انڈیل دیا۔
رخسانہ بیٹی۔ پہلے محرماں کی بات تو سن لو۔ زینب نے آہستہ سے کہا۔ کیا سنے۔ یہ لڑکی ہماری عزت خاک میں ملا کر آئی ہے۔ اور گاؤں ہم پر تھو تھو کر رہا ہے۔ محرماں اب یہ گند ۔۔۔لے کر کیوں آئی ہو۔ رخسانہ نے حقیر آمیز لہجے میں کہا۔
بس کرے آپ۔ یہ میری بیوی ہے۔ اب آپ کوئی لفظ نہیں بولے گی۔ ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا۔ ارحم جو ابھی اندر آیا تھا۔ محرماں کی چادر اس کے سر پر ڈھالی۔ جو بے حس، حرکت کھڑی تھی۔ جیسے کوئی مورت ہو ۔۔۔۔
بکواس بند کرو۔ اکبر شاہ نے ارحم کے منہ پر اتنے زور سے تھپڑ لگایا کہ وہ دو قدم پیچھے جا گرا۔ اس کی بعد وہ محرماں
کی طرف بڑھا۔ اور اس کے بالوں سے پکڑ لیا۔ کیا کرنے آئی ہے اب یہاں۔ ہمارا اب کوئی تعلق نہیں تم سے۔ اکبر شاہ کی کوئی بیٹی نہیں۔ مرگئی ہے تو ہمارے لیے بابا ! آپ میری بات تو سن لے۔ میں نے کچھ نہیں کیا۔ محرماں نے ہاتھ جوڑے باپ کے سامنے۔
محرماں ! کچھ نہیں سننا۔ دور ہو جاؤ ہماری نظروں سے ۔ ورنہ تمہاری جان لے لوں گا۔ فیض شاہ نے اسے گردن سے پکڑ کر دبوچا۔۔۔
چھوڑو محرماں کو ۔ وہ سچ کہہ رہی ہے اس کا کوئی قصور نہیں۔ جو کیا وہ سب میں نے کیا۔ میں قصور وار ہوں آپ کا۔ مجھ سے بات کرے آپ۔ ارحم کو اندازہ نہیں تھا کہ حالات اس نہج تک پہنچ جائے گے۔ وہ محرماں کو فیض شاہ سے چھڑانے لگا۔۔۔
میرا بیٹا ٹھیک کہہ رہا ہے۔ ڈاکٹر فرزین جو جپ کھڑی تھی۔ حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔۔
اوہ ڈاکٹر صاحبہ آپ۔ تو یہ آپ کا بیٹا ہے۔ آپ تین دفعہ رشتہ لے کر آئی۔ اور ہم نے ہر دفعہ انکار کیا۔ تو آپ کے رشتہ !۔۔۔۔۔ رخسانہ نے منہ پر ہاتھ رکھا۔ انہیں یاد تھا۔ تین ماہ پہلے تو ڈاکٹر فرزین آئی تھی ان کے گھر ۔
بیٹے نے ہماری بیٹی کو بھگا لیا۔
تو یہ رشتہ لے کر آئی تھی۔ محرماں نے تو بڑا اونچا ہا تھ مارا ہے۔ انہیں ایک دفعہ پھر محرماں سے حسد ہوا۔ بابا ! میرا کوئی قصور نہیں۔ ایک دفعہ اپنی بیٹی کی بات تو سن لے۔ پھر جو سزا دے گے۔ مجھے منظور ہو گی۔ محرماں نے۔۔۔۔
باپ کے آگے ہاتھ جوڑے۔
اکبر شاہ نے منہ دوسری طرف پھیر لیا۔
بھائی۔ آپ تو میر ایقین کرے گے نا۔ مین آپ کی محرماں ہوں۔ میں نے کچھ نہیں کیا۔ محرماں نے بھائی کے پاؤں تھام لیے۔ رخسانہ ٹھیک کہتی تھی۔ میں نے اس سے زیادہ تمہیں اہمیت دی۔ لیکن تم نے تو مجھے سر اٹھا کر چلنے کے قابل بھی نہیں چھوڑا۔۔۔
مر گیا تمہارا بھائی۔ دفعہ ہو جاؤ یہاں سے۔ فیض شاہ کی بات کرتے ہوئے آنکھوں میں آنسو آگئے اور وہ باہر چلے گئے۔۔۔۔
محرماں اپنی بد نصیبی پر وہی بیٹھی روتی رہی۔ اسے یقین تھا۔ فیض بھائی ضرور یقین کرے گا۔ لیکن سب ختم ہو گیا تھا۔ وہ خالی ہاتھ رہ گئی تھی۔ وہ آسمان کی طرف دیکھ کر چیخنے لگی۔
یا اللہ آپ جانتے ہیں۔ میں بے گناہ ہوں۔ میں کیسے یقین دلاؤں سب کو۔ رخسانہ مسکرانے لگی۔ آج اس نے وہ سب پا لیا تھا۔ جس کی اس نے ہمیشہ آرزو کی تھی۔ یہ حویلی بھی اس کی۔ فیض بھی اس کا۔ اور محرماں کے لیے حویلی کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند کر دیئے گئے۔ پھپھو۔۔ توصیف بھاگتا ہوا آیا۔ محرماں کے پاس پہنچا ہی تھا کہ رخسانہ نے اسے اٹھا لیا۔
بیٹا۔ تمہاری کوئی پھپھو نہیں۔ یہ ایک بد کردار عورت ہے۔ چلو اندر چلتے ہیں۔ بیٹا اٹھا کر اندر چلی گئی۔ ماں ! محرماں نے روتے ہوئے ماں کی طرف دیکھا۔ اور زینب بے بسی کی حالت میں اپنی بیٹی کی طرف دیکھ رہی تھی ۔ وہ اس کے لیے کچھ نہیں کر سکتی تھی۔
محرماں ! ڈاکٹر فرزین نے محرماں کو اٹھانا چاہا تو وہ بے ہوش ہو کر اس کے بازوں میں جھول گئی۔ ارحم جو حویلی کے صحن کے وسط میں کھڑا سمجھ نہیں پارہا تھا کہ یہ سب کیا ہو گیا۔ اس نے ایسا تو نہیں چاہا تھا۔ محرماں کو عزت سے اپنانا چاہتا تھا۔ لیکن حالات نے اسے مجبور کیا تھا۔ یہ سب کرنے کے لیے۔ ۔۔۔
ارحم ۔ محرماں کو اٹھاؤ ۔ گھر چلتے ہیں۔ ڈاکٹر فرزین نے ارحم کو بلایا۔ جی مما!۔۔ اس نے محرماں کو اٹھا کر گاڑی میں ڈالا۔ اور گاڑی شہر کی طرف رواں دواں ہو گئی۔۔۔۔
محرماں کو شدید بخار ہو گیا تھا۔ وہ چپ کر کے لیٹی رہتی تھی۔ کوئی بات نہیں کرتی تھی۔ بس چھت کو دیکھتی رہتی۔ جو اگر ڈاکٹر فرزین باہر لے آتی۔ خلاؤں میں گھورتی رہتی۔ جیسے اللہ سے اپنی قسمت پر شکوہ کر رہی ہو۔ وہ جو اُس گھر کی شہزادی تھی۔ بھائی کی لاڈلی تھی۔ باپ کی دلاری تھی۔ اور ماں تو اس کی دوست تھی۔ سب کچھ اس۔۔۔۔
کے لیے بدل گیا۔ اور یہ سب ارحم کی وجہ سے ہوا۔ وہ اس سے شدید نفرت کرتی تھی۔ پندرہ دن گزر گئے تھے۔ لیکن محرماں کی حالت ویسی ہی تھی۔ ارحم کا گھر کم اور محل زیادہ لگتا تھا۔ دنیا کی ہر نعمت موجود تھی۔ گھر میں جم اور سوئمنگ پول بنا ہوا تھا۔ گارڈن میں ہر طرح کے پھول تھے۔ سفید ماربل سے بنی، سفید رنگ کی یہ کو ٹھی۔ اسے قید خانہ لگتی تھی۔
ارحم کمرے میں آیا تو وہ بیڈ پر بیٹھی چھت کو دیکھے جارہی تھی۔
محرماں۔ کیسی طبیعت ہے اب آپ کی۔ ارحم نے اس سے پوچھا۔
محرماں نے ایسی نظروں سے دیکھا کہ جیسے کہہ رہی ہو۔ سب کچھ چھین کر پوچھتے ہو کیسی ہو۔ وہ نظریں چراتا باتھ روم میں چلا گیا۔ اپنا چہرہ دھونے لگا۔ احساس ندامت اسے سکون نہیں لینے دے رہا تھا۔ محرماں ! میں تمہارا مجرم ضرور ہوں۔ لیکن تمہاری محبت نے مجھے ایسا پاگل کیا کہ مجھے کچھ سمجھ نہ آیا۔ اور تمہیں اپنی عزت بناتے بناتے تم سے تمہاری عزت ہی چھین لی۔ وہ باہر آیا تو وہ سو چکی تھی۔ وہ آکر صوفے پر لیٹ گیا۔ جب سے وہ اس گھر میں آئی تھی۔ وہ صوفے پر سوتا تھا۔ شروع میں تو محرماں نے اس کے کمرے میں رہنے سے بھی انکار کر دیا۔ لیکن پھر ممانے سمجھایا کہ۔
بیٹا۔ میں مانتی ہوں۔ جو ہوا بہت برا ہوا۔ سب میرے بیٹے کی غلطی ہے۔ لیکن اگر تم الگ رہو گی۔ تو گھر میں نوکرہیں۔ وہ کیا سوچیں گے۔۔۔۔
بیٹا میں جانتی ہوں کہ یہ رشتہ تمہاری مرضی سے نہیں بنا۔ لیکن ان نوکروں کی نظر میں تم ارحم کی بیوی ہو۔ تو بہترہو گا۔ تم اس کے بیڈ روم میں رہو۔
مما کی باتیں سن کر وہ رضا مند ہو گئی۔ لیکن اس سے بات نہیں کرتی تھی۔ ایک کمرے میں وہ اجنبیوں کی طرح رہتے تھے۔ ارحم نے بھی کبھی اسے ڈسٹرب نہیں کیا تھا۔ رات کو آتا اور چپ کر کے صوفے پر لیٹ جاتا۔ جب وہ۔۔
سو جاتی تو اسے دیکھ کر خود کو تسلی دیتا۔ کہ ناراض ہی سہی۔ ہے تو میری بیوی۔محرماں با قاعدگی سے نماز پڑھتی ، قرآن پاک کی تلاوت کرتی۔ اور ارحم کو اپنے انتخاب پر فخر محسوس ہوتا۔
سرمد آفندی بزنس میٹنگ کے سلسلے میں لندن گئے ہوئے تھے۔ جب واپس آئے تو محرماں کو گھر میں دیکھ کر حیران ہوئے۔ تو ڈاکٹر فرزین نے اسے سب بتایا۔ پہلے تو ارحم آفندی پر بہت ناراض ہوئے۔ لیکن پھر بیٹے کی محبت میں چپ ہو گئ۔۔۔۔
فرزین بہن نے ایک بار بھی تمہارے بارے میں نہ سوچا۔ نورین ناراضگی سے بولی۔ جب اسے ارحم کی شادی کے بارے میں پتہ چلا۔ وہ افسوس کر رہی تھی۔ امی ۔ فرزین خالہ کیا کرتی۔ ارحم نے انہیں بتائے بغیر نکاح کیا۔ انہیں تب پتہ چلا۔ جب وہ اس لڑکی کو لےکر ہسپتال آئے۔ نازلی نے ماں کو بتایا۔ تو اب فرزین اس لڑکی کو کیوں گلے سے لگا کر بیٹی ہے۔ نکال باہر پھنکے۔ نورین نے جواب دیا۔
امی۔ کیسے۔ اس لڑکی کا اب اس گھر کے علاوہ کوئی سہارا نہیں۔ اس کے گھر والے اسے گناہ گار سمجھتے ہیں۔ نازلی نے ماں کو سمجھایا۔۔
پھر بھی بیٹا۔ میری کتنی آرزو تھی کہ میری بیٹی ارحم کی دلہن بنے۔ تمہاری خالہ بھی تو کتنی محبت کرتی ہے تم سے۔۔۔۔۔
امی۔ آپ کے اور میرے سوچنے سے کیا ہوتا ہے۔ ہوتا تو وہی ہے جو اللہ کو منظور ہوتا ہے۔ میری قسمت میں ارحم نہیں تھا۔ نازلی کی آنسوا اگئے۔ لیکن جلدی سے صاف کیسے کہ ماں دیکھ نہ لے۔ ورنہ وہ پریشان ہو گی۔ اور نورین توبیٹی کی محبت سے واقف تھی کہ وہ دیوانہ وار ارحم سے محبت کرتی ہے۔ لیکن بیٹا پھر بھی مجھے فرزین اور ارحم سے یہ امید نہیں تھی۔
امی آپ کیوں بھول رہی ہیں۔ جب بابا کا ایکسیڈنٹ میں انتقال ہوا۔ تو میں میٹرک میں اور احمد آٹھویں جماعت میں تھا۔ انہوں نے کتنی ہماری سپورٹ کی۔ آج میں جو کچھ ہوں۔ ان کی وجہ سے ہوں۔ ہم اس رشتے کو صرف اس،،،،
نظر سے کیوں دیکھے۔ بس اللہ ارحم کو خوش رکھے۔ امی۔ ویسے محرماں بہت خوبصورت ہے۔ معصوم سی اور بھولی صورت والی۔ نازلی نے ماں کے گلے میں بانہیں ڈالتے ہوئے کہا ۔۔۔
بیٹا۔ تم ٹھیک کہہ رہی ہو۔ کسی دن مجھے لے چلو۔ ارحم کی دلہن کو دیکھ آؤں۔ نورین نے کہا۔ ٹھیک ہے امی۔ ابھی کھانا کھاتے ہیں۔ میں احمد کو بلا کر لے آتی ہوں۔۔۔۔۔
چھ ماہ گزر گئے تھے۔ لیکن ارحم آفندی اور محرماں کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔ بس اتنی آئی تھی۔ کہ
اب محرماں ڈاکٹر فرزین اور سرمد سے باتیں کرنے لگی تھی۔ اب تو ڈاکٹر فرزین کے ہسپتال میں بھی سب کو ارحم کے نکاح کا پتہ چل گیا تھا۔ وہ دعوت مانگ رہے تھے۔ لیکن ڈاکٹر فرزین چاہتی تھی۔ کہ پہلے ان کے بیٹے اور بہو کے در میان تعلقات درست ہو جائے۔ پھر ولیمہ رکھے گی ان دونوں کا۔ ارحم کی وہی پرانی روٹین تھی۔ یونیورسٹی، یونیورسٹی سے واپس آفس ۔ ارحم اس دن تھوڑی جلدی گھر آگیا۔ مغرب کی نماز کا وقت تھا۔ کمرے میں۔۔۔۔۔
داخل ہوا۔ تو محرماں جائے نماز پر دعامانگ رہی تھی۔
یا اللہ ۔ آپ تو مجھے جانتے ہیں۔ میں نے تو آج تک کسی مرد کے بارے میں نہیں سوچاتھا۔ اپنے آپ کو اپنے شوہر کے لیے پاکیزہ رکھا۔ میرے دل میں سکون ڈال دے۔ وہ شخص میرا شوہر ہے۔ لیکن میر ادل اسے تسلیم نہیں کرتا ۔ یا اللہ جو میرے لیے بہتر ہے مجھے اس راہ پر چلا۔ مجھے گناہ گار نہ بنا۔ محرماں گڑ گڑا کر اللہ سے دعا کر رہی تھی۔ ارحم آفندی دروازے سے ہی واپس پلٹ آیا۔ اس کے دل کی کیفیت عجیب سی ہو رہی تھی۔ وہ لڑکی اللہ سے اپنے شوہر کے لیے دل جذ بہ ڈالنے کی بات کر رہی تھی۔ جس کے ساتھ اس نے اتنابر اکیا۔ اس نے تو کبھی عید کے علاوہ نماز نہیں پڑھی تھی۔
اس دن کے بعد ارحم نے اپنے آپ کو تبدیل کر لیا۔ باقاعدگی سے نماز پڑھنی شروع کر دی۔ قرآن کی تلاوت کرتا اللہ سے اپنی غلطی معافی مانگتا۔ اس نے اپنے آپ کو محرماں کے لیے تبدیل کر لیا۔
ڈاکٹر فرزین اور سرمد آفندی بھی اس تبدیلی پر خوش تھے۔
محرماں نے بھی ارحم کے بارے سوچنا شروع کر دیا۔ وہ اس کا شوہر تھا۔ اس پر اختیارات رکھتے ہوئے۔ ایک کمرے
میں رہتے ہوئے۔ کبھی اس نے اسے چھونے کی کوشش نہ کی۔ اس کا دل آہستہ آہستہ بغاوت کرنے لگا تھا۔
وہ ارحم کو سوچنا نہیں چاہتی تھی۔ لیکن پھر بھی پہروں اس کو سوچتی۔ وہ ان لڑکیوں میں سے تھی۔ جو اللہ کی رضا پر راضی ہو جاتی ہیں۔ وہ اس کا مجازی خدا تھا۔ اور اللہ نے تو ویسے بھی شوہر کو اتنے حقوق دیئے ہیں۔ اور اگر وہ اس سے نکاح نہ کرتا۔ اور ویسے ہی اس کی عزت پامال کر دیتا۔ وہ کیا کر لیتی ۔ وہ تو بے بس اور مجبور تھی۔ انکل اور آنٹی بہت میربان اور شفیق تھے۔ آنٹی اس کی ماں کی کمی کو پورا کرنے کی کوشش کرتی۔ آہستہ آہستہ اسے۔۔۔۔۔
اس گھر سے اور اس کے باشندوں سے انسیت ہونے لگی تھی۔ محرماں اپنے دل کی کیفیت بدلنے پر حیران اور پریشان تھی۔ لیکن کسی کو بتا بھی نہیں سکتی تھی۔ کہ اسے اپنے مجرم سے پیار ہونے لگا ہے ۔۔
انہیں دنوں آنٹی نے گھر میں دعوت رکھ دی۔ جس میں ہسپتال کا عملہ ، انکل کے بزنس کے کچھ لوگ، ارحم کے یونیورسٹی فیلو اور نورین اور نازلی بھی آئے۔ ڈاکٹر فرزین محرماں کے لیے ریڈ کلر کا فراک لے آئی۔ ریڈ فراک میں سر پر ریڈ نیٹ کا دوپٹہ لیے وہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔ ارحم کی نظریں تو بس اس کا طواف کر رہی تھی۔ اور محرماں بھی ارحم کی نظروں کو خود پر محسوس کر رہی تھی۔ اسے سب اچھ لگ رہا تھا۔ آج وہ کھل کر مسکرارہی تھی۔ اتنےعرصے بعد اسے خود بھی یہ سب سکون دے رہا تھا۔ فرزین اور نورین دونوں بہنیں بہت پیار سے باتیں کر رہی تھی۔ محرماں کو اپنا بھائی یاد آگیا۔ دعوت ختم ہونے کے بعد وہ کمرے میں آگئی۔ لیکن دل کر رہا تھا۔ ابھی جا کر فیض بھائی کے گلے سے جالگے۔ جہنوں نے ایک دفعہ بھی۔۔۔۔۔
پلٹ کر اس کی خبر نہ لی۔۔۔۔۔۔
حالانکہ۔ ارحم ، ڈاکٹر فرزین اور سرمد آفندی انہیں دو دفعہ منانے گئے۔ لیکن اکبر شاہ اور فیض شاہ نہ مانے۔ محرماں ڈریسنگ روم کے سامنے کھڑی چوڑیاں اتار رہی ہے۔ دل، دماغ میں بس فیض بھائی اور ماں چل رہے تھے ارحم نے پیچھے سے آکر اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔ محرماں ! بہت حسین لگ رہی ہو آج ۔ یہ رنگ صرف تمہارے لیے بنا ہے۔ آج سے پہلے یہ رنگ کبھی کسی کو اتنا خوبصورت نہیں لگا ہو گا۔ آئی رئیلی لو یو سوچ محرماں۔ تم میری جان ہو ۔ میری زندگی ہو۔ وہ جذبات کی رو میں ۔۔۔
کہتا گیا۔ لیکن محرمان جس کا دل کر رہا تھا۔ فیض سے ملنے کو۔ ارحم کے ہاتھ اپنے جسم پر لگے۔ جیسے سانپ نے ڈس لیا ہو اس نے جھٹکے سے خود کو الگ کیا اور بولی۔
لیکن آئی ہیٹ یو۔ مسٹر ارحم آفندی۔
محرماں اب بس کرو۔ معاف کر دو مجھے۔ میں جانتا ہوں سب غلط ہو گیا۔ میں ایسا نہیں چاہتا تھا۔ لیکن جب پہلی دفعہ تمہیں کالج میں ایڈمیشن سے واپسی پر دیکھا۔ جب تمہارے ماتھے پر چوٹ لگی ہوئی تھی۔ تو تم پر دل ہار بیٹھا۔ مما اوربابا تین دفعہ رشتہ لے کر گئے۔ لیکن آپ کے بابا اور بھائی نے انکار کر دیا۔ محرماں ! میں پاگل ہو گیا۔ مجھے لگا اگر تم نہ ملی تو میری سانس رک جائے گی۔ تو میں نے علی کے ساتھ مل کر یہ منصوبہ بنایا۔ کہ تمہیں اغواہ کر کے تم سے نکاح کر کے واپس یونیورسٹی چھوڑ آؤں گا۔ اور پھر آپ کے گھر والوں کو منالوں گا۔ تاکہ تمہیں کوئی مجھ سے چھین نہ سکے۔ لیکن محرماں۔ سب کچھ میری سوچ کے برعکس ہوا۔ میر ایقین کرو۔ میں یہ سب نہیں چاہتا تھا۔ تمہیں عزت سے
اپنا بنانا چاہتا تھا۔
محرماں ! میری بد نصیبی دیکھو۔ تمہیں پالیا۔ تم میری بیوی ہو۔ میرے پاس ہو۔ میرے گھر میں ہو۔ میرے بیڈ روم۔۔۔
ہو۔ لیکن پھر بھی تم مجھ سے کوسوں فاصلے پر ہو۔ محرماں میں سمندر کا وہ کنارہ ہوں۔ جو سمندر کے پاس ہو کر بھی پیاسا ہوں۔ پھر دل کو یہ سوچ کر تسلی دیتا ہوں۔ تم میری نظروں کے سامنے ہو ۔ تم میری بیوی ہو۔ راتوں کو اٹھ اٹھ ۔۔۔
کر تم سے چوری اپنی بیوی کو دیکھتا ہوں۔ محرماں ۔ یقین کرو۔ ارحم آفندی تمہارے لیے پاگل ہے۔ صرف تمہارے لیے۔ میرے دل نے تمہیں پہلی دفعہ ہی دیکھ کر چن لیا تھا۔ کہ یہ لڑکی ہی ارحم آفندی کی دلہن بنے گی۔۔۔۔
محرماں میری جان! میں بچپن لڑکیوں کے ساتھ پڑھتا آیا ہوں۔ میری بہت سی لڑکیوں سے دوستی ہے۔ یونیورسٹی میں ہزاروں لڑکیاں ارحم آفندی پر مرتی ہیں۔ کیونکہ میں سرمد آفندی اور ڈاکٹر فرزین کا اکلوتا وارث ہوں۔ میرے لیے لڑکیوں کی کمی نہیں۔ میرے ایک اشارے پر لڑکیاں اپنی عزت پامال کرنے کے لیے بھی رضامند ہو جائے ۔۔
محرماں۔ میں ایسا نہیں ہوں۔ آج تک کچھ غلط نہیں کیا۔ میری کزن ڈاکٹر نازلی مجھے پسند کرتی ہے۔ لیکن میرے دل کبھی اس کے لیے ایسے جذبات نہیں آئے۔ محرماں ۔ محرماں۔ سب کچھ ہے میرے پاس۔ لیکن ارحم آفندی محرماں شاہ پر دل ہار گیا۔ پاگل ہو گیا تمہارے لیے بس میں تمہارا ہوں صرف تمہارا۔میں تم سے پیار کرتا ہوں۔۔۔۔۔۔
اس نے محرماں کو گلے سے لگا لیا۔ ارحم پاگل ہو رہا تھا۔ اسے اپنی محبت کا یقین دلانا چاہتا تھا۔
محرماں کا دل لفظ بہ لفظ اسکی باتوں پر یقین لے آیا۔ لیکن دماغ ساتھ نہیں دے رہا تھا۔۔۔۔۔
ارحم ۔ ٹھیک ہے تمھاری باتوں پر یقین کر لیتی ہوں۔ لیکن ارحم تمھارے پاس تو سب کچھ ہے۔ مجھ سے تم نے۔۔۔۔۔
سب چھین لیا۔ میری عزت، میرا کردار ، پاکیزگی سب کچھ ختم کر دیا۔ پیار کرنے والا بھائی چھین لیا۔ میر امان سب۔۔۔۔۔
کچھ ختم ہو گیا۔ میں تو سر اٹھا کر چل بھی نہیں سکتی۔ محرماں روتے ہوئے بولی۔
محرماں پلیز۔ سب بھول جاؤ ۔ آج مجھے اپنا بنالو۔ ارحم اس کے سر کو چوم کر بولا۔
تمھاری تو پہلے دن سے یہی خواہش تھی۔ کر لو اپنی آرزو پوری۔ محرماں نے دو پٹہ اتار کر پھینک دیا۔ اس کا نو خیز حسن۔ اس کو پاگل کر رہا تھا۔ اس کے ۔ لمبے ریشمی بال کمر سے نیچے جا رہے تھے۔ وہ قیامت ڈھا رہی تھی۔ لیکن ارحم۔۔۔۔
دو قدم پیچھے ہٹا اور دو پٹہ اٹھ کر اس کے سر پر اوڑھا دیا۔ نہیں محرماں ! میں ایسا نہیں ہوں۔
ارحم۔ تو پھر میر امان، میری عزت لوٹا دو۔ میں تو کل بھی تمھاری تھی۔ اور آج بھی۔ لوٹا دو۔ مجھے میر ابھائی۔ میرا دل کرتا ہے۔ توصیف کو پیار کرنے کو۔ ارحم پلیز۔ وہ روتے روتے اس کے قدموں میں بیٹھ گئی۔
محرماں۔ میں ایسا نہیں ہوں۔ آج تک کچھ غلط نہیں کیا۔ میری کزن ڈاکٹر نازلی مجھے پسند کرتی ہے۔ لیکن میرے دل کبھی اس کے لیے ایسے جذبات نہیں آئے۔ محرماں ۔ محرماں۔ سب کچھ ہے میرے پاس۔ لیکن ارحم آفندی محرماں شاہ پر دل ہار گیا۔ پاگل ہو گیا تمہارے لیے بس میں تمہارا ہوں صرف تمہارامیں تم سے پیار کرتا ہوں۔۔۔۔
اس نے محرماں کو گلے سے لگا لیا۔ ارحم پاگل ہو رہا تھا۔ اسے اپنی محبت کا یقین دلانا چاہتا تھا۔
محرماں کا دل لفظ بہ لفظ اسکی باتوں پر یقین لے آیا۔ لیکن دماغ ساتھ نہیں دے رہا تھا۔
ارحم ۔ ٹھیک ہے تمھاری باتوں پر یقین کر لیتی ہوں۔ لیکن ارحم تمھارے پاس تو سب کچھ ہے۔ مجھ سے تم نے۔۔۔
سب چھین لیا۔ میری عزت، میرا کردار ، پاکیزگی سب کچھ ختم کر دیا۔ پیار کرنے والا بھائی چھین لیا۔ میر امان سب کچھ ختم ہو گیا۔ میں تو سر اٹھا کر چل بھی نہیں سکتی۔ محرماں روتے ہوئے بولی۔
محرماں پلیز۔ سب بھول جاؤ ۔ آج مجھے اپنا بنالو۔ ارحم اس کے سر کو چوم کر بولا۔
تمھاری تو پہلے دن سے یہی خواہش تھی۔ کر لو اپنی آرزو پوری۔ محرماں نے دو پٹہ اتار کر پھینک دیا۔ اس کا نو خیز حسن۔ اس کو پاگل کر رہا تھا۔ اس کے ۔ لمبے ریشمی بال کمر سے نیچے جا رہے تھے۔ وہ قیامت ڈھار ہی ں کی تھی۔ لیکن ارحم دو قدم پیچھے ہٹا اور دو پٹہ اٹھ کر اس کے سر پر اوڑھا دیا۔ نہیں محرماں ! میں ایسا نہیں ہوں۔
ارحم۔ تو پھر میر امان، میری عزت لوٹا دو۔ میں تو کل بھی تمھاری تھی۔ اور آج بھی۔ لوٹا دو۔ مجھے میر ابھائی۔ میرا دل کرتا ہے۔ توصیف کو پیار کرنے کو۔ ارحم پلیز۔ وہ روتے روتے اس کے قدموں میں بیٹھ گئی۔
ٹھیک ہے۔ محرماں جیسے تم چاہو گی۔ ویسا ہی ہو گا۔ کل ہم گاؤں جائیں گے۔ ارحم تھکے ہارے لہجے میں بولتا کمرے۔۔۔۔۔۔
سے باہر چلا گیا۔ اور محرماں روتی رہی۔
حویلی میں بھی تو ایسی خاموشی اور اداسی چھائی۔ جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ اکبر شاہ بیمار رہنے لگا تھا۔زینب بھی چپ چپ رہتی۔ بیٹی کو یاد کر کے روتی رہتی۔ فیض شاہ نے خود کو زمینوں کی دیکھ بھال میں مصروف کر لیا۔ توصیف کبھی کبھی پھپھو کو یاد کر لیتا۔ اور رخسانہ جس نے سوچا تھا کہ محرماں کو نکال کر خوش رہیں گی۔ حارث کو محرماں کے خلاف بھڑ کا کر اپنی مرضی کی روبینہ لے آئی۔ لیکن وہ بہت بد زبان تھی۔ حارث کے ساتھ چلی گئی۔ اس نے گاؤں میں حارث کے ماں باپ کے ساتھ رہنا پسند نہ کیا۔ حسد میں جلتے لوگوں کو شاہد اللہ جلدی ہدایت نہیں دیتا۔ یہی حال رخسانہ کا تھا۔ اکبر شاہ، فیض شاه، رخسانہ اور زینب سب دو پہر کا کھانا کھار ر کا کھانا کھا رہے تھے۔ جب حویلی کے دروازے پر گاڑی آر کی۔
محرماں اور ارحم آفندی حویلی میں داخل ہوئے۔
رک جاؤ وہ محرماں۔ فیض شاہ نے ٹیبل سے اٹھتے ہوئے کہا۔
بھائی۔ آج آپ کو میری بات سننی ہو گی۔ محرماں بولی۔
مجھے کچھ نہیں سننا۔ چلی جاؤ واپس۔ کیوں بار بار ہمارے زخم تازہ کرنے آجاتی ہو۔ فیض بھائی۔ آج آپ کو اپنی بات سنائے بغیر ہم نہیں جاہیں گے۔ ارحم بولا۔
واہ جی۔ فیض یاد ہے۔ جس دن ہم محرماں کا ایڈمیشن کروانے گئے تھے۔ اور واپسی پر ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا۔ یہی لڑکا ہمیں گھر چھوڑنے آیا تھا۔ پتہ نہیں محرماں کا اسکے ساتھ کب کا چکر چل رہا تھا۔ مجھے تو لگتا ہے۔ محرماں نے لاہور۔۔۔
ایڈمیشن بھی اس کی خاطر لیا۔۔۔۔
بے چارہ میر ابھائی۔ جس کی خوشیوں کو یہ کھا گئی۔ تو بہ ۔۔ تو بہ ۔۔ کیسے بے شرموں کی طرح منہ اٹھا کر آجاتی ہو۔ رخسانہ جب بھی بولتی اس کے منہ سے محرماں کے۔۔۔
۔۔لیے انگارے ہی نکلتے۔۔۔۔
اور محرماں کو تو بھا بھی کی بات سن کر جیسے سکتہ ہو گیا تھا۔۔۔۔
محرماں بیٹی۔ زینب آگے بڑھی۔
ماں ۔ آپ محرماں کے پاس نہیں جائے گی۔ فیض نے اسے روک دیا۔ اور آگے بڑھ کر ارحم کی گریبان کو پکڑ لیا۔
بولو۔ کیا کرنے آئے ہو یہاں۔
آپ بات سنو گے تو بتا ہیں گے۔ ارحم نے گریبان چھڑواتے کہا۔
بولو۔ فیض نے گریبان چھوڑ دیا۔
پھر ارحم نے محرماں کو اغوا کرنے سے لے کر نکاح کرنے اور ہسپتال لے جانے تک ساری بات بتادی۔ واہ جی واہ۔ کیا سٹوری بنائی ہے تم نے۔ مجھے تو کسی فلم کی سٹوری لگ رہی ہے۔ رخسانہ نے تالی بجاتے ہوئے کہا۔
بھائی۔ ارحم سچ کہے رہے ہیں۔ محرماں نے فیض سے کہا۔
محرماں تمہیں کیا لگتا ہے۔ میں اس من گھڑت کہانی پر یقین کر لوں گا۔ اور اگر کر بھی لو تو کیا تم میر امان اور عزت۔۔۔
واپس لوٹا سکتی ہو۔
بولو محرماں۔۔۔!۔۔ کر سکتی ہو۔ یہ سب نہیں کر سکتی تم۔ گاؤں والوں کی نظروں میں ہماری عزت واپس لوٹا سکتی ہوں۔۔۔۔
نہیں محرماں ۔ چلی جاؤ یہاں سے۔ یہی بہتر ہے۔
بھائی میں نہیں جاؤ گی۔ آپ بیشک مجھے مار ڈالے۔ محرماں نے بھی بھائی کو ویسے ہی جواب دیا۔
ٹھیک ہے تمھاری یہ خواہش میں پوری کر دیتا ہوں۔ اکبر شاہ نے آگے بڑھ کر اس کو گردن سے پکڑ لیا۔ چھوڑ دو۔ محرماں کو۔ اس کا کوئی قصور نہیں۔ مارنا ہے تو مجھے مارے۔ ارحم بھا گتا ہوا محرماں کے پاس آیا۔ بڑی محبت ہے دونوں میں ۔ فیض شاہ ارحم کو دھکیل کر حویلی سے باہر لے گیا۔ اور راجو اور ہاشم سے کہا کہ مار مار کر۔ اس کی ہڈیاں توڑ دو۔ ان دونوں نے ارحم کو مارنا شروع کر دیا۔ اور ارحم محرماں کی خاطر چپ چاپ مار کھاتا رہا ۔۔۔۔
ادھر حویلی میں زینب نے بھاگ کر محرماں کو اکبر شاہ سے بچایا۔
بس کرے اکبر شاہ۔ بیٹی ہے ہماری۔ وہ دونوں سب سچ بتا چکے ہیں۔ قسمت کا لکھا سمجھ کر معاف کر دے ان دونوں کو۔ پلیز۔ میں آپ سے التجا کرتی ہوں۔ معاف کر دے۔ زنیب نے شوہر سے کہا۔ محرماں اونچا اونچا اپنے لگی۔ سانس بند ہو رہی تھی۔ پھر اسے خیال آیا۔ فیض بھائی ارحم کو مار دے گا۔ نہیں وہ۔۔۔۔
، میرے شوہر ہے۔ وہ بھی میری محبت ہے۔ وہ لڑکھڑاتے ہوئے باہر بھاگی۔ اکبر شاہ، رخسانہ اور زینب اس کے پیچھے بھاگے۔
ارحم کے ماتھے سے خون بہہ رہا تھا۔ اس کی شرٹ پھٹ گئی تھی۔ لیکن پھر بھی مار کھاتے جارہا تھا۔ بھائی۔ مت مارے اسے ۔ آپ کو اللہ کا واسطہ ۔ محرماں بھاگ کر فیض شاہ کے پاس گئی۔ بابا۔ آپ رو کیں انہیں وہ مار دے گے اسے۔ وہ میرا شوہر ہے۔ خدا کے لیے روکیں۔ محرماں کبھی باپ کی طرف۔۔۔۔۔
بھاگ کر جاتی اور منتیں کرتی اور کبھی بھائی کی طرف۔ ارحم کی حالت اس سے دیکھی نہیں جارہی تھی۔ وہ جانتی تھی۔ ارحم صرف اس کے لیے مار کھا رہا ہے۔۔۔
اور ارحم کو محرماں کو اپنے لیے تڑپتا دیکھ کر سکون مل رہا تھا۔ اسے اندازہ ہو گیا کہ محرماں بھی اس سے محبت کرنے لگی ہے۔ اب مر بھی جاتا تو کوئی غم نہیں تھا۔ محرماں کی محبت کافی تھی مرنے کے لیے۔ محرماں کو اپنی چادر کا کوئی ہوش نہیں تھا۔ پتہ نہیں وہ کہاں گر گئی۔ اسے بس ارحم کو بچانا تھا۔ گاؤں کے لوگ اکٹھےہو گئے۔ اور سب کھڑے ہو کر تماشہ دیکھ رہے تھے۔
اللہ وسایا بھی آگیا۔ جو کسی کام سے گیا ہوا تھا۔ اب اس کا ضمیر ملامت کر رہا تھا۔ یہ سب اس کی وجہ سے ہوا تھا۔
کاش اس نے رخسانہ بی بی کی بات نہ مانی ہوتی ۔ تو آج محرماں بی بی کی یہ حالت نہ ہوتی۔ وہ جو پردے کی پابند تھی۔ آج گاؤں والوں کے سامنے چادر کے بغیر تھی۔ وہ بس اپنے شوہر کو بچانا چاہتی تھی۔ اللہ وسایا نے رخسانہ بی بی کی طرف دیکھا۔ لیکن اس نے اللہ وسایا کو آنکھوں سے اشارہ کرتے ہوئے چپ رہنے کا کہا۔
ماں ! آپ بھائی سے کہے۔ وہ ارحم کو چھوڑ دے۔ بھا بھی۔ آپ بھائی کو روکے۔ وہ آپ کی بات ضرور مانے گا۔ بچالے میرے ارحم کو۔ ہم کبھی دوبارہ حویلی نہیں آئے گے ۔ بس اللہ کا واسطہ ہمیں جانے دے۔ کوئی تو بچالے میرے ارحم کو۔ وہ زمین پر۔۔۔۔۔
بیٹھ کر رونے لگی۔ اس کی حالت دیکھ کر گاؤں والوں کی آنکھوں میں بھی آنسو تھے۔ لیکن کسی میں جرات نہیں تھی کہ فیض شاہ اور اکبر شاہ کو روکے۔ ارحم مار کھا کھا کر بے ہوش ہونے والا تھا۔ اس کا جسم زخموں سے چور چور تھا۔ لیکن کانوں میں ایک آواز گونج رہی تھی۔ میرے ارحم کو بچا لو۔۔۔
لیکن محرماں کی حالت دیکھ کر رونا بھی آرہا تھا۔ دل کر رہا تھا۔ جا کر اس کو چادر اوڑھائے اس کو چھپالے کہیں۔ لیکن
وہ ایسا کر نہیں سکتا تھا۔
محرماں ایک دم سے اٹھی اور راجو اور ہاشم کو مار نا شروع کر دیا۔
پیچھے ہٹو۔ چھوڑو اسے۔ کیوں اس کی جان لینا چاہتے ہو۔ ہم چلے جائے گے یہاں سے۔ اس نے ارحم کو پکڑا اور جانے لگی کہ پیچھے سے زور سے دھکا پڑا۔ اور وہ دونوں اوندھے منہ گر گئے۔ وہ دھکا اکبر شاہ نے دیا تھا۔ فیض شاہ۔ میں تمہیں حکم دیتا ہوں۔ کہ پہلے اس لڑکے کو مارو اور پھر محرماں کو تا کہ مثال بن جائے۔ اور ہمارے۔۔۔۔۔
خاندان کی کوئی لڑکی آئندہ ایسی جرات نہ کرے۔ فیض ں شاہ نے پستول نکالا اور ارحم کو کھڑا کر کے اس کے ماتھے پر رکھ لیا۔۔۔۔۔
محرماں یہ دیکھ کر بھاگ کے ارحم کے سامنے آگئی۔
بھائی مت مارو ا سے ۔ مجھے مار ڈالو۔ ارحم کو جانے دو۔ اس کے چہرے پر اور بالوں پر مٹی لگی ہوئی تھی۔ لیکن اسے کوئی ہوش نہیں تھا۔
تمھاری بھی یہ خواہش پوری ہو گی۔ مرنا تو تم دونوں نے ہے۔ وہ پستول کا ٹریگر دبانے ہی والا تھا کہ آواز آئی۔ رک جاؤ ۔ وہ کوئی اور نہیں یونیورسٹی کا سکیورٹی گارڈ تھا۔ اسے دیکھ کر رخسانہ کا رنگ فق ہو گیا۔
بولو۔ تمہیں کیا کہنا ہے۔ فیض شاہ نے کہا۔ بیٹا ! میں پیسے کی لالچ میں اندھا ہو گیا تھا۔ میر اضمیر مجھے ہر وقت ملامت کرتا تھا۔ غریب ہوں۔ بیٹی کی شادی کرنی۔۔۔۔۔۔
تھی۔ پیسوں کی ضرورت تھی۔ اور آپ کی بیوی کی باتوں میں آگیا۔ اپ کی بہن کا کوئی قصور نہیں۔ سکیورٹی گارد نے پیسے فیض کے ہاتھ میں تھما دیے۔ اور ساری بات بتادی۔۔۔۔۔
فیض شاہ نے مڑ کر کھا جانے والی نظروں سے رخسانہ کو دیکھا۔
شاہ جی۔ مجھے بھی کچھ بتانا ہے۔ اللہ وسایا بولا ۔ پھر اللہ وسایا نے گاؤں میں بات پھیلانے کے جرم کا اعتراف کر لیا۔
نمک حرام ۔۔۔۔ فیض شاہ نے اللہ وسایا پر فائر کیا۔ وہ وہی دم توڑ گیا۔
ارحم اور محرماں حیرت سے یہ سارا کچھ دیکھ رہے تھے۔ فیض شاہ رخسانہ کی طرف بڑھا۔ اور زور سے اس کے منہ پر تھپڑ مار دیا۔
رخسانہ میں تمہیں طلاق۔۔ نہیں بھائی۔۔۔ محرماں نے بھاگ کر بھائی کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔ نہیں بھائی پلیز ایسا مت کرنا۔ اس نے پکڑ کر۔۔۔
توصیف کو آگے کیا۔ جو یہ سب دیکھ کر رو رہا تھا۔ محرماں! تمھارا دل اتنا نرم کیوں ہے۔ اس عورت نے تمہیں بلکہ ہم سب کو بد نام کیا۔ کیسے معاف کر دے اسے۔ بھائی اس کا فعل اس کے ساتھ ہے۔ آپ معاف کر دے۔ اللہ بھی معاف کرے اسے۔ میں نے معاف کیا رخسانہ۔۔۔۔
بھا بھی کو۔ ارحم بیٹا۔ ڈاکٹر فرزین نے گلے لگایا۔ اسے جب پتہ چلا کہ ارحم اور محرماں گاؤں گئے ہیں۔ وہ فوراً لا ہو ر سے چل۔۔۔۔۔
پڑی تھی۔ اب بیٹے کی حالت دیکھ کر پریشان ہو گئی۔
بے حس انسانوں۔ کیا حالت کر دی میرے بیٹے کی۔
تو ارحم نے آواز دی … محرماں آؤ اپنے گھر چلے۔
محرماں بھی ان کے ساتھ جانے لگی۔
رکو۔ محرماں نہیں جائے گی۔ اکبر شاہ کی آواز آئی۔ سب پریشان ہو گئے۔ فیض شاہ ندامت سے سر جھکائے کھڑا تھا۔ وہ بھی باپ کی طرف دیکھنے لگا۔
اس لیے نہیں جائے گی۔ اب میں اپنی بیٹی کو عزت کے ساتھ رخصت کروں گا۔ ارحم آفندی کے ساتھ۔ اس نے
آگے بڑھ کر اپنی بیٹی کو گلے لگا لیا۔
سب مسکرانے لگے۔ اور ارحم کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آگئے۔۔۔۔۔۔۔۔
اذہان ! تنگ مت کرو۔ جلدی سے کپڑے پہنو۔ تمھارے ماموں آتے ہوں گے۔ عید کی نماز کا ٹائم ہو گیا ہے۔ محرماں نے اذہان کو ڈانٹا۔ جو بیڈ پر اچھل کو دکر رہا تھا۔ لیکن کپڑے نہیں پہن رہا تھا۔ ابھی مریم کو بھی تیار کرنا ہے۔ فیض بھائی لینے آجائیں گے ۔ محرماں پریشان ہو رہی تھی۔ اس نے گاؤں جانا تھا۔ عید الاضحی وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ منانا چاہتی تھی۔ ارحم نے بھی ساتھ جانا تھا۔ محرماں کی زندگی میں جو پریشانیاں تھیں۔ سب ختم ہو گئی تھی۔ ارحم کے ساتھ وہ بہت خوش تھی۔
ارحم نے آکر محرماں کے ماتھے پر اپنی محبت کی مہر ثبت کی۔ ارحم ۔ بس کریں۔ اب ہمارے بچے ہو گئے ہیں۔ آپ کا پیارا بھی تک کم نہیں ہوا۔ محرماں نے مصنوعی غصے سے کہا۔۔۔۔۔۔
محرماں۔ پیار بھی کم ہوا کبھی۔ تم تو میری جان ہو۔ ارحم آفندی کی محرماں کے لیے محبت میں کبھی کمی نہیں آئے گی۔۔۔۔۔۔
اتنے میں مریم رونے لگی۔ دونوں اس میں مصروف ہو گئے۔ اتنے میں فیض بھائی، نازلی اور علی بھی آگئے۔
نازلی کی ارحم کے دوست علی سے شادی ہو گئی۔ دونوں بہت خوش تھے۔
سب ہنس کر باتیں کر رہے تھے۔
محرماں نے اللہ کا شکر ادا کیا۔ وہ بہت خوش زندگی گزار رہی تھی۔ ارحم بہت اچھے تھے۔ اس کی زندگی سے روٹھی
بہاریں واپس لوٹ آئی تھیں۔ اللہ نے انہیں دو جڑواں بچے دیئے۔ محرماں نے مسکراتے ہوئے ارحم کی طرف دیکھا۔
ارحم نے آنکھ مار دی۔ محرماں نے شرما کر مریم کو اٹھا لیا۔
((ختم شد۔۔۔۔))
