قسط وار ناول
اسے اپنے سر اور آنکھوں پر بوجھ سا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔ وہ نیند میں کسمسائی ۔۔ بالوں میں سرائیت کرتی انگلیوں کا پرسکون لمس بھی جیسے نیند میں خلل ڈال رہا تھا۔۔۔ اس کے ماتھے پر چند بل پڑے۔۔۔ پھر رفتہ رفتہ وہ بل غائب ہونا شروع ہوئے اور وہ پھر سے نیند کی پرسکون وادی میں اتر گئ۔۔۔ نیند گہری تھی۔۔۔ جیسے صدیوں کی مسافت نے تھکا ڈالا تھا اور زرا سکون میسر ہوتے ہی وہ دنیا بھلا گئ۔۔۔
دفعتا پھر سے بالوں میں سرائیت کرتے انگلیوں کے لمس سے اسنے کسمساتے بامشکل خود میں پیوست پلکوں کی چلمن کو ہلکا سا کھولا۔۔۔
لیکن سامنے کا منظر دیکھتے ہی اسکی نیند بھک سے اڑی۔۔۔۔ رات کے مناظر پوری جزئیات سے اسکی آنکھوں کے سامنے چلنے لگے۔۔۔۔
یکدم ہی غزال سی آنکھوں میں خوف اور ہراس پھیلا تھا وہ تھوڑا سا پیچھے ہٹتی خود میں سمٹی۔۔۔
دل خوف کے زیر اثر زور سے ڈھرکا تھا۔۔۔ اسنے بے ساختہ تھوک نگلا۔۔۔ گردن میں گلٹی سی ابھر کر معدوم ہوئی۔۔۔
وہ شخص وائٹ کاٹن کے کڑکڑاتے سوٹ میں ملبوس نک سک سے تیار خوشبوں میں نہایا کہنی تکیے پر رکھے ہاتھ کی ہتھیلی پر سر ٹکائے اس کے پاس ہی نیم دراز دوسرے ہاتھ کی انگلیں اسکے بالوں میں چلاتا یک ٹک اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
عائزل نے اپنے جسم کی کپکپاہٹ پر قابو پاتے اپنی غزالی نگاہوں کو گھماتے ادھر ادھر دیکھا۔۔۔ یہ وہی فلیٹ تھا جس میں کل رات وہ شخص اسے وہاں لایا تھا۔۔۔
کیا ہوا سویٹ ہارٹ رات نیند تو اچھے سے آئی نا۔۔۔ اسکی آنکھوں میں یوں خوف کو ہلکورے کھاتا دیکھ ایک طنزیہ مسکراہٹ اسکے ہونٹوں پر ابھری۔۔۔۔
عائزل کی آنکھوں میں نمی سمٹنے لگی۔۔۔
کتنی معصومیت ہے اس چہرے پر۔۔۔ قربان ہی نا ہو جاوں اس معصومیت پر۔۔
عائزل نے پیچھے کو کھسکتے اپنے اور اسکے درمیان جتنا بھی فاصلہ بنایا تھا وہ شخص ایک ہی جھٹکے میں اسے واپس کھینچتا اسے پاٹ گیا تھا۔۔۔
ایک چیخ اسکے حلق سے برآمد ہوئی۔۔۔ دائم خان کی اس حرکت پر وہ کپکپا کر رہ گئ۔۔۔
آنکھوں میں ابھری نمی پھسل کر گالوں پر پہنچی۔۔۔
تمہیں واقعی لگتا ہے سویٹ ہارٹ کے یہ آنسو تمہارے کسی کام آئیں گے۔۔۔ نہیں مطلب۔۔۔۔ وہ سر کھجاتا سیدھا ہو کر بیٹھا۔۔۔
تم پر امید ہو کے ان مگرمچھ کے آنسووں سے تم مجھے ایک مرتبہ پھر سے بے وقوف بنا لو گئ۔۔۔
مائے گاڈ۔۔۔۔ وہ اپنے بڑھی شیو پر ہاتھ پھیرتا قہقہ لگا کر ہسا۔۔۔
او گاڈ۔۔۔ مطلب۔۔۔ میں دائم خان۔۔۔۔ جسکے سامنے اچھے اچھے نہیں ٹکٹے ۔۔۔ اسے ایک لڑکی دوسری دفعہ دھوکہ دینا چاہتی ہے۔۔۔۔ داد دینی پڑے گی تمہارے سکیمر دماغ کی۔۔۔ وہ ایک ٹانگ چھٹ کی جانب موڑے اس پر کہنی رکھے اپنے دائیں جانب موجود عائزل کی جانب رخ کرتا ستائشی انداز میں گویا ہوا۔۔
ماننا پڑے گا تمہارے دماغ کو۔۔۔ آخر کو ایک سکیمر کا دماغ ہے۔۔۔
میں نے آپکے ساتھ کوئی سکیم نہیں کیا۔۔۔۔ وہ تو بلبلا ہی اٹھی تھی دائم کی اس بات پر۔۔۔
پوری شدت سے چلاتی وہ ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھی۔۔۔
آواز نیچے۔۔۔۔ ورنہ زبان گدی سے کھینچ ڈالوں گا۔۔۔
دائم نے جارحانہ انداز میں اسکا منہ دبوچا تو عائزل کی آنکھیں خوف سے ابل پڑیں۔۔۔
اسے اس شخص کے وحشی پن سے وحشت ہونے لگی تھی۔۔۔
میں عورتوں پر ظلم کرنے کے حق میں نہیں کیونکہ یہ میری تربیت میں شامل نہیں۔۔۔ ورنہ تم اس قابل ہو کے تمہارے چھوٹے چھوٹے ٹکرے کر کے کتوں کو ڈال دیئے جائیں۔۔۔ وہ اسکی آنکھوں میں نفرت سے دیکھتا ایک جھٹکے سے اسکا چہرا چھوڑتا۔۔۔ گھٹنوں پر کہنیاں رکھتا سر ہاتھوں میں تھام گیا۔۔
دائم خان نے محبت کی تھی تم سے گھٹیا لڑکی۔۔۔ میری بن کر تو دیکھتی اپنا سب کچھ تم پر نا لٹا دیتا تو کہتی۔۔۔
اسنے ضبط سے لال انگارہ نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔ جو ہاتھ مسلتی سر جھکائے مسلسل خاموش آنسو بہا رہی تھی۔
لیکن نہیں تم نے تو اپنی اصلیت دکھانی تھی۔۔۔ بڑے سستے میں تم نے مجھے جانے دیا یار۔۔۔
چار لاکھ۔۔۔ صرف چار لاکھ تھے تمہارے ضمیر کی قیمت۔۔۔۔
چچ۔۔۔چچ۔۔۔چ۔۔۔۔ قیمت ہی لگانی تھی تو چار کڑور تو لگاتی۔۔۔۔ وہ دل جلاتی مسکراہٹ چہرے پر سجائے اسکی جانب رخ کر گیا۔۔۔
عائزل گھٹنوں میں سر جھکاتی سسک اٹھی۔۔۔۔
کیا ہوا ابھی سے ہمت جواب دے رہی ہے۔۔۔ وہ بڑی محبت سے اسکے بال سہلانے لگا۔۔۔
لیکن ابھی تو بڑی لمبی مسافت ہے سویٹ ہارٹ۔۔۔ کیسے کاٹو گی۔۔۔ اسکے لہجے میں ہمدردی تھی۔۔۔ اسکا مذاق اڑاتی ہمدردی۔۔۔
عائزل نے شدت سے اپنے گھٹنے دبوچتے اپنے ہاتھوں کی کپکپاہٹ پر قابو پایا۔۔۔
مجھے امید ہے کہ تم اپنے سکیمر مائینڈ سیٹ سے بہت جلد میری قید سے بھاگ نکلو گی۔۔۔
لیکن یقین مانو۔۔۔ اس بار دائم خان بھی پوری تیاری سے میدان میں اترا ہے۔۔۔ وہ اسکا سر اوپر اٹھاتا اسکی سرخ پڑتی نم آنکھوں میں دیکھتا پر اسرار انداز میں گویا ہوا۔۔۔۔
ایک دفعہ مجھے بے خبری میں بے وقوف بنا کر ہلکے میں مت لینا یار۔۔۔ میں اپنا سو فیصد دوں گا تمہارے قید خانے کو تمہارے لئے عقوبت خانہ بنانے میں ۔۔۔۔
جس کی دیواروں سے ٹکرا کر تم مر تو سکتی ہو لیکن باہر نہی نکل سکتی۔۔۔
وہ ایک قہر آلود نگاہ اسکے خوبصورت سراپے پر ڈالتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
آپ پچھتائیں گے۔۔۔ وہ بے بسی کے تحت اسے جاتا دیکھ گویا ہوئی۔۔۔
وہ رکا ۔۔۔ پھر پلٹا۔۔۔ ایک دلکش مسکراہٹ اسکے وجیہہ چہرے پر ابھری۔۔۔۔
تم یقین مانو سویٹ ہارٹ۔۔۔ اس بار میں پچھتانے کو تیار ہوں۔۔۔
اسکی آواز کے سرد پن نے عائزل کے جسم میں ایک سسنی ڈورا دی۔۔۔
میں آپکے چار لاکھ لوٹا دو گی۔۔۔۔ خدارا میری جان چھوڑ دیں۔۔۔۔
وہ مضبوط قدم اٹھاتا کمرے سے نکل رہا تھا جب اسکی تلخ آواز دائم کی سماعتوں سے ٹکرائی۔۔۔
ایک تلخ مسکراہٹ اسکے ہونٹوں کی تراش میں ابھری۔۔۔
چار لاکھ تو کیا چار کڑور بھی نہیں۔۔۔
دائم خان کے جذبات سے کھلینے کی قیمت اتنی کم نہیں ہو سکتی۔۔۔
وہ بنا پلٹے گویا ہوا اور عائزل کے دیکھتے ہی دیکھتے کمرے سے نکل گیا۔۔۔
اسکے جاتے ہی عائزل کا دل خوف کے زیر اثر ڈوب کے ابھرا۔۔۔
اسنے ایک سہمی نگاہ چاروں اور دوڑائی ۔۔۔ اسے سناٹے اور تنہاہی سے خوف محسوس ہوا۔۔۔
******
کلاس روم کی کھلی کھڑی سے سورج کی روشنی اندر آ رہی تھی۔۔۔ آج کافی دنوں کے جارے کے بعد سورج نے چھب دکھلائی تھی۔۔۔
کلاس میں پن ڈراپ خاموشی تھی۔۔۔ سبھی سٹودینٹس سامنے پروفیسر کا لیکچر نوٹ کر رہے تھے۔۔۔
یہ سامنے کھڑے پروفیسر کے اس باوقار شخصیت کا روب ہی تھا کہ انکی کلاس کے دوران ہمیشہ اتنی ہی خاموشی ہوتی۔۔۔۔۔۔
ایسے میں وہ جرنل پر سر جھکائے جرنل کے کھلے کاغذات پر لیکچر نوٹ کرنے کی بجھائے آڑھی تڑچھی لائینیں کھینچ رہی تھی۔۔۔ پس منظر میں کچھ اور ہی چل رہا تھا۔۔۔
ماں کی بگڑتی طبیعت کے پیش نظر بجٹ سے باہر جاتے اخراجات۔۔۔۔ بجلی کا بل۔۔۔ پلمبر کا۔۔۔ اور اسکے ساتھ ہی ایک کرخت آواز کے زیر اثر اسکی سوچوں کا تسلسل ٹوٹا اور اسنے ہربڑا کر سامنے دیکھا جہاں پروفیسر صاحب اسے غصے سے گھور رہے تھے۔۔۔ وہ پچاس کے پیٹے میں ایک روبدار شخصیت کے مالک تھے۔۔۔
ی۔۔۔یس سر۔۔۔ ایمن تھوک نگلتی ناسمجھی سے گویا ہوئی۔۔۔
دھیان کہاں ہے آپکا۔۔۔ وہ گرجدار آواز میں کہتے بورڈ مارکر ٹیبل پر رکھتے اسکی جانب بڑھے۔۔۔
سس۔۔۔ سر ۔۔۔ لیکچر نوٹ کر رہی تھی۔۔۔ اسنے آواز کی لڑکھراہٹ پر قابو پانا چاہا جو واضح اسکے جھوٹ بولنے کی نشاندہی کر رہی تھی۔۔۔
اچھا چلیں دکھائیں کیا نوٹ کیا ہے آپ نے۔۔۔ وہ اسکی جانب بڑھتے گویا ہوئی۔۔
ایمن نے فق پڑتی نگاہوں سے اپنے جرنل پر دیکھا جہاں سوائے آڑی ترچھی لکیروں کے کچھ نا تھا۔۔۔ اسنے ہاتھ مسلتے بے بسی سے سر کو اپنی جانب بڑھتے دیکھا۔۔
ایڈیٹ کیا ضرورت تھی سر کے لیکچر میں اتنی غائب دماغ رہنے کی۔۔ لیکچر نوٹ نہیں کر سکتی تھی۔۔۔ اندر سے کسی نے اس کے لتے لئے۔۔۔
اس سے پہلے کے سر اسکے قریب پہنچ کر اسکا جرنل اٹھاتے ایمن کے یچھے سے ایک مضبوط سفید ہاتھ آگے بڑھا جسنے لمحوں میں وہ جرنل بدلہ تھا۔۔۔ یوں کے ایمن بھی حقا بقا سی دیکھتی ہی رہ گئ۔۔۔۔
سر کے جرنل اٹھانے پر اسنے ایک گہری سانس خارج کی۔۔۔
سر عینک کے موٹے شیشوں کی اوٹ سے اس جرنل کو اچھے سے دیکھنے کے بعد اسے واپس رکھتے واپس اپنی کرسی کی طرف بڑھ گئے تو ایمن سکون کا سانس لیتی واپس اپنی جگہ پر بیٹھی۔۔۔
انسان اپنے محسن کا شکریہ ہی ادا کر دیتا ہے۔۔۔
سر کے لیکچر کے ختم ہونے کے بعد کلاس سے جاتے ہی وہ دھپ سے ایمن کے ساتھ آ کر بیٹھا۔۔۔
ایمن کے ماتھے پر بل نمودار ہوئے ۔۔۔ اسنے آنکھیں ٹیڑھی کرتی اسے دیکھا۔۔۔
جینز پر بلیک جیکٹ زیب تن کئے بال ماتھے پر آرے ترچھے انداز میں بکھرائے چمکتی آنکھوں اور عنابی لبوں پر مسکراہٹ بکھرائے وہ اسی کی جانب متوجہ تھا۔۔۔ سر سے لے کر پیروں تک بڑینڈ میں ملبوس وہ اپنے بیک گراونڈ کا چلتا پھرتا ثبوت تھا۔۔۔
میں نے اس محسن کو مجھ پر کوئی احسان کرنے کی دعوت نہیں دی تھی۔۔۔
وہ سخت لہجے میں کہتی اپنی چیزیں اٹھاتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
بندہ کِبھی تو مسکرا کر بات کر لیتا ہے۔۔۔ وہ تاسف سے کہتا اسکے ساتھ ہی اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ آنکھوں کی جوت بجھ سی گئ تھی۔۔۔۔ مجال تھی جا یہ لڑکی زرا سا بھی خود سے فری ہونے کا موقع دیتی۔۔۔
ایمن نے اسے ایک سخت گھوری سے نوازا اور نظر انداز کرتی کلاس سے باہر نکل پڑی۔۔۔
آہ۔۔ لڑکی ابھی تمہارے لئے بہت پاپڑ بیلنے پڑیں گے ۔۔ ریان مایوسی سے بالوں میں ہاتھ چلاتا دھپ سے واپس بیٹھا۔۔۔۔
*******
وہ سرسراتی ہڈیوں میں خون کو ٹھٹھراتی ہواوں میں تیز تیز قدم اٹھاتی گھر کی جانب جاتی گلی کو مڑی۔۔۔۔ آج کافی دنوں بعد سورج نے چھب دکھلائی تھی۔۔ دن کافی خوشگوار تھا لیکن جیسے جیسے آسمان جامنی ہونا شروع ہوا سردی کی شدت میں بھی یکدم ہی اضافہ ہونے لگا تھا۔۔۔۔
مغرب باسی ہو رہی تھی۔۔۔ ابھی اسے گھر پہنچ کر نماز بھی ادا کرنا تھی۔۔۔ گھر کا دروازہ نظر آتے ہی ایمن نے زرا سکھ کا سانس لیا۔۔۔ آج یونیورسٹی میں نتاشہ بھی نہیں آئی تھی جسکی وجہ سے وہاں بھی اسکا دن خاصا بور گزرا تھا۔۔۔
اسلام علیکم۔۔۔
اندر داخل ہوتے ہی اسنے باآواز بلند سلام کیا۔۔۔۔
واعلیکم اسلام۔۔۔ بیٹا کھانا لاوں۔۔۔۔
اسکی آواز سن کر ماں کمرے سے نکلتی گویا ہوئی۔۔۔
ایمن نے تاسف سے ماں کو دیکھا۔۔۔ نچھڑی رنگت۔۔۔ آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے اور چہرے کی ابھرتی ہڈیاں۔۔۔۔ ایک ہوک سی اسکے سینے سے نکلی۔۔۔
اس بیماری نے ماں کو دنوں میں گھول کر رکھ دیا تھا۔۔۔
نہیں ماں۔۔۔ آپ لحاف میں لیٹی تھیں باہر کیوں آئی۔۔۔ کتنی بار کہا ہے کھانا میں خود لے لوں گی۔۔۔۔ وہ بے بسی سے کہتی اندر بڑھ گئ۔۔۔ چادر سر سے اتارتے فورا سے تہہ کر کے ہینگ کی۔۔۔ اور جوتے اتار کر جرابیں اتارتی چپل اڑس کر کمرے سے باہر نکلی۔۔۔ مغرب کا وقت نکل رہا تھا تو اسکے ہر ہر انداز میں عجلت تھی۔۔۔۔
آستیینیں بازوں پر چڑھاتے سردی کی شوریدرہ سر ہواوں نے اسے کپکپانے پر مجبور کر دیا۔۔۔
چل جھلی۔۔۔ سارا دن باہر کھپتی ہے۔۔۔ پہلے یونیورسٹی پھر نوکری۔۔۔ تجھے کیا لگتا ہے مجھے اپنے بچوں کی محنت کا احساس نہیں۔۔۔ کیا اب میں کھانا دینے سے بھی رہی۔۔۔
صحن کے کونے میں لگے واش بیسن پر ٹھنڈے پانی سے وضو کرتے اسے کچن سے مسلسل ماں کی باتیں سنائی دے رہی تھیں۔۔۔ وہ غالباً اسکے لئے کھانا گرم کر رہی تھی۔۔۔
آہ یہ زندگی اور اسکے جھمیلے۔۔۔۔ ایمن نے سرد آہ بھرتے نل بند کیا۔۔۔
حماد آیا تھا کیا۔۔۔ دفعتاً تولیے سے چہرا خشک کرتے یاد آنے پر وہ گویا ہوئی۔۔۔ ٹھنڈ سے اب اس پر کپکپی طاری ہونے لگی تھی۔۔۔
ہاں آیا تھا۔۔۔ کھانا کھا کر ہی واپس گیا ہے۔۔۔۔ اس بیچارے کی بھی خاصی سخت دیوٹی ہے۔۔۔
ماں کی بات سنتی وہ دلگرفتی سے آستینیں نیچے کرتی آنچل سر پر اوڑھتی کمرے کی جانب بڑھی۔۔۔
کاش کام کی کوئی اور سبیل نکل آئے تو وہ حماد کو کبھی کام کی یہ شفٹ نا لگانے دیتی۔۔۔
گرمیوں میں تو پھر بھی ٹھیک تھا۔۔۔۔ لیکن سردیوں کی راتوں میں تو نو بجے ہی دھند کے باعث ہر سو ہو کا علم ہو جاتا۔۔۔ ایسے میں رات بارہ بجے تک ڈیلیوری بوائے کے فرائض سر انجام دینا ۔۔۔ سوچ کر ہی ایمن کا دل کٹ کر رہ جاتا۔۔۔
وہ حماد کے گھر واپس آ جانے تک مسلسل اسکے بحفاظت گھر پہنچنے کی دعائیں کرتی رہی۔۔۔
یہ نوکری انکی مجبوری نا ہوتی تو وہ اسے کبھی نا کرنے دیتی۔۔۔ لیکن شاید زندگی کا نام ہی مجبوری تھا۔۔۔ یا شاید اب تک کے حالات و واقعات کے پیش نظر یہ اسکا نظریہ تھا۔۔۔۔
اگر زندگی خوشی اور غمی کا مجموعہ تھی تو اب تک زندگی نے ایمن علی کے حصے میں محض کانٹے ہی دیئے تھے۔۔ جسے چنتے چنتے اسکے ہاتھ لہولہان ہوتے جا رہے تھے۔۔۔
سردی کی شدت سے سرخ پڑتی ناک کیساتھ ساتھ اسکے ہاتھ بھی برف ہو رہے تھے۔۔۔ وہ سردی کی شدت سے کپکپا رہی تھی یا خوف و ہراس سے وہ سمجھ نہیں پائی۔۔۔
گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر دائم خان کے ساتھ بیٹھتے ہی سفر ایک مرتبہ پھر سے شروع ہوا تھا۔۔۔
گاڑی کا ہیٹر چلتے ہی عائزل کو کچھ سکون ملا۔۔۔
سردی کے معاملے میں وہ ایسی ہی تھی۔۔۔ تھوڑی سی سردی کو بہت زیادہ محسوس کرنے والی۔۔۔ یہ تو پھر اسلام آباد کی سردی تھی۔۔۔۔
اسنے ایک چور نگاہ اپنے مقابل ڈرائیونگ کرتے دائم خان پر ڈالی جو سنجیدہ صورت لئے سامنے ونڈ سکرین کے پار دیکھتا کار ڈرائیو کر رہا تھا۔۔۔۔
صبح والے وائٹ کاٹن کے سوٹ پر اس وقت وہ سیاہ جیکٹ پہنے تھا۔۔۔ بال سلیقے سے بنائے گئے تھے۔۔۔
تیکھے نقوش کا حامل وہ ایک سحرانہ شخصیت کا مالک تھا جو کسی کو بھی اپنی شخصیت کے سحر میں جھکڑ سکتا تھا۔۔۔
ہم کہاں جا رہے ہیں۔۔۔ وہ ہلکے گلابی کھدر کے سوٹ میں ملبوس شال کو مزید اچھے سے خود پر لپیٹتے بے چینی سے مستفسر ہوئی۔۔۔
صبح کی بات چیت کے بعد سے ان دونوں میں کوئی بات نا ہوئی تھی۔۔۔ وہ اسے فلیٹ میں ہی چھوڑ کر خود باہر نکل گیا تھا۔۔۔ کل رات کی شدید بے سکونی اور پے در پے اپنے مخالف چلتے حالات نے تو اسے پہلے ہی ادھ موا کر چھوڑا تھا۔۔۔
کھانا نہ رات میں کھایا تھا۔۔۔ اوپر سے اتنا لمبا سفر۔۔۔ وہ تو ویسے ہی ادھ موئی ہوئی پڑی تھی۔۔۔ کجا کہ صبح بھی وہ اسے بنا ناشتے کا پوچھے ویسے ہی فلیٹ سے نکل گیا تھا۔۔۔
پیٹ کے ہاتھوں مجبور ہوتی وہ ڈھیٹ بن کر اپنے کمرے سے نکلی۔۔۔
وہ ایک صاف ستھرا فرنشڈ فلیٹ تھا۔۔۔ کچن ڈھونڈنے میں اسے زیادہ دشواری نا ہوئی تھی۔۔۔
کچن میں جاتے ہی اسنے سب سے پہلے فریج کھولی۔۔۔ فریج میں ضرورت کا تقریباً سارا ہی سامان تھا۔۔۔ بریڈ ۔۔انڈے ۔۔۔ جوس۔۔۔ دودھ۔۔۔ جیم۔۔۔
اسنے ایک پل کے لئے سوچا اور اگلے ہی پل وہ کیبنٹس کھول کر مطلوبہ چیزیں دھونڈ رہی تھی۔۔۔
ٹھیک دس منٹ بعد وہ فرائی انڈا اور چائے کے کپ کیساتھ بریڈ کے سلائس لے کر لاوئنج میں آئی۔۔ ناشتہ کر کے واپس کچن میں جا کر وہ سارے برتن دھو کر سب کچھ واپس انکی جگہوں ہر رکھتی واپس اپنے کمرے میں آگی۔۔۔
تقریباً بارہ بجے وہ واپس گھر آیا تھا۔۔۔
اور آتے ہی انکا سفر ایک مرتبہ پھر سے شروع ہو گیا تھا۔۔۔
ناجانے وہ اسے اب کہاں لے کر جا رہا تھا۔۔۔ اسنے عائزل کی کسی بات کا جواب نا دیا تھا۔۔۔ وہ اسکی طرف سے جواب کے انتظار سے مایوس ہو کر سیٹ کی پشت سے سر ٹکاتی باہر دیکھنے لگی۔۔۔
گاڑی ٹوٹے پھوٹے رستوں سے گزرتی آگے بڑھ رہی تھی۔۔۔ یقیناً وہ کسی پسماندہ علاقے میں جا رہے تھے۔۔۔
ناجانے وہ شخص اسے کہاں لے کر جا رہا تھا اور آگے اسکے ساتھ کیا کرنے والا تھا۔۔ سوچتے ہی وہ لرز کر رہ گئ۔۔ دل زور زور سے ڈھرکنے لگا تھا۔۔۔
اسنے رحم طلب نگاہوں سے ساتھ بیٹھے اس خوبرو شخص کو دیکھا جسکے چہرے پر نرمی کی کوئی رمق تک نا تھی۔۔۔
یقیناً زندگی آگے بھی عائزل کے لئے آسان نہیں رہنے والی تھی۔۔۔۔۔
گاڑی جھٹکا کھا کر رکی تو جھٹکے سے عائزل ایک دم ہربڑا کر اٹھی۔۔۔ سیٹ کی پشت سے سر ٹکائے ناجانے وہ کب نیند کی وادیوں میں اتر گئ تھی۔۔۔
اسکے یوں ہڑبڑا کر اٹھنے پر دائم خان نے ایک سرسری نگاہ اس پر ڈالی اور گاڑی کا دروازہ وا کرتا باہر نکلا۔۔
سارے راستے ہی وہ وقفے وقفے سے اسے سوئے ہوئے دیکھتا رہا تھا۔۔۔۔
جو دھوکہ اس لڑکی نے اسے دیا تھا۔۔۔ جس انداز میں وہ اسکے جذبات کیساتھ کھیلی تھی۔۔۔ اسکا دل چاہ رہا تھا کے اس لڑکی کا حشر نشر کر دے۔۔۔
پر ہر بار ماں کی تربیت آڑے آ جاتی۔۔۔
اسکے خاندان میں عورتوں کی عزت کی جاتی تھی۔۔۔ وہ الگ بات کے یہ لڑکی عزت کی حقدار تھی ہی نہیں۔۔۔
اسنے ایک سخت نگاہ عائزل کے معصوم چہرے پر ڈالی اور گاڑی کا دروازہ زور سے بند کیا۔۔۔
عائزل بھی اسکی تقلید میں باہر نکلی۔۔۔
وہ واقعی ایک پسماندہ علاقہ تھا۔۔۔ جہاں باقی گھروں کی نسبت یہ قدرے بہتر حویلی تھی۔۔۔
لوہے کے آہنی گیٹ کو وا کرتا دائم آگے بڑھا تو تاحد نگاہ کھلے کچے صحن کے بعد رہائشی عمارت شروع ہوتی تھی۔۔۔
ایک طرف جانوروں کا بارہ تھا جہاں سے بھینسوں کے بولنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔۔۔
عائزل نے حراساں نگاہوں سے ارد گرد دیکھا ۔۔۔ یہ ماحول اسکے لئے نیا تھا۔۔۔
کھلے صحن کے ایک طرف ہینڈ پمپ لگا تھا جبکہ اب انہیں سامنے برآمدے میں بچھی چارپائی پر ایک فربہہ مائل عورت بیٹھی حقہ پیتی ارد گرد آتی جاتی لڑکیوں سے کام کرواتی نظر آ رہی تھی۔۔۔
دائم پر نظر پڑتے ہی وہ عورت خوشی سے مسکراتی ہوئی چارپائی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
میں صدقے جاوں۔۔۔ ارے میرا پتر آیا ہے۔۔۔۔ اس دفعہ یہاں آنے میں تو نے بڑی دیر کر دی دائم۔۔۔
وہ عورت والہانہ دائم سے ملتی دونوں ہاتھوں سے اسکے سر پر پیار دیتی گویا ہوئی۔۔۔
عائزل کو اسکے کرخت چہرے اور بڑی بڑی آنکھوں سے خوف محسوس ہوا۔۔۔
جی بوا۔۔۔ بس کچھ مصروفیت تھی۔۔۔ اس لئے پہلے آ نہیں سکا۔۔۔
چلو کوئی بات نہیں دیر آئے درست آئے۔۔۔۔
وہ انکے پاس ہی دوسری چارپائی پر بیٹھتا اس عورت سے باتیں کرنے لگا۔۔۔
عائزل عجیب بے بسی کے عالم میں ہاتھ مسلتی وہیں کھڑی تھی۔۔۔ نا کسی نے اسے بیٹھنے کا کہا۔۔۔ نا ہی وہ خود بیٹھی۔۔۔۔
اسکے وجود سے وہ دونوں ہی غافل ہو چکے تھے۔۔۔ پتہ نہیں جان بوجھ کر یا انجانے میں۔۔۔
تو بیٹھ پتر میں تیرے لئے کھانے کا انتظام کرواتی ہوں۔۔۔ وہ باتیں کرتی یاد آنے پر گھٹنوں پر وزن ڈالتی اٹھنے لگی جب دائم بعجلت انہیں روک گیا۔۔۔
اس تکلف کی کوئی ضرورت نہیں بوا۔۔۔ ابھی زرا جلدی میں ہوں۔۔۔ جلد دوبارہ چکر لگاوں گا۔۔۔
انشااللہ پھر کھانا کھا کر جاوں گا۔۔۔ دائم اٹھ کھڑا ہوتا عاجزی سے گویا ہوا۔۔۔
ارے یہ لڑکی کون ہے ۔۔
اس عورت کی دائم کے پیچھے چھپی کھڑی لڑکی پر شاید ابھی نظر پڑی تھی۔۔۔
دائم نے ایک گہری سانس خارج کی۔۔۔
مریم کی شادی ہوگئ نا بوا۔۔۔ اسکی جگہ خالی ہے اب۔۔۔ تو اسکی جگہ اب یہ کام کرے گی آپکے پاس۔۔۔۔
دائم خان ماتھا کھجاتا سرخ نگاہوں سے وہاں کام کرتی لڑکیوں کو دیکھتا گویا ہوا۔۔۔
ارے کیسا مذاق ہے پتر۔۔۔ یہ شہر کی نازک جان یہاں کے کام کیسے کرے گی۔۔۔ بوا قہقہ لگاتی اسکی بات کو مذاق کا رخ دیتی گویا ہوئی۔۔۔
بلکل کرے گی بوا۔۔۔ اور سب کچھ کرے گی۔۔۔ اسنے ایک تلخ نگاہ عائزل کے ہوائیاں اڑے چہرے پر ڈالی اور نظروں کا رخ واپس بوا کی جانب کیا۔۔۔ اسی لئے تو آپکی شاگردی میں دے کر جا رہا ہوں ۔۔۔ جانتا ہوں آپ اسے اچھے سے ٹرین کر دیں گی۔۔۔ وہ تلخی سے ہسا۔۔۔
ویسے بھی یہ سب سیکھ لے گی کیونکہ اس کے پاس انکار کا جواز نہیں ہے۔۔۔
بہت نقصان کر چکی ہے میرا۔۔۔ اچھی خاصی رقم لے چکی ہے تو یہ کام کرے گی ہی کرے گی۔۔۔
عائزل کو لگا گویا وہ اپنے لفظوں کے ذریعے گھونٹ گھونٹ زہر اسکے اندر انڈیل رہا ہو۔۔۔
اسنے تھوک نگلتے خوفزدہ نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھا جہاں ایک کونے میں لڑکی برتنوں کا ڈھیر لگائے ہینڈ پمپ سے پانی بھر کر برتن دھو رہی تھی۔۔ تو دوسری طرف ایک لڑکی جانوروں کا چارہ تیار کر رہی تھی۔۔
یہ ماحول اسکے لئے اجنبی تھا۔۔۔ وہ اس ماحول کی پروردہ نہیں تھی۔۔
اوپر سے خود میں گری اس عورت کی نگاہیں۔۔۔ ایک سنسی سی عائزل کے جسم میں ڈوری۔۔۔
دائم خان بوا سے پیار لیتا واپس مڑ چکا تھا۔۔ جبکہ اسے گیٹ کی جانب بڑھتا دیکھ عائزل کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا سانس نیچے رہ گیا۔۔۔
رضیہ اس لڑکی کو کام سمجھاو۔۔۔
اسے اپنی سماعتوں سے اس عورت کی کرخت آواز ٹکراتی محسوس ہوئی۔۔۔
اسے اندر سے ایک لڑکی باہر آتی دکھائی تھی۔۔ عائزل نے چہرا گھما کر دائم کو دیکھا۔۔ وہ تقریباً گیٹ کے قریب پہنچ چکا تھا۔۔۔
عائزل نے آو دیکھا نا تاو اندھا دھند دائم کی جانب بھاگی۔۔۔
وہ لڑکی رضیہ اور بوا منہ کھولے حیرت سے اسے دیکھنے لگیں۔۔۔
دائمممممم۔۔۔۔ دائممم رکیں پلیززززز۔۔۔ وہ بھاگتی ہوئی اسے آوازیں دے رہی تھی۔۔۔
اس غیر متوقع آواز پر دائم ٹھٹھک کر رکا۔۔۔
تعجب سے پلٹا۔۔۔
تب تک وہ اسکے پاس پہنچ چکی تھی۔۔۔
دائم کی آنکھوں میں حیرت ابھری۔۔۔
دائم پلیز مجھے یہاں مت چھوڑ کر جائیں۔۔۔ پلیز۔۔ پلیز۔۔۔ دائم۔۔۔
وہ دائم کی بازو زور سے دبوچے خشک پڑتے لبوں پر زبان پھیرتی بار بار پیچھے پلٹ کر دیکھ رہی تھی۔۔۔
کپکپاتے لب۔۔۔ حراساں نگاہیں۔۔۔ لرزتا بدن۔۔۔ دائم کا دل پسیجا۔۔۔۔
وہ لڑکی واقعی اس ماحول کی پروردہ نہیں تھی۔۔۔ اس ماحول سے مانوس نہیں تھی۔۔۔
پلیز دائم ۔۔۔ مجھے ساتھ لے جائیں۔۔ مجھے معاف کر دیں۔۔۔ خدا کے لئے پلیز۔۔۔ میرا جرم اتنا بڑا نہیں ہے۔۔۔
میں آپکو چار لاکھ دے دوں گی لیکن۔۔۔
چھن سے سارا فسوں ٹوٹا تھا۔۔۔
دائم کے ماتھے پر جابجا شکنوں کا جال بچھا۔۔
اسنے سختی سے اپنی بازو پر موجود اسکا ہاتھ جھٹکا۔۔۔
کاش کے تمہیں اندازہ ہوتا کے تمہاری غلطی کتنی بڑی ہے۔۔۔
اسنے عائزل کی بازو اپنے سخت گرفت میں جھکڑتے اسکا رخ اپنی جانب کیا۔۔۔
جبکہ عائزل پھٹ پڑتی نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔
سویٹ ہارٹ یہاں سے تمہاری جان خلاصی ممکن نہیں ۔۔۔ تمہاری زندگی کی آخری سانس تک نہیں۔۔۔
اسنے ایک جھٹکے سے اسکی بازو چھوڑی۔۔۔
یوں کے وہ لڑکھڑاتی ہوئی سامنے کھڑی بوا سے ٹکرائی۔۔۔
سمبھالیں اسے بوا۔۔۔ خاصی تیڑھی چیز ہے۔۔۔ اسے ڈھیل دیں گی تو یہ آپکو تگنی کا ناچ نچوا دے گی۔۔۔
وہ اس پر ایک تحقیرانہ نگاہ ڈالتا بوا سے مخاطب ہو کر اس آہنی گیٹ کو عبور کر گیا۔۔۔
جبکہ بوا کی سخت جارحانہ گرفت میں وہ پتھرائی نگاہوں سے اسکی دھول اڑاتی گاڑی کو نگاہوں سے اوجھل ہوتے دیکھتی رہ گئ۔۔۔
اسنے گھر کے دروازے پر ہاتھ رکھا تو وہ کھلتا ہی چلا گیا۔۔۔ بے ساختہ اسنے سکون کا سانس خارج ۔۔۔ یہ بھی بہت تھا کہ دروازہ کھلا تھا۔۔۔ یہاں مزید انتظار نہیں کرنا پڑا۔۔۔
پیدل چلنے سے سفید رنگت میں سرخیاں گھلنے لگی تھیں۔۔۔
سفید بے داغ سکول کے یونیفارم میں وہ کوئی چھوٹی سی گڑیا ہی معلوم ہوتی تھی۔۔۔
ارے بجو شکر خدا کا آپکے پاس کچھ کھانے کو ہے۔۔۔ ورنہ مجھے لگ رہا تھا شاید آج میں نے بھوک سے ہی فوت ہو جانا ہے۔۔۔۔ چھوٹا سا صحن عبور کر کے وہ لاوئنج میں بیٹھی عفیفہ کے ہاتھ میں تھامی بریانی کی پلیٹ دیکھ کر ندیدوں کی طرح بیگ وہیں سنگل صوفے پر پھینکتی دھپ سے اسکے پاس بیٹھی ۔۔۔
عفیفہ کا منہ کی طرف چمچ لے جاتا ہاتھ ٹھٹھک کر رکا۔۔۔
جب وہ اسکے ہاتھ سے پلیٹ جھپٹتی اسے چمکتی نگاہوں سے دیکھنے لگی۔۔۔
عفیفہ نے مسکراتے ہوئے سر نفی میں ہلاتے چمچ پلیٹ میں رکھا تو وہ بنا دیر کئے چمچ اٹھاتی چاول کھانے لگی۔۔۔
امممم۔۔۔۔ کیا ذائقہ ہے بریانی کا بجو۔۔۔۔ وہ پہلا نوالہ منہ میں ڈالتی ہی آنکھیں بند کرتی بریانی کا ذائقہ منہ میں گھلتے محسوس کرتی گویا ہوئی۔۔۔
ناہجار۔۔۔ آتے ہی اسکی پلیٹ پر قبضہ جما لیا۔۔۔
نا طریقہ ۔۔۔ نا سلیقہ۔۔۔ منہ اٹھا کر گھر آئی۔۔۔ اور بنا کپڑے بدلے بنا منہ ہاتھ دھوئے دوسروں کی چیزوں پر قبضہ جما لیا۔۔۔ غاضب کہیں کی۔۔۔ کھا جا میری بچی کا حق۔۔۔۔
ارے تجھ جیسی ڈھیٹ بندی بھی نا دیکھی ہو گی میں نے آج تک۔۔۔ زرا جو حیا یا غیرت ہو تجھ میں۔۔۔
سارا فسوں لمحوں میں ٹوٹا تھا۔۔۔ مامی کی گرجدار آواز پر اسنے جھٹ سے آنکھیں کھولی۔۔۔
فربہہ مائل سی گندمی رنگت کی حامل مامی لال بھبھوکا چہرا لئے اسکے سامنے کھڑی تھیں۔۔۔ جیسے بس نا چل رہا ہو کے اسے کچا ہی چبا جائیں۔۔۔۔
اسکے ہاتھ سے چمچ چھوٹ کر پلیٹ میں گرا جب مامی نے آگے بڑھ کر اسکے ہاتھ سے پلیٹ جھپٹی۔۔۔۔
ماں۔۔۔ عفیفہ نے ماں کے یوں پلیٹ جھپٹنے پر تڑپ کر ماں کو دیکھا۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ کچھ بولتی ماں نے ہاتھ اٹھاتے اسے سختی سے کچھ نا بولنے کی وارنینگ دی۔۔۔
گڑیا بے بسی سے انہیں دیکھتی پاوں پٹختی وہاں سے اٹھی اور کمرے میں جا کر زوردار انداز میں دروازہ بند کیا۔۔۔
یہ غصے کسی اور کو دکھانا جا کر۔۔۔ دروازہ تمہارے باپ نے نہیں لگوایا یہاں۔۔۔
دروازہ دھاڑ کی آواز سے بند ہوتے ہی مامی غصے سے پھٹی۔۔۔
اسی رفتار سے دروازہ وا کرتے اسنے اپنا سرخیاں چھلکاتا چہرا باہر نکالتے ناک چڑھائی۔۔۔
میرے باپ تک آپ نا ہی جائیں تو بہتر ہے۔۔۔ غزالی آنکھیں۔۔۔ تیکھی ناک پر دھرا غصہ۔۔۔ باریک پنکھری سے نازک لب۔ سرخ و سپید رنگت۔۔ وہ خوبصورتی کا ایک شاہکار تھی۔۔۔ جس رفتار سے دروازہ کھولا بات مکمل کر کے وہ ویسے ہی دھار سے دروازہ بند کر چکی تھی۔۔۔
اسکے انداز دیکھ مامی کے تو سر پر لگی تلووں پر بجھی۔۔۔۔ ایک تو کمبخت کو نظر بھی نہیں لگتی تھی۔۔۔
دیکھا۔۔۔ دیکھے تو نے اسکے انداز اطوار۔۔۔ وہ غصے سے تلملاتیں دروازے کی جانب اشارہ کرتیں بیٹی سے گویا ہوئیں۔۔۔۔
ماں بچی ہے ابھی سمجھ جائے گی۔۔۔ آپ بھی تو پلیز زرا خیال کیا کیجیئے۔۔۔ کتنے سخت الفاظ استعمال کر جاتی ہیں آپ وہ تو۔۔۔
او بس کر دے بی بی۔۔۔ بس کر دے۔۔۔ خدا کا واسطہ ہے تمہیں۔۔۔ اسکا وکیل بننے کو تمہارا باپ ہی کافی ہے۔۔۔
ماں وہ بن ماں باپ کی بچی ہے۔۔ اسکے ماں باپ۔۔۔
عفیفہ ہونٹ چباتی منمنائی جب مامی نے درشتی سے اسکی بات کاٹی۔۔
تو کیا ہم نے مارے ہیں اسکے ماں باپ۔۔۔ اسکے دودھیال میں تو کوئی اسکی صورت دیکھنے تک کا روادار نہیں۔۔۔ نا ہی اتنے سالوں میں کسی نے پلٹ کر دیکھا اسکی جانب ۔۔۔
کتنی بار بولا ہے تمہارے باپ کو کے چھوڑ آئے اسے وہیں جنکا یہ خون ہے۔۔ ناجانے کس مٹی کا بنا ہے وہ شخص بھی۔۔۔ مجال ہے جو کبھی میری بات سن جائے۔۔۔
یہ لڑکی حق کھا جائے گی تیرا۔۔۔ تجھے کیوں یہ بات سمجھ نہیں آتی۔۔۔۔
ماں کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ۔۔۔ وہ بچی ہے۔۔۔ ماں کو ٹوکتی وہ پِھر سے منمنائی۔۔۔ اپنے ہاتھوں سے پالا ہے میں نے اسے۔۔۔ میری گڑیا ہے وہ۔۔۔
ارے کہاں سے تجھے وہ بچی لگتی ہے۔۔۔ ہاں۔۔۔
مامی۔۔۔ جاتی جاتی واپس پلٹتی اس سے جرح پر اتری۔۔۔
اسکا رنگ روپ ۔۔۔ قد کاٹھ دیکھا ہے تو نے۔۔۔ تیرے برابر کی لگتی ہے۔۔۔ سات سالوں کا جو فرق ہے نا تم دونوں میں۔۔۔ وہ محض گنتی کے ہندسوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔۔۔
اور تو دیکھ۔۔۔ پاگل بنی پھرتی رہتی ہے اسکے پیچھے۔۔۔
کچھ اپنا خیال بھی کر لیا کر۔۔۔
اس سال پورے بائیس کی ہو جائے گی۔۔۔
یہ بھر بھر کر کریمیں منگوا کر دیتی ہوں تجھے۔۔۔ پر مجال جو کبھی تو نے استعمال کی ہوں۔۔۔ وہ اسکی گندمی رنگت کو دیکھ گلوگیر ہو اٹھیں۔۔۔
ویسے تو نہیں ۔۔۔ مگر گڑیا کے سامنے واضح اسکی رنگت دبتی محسوس ہوتی تھی۔۔۔
میری بات کان کھول کر سن لے عفیفہ۔۔۔ اگلے ہفتے لڑکے والے تجھے دیکھنے آنے والے ہیں۔۔۔
خبردار جو وہ کرم جلی انکے سامنے آئی تو۔۔۔
ارے مجھے تو کہتے ہوئے بھی شرم آتی ہے کے پچھلی دفعہ جو لڑکے والے تجھے دیکھنے آئے تھے وہ اسے پسند کر گئے۔۔۔ مامی کرب سے کہتی صوفوں کے کشنز ٹھیک کرنے لگی ۔۔۔جبکہ وہ خاموش نگاہوں سے اپنے ہاتھوں کی لکیروں کو دیکھتی گم صم سی بیٹھی تھی۔۔۔
یہ تو ابھی شکر ہے کے وہ آفت ہے پندرہ کی ورنہ تیرے باپ نے تو میرے کلیجے پر پاوں رکھتے پہلے اسے ہی اسکے گھر کا کر دینا تھا۔۔۔ وہ ٹیبل پر پڑے برتن اٹھا کر کچن میں چلی گئ جبکہ عفیفہ نے انکے جاتے ہی تاسف زدہ نگاہ جوں کی توں پڑی بریانی کی پلیٹ پر ڈالی اور دوسری نگاہ بند پڑے کمرے کے دروازے پر۔۔۔۔
عفیفہ بریانی کی پلیٹ اٹھا کر ماں کے پیچھے ہی کچن میں گئ۔۔۔ ایک نظر چائے بناتی ماں پر ڈال کر اسنے اوون میں چاول گرم کئے ۔۔۔ اب اسکا رخ اپنے کمرے کی جانب تھا۔۔۔
کمرے کے دروازے کے پاس رک کر اسنے ایک گہری سانس خارج کی اور دروازہ کھول کر اندر بڑھی۔۔۔
دروازہ کھلنے کی آواز پر بیڈ پر کتابیں بکھرائے انکے درمیان میں بیٹھی جرنل پر سر جھکائے گڑیا نے ناراض نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔
یونیفارم وہ تبدیل کر چکی تھی۔۔۔ سیاہ پلین شلوار سوٹ میں ملبوس اسکی رنگت دمک رہی تھی۔۔۔ ریشمی بالوں کی ٹیل پونی بنا رکھی تھی جو شانوں اور کمر پر جھول رہی تھی۔۔۔ اس پر واقعی ایک گڑیا کا گمان ہوتا تھا۔۔۔
اوہ شکر بجو آپ آگئ۔۔۔ ورنہ یہاں میں نے بھوک سے ہی مر جانا تھا۔۔۔
عفیفہ کے بیڈ پر بیٹھتے ہی وہ اپنے گرد بکھری ساری کتابوں کو بے ترتیبی سے ایک طرف کرتی چوکری لگا کر اسکے ہاتھ سے پلیٹ تھامتے چاول کھانے لگی۔۔۔
عفیفہ اسے ندیدوں کی طرح کھاتے دیکھ مسکرا دی۔۔۔
سکون سے کھاو گڑیا۔۔۔ کوئی پیچھے تھوڑی نا لگا ہے۔۔۔۔
ارے رہنے دیں بجو۔۔۔ ابھی آپکی وہ جلادی اماں جان آگئ نا۔۔۔ میرے حلق سے بھی نوالہ نکلوا لیں گی۔۔۔ اسنے بمشکل پچھلہ نوالہ نگلتے بھر کر چمچ منہ میں ڈالا۔۔۔
ایسی بات نہیں ہے گڑیا۔۔۔ وہ خجالت سے بیڈ شیٹ کے پرنٹ پر انگلی پھیرتی منمنائی۔۔۔ بعض اوقات گڑیا کی صاف گوئی اسے خوامخواہ ہی شرمندہ کر دیتی تھی۔۔۔
ایسی ہی بات ہے بجو۔۔۔ آپ اور ماموں اتنے اچھے ہیں۔۔۔ پر میری مامی ناجانے کس پر چلے گئ۔۔۔ انکا بس چلے نا تو وقت کا پہیہ موڑ کر مجھے امی اور ابو کے ساتھ اسی گاڑی میں بیٹھا کر پوری شدت سے ایکسیڈینٹ کروا دیں اور کہیں۔۔۔ لو گئ نحوس ماری۔۔۔ خس کم ۔۔۔ جہاں پاک۔۔۔
وہ بھرائی آواز میں سر جھٹکتی کھانے سے ہاتھ روک گئ۔۔۔۔
گڑیاااااا۔۔۔ اب تم مجھے ہرٹ کر رہی ہو۔۔۔
آپکو ہرٹ نہیں کر سکتی بجو۔۔۔ آپ تو میری جان ہیں۔۔۔ وہ لاڈ سے اسکی گردن میں بازو حائل کر گئ۔۔۔ پر پتہ ہے کیا۔۔۔ وہ میری سوتیلی مامی ہے۔۔۔ سگی نہیں ہے۔۔۔ وہ اسکے کان کے پاس جا کر رازدرانہ انداز میں سرگوشانہ گویا ہوئی۔۔۔
جبکہ عفیفہ کھل کر مسکرا دی۔۔۔
بالکل پاگل ہو۔۔۔ اور یہ ختم کرو۔۔۔ درمیان میں کیوں چھوڑ دیئے۔۔۔ عفیفہ اسکے سر پر چیت رسید کرتی اسکی توجہ پلیٹ کی جانب مبذول کروا گئ۔۔۔
پتہ ہے مجھے۔۔۔ بریانی گھر میں نہیں پکی۔۔۔ آئی ہے کہیں سے یا شاید آپنے منگوائی ہے۔۔۔ وہ اسکی گود میں سر رکھتی لیٹ گئ۔۔۔میں نے آدھی کھا لی اب باقی آدھی آپکی ہے۔۔۔
ورنہ مجھے سچ میں لگے گا۔۔۔۔ وہ بات بیچ میں چھوڑتی سنجیدگی سے عفیفہ کا دیکھنے لگی۔۔۔
کیا۔۔۔ وہ حیرت سے مستفسر ہوئی۔۔۔
کے میں آپکا حق کھا گئ۔۔۔ بات کرتے وہ قہقہ لگا کر ہس دی۔۔۔ حتی کے ہستے ہستے اسکی آنکھوں میں نمی سمٹنے لگی۔۔۔
میں آپکا حق کھاوں گی بجو۔۔۔ میں۔۔۔
پانچ سال کی تھی جب امی ابو کی ڈیتھ کے بعد یہاں آئی۔۔۔ راتوں کو آپکے ساتھ سوئی۔۔۔ آپ سے فرمائشیں کیں۔۔ آپ سے ناز اٹھوائے۔۔۔ آپکو تنگ بھی کیا۔۔۔ آپ کے ساتھ کھیلی ۔۔۔ آپ پر روب بھی جمایا اور حق بھی ۔۔۔ آپ کے ساتھ ہسی ۔۔۔ آپ کے ساتھ روئی۔۔۔ بجو میں آپکا حق چھینوں گی۔۔۔ میں مر نا جاوں گی ایسا سوچنے سے بھی پہلے۔۔۔
گڑیا ۔۔۔ انکی باتوں کو سر پر سوار نا کرو ۔۔۔ ابھی تمہاری عمر نہیں ہے اتنا کچھ سوچنے کی۔۔۔ صرف اپنی پڑھائی پر توجہ دو۔۔۔ میٹرک میں اچھے نمبر آنے چاہیے۔۔۔
عفیفہ اسکا دھیان بٹانے کو بات بدلا گئ لیکن اسنے تو شاید سنا ہی نا تھا۔۔۔
بجو میرا بس چلے نا تو ایک لمحے میں اپنی رنگت آپکو دے دوں۔۔۔ کاش دے سکتی۔۔۔اسکا لہجہ بھرا گیا۔۔۔ نہیں تو کاش مجھے کوئی ایسی کریم مل جائے جو میری رنگت سانولی کر دے۔۔۔ کم از کم یہ روز روز کے کمپیریزن سے تو جان چھوٹے۔۔۔
مائے گاڈ گڑیا۔۔ کیا کیا فضول بیٹھی سوچتی رہتی ہو۔۔۔ وہ تو ششدر ہی رہ گئ تھی اسکی باتوں سے۔۔۔ جھٹکے سے اسکا سر گود سے اٹھاتے اسے سیدھا کیا۔۔۔ وہ نم سرخ آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
ایم سوری بجو۔۔۔ ریئلی ریئلی سوری۔۔۔ وہ اسکے گلے لگتی سرگوشانہ گویا ہوئی۔۔۔ اور عفیفہ اسے لگا گویا وہ پتھر کی ہو گئ ہو۔۔۔۔ اسنے شدت سے اپنی گڑیا کو خود میں بھینچا۔۔۔ ایک آنسو اسکی آنکھ سے ٹپکا۔۔۔
سو جاو میری جان۔۔۔ کچھ بھی فضول مت سوچو۔۔ عفیفہ نے بھاری سانس سینے سے خارج کی اور اسکی کمر سہلانے لگی۔۔۔۔
بجو۔۔۔ میں آپکے لئے بہت دعائیں کرتی ہوں۔۔۔ دیکھنا آپ کے لئے کوئی شہزادہ ہی آئے گا۔۔۔ سب لوگ دیکھتے ہی رہ جائینگے۔۔۔ میری دعاوں میں بہت اثر ہے بجو۔۔۔ دیکھنا کیسے رنگ لائینگی۔۔۔ بولتے بولتے اسکی آواز موٹی ہونے لگی تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ نیند کی گہری وادیوں میں اترتی چلی گئ۔۔۔
