ویرانیاں

سچی کہانیاں ،اپ بیتی داستانیں

حقیقت اورا فسانہ زقلم عیشاء خان

مکمل ناول

views
0
*Veeraniyan Novel by Aisha Khan – Emotional Urdu Story About a Woman and Her Daughter*

مکمل ناول

رات کے بارہ بجے ہسپتال کے ایک وارڈ میں پڑی وہ درد سے بری طرح تڑپ رہی تھی اس وقت اسے تسلی دینے
کے سوا کوئی کچھ نہیں کر سکتا تھا بچے کی پیدائش کا مرحلہ ہوتا ہی اتنا تکلیف دہ ہے کچھ لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں عورت
اس مرحلے میں ایک بار مر کر پھر سے جی اٹھتی ہے
نا قابل بر داشت تکلیف کے بعد وہ پل بھی آتا ہے جب بچہ ماں کی گود میں دیا جاتا ہے تو وہ ساری تکلیف پس پشت
ڈال کر اسے اپنے سینے سے لگالیتی ہے
انتہائی تکلیف میں بھی وہ اکیلی اس سب سے جو مجھ رہی تھی اس کا شوہر کا کام صرف اسے ہسپتال پہنچانا تھا جو وہ کسی
وہ بوجھ کی طرح اپنے سر سے اتار کر وہاں سے چلتا بناصورت بہہ گئے نیم بے ہوشی کی حالت میں اس نے جو لفظ سنے وہ نرس کے تھے جو کسی ڈاکٹر کو بلانے کا کہہ کر اسےسٹریکچر پر ڈال رہی تھی

اس وقت سے وارڈ یا غصہ اس پر اتار اور ہا تھا جو بچےکو سینے سے لگائے آنکھیں جھکائے ہوئے تھی
پر یہ تو رب کی مرضی ہے آپ اور میں کون ہوتے ہیں اسے دنیا سے آنے سے روکنے والے۔۔۔” مریم نے منمنا”
کر جو از پیش کرنا چاہا رب کی مرضی مجھے مت سکھاؤ یہ کہو تمہارے دل کی مراد بر آئی ہے تم ہی چاہتی تھی بیٹی ہو میں نے تمہیں کہا”بھی تھا۔۔۔۔ کہا بھی تھا ضائع کروا دو اسے پر تم نے اپنی ضد پوری کی۔ میری بات کان کھول کر سن لو اب اور پیسہ
اس پر بر باد نہیں کروں گا میں سمجھی ۔ تم اسے دنیا میں لائی ہو اب آگے تم جانو اور یہ ۔ میر اصرف ایک ہی بیٹا ہے وہ
ہے حیدر میر انام اس کے نام کے ساتھ جڑ چکا ہے یہی احسان مانو میرا۔ بہت ہو گئے تمہارے ڈرامے اب گھر چلنے کی تیاری کرو میرے پاس فضول وقت نہیں ہے تمہارے چونچلے اٹھانے کے لیے۔۔
دل کی بھڑاس نکال کر جمال وارڈ سے باہر نکل گیا جہاں اب بھی لوگ آجارہے تھے پاس پڑے بیڈ سے کچھ مریض
اٹھ اٹھ کر اس کی حالت پر افسوس کر رہے تھی جبکہ کچھ لوگوں کے چہروں پر آئی مسکان یہ سمجھانے کو کافی تھی وہ اس تماشے سے بھر پور لطف اٹھارہے تھے اس کے پاس اس سب کے لیے جیسے وقت نہیں تھا اپنی حالت بھول کر اس نے بچی کو اپنے ہی پہنی بڑی سی چادر میں چھپایا اور خدا کا نام لے کر اس شخص کے ساتھ چلتی بنی ابھی تو آزمائش شروع ہوئی تھی اسے فکر تھی تو اپنی باہوں میں کھیلتے ننھے وجود کی جو مستقبل سے بے خبر ماں کی آغوش کے مزےلوٹ رہی تھی
کلاس میں بیٹھاوہ اس وقت ٹیچر انتہا جب اس کے دماغ میں جھما کا سا ہو ا جلدی سے اپنی کلائی پر بندھی
گھڑی دیکھتے اس نے جیسے اپنی یاداشت پر افسوس کیا اب صورت حال یہ تھی کلاس کا سب سے ذہین سٹوڈنٹ
غائب دماغی سے وہاں بیٹھا پریشانی کے عالم میں بار بار وقت دیکھ رہا تھا ایسا لگتا تھا اسے کہیں جانے کی جلدی ہے
لمبا چوڑا قد کسرتی وجود چٹی گوری رنگت جو اس وقت گرمی سے سرخ ہو رہی تھی اپنے ماتھے پر آنے والا پسینہ وہ بار بار رومال سے صاف کر رہا تھا
پانچ منٹ مزید گزرے اسے اپنے صبر کا پیمانہ لبریز ہو تا محسوس ہو رہا تھا تبھی لیکھر اوف ہو گیا ٹیچر کے کل اس سے
جاتے اس نے سکون کا سانس لیا گہری سانس ہوا میں خارج کرتے کتابیں تقریبا بیگ میں ٹھونس ہی ڈالی تھی زپ بند کر کے اس نے بیگ کندھے پر لڑکا یا اور عجلت میں کلاس سے ہی نہیں بلکہ یونیورسٹی سے بھی باہر نکل گیا
کار ڈرائیو کرتے اس نے رفتار معمول سے تیز ہی رکھی تھی صبح ہی اسے لگ رہا تھا وہ کچھ بھول گیا تھا اور کلاس میں
لیکھر کے دوران اچانک اسے یاد آیادہ کتنی اہم بات بھول چکا تھا راستے میں ایک جگہ روک کر اس نے بیکری سے بڑا
شو پر ہاتھ میں پکڑے وہاں سے ساچوکلیٹ کیک اور الگ سے کچھ پیسٹریز پیک کہ باہر نکل آیا جہاں سخت گرمی سے اسے اپنا چہرہ جھلستا ہوا محسوس ہوا
سیٹ پر رکھ کر وہ سڑک کے بائیں جانب بنی ایک کپڑوں کی دکان میں چلا گیا وہاں آدھے گھنٹے بعد اسے ایک سوٹ
ایک کپڑوں کی دکان ہے
پسند آیا جو سفید اور لال رنگ کا تھا
یہ پیک کر دیں۔۔۔۔ دکان دار کو ہدایت دیتاوہ جیب سے پیسے نکالنے لگا مزید نہیں منٹ کے بعد کار میں بیٹھتے “
رکاوٹ اور گری ان کے چہرے پر بکھر گئی اب وہ اس نے ساری چیزوں پر ایک نظر باوجو د ہلکی سی اور دیر نہیں کر سکتا تھا اس لیے گاڑی گھر کے راستے پر ڈال کر رفتار مزید بڑھادی
آیت بیٹا یہ شربت باہر دے آؤ میں کھانا دیکھ رہی ہوں”
ٹرے میں شربت کے گلاس سلیقے سے رکھ کر مریم نے آیت سے کہا
لیکن امی آپ جانتی ہیں نا ابو بنابات کے غصہ کریں گے بہتر یہی ہے آپ چلی جائیں ” مریم کو سہولت سے منع “
کرتی وہ سنک میں پڑے گندے برتن دھونے لگی
آیت میں نے کیا کہا ہے ؟۔۔۔ ” اس بار مریم نے تھوڑا سختی سے کہا تو وہ انکار نہیں کر سکی ہاتھ صاف کرتی ٹڑے”
اٹھا کر کچن سے باہر نکل گئی جہاں جمال اور اعجاز دونوں کچھ کام کر رہے تھے
چپ چاپ میز کے پاس جا کر اس نے لڑے میز پر رکھ دی جانتی تھی کچھ کہا تو اس کا باپ غصہ کرے گا ایک نظر میزپر پھیلے کاغذوں پر ڈال کر اس نے رخ موڑا
آیت شربت دینا ذرا۔۔۔۔ ” اعجاز کی آواز پر اس نے کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھا اس کے ہاتھ اور ٹرے “
میں رکھے گلاس میں انچ بھر کا ہی فاصلہ تھا اگر وہ ذرا سا آگے ہوتا تو خود بھی لے سکتا تھا باپ کے سامنے وہ اسے کچھ
کہہ بھی نہیں سکتی تھی پھر سعادت مندی سے سر ہلا کر ایک گلاس اٹھا کر اس نے اپنے ہاتھ پر رکھا اس طرح کہ اس کا ہاتھ گلاس کے نیچے چھپ سا گیا اور اعجاز کے سامنے کیا جو مسکر اکر اسے ہی دیکھ رہا تھا آیت نے کوفت سے اسے
دیکھا پھر گلاس مزید آگے کیا تو اس نے گلاس پکڑ کر اس کے ہاتھ کو بھی چھولیا یہی لمحہ تھا جہاں وہ کمزور پڑی اور
شربت چھلک کر اعجاز کے کپڑوں کو داغ دار کر گیا گہر اسانس لیتے اس نے آنکھیں بند کی جیسے آنے والے لمحوں
کے لیے خود کو تیار کر رہی ہو پھر پر سکون ہو کر آنکھیں کھول دی
یہ کیا بد تمیزی ہے جاہل لڑکی تجھے عقل ہے کہ نہیں ہونے والے شوہر کے ساتھ یہ سلوک کرتے ہیں یہی سکھایا”
ہے تیری ماں نے تجھے ” جمال نے غصے سے اسے بازو سے پکڑ کر جھنجھوڑا مگر وہ ساکت نظروں سے باپ کے سامنے
کھڑی اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی یہی امید تھی اسے اور یہی بچپن سے ہو تا آرہا تھا
باپ کو آنکھیں دکھاتی ہے بد تمیز ” ایک نفوس دوڑ کر اس تک پہنچا۔ ان کے آیت تک پہنچنے سے پہلے ہی جمال کی “
انگلیوں کے نشان آیت کے نازک سے چہرے پر اپنے نشان چھوڑ چکے تھے غلطی بس اتنی ہی تھی اس نے اپنے
منگیتر کے غلط ارادوں کو بھانپ کر خود کو بچانا چاہاغلطی ہو گئی بچی سے۔۔۔۔ بیٹا میں معافی مانگتی ہوں تم سے ” جمال کے غصے کو ٹھنڈا کرنے کے لیے مریم نے “
جلدی سے اعجاز کے سامنے ہاتھ جوڑ لیجئے جو کم از کم آیت کے لیے نہایت تکلیف دہ بات تھی
غلطی سے نہیں ہوا یہ جان کر کرتی ہے سب جانتا ہوں میں زندگی عذاب بنادی ہے اس نے ؟؟ ۔۔ ” اپنے اوپر “
ایک اور الزام سن کر آیت نے ملال سے اپنی ماں کو دیکھا جو خود بے بسی سے مجرم بنی کھڑی تھی
کہاں جارہی ہو تم ؟۔۔۔ ” آیت کو وہاں سے جاتا دیکھ جمال نے غصے سے اسے روکا “
معافی مانگو اپنے ہونے والے شوہر سے “۔۔۔۔ ایک اور حکم ہوا جو آیت کے دل پر گراں گزرا مگر یہ زندگی اس “
کی اپنی بھی نہیں تھی جسے وہ کھل کر جیتی یہ زندگی تو اسے اس کی ماں سے بھیک میں ملی تھی سب کی نظر میں کیا تھی
وہ بس ایک ان چاہاوجو د جسے باپ کا نام ہی مل گیا یہی غنیمت تھی
سرخ چہرے سے اس نے ہاتھ کی پشت سے آنسو صاف کیسے پھر سر جھکا کر وہ کیا جس کا حکم ملا تھانا چاہتے ہوئے بھی
وہ اس کے آگے کھڑی اپنی غلطی کی معاف مانگ رہی تھی جو مسکرا کر جمال کے ساتھ بیٹھ گیا
روبوٹ کی طرح چلتی ہوئی اپنے کمرے میں بند ہوں دفعہ ہو جاؤ۔۔ ” جیسے ہی اس کے کانوں نے آواز سنی وہ کسی “
کیا ہو رہا ہے ؟۔۔۔ ” بنادیکھے وہ جانتی تھی کہ آواز کیے کو رگڑ کر صاف کرتی جھٹ سے سوتے سےاٹھ بیٹھی جہاں حیدر دروازے کے سامنے ہی کھڑا تھا
کچھ نہیں۔۔ “سوال کا جواب دیتے وہ بے اختیار نظریں چر آگئی آیت کے اس طرح نظریں چرانے پر حیدر کے “
چہرے سے مسکراہٹ پل بھر میں غائب ہوئی یقینا وہ سب جان چکا تھا
آج کس بات پر ہاتھ اٹھایا ہے انہوں نے تم پر ؟ “ہاتھ میں پکڑی چیزیں بیڈ پر رکھ کر وہ اس کے ساتھ ہی بیٹھ گیا”
اور آیت کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا جبکہ اس کا دوسرا ہاتھ آیت کے سر پر تھا
کچھ نہیں ایسے ہی آپ چھوڑیں سب یہ بتائیں آج کا دن کیسا گزرا؟ اس کے سوال کو نظر انداز کرتی وہ جھٹ سے “
بات بدل گئی
بہت برا۔۔ “جواب سن کر اس نے پوچھنے کی زحمت نہیں کی وہ جان چکی تھی یہ جواب کیوں ملا ہے “
میں ابھی ان سے بات کر کے آتا ہوں ؟” آیت کے چہرے پر چھپی انگلیوں میکدم اس کا پارہ ہائی ہوا”
مگر آیت نے اپنی قسم دے کر اسے روک لیا
آپ بتائیں کوئی کام تھا؟۔۔۔ ” چہرے پر مسکان سجائے اس نے حیدر کو دیکھا”
میں بغیر کام کے بھی تمہارے پاس آسکتا ہوں “حیدر کی بات پر اس کے چہرے پر مسکان آئی تو وہ بھی مسکرادیا”
بھائی کی جان بتایا کیوں نہیں آج تمہارا برتھ ڈے تھارات تک مجھے یاد تھا صبح اٹھتے پتا نہیں کیسے دماغ سے نکل گیا
دیکھو پھر جیسے ہی یاد آیا سب چھوڑ کے میں اپنی بہن کے پاس چلا آیا آپ کو یاد تھا RI
میں بھول دی حیدر اسر گوشی کی تو وہ بہتی آنکھوں سے ہنس “
مریم چاہنے کے باوجود ان کی خوشی کا حصہ نہیں بن سکتی تھی جمال کو جیسے کوئی فرق ہی نہیں پڑتا تھا اس لیے ہر
سال کی طرح دونوں بھائی بہن نے مل کر کمرے میں برتھ ڈے پارٹی سلیبریٹ کی آیت کے لیے یہی موقع ہو تا تھا
جب وہ چند پل ہی سہی مگر کھل کر اپنے بھائی کے ساتھ خوشی خوشی گزارتی تھی جہاں اسے کوئی روک ٹوک نا ہوتی
تھی نا ہی کسی قسم کا ڈر
فجر کی اذان کانوں میں جاتے ہی آیت کی آنکھیں خود با خود کھل گئیں کسی کو اسے جگانے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی
کچھ دیر خالی نظروں سے چھت کو گھوری لیٹی رہی پھر کندھے پر دوپٹہ ڈال کر واشر وم چلی گئی جہاں سے وضو کرتی
کچھ ہی دیر بعد وہ باہر آئی سر پر بڑی سی چادر لپیٹ کر اس نے جائے نماز ایک کونے میں بچھائی اور خدا کی عبادت میں مشغول ہو گئی
نماز سے فارغ ہوتے اس نے چادر اتار کر دیوار پر لگی کھونٹی پر لٹکا دی اور سوٹ کے ساتھ کا دوپٹہ سر پر اوڑھ لیا اب
اس کا رخ کچن کی طرف تھا جانتی تھی مریم وہاں اکیلی کام کر رہی ہو گی
کمرے سے نکل کر کچن کا رخ کرتی ایک جگہ ٹھٹھک کر رک گئی جہاں کمرے کی روشنی باہر تک آرہی تھی ساتھ ایسا
لگ رہا تھا اندر موجود نفوس جھگڑا کر رہے ہوں پہلے اس کا دل گھبر ایا پھر خود کو ہمت دیتی تھوڑی آگے ہوئی تو
آوازیں صاف سنائی دینے لگی وہ آواز جمال اور حیدر کی تھی
بھیجنے کی ؟”
میں اسے ہی بیٹیاں “
” بوجھ ہوتی ہیں جتنی جلدی ہو سکے اس بوجھ کو سر سے اتار دینا چاہیے
جمال کی اتنی سفاکی پر کچھ دیر آوازیں آنا بند ہو گئیں اب آیت کو یہاں کھڑارہنا بیکار لگا تو اسی خاموشی سے کمرے
میں واپس چلی گئی
کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ بیٹیاں بوجھ نہیں ہوتی رحمت ہوتی ہیں خدا کی۔ پہلے لوگ نا سمجھ تھے ایسی باتیں “
کرتے تھے آپ آج کے دور میں رہتے ہوئے ایسی سوچ کس طرح رکھ سکتے ہیں چاہے آپ اسے اپنی بیٹی ناما نیں مگر
حقیقت جھٹلائی نہیں جا سکتی آپ کچھ بھی کہیں وہ میری بہن ہے اور میں اس کے ساتھ ایسا سلوک برداشت نہیں
کروں گا آپ نے اب آیت کے ساتھ کوئی نا انصافی کی تو میں اسے لے کر چلا جاؤں گا یہاں سے یادر کھیے گا
۔۔۔” پہلی بار اس طرح وہ جمال کے سامنے کھڑ ا ہو ا تھا آج اسے واقعی غصہ آیا تھا ہر بار وہ جمال کو پیار سے سمجھاتا
تھا مگر اب اسے پانی سر سے گزر تا محسوس ہو رہا تھا
ایک نظر ساکت سے بیٹھے جمال پر ڈال کر وہ رکا نہیں تھا کمرے سے باہر نکل گیا
آیت شام کے وقت مغرب کی نماز ادا کر دی تھی جب مریم اس کے کمرے میں آئی کچھ دیر انتظار کے بعد جب
آیت فارغ ہوئی تو پہلی نظر اس کی مریم پر ہی پڑی کیا ہوا امی کیا کہا ہے ابو نے ؟” آیت انہیں دیکھ کر ہی جان یا
اسے بتاتے ہوئے جھجھک رہی تھی
وہ تمہارے ابو چاہتے ہیں تم اعجاز کے ساتھ جاؤ خریداری کرنے۔
کچھ کہا ہو گا جو اس کی ماں “
ش۔۔۔ شادی کی
سن کر وہ حیران نہیں ہوئی تھی جانتی “
تھی اس کا باپ ایک بار ٹھان چکا ہے تو ہر حال میں وہی ہو گا اس سب کے لیے وہ چند روز پہلے سنی گئی باتوں سے ہی
خود کو تیار کر چکی تھی اعجاز بھی جمال کے کسی دوست کا بیٹا تھا یہ رشتہ بھی جمال کی مرضی سے ہوا تھا حید ر نے انکار
کرنا چاہا مگر آیت کے چپ چاپ مان جانے پر وہ باپ کو کچھ کہہ نا سکا
کیا میں بھائی کے ساتھ چلی جاؤ ؟ ” مریم کو اس کی آنکھوں میں التجا کے سوا کچھ نظر نا آیا” نہیں جمال نہیں مانیں گے
اچھا ٹھیک ہے ویسے بھائی ہیں کہاں ؟ سرسری سا سوال کرتی الماری سے کپڑے دیکھنے لگی اس نے وہی سوٹ نکالا “
تھا جو حید ر نے اسے اس کی سالگرہ پر دیا تھا سفید اور سرخ رنگ کا لباس تھا اسے کافی پسند بھی آیا تھا
وہ اس شہر میں نہیں ہے مزید میں کچھ نہیں جانتی۔ ” ایک پل کے لیے آیت نے انہیں دیکھا پھر ہلکا سا مسکرادی”
جانتی تھی یہی ہو گا جمال نے جان کر حیدر کو شہر سے باہر بھیجا تھا تا کہ آیت کو اپنے سر سے اتار سکے اس کا باپ
زندگی کے واحد رشتے کا مان بھی اس سے چھین چکا تھا
کپڑے بدل کر اس نے بڑی سی چادر اوڑھی ہر قسم کی آرائش سے پاک اپنے دل کو مار کر کمرے سے باہر نکل گئی
جمال کے کمرے کے باہر رک کر اس نے گہر اسانس لیا پھر دروازہ ایک بار نوک کیا بغیر نوک کے اندر جانے کی ہمت اس نے کبھی خود بھی نہیں کی تھی اپنے ہی گھر میں ہمیشہ سے وہ پر ایوں کی طرح رہتی آئی تھی
اجازت ملنے پر وہ کمرے میں داخل ہوئی سامنے ہی وہ اس کے باپ سے اجازت لے رہا تھا ایک پل کو اسے دیکھ کر
جلدی سے جگہ سے اٹھا پھر اسے اپنے پیچھے آنے کا کہہ کر کمرے سے باہر کیا ہے ماں باپ کو یہ تک نہیں
کہ پائی نامحرم کے ساتھ اس وقت باہر جانا اپنی نام کے ساتھ وقت باہر جان سے منسب نہیں لگ رہا
گاڑی میں کافی دیر خاموشی چھائی رہی جب اعجاز نے اس سے پوچھا
کہاں چلے پھر ؟۔۔
جہاں آپ کو ٹھیک لگے ” اسے لگاوہ خریداری کے لیے کسی دکان کا پوچھ رہا ہے مگر اس کا دل ہر چیز سے اچاٹ ہو “
چکا تھا آج سے پہلے اسے کسی نے موقع بھی کہاں دیا تھا اپنے لیے کچھ خریدنے کا کبھی دل ہو تا تو حید ر لے جاتا تھا اس
کے علاوہ کبھی وہ مارکیٹ نہیں آتی تھی
حیرت کا جھٹکا اسے تب لگا جب وہ گاڑی کسی ہوٹل کے آگے روک چکا تھا دیکھنے میں تو اچھا خاصا ہی لگ رہا تھا مگر
آیت کو کچھ عجیب سا لگا
جس مقصد کے لیے وہ اسے لایا تھا اس حساب سے انہیں مارکیٹ میں کسی دکان یا شوپنگ مال میں ہونا چاہیے تھا
اترو۔۔ ” آیت کو سیٹ پر جھے دیکھے وہ گھوم کر اس کی طرف آیا اور دروازہ کھول کر اب اس کے اترنے کا منتظر تھا”
وہ گھر گا ؟ اسے باہر نکل کر ہوٹل کو دیکھنے لگی تب تک وہ گاڑی کا دروازہ بند کر چکا تھا
مجھے 13/62 و جو کام ہے کر کے آجائیں میں انتظار کروں گی ” پارکنگ ایریا میں کھڑی اس کی کار سے “
میں اتنا بھی برا نہیں جتنا تم مجھے مجھتی ہو چلو ہم بس یہاں سے کھانا کھائیں گے پھر خریداری کریں گے اس کے “
” بعد میں تمہیں گھر چھوڑ آؤں گا اتنا یقین تو کر ہی سکتی ہو مجھ پر چہرے پر سنجیدہ تاثرات لیے اس نے پہلی بار آیت سے اس طرح بات کی تھی اس کے لہجے سے آیت کو اندازہ ہوا
شائد وہ کچھ غلط کہہ گئی ہے اس کے باپ نے اس شخص کو اس کے لیے پسند کیا تھا اب اسے اتنا یقین تور کھنا ہی ہو گا
خاموشی سے قدم بڑھاتی اس کے پیچھے چل پڑی جو راہداری سے گزرتے ہوئے ایک کمرے کے آگے رکا آیت
نے دروازے پر لگ سیاہ بورڈ پڑھا جس پر کمرہ نمبر 21 لکا تھا وہ چاہ کر بھی یہ کہ نہیں پائی کھانا کھانے کے لیے الگ
کمرہ لینے کی کیا ضرورت تھی سب کے ساتھ نیچے بیٹھ کر بھی کھانا کھایا جا سکتا تھا
بیٹھو۔۔۔ ” اسے بیڈ پر بیٹھنے کا اشارہ کر کے اس نے رسیور کان سے لگایا پھر ایک دوڈشز کے نام بتا کر اس کی طرف”
آگیا
اگلے دس منٹ میں ویٹر انہیں کھانا دے کر گیا اعجاز کی پشت اس کی طرف ہونے کی وجہ سے وہ نہیں جانتی تھی مزید پانچ منٹ اس نے ویٹر سے کیا بات کی تھی
کھانا کھانے کے دوران وہ غیر محسوس طریقے سے اس کے قریب آکر بیٹھ گیا یہ اس کے ساتھ آنے کے بعد دوسرا دھچکا تھا جو اسے لگا تھا خود پر جبر کرتی وہ اٹھ کر سامنے پڑے صوفے پر جا بیٹھی ابھی اس نے کھانے کو ہاتھ بھی نہیں
لگایا تھا جب وہ پھر سے صوفے پر اس کے قریب آکر بیٹھ گیا
آپ وہاں جا کر بیٹھیں پلیز “۔۔۔۔”
دھڑکتے دل کے ساتھ اس نے مشکل سے اعجاز کو کہا جواس کی بات سن کر پاگلوں کی طرح ہنس رہا تھا آیت کوشبہ
ہے
میری ہونے والی بیوی ہو میر احق ہے تم پر ۔ تم غیر وں جیسا برتاؤ کیوں کر رہی ہو ؟
ہونے والی بیوی ہوں ابھی ہوئی نہیں۔ آپ کا ابھی مجھ پر کوئی حق نہیں نا یہ حق میں نے آپ کو دیا ہے میں باہر “
” ہوں آپ کھانا کھالیں مجھے گھر چھوڑ دیجئے خریداری میں امی کے ساتھ کرلوں گی
دروازے کی جانب جاتے اس نے ناب گھمائی مگر وہ لاکڈ تھا اب سہی معنوں میں آیت کو اپنی لا پرواہی پر غصہ آیا
کیا ضرورت تھی اس کے ساتھ آنے کی ہاں تھوڑی مار کھانی پڑتی لیکن عزت تو محفوظ رہتی یہاں ہے اسکی
میں برائی کیا ہے میری ہونے والی بیوی ہو ” آیت کا دل کیا اس کا قتل کر دے مگر اس وقت اسے دماغ سے کام لینا تھا
پر چھوڑ دیا باقی سب اس نے اللہ ٹھیک ہے جیسا تم چاہو۔۔۔ ” اپنی آواز اسے کھائی سے آتی ہوئی محسوس ہوئی پر اعجاز کھل کر مسکرایا اس سے پہلے “
وہ اس تک پہنچتا اس نے جھٹ سے پاس پڑی بوتل اٹھائی جانتی تھی یہ حرام شے ہی ہو گی پھر بھی بو تل کو ایسے
دیکھنے لگی جیسے کچھ پتا نا ہو
ال کے دروازہ تب تک نہیں کھلے گا جب تک تم میری خواہش پوری نہیں کرتی آخر اس “

پیو گی تم ؟ ۔۔ میں نے ایک بار پی تھی شروع میں کڑوی لگتی ہے مگر پھر ٹھیک لگتی ہے ” اب وہ بوتل کھولتے “
مڑے سے اسے اس نا پاک شے کی تفصیل بتارہاتھا
دو گلاس اٹھا کر اس نے تھوڑا تھوڑا محلول دونوں میں ڈالا ایک اس کی طرف بڑھا یا دوسرا اپنے منہ سے لگالیا اسے
دیکھ کر ہی آیت کو کراہیت سی محسوس ہوئی اس وقت عزت کی فکر نا ہوتی تو سچ میں وہیں قے کر دیتی۔ جیسے وہ اپنا
گلاس خالی کر چکا ایک اور بھر لیا آیت خاموشی سے بیٹھی اسے دیکھتی رہی جب اسے لگاوہ اپنے ہوش میں نہیں تو
تمہیں۔۔۔۔ پتا ہے۔۔۔ تم مجھے ۔۔۔ بلکل پسند ۔۔۔۔۔ نہیں۔۔۔
ہمت جمع کرتی اس تک آئی اب اسے کچھ بھی کر کے اس کی شرٹ کی جیب سے چابی نکال کر سمجھتے بڑبڑا رہا تھا
مجھے۔۔۔السماء
جیسے وہ گلاس نہیں آیت ہو اس کی پیٹھ کی طرف جا کر آیت نے اپنا ہاتھ اس کے کندھے سے گزار کر اس کی جیب
کی نے اپنا کر میں ڈالا اور چابی ہاتھ میں لی اس سے پہلے وہ پیچھے ہوتی اس کا ہاتھ اعجاز کے ہاتھ میں تھا
کیا۔۔۔۔۔ کر۔۔۔ رہی تھی ؟؟ مشکل ” سے آنکھیں کھول کر اس نے آیت سے پوچھا جبکہ اس کے منہ سے آنے والی شراب کی بدبو آیت سے برداشت کرنی مشکل ہورہی تھی
کوئی ہو
” تم ۔۔۔ رکو۔۔۔ میں دیکھتا ہوں”
گر تا پڑتا وہاں سے اٹھتا اسی جانب چلا گیا جہاں آیت نے اشارہ کیا تھا تبھی وہ پھرتی سے دروازے کی طرف آئی اور
دروازہ کھولنے لگی پہلی دو چار کوششوں کے بعد کہیں جا کر چابی دروازے کو لگی جب تک وہ آیت کو دیکھ کر اس کی اپکا
جب اس نے دل میں خدا کو یاد کرتے چابی تھمائی تک کی آواز کے ساتھ دروازہ کھل چکا تھا مزید کسی چیز کا انتظار کیے
بناوہ پہلے کمرے سے پھر ہوٹل سے باہر دوڑتی چلی گئی
کہاں تھی تم ہاں ؟۔۔۔۔ “اتنی مشکلوں سے گھر پہنچتے ابھی آیت نے سکون کا سانس بھی نہیں لیا تھا جب جمال نے “
تھپڑ رسید کرتے اس سے سوال کیا
میں تو۔۔ وہ ہوٹل۔۔۔
دیکھا میں نے کہا تھا نا کر آئی منہ کالا کہیں سے یہ بیچ بازار اپنے ہونے والے شوہر کو چکما دے کر کس کے ساتھ گئی “
” تھی تو ؟
ٹھہرا رہے تھے
ان کے اگلے الزام پر اس کا دماغ ہی چکر ا گیا اس کی بات سننے کی بجا ایسا کچھ نہیں ہے میں کہیں نہیں گئی تھی بلکہ اس نے میرے ساتھ ۔نم کوشش کی جب جمال نے پھر سے اس پر ہاتھ اٹھا یاوہ خود کو سمبھال ناسکی اور زمین بوس ہو گئی مریم نے جھک کر اسے اٹھانا چاہا مگر وہ ہاتھ سے اشارہ کرتی انہیں منع کر گئی آج اسے یقین ہو چلا تھا اس دنیا میں اسے صرف ذلیل اور کہیں موجود ماں کے لیے باقی محبت بھی دفن ہوتی
“رسوا ہونے کے لیےمحسوس ہوئی
یقیناشر اب اس کے سر چڑھ گئی ہو گی آیت نے دل میں سوچا
” اب آپ کیا چاہتے ہیں ؟”
پہلی بار اس نے بناڈر کے جمال کو دیکھ کر پوچھا جسے بیٹی سے زیادہ ایک غیر آدمی پر بھر وسہ سادیکھا کیسے اس کے پر نکل آئے ہیں مجھ سے زبان لڑا رہی ہے یہ ” اب کی بار مریم ان کے عتاب کا نشانہ بنی ایک “
نظر باپ کو دیکھ کر اس نے کچن پر نظر ڈالی اس وقت اسے شدت سے پیاس لگنے کا احساس ہوا
وہ لوگ رشتے سے انکار کر چکے ہیں میں اسے اور برداشت نہیں کروں گا صبح ہی کسی کے ساتھ چلتا کروں گا اسے ”
آخری بات جو اس کے کانوں میں پڑی وہ اس کے باپ کی تھی جو اس کی ماں سے زیادہ شائد خود کو یقین دلا رہا تھا
11رات کے وقت وہ سونے کی تیاری کر رہی تھی جب مریم اس کے کمرے میں داخل ہوئی انہیں اپنے پاس آتادیکھ وہ
سیدھی ہو کر بیٹھ گئی
کیوں کیا تم نے ایسا؟ ” مریم کے سوال پر اسے جیسے ہنسی آئی تھی پھر وہ افسوس سے سر ہلانے لگی مگر کہا کچھ نہیں”
جمال نے تمہارا رشتہ کہیں اور طے کر دیا ہے کل وہ لوگ آرہے ہیں تمہیں لینے ۔
اچھا۔۔۔۔۔” اس نے اطمینان سے جواب دیا پھر مریم کا ہاتھ پکڑ کر اپنے پاس بٹھایا اسی خاموشی سے ان کے “
چہرے سے بہنے والے آنسو اپنے ہاتھ سے صاف کیے پھر وہی ہاتھ اس کے کندھے پر پھیلایا
جو خدا کو بہتر لگے گاوہی ہو گا آپ کو رونا نہیں چاہیے “مریم نے جنگلی سے اسے دیکھا
وہ دو بچوں کا باپ ہے انہوں نے نیا انکشاف کیا ایک پل کے لیے اس نے اپنی ماں کو دیکھا پھر مسکرادی”
شکر کریں کوئی لولا لنگڑا نہیں پکڑا آپ کے شوہر نے ” اس نے مذاق کیا مگر مریم کے رونے میں مزید تیزی آگئی “
بیٹی کے دل میں چھپا درد محسوس کر سکتی تھی وہ خود بھی ایک عورت تھی اس سے زیادہ ایک بے بس ماں جو چاہ کر
بھی اسے وہ زندگی نا دے پائی جس کے خواب انہوں نے دیکھے تھے
آپ سو جائیں جا کر آنے والے کل کا سوچ کر آج کی نیند کیوں حرام کر رہی ہیں ” مریم کو لگا وہ اسے دلاسا دے”رہی تھی
سنیں۔۔۔۔” آج پہلی بار وہ اسے ماں نہیں پکار رہی تھی مریم جانتی تھی اس کی بیٹی اندر سے مر چکی تھی شائد “
کھو کھلی ہو چکی تھی جاتے دروازے سے اپنے قدم واپس اس کی جانب لئے آنسو تھے رکنے کانام ہی نہیں لے رہے
ایک بار میری بھائی سے بات کروادیں ہو سکے تو آخری بار میری جھولی میں کچھ ڈال دیں میں وعدہ کرتی ہوں”
انہیں کچھ نہیں بتاؤ گی۔۔۔ ” آیت کی باتیں انہیں اپنے ہوش کھونے پر مجبور کر رہی تھیں مریم نے کا دل چاہا اسی
وقت زمین میں دھنس جائے وہ روتی بلکتی اس کے کمرے سے باہر ہو  ہو کر آیت بستر پر دراز ہو گئی نیندتو اسے ویسے بھی آتی نہیں تھی
پھر وہ تکیے پر سر ٹکائے ماضی کی یادوں میں کھو گئی جہاںانہیں دیک بھی وہ اپنے بھائی کے ساتھ تھی حیدر اسے چھیڑ رہا تھا وہ اسے نظر انداز کرتی آئس کریم مگن تھی۔ اس کی سوچوں کا تسلسل اس وقت ٹوٹا جب ایک بار پھر مریم اس کے کمرے میں آئی آیت نے الجھن بھری نظروں سے
” جمال بلا رہے ہیں تمہیں”
مریم کے پیغام پر آیت نے زور سے آنکھیں بند کی پھر جسم کو ڈھیلا چھوڑ دیا آج اس نے دوپٹہ سر پر نہیں لیا بلکہ
کندھے پر ہی ڈالا تھا پتا نہیں کیوں اسے دوپٹے سے بھی الجھن ہو رہی تھی اس کا دل کر رہا تھا دھاڑیں مار کر روئے مگر آنکھیں خشک تھی وہ چہرہ جو سفید رنگت کا حامل تھا آج مریم کو بلکل زر دلگا تھا مگر وہ اس سے کچھ نہیں پائی تھی
خاموشی سے اسے اپنے ساتھ لیے کمرے سے باہر نکل گئی
جی۔۔۔۔ کمرے میں جاتے اس نے نظریں نیچی رکھی تھی شائد خود بھی کسی سے نظریں ملانا نہیں چاہتی تھی
یہ لو بات کر لو حیدر سے مگر وعدہ کرو اسے کچھ نہیں بتاؤ گی یہاں کے بارے میں۔ نا آنے کا کہو گی۔۔۔۔ “موبائل”
اسے دینے سے پہلے جمال نے اسے آگاہ کیا تو آیت سر ہلا کر رہ گئی۔ اپنے خشک ہوتے لبوں کو زبان سے تر کیا اس کا
گلا بار بار خشک ہو رہا تھا پچھلے دو دنوں سے اس کے حلق کے نیچے پانی کے سوا کچھ بھی نا اترا تھا اور کمال کی بات تھی
کسی کو بھی اس طرف خیال نا گیا
ایک نظر اس نے جمال کے پاس رکھے پانی کے گلاس پر ڈالی پھر لمبا سانس کھینچ کر حیدر کا نمبر ملا دیا جو بھی تھا پہلے
اسے اپنے بھائی سے بات کرنی تھی پتا نہیں قسمت اسے کس موڑ پر لے جاتی جاتے جاتے وہ بس ایک بار حیدر کی
ہیلو۔۔۔ دوسری طرف سے آتی حیدر کی آواز سن کر اس کے بے چین دل کو سکون ملا تھا
بھ ۔۔۔۔ بھائی میں ہوں ” آیت نے اس سے بات کرتے جیسے اپنی موجود گی کا احساس دلا یا مریم اب مزید یہ “
ر نکل کر آنسو بہانے لگی
سب بر داشت نا کر سکتی
“آیت گڑیا تم۔۔۔۔ کیسی ہو ؟”
کرنے کو جو بھی تھا اتنے دنوں بعد اپنی بہن کی آواز سن کر وہ مسکرا اٹھا تھا
ٹھیک آپ کیسے ہیں ؟ ” چہرے پر ہلکی سی مسکان سجائے وہ دوسری طرف سے حیدر کی آواز سن رہی تھی کمرے”
میں بیٹھے جمال کی نظریں مسلسل اسی پر ٹکی ہوئی تھی
میں نے تمہارے لیے یہاں سے بہت سی شوپنگ کی ہے تم دیکھو گی تو خوش ہو جاؤ گی۔۔ “حیدر نے چہکتے ہوئے”
اسے بنایا آیت یہ بھی نہیں کہہ سکتی تھی اسے ان چیزوں کی ضرورت نہیں بلکہ اس کی ضرورت تھی
ہیلو آیت۔۔۔۔ اسے خاموش پا کر اس نے آواز دی
جی سن رہی ہوں۔۔ ایک آنسو ٹوٹ کے اس کی آنکھ سے نکلا
پھر پتا نہیں وہ اسے کیا کیا بتاتارہا آیت بس ہوں ہاں میں جواب دیتی رہی اسے چاہ تھی بھائی کی آواز سننے کی اور وہ
پوری ہو رہی تھی
صبح کے گیارہ بج رہے تھے جب
کمرے میں محلے کی چند عور تیں آیت کے گرد بیٹھی اپنی باتیں کر رہی تھی وہ صاف ستھر الباس زیب تن کیے سر
جھکائے بیٹھی تھی کچھ پل بیت جانے کے بعد اسے جمال کمرے میں آتا ہوا نظر آیا ساتھ ایک سفید لباس والا آدمی
بھی تھا جس کے ہاتھ میں ایک رجسٹر قلم اور کچھ کاغذات تھے
یک پل کو دیکھ کر اس کا دل کیا کہیں بھاگ جائے پھر اس نے سوچاباہر کی دنیا اس سے زیادہ ظالم ہے اسی سوچ کی
ستخط کیے وہ نہیں جانتی تھی
روہ ہنوز گھٹنوں پر ٹکائے ایسے بیٹھی تھی جیسے کسی سب سے آخر میں مریم نے اسے گلے لگایاماں کے سینے سے لگ کر اس کی آنکھیں نم ہوئیں مگر اس نے ضبط کے کڑے پہرے بیٹھا کر واپس اپنے اندر دھکیل دیا
مریم نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا تھا ایک بار پھر گلے لگایا اس دفع جو الفاظ اس کے کانوں نے سنے وہ معذرت
کے تھے اس کی ماں اس سے معافی مانگ رہی تھی وہ انہیں دے بھی دیتی مگر زندہ لاش کسی کو کیا دے سکتی ہے
کمرے سے باہر نکلتے ایک تین سال کا بچہ آکر اس کی ٹانگوں سے چمٹ گیا جسے وہاں موجود ایک عورت نے الگ کیا
پھر اس نے دیکھا اس کے باپ کے ساتھ ایک آدمی کھڑا تھا جس کی گود میں بھی چھوٹا بچہ تھا آیت کو آتے دیکھ وہ
جمال کے گلے لگا دیکھتے دیکھتے وہ آخری بار ماں کی صورت اپنے دل میں بسائے وہاں سے رخصت ہو گئی جمال نے
اس کے سر پر ہاتھ رکھنا بھی گوارا نا کیا وہاں سے خالی ہاتھ ہی آئی تھی آیت نے نے اس گھر سے ایک چیز اٹھائی تھی
جو اس کی چادر کے پلو میں بندھی تھی وہ اور کچھ نہیں اس کے بھائی کی مڑی ہوئی تصویر تھی
آپ اندر چلیں میں دروازہ بند کر کے آتا ہوں ” یہی کوئی پانچ چھ مرحلے کے بنے گھر میں جاتے اس نے ایک بار “
سب کچھ غور سے دیکھا اس گھر میں اسے دو بچوں اور ایک آدمی کے علاوہ کوئی نظر نہیں آیاوہ آدمی جو اس کا شوہر
تھا
دو تین قدم اس نے اندر کی طرف بڑھائے جب پھر سے وہی بچہ آکر اس کی ٹانگوں سے لپٹ گیا آیت نے اس کی
وم آنکھوں میں دیکھا جہاں الگ جہاں ہی آباد تھا اس نے اندازہ لگایا شائد وہ اسے اپنی ماں کے روپ میں دیکھ
معصوم آرہا تھا اپنے اندر جھانک اب بچے نے اس کرنے کی کوشش خالی دماغ کے ساتھ اس کے پیچھے پیچھے گھسیٹتی جارہی
تھی
کی انگلی اور آگے چلنےآدھی رات کا وقت تھا جب نیند سے اس کی جاگ ہوئی تب اس نے محسوس کیا اس کی جاگ شور سے ہوئی تھی پھر آس پاس نظریں دوڑا کر وہ جھٹ سے بستر سے اٹھی اسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ یہاں کیسے آئی پھر اچانک اس کے دماغ میں ایک جھماکا ہوا اب اسے یاد آرہا تھا کل وہ اس بچے کے ساتھ کمرے میں آئی تھی جو بستر پر لیٹ کر کافی دیر اس سے باتیں کر تارہا خود بھی وہ ٹانگیں سیدھی کرنے کی غرض سے وہاں بیٹھ گئی
اوہ۔۔ اسے جیسے افسوس ہو ا یعنی وہ ایسے ہی وہاں سو گئی تھی اس کا ارادہ مزید سونے کا تھا جب رونے کی آواز مزید تیز ہو گئی اب اس کے لیے نیند لینا مشکل ہی نہیں نا ممکن تھا
وہ اپنے ساتھ لیٹے بچے کو پرے کرتی آہستہ سے اٹھی پھر بسترے پر پڑی چادر اٹھا کر سر پر لی ایسا کرنے سے اس کے
تھے پاؤں میں جو تا ڈالنا چاہا مگر میں کچھ نظر نہیں آرہا تھا تھوڑا غور سے بکھرے بال چھپ کر ملا دو سر اشائد بیڈ کے نیچے جانا ترک کیا اسے جوتے کا ایک پیر ہی رات کے اس وقت بیڈ کے کے وہ ننگے پاؤں ہی کمرے سے باہر نکل گئی
آیت جس کمرے میں تھی اس کے پاس ہی ایک اور کمرہ تھا جو مکمل اندھیرے میں تھا مگر بچے کی رونے کی آوازیں اسے یہی سے آتی سنائی دے رہی تھی اندھیرے میں کمرے میں جانا اسے مناسب نہیں لگا اس طرح باہر کھڑی  کر اس نے سوچا آواز لگالے جو ہو گا اسے جواب دے گا
منہ کھولتے اس پر نیار از آشکار ہوا اس وقت پتا نہیں کیوں اس کی آواز ہی نہیں نکل رہی تھی ایک پل کو اس نے
سوچا شائد کو لگی ہو گئی ہو پھر خدا کو یاد کرتے باہر سے ہی کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا
آجائیں اندر ۔۔۔۔۔ اس نے دھیمی مگر پریشان آواز سنی اندازہ لگا سکتی تھی اندر موجود شخص اس بچے کے رونے
سے پریشان ہے
” سنیں ذرا کچن سے موم بتی لے آئیں جا کر شائد اند ھیرے کی وجہ سے بے چین ہے یہ “
وہ جو ابھی آواز دینے ہی والی تھی اندھیرے میں اس کی پکار پر سر ہلاتی واپس مڑگئی اب وہ سوچ رہی تھی شائد اس
نے آیت کی موجودگی کو محسوس کر لیا تھا اس لیے اسے کہا
اب سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کچن ہے کس طرف۔۔۔۔؟؟
اسے یاد آیا اس نے پوچھا ہی نہیں تھا کچن کہاں ہے
یہاں دیکھتی ہوں۔۔۔۔۔۔ “خود سے باتیں کرتی وہ چلتی جارہی تھی تبھی راہ میں پڑی چیز سے ٹکر اکر اوندھے”
منہ زمین پر گری درد کے مارے ایک چیچ اس کے گلے سے نکلی جس کا اس نے جلدی سے گل گھونٹ دیا مگر تب تک
اسے پتا تھا مگر وہ اٹھ نہیں پارہی تھی اس کے پیر پر بری طرح چوٹ لگی تھی ہاتھوں سے اس نے محسوس کیا اب
اسے یقین تھا وہ کسی بچے کی سائیکل تھی
آپ ٹھیک ہیں ؟” اس نے باہر آتے اسے آواز دی آیت کہنا چاہتی تھی ہاں میں ٹھیک ہوں مگر کہہ نہیں پائی اس”
کی خاموشی محسوس کر کے وہ خود ہی آگے آیا تبھی آیت نے اپنا ہاتھ بڑھایا اسے لگا وہ اسے اٹھانے میں مدد کرنے آیا
ہے مگر یہ کیا وہ بچہ اس کے ہاتھ یہ ہو نٹوں کی طرح منہ کھولے کانوں کو چیرتی بچے کی آواز بند کرانے کے کمرے میں پھیلی روشنی میں آیت سکڑی سمٹی سی بستر پر بیٹھی تھی اس کے دائیں اور بچہ سورہا تھاوہ خاموش نظروں سے سامنے بیٹھے شخص کو دیکھ رہی تھی جو اس کے پیر کے ادھے اکھڑے ناخن کا مشاہد ا کر رہا تھا
آپ کو سنمبھل کر چلنا چاہیے تھا ” پہلا جملہ تھا جو آیت نے اسے پچھلے آدھے گھنٹے میں پہلی بار کہتے سنامگر وہ “
خاموش رہی تھی
ٹوٹے ہوئے ناخن کو کاٹنا پڑے گا اگر یہ کسی چیز میں الجھ گیا تو تکلیف دے گا اس کی دوسری پیش گوئی پر آیت “
نے ایک نظر اٹھا کر اسے دیکھا جس کی نظریں اس کے پیر پر تھی اب وہ سوچ رہی تھی شائد وہ خود سے بات کر رہا
ہے
ناخن تراش سے آدھے ٹوٹے ناخن کو الگ کر کے اس نے آیت کے انگوٹھے کی مرہم پٹی کی اور دوائی ایک طرف
رکھ دی اب وہ رومال سے اپنے ہاتھ صاف کر رہا تھا
درد زیادہ ہو تو پاس ٹیبلٹ پڑی ہے لے لیں “۔۔۔۔۔ وہ اسے کہنا چاہتی تھی زندگی نے جو درد اسے دئے اس کے “
آگے کچھ بھی نہیں مگر زبان ہلنے سے انکاری تھی ایک نظر ٹیبلٹ پر ڈالی ساتھ ہی دوسری دوائیاں بھی رکھی تھی
پھر خود ہی ان میں سے نیند کی گولیوں کا پتا نکال کر ایک ساتھ دو گولیاں پانی سے پھانک کر لیٹ گئی اس وقت اس کا
سر درد سے پھٹ رہا تھاوہ سونا چاہتی تھی
مما۔۔۔۔اٹھیں۔۔۔۔۔ ما”
سکون سے گہری نیند سورہی تھی جب کسی نے آکر اسے جھنجھوڑ ڈالا زبر دستی آنکھیں مسلتی اٹھ کر بیٹھی وہی بچہ اس
بستر سے لگا کو ہوا اس کی فجر کی نماز قضا ہو چکی تھی اس سے تھا کمرے میں لگی وال کلاک دیکھ کر اسے پہلے وہ کچھ اور سوچتی اس بچے نے آیت کے ہاتھ کو تھام کر اپنی طرف کھینچا اس کا اشارہ سمجھ کر آیت نے کندھوں
پر اچھی طرح دوپٹہ پھیلا لیا
واشروم کا دروازہ اسے اس بچے نے ہی دکھایا تھا ساتھ پورے گھر میں دوسرے بچے کی چیخ و پکار بھی جاری تھی
کچھ ہی دیر میں وہ فریش ہو کر آئی تو ٹھٹھک سی گئی بچہ اب بھی باہر اسی حالت میں کھڑا اس
کا انتظار کر رہا تھا
آپ کو پتا ہے بوا نہیں آئیں آج اس لیے پاپا کھانا بنارہے ہیں “۔۔ منہ پر رکھ کر ہنستا ہوا آیت کو بہت اچھا لگ رہا تھا”
اسے دیکھ کر ایک خوبصورت مسکراہٹ اس کے چہرے پر آن ٹھہری
” آپ کو میر انام پتا ہے ؟”
کھانے کی میز پر ان کے ساتھ بیٹھی تھی جب بچے نے اس کی طرف دیکھا تو اس نے نفی میں سر ہلا دیا
اوہ میں نے آپ کو بتایا ہی نہیں پھر آپ کو کیسے پتا ہو گا۔۔۔۔۔ میر انام زونین ہے اور یہ سحرا ہے میری چھوٹی بہن”
“اب کی بار اس نے ایک نظر اٹھا کر سامنے بیٹھے شخص کی گود میں موجود بچے کو دیکھا جس کے منہ میں فیڈر تھا اسے تو
لگا تھاوہ لڑکا ہے اب کی بار اس نے غور سے بچے کو دیکھا پھر سر جھٹک کر بیٹھ گئی
آپ کا نام ہمیں پتا ہے پاپا نے بتایا تھا ” زونین مسلسل اس سے باتیں کر رہا تھا وہ اس کے جواب میں صرف سر ہلا”
دیتی
آیت ہے نا آپ کا نام مما۔ ” آپ کی بار اس نے تصدیق چاہی تو آیت نے مسکر ا کر سر ہلایا”
اندی کی راہ پر غور کیا تھا
شکریہ ۔۔۔ ” اس نے خود کے منہ سے نکلتے الفاظ سنے “

پاپا کا نام پتا ہے آپ کو ؟ ازو نین کی اگلی بات پر روٹی توڑتا اس کا ہاتھ رکا تھا اس وقت اسے یاد آیا تھاوہ اپنے شوہر کا “
نام تک نہیں جانتی کھانے سے ہاتھ پیچھے کرتی وہ شرمندگی سے نظریں جھکا گئی
زونین کھانا کھاتے وقت بات نہیں کرتے خاموشی سے کھانا کھاؤ۔۔۔۔۔۔ “سخت آواز کے ساتھ وہاں خاموشی”
چھا گئی آیت کی بھوک اس وقت اڑ سی گئی تھی
کیا آپ نے نکاح نامے پر دستخط نہیں کیے تھے ؟ وہ سنجیدگی سے بیٹھا اس کے پیر پر مرہم لگا تا ہو اسوال کر رہا تھا”
کیے تھے۔۔۔۔” دو لفظی جواب دے کر وہ جھکا ہو اسر مزید جھک گئی”
پھر آپ میرے نام سے انجان کیسے ہیں۔۔۔ چلیں مان لیا آپ نے دستخط کرتے وقت نہیں پڑھا ہو گا نکاح کے “
” دوران قاضی نے بھی تو پوچھا ہو گا آپ سے پھر آپ نے کیسے نہیں سنا؟
اس بار اس کی آواز میں حیرانگی کا عنصر شامل تھا
پتا نہیں۔۔ ” جواب دیتے اس نے ایک بار بھی نظریں نہیں اٹھائیں ضرورت سے زیادہ لا پرواہی برت گئی تھی وہ “
مجھے یقین نہیں ہورہا کل رات سے آپ میرے ساتھ ہیں آپ کہہ رہی ہیں آپ کو میر انام نہیں پتا اگر زونمین”
آپ سے نا پوچھتا آپ کو یاد بھی نہیں رہنا تھا آپ ایسے شخص کے ساتھ رہ رہی ہیں جس کا نام تک آپ کو پتا نہیں
” اس کی آواز میں سختی تھی آیت نے بخوبی محسوس کیاخیر میر انام مومن ہے امید ہے آج کے بعد آپ اتنی لا پرواہی کا مظاہرہ نہیں کریں گی اب آپ پر بہت سی “
ذمے دراریاں ہیں میرے بچوں کو آپ کی ضرورت ہے میں ایک پریکٹیکل انسان ہوں آپ سے بھی سمجھداری کی
امید رکھتا ہوں رہی بات ہم دونوں کے رشتے کی آپ میری بیوی ہیں آپ کی عزت آپ کارتبہ میرے لیے اہم ہو
گا اس میں کوئی کوتاہی نہیں ہو گی ہاں محبت میں۔۔۔۔ میں آپ کی امیدوں پر شائد میں پورانا اتر سکوں میں نے
ہمیشہ سے اپنی پہلی بیوی سے محبت کی ہے جو اب اس دنیا میں نہیں ہے مگر کوشش کروں گا آپ کو شکایت کا موقع نا
” ملے اور کوئی بھی بات ہو بلا جھجھک مجھ سے کہہ سکتی ہیں آپ۔۔
آخری بات کہہ کر اس نے آیت سے چادر لینے کو کہا اس کا ارادہ اسے خریداری کرانے کا تھا لیکن آیت گم سم سی
بیٹھی اس کی باتوں میں کھوئی ہوئی تھی کیا کہہ رہا تھاوہ آیت کی عزت اس کے لیے اہم ہے ہاں یہی کہا تھا اس نے
ایک آنسو آنکھ کی سرحد پھیلانگ کر باہر نکلا اسے لگا شائد وہ کوئی خواب دیکھ رہی ہے اس نے کب سوچا تھا اسے بھی
کبھی عزت ملے گی
ایک بار پھر سوچوں کی دنیا میں گم ہو کر یاد کرنے لگی وہ اسے کہ رہا تھا محبت شائد نادے سکے اس نے کب محبت کی
خواہش کی تھی یہ امید تو اس نے کب سے چھوڑ دی تھی اسے تو عزت چاہیے تھی اپنے لیے تھوڑی سی اہمیت اس
نے کیا چاہا تھا صرف اتنا اس کے وجود کو تسلیم کیا جائے آج اسے ایک انجان شخص یہ سب دینے کو تیار تھا۔۔۔۔
انجان شخص ۔۔۔ میں سوچ کی تصحیح کی، انسان کہاں جازکی تعداتھا اس کا شد مہر تھا وہ۔۔۔۔
زونین تنگ مت کر و سحر کو، ابھی سلایا ہے اسے میں نے۔۔۔۔ “زو نین کو مصنوئی گھوری دیتے اس نے سحر کو “
اپنی گود سے اٹھا کر پالنے میں سلا یا زندگی میں پہلی بار اس کا واسطہ بچوں سے پڑا تھا بچے اسے پسند تھے مگر ان کی دیکھ
بھال جیسی بڑی ذمہ داری پہلی بار اس کے کندھوں پر آئی یر ائی تھی ہاں اسے بچوں کے بارے میں کچھ پتا نہیں تھا مگر وہ
میں کہاں تنگ کر رہا ہوں ؟ ” آنکھیں گھماتے اس نے معصومیت سے پوچھا تو آیت نے مسکر اکر اسے پیار دیا جس”
کے جواب میں اس نے بھی آیت کو پیار دیا ایک نظر سامنے پڑے شوچنگ بیگز پر ڈال کر وہ دو پٹہ کندھے پر
لٹکائے وہاں سے اٹھ گئی اس کا ارادہ سب سمیٹ کر رکھنے کا تھا
پہلے اس نے سحر کے کپڑے جوتے اور دوسری استعمال کی چیزیں سیٹ کر کے ایک طرف رکھی وہاں بنے کیبنیٹ
میں پہلے سے رکھی چیزوں کا معائنہ کیا جس میں سحر کا دودھ گھر میں پہنے والے کپڑے اور بھی بہت سا سامان تھا اس سب میں زونین پیش پیش تھا اسے ہر چیز کے بارے میں بتارہا تھا
زونین کے کپڑوں اور سامان کے لیے الگ سے چھوٹی سی الماری تھی جہاں طوفان مچا تھا
اس نے ایک نظر زونین کو دیکھا تو وہ منہ پر ہاتھ رکھے ہنس رہا تھا
آیت نے گہر اسانس لیا پھر ساری چیزیں دوبارہ ترتیب کے ساتھ رکھی آخر میں اسے مومن اور اپنی چیزیں سمیٹنی
تھی مگر وہاں اور کوئی جگہ نہیں تھی جہاں وہ کپڑے رکھ سکتی
یہ ہمارا کمرہ ہے پاپا کا کمرہ ساتھ والا ہے ” آیت کو بتاتے وہ مسلسل اس کے دوپٹے کے لٹکے ہوئے حصے کو پکڑے “
کھیل رہا تھا
اثبات میں گردن ہلاتی وہ دوسرے کمرے میں چلی گئی جانے سے پہلے سحر کے ارد گرد یکیے رکھ دئے کہیں وہ گرنا
جائے سارے کام سے فارغ ہوتے اسے تین گھنٹے لگے تھے اب وہ بری طرح تھک چکی تھی اس لیے جا کر کچھ دیر
صحن میں بیٹھ گئی جہاں ایک طرف کچھ کرسیاں اور میز رکھے تھے دوسری طرف ایک تپائی پڑی تھی اس کے اوپر
ایک پل کو آیت نے اس گھر کا موازنہ اپنے باپ کے گھر سے کیا حیرانگی کی بات یہ تھی کم جگہ کم سہولیات ہونے کے باوجود اس کے دل نے شوہر کے گھر کو بہترین قرار دیا وجہ صرف ایک تھی یہاں وہ کھل کر سانس لے سکتی
تھی کوئی بھی اس کی ذات کی نفی نہیں کرتا تھا
زونین کے آواز لگانے پر ایک نظر کچن کی طرف دیکھ کر وہ اپنی جگہ سے اٹھ گئی اب اس کا ارادہ کھانا بنانے کا تھا
 شام کا وقت تھا ماحول میں گرمی کی شدت کم ہو چکی تھی کھانا بناتے وقت وہ ایک نظر صحن میں بیٹھے زونین پر بھی
ڈال لیتی جو سحر کے ساتھ کھیل رہا تھا زونین کی ہر بات کے جواب میں سحر کھلکھلا کے ہاتھ پیر مارنے لگتی آیت کو یہ
منظر مکمل لگا ایک پل کو اسے حیدر کی یاد آئی پر آنکھیں نم ہونے سے پہلے دوبارہ ہانڈی میں چمچہ ہلانے لگی
” السلام علیکم۔
“ابھی وہ روٹیاں بنارہی تھی جب اس نے سلام کی آواز پر باہر جھانکا مومن سحر کو سینے سے لگائے کھڑا تھا اس کے دل
نے تصدیق کی اس کا شوہر اس کے باپ جیسا تو ہر گز نہیں تھا
کیا ہو رہا ہے ؟۔۔۔۔” کچن میں آکر اس نے آیت سے پوچھا ساتھ فریج سے پانی نکال کر گلاس میں ڈالنے لگا”
کھانا بنارہی تھی میں ۔۔۔۔۔
سوری مجھے آنے میں دیر ہو گئی۔۔۔۔ ” اب وہ آیت کے پیچھے کھڑا اس سے معذرت کر رہا تھا آیت کو سمجھ نہیں”
آئی اس کی معذرت کا کیا جواب دے کچھ دیر سوچنے کے بعد اس نے خاموش رہنا بہتر سمجھا اسے لگا وہ خود ہی چلا
جائے گا مگر خیال ہی رہا اب وہ سنگ کانل کھولے برتن دھو رہا تھا
آپ رہنے دیں میں کرتی ہوں” جلدی سے چولہا بند کرتی وہ اس کی طرف آئی مگر مومن اپنی جگہ سے ہلائک”
مجھے عادت ہے تم نے کھانا بھی تو بنایا ہے میں ایک دو کام کر لوں گا تو میری شان کم نہیں ہو جائے گی خدا نے “
” تمہیں میر اہمسفر بنایا ہے ویسے گھر کے کام بوا کر جاتی ہیں آج کل ان کی طبیعت خراب ہے اس لیے نہیں آرہی
جانتی ہو ہمسفر کون ہوتا ہے ” پلیٹس کو تیزی سے صاف کرتا اس سے باتیں بھی کر رہا تھا جو اس کے پیچھے کھڑی”
غور سے سن رہی تھی اس کے دیکھنے پر نفی میں سر ہلایا

میرے نزدیک ایک ایسا سا تھی جو ہمیشہ ہر سفر میں آپ کا ساتھ دے تم میری زندگی میں آئی ہو تو نا انصافی ہو گی “
اگر میں سارے کام تم پر ڈال دوں پہلے بھی میں اپنے کام خود کرنے کا عادی تھا اب اگر تم نے کچھ کام سنمبھال لیے
” تو کچھ میں کر لیا کروں گا تمہیں زونین اور سحر کو بھی سنمبھالنا ہو تا ہے جو بہت ہی مشکل کام ہے
آیت کی نظریں اس کی پیٹھ کی طرف ہی مرکوز تھی بہت غور سے اسے نوٹ کر رہی تھی جو ہاتھ دھو کر اب انہیں
کپڑے سے صاف کر رہا تھا دھلے ہوئے بر تن سارے ترتیب سے اسٹینڈ میں لگے تھے باہر سے سحر کے رونے کی
آواز آئی تو وہ اسی خاموشی سے کچن سے باہر نکل گئی پیچھے مومن کھانا باہر پڑے میز پر لگانے لگا
سارے کام ختم کر کے اس نے سحر کو دودھ بنا کر دیا مومن نے اسے کہا تھا اس کا دود
ہاتھ سے سحر کے منہ میں دودھ کی بوتل پکڑے دوسرے ہاتھ سے زونین کو تھپک رہی تھی جو اس کی جھولی میں سو
رہا تھا زو نین کے بالوں میں انگلیاں چلاتے آیت نے آرام سے اس کا سر اپنی گود سے اٹھا کر تکیے پر رکھا بیٹھے بیٹھے
اس کی ٹانگیں شل سی ہو گئی تھی اس کا ارادہ ٹانگیں پھیلا کر بیٹھنے کا تھا جب وہ دوبارہ اٹھ کر اس کی گود میں سو گیا اس
آنکھیں بند کرتے لمبا پھر سے اسے تھپکنے لگی ایک نظر پاس لیٹی سحر کو دیکھا جو سوچکی
بار آیت زمین کو دیکھا اب اس کی خود کی آنکھیں بھی نیند سے بو جھل ہو تھی دودھ کی بوتل ایک طرف رکھ
رہی تھی
ذراسی آنکھ لگی ہی تھی دروازہ نوک ہو اوہ جھٹ سے سیدھی ہو گئی اس کے پاس آتا شخص کوئی اور نہیں مومن ہی تھا
آپ کو نیند آرہی ہے چل کر دوسرے کمرے میں آرام کر لیں زونین سوچکا ہے۔۔۔۔۔ “مومن کی آواز پر وہ “
سر ہلا کر زو نین کو گود سے ہٹا کر تکیے پر منتقل کرنے لگی جو ذرا سا کسمسا کر پھر سے سو گیا آیت نے ایک نظر دونوں کو دیکھا پھر ساتھ والے کمرے میں چلی گئی لیکن مومن اس کے پیچھے نہیں آیا تھا اسے پتا تھا وہ بچوں کے ساتھ سو گیا ہو
خود کو پر سکون کرتی وہ بیڈ پر لیٹ گئی اب اسے اندازہ ہو رہا تھا کافی دیر بیٹھنے کی وجہ سے اس کی کمر تختہ بن چکی تھی
یکدم تیز درد اٹھا تو ہاتھ رکھ کر کمر سہلانے لگی پھر آرام سے دوبارہ لیٹ گئی
لائٹ بند کرنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی کیونکہ آج پھر سے لائٹ جاچکی تھی شدید گرمی کے عالم میں بھی وہ
نیند کے جھٹکے کھانے لگی اور کچھ ہی دیر میں اس پر غنودگی چھا گئی ابھی ایک گھنٹہ ہی ہوا تھا سینے پر پڑنے والے بوجھ
سے اس کا دم گھٹنے لگا نیند میں اس نے ہاتھ سے محسوس کرنا چاہا تو اس کے ہاتھوں کو کچھ نرم نرم سا محسوس ہوا جھٹ
سے آنکھیں کھولتی وہ ہوش کی دنیا میں آئی۔۔۔۔ جہاں زونین اس کے سینے پر سکون سے سر رکھے سورہا تھا اب کی
بار اس نے جان کر اسے پرے ہٹانا چاہا تو پورا کا پورا اس پر لیٹ گیا
مما مجھے آپ کے پاس سونا ہے پاپاڈانٹتے ہیں وہ گندے ہیں۔۔۔ “زونین کے منہ سے مومن کے لیے شکوہ سن کر “
اس نے جاندار قہقہ لگا یا مگر خیال آنے پر جلدی سے اس قہقے کا گلا بھی گھونٹ گئی
یقیناز و نین نیند میں اٹھ کر مو سویا ہو گا اس لیے مومن نے اسے ڈانٹا تھا
مومن کے سینے پر نون کے ریشمی بالوں میں ہاتھ چلانے لگی ایسی ہی تھی آیت نیند تو اسے اب آئی نہیں تھی اس لیے چپ چاپ ایک بار گہری نیند سے اسے کوئی جگا دیتاتو پھر ٹیبلٹ لینے کے بعد ہی نیند آتی تھی
اپنے سینے پر اس کی زور سے چلتی سانسیں محسوس کر کے اس نے زونین کو اپنے بازو پر منتقل کیا پھر اپنی سرخ ہوتی
آنکھوں کو موندھ کر ویسے ہی لیٹی رہی ایک مہینے سے اوپر کا وقت گزر گیا تھا اسے یہاں رہتے رہتے اس ایک مہینے میں اس کے گھر والوں نے مڑ کر اس کی خبر تک نالی تھی ویسے بھی انہیں کیا فرق پڑتا تھا وہ مرے یا جئے حیرت کی بات یہ تھی اسے حیدر کی کال بھی نہیں آئی تھی نا اس کا کوئی اتا پتا تھادل میں کہی نا کہی جو امید کی جوت جل رہی تھی اب وہ مدہم پڑتی نظر آرہی تھی اس ایک مہینے میں پورا گھر اس نے خود سنمبھال لیا تھا بچوں کی دیکھ بھال کرتے کرتے کافی کچھ سیکھ گئی تھی زونین اور سحر کافی حد تک اس سے انچ ہو چکے تھے ایک چیز جو ابھی تک قائم تھی وہ اس کے اور مومن کے مابین سرد مہری تھی سے کبھی گھر کے حوالے سے اپنی یا اس کی ذات کے متعلق ایک لفظ آیت نے اس وہ بچوں کی ماں کی حیثیت سے آئی تھی ہاں وہ اس گھر میں ان چاہی بیوی تھی مگر ان چاہی ماں نہیں تھی زونین اور سحر کے ساتھ اسے سکون ملتا تھا اپنا پورا دن دونوں کے ساتھ گزارتی تھی اس پورے دن میں ایک دو گھنٹے چھوڑ کر آیت نے زونین کو ہر وقت باتیں کرتے سنا تھا وہ باتونی تھا یا شائد آیت کے آنے کے بعد ہو گیا تھا جو بھی تھا اس کا دل لگا تھی با ظاہر وہ اس سے عام سے لہجے میں ہی بات کرتا ھا میں مومن کے بچوں رہتا تھا مومن سے اسے کوئی شکوہ نہیں تھا اس گھر میں رہ کر کم از کم وہ اس ذہنی لطیف سے پیچھا چھڑا چکی تھی جو اسے اپنے باپ کے گھر میں سہنی پڑتی تھی
ظہر کی نماز کا وقت ہو رہا تھا ہر میں موذن کی اذا میں گونج رہی تھی آیت اس وقت کمرے میں بیٹھی
ہر طرف کانوں میں مو سحر کو تیار کر رہی تھی یہ اس کا روز کا معمول تھا گرمی کی شدت بڑھنے کے باعث سحر کو نہلا کر گرمی کی مناسبت سے کپڑے پہنا کر تیار کر دیتی اس کے کچھ پل بعد وہ سو جاتی تھی تو آیت نماز پڑھ لیتی تھی
زونین مت کرو بیٹا مجھے دیر ہو رہی ہے نماز قضا ہو جائے گی۔۔”
آیت نے ایک بار زونین کو دیکھا جو اپنی چمکتی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا پچھلے دس منٹ سے جب بھی سحر سونے
لگتی وہ اسے گدگدی کرنے لگتا اور سحر بنتے ہوئے آنکھیں کھول دیتی
یہ سو جاتی ہے تو میں بور ہو جاتا ہوں۔۔۔” منہ بسور تا ہو اٹانگ پر کہنی ٹکائے اپنا چھوٹا سا چہرہ ہتھیلی پر رکھ چکا تھا”
جس سے اس کے پھولے ہوئے گال مزید پھول گئے
بات تو ٹھیک ہے آپ کی اچھا اسے نہیں اٹھاؤ گے تو میرے پاس ایک حل ہے آپ کی پر اہلم کا۔۔۔ ” آیت کی “
بات پر وہ جھٹ سے اٹھتا اس کی گود میں گھس گیا اس نے سب اتنی تیزی سے کیا آیت نے پیچھے کو ایک ہاتھ کی
ہتھیلی ٹکا کر خود کو گرنے سے بچایاتو بات تو ٹھیک ہے آپ کی اچھا اسے نہیں اٹھا سے ایک حل سے آپ کی یر اہلم کا۔۔۔ ” آیت کی “
بات پر وہ جھٹ سے اٹھتا اس کی گود میں گھس گیا اس نے سب اتنی تیزی سے کیا آیت نے پیچھے کو ایک ہاتھ کی
مہتھیلی ٹکا کر خود کو گرنے سے بچایا
ارے ارے آرام سے ابھی مما گر جاتی ۔۔۔۔۔۔۔” آیت نے نرمی سے اسے سمجھایا”
نہیں گرتی مجھے پتا ہے۔۔۔۔ ازونین نے اس کے گال پر ہاتھ رکھ کر اپنے ہونے کا احساس دلا یا ایسا اکثر وہ آیت “
سے باتوں کے دوران کرتا تھا
آپ کو کیسے پتا ہے میں نہیں کرتی۔۔۔۔؟ آیت نے اسے آزمائش میں ڈالنا چاہا”
آپ کا بیٹا ہے نا آپ کو بچانے کے لیے میں کبھی آپ کو گرنے نہیں دوں گا۔۔۔۔۔” اس کی بات سن کر آیت کی “
آنکھیں نم ہوئی اسے یقین نہیں ہو رہا تھا چھوٹا سا بچہ اس سے کتنی بڑی بڑی باتیں کر رہا تھا اس بیچ کو وہ جھٹلا نہیں سکتی
تھی زونین اپنے عمر کے بچوں سے کافی حد تک ہوشیار اور زمین تھا آیت کی ہر بات اس کے لیے پتھر پر لکیر ہوتی
تھی ہاں وہ اسے کبھی کبھی تنگ کر تا تھا مگر آیت سمجھتی تھی ابھی بچہ تھاوہ۔۔۔
مما آپ کی نماز۔۔ ” اس نے انگلی سے اشارہ کرتے اس کا دھیان گھڑی کی طرف کروایا کچھ ہی دیر میں اس کی نماز “
قضا ہو جانی تھی آنکھوں کو رگڑ کر وہ جلدی سے اٹھی
میری پر اہلم۔۔۔۔۔۔ ؟” آیت کا دوپٹہ کھینچ کر وہ اسے روکتا ہو ایاد دہانی کروانے لگا”
ہاں آؤ میرے ساتھ ۔۔۔۔۔ “جلدی سے سحر کے گرد تکیے لگا کر اس نے ایک بار اسے چیک کیا پھر زونین کا ہاتھ “
تھام کر کمرے سے باہر نکل گئی
اپنے ساتھ ساتھ اس نے زونین کو بھی وضو کر وایا پھر کمرے میں واپس آکر اسے سر پر پہننے کے لیے ٹوپی دی جو زونین نے اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں میں تھام کر جلدی سے پہنی آیت نے دو جائے نماز بچھائی تھی زونین کے لیے وہ پہلے ہی الگ سے چھوٹی جائے نماز لے آئی تھی اپنی جائے نماز پر کھڑے ہو کر اس نے زونین سے کہا
وہ جیسے وہ نماز پڑھے گی اسے دیکھ کر پڑھتا جائے البتہ پوری نماز اس نے تھوڑی اونچی آواز میں پڑھی تھی تاکہ زونین
بھی آرام سے نماز پڑھ سکے
اسے احساس ہوا تھا زونین اس کے پاس پھر سر جھنگ کر دعا میں مشغول ہو گئی
آیت کی گردن کے گرد بازو حمائل کرتے وہ مسلسل “
ہ مسلسل جھولتے ہوئے اپنی بات کی تصدیق چاہ رہا تھا آیت
نے دعا ختم کرتے اثبات میں سر ہلایا تو پل میں زونین کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی جائے نماز طے کر کے وہ
دروازے کی طرف بڑھی نماز کے لیے لی گئی چادر اس نے اتارنے کی زحمت نہیں کی تھی
مانگتے ہبر سے باہر انتظار کریں ٹھیک کیانا”
کون ؟۔۔۔۔۔ دروازہ کھولنے سے پہلے اس نے آواز لگائی
حید ر۔۔۔ کانوں میں پڑنے والا جواب سن کر بے شمار ننھے ننھے قطرے اس کی آنکھوں سے ٹپکنے لگے جبکہ اس کی
حالت دیکھ کر زونین پریشانی سے اس کا ہاتھ تھامے کھڑا تھا اپنے بے جان ہوتے ہاتھوں سے اس نے دروازہ تھوڑا
ساکھولا سامنے ہی وہ اسے سنجیدہ نظروں سے دیکھ رہا تھا
ایک لفظ بھی منہ سے مت نکالنا گھر چلو میرے ساتھ ابھی اور اسی وقت۔۔۔۔۔” آیت کی کلائی پر اپنی گرفت”
سخت کرتا اسے ساتھ لے جانے لگا جب آیت نے مشکل سے اس کے بڑھتے قدموں کو روکا تھا اس کا اپنا ایک پیر نا
چانے کے باوجو د دروازے سے باہر تھا ایک ر ا نے اندر کی طرف جاکر خود کو یہ قید کی تازو میں ڈرا ساسا
اس کی ٹانگوں کو چمٹا ہوا تھا جیسے اس ڈر ہو اپنی ماں کے دور جانے کا پلیز بھائی۔۔۔ زونین ڈر گیا ہے ہم بیٹھ کر بات کر سکتے ہیں۔۔۔” سرہنے اس نے حیدر کو دیکھا”
السماء
جس کی خود کی آنکھیں نم تھی اس وقت آیت کی حالت حیدر کو قابل رحم لگی تھی آیت میں جان تھی اس کی، کہاں
وہ اسے جہاں بھر کی خوشیاں دینا چاہتا تھا کہاں وہ آج اس حال میں اس کے سامنے کھڑی تھی اس ایک پل میں حیدر
کی گرفت اس کی کلائی پر سے ہلکی ہوئی تھی
چھت پر لگے پنکھے آواز کے علاوہ ایک اور آواز سنائی پڑ رہی تھی آیت کی آنکھوں پڑرہی
کڑکتی گرمی میں کمرے مین کو اپنی گود میں لیے وہ کمرے میں بیٹھی تھی حیدر نے بیٹھنے کی سے بہتی برسات مسلسل جاری تھی اس ضرورت بھی محسوس نا کی تھی
کیسے ہیں آپ؟۔۔۔۔۔ “کمرے میں چھائی خاموشی کو توڑتے آیت نے ہاتھ بڑھا کر اس کے ہاتھ کو تھامنا چاہا جو “
اس نے جھٹک دیا تھا جانتی تھی حیدر اس سے ناراض ہو گا مگر اس قدر سخت رویے کی توقع اسے اپنے بھائی سے ہر گز
نہیں تھی
مجھے معاف کر دیں پلیز۔۔۔ ” آیت نے ایک اور کوشش کی جب حیدر کا اس کی طرف اٹھتا ہوا ہاتھ ہوا میں رک”
گی حیدر کا برتاؤ دیکھ کر زونین جھٹ سے آیت کے پیچھے چھپ گیاو ہیں آیت گنگ کی ہو گئی
تم اتنی بڑی پاگل کیسے ہو سکتی ہو ۔۔۔۔ ” اسے کندھوں سے تھام کر وہ سختی سے اس سے پوچھ رہا تھا مگر کچھ بولی”
نہیں میر ادل کر رہا ہے تمہیں جان سے مار دوں تم نے اس باپ کے ساتھ کیا وعدہ نبھایا مجھے انجان رکھ کر ۔۔۔۔ میرا”
کیا۔۔۔؟۔ ایسا کون سا گناہ کیا تھا میں نے تمہیں میر اذر اخیال نہیں آیا ان لوگوں کے ساتھ رہ رہ کر تم بھی بے حس
ہو میں خود سے نظریں نہیں ملا پار ہا تم ۔۔۔ تم نے مجھے اس لائق ہی بن گئی ہو آیت مجھے جیتے جی مار رہاتھی بے حس
نہیں چھوڑا ہر پل مجھے یہی احساس اندر سے مار رہا ہے میں تمہاری حفاظت نہیں کر پایا کیوں ہاں کی تم نے اس سب
” کے لیے ایک بار مجھے بتا تو دیتی میں کہیں اور لے جاتا تمہیں۔ مجھ پر بوجھ نہیں تھی تم میں وعدہ خلافی نہیں کر سکتی تھی۔۔۔۔
تمہیں چلو گھر میرے “
” ساتھ میں اس گھر نہیں جاسکتی جسے آپ میر اگھر کہہ رہے ہیں ویسے بھی وہ میر اتھاہی کب ؟ اس گھر پر اس گھر کے لوگوں پر بوجھ تھی میں وقت آنے پر بوجھ کو سر سے اتار دیا جاتا ہے جیسے میرے باپ نے مجھے اپنے سر سے اتار اوہاں سے آنے پر بھی ان کا دل میرے لیے نرم نہیں پڑا ان کی کہی گئی بات میرے دل پر لکھی جاچکی ہے
رخصتی کے وقت جب ایک بیٹی کو اپنے باپ کی ضرورت ہوتی ہے میں نے بھی امید کی تھی شائد وہ دکھاوے کے
لیے ہی سہی میرے سر پر ہاتھ رکھ دے پر ایک بار پھر مار کھا گئی میں انہوں نے مجھ سے کہا کبھی میراشوہر مجھے گھر
سے نکال دے میرے پاس کوئی ٹھکانہ نا ہو تو ان کی چوکھٹ پر ناجاؤں میں اب تک جتناد و برداشت کر سکتے تھے کر
چکے میر اوجود ان کے لیے بے معنی ہے انہیں بیٹی نہیں بیٹے کی چاہ تھی آپ بہت خوش قسمت ہیں اس معاملے میں
ان کے چاہنے ناچاہنے سے کچھ نہیں ہو تا تم ان کی بیٹی ہو یہی حقیقت ہے وہ گھر جتنا میر ا ہے اتناہی تمہارا بھی ہے
آیت قسمت کا لکھا کون ٹال سکتا ہے یہی میری قسمت تھی اس لیے آج میں یہاں ہوں اس میں کوئی کچھ نہیں کر سکتا”
تھانا آپ نا میں ہاں مجھے ملال ہے بس یہی میری ماں بھی خاموش تماشائی بنی رہی شائد اپنی جگہ پر وہ بھی درست
ہوں میں خوش ہوں یہاں۔ “سکون سے بیڈ پر ایک طرف بیٹھی وہ زونین کے بال سنوار رہی تھی پھر اس نے نظر
اٹھا کر حیدر کو دیکھا جو طنز یہ ہنس رہا تھا

وہ تو دیکھ ہی رہاہوں میں شادی شدہ مرد کی بیوی ، دو بچوں کی ماں اس چھوٹے سے جھونپڑے میں کیسے گزارا کر “
کے خوش ہے تم سمجھ نہیں رہی کل کو لوگ تمہیں مومن کی دوسری بیوی کہہ کر پکاریں گے جن بچوں کی تم ماں بنی
بیٹھی ہو لوگ تانے کے گے تم پر سوتیلی ہونے کے اور وہ تکلیف اس تکلیف سے کہیں بڑھ کر ہو گی
گھر ہے یہ میرا۔۔۔۔”
مستقبل کس نے دیکھا ہے میں ا
یقینا یہ اس آدمی کی اولاد ہو گی۔۔ ” اس نے زونین اور سحر کی طرف اشارہ کرتے بیٹھنے کے لیے جگہ ڈھونڈی پھر “
کچھ نا ملنے پر باہر پڑی کرسیوں سے ایک لا کر اندر رکھی اور اس پر بیٹھ گیا
آیا تھا جیسا بھی تھا اس کا گھر تھا
یہ میرے بھی بچے ہیں۔۔۔ “حیدر کی انگلی بات پر اس نے احتجاج کیا تو وہ مسکر اکر افسوس سے سر ہلا گیا”
جانتی ہو میں تمہیں یہاں سے لینے آیا تھا اب مجھے میری امیدوں پر پانی پھر تا نظر آرہا ہے “حیدر نے افسوس سے “
اسے دیکھا جو بچے کو گود میں لیے اس کے سامنے بیٹھی تھی اس وقت اسے آیت اپنی بہن کم ان بچوں کی ماں زیادہ
لگ رہی تھی
میں خوش ہوں یہاں۔۔ ” آیت نے اسے یقین دلانے کی بھر پور کوشش کی تھی”
کہاں ہے تمہارا سر تاج ؟؟” اب کی بار اس نے مذاق میں اسے چھیڑ اوہ جان چکی تھی اس کا غصہ کم ہو گیا ہے”
کام پر گئے ہیں شام کو آتے ہیں روز ۔۔۔
تم سارا دن گھر پڑے اس کے بچوں میں لگی رہتی ہو گی نو کر بھی تمہیں ہی بنالیا ہے یا۔۔۔۔
بھیا پلیز وہ اچھے ہیں میں کیسے آپ کو یقین دلاؤں گھر کا کام کرنے سے کوئی نوکر نہیں ہو جاتا سارا کام میں اکیلی نہیں
کرتی وہ مدد کرتے ہیں میری
امپریسیو۔۔۔ ایک مہینے میں ایسا کون سا جادو ہو گیا ہے تم پر اپنے بھائی کو پانی تک تم نے پوچھا نہیں الٹا یہاں بیٹھ کر “
” اس کے قصیدے پڑھ رہی ہو
وہ بھگو بھگو کر اسے جو تا لگارہا تھا
یں میر ابچھو بھی ڈر گیا ہے آپ پچھلے ایک گھنٹے سے مجھ پر غصہ آیت نے خفا ہو کر اس سے گلا کیا”
میرا ارادہ تمہیں دو لگانے کا تھا ” اس نے شرمندہ ہونے کی بجائے آیت کو حقیقت سے آگاہ کیا یہ بچی بھی تھا کچھ دیر “
پہلے تک تو وہ خود ڈر گئی تھی آیت افسوس سے سر ہلانی کمرے سے باہر نکل آئی
کچن سے بنا کھانا گرم کر کے اس نے ٹرے میں رکھا فریج میں سے ٹھنڈ اپانی نکالا ساری چیزیں لے کر دوبارہ کمرے
میں چلی گئی وہاں اس نے کرسی کے آگے میز رکھ کر اس کے سامنے کھانار کھا
پھر واپس بچن میں آگئی حیدر کو چائے پینی کی بہت عادت بھی صبح دوپہر شام تین وقت چائے پیتا تھا اس کے کہنے
سے پہلے اس نے دودھ چولہے پر چڑھا کر چائے بنائی پھر پاس پڑا کپ اٹھا کر چھلنی سے چائے چھان کر کپ کے
کنارے صاف کیے چھوٹے سے ٹرے میں چائے کا کپ رکھ کر کچن سے باہر نکل گئی اور ٹرے جا کر اس کے سامنے
رکھ دی شکر ہے چینی پتی تھی مجھے لگا ہمسایوں سے مانگنے جاؤ گی ” ابھی وہ پھر سے اسے چھیڑ رہا تھا آیت نے گھور کر اسے “
دیکھااب زیادہ ہو رہا ہے “حیدر کو وہ خفاسی لگی تو معذرت کرتا چائے پینے لگا کھانے کو اس نے ہاتھ تک نہیں لگایا تھا جو “
آئی باتوں سے عصر ہو گئی وہ سکون سےآیت جا کر دوبار کی چائے پینے لگا اسے باتیں کرتا رہا کبھی
کبھی اسے چھیڑ نے بھی لگ جاتا جس پر آیت خفا ہو جاتی عصر کی نماز پڑھ کر اس نے سلام پھیرا تو حید ر پوری طرح
بچوں کے ساتھ مصروف تھا سحر کو گود میں لیے زونین کے ساتھ بھی ہنسی ٹھٹھولی کرنے لگتا پر سکون ہو کر اس نے
تسبیح کی دعا مانگی
کروایا جس پر زونین اس بار بھر کا کام بھی اب حیدر نے اپنی مستی بھی شامل کر لیا آیت کے ساتھ مل کر اس نے
کر ہنس پوٹ ہو رہے تھے کوئی کام اس سے ہو پارہا تھا پھر بھی ہو
وہ لگا رہا تھا
“آپ کی طبیعت ٹھیک ہے ؟” مومن کا سرخ چہرہ دیکھ کر آیت کو تشویش ہوئی تھی پہلے بھی اس سے پوچھنا چاہتی ۔
تھی مگر مومن کو حیدر کے ساتھ مصروف دیکھ کر اس نے بعد میں پوچھنے کا ارادہ کیا اس وقت زو نین اور سحر کو سلا
کراسے مومن کا خیال آیا تو اس کے پاس آگئی
وہ آپ کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا اس لیے پوچھ لیا۔۔۔ ” مومن کو اپنی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھتے پاکر کر آیت “
نے جواز پیش کیا کچھ وقت اس کے پاس کھڑی انتظار کرتی رہی شائد وہ جواب دینے کے موڈ میں نہیں تھا آیت نے وہاں سے جانا بہتر سمجھا
آیت ۔۔۔۔۔ اس سے پہلے وہ کمرے سے باہر جاتی مومن کی آواز پر اس کے بڑھتے قدم تھم سے گئے
یہاں آؤ میرے پاس۔۔۔۔ “مومن کا اپنی طرف بڑھتا ہاتھ دیکھ کر آیت کا حلق خشک ہو گیا آج سے پہلے بھی “
اسے مخاطب کر تا تھا مگر آج کچھ تو تھا اس کے لہجے میں جو وہ محسوس کر سکتی تھی مومن کی طرف جاتے اس کے
پہنچی آیت کا ہاتھ اس کے ہاتھ میں تھا جسے وہ تھام کر اپنے سر پر قدم من بھر کے ہو رہے تھے جیسے ہی رکھ چکا تھا
یہاں آؤ میرے پاس۔۔۔۔ “مومن کا اپنی طرف بڑھتا ہاتھ دیکھ کر آیت کا حلق خشک ہو گیا آج سے پہلے بھی “
تھا مگر آج کچھ تو تھا اس کے لہجے میں جو وہ سکتی تھی مومن کی طرف جاتے اس کے اسے مخاطبان باس
کے ہاتھ میں تھا جسے وہ تھام کر اپنے سر پر قدم من بھر کے ہو رہے تھے جیسے ہی اس کے رکھ چکا تھا
“میرے سر میں بہت درد ہے۔۔۔۔۔۔ پتا نہیں وہ درخواست کر رہا تھایا حکم دے رہا تھا آیت کو اندازہ نہیں ہوا “
خاموشی سے اس کے سرہانے بیٹھ کر اپنے نرم ہاتھوں سے اس کا سر دبانے لگی تبھی اسے اندازہ ہو امومن کا ما تھا بلکا
گرم تھا شائد اسے بخار ہو رہا تھا
تم گئی کیوں نہیں حیدر کے ساتھ ؟۔۔۔۔۔” اس کا اگلا سوال سن کر وہ تھکی تھی کیا وہ چاہتا تھاوہ چلی جائے حیدر “
کو کتنے مان سے اس نے کہا تھا یہ گھر اس کا ہے اب جیسے ایک پل میں سب پر ایا لگ رہا تھا اپنی سوچوں میں اتنی الجھ
گئی آنسو کا قطر ا انجانے میں مومن کے ماتھے پر گرا
“تم رو رہی ہو ؟ ۔۔۔۔ ” آیت کی طرف کروٹ لے کر مومن نے اس کی آنکھوں میں دیکھنا چاہا واقعی وہ اپنے “
رونے کا شغل پورا کر رہی تھی
میں نے بس سرسری سا سوال پو چھا تھا تم چاہتی تو میرے گھر پر نا ہوتے ہوئے اپنے بھائی کے ساتھ جاسکتی تھی”
جبکہ میں جان چکا ہوں یہ شادی بھی تمہاری مرضی کے خلاف ہوئی ہے اگر تمہیں میر اسوال بر الگا تو
” میں معافی مانگتا ہوں مجھے اندازہ ہوتا تمہیں اتنا برا لگے لگا تو کبھی نا پوچھتا۔۔۔۔۔۔
مومن کے شر مند ا ہونے پر آیت کے بہتے آنسو یکدم تھے تھے اب اس نے یہ تو نہیں چاہا تھا کہ مومن اس کے
پرسامنے شر مند ا ہو
آئی ایم سوری۔۔۔۔۔
آپ مجھے شر مند ا کر رہے ہیں۔۔
اب سہی میراگھر ہے یہاں سے میں کہیں نہیں جاسکتی۔۔۔۔۔ کافی دیر بعد آیت نے خود کو کہتے سنا”
تھینک یو۔۔۔” اس کے منہ سے نکلے لفظوں نے آیت کو چونکا دیا تھاوہ سمجھ نہیں پائی تھی کس بات کے لیے اس “
کا شکر یہ ادا کر رہا ہے شکریہ تو اسے ادا کرنا چاہیے تھا اس کی وجہ سے وہ سالوں بعد ذہنی تکلیف سے رہا ہوئی تھی
یہاں آکر اسے فیملی کے ساتھ رہنے کا احساس ہوا تھا مومن کی وجہ سے اپنے سر کے نیچے وہ محفوظ چھت کا احساس
کر پائی تھی یہ گھر یہاں کی خوشیاں سب اسی کی بدولت اسے میسر ہوئی تھی اس سب کے لیے آیت اس کا جتنا شکریہ
ادا کرتی کم تھا مگر وہ تھا اس کا احسان مند ہو رہا تھا
خاموشی کے عالم میں مومن نے اس کے کندھوں کے گرد حصار کھینچ کر آیت کو خود سے قریب کیا تھا آیت کو اس
کے لیوں کا پر حدت لمس اپنی پیشانی پر محسوس ہوا۔ اس لمحے آیت کو اپنی دھڑکنیں بے قابو ہوتی محسوس ہوئی۔
آیت کے کانپتے ہاتھوں کو جیسے مومن نے اپنے مضبوط ہاتھوں میں لیا آیت کو تحفظ کا سا احساس ہوا گھنیری پلکوں کی
چلمن گراتی وہ مومن کے سینے پر اپنا سر لگا گئی آج اس کی زندگی مکمل ہو گئی تھی سب تھا اس کے پاس اس کی اپنی
خاندان کا سب تھی
کسی کی زندگی میں اہمیت کی حامل ہو مومن کی زندگی میں آکر پیار اہمیت بھر وسہ یقین سب اسے مل گیا تھا اب
دنیا تھی جہاں اس کی ذات کو جھٹلایا نہیں اس خاندان کا وہ بھی جاہ بینی
اسے کسی چیز کی خواہش نہیں تھی
آپ انہیں سمجھاتے کیوں نہیں ؟ اس وقت وہ حیدر کے گھر جارہے تھے جب آیت نے مومن سے کہا”
کچھ سجھانے کی ضرورت ہے۔۔ “مومن نے اس کی ” آنکھوں میں موجود التجاد یکھ لی تھی جانتا کس بارے
خاک سمجھدار ہیں بچوں کی طرح بیہو کر رہے ہیں۔۔۔ ” آیت کو مومن کا حیدر کی طرف داری کرنا کچھ خاص پسند “
وہ خود سمجھدار ہے آیت میرا نہیں خیال عربات کر رہی تھی
نہیں آیا تھا
نہیں تم بچوں کی طرح بیہو کر رہی ہو اس کی اپنی زندگی ہے ہم اسے اس کا فیصلہ بدلنے پر مجبور نہیں کر سکتے کم از کم “
میں تو نہیں۔۔۔۔۔ ” صاف اشارہ تھا آیت کی بات ماننے کے موڈ میں ہر گز نہیں ہے
وہ بھائی ہیں میرے اگر کچھ غلط کرے گے تو میر احق ہے انہیں بتانا ۔۔۔ ” آیت ابھی بھی اپنی ضد پر اڑی تھی”
ساتھ زونین کو بھی دیکھ رہی تھی جو اس کی گود میں بیٹھا مزے سے آئس کریم کھا رہا تھا جبکہ سحر مومن کے پاس
تھی
دیکھوں گا میں۔۔۔۔۔۔اس نے آیت کو ٹالنا چاہا
نہیں آپ بات کریں گے ان سے آج ہی وہ ایسا نہیں کر سکتے جیسے بھی ہیں ہمارے ماں باپ ہیں اس عمر میں انہیں “
کسی کے سہارے کی ضرورت طرح بڑھاپے میں انہیں بے یارو مدد گار چھوڑ دینا درست فیصلہ نہیں انہیں
کہیں واپس گھر چلے جائیں۔۔۔۔” آیت کی بات پر مومن نے لمبا سانس کھینچا اسے سمجھا نانا ممکن تھا خاص طور پر
جب بات اس کی فیملی کی ہوتی تھی وہ چاہ کر بھی اسے بتا نہیں سکا تھا حیدر نے نہیں بلکہ خود جمال نے حیدر کو گھر سے
نکال دیا تھا وجہ صرف یہی تھی وہ آیت کے ساتھ کھڑا تھا اس نے جمال سے آیت کے حصے کی بات کی تھی جو انہیں
نا منظور تھا یہ بات حیدر نے خود اسے بتائی تھی تب سے اس نے پارٹ ٹائم جاب کر لی تھی خود چھوٹا سافلیٹ کرائے
پر لے کر ادھر شفٹ ہو گیا تھا۔
آپ بات کریں گے نا؟۔۔۔۔” آیت نے مومن سے دوبارہ پوچھا جو اب مزید اسے ٹال نہیں سکتا تھا کچھ ہی وقت “
میں آیت اس کے دل پر بری طرح قابض ہو چکی تھی
ٹھیک ہے۔۔۔ “مومن کے مان جانے پر بڑی سی مسکراہٹ نے آیت کے چہرے کا احاطہ کیا تھا یہی چیز تھی جو “
مومن کو خود سے بڑھ کر تھی آیت کو ہر حال میں خوش دیکھنا چاہتا تھا
پچیس منٹ کی مسافت کے بعد مومن آیت کو لے کر ایک بلڈنگ میں آیا تھا دوسرے مالے پر پہنچ کر اس نے
ایک فلیٹ کے باہر کھڑے ہوتے بیل دی پہلی بار بیل دینے پر ہی دروازہ کھول دیا گیا سامنے حیدر فار مل کپڑوں
کے اوپر ایران پہنے کھڑے تھا شائد وہ کھانا خود بنارہا تھا دونوں کو دیکھ کر اس نے گرمجوشی سے ان کا استقبال کیا
زونین اور سحر کو پیار دے کر انہیں بیٹھنے کا کہتا واپس کچن میں چلا گیا وہاں سے اس کی واپسی دس پندرہ منٹ بعد ہی
ہوئی ہاتھ میں ٹرے پکڑے وہ کچن سے باہر آیا جس میں کوک سے بھرے تین گلاس اور چوتھا سمال سائز کپ تھا جو
اس نے زو نین کو دیا تھا
ایک گلاس اس نے خود لیا ایک مومن کو دیا اب وہاں ایک ہی گلاس تھا گلاس اٹھانے والی قدرے خفا تھی اس لیے
سمجھ کر مومن نے گلاسخود اٹھا کر آیت کی طرف بڑھایا جو اس نے چپ چاپ لے لیا یہ نظارہ دیکھ
یہ زحمت بھی نا کی گئی آیت کو خود سے خفاد دیکھ کر حیدر نے موت یا اس کا رینا پارے سے ہی اسے داد
دی جو مسکرائے بنا نا رہ سکا جبکہ پاس بیٹھی اس سب سے انجان آیت آہستہ آہستہ مشروب گلے میں انڈیل رہی تھی
کھانے تیار ہونے پر حیدر نے آیت کو آواز لگائی جو نا چاہتے ہوئے بھی اٹھ کر اس کی طرف آگئی
تم مہمان نہیں ہو یہاں آرام سے شوہر کے ساتھ آکر بیٹھ گئی ہو چلو کھانا نکالنے میں میری مدد کرو۔۔۔۔ “حیدر”
تنوں میں کھانا نکال کر خود ہی باہر لے گئی جہاں مومن اور حید ر مل کردستر خوان بچھائے بیٹھے تھے
پہلا سوال کیا”
ساتھ والوں سے مانگے ہیں۔۔۔ ” بغیر کسی لگی لپٹی کے اسے بھی بتارہا تھا جاتا تھا آیت کیا سوچ رہی ہو گی دو دن پہلے “
جو شخص اس کے گھر میں بیٹھا اسے جھونپڑا بول رہا تھا چائے اپنی پر کیا جانے والا طتر اسی پر الٹ گیا تھا آج وہ خود خالی
ہاتھ تھا
تم لوگ بہت بے مروت ہو۔۔۔۔ ” کھانے سے فارغ ہو کر حیدر نے مومن اور آیت کے سامنے بیٹھتے ہوئے کہا”
زونین اس کے لائے کھلونوں سے کھیل رہا تھا سحر مومن کے پاس ہی تھی
ایسا کیا کر دیا ہے ہم نے ؟ ” مومن نے اس سے سوال کیا”
بند ا تعریف ہی کر دیتا ہے کھانے کی مجال ہے تم لوگوں نے ایک بار بھی کہا ہو کھانا اچھا بنا تھا حیدر تمہارے ہاتھ “
میں جادو ہے “حیدر بڑے مزے سے بیٹھا خود کی تعریفوں کے پل باندھ رہا تھا
آپ واپس کیوں نہیں چلے جاتے۔۔۔ ” آیت اس کی بات کاٹ کر اصل مسئلے کی طرف آئی اور حیدرمنہ بسور کر “
رہ گیا اس کی بہن آج جنگ کیسے بنا مانے والی نا تھی توپوں کا رخ مکمل حیدر کی طرف ہو چکا تھا
میں جانا نہیں چاہتا وہاں۔۔۔۔
کس خوشی میں حالانکہ انہیں آپ کی ضرورت ہو گی آپ ان کے اکلوتےہیں
ان کی ایک بیٹی بھی ہے۔۔۔ “حیدر نے اسے جتاناضروری سمجھا”
” میری ذات ان کے لیے کبھی بھی اہمیت کی حامل نہیں رہی پھر کیوں اس بات کو انا کا مسئلہ بنارہے ہیں آپ “
میں انا کا مسئلہ بنارہاہوں وہ سمجھ نہیں رہے اپنی ضد پر اڑے ہیں یہ دنیا صرف مردوں کے لیے نہیں بنائی گئی “
عقل پر پتھر پڑ گئے عورتوں کو بھی اللہ نے بنایا ہے مرد اوربھی تنہازندگی گزار نا عذاب ہو جائے گا ان کے لیے
یہ ان کے شوہر کی چوکس ہے میں کیا کر سکتا ہوں۔۔۔۔” حیدر کندھے اچکا تا سید ھا ہو گیا”
آپ پلیز واپس چلے جائیں
میرے لیے۔۔۔۔۔
کچھ دنوں تک یہی ہوں میں پھر چلا جاؤں گا۔۔۔۔” اس وقت آیت کو سمجھا نانا ممکن تھا اس لیے اس نے راہ نکالی”
تھی اب وہ کچھ دن سکون سے رہ سکتا تھا
آپ آج کیوں نہیں جار ہے۔۔۔ کچھ دیر ادھر ادھر کی باتوں کے بعد حیدر نے اس کی آواز سنی مومن نے “
افسوس سے سر ہلایا ابھی تک وہو ہیں انکی تھی
آپ کو میری قسم۔۔۔۔
شٹ اپ آیت۔۔۔۔۔۔۔ بس بھی کرو کہانا کچھ دنوں بعد چلا جاؤں گا یہاں کا رینٹ دے چکاہوں میں ایک”
بھی ہینے بعدہی جاسکتا ہوں اس طرح سب چیزیں درمیان میں چھوڑ کر حیدر کو غصہ ہوتے دیکھ اس کی ناراضگی میں مزید اضافہ ہو گیا اس بارے میں دوبارہ بات نہیں کی تھی اس نے بس ان کی باتوں کا جواب دیتی رہی تھی پھر بچوں میں مصروف ہو گئی
“ایک سوال پوچھوں؟۔۔۔ ” آیت نے ایک نظر ساتھ چلتے مومن کا چہرہ دیکھا پھر جلد ہی اپنی نظریں سامنے “
تمہارے بے تکے سوالوں کا جواب نہ تھوڑی سی دور کھیلتے زونین پر مذکور کر دیں کے پاس آیت –
من سخت بد مزہ ہو ا تھا جیسے وہ پہلے سےجانتا ہو آیت کیا پوچھنا چاہ رہی ہے اس وقت دونوں قریبی پارک میں آئے تھے کچھ دیر چہل قدمی کرنے کے بعداب وہ نرم گھاس پر بیٹھے تھے
آپ مجھے اگنور کر رہے ہیں۔۔۔ “گلا کرتے وہ سحر کو اس کی گود سے لے چکی تھی جبکہ مومن اس کی بات پر “
ٹھٹھک سا گیا
میں سنا چاہوں گا؟؟” وہ واقعی جانا چاہتا تھا”
مجھے بات نہیں کرنی۔۔ ” جب کوئی جو اب ناملا تو وہ بات بدل گئی مومن نے گہر اسانس کھینچا”
پوچھو ؟ “۔۔۔ مومن کے پوچھنے پر خفا میٹھی آیت جھٹ سے سیدھی ہوئی تو وہ مسکر ا کر رہ گیا”
اگر کبھی مجھے کچھ ہو جائے تو۔۔۔۔۔
یہی امید تھی تم سے تمہارے چھوٹے سے دماغ میں ہمیشہ فضول سوال ہی کیوں آتے ہیں ؟”مومن بیزار ساہوا”
تھا پہلی بار نہیں تھا جب آیت ایسا سوال کر رہی تھی پہلے بھی بہت بار وہ اس سے اس طرح کے سوال کر چکی تھی
مومن اکثر چڑ سا جاتا تھا
اس میں فضول کیا ہے؟

تم کیوں جانا چاہتی ہو آخر تمہارے بغی میں “مومن نے اپنے ساتھ ساتھ بچوں کا “
بھی حوالہ دیا
ویسے ہی مجھے تجسس رہتا ہے کبھی میں دنیا سے چلی جاؤں تو آپ کیا کریں گے ؟۔۔۔ “اپنے دل کی بات کرتی وہ “
مومن کا سکون برباد کر چکی تھی
مومن کی بارہ حتمی تم سیدھا کیوں نہیں کہتی تمہیں ہے ۔۔۔۔۔۔ آیت ٹپٹا
کرمیں نے کب دي
؟ ” آیت جان کر “
تم سے پہلے میری دنیا ویران تھی میں صرف اپنے بچوں کی خاطر جی رہا تھا تمہارے آنے سے مجھے لگا زندگی کو ایک “
موقع دینا چاہیے جو میں نے دیا بھی اب جب میری ذات مکمل تم سے وابستہ ہو چکی ہے تمہارے نا ہونے سے شائد
پہلے کی نسبت ویرانیاں مزید بڑھ جائیں میں یہ نہیں کہوں گا تمہارے بغیر میں زندہ نہیں رہوں گا یا مر جاؤں گا یہ
باتیں فلموں اور خوابوں کی دنیا تک ہی ہوتی ہیں حقیقت میں کسی ایک کے چلے جانے سے دوسرا نہیں مرتا یہاں ہر
” ایک تو اپنی باری کا انتظار کرنا ہو گا
عجیب شخص تھاوہ اظہار بھی کر گیا اور اسے حقیت سے بھی آشنا کر وا گیاآپ اتنی مشکل باتیں کیوں کرتے ہیں ؟؟” آیت کے سوال پر اسے ہنسی آئی تھی”
شائد زندگی کبھی آسان نہیں رہی ” مومن کا اگلا جواب اسے سچ میں لاجواب کر گیا”
آپ کو لگتا ہے میں غلط ہوں ؟ “حیدر نے شش و پنج سے نکلنے کے لیے ساتھ بیٹھے مومن سے سوال کیا آیت سے “
ملنے کے بعد وہ مومن کی طرف آیا تھا نہیں مجھے نہیں لگتا تم دونوں کا نظریہ الگ ہے بات دونوں کی درست ہے تمہارا ساتھ دیتے ہوئے میں یہ بھی نہیں”
” کہوں گا آیت غلط ہے اس وقت ایک بیٹی کی طرح سوچ رہی ہے تم ایک بھائی کی طرح۔
عام مجھے کیا کرنا چاہیے پھر ؟
تم ایک بیٹے کی طرح سوچ کر دیکھو امید ہے فیصلہ لینے میں آسانی ہو ” مومن نے لگی لپٹی بغیر اسے مخلصانہ مشورہ “
دیاپھر مجھے واپس چلے جانا چاہیے
بلکل۔۔۔۔ رہی بات آیت کی اس کی زندگی میں سب ہے اسے کسی حصے کی ضرورت نہیں نا پہلے تھی اس سب سے
کوئی فائدہ نہیں ہاں اس کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہو تو اپنے پر نٹس کو سمجھاؤ ان جاہلانہ سوچوں کا خاتمہ کرو تم بخوبی یہ
کر سکتے ہو مجھے نہیں لگتا وہ سمجھیں گے
تو تم آگ میں کودنے سے پہلے ہارمان چکے ہو۔ ویسے یہ بزدلوں کی نشانی ہوتی ہے “حیدر نے مسکرا کر اسے دیکھا”
میں بہادر کبھی تھا ہی نہیں ہو تاتو پہلے ہی سب بدل چکا ہو تا اب تو سب ختم ہوتا نظر آ رہا ہے

نہیں یہ تمہاری سوچ ہے ” مومن نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھا”
تم نتائج سے پہلے گھبرا رہے ہو اور کچھ نہیں “مومن کی انگلی بات پر حید ر بے ساختہ ہنسا تھا مومن نے بیج ہی کہا تھا”
شکریہ۔۔۔۔۔۔ مومن سے بات کر کے اسے واقعی ہمت ملی تھی اس بات کا مکمل اطمینان تھا آیت کے لیے
مومن سے اچھا ہمسفر شائد ہی کوئی اور ہوتا
دروازہ بجنے کی آواز پر کچن میں کھڑی مریم نے اپنی آنکھیں رگڑ کر آنسو سے صاف کی جو اولاد کی جدائی میں اس کی
آنکھوں سے بہہ رہے تھے ہمت کی شروع سے ہی اس میں کمی تھی اس چیز کی کمی آج اسے بری طرح کھلی تھی
بد قسمت ماں تھی جو اپنی اولاد کے لیے آواز تک نا اٹھا سکی۔ سر پر دوپٹہ جما کر وہ بچن سے نکلی پھر بیرونی دروازے
کی اور چل پڑی
کون ؟۔۔۔۔ اندر سے آواز لگائی گھر پر صرف جمال تھا جو کمرے میں تھا
۔م۔۔۔ میں ہوں۔۔۔”ڈرتے ہوئے دھوپ میں کھڑکی آیت نے جواب دیا جو ایک ہاتھ میں سحر کو لیے “
تھی دل بار بار مومن کی جانب جارہا تھا جسے بغیر بتائے وہ بچوں کو لےدوسرے ہاتھ میں زونین کا ہاتھ تھا کر یہاں چلی آئی تھی
مریم نے جھٹ سے دروازہ کھول کر اسے اندر کیا اور اپنے سینے سے لگالیا آج کتنے مہینوں بعد اس کے دل کو سکون
پہنچا تھا بے آواز آنسو بہاتی آیت کو سینے میں بھینچے کھڑی تھی
میری بچی۔۔۔ مجھے معاف کر دو ” پہلا جملہ جو اس نے ماں کے منہ سے سناوہ معذرت کا تھا اسے آج بھی یاد تھا اس “
گھر سے جاتے ہوئے بھی اس نے اپنی ماں سے الوداعی لفظ یہی سنے تھے
آپ کیوں مجھ سے معافی مانگ کر مجھے گناہ کا حقدار بنارہی ہیں میرے دل میں کوئی گلا نہیں ہے میں اپنی زندگی میں “
خوش ہوں بہت “۔۔۔ سحر کے رونے کی آواز پر مریم کو خود سے الگ کرتے اس نے ایک ہاتھ سے ان کا چہرہ
صاف کیا
بہت پیارے بچے ہیں ماشاء اللہ ” زونین کو گود میں لیتے مریم نے اس کے چہرے پر بوسہ دیا پھر سحر کو بھی پیار دیا”
جو کسی غیر کے اس طرح پیار لینے سے بلند آواز میں رورہی تھی
اندر چلو گرمی ہے یہاں۔۔۔ ” مریم نے زونین کا گرمی سے سرخ ہو تا چہرہ دیکھ کر اسے کہا جو ماں باپ کے گھر “
میں آتے بھی ہچکچارہی تھی مریم کو افسوس ہوا خود پر اسے دنیا میں تو لے آئی تھی مگر اس کا ہاتھ تھام کر ساتھ چل نا
سکی
یہ صرف تمہارے باپ کا نہیں تمہاری ماں کا گھر بھی ہے چلو۔۔۔ ” آیت کا ہاتھ تھام کر وہ زبر دستی اسے اندر لے”
گئی جہاں پہلا سا کچھ بھی نہیں رہا تھا سب کچھ بدل گیا تھا گھر کا آدھا سامان وہاں موجود نہیں تھا
آپ نے سیٹنگ چینج کر دی پہلا خیال یہی آیا تھا اسےمیں اکیلی عورت کیا کرنہیں تمہارے باپ نےجو اکھیلنے لگا تھا کافی بحث ہوئی تھی دونوں میں پھر حیدر نے کہا اسے اس کا اور تمہارا حصہ چاہیے یہ اس کی سوچ تھی
کہ وہ ایسا کر کے گھر بچا سکتا ہے جمال نے الٹا اسے ہی گھر سے باہر نکال دیا میں نے روکنے کی کوشش کی تھی بہت بھول گئی تھی پہلے کب میری چلی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
مریم کا ایک ایک لفظ آیت کو گنگ کر رہا تھا حیدر نے جو اسے بتایاوہ اس سب سے بلکل مختلف تھا اب اس کی سمجھ میں آگیا تھا مومن اور حیدر نے مل کر اس سے کیچ چھپایا تھا تا کہ اسے مزید تکلیف نا پہنچے اور وہ باپ کے پیار میں بھائی سے ناراض ہو کر اسے کیا کچھ کہہ گئی تھی اس لیے مومن حیدر سے بات نہیں کرنا چاہتا تھا ساری گر ہیں ایک
ساتھ کھل کر اس کے دماغ میں ہلچل مچار ہی تھی
تم لو پانی پیو بچوں کو بھی پلاؤ گرمی بہت ہو گئی آج کل “
ٹرے اس کے سامنے رکھتی مریم نے اسے کہا تو آیت نے زونین اور سحر کو پانی پلایا خود پینے سے انکار دیا اس وقت
اس کا دماغ اور دل کہیں اور انکے تھے
تم کیا کر رہی ہو یہاں؟” کمرے سے ام آ تے جمال کی اونچی آواز پر مریم اور آیت دونوں چونکی تھی آیت کے “
چہرے پر حیرانی دکھ ڈر سارے جذبات ایک ساتھ رقصاں کرنے لگے ڈر تو مریم کو بھی لگ رہا تھا آیت اکیلی نہیں تھی اس کے ساتھ بچے بھی تھے جمال نصے میں کچھ الٹا سید حا کر گیا تو۔۔۔۔۔۔ اس کے آگے کی سوچ آتے اس نے جھجھری میں نے بلایا تھا۔۔۔ ” آیت کو منہ کھولتا دیکھ مریم نے سارا ملبہ ہونے اوپر لے لیا”
کس سے پوچھ کر ؟” جمال اشتعال سے مریم کی طرف بڑھا تو وہ ڈر کر پیچھے ہوئی”
کر بیٹی نے سے انکار میر اول کر رہا تھا اس سے ملنے کو آپ اسے بیٹی نہیں مانتے مگر میں نے کبھی اس کی ذات سے انکار نہیں کیا میری”
بیٹی ہے یہ حق رکھتی ہے جب چاہے مجھ سے ملنے آئے ” آج پہلی بار مریم نے آیت کے حق کے لیے آواز اٹھائی
تھی دل میں جو ڈر تھا اب کہیں اڑن چھو ہو چکا تھا اس بار وہ چپ رہنا نہیں چاہتی تھی
تم نکلوا بھی اور اسی وقت میرے گھر سے۔۔۔۔ ” جمال نے انگلی سے اشارہ کرتے جانے کا حکم دیا تو آیت کا دل”
ڈوب سا گیا ہر بار اسے پہلے سے بڑھ کر تکلیف دی جاتی تھی
یہ کہیں نہیں جائے گی یہ اس کا بھی گھر ہے ” پیچھے سے آتے حیدر نے جمال کو جواب دیا اور آگے بڑھ آیت کے “
سر پر ہاتھ رکھا مگر وہ شرمندگی سے سرجھکا گئی جب مومن بھی اس کے پاس آکر کھڑ ا ہو اوہ نہیں جانتی تھی اسے
کیسے پتا چلا کہ وہ کہاں ہے مگر اس کا باپ مومن کو کچھ کہتا تو اس کے لیے واقعی ڈوب مرنے کا مقام تھا
سر جھکانے کی ضرورت نہیں آیت ماں باپ سے ملنا کوئی گناہ تو نہیں ہاں تم مجھے خبر کر دیتی تو مجھے اچھا لگتا۔۔۔ “”
آیت کے سر جھکانے پر مومن نے اس کا ہاتھ پکڑ کر ہلکا سا دباؤ دیا اس وقت اس کا دل کیا زمین پھٹے اور اس میں سما
جائے اس وقت بھی وہ اس سے شکوہ نہیں کر رہا تھا بلکہ اس کے ساتھ کھڑا تھا اسے سہارا دے رہا تھا مومن کے لیے
اس کے دل میں موجود عزت کارتبہ کئی گنا بڑھ گیا تھا اپنی زندگی میں کم سے کم اس کا احسان چکا نہیں سکتی تھی
ٹھیک ہے پھر میں ہی چلا جاتا ہوں یہ گھر چھوڑ کر ۔ اس گھر میں یا تو یہ رہے گی یا میں تمہیں بھی اس نے میرے “
” خلاف کھڑا کر دیا ہے آج تم اس کے لیے میرے سامنے کھڑے مجھ سے زبان لڑا رہے ہو
میں نے آپ سے بد تمیزی نہیں کی پاپا بس آیت کو تسلیم کر لیجئے وہ بھی آپ کا خون ہے آپ کیوں اسے اس کے “
حق سے محروم کرنا چاہتے ہیں ایسا کون اس سے ہیں سکا تو نہیں آرہی اتنی نفرت کیوں بھری ہے آپ کے دل میں
میں کچھ سننا نہیں چاہتا حیدر۔۔۔۔۔
آپ لوگ مت لڑیں میری خاطر بھائی ویسے بھی میری اپنی فیملی ہے میں یہاں نہیں بھی آؤں گی تو کوئی فرق نہیں
پڑے گا
تم کہیں نہیں جاؤ گی آیت “۔۔۔ حیدر نے اس کا ہاتھ تھام کر روک دیا تو مومن نے اصرار کیا اسے بھی آیت کا “
فیصلہ ٹھیک لگا تھا اس سے پہلے صورت حال مزید خراب ہوتی وہ آیت کو لے کر جانا چاہتا تھا مگر حید ر کچھ ماننے کو تیارنا تھاوہ ٹھان چکا تھا آج جمال سے دو ٹوک بات ہو کر رہے گی
آپ کو بیٹوں کی خواہش تھی تو اللہ نے آپ کو بیٹا بھی دیا تو ہے اب اگر بیٹی بھی آگئی ہے تو مسئلہ کیا ہے ؟؟
اس کی پیدائش تمہاری ماں کی ضد تھی۔۔۔
کا فیصلہ تھا جس میں کسی کی ضد کسی کی ناراضگی نہیں چلتی جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے کسے کب، کیا کتنا نہیں یہ اللہ “
نواز نہ ہے وہ اچھی طرح جانتا ہے ہمارا کام ہے اس فیصلے کو خوشی خوشی تسلیم کرنا ہم کون ہوتے ہیں اس کی کسی بات
سے انکار کرنے والے۔۔۔۔ “حیدر نے شائستگی سے جمال کے دل کو نرم کرنا چاہا
لیکچر دینے کی ضرورت نہیں ہے حیدر تم اسے یہاں رکھنا چاہتے ہو تو رکھو میں یہاں نہیں رہوں گا۔۔
آپ غلط کر رہے ہیں پاپا۔۔۔ “حیدر نے انہیں قائل کرنا چاہا جو کچھ سننے سمجھنے کی حالت سے آگے نکل چکا تھا اس”
وقت جمال کی عقل پر پتھر پڑچکے تھے جو بہت جلد ہٹنے والے تھے
میں یہ کون جانتا تھا
جمال بپھر اہو اگھر سے باہر نکل گیا آیت نے حیدر کو کہا جمال کو روکنے کے لیے مگر وہ بھی اس کی سن نہیں رہا تھا الٹا
اس نے آیت کو خاموش ہونے کے لیے کہا تو وہ بے بس ہو کر جمال کے پیچھے بھاگ گئی کسی صورت نہیں چاہتی تھی
اس کی وجہ سے گھر ٹوٹ جائے جمال کے جانے سے مریم اکیلی ہو جاتی اپنی ماں کے دکھوں کا سبب بن کر وہ کبھی
خوش نہیں رہ سکتی تھی
آیت !۔۔۔۔”۔ مومن سحر مریم کو پکڑا کر اس کے پیچھے چلا گیا آیت کو اس حال میں اکیلا چھوڑنا نہیں چاہتا تھا “
جانتا تھا وہ کس ذہنی کیفیت سے دو چار تھی اس وقت ۔۔۔۔
حید ر جاؤ دیکھو انہیں میرا تو دل تو دل بیٹھا جارہا ہے ” مریم نے حید ر سے کہا تو وہ بھی ان کے پیچھے گھر سے باہر نکل “
گیا گلی سے نکل کر مین روڈ پر آتے سامنے کا منظر اس کی جان نکلانے کے لیے کافی تھا اس ایک پل نے اس کے
حواس سلب کر لئے تھے ارد گرد جمع ہوتی بھیٹر کو چیرتا ہوا وہ وہاں پہنچا تھا آنسو تھے کے تھمنے کا نام نہیں لے رہے
تھے اس کی آنکھوں کے سامنے سڑک پر خون میں لیٹی آیت کا سر جمال گود میں رکھے بیٹھا تھا جبکہ مومن بار بار
اس کا گال تھپتھپاتے ہوئے نام بھی پکار رہا تھا
گزرے لمحات)ابور کیں میری بات تو سنیں ” آیت تقریبا بھاگ ہوتی جمال کے پیچھے آئی تھی جور کنے کے نام نہیں لے رہا تھا”
مجھے تمہاری کوئی بات نہیں سنی آیت چلی جاؤ یہاں سے میں معافی مانگتی ہوں پلیز آپ واپس چلیں میں کبھی آپ کے سامنے بھی نہیں آؤں گی وعدہ کرتی ہوں ” جمال کا “
ہاتھ پکڑ کر اس نے وعدہ کیا جو وہ جھٹک کر ایک طرف ہو گیا
وعدہ
تم جاؤ یہاں سے میں نفرت کرتا ہوں تم سے “بیٹی کی نفرت میں اندھا دھند چلتا ہو اوہ سڑک کر اس کرنے لگا یہ “دیکھے بغیر سامنے سے آتا ٹرک اس کے کتنا قریب آچکا ہے
ابو ہٹیں وہاں سے ۔۔۔۔۔ ” جمال کو بچانے کے چکر میں آیت دوڑ کر اس کے پاس گئی آخری منظر جو اس کی “
آنکھوں نے دیکھا تھا وہ مومن کا چہرہ تھا ٹرک ڈرائیور کوشش کے باوجو د وقت پر بر یک نالگا سکا جمال کو آیت نے
کھینچ کر وہاں سے ہٹا دیا تھا مومن نہ گر رہ کر آیت کو بچانا چاہا مگر افسوس بہت دیر ہو چکی تھی ٹرک تیزی سے
اسے کچلتا ہوا آگے نکل گیا پیچھے حید ر سب دیکھ کر سکتے میں آگیا
حیدر اور مومن پاگلوں کی طرح اس وقت آیت کو ہوش میں لانے کی کوشش کر رہی تھے اسی بھیٹر میں کچھ لوگ
چلا چلا کر ایمبولینس کو کال کرنے کا کہہ رہے تھے اس سارے حادثے میں ایک شخص تھا جو ٹکٹکی باندھے آیت کو
دیکھ رہا تھا وہ جمال تھا جس کی گود میں آیت کا سر رکھا تھا
قریبی پرائیویٹ ہسپتال کے باہر چکر لگاتے حیدر اور مومن کی جان پر بنی تھی دونوں کی زندگی ایک وجود سے جڑی
تھی جو اندر زندگی اور موت سے پچھلے چار گھنٹوں سے لڑ رہی تھی
مما کو اندر کیوں لے گئے ہیں ؟ ” زونین نے مومن کا ہاتھ پکڑ کر پریشانی سے پوچھا”
آپ رو کیوں رہے ہو ؟ ” اپنے سوال کا جواب نا پا کر زونین نے پھر سے مومن سے پوچھا جسے اس سب سے انجان”
دکھایا کہ وہ رو نہیں رہا
نہیں میں نہیں رورہا “مومن نے آنکھوں کو ہاتھ سے رگڑ کے مماناراض ہو نین کی اگلی”
ممانے کہا تھا اچھے بچے جھوٹ نہیں بولتے آپ کو بھی نہیں بولنا چاہیے گی ورنہ ا س بات پر مومن نے ہلکا سا مسکرانا چاہا مگر ناکام ہی ٹھہرا
میرا ایک کام کرو گے ؟” مومن نے اس کے گال پر پیار کرتے پوچھا”
وہ کیا؟” اس نے بھی مومن کے گال پر جوابی بوسہ دیا ایسا اکثر وہ آیت کے ساتھ کرتا تھا آج پہلی بار اس نے “
مومن کو اس طرح جواب دیا تھا
پاک بچوں کی دعا جلدی سنتا ہے ” زونین کا ہاتھ سے دعا کر ووہ جلدی ٹھیک ہو جائیں اللہ آپ مما کے لیے اللہ “
چوم کر وہ اسے گلے لگا گیا آیت سےتھا پہلے بھی وہ یہ درد برداشت کر چکا تھا مگر اس بار اس نے تسلیم کیا تھاوہ آیت کے بغیر اپنی زندگی تصور نہیں کر سکتا تھا ہسپتال میں کھڑے ہو کر آج اس نے اعتراف کیا تھا وہ آیت سے بے پناہ محبت کرتا تھا محبت تو اسے پہلے بھی  اس کے چہرے پر عیاں تھا آج دوسری بار وہ اس مقام پر کھڑا آیت سے تھی مگر یہ محبت کتنی گہری تھی اس کا اندازہ آج اسے ہوا تھا
ڈاکٹر پلیز بتائیں آیت کیسی ہے ؟ حیدر نے ایمر جنسی روم کے باہر ڈاکٹر کو روک کر صورت حال جاننی چاہی”
دیکھیں ہم کچھ نہیں کر سکتے آپ جس حال میں پشینٹ کو لے کر آئے ہیں بلڈ بہت ضائع ہو چکا ہے اوپر سے زخم “
کافی گہرے ہیں آپ کو حوصلہ رکھنا ہو گا صبر سے کام لیں ہم لوگ اپنا کام کر رہے ہیں “کانوں میں پڑتے الفاظ سن
کر مومن کو پیٹ میں گر ہیں پڑتی محسوس ہوئی آنکھیں حد درجہ سرخ تھی مگر وہ ضبط کیے کھڑا تھا
اب خوش ہیں آپ یہاں کیوں بیٹھے ہیں جائیں ڈھول لے کر آئیں۔۔۔ جائیں خوشیاں منائیں میری۔۔۔ بیٹی “
نے سن لی آپ کی میری بچی آپ کی وجہ سے آج موت کے منہ میں چلی گئی ہے۔۔۔ یہی چاہتے تھے نالیں اللہ
بچانے کے لیے اس خطرے میں ڈال دی تنظیف میں ہے دیکھیں۔۔۔۔۔
ر و رنہیں کیاایسے باپ کے لیے جس نے ساری زندگی اس جمال کا گریبان پکڑے کھڑی تھی جو خود ندامت سے سر جھکائے کھڑ اتھازندگی میں پہلی بار اس کا ضمیر اندر سے اسے کھائے جار ہا تھا اسےسر کھڑاالسمرایسالگ رہا تھا کسی نے اس کے منہ پر کھینچ کر تھپڑ مار دیا ہو ساری زندگی اس نے آیت کو درد ہی دیا تھا آج پھر سے وہ اس کی وجہ سے درد میں تھی
اگر اسے کچھ ہو نا تو آپ میر امر امنہ دیکھیں گے پاپا میں کبھی آپ کو معاف نہیں کروں گا یا درکھیے گا حیدر بھی “
تب تک زندہ ہے جب تک آیت کی سانسیں ہیں میری بہن کس قدر تکلیف سے گزر رہی ہے آپ کو اندازہ ہے
سے شائد آپ کو معاف آپ کی جاہلانہ سوچ کی وجہ سے ہم اس حال میں کھڑے ہیں ہو سکے تو معافی مانگ لیں اللہ کر دے
حیدر کو اس قدر غصے سے جمال کی طرف بڑھا جب مومن نے اسے راستے میں روک دیا اور خاموش رہنے کا اشارہ
کیا مریم حیدر کے کہنے پر زونین اور سحر کو لے کر ایک طرف چلی گئی بیچارے بچے اب پریشان ہو کر رونا شروع ہو
چکے تھے
جمال کندھے جھکائے وہاں پڑے بینچ پر بیٹھ گیا تو حید ر اور مومن ایک بار پھر سے کوریڈار میں چکر لگانے لگے
کافی گھنٹوں کے بعد آیت کو آئی سی یو میں شفٹ کر دیا گیا جب نرس حیدر اور مومن کو اپنے ساتھ اندر لے گئی باہر
مریم اور جمال بے چینی سے ان کی راہ دیکھ رہے تھے
کیا ہوا ہے ؟” کچھ دیر بعد حیدر کو باہر آتا دیکھ جمال نے اس سے سوال کیا “
مومن کہاں ہے آیت کو ہوش آگیا ؟ ” مریم بھی لپک کر اس کے پاس آئی “
تم جواب کیوں نہیں دے رہے حیدر ؟ ” جمال نے خفگی سے اسے دیکھا تو حید ر چہرہ ہاتھوں میں چھپا کر بلک بلک کر “
رونے لگا اس کا اند از مریم اور جمال کے لیے گویا موت کا فرمان تھا مریم تو وہی اس کے پاس بیٹھ کر سکتہ میں چلی گئی
میں گناہگار ہوں اپنی بچی کا میں گناہگار ہوں۔۔۔۔مارو مجھے میں برا انسان ہوں میں براباپ ہوں۔۔۔۔۔ مجھے “
سزا دو ” آیت کے غم میں ڈوبا جمال ہریانی طور پر چلاتا ہوا خود کو مار بھی رہا تھا مگر کسی نے اسے روکنے کی زحمت ناکی
تھی پھر حید ر ہی زبر دستی دونوں کو اندر لے گیا
جیسے ہی حیدر انہیں لے کر اندر گیا مریم جا کر آیت سے لیٹ گئی جسے مومن نے مشکل سے پرے کیا تھا جمال کسی
بت کی طرح دروازے میں رک گیا ایسا لگتا تھا ساری توانائی ختم ہو گئی ہو اس کی نظروں کے سامنے آیت بیڈ پر لیٹی تھی
چلیں اب ایک بار مل لیں ورنہ دیر ہو جائے گی ” حیدر جمال
کو کھینچ کر آیت کے پاس لے گیا”
آیت!۔۔۔ میر ابچہ مجھے معاف کر دو۔۔۔۔۔ بس۔۔۔ بس ایک بار ۔۔۔۔ ایک بار اپنے باپ سے بات کرو جانتا “
ہوں میں اچھا باپ کبھی نہیں بن پایا۔۔۔۔۔ مجھے معاف کر دو اپنے باپ کو معاف کر دو۔۔۔۔۔ “جمال نے جھک کر آیت کے ماتھے پر بوسہ دیا اور پھوٹ پھوٹ کر رود یا اسی کمرے میں رکھے صوفے پر ایک بچہ سکون سے بیٹھا تھا
سارے سین کو لیز کھاتے ہوئے خوب انجوائے کر رہا تھا وہیں سحر کو گود میں اٹھائے مومن نے حیدر کو دیکھ کر
افسوس سے سر ہلایا جس نے جان بوجھ کر یہ ڈرامہ کیا تھاور نہ آیت خطرے سے باہر تھی زخم بھرنے میں کافی وقت لگنا تھا مگر خدا نے اس کی زندگی بخش دی تھی یہی سب ڈاکٹر نے ڈسکس کرنے کے لیے دونوں کو اندر بلایا تھا آیت
کو نیند کے انجکشنز دئے گئے تھے سارا راستہ صاف تھا تبھی حیدر نے یہ ڈرامہ کیا ایک بار جمال کو مزا چکھانہ چاہتا تھا اور وہ کامیاب رہا تھا

نانو انہیں میری مما سے وہ بہار ہیں۔۔۔۔ کونین میں کھڑا دیکھ کر اسے پیچھا کیا “اسے ڈر تھا کہیں اس کی مماز یادہ بیمار نا ہو جائیں
بیٹا تمہاری مما اس دنیا میں نہیں رہیں “جمال نے آنسو بہاتے اسے سمجھانا چاہا جو بگڑے موڈ سے حیدر کو تو کبھی”
مومن کو دیکھ رہا تھا
میری مما بلکل بھابھی کو پاگل بنایا ہے ” چھوٹا سا بچہ جمال کے چودہ تبق روشن کر گیا اس نے “
الجھن سے حیدر کو دیکھا جو زونین کی لیز کا پیکٹ ہاتھ میں لیے مزے سے کھا رہا تھا
یہ کیا کہہ ہے ؟” مریم نے حیرت سے مومن کو دیکھا جو کندھے اچکا گیا”
حیدر ؟۔۔۔۔۔ ” جمال نے قہر آلود نظروں سے اپنے بیٹے کو دیکھا”
میں نے آپ سے ایسا کچھ نہیں کہا تھا میں تو بس رور ہا تھا ” جمال کو دیکھ کر اس نے وضاحت کی ایک پل کو جمال اور “
مریم بھی دنگ رہ گئے واقعی اس نے ایسا کچھ نہیں کہا تھا
” نے میری بہن کو موت کے منہ سے نکالا ہے میرے تو خوشی کے آنسو تھے اللہ “
اس کا مطلب تم نے بیچ میں ہمیں پاگل بنایا ہے ؟ مریم ایک سکتہ سے نکل کر دوسرے میں جاچکی تھی”
الو کے پٹھے ۔۔۔۔ ” جمال نے اپنے پیر سے جو تا نکال کر اس کا نشانہ لگایا جو باپ کی مار سے بچنے کے لیے مومن کے “
پیچھے چھپ گیا
بد تمیز ۔۔۔ حیدر تم نے مجھے بھی نہیں بتایا ” مریم نے اس کا کان کھینچ کر حساب برابر کیا”
آپ کو ایک طرف لے جا کر کیسے بتا تا پاپا وہی تھے انہیں شک ہو جاتا نا۔۔۔ ” حیدر نے بنتے ہوئے مریم کو دیکھا تو “
وہ بھی مسکرادی۔ انہیں آپس میں لڑتا جھگڑتا چھوڑ کر مومن کمرے سے باہر نکل گیا اسے خدا کا شکر ادا کرنا تھا جس
وہ آج اس پاک ذات کے در سے نے اسے اس کی زندگی لوٹادے لوٹا تھا اب وقت تھا اور مومن کو اس
کے دربار میں حاضری دینی تھی۔
تم ٹھیک ہو ؟” آیت کے ہوش میں آتے مومن نے اس کا ہاتھ پکڑ کر نرمی سے پو چھا جو سر ہلا گئی “
” تمہارے لیے ایک سرپرائز ہے”
ہاں اور اس کا کریڈٹ مجھے جاتا ہے “حیدر نے بیچ میں ٹپک کر بات کلیر کی تو مومن نے قہقہ لگایا”
بلکل۔۔۔ ” اس نے حیدر کی بات کی تصدیق کی ” جمال اور مریم بھی اندر آئے تو مومن وہاں سے اٹھ کر ایک طرف ہو گیا
میری بیٹی کیسی ہے ؟” جمال نے مسکرا کر اس کا حال پو چھا تو آیت نے ٹھٹھک کر حیدر کو دیکھا جس نے اسے خود “
کو دیکھتا پا کر آنکھ دبائی ٹھیک ۔۔۔ ” اس نے ہولے سے جواب دیا اب بھی پریشان تھی”
مجھے معاف کر دو بیٹا میں تمہارا گناہگار ہوں پر خدا نے میری آنکھیں کھول دی ہیں جانتا ہوں میرا رویہ قابل معافی”
نہیں کیا تم سب بھول کر اپنے باپ کو معاف کر سکو گی
پہلی بار جمال کی آنکھوں میں خود کے لیے محبت دیکھ کر آیت خوشی سے نہال ہی ہو گئی
جلدی سے ٹھیک ہو جاؤ تمہارے چکر میں مجھے جو تیاں پڑ چکی ہیں “حیدر مصنوئی مخفی دکھاتے ہوئے بولا تو مومن”
پہلے کا منظر یاد کر کے اپنی جنسی مضبوط نا کر سکام اپنا بند رکھو نے اسے ڈانٹ دیا تو وہ منہ کر رہ گیا سکی کر بھی
تم اپنا منہ بند رکھو ” جمال نے اسے ڈانٹ دیا تو وہ منہ بسور کر رہ گیا اس کی شکل دیکھ کر آیت کو بھی جنسی آرہی تھی”
زو نین آرام سے بیڈ کے اوپر چڑھ کر آیت کے پاس آیا حیدر تو ارے ارے کر تارہ گیا مگر وہ ان سنا کر گیا پھر آیت
کی گال اور پیشانی چوم کر اس کے پاس لیٹ گیا تو سب کے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی
لوجی باپ کو بھی چانس دو بار سارا پیار تم لٹا دو گے تو وہ کیا کرے گا۔۔۔ ” اس سے پہلے اس کی بات پر جمال پھر سے “
جو تا اٹھاتا وہ کمرے سے باہر بھاگ گیا جبکہ آیت شرم سے نظریں جھکا گئی
بھی بہانہ بنا کر ان کے پیچھے چلا گیا اب وہاں آیت اور مومن تھینک یو سوچ میرے ساتھ رہنے کے لیے ایک بار تم نے پوچھا تھا تم نار ہی تو میں کیا کروں گا پچھلے کچھ گھنٹوں میں “
مجھے اچھی طرح احساس ہوا ہے تمہارے بغیر میری زندگی بلکل ویران ہے
آگے سے کبھی ایسا سوچنا بھی مت جانتی نہیں ہو میں نے کتنی اذیت سہی ہے ایک ایک لمحہ یہی دعا مانگتے گزرا ہے تم
مجھے چھوڑ کر نا جاؤ جانتی ہو آیت کسی اپنے کا بچھڑ جاتا بہت تکلیف دیتا ہے مگر کسی ایسے کا بچھڑ جاتا جو آپ کی زندگی ہو
جان نکالنے کے مترادف ہے مجھے محبت ہے تم سے خود سے زیادہ ۔۔۔۔ ” اس کے الفاظ سن کر آیت کو ایک سکون
ساملا تھا اس نے جو زندگی سے چاہا تھا وہ نعمتیں خدانے تحفے میں دے دیں تھی
باپ کا پیار ، شوہر کی محبت، پیار کرنے والی ماں، اس پر جان نچھاور کرنے والا بھائی، بچے سبھی رشتے انمول تھے اور
ہی رشتے اس کی زندگی کا اثاثہ تھے مومن کے ہونٹوں کا لمس اپنی پیشانی پر محسوس کر کے وہ سکون سے آنکھیں
موند گئی جہاں اندھیرے کے بادل چھٹ چکے تھے اب وہاں خوابوں کا جہاں آباد تھا جس میں وہ اور اس سے جڑے
رشتے تھے
ہاں کبھی بھی بوجھ نہیں ہوتی بلکہ خدا کی رحمت ہوتی ہیں۔ کچھ لوگ میں ہیں اب انہیں یہ بات سمجھ جانی چاہیے اس طرح اپنی بیٹیوں کی حق تلفی کرنا اور کم تر سمجھنا یا بیٹیوں کو ان پر ترجیح دینا بند کر دیں اس طرح کا تعالی نا انصافی کرنے والے کو کبھی پسند نہیں رویہ اختیار کر کے ایسے لوگ خود ہی گناہ کے حقدار ٹھہرتے ہیں اللہ کرتااس کی جس دین سے ہمارے نبی نے ہمیں روشناس کرمان لریں اور اس قسم کی جہالت کا خاتمہ کریں

ختم شد

 

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments
error: Content is protected !!
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x