Aanchalانچل

رومانوی داستان

محی الدین نواب

قسط وار ناول

views
0
*Aanchal Novel by Mohiuddin Nawab – A Tragic Story of Love, Pain and a Courtesan’s Life*

قسط_1

ایک عیار اور مکار طوائف کا قصہ جو اپنی خباثتوں سمیت شریفوں کے محلے میں آبسی تھی۔

اس آنچل کے تقدس اور بے حرمتی کی کہانی جو قوم کی ماؤں بیٹیوں کے ننگے سر ڈھانپتا ہے۔

ان چکلوں کی کہانی جو اس بازار ” سے نکل کر گلی محلوں میں گندگی پھیلا رہے ہیں۔

وہ ایسی بیماری کی طرح تھی جو شریف آدمی کو لگ جائے تو وہ مارے شرم کے علاج بھی نہیں کر سکتا۔

آنچل کے سائے میں عزت محفوظ رہتی ہے اور اسی آنچل کے سائے میں بدکاری بھی ہوتی ہے۔

کچھ عرصہ پہلے رومانی داستان اس طرح شروع ہوا کرتی تھی کہ ایک گوری تھیل چھیلی سولہ سنگھار کے پکوٹ پر پانی بھرنے آتی تھی۔ تب ایک ہانکا تھیل پہیلا پر دیسی اُدھر سے گزرتا اور جگ مگ کرتی گوری گھونگھٹ نکال کر صاف چھپتی بھی نہیں، سامنےآتی بھی نہیں۔ پھر شرماتے جاتے ہوئے پوچھتی۔

اجنبی! کیا پیا سے ہو ؟ پانی پیو گے؟”

منصور نے جھجکتی ہوئی نظریں اٹھا کر گوری کو دیکھا۔ وہ سولہ سنگھار کئے میونسپلٹی کےنلکے سے لگی کھڑی تھی۔ اس کی آنکھوں میں کاجل اور ہونٹوں پر سرخی لگی ہوئی تھی۔

رنگ گورا تھا لیکن چہرے کی گلابیت مصنوعی تھی۔ گوندھی ہوئی چوٹی پر موتیے کی کلیاں بھی ہوئی تھیں۔ بھرے بھرے بدن پر قابض ہوں تنگ ہو رہی تھی کہ یوں کسی اور نے اسے تنگ نہ کیا ہو گا۔ پانی سے بھری ہوئی بالٹی اٹھانے کے لئے اس نے شلوار کو پنڈلیوں تک اونچا کر لیا تھا وہ مصنور کو دیکھتے ہوئے شرمائے جارہی تھی۔

وہ شرمیلا تھا۔ کچھ شرم سے کچھ دھوپ کی تمازت سے سرخ ہو رہا تھا۔ ہاتھ میں کتابیں تھیں۔ کالج سے واپسی میں پیاس لگی تو نلکے سے ذرا دور ٹھہر گیا تھا۔ یہ تاثر نہیں دینا چاہتا تھا کہ گوری کے لئے رک گیا ہے مگر اس کی توقع کے خلاف وہ خود ہی اسے مخاطب کر دی تھی۔ “اگر پانی پیتا ہے تو یہ رہا میرا گھر”

اس نے ایک ہاتھ کے اشارے سے بتایا۔ اس کا مرکان پانچ چھ قدم کے فاصلے پر تھا۔

خلکہ کے نیچے بالٹی پانی سے بھرتی جارہی تھی۔ وہ ٹونٹی تھما کر نکلے کو بند کرتے ہوئے ہوئی۔

”آجاؤ۔ میرے گھڑے کا پانی بہت ٹھنڈا ہوتا ہے۔ میرے ہاں کولر بھی ہے۔”

وہ بھری ہوئی دو بالٹیاں اٹھانے کے لئے سجسکی۔ منصور نے آگے بڑھ کر کہا۔

ٹھرئیے آپ میری یہ کتابیں سنبالئے میں پانی پہنچا دوں گا۔”

اس نے مسکراتے ہوئے کتابیں لے لیں۔ منصور جھک کر دو بھری ہوئی بالٹیاں

اٹھانے کے بعد سیدھا ہوا تو اس کا سینہ چٹان کی طرح اور پھیل گیا۔ گوری کی نگاہیں یوں پھیل گئیں جیسے ہائے کہہ رہی ہوں، اس نے جلدی سے بڑھ کر مکان کا دروازہ کھولا۔

منصور ہالٹیاں اٹھائے تیر کی طرح اندر چلا گیا۔ آنگن میں پہنچ کر گوری نے باورچی خانہ کی طرف راہنمائی کی۔ اس نے بالٹیاں وہاں لے جاکر رکھ دیں۔

آنگن میں گھنے درخت کا سایہ تھا۔ ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھیں۔ وہ ایک چھوٹی سی چو کی اس کی طرف بڑھاتے ہوئے بولی۔ “یہاں بیٹھو میں تمہیں ٹھنڈا میٹھا شربت پلاؤں گی۔ تم نے اپنا نام تو بتایا ہی نہیں۔”

“میرا نام منصور احمد ہے۔” وہ آس پاس دیکھنے لگا۔ آنگن کے دو طرف کمرے بنے ہوئے تھے۔ تیسری طرف باورچی خانہ تھا۔ چوتھی طرف آنگن میں داخل ہونے کے دروازے کے ساتھ ایک اور کمرہ تھا۔ اس کمرے سے کسی مرد نے آواز دی۔ اوصاف بیگم ! کہاں ہو ذرا ادھر آؤ۔”

بھی آئی۔” یہ کہہ کر وہ اس کمرے کی طرف جانے لگی۔ منصور نے پہلی بار توجہ سے محسوس کیا کہ وہ ایک عمر رسیدہ بھاری بھر کم عورت ہے اور اس پر بیگم جیسا نام بچتا ہے مگر اس نے ایسا پیتا ہوا میک اپ کیا تھا کہ اس شیع در کار میں اسکی عمر چھپ گئی تھی۔

دیسے گرمی کی تپتی ہوئی دو پسر میں میک اپ کرنے کی کوئی معقول وجہ سمجھ میں نہیں آسکتی تھی۔ وہ میں نسپائی کے نکلے تک پانی بھرنے گئی تھی۔ کسی فلمی پکھٹ پر شوٹنگ کے لئے نہیں گئی تھی۔ کچھ یوں لگتا تھا کہ وہ بن ٹھن کر جس کے انتظار میں نئی تھی اسے اپنے آنگن میں لے آئی تھی۔ شاید اس قول کی تصدیق ہو گئی تھی کہ عورت جس سے چاہے اپنے ہاں پانی بھر وا سکتی ہے۔

اوصاف تیم اس کمرے میں داخل ہوئی۔ آنگن کے دوسری طرف جو کمرے تھے’

ان میں سے ایک کا دروازہ کھلا۔ اس دروازے کے فریم میں ایک حسین دوشیزہ اک انداز بے نیازی کے ساتھ کھڑی نظر آئی۔ گرمی اور پینے کے باعث اس نے بالوں کو سمیٹ کر جوڑا باندھ لیا تھا۔ تازہ ہوا کھانے کے لئے دوپٹہ کمرے میں پھینک آئی تھی۔ اس موسم

میں قمیض پہننے سے شاید گرمی دانے نکل آتے ہوں گے۔ اس لئے وہ صرف ممیص پہنےہوئے تھی۔ منصور کی آنکھیں شرم سے جھک گئیں۔ اس نے اپنی کتابوں کو مضبوطی سےپکڑ لیا۔ جیسے تہذیب اور تعلیم ہاتھ سے چھوٹی جارہی ہو۔

اس کا خیال تھا کہ وہ اسے دیکھتے ہی شرما کر واپس کمرے میں جائے گی، پھر ڈھنگ سے باہر آئے گی، لیکن اس نے کسی کو آواز دیتے ہوئے کہا۔ نورین! ادھر آؤ بے بے نے نئے باورچی کا بندوبست کیا ہے۔”

منصور جھینپ کر سیدھا بیٹھ گیا کیونکہ وہی باورچی خانے کے دروازے پر بیٹھا تھا۔

آس پاس ایسا کوئی نہ تھا جسے باورچی کہا جاتا۔ اس نے مجھجھکتے ہوئے کن انکھیوں سے ادھردیکھا۔ اب اس دروازے کے فریم میں دو دو شیزا ئیں نظر آرہی تھیں۔ دوسری نے لٹھے کی شلوار پر ململ کا کرتہ پہنا ہوا تھا۔ وہ بھی دوپٹے سے بے نیاز تھی۔ چونکہ نورین کو آواز دے کر بلایا گیا تھا لہذا دوسری کا نام نورین ہو سکتا تھا۔ وہ اس کی طرف آتے ہوئے بول رہی تھی۔ ”ہائے باجی! اس کے ہاتھوں میں کتابیں ہیں یہ باورچی نہیں ہو سکتے۔”

پانی صاحبہ بھی قریب آتے ہوئے بولیں۔ ” پڑھنے لکھنے والے پاور پی بھی تو ہوتے

ہیں۔

وہ دونوں اس کے پاس آئیں۔ منصور جلدی سے اٹھ کر کھڑا ہو گیا جیسے لڑکیاں

گھبراہٹ میں دوپٹہ سنبھالتی ہیں، ویسے ہی وہ اپنی کتا ہیں سنبھال رہا تھا۔ نظریں زمین میں اگڑی ہوئی تھیں۔ نورین نے کہا۔ اللہ باجی! یہ کیسے شرما رہے ہیں۔ لگتا ہے ہم پر نظر ڈالیں گے تو جہنم کی آگ انہیں نہیں جلا دے گی۔”

وہ دونوں ہنسنے لگیں۔ منصور کے جبڑے سخت ہو گئے۔ اس نے دانت پر دانت جما کر انہیں دیکھا بلکہ گھور گھور کر دیکھا۔ پھر اچانک ہی نرم پڑتے ہوئے بولا۔ “ہمارے ملک میں اسلامی نظام قائم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جاری ہے ہمارا فرض ہے کہ ہم بھی فردا فردا عملی طور پر کوشش کریں۔ میں یہ بتادوں کہ عمل کرنے میں بہت زیادہ محنت ضروری نہیں ہے۔ بس اتنی سی گزارش ہے کہ ہم مذہب پر عمل کر رہے ہیں تم لڑکیاں تہذیب کے سر پر دوپٹہ رکھ دیا کرو۔ “

نورین جھینپ کر اپنی باجی کو دیکھنے گئی۔ باچی نے دھنائی سے کہا۔ ” ہائے یہ ہماری

ہے بے کہیں سے مولوی کو پکڑ کر لے آئی ہیں۔”

میں مولوی نہیں ہوں، معلم نہیں ہوں، ایک طالب علم ہوں جو اچھی باتیں سیکھتا علم جو

ہوں اسے دوسروں کو سکھانا چاہتا ہوں۔”

اتنے میں اوصاف بیگم ہاتھ میں شربت کا گلاس لیے کمرے سے باہر آئی مسکراتے ہوئے بولی۔ “اچھا تم تینوں آپس میں متعارف ہو رہے ہو ؟ “

باجی نے کہا۔ ”بے بے! ان کے تعارف سے خدا بچائے۔ یہ تو مولوی ہیں۔ ہمیں دوپٹہ اوڑھنے کی نصیحت کر رہے ہیں۔ “

اوصاف بیگم یہ سن کر ٹھٹک گئی۔ اس نے ایک ذرا تشویش بھری نظروں سے منصور کو دیکھا، پھر فوراً ہی سمجھوتے کے انداز میں بولیں۔ “منصور اچھی باتیں سمجھا رہے ہیں۔

دوپٹہ اوڑھ لو گھر میں کوئی مرد نہ رہے تب اتار دیا۔”

افظ اتار دینا ۔ ” کچھ اس طرح زور دے کر پلکیں جھپکا کر کہا گیا کہ لڑکیاں سمجھ گئیں

کہ منصور کی تسلی کے لئے دوپٹہ سینے اور سر پر رکھ لیا جائے۔ وہ کمرے کی طرف جانے لگیں، اوصاف بیگم نے کہا۔ ” یہ میری بڑی بیٹی پروین ہے اور وہ چھوٹی بیٹی نورین ہے۔

بہت شریر ہیں تمہیں پریشان کیا ہو گا۔ یہ لو شربت”

وہ شربت کا گلاس لے کر بیٹھتے ہوئے بولا۔ ” میں پریشان نہیں ہوتا۔ میرے والدین نے تعلیم دی ہے کہ بڑی سے بڑی بات تحمل سے برداشت کرلیا کرو۔”

میں تمہارے والدین سے کبھی ضرور ملوں گی۔”

اس نے شربت کا ایک گھونٹ حلق سے اتارا۔ ایسی ٹھنڈک تھی کہ کلیجہ تر ہو گیا۔

مٹھاس بھی مناسب تھی۔ اتنی شدید گرمی میں شربت پینے کا لطف آگیا۔ اس نے کہا۔

” آپ نے شربت کا تکلف کیا ویسے لطف آگیا۔ “

وہ دوسری چوکی پر بیٹھتے ہوئے بولی۔ ” مجھے آپ سے مخاطب نہ کرو میں کوئی بزرگ ہستی نہیں ہوں۔ وہ تو کم عمری میں میری شادی ہو گئی تھی اس لئے یہ لڑکیاں میری جوانی ہی میں جوان ہو گئی ہیں۔”

اس نے حیرانی سے اوصاف بیگم کو دیکھا۔ وہ دل کھول کر مسکرا رہی تھی۔ “آج سے ہماری دوستی ، تم روز آیا کرو۔ میں تمہارا نام لیتی ہوں تم میرا نام لے سکتے ہو۔”

منصور نے دل میں سوچا۔ اب کون کمبخت یہاں آئے گا بس یہ دو گھونٹ رہ گئے

ہیں، گلاس خالی کر کے چلا جاؤں گا۔ تو مڑ کے نہیں دیکھوں گا۔”

اس نے سوچتے سوچتے گلاس خالی کر دیا۔ وہ گلاس اس نے اوصاف بیگم کو دے دیا

اور جانے کی اجازت چاہنے والا تھا کہ اچانک آنگن کے دروازے سے بہار کا ایک خوشگوار جھونکا اندر آیا۔ منصور نے اسے دیکھا تو ۔ دیکھتا ہی رہ گیا۔ اگر چہ وہ کسی لڑکی کی طرف نظریں اٹھا کر نہیں دیکھتا تھا مگر وہ ایسی تھی کہ نظریں اسی کی ہو کر رہ گئی تھیں۔

منصور کو جو حسن پسند آیا وہ یہ تھا کہ اس کے سینے پر دو پا۔ اور سر پر آنچل تھا۔

وہ سر پر آنچل سنبھالتے ہوئے پروین اور نورین کے کمرے کی طرف جانے لگی

اوصاف بیگم نے اسے آواز دی۔ ”بھولی ! ادھر آؤ ان سے ملو یہ منصور ہیں۔”

بھولی ان کی طرف درخت کے سائے میں آگئی۔ اوصاف بیگم نے کہا۔ ” منصور !اس کا نام

” بھولی ہے۔ ” منصور نے بے اختیار تعریف کی۔ ان کے چہرے پر ایسا بھولپن ہے

کہ بھولی سے بہتر کوئی نام نہیں ہو سکتا۔”

وہ درخت کے تنے کی آڑ لیتے ہوئے بولی۔ “گھر والے مجھے بھولی کہتے ہیں۔ میرا نام

قمر النساء ہے۔”

نام کچھ ہی ہو آئندہ ملاقات ہوئی تو میں بھولی کہہ کر ہی مخاطب کروں گا۔ “

اوصاف بیگم نے پیار سے گھورتے ہوئے کہا۔ “آئندہ ملاقات کیوں نہ ہوگی؟ تم یہاں روز آؤ گے ، روز ملاقات ہوا کرے گی۔ ہم زندہ دل لوگ ہیں ، آپس میں مل بیٹھ کر اچھا وقت گزارنے کو برا نہیں سمجھتے۔ کیوں بھولی ؟”

ہاں ہے بے آپ بہت اچھی ہیں، آپ نہ ہو تیں تو میں اپنے گھر کی چار دیواری میں گھٹ گھٹ کر مرجاتی۔ ابو بھی آپ کے بڑے احسان مند ہیں۔”

اوصاف بیگم پیار سے ڈانٹ کر بولیں۔ “اچھا بس زیادہ باتیں نہ بناؤ۔ تمہارے ابو نے مجھے بسن بنایا ہے، تم میری بیٹی ہو پھر احسان کسی بات کا؟ جاؤ لڑکیوں کے پاس جاؤ۔”

وہ چلی گئی’ جب تک وہ درخت کے پیچھے سے جھلکتی رہی تھی منصور اسے دیکھتا رہا

تھا۔ اسے جاتے ہوئے بھی دیکھتا رہا۔ جب وہ کمرے کے اندر چلی گئی تو اس نے پوچھا۔

” یہ کہاں رہتی ہے؟”

اوصاف بیگم نے ہاتھ اٹھا کر ایک طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ ”ادھر پڑوس میں رہتی ہے۔ ماں مرگئی ہے باپ بوڑھا ہے کبھی اس کے پاس خوب جیسا تھا، خوب عزت تھی اب بھی عزت دار ہیں مگر ریڑھے پر سبزیاں بیچنے والے کو کون پہلے جیسی عزت دیتا

ہے، باپ بیٹی کا گزارا مشکل سے ہوتا ہے میں کبھی کبھی سو پچاس دے کر مدد کر دیتی ہوں۔

آپ بہت اچھی ہیں کیا میں بھی ان کی مدد کر سکتا ہوں؟”

وہ آہستگی سے بولی۔ “کبھی بھول کر بھی بھولی کے سامنے ایسی ہمدردی نہ جتاتا۔

دونوں باپ بیٹی غیرت مند ہیں۔ وہ تو میں بہن بن کر زبر دستی مدد کر دیتی ہوں، اگر یہ تمہیں اچھی لگتی ہے اور تم دوستی کرنا چاہتے ہو تو یاد رکھو کہ غیرت مند دوستی قبول کر لیتے ہیں مگر ہمدردی قبول نہیں کرتے۔ بھولی کے ضرور کو نہیں پہنچے گی تو وہ تم سے بات بھی نہیں کرے گی۔”

یہ بات منصور کے دل کو لگی کہ غیرت مند دوستی قبول کر لیتے ہیں مگر ہمدردی قبول نہیں کرتے۔ بھولی نے پہلی ہی ملاقات میں اسے بے چین کر دیا تھا۔ اب یہ بے چینی وقت کی طرح آگے بڑھنے والی اور کائنات کی طرح پھیلنے والی تھی۔ اس نے اسی وقت طے کرلیا کہ آئندہ ایسی کوئی بات نہیں کہے گا جس سے بھولی کے غرور کو ٹھیس پہنچے۔

اوصاف بیگم نے پوچھا۔ ”کچھ اپنے بارے میں بتاؤ کہاں رہتے ہو۔ آمدنی کا ایسا کون سا ذریعہ ہے کہ ابھی بھولی کی مدد کرنے کو تیار ہو گئے تھے ؟”

”یہاں آگے نہر کے کنارے ہماری کو بھی ہے۔ ابا ملازمت سے ریٹائر ہو گئے ہیں،

بھائی جان سعودی عرب میں ہیں۔”

“اچھا تو وہاں خوب کماتے ہوں گے ؟”

“جی ہاں اللہ تعالی کا فضل ہے۔”

” تم بھائی کی کمائی لنا تے ہو ؟”

“جی ہاں ہمارے گھر میں سب ہی لٹانے والے ہیں میرے بھائی جان جو دور دیس میں بیٹھے ہیں، اگر ان سے کسی عزت دار گھرانے کی سفید پوشی کے لئے ہزار روپے مانگے جائیں تو دو ہزار بھیجیں گے۔ وہ مجھے سے زیادہ فیاض ہیں۔ میری تعلیم ختم ہو چکی ہے۔ آج میں آخری پرچہ دے کر آرہا ہوں۔ دو ماہ تک مجھے بھی باہر ملازمت مل جائے گی۔ ویسے آپ کے شوہر کیا کرتے ہیں؟”

وہ کھانستے ہیں اور بلغم تھوکتے ہیں کبھی کسی ٹھیکے دار کے ہاں منشی کا کام کر لیتے

ہیں۔ ورنہ گھر میں پڑے رہتے ہیں۔”

پھر گھر کے اخراجات کیسے پورے ہوتے ہیں؟”

“پروین اور نورین بڑے گھروں میں ٹیوشن پڑھانے جاتی ہیں۔ میں تھوڑا بہت سلائی کا کام کرلیتی ہوں۔ عزت آبرو سے گزر ہو رہی ہے کسی کی محتاجی نہیں ہے۔”

آپ لوگوں کا بڑا حوصلہ ہے۔ اچھا اب میں چلوں؟”

” تم بار بار مجھے آپ کہہ کر رہے ہو کیا ہم دوست نہیں ہیں؟”

منصور نے اس کمرے کی طرف دیکھا جہاں بھولی گئی تھی۔ اگر وہ اوصاف بیگم کی دوستی سے انکار کرتا تو آئندہ بھولی سے ملنے کے مواقع نہ ملتے اس نے کہا۔ “میں آپ کی عزت کرتا ہوں، آپ کناری مناسب ہے۔”

“کیا تم سمجھتے ہو کہ میری عمر زیادہ ہے؟”

ہی۔ جی نہیں۔ بالکل نہیں۔ آ۔ آپ تو پروین اور نورین کی بہن لگتی ہیں۔”

وہ خوش ہو گئی، اس کا ہاتھ تھام کر ہوئی۔ تو پھر آپ کیوں؟ تم کیوں نہیں ؟”

اچھا تم کہوں گا مگر شرط یہ ہے کہ نام نہیں لوں گا پاتی کہوں گا۔” وہ کچھ کچھ ہی

گئی۔ منصور اپنا ہاتھ چھڑا کر کھڑا ہو گیا۔ جانے سے پہلے وہ بھولی کی ایک جھلک اور دیکھنا چاہتا تھا مگر وہ لڑکیاں کمرے میں جاکر بیٹھ گئی تھیں۔ پتا نہیں کسی مصروفیت میں ڈوب گئی تھیں۔ منصور نے کل تک کے لئے صبر کیا۔ اوصاف بیگم اسے آنگن کے دروازے تک

چھوڑنے آئی اور اس سے دوسرے دن آنے کا بار بار وعدہ لیا۔ وہ وعدہ کرتا ہوا وہاں سےرخصت ہو گیا۔

اکثر شریفانہ ماحول میں بچے جو ان تو ہو جاتے ہیں لیکن انہیں غیر ضروری جوانی کا احساس نہیں ہوتا۔ کیونکہ وہاں انہیں دینی اور دنیاوی تعلیمات میں مصروف رکھا جاتا ہے۔

منصور کو بھی اپنی جوانی کا احساس خصوصیت سے سے نہیں ہوا تھا لیکن بھولی کو دیکھتے ہی اس کی سوچ کو جوانی کے پر لگ گئے۔ وہ پرواز کرتا ہوا اپنے گھر پہنچا۔ اس کے ابا عصر کی نماز پڑھ رہے تھے۔ ای لیکن میں شام کی چائے تیار کر رہی تھی۔ چائے پینے کا وقت آیا تو وہ والدین کے سامنے جسمانی طور پر حاضر رہا۔ ان سے گفتگو کرتا رہا لیکن دماغی طور سے غائب رہ کر بار بار بھولی کے پاس پہنچتا رہا۔

چائے پینے کے بعد گھر میں دل نہیں لگ رہا تھا۔ کوٹھی کے سامنے سو گز کے فاصلے پر شہر تھی وہ نہر کے کنارے آکر بیٹھ گیا۔ اطمینان سے اس بات کا تجزیہ کرنے لگا کہ وہ اتنی اچھی کیوں لگ رہی ہے؟ اس نے بھولی کی صورت کو تفصیل سے نہیں دیکھا تھا۔ صرف اس کی بڑی بڑی آنکھیں اسے یاد تھیں۔ شاید وہ آنکھوں پر عاشق ہو گیا تھا۔ پھرا سے یاد آیا

کہ دو درخت کی آڑ میں کیسی پیاری اداؤں کے ساتھ نظر آرہی تھی۔ وہ ان اداؤں سے محظوظ ہو سکتا تھا لیکن لفظوں میں ان کی تعریف بیان نہیں کر سکتا تھا۔ شاید ان اداؤں نے اسے جیت لیا تھا یا پھر وہ بول رہی تھی تو اس کی آواز کا ترنم اور لہجے کا دھیما پن دونوں ہی خوبیاں دل پر اثر کر رہی تھیں۔

عجیب بات تھی کہ لوگ پہلے چرے کے حسن پر مرتے ہیں اور اسے بھولی کا چہرہ یاد نہیں تھا اور وہ مر رہا تھا۔ بڑی دیر بعد اپنے گھریلو ماحول کے مطابق اسے یاد آیا کہ اس کی امی برابر اپنے سینے اور سر پر دوپٹہ رکھتی ہیں، بھولی کا یہی مشرقی حسن اسے پسند آیا تھا۔

ارت معمولی ہو مگر آنچل کے سائے میں ہو تو مشرق کا حسن اسے دلکش بنا دیتا ہے۔

رات ہونے لگی۔ وہ نہر کے کنارے سے اٹھ کر کوٹھی کی طرف جانے لگا۔ بھولی بھی اس کے ساتھ چل رہی تھی۔ وہ سوچ کی زبان میں کہہ رہا تھا۔ ” تم تمام عمر اسی طرح میرے ساتھ چلنے کے لئے پیدا ہوئی ہو۔”

ساتھ چلنے والی بھولی کے نورانی پیکر نے کہا۔ ”میں غریب ہوں زیادہ دور تک ساتھ نہیں چل سکوں گی۔”

”ہاں مجھے یاد آیا کہ تم باپ بینی بڑی تنگی ترشی سے گزارہ کر رہے ہو۔ میں وعدہ کرتا

ہوں کہ جب تک تم سے شادی نہیں کروں گا اس وقت تک تمہارے گھر کے اخراجات پورے کرتا رہوں گا۔ شادی کے بعد تم میرے گھر میں راج کرو گی۔”

آپ ایسی باتیں نہ کریں۔ شادی سے پہلے آپ سے ایک پیسے کی مدد حاصل کرنا ہمارے لئے بے غیرتی ہے۔”

لیکن تم میری ہو۔ میں تمہارے لئے کچھ کرنے کا حق رکھتا ہوں۔”

میں نکاح سے پہلے آپ کی کچھ نہیں ہوں، آپ ہمارے اصولوں کو کمزور بتانا چاہتے ہیں اب میں آپ سے نہیں ملوں گی۔”

اچانک منصور کو ٹھوکر لگی۔ وہ کرتے کرتے بچا بھولی غائب ہو چکی تھی، ناراض ہو کر چلی گئی تھی۔ امی نے دروازے پر سے پوچھا۔ ” بیٹے کن خیالوں میں گم ہو۔ ذرا دیکھ کر چلو۔

وہ جھینپ کر مسکرانے لگا۔ “ہی میں آج بہت خوش ہوں لگتا ہے جیسے سارےجہاں کی خوشیاں مل گئی ہیں۔”

میں جانتی ہوں۔ ” انہوں نے ممتا بھری مسکراہٹ سے کہا۔ “آج تمہارے سرسےموٹی موٹی کتابوں کا بوجھ اتر گیا ہے چند ماہ کے بعد تمہیں انجینئر نگ کا ڈپلو مامل جائے گا۔ پھر

تم ملک سے باہر ایک وسیع دنیا میں جاؤ گے۔”

اس کے دل کی وسیع دنیا میں بھولی تھی اور امی وہاں جھانک کر اسے نہیں دیکھ سکتی تھیں۔ وہ مسکراتے ہوئے بولا۔ ”ہاں امی! میں آج رات بھائی جان کو خط لکھوں گا کہ اب وہ مجھے اپنے پاس بلالیں مجھے بھی اپنی ذمے داریاں سنبھالنے کے لئے کچھ کمانا چاہیئے۔”

وہ لان میں ایک کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولیں۔ بیٹی کو رخصت کرنے کے بعد میں نے سوچا تھا کہ اب بیٹے ہیں اور ہمیشہ میرے پاس رہیں گے۔ میں نیک سیرت بہوئیں لاؤں گی

مگر تم بھی اپنے بھائی جان کی طرح مجھ سے دور جانے کی خوشی میں مگن ہو۔”

منصور ایک دم سے سنجیدہ ہو کر ماں کے سامنے گھاس پر دو زانو ہو گیا۔ “امی! میں آپ سے دور جاکر کبھی خوش نہیں رہ سکتا۔ یہ تو حالات کا تقاضا ہے سبھی زیادہ آمدنی کےلئے ملک سے باہر جاتے ہیں۔”

ہاں پہلے والدین بیٹیوں کو ڈولی میں بٹھا کر رخصت کرتے تھے ، اب جوان بیٹوں کو پال پوس کر دور دیس کی طرف روانہ کر دیتے ہیں اور اپنا بڑھاپا ویران کو ٹھیوں میں گزارتے ہیں۔ کوٹھی کار ریڈیو ٹی وی یہ سب کچھ رکھ کر ہم بوڑھے کیا کریں گے ؟ ہم تو صرف اپنی اولاد کو آنکھوں کے سامنے دیکھنا چاہتے ہیں جمیل کو ہم سمجھاتے سمجھاتے تھک گئے لیکن وہ باہر کمانے پر تلا ہوا ہے۔ برس دو برس میں اپنی صورت دکھا دیتا ہے۔

بیٹے ! تمہیں تو ہمارے پاس رہنا چاہئے؟”

وہ ماں کو تک رہا تھا۔ ممتا کانور اس کی آنکھوں اور دل میں اتر رہا تھا۔ اس نے کئی بار کہا تھا۔ “ای! میں آپ کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گا۔ ” لیکن آج بھولی کو دیکھ کر زیادہ سے زیادہ دولت حاصل کرنے کی خواہش پیدا ہوئی تھی۔ جمیل بھائی جان بھی اکثر لکھ بھیجتےتھے کہ اسے ملک سے باہر نکل کر اپنی صلاحیتوں کو آزمانا چاہئے اس کے ابو ہر حال میں مطمئن رہنے کے عادی تھے، بیٹے کہیں بھی رہیں، اچھے صحت مند اور سلامت رہیں لیکن

امی کی ممتا نہیں مانتی تھی۔ تمام اولاد کو آنکھوں کے سامنے سمیٹ کر رکھنا چاہتی تھیں۔

اس نے اس دم فیصلہ کرتے ہوئے کہا۔ “امی! میں آپ کو چھوڑ کر نہیں جاؤں گا۔

ای خوش ہو کر اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے لگیں۔ رات کو بستر پر کروٹیں بدلتے وقت یہ خیال ستاتا رہا کہ بھولی کی خاطر اسے اپنی جیب میں کچھ نہ کچھ رقم رکھنا چاہئے۔ پتے نہیں محبوبہ کس وقت اس کا سہارا لینے کے لئے راضی ہو جائے۔ وہ اپنی امی سے کسی وقت بھی اچھی خاصی رقم لے سکتا تھا مگر کب تک؟ بھولی کے لئے تو اسے خود ہی کچھ کرتے رہنا

تھا۔ اس لئے اب زیادہ سے زیادہ کمانے کی فکر پڑ گئی تھی اور آج کل زیادہ کمائی ملک سےباہر ہو رہی تھی۔

پتہ نہیں کتنی رات بیت گئی’ تب اسے خیال آیا کہ وہ جاگ رہا ہے اور وہ نیند اڑانے کا سحر پھونکتی جارہی ہے اسے اپنی حماقت کا احساس ہوا کہ وہ یک طرفہ محبت کی آگ میں سلگتا جارہا ہے۔ وہ تو گری نیند سو رہی ہوگی۔ وہ اس کے خیال میں ہو گا نہ خواب میں اور وہ خواہ مخواہ ابھی سے رات کی نیند حرام کر کے خیالی رومانس میں جتلا ہو گیا

ہے۔ اس نے سونے کی کوشش کی، معلوم نہیں کتنی دیر بعد بڑی مشکلوں سے نیند آئی۔

دسرے دن تقریباً دس بجے وہ گھر سے نکلا۔ اوصاف بیگم کی طرف جاتے ہوئے وہ ہچکچا رہا تھا کیونکہ اس عورت سے کوئی رشتہ نہیں تھا۔ اس کے دروازے پر جانے کا کوئی معقول جواز نہیں تھا۔ بس اتنی سی بات تھی کہ اوصاف بیگم نے بار بار آنے کے لئے کہا

تھا لیکن اس گھر کے مرد نے وہاں قدم رکھنے کی دعوت نہیں دی تھی۔ حماقت یہ ہوئی تھی

کہ منصور نے اس گھر کے مرد سے ملاقات ہی نہیں کی تھی۔ اپنی آنکھوں میں بھولی کی آنکھیں بسا کر چلا آیا تھا۔

وہ میونسپائی کے پگھٹ کے قریب پہنچنے لگا۔ نلکے سے ذرا دور آنگن میں کھلنے والا

دروازہ بند تھا۔ منصور یہ سوچتا ہوا وہاں سے گزرتا چلا گیا کہ دروازے پر دستک کیسے دے؟ اور وہاں کسی بہانے سے جائے؟

آگے جانے کے بعد وہ پلٹ گیا کیونکہ دروازہ بہت پیچھے رہ گیا تھا کوئی بھی شریف آدمی بے مقصد کسی غیر کے دروازے پر نہیں جاتا۔ جانے کے لئے کوئی تو بات ہوئی چاہئے۔ اگر اوصاف بیگم نے دروازہ کھولتے ہی پو چھا۔ “آؤ کہو کیسے آنا ہوا؟” تو وہ کیا جواب دے گا۔

وہ چلتے چلتے ٹھٹک گیا کیونکہ دروازہ پھر پیچھے رہ گیا تھا اور وہ بہت آگے بڑھ گیا تھا۔

اس کے دل میں یہ بات تھی کہ اس گھر کی کوئی رہنے والی اسے وہاں سے گزرتے دیکھے اور خود ہی اسے آواز دے کر بلا لے۔ ایسا تو کبھی نہیں ہوا کہ کنواں خود پیاسے کو بلاتا ہو۔

البتہ پیاس بلاتی ہے اور یہ پتہ نہیں تھا کہ بھولی بھی پیاسی ہے یا نہیں؟

اچانک وہ لاٹری کی طرح تقدیر کے دروازے سے نکل آئی۔ اوصاف بیگم کے پڑوس کا دروازہ کھلا تھا۔ وہ سر پر آنچل سنبھالتے ہوئے اور منصور پر ایک نظر ڈالتے ہوئے

اوصاف بیگم کے دروازے تک گئی۔ پھر سر گھما کر اسے دیکھنے لگی۔ اس کی آنکھوں میں سوال تھا جیسے پوچھ رہی ہو۔ “آپ میرے دروازے کے سامنے کیوں نسل رہے ہیں؟”

و دروازہ کھول کر اندر گئی۔ آنگن میں قدم رکھتے ہی پھر بولتی نظروں سے دیکھا۔

دو”آبھی جد و اب تو میں نے دروازہ کھول دیا ہے۔”

عجب خاموشی تھی کہ گونگی آنکھیں بول رہی تھیں۔ وہ اندر چلی گئی۔ نظروں سے

اوجھل ہو گئی۔ وہ آگے بڑھا اسے دیکھ لینے کے بعد واپس جانا مشکل تھا۔ ایسے ہی وقت پتہ چلتا ہے کہ محبت مقناطیس کی طرح کیسے کھینچ لیتی ہے۔ وہ دروازے پر پہنچا تو اوصاف بیگم کمرے سے نکل کر آرہی تھی اسے دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولی۔ ” بھولی نے بتایا کہ تم

آئے ہو ” آجاؤ یہ تمہارا ہی گھر ہے۔”

باورچی خانے کی آدھی دیوار کے اس پار بھولی چولھے کے پاس بیٹھی بڑی سی کڑاہی

میں پیج پھیلا رہی تھی، وہیں سے بولی۔ “بے ہے میں اپنے کمرے کی کھڑکی سے دیکھ رہی

تھی یہ صاحب بڑی دیر سے ہمارے گھر کے سامنے مل رہے تھے، میں یہاں دروازہ کھول

کر نہ آتی تو شاید یہ اب بھی نہ آتے۔”

وہ جھینپ کر بولا۔ ”میں دیکھنا چاہتا تھا کہ یہ دروازہ آپ ہی آپ میرے لئے کھلتا ہے یا نہیں۔”

یا

اوصاف بیگم نے حیرانی سے پوچھا۔ “دروازہ آپ ہی آپ بھلا کیسے کھل سکتا ہے؟”

باسی! ایک جذبہ ہوتا ہے جو محبت کی کھڑکی سے جھانکتا ہے اور دوسرے بے قرار جذبے کو دیکھ کر دروازہ کھول دیتا ہے۔”

ہوں۔” اوصاف بیگم نے مسکرا کر سر ہلاتے ہوئے بھولی کی طرف دیکھ کر کہا۔

“اچھا اس میں سمجھ گئی۔”

“؟” وہ ایک دم شرما کر بولی۔ “پتہ نہیں بے ہے! یہ کیسی باتیں کر رہے ہیں۔

میں نے تو آپ کا مہمان سمجھ کر۔

بیوی مجھ سے باتیں نہ بناؤ۔ تم نے دروازہ کھول کر گناہ نہیں کیا ہے دروازے

اپنوں کے لئے کھولے جاتے ہیں۔ آؤ منصور”

بھونسا منہ پھیر کر پھر پیچ چلانے میں مصروف ہو گئی۔ منصور اوصاف بیگم کے ساتھ آنگن سے گزرتا ہوا پر وین اور نورین کے کمرے میں پہنچا۔ وہاں تین نوجوان لڑکے نورین کے ساتھ کیرم کھیل رہے تھے۔ پروین ایک نوجوان سے لگی بیٹھی تھی اور کھیل کے دوران نوجوان کی حمایت میں کچھ نہ کچھ بول رہی تھی۔ اوصاف بیگم نے کہا۔ “کھیل ڈرا

روک دو پہلے منصور سے تعارف ہو جائے۔ “

کھیل روک دیا گیا۔ سب لڑکے کھڑے ہو گئے۔ اوصاف بیگم نے کہا۔ ”یہ منصور ہیں ، دولتمند گھرانے سے تعلق ہے ان کے بھائی سعودی عرب میں خوب کما رہے ہیں۔”

منصور کہنا چاہتا تھا کہ وہ دولتمند نہیں بلکہ ایک اعلیٰ خاندان سے تعلق رکھتا ہے

لیکن پھر یہ سوچ کر چپ رہا کہ آج کل ہمارے ملک کی ہر چھوٹی بڑی سوسائٹی میں اسی حوالے سے تعریف اور عزت ہوتی ہے کہ بھائی اور باپ غیر ملک میں کماتے ہیں لنڈا گھر بنا

دولتمند ہے بحیثیت پاکستانی ہماری کوئی تعریف نہیں ہے۔

اوصاف بیگم نے دوسرے جوانوں سے تعارف کرایا۔ یہ اعظم ہے۔ اس کے ڈیڈی قالین کا کاروبار کرتے ہیں۔ ان کے قالین ہر ملک میں بھیجے جاتے ہیں۔ یہ جاوید ہے۔ اس کے والد ریکروٹنگ ایجنٹ ہیں۔ لوگوں کو دبختی، بحرین، مسقط اور سعودی عرب وغیرہ بھیجتے

 

5 1 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments
error: Content is protected !!
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x