مکمل ناول
گلی میں ڈگڈگی بج رہی تھی ۔ بچوں نے شور مچایا۔ ریچھ نچانے والا آیا‘
یہ سنتے ہی پور، گڈورا جو اور رانی دروازے کی طرف لپکے کہاں جارہی ہو رانی دادی اماں کی آواز آئی۔
دادی جان گلی میں ریچھ والا آیا ہے رانی نے اچھلتے ہوئے کہا۔
باہر مت جاؤ تم نے لال فراک پہن رکھی ہے“
میں باہر کیوں نہ جاؤں؟ رانی نے ضد کی۔
ریچھ لڑکیوں کو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔ خاص طور پر جنہوں نے سرخ رنگ کے کپڑے ہیں۔ کھر ہوں
رانی یہ سن کر ڈرگئی اور اس کے قدم آپ ہی آپ رک گئے ۔
وہ دادی جان کے پاس جا کر ان کے بستر میں ہی بیٹھ گئی۔
دادی جان پھر کیا ہوتا ہے؟“
ریچھ لڑکی کو اپنے گھر لے جاتا ہے اور اس کے تلوے چاٹنے لگتا ہے یہاں
تک کہ اس کے پاؤں پتلے ہو جاتے ہیں اور پھر وہ چل پھر نہیں سکتی
پھر وہ لڑکی اپنے گھر واپس نہیں آتی ؟”
نہیں کبھی نہیں ۔ وہ ہمیشہ کیلئے ریچھ کے گھر میں رہتی ہے۔ اپنوں سے بچھڑ جاتی ہے۔ اسے اس ریچھ کی عادت ہو جاتی ہے“
دادی اماں وہ کھانا کہاں سے کھاتی ہے؟“
“ریچھ ہی اس کے لئے کھانے کا انتظام کرتا ہے“
دادی جان ریچھ تو جانور ہے۔ لڑکی کو کاٹتا نہیں؟“
بیٹی جنگلی جانور کا کیا بھروسہ؟ غصہ آنے پر کاٹ بھی سکتا ہے اور مار بھی سکتا ہے یہ سن کر رانی اور بھی سہم گئی اور دادی جان کے آنچل میں چھپ کر بیٹھ گئی۔
گلی میں ڈگڈگی بجتی رہی۔ بڑا سا بھالوڈ گڈگی کی تال پر جھومتا رہا۔ ناچتا رہا۔
بچے تالیاں بجاتے رہے۔ مگر رانی دادی جان کی آغوش میں چھپی رہی۔
اس کے بعد جب کبھی گلی میں ریچھ نچانے والا آ تا محلے کے سب بچے اس کے گرد جمع ہو جاتے مگر رانی اپنے گھر کے کسی کونے میں دیکی رہتی کہ کہیں وہ ریچھ اسے نہ
لے جائے۔ اپنوں سے دور نہ کر دے … اور اس کے تلوے چاٹ کر اسے چلنے پھرنے سے معذور نہ بنادے …. دن گزرتے رہے۔ رانی میٹرک پاس کر کے کالج
میں داخل ہو گئی۔ دادی جان نے ضعیفی کی وجہ سے قصے کہانیاں سنانا چھوڑ دیا۔ پو، گڈو بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے چلے گئے ۔ راجو نے آرمی جوائن کر لی اور سب بھائیوں
کی لاڈلی رانی گھر میں اکیلی رہ گئی۔ وہ اماں ابا اور دادا جان کی آنکھوں کا تاراتھی۔ وہ اسے دیکھ کر جیتے تھے۔ رانی نے دنوں میں ایسا قد کاٹھ نکالا کہ دیکھنے والے دنگ رہ جاتے ۔ اس کی سنہری رنگت میں گلاب جھلکنے لگے اور شانوں پر لہراتے بالوں کا رنگ گہرا ہو گیا۔ کاجل بھری آنکھوں میں لال ڈورے آپ ہی آپ نجانے کہاں سے آگئے کہ اس سے نظر ملانے کی کسی میں تاب نہ رہی۔ اس کے روپ کی خوشبو شہر بھر میں پھیل گئی اور دھڑا دھڑ رشتے آنے لگے۔ پہلے تو اماں، ابا نے تنہا رہ جانے کے خوف سے ہر رشتے کو انکار کیا۔ ” کہ رانی ابھی بچی ہے اس کی عمر ہی کیا ہے؟“ مگر جب وہ بی اے کے آخری سال میں پہنچی تو شیراز کے گھر والوں کی ضد کے سامنے انہیں جھکنا ہی پڑا۔
شیراز کے گھر والوں کا کہنا تھا کہ اس نے جب سے رانی کو دیکھا ہے بس یہی رٹ لگا رکھی ہے کہ شادی کروں گا تو رانی سے دور نہ عمر بھر یو نہی کنوارہ رہوں گا۔ شیراز
شہر کے بہت بڑے ہوٹل کا مالک تھا۔ ماں باپ کا اکلوتا اور لاڈلا۔ اس کی ہر ضد پوری کرنا اور اس کی پسند کا ہر کھلونا خرید کر دینا اس کے ماں باپ نے بچپن سے ہی اپنا فرض
سمجھا تھا۔ لہذا وہ اپنے لاڈلے بیٹے کی یہ ضد کیونکر پوری نہ کرتے۔
شیر از اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ حسن و جمال اور مردانہ وجاہت میں بھی یکتا تھا لہذا رانی بھی اس کی ایک جھلک دیکھ کر اسے اپنا سمجھ بیٹھی ۔ اس کی سکھیاں
اسے چھیڑتیں۔ ”رانی تم بہت خوش قسمت ہو جسے اس قدر چاہنے والا شوہر مل رہا ہے۔
بی اے کے امتحان ختم ہوتے ہی شادی کا دن مقرر کر دیا گیا اور آخر وہ دن آہی گیا۔ جب لال جوڑا پہنا کر اماں ابا اور بھائیوں نے اپنی نازک سی پھولوں کی طرح
پروان چڑھنے والی رانی کو آنسووں، آہوں اور دعاؤں کے ساتھ رخصت کر دیا۔
ماں باپ کی جدائی، زیورات کا بوجھ اور لوگوں کے ہجوم سے گھبرائی ہوئی رانی نڈھال ہو رہی تھی، آدھی رات کو اسے اس کے کمرے میں پہنچا دیا گیا۔ شیراز اس کے
پاس بیٹھ کر پیار بھری نظروں سے اسے دیکھتا رہا۔ کچھ کہتا رہا۔ مگر اس کی سمجھ میں کچھ نہ آرہا تھا۔ اچانک بھی بجھ گئی اور پھر اسے یوں محسوس ہوا جیسے ایک بڑا سار کچھ اس کے
بستر پر آ گیا ہے۔ جو اسکے پاؤں تلوے، ٹانگیں ، گردن اور نا جانے کہاں کہاں چاٹ رہا ہے۔ کبھی کبھی اس کے دانت اور پنجے اس کے نرم گوشت میں پیوست ہو جاتے اور
وہ درد کی شدت سے بلبلا اٹھتی۔ اسے یاد آیا کہ دادی اماں سچ ہی کہتی تھیں لال کپڑے پہننے والی لڑکیوں کو ریچھ اٹھا کر لے جاتے ہیں۔ صبح ہونے تک وہ اس قدر نڈھال ہو
چکی تھی اور نقاہت محسوس کر رہی تھی کہ اس سے اٹھنا مشکل ہور ہا تھا۔ اسے جگانے کیلئے آنے والی عورتیں اس کی حالت پر ہنس رہی تھیں۔
رانی نے گھبرا کر اپنے پاؤں دیکھے۔ وہ بالکل ٹھیک حالت میں تھے۔ ابھی پتلے نہیں ہوئے تھے۔ گویا ان میں ابھی چلنے کی طاقت باقی تھی۔ یہ دیکھ کر اس کی تھوڑی
ہمت بڑھی اور وہ اٹھ کر کھڑی ہو گئی۔ کچھ دن تک لوگوں کا ہجوم برقرار رہا۔ وہ دن بھر نندوں اور ساس کی لاڈلی بنی رہتی۔ ان کے مشوروں سے کپڑے بدلتی سنگھار کرتی اور
رات ہونے کا انتظار کرتی کیونکہ اسے اس ریچھ کی عادت ہوتی جارہی تھی۔ جو بتی سمجھتےہی اس کے کمرے میں آجاتا تھا۔
آہستہ آہستہ لوگ اپنے گھروں کو چلے گئے ۔ ساس نندوں کے چہروں سے بیوٹی کلینک کا میک اپ اترا تو ان کے اصلی چہرے سامنے آنے لگے۔ ایک دن تو وہ
سب کو دیکھ کر حیران رہ گئی۔ اس کے گھر میں صفیہ، رضیہ، ذکیہ، ثریا، شاہدہ زاہدہ کی بجائے چند مکارلومڑیاں پھر رہی تھی۔ اس نے گھبرا کر اپنی ساس کی طرف دیکھا اس کا
چہرہ کسی خونخوار بھیڑیے جیسا ہو رہا تھا۔ جس کے جبڑے کھلے ہوئے تھے اور دانتوں سے کسی جاندار کا تازہ لہو ٹپک رہا تھا۔ وہ خوفزدہ ہو کر اپنے سر کے کمرے کی طرف
پر ایک پڑھ رہا تھا۔ یا اللہیہ کیا ہوا؟“
یہ کیسا گھر ہے؟ یہاں کے لوگ کیسے ہیں؟ اس
کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ وہ
بھاگی مکروی پور عینک لگا پریشان ہو کر اپنے کمرے میں آگئی ۔ جہاں شیراز نے اسے اپنی بانہوں میں جکڑ لیا۔”
یہ سب کیا ہے شیراز؟‘ رانی نے روتے ہوئے کہا۔
کوئی بات نہیں۔ میں جو تمہارا ہوں۔ میری خاطر بس میری خاطر تمہیں یہ سب برداشت کرنا ہوگا
مگر شیراز میں تو گھر میں رہنا چاہتی ہوں۔ یہ تو جنگل ہے۔ جہاں ہر طرف جانور ہی جانور ہیں۔ انسان ایک بھی نہیں میں زندہ کیسے رہوں
تم میرے لئے زندہ رہوگی میری محبت کیلئے … اس لئے تم مجھے چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤ گی یہ کہہ کر شیراز نے اس کے پاؤں چاٹنے شروع کر دیئے اور رانی
نے نڈھال ہو کہ انار حورا اسکے سپر د کر دیا۔
شیراز کے پیار سے بے بس ہو کر اس نے اس جنگل نما گھر میں رہنا قبول کر لیا۔
دن بھر اسے مکار لومڑیوں ، خونخوار بھیڑیوں اور گیدڑروں کی منحوس اور خوفناک شکلیں اور آواز میں برداشت کرنا پڑتیں۔ رات ہوتے ہی اسے شیراز کا سہارا مل جاتا اور وہ
دن بھر کی اذیتوں کو بھول جاتی۔
روہن اور موہن کے پیدا ہونے تک شیراز کی اس میں دلچسپی برقرار ہی۔ پھر اسکے معمولات میں فرق آنا شروع ہو گیا۔ اس نے دن کے ساتھ ساتھ رات کو بھی گھر
سے باہر رہنا شروع کر دیا۔ پہلے پہلے تو رانی نے دبے لفظوں میں شکایت کی مگر جب گھر پر عورتوں کے ٹیلی فون آنا شروع ہوئے تو اس نے چیخ کر احتجاج کرنا چاہا۔ یہ
سب کیا ہے شیراز؟ تم رات بھر گھر سے باہر رہتے ہو۔ پھر یہ عورتیں کون ہیں؟“
یہ سنتے ہی شیراز کی شکل بدل گئی۔ اس کے چہرے کے خدو خال تبدیل ہو گئے
اور وہ غصے سے پھنکارتا ہوا رانی کی طرف جھپٹا دوسرے لمحے رانی فرش پر پڑی چیخ رہی تھی اور شیراز لاتوں اور گھونسوں سے اسے پیٹ رہا تھا۔ اچانک شیراز نے پاس پڑا ہوا
بیٹ اٹھایا اور رانی پر پے در پے وار شروع کر دیے۔ محلے والے اکٹھے ہوئے مگر کوئی بھی رانی کو اس سے نہیں چھر دار ہا تھا۔ اس کی چھینیں فرش سے عرش تک
پہنچ رہی تھیں مگر اسے بچانے والا کوئی نہ تھا۔ بس دور کہیں دادی اماں کہہ رہی تھیں۔
دو بیٹی جنگلی جانور کا کیا بھروسہ کب غصہ آ جائے؟ پھر وہ کاٹ بھی سکتا ہے اور مار بھی سکتا ہے”
