اعتبار

رومنیٹک ، ایکشن، سنسنی خیز

ازقلم-میم عین

مکمل ناول

views
0
میم عین

مکمل ناول

“آپ کی بیٹی ماں بننے والی ہے !”

الفاظ تھے یا گویا پگھلا ہوا سیسہ جو شگفتہ بیگم کے کانوں میں انڈیلا گیا تھا۔ یہ الفاظ سنتے وہ حق دق بیٹھی رہ گئیں اور جس کے متعلق یہ الفاظ کہے گئے ہیں تھے اس کی حالت یہ جملہ سن کر ایسی ہو گئی تھی جیسے جسم سے خون کی ایک ایک بوند نچوڑ لی گئی ہو۔

“کیا کہا آپ نے ڈاکٹرنی صاحبہ ذرا پھر سے کہئے گا۔”

ان کو یہ سب اپنے کانوں کا دھوکہ لگ رہا تھا۔

“جی آپ کی بیٹی  ون منتھ  پریگننٹ ہیں۔”

شگفتہ بیگم کے دل نے شدت سے یہ خواہش کی تھی کہ کاش ان کی سماعت چھین لی جاتی اور وہ محروم رہتیں اس بدنامی کے اعلان سے۔انھوں نے نیلی پڑتی خوش بخت کو بازو سے  پکڑا اور اپنے ساتھ کھینچتی کلینک سے نکل گئیں۔

گھر پہنچ کر باہر کا دروازہ بند کیا اور اسے صحن میں ہی پیٹنا  شروع کر دیا۔ ” بد بخت یہ کیا کر دیا تو نے ارے تو مر کیوں نہ گئی یہ سب کرنے سے پہلے بلکہ میں کیوں نہ مر گئی یہ دن دیکھنے  سے پہلے۔ ہاے برباد ہو  گئے ہم۔ کیا منہ دکھاؤں گی میں تیرے باپ اور بھائی کو۔ اللّه کرے تو شام ہونے سے پہلے ہی مر جاۓ خوش بخت۔”

اسے پیٹ پیٹ اور کوس کر وہ خود بھی وہیں زمین پر  بیٹھ کر رونے لگیں۔ خوش بخت نے اپنا نیلو نیل چہرہ رگڑ کر صاف کیا اور کمرے میں جا کر کنڈی لگا لی جب کہ اس کی بےبس ماں صحن میں فرش پر ننگے سر بیٹھی خوش بخت کو اور ساتھ خود کو بھی کوس رہی تھی۔

“ہاہاہا  اماں  بہت مذاق کرتی ہیں آپ بھی ہاہاہا اف دیکھیں ہنس ہنس کر میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔”

وہ قہقہہ لگا کر ہنستی پاگل ہو رہی تھی۔ اسے یوں هنستا دیکھ کر کر وہ منہ میں آیت لکرسی اس پر پھونک گئیں۔

 “کمبخت کو میری نظر ہی نہ لگ جاۓ!”

وہ اپنی نظریں اس پر سے ہٹا گئیں۔ میدے جیسی رنگت بھرے بھرے اناری ہونٹ  ہنسنے کی وجہ سے گالوں پر چھای لالی اور سنہری آنکھوں میں آئ نمی  کے ساتھ وہ اس قدر دلکش لگ رہی تھی کہ اس کی ماں نے اس سے نظریں چرالی تھیں۔

“باولی ہو گئی ہے کیا؟ میں نے ایسا کونسا لطیفہ سنا دیا مهارانی کو جو ہنسی  رکنے کا نام نہیں لے رہی۔” وہ کمر پر ہاتھ رکھتی سخت نظروں سے اسے دیکھتی بولیں تو اس کی پھر سے ہنسی چھوٹ گئی۔

 

“آپ نے سوچ بھی کیسے لیا اماں کہ میں اس كنگلے فقیر سے شادی کروں گی۔ہے کی کیا اس کے پاس۔ بس شکل ہی تھوڑی اچھی ہے۔ اب میں اس معمولی سا اسٹور چلانے والے سے شادی کروں گی۔ اس صدی کا سب سے بڑا جوک مارا یہ آپ نے۔”

وہ ناک سے مکھی جهلا گئی۔

“ارے لاکھوں میں ایک ہے میرا بچا۔ اور کوئی چھوٹا سٹور بھی نہیں اچھا خاصا بڑا ہے اور اچھا کھاتا کماتا  ہے ۔” وہ تو تپ ہی اٹھی تھیں اپنے لاڈلے کی شان میں گستاخی پر۔

“اپنا وہ پیارا بچا اپنے پاس ہی رکھو مجھے نہیں چاہیے۔  میرے لئے تو کوئی امیر شہزادہ ہے گا دیکھ لینا آپ۔”

وہ کہتی اپنے شہزادے کے خیالوں میں گم ہونے کو تھی جب پیچھے سے اماں کا جهانپر رسید ہوا۔

” ہاں بیبی ایک تم ہی تو رہ گئی ہو کسی شہزادے کے لئے۔”

ان کے تڑخ کر کہنے پر وہ گسے سے منہ بناتی دهپ دهپ کرتی سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آ گئی۔

وہ اس بات کو ہوا میں اڑاتی  چھت پر ٹہلنے لگی۔ وہ ٹہلتی ہوئی چھت کے منڈیر تک آ گئی اور نظر  آس پاس دوڑانے لگی  جب اس کی نظر سامنے والے گھر کے دروازے سے اندر داخل ہونے والے وجود پر پڑی۔ وہ تیزی سے مڑتی نیچے کی طرف بڑھ گئی۔

“کہاں جا رہی ہو اب اس وقت؟”

اس کی ماں نے اسے تیزی سے باہر بڑھتا دیکھ کر پوچھا۔

” بس ابھی آئ اماں یہاں ہے ہوں۔”

وہ بغیر رکے جواب دیتی باہر جا کر کھٹاک سے دروازہ بند کر گئی۔

وہ سرخ رنگ کا جوڑا پہنے اور کالا دوپٹہ گلے میں ڈالے  تیار کھڑی تھی۔ کانوں میں چھوٹے چھوٹے آویزے پہن رکھے تھے۔ آنکھوں میں کاجل کی دھار، گالوں پہ ہلکی سی سرخی اور ہونٹوں پر گلابی رنگ لگاے وہ شیشے میں اپنا جائزہ لے رہی تھی جب موبائل سے میسج کی رنگ سنائی دی۔ اس نے لپك کر موبائل پکڑا تو احسن کا میسج تھا ۔ وہ اس سے باہر آنے کا کہہ رہا تھا۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ چھا گئی۔ اس نے موبائل پکڑ کر بیگ میں ڈالا اور بیگ کندھے پر لٹکا کر آخری نظر شیشے میں نظر آتے اپنے وجود پر ڈال کر کمرے سے باہر نکل آئ۔

“کہاں جا رہی ہو ایسے تیار ہو کر؟”

ماں نے اسے تیار دیکھتے سوال کیا۔

“جنت کی طرف جا رہی ہوں شام سے پہلے ہی آ جاؤں گی۔”

 

وہ ان کے سوال کا جواب دیتی ان کے گلے لگ گئی۔ ” اوکے جاؤ پر جلدی آ جانا۔ دعا پڑھ کے پھر گھر سے نکلنا۔”

ان کے کہنے پر وہ سر ہلاتی خوشی خوشی باہر کی جانب طرف بڑھ گئی۔

اس کی ماں نے اعتبار کیا تھا اس پر اور اعتبار کے بعد ہی تو شروع ہوتی ہے بے اعتباری اور بربادی کی داستان!

اس نے کمرے میں آ کر دروازے کو کنڈی لگائی اور كانپتے ہاتھوں سے موبائل پکڑا۔ اس کی نازک انگلیاں اس وقت ایک نمبر ملانے میں مصروف تھیں۔ اس نے نمبر ملا کر موبائل  کان سے لگایا ۔ اس کے مطلوبہ نمبر پر مسلسل بیل جا رہی تھی پر کوئی کال اٹھا نہیں رہا تھا۔ وہ بار بار وہی نمبر ڈائل کر رہی تھی۔ آخر کار چھٹی بیل پر کال اٹھا لی گئی تھی۔

“ہیلو!”

 مقابل کی آواز سنتے اس نے ایک پر سکون سانس فضا میں خارج کی۔

“ہی۔۔ہیلو تم اس وقت کہاں ہو  پلیز میرے گھر آ کر مجھے لے جاؤ  ابھی کے ابھی۔”

وہ آنسو  صاف کرتی مضبوط لہجے میں بولی۔  اس کی بات سن کر مقابل کے تو سر پہ لگی اور تلووں پہ  بجهی ۔

“کیوں؟”

مقابل کے لہجے سے فقط بے زاری چھلک رہی تھی جسے وہ فلحال محسوس نہیں کر پائی تھی۔

“کیوں کہ۔۔۔آئ ایم پریگننٹ ! میں تمہارے بچے کی ماں بننے والی ہوں۔”

وہ روتی ہوئی اگلے وجود پر بجلی گرا چکی تھی۔

“وہاٹ؟  آر یو میڈ؟ کون سا بچہ اور کس کا بچہ ۔ میں نہیں جانتا کہ کس کا بچہ ہے یہ ۔ میرا اس بچے سے کوئی تعلق نہیں۔”

وہ چیخ کر بولتا اس پر بم گرا چکا تھا۔

“تم پاگل ہو گیے ہو ۔تمہارا بچہ ہے یہ تم کیسے مکر سکتے ہو  میں تمھارے علاوہ کسی سے نہیں ملی آج تک۔”

وہ چیخ کر بولی۔

“ہاہاہا مجھے کیا پتا ہو کہ کس سے ملتی رہی ہو کس سے نہیں۔ جو لڑکی اپنے ماں باپ کو دھوکہ دے کر مجھ سے ملنے تن تنہا میرے فلیٹ پر آ سکتی ہے اور میری پیار بھری باتوں میں آ کر اپنی عزت قربان کر سکتی ہے تو وہ پھر کسی اور کے ساتھ تنہائی بھرے لمحات کس طرح نہیں بسر کر سکتی ۔ میں نہ تمہیں جانتا ہوں نہ تمھارے کسی بچے کو  اور خبردار مجھے کبھی کال کی اگر۔میں کیسے تمہیں اپنا سکتا ہوں۔ جو  لڑکی اپنے ماں باپ کی سگی نہیں ہوئی  وہ میری وفادار کیسے ہو سکتی ہیں۔ تمہیں تو ویسے بھی بس پیسے سے پیار ہے نہ تو ایسا کرو یہ بچہ ختم کروا کر پھر سے کسی امیرزادے کو پھانس لو ۔ خدا حافظ !”

وہ اپنے الفاظ کا تمانچا اس کے منہ پر مار کر کال بند کر گیا جب کہ وہ وہیں ساکت بیٹھی رہ گئی۔ موبائل ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے گر چکا تھا ۔

آہ! تو یہ تھی اس کی حقیقت! جان نچھاور کرنے والے ماں باپ اور لاڈ اٹھانے والے بھائی کی آنکھوں میں دھول جھونک کر جس انسان کی محبت میں اپنا سب کچھ وار ڈالا وہ انسان ایک سیکنڈ میں اس کو عرش سے فرش پر پٹخ کر اس کو اس کی اوقات بتا گیا تھا۔

۔ اتنے میں دروازہ دھڑدھڑایا جانے لگا تو اس نے بے جان ہوتی ٹانگوں سے اٹھ کر دروازہ کھولا۔ سامنے چہرے پر سپاٹ تاثرات  سجائے اس کی ماں کھڑی تھی۔ انہوں نے اسے بازو سے پکڑ کر سائیڈ پر کیا اور اندر آ گئیں۔

“فون ملاؤ اس کتے کو!”

لہجہ ہر تاثر سے پاک تھا۔

“کس کو؟”

وہ ناسمجهی سے پوچھنے لگی۔

“اس کو ہی جس کے ساتھ مل کر ہماری عزت کی دھجياں اڑایں۔”

ان کے کہنے پر وہ سر مزید جھکا گئی۔

“کیا تھا فون اور بتا بھی دیا پر وہ کہتا ہے کہ یہ نہ ہتو اس کا بچہ ہے اور نہ ہی وہ اس کے متعلق کچھ جانتا ہے۔”

اب کے اس کے اپنے تاثرات بھی سپاٹ تھے۔

وہ دونوں دھڑ سے کچھ گرنے کی آواز پر پلٹی تھیں جہاں اس بد بخت بیٹی کا باپ سینے پر ہاتھ رکھے نیچے گر کر ہوش و حواس سے بیگانہ ہو چکا تھا۔

وہ دونوں ان کی طرف لپکیں۔

“ابو!”

اس کے تڑپ کر کہنے پر اس کی ماں نے ایک اور تھپڑ مارا تھا اس کی منہ پہ۔

“خبردار منحوس لڑکی اگر اپنی اس ناپاک زبان سے میرے شوہر کو پکارا بھی تو۔ پہنچا دیا نہ باپ کو موت کے منہ میں۔ ارے دعا کر  بدبخت کہ تیرا باپ  زندہ نہ بچ پائے ورنہ یہ دنیا تیرے گناہ کی سزا میرے شوہر کو دے کر مار ڈالے گی۔”

 

“اماں پلیز ابو کو ہسپتال لے کر چلو!”

وہ روتی چیختی چلا رہی تھی پر اس کی ماں بہتی آنکھوں کے ساتھ جامد وجود لئے اپنے شوہر کے نیم مردہ وجود کے پاس بیٹھی تھی۔

اتنے میں عمر گھر میں داخل ہوا۔ باپ کو اس حالت میں زمین پر پڑے اور ماں بہن کو روتا دیکھ وہ تیزی سے باپ کی طرف لپكا اور انھیں لے کر ہسپتال کی طرف بڑھا۔ اس کی ماں بھی اس کے باپ اور بھائی کے پیچھے چلی گئی اور وہ اکیلی صحن بھی بیٹھی اپنی کرتوتوں کی سیاہی  اپنے آشیانے پر پڑتے دیکھتی رہی۔

وہ ابھی گھر میں داخل ہوا تھا۔ ایک کال سننے دروازے پر ہی رک گیا۔ کال سننے کے بعد وہ جیسے ہہی دروازہ بند کرنے لگا سامنے سے آتا وجود تیزی سے اپنا ہاتھ دروازے میں رکھ گیا۔ والی کی سانسیں ساکت ہوئی تھیں اس حسینہ کو دیکھتے ہی۔ وہ پیچھے ہٹ کر کھڑا ہو گیا تو وہ بھی بلا جھجک اندر داخل ہو گئی۔

وہ اس کے سامنے آ کر اسے دیکھنے لگی۔ گهنی مونچھوں تلے عنابی لب تیکھی ناک اور موٹی موٹی آنکھوں کے ساتھ شہابی رنگت اور مضبوط جسم والا ولی حیدر  کسی بھی لڑکی کا خواب ہو سکتا تھا اگر اس کے پاس پیسا ہوتا تو! یہ خوش بخت کا ذاتی خیال تھا۔

“شادی کرنا چاہتے ہو مجھ سے؟ سنا ہے کہ پسند کرنے لگے ہو مجھے؟”

وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتی بے دھڑک بول رہی تھی۔ ولی اس کی بات پر ناگواری سے نظریں پهير گیا۔ اس نے اس لڑکی سے بے انتہا محبت کی تھی پر اس کا یہ انداز اسے خاصا ناگوار گزرا تھا۔ اسے لڑکیاں ہمیشہ شرماتی جھجکتی ہوئی پسند تھیں۔ اور یہ لڑکی بلکل اس کے برعکس۔ پر پھر بھی ولی حیدر خوش بخت کو اپنا دل دے چکا تھا۔ کاش خوش بخت سمجھ پاتی کہ وہ کتنے بختوں والی تھی جو ولی حیدر جیسے مرد نے اسے پسند کیا تھا۔ پر وہ سمجھ پاتی تو نا!

“یہ کیا طریقہ ہے بات کرنے کا اور آپ اکیلی کیا کر رہی ہیں یھاں؟”

وہ اسے دیکھے بغیر نا گواری سے بولا تو خوش بخت سیخ پا ہو گئی۔مطلب حد ہے یہ بندہ ایسے اگنور کر رہا ہے جیسے میں سامنے نہیں کھڑی بلکہ کہیں اور کھڑی بات کر رہی ہوں ۔

“او اسلامی بھائی میں یھاں کوئی لیکچر لینے نہیں آئ بلکہ یہ بتانے آئ ہوں کہ تم جو مجھ سے یعنی خوش بخت سے شادی کے خواب سجا کر بیٹھے ہو نہ انہیں بھول جاؤ۔ میں مر کر بھی تم جسے کنگلے انسان سے شادی نہیں کروں گی سنا تم نے اس لئے شرافت سے خود ہے انکار کر دو ورنہ اچھا نہیں ہو گا۔”

وہ اسے انگلی دکھاتی دھمکانے لگی۔

“آپ کو جو بھی کہنا ہے نا جا کر اپنے والدین سے کہیں مجھے کہنے یا بتانے کا نہ کوئی حق حاصل ہے آپکو اور نہ ہی مجھ پر آپ کی کوئی مرضی لاگو ہوتی ہے۔ وہ رہا دروازہ آپ اب تشریف لے جا سکتی ہیں۔”

وہ عزت سی سمجھایا جا کر سامنے کمرے میں بند ہو گیا تو وہ احساس توہین سے کھولتی ہوئی پیر پٹخ کر اپنے پیچھے زور سے دروازہ بند کرتی وہاں سے نکل آئ۔

وہ اب تک اسی جگہ ساکت بیٹھی تھی۔ گھنٹہ گزر چکا تھا پر اس کی پوزیشن میں ذرا سا بھی فرق نہ آیا تھا۔ اتنے میں ہی  باہر سے ایمبولینس کا سائرن گونجنے لگا تو اس کا دل انجانے خدشات کے خوف سے دھڑکنے لگا۔ وہ لرزتی ہوئی ٹانگوں سے کھڑی ہو کر دیوار کا سہارا لے گئی۔ یکایک دروازہ کھلا۔ سب سے پہلے اس کی ماں کا چہرہ نمودار ہوا جس کے بال بکھرے، آنکھیں سوجی ہوئی مگر خشک  اور چادر کندھوں پر  گری ہوئی تھی۔ اس کی ماں کے پیچھے اس کے بھائی کا وجود ظاہر ہوا تھا جس نے ایک بے جان وجود کو اپنے کندھوں کا سہارا دیا ہوا تھا۔ وہ وجود اور کوئی نہیں اس کا بد نصیب باپ تھا۔

وہ باپ جس نے اس کے پیدا ہونے کی خوشی ایسی منائی کہ پورا خاندان دیکھتا رہ گا۔ وہ باپ جو اسے دیکھ دیکھ کر جیتا تھا۔ وہ باپ جو اس کے کھلونوں کی فرمائش کی خاطر تیز تپتی ہوئی گرمی میں زیادہ سے زیادہ کام کرتا۔ وہ ایک چیز مانگتی تو وہ ساتھ دو چیزیں اور لے آتا۔ وہ باپ جس جو اپنا کام ادھورا چھوڑ کر اس کو اسکول سے لینے جاتا۔ وہ باپ جس نے اپنی بساط سے بڑھ کر ایک مہنگے کالج میں اس کا داخلہ کروایا۔ وہ باپ جس نے کبھی اس کے اکیلے آنے جانے پر روک ٹوک نہ کی۔ خاندان والوں نے طرح طرح کی باتیں کی پر اس نے ان پر کان نہ دھرا۔ وہ باپ جس نے اس کی فرمائش پر پورے خاندان کی مخالفت مول لے کر اس کو مہنگا موبائل لے کر دیا۔ وہ باپ جس نے ایک بار بھی اس کو شک کی نگاہ سے نہ دیکھا ایک دفعہ بھی اس سے موبائل لے کر نہ چیک کیا۔ اور آج اسی باپ کو اس نے زندہ رہنے کے قابل ہی نہ چھوڑا تھا۔ کیا اس سے زیادہ بد بخت کوئی ہو سکتا تھا؟

اس نے اپنی چیخوں کا گلا گھونٹتے ہوئے اپنی ماں کو دیکھا جو اس کی طرف ہی بڑھ رہی تھی۔ وہ ماں جس نے اتنی تکلیف برداشت کر کے اسے جنم دیا۔ اس کو سمبھالتے اپنی راتوں کی نیند اور دن کا سکون برباد کیا۔ وہ رات  کو بھوک سے جاگ جاتی تو اس کی ماں کی نیندیں حرام ہو جاتیں۔ خود گیلے پر لیٹ کر اس کو خشک پر لٹاتی ۔ وہ ماں جس نے اس کو انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا۔ وہ ماں جس نے اسے دنیا میں جینے کا ہنر دیا۔ وہ ماں جس نے اسے حق اور باطل میں تفریق کرنے کا شعور دیا پر وہ پھر بھی بھٹک گئی۔ وہ ماں جس نے اس کے آرام کو دیکھتے کبھی اسے کسی کام کو ہاتھ تک نہ لگانے دیا۔ وہ سہیلیوں سے ملنے کے بہانے کالج کے بعد کافی دیر تک باہر رہتی پر اس کی ماں نے کبھی اس سے پوچھ گچھ نہ کی۔ پر یہاں اس کی ماں غلط تھی۔ بہت غلط!

جب اولاد جوان ہونا شروع ہو جاۓ تو ماں باپ کو اس پر چیل کی نظریں رکھنی چاہئے خاص کر بیٹی کے معاملے میں۔ جب انسان جوانی کی دہلیز پر پاؤں رکھنا شروع ہوتا ہے تو وہ دورانیا بہت نازک ہوتا ہے۔ نوے فیصد نوجوان اس وقت میں بے راہ روی کا شکار ہو جاتے ہیں۔  والدین کو خاص دھیان رکھنا چاہیے کہ ہمارا بچہ کیا کر رہا ہے۔ اس کی صحبت کیسی ہے۔ وہ کہاں آ جا رہا ہے۔ کالج کے بعد کون سی ایکسٹرا کلاس لے رہا ہے۔ کن دوستوں کے ساتھ کہاں گھوم پھر رہا ہے۔  اولاد پر اعتبار ضرور کرنا چاہیے ۔ پر آج کل کے حالات پر نہیں۔ اولاد کو آزادی ضرور دو پر ان پر نظر بھی رکھو۔ پر یہاں خوش بخت کے بد بخت والدین سے چوک ہو گئی تھی کہ وہ اندھا اعتبار کر بیٹھے جس اعتبار نے ان کو کہیں کا نہ چھوڑا۔

اس کی ماں اس کی طرف بڑھتی گئی ۔ اسے بازو سے پکڑا اور کمرے میں چھوڑ کر باہر سے دروازہ بند کر دیا۔ وہ جب تک ہوش میں آتی تب تک دروازہ باہر سے بند کیا جا چکا تھا۔ وہ روتی چیختی  چلاتی رہ گئی پر کسی نے اس کی چیخ و پکار پر کان نہ دھرا۔ اور یوں اسے اپنے باپ کے آخری دیدار سے بھی محروم کر دیا گیا۔

باپ کو مرے بھی ہفتہ گزر گیا تھا اور وہ یوں ہو گئی تھی گویا جیتی جاگتی لاش۔ آج اس کی سب سے اچھی دوست اسے ملنے آئ تھی۔ وہ دوست جو اس کی بھابی بھی تھی۔ اس کے بھائی کی منکوحہ۔

“کیسی ہیں محترمہ خوش بخت صاحبہ! بلکہ میں کیوں پوچھ رہی ہوں یہ سوال کیوں کہ تم تو مزے میں ہو گی نا ۔ پہلے اپنی عزت گنوای وہ بھی خود اپنے ہاتھوں اس کے بعد اپنے باپ کو منوں مٹی تلے سلا دیا اور آج! جانتی ہو تم نے کیا کیا آج؟ مجھ سے میری بچپن کی محبت اور میرا شوہر چھین لیا۔ وہ انسان جو میرے پختہ کردار کی قسم کھاتا کھاتا تھا جانتی ہو اس نے آج مجھ سے کیا کہا؟ سنو میں بتاتی ہوں تمھیں!”

وہ سرخ سوجی ہوئی آنکھیں ایک دفعہ پھر سے دوپٹے سے رگڑ کر اس کے مقابل آئ جو بت بنی کھڑی تھی۔

” جانتی ہو آج تمھارے بھائی نے کیا کہا؟ اس نے کہا معاف کرنا صباء پر میں رخصتی نہیں چاہتا۔ بہتر ہوگا کہ ہم عزت سے الگ ہو جائیں۔ میں نے روتے بلکتے اس سے اپنا قصور پوچھا تو جانتی ہو اس نے کیا کہا؟ اس نے کہا تم میری بہن کی بچپن کی دوست ہو۔ پورے دن میں آدھا دن تو میری بہن کے ساتھ گزارتی ہو تم۔ تو یہ کیسے ممکن ہے کہ صحبت کا اثر تم پر نہ ہوا ہو؟ میں کیسے یقین کر لوں کہ تمہارا وجود پاکیزہ ہے۔ جب اپنی بہن کی یہ حرکت دیکھ چکا ہوں تو تم پر کیسے بھروسہ کر لوں ۔ بہت جلد طلاق کے کاغذات تمہیں مل جائیں گے۔ اب بتاؤ خوش بخت کیا حاصل ہوا تمہیں اس سب سے ۔ تم نے اپنے ساتھ ساتھ ہم سب کی زندگیاں بھی برباد کر دیں۔ہم سب کو برباد کر کے تم کبھی کیسے آباد ہو سکو گی۔”

وہ گھٹنوں کے بل گرتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی جب کہ سامنے کھڑی خوش بخت کے دل نے صدا دی تھی کاش اسے اس سب سے پہلے موت آ جاتی یا اب ہی آ جاتی پر ہر گھڑی قبولیت کی نہیں ہوتی۔ اس کے جانے کے بعد بھی وہ بت بنی وہاں کھڑی تھی جب اس کی ماں کمرے میں آئ۔

“میں نے باہر رکشہ منگوايا ہے تمہیں دارلامان تک پہنچا دے گا۔”

وہ اس کے پیلے پڑتے چہرے پر توجہ دیے بغیر اپنا فیصلہ سنا چکی تھی۔

“امی پلیز ایسا مت کریں مجھ پر رحم کریں۔”

وہ روتی گڑگڑاتی ان کے پاؤوں میں گر گئی۔

“اچھا! کیا تمہیں آیا تھا ہم پر رحم؟”

ان کے سپاٹ لہجے میں پوچھے جانے والے سوال پر اس کو گہری چپ لگ گئی۔ وہ اٹھی اور الماری سے چادر نکال کر اوڑھ لی۔ ایک آخری نگاہ اپنے گھر پر ڈالی۔

آنسو بھری نظروں سے اپنی ماں کو دیکھتے قدم باہر کی طرف بڑھا گئی۔ اس کی ماں کا دل تڑپا تھا پر چہرہ بے تاثر تھا۔

“رکو خوش بخت!”

ولی حیدر اسکے سامنے کھڑا تھا۔ وہ چل کر اس کی ماں اور اپنی خالہ کی جانب آیا۔

“خالہ آپ چاہتی تھیں نا کہ خوش بخت سے میری شادی ہو۔ میں خوش بخت سے نہ صرف نکاح کروں گا بلکہ اسکی اولاد کو بھی اپنا نام دوں گا۔ آپ سے میری بس اتنی سی گزارش ہے کہ خوش بخت کے فارغ ہونے تک آپ اسے میری امانت سمجھ کر پناہ دے دیں ۔ پھر میں اسے نکاح کر کے رخصت کروا کر لے جاؤں گا اپنے گھر۔ ماں باپ کے مرنے کے بعد آپ نے اولاد کی طرح پالا ہے تو ایک بیٹے کی بات کا مان رکھ لیں پلیز۔”

وہ ان کے ہاتھ تھامتا اپنی آنکھوں سے لگا گیا۔ انہوں نے اسے باز رکھنا چاہا پر وہ بہت خوبصورتی سے اپنی بات منوا گیا۔ اور پھر خوش بخت نے جس دن ایک بچی کو جنم دیا اس دن پورے ہسپتال نے اس کی چیخیں سنی تھیں ۔ اس کو اپنی گود میں پڑی بچی میں ایک اور خوش بخت نظر آ رہی تھی۔ پر یہاں بھی ولی حیدر نے اسے اپنے پیار سے سمیٹ لیا تھا۔

جب نکاح کا وقت آیا خوش بخت نے انکار کرنا چاہا تو اس کی ماں اپنا دوپٹہ اتار کر اس کے قدموں میں رکھ دیا اور تھوڑی ہی دیر میں وہ اپنے تمام حقوق ولی حیدر کے نام کر گئی۔ اس کے بھائی نے تو اس کی شکل دیکھنی بھی گوارہ نہ کی تھی اور اس کے رخصت ہونے سے پہلے ہی گھر سے نکل گیا جب کہ اس کی ماں نے اسے نہ گلے لگایا نہ کوئی دعا دی پر یہ نصیحت ضرور کی کہ جیو یا  مرو پر اس گھر کا رخ نہ کرنا تم سے ہمارا کوئی رشتہ نہیں۔

ولی حیدر نے اس کا ہاتھ تھاما اور اسے لئے اس گھر کی دہلیز پار کر گیا۔

اور پھر زندگی نئی ڈگر پر چل پڑی۔ ولی حیدر نے اسے محبت کی ایک نئی قسم سے ملاقات کروائی تھی۔ وہ اس کا بے پناہ خیال رکھتا اس کا ہر کام اپنے ہاتھ سے کرتا۔ اس کی محبت نے خوش بخت کے دل میں بھی دیپ جلا دیے تھے۔ پر ہر خوش بخت کو ولی حیدر کہاں ملتا ہے۔  اس بچی کو اتنا پیار دیا جتنا شاید اس کا اصلی باپ بھی نہ دے پاتا۔ خوش بخت کی زندگی سہل ہو گئی تھی۔ باپ تو مر گیا تھا پر زندہ ماں اور بھائی کے لئے اس کا دل تڑپتا تھا۔ خوش بخت کی ماں بھی ایک روز آنکھیں موند گئی پر بھائی  نے اسکا دیدار بھی نہ کرنے دیا۔ اور پھر  اس کے بھائی نے اکیلے ساری عمر بتا دی۔ خوش بخت کے قدم ڈگمگاے تو پورا خاندان برباد ہو گیا۔

بیس سال بیت چکے تھے پر کوئی خوش بخت سے پوچھتا پچھلے بیس سال کی داستان۔

وہ بیٹھی سبزی بنا رہی تھی جب اس کی بیٹی نکک سے تیار نیچے آئ۔

“کہاں جا رہی ہو؟ “

وہ اپنی بیٹی سے محو سوال تھی۔

“ماما دوست کی طرف جا رہی ہوں!”

جواب اس کی امید کے مطابق ہی تھا۔

“چلو میں تمھارے ساتھ چلتی ہوں!”

ہاں! اسے ایک اور خوش بخت کے جنم سے پہلے ہے اس کا اختتام کرنا تھا۔ اسے اعتبار ضرور کرنا تھا اپنی اولاد کا پر آنکھیں کھلی رکھ کر۔ایک بیٹی کی ماں کو ایسا ہی تو ہونا چاہیے!

The End****

5 1 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments
error: Content is protected !!
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x