Anokha Qatal Urdu Story انوکھا قتل

خوفناک کہانیاں

اردو افسانے

مکمل ناول

views
0
Anokha Qatal Urdu Story انوکھا قتل

مکمل ناول

ہوا کا جھونکا دفتر کی کھڑکیوں کو ہلا رہا تھا۔ ہوا کے ساتھ ہی ایک اداسی بھی کمرے میں اتر آئی تھی۔ چند دن پہلے ہی یہ خبر دفتر میں پھیلی تھی کہ قادری صاحباب ہم میں نہیں رہے۔

 

قادری صاحب اسٹور انچارج تھے۔ خوش مزاج، زندہ دل، اور ہمیشہ ہنسی مذاق میں بات کرنے والے۔ لیکن ان کی موت جیسے ایک تماشہ تھی۔ وہ ہنستے ہنستے دہرے ہوئے، میز پر جھک گئے، اور پھر کبھی نہ اٹھے۔ لوگوں کو لگا کہ قادری صاحب حسبِ معمول دیر تک ہنس رہے ہیں، مگر جب وہ دیر تک اسی حالت میں جمے رہے تو سچائی سامنے آئی۔ دل کے مریض تھے… اور وہ ہنستے ہنستے دل کا ساتھ چھوڑ گئے۔

آج میں بازار کی بھیڑ میں گزر رہا تھا کہ اچانک دو جانے پہچانے چہرے سامنے آ گئے: کامران اور 

منظور احمد۔ کامران کبھی قادری صاحب کا معاون رہا تھا، جبکہ منظور احمد دفتر میں کلرک کی حیثیت سے کام کرتا تھا۔

“ارے جمیل بھائی!” کامران نے خوش دلی سے پکارا۔

“بھئی تم دونوں تو کمال ہی کر گئے، چلو، ایک کپ چائے ہو جائے!” میں نے کہا۔

ہم قریبی ہوٹل میں جا بیٹھے۔ میز پر رکھی چائے کی بھاپ ہمارے چہروں تک آ رہی تھی۔ باتوں باتوں میں قادری صاحب کا ذکر نکل آیا۔

کامران نے گہری سانس لی:

“قادری صاحب کی موت… عجیب موت تھی۔ ایسا اتفاق لاکھوں میں ایک بار ہوتا ہے۔”

میں نے چائے کی چسکی لیتے ہوئے کہا:

“ہاں، لیکن ایک بار ایسا بھی ہوا تھا کہ میں نے ان کی جان بچائی تھی۔”

منظور احمد چونک گیا:

“واقعی؟ ہمیں تو یہ بات معلوم نہیں۔”

کامران نے بےقراری سے کہا:

“جمیل بھائی، ضرور بتائیے، کیا ہوا تھا؟”

میں نے لمحہ بھر توقف کیا۔ چائے کی بھاپ میرے چہرے پر لگی تو میں یادوں میں ڈوب گیا۔

“یہ برسوں پہلے کی بات ہے۔ قادری صاحب زندہ ہوتے تو میں یہ راز کبھی نہ کھولتا۔ لیکن اب چونکہ وہ اس دنیا میں نہیں ہیں، اس لیے یہ کہانی بتانے میں کوئی حرج نہیں۔”

وہ دن مجھے آج بھی یاد ہے۔ میں نے چند دوستوں کی دعوت رکھی تھی اور قادری صاحب کو بھی بلایا تھا۔ وہ حسبِ عادت محفل میں باتونی ثابت ہوئے، سب سے گھل مل گئے۔

اسی دوران ٹیلیفون کی گھنٹی بجی۔ میں نے فون اٹھایا، سامنے سے کوئی انجانا لہجہ… رانگ نمبر تھا۔ فون رکھ دیا۔

باتوں کا رخ ٹیلیفون کی طرف مڑ گیا۔ قادری صاحب بھی بڑے شوق سے اس میں دلچسپی لینے لگے۔ اچانک میں نے کہا:

“قادری صاحب! کیوں نہ ہم ایک شرط لگا لیں؟”

وہ چونک کر ہنسے:

“بھئی جمیل صاحب! آپ کو تو شرطیں لگانے کا شوق ہے۔ چلو، بتاؤ شرط کیا ہے؟”

میں نے مسکرا کر کہا:

“آپ کمرے میں سے کوئی چیز منتخب کر لیں۔ پھر ٹیلی فون ڈائریکٹری سے ایک نمبر چن لیں۔ ہم اس نمبر پر کال ملائیں گے۔ جو بھی شخص فون اٹھائے گا، آپ اس سے پوچھیں گے کہ آپ نے کمرے کی کون سی چیز چنی ہے۔ اگر اس نے صحیح جواب دیا تو آپ مجھے ہزار روپے دیں گے، ورنہ میں آپ کو ہزار روپے دوں گا۔”

محفل میں خاموشی چھا گئی۔ سب مہمان حیرت سے دیکھنے لگے۔

میں نے جیب سے ایک ہزار کا نوٹ نکال کر ان کے سامنے رکھ دیا۔

قادری صاحب کے چہرے پر ہلکی مسکراہٹ آئی:

“منظور ہے۔”

انھوں نے کمرے میں نظریں دوڑائیں۔ ان کی آنکھیں ایک ماڈل پر جم گئیں—ٹی وی کے برابر رکھا ہوا اڑتے ہوئے کبوتر کا مجسمہ۔

“یہی رہے گا۔”

اب ڈائریکٹری ان کے سامنے تھی۔ انھوں نے ورق پلٹے، ایک نمبر اور ایک نام لکھ دیا: **وحید**۔

میں نے سب کو وہ پرچہ دکھایا۔ پھر ریسیور اٹھایا اور بلند آواز میں کہا:

“حضرات! آپ سب گواہ ہیں کہ قادری صاحب نے کبوتر کا انتخاب کیا ہے۔”

قادری صاحب نے زور دیا:

“لیکن نمبر میرے سامنے ملاؤ گے!”

“ضرور۔” میں نے مسکراتے ہوئے کہا اور ڈائل گھمانے لگا۔

رابطہ ہوا۔ دوسری طرف سے آواز آئی:

“جی، وحید بول رہا ہوں۔”

میں نے کہا:

“معاف کیجیے گا، ہمارے دوست قادری صاحب آپ سے ایک سوال کرنا چاہتے ہیں۔”

قادری صاحب نے ریسیور کان سے لگایا اور پوری محفل کے سامنے سوال کیا۔

دوسری طرف سے جواب آیا—میں نہ سن سکا، لیکن قادری صاحب کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔ ریسیور ان کے ہاتھ سے چھوٹ کر گر گیا۔ وہ لرزتے ہوئے کرسی پر جا بیٹھے۔

ہم نے پانی پلایا، سہارا دیا۔ کچھ دیر بعد وہ سنبھلے۔ مگر ان کی آنکھوں میں حیرت تھی، خوف تھا۔

“بھئی جمیل، کمال ہے۔ جواب صحیح نکلا!” وہ نیم مسکراہٹ سے بولے۔

میں نے کہا:

“یہی کافی ہے۔ میں شرط جیت گیا، لیکن مجھے ہزار روپے نہیں چاہئیں۔”

وہ بولے:

“نہیں، پیسے دوں گا۔ لیکن پہلے یہ ثابت کرو کہ میں واقعی ہارا ہوں۔”

اس کے بعد انہوں نے تجزیہ شروع کیا۔ ان کی ذہانت کمال تھی۔ وہ بتانے لگے کہ پہلا فون رانگ نمبر نہیں تھا بلکہ میرے منصوبے کا حصہ تھا۔ کہ لائن دراصل کٹی نہیں تھی، اور میرا دوست دوسری طرف سب کچھ سن رہا تھا۔ وہ میرا ڈراما بے نقاب کرنے لگے۔

مہمان سب حیران تھے۔ قادری صاحب نے کہا:

“ثبوت تب ملے گا جب اس بار میں خود نمبر ملاؤں گا۔ اگر پھر بھی وہی جواب ملا تو مان لوں گا کہ میں ہارا۔”

میں نے فوراً کہا:

“نہیں، قادری صاحب! آپ جیت گئے۔ یہ لیجیے، یہ رقم۔”

میں نے ہزار روپے ان کے آگے رکھ دیے۔ وہ مطمئن ہو گئے، لیکن میرے دل میں ایک راز چھپا رہ گیا۔

ہوٹل میں میز پر رکھے بسکٹ سے میں نے ایک ٹکڑا توڑ کر منھ میں ڈالا۔ کامران اور منظور احمد بےچینی سے میری طرف دیکھ رہے تھے۔

کامران نے کہا:

“لیکن جمیل بھائی! آپ نے کہا تھا کہ آپ نے ان کی جان بچائی۔ یہ کس طرح؟”

میں نے دھیرے سے کہا:

“اگر میں قادری صاحب کو دوبارہ نمبر ملانے دیتا… تو وہی جواب سنتے۔ اور ان کا دل اس صدمے کو برداشت نہ کر پاتا۔ وہیں ان کا ہارٹ فیل ہو جاتا۔”

منظور احمد کے ہونٹ کپکپائے:

“تو مطلب…؟”

میں نے آہستہ آواز میں کہا:

“حقیقت یہ ہے کہ یہ اتفاق لاکھوں میں ایک بار ہوتا ہے۔ جس نمبر کا انتخاب قادری صاحب نے ڈائریکٹری سے کیا تھا… وہ میرا دوست **وحید** ہی تھا۔”

میز پر خاموشی چھا گئی۔ چائے ٹھنڈی ہو چکی تھی، لیکن ہم سب کی روحیں جیسے ابھی تک اس “انوکھے اتفاق” کے صدمے میں تھیں۔

 

یہ کہانی صرف ایک شرط یا کھیل نہیں تھی۔ یہ اس بات کی گواہی تھی کہ کبھی کبھار زندگی اور موت کے بیچ فاصلہ محض ایک لمحے کا، یا ایک اتفاق کا ہوتا ہے۔



5 1 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments
error: Content is protected !!
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x