قسط وار ناول
دہ موسم سرما کی ایک ٹھٹھرتی ہوئی غم آلود صبح تھی !
گزشتہ رات گرج چمک کے ساتھ وقفے وقفے سے بوندا باندی کا سلسلہ جاری رہا تھا اور اس وقت بھی ہلکی پھوار پڑ رہی تھی۔ میں فجر کی نماز ادا کر کے فارغ ہی ہوا تھا کہ بیرونی دروازے پر دستک ہونے لگی۔ ان دنوں میری رہائش تھانے سے ملحقہ سرکاری کوارٹر میں تھی۔
میں نے مذکورہ کوارٹر کے مختصر سے سحن سے گزرکر دروازہ کھول دیا۔ سامنے شبینہ ڈیوٹی والا ایک کانسٹیبل کھڑا تھا۔ میں نے اپنے تھانے کے رات والے عملے کو ہدایت کر رکھی تھی کہ کسی بھی نوعیت کی ہنگامی صورتحال میں میرے آرام کو بالائے طاق رکھ کر مجھے فوری طور پر بلا لیا جائے چاہے رات کا کوئی بھی پہر کیوں نہ ہو۔ میں نے ہمیشہ فرائض کی ادائی کو آرام و سکون پر فوقیت
دی تھی۔
میں نے سوالیہ نظر سے اپنے سامنے کھڑے کا نسٹیبل کو دیکھا تو اس نے حسب معمول پہلے مجھے سلیوٹ کیا پھر بولا ” ملک صاحب ریلوے سٹیشن والے تھانے سے ایک ایس آئی صاحب اور دو کانسٹیبل آئے ہیں ۔”
ان دنوں میں میاں چنوں کے شہری حدود والے ایک تھانے میں تعینات تھا۔ میاں چنوں ریلوے سٹیشن میرے تھانے سے زیادہ دور نہیں تھا۔ ریلوے سٹیشن والے تھانے سے کانسٹیبل کی مراد وہ پولیس چوکی تھی جو ہر ریلوے سٹیشن پر موجود ہوتی ہے۔
میں نے کا نسٹیبل سے پوچھا ” معالمہ کیا ہے؟”
شاید کوئی حادثہ پیش آگیا ہے!”
کس قسم کا حادثہ ؟
تفصیلات مجھے معلوم نہیں ہیں ۔ ” اس نے کہا ”انہوں نے مجھے کچھ نہیں بتایا۔
اے ایس آئی صاحب آپ سے ملنے کے لیے بے چین ہیں۔ میں نے ان کی بے چینی سے اندازہ لگایا ہے کہ ہو نہ ہو کوئی گیمر مسئلہ ہے۔ کوئی حادثہ وغیرہ یا…
“ٹھیک ہے ٹھیک ہے۔ میں نے کانسٹیبل کی بات کاٹتے ہوئے کہا ” تم چلو میں ابھی تیار ہو کر آتا ہوں ۔ ایک لمحے کے توقف سے میں نے اضافہ کیا “اے ایس آئی صدیق تھانے میں ہی ہے نا؟“
جی ملک صاحب ! اس نے اثبات میں جواب دیا۔ ” جنجوعہ صاحب وہاں آنے والوں سے بات چیت کر رہے ہیں۔ انہوں نے ہی مجھے آپ کی طرف بھیجا ہے۔”
میں مطمئن ہو گیا۔ صدیق جنجوعہ میرے تھانے کا نہایت ہی قابل اور تجربہ کار اے ایس آئی تھا۔ مجھے اس کی صلاحیتوں پر پورا بھروسا تھا۔ میری امیدوں کے عین مطابق اس نے آگے چل کر بہت ترقی کی تھی ۔ کانسٹیبل کی زبانی جب مجھے علم ہوا کہ صدیق آنے والوں سے مصروف گفتگو ہے تو مجھے یقین ہو گیا کہ میرے وہاں پہنچنے سے پہلے وہ معاملے کی تہ تک اُتر چکا ہوگا۔
میں جب اپنے جسم پر وردی سجا کر اپنے کمرے میں پہنچا تو میری توقع کے عین مطابق اے ایس آئی صدیق اپنے کام سے فارغ ہو چکا تھا۔ ریلوے سٹیشن پولیس چوکی سے آنے والے سرکاری اہلکاروں نے مجھے سلام کیا اور ان کے کچھ بولنے سے پہلے ہی جنجوعہ نے مجھے بتایاہو گیا ہے۔”
ملک صاحب ! ادھر ریلوے سٹیشن کے نزدیک ایک بندہ ٹرین سے لٹکٹ کر ہلاک ہوا یہ کب کی بات ہے؟” میں نے آنے والے اے ایس آئی کو مخاطب کرتے ہوئے سوال کیا ” مذکور واے ایس آئی کا نام بعد ازاں مجھے محمد اسلم معلوم ہوا۔
محمد اسلم نے جواب دیا ” حادثہ لگ بھگ تین بجے رات پیش آیا تھا۔ ہم نے موقع کی ابتدائی کارروائی مکمل کرلی ہے۔ مزید تفتیش کے لیے اب آپ کے پاس آئے ہیں۔”
حادثہ کس جگہ پیش آیا ہے؟ میں نے پوچھا۔؟
“میاں چنوں ریلوے سٹیشن سے تقریباً ایک فرلانگ پہلے ۔ ریلوے پولیس کے اے ایس آئی نے بتایا اس طرف جہاں چنگڑوں نے اپنی جنگیاں وغیرہ ڈال رکھی ہیں۔”
میں نے کہا ” ایک فرلانگ کی طرف؟“ پھر وضاحتی انداز میں پوچھا ” خانیوال کی جانب یا چیچہ وطنی کی سمت ۔ چنگڑوں، خانہ بدوشوں اور بنجاروں نے تو دونوں طرف جنگیاں ڈال رکھی ہیں؟”
واضح رہے کہ میاں چنوں ریلوے سٹیشن چیچہ وطنی اور خانیوال کے درمیان پایا جاتاہے۔ اے ایس آئی محمد اسلم نے جواب دیا۔
ملک صاحب! جائے وقوعہ میاں چنوں ریلوے سٹیشن سے ایک فرلانگ مغرب کی جانب سے یعنی خانیوال کی سمت ہے۔ ایک لمحے کو رک کر اس نے مزید بتایا ٹرین کراچی سے آرہی تھی اور اسے لاہور جانا تھا۔ مذکورہ ٹرین علی الصباح لاہور پہنچتی ہے اور میرا خیال ہے اس وقت وہ لاہور کے ریلوے سٹیشن میں داخل ہو رہی ہوگی ۔“
” کیا مطلب؟” میں نے چونکے ہوئے لہجے میں دریافت کیا کیا آپ نے ٹرین کو روکا نہیں تھا ؟
یس جی تھوڑی دیر کے لیے روکا تھا۔ ضروری کارروائی کے بعد ٹرین کو جانے کی اجازت دینا پڑی۔ اے ایس آئی نے بتایا ‘ اگر یہ حادثہ کسی بس یا ٹرک سے پیش آیا ہوتا تو ہم اسے کسی صورت جانے نہ دیتے۔ دراصل ملک صاحب! یہ مین لائن ہے اور اس کے بند ہونے سے کراچی سے پشاور تک کا ریلوے ٹریفک متاثر ہو جاتا ہے لہذا مجبوراً ٹرین کو چھوڑنا پڑا۔
میں نے اے ایس آئی محمد اسلم سے وقوعہ کی کارروائی کی مکمل رپورٹ حاصل کی جس میں دو تین خانہ بدوشوں کے آدھے ادھورے بیانات بھی تھے۔ ٹرین کے ڈرائیور بشیر احمد اور گارڈ اکرام اللہ کا مختصر بیان بھی شامل تھا۔ تھوڑی دیر تک میں اے ایس آئی سے مختلف سوالات کرتا رہا، جن کے جواب میں جائے وقوعہ کے بارے میں مجھے خاصی معلومات حاصل ہوئیں، خاص طور پر جائے حادثہ پر پائی جانے والی اشیاء خصوصی توجہ کی متقاضی تھیں۔ میں نے
تھوڑی دیر میں وہاں پہنچنے کا وعدہ کر کے اے ایس آئی محمد اسلم اور دونوں سپاہیوں کو روانہ کر دیا پھر صدیق جنجوعہ کے ساتھ مل کر لائحہ عمل تیار کرنے لگا۔
ناشتے کے بعد جب ہم جائے وقوعہ پر پہنچے تو پوری طرح اجالا پھیل چکا تھا تا ہم سورج نہ ہونے کے باعث دھوپ ناپید تھی۔ البتہ بو ندا باندی کا سلسلہ تھم چکا تھا۔ اس وقت صبح کے کم و بیش آٹھ بجے تھے۔ ریلوے لائن کے دونوں جانب خانہ بدوشوں اور بنجاروں کی جنگیاں ایستادہ تھیں۔ اس سے آگے جھاڑیوں کا ایک طویل سلسلہ تھا جس جگہ حادثہ پیش آیا
تھا وہ مقام جھگیوں نے خاصے فاصلے پر جھاڑیوں کے نزدیک تھا۔ میں نے سب سے پہلے
ٹرین کا شکار ہونے والے بدقسمت شخص کا جائزہ لیا۔
متوفی کا جسم کٹ کر دو حصوں میں تقسیم ہو چکا تھا۔ دھٹر والا حصہ ریلوے پٹڑی کے در مران پڑا تھا، جبکہ دونوں ٹانگیں باہر پڑی تھیں۔ یہ ایک دل دہلا دینے والا خوفناک منظر تھا۔ اگر چہ متوفی کا پورا چہرہ بری طرح مسخ ہو چکا تھا، تاہم یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ وہ لگ بھنگ پینتیس سال کا ایک خوش شکل شخص تھا۔
متوفی نے سفید کیٹی کا شلوار سوٹ پہن رکھا تھا۔ پاؤں میں “باتا” کا تسموں والا بند جوتا تھا۔ موسم کی مناسبت سے شلوار سوٹ پر اس نے سرگی رنگ کی گرم اونی جرسی زیب تنکر رکھی تھی، جس کے بارڈر پر نیلے رنگ کی بیل بنی ہوئی تھی۔ علاوہ ازیں اس کی کلائی پر اور سینٹ واچ بھی موجود تھی ۔
میں نے اس کی لاش کے دونوں حصوں کو اُلٹ پیٹ کر بغور جائزہ لیا تو مجھے کسی غیر معمولی بات کا احساس ہوا۔ تاہم وہ غیر معمولی بات فوری طور پر میری سمجھ میں نہ آسکی۔
ٹرین نے متوفی کے جسم کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا تھا لیکن حیرت انگیز طور پر وہاں زیادہ خون نظر نہیں آ رہا تھا۔
اگلے ہی لمحے اس کی وجہ بھی میری سمجھ میں آگئی۔ رات بھر وقفے وقفے سے ہونے والی بارش نے خون کے نشانات صاف کر دیے تھے۔ ایک لحاظ سے یہ بہت برا ہوا تھا۔ اب کسی قسم کا کھر اوغیرہ نکالنا ممکن نہیں رہا تھا۔
اس کے بعد میں نے متوفی کی جامہ تلاشی لی۔ اس کی مختلف جیبوں میں سے جو اشیاء برآمد ہوئیں، ان میں ایک جینی رومال، ایک مکھی، چند مختلف قسم کے کاغذات نقدی آٹھ سو پچھتر روپئے کراچی سے میاں چنوں تک کا ریلوے ٹکٹ اور ایک پریس کارڈ شامل تھا۔
ریلوے پولیس چوکی کے اے ایس آئی نے جن اشیائے خاص کا ذکر کیا تھا وہ ایک درمیانے سائز کا سوٹ کیس تھا جو جھاڑیوں میں پایا گیا تھا۔ تھوڑی سی کوشش کے بعد میں نے متوفی کے لباس میں سے اس سوٹ کیس کی چابی بر آمد کرلی۔ جب میں نے سوٹ کیس کھول کر دیکھا تو حیران رہ گیا۔ سوٹ کیس میں بچوں کے ریڈی میڈ کپڑے کھلونے زنانہ سوٹ میک اپ کا سامان بچوں کے جوتے زنانہ سینڈل’ ان سلا کپڑا اور گرم شال وغیرہ بھرے ہوئےتھے۔
شواہد سے یہی پتا چلتا تھا کہ وہ بد قسمت شخص کوئی مسافر تھا، جو کراچی سے میاں چنوں پہنچا تھا۔ یہ سوچتے ہوئے ایک لمحے کو میں چونک اٹھا۔ میں نے متوفی کی جیب سے برآمد ہونے والی ریلوے ٹکٹ کا بغور معائنہ کیا۔ ٹکٹ پر سات جنوری کی تاریخ درج تھی یعنی متوفی سات جنوری کو کراچی سے ٹرین پر سوار ہوا تھا اور آج آٹھ جنوری تھی۔ متوفی کے لباس میں ٹکٹ کی موجودگی یہ بھی ظاہر کر رہی تھی کہ وہ ریلوے سٹیشن کی عمارت سے باہر نہیں نکلا تھا۔
اگر ایسا ہوا ہوتا تو گیٹ پر ٹکٹ چیکر اس سے ٹکٹ لے لیتا۔ اس کا مطلب یہی تھا کہ وہ میاں چنوں ریلوے سٹیشن کے پلیٹ فارم پر اترنے کے بعد ریلوے پڑی کے ساتھ ساتھ سیدھا جھاڑیوں کی طرف چلا آیا تھا مگر کیوں؟ یہ ایک ایسا سوال تھا جس کا جواب سر دست مجھے معلوم نہیں تھا۔
اے ایس آئی صدیق جنجوعہ وقوعہ کا تفصیلی نقشہ تیار کرنے میں مصروف تھا اور میں قیاسات کے گھوڑے دوڑا رہا تھا۔ حادثہ میاں چنوں ریلوے سٹیشن سے ایک فرلانگ پہلے پیش آیا تھا۔ یہاں پر دو امکانات پیدا ہوتے تھے۔ نمبر ایک متوفی ٹرین کے دروازے میں سے نیچے گر گیا ہو یا کسی نے دھکا دے کر اسے باہر پھینک دیا ہو ۔ یہ امکان خاصا کمزور لگتا تھا کیونکہ اگر کسی دوسرے شخص نے اسے دھکا دیا ہوتا تو پھر وہ ٹرین کے پہیوں کے نیچے آکرکٹ نہیں سکتا تھا بلکہ وہ پٹڑی سے دُور خاصے فاصلے پر جا گرتا۔ یہ بات بھی واضح تھی کہ وہ خود بھی نہیں گرا تھا۔ ایسی صورت میں اس کا سوٹ کیس آس پاس ہی پایا جانا چاہئے تھا، لیکن جھاڑیوں میں جس مقام پر سوٹ کیس پایا گیا تھا وہ ریلوے لائن سے خاصے فاصلے پر تھا۔ دوسرا امکان یہی تھا کہ متوفی نے اس ٹرین سے سفر نہیں کیا تھا۔ یہ خیال آتے ہی میں نے متوفی کے لباس سے بر آمد ہونے والے ٹکٹ کا از سرنو جائزہ لیا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ متوفی اس ٹرین کا مسافر نہیں تھا، جس نے اسے موت سے ہمکنار کیا تھا۔ ٹکٹ پر جس پرین کا مخصوص کوڈ درج تھا، وہ میاں چنوں ریلوے سٹیشن پر لگ بھنگ نو بجے رات پہنچتی تھی۔ اب صورتحال خاصی واضح ہو گئی تھی۔ متوفی مذکورہ ٹرین سے گزشتہ رات تقریبا نو بجے میاں چنوں پہنچا تھا لیکن یہاں بھی یہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ اگر وہ نو بجے یہاں پہنچا تھا تو پھر رات تین بجے تک وہ پلیٹ فارم پر کیا کرتا رہا۔ یہ بات تو ملے تھی کہ وہ ریلوے سٹیشن سے باہر نہیں نکلا تھا۔ ایک لمحے کے لیے میرے ذہن میں یہ خیال بھی پیدا ہوا تھا کہ ممکن ہے وہ کسی چور اچکے یا اٹھائی گیرے کے دست ستم کا نشانہ بن گیا ہو لیکن فوری طور پر میں نے اس خیال کو رد کر دیا کیونکہ ایسی صورت میں متوفی کی کلائی سے گھڑی اور جیب سے نقدی کا غائب ہونا لازمی امر تھا۔ علاوہ ازیں سوٹ کیس کا صحیح سلامت پایا جانا بھی لوٹ مار جیسی کارروائی کی نفی کر رہا تھا۔
میں نے متوفی کی جیب سے برآمد ہونے والے پریس کارڈ کا جائزہ لینا شروع کیا۔ اس کارڈ کے مطابق متوفی کا نام محمد فاضل تھا اور وہ کراچی کے ایک اخبار میں بطور کیلی گرافر کام کرتا تھا۔ کارڈ پر اس کی تصویر بھی موجود تھی اور اخبار کا نام و پتا وغیرہ تفصیلاً درج تھا۔
پریس کارڈ وہ واحد سراغ تھا جس کی مدد سے متوفی کے بارے میں کچھ معلوم کیا جا سکتا تھا۔
اے ایس آئی صدیق جنجوعہ جائے وقوعہ کا نقشہ تیار کر چکا تو میں نے ان خانہ بدوش افراد کو ٹولنا شروع کیا ریلوے پولیس چوکی کے اے ایس آئی نے جن کے بیانات لیے تھے۔
اس سلسلے میں مجھے کوئی کام کی بات معلوم نہ ہو سکی۔ میں نے چند دیگر افراد سے بھی پوچھ گچھ کی لیکن یہ کوشش بھی لا حاصل رہی۔ اب یہی صورت … باقی رہ جاتی تھی کہ متوفی جس اخبار میں کام کرتا تھا وہاں سے کچھ معلوم کیا جائے۔ اس کے لیے میرا کراچی جانا لازمی تھا لیکن کراچی روانہ ہونے سے پہلے مجھے یہاں چند ضروری کام نمٹانا تھے۔
میں نے پہلی فرصت میں ضابطے کی کارروائی مکمل کی اور متوفی محمد فاضل کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے مقامی سرکاری ہسپتال بھجوا دیا۔
تھانے پہنچ کر میں نے جائے وقوعہ اور متوفی کی جامہ تلاشی سے برآمد ہونے والی اشیاء مع ان کی فہرست اے ایس آئی صدیق جنجوعہ کے حوالے کردیں تاکہ وہ سرکاری مال خانے میں انہیں محفوظ کر دے۔
صدیق جنجوعہ نے متوفی فاضل کے پریس کارڈ کو الٹ پلٹ کر دیکھا اور اس کے چہرے پر الجھن کے آثار نمایاں ہو گئے۔
” کیا بات ہے جنجوعہ جی؟”
میں نے اس کے چہرے پر نظر جماتے ہوئے سوال کیا۔ میں اسے جنجوعہ جی کہہ کر ہی مخاطب کرتا تھا۔ وہ میرے سوال کا جواب دینے کے بجائے متوفی کی تصویر کو گھورنے لگا۔
میں نے دوبارہ پوچھا۔کوئی خاص بات ہے بھئی؟”
اوں… ہاں ملک صاحب ! اس نے متذبذب لہجے میں کہا “میرا خیال ہے
میں اس شخص کو جانتا ہوں ۔ “
تمہارا مطلب ہے متونی کو؟“
“جی ہاں۔”
کون ہے یہ؟”
وہ میرے سوال کا جواب دینے کے بجائے کسی گہری سوچ میں ڈوب گیا۔ میں نے کہا جنجوعہ جی! اگر تم متوفی محمد فاضل کو جانتے ہو تو پھر بتانے میں گریز کیا؟“
میں کوئی حتمی فیصلہ کرنے سے قاصر ہوں۔“ وہ دھیرے سے بولا ۔
میں نے کہا ” کیا کوئی الجھن در پیش ہے؟”
” جی ملک صاحب!” وہ کچھ سوچتے ہوئے بولا شکل تو صد فیصد وہی ہے لیکن نام کی وجہ سے میں الجھن کا شکار ہوں ۔“
جو کچھ کہنا چاہتے ہو کھل کر بتاؤ جنجوعہ جی۔”
ایک لمحے کے توقف کے بعد اسن نے بتایا میں جاوید عرف جیدا نام کے ایک شخص سے واقف ہوں۔ یہ ہو بہ ہو اس کی تصویر ہے لیکن یہاں اس کا نام محمد فاضل درج ہے اور یہی بات مجھے الجھارہی ہے۔”
ہوں۔ میں بھی گہری سوچ میں ڈوب گیا۔
اے ایس آئی نے کہا ملک صاحب ! میں نے سن رکھا ہے دنیا میں ہر شخص کا ہم شکل ایک دوسرا شخص بھی موجود ہوتا ہے!”
ہاں ! ایسا سنا تو میں نے بھی ہے۔”
ہو سکتا ہے ایسا ہو۔” میں نے سرسری لہجے میں کہا لیکن ہم اس نظریے پر تکیہ کر کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھ سکتے ۔ ایک لمحے کو رک کر میں نے اضافہ کیا تم جاوید عرف جیدا نامی جس شخص کا ذکر کر رہے ہو وہ کہاں کا رہنے والا ہے؟”
اے ایس آئی نے جواب دیا وہ تلمبہ کا رہنے والا ہے۔”
تلمبہ میں کسی جگہ ؟”
موضع محمود کوٹ ۔ ” صدیق جنجوعہ نے جواب دیا۔
میں نے پوچھا ” جنجوعہ جی! اس پریس کارڈ کے مطابق متوفی محمد فاضل کراچی کے ایک اخبار میں کیلی گرافر تھا۔ تم جس جاوید کو جانتے ہو کیا وہ بھی کتابت کرتا ہے۔ میرا مطلب دید و جاتے ہو کیاوہ بھی کتابت کرتا ہے۔ میرا مطلب
ہے کیا وہ خوش نویس ہے؟”
صدیق جنجوعہ نے نفی میں سر ہلایا انہیں ملک صاحب ! میری معلومات کے مطابق جاوید عرف جیدا مویشیوں کی خرید و فروخت کا کاروبار کرتا ہے۔“
اے ایس آئی صدیق جنجوعہ بھی تلمبہ کا رہنے والا تھا۔ اس کی رہائش چک نمبر آٹھ میں تھی جو موضع کو کوٹ سے زیادہ دور نہیں تھا لہذا جنجوعہ کی فراہم کردہ معلومات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا ۔
میں نے کہا ” جنجوعہ جی! یہ تو ایک معمہ ہو گیا۔ متوفی کی جیب سے نکلنے والے پریس کارڈ کے مطابق اس کا نام محمد فاضل اور پیشہ کتابت ثابت ہوتا ہے جبکہ تم بتا رہے ہو کہ یہ مویشیوں کی خرید و فروخت کرنے والا جیدا ہے۔”
میں بھی اسی لیے تذبذب کا شکار ہوں۔”
ہم اس الجھن کو سلجھانے کے لیے ایک چکر محمود کوٹ کا لگا لیں تو کیسارہے گا؟”
میں نے کہا ” کراچی روانہ ہونے سے پہلے میں ضروری سمجھتا ہوں کہ یہ شک بھی نکال ہی لیا جائے۔“
“آپ کی تجویز بالکل مناسب ہے۔”
میں نے کہا ” جنجوعہ جی! کیا تم ذاتی طور پر جیدے سے واقف ہو۔ میرا مطلب ہے تمہارے اس کے ساتھ ذاتی مراسم بھی ہیں؟
ذاتی مراسم تو نہیں ہیں جناب! جنجوعہ نے جواب دیا ”آپ تو جانتے ہیں شادی کے بعد سے میں مستقل طور پر میاں چنوں ہی آگیا ہوں۔ چک کی طرف بہت کم آنا جانا ہوتا ہے۔ میں جیدے کے بارے میں تفصیلی معلومات نہیں رکھتا ۔ تم تو گزشتہ چار سال سے میاں چنوں میں آباد ہو۔” میں نے کہا پھر پوچھا
آخری مرتبہ تم نے اسے کب دیکھا تھا؟”
میرا خیال ہے اپنی شادی سے پہلے ہی دیکھا تھا۔ وہ کچھ سوچتے ہوئے بولا۔
میں نے کہا اس کا مطلب ہے کافی عرصے سے تمہاری اس سے ملاقات نہیں ہوئی۔ ممکن ہے اس دوران میں وہ کراچی چلا گیا ہو۔“
ایسا ہونا ناممکن تو نہیں ” جنجوعہ نے کہا لیکن نام اور پیشے کی تبدیلی سمجھ میں آنے والی بات نہیں ہے۔
“تمہارا کہنا بھی درست ہے۔ ” میں نے پر خیال انداز میں کہا خیر موضع محمود کوٹ جا کر صورتحال واضح ہو جائے گی۔”
اگلے روز میں اے ایس آئی صدیق جنجوعہ کے ساتھ موضع محمود کوٹ پہنچ گیا۔ جاوید عرف جیدا کا گھر تلاش کرنے میں ہمیں زیادہ دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ وہ ایک منزلہ مکان تھا اور گاؤں کے جنوبی حصے میں واقع تھا۔ گاؤں کے بیشتر گھروں کی طرح وہ بھی ایک کچا مکان تھا۔
میری دستک کے جواب میں ایک عمر رسیدہ شخص دروازے پر آیا ۔ اس نے چہرے پر نظر کا چشمہ لگا رکھا تھا۔ اس کی عمر لگ بھگ ساٹھ سال رہی ہوگی ۔ ہم پر نگاہ ڈالتے ہی وہ چونک اٹھا۔ اس کے چہرے پر گھبراہٹ کے آثار نمودار ہوئے۔ اس کے خوفزدہ ہونے کی وجہ بھی فوری میری سمجھ میں آگئی۔ اس وقت ہم وردی میں تھے۔ پولیس والوں کو اپنے دروازے پر موجود پا کر اس بوڑھے شخص کا ہراساں ہونا لازمی بات تھی۔
میں نے کھنکار کر گلا صاف کیا اور پوچھا ” چاچا ! جاوید کا گھر یہی ہے؟”
بوڑھے نے اثبات میں جواب دیا۔ میں نے کہا ہم اس سے ملنے آئے ہیں۔
وہ تو یہاں پر نہیں ہے ۔ ” بوڑھے نے کہا ” میں جیدے کا باپ منظور حسین ہوں۔جیدے سے آپ کو کیا کام ہے؟”
کام تو اس سے ہے اور بتائیں گے بھی اسی کو ۔ ” اے ایس آئی نے آگے بڑھتے ہوئے کہا چا چا! جیدا اگر گھر میں نہیں ہے تو پھر کدھر گیا ہے؟“
بوڑھے منظور حسین کی آنکھوں میں ویرانی اتر آئی ۔ بھرائی ہوئی آواز میں بولا “ہم بڑھا بڑھی تو خود اُس کی راہ دیکھ رہے ہیں، تین سال سے۔ اس کی کوئی خبر ہی نہیں ہے۔ ہم سے تو یہی کہہ کر گیا تھا کہ باہر کے ملک کمانے جارہا ہوں لیکن تین سال سے نہ وہ پلٹنا اور نہ ہی اس کا کوئی خط پتر آیا ۔“
میں نے سوالیہ نظروں سے اے ایس آئی جنجوعہ کو دیکھا اس کی آنکھوں میں بھی وہی سوال تیر رہا تھا۔ میں نے بوڑھے منظور حسین کو مخاطب کرتے ہوئے پو چھا ” چا چا ! تمہاراجیدا کون سے ملک گیا تھا ؟”
اس نے ملک کا نام لیبیا بتایا تھا۔”
وہاں وہ کس سلسلے میں گیا تھا؟” میں نے سوال کیا “میرا مطلب ہے اس نے جانے سے پہلے یہ تو بتایا ہوگا کہ وہاں جا کر کام کیا کرے گا؟”
منظور حسین نے جواب دیا ” محنت مزدوری کے علاوہ اور کیا کر سکتا تھا۔ اس نے مجھے بتایا تھا کہ وہ لیبر میں جا رہا ہے۔ بات ختم کر کے بوڑھے منظور نے آنکھوں کو سکیٹر کر ایک مرتبہ پھر ہماری وردیوں کا جائزہ لیا اور بولا ” خیریت تو ہے نا؟ آپ جیدے کے بارے میں کس قسم کی تفتیش کرتے پھر رہے ہیں؟”
میں نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے کہا ” چاچا منظور حسین! میرا نام ملک صفدرحیات ہے۔ میں میاں چنوں کے ایک تھانے کا انچارج ہوں ۔ پھر میں نے صدیق جنجوعہ کی جانب اشارہ کیا۔ یہ اے ایس آئی صدیق جنجوعہ ہے۔ ہم جاوید عرف جیدا کے بارے میں آپ سے کچھ باتیں کرنا چاہتے ہیں۔ کیا ہم گھر کے اندر بیٹھ کر آرام سے گفتگو نہیں کر سکتےہیں؟”
” کیوں نہیں، کیوں نہیں ۔ وہ جلدی سے بولا ” میں ابھی آپ کے لیے بیٹھک کا دروازہ کھولتا ہوں ۔ “ پھر وہ گھر کے اندر غائب ہو گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد ہم منظور حسین کی بیٹھک میں بیٹھے ہوئے تھے۔
منظور حسین کی زبانی ہمیں جو معلومات حاصل ہوئیں، ان کے مطابق ان دنوں بوڑھا منظور اور اس کی بیوی رحمت بی بی اس گھر میں اکیلے ہی رہتے تھے۔ اس وقت رحمت بی بی گاؤں کے حکم کے پاس گئی ہوئی تھی ۔ منظور کے بیان کے مطابق کم و بیش تین سال قبل جیدا روزگار کے سلسلے میں ملک سے باہر چلا گیا تھا۔ منظور کو اس نے یہی بتایا تھا کہ وہ محنت مزدوری
کرنے لیبیا جارہا ہے لیکن پھر اس کی کوئی خیر خبر نہیں آئی ۔ جاوید عرف جیدا شادی شدہ اور دو بچوں کا باپ تھا۔ جاوید کی بیوی زہرہ فاطمہ دو سال تک اپنے شوہر کی واپسی یا خیریت کی منتظررہی پھر ایک سال پہلے وہ دونوں بچوں کو لے کر اپنے میکے چلی گئی تھی۔ جیدے کی بڑی بچی نازیہ آٹھ سال کی اور چھوٹا بچہ کاشف پانچ سال کا تھا۔ دس سال قبل ان کی شادی ہوئی تھی۔
منظور حسین اپنی بات ختم کر چکا تو میں نے پوچھا ” چاچا لیبیا جانے سے پہلے جاوید یہاں کیا کرتا تھا؟“
ڈھور ڈنگر کی خرید و فروخت کا کام کرتا تھا جناب۔“ اس نے جواب دیا۔ پھر تشویشناک لہجے میں پوچھا تھانیدار صاحب! آپ نے ابھی تک یہ نہیں بتایا کہ یہ ساری پوچھ کچھ کس سلسلے میں ہے؟ خدا خیر کرنے آپ مجھے کوئی ایسی ویسی خبر سنانے والے تو نہیں ہیں ؟”
اس کے لہجے میں پنہاں دُکھ کو میں پوری طرح محسوس کر رہا تھا۔ بہر حال مجھے اپنا فرض تو ادا کرنا ہی تھا۔ میں نے کھنکار کر گلا صاف کیا، پھر ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔
منظور حسین! گزشتہ روز میاں چنوں ریلوے سٹیشن کے نزدیک ایک بندہ ٹرین سے کٹ کر جاں بحق ہو گیا ہے۔ میری اب تک کی تحقیق کے مطابق متوفی محمد فاضل کی شکل و صورت تمہارے بیٹے سے بڑی حد تک ملتی جلتی ہے۔”
میں نے دانستہ بڑی حد تک“ کے الفاظ استعمال کیے تھے۔ میں اپنے تئیں فوری طور پر منظور حسین کو کوئی صدمہ نہیں پہنچانا چاہتا تھا۔ میرا جملہ ختم ہوا ہی تھا کہ اس کے منہ سے ایک کربناک صدا خارج ہوئی ۔
ہائے وے میر یا رہا اس نے دونوں ہاتھ ہوا میں لہراتے ہوئے کہا ” تھانیدار صاحب! آپ یہ کیسی خبر سنارہے ہیں؟”
میں نے اپنی جیب میں سے متوفی محمد فاضل کا پریس کارڈ نکال کر بوڑھے منظور حسین کی طرف بڑھا دیا۔ مذکورہ کارڈ موضع محمود کوٹ آتے ہوئے میں احتیاطا اپنے ساتھ لےآیا تھا۔ میں نے منظور حسین سے پوچھا۔
یا چا! اس کارڈ میں لگی ہوئی تصویر کو پہچانتے ہو؟”
اس نے ایک بجے تک کارڈ کو گہری نظر سے دیکھا پھر فیصلہ کن لہجے میں بولا یہ تو میرا جیدا پتر ہے۔”
تم یہ بات پورے یقین سے کہہ رہے ہو؟“
“آہو جی! مجھے چنگی طراں یقین ہے۔“
میں نے کہا ” چا چا ! تم کچھ پڑھے لکھے ہوئے بھی ہو؟”
نہ جی ! اس نے نفی میں گردن ہلائی میں تو چٹا ان پڑھ ہوں ۔ بس ہمیں تک گنتی گن سکتا ہوں ۔“
میں نے پوچھا جیدے نے کہاں تک تعلیم حاصل کی تھی ؟
میں نے اسے پوری پانچ جماعتیں پڑھایا تھا۔“
ایک فوری خیال کے تحت میں نے پوچھا “منظور حسین ! کیا تمہارا بیٹا کتابت وغیرہ بھی کر لیتا تھا؟“
جی! کیا کر لیتا تھا؟ اس نے الٹا مجھ سے سوال کر ڈالا۔
میں نے اسے کتابت کا مطلب سمجھایا پھر سوال دہرایا۔ وہ بولا نہیں جی! یہ کام تو جیدے نے بھی نہیں کیا۔ اسے شروع ہی سے بیو پار کا شوق تھا پھر اس نے مال مویشیوں کی خرید و فروخت شروع کردی۔ لیکن وہ جملہ ادھورا چھوڑ کر کسی خیال میں ڈوب گیا۔
اے ایس آئی نے سوال کیا لیکن کیا چاچا ؟
منظور حسین مجھ سے مخاطب ہوتے ہوئے بولا ” جیدا سکول میں تختی بہت خوش خط لکھا کرتا تھا۔ اکثر ماسٹر اسے انعام بھی دیا کرتا تھا۔”
نظور حسین کے انکشاف نے صورتحال کو مزید واضح کر دیا تھا۔ میرا ذہن اس وقت برقی رفتاری سے کام کر رہا تھا۔ میں نے پوچھا چاچا ! اس کارڈ میں لگی ہوئی تصویر کے بارے میں تمہارا دھوتی ہے کہ یہ تمہارے بیٹے جیدے کی تصویر ہے، لیکن کارڈ میں تو اس شخص کا نام محمد فاضل لکھا ہوا ہے۔ یہ کیا ماجرا ہے؟”
یہ بات تو میری سمجھ میں بھی نہیں آئی جناب!” وہ الجھن زدہ لہجے میں بولا ۔ پھر پوچھا یہ کارڈ آپ کو کہاں سے ملا؟”
توفی محمد فاضل کی جامہ تلاشی ہے۔” میں نے بتایا جس کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے میاں چنوں کے ہسپتال بھجوا دی گئی ہے۔”
بوڑھے منظور حسین کے چہرے پر زردی کھنڈ گئی۔ وہ لرزیدہ لہجے میں بولا ” مجھے فوری طور پر ہسپتال لے چلیں۔ میں خود اپنی آنکھوں سے اسے دیکھوں گا۔ خدا کرے وہ کوئی اور ہو … میرا پتر تو لیبیا گیا ہوا ہے لیکن وہ نشان …
وہ جملہ ادھورا چھوڑ کر اچانک خاموش ہو گیا پھر وحشت بھری نظر سے ہم دونوں کو باری باری دیکھنے لگا۔ میں نے تیز لہجے میں پوچھا۔
چاچا اتم کسی نشان کا ذکر کر رہے ہو؟”
اس نے ڈبڈبائی ہوئی آنکھوں سے پریس کارڈ پر چسپاں تصویر کو دیکھا پھر متوفی فاضل کی پیشانی پر انگلی رکھتے ہوئے گلوگیر لہجے میں گویا ہوا یہ نشان دیکھ رہے ہیں آپ ! یہ بچپن میں لگنے والی ایک چوٹ کا نشان ہے۔ گلی ڈنڈا کھیلتے ہوئے بچوں میں لڑائی ہو گئی تھی۔
مخالف ٹیم کے ایک لڑکے نے جیدے کی پیشانی پھوڑ دی تھی لیکن لیکن یہ تو کوئی محمد فاضل ہے۔
“جذبات کی شدت نے منظور حسین کی آواز کو ہچکیوں میں بدل دیا۔ اسی وقت اس کی بیوی رحمت بی بی واپس لوٹ آئی۔ جب رحمت بی بی کو صورتحال کے بارے میں خبر ہوئی تو وہ با قاعدہ بین کرنے لگی۔ تصویر کو دیکھ کر اس نے بھی تصدیق کر دی تھی کہ وہ اس کے بیٹے جاوید ہی کی تصویر تھی۔ اس وقت میں اور اے ایس آئی صدیق جنجوعہ ایک ہی بات سوچ رہے تھے
اور وہ بات یہ تھی کہ جاوید عرف جیدا نے لیبیا کے بجائے کراچی جا کر اپنا نام اور کام تبدیل کر لیا ہوگا۔ تین سال تک اس نے اپنے بیوی بچوں اور ماں باپ سے رابطہ کیوں نہیں کیا تھا یہ سمجھے میں آنے والی بات نہیں تھی۔ جائے وقوعہ سے جو سوٹ کیس ہمیں ملا تھا اس میں موجود اشیاء سے ہی اندازہ ہوتا تھا کہ وہ سامان مستوفی اپنے بچوں کے لیے لایا ہو گا۔
میں نے منظور حسین سے کہا تم نے بتایا ہے کہ تمہاری بہو گزشتہ ایک سال سے بچوں کو لے کر میکے جاچکی ہے۔ کیا اس کا میکا محسور کوٹ میں ہی ہے؟”
نہیں جی! ہم اسے سرائے سدھو سے بیاہ کر لائے تھے ۔ منظور حسین نے جواب دیا۔
میں نے کہا ” برائے سدھو تو بہت بڑا علاقہ ہے؟”
وہ بولا سرائے سدھو میں وہ موضع جودھ پور میں رہتے ہیں۔”
میں نے جاوید عرف جیدا کی سرال کا مکمل پتاپنی ڈائری میں نوٹ کیا پھر منظور حسین سے کہا پوسٹ مارٹم کے معاملات نمٹ جائیں تو پھر تم لاش کی شناخت کے لیےآجانا۔ اگر وہ واقعی تمہارے بیٹے کی لاش ہوئی تو تمہارے حوالے کر دی جائے گی۔ بہتر ہوگا کہ تم اپنی بہو کو بھی ساتھ لے آؤ۔ اس طرح متوفی کی شناخت میں آسانی رہے گی۔ ایسے میں
بہت جلد کراچی بھی جانے والا ہوں۔ اس طرف کا حال احوال جانا بھی بہت ضروری ہے۔”
اس کے بعد ہم مزید تھوڑی دیر وہاں بیٹھے پھر منظور حسین کے گھر سے باہر نکل آئے۔ میرے ساتھ چلتے ہوئے صدیق جنجوعہ نے کہا۔
ملک صاحب! مجھے تو پورا یقین ہے کہ متوفی محمد فاضل در اصل جیدا ہی تھا۔ کسی خوش خدا شخص کے لیے کتابت کا پیشہ اختیار کرنا زیادہ مشکل نہیں ہوتا ۔
تمہاری بات میں وزن ہے جنجوعہ جی۔ میں نے پر خیالی لہجے میں کہا لیکن ایک بات میرے ذہن کو الجھا رہی ہے۔”
کون سی بات ملک صاحب!
میں نے کہا اگر متونی واقعی جیدا ہی تھا تو تین سال تک اس نے اپنے والدین اور بیوی بچوں سے رابطہ کیوں نہیں کیا۔ دس سالہ ازدواجی رفاقت اور آٹھ سالہ بچوں کی محبت کو کوئی نگدل انسان ہی بھول سکتا ہے۔”
یہ بھی تو ہو سکتا ہے وہ اپنی بیوی سے کسی بات پر ناراض ہو کر چلا گیا ہو ۔ ” اےایس آئی نے خیال ظاہر کیا لیبیا کا بہانہ بنا کر وہ سیدھا کراچی پہنچ گیا ہو اور وہاں کتابت کا پیشہ اختیار کر کے اخبار میں ملازم ہو گیا ہو۔ اپنی شناخت کو چھپانے کے لیے اس نے اپنا نام بھی تبدیل کر لیا ہو گا۔
ہونے کو تو بہت کچھ ہوسکتا ہے۔” میں نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔ ” جیدے کی بیوی سے مل کر بہت سی اہم باتیں معلوم ہو سکتی ہیں۔ ویسے میرے خیال میں پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے بعد ہی کوئی بات واضح ہوگئی کیونکہ جس انداز میں حادثہ پیش آیا ہے اسے پوری طرح میرا ڑھن تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے۔”
کیا آپ یہ تو نہیں سوچ رہے کہ وہ سرے سے عادیہ میں نہ ہو؟“
” کسی بھی امکان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔”
اے ایس آئی بولا “ہم نے اچھی طرح کرید کر منظور حسین سے بھی پوچھ لیا ہے۔
اس نے یہی بتایا ہے کہ جیدے کی کسی سے دشمنی وغیرہ نہیں تھی۔”
بعض دشمن ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنے چہروں پر دوستوں کا نقاب چڑھائے رہتے ہیں۔ میں نے سمجھانے والے انداز میں کہا ” دیکھیں ! آنے والا وقت کیا لے کر آتا ہے ؟
ہم باتیں کرتے ہوئے تانگہ سٹینڈ تک پہنچ گئے ۔ اس دوران میں، میں نے محسوس کیا کہ ایک شخص کچھ فاصلہ رکھ کر ہمارا تعاقب کر رہا تھا۔ جب مجھے تعاقب کا یقین ہو گیا تو میں نے اچانک پلٹ کر متعاقب شخص کو مخاطب کر لیا ۔
جوان ! تم کچھ کہنا چاہتے ہو؟”
وہ میں بتیس سال کا ایک صحت مند شخص تھا۔ اپنی چوری پکڑے جانے پر وہ قدرے جھینپ گیا لیکن گھر دیا بالکل نہیں۔ وہ تیز قدموں سے چلتے ہوئے ہمارے نزدیک آ گیا، پھر باری باری ہم دونوں کو سلام کرنے کے بعد مجھ سے مخاطب ہوتے ہوئے بولا۔ تھانیدار صاحب امیں آپ سے ایک ضروری بات کرنا چاہتا ہوں۔”
میں نے کہا پہلے یہ بتاؤ تم ہو کون تمہارا نام کیا ہے؟“
میرا نام فدا حسین ہے اور میں جیدے کا ایک پرانا دوست ہوں۔‘اس نے بڑےرسمان سے جواب دیا ۔
اوہ ! میں نے ایک طویل سانس خارج کی پھر پوچھا اب بتاؤ تمہیں مجھ سے کیا کام ہے۔ تم کون سی ضروری بات کرنا چاہتے ہو؟”
وہ بولا ” مجھے پتا ہے کہ آپ جیدے کے گھر گئے تھے ۔”
ہاں گئے تھے پھر ؟ میں نے سوالیہ نظر سے اسے دیکھا۔
” سنا ہے جیدے کو کوئی حادثہ پیش آگیا ہے؟“
میں نے کہا ” جس شخص کو حادثہ پیش آیا ہے اگر وہ واقعی تمہارا دوست جیدائی ہے تو مجھے بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ تمہارا دوست اب اس دنیا میں نہیں رہا۔ پھر میں نے مختصر ا ا سے تمام حالات بتائے۔
پریس کارڈ کے ذکر پر اس نے متوفی کی تصویر دیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ میں نے مذکورہ کارڈ اس کے سامنے کر دیا۔ اس نے ایک لمحے میں تصدیق کر دی کہ وہ تصویر جیدے ہی کی تھی۔
میں نے فداحسین نے پوچھا ”ہماری اب تک کی معلومات کے مطابق یہ شخص کراچی کے ایک اخبار میں بطور کاتب کام کر رہا تھا اور آٹھ جنوری کو کراچی سے میاں چنوں پہنچا تھا۔ تمہارے بیان کے مطابق اگر یہ واقعی تمہارا دوست جیدا ہے تو پھر تمہیں یہ بھی معلوم ہوگا کہ اس نے اپنا نام کیوں تبدیل کر لیا تھا۔ کیا تم جانتے تھے کہ وہ کراچی میں ملازمت کر رہاتھا؟
یہ بات مجھے معلوم نہیں تھی۔ اس نے نفی میں سر ہلایا دوسرے لوگوں کی طرح میں بھی یہی جانتا تھا کہ وہ روزگار کے سلسلے میں لیبیا چلا گیا تھا، پھر اس کی کوئی خبر نہیں ملی تھی
لیکن لیکن مجھے محسوس ہورہا ہے کہ وہ سرے سے لیا گیا ہی نہیں تھا۔ وہ بھلا لیبیا کیسے جاسکتا تھا اس نے خود کلامی کے انداز میں کہا پھر خاموش ہو گیا۔
فداحسین کے مشکوک انداز نے مجھے چونکا دیا۔ میں نے تیز لہجے میں پوچھا یہ کیا بات کر دی تم نے جیدا لیبیا کیوں نہیں جا سکتا تھا ؟”
بس جی کچھ ایسی ہی بات تھی۔”
مجھے واضح طور پر محسوس ہوا کہ وہ کچھ چھپانے کی کوشش کر رہا تھا۔ میں نے کہا فداحسین! میری بات غور سے سنو۔ اگر تم واقعی جیدے کے مخلص دوست ہو تو اس معمے کو حل کرنے میں ہماری مدد کرو۔ میں کر اپنی جاکر ساری صورتحال تو معلوم کر ہی لوں گا۔ جو کچھ تم جیرے کے بارے میں جانتے ہو وہ ہمیں بتاؤ۔“
آپ فکر نہ کریں تھانیدار صاحب ! وہ میری طرف دیکھتے ہوئے بولا ” میں آپ سے کوئی جھوٹ نہیں بولوں گا بلکہ میں تو آپ سے سچ بولنے کے لیے ہی یہاں تک پہنچا ہوں۔“
تو پھر شروع ہو جاؤ ” سچ کیا ہے؟”
فدا حسین نے ایک طویل سانس خارج کرتے ہوئے جو تفصیل بتائی اس کا خلاصہ کچھ اس طرح ہے۔
جاوید عرف جیدا کو موضع حسین آباد کی کسی لڑکی سے محبت ہو گئی تھی۔ مویشیوں کی خرید و فروخت کے سلسلے میں جیدا اکثر و بیشتر حسین آباد (میاں چنوں) جاتا رہتا تھا۔ مذکورہ لڑکی کے بھائی سے جیدے کی علیک سلیک تھی اور گھر میں بھی آنا جانا ہو گیا تھا۔ لڑکی کا بھائی ان دونوں کی محبت کے معاملات سے ناواقف تھا۔ وہ لڑکی بھی جیدے کو چاہنے لگی تھی ۔
جیدا اگر چہ فداحسین کا دوست تھا لیکن وہ اندر سے اتنا گہرا تھا کہ اس نے فداحسین کو لڑکی کی ہوا بھی نہ لگنے دی۔ فداحسین صرف اتنا جانتا تھا کہ وہ کسی لڑکی سے محبت کرتا تھا اور وہ لڑکی حسین آباد کی رہنے والی تھی۔ لڑکی کا نام کیا تھا، اس کے بھائی کا نام کیا تھا
اور ان کا گھر حسین آباد میں کسی جگہ واقع تھا۔ یہ تمام باتیں فداحسین کو معلوم نہیں تھیں ۔ ہزار بار پوچھنے کے باوجود بھی جیدے نے کچھ نہیں بتایا تھا۔ اپنی بات کے آخر میں فدا حسین نے کہا۔
پھر ایک روز جید ا غائب ہو گیا ۔ آہ! مجھے اس کی گمشدگی کا بڑا دکھ ہوا لیکن میں کر بھی کیا سکتا تھا۔”
” تم نے جیدے کو تلاش کرنے کی کوشش نہیں کی؟” میں نے پوچھا۔
میں اسے کہاں تلاش کرتا جناب!؟“ وہ افسوسناک انداز میں گردن ہلاتے ہوئے بولا جیدے کے گھر والوں کے مطابق وہ لیبیا چلا گیا تھا لیکن جیدے نے اس بارے میں مجھے کچھ نہیں بتایا تھا۔ جہاں تک ممکن تھا میں نے اس کا کھوج لگانے کی کوشش کی لیکن تھوڑے ہی عرصے بعد مجھے یقین ہو گیا کہ وہ میری پہنچ سے بہت دُور جا چکا تھا۔ پھر میں صبر کر کے بیٹھ گیا اور اب تین سال کے بعد پتا چل رہا ہے کہ وہ کراچی سے میاں چنوں پہنچا
اور پھر حادثے کا شکار ہو گیا۔ خدا اس کی مغفرت کرے۔ بیچارہ بہت اچھا انسان تھا۔“
میں نے پوچھا ” خدا حسین ! تم اس بات سے واقف تھے کہ تمہارا دوست حسین آباد میں رہنے والی کسی لڑکی سے محبت کرتا تھا۔ اس کے غائب ہونے کے بعد تمہیں حسین آباد جا کر معلوم کرنا چاہئے تھا۔“
آپ بھی عجیب بات کرتے ہیں جناب!” وہ آنکھیں پھیلا کر بولا ” کیا میں حسین آباد کے ایک ایک دروازے پر دستک دے کر پوچھتا کہ کیا ان کی کوئی لڑکی گھر سے بھاگ تو نہیں گئی۔ لوگ تو میرے اس فعل پر جوتے مار مار کر میر اسر گنجا کر دیتے۔ ویسے ایک اور بات بھی ہے …
وہ جملہ ادھورا چھوڑ کر خاموش ہو گیا۔ میں نے پوچھا ” اور کون سی بات ہے؟”
وہ بولا ” جیدا میرا سچا دوست تھا۔ وہ مجھ سے کچھ چھپاتا نہیں تھا۔ جب میرے شدید اصرار پر بھی اس نے اپنی محبوبہ کے بارے میں کچھ نہیں بتایا تو مجھے یقین ہو گیا کہ وہ مجھےسے مذاق کر رہا تھا۔ محبت وجبت کا کوئی سلسلہ سرے سے تھا ہی نہیں۔ جیدے نے مجھ سے تفریح کے لیے وہ قصہ گھڑا ہوگا۔ بعض اوقات جیدا انتہائی سنجیدگی سے مذاق کرتا تھا۔ یہی وجہ
تھی کہ میں نے اس لڑکی کا سراغ لگانے کی بہت زیادہ کوشش بھی نہیں کی تھی ۔
“فدا حسین کو چاہے یقین نہ ہو لیکن حالات و واقعات کی ترتیب کو دیکھتے ہوئے مجھے اندازہ ہورہا تھا کہ دال میں کچھ کالا ضرور تھا۔ میں نے فدا حسین سے دو چار مزید سوالات کیے پھر متوفی محمد فاضل یا جاوید کی لاش کی شناعت کے لیے اسے میاں چنوں آنے کی تاکید کرتے ہوئے ہم واپس آگئے۔
راستے میں اے ایس آئی صدیق جنجوعہ نے مجھ سے کہا ” کیا خیال ہے ملک صاحب ! فداحسین کی سنائی ہوئی کہانی میں کوئی جان نظر آتی ہے؟”
اگر اس کہانی میں جان نہیں تو یہ بے جان بھی نہیں ہے۔” میں نے کہا اس کے امکانات بہر حال موجود ہیں کہ جیدا کسی لڑکی کو بھگا کر کراچی پہنچا ہو پھر اپنا نام محمد فاضل رکھ کر وہاں رہنے لگا ہو۔“
اس امر کی تصدیق تو کراچی جا کر ہی کی جاسکتی ہے۔”
بالکل درست۔ میں نے پر خیال انداز میں کہا لیکن اس سے پہلے ایک اور بات کی تصدیق کرنا بھی ضروری ہے۔”
وہ کیا جناب؟ جنجوعہ نے سوالیہ نظر سے مجھے دیکھا۔
میں نے کہا ہمیں معلوم کرنا چاہئے کہ تین سال قبل حسین آباد کے کسی گھر سے کون سی لڑکی غائب ہوئی تھی ؟“
“میرا خیال ہے اگر ہم یہ جانے میں کامیاب ہو جائیں کہ حسین آباد (میاں چنوں) کے کس گھر میں جیدے کا آنا جانا تھا تو سارا مسئلہ ہی حل ہو جائے گا۔”
اور یہ کوئی زیادہ مشکل کام نہیں ہوگا۔ میں نے کہا۔
جی ملک صاحب! جنجوعہ نے کہا “ہمارے مخبر آسانی سے یہ کام کرلیں گے۔”
مخبروں کے ساتھ ہمیں رائی بشیراں کو بھی الرٹ کرنا ہوگا۔ میں نے سوچ میں ڈوبے ہوئے لہجے میں کہا ‘وائی بشیراں کی رہائش نور پور میں ہے لیکن نور پور کے آس پاس مرزا پور حسین آباد کوٹ تجن سنگھ اور مختلف چکوں میں اس کی آمد ورفت جاری رہتی ہے۔ وہ وہاں کے گھر گھر کی خبر رکھتی ہے۔ میرے خیال میں دیگر مہبروں کی بہ نسبت دائی بشیراں زیادہ
مفید ثابت ہوگی ۔“‘
میں آپ کے خیال سے اتفاق کرتا ہوں۔”
ہمیں تھانے پہنچتے ہی ان خطوط پر کام شروع کر دینا چاہئے ۔ میں نے گھیر لہجے میں کہا ” کراچی جانے سے پہلے مجھے معلوم ہو جانا چاہئے کہ جیدا یہاں سے کیا گل کھلا کر گیا تھا۔
ان شاء اللہ سب معلوم ہو جائے گا۔ اے ایس آئی کے لہجے سے اعتماد اور یقین غروب آفتاب سے پہلے ہم واپس تھانے پہنچ گئے ۔
پوسٹ مارٹم کی رپورٹ نے تہلکہ ڈال دیا تھا؟
ہم اب تک جسے حادثہ سمجھ رہے تھے وہ قتل کی ایک واردات نکلی تھی۔ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے مطابق محمد فاضل یا جیدے کی موت سات جنوری کی رات نو اور دس بجے کے درمیان واقع ہوئی تھی۔ وجہ موت کوئی تیز دھار آلہ تھا جو مقتول کی پسلیوں کو پھاڑتا ہوا جسم میں داخل ہوا تھا اور دل کو چیر گیا تھا۔ میڈیکل ایگزامنر کے مطابق دل کا بری طرح مجروح ہونا بدقسمت مسافر کی موت کا سبب بنا تھا۔ یہ بات واضح ہو گئی تھی کہ اسے قتل کیا گیا تھا اور ٹرین
کچلے جانے سے کوئی پانچ چھ گھنٹے قبل وہ اس دنیا سے رخصت ہو چکا تھا۔ اس کا قاتل جو کوئی بھی تھا۔ اس نے اس قتل کو حادثے کا رنگ دینے کی کوشش کی تھی مگر پوسٹ مارٹم کی رپورٹ نے اس کے قریب کی قلعی کھول دی تھی۔ مقتول کو قتل کرنے کے بعد ریلوے کی پٹڑی پر پھینک دیا گیا تھا تا کہ یہ سیدھا سیدھا حادثہ دکھائی دے۔
میں نے اپنے طور پر معلوم کر لیا تھا کہ جس ٹرین سے مقتول میاں چنوں کے ریلوے سٹیشن پر پہنچا تھا اس کے آدھے گھنٹے بعد ایک ڈین وہاں سے کراچی کی جانب روانہ ہوئی تھی یعنی تقریباً ساڑھے نو بجے ۔ اس ٹرین کے بعد اس ریلوے لائن سے پھر وہی ٹرین گزری تھی جس نے مقتول کے جسم کو دوحصوں میں تقسیم کر دیا تھا یعنی رات کو تین بجے کراچی سے آنے والی ٹرین۔
ان تمام اعداد و شمار سے یہ بات ثابت ہوئی تھی کہ مقتول کو دس بجے کے بعد ہی ریلوے کی پٹڑی پر ڈالا گیا تھا اور اس سے پہلے وہ حیات کی قید سے آزاد ہو چکا تھا۔ موقع واردات سے ملنے والے مقتول کے سامان سے اندازہ ہوتا تھا کہ وہ کسی چور لٹیرے کا
کارنامہ نہیں ہو سکتا تھا۔ اب ایک ہی امکان باقی رہ جاتا تھا… انتقامی کارروائی ۔ قاتل جو کوئی بھی تھا وہ مقتول کو پہلا پھسلا کر پلیٹ فارم سے ان ویران جھاڑیوں کی طرف لے آیا ہوگا پھر خاموشی سے اس کا کام تمام کر دیا ہوگا۔
یہ سوچتے ہوئے میرا ذہن قاتل کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ایسا شخص کون ہو سکتا تھا جو مقتول کے لیے اپنے دل میں بہت زیادہ نفرت رکھتا ہو۔ گھوم پھر کر میرے ذہن میں اس لڑکی کا خیال آرہا تھا، جس کے بارے میں فدا حسین نے بتایا تھا۔ اگر واقعی جیدا کسی نوجوان لڑکی کو تین سال قبل حسین آباد سے بھگا لے گیا تھا تو اس لڑکی کا کوئی لگنا لگاتا اس واردات میں ملوث ہو سکتا تھا۔
یہ معلوم ہونے کے بعد کہ وہ قتل کی ایک واردات تھی میں آلہ قتل کی تلاش میں مصروف ہو گیا۔ اس تلاش کا آغاز میں نے جائے واردات کے آس پاس پائی جانے والی جھاڑیوں سے کیا۔ ہم نے دو گھنٹے میں اس علاقے کا چپا چپا دیکھ ڈالا ۔ اس مشقت میں ہمیں نا کامیابی نہیں ہوئی۔ جائے وقوعہ سے کوئی ڈیڑھ فرلانگ ڈور نہیں ایک جھاڑی میں سے بڑے سائز کا ایک خنجر نما چپھر امل گیا۔ اس خنجر پر ایک دو جگہ خشک خون کے آثار بھی دکھائی دے رہے تھے۔
میں نے بڑی احتیاط سے وہ خنجر اپنے پاس کپڑے کے ایک تھیلے میں محفوظ کر لیا۔
اس زمانے میں فنگر پرنٹس اٹھانے کا رواج نہیں تھا اور نہ ہی عدالت میں ان کی اہمیت کو مانا جاتا تھا۔ بہر حال آلہ قتل کا مل جانا ایک خوش آئند بات تھی۔ میں نے اس فنجر کو لیبارٹری ٹیسٹ کے لیے بھیجوا دیا ۔
اسی شام لیبارٹری کی رپورٹ آ گئی، جس کے مطابق جیدے کو اسی خنجر سے موت کے گھاٹ اتارا گیا تھا۔ جیدے” کا نام میں نے اتنے وثوق سے اس لیے استعمال کیا ہے کہ اس کے وارثوں نے اس کی شناخت کرلی تھی۔ منظور حسین رحمت بی بی اور مقتول کی بیوہ زہرہ فاطمہ نے پورے وثوق سے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ وہ جاوید عرف جیدا ہی تھا۔ اب اس بات میں کسی شک وشبہ کی گنجائش باقی نہیں رہی تھی کہ جاوید نے محمد فاضل کے فرضی نام سے کراچی میں رہائش اور ملازمت اختیار کر رکھی تھی۔ لڑکی کو بھگا لے جانے والا معالمہ تو کراچی پہنچ کر ہی معلوم ہوسکتا تھا۔
ضروری کارروائی کے بعد جیدے کی لاش اس کے ورثا کے حوالے کر دی گئی۔ اس موقع پر میں نے جیدے کی بیوی زہرہ فاطمہ سے علیحدگی میں ملاقات بھی کی اور اس سے چند ضروری سوالات بھی پوچھے۔
زہرہ فاطمہ کی عمر لگ بھگ تمہیں سال رہی ہوگی۔ وہ ایک خوش شکل اور صحت مند عورت تھی، لیکن اس وقت اس کی حالت خاصی نا گفتہ بہ ہورہی تھی۔ اس کے بال پریشان تھے
اور صورت سے وہ اجڑی ہوئی لگ رہی تھی۔
میں نے جائے واردات سے ملنے والا سوٹ کیس اپنی میز پر رکھا اور زہرہ فاطمہ کو بتایا کہ مذکورہ سوٹ کیس ہمیں جیدے کی لاش کے قریب جھاڑیوں سے ملا تھا۔
زہرہ نے سوٹ کیس کھول کر دیکھا تو اس کی آنکھوں سے آنسوپ سیپ گرنے لگے۔ وہ اپنے اور بچوں کے لیے لائے گئے تحائف کو دیکھ کر بے حد جذباتی ہوگئی تھی اور اس نے باقاعدہ رونا شروع کر دیا۔ میں نے مقتول کا پریس کارڈ اپنے پاس رکھ کر باقی تمام اشیاء اس کے حوالے کر دیں۔
تھوڑی دیر بعد زہرہ کی اشکبار آنکھیں تھمیں تو میں نے اس سے پوچھا ‘ مجھے پتا چلاہے کہ تمہارا شوہر لیبیا کمانے چلا گیا تھا، مگر شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ کراچی میں تھا اورایک اخبار میں کاتب کے طور پر کام کر رہا تھا ؟“
سچ اور جھوٹ کا علم تو سوہنے رب کو ہی ہے جناب! وہ گلو گیر آواز میں بولی
مجھے تو وہ کہیں بتا کر گیا تھا کہ کمائی کرنے لیبیا جارہا ہے۔ میں اس کے دل کا حال کیسے جان سکتی تھی؟”
وہ تقریباً تین سال قبل یہاں سے گیا تھا ! میں نے تصدیقی انداز میں زہرہ کی جانب دیکھا۔ اس نے اثبات میں سر ہلایا۔ میں نے پوچھا ” اس دوران میں اس نے تم سےکوئی رابطہ نہیں کیا ؟“
اگرچہ مجھے اس بارے میں معلوم ہو چکا تھا لیکن میں زہرہ کی زبان سے بھی سنناچاہتا تھا۔ ممکن تھا اس طرح کوئی اہم بات معلوم ہو جاتی ۔ وہ بولی مجھ سے کیا اس نے تو اپنے ماں باپ سے بھی کوئی رابطہ نہیں کیا تھا۔ میں دو سال تک محمود کوٹ میں اس کی واپسی کا انتظار کرتی رہی، پھر اپنے والدین کے پاس جودھ پورچلی گئی تھی۔”
ایک ذاتی نوعیت کی بات پوچھنا چاہتا ہوں۔“
زہرہ نے نگاہ اٹھا کر سوالیہ نظر سے مجھے دیکھا۔ میں نے کہا اب یہ بات تو ثابت ہو چکی ہے کہ تمہارا شوہر لیبیا نہیں گیا تھا اور یہیں پاکستان میں کراچی میں ہی موجود تھا۔ گزشتہ تین سال سے اس نے تم سے کوئی رابطہ کیا نہ ہی کوئی خرچہ وغیرہ بھیجا۔ اس سے میرے ذہن میں ایک سوال پیدا ہوتا ہے۔ زہرہ فاطمہ ! کیا جیدا تم سے ناراض ہو کر گیا تھا؟“
اس نے جواب دینے میں تامل کیا۔ میں نے کہا اگر تم چاہتی ہو کہ میں تمہارے شوہر کے قاتل کو گرفتار کرلوں تو تمہیں میرے ساتھ تعاون کرنا ہوگا۔ اگر تم نے میرے سوال کا جواب نہیں دیا تو میں سمجھوں گا تم عدم تعاون کا مظاہرہ کر رہی ہو۔”
وہ کچھ سوچتے ہوئے بولی ” تھانیدار صاحب دو تو اکثر مجھ سے ناراض ہی رہتا تھا۔
اس نے کبھی مجھ سے سیدھے منہ بات نہیں کی تھی۔ میں کیا؟ وہ تو بچوں کے معاملے میں بھی خاصا سخت گیر تھا۔ کہتے ہیں، مرنے والے کی برائی نہیں کرنی چاہئے۔ اب میں آپ کو کیا بتاؤں ۔ شاید وہ مجھ سے شادی کر کے خوش نہیں تھا۔ گزشتہ دس سال میں کبھی اس نے مجھ سےسےمحبت کی زبان میں گفتگو نہیں کی تھی۔”
اس کو تم سے کوئی خاص شکایت تھی ؟”
میں نے تو ہمیشہ نہیں کوشش کی تھی کہ اسے مجھ سے کوئی شکایت پیدا نہ ہو وہ ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے بولی لیکن میں اپنی کوششوں میں کامیاب نہ ہوسکی۔
” تم دونوں میں لڑائی جھگڑا بھی ہوتا رہتا تھا ؟ ” میں نے پوچھا۔
” کم و بیش ہر روز یا
جھگڑے کی وجہ عموماً کیا ہوتی تھی؟”
ا سے لڑائی کرنے کے لیے کسی وجہ کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ زہرہ نے رکھی لیجے میں بتایا معمولی سے معمولی بات پر بھی وہ طوفان کھڑا کر دیتا تھا۔ کبھی مجھے پھوہڑ اور بد سلیقہ ہونے کا طعنہ دیتا، کبھی شکوہ کرتا کہ میں نے اس کی زندگی جہنم بنا رکھی ہے۔ میں مشرق کی بات کرتی تو وہ مغرب کی کہ رہا ہوتا۔ بس میں اوکھے سوکھے اس کے ساتھ گزارہ کر ہی رہی تھی۔ پھر دو مجھے چھوڑ کر چلا گیا۔ ایک لمحے کے توقف سے اس نے مجروح لیجے میں اضافہ کیا چھوڑنا ہی تھا تو سیدھی طرح چھوڑ دیتا لیبیا جانے کا بہانہ کرنے کی کیا ضرورت تھی؟”
اس کا طویل بیان ختم ہوا تو میں نے راز دارانہ انداز میں پوچھا زہرہ فاطمہ!
جیدے کی اس بیزاری اور اکتاہٹ کے پیچھے کہیں کوئی دوسری عورت تو نہیں تھی ؟”
جی اس نے آنکھیں پھیلا کر مجھے دیکھا۔
میں نے کہا ” تم میرا مطلب سمجھ گئی ہو گی ؟“
وہ تامل کرتے ہوئے بولی اب وہ اس دنیا میں نہیں رہا۔ کچھ کہوں گی تو اس کی برائی ہوگی مگر سچی بات تو یہ ہے کہ وہ ہر حسین عورت کو دیکھ کر ڈانواں ڈول ہو جاتا تھا۔”
میں نے اچانک پوچھا ” کیا وہ دوسری شادی کرنا چاہتا تھا ؟ “
وہ بے دھڑک بولی ہاں ! اس نے ایسی بات کی تو تھی ۔”
پھر تو اس نے یہ بھی بتایا ہوگا کہ وہ کس سے شادی کرنے کا ارادہ رکھتا تھا؟ میںنے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سوال کیا۔
وہ بولی “جیدا بڑا گہرا آدمی تھا۔ اس نے مجھ سے دوسری شادی کی اجازت تو مانگی تھی لیکن میرے بے حد اصرار کے باوجود بھی یہ نہیں بتایا کہ وہ کسی عورت کو مجھ پر سوکن بنا کرلانا چاہتا تھا۔“
کیا تم نے اسے دوسری شادی کی اجازت دیدی تھی۔”
” کیا میرا دماغ خراب ہوا تھا جو ایسی اجازت دیتی وہ تیوری چڑھاتے ہوئے بولی ” میں نے واضح الفاظ میں اسے بتا دیا تھا کہ میری زندگی میں اس کا یہ خواب کبھی پورا نہیں ہو سکے گا۔ اگر کوئی عورت مجھ پر سوکن بن کر آئی تو میں اس کی ٹانگیں تو ڑ دوں گی ۔
“پھر اس نے کیا کہا تھا؟“
” کچھ بھی نہیں، خاموش ہو گیا تھا۔ زہرہ فاطمہ نے بتایا۔
دوبارہ اس نے دوسری شادی کا تذکرہ نہیں کیا تھا؟“ میں نے پوچھا۔
دوبارہ اس نے نجیب سے انداز میں دُہرایا پھر بولی وہ تو اکثر و بیشتر تنہائی میں دوسری شادی کا ذکر لے بیٹھتا تھا۔ میرا ایک ہی جواب ہوتا تھا اس گھر میں، میں رہوں گی یا تمہاری دوسری بیوی ۔ اگر اسے لانا ہی ہے تو مجھے فارغ کر دو ۔ وہ کہتا زہرہ ! تمہیں تو میں کسی بھی صورت نہیں چھوڑ سکتا ۔ آخر تم میرے دو بچوں کی ماں ہو ۔ میں جوابا کہتی پھر دوسری شادی کا خیال دل سے نکال دو۔ میں جان دے دوں گی لیکن سوکن کو ایک لمحے کے لیے بھی برداشت نہیں کر سکتی۔”
ہمارے معاشرے میں عموماً دوسری شادی کو اچھا نہیں سمجھا جاتا، بعض عورتیں تو اسے گناہ کبیرہ تصور کرتی ہیں۔ ایسی عورتوں کا بس چلے تو دوسری شادی کرنے والے شوہروں کو سر عام پھانسی پر لٹکوا دیں لیکن بعض مخصوص حالات میں یہی عورتیں عقد ثانی کو کار ثواب جانتے ہوئے بڑے دھڑلے سے دوسری عورت کی زندگی میں کود پڑتی ہیں ۔ یعنی شادی شدہ
مرد سے شادی کر لیتی ہیں۔ اسلام نے اگر چار شادیوں کی اجازت دی ہے (مرد کو ) تو اس میں بڑی حکمت پوشیدہ ہے۔ اگر کوئی مرد دوسری شادی کی ضرورت محسوس کرتا ہے اور اخراجات بر چاشت کرنے کے ساتھ ساتھ دونوں بیویوں میں حقوق کی منصفانہ تقسیم پر بھی قدرت رکھتا ہے تو اس کے راستے میں روڑے نہیں انکانا چاہئیں۔ بصورت دیگر ضد میں آکر وہ پہلی بیوی کو طلاق دے کر بھی دوسری شادی کر سکتا ہے۔
میں یہ ساری باتیں اس وقت زہرہ فاطمہ کو نہیں سمجھا سکتا تھا۔ میں نے کہا تو صرف اتنا کہا۔
اگر تم جیدے کو دوسری شادی کی اجازت دے دیتیں تو آج صورت حال قدرے مختلف ہوتی ۔”
دیکھاگیا تھا۔
جیدے کی موت سے دوسری شادی کا کیا تعلق؟” اس نے سوالیہ نظر سے مجھے میں نے کہا ” مجھے شک ہے کہ تین سال قبل پیدا کسی لڑکی کو اپنے ساتھ بھگا کر لے
کون سی لڑکی؟”
ممکن ہے وہی لڑکی ہو جس سے وہ دوسری شادی کرنا چاہتا تھا؟“ میں نے کہا۔
اس نے پوچھا تھانیدار صاحب! کیا آپ اس لڑکی کو جانتے ہیں؟“
فی الحال صرف اتنا جانتا ہوں کہ وہ میاں چنوں کے علاقے حسین آباد کی رہنے والی ہوسکتی ہے۔”
ہو سکتی ہے کا مطلب تو یہ ہوا کہ آپ کو بھی ابھی پورا یقین نہیں ہے؟” اس نے سوالیہ نظر سے مجھے دیکھا۔
میں نے سر کو اثباتی جنبش دیتے ہوئے کہا تمہارا اندازہ بالکل درست ہے لیکن مجھے پوری امید ہے کہ میں بہت جلد اس کے بارے میں سب کچھ جان لوں گا۔“
وہ کسی گہرے خیال میں ڈوب گئی ۔
میں نے ایک لمحے کے توقف سے پوچھا “زہرا فاطمہ ! یہ بتاؤ کہ جیدے نے کبھی اپنے کسی دشمن کا بھی ذکر کیا تھا ؟”
” کیسا دشمن جناب؟””
کوئی ایسا شخص جس سے اسے جان کا خطرہ ہو؟“
وہ کچھ سوچتے ہوئے بولی ” میں کسی ایسے شخص کو نہیں جانتی جو جیدے کی جان کا دشمن ہو ۔ اس نے بھی کبھی ایسے کسی شخص کے بارے میں نہیں بتایا تھا۔”
میں نے کہا ”انسان کے جہاں دس دوست ہوتے ہیں وہاں ایک آدھ دشمن بھی ضرور ہوتا ہے۔ جیدا مویشیوں کی خرید وفروخت کا کام کرتا تھا۔ کسی شخص سے کبھی اس کا جھگڑا ہوا ہو تو بتاؤ ؟ “
وہ طنزیہ انداز میں بولی ” جیدے کا صرف ایک انسان سے جھگڑا ہوتا رہتا تھا اور وہ انسان میں خود ہوں۔ آپ چاہیں تو مجھے اس کا دشمن تصور کر لیں، حالانکہ میں نے ہمیشہ اسے آرام و سکون پہنچانے ہی کی کوشش کی تھی ۔”
میں مزید کچھ دیر تک زہرہ فاطمہ سے مختلف سوالات کرتا رہا لیکن اس سے کام کی کوئی بات معلوم نہ ہوگی۔ پھر میں نے اسے جانے کی اجازت دے دی۔
ویسے ایک بات تھی، مقتول جیدے کے دوست فداحسین نے مقتول کی جس محبت کا تذکرہ کیا تھا وہ کوئی فرضی قصہ نہیں تھا۔ زہرہ فاطمہ سے گفتگو کے دوران میں یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ گئی تھی کہ مقتول واقعی دوسری شادی کے لیے سنجیدہ تھا۔ پھر وہ اچانک لیبیا جانے کا بہانہ کر کے منظر سے غائب ہو گیا۔ اب ان شواہد کی روشنی میں اس بارے میں سوچنے کے قوی امکانات تھے کہ وہ اپنی محبوبہ کو اپنے ساتھ بھگا کر لے گیا ہوگا۔ وہ محبوبہ جو ابھی تک نامعلوم تھی۔ وہ حسین آباد کی رہنے والی تھی اور اس کے کسی بھائی وغیرہ سے مقتول کے مراسم تھے۔
میں اس سے زیادہ کچھ نہیں جانتا تھا لیکن مجھے پوری امید تھی کہ عنقریب بہت کچھ جان جاؤں گا۔
تیسرے روز میری امید بر آئی۔
میں حسب معمول اپنے دفتر میں بیٹھا روز مرہ کے کاموں میں مصروف تھا کہ ایک کانٹیبل نے اندر آ کر اطلاع دی۔
ملک صاحب ! دائی بشیراں آپ سے ملنے آئی ہے۔”
ٹھیک ہے اسے فورا اندر بھیجو۔ میں نے جلدی سے کہا۔
تھوڑی دیر کے بعد دائی بشیراں میرے کمرے میں داخل ہوئی۔ اس کے چہرے سے کامیابی کی مخصوص روشنی پھوٹ رہی تھی۔ میں نے اپنے سامنے رکھی ہوئی کرسیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اس سے کہا بیٹھ جاؤ ، بشیراں !
اس نے کرسی پر بیٹھنے سے پہلے یہ آواز بلند مجھے سلام کیا۔ میں نے اس کے سلام کا جواب دیا پھر کیہ بشیراں ! تمہارے چہرے کے تاثرات کو دیکھتے ہوئے میں نے اندازہ لگا لیا ہے کہ تم اپنے مقصد میں کامران لوٹی ہو۔”
آپ کا اندازہ بالکل درست ہے ملک صاحب ! وہ زیراب مسکراتے ہوئے بولی
انداز ہ بالکل درست ؟ “
میں نے آپ کی مطلوبہ لڑکی کا سراغ لگا لیا ہے۔”
تفصیل بتاؤ ۔” میں اپنی کرسی پر سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔
وہ بولی اس لڑکی کا نام زرینہ ہے۔ تین سال پہلے اس کی عمر انیس برس تھی۔ اب یقیناً بائیس سال ہوگی ۔ وہ تین سال قبل اچانک اپنے گھر سے غائب ہوگئی تھی، پھر اس کی کوئی خبر نہیں کی۔ ماں باپ نے اپنی عزت کی خاطر بینی کی گمشدگی کی رپورٹ درج نہیں کرائی تھی
اور اس بات کو کسی نہ کسی طرح مصلحت کے پردے میں چھپا لیا تھا۔ لڑکی کے باپ کا نام مولوی قطب دین اور ماں کا نام رفعت بیگم ہے۔ زرینہ سے چھوٹا بھائی صداقت چودہ سال کا ہے اور وہ مڈل پاس ہے۔ زرینہ سے بڑا بھائی لیاقت، خانیوال میں زرعی آلات بنانے والے ایک کارخانے میں کام کرتا ہے۔ لیاقت کی عمر لگ بھگ پچیس سال ہے اور یہی وہ شخص ہے جس سے مقتول جیدے کی علیک سلیک تھی ۔ بس یا اور کچھ ؟”
بس اتنا ہی کافی ہے۔ میں نے اطمینان بھرے لہجے میں کہا۔
وہ مسکراتے ہوئے بولی ” میرے پاس اس کے علاوہ اور بھی بہت کچھ ہے پھر وہ میرے جواب کا انتظار کیے بغیر خود ہی بتانے لگی۔
ملک صاحب ! مقتول نے زرینہ کے باپ مولوی قطب دین سے زرینہ کا رشتہ بھی مانگا تھا مگر اس نے سختی سے انکار کر دیا کہ ایک عیال دار شخص سے وہ اپنی بیٹی کی شادی نہیں کر سکتا۔ اس موقع پر لیاقت نے بھی اپنے باپ کا ساتھ دیا۔ جیدے سے اس کی سلام دعا تو تھی لیکن وہ اس رشتے کے حق میں نہیں تھا۔ اس نے جیدے کو راضح الفاظ میں منع کر دیا تھا۔ اس
کے کچھ ہی عرصے بعد زرینہ ایک روز گھر سے غائب ہو گئی ۔“ ایک لمحے کے توقف سے اس نے مزید بتایا سب سے اہم بات یہ ہے ملک صاحب کہ زرینہ گھر سے جاتے ہوئے اپنی . ماں کا زیور بھی چرا لے گئی تھی۔ میں نے تو اپنا کام کر دیا اب زرینہ کا سراغ لگانا یا نہ لگانا آپ کا کام ہے۔”
تمہارا کام ختم ہو گیا۔ بشراں میں نے مضبوط لہجے میں کہا۔ اب یہاں سے میرا کام شروع ہوتا ہے۔”
ہوتا ہے کیاےدہ بے تکلفی سے بولی اپنا کام شروع کرنے سے پہلے میرا انعام تو مجھے دےہے
ضرور ضرور ! میں نے اپنی جیب خاص سے پانچ روپے نکال کر اس کی جانب بڑھا دیے۔ یہ رکھ لو۔“
بشیراں نے وہ روپے مجھ سے لے کر گریبان میں غائب کر دئیے۔ اس زمانے میں پانچ روپے بڑی اہمیت کے حامل تھے تاہم اپنی عادت کے مطابق بشیراں نے کہا۔
ملک صاحب ! صرف پانچ رو پے ؟ اس کے لہجے میں شکوہ تھا ‘ دیکھتے نہیں، میں نے کتنی محنت کی ہے۔”
میں نے کہا یہ بھی میں فی الحال اپنی جیب ہے دے رہا ہوں۔ ویسے تمہاری محنت سے میں انکار نہیں کروں گا۔ میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ جب یہ کیس مانی ہو جائے گا تو تمہیں سرکار کی جانب سے بھی کچھ ضرور دلواؤں گا۔“
وہ خوش ہوگئی اور مجھے دعائیں دیتے ہوئے وہاں سے چلی گئی۔ بشیراں کے جانے کے بعد میں نے صدیق جنجوعہ کو اپنے کمرے میں بلا لیا۔
جنجوعہ نے کمرے میں داخل ہو کر مجھے سملینوٹ کیا پھر مجھ سے اجازت حاصل کرنے کے بعد ایک کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولا حکم ملک صاحب !”
میں نے کہا “ہمیں فوری طور پر حسین آباد جانا ہے۔”
میں بولا ۔
اوہ ! اس کا مطلب ہے، مقتول کی محبوبہ کا کچھ سراغ مل گیا ہے وہ پر سوچ لہجے” کچھ نہیں بلکہ بہت کچھ میں نے جوشیلے لہجے میں کہا پھر بشیراں دائی سے حاصل ہونے والی چیدہ چیدہ باتیں جنجوعہ کے گوش گزار کر دیں۔
پوری بات سمجھنے کے بعد وہ بولا ٹھیک ہے ملک صاحب! میں تو بالکل تیار ہوں۔
آپ جب کہیں چل پڑیں گے۔”
میں نے کہا “ہم ٹھیک پندرہ منٹ کے بعد تھانے سے نکلیں گے۔”
پھر اسی روز سہ پہر کے وقت ہم مولوی قطب دین کے گھر کے دروازے کے سامنے کھڑے تھے۔ بشیراں نے پوری تفصیل سے مجھے اس گھر کا پتا سمجھا دیا تھا۔ ویسے حسین آباد پہلے بھی میں کئی مرتبہ آپکا تھا۔ وہ علاقہ میرا دیکھا بھالا ہوا تھا اس لیے مطلوبہ مکان تلاش کرنے میں ہمیں کسی وقت کا سامنا نہیں کرنا پڑا ۔ اس وقت ہم سادہ لباس میں تھے۔
میری دستک کے جواب میں ایک فربہ اندام بوڑھے شخص نے دروازہ کھولا ۔ اس نے داڑھی رکھی ہوئی تھی اور اس کی توند باہر کو نکلی ہوئی تھی۔ میں نے پہلی ہی نظر میں اندازہ لگا لیا کہ وہ مولوی قطب دین تھا۔ اس نے گھور کر سوالیہ نظر ہے. مجھے دیکھا۔ میں نے اپنا تعارف کروانا ضروری سمجھا۔
میں نے کہا “میرا نام ملک صفدر حیات ہے۔ میں میاں چنوں کے ایک تھانے کاانچارج ہوں۔ آپ یقیناً مولوی قطب دین ہیں؟
وہ چڑھی ہوئی تیوری کے ساتھ بولا ” جی میں ہی مولوی قطب دین ہوں، آپ کسی سلسلے میں یہاں آئے ہیں؟”
ہوں۔”میں نے کہا میں آپ کی بیٹی زرینہ کے سلسلے میں آپ سے بات کرنے آیا کون زرینہ ؟ وہ اکھڑے ہوئے لہجے میں بولا۔
“آپ کی بیٹی زرینہ ! میں نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا۔
وہ ایک دم بھڑک اٹھا ” میں کسی زرینہ کو نہیں جانتا۔ اس نام کی میری کوئی بیٹی نہیں ہے۔ سمجھے آپ جائیں۔ کوئی اور دروازہ کھٹکھٹائیں۔”
وہ بوڑھا آدمی تھا لیکن خاصا اوکھا بول رہا تھا چونکہ اس نے ادب آداب کی پروا نہیں کی تھی لہذا میں نے بھی ترش انداز اختیار کیا اور چھتے ہوئے لہجے میں کہا۔
قبلہ میں اس زرینہ کا ذکر کر رہا ہوں جو تین سال قبل گھر سے بھاگ گئی تھی۔ آپ کی اکلوتی بیٹی زرینہ کیا سمجھے؟“
وہ ایک دم ہمجھے سے اکھڑ گیا اور جذبات سے مغار آواز میں بولا ” میں ایک بار پھر آپ کو بتا رہا ہوں کہ آپ غلط دروازے پر آگئے ہیں۔ میں کسی زرینہ نامی لڑکی سے واقف نہیں ہوں۔ ہم عزت دار لوگ ہیں ۔ ہماری کوئی بیٹی گھر سے نہیں بھاگی۔” اس کی ہٹ دھرمی کو دیکھتے ہوئے میں نے سوال کیا آپ کی کتنی بیٹیاں یں
مولوی صاحب! آپ کون ہوتے ہیں میری بیٹیوں کے بارے میں پوچھنے والے؟ الٹا اس نے مجھ سے سوال کر ڈالا۔ہیں؟
میں نے کہا ”میں نے اپنا تعارف کروایا ہے کہ میں تھانیدار ہوں۔“
وہ عجیب سے انداز میں بولا ” تھانیدار صاحب! کیا آپ مجھے گرفتار کرنے آئے.
میں نے کہا ”اگر ضرورت پڑی تو گرفتار بھی کرلیں گے ۔ ایک لمحے کے توقف سے میں نے اضافہ کیا فی الحال تو ہم آپ کی بیٹی اکلوتی بیٹی زرینہ کے بارے میں پوچھنا چھ کرنے آئے ہیں جو تقریبا آج سے تین سال پہلے اچانک گھر سے غائب ہوگئی تھی اور تا حال آپ کو اس کی کوئی خیر خبر نہیں ہے۔”
اس کی ڈھٹائی قابل دید تھی میں نے کہ دیانا میں کسی زرینہ اور ینہ کونہیں جانتاک” مجھے تختی پر مجبور نہ کریں بزگوار میں نے قدرے نرم لہجے میں کہا اور نہ آپ کے محلے کا ایک ایک دروازہ کھٹکھٹاؤں گا۔ آپ کے رشتے دار اور محلے والے اس بات کی تصدیق کریں گے کہ زرینہ نامی کوئی لڑکی آپ کی بیٹی تھی جو انیس سال تک آپ کے گھر میں رہی پھر
“اچانک ایک دن …
میں نے دانستہ جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔ وہ برہمی سے بولا ” مجھے کسی تصدیق کی ضرورت نہیں ہے۔ میں اپنے گھریلو معاملات کو اچھی طرح سمجھتا ہوں۔”
میں نے کہا ممکن ہے آپکو تصدیق کی ضرورت نہ ہو لیکن قانون کو بہر حال اس کی ضرورت ہے کیونکہ معاملہ ایک قتل کا ہے اور میں اسی سلسلے میں تفتیش کر رہا ہوں ۔”
قت قبل ! وہ لکنت زدہ لہجے میں بولا۔
آپ کی بیٹی ہے۔
،،میں نے ٹھوس لہجے میں اضافہ کیا جی ہاں، قتل اور مجھے شک ہے اس سلسلے میں مت لیں اس کا نام ” وہ قطع کلامی کرتے ہوئے بولا وہ میرے لیے مر چکی اس کا مطلب ہے آپ اسے اپنی بیٹی تسلیم کرتے ہیں؟”
جی کے؟ وہ بوکھلاہٹ آمیز انداز میں بولا۔
میں نے سمجھانے والے انداز میں کہا “مولوی صاحب ! یہ آپ کی اکلوتی بیٹی زرینہ کا معاملہ ہے۔ گھر کے اندر بیٹھ کر بات کرنا زیادہ مناسب ہوگا۔“
ای وقت دروازے کی اوٹ سے مجھے چوڑیوں کی کھنکھناہٹ سنائی دی۔ پھر ایک ادھیڑ عمر عورت کی جھلک بھی دکھائی دی۔ میری معلومات کے مطابق وہ مولوی قطب دین کی بیوی رفعت بیگم ہو سکتی تھی ۔ دروازے کے پیچھے سے اس عورت نے دھیمی آواز میں کہا۔
آپ انہیں اندر بلا لیں صداقت کے ابا ۔”
مجھے یاد آیا صداقت، قطب دین کے سب سے چھوٹے بیٹے کا نام تھا۔ مولوی قلب دین نے ایک معائدانہ نظر ہم پر ڈالی پھر اندر کی جانب مڑ کر اپنی بیوی کو کچھ سمجھانے کی
کوشش کرنے لگا۔ اس کا لہجہ دھیما اور انداز سر گوشیا نہ تھا اس لیے انکی آواز میری سماعت تک
نہیں پہنچ رہی تھی۔ میں نے ان کی حرکات و سکنات سے انداز ولگایا کہ مولوی قطب دین ہمیں دروازے ہی سے پڑھانا چاہتا تھا جبکہ رفعت بیگم کا اصرار تھا کہ ہمیں اندر بٹھایا جائے ۔ بالآخر اس بحث و تکرار میں رفعت بیگم کو کامیابی ہوئی اور مولوی قلب دین ہمیں گھر کے اندر بلانے پر آمادہ ہو گیا۔
نے کہا
اس نے ناپسندیدہ نظر سے میں گھورتے ہوئے اکتاہٹ آمیز لہجے میں کہا ” آپ یہاں رکیں، میں بیٹھک کا دروازہ کھولتا ہوں۔“
اس وقتہ تیرہ چودہ سال کا ایک لڑکا دروازے پر پہنچا اور سوالیہ نظر سے نہیں دیکھنے لگا۔ اندر سے رفعت بیگم نے کہا “پتر صداقت ! جانس کے دکان سے تھوڑی مٹھیائی پکڑلا ۔
صداقت نامی وہ لڑکا گھر میں داخل ہونے کے بجائے الٹے قدموں واپس چلا گیا۔ تھوڑی دیر بعد ہم مولوی قطب دین کی بیٹھک میں ایک صوفے پر بیٹھے ہوئے تھے۔
رفعت بیگم نے کہا ” تھانیدار صاحب! میں آپ کے لیے چائے بنواتی ہوں ۔
اس تکلف کی ضرورت نہیں ہے” میں نے ہاتھ کے اشارے سے منع کرتے ہوئے کہا اس وقت ہم ڈیوٹی پر ہیں۔”
ڈیوٹی پر ہیں تو کیا ہوا؟ وہ اپنائیت سے بولی ” موسم خاصا ٹھنڈا ہے۔ چائے تو ضرور ہونی چاہئے۔ میں نے بچے کو مٹھائی لینے بھی بھیج دیا ہے۔ ٹھہریں، میں کام کرنے والی عورت کو چائے بنانے کا کہہ کر آتی ہوں۔“
پھر میرے کچھ بولنے سے پہلے ہی وہ گھر کے اندر غائب ہوگئی۔
ا در قعت بیگم کے واپس آنے تک مولوی قلب دین خاموش بیٹھا رہا تھا۔ جیسے ہی وہ بیٹھک میں داخل ہوئی مولوی قطب دین اٹھ کر کھڑا ہو گیا پھر لا حول پڑھنے کے بعد بولا۔
د ان فضول باتوں میں تو میری نماز نکلی جارہی ہے۔”
لانا رفعت بیگم نے کہا مولوی صاحب! آپ نماز پڑھ آئیں۔ جب تک میں تھانیدار صاحب سے بات کرتی ہوں۔“۔
مولوی قطب و مین کوئی جواب دیئے بغیر گھر سے نکل گیا۔ میں نے رفعت بیگم سے پوچھا مولوی صاحب مسجد میں نماز پڑھتے ہیں؟
“جی ہاں وہ پانچوں وقت با جماعت مسجد میں نماز پڑھتے ہیں۔ رفعت بیگم نے
جواب دیا پھر فوراً ہی سوال کر دیا تھانیدار صاحب! آپ ہماری زرینہ کے بارے میں کیا خبر لائے ہیں؟“
میں نے اس کے سوال کا جواب دینے سے پہلے کہا آپ اپنے شوہر کی بہ نسبت خاصی معقول خاتون نظر آتی ہیں وہ اپنی تعریف سن کر خوش ہو گئی۔ میں نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا ” مجھے امید ہے کہ آپ ہمارے ساتھ پورا پورا تعاون کریں گی۔”
آپ پوچھیں کیا پوچھنا چاہتے ہیں؟”
ہو گئی تھی ؟
میں نے پوچھا ” کیا یہ سچ ہے کہ تین سال پہلے آپ کی بیٹی اچانک گھر سے غائب ایک لمحے کے تامل کے بعد وہ ایک گہری سانس لیتے ہوئے بولی ہاں یہ بھی ہے
تھانیدار صاحب ! بس کیا کیا جا سکتا ہے۔ مقدر میں جو کچھ لکھا تھا وہ مل کر رہا۔ اب اس ذکر سے کیا فائدہ؟”
اور وہ آپ کا زیور بھی چرا لے گئی تھی؟ میں نے استفسار کیا۔
وہ بولی ہاں ایسا ہی ہوا تھا۔“
میں نے کہا کیا آپ کو معلوم ہے زرینہ کہاں چلی گئی تھی ؟
اس نے نفی میں جواب دیا۔
میں نے پوچھا ” گزشتہ تین سال میں اس نے کسی ذریعے سے آپ سے رابطہ کرنے کی کوئی کوشش بھی کی ہے؟“
وہ خاموش نظر سے مجھے تکنے لگی۔ میں نے وضاحت آمیز لہجے میں کہا اس کا کوئی خط وغیرہ آیا ہو؟ کوئی پیغام وغیرہ آپ کو ملا ہو؟؟
رفعت بیگم نے انکتے ہوئے لہجے میں بتایا ” مجھے دو تین مرتبہ اس کا پیغام ملا تھا۔” وہ پیغام اس نے کہاں سے بھیجا تھا؟ میں نے جلدی سے پوچھا ” میرا مطلب ہے اس نے اپنا اپنا ٹھکانا تو بتایا ہوگا ؟“
نہ پتا اور نہ ہی ٹھکانا رفعت بیگم نے عام سے لہجے میں بتایا ” بس اس نے اتنا پیغام بھیجا تھا کہ وہ خیریت سے ہے اور اپنے گھر میں خوش ہے۔ اس کے علاوہ اس نے اپنے بارے میں کوئی تفصیل نہیں لکھی تھی ۔”
میں نے پوچھا یہ پیغام کو ان لایا تھا؟“
کوئی بھی نہیں لایا تھا اس نے جواب دیا زرینہ نے خط کے ذریعے مجھے یہ سب کچھ بتایا تھا۔“
میں نے ایک فوری خیال کے تحت پوچھا ” زرینہ کے بھیجے ہوئے وہ خط آپ کے پاس موجود ہیں؟“
میرے ذہن میں خیال آیا تھا کہ خط پر لگی ہوئی میر کے ذریعے کم از کم اتنا تو معلوم ہو سکتا تھا کہ وہ خط کس شہر سے پوسٹ کیا گیا تھا لیکن رفعت بیگم نے میرے سوال کا جواب نفی میں دیا۔ہوگی؟”
وہ خط تو ہم نے اس وقت ضائع کر دیئے تھے۔“
زرینہ نے آخری خط آپ کو کب بھیجا تھا؟“
کوئی دو سال پہلے ۔”
میں نے پوچھا آپ کا کیا خیال ہے کیا زرینہ نے کسی شخص سے شادی کرلی اس بارے میں میں وثوق سے کچھ نہیں کہہ سکتی ۔“
آپ نے بتایا ہے کہ زرمینہ نے ایک خط میں لکھا تھا وہ اپنے گھر میں خوش ہے
اور خیریت سے ہے۔ میں نے ٹولنے والے انداز میں کہا ” اپنے گھر میں خوش ہونے سے تو یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ اس نے گھر بسا لیا تھا یعنی وہ کسی شخص سے شادی کر چکی تھی ۔”
ہاں لگتا تو ایسا ہی ہے وہ ہم سے انداز میں بولی پر کہا وہ کہاں اور کس شہر میں ہے میں نہیں جانتی لیکن اللہ سے میری دُعا ہے کہ وہ جہاں بھی رہے خوش رہے۔”
یہ ایک ماں کے اپنی بیٹی کے لیے بچے جذبات تھے۔
،،میں نے پوچھا ” “رفعت بیگم! آپ کچھ اندازہ لگا سکتی ہیں کہ زرینہ کسی شخص کےساتھ گھر سے بھاگی تھی؟”
یہ بڑا نازک سوال تھا لیکن میں یہ سوال کرنے پر مجبور تھا۔ اس نے بیچارگی سے مجھے دیکھا اور نفی میں سر ہلا دیا میں اس بارے میں کچھ نہیں جانتی مجھے محسوس ہوا تھا جیسے وہ کچھ چھپانے کی کوشش کر رہی ہو۔
کہا۔آپ نے قانون سے تعاون کا وعدہ کیا ہے ؟ میں نے یاد دہانی والے انداز میں
” مجھے واقعی کچھ معلوم نہیں ہے۔”
آپ
کو کسی پر شک ہے؟“
جی نہیں وہ دوٹوک انداز میں بولی۔
میں نے پوچھا ” آپ نے اپنی بیٹی کی گمشدگی کی رپورٹ درج کروائی تھی ؟
اس نے نفی میں جواب دیا میں نے پوچھا ” کیوں؟“
جو ہونا تھا، ہو گیا۔ رپورٹ درج کروانے سے کیا مل جاتا وہ دکھی لہجے میں بولی ہم نے کسی نہ کسی طرح اس بات کو دبا دیا تھا۔ تھانے میں رپورٹ کرنے سے معاملہ اور پھیلتا پھر پور کی دنیا کو پتا چل جاتا کہ زرینہ ہمارے منہ پر کون سی کالک مل کر گئی ہے۔“
میں نے ایک دوسرے انداز سے اسے کریدا “رفعت بیگم ! تمہارا بڑا بیٹا لیاقت گھرمیں نظر نہیں آرہا وہ کہاں ہے؟“
وہ بولی “لیاقت ہفتے میں صرف ایک دن گھر آتا ہے۔ ہفتے کی رات کو پھر سوموار کی صبح واپس چلا جاتا ہے۔“
” کہاں سے آتا ہے اور کہاں چلا جاتا ہے؟“
اس نے بتایا “لیاقت ادھر خانیوال میں ایک کارخانے میں کام کرتا ہے اور اسی کارخانے میں رہتا ہے بس ہفتے میں ایک دن کے لیے گھر آتا ہے۔“
میں نے پوچھا وہ کس کارخانے میں کام کرتا ہے؟“
اس نے کارخانے کا نام بتایا، پھر بولی وہاں کھیتی باڑی کے آلات تیار ہوتے ہیں۔“
میں نے زرعی آلات بنانے والے اس کارخانے کا نام اپنی ڈائری میں نوٹ کرلیا پھر رفعت بیگم سے پوچھا آپ کسی جیدے کو جانتی ہیں؟”
میری نظر اس کے چہرے پر جمی ہوئی تھی۔ میں نے واضح طور پر محسوس کیا جید نے کے ذکر سے اس کے چہرے پر ایک رنگ ما آ کر گزر گیا تھا۔ وہ شکستہ لہجے میں بولی۔
کون جیدا ؟“
میں اس جیدے کی بات کر رہا ہوں جو آپ کے بیٹے لیاقت کا دوست تھا میں نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا ” جاوید عرف جیدا “”
وہ جلدی سے بات بناتے ہوئے بولی ”اچھا اچھا وہ جیدا تلمبہ کا رہنے والا لیکن وہ میرے بیٹے لیاقت کا دوست تو نہیں تھا۔ بس لیاقت سے اس کی دعا سلام تھی ۔”
”بالکل میں اس جیدے کا ذکر خیر کر رہا ہوں’ میں نے بدستور اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا وہ تلمبہ کے علاقے موضع محمود کوٹ کا باسی تھا اور میں نے سنا ہے اس کا آپ کے گھر میں آنا جانا بھی تھا؟”
اس نے گھبرا کر مجھے دیکھا اور بولی ہاں شاید ایک دو مرتبہ وہ ہمارے گھر بھی آیا تھا۔
اس پر بھی آپ کا یہی موقف ہے کہ لیاقت سے اس کی دوستی نہیں تھی ؟
میں نے بتایا ہے نا لیاقت سے بس اس کی علیک سلیک تھی۔“
میں اس کی مجبوری کو سمجھ رہا تھا اس لیے میں نے دوسرے زاویے سے سوال کیا آخری مرتبہ جیدا آپ کے گھر کب آیا تھا؟“
بڑھایا۔
اس بات کو کافی عرصہ گزر گیا ہے ، دہکھائی۔
” مثلاً کتنا عرصہ؟”
تین سال سے زیادہ ہو گئے ہیں۔“
اسی دوران میں ہمارے لیے چائے اور مٹھائی آگئی۔
میں نے تواضع کے لوازمات سے انصاف کرتے ہوئے سوالات کے سلسلے کو آگے
“رفعت بیگم! آپ نے بتایا کہ گزشتہ تین سال سے جیدا آپ کے گھر نہیں آیا۔
اس کی کوئی خاص وجہ ہے۔ میرا مطلب ہے لیاقت سے یا آپ لوگوں سے اس کی کوئی ناراضی تو نہیں ہوگئی؟”
دوستال مجھے میں ہوئی نہیں جی ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ در اصل بات یہ ہے کہ جید ملک سے باہر چلا گیا ہے۔“
ملک سے باہر کہاں؟“
”ہم نے سنا ہے وہ لیبیا گیا ہے۔”
کس سے سنا ہے؟”
لیاقت نے ہی بتایا تھا وہ بولی جاتے ہوئے وہ لیاقت سے مل کر بھی گیا تھا۔“
جب وہ آخری مرتبہ لیاقت سے ملنے آیا تھا میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا اس وقت زرینہ گھر میں موجود تھی ؟”
” جی بالکل موجود تھی۔”
پھر کتنے دن کے بعد وہ گھر سے غائب ہوئی ؟”
میرا خیال ہے پانچ چھ روز کے بعد اس نے جواب دیا۔ پھر چونکتے ہوئے لہجے میں دریافت کیا اس سوال سے آخر آپ کا مطلب کیا ہے تھانیدار صاحب!
میں نے اس کے سوال کو نظر انداز کرتے ہوئے پوچھا ” کیا یہ بیج ہے کہ زرینہ جیدے کو پسند کرتی تھی ؟”
وہ کچی عمر کی ایک بیوقوف لڑکی تھی ۔”
لیکن جیدا کچی عمر کا بیوقوف مرد نہیں تھا میں نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا ” مجھے یہ بھی پتا چلا ہے کہ جیدا بھی زرینہ کو بہت پسند کرتا تھا اور اس نے با قاعدہ آپ لوگوں سے زرینہ کا رشتہ بھی مانگا تھا۔ کیا آپ اس بات سے انکار کریں گی ؟
اس کا رنگ سفید پڑ گیا، تھکے ہوئے لہجے میں بولی میں اس بات سے انکار نہیں کروں گی۔ جیدے نے واقعی زرینہ کا رشتہ مانگا تھا مگر ہم نے متفقہ طور پر اس رشتے کی مخالفت کی تھی۔”
اس مخالفت کی کوئی خاص وجہ تھی ؟“
جیدا بیوی بچوں والا تھا۔” رفعت بیگم نے جواب دیا میں اپنی اکلوتی بیٹی کو جیتے جی جہنم میں نہیں جھونک سکتی تھی۔“
“ٹھیک کہا آپ نے۔ میں نے معنی خیز انداز میں کہا آپ اپنی بیٹی کو جہنم میں نہیں جھونک سکتی تھیں، لیکن وہ آپ کے منہ پر کالک مل کر چلی گئی۔”
اگر وہ میرے ہاتھ آ جاتی تو میں اس کے ٹکڑے کر دیتا یہ آواز مولوی قطب دین کی تھی۔ وہ اسی وقت بیٹھک میں داخل ہوا تھا اور غالباً اس نے ہماری گفتگو کے آخری الفاظ سن لیے تھے۔
میں نے کہا ” مولوی صاحب اصورت شکل سے تو آپ خاصے دیندار نظر آتے ہیں لیکن باتیں بے دینوں جیسی کرتے ہیں۔”
لا حول ولاقوۃ” وہ کرداری آواز میں بولا ” میں نے بے دینوں والی ایسی کون سی بات کی ہے؟”
میں نے کہا مولوی صاحب! کچھ خدا کا خوف کریں۔ آپ نے ایک دن اسی کو جان دیتی ہے۔ کا فردی والی باتیں آپ کو زیب نہیں دیتیں۔“
تو بہ تو بہ وہ کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے بولا ” میں اللہ کے حکم کے خلاف ایک قدم بھی نہیں چلتا۔ تھا نبدار صاحب! آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں؟“
میں نے پوچھا ” مولوی صاحب! کیا ابھی تھوڑی دیر پہلے آپ نے یہ الفاظ نہیں کہے کہ اگر زرینہ آپ کے ہاتھ آجاتی تو آپ اس کے ٹکڑے کر دیتے ؟”
ہاں ! یہ تو میں نے کہا ہے لیکن اس میں کافروں والی کون سی بات ہے؟ دوسوالیہ نظر سے مجھے دیکھنے لگا۔
میں نے سنجیدہ لہجے میں کہا “مولوی صاحب! خدا نے کب والدین کو یہ اجازت ادی ہے کہ دو اپنی اولاد کی کسی غلطی پر اسے قتل کر دیں؟”
ہاں اولاد کو قتل کرنے کی اجازت تو نہیں ہے وہ ہونقوں کی طرح منہ کھول کر میرامنہ تکنے لگا۔
تھا۔“
میں نے کہا ” کیا ٹکڑے ٹکڑے کرنے سے انسان قتل نہیں ہوتا ؟“
وہ میری بات کا مطلب سمجھ گیا نو را بولا و… میں غصے میں ایسے الفاظ بول گیا
آپ کو یہ بھی معلوم ہوگا کہ غصہ حرام ہوتا ہے؟”
“جی ہاں جی ہاں۔” وہ اپنی دراز داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا لیکن آخر غیرت بھی تو کوئی چیز ہوتی ہے؟“
اس کی اکٹر ابھی پوری طرح زائل نہیں ہوئی تھی۔ میں نے سخت لہجے میں کہا مولوی صاحب! غیرت کے نام پر ہمارے معاشرے میں بعض جعلی قدروں نے جڑ پکڑلی ہے جو سراسر بے غیرتی کی علامت ہے۔”
“وہ تو ٹھیک ہے۔ وہ قدرے قائل ہوتے ہوئے بولا لیکن تھانیدار صاحب!
جوان لڑکی کا گھر سے بھاگ جانا بھی تو بے عزتی کی بات ہے نا؟“
یہ ایک الگ مسئلہ ہے” میں نے کہا لیکن ان کی اجازت پھر بھی نہیں ہے۔
والدین کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنی ہمت اور استطاعت کی حدود میں رہتے ہوئے اسلام اور شریعت کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق اپنی اولاد کی تربیت کریں۔ اس کے باوجود بھی اگر اولاد ان کی بات نہ سمجھے تو پھر ان کا معاملہ خدا پر چھوڑ دیں۔ اوار کو جان سے مار ڈالنا بزدلی اور بے غیرتی کا مظاہرہ ہے۔ یہ زمانہ جاہلیت کی باتیں ہیں جب بینی کو زندہ زمین میں گاڑ دیا
جاتا تھا۔“
مولوی قطب دین آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر یک تک مجھے دیکھ رہا تھا۔ میری بات ختم ہوئی تو وہ کپکپاتے ہوئے لہجے میں گویا ہوا۔
آپ تھانیدار ہیں یا کوئی ملا مولوی؟”
میں نے ٹھہرے ہوئے انداز میں کہا میں پہلے ایک انسان ایک مسلمان ہوں اور بعد میں تھانیدار ۔ میرا خیال ہے جو کچھ میں نے ابھی کہا وہ تو ہمارے دین کی ابتدائی باتیں ہیں۔ یہ ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیں ۔ اس میں ملا اور مولوی کی کیا بات ہے؟”
آپ نے تو میری آنکھیں کھول دی ہیں۔“
میں نے مزید کہا ”مولوی صاحب! میں زرینہ کے فعل کی حمایت تو نہیں کروں گا لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ ایسا سنگین قدم اٹھانے کے لیے آپ لوگوں نے اسے مجبور کیا تھا۔
آپ خود کو بالکل بری الذمہ نہیں سمجھ سکتے۔”
قطب دین نے کہا یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں تھانیدار صاحب!”
میں بالکل ٹھیک کہہ رہا ہوں۔ میں نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا ” مجھےپتا چلا ہے کہ آپ کی بیٹی جیدے کو دل و جان سے پسند کرتی تھی جیدا بھی اسے چاہتا تھا اور اس نے زرینہ کا با قاعدہ آپ سے رشتہ بھی مانگا تھا اور …
“وہ میری بات کاٹتے ہوئے بولا لیکن وہ احمق ایک عیال دار شخص سے شادی کی خواہاں تھی۔ ہم اس کی بات کیسے مان لیتے ؟”
یہیں پر آپ غلط ہیں ۔ ” میں نے تنبیہی انداز اختیار کرتے ہوئے کہا ” دوسری شادی کوئی معیوب بات نہیں ہے۔ یہ تو سنت رسول بھی ہے۔ اگر آپ زرینہ کو ایک شادی شدہ شخص سے شادی کی اجازت دے دیتے تو اتنی رسوائی یا جگ ہنسائی ہرگز نہ ہوتی جو اس کے گھرسے بھاگ جانے سے ہوئی ہوگی ۔”
تو کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ زرینہ جیدے کے ساتھ بھاگی تھی؟ مولوی قطب دین نے تیز دلند لہجے میں دریافت کیا۔
میں نے کہا فی الحال میں کوئی حتمی بات تو نہیں کہہ سکتا لیکن حالات و واقعات اسی ..جانب اشارہ کر رہے ہیں ۔‘‘
داهم مگر جیدا تو تین سال قبل لیسا چلا گیا تھا۔”
اس کے لیبا جانے یا نہ جانے کا معما بہت جلد حل ہو جائے گا۔ میں نے کچھ سوچتے ہوئے کہا لیکن فی الحال تو وہ نہیں کراچی سے موصول ہوا تھا۔”
آپ کہنا کیا چادر ہے میں تھانیدار صاحب ! رفعت بیگم نے پوچھا۔ مولوی قطب دین نے کہا اور یہ کراچی سے موصول ہونے والی کیا بات ہے؟“
میں نے مختصر انہیں جیدے کو پیش آنے والے حالات سے آگاہ کیا اور یہ بھی بتا دیا
کہ اب وہ زمین اوڑھ کر محمود کوٹ میں سو رہا ہو گا ۔ میری بات ختم ہوئی تو رفعت بیگم نے پوچھا۔
اور ہماری زرینہ کا کچھ پتا چلا ؟“
میں نے کہا ” شواہد اور اب تک کی تفتیش کی روشنی میں میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ زرینہ تین سال قبل ہیرے کے ساتھ ہی گئی تھی، لیکن صحیح صورتحال کا اندازہ کراچی جا کر ہی ہوگا۔ ابھی تک زرینہ کا کوئی سراغ نہیں منی کا ۔”
تھانیدار صاحب! مولوی قطب دین مجھے مخاطب کرتے ہوئے بولا ” آپ نے بتایا ہے کہ جیدے کو با قاعدہ قتل کیا گیا ہے۔ کیا آپ نے اس کے قاتل کو گرفتار کر لیا ہے۔ کون ہے وہ بد بخت؟
کہا۔رکھی ہے؟”
اسی بد بخت کی تلاش میں تو ہم یہاں تک پہنچے ہیں ۔ میں نے ذومعنی انداز میں وہ شیخ کر بولا ” آپ کا کیا خیال ہے ہم نے جیدے کے قاتل کو گھر میں پناہ دے میں نے فی الحال ایسی کوئی بات نہیں کی۔ میں نے کہا ” تفتیش کی زنجیر ہمیں
آپ کے دروازے تک لے آئی ہے۔ قرائن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مقتول آپ کی بیٹی زرینہ کے ساتھ یہاں سے فرار ہوا تھا۔ اب ہمیں اس کی لاش ملی ہے اس لیے آپ سے پوچھ کچھ لازمی بات ہے۔ جیدے کے قاتل کی گرفتاری میں آپ ہماری مدد کر سکتے ہیں ۔
“”ہم آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتے وہ دوٹوک لہجے میں بولا “ہم اس قتل کے بارے میں کچھ نہیں جانتے ۔
کچھ اندازہ تو لگا سکتے ہیں؟“
وہ سراسیمہ لہجے میں بولا ” ہمیں تو معاف ہی رکھیں جناب۔ ہمیں کسی قتل کے معاملے میں ٹانگ پھنسانے کا کوئی شوق نہیں ہے۔ ہماری بیٹی گھر سے بھاگ گئی ہم نے اس پر فاتحہ پڑھ دی۔ اب ہمارا اس سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔“
آپ کے ختم کرنے سے یہ تعلق ختم نہیں ہو سکتا مولوی صاحب! میں نے چیتے ہوئے لہجے میں کہا آپ کو قانون کے ساتھ تعاون کرنا پڑے گا۔
ہمیں جو کچھ معلوم تھا وہ ہم نے آپ کو بتا دیا ۔”
اگر بعد میں پتا چلا کہ آپ نے حقائق کی پردہ پوشی کی ہے تو میں سختی سے پیش آؤں گا۔ میں نے کہا پھر آپ کو تھانے بلا کر پوچھ گچھ کی جائے گی۔“
کیا آپ ہم پر جیدے کے قتل کا شبہ کر رہے ہیں؟ اس نے عجیب سے لہجے میں پوچھا۔
میں نے کہا ”مولوی صاحب! آپ لاکھ بار کہیں کہ آپ کو یہ بات معلوم نہیں تھی
کہ زرینہ جیدے کے ساتھ گھر سے بھاگی لیکن میں آپ کی بات کا یقین نہیں کروں گا۔ آپ کے ڈول میں جیدے کے لیے شدید غصہ اور عناد بھرا ہوا تھا اس لیے آپ پر ہمارا شک کرنا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔“
آپ بھی کمال کرتے ہیں تھانیدار صاحب
!‘ رفعت بیگم نے اضطراری لیجے میں کہا ” ہمیں تو ابھی آپ کی زبانی معلوم ہوا ہے کہ جیدے کو کسی نے قتل کر دیا ہے۔ اس سےپہلے تو ہم اس بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے تھے۔“
وقت آنے پر سب جان جاؤ گے ۔ میں نے ذومعنی انداز میں کہا ” میں کراچی کا چکر لگا آؤں پھر آپ لوگوں سے بات ہوگی لیکن یاد رکھو اس وقت میں کسی رو رعایت سے کام نہیں لوں گا۔“
پتا نہیں آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں۔”
میں نے پوچھا ” سات جنوری کو آپ کا بڑا بیٹا لیاقت کہاں تھا؟“
رفعت بیگم بولی کون سے دن؟“
میں نے کہا ”سات جنوری جمعرات کے دن؟”
وہ خانیوال میں ہی تھا۔ مولوی قطب دین نے بتایا وہ صرف ہفتے کی رات کو گھر آتا ہے۔ ایک دن چھٹی گزار کر واپس چلا جاتا ہے۔“
میں نے کہا میں اس کے کارخانے بھی جاؤں گا۔“
رفعت بیگم لجاجت آمیز لہجے میں بولی یقین کریں تھانیدار صاحب! جیدے کے قبل سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔”
پھر آپ کے خیال میں اس کا دشمن کون ہو سکتا ہے؟”
ہم کیا کہہ سکتے ہیں ۔ قطب دین سہمے ہوئے لہجے میں بولا ” جناب انسان کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہو اس کے دو چار دشن تو ہوتے ہی ہیں، لیکن ہم جیدے کے کسی بھی دشمن کو نہیں جانتے ۔ آپ ہماری بات کا یقین کیوں نہیں کرتے ۔”
ہو جائے گا۔“
میں نے سنسناتے ہوئے لہجے میں کہا ” بہت جلد دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی اس کے بعد ہم وہاں سے واپس آگئے ۔
آینده روز میں نے اپنے علاقے کے ایس پی صاحب کو تازہ ترین رپورٹ پیش کی اور مزید تفتیش کے سلسلے میں ان سے کراچی جانے کی اجازت طلب کی۔ ایس پی صاحب نے میری اب تک کی کارکردگی کو سراہا اور میرے حسب منشا اجازت دے دی۔
کراچی میں پہلے بھی کئی مرتبہ جاچکا تھا لیکن اے ایس آئی صدیق جنجوعہ کے لیے یہ پہلا موقع تھا۔ اسے کراچی دیکھنے کا بہت شوق تھا تا ہم ہم کسی تفریحی دورے پر کراچی نہیں گئے تھے۔
سب سے پہلے میں نے کراچی پولیس ہیڈ آفس میں حاضری لگائی اور انہیں اپنی کراچی آمد کی غرض و غایت سے آگاہ کیا پھر میں متعلقہ تھانے پہنچا اور تھانہ انچارج کو ساری صورتحال بتائی ۔ مذکورہ ایس ایچ او نے بھر پور تعاون کی یقین دہانی کرواتے ہوئے ایک اےایس آئی کو ہمارے ساتھ لگا دیا۔ چنانچہ جاوید عرف جیدا عرف محمد فاضل کے اخبار کا دفتر تلاش کرنے میں ہمیں کسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ہمارا مطلوبہ دفتر ایک کثیر المنزلہ عمارت کی
تیسری منزل پر تھا۔
وہاں پہنچ کر میں نے محمد فاضل خوش نویس کے بارے میں استفسار کیا تو آفس بوائے نے مجھے کتابت سیکشن میں پہنچا دیا جہاں ہیڈ کا تب اشتیاق احمد سے میری ملاقات ہوئی۔
میں نے محمد فاضل کا پریس کارڈ اسے دکھاتے ہوئے پوچھا یہ صاحب آپ کے ساتھ کام کرتے ہیں؟“
جی بالکل!‘ اس نے اثبات میں جواب دیا۔
مجھے محمد فاضل کے گھر کا پتا چاہئے ۔ ” میں نے کہا۔
آپ کس سلسلے میں فاضل سے ملنا چاہتے ہیں؟ اشتیاق احمد نے پوچھا۔
میں نے مناسب سمجھا کہ اسے صورتحال سے آگاہ کر دوں۔ پوری بات سننے کے بعد وہ غمزدہ نظر آنے لگا۔ میں نے اشتیاق احمد کو یہ نہیں بتایا تھا کہ محمد فاضل کے نام سے اس کے پاس کام کرنے والا شخص در حقیقت جاوید عرف جیدا تھا۔ میں نے دانستہ یہ بات چھپائی تھی۔
اشتیاق احمد نے کہا میں نے محمد فاضل کا گھر تو نہیں دیکھا لیکن مجھے یہ معلوم ہے کہ وہ منظور کالونی میں کہیں رہتا ہے۔ ٹھہریں، میں امجد علی سے پوچھ کر بتاتا ہوں۔ فاضل امجد علی کے توسط ہی سے یہاں نوکری پر لگا تھا۔“
پھر اشتیاق احمد نے دوسرے کمرے میں سے امجد علی کو بلا لیا۔ مختصر ا اسے محمد فاضل کو پیش آنے والے حادثے کے بارے میں بتایا اور کہا ” تم ملک صفدر حیات صاحب کو فاضل کے گھر پہنچا آؤ۔”
بعد میں پتا چلا کہ امجد علی جاوید کا گہرا دوست تھا اور اس کے اس راز سے بھی واقف تھا کہ وہ جیدے سے فاضل کیوں اور کن حالات میں بنا تھا۔ یعنی زرینہ کا سارا معاملہ اس کے علم میں تھا۔
یہ جاننے کے بعد کہ امجد علی صورتحال کی حقیقت سے واقف تھا میرے لیے بہت آسانی پیدا ہو گئی۔ دفتر سے باہر نکلنے کے بعد میں نے اس سے کہا “میاں امجد علی ا اب تم ہمیں فورا منظور کالونی لے چلو۔“
میں آپ کو اپنے گھر واقع ڈرگ روڈ لے کر چلوں گا جناب!”
وہ کیوں بھئی؟ میں نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا ”ہم تو جیدے کی بیوی زرینہ سے ملنے آئے ہیں، جو منظور کالونی میں رہتی ہے۔“
واضح رہے کہ تھوڑی دیر پہلے امجد علی نے مجھے جیدے اور زرینہ کی شادی کے بارے میں بتا دیا تھا۔ جیدے نے کراچی پہنچتے ہی زرینہ سے نکاح کر لیا تھا اور اب ان کا ایک دو سال کا بیٹا بھی تھا، جس کا نام عاطف تھا۔
امجد علی نے کہا ” بیشک جیدا اپنی بیوی اور بچے کے ساتھ منظور کالونی میں رہتا تھا
لیکن میاں چنوں روانہ ہوتے وقت وہ زرینہ اور عاطف کو عارضی طور پر میرے گھر چھوڑ گیا تھا
تا کہ انہیں تنہائی کا احساس نہ ہو۔ میرے گھر میں بیوی بچوں کے علاوہ میرے والدین بھی رہتے ہیں۔ میں تو یہ سوچ سوچ کر پریشان ہو رہا ہوں کہ جب زرینہ جیدے کو پیش آنے والے حادثے کے بارے میں سنے گی تو اس پر کیا گزرے گی ۔”
ہم نے مین روڈ سے ایک ٹیکسی پکڑی اور جیدے کی باتیں کرتے ہوئے کچھ دیر بعد ڈرگ روڈ امجد علی کے گھر پہنچ گئے ۔ امجد علی نے یہ دانشمندی کا ثبوت دیا تھا کہ اپنے گھر والوں کو جیدے اور زرینہ کے قصے سے بے خبر رکھا تھا تا کہ انہیں کسی قسم کی سکی کا احساس نہ ہو ۔ میں اور اے ایس آئی امجد علی کے ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے کہ اس نے گھر کے اندر سے زرینہ کو با الیا۔ تھوڑی دیر پہلے وہ ہماری خاطر تواضع کر چکا تھا۔ وہ بولا ۔
ملک صاحب! یہ اندوہ ناک خبر آپ خود ہی زرینہ کو سنا ئیں۔ میرا تو حوصلہ نہیں پڑ کچھ دیر بعد زرینہ اپنے دو سالہ بچے عاطف کے ساتھ ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی اور ایک صوفے پر بیٹھ گئی۔ امجد علی ایک کرسی پر سر جھکائے بیٹھا تھا۔ ڈرائنگ روم میں مکمل سناتا تھا۔
زرینہ ایک خوبصورت عورت تھی۔ اسے دیکھ کر یہ لگتا ہی نہیں تھا کہ وہ ایک بچے کی ماں ہوگی۔ وہ اپنی وضع قطع اور ڈیل ڈول سے سکول مل دکھائی دیتی تھی۔
تھوڑی دیر تک وہ باری باری ہم سب کو دیکھتی رہی پھر امیر علی کو مخاطب کرتے ہوئے بولی ابد بھائی ! آپ نے تو کہا تھا کہ یہ لوگ مجھ سے ملنے آئے ہیں ۔ میں تو ان کو نہیں جانتی۔ یہ کون ہیں؟
ابد علی نے گردن اٹھا کر میری جانب دیکھا، میں نے کھنکار کر گلا صاف کیا اور بولا زرینہ بی بی! ہم میاں چنوں سے آئے ہیں۔ میرا نام ملک صفدر حیات ہے۔ میں وہاں کا تھانیدار ہوں اور …..
“وہ میری بات ختم ہونے سے پہلے ہی بول اٹھی پولیس …. میاں چنوں یہ الفاظ ادا کرتے ہوئے اس کا چہرہ خوف کی آماجگاہ بن گیا تھا۔ لرزیدہ لہجے میں کہنے لگی آپ یہاں کیا لینے آئے ہیں؟“
میں نے کہا زرینہ بی بی انتمہارے شوہر جاوید عرف جیدے کو کسی نے قتل کر دیا
“ہائے میں مرگئی ۔ وہ سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی پھر جلدی سے سنبھل کر کہنے لگی میں کسی جیدے کو نہیں جانتی۔ میر بے شوہر کا نام تو محمد فاضل ہے۔“
امجد علی نے کہا ” “زرینہ بھائی ! اب پردہ پوشی کا کچھ فائدہ نہیں ہے۔ آپ لوگوں کا معاملہ کھل چکا ہے۔ جاوید کو کسی نے میاں چنوں ریلوے سٹیشن کے قریب قتل کر دیا تھا۔ اس کی لاش کو دفن کیا جاچکا ہے۔ ملک صاحب اس سلسلے میں تفتیش کے لیے یہاں آئے ہیں۔
پھر میں نے مختصر الفاظ میں اسے صورت حال سے آگاہ کیا۔ جب زرینہ کو یقین آ گیا کہ میں نے کسی غلط بیانی سے کام نہیں لیا، تو وہ باقاعدہ رونے لگی۔ میں نے امجد علی کو اشارہ کیا۔ وہ زرینہ کو اٹھا کر گھر کے اندرونی حصے میں لے گیا جہاں عورتوں نے اسے سنبھال لیا۔ ایک گھنٹے بعد وہ اس قابل ہو سکی کہ میں اس کا بیان لے سکوں ۔
جب میں نے اس سے پوچھ گچھ شروع کی تو اس کی حالت خاصی نازک ہو رہی تھی۔ وہ گلوگیر لہجے میں بولی تھانیدار صاحب! میرے شوہر کا قاتل کون ہے۔ کیا آپ نے اس شخص کو گرفتار کر لیا ہے؟”
میں نے نفی میں جواب دیا اور اسے یقین دلایا کہ بہت جلد میں اس کے شوہر کے قاتل کو سلاخوں کے پیچھے پہنچا دوں گا۔ پھر میں نے نہایت ہی نرم لہجے میں کہا ” مجھے اس کام کے لیے تمہارے بھر پور تعاون کی ضرورت ہے۔“
“میں ہر قسم کے تعاون کے لیے تیار ہوں۔ وہ روہانسے لہجے میں بولی۔
میں نے کہا میں تم دونوں کی محبت فرار اور شادی کے معاملات سے پوری طرح واقف ہو چکا ہوں اس لیے مجھ سے کچھ چھپانے کی کوشش نہ کرنا ۔ ایک لمحے کو میں نے توقف کیا وہ خاموشی سے مجھے دیکھتی رہی۔ میں نے کیا گزشتہ تین سال میں تم نے اپنے گھر والوں سے کوئی رابطہ نہیں کیا تھا؟“
بالکل نہیں ۔ وہ جلدی سے ہوئی ” میں ایسی غلطی کسی بھی صورت نہیں کر سکتی تھی ۔”
اس کا مطلب ہے تمہاری ماں نے مجھ تے جھوٹ بولا تھا۔“
اس نے آپ سے کیا کہا تھا ؟“
یہی کہ تم نے دو چار مرتبہ اسے اپنی خیریت کا پیغام بھیجا تھا۔”
نہیں، میں نے ہرگز ایسا نہیں کیا۔”
میں نے پوچھا ” جیدے نے اپنے گھر والوں کو کوئی خط پر روانہ کیا تھا؟“
میرے علم میں ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔ وہ کچھ سوچتے ہوئے بولی اگر میرے علم میں لائے بغیر اس نے ایسا کیا تھا تو میں اس بارے میں کچھ نہیں جانتی ۔ ویسے مجھے یقین ہے کہ اس نے بھی ایسا نہیں کیا ہو گا ۔
شوہر کی موت کی خبر سن کر اسے جو شدید جھٹکا لگا تھا اب وہ اس صدمے سے خاصی حد تک سنجل چکی تھی۔ شاید اس نے حقیقت کو تسلیم کر لیا تھا۔ہے۔
میں نے پوچھا “زرینہ بی بی! تمہارے خیال میں تمارے شوہر کا قاتل کون ہو سکتا
نے سوال کیا۔
میں اس بارے میں کیا کہہ سکتی ہوں!”
اچھا یہ بتاؤ یہاں کراچی میں جیدے کی روانگی سے کون کون واقف تھا؟ میں امجد بھائی اور ان کے گھر والے ۔ اس نے جواب دیا۔واضح رہے کہ اس سوال و جواب کے وقت میرے اور زرینہ کے سوا اور کوئی شخص
کمرے میں موجود نہیں تھا۔ میں نے امجد علی سے واشگاف الفاظ میں کہہ دیا تھا کہ میں زرینہ سے تنہائی میں پوچھ کچھ کروں گا۔
میں نے قدرے سنجیدہ لہجے میں زرینہ سے پوچھا ” امجد علی کیسا شخص ہے؟”
“کیا مطلب ہے آپ کا؟ اس نے الٹا مجھ سے سوال کر دیا۔
میں نے کہا دیکھو زرینہ بی بی! شک کرنا پولیس والوں کی گھٹی میں شامل ہوتا ہے
اور وقت پڑنے پر ہم اپنے باپ کو بھی شک کی نظروں سے ضرور دیکھتے ہیں۔ ایک لمحے کے توقف سے میں نے اضافہ کیا ایک بات تو بہر حال طے ہے کہ یا تو قاتل کراچی سے جیدے کے ساتھ ہی میاں چنوں پہنچا تھا یا پھر کسی شخص نے میاں چنوں میں قاتل کو اطلاع دی تھی کہ جید کی تاریخ اور کون سی گاڑی سے میاں چنوں پہنچنے والا ہے۔ ایسی اطلاع پہنچانے والا شخص وہی ہوگا جو جیدے کی روانگی سے واقف ہو!”
وہ بولی اگر آپ اس سلسلے میں امجد بھائی پر شک کر رہے ہیں تو میں یہی کہوں گی کہ آپ کے سوچنے کا انداز بالکل غلط ہے۔ میں گزشتہ تین سال سے امجد بھائی سے واقف ہوں۔ وہ جاوید کے انتہائی مخلص اور گہرے دوست ہیں۔ ہماری شادی بھی انہی کے توسط سے ہوئی تھی۔ جاوید کو نوکری دلانے والے بھی وہی ہیں اور بھی بہت سے نازک مواقع پر انہوں نے ہماری مدد کی ہے۔ میں آنکھ بند کر کے امجد بھائی پر بھروسا کرتی ہوں اور اس اعتماد کا منہ بولتا ثبوت یہ ہے کہ میں اپنے شوہر کی غیر موجودگی میں امجد بھائی کے گھر میں رہ رہی ہوں۔ وہ ایک با کردار ہم درد اور مخلص شخص ہیں۔ میں کسی بھی قیمت پر ان کو شک کی نظروں سے نہیں دیکھ سکتی۔”
پھر جیدے کا دشمن کون ہو سکتا ہے؟ میں نے پر سوچ انداز میں کہا اس بات کا تو مجھے یقین ہے کہ قاتل جیدے کے سفر کے پروگرام سے واقف تھا یا اسے کسی نے اس سے آگاہ کیا تھا۔”
ہوگئی ہو؟
وہ تائیدی لہجے میں بولی ہاں بظاہر تو ایسی بات ہی نظر آتی ہے۔”
میں نے پوچھا ” تمہاری نظر میں کوئی ایسا شخص ہے جس سے جیدے کی ان بن وہ کچھ سوچتے ہوئے بولی جاوید ایک صلح جو شخص تھا۔ وہ لڑائی جھگڑے سے پر ہیز کرتا تھا، بلکہ جن سے جھگڑا ضروری ہو وہ ان سے بھی تلخ کلامی نہیں کرتا تھا اور بعض اوقات
اس کی یہ عادت میرے لیے شدید تکلیف کا باعث بن جاتی تھی ۔ اس کے چہرے پر ناگواری کے تاثرات ابھر آئے۔ میں نے محسوس کیا کہ وہ کچھ کہتے کہتے رک گئی تھی۔ کوئی ایسی بات جو اس کے ہونٹوں تک آتے آتے ٹھہر گئی تھی۔ میں نے کریدنے والے انداز میں پوچھا زرینہ بی بی!
تمہارے چہرے پر ناپسندیدگی کے پھلے ہوئے تاثرات کو دیکھتے ہوئے میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ بیان کرد و عادت سے تمہاری کچھ تلخ یادیں وابستہ ہیں؟”
اب ان باتوں کا کیا فائدہ ۔ وہ عام سے لہجے میں بولی جانے والا چلا گیا’ اس کی عادت کا ذکر کر کے کیا لینا دینا!
میں نے کہا بعض اوقات معمولی سی بات بھی بہت اہم ثابت ہوتی ہے۔ میں توقع کرتا ہوں کہ تم مقتول کی مذکورہ عادت سے متعلق کوئی بھی چھوٹی سے چھوٹی بات مجھ سے نہیں تھے۔“
وہ بولی “وہ جس پر اعتماد کر لیتے تھے پھر اس کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں سن سکتے یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ میں نے کہا۔
ہاں اچھی بات تو ہے۔ وہ بیزاری سے بولی ” لیکن کیا ضروری ہے کہ آپ جس پر اعتماد کر لیں وہ بعد میں بھی ایک اچھا انسان ہی ثابت ہو۔“
مجھے محسوس ہوا جیسے وہ ایک بہت بڑا انکشاف کرنے والی ہو ۔ میں نے کہا ” کیا تم نے جیدے کے کسی دوست سے کوئی نقصان اٹھایا ہے؟”
اللہ کا شکر ہے میں ہر قسم کے نقصان سے محفوظ رہی ہوں۔”
تمہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تھی ؟
ہاں ایسا ہوا تھا۔ اس نے اثبات میں جواب دیا لیکن میں نے اس کا خود ہی بندو بست کر دیا تھا ۔۔ جاوید تو اس کے خلاف کچھ سنے کو تیار ہی نہیں تھا۔ وہ بہت اہم انکشاف کر رہی تھی۔
کیا وہ جیدے ہی کا کوئی دوست تھا؟“
جی ہاں اس کا نام ہاشم خان ہے۔ زرینہ نے بتایا ” میں نے اس کی آنکھوں میں اپنے لیے ہوں ناچتی ہوئی صاف طور پر دیکھنی تھی ۔” پھر کیا ہوا تھا؟”
تامل کرتے ہوئے اس نے بتایا کہ ہاشم خان نامی ایک شخص سے جیدے کی دوستی ہوگئی تھی۔ وہ لانڈھی میں رہتا تھا اور اکثر و بیشتر ان کے گھر واقع منظور کا اونی آتا رہتا تھا۔
زرینہ نے محسوس کیا تھا کہ ہاشم خان کی آنکھوں میں اس کے لیے میل ہی سیل تھا۔ اس نے جیدے سے اس بات کا تذکرہ کیا تو اسے یقین نہ آیا بلکہ اس نے کہا کہ زرینہ کو غلط نہیں ہوئی ہوگی پھر ایک روز موقع پاکر ہاشم خان نے اپنی اصلیت ظاہر کردی۔ زرینہ نے پہلے تو سخت الفاظ میں اسے روکنے کی کوشش کی لیکن جب اس کی بیہودگی حد سے متجاوز ہوگئی تو اس نے ہاشم خان کے منہ پر با قاعدہ تھوک دیا پھر چیختے ہوئے لہجے میں کہا “اگر تم میں ذراسی بھی غیرت موجود ہے تو اپنی منحوس صورت لے کر میرے سامنےنه آنان جوابا ہاشم خان نے کہا میں اب تمہارے گھر میں قدم نہیں رکھوں گا لیکن تم نے جو کچھ کیا ہے اسے ہمیشہ یاد رکھوں گا اور جب تک اس کا بدلہ نہیں لے لوں گا چین سے نہیں
بیٹھوں گا۔“
کیا کر لو گے تم ؟ زرینہ نے تڑخ کر پوچھا۔
یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ وہ دھمکی آمیز لہجے میں بولا اور گھر سے نکل گیا۔
تھوڑی دیر بعد جیدا گھر آیا تو زرینہ نے اسے ہاشم خان کی حرکت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔ اس نے سوچا جیدا باشم خاکے بارے میں کوئی بات نہیں سنے گا خواہ مخواہ خود کو بالکان کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ زرینہ اس واقعہ کی تفصیل بتا چکی تو میں نے پوچھا۔
یہ کتنا عرصہ پہلے کی بات ہے؟“
“جاوید کے میاں چنوں جانے سے ایک ہفتہ پہلے یہ واقعہ پیش آیا تھا۔ زرینہ نے بتایا اس روز کے بعد سے واقعی ہاشم خان ہمارے گھر نہیں آیا تھا۔”
کیا ہاشم خان کو معلوم تھا کہ جیدا کس دن اور کون سی گاڑی سے میاں چنوں جانے والا تھا؟“ میں نے زرینہ سے پوچھا۔
وہ بولی ” مجھے اس بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے۔”
میں نے سوال کیا “زرینہ ! تم اچھی طرح جانتی ہو کہ جیدا لیبیا جانے کا بہانہ کر کے تمہارے ساتھ کراچی آ گیا تھا۔ تم نے بتایا ہے کہ اس دوران میں تم نے اپنے گھر والوں سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔ میں جیدے کی پہلی بیوی زہرہ فاطمہ اور اس کے والدین سے تصدیق کر چکا ہوں کہ اس نے بھی ایک بار گھر سے چلے آنے کے بعد ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا تھا۔
تم مجھے بتاؤ یہ بیٹھے بٹھائے اسے اچانک میاں چنوں جانے کی کیا سوجھی تھی اور وہ بھی تھے
تخالف سے بھرے ہوئے سوٹ کیس کے ساتھ ! ان چیزوں کو دیکھ کر تو اندازہ ہوتا ہے کہ وہ زہرہ فاطمہ اور بچوں سے ملنے گیا تھا۔“
آپ کا اندازہ درست ہے۔ زرینہ نے بتایا ” جاوید کو کئی دن سے اپنی پہلی بیوی اور بچے یاد آ رہے تھے۔ وہ اٹھتے بیٹھتے ان سے ملنے کی باتیں کرتا رہتا تھا۔ میں نے اس سے کہا کہ وہ چاہے تو دو چار دن کے لیے میاں چنوں سے ہو آئے ۔ اس نے ضد کی کہ میں بھی
اس کے ساتھ چلوں، لیکن میں نے صاف منع کر دیا کہ میں اب پیچھے مڑ کر نہیں دیکھوں گی۔ اس نے کہا کہ ٹھیک ہے میں چلا جاتا ہوں لیکن اس دوران میں تم اکیلی کیسے رہو گی؟ یہ بات میرے ذہن میں بھی تھی اور خاص طور پر ہاشم خان والے واقعہ کے بعد سے تو میں اور زیادہ محتاط ہو گئی تھی۔ میں نے جاوید سے کہا کہ وہ مجھے امجد بھائی کے گھر چھوڑ جائے۔ اس طرح وہ مجھے اور ننھے عاطف کو یہاں چھوڑ کر میاں چنوں چلا گیا۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ اب مجھے اس کی موت کی خبر ہی ملے گی۔“
اس کی آنکھوں سے موٹے موٹے آنسو گرنے لگے۔
میں نے کہا ” خدا کی رضا کے سامنے انسان بے بس ہو جاتا ہے زرینہ بی بی انہیں حوصلے سے کام لینا چاہئے۔”
وہ بولی ” کاش! میں جاوید کو اکیلے نہ جانے دیتی !“
میں نے پوچھا ذرا سوچ کر بتاؤ زرینہ ! تمہارے اور جیدے کے گھر سے بھاگ آنے کے بارے میں امجد علی کے علاوہ اور کون کون جانتا ہے؟“
میرا خیال ہے جاوید نے اور کسی پر یہ راز ظاہر نہیں کیا تھا۔
اس کا مطلب ہے ہاشم نان اس راز سے واقف نہیں تھا؟ میں نے تیز لہجے
میں دریافت کیا۔
وہ متذبذب میے میں ہوئی میرا خیال ہے ہاشم کو کچھ شک ہو گیا تھا۔ ہو سکتا ہے
جاوید نے اسے اس بارے میں تھوڑا بہت بتایا ہو کیونکہ آخری ملاقات میں ہاشم خان نے کچھ ایسی طنزیہ باتیں بھی کی تھیں، جس سے مجھے اندازہ ہوا کہ وہ مجھے گھر سے بھاگی ہوئی لڑکی سمجھتا تھا۔“
کروں گا۔“یہ بات بہت اہم ہے میں نے کہا ” میں سب سے پہلے ہاشم خان کو ہی چیک آپ کی کسی کارروائی سے وہ میرا دشمن ہو جائے گا۔ وہ سراسیمہ لہجے میں بولی اب تو میرے سر پر جاوید کا سایہ بھی نہیں رہا۔
میں نے تسلی آمیز لہجے میں کہا تمہیں اس سلسلے میں فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اب تم پولیس کی پناہ میں ہو۔ تمہاری اور تمہارے بچے کی حفاظت کرنا میری ذمہ داری ہے۔ تم یہاں سے میرے ساتھ ہی میاں چنوں جاؤ گی، لیکن ضروری کارروائی کے بعد “
وہ اور خوفزدہ ہوگئی ” میں وہاں ہر گز نہیں جاؤں گی۔”
“کیوں نہیں جاؤ گی؟“
“میرے گھر والے مجھے زندہ نہیں چھوڑیں گے ۔“
” تم ان کی فکر نہ کرو۔ میرے ہوتے ہوئے وہ تمہارا بال بھی بانکا نہیں کر سکتے۔”
میں نے تشفی آمیز انداز میں کہا ” میں تمہارے باپ مولوی قطب دین کو تمام حالات اچھی طرح سمجھا دوں گا۔ اب تمہارا یہاں اتنے بڑے شہر میں تنہا رہنا مناسب نہیں ہے۔
میں امجد بھائی کے گھر والوں کے ساتھ رہ لوں گی۔”
“ایک مرتبہ تو تمہیں میرے ساتھ میاں چنوں ضرور جانا پڑے گا زرینہ بی بی!”
میں نے حتمی انداز اختیار کرتے ہوئے کہا ” پھر حالات و واقعات کو دیکھتے ہوئے تمہارے بارے میں کوئی موزوں فیصلہ کیا جائے گا۔ تم مجھے بتاؤ کہ ہاشم خان کہاں مل سکتا ہے؟”
وہ لانڈھی میں کہیں رہتا ہے وہ بولی ” میں اس کے گھر کا ایڈریس نہیں جانتی۔”
امجد علی کو اس کے گھر کا پتا معلوم ہوگا ؟ میں نے پوچھا۔
آپ پوچھ کر دیکھ لیں۔ ممکن ہے معلوم ہو۔“
میں نے اس سلسلے میں امجد علی سے استفسار کیا تو مجھے ناکامی نہیں ہوئی۔ امجد نے ہاشم خان کا پتا بتانے کے بعد کہا یہ شخص مجھے کبھی بھی اچھا نہیں لگا۔ میں نے جیدے کو بار ہا منع بھی کیا تھا کہ اس سے دوستی نہ رکھے لیکن جب وہ ہاشم کی حمایت کرنے لگا تو میں نے خاموشی اختیار کرلی۔“
ہاشم خان میری نظر میں مشکوک ہو چکا تھا۔ اس نے جس طرح اپنے دوست کی بیوی سے بدتمیزی کرنے کی کوشش کی تھی اور زرینہ کی شدید اور توہین آمیز مزاحمت پر اس نے جس طرح زرینہ کو دھمکی دی تھی اس سے اس کی بد باطنی ظاہر ہوتی تھی۔ ایسا شخص انتقام کے جذبات سے مغلوب ہو کر کچھ بھی کر سکتا تھا۔ میں ہاشم خان جیسے بدفطرت شخص کو نظر انداز نہیں کر سکتا تھا۔ مجھے حیرت اس بات پر تھی کہ جیدا اس کی اصلیت تک کیوں نہیں پہنچ سکا تھا۔ شاید
دوستی کے رشتے نے اسے عقل وخرد سے اندھا کر دیا تھا۔
میں اس وقت اے ایس آئی صدیق جنجوعہ اور دوسرے اے ایس آئی کے ساتھ لانڈھی روانہ ہو گیا۔ سب سے پہلے میں نے متعلقہ تھانے میں اطلاع دی کہ میں وہاں کس قسم کی کارروائی کے لیے پہنچا تھا پھر ہاشم خان کو ناپنے کے لیے اس کے ٹھکانے پر پہنچ گیا۔
ہاشم خان اپنی گرفتاری پر ہکا بکا رہ گیا۔ جب میں نے اسے بتایا کہ ہم نے اسے جیدے کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا ہے تو وہ لمبی چوڑی قسمیں کھانے لگا۔ میں نے اسے متعلقہ تھانے پہنچا کر تھانہ انچارج سے تعاون کی درخواست کی۔ میں نے اسے تمام صورت حال سے پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا۔
تھانہ انچارج نے کہا ” آپ فکر ہی نہ کریں جناب! ہم ابھی اسے ڈرائنگ روم کی سیر کراتے ہیں۔ دیکھتے ہیں یہ کب تک ہماری مہمان نوازی برداشت کرتا ہے پھر اس نے ہاشم خان کو ذو جلا دصورت حوالداروں کے حوالے کر کے خصوصی ہدایات جاری کر دیں ۔
میں وہیں تھانیدار کے کمرے میں بیٹھ گیا ۔ تھوڑی دیر بعد ہی ٹرائل روم سے ہاشم خان کی بلبلا ہٹ سنائی دینے لگی۔ کچھ دیر تک اس کی چیخوں کی آواز میں آتی رہیں پھر خاموشی چھا گئی۔ پانچ۔ منٹ کے بعد ایک حوالدار نے اندر آ کر بتایا ”جناب! بندہ تعاون کرنے پر آمادہ ہے۔ کہیں تو یہاں، لے آؤں؟“
میں نے کہا اسے وہیں ٹرائل روم میں رہنے دو ۔ نہیں تمہارے ساتھ چلتا ہوں۔“
پھر میں اس حوالدار کی معیرت میں ہاشم خان کے پاس پہنچ گیا۔
آدھے ہونے گھنٹے میں ہاشم کا حلیہ ہی تبدیل ہو کر رہ گیا تھا۔ میں نے اس کے بالوں کو مٹھی میں جکڑتے ہوئے اس کا چہرہ اوپر اٹھایا پھر خوں خوار لہجے میں پوچھا تم نے جیدے یعنی محمد فاضل کو کیوں قتل کیا ؟ “
میں نے کسی کو قتل نہیں کیا وہ بے بسی سے بولا ” آپ چاہیں تو وقوعہ کے روز میری کراچی میں موجودگی کی تصدیق کر سکتے ہیں۔ ہاں میں اس سلسلے میں آپ کی رہنمائی کر سکتا ہوں۔“
ہم تمہاری کراچی میں موجودگی کو ضرور چیک کریں گے ۔ ” میں نے ٹھوس لہجے میں کہا ” تم فی الحال یہ بتاؤ کس طرح ہماری رہنمائی کر سکتے ہو؟“
میرے خیال میں، میں آپ کو قاتل تک پہنچا سکتا ہوں وہ بولا۔
قاتل کون ہے؟“
”میرے اندازے کے مطابق جیدے کو زرینہ کے بھائی لیاقت نے قتل کیا ہو گا“
وہ رونی صورت بنا کر بولا۔
دائیں بائیں کی مت پھینکوں میں نے اسے ڈائنا۔ تم لیاقت کا نام لے کر اپنی جان نہیں چھڑا سکتے ۔“
میں سچ کہہ رہا ہوں جناب کہ مجھے نوے فیصد لیاقت پر شک ہے۔“
اور اس شک کی وجہ ؟“
رسید کیا۔جہ وہ جملہ ادھورا چھوڑ کر خاموش ہو گیا۔ میں نے اسے ایک زمانے دار تھپڑ ابھی بتاتا ہوں جناب!” وہ منت آمیز لہجے میں گھگیا یا وہ دراصل میں نے خود لیات کو یہ اطلاع دی تھی کہ فلاح تاریخ کو کس گاڑی سے جیدا میاں چنوں پہنچنے والا ہے۔”
” میں نے پوچھا ” کیا تمہار ا لیاقت سے رابطہ رہتا تھا؟“
نہیں جناب ! میں نے پہلی مرتبہ ہی اسے خط لکھا تھا۔“
اس کا ایڈریس تمہیں کیسے معلوم ہوا؟“
میں جیدے اور زرینہ کے سارے معاملے سے واقف ہوں۔“ اس نے بتایا
جیدے ہی کی زبانی مجھے معلوم ہوا تھا کہ زرینہ کا بڑا بھائی خانیوال کی ایک زرعی آلات بنانے والی فیکٹری میں کام کرتا تھا۔“
تم تو خود کو جیدے کا دوست کہتے تھے میں نے طنزیہ لہجے میں کہا ” تم نے اپنے ہاتھوں سے دوست کی موت کا انتظام کیوں کیا؟“
وہ خاموش رہا۔ میں نے اس کی پنڈلی پر ایک ٹھڈا رسید کرتے ہوئے کہا ” تم زبان نہ بھی کھولو تو مجھے سب معلوم ہو چکا ہے۔ زرینہ نے مجھے تمہارے کرتوت سے آگاہ کر دیا ہے
باشم خان! تم دوستی کے نام پر ایک دھیا ہو ۔ یاد رکھو اگر تمہاری فراہم کردہ معلومات درست ثابت نہ ہوئیں تو میں تمہاری کھال کھنچوالوں گا ۔“
وہ ندامت آمیز انداز میں زمین کو گھورنے لگا۔
میں ایس ایچ او کے کمرے میں آیا۔ ہاشم نے وقوعہ کے روز کراچی میں اپنی موجودگی کا جو ثبوت پیش کیا تھا۔ میں نے اگلے ایک گھنٹے کے اندر ایس ایچ او کے تعاون ۔
اسے چیک کیا۔ ہاشم نے غلط بیانی سے کام نہیں لیا تھا۔ وقوعہ کے وقت وہ کراچی میں ہی موجود تھا۔ اب اس بات کو چیک کرنا تھا کہ اس کا بھیجا ہوا خط لیاقت کو ملا تھا یا نہیں اور اگر ملا تھا تو آیا اس نے جیدے کو قتل کیا تھا یا قاتل کوئی اور شخص تھا۔
میں نے تھانہ انچارج سے کہا کہ جب تک میں خانیوال پہنچ کر ہاشم کے بیان کی تصدیق نہ کرلوں وہ باشم کو زیر حراست ہی رکھے۔ اس نے بھر پور تعاون کا یقین دلایا۔
اگلے روز میں اے ایس آئی صدیق جنجوعہ اور زرینہ کے ساتھ واپس میاں چنوں آنے کے لیے ٹرین میں سوار ہو گیا۔ میاں چنوں پہنچ کر میں نے زرینہ اور اس کے بیٹے کو صدیق جنجوعہ کے گھر بھیج دیا۔ میں پہلے جیدے کے قاتل کو گرفتار کرنا چاہتا تھا، پھر زرینہ کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا جاتا۔
جس کارخانے میں لیاقت کام کرتا تھا، وہ خانیوال کا ایک معروف زرعی آلات بنانے والا کارخانہ تھا۔ وہ پیر کا دن تھا۔ میں لیاقت کو گرفتار کرنے دو پہر کے وقت وہاں پہنچا تھا۔ میں نے کارخانے کے دفتر میں جنرل منیجر سے ملاقات کی اور اسے اپنی آمد کے بارے میں بتایا۔ پہلے تو اسے یقین ہی نہیں آیا کہ لیاقت اس قسم کی کسی واردات میں ملوث ہوسکتا تھا۔
میں نے جنرل منیجر سے کہا کہ وہ لیاقت کو دفتر میں بلا لے۔
تھوڑی دیر کے بعد لیاقت وہاں موجود تھا۔ ہم اس وقت سادہ لباس میں تھے اس لیے لیاقت ہمیں دیکھ کر چونکا نہیں ۔ ہم سے مراد میں اور صدیق جنجوعہ ہے۔ اس پورے کیس میں جنجوعہ قدم قدم پر میرے ساتھ رہا تھا۔ میں جب سے اس تھانے میں آیا تھا وہ سائے کی طرح میرے ساتھ چپکا رہتا تھا۔
لیات کی عمر لگ بھگ پچیس سال تھی۔ وہ صحت مند جسم کا مالک ایک قبول صورت مرد تھا۔ اس کے چہرے کے عضلات سے اندازہ ہوتا تھا کہ وہ خاصا حصہ ور ہوگا۔ لیاقت نے جنرل منیجر کو مخاطب کرتے ہوئے سوال کیا۔
باؤ جی! آپ نے مجھے کس لیے بلایا ہے؟”
جنرل منیجر نے کہا ” میں نے نہیں بلکہ ان صاحبان نے تمہیں با ریا ہے اپنی بات ختم کر کے منیجر نے ہماری جانب اشارہ کیا۔
لیاقت نے حیرت سے ہماری طرف دیکھا پھر الجھے ہوئے لہجے میں بولا ” میں نے آپ کو پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ آپ لوگ کون ہیں؟”
میں نے کہا اپنے بارے میں تو ہم بعد میں پتا نہیں گے پہلے یہ بتاؤ کہ تم کون ہو؟“ وہ مزید الجھ گیا سم میں میں لیاقت ہوں۔“
“یہ تو ہم بھی جانتے ہیں میں نے معنی خیز انداز میں کہا ” تم لیاقت ہو۔ میاں چنوں کے علاقے حسین آباد میں تمہارا گھر ہے۔ تم ہفتہ وار چھٹی گزار نے گھر جاتے ہو ۔ باقی چھ دن کارخانے میں ہی رہتے ہو اور تمہارے باپ کا نام مولوی قطب دین ہے ۔ کیا ان میں نے کوئی بات غلط ہے؟“
وہ آنکھیں پھیلا کر ہماری طرف دیکھ رہا تھا حیرت بھرے لہجے میں بولا ” کمال ہے
آپ میرے بارے میں اتنا کچھ جانتے ہیں، جبکہ میں آج پہلی مرتبہ آپ لوگوں سے مل رہاہوں ۔
کہاں تھے؟؟
میں نے اچانک پوچھا ” سات جنوری کی رات نو اور دس بجے کے درمیان تم اس کے چہرے پر ایک تاریک سایہ سالہرایا’ اس کے ساتھ ہی مجھے اس کی آنکھوں میں خوف کی پر چھائیں کی نظر آئی۔ سات جنوری کے ذکر وہ ہراساں دکھائی دینے لگا تھا۔
میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے رُعب دار لہجے میں سوال کیا تم نے میری بات کا جواب نہیں دیا ؟
وہ رُک رُک کر بولا سا … بنات جنوری… سات جنوری کو کون سا دن تھا؟“
میں نے کہا ” جمعرات !
جمعرات اس نے احمقانہ انداز میں میرے جواب کو دُہرایا پھر سراسیمہ لہجے میں
“بولا ” جمعرات کو تو میں کارخانے میں ہی ہوتا ہوں ۔
میں نے کسی عام جمعرات کی بات نہیں کی میں نے بدستور اس کے چہرے پر نگاہ گاڑتے ہوئے کہا ” میں سات جنوری والی جمعرات کا ذکر کر رہا ہوں ۔“
اس دن بھی میں کارخانے ہی میں تھا۔“
اچھی طرح سوچ لو۔ بیان بدلنا ہے تو ابھی بدل لو ورنہ بعد میں بہت پچھتاؤ گے”
میں نے سنسناتے ہوئے لہجے میں کہا تھانے میں ہم لات جوتے سے کم بات نہیں کرتے ۔“
تھانے اس کی آواز کپکپا رہی تھی ملک کیا آپ کا تعلق پولیس سے ہے؟”
میں نے کہا تمہارا اندازہ درست ہے۔ میں میاں چنوں کے ایک تھانے کا انچارج ہوں اور … جیدے کے قتل کی تفتیش کر رہا ہوں۔ تم جیدے کو جانتے ہو؟“
وہ واضح طور پر کانپنے لگا۔ اے ایس آئی نے کہا ملک صاحب! یہ خاصا کیا مجرم لگتا ہے۔ میرا خیال ہے اس پر زیادہ محنت نہیں کرنا پڑے گی۔
وہ گھنگیا یا میں کسی جیدے کو نہیں جانتا ۔ میں نے کسی کو قتل نہیں کیا ۔”
میں نے کہا کم از کم ایک درجن افراد اس بات کی گواہی دیں گے کہ تم جیدے کو خوب اچھی طرح جانتے ہو۔ وہ تمہارا دوست تھا۔ مال مویشی کی خرید و فروخت کرتا تھا اور …
تمہاری بہن سے شادی کا خواہاں تھا ۔ وہی بہن جو ازاں بعد گھر سے بھاگ گئی تھی ایک لمحے کو رک کر میں نے اضافہ کیا فکر نہیں کرو میں نے تمہاری بھگوڑی بہن کو تلاش کر لیا ہے۔
اس وقت وہ میاں چنوں میں میری تحویل میں ہے۔ میں نے اسے کراچی سے برآمدکیا ہے … وہی شہر کراچی جہاں کے ایک باس نے تمہیں خط کے ذریعے اطلاع دی تھی کہ سات جنوری کی رات لگ بھگ نو بجے جیدا میاں چنوں کے ریلوے سٹیشن پر اُترے گا۔“
لیاقت نے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر تھام لیا آپ پتا نہیں، کیا کیا بولتے جارہے ہیں ۔ میری تو کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا۔ خدا کے لیے مجھے معاف کر دیں۔ میں نے کچھ نہیں کیا۔
معاف تو ہم تمہیں نہیں کر سکتے لیاقت ! میں نے گمبھیر لہجے میں کہا ” تم شرافت سے اپنے جرم کا اقرار کر لو ورنہ حقیقت اگلوانے کے ہمیں دوسرے طریقے بھی آتے ہیں۔“
وہ انکار میں سر ہلاتے ہوئے ہر بات سے لاعلمی کا اظہار کرانے لگا۔
میں نے کپڑنے کا ایک تھیلا اس کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا ” جانتے ہو اس کے اندر کیا ہے؟“
وہ سہمی ہوئی نظرت اس طرح تھیلے کو دیکھنے لگا جیسے اس کے اندر زہر یلا ناگ ہو۔
میں نے پھنکارتے ہوئے کیا اس کے اندر تمہارے جرم کا بڑا کامل ثبوت موجود ہے پھر میں نے تھیلے کا منہ کھول کر آلہ قبل اس کے سامنے کر دیا۔
وہ خنجر کو دیکھتے ہی اس طرح جھومنے لگا جیسے اسے چکر آرہے ہوں۔ میں نے کڑک دار آواز میں کہا “ہم ابھی تمہاری انگلیوں کے نشانات حاصل کریں گے پھر تنجر کے دستے پر پائے جانے والے نشانات سے ان کا موازنہ کریں گے۔ تم کسی بھی راستے سے بچ کر نہیں نکل سکو گے۔”
فنگر پرنٹس والی بات میں نے محض اسے ڈرانے کے لیے کہی تھی حالانکہ اس زمانے میں عدالت ایسے کسی ثبوت کو زیادہ اہمیت نہیں دیتی تھی۔ میرا حربہ کارگر ثابت ہوا اور وہ دونوں ہاتھوں میں منہ چھپا کر رونے لگا۔
اس موقع پر میں نے اسے چھیڑنا مناسب نہ سمجھا۔ اس بات کا تو مجھے یقین ہو گیا تھا کہ جیدے کا قاتل وہی تھا۔ میرے سوالات کے جواب میں اس نے جس رہیے اور ردعمل کا مظاہرہ کیا تھا وہ اس کے مجرم ہونے کا کھلا ثبوت تھا، لیکن میں اس کی زبان سے بھی سننا چاہتا تھا۔
جب کافی دیر تک اس کا رونا دھونا بند نہیں ہوا تو میں نے سخت لہجے میں کہا ” کیا زنانیوں کی طرح ٹسوے بہا رہے ہو ۔ جوان مرد ہو کر تمہیں ایسا کرتے ہوئے شرم نہیں آتی؟”
دو روتے ہوئے بولا ” مجھے پتا تھا کہ میں زیادہ دن آزاد نہیں پھر سکوں گا۔ پولیس مجھے ضرور گرفتار کر لے گی۔”
لیاقت کی زبان سے ادا ہونے والے یہ الفاظ میرے لیے کافی تھے۔ اگر لیاقت اس مرحلے پر کمزوری کا مظاہرہ نہ کرتا تو بھی ہم اسے گرفتار کر کے تھانے لے آتے اور بآسانی بچ اور جھوٹ کا فیصلہ کر لیتے ۔
وہ لیاقت کا پہلا جرم تھا شاید اس لیے وہ اپنے اعصاب پر کنٹرول نہیں رکھ سکا تھا۔
یہ بھی ممکن ہے کہ جیدے کے خون میں ہاتھ رکھنے کے بعد ہمہ وقت اس کا ضمیر اسے علامت کرتا رہا ہو۔ ازاں بعد لیاقت نے مجھے جو طویل بیان دیا اس سے میرے اندازوں کی تصدیق ہوتی تھی۔
لیاقت نے بتایا کہ زرینہ کے اچانک غائب ہو جانے کے بعد وہ بڑے کرب سے گزرا تھا۔ وہ کئی روز تک اسے تلاش کرتا رہا تھا۔ اس کے ذہن میں ایک لمحے کو بھی یہ خیال نہیں آیا تھا کہ اس کا دوست ہی اس کی بہن کو لے اڑا ہوگا۔
پھر تین سال کے بعد جب کار خانے کے بنے پر اسے باشم کا خط ملا تو برسوں کی راکھ میں دبی ہوئی چنگاری نے اچانک شعلے کا روپ دھار لیا۔ ہاشم خان نے اپنا نام ظاہر کیے بغیر اسے خط میں لکھا تھا کہ جیدے نے اس کی بہن کو پہلے گھر سے بھگایا، پھر کراچی لا کر اسے ایک طوائف کے ہاتھ بیچ دیا۔ بعد میں زرینہ کو مجھے سے فرار ہونے کی کوشش میں جان سے
ہاتھ دھو بیٹھی۔ اس کے ساتھ ہی ہاشم نے لیاقت کو اطلاع دی تھی کہ جیدا کس تاریخ کو کس گاڑی میں میاں چنوں پہنچنے والا ہے۔ پہلے تو لیاقت نے اس پر اسرار خط پر یقین نہیں کیا، پھر اس کے ذہن نے مشورہ دیا
که آزمائش میں کیا حرج ہے۔ اس نے کہیں سے ایک خنجر حاصل کیا اور سات جنوری کی شام ہی
کو میاں چنوں ریلوے سٹیشن پہنچ گیا۔ پھر جب اس نے ٹرین میں سے جیدے کو برآمد ہوتے
ہوئے دیکھا تو خط کے دیگر مندرجات پر بھی اسے یقین آگیا۔ یعنی زرینہ کو کسی طوائف کے ہاتھ فروخت کرنا اور وہاں سے نکلنے کی کوشش میں اس کا جان سے جانا۔ اس وقت لیاقت نے فیصلہ کر لیا تھا کہ ان تمام تکلیف دہ واقعات کے محرک یعنی جیدے کو وہ زندہ نہیں چھوڑے گا۔
ان کا آمنا سامنا ہوا تو لیاقت نے جیدے کو دیکھتے ہوئے مصنوعی حیرت کا اظہار کیا یارا تم یہاں کیا کر رہے ہو؟ تم تو لیبیا نہیں چلے گئے تھے؟”
میں لیبیا ہی سے آرہا ہوں۔“ جیدے نے بات بناتے ہوئے کہا ” پہلے جہاز کے ذریعے لیبیا سے کراچی پہنچا اور پھر ٹرین پر سوار ہو کر یہاں آیا ہوں۔”
لیاقت اس کی چالاکی کو سمجھ رہا تھا۔ وہ اسے باتوں میں لگا کر پیٹری کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے ریلوے سٹیشن کے قدرے ویران حصے میں لے آیا۔ جیدے نے پوچھا کہ وہ اس طرف کیوں جارہا ہے تو لیاقت نے کوئی بہانہ بنا کر اسے مطمئن کر دیا۔ پھر وہ دونوں باتوں میں اس قدر کو ہو گئے کہ جیدے کو اندازہ نہ ہو سکا کہ وہ کب دیران جھاڑیوں تک پہنچ گئے تھے۔
اس کے بعد کی کہانی بہت سادہ ہے۔ جھاڑیوں میں پہنچ کر لیاقت نے اپنے لباس میں پوشیدہ خنجر نکال لیا اور اس سے پہلے کہ جیدا اس کے ارادے کو بھانپ سکتا لیاقت نے تیز دھار خنجر اس کی پہیلیوں میں پیوست کر دیا۔ خنجر کی نوک نے جسم میں داخل ہو کر جیدے کے دلی کو پھاڑ ڈالا ۔ تھوڑی ہی دیر میں وہ اس دنیا سے رخصت ہو چکا تھا۔ ازاں بعد اس قتل کو حادثے کا رنگ دینے کے لیے لیاقت نے جیدے کی لاش کو ریلوے لائن پر ڈال دیا تھا۔
لیاقت اپنے جرم کا اقبال کر چکا تھا۔ میں نے چالان تیار کر کے کیس کو عدالت کے حوالے کر دیا۔
کچھ عرصے کے بعد زرینہ کو میں نے مولوی قطب دین کے حوالے کر دیا۔ وہ اپنی بیٹی کو بخوشی گھر میں رکھنے پر تیار ہو گیا تھا۔ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ اس سارے کیس میں قصور وار کون تھا! میرے ذہن میں یہ خیال ابھرتا ہے کہ اگر زہرہ فاطمہ جیدے کو دوسری شادی کی اجازت دے دیتی تو ممکن ہے وہ زرینہ کو بھگانے کی کوشش نہ کرتا پھر یہ خیال بھی آتا ہے
که اگر مولوی قطب دین جیدے کا رشتہ قبول کر لیتا تو زرینہ کو گھر سے بھاگنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ اس کیس کا ایک کردار ہاشم خان بھی ہے اگر وہ لیاقت کو خط نہ لکھتا تو لیاقت کے جذبات میں طوفان پیدا نہ ہوتا اور وہ جیدے کو ختم کرنے کا ارادہ نہ کرتا۔
بعض اوقات مجھے اس کیس کے تمام کردار ہی قصور وار نظر آنے لگتے ہیں۔ بہر حال حقیقت ہے کہ تھوڑا تھوڑا تصور ب ہی کا تھا۔ جھوٹی غیرت کے نام پر ہمارے معاشرے میں جو کھو کھلی تدرین پروان چڑھ رہی ہیں اور ایک دن انہیں تباہ و برباد کر کے چھوڑیں گی۔ خداہمارے حال پر رحم کرے۔ آمین!
