Antaqam انتقام

Crime Story _ کراہم کی دنیا

ایم الیاس

مکمل ناول

views
0
Antaqam by M Alyas crime story انتقام

مکمل ناول

میں نے دانستہ اپنے نئے پڑوسی عمل داس سے دور سے ہی ”ہیلو ہائے کی تھی تا کہ وہ یہ نہ مجھے کہ میں مغرور قسم کا آدمی ہوں۔ صبح جب میں اپنے کام پر جانے کے لیے لکھتا تواسے میں اکثر لان میں کرسی ڈالے دھوپ سے لطف اندوز ہوتے دیکھتا تھا۔ میں اس کے قریب سے گزرتے ہوئے چند سیکنڈوں کے لیے ٹھہر جاتا اور موسم پر تبصرہ کر کے آگے بڑھ
جاتا۔ اس نے کئی بار اخلاقاً اپنے پاس بیٹھنے اور سہ پہر کی چائے پینے کی دعوت دی لیکن اس سے آگے کبھی بات نہ بڑھی۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ وہ حال ہی میں آکے آباد ہوا تھا۔ اسکی شخصیت ہم سب کے لیے بڑی پراسراری تھی۔ رہائش کے لیے اتنی بڑی کوٹھی اور خدمت کے لیے درجنوں نوکر ، بس اس کی یہی دنیا تھی ۔ ہمارے ذہنوں میں سوال اٹھتے تھے کہ
معلوم نہیں یہ کون ہے اور یہاں کیوں آکے آباد ہوا ہے۔
ایک دن آخر کار بمل داس کی دعوت قبول کرنی پڑی۔ میں مکرجی کے ہمراہ بمل داس کی عظیم الشان کوٹھی میں داخل ہوا۔ مکرجی مغربی بنگال میں انجینئر تھا۔ ہماری فرم میسور میں ایک کان کی خریداری میں دلچسپی رکھتی تھی لیکن سودا ہونے سے قبل ہم نے یہ مناسب سمجھا کہ کسی ماہر اور تجربہ کار انجینئر کی رائے حاصل کی جائے۔ اس مقصد کے لیے ہم نے اجیت مکر جی کو چنا تھا۔ سونے، چاندی اور دیگر کانوں کے متعلق اس کی رائے مستند درجہ رکھی تھی۔ چنانچہ اس سلسے میں وہ اپنی تفصیلی رپورٹ کے ساتھ ہمارے پاس آیا ہوا تھا۔ اس کی یہ رپورٹ فرم کے ڈائر یکٹروں کے سامنے پیش کر دی گئی اور کسی قطعی فیصلے تک کے لیے مکرجی کی میزبانی کے فرائض مجھے سونپے گئے۔
ہفتے کی شام جب ہم دونوں کی باتوں کا ذخیرہ ختم ہو گیا تو اپنے پڑوسی عمل داس کا خیال آیا جو کئی بار مجھے اپنے ہاں آنے کی دعوت دے چکا تھا۔ اس دن میرے پاس وقت تھا۔ اس لیے میں اپنے مہمان مکر جی کو لے کے اس کے پاس چلا گیا۔
گھنٹی کے جواب میں دروازہ کھولنے کے لیے عمل داس کا خود آنا ہمارے لیے تعجب انگیز تھا۔ اس کا یہ عمل پر اسرار اور نا قابل فہم سالگا۔ بہر حال اس نے خندہ پیشانی سے ہمارا استقبال کیا اور ہمیں ساتھ لے کے وسیع وعریض نشست گاہ میں پہنچا۔ ہم آرام دہ صوفوں پر بیٹھ کے خوش گپیوں میں مصروف ہو گئے۔ تھوڑی ہی دیر میں ہم آپس میں ایسے بے تکلف ہو گئے جیسے پرانے دوست ہوں۔
گفتگو کے ساتھ ساتھ مشروب کا دور بھی چلتا رہا۔ اسے مکرجی کی دانش مندی کیسے یا پیشہ ورانہ رازداری کہ اس نے بمل داس پر یہ ظاہر نہ ہونے دیا کہ وہ کسی کان کے متعلق رپورٹ لے کے آیا ہے۔
یکا یک ایک ایسانا خوشگوار واقعہ پیش آیا کہ پرسکون ماحول بوجھل ہو گیا۔ اس کی وجہ ایک چپ گا ڑ تھی۔ سورج غروب ہونے کے بعد چمگادڑیں اپنے مسکن سے باہر نکلی ہیں اور ادھر اُدھر اڑتے ہوئے کیڑے مکوڑوں کا شکار کر کے پیٹ بھرتی ہیں۔ اگر کھڑکیاں کھلی ہوں تو چپکے سے اندر داخل ہو جاتی ہیں، اگر چہ یہ ایک بدصورت اور مکروہ پرندہ ہے۔ پھر بھی انسان کو اُس کی موجودگی سے کسی قسم کا کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوتا لیکن اس شام کمرے میں ایک چمگادڑ دیکھ کے ہمارے میزبان بمل داس کے چہرے پر خوف اور وحشت کی جواہر نمودار ہوئی ، اسے محسوس کر کے میں خود بھی خوف زدہ ہو گیا۔
ا سے باہر نکالو بعمل داس خوف زدہ انداز میں بری طرح چیخا۔ چمگادڑ کو فورا باہر نکالو۔ اس کے ساتھ ہی اُس نے اپنا چہر ہ صوفے میں چھپالیا۔
میں نے فورا ہی کمرے کی روشنی گل کر دی۔ ایک دوبار ہمیں اپنے سروں پر چمگادڑ کے پروں کی پھڑ پھڑاہٹ سنائی دی، پھر وہ کمرے سے چلی گئی۔
میں نے اپنا اطمینان کرنے کے بعد دوبارہ روشنی کر دی۔ عمل داس کے چہرے پر زردی چھائی ہوئی تھی۔ اس نے بدستور وحشت زدہ لہجے میں دریافت کیا۔ ”کیا وہ چلی گئی ؟“
اس کے دریافت کرنے کے انداز سے ایسا لگا شاید وہ چمگادڑ کا نام لیتے ہوئے بھی خوف محسوس کر رہا تھا۔
” بے شک کمرے میں ہمارے سوا کوئی دوسری چیز موجود نہیں ہے۔ میں نے اسے یقین دلاتے ہوئے کہا۔ لیکن ایسا معلوم ہوتا جیسے آپ نے چھگا در نہیں کسی شیطان یابدروح کو دیکھ لیا ہو؟
” بے شک بے شک میرے ساتھ کچھ ایسا ہی معاملہ ہے۔ بمل داس نے سنجیدگی سے جواب دیا۔
اب وہ کمرے میں ادھر ادھر دیکھ رہا تھا گویا خوداپنی تسلی کرنا چاہتا ہو۔ اس کی آنکھیں حلقوں سے باہر نکلی پڑتی تھیں۔
اگر کوئی اور موقع ہوتا تو میں بے اختیار قہقہہ مار کے ہنس پڑتا۔ میں نے اپنے استہز ایر انداز کو ضبط کیا۔ کیونکہ صورت حال ایسی تھی کہ غیر سنجیدگی کا اظہار نہیں کیا جا سکتا تھا اور پھرہم اس کے مہمان تھے۔
کھڑکیاں بند کردو بمل داس نے لکنت زدہ لہجے میں کہا لیکن وہاں کوئی ملازم موجودنہ تھا۔ لہذا یہ خدمت بھی مجھے ہی انجام دینا پڑی۔ یہ بات سمجھ سے بالا تر تھی کہ اس کے ملازمین کہاں مرگئے تھے؟ یہ حیرانی ، غصے اور تجسس کی بات تھی ۔
اپنے منتشر اعصاب پر قابو پانے کے لیے اس نے وہسکی اور سوڈے سے ایک تلخ مشروب تیار کیا اور ایک ہی سانس میں حلق سے نیچے اتار گیا۔ ایسے سہانے موسم میں تلخ مشروب کا استعمال کسی گناہ سے کم نہ تھا۔ یہ عمل داس کا گھر تھا۔ میں بھلا اعتراض کرنے والا کون تھا۔ چند لمحے گزرنے کے بعد بمل داس کے حواس بحال ہوئے تو اپنے وحشت زدہ رونے کے لیے وہ ہم سے معافی کا خواستگار ہوا۔
یہ شاید اس ماحول کا اثر تھا کہ گفتگو جادوٹو نے اور ایسے ہی مافوق الفطرت موضوعات پر چل نکلی۔ مکرجی نے چند ایسی پر اسرار کہانیاں سنائیں جو نیپال کے جنگی قبائل سے متعلق تھیں۔ انتہائی خوفناک اور نا قابل فہم لیکن میں ان سے ذرہ برابر متاثر نہ ہوا۔
جمل نے مجھ سے بڑے عجیب لہجے میں سوال کیا ۔ کیا آپ جادو ٹونے پر یقین رکھتے ہیں؟“
جی نہیں ۔ میں نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا۔ ” میں ان خرافات پر قطعی یقین نہیں رکھتا۔“
ولیس یہی آپ کی غلطی ہے ہمل واس نے جواب دیا۔ ”سب سے پہلے میں یہ کہوں گا کہ یہ خرافات یا تو ہمات نہیں ہیں۔ جادو ایک ایسی حقیقت ہے جسے جھٹلایانہیں جاسکتا۔ آپ میری مثال لے لیجیے۔ اگر میں جادوئی علوم پر یقین اور اعتقاد نہ رکھتا تو آج میں یہاں اس شان و شوکت سے نہ بیٹھا ہوتا۔ میں اس کوٹھی بلکہ اس علاقے کی
زمینوں کا مالک نہ ہوتا ۔“
میرا خیال ہے کہ آپ مبالغے سے کام لے رہے ہیں؟ میں نے قدرے ترشی سے کہا۔ ” میرا خیال ہے کہ آپ موروثی دولت مند ہیں۔”
بمل داس نے میرے تلخ لہجے کا کوئی اثر نہیں لیا۔ وہ زیر لب مسکرا دیا۔ پھر بڑی سنجیدگی سے بتانے لگا۔ ” میں بنگال، نیپال اور آسام کی تیرہ برسوں تک خاک چھانتا رہا ہوں . تلاش روزگار میں مارا مارا پھرتا رہا ہوں اگر کہیں کوئی مزدوری میسر آتی تو دو وقت کی روٹی نصیب ہو جاتی ورنہ فاقوں کے باعث ہوٹلوں کے باہر کوڑے دانوں میں روٹی کے ٹکڑے تلاش کرتا تا کہ جسم اور روح کا تعلق قائم رکھ سکوں۔ ایسے ہی دگرگوں حالات میں میرا سامنا جادوئی علوم جاننے والوں سے ہوا اور دولت سے میرا گھر بھرتا چلا گیا۔ بس ایک بار جب سرمایہ میرے ہاتھ آگیا تو میں نے تجارت کو فروغ دیا۔ بالآخر میرے پاس اتنی دولت جمع ہوگئی کہ میں اپنی باقی ماندہ زندگی با فراغت بسر کرسکوں ۔ یہ سوچ کر میں یہاں آگیا۔ یہ علاقہ نہ صرف خوبصورت ہے بلکہ یہاں کی آب و ہوا معتدل اور نہایت اچھی ہے۔“
مجھے افسوس ہے مسٹر بمل داس کہ میں پر اسرار علوم پر قطعی یقین نہیں رکھتا۔ شاید اس لیے کہ ایسی صورت حال سے میرا ابھی کوئی واسطہ نہیں پڑا لیکن اگر آپ نا قابل یقین اور پر اسرار واقعات پر مزید روشنی ڈالیں تو آپ کی بڑی عنایت ہوگی۔“
اس نے میرے چہرے پر اپنی نگاہیں مرکوز کر دیں۔ چند لمحے تک میرا چہرہ تکتارہا، پھر بولا ۔ “اگر آپ کی یہ خواہش ہے تو یوں ہی سہی آپ اپنے اور اپنے دوست کے لیے دوسرا گلاس تیار کر لیں… اس اثناء میں میں بھی اپنی یادداشت تازہ کرتا ہوں۔ یادداشت کے دریچے ایک ایک کر کے کھولوں گا تو ماضی حال بن کے سامنے آجائے گا۔“
دوسرا گلاس تیار کر لیں . اس اثناء میں میں بھی اپنی یادداشت تازہ کرتا ہوں۔ یادداشت کے دریچے ایک ایک کر کے کھولوں گا تو ماضی حال بن کے سامنے آجائے گا۔“
میں نے اپنے لیے تو مینگو جوس بنایا۔ مکر جی کے لیے وہسکی کا جام اور عمل داس کے لیے وہسکی سوڈے کا جام بنا کے اس کے سامنے رکھ دیا۔ اس نے اپنے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اپنی آپ بیتی کا آغاز اس طرح کیا۔
” میں نے ابھی شیطانی قوتوں کا ذکر کیا تھا۔ ممکن ہے کہ یہ طاقتیں انسانی ذہن کی اختراع ہوں، پھر بھی اس کرہ ارض پر ایسے لوگوں کی کوئی کمی نہیں جو اپنی خفیہ طاقتیں بروئے کار لا کے شیطان کو حاضر کر لیتے ہیں پتا نہیں کس طرح اور کیوں کر لیکن شیطان اس وسیع و عریض دنیا میں ہر وقت موجود رہتا ہے، کچھ جانوروں میں ایسی صفت موجود ہے جن کے توسط سے وہ شیطان کی موجودگی محسوس کر لیتے ہیں۔ آپ بلی کو لے لیے یہ نہایت چالاک اور ہوشیار جانور ہے … اس کی جبلت کو دیکھئے، یہ کس طرح تاریکیوں میں باریک سے باریک نے دیکھ لیتی ہے۔ اس کی نظریں وہ چیزیں تک دیکھ لیتی ہے جو انسانی آنکھ سے کوسوں دور ہیں ۔ ہم نے اکثر اوقات اسے کمرے میں کسی نادیدہ شے کے گرد چکر لگاتے ہوئے دیکھا ہے لیکن ہماری آنکھ اس کا احاطہ کرنے سے قاصر ہے۔ یہی حال چنگا دڑ کا ہے۔ یہ شیطان کی موجودگی کوفور آ جان لیتی ہے اور
و میں جا پہنچتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جادوئی علوم جانے والوں کے نزدیک چنگا در شیطانی اور طاغوتی طاقت کا مظہر ہے۔ یہ ظاہر یہ بے ضرر اور حقیر ہیں لیکن جب پر اسرار طاقتیں ان کے روبرو ظا ہر ہوتی ہیں تو یہ جانور نہایت در بے خطر ناک بن جاتے ہیں۔ بہر کیف یہ ذکر تو یونہی آگیا تھا۔ میں نے تیرہ برس تک بنگال بلکہ ہندوستان کے دیگر علاقوں میں جوتے چٹائے اور ایسا کون سا پیشہ تھا جسے میں نے اختیار نہ کیا ہو، جالندھر سے مبئی میسور، بنگلور، گواسے پرتگال تک میں نے خلاصی ، مزدور، کان کن سیلز مین ، دفتری بابو، غرض کہ ہر وہ کام کیا جس کی پیشکش مجھے کی گئی۔ شب و روز کی محنت و مشقت سے میرا برا حال ہو گیا۔ فاقوں کے باعث میری ہڈیاں نکل آئی تھیں لیکن یہ محض جینے کا عزم
تھا کہ میں کسی بھی محنت شاقہ کو خاطر میں نہ لاتا تھا۔ پھر میں ٹھوکریں کھاتا ہوا مغربی بنگال سے آسام جا پہنچا، یہ جنت مغربی بنگال کی سرحد کے قریب واقع ہے جس کی خوبصورتی سوئٹزر لینڈ کے جنت زاروں کو بھی شرماتی ہے لیکن وہاں ایک بنگالی آباد کا رستیہ جیت کمار سے میری ملاقات ایک شراب خانے میں ہوئی۔ اس نے مجھے کام کی پیشکش کی ۔ ان دنوں میں خود کام کی تلاش میں تھا۔ چنانچہ میں نے اس مہاجن ستیہ جیت کمار کی پیشکش کو قبول کر لیا۔ حالانکہ اس کے بارے میں مشہور تھا کہ اس کی فطرت کسی یہودی آباد کار سے
کم نہیں ہے جو ماضی میں یہاں آباد تھے۔ یہاں انگریزوں اور یہودیوں سے سخت نفرت کی جاتی تھی۔ ستیہ جیت کمار نے مجھے بتایا کہ اس کا جو منیجر تھا، وہ نا گہانی طور پر تقمہ اجل ہو گیا ہے۔ اسے اپنے اسٹور کی دیکھ بھال کے لیے کسی مناسب آدمی کی ضرورت ہے۔
مہاجن ستیہ جیت کمار پختہ عمر، سرخ رو اور طوطے کی چونچ جیسی ناک کا حامل تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ اس کا باپ شاید کوئی انگریز رہا ہو۔ اس کی ماں نے شاید اس سے شادی کر لی ہو۔
کیونکہ ستیہ جیت کمار مقامی نہیں معلوم ہوتا تھا، اپنے خدوخال اور رنگت اور قامت کے باعث میری چھٹی حس تاڑ گئی تھی کہ یہ اپنے فن میں بہت گہرائی رکھتا ہے۔ بہر کیف مجھے نوکری سے مطلب تھا۔ جب میں نے اپنی رضامندی کا اظہار کیا تو وہ مجھے اپنی کرالی میں لے آیا، جو شہر سے ایک میل کے فاصلے پر تھا۔ اس کی پختہ جھونپڑیوں کے چاروں طرف افریقیوں کی طرح گھاس پھوس کی جھونپڑیاں پھیلی ہوئی تھیں۔ جب انگریزوں نے ہندوستان کی سرزمین کو اپنی ملکیت بنا لیا تھا، تب انہوں نے بنگال اور آسام میں بھی اپنی کالونیاں بنالی تھیں، پھر انہوں نے افریقی قوم کو یہاں بسا دیا تھا، اس لیے کہ ان سے سستے غلام نہیں مل سکتے تھے۔
اس نے مجھے اپنا گودام بھی دکھایا تھا جسے دیکھ کر میں دم بخودرہ گیا۔ کیونکہ وہاں ٹین کے چند خالی کھڑ کھڑاتے ہوئے ڈبے اور مردہ چوہے تھے۔ اس کے کاروبار کے متعلق میں مزید سوال نہ کر سکا۔ کیونکہ مجھے اپنے کام سے کام اور تنخواہ سے مطلب تھا، البتہ میرا دل یہ گواہی دے رہا تھا کہ اس کا سابق منیجر غالباً اپنے مالک کے کاروبار کے متعلق بہت کچھ جان
چکا تھا، اس لیے اسے راہی ملک عدم کر دیا گیا۔ البتہ ایک اندیشے نے آگھیرا کہ کہیں میرا بھی یہی حشر نہ ہو لیکن دوسرے ہی لمحے یہ سوچ کے اندیشہ کا فور ہوگیا کہ جب اوکھلی میں سر دیا تو موسلوں سے کیا ڈرنا؟ میں تو غربت کی زندگی سے پہلے ہی مجبور تھا، اب زندگی کا خطرناک پہلو بھی دیکھنے کی تمنادل میں ابھر آئی تھی۔
جس وقت میں اپنے مالک کے ساتھ کھڑا تھا میں برابر اس کے چہرے سے اسے سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا اور وہ اس تذبذب میں تھا کہ مجھ پر اعتماد کرے یا نہ کرے. چنانچہ دفتر میں جب ہم دونوں ایک دوسرے کے روبرو بیٹھے تھے، اس نے اپنے تمام کاروباری راز مجھ پر منکشف کر دیئے اسلحہ کی اسمگلنگ اور سپلائی اس کا اصل کاروبار تھا۔ اس کا یہ سلسلہ ناگالینڈ کی سرحدوں تک پھیلا ہوا تھا۔ ہمارے تمام بیو پاری بنگالی تھے، یہاں کوسوں تک بالی کے سوا کسی غیر بنگالی باشندے کا نام ونشان نہ تھا۔ بالی ستیہ جیت کمار کی بیوی تھی ۔
اس کے دفتر کا حساب کتاب میرے ذمے تھا۔ تمام کھاتے جعلی تھے۔ یہاں خاص اصطلاحیں رائج تھیں۔ براؤن شکر کا مطلب تھا دو گولیاں اور سفید کھانڈ کے معنی پانچ کارتوس تھے ۔ کارتوسوں پر اس طرح رنگ چڑھایا جاتا کہ وہ خالص سکے معلوم ہوتے۔ بہر حال جو کچھ بھی تھا میرا مالک اپنے کاروبار میں زبان کا پکا اور گانٹھ کا پورا تھا۔ اس میں بڑی
صلاحیت تھی۔ اس بات کا اندازہ اس کے حساب کتاب سے ہوتا جس میں وہ بڑا ماہر تھا۔
میں اپنے فرائض اس کے اطمینان کے مطابق انجام دے رہا تھا۔ اسحہ کی سپلائی کے علاوہ شراب بھی اسمگل کرتا تھا۔ اس کا رویہ میرے ساتھ انتہائی دوستانہ تھا، کیونکہ اسے معلوم تھا کہ بنگالی باشندے کبھی دغا نہیں کرتے۔
رفتہ رفتہ مجھ پر یہ بھی ظاہر ہو گیا کہ شراب اور اسلحہ کی اسمگلنگ کے علاوہ وہ انسانوں کا سوداگر بھی تھا اور اس کی یہی عادت اسے جادو کے سمندر میں لے ڈوبی …. میری آمد سے قبل ستیہ جیت کمار کے تعلقات مسٹر رنگا سے قائم تھے۔ مسٹر رنگا چکمہ قبیلہ کا ڈاکٹر تھا جو صرف جادو ٹونے سے مرض کا علاج کرتا تھا۔ مجھے معلوم نہیں کہ وہ کن خطوط پر کام کرتا تھا۔
جب کبھی یہ جادوگر ڈاکٹر آتا تو چیتے کی کھالوں اور ہاتھی دانت سے بھرے ہوئے تھیلے اس کے ساتھ ہوتے جو ایک اسمگلر افریقہ سے اسے پہنچا تا تھا۔ ستیہ جیت کمار اس سے ہمیشہ تنہائی میں ملاقات کرتا۔ وہ دونوں گھنٹوں بیٹھے نا معلوم زبان میں باتیں کرتے رہتے تھے۔
جادوگر ڈاکٹر رنگا نشے میں چور ہو جاتا تو اس کے ملازم اسے اٹھا کے لے جاتے رنگا اپنے قبیلے کی کنواری لڑکیوں کو ستیہ جیت کمار کے ہاتھ فروخت کر دیتا جو انہیں ہندوستان کے بازار حسن میں پہنچا دیتا۔
مصیبت کا آغاز دراصل اس وقت ہوا، جب مجھے ستیہ جیت کے ہاں ملازمت کرتے ہوئے نو، دس ماہ کا عرصہ گزر چکا تھا۔ رنگا کے قبیلے میں کنواری لڑکیوں کی قلت پیدا ہو چکی تھی اور اسے اپنی عیش بھری زندگی میں ایک خلا سا محسوس ہونے لگا تھا۔ اس نے ستیہ جیت کمار سے قرض لینا شروع کر دیا اور یہ قرض اس حد تک بڑھ گیا کہ اس کا بال بال قرضے میں بندھ گیا اور اس کی واپسی کی کوئی صورت نظر نہ آتی تھی۔ آخر یہودی فطرت کے مالک ستیہ جیت نے جادو گر ڈاکٹر رنگا کو قرض دینے سے ہاتھ روک لیا۔ ڈاکٹر رنگا میرے مالک کے پاس آتا اور مزید رقم کے لیے گڑگڑاتا اور جب ستیہ جیت کمار کسی طرح بھی موم نہ ہوتا، وہ اپنا افقی نما عصا سنبھالے، دھمکیاں دیتا ہوا وہاں سے رخصت ہو جاتا۔
ستیہ جیت کمار کے لیے یہ کوئی نئی بات نہ تھی۔ کیونکہ لوگ اسے بار ہا اس قسم کی دھمکیاں دے چکے ہوتے تھے۔ میں اب آسامی قبیلے کی زبان کچھ کچھ جانے لگا تھا۔ اس نے ڈاکٹر رنگا کو بتادیا تھا کہ وہ مزید کنواری لڑکیوں کا بندوبست نہیں کر سکتا تو پھر اسے اپنی ہویوں کو بیچنے کا بندوبست کرنا چاہیے۔ اس کی بیویاں ہر لحاظ سے پرکشش اور نگینوں کی طرح تھیں۔ وہ انہیں گوہر نایاب سمجھتا تھا جو سینکڑوں میں نہیں ، لاکھوں میں ایک تھیں۔
اس شام جب ڈاکٹر رنگا تین بیویوں کو ساتھ لے کے آیا تو معمول کے خلاف وہ خاموش نظر آتا تھا۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ نہایت حسین تھیں۔ وہ تینوں بھی افسردہ اور ملول تھیں جیسے وہ جادوگر ڈاکٹر سے محبت کرتی ہوں اور جدائی کا تصور ان پر شاق گزر رہا ہو۔
ان کی ملاقات صرف ہیں منٹ رہی۔ ان کے درمیان جو بات ہوئی ، اس کا لب لباب یہ تھا کہ ستیہ جیت کمارا اپنے قرض کے عوض ان تینوں عورتوں کو قبول کر لے یا پھر صبح سے قبل موت کے لیے تیار ہو جائے۔ اگر ستیہ جیت کمار نوشتہ تقدیر دیکھ لیتا تو یقینا ان عورتوں کو قبول کر لیتا اور اسے جان سے ہاتھ دھونا نہ پڑتے لیکن اس نے ایسا نہ کیا اور اس نے ڈاکٹر رنگا سے کہا کہ تم جہنم میں جاؤ، مجھے کوئی پروا نہیں لیکن قرض کی ایک ایک کوڑی ادا کر دو۔
ڈاکٹر رنگا اسے قہر آلود نظروں سے گھورتا وہاں سے رخصت ہو گیا۔ مجھے حیرت ہوئی کہ میرے باس نے اتنی حسین عورتوں کو کیوں قبول نہ کیا۔ وہ نایاب نگینے تھے جبکہ وہ جوہری تھا عورتوں کا۔
ڈاکٹر رنگا اسے قہر آلود نظروں سے گھورتا وہاں سے رخصت ہو گیا۔ مجھے حیرت ہوئی کہ میرے باس نے اتنی حسین عورتوں کو کیوں قبول نہ کیا۔ وہ نایاب نگینے تھے جبکہ وہ جوہری کرائی کے باہرڈاکٹر رنگ کے بارہ تیرہ ساتھی موجود تھے۔ ان سے رنگا نے کہا کہ وہ اب عمل کی تیاری کرے گا۔ انہوں نے اسے ایک سیاہ اورسفید مرغ دیا اورخود اس کے گرد گھیرا ڈال کے کھڑے ہو گئے۔
میں یہ سارا تماشا قدرے فاصلے پر کھڑا دیکھ رہا تھا۔ میرے لیے یہ سب بڑا سنسنی خیز تھا بلکہ پر تجسس بھی کہ وہ کس طرح میرے مالک کے لیے فرشتہ اجل بنے گا۔ مجھے یہ صرف گیدڑ بھبکی محسوس ہوئی تھی کہ وہ نفسیاتی طور پر اسے خوف زدہ اور ہراساں کرے گا تا کہ وہ ان تینوں عورتوں کو قبول کر کے سارا قرض معاف کر دے۔
موت کا کھیل شروع ہوا۔ جادوگر ڈاکٹر نے دونوں مرغوں کی گردنیں مروڑ کے انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا اور نہایت احتیاط سے ان کے دل و جگر نکال کر ایک ہارسا بنا کر اپنے گلے میں پہن لیا۔ اس کے بعد اس کا مجنونانہ رقص شروع ہوا۔ وہ گھنٹے بھر تک اکیلا دائرے میں گھومتا رہا، ہر پانچ منٹ کے بعد ہار میں پروئی ہوئی بوٹیوں سے خون نکال
کے اپنے حلق میں پکا تارہا، پھر دونوں ہاتھ اٹھا کے ان جانے شیطانوں کو پکارتا رہا۔
آج بھی وہ نظر میری نگاہوں میں تالے کومی اوران کے علاوہ لاہور پر اس کاجم بالکل ساکت وجامد تا جسے وہ زندگی سے محروم ہو چکا ہو۔ اس کے پیرو کا اس کے اکڑے ہوئے جسم کو اٹھا کر اپنی منزل کی جانب ان جانے بول ادا کرتے ہوئے روانہ ہو گئے۔
سرزمین بنگال اور آسام میں شام ڈھلتے ہی رات اچانک اور آنا فانا نمودار ہو جاتی ہے۔ جب ڈاکٹر رنگا نے اپنا رقص موت شروع کیا تو کافی دن باقی تھا لیکن سورج جو نبی مغرب کی طرف جھکا دیکھتے ہی دیکھتے تاریکی چھا گئی اور جب وہ لوگ رخصت ہوئے تو سیاہ آسمان پر ستارے جھلملا رہے تھے۔ دور کہیں انجانی منزلوں کی جانب …
بہر حال حسب معمول ہم تینوں نے ایک ساتھ کھا ناز ہر بار کیا۔ ستیہ جیت کمارون بھر کا حساب کتاب دیکھنے کے لیے عادت کے مطابق دفتر چلا گیا۔ اس کی بیوی شب خوابی کے لیے اٹھی اور میں اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔
اس وقت نصف شب بیت چکی تھی، تقریبا دو بجے کا عمل ہوگا۔ ستیہ جیت کمار کی بیوی بالی نے مجھے آکر جگایا۔ اس کی آنکھ اتفاقا ہی کھل گئی تھی ۔ اس نے دیکھا کہ اتنی شب گزرنے کے باوجود اس کا شوہر سونے کے لیے نہیں آیا۔ چنانچہ وہ سیدھی میرے پاس چلی آئی۔
ہم دونوں دفتر میں پہنچے۔ میز پر رکھا لیپ کمرے میں ہلکی زرد روشنی پھیلا رہا تھا۔ ستیہ جیت کمار اپنی آرام کرسی پر نیم در از حالت میں بیٹا تھا لیکن کس کیفیت میں ؟ اس کی آنکھیں کسی نا معلوم خوف اور دہشت کے زیراثر حلقوں سے باہر نکلی ہوئی تھیں۔ اس کے ہاتھ آرام کرسی کے بازوؤں کو ختی سے بھینچے ہوئے تھے ۔ اس کا سرخ چہرہ سیاہ رنگت ہے۔
اختیار کر گیا تھا۔ اس کی تنی ہوئی گردن سے ظاہر ہوتا تھا کہ اس پر جانکنی کا عالم بہت سخت اور گراں گزرا ہو گا۔ اس کی روح گھنٹوں قبل قفس عنصری سے پرواز کر چکی تھی۔
بالی نے اپنے شوہر کو اس حالت میں پایا تو اس نے روح فرسا بین کرنے شروع کر دیئے۔ ملازم پیشہ آسامی اور بنگالی اپنی جھونپڑیوں سے اٹھ کے آنا شروع ہو گئے اور میں بھی اپنا سرکھجاتا ہو دفتر سے باہر آ گیا۔ ستیہ جیت کمار کی اس کیفیت سے میرا ذہن سخت پراگندہ ہو گیا تھا۔ اس کی پر اسرار موت میرے اعصاب پر بری طرح چھا گئی تھی۔ آخر اس کی ناگہانی موت کا کیا سبب تھا۔ ان دنوں میرے جسم میں نو جوانوں کا خون گردش کر رہا تھا اور آپ کی طرح ان دنوں مجھے بھی جادو ٹونے پر اعتقاد نہ تھا، میں ایک لمحے کے لیے بھی یہ یقین کرنے کے لیے تیار نہ تھا کہ وہ بڑھا خرانٹ جادو گر ڈاکٹر رنگا فا صلے پر بیٹھا ہوا میرے مالک کی موت کا باعث ہو سکتا ہے
میں نے دفتر کا بنظر غائر معائنہ کیا۔ تمام دروازے کھڑکیاں صحیح سلامت تھے اور کوئی ایسا نشان موجود نہ تھا جس سے اندازہ ہوتا کہ کمرے میں کوئی آیا تھا۔ میں نے ستیہ جیت کمار کی لاش کا بھی معائنہ کیا۔ یہ امرشک اور شہبے سے بالا تر تھا کہ اس کی موت کسی خوف کے زیر اثر واقع ہوئی ہے۔ آخر وہ کون سی شے تھی جسے اپنے سامنے دیکھتے ہی ستیہ جیت کمار ایک کرب کے عالم میں چل بسا تھا۔ میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ محض ایک دو ہفتے گزرنے کے بعد مجھے بھی ایسے ماحول سے دو چار ہونا پڑے گا۔
اگلے روز ہم نے ستیہ جیت کمار کی آخری رسومات ادا کیں ۔ عجیب دہشت ناک ماحول تھا کہ ملازم عورتیں جو قبائلی تھیں، بین کرتی ہوئیں سینے کوکوٹ رہی تھیں ۔ مرد شراب کےخم کے غم لنڈھا رہے تھے۔ ستیہ جیت کمار کے اسٹور سے شراب کی بوتلیں آنے والے ساتھیوں کو وافر مقدار میں مہیا کی جارہی تھیں۔ ایسا جان پڑتا تھا کہ وہاں کی مقامی نصف آبادی نے ہلہ بول دیا ہو۔ تار اور ٹیلیفون کی عدم موجودگی کے باوجود وہاں جنگل کی آگ کی طرح موت کی خبر پھیل جاتی تھی۔ ڈھول کی تھاپ پر پیغام سنا دیا جاتا تھا۔ فاصلے پر موجود دوسرا نقیب اسے دہرا دیتا تھا۔ اس طرح منٹوں میں کوئی خبر کوسوں کا سفر طے کر لیتی تھی۔
ستیہ جیت کمار کی ارتھی بناتے وقت رنگا بھی آیا۔ اس کا چہرہ ہر قسم کے جذبات سے خالی تھا۔ وہ کوئی مسرت محسوس کر رہا تھا اور نہ ہی غم اس کے بشرے سے ظاہر تھا۔ میں ذرا فاصلے پر کھڑا تھا۔ میری سمجھ میں نہ آیا کہ میں اس کے خلاف کون سا اقدام کروں۔ اس کے خلاف ثبوت میں بس ایک بے ڈھنگا اور بے ہنگم رقص تھا جسے اس کے ساتھیوں نے موت کے رقص سے تعبیر کیا تھا۔ کوئی بھی ذی ہوش شخص اس رقص کو ستیہ جیت کمار کی موت کا سبب نہیں قرار دے سکتا تھا۔ چنانچہ یہ سوچ کے میں چپ ہورہا کہ رنگا کا رقص اور ستیہ جیت کمار کی موت محض اتفاقیہ ہیں۔
جب باقی رسوم اختتام کو پہنچیں اور ہم ستیہ جیت کمار کی آخری رسومات سے فراغت پاچکے تو رنگا میرے نزدیک آکے کہنے لگا۔ “تم اپنے آقا کے ملازموں کو موت کے گھاٹ کیوں نہیں اتارتے تاکہ ان کی روحیں اگلے جہاں میں بھی اپنے آقا کی سیوا کر سکیں۔“
میں نے اسے قدرے تلخ لہجے میں جواب دیا۔ ایک گھر میں ایک بار ایک موت کافی ہے۔“
میرے اس جواب سے اس نے مایوسانہ انداز سے سر ہلا دیا اور پھر اپنا عصا طلب کیا جو گزشتہ روز وہ میرے مالک کے دفتر میں بھول گیا تھا۔ مجھے معلوم تھا کہ یہ ناگ نما عصااس کے ہاتھ میں رہتا تھا۔ میں دفتر میں آیا۔ وہ عصا فرش پر پڑا تھا۔ اگر کوئی اجنبی اس عصا کو پہلی نظر میں دیکھ لے تو اسے یہی محسوس ہو کہ چارفٹ طویل کوئی سیاہ فام ناگ لہرا رہاہے۔ میں نے ایک کراہت کے ساتھ عصا اٹھا کے کوئی لفظ ادا کیے بغیر اس کے منحوس مالک کے حوالے کر دیا۔
کوئی دس دن تک ڈاکٹر رنگا کی شکل دکھائی نہ دی۔ بوڑھی بالی نے رونا دھونا موقوف کر کے اپنے مقتول شوہر کے کاروبار میں دلچسپی لینا شروع کر دی تھی ۔ میرے خیال میں ستیہ جیت کمار نے اپنی زندگی ہی میں اپنے کاروبار کے متعلق اسے بتادیا تھا۔ چنانچہ وہ نہایت کامیابی سے اپنے خاوند کے چھوڑے کاروبار کو چلا رہی تھی ۔ وہ اس امر پر بھی رضا مند ہوگئی
تھی کہ میں بدستور اس کے منیجر کے فرائض ادا کرتار ہوں۔
اب ہمارے سامنے ڈاکٹر رنگا کے قرض کا مسئلہ درپیش تھا۔ میں نے اپنا خیال ظاہر کیا کہ رنگا نہایت ہی خوفناک اور کمینہ خصلت انسان ہے۔ چنانچہ ہمیں اس سے چنداں تعرض نہ کرنا چاہیے بلکہ قرضہ کے عوض جو چیزیں وہ ہمیں دے، قبول کر لینا چاہیے لیکن میری نئی مالکہ نے آنکھیں نکالتے ہوئے کہا۔ ” تمہارا اس سے کیا مطلب ہے ؟ اس نے میرے شوہر سے قرض لیا تھا۔ میں اس خبیث بڑھے سے ایک ایک پائی وصول کر کے رہوں گی آخر اس نے ہمیں کیا سمجھ رکھا ہے آج ہی اس بڑھے کو پیغام بھیجو۔ جب وہ یہاں آئے تو اس سے اصل رقم مع سود وصول کرنے کی کوشش کرو۔“
میں اپنی مالکہ کا تخواہ دار ملازم تھا اور بلا چوں و چرا اس کے احکام کی تعمیل میرا فرض تھا۔ چنانچہ اگلے روز ہی میں نے ایک ملازم کے ہاتھ رنگا کو بلا بھیجا۔ دوسرے دن وہ اپنی منحوس صورت لیے آموجود ہوا۔
اس کے ساتھی حسب معمول کرالی سے باہر رہے۔ میں نے اپنے مالک کے دفتر میں رنگا کو خوش آمدید کہا لیکن میرا دل چاہتا تھا کہ یہ شیطان جس قدر جلد دفع ہو جائے ،
بہتر ہے۔ میں فورا ہی اپنے مطلب پر آ گیا۔ میں اپنے مالک کی کرسی پر دراز تھا جس پر وہ جاں بحق ہوا تھا۔ وہ چند منٹ میرے سامنے کوئی لفظ ادا کیے بغیر خاموشی سے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بیٹھا رہا۔ اس کا منہ ایک خشک اخروٹ کی شکل اختیار کر گیا تھا۔ بالآخر اس نے پوپلے منہ سے کہا۔ میں تمہاری بہادری اور جرات کی تعریف کرتا ہوں۔“
میرے دل میں ایک وہم سا پیدا ہو گیا کہ کہیں یہ شیطان میرا بھی وہی حشر نہ کرے جو مالک کا ہو چکا ہے۔
میں نے فوراہی کہا ۔ بزنس کی بات کرو“
د تمہیں معلوم ہے کہ تمہارا مالک کس دردانگیز حشر سے دو چار ہوا۔ کیا تم اپنے لیے بھی یہی چاہتے ہو کہ تمہاری روح بھی اس کی سیوا کے لیے روانہ کر دی جائے؟“
اس کمبخت کی دھمکی میں کچھ ایسا خوف پنہاں تھا کہ میرا رواں رواں کانپ اٹھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب کی شیطنت رقصاں تھی۔ پھر بھی میں نے اندر ہی اندر سنبھل کے اسے لفظوں میں بتایا ۔ ” مجھے ہر قیمت میں اپنے مالک کا قرض واپس چاہیے۔ خواہ یہ ادائیگی پونڈ، ہندوستانی کرنسی کی صورت میں ہو یا کسی جنس کی شکل میں کیوں نہ ہو؟“
تم اب بھی ڈاکٹر رنگا سے بزنس کی بات کرتے ہو؟ اب بزنس کو بھول جاؤ تمہیں شاید یہ نہیں معلوم کہ میرے پاس وہ خفی طاقتیں موجود ہیں جو تمہیں تمہارے مالک کی طرح چشم زدن میں ہلاک کر سکتی ہیں۔“
یہ قرض میرا تو تھا نہیں کہ اسے معاف کر دیتا۔ چنانچہ میں نے اسے وہ جواب دیا جو ستیہ جیت کمار دے چکا تھا۔ میں نے اسے اپنے مالک کی بندوق دکھاتے ہوئے دھمکی آمیزلہجے میں کہا۔ “اگر تم نے مجھ سے کسی قسم کا دھوکا یا فراڈ کیا تو گولی تمہارے سینے کے آر پار ہو جائے گی؟“
اس ملعون نے میری دھمکی کا کوئی جواب نہ دیا البتہ اپنے لبوں پر ایک شیطانی مسکراہٹ لیے وہاں سے رخصت ہو گیا۔
کرالی کے باہر اس کے ساتھیوں نے اسے پھر دو مرغ دیئے۔ ایک سیاہ اور دوسرا سفید اور ایک بار پھر موت کا رقص دہرایا گیا جس کا نظارہ میں ستیہ جیت کمار کی موت سےقبل کر چکا تھا۔ جب وہ پاچی بے دم ہو کے گر پڑا تو اس کے ساتھی اسے اپنے پڑاؤ کی طرف لے کے چل پڑےدریں اثنا چہار سورات کا اندھیرا چھا چکا تھا۔ میرے دل و دماغ پر ایک عجیب سا اضطراب چھایا ہوا تھا۔ ستیہ جیت کمار کا مردہ سیاہ چہرہ مجھے تاریکی میں روح کی گہرائیوں تک جھانکتا محسوس ہو رہا تھا۔
میں نے بالی کے ساتھ رات کا کھانا کھایا۔ ایک بوجھل اور سوگوار ماحول میں بھوک کسی کو بھی نہ تھی البتہ چند لقمے زہر مار کیے تاکہ روح اور جسم کا رشتہ استوار رہے۔
کھانے سے فراغت پانے کے بعد بالی چپ چاپ اپنی خواب گاہ کی طرف چلی گئی اور میں ستیہ جیت کمار کے دفتر میں آگیا۔ مجھے یوں گمان ہوتا تھا کہ اگر میری آنکھ لگ گئی
تو میری جان کی خیر نہیں ہوگی ۔ چنانچہ میں نے اس رات شب بھر جاگنے کا قصد کر لیا تھا۔ مجھے ایک شبہ تھا کہ ڈاکٹر کے کسی حواری نے میرے مالک کو زہر خورانی سے ہلاک کیا۔ چنانچہ میں بار بار کمرے کے کونے کھدروں کا مشاہدہ کرتا رہا لیکن وہاں کسی کے چھپنے کا امکان نہ تھا۔ میں نے کھڑکیوں اور دروازوں کو محتاط طریقے سے بند کر دیا اور
کرسیوں کو دروازوں کے ساتھ لگا دیا تا کہ اگر کوئی شخص کمرے میں آنا چاہے تو ان سے ٹکرائے بغیر اندر نہ آ سکے ۔ اگر میری آنکھ لگ بھی جائے تو یہ آہٹ مجھے بخوبی ہوشیار کر سکتی تھی۔ اس کے بعد میں نے روشنی گل کر دی تا کہ باہر سے کوئی دشمن مجھے تیر اور نیزے کا نشانہ نہ بنا سکے۔ ان تمام حفاظتی اقدامات سے عہدہ برا ہونے کے بعد میں آرام دہ کرسی پر سر نکا کے نیم دراز ہو گیا۔ اس شب میرے اعصاب پر کیا گزری میرے پاس وہ الفاظ نہیں ہیں جن کے ذریعے میں اس کرب کا اظہار کر سکوں ۔ گہری تاریکی میں خیالی پیکر اس طرح بھوتوں کا روپ دھار کے چشم انسان کے رو بہ رونا چتے تھے کہ اس کا اندازہ صرف وہی انسان کر سکتا ہے جسے ایسے پر ہول اور وحشت ناک ماحول سے کبھی واسطہ پڑا ہو۔ باہر کہیں اگر چا بھی کھڑکتا ہوا جھاڑیوں سے سرسراتی ہوئی گزرتی تو مجھے یوں لگتا جیسے دشمن نقل و حرکت کر رہا ہے۔ کئی بار جی چاہا کہ میں ان
خیالی انسانوں پر پستول سے فائر کر دوں لیکن میں دل کڑا کیسے بیٹھا رہا۔
گیارہ بجے کے لگ بھگ چاند نمودار ہوا اور آہستہ آہستہ چاندنی کی پرسکون دیوی نے عالم کیتی پراپنی سیمیں چادر پھیلا نا شروع کی ۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ چاندنی کے ساتھ میرے منتشر اعصاب کو قدرے آرام پہنچا ہو گا۔ نہیں جی ! چاندنی نے معاملے کو مزید بگاڑ دیا۔ بنگال اور آسام کے سینکڑوں میل میں پھیلے ہوئے پُر خطر اور گھنے جنگلات میں
چاندنی شہروں کی مختلف روایات کی حامل ہوتی ہے، وہاں چاند کے نمودار ہوتے ہی بدرد ھیں، چڑیلیں اور جن بھوت عالم ارواح سے اتر کے انسانوں کو اپنا شکار بناتے ہیں۔
خصوصا خون آشام چمگادڑ بھی چاندنی ہی میں اپنے انسانی شکار کی تلاش میں نکلتی ہیں۔ جیسے جیسے آسمان پر چاند چڑھتا جارہا تھا، میرے خوف میں اضافہ ہوتا جارہا تھا۔ کمرے کی کھڑکیوں کی اہنی سلاخوں کا سایہ فرش پر پڑ رہا تھا۔ میں نے سائے میں سلاخوں کو گننا شروع کیا۔ ایک بار، دوبارہ میں نے انہیں گنا۔ شاید کوئی مقناطیسی طاقت مجھ پر حاوی ہوتی جارہی تھی۔ میں نے اپنے بدن کو ایک جھٹکا دیا اور ہوشیار ہو کے اپنے دائیں بائیں کا جائزہ لیا۔
کمرے کا طواف کرتے ہوئے میری نظریں میز کے قریب آکے تک گئیں۔ میری چھٹی حس نے مجھے خبر دار کیا کہ اس میز کے نزدیک کچھ گڑ بڑ ہے۔ میرے تمام قولی اب پوری طرح سرگرم عمل تھے۔ یہ کیا گٹر بڑھتی؟ مجھے اس بات کا اندازہ تو نہ ہوسکا، البتہ میں اتنا ضرور جان گیا تھا کہ ایک شے جو کچھ دیر قبل وہاں موجود تھی اب ندار تھی۔
اور چند لمحے گزرنے کے بعد جب مجھے اس شے کا خیال تو میری ہتھیلیوں پر پھر پسینہ آ گیا۔ ڈاکٹر رنگا انا افعی نما عصا آج پھر دفتر ہی میں چھوڑ گیا تھا۔ جب میں دفتر کی تلاشی لے رہا تھا تو یہ عصا فرش پر پڑا تھا۔ میں نے اسے اٹھا کے میز کے ساتھ کھڑا کر دیا تھا تا کہ اندھیرے میں اس کے ساتھ ٹھوکر نہ لگے۔ گزشتہ تین گھنٹوں کے دوران جب میں آرام دہ کرسی پر نیم دراز کن انکھیوں سے دفتر کے کونوں کا جائزہ لے رہا تھا تو یہ عصا میری نظر میں آجاتا تھا لیکن اب جو میں نے دیکھا تو عصا وہاں سے غائب تھا۔
اپنے مقام سے یہ عصا فرش پر گرا بھی نہیں تھا۔ کیونکہ اس کے گرنے کی آواز ضرور سنائی دیتی۔ عین اس وقت ایک نہایت ہی خوفناک اور اذیت ناک خیال میرے شعور میں اجرا وہ افعی نما عصا کیا واقعی عصا ہی تھا؟ اور پھر اگلے لمحے وہ شے مجھے نظر آگئی۔
وہ شے چاندنی میں فرش پر پڑی ہوئی صاف نظر آرہی تھی۔ اس کے آٹھ دس بل بھی صاف ظاہر تھے جیسا کہ میں دن کی روشنی میں دیکھا کرتا تھا۔ ممکن ہے یہ شے یہیں رہ گئی ہو
اور مجھے محض مغالطہ ہوا ہو کہ میں نے اسے میز کے سہارے کھڑا کیا تھا لیکن اس طرح میں خود کو بہلا رہا تھا کیونکہ اب وہ شے آہستہ آہستہ حرکت کر رہی تھی۔
میرا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔ میری آنکھوں میں تاریکی کی چھانے لگی۔ میرے حواس محل ہو گئے تھے۔ میں اس شے پر نظریں جمائے رہا۔ کیونکہ اب وہ شے سیدھی ہو رہی تھی۔ مجھے اپنی نظروں پر یقین نہیں آیا تھا۔ کھڑکیوں کی اپنی سلاخوں کے سائے بھی اب لہرانے شروع ہو گئے تھے۔ میری نظر شاید کسی سراب کا شکار ہوگئی تھی۔ میں نے گھبرا کے آنکھیں بند کر لیں۔ اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہ تھا۔ جب میں نے دوبارہ آنکھیں کھولیں تو وہ سانپ اپنا پھن اوپر اٹھا چکا تھا۔
موت کے خوف سے میرا چہرہ پینے سے تر ہو گیا۔ کم از کم اس حقیقت کا انکشاف مجھ پر ضرور ہو گیا تھا کہ میرے مالک کی موت کا سبب کیا تھا اور یہ بھی معلوم ہو گیا کہ مرنے کے بعد اس کا چہرہ سیاہ کیوں پڑ گیا تھا ؟ رنگا کا عصا حقیقتا چھڑی نہیں بلکہ بنگال کا خطرناک ترین زہریلا سانپ تھا جس کا ڈسا ہوا چشم زدن میں موت کے منہ میں چلا جاتا تھا۔ اس وقت میر اواسطہ اس زہریلے سانپ سے تھا۔
میرار یو اور ہاتھ میں تھا لیکن ایک سانپ کے مقابلے میں اسے استعمال کرنا حماقت تھی۔ اس امر کا ایک فیصد بھی امکان نہ تھا کہ ریوالور سانپ کی گردن کا نشانہ لے سکے گا۔ البتہ ایک شاٹ گن سانپ کو اڑانے کے لیے موزوں ترین ہتھیار ہو سکتی تھی۔ میرے مالک نے اپنے دفتر میں کبھی شاٹ گن نہیں رکھی تھی جہاں اپنی بے وقوفی سے میں نے خود کو قید کر لیا تھا۔
موذی سانپ اب اپنی دم پر کھڑا ہوا کر دو شاخہ زبان بار بار باہر نکال رہا تھا۔ اس کی پھنکار بالکل صاف سنائی دے رہی تھی۔ رنگا کے عظیم ساحر ہونے کا ثبوت میرے سامنے موجود تھا۔ اپنی غیر معمولی ساحرانہ قوتوں کے ذریعے اس نے اپنے عصا کو ایک زہریلے سانپ کی شکل میں زندہ کر دیا تھا جواب میری جان لینے کے درپے تھا۔ میں بے بسی کے عالم
میں موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بیٹھا تھا۔ بے چارہ ستیہ جیت کمار بھی اسی عالم میں لقمہ اجل ہوا ہوگا۔ مجھے اس کا رورہ کے خیال آرہا تھا۔ موت مجھ پر سایہ لیکن ہوتی جارہی تھی۔ میراذ من قطعی ماؤف ہو چکا تھا۔
یہ محض اتفاق تھا جو میری جان بچانے کا باعث بنا۔ جب وہ زہریلا سانپ مجھ پر حملہ آور ہونے کے لیے جست لگانے والا تھا کہ میں بلاتا خیر اپنی جگہ سے اٹھا اور میز سےسے اس کا رہ رہ پر سایہ کن ہوں جاری تھی۔ میرا ذ ہن قطعی ماؤف ہو چکا تھا۔
یہ محض اتفاق تھا جو میری جان بچانے کا باعث بنا۔ جب وہ زہریلا سانپ مجھ پر حملہ آور ہونے کے لیے جست لگانے والا تھا کہ میں بلا تاخیر اپنی جگہ سے اٹھا اور میز سے ایک کتاب اٹھا کے سانپ کے منہ پر دے ماری، یہی وہ لمحہ تھا جب میں نے برقی سرعت سے اس مہلت سے فائدہ اٹھایا کیونکہ سانپ میری طرف آنے کی بجائے کتاب پر حملہ آور ہوا تھا۔ میں نے ردی کی ٹوکری سانپ کی طرف اچھال دی۔ اس کا سر اس نوکری میں کچھ اس طرح پھنسا کہ وہ غیظ و غضب کے ساتھ بل کھانے کے باوجود اس سے اپنا سرنکال نہ سکا۔ اس کی پھنکار ٹوکری کے اندر گونج رہی تھی۔ میں نے یہ عجلت الماری سے حساب کتاب کے معنی رجسٹر اٹھا اٹھا کے سانپ کی دم پر رکھ دیئے جہاں تک اس کی جدوجہد کا تعلق تھا وہ اب ختم ہو چکی تھی۔ میں نے ریوالور کا گھوڑا چڑھا لیا اور اس پر فائر کرنے کا ارادہ کیا ۔ یہی وہ وقت تھا جب کالا جادو ان واقعات میں دخل انداز ہوتا ہے۔ مجھے یوںمحسوس ہوا گویا چاندنی تاریکی میں بدلتی جارہی ہے۔ کمرے کا منظر میری نظروں سے اوجھل ہونے لگا۔ سانپ میری آنکھوں کے سامنے سے غائب ہو گیا۔ کمرے کے  درو دیوار پرے ہٹنے لگے۔ میرے نتھنوں میں ایک مانوس سی بو گھنے لگی۔ یہ وہ پی تھی جو آسامی اور بنگالی قبائلی مرد اور عورتوں کے جسموں سے اکثر خارج ہوتی ہے۔ پھر میں نے دیکھا کہ میں رنگا کی جھونپڑی میں موجود ہوں۔ سانپ کی بجائے رنگا کا جسم فرش پر پڑا تھا۔ رنگا تنویمی عمل کے اثر سے بے حس و حرکت پڑا تھا۔ اس کا سر ایک حسین و جمیل اور نازک اندام عورت کی گود میں تھا جو شاید اس کی بیوی تھی۔ غیر شعوری طور پر میں نے اپنا ہا تھ جادوگر کے ساتھ ملانے کے لیے آگے بڑھایا۔ میرا ہاتھ ایک چیز سے ٹکرایا اور یہ چیزکیا تھی؟ ردی کی جستی ٹوکری جس میں زہریلے سانپ کا سر باہر نکلنے کے لیے بری طرح مچل رہا تھا۔ میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے تھے. ایک برقی جھٹکے نے میرے انگ انگ کو ہلا کے رکھ دیا تھا۔ اپنی تمام تر قوت ارادی جمع کرتے ہوئے اپنے ہاتھ کو پیچھے ہٹالیا۔ اپنی اس ناکامی پر جادو گر بے ہوشی کے عالم میں ہی کانپ کے رہ گیا تھا جستی ٹوکری سے سانپ کے سرٹکرانے کی آواز مجھے صاف سنائی دے رہی تھی۔ وہ اندر بار بار چھن مار رہا تھا۔ خوف و دہشت کے باعث میرا برا حال  تھا۔ پھر ماحول میں خنکی چھانےلگی۔ یہ خنکی یخ بستگی کی حالت کو پہنچ گئی۔ حالانکہ باہر کا موسم کافی گرم تھا لیکن میرا جسم سردی سے کانپ رہا تھا۔ اگر مجھ میں قوت ارادی کا فقدان ہوتا تو شاید میں اس بے پناہ سردی کے باعث نوکری پر جا گرتا۔ میں نے دائیں ہاتھ میں ریوالور کو سنبھالا۔ اگر چہ سانپ میری نظروں سے اوجھل تھا۔ مگر میں نے جادو گر ہی کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کر لیا۔ میں ریوالور کا گھوڑا دبانے ہی کو تھا کہ ایک اور عجیب و غریب صورت حال سے دو چار ہونا پڑا۔ رنگا نے مجھ سے سلسلہ کلام شروع کیا۔ اگر چہ رنگا بدستور بے ہوش تھا لیکن اس کی روح میری روح سے ہم کلام تھی۔ میں اس کے الفاظ اس طرح سن رہا تھا جس طرح آپ لوگ سن رہے ہیں۔ اسے کچھ بولنے میں تکلیف سی محسوس ہورہی تھی ، شاید اس کے گلے میں کوئی پھانس تھی لیکن مجھ پر جلد ہی حقیقت کا انکشاف ہو گیا کہ زہریلے سانپ اور رنگا کی شخصیت ایک ہی روپ کی دو مختلف شکلیں تھیں ۔ جادو گر جب چاہے سانپ کا روپ دھارسکتا تھا۔ اگر میں اس سانپ کو ہلاک کر دوں تو رنگا خود بخود ہلاک ہو جائے گا۔ کہتے ہیں کہ جب انسان مرنے کے قریب ہوتا ہے تو فلم کے مناظر کی مانند اس کی گزشتہ زندگی اسکے سامنے متحرک ہو جاتی ہے۔ اس وقت یہی میرا حال ہوا تھا۔ گزشتہ تیرہ برسوں کے دوران میں نے جہاں جہاں صحرانوردی کی ، فاقے کیے، فٹ پاتھ پر سویا۔ یہ واقعات ماضی کی کتاب کے اوراق کی مانند گزر گئے۔
اس کے علاوہ میں نے اس عالم میں کچھ اور بھی دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ لندن کے ایک آراستہ و پیراستہ دفتر میں، میں عمدہ ترین لباس پہنے بیٹھا ہوں۔ پھر میں نے یہ مکان دیکھا جس میں ہم لوگ اس وقت موجود ہیں۔ حالاں کہ اس سے پہلے کبھی مجھے اس کا خیال بھی نہیں آیا تھا۔ میں نے اور بھی بہت سے خوش آئند مناظر دیکھے۔
رنگا مجھ سے کہہ رہا تھا۔ “اگر تم میری جان بخشی کر دو تو تمہاری آئندہ زندگی میں یہ سب تمہارا ہو گا جو تم نے دیکھا ہے پھر رنگا کی جھونپڑی کا منظر میری آنکھوں سے بہتا چلا گیا۔ چاندنی ایک بار پھر میرے سامنے موجود تھی اور موذی سانپ بدستور زندگی کے لیے مچل رہا تھا۔ میرا بدن سرتا پا عرق آلود ہورہا تھا۔ میں نے ریوالور کو جیب میں ڈالا ۔
دروازے کا قفل کھولا اور پھر باہر نکل کے دوبارہ مقفل کیا اور اپنے کمرے کی جانب چلا گیا۔ نیند تو مجھے کیا خاک آتی۔ شب بھر پہلو بدلتا رہا۔ صبح کے وقت کچھ غنودگی طاری ہوگئی۔
جب آنکھ کھلی تو سورج طلوع ہو چکا تھا۔ گزشتہ شب کے واقعات میرے ذہن میں تازہ تھے۔ مجھے یقین تھا کہ میں نے کوئی خواب نہیں دیکھا تھا۔
میں نے ایک شاٹ گن میں کارتوس ڈالا اور دھڑکتے دل کے ساتھ مالک کے دفتر کا دروازہ کھولا۔ سانپ اپنی جگہ موجود تھا لیکن کس حالت میں ؟ اس کے بل ختم ہو چکےتھے۔ اس میں حرکت قطعی موجود نہ تھی ۔ ایک سیدھا سادا عصا فرش پر پڑا تھا ۔ جس کا سر بدستور جستی ٹوکری سے دبا ہوا تھا۔ میں نے بندوق کی نال سے چھو لیکن اس میں کوئی حرکت نہ ہوئی۔ وہ محض لکڑی کا بے ضرر عصا تھا جس میں کوئی زندگی نہ تھی لیکن میں یہ خوب سمجھتا تھا کہ روح اس سے عارضی طور پر جدا ہوتی ہے۔ میں نے اسے فرش پر ہی رہنے دیا۔
رنگا اپنے وقت مقررہ پر آیا۔ اس بار اس کے چہرے سے شکست کے آثار ہویدا تھے۔ اس کی کمر بھی کچھ زیادہ ہی جھکی ہوئی نظر آئی۔ اس نے اپنے قرض کے متعلق مختصری بات کی کہ کیا ہم اس کا کچھ قرض معاف کر سکتے ہیں؟ حالانکہ وہ اپنی تمام بیویاں فروخت کر کے قرض چکا سکتا تھا لیکن اس صورت میں اس کے قبیلے میں اس کی کوئی عزت باقی نہ رہتی۔
میں نے اسے بتایا کہ یہ میرا معاملہ نہیں ہے بلکہ اس کا فیصلہ بالی ہی کر سکتی ہے۔ کیونکہ شوہر کی موت کے بعد وہی تمام اثاثے کی وارث ہے۔ یہ سن کے وہ حیران رہ گیا۔ کیونکہ آسام اور بنگال میں عورتوں کو وارث نہیں ٹھہرایا جاتا۔ وہ مجھے مالک کے کاروبار کا وارث سمجھے ہوئے تھا۔ جب اسے میری مجبوری کا علم ہوا تو وہ خاموشی سے لوٹ گیا۔ وہ ہیبت ناک عصااس نے خود ہی کچھ کہے بغیر فرش سے اٹھا لیا تھا۔
اگلے ہفتے مجھے کچھ سامان لینے کے لیے ایک قریبی شہر جانے کا اتفاق ہوا۔ جب واپس آیا تو بالی مرچکی تھی۔ مجھے بتایا گیا تھا کہ میرے شہر جانے کے بعد رنگا آیا تھا۔ اس کے اوربالی کے درمیان تلخ کلامی ہوئی تھی۔ جادو گر نے رخصت ہونے سے پہلے موت کے رقص کا مظاہرہ کیا اور اگلی صبح بالی اپنے بستر پر مردہ پائی گئی۔ اس کا چہرہ بھی سیاہ پڑ چکا تھا۔ میں
نے دریافت کیا کہ کیا جادو گر اپنا عصا چھوڑ گیا تھا؟ مجھے توقع کے مطابق جواب ملا کہ جادو گر جو عصا بھول گیا تھا، وہ اگلے دن خود آ کے لے گیا تھا۔
ستیہ جیت کمار کو بینکوں پر اعتماد نہیں تھا۔ وہ اپنا اثاثہ نقدی اور سونے کی صورت میں رکھتا تھا۔ معمولی سی تلاش کے بعد مجھے اس کا وہ تہہ خانہ جہاں اس کی زندگی بھر کا سرمایہ سونے اور جواہرات کی صورت میں موجود تھا ہل گیا۔ میں نے اس کے کاروباری معاملات طے کرنے کے بعد اس کی جائداد بھی فروخت کر دی اور پھر میں نے شہر جا کےسونے اور جواہرات کے زیورات فروخت کر دیئے جس سے مجھے لاکھوں کی رقم موصول ہوئی۔ جس سے میں دو سو برس بھی پر تعیش زندگی بسر کر سکتا ہوں اور یہ سب محض کالے جادو کا کمال ہے کہ میں اپنی آخری عمر عیش سے بسر کر رہا ہوں۔“
جوں ہی یہ داستان اس نے ختم کی تو میں نے رخصت ہونے کے لیے مکرجی کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھیں شعلہ بار تھیں۔ اس نے دانت پیستے ہوئے بمل داس سے مخاطب ہو کے کہا۔ پاچی تیرا نام بعمل داس نہیں بلکہ مہی پال ہے اور میں ستیہ جیت کمار کا بیٹا ہوں۔ جب تو میری ماں کو لوٹنے کے بعد فرار ہوا تھا، اس وقت میں محض ایک بچہ تھا اور تومیری ماں کی عزت سے کھیلتا رہا یہ سب میرے باپ کے وفادار ملازموں نے مجھے بڑا ہونے پر بتا دیا تھا۔ یہ حقیقت ہے جس سے تو انکار نہیں کر سکتا۔“
اس سے پہلے کہ میں معاملے کی تہہ تک پہنچتا ہکر جی اپنے پاؤں پر کھڑا ہو گیا۔ اس کے بعد مجھے لہراتے ہوئے خنجر کی چمک دکھائی دی۔ پھر یہ خنجر کر جی نے بمل داس کے دل کی طرف پھینکا۔ جب بمل داس جانکنی کے عالم میں فرش پر لڑھک گیا تو مکرجی نے گھیر لہجے میں کہا۔ ” آج میرا انتظام پورا ہوا۔ اس بد بخت نے جادو گر کو رشوت دے کر میری ماں کو موت سے ہمکنار کیا تھا۔ یہ آج پچیس برس بعد میرے ہاتھ لگا ہے۔“

 

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments
error: Content is protected !!
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x