Beti Ka Sodagar بیٹی کا سوداگر

رومانوی داستان

اردو افسانے

مکمل ناول

views
0
بیٹی کا سوداگر

مکمل ناول

انسان بے بس کب محسوس کرتا ہے۔۔

جب اسکے اپنے اسکے ساتھ برا کر رہے ہو اور وولا کھ چاہنے کے باوجود بھی خود کے لئے کچھ نہ کر پائے اور نہ ہی اس میں کچھ کرنے کی بہت ہو وہ تب بے بس محسوس کرتا ہے

اس وقت آئنے کے سامنے دلہن بنی کھڑی حفصہ ابراہیم خان کچھ ایساہی محسوس کر رہی تھی اس وقت اسکا دل ہی نہیں اسکی روح بھی دور ہی تھی اپنی قسمت پر ماتم کر رہی تھی آنسوں تھے جو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے خوبصورت گہری کالی آنکھیں اب رورو کر لال ہو چکی تھی میک اپ کے نام پر اب پسنک ہی باقی رہ گئی تھی

ایک لڑکی کے لئے اسکی شادی کا دن بہت خاص ہوتا ہے نا بھولنے والا لمحہ پر اسکے لئے یہ کسی عذاب سے کم نہیں تھا اسکا بس نہیں چل رہا تھا کی وہ خود کو ختم کر دے

وہ یوں ہی کتنی دیر کھڑی آنسوں بھاتی رہی تھی کہ یکدم ہی کوئی اسکے روم کا دروازہ

کھول کر اندر داخل ہوا تھا

حفصہ نے گردن موڑ کر دیکھا تو آنے والی ہستی کو دیکھ کر اسکے آنسوؤں میں مزید روانی

آئی تھی

وہ تیزی سے پلٹی انکے سینے سے جالگی تھی پھر نار کنے والی سکیوں کا سلسلا شروع ہو گیا تھا وہ بھی اسکی طرح بے بس تھی مجبور تھی جتنا خلاف وہ اس شادی سے تھی اس سے

کئی زیادہ وہ تھی

“” چپ کرو حفصہ یہ وقت رونے کا نہیں ہے کچھ کرنے کا ہے اس سے پہلے کہ بہت

دیر ہو جائے

اپنی ماں کی نرم آواز سن کر اس نے جھٹکے سے سر اٹھا کرنا کبھی سے انکی طرف دیکھا تھا وہ انکے لفظوں پر غور کر رہی تھی وہ کیا کرنے والی تھی اسکی سمجھ میں نہیں آیا تھا جبکہ وہ اچھی طرح جانتی تھی کچھ بھی ان دونوں کے ہاتھ میں نہیں تھا

یہ وقت حیران ہونے کا نہیں ہے بیٹا تمہیں یہاں سے نکلناہو گا اس سے پہلے کے وہ نکاح کے لئے یہاں آجائے جلدی کرو وہ اس سے الگ ہوتی اسکے وار ڈراب کی طرف بڑھی تھی انہونے اپنے شوہر کو سمجھانے کی بہت کوشش کی تھی مگر وہ دولت کی حوس میں اتنے اندھے ہو چکے تھے کہ انہیں صحیح اور غلط میں کوئی فرق نہیں نظر آرہا تھا

امی یہ آپ کیا کہہ رہیں ہیں۔۔ یہ ۔۔ یہ ناممکن ہے۔۔ اور میں کہاں جاؤنگی ” اپنی ماں کی بات سمجھ میں آتے ہی وہ اپنار و نا بھول کر حیران پریشان کی انکے پیچھے آ کھڑی ہوئی تھی جو بیگ میں اسکا ضروری سامنے رکھ رہیں تھی

کچھ بھی نا ممکن نہیں ہے میری جان اور میں اپنی آنکھوں کے سامنے تمہارا یوں سودا ہوتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی

انکالیجہ اس وقت بہت مضبوط تھا اور شاید زندگی میں پہلی بار و دیوں اپنی ماں کو کوئی فیصلہ لیتے ہوئے دیکھ رہی تھی ورنہ اسے ہمیشہ ہی اپنی ماں کو سر جھکا کر اپنے باپ کا ہرحقم مانتے ہوئے دیکھا تھا چاہے اس میں اسکی ماں کی مرضی ہوتی تھی یا نہیں پرامی میں آپکو ایسے چھوڑ کر نہیں جاسکتی اور میں کہاں جاؤ گی آپکے علاوہ اور کون ہے میرا اس دنیا میں ایک طرف تو اسکو سکون ملا تھا کہ وہ اس نکاح اس شخص سے محفوظ ہو جائے گی مگر

دوسری طرف اسکو اپنی ماں کی فکر ہوئی تھی

تم یہاں سے کہیں بھی چلی جاؤا اپنے باپ کی پہنچ سے دور اللہ بہت بڑا ہے حفصہ وہ اس دنیا میں تمہار اٹھکانہ بنا دیگا

انہونے بیگ اسکے ہاتھ میں دیا تھا محبت بھری نظروں سے اسکو دیکھنے لگی

اگر تمہارا نکاح ہو گیا تو میں شاید کبھی خود کو معاف نہیں کر پاؤں گی یہ سوچ کر کہ میں اپنی بیٹی کے لئے کچھ نہیں کر پائی اس لئے میری خوشی اس میں ہے کہ تم یہاں سے چلی جاؤ

وہ اسکو لئے اسکے روم میں واحد کھٹڑ کی کی طرف بڑھی جو مین گیٹ کی طرف کھلتی تھی مہمانوں کا انتظام پیچھے لان میں کیا گیا تھا اس لئے ادھر کا راستہ صاف تھا امی میں آپکے بغیر کیسے رہ جاؤنگی

اپنی ماں کو یوں اس حال میں چھوڑ کر جانا اسکو صحیح نہیں لگ رہا تھا

میرے لئے بھی مشکل ہے بیٹا پر تمھیں یہ کرنا ہو گا میرے لئے

انہونے آگے بڑھ کر اسکی پیشانی چومی تھی وہ اسکو کس طرح خود سے دور کر رہیں تھیں یہ انکا دل ہی جانتا تھا

اور ہاں کچھ دنوں تک فون پر مجھے رابطہ کرنے کی کوشش بھی مت کرنا تم سمجھے رہی ہو نہ”

انہونے اسکو آخری نصیحت کی تھی اور کھٹڑ کی سے باہر نکلنے میں مدد کی

اللہ تمہاری مدد کریگا بیٹا میری دعا تمہارے ساتھ ہے اور میری فکر مت کرنا تمہاری

ماں بہت مضبوط ہے

انہونے مسکراآخری الودہ کہا تھا اور وہ ایک محبت اور درد بھری آخری نگاہ ان پر ڈال کر وہاں سے نکلتی چلی گئی تھی اس نے مڑ کر نہیں دیکھا اگر وہ دیکھ لیتی تو شاید اسکے لئے جانا مشکل ہو جاتا اپنے آنسوں کو بے دردی سے رگڑتی وہ خان ولا کا گیٹ پار کر گئی تھی۔۔۔۔۔

جانتے بھی ہو کیا بکواس کر رہے ہو تم ہاں۔۔ بولو”

وہ اپنے وکیل کی پوری بات سن کر یک جھٹکے میں اسکی جانب پلٹا اور قہر آلودہ نظروں سے اسکو دیکھتا استفسار کر رہا تھا اس وقت عصے کی وجہ سے اسکی رگے تنی ہوئی تھی

نوٹس میں یہی لکھا ہے وہ صاف لفظوں میں وہ اپنا حق مانگ رہی ہے

سائم اپنے ماتھے پر آئی پسینے کی ننی ننی بوندے صاف کرتا ہوا بولا

وہ اس شہر کا نام اور کامیاب وکیل تھا بہت ہی کم عمر میں اسنے بہت نام کما لیا تھا ہر کیس میں اسکو کامیابی حاصل تھی مگر اسکے سامنے کھڑی ہستی بھی کوئی معمولی شخصیت نہیں

تھی

وہ افسند یار خان تھا

خان انڈ سٹر یا کامالک اس شہر کے رائس اور پاور فل لوگوں میں سے ایک اپنے ایک اشارے پر وہ کسی کا بھی کیر یئر بر باد کر سکتا تھا شاید اسکا بھی اسلئے سائم آفندی جیسا قابل

انسان بھی اسکے سامنے گھبرارہا تھا

کیا تم مجھے کھل کر بتا سکتے ہو وہ کیسا حق مانگ رہی ہے جہاں تک مجھے لگتا ہے اس پر میر ایا مجھ سے جڑی کسی بھی چیز پر کوئی حق نہیں ہے

وہ اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرتا اپنے پسینے کو کم کرنے کی کوشش کر رہا تھا بھی تو وہ اپنے ماضی سے باہر نکل ہی نہیں پایا تھا کہ اسکا ماضی پھر سے دستک دے رہا تھا

نہونے کسٹڈی کے لئے کیس فائل کیا ہے اور وہ۔۔ ا

ابھی اسکا جملہ مکمل ہی نہیں ہو پایا تھا کہ وہ کسی شیر کی طرح اسکے کالر کو اپنی مٹھی میں

دبوچ چکا تھا

کیا بکواس ہے یہ کیسی کسٹڈی کیسا حق اتنے سالوں بعد وہ ہوتی کون ہے اپنا حق مانگنے

وہ کسی زخمی شیر کی طرح غرایا تھا اگراس وقت وہ اسکے سامنے ہوتی تو یقینا اپنی آخری سانسیں گن رہی ہوتی

وہ ماں ہے اور کورٹ اسکو پوری طرح اجازت دیتا ہے اپنا حق مانگنے کے لئے “

سائم جیسا سمجھدار سلجھا ہوا وکیل بھی اسکے سامنے اپنی بات نہیں رکھ پارہا تھا

پانچ سال پہلے اسکے اندر کی ماں کہاں غائب ہو گئی تھی اور اب اچانک پانچ سال بعد اسے اپنا حق کیسے یاد آ گیا “”

وہ اسکے کالر کو ایک جھٹکے سے چھوڑتا اپنے روم میں موجود گلاس وال کے قریب آکھڑا

ہوا جہاں سے وہ شہر کا خوبصورت نظارو دیکھ سکتا تھا

آپ اس بارے میں کچھ نہیں کر سکتے اور نہ انہیں کورٹ میں جانے سے روک

سکتے ہیں “

سائم پریشانی سے اپنی پیشانی ملا ہوا بولا وہ خود بھی نوٹس دیکھ کر کافی حیران ہو اتھاوہ افسند کا پر سنل لو ئر تھا اور وہ خود بھی کوئی راہ تلاش نہیں کر پارہاتھا

تو تمھیں میں نے کس کام کے لئے رکھا ہوا یہ سوچنے کا تمہارا کام ہے کہ اس کیس کوکیسے ختم کرنا ہے

وہ سامنے منظر پر نظریں گاڑے بولا لیجے میں سکتی تھی

آپ پریشان نہ ہو سر میں کوئی نہ کوئی سولیوشن ضرور ڈھونڈھ لو لگا مجھے بس کچھ وقت کی موہلت دیں آپ “

وہ افسند کے غصےسے اچھی طرح واقف تھا اور اسے اس کیس کو جیتنے کے لئے کچھ نہ کچھ

تو سوچناہی تھا ویسے بھی اسکو اپنی نوکری بہت عزیز تھی

کچھ بھی کرو اس مسلے کا کوئی حل نکالو اور ہاں فیصلہ میر احق میں ہی ہونا چاہیے “

اس بار وہ اسکی جانب پلٹا اور انگلی اٹھا کر اسکو وارن کرنے والے انداز میں بولا

ڈونٹ وری سرایسا ہی ہو گا

وہ ٹیبل سے فائل اٹھاتا واپس جانے کے لئے پلٹا تھا

اور ہاں ایک آخری بات افسند یار خان نے آج تک ہارنا نہیں سیکھا میں تمھیں صرف دو دن دیا ہوں اگر دودن میں تم نے مجھے کوئی اچھی خبر نہیں سنائی تو اس شہر اور ملک میں اور بھی قابل وکیل موجود ہیں میراکام کرنے کے لئے

اس بار وہ اسکو باہر جانے کا اشارہ کرتا پھر سے گلاس وال کی جانب مڑ گیا آج صبح ہی جب وہ آفس میں آیا تو اسکے ٹیبل پر رکھے نوٹس کو دیکھ کر اس کا غصے سے برا

حال ہو گیا تھا وہ اسکو سب کچھ دینے کو تیار تھا مگر وہ جو اس سے مانگ رہی تھی تھی افسند اسکو کسی بھی قیمت پر دینے کو تیار نہیں تھا اور وہ اس کیس کو جیتنے کے لئے کچھ بھی کر سکتا

تھا۔۔ کچھ بھی عمل مجھے نہیں لگتا ہم ٹھیک کر رہے ہے ہمیں واپس چلے جانا چاہیے اس سے پہلے کہ کوئی گڑبڑ ہو جائے ہم کینٹین میں ہی کچھ کھالیں گے نہ وہ خوفزدہ نظروں سے ادھر ادھر دیکھتی ہوئی اپنی واحد دوست کے پیچھے لپکی تھی جو آج اس سے کچھ نیا کروانے کے جوش میں تھی

کم آن عین تم تو ایسے ڈر رہی ہو جیسے میں تم سے کوئی غیر قانونی کام کروارہی ہوں جسٹ چل یار ہم بس کسی اچھے سے ریسٹورانٹ میں ب لنچ تو کرنے جارہے ہیں اور آج کلاس بھی نہیں ہے تمہارے باڈی

گارڈ کو بھی کچھ معلوم نہیں ہو گا “

عمل لاپر واہی سے کہتی اسکی کلائی تھام کر یونی کے پچھلے گیٹ سے باہر نکلتی چلی گئی تھی

جبکہ عین کو اپنے بڑھتے قدموں کے ساتھ ساتھ اپنے دل کی ڈھڑکنے بھی بڑھتی ہوئی محسوس ہورہی تھی بغیر اپنے باڈی گار ڈاور بغیر کسی کو انفارم کئے اکیلے باہر لکھنا اسکے لئے

کسی غیر قانونی کام سے کم نہیں تھا

عمل تم نہیں جانتی گھر پر جب سبکو معلوم ہوگا تو وہ لوگ پریشان ہو جائے گے “

وہ اسکے ساتھ ہی ٹیکسی میں بیٹھتی ہوئی بہت پریشانی سے بولی

اس وقت اسکے اندر ایک انجانی سی خوشی بھی تھی دوسری طرف ایک ڈر تھا جو اسکو پوری طرح سے خوش بھی نہیں ہونے دے رہا تھا

ڈونٹ وری عین میں تمھیں خود ڈراپ کر دو گلی گھر ا گر دیر ہو گئی رہی بات تمہارے باڈی گارڈ کی تو ایک دن تم اسکے ساتھ گھر نہیں گئی تو کوئی طوفان تو نہیں آجائے گا

عمل اسکی ہی گرین آنکھوں میں دیکھتی ہوئی بولی جو خوف کی وجہ سے اس وقت مزید خوبصورت لگ رہی تھی

اسکواپنی یہ معصوم دوست بہت عزیز تھی پر اس پر لگی پابندی اسکو ہمیشہ ہی ناپسند تھی جس سے آج وہ اسکو تھوڑی سی آزادی دلوانا چاہتی تھی پر وہ یہ نہیں جانتی تھی کی اسکی یہ غلطی عین کے لئے کتنی بھاری پڑ سکتی ہے

طوفان ہی آجائے گا اگر میں گھر تمہارے ساتھ گئی اس لئے عمل تم وہاں سے جلدی نکلنے کی کوشش کرنا گارڈز کے معلوم ہونے سے پہلے میں کوئی رسک نہیں لینا چاہتی

وہ عمل کی بات سے مطمعین تو ہو گئی تھی اور اگر گھر پر کسی کو معلوم ہو جاتا تو وہ ان

پر۔۔ اگر انہیں معلوم ہو گیا تو وہ کیا کریگی اس شخص کے بارے میں خیال آتے ہی ایک بار پھر ا سکے ڈر میں مزید اضافہ ہوا تھا

ارے وہاں پہنچے تو وہ پہلے تم ابھی سے واپس آنے کی بات کر رہی ہو اور اب جب پنجر اکھول ہی لیا ہے تو اڑتے ہوئے اتناڈر کیوں رہی ہو “

عمل اس بار تھوڑ ا شرارتی انداز میں اسکی طرف ایک آنکھ دبا کر بولی تو ا چاہتے ہوئے بھی وہ ہولے سے مسکرادی تھی

پر وہ نہیں جانتی تھی کہ واپسی پر اسکی مسکراہٹ غائب ہونے والی ہے اگر اسے معلوم

ہونا تو وہ کبھی عمل کے ساتھ باہر لنچ کرنے پر کبھی بھی راضی نہ ہوتی

انہیں ناپاک ہاتھوں سے تو نے اسکی تصویر کو چھوا تھانہ “

چاکو کی تیز نوک سے وہ اپنے سامنے بیٹھے شخص کے ہاتھ کو ٹریس کر کرتاہوا بولا وہ جو پہلے ہی اسکے ٹارچر سے تڑپ رہا تھا جب چاکو کی تیز دھار نے اسکی سکن کو کاٹنا شروع کیا

تو اسکے حلق سے درد بھاری چیخ اس کمرے میں گونج اٹھی تھی

یہ وہیں ہاتھ ہیں نہ جو اسکے ہر ایک پل کو کیمرے میں قید کر رہے تھے اور اور اگر تیرے جسم میں یہ ہاتھ ہی نہ رہے تو کیسا لگے گا

وہ بے دردی سے چاکو سے اسکے دوسرے ہاتھ پر ایک گہراکٹ مارتا ہوا بولا اس بار وہ شخص اپنی جگہ سے تڑپ کر نیچے زمین پر گر چکا تھا جبکہ اسکی درد بھری چیخوں میں مزید

اضافہ ہو گیا تھا

جبکہ اس روم میں موجود اسکے آدمی اپنے سامنے چلتے منظر کو ایسے دیکھ رہے تھے جیسے کوئی مووی کا کوئی سین چل رہا ہو

کیا ہوا بس اتنے میں ہمت جواب دے گئی تمہاری آگے میں تمہارے ساتھ جو کرنے والا ہوں اسکو کیسے برداشت کرو گے”

وہ زمین پر درد سے تڑپتے اس شخص کے قریب ہی جھکتا ہوا بولا لہجہ اس وقت برف کی طرح بلکل سرد تھا اور آنکھیں قہر بر سارہی تھی جیسے وہ اپنی آنکھوں سے نکلتی آگ سے اس شخص کو جلا کر مار دینا چادر ہا ہو اسکے اس وحشت زدہ انداز پر ایک پل کے لئے اسکے آدمیوں کو اس سے دہشت کی محسوس ہوئی تھی

پلیز مجھے مت مارو۔۔ مجھے۔۔ مجھے بس آرڈر ملے تھے اسکو فالو کرنے کے “”

وہ آدمی اس سے اپنی زندگی کی بھیک مانگ رہا تھا کیونکہ اسکو لگ رہا تھا کہ سامنے کھڑا وہ شخص اسکے بخشے گا نہیں جبکہ وہ اسکی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے اس نے اپنے سامنے کھڑے دونوں آدمیوں کو اشارہ کیا اور وہ دونوں اسکا اشارہ سجھتے ہیں اس آدمی کے دونوں ہاتھوں کو اپنی گرفت میں لے چکے تھے

پلیز مجھے معاف کردو میں صرف اپنا کام کر رہا تھا مجھے جانے دو میں “

اس آدمی کی بات بھی پوری نہیں ہو پائی تھی کہ روم میں ہڈی ٹوٹنے کی آواز کے ساتھ ساتھ اس آدمی کی درد ناک پیچھے گونج اٹھی تھی

اسکا ایک آدمی اسکی انگلیوں کے ساتھ ساتھ اسکے ہاتھ کی ہڈی پوری طرح سے توڑ چکا تھا

اس وقت وہ اس آدمی کے فلیٹ میں موجود تھے جو سنسان علاقے میں تھا اور یہاں اسکی درد ناک چیخ سننے والا کوئی نہیں تھا

کس نے اور کیا آرڈر ملے ہے تمھیں جھوٹ بولنے کی کوشش مت کر ناور نہ وہ ہاتھ کے اشارے سے اپنے آدمی کو روکتا ہوا اس سے مخاطب ہوا جو اس وقت اسکے دونوں آدمی کی گرفت میں تڑپ رہا تھا

کس نے آرڈر دے مجھے نہیں معلوم بس مجھے اتنا کہا گیا تھا اس لڑکی کو فالو کرنا ہے

جسکی مجھے اچھی رقم مل رہی تھی

وہ آدمی بغیر رکے بولنا چلا گیا اسکو لگ رہا تھا شاید سچ بتانے کے بعد وہ اسکو چھوڑ دے گے

ایساہی تھا اسکے بات ختم کرتے ہی اس آدمی کی پھر سے درد ناک یا کمرے میں گونجی تھی

م۔۔ میں۔ سچ ۔۔۔ کی کہ رہا ہوں مجھے کچھ نہیں معلوم مجھے معاف کردو “

اب در داسکی برداشت سے باہر ہو رہا تھا وہ زمین پر پڑا کسی بین پانی کی مچھلی کی طرح توپ رہا تھا

تم نے بہت بڑی غلطی کی ہے میری سب سے قیمتی چیز پر نظر ڈال کر اور مصطفی زمان شاہ ایسی غلطی کی معافی نہیں سزا دیتا ہے

وہ اپنے دونوں آدمی کو اشارہ کرتا ہی روم سے انیچے دوسرے روم میں آگیا جہاں سامنے

ہی دیوار پر حورین کی تصویرے لگی ہوئی تھی

کسی میں وہ مسکرارہی تھی

کسی تصویر میں کسی سے بات کر رہی تھی

کینٹین میں کھانے کھاتے ہوئے لکھتے ہوئے جانے کتنی ہی تصویرے وہاں موجود تھی ان سب کو دیکھ کر اسکا غصہ مزید بڑھا تھا رگے جیسے تن گئی تھی حورین کی اپنی جان سے بھی زیادہ حفاظت کرانے کے بعد بھی پچھلے تین سال میں یہ دو بار ہو گیا تھا کچھ توکی رہ

گئی تھی اسکے پروٹیکشن میں آگے ایسا ہونے سے روکنے کے لئے اسے اپنی سکیورٹی مزید سخت کرنی ہو گی اس سے

پہلے کہ کوئی حورین نقصان پہونچائے

میں تمھیں اس تک کبھی پہونچنے نہیں دونگا یہ میرا وعدہ ہے تم سے “

وہ دیوار پر لگی ایک ایک فوٹو کو ا تار تا ہوا اپنی سوچ میں اس شخص سے مخاطب ہوا تھا جو یہ سب کردار ہا تھا جبکہ دوسرے کمرے سے مسلسل اس شخص کی چیچے اسکوسنائی دے

رہی تھی جو وہ کام ادھورا چھوڑ کر گیا تھا اسکے آدمی پورا کر رہے تھے تم اپنا کام اچھے سے جانتے ہو اسکی ڈیتھ باڈی کے ساتھ کیا کرنا ہے “” وہ اسی روم میں داخل ہوتا اپنے آدمی سے مخاطب ہوا اور ایک نظر اس شخص کو دیکھا جو اپنی زندگی کی آخری سانسیں گن رہا تھا

و وان دونوں پر ایک آخری نظر ڈالتا روم سے باہر نکلا ہی تھا کہ اسکی بلیک لیدر جیکٹ کی پاکٹ میں بجتے موبائل نے اسکے قدموں کو روکا تھا سکرین پر جمنے نمبر کو دیکھ کر اسکے ماتھے پر پڑے بلوں میں اضافہ ہو ا کال رسیو کر کے موبائل کان سے لگا یا تھا

ہاں بولو اس وقت فون کیوں کیا کوئی گڑبڑ

سرد لہجے میں پوچھا گیا مگر سامنے والے کی بات سنتے ہی اسکی موبائل پر پکڑ سخت ہوئی

تم کچھ مت کرو صرف دور سے نظر ر کھو گھر پہونچتے ہی کال کرنا میں آرہا ہوں “

اپنی بات مکمل کر کے وہ فون کٹ کر تا ہے میں وہاں سے نکلا تھا

تم لوگوں کو ایک کام دیاتھا میں نے اور کل سے تم لوگوں سے وہ کام نہیں ہوا ایک لڑکی کو ڈھونڈھ نہیں پائے تم لوگ “

ابراهیم خان کی گرجدار آواز پورے خان ولا میں گونجی تھی انکا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ سامنے کھڑے اپنے آدمی کا قتل ہی کر دیتا

خان ہم نے سب جگہ تلاش کر لیاپر بی بی جی کا کچھ پتہ نہیں چل رہا ہے ابھی میرے اور بھی آدمی انکی تلاش میں لگے ہوئے ہیں

وہ ابراہیم خان کا خاص آدمی تھا اس لئے اسکے سامنے بولنے کی ہمت کر گیا ور نہ باقی تو خاموشی سے سر جھکائے کھڑے ہوئے تھے کسی میں اپنے مالک کے سامنے بولنے کی گستاخی نہیں کی تھی

کچھ بھی کرور حیم پتہ لگاؤ مجھے کسی بھی قیمت پر حفصہ یہاں موجود چاہیے واپس میری نظروں کے سامنے ورنہ تم لوگ اپنی خیر منانا

ابراهیم خان غصے سے اپنی مٹھی بھینچتا ہوا بولا کل سے انکی یہی حالت تھی کل رات سے وہ ایک لمحہ بھی سکون سے بیٹھے نہیں تھے اور کیسے بیٹھتے انکی بیٹی جو انکا سکون اپنے ساتھ لے گئی تھی

تم انکے ساتھ کچھ کر دیا نہ کرو ابراھیم پر اگر یہ لوگ حفصہ کو تلاش نہیں کر پائے تو ان لوگوں کو مجھ سے کوئی نہیں بچا سکتا اس لئے ان لوگوں کی بہتری اسی میں ہے کہ یہ لوگ اپنا کام اچھے سے کریں”

کب سے اپنے غصے کو خاموشی سے ضبط کر تا شمس خان اپنی جگہ سے کھڑا ہوتے ہی غرایا تھا

آج دوسری بار حفصہ نے اسکو ٹھکرایا تھا اسکو اتنے لوگوں کے سامنے ذلیل کیا تھا

وہ اسکا سالوں سے خواہشمند تھا ور اپنی اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے اس نے ابراهیم خان اور اسکی کمپنی کو اس مقام پر لا کر کھڑا کر دیا کہ وہ اسکے پر پوزل کو انکار کری نہیں سکتا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا ابراھیم خان کے لئے دولت اپنی اولاد کی خوشی سے زیادہ معنے رکھتی تھی

اسکو بے صبری سے اس لمحے کا انتظار تھا جب وہ اس لڑکی کا گھمنڈ مٹی میں ملادیتا جس گھمنڈ سے اس نے پہلی بار شمس کو ٹھکرایا تھا مگر ایک بار پھر وہ اسکی تذلیل کر کے اسکے ہاتھ سے نکل گئی تھی

شمس تم فکر نہ کرو میں اسکو ڈھونڈھ لونگا اور تمہارے سامنے لا کر کھڑا کرونگابس مجھے وقت دو”

ہارون اسکے غصے کو دیکھتے ہوئے بہت آرام سے بولا جتنا غصہ اسکے باپ کو حفصہ کے نکاح سے بھاگ جانے پر تھا اس سے کئی زیادہ اسکو تھا

فکر مجھے نہیں تمھیں کرنی چاہیے ہارون ابراهیم خان تمہاری بہن کے بھاگ جانے سے نقصان تمہارا ہو گا میرانہیں چہرے پر ایک مغروری مسکراہٹ لئے وہ طنز یہ انداز میں بولا تھا

جبکہ اسکی بات پر ابراہیم خان پریشانی سے اپنی پیشانی مسلتا ہوا اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا کچھ سالوں سے انکی کمپنی کو بہت نقصان ہو رہا تھا

شمس کا حفصہ کے لئے آیا ہے پوزل انہونے فورا قبول کرلئے یہ جانے کے باوجود بھی کہ اسکی معشرے میں اسکی عزت کتنی خراب تھی وہ ایک عیاش قسم کا آدمی تھی

پر ابراہیم خان کے لئے اگر دنیا میں کچھ عزیز تھاوہ اپنی کمپنی اور نام جس کے لئے وہ اپنی بیٹی زندگی کے بارے میں بھی نہیں سوچ رہا تھا

ویسے تم گھبراؤمت میں اپنی ہونے والی بیوی کو کو اتنی آسانی سے نہیں چھوڑنے والا اتنی بے عزتی کے بعد تو بلکل نہیں اگر حفصہ ابراھیم خان کا نکاح ہو گا تو صرف شمس خان سے وہ ایک ایک لفظ پر زور دیتا اس کمرے میں موجود ہر فرد کی طرف دیکھتا ہوا بولا اسکے لہجے

اور انداز میں سے چنگاریاں نکلتی ہوئی محسوس ہورہی تھی

جبکہ اسکی بات پر کمرے کے ایک کونے میں کھڑی رخسار بیگم نے افسوس بھری نظر اپنے بیٹے اور شوہر پر ڈالی انکے لئے حفصہ کی خوشی اسکے آنسو اتنے معنے نہیں رکھتے تھے جتنا اس نکاح سے ملنے والا فائدہ اب انکو حفصہ کو یہاں سے ہوگانے کا کوئی افسوس نہیں ہور ہا تھا اور اسکے لئے یہ بات بھی سکون کا بائس بنی تھی کہ ابراھیم کو ان پر کوئی شک نہیں ہوا اس طرف سے وہ بلکل مطمین ہو چکی تھی

وہ لوگ مزید بھی کچھ بول رہے تھے مگر رخسار بیگم سے وہاں رکا نہیں گیا وہ اپنی سکی دباتی وہاں سے اٹھ کر چلی گئی تھی

انکی بیٹی ان لوگوں سے دور تھی یہی اسکے لئے کافی تھا

حورین .

دہ غصے میں دندناتا گھر میں داخل ہوا اس وقت اسکی گرج دار آواز پورے شاہ ہاؤس میں گونج رہی تھی

حورین باہر آو اور اس طرح چھپنے سے مجھ سے  بچ نہیں سکتی ۔

وہ سیڑھیاں چڑھتا اپر اسکے کمرے کی جانب بڑھا جانتا تھا اس وقت وہ کمرے میں ہی موجود ہو گی

مصطفی رک جاؤ اس وقت تم بہت غصے میں ہو اور وہ بھی ڈری ہوئی ہے اس وقت اس سے بات کرنا صحیح نہیں ہوگا “

داود حسن کی آواز پر اسکے تیزی سے بڑھتے قدم رکے تھے

یہ جانے کے باوجود کہ میں اس وقت کہاں اور کیا کر کے آرہا ہوں تم مجھے کیسے روک سکتے ہو

وہ انکی جانب پلٹتا ہوا گو یا ہوا اگر اس وقت داؤد کی جگہ کوئی اور ہوتا تو وہ اسکی بات نہیں سنتا پر سامنے کھڑا شخص اسکی زندگی میں بہت اہمیت رکھتا تھا اسکے لئے وہ اسکی ماں باپ

دونوں تھے میں سب جانتا ہوں پر تم اسکی حالت دیکھو جب سے اسکو معلوم ہوا کہ اسکے یونی سے نکلنے کی خبر تمھیں لگ چکی ہے تو اسکار ورو کر برا حال ہو گیا اس وقت وہ بہت ڈری

ہوئی ہے اور تم سے خوفزدہ بھی ہے

داؤد حسن بہت راسان سے اسکو سمجھارہے تھے پر اسکا غصہ ابھی کم ہونے والا نہیں تھا اگر اس لڑکی کی یہی حرکتیں رہیں نہ تو ایک دن یہ لڑکی کسی اور کے نہیں میرے ہی

ہاتھوں فنا ہو جائے گی

اس نے حورین کے کمرے کے دروازے کے ہینڈل کو سختی سے پکڑا تھا اگر اسے معلوم ہو جائے تم یہ سب اسکے لئے کیوں کر رہے ہو تو وہ کبھی ایسی حرکت نہیں کرے گی اس لئے آرام سے بات کرنا

وہ اسکو مزید حدایت دیتے وہاں سے چلے گئے تو اسکا غصہ پھر سے بڑھ گیا اس نے سختی

سے اسکے کمرے کا دروازہ بہایا تھا

حورین در وازہ کھولو مجھے معلوم ہے تم مجھے سن رہی ہو “

اسکی آواز میں پھر سے سختی آئی تھی پر اندر سے کوئی جواب وصول نہیں ہوا تو اس سے

پھر سے دروازہ بجایا تھا

تمھیں کیا لگتا ہے کہ یہ بے جان دروازہ مجھے تم تک پہنچنے سے روک سکتا ہے “

حورین جو خاموشی سے کھڑی دروازے کو دیکھ رہی تھی اس بار بند دروازے کے

دوسری طرف سے آتی اسکی سرد آواز پر وہ جی جان سے کانپ گئی تھی ڈھڑکنے پہلے سے

بھی زیادہ تیز ہو گئی

اس وقت اسکو ایسا لگ رہا تھا کہ وہ میلوں کا سفر طے کر کے آئی ہو

اگر تم ایسا سوچتی ہو تو یہ تمہاری بہت بڑی بھول ہے اس لئے دروازہ کھولو ور نہ مجھے

اپنا طریقہ آتا ہے اسے کھولنے کے لئے “

اس بار ا سکی آواز کے ساتھ ساتھ اسکا لہجہ بہت سخت ہوا تھا اور اسکے لہجے کی سختی سے

دروازے سے لگی کھڑی حورین کو اپنی ٹانگو سے جان نکلتی ہوئی محسوس ہوئی تھی وہ جانتی تھی کہ غلطی اسنے کی تھی پر وہ اس وقت اپنی ملنے والی سزا سے ڈر رہی تھی اور ڈرتی بھی کیوں نہ دروازے کے اس پار کھڑ اوہ ہارٹ آف سٹون اپنی ایک تفصیلی نظر

سے اسکی روح تک فنا کر سکتا تھا

اللہ میں اب کیا کروں پلیز کسی کو میری مدد کے لئے بھیج دو پلز “

وہ اپنی نازک انگلیوں کو موڑتی واشروم کی جانب بڑھی تھی جانتی تھی کہ یہ دروازہ کسی بھی وقت کھل سکتا تھا اور وہ اس وقت اسکے سامنے آنے سے خوفزدہ تھی جو خطرناک

حد تک عصے میں لگ رہا تھا

ابھی اپنے قدم بڑھایاہی تھا کہ دھاڑ کی آواز پر اسکے کمرے کا دروازہ کھلا اپنے گھبرا کر مڑ کر دیکھا تو اس کے قدم اپنی ہی جگہ جم گئے تھے

سامنے ہی وہ کھڑا تھا قہر آلود نظروں سے اسکو گھورتا

غصے کی وجہ سے آنکھیں حد درجہ لال ہو چکی تھی اور دروازہ پوری طاقت لگا کر کھولنے کی وجہ سے وہ گہرے گہرے سانس لے رہا تھا جبکہ دونوں ہاتھوں کی سختی سے مٹھی

بھینچے وہ اپنا غصہ ضبط کرنے کی کوشش کر رہا تھا

دیکھیں۔۔۔ہے۔۔ میری کو۔۔ کوئی

غلطی نہیں۔۔۔ وہ ۔۔ وہ مجھ۔ میں نے بہت منع بھی کیا تھا”

اسکو اپنے قریب بڑھتا دیکھ وہ بمشکل اپنی بات مکمل کر پائی تھی جبکہ وہ اسکی وضاحت کو نظر انداز کرتا آہستہ آہستہ اسکی جانب بڑھ رہا تھا

لیکن پھر بھی تم گئی یہ جانے کے باوجود کے تم غلطی کر رہی ہو اور تمہاری اس غلطی کی تمہیں سزا مل سکتی ہے

وہ ایک ایک لفظ پر زور دیا اسکے نزدیک جار ہا تھا اور وہ ڈر خوف کی وجہ سے اپنے قدم

پیچھے کی جانب بڑھارہی تھی

پلز معاف کر دیں گی۔ مجھے میں نہیں جانا چاور ہی تھی پر۔۔۔”

اسکے پاس جیسے لفظ ختم ہو گئے تھے اپنی صفائی پیش کرنے کے لئے

مگر جب اسکی کمر واشروم کے دروازے سے ٹکڑائی تو وہ اپنے خشک پڑتے لبوں پر زبان پھیرتی ہوئی بولی نگاہیں ادھر ادھر اپنے بچنے کی کوئی راہ تلاش کر رہی تھی جبکہ وہ اسکی

ایک ایک حرکت کو نوٹ کر تا اسکے نازک وجود کے ارد گرد بازور کھتا اسکی فرار کی راہ

بند کر چکا تھا

اس وقت اسکو اپنے سامنے صحیح سلامت دیکھ کر اسکو کتنا سکون ملا تھا یہ وہی جانتا تھا اگر

آج اسکو ذراسی چوٹ بھی لگ جاتی تو وہ نہ جانے وہ کیا کر بیٹھتا

اگر آج تمہاری بیوقوفی کی وجہ سے تمھیں کچھ ہو جاتا یا تم کسی مشکل میں پڑتی تو “

وہ اپنی بات کہتا ایک لمسے کے لیے رکا اور اسکے ڈر سے زرد پڑتے چہرے کو غور سے دیکھا

تو تمہاری قسم آج تمہارا وہ حال کر تا کہ تمھیں مجھ سے کوئی نہیں بچا سکتا تھا۔

۔ کوئی بھی نہیں

اسکے لیے میں واضع وار ننگ تھی جبکہ اسکا آخری جملہ سن کر اس نازک لڑکی کا علق

تک خشک پڑ گیا تھا

وہ اسکو سخت نظروں سے گھور ہمزید اس کے قریب ہوا اب دونوں کے درمیان فاصلہ

کافی کم رہ گیا تھا

جبکہ اسکی اس قدر قربت پر اس معصوم کا دل بری طرح دھڑکنے لگا خوف کی جگہ ایک

عجیب سے احساس نے جگہ لے لی تھی

آئندہ ایسا نہیں ہو گا۔۔۔۔ میں وعدہ کرتی ہوں “

اسکی اتنی قربت سے وہ گھبرارہی تھی اس سٹون مین کے آگے ہمیشہ ہی اسکی حالت ایسی

ہیں ہو جاتی تھی

میں آئندہ ایسی نوبت ہی نہیں آنے دو نگا مائی لٹل پر نسیس “

کانپتی آواز سنکر وہ طنزیہ مسکرایا اور اس سے ایک انچ کے فاصلے پر آرکا تھا جبکہ وہ

نا سمجھی سے اسکی طرف دیکھنے گئی

کیا۔۔ کیا مطلب ہے آپکا “

اسکی گرم سانسیں اپنے چہرے پر محسوس کر کے اسے اپنے چہرے سے آگ سی نکلتی

ہوئی محسوس ہورہی تھی

مطلب یہ کہ آج سے تمہار ایونی جانا بند تم گھر سے ہی پڑھائی کروگی اور ایک ہفتے

کے لئے تم اس کمرے سے باہر نہیں نکل سکتی “

وہ اسکی پیشانی پر موجود نشان پر اپنی انگلی پھیر تاہوا بولا اسکے اس خوبصورت چہرے پر یہ

نشان اسکی وجہ سے ہی تھا

” آپ۔۔۔ آپ ایسا نہیں کر سکتے “

اسکی انگلی کا لمس اپنی پیشانی پر محسوس کر کے اسکے پورے بدن میں سنسناہٹ

سی دوڑ گئی تھی

میں بہت کچھ کر سکتا ہوں چاہوں تو تمھیں اس کمرے میں باندھ کر بھی رکھ سکتا

ہوں تمام زندگی ۔۔ اور تم کچھ نہیں کر سکتی “

وہ چہرے پر ایک دل جلانے والی مسکراہٹ لئے اس لئے دور ہوا اور اسکی بات پر وہ جیسے

ہوش میں آئی تھی

یہ تمہاری سزا ہے بغیر میری اجازت کے باہر جانے کی اور آگے کے لئے بھی میں

نے سوچ لیا ہے

وہ سخت نظروں سے اسکو گھورتا اسکے کمرے سے نکلتا چلا گیا اسکو ڈر تھا کہ اگر وہ مزید وہاں رکتا تو یقین وہ اسکو تکلیف پہنچادیتا پر وہ اپنی حورین کو اپنے غصے سے ہی نہیں بلکہ خود

سے بھی بچا کر رکھنا چاہتا تھا

کیا ہو احادی بیٹا آج آپ اتنے خاموش کیوں ہیں آپکو یہاں آکر اچھا نہیں لگا

حیات صاحب نے کب سے خاموش بیٹھے اپنے جان سے بھی عزیز پوتے کی طرف دیکھ

کر کہا جو آج کافی خاموش اور او اس لگ رہا تھا

ایسی بات نہیں ہے دادو مجھے اچھا لگتا ہے یہاں آکر

اسکے معصوم سے جواب پر حیات خان کھل کر مسکرادئے تھے

اس وقت وہ دونوں اپنے گھر کے قریب ہی پارک میں موجود تھے حیات صاحب اکثر

شام کے وقت اسکے ساتھ یہاں واک کے لئے آتے تھے

گرایسی بات ہے تو آپ آن اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلنے کے بجائے یہاں

ہمارے ساتھ کیوں بیٹھے ہیں

انہونے اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لیتے ہوئے بہت ہی محبت سے اسکی طرف

دیکھا

آج اسکی گھری نیلی آنکھوں میں ایک اداسی سی تھی جو انکی نظروں سے چھپی نہ رہ سکی

اپنے دوستوں کے ساتھ تو میں روز ہی کھیلتا ہوں آج میں اپنے پیارے سے دادو کے

ساتھ بیٹھنا چاہتا ہوں

اس بار ا سکے جواب پر حیات خان کھل کر مسکرادئے تھے اسکی باتیں سن کر کوئی یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ پانچ سال کا بچہ بات کر رہا ہے

پڑھائی میں زمین ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ایک سمجھدار بچہ تھا نین نقوش بلکل اپنے باپ جیسے تھے حیات صاحب نے دل ہی دل میں اسکی نظر اتاری تھی

اپنے دادو کے پاس بیٹے ہو تو انہیں اپنی اداسی کی وجہ بھی بتادو میری جان آپکا یہ

اداس چیرہ دیکھ کر آپکے داد و کو بھی اچھا نہیں لگ رہا ہے “

انہونے بہت ہی محبت سے اسکی پیشانی سے بکھرے بالوں کو ہٹایا تھا

دادو میں ڈیڈ سے ناراض ہوں انہونے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ مجھے اس بار سینٹرل پارک لیکر جائے گے پر وہ اپنا وعدہ بھول گئے وہ اچھے ڈیڈ نہیں ہیں انہونے اپنا وعدہ توڑا

وہ ناراضگی سے کہتا اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا اسکاند از ایسا تھا جیسے وہ اپنے ڈیڈ کو ناراضنگی

دیکھ رہا ہو

اوہ تو یہ بات ہے آنے دوا کے ڈیڈ کو گھر پھر دیکھنا میں کیسے انکے کان پکڑ کر کھینچتا ہوں ہمارے پوتے سے وعدہ توڑنے کی سزاملے گی انہیں “

وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر اسکے نزدیک آکھڑے ہوئے

حیات صاحب اپنے بیٹے کی مصروفیت کو سمجھتے تھے پر اپنی ہی مصروفیت کی وجہ سے وہ اپنے بیٹے سے بھی دور ہوتا جار ہا تھا پر انہیں اس بات کا بھی اندازہ تھا جتنا انکا بیٹا اپنے باپ کی توجہ کے لئے تڑپتا ہے انکے بیٹے کو بھی اس سے اتنی ہی محبت تھی بس وہ اپنے کام کی

وجہ سے مجبور تھا

پر داد و جب ڈیڈ مجھ سے خفا ہوتے ہیں تو میں اداس ہو جاتا ہوں اگر آپ ان سے خفا ہوئے تو ڈیڈ بھی اداس ہو جائے گے اس لئے داد و آپ انہیں مت ڈانٹنا ” اسکی اس بات پر حیات صاحب کو اس پر بے پناہ پیار آیا تھاوہ جانتے تھے حادی اپنے ڈیڈ کے لئے بہت حساس ہے وہ اپنے باپ کی ناراضگی اور اسے اداس بلکل نہیں دیکھ سکتا تھا۔۔۔۔

اس لئے فوراہی اسکی حمایت میں بول پڑا تھا

چلوا گر تم کہتے ہو تو میں تمہارے ڈیڈ کے کان نہیں کھینچوں گا اب تو خوش ہو نا تم

انہو نے بہت ہی محبت سے اسکے لنھے منھے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیکر دبایا تھا

اچھا چلو مجھے اب یہ بتاؤ کہ تمہارے اس اداس چہرے پر مسکراہٹ لانے کے لئے

میں کیا کروں “

و اسکا ہاتھ تھام کر پارک کے باہری گیٹ کی طرف بڑھے تھے

آپکو کچھ نہیں کرنا ہے بس مجھے آئسکریم کھلا دیں اور ڈیڈ کو معلوم نہیں ہو نا چاہیے

ور نہ تو آپ جانتے ہی ہے “

وہ روڈ کے دوسری جانب موجود آئس کریم شاپ کی طرف دیکھ کر بولا اتنے وقت میں پہلی بار اس کے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی اور حیات صاحب اسکے چہرے کی یہ مسکراہٹ چھیننا نہیں چاہتے تھے اس لئے اسکی طرف دیکھ کر مسکرادئے اور انکی اجازت ملتے ہیں وہ تیزی سے ہاتھ چھوڑا کر اس شاپ کی طرف بھاگا تھا

حادی بیٹا بھا گومت تمھیں چوٹ لگ جائے گی “

اسکی تیزی پر وہ پریشانی سے بولے شام کا وقت تھا روڈ پر کافی تیزی سے کار آجارہی تھی حیات صاحب تیزی سے اسکی طرف بڑھ رہے تھے جب انکی نظر سامنے سے آتی ایک

تیز کار کی طرف پڑی جو ھادی کی طرف بڑھ رہی تھی

حادی بیٹا سامنے دیکھو

پل میں حیات صاحب کو اپنا دل بند ہوتا ہوا محسوس ہو رہا تھا کے قدموں میں مزید تیزی آگئی مگر وہ کار انکے قدموں سے بھی تیز تھی لمحوں کا کھیل تھا

انکی چیخ تھی جو اس جگہ گونجی تھی

@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@

و بتایا اس نے کچھ حورین کا پیچھا کرنے کے پیچھے اسکا کیا مقصد تھا

اسفند اسکے برابر والے سنگل سوفہ پر بیٹھتا اس سے استفسار کر رہا تھا جو نظریں سامنے دیوار پر لگی پیانگ پر گاڑے کسی گہری سوچ میں گم تھا اسفند کی آواز پر وہ جیسے ہوش میں

آیا تھا

وہ حورین کے ہر لمحے کی خبر اس تک پہونچار ہاتھا اور اتنے دن تک میں بے خبر رہا

اگر وہ اس تک پہنچ جاتا تو

اس نے غصے میں ایک زور دار پنچ اپنے سامنے رکھی ٹیبل پر مارا تھا آج اسکا غصہ کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا اتنی سکیورٹی رکھنے کے بعد بھی اس سے کہاں غلطی ہو گئی تھی جب تک تم حورین کے ساتھ ہو کوئی اسکی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتا

چوٹ پہونچانا تو دور کی بات ہے

وہ اسکے مضبوط چوڑے کندھے کو تھپتھپا کر اسکا غصہ کم کرنے کی اپنی نا کام سی کوشش

کر رہا تھا

وہ اور مصطفی بچپن کے دوست تھے جس طرح دونوں کے والد میں گہری دوستی تھی اسی طرح کی دوستی بہت گہری تھی دونوں میں بلکل بھائیوں کی طرح محبت تھی وہ اسکے درندے والے روپ سے بھی اچھی طرح واقف تھا

اسکی حفاظت کے لئے میں کچھ بھی کر سکتا ہوں اسفند چاہے اسکے لئے مجھے اسکو گھر

میں بند کر کے ہی کیوں نہ رکھنا پڑے

وہ اپنے بالوں میں ہاتھ پھیر تا پنی اندر کی بے چینی کو کم کرنے کی کوشش کر رہا تھا تمھیں مجھے یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے تم حورین کی حفاظت کے لئے کس حد

تک جاسکتے ہو میں اس سے اچھی طرح واقف ہوں

وہ ایک نظر اپنے دوست پر ڈالتا ہوا بولا

وہ اتنے سالوں سے حورین کے لئے اسکی فکر دیکھتا رہا تھا وہ اسکے لئے بہت پوڑیسو تھا حورین اسکے لئے بھی بہت خاص تھی اس لئے اسکا غصہ ہونا بھی جائز تھا۔

ویسے مصطفی حورین کے لیے تمہارا ہونا اچھی بات ہے پر تم کبھی کبھی کچھ زیاد وہی کر جاتے ہو یہ سوچے سمجھے بغیر کہ تمہارے رد عمل سے اس پر کیا اثر پڑ تاہو گا اسکی حفاظت کرتے کرتے ایک دن تم اسے خود سے دور کر دو گے یہ جانے کے باوجود

کہ حورین کا تمہارے علاوہ اس دنیا میں کوئی نہیں ہے

وہ ایک لمحے کے لئے رکا اور مصطفی کے چہرے کی طرف دیکھا جسکے تاسرات بلکل سخت

تھے جیسے وہاند راپنے آپ سے لڑ رہا ہو.

اور اب تمہارے پاس بھی ایک وہ ہی باقی رہ گئی ہے اس لئے تم اسکا سہارا بنو اپنے

قریب کرو اسکو

وہ اسکو ادھر سے ادھر ٹہلتا ہوا دیکھ کر بولا اس نے حورین کے لئے جو فیصلہ لیا تھا اسے

سن کر وہ خود بھی حیران ہوا تھا

نہیں اسفند اسکی بھلائی اسی میں ہے کہ وہ مجھ سے دور رہے میں جس آگ میں جل رہا ہوں وہ آگ سے بھی جلاد یگی میری زندگی کے صرف دو ہی مقصد ہے حورین کی حفاظت اور اور اس آدمی کی بر بادی جس کی وجہ سے میری پوری خوشیاں تباہ ہوگئی ” اس وقت اسکے چہرے کے تاسرات بہت سخت تھے اور اسفند بہت اچھے سے جانتا تھا

اس وقت اسکے اندر کیا جنگ چل رہی تھی

” ماضی میں جو ہوا ہے تم اسے بدل تو نہیں سکتے مصطفی یہ ضروری نہیں آگے چل کر ویسا ہی ہو جیسا تم سوچ رہے ہو پر میں تمھیں بدلہ لینے سے نہیں روک رہا ہوں ” وہ اسکو ہر بار کی طرح اپنی بات سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا

جہاں تک مجھے لگتا ہے تم نے مجھے یہاں اپنی بات کرنے کے لئے بلایا تھا اگر تمھیں

میرے بارے میں بات کرنی ہے تو اس وقت میرے پاس بلکل وقت نہیں ہے “

ہر بار کی طرح وہ آج بھی اس بات سے بچنے کے لئے وہ اپنی بات کہتا دروازے کی

جانب بڑھا تھا

اس نے اپنے بیٹے کی کسٹڈی کے لئے کیس فائل کیا ہے

ابھی اسکا ہا تھ دروازے کے ہینڈل پر ہی تھا جب اسفند کی بات پر مصطفی تیزی سے اسکی

جانب پلٹا تھا

کیا تمہیں اسکی واپسی کا معلوم ہے

اسکو خاموشی سے کھڑا دیکھ کر اسفند مزید بولا تھا جانتا تھا وہ اب اپنی بات نہیں کریگا اس

لئے اس نے مصطفی کو یہاں بلانے کا مقصد بتایا تھا

نہیں ان گزرے پانچ سالوں میں اس نے مجھ سے کوئی رابطہ نہیں کیا

اب وہ اپنی پریشانی بھلا کر پوری طرح سے اسکی طرف متوجہ ہوا

اب تم کیا کرو گے “

وہ اس سے بس اتنا ہی پوچھ پایا تھامزید کچھ کہنے کی اس نے کوشش بھی نہیں کی

میری وکیل سے بات ہوئی ہے کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نکلے گا پر میں کسی بھی قیمت

پر اسکو یہ کیسی جتنے نہیں دونگا

وہ اپنی بات کہتا ہوا مصطفی کی طرف پلٹا تھا جو خاموشی سے کھٹڑا اسکو ہی دیکھ رہا تھا دونوں

ہی ایک دوسرے کی خاموشی کو اچھی طرح سمجھتے تھے

ٹھیک ہے پھر جیسا بھی ہو مجھے انفارم کر دینا میں اب چلتا ہوں ایک ادھورا کام چھوڑ

کر آیا تھا اسے پورا کرنے جانا ہے “

مصطفی اس سے اجازت لیتا تیزی سے اسکے آفس سے لگا تھا جبکہ اسفند کی نظروں نے

دور تک اسکا پیچھا کیا تھا

وہ مصطفی کی الجھن اور پریشانی سمجھتا تھا اسکے لئے یہ بہت مشکل تھاد ولوگوں میں سے کسی ایک کی سائیڈ لینا جب وہ دو لوگ سکے اپنے اسکے لئے عزیز ہو۔۔۔ ایک طرف

اسفند تھا تو دوسری طرف رباب۔۔۔

خان اس بار بھی ہمارا آدمی پکڑا گیا میں بہت مشکل سے اپنا جان بچا کر آیا ہوں

وہ آدمی اپنی پیشانی پہ آیا پسینہ صاف کرتا ہوا کیونکہ وہ جانتا تھا اپنے کام کو انجام نہ دینی کی

اسکو کیا سزا مل سکتی ہے

” تم نے تو کہا تھا سب کچھ ہمارے پلان کے مطابق چل رہا ہے مصطفی کو بھی کوئی شک

نہیں ہوا ۔۔ تو تم کیسے پکڑے گئے

وہ اپنی کرسی سے کھڑا ہوتا اپنے آدمی کے مقابل آکھڑا ہوا آنکھوں کے ساتھ ساتھ اسکا

لہجہ بھی سر و تھا

سب کچھ ایسا ہی چل رہا تھا ان جیسا آپ چاہتے تھے ہم اس لڑکی پر ہر لمعے نظر

رکھے ہوئے تھے پر پتہ نہیں کیسے مصطفی کو خبر ہو گئی

اپنے مالک کے لہجے میں چھپا غصہ محسوس کر کے اس آدمی کے رونگٹے کھڑے ہو گئے تھے وہ بار بار اپنی پیشانی مسلتا اسکو تفصیل سے سب بتارہا تھا

خان پہلے ہمارا جو آدمی پکڑا گیا تھا اسکی لاش ہمیں مل گئی تھی مگر اس بار ہمیں اپنے آدمی کی لاش تک نہیں ملی اس نے بہت دردناک موت دی ہے اسے

خان اپنے آدمی کے انداز اور آواز میں مصطفی کے لئے چھپا خوف صاف محسوس کر سکتا

تھا

اس لڑکی کی حفاظت کے لئے وہ درندگی کی ہر حد پار کر سکتا ہے ، وہ بہت خطرناک

اسکا آدمی ایک ایک لفظ شہر شہر کر ادا کر رہا تھا جیسے اسکے پاس مصطفی کی شخصیت بیان کرنے کے لئے لفظ نہیں مل رہے ہو

میں نے تمھیں یہاں یہ سننے کے لئے نہیں بلایا ہے کہ وہ کیا کر سکتا ہے کیا نہیں

اس بار اس کا صبر جیسے جواب دے گیا تھا وہ ایک ہی جست میں اس آدمی کا گلا اپنے شکنجے

میں لیتا ہوا خرایا تھا

غصے کی وجہ سے اسکی ابھرتی نسے واضع تو پر ظاہر ہورہی تھی

مصطفی جو تمہارے آدمی کے ساتھ کر چکا ہے وہ مجھے تمہارے ساتھ کرنے میں ذرا

دیر نہیں لگے گی

اسکے لفظوں کی سختی کے ساتھ ساتھ اس آدمی کی گردن پر بھی اسکی پکڑ سخت ہوتی جا رہی تھی سانس رکنے کی وجہ سے اس آدمی کی آنکھیں مزید باہر نکل گئی تھی وہ اپنی گردن اسکی پکڑ سے آزاد کرانے کی کوشش کرنے لگا مگر سامنے والے کی پکڑ بہت

مضبوط تھی

اس وقت تمہاری جان میرے ہاتھ میں ہے تو اب بتاؤ تمہاری نظر میں زیادہ درندہ

کون ہوا میں یاده

وہ اس آدمی کو اپنی پکڑ میں مچلتا ر پا ہوا دیکھ کر شیطانی انداز میں مسکرایا تھا جیسے جو آدمی تھوڑی دیر پہلے اپنے مالک کے سامنے کسی اور کی حمایت کر رہا تھ اب اس آدمی کی

حالت دیکھ کر اسکی روح کو تسکین مل رہی تھی

وہ جیسے اس آدمی کو اور اس وقت اس کمرے میں موجود ہر شخص کو یہ بتانا چاہ رہا ہو کہ مصطفی زمان شاہ گردرندہ ہے تو اسکی بھی درندگی کم نہیں تھی

خان چھوڑ دو اسے یہ مر جائے گا اپنے آدمی پر یوں غصہ نکالنے سے کچھ حاصل نہیں

ہوگا۔۔۔۔۔

کب سے خاموشی سے یہ سب دیکھتے اسکے خاص آدمی نے جھٹکے سے اس آدمی کو اسکی

گرفت سے آزاد کروایا تھا

اگر تم میر ا درندے والا روپ نہیں دیکھنا چاہتے اور یہ نہیں چاہتے کہ مصطفی نے جو میرے آدمی کے ساتھ کیا ہے وہ میں تمہارے ساتھ کروں تو مجھے وہ لڑکی لا کر

دو کسی بھی قیمت پر

وہ اس آدم کی طرف دیکھ کر دھاڑا  زمین پر لیٹا بری طرح کھانس رہاتھا اگر وہ ا سکو وقت پر نہ چھوڑ تاتو یقینا آج سکی جان چلی جاتی

خا خان مجھے۔۔ ک۔ کچھ وقت کی موہلت دو۔۔ میں اس لڑکی کو آپکے سامنے

لا کر کھڑا کر دونگا

وہ آدمی اب اپنی حالت پر قابو پاتے ہوئے بولا آج اپنی غلطی کی وجہ سے وہ موت کے بہت نزدیک تھا اب وہ ایسا غلطی دوبارہ نہیں کرنا چاہتا تھا

تم میرے خاص آدمی ہو اس لئے تمہاری جان بخش دی اور ساتھ ہی تمھیں کچھ وقت بھی دے رہا ہوں اس بار کوئی گڑبڑ نہیں ہونی چاہیے اور نہ تم اپنا انجام جانتے ہو

وہ اپنی بات کہہ کر ر کا نہیں تھا وہاں سے تیزی سے نکلتا چلا گیا ساتھ ہی اسکے پیچھے اسکا

خاص آدمی کریم بھی تھا

@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@

میں نے کہانہ کہ مجھے کھانا نہیں کھانا تو ایک بات سمجھ نہیں آتی ہے تمھیں جاؤ

یہاں سے اور مجھے پریشان مت کرو

ٹرے میں کھانا لاتے وہ اپنے نیو باڈی گارڈ کو دیکھ کر خفگی سے بولی

پچھلے والے کو مصطفی انکی ایک غلطی کی وجہ سے انہیں نکال چکا تھاوہ حورین کے معملے میں ذرا بھی غلطی برداشت نہیں کر سکتا تھا یہ نیاگار ڈا سکو پسند تو آ گیا تھا کیونکہ یہ پہلے والے کی طرف خوفناک نہیں لگتا تھا مگر مصطفی کی دی ہوئی سزا اور دو دن سے کمرے میں بند رہنے کی وجہ سی موڈ کافی خراب ہو چکا تھا اس لئے سارا عفقہ اس نیو گارڈ پر نکل

رہا تھا

میم سر کے آرڈر ہیں آپکو کھانا کھلانے کے پلز میری آپ سے ریکویسٹ ہے کھا لیں

ٹرے ہاتھ میں لئے آگے بڑھا تھا

میں نے کہا نہ کہ جاؤ یہاں سے مجھے پریشان مت کرو ورنہ میں شور کرونگی ” مصطفی کے گارڈ بھی اسکی طرح ہی ضدی تھے پر وہ صرف اسکے گارڈ کے سامنے اپنی

زبان کھولنے کی ہمت رکھتی تھی

ٹھیک ہے مہم میں بعد میں آجاؤ نگا جب آپ کا غصہ کم ہو گا

حورین کے تیور دیکھ کر وہ ٹرے کمرہ لاک کر کے جا چکا تھا

حورین اسکے جاتے ہی بیڈ پر آ بیٹھی اور عصے میں اپنے گلے میں جھولتاد و پٹہ ایک طرف

ڈالا تھا

ابھی اسے بیٹھے ہوئے کچھ ہی وقت گزرا تھا کہ اسکے کمرے کا دروازہ پھر سے کھلا تھا

وہ جھٹکے سے بیڈ سے اٹھی تھی

میں تمھیں کتنی بار منع کر چکی ہوں کہ مجھے۔۔۔۔۔

اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ کہتی اپنے سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر اسکا باقی کا جملہ منہ

میں ہی رہ گیا تھا

وہ نظریں اس پر جمائے ہوئے کمرے میں داخل ہوا

مصطفی نے ہاتھ میں پکڑی ٹرے کمرے میں موجود سائیڈ ٹیبل پر رکھی اور خود سائیڈ پر

رکھی کرسی پر بیٹھ گیا

حورین کی آواز جیسے کہیں کم ہی ہو گئی تھی

وہ ٹانگ پر ٹانگ جماے اسے اپنے خشک لب تر کرتے دیکھ رہا تھا

اسکی نظروں سے گھبرا کر حورین بے چینی سے اپنی انگلیاں چٹخارہی تھی مصطفی کو اسکی

یہ حرکت سخت ناپسند تھی

وہ اسے نہ کچھ کہ رہاتھا نابتارہاتھا بیٹا اسکی اپنی نظروں سے خوفزدہ کر رہا تھا

تم نے کھانا کیوں نہیں کھایا

اسکی بھاری آواز کمرے کی خاموشی میں گونجی تو حورین نے نظریں اٹھا کر اسکی طرف دیکھا اسکا کسرتی جسم وائٹ شرٹ میں نما یا ہو رہا تھا خو بصورت کشادہ پیشانی پر بال

بکھرے ہوئے تھے شرٹ کے اوپر کے کھلے بٹن کی وجہ سے اسکی گردن پر بنائیٹو نظر آ رہا تھا ہمیشہ کی طرح حورین کے دل میں عجیب سی خواہش جاگی تھی اسکو قریب سے

دیکھنے کی

اس نے فورا ہی اپنی سوچ کو جھٹکا تھا

مجھے بھوک نہیں ہے “

وہ اپنا حلق تر کرتی ہوئی بولی جو اسکے چہرے پر چھائی سنجیدگی کو دیکھ کر خشک ہورہا تھا مصطفی کی نظریں یہی تھی کہ وہ کسی کا بھی جھوٹ فور ابھانپ لیتی تھی

اور وہ بہت دلچپسی سے اسکو جھوٹ بولتے ہوئے دیکھ رہا تھا وہ اس سے ناراض تھی وہ

جانتا تھا آج یہی وجہ تھی اسکے کھانا نہ کھانے

پر کھانا تو تمھیں پھر بھی کھانا پڑیگا چاہے بھوک ہو یا نا ہو “

وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑاہوا اور اسکی طرف قدم بڑھادئے

مصطفی کی نظر اسکے دوپٹے سے بے نیازی دلکش سراپے میں الجھ ہی گئی تھی کالے سیاہ بالوں کو اس نے کھلا چھوڑا ہوا تھا خو بصورت کٹاؤ دار گلابی لب کے نیچے چہکتا ہو تل

ہمیشہ ہی اسکی توجہ اپنی جانب کھینچتا تھا

وہ اسے دیکھتا مزید اسکے قریب آچکا تھا

اور حورین اپنی اتھل پتھل ہوتی سانسوں کو درست کرنے کی ناکام ہی کوشش کر رہی

تھی

جبکہ وہ قدم بڑھانا ئین اسکے سامنے آر کا اور یکدم سے جھکا تو حورین نے خوف سے اپنی

آنکھیں بند کر لی تھی

ی وہ بیڈ سے دوپٹااٹھا کے اسے اوڑھانے لگا

اسکے بھاری مضبوط ہاتھوں کا لمس اپنے شانوں پر محسوس کر کے حورین جیسے ہوش میں

آئی تھی

اپنے ڈر اور خوف کی وجہ سے اسے احساس تک نہیں ہوا کہ وہ اسکے سامنے بغیر دوپٹے کے کھڑی تھی یکدم ہی اسکا چہر ہ شرم کی وجہ سے لال ہو گیا تھا

پر مجھے بھوک نہیں ہے اگر مجھے کھانے کی خوائش ہو گی تو میں خود کھا لونگی ” وہ خود کو سانبھالتی رخ پھیر گئی تھی اب ہمت نہیں تھی اسکا سامنا کرنے کی۔۔۔۔




اگر آپ کو ناول پسند آتا ہے تو مہربانی کر کے اسے اپنے دوستوں کے ساتھ لازمی بیجھا کریں اور کمنٹس میں اپنا ریوو بھی



 ضرور دیا کریں

 

میں بہت محبت سے کہہ رہا ہوں حورین تم مجھے سختی کرنے پر مجبور مت کرو ” وہ اسکے بازو کو اپنی گرفت میں لیتا آگے بڑھا جبکہ حورین یہ سوچتی رہ گئی کہ اسکی تو محبت میں بھی سختی تھی اس نے اسکا نام سٹون مین بلکل صحیح رکھا تھا

 

وہ اسے کرسی پاس لے آیا اسکو بیٹھا کر خود بھی برابر والی کرسی پر آبیٹھا تھا

 

ختم کروا سے بس دس منٹ ہے تمہارے پاس اپنی بے کار سی ضد کی وجہ سے تم پہلے

 

ہی بہت ٹائم برباد کر چکی ہو “

 

وہ ٹیبل انکے سامنے کرتا ہوا بولا اور حورین بس کھانے کو دیکھ کر رہ گئی تھی مطلب وہ

 

اب اسکے کھانا کھانے کا ٹائم بھی سیٹ کر چکا تھا۔

 

وہ وقت کو دیکھتے ہوئے جلدی اپنا کھانا ختم کرنے میں لگ گئی جانتی تھی دس منٹ میں اسے یہ سب ختم کرناہی تھا جلدی جلدی کھانے کی وجہ سے کھانا سکے گلے میں اٹکا اور زور کی کھانسی نے مصطفی کی توجہ اپنی طرف کھینچی تھی

 

جنگل سے آئی ہو جو اس طرح سے کھارہی ہو یا پہلی بار کھانے کو مل رہا ہے۔۔ آرام

 

سے کھاؤ نہ

 

وہ ہاتھ بڑھا کر اسکی کمر سہلاتا ہوار عب د ار انداز میں بولا تھا

 

اسکا مضبوط ہاتھ اپنی کمر پر محسوس کر کے حورین کو اپنا دل حلق میں آتا ہوا محسوس ہوا تو اس نے جلدی سے پانی کا گلاس اپنے لبوں سے لگا یا تھا

 

پانی پینے کے بعد اس بچا ہوا کھانا اس بار بہت آرام سے ختم کیا خود پر جمی مصطفی کی نگاہوں سے اسے کھانا لگانا مشکل لگ رہا تھا جبکہ مصطفی کی نگاہ ایک جگہ ٹھر گئی تھی

 

مجھ سے اتنامت ڈرا کر وعین میں اتنا بھی خوفناک نہیں ہوں جتنا تم مجھے تصور کرتی

 

وہ اسکے ہونٹ کے نیچے لگے چاول کے دانے کو اپنی انگلی سے صاف کرتا ہوا سنجیدگی سے بولا نظریں ابھی بھی اسی جگہ جھی ہوئی تھی

 

جبکہ اسکی بات پر حورین آنکھیں پھاڑے اسے دیکھ رہی تھی اسکو اپنے خوفناک روپ دیکھانے کے بعد یہ شخص اسکو بول رہا تھا کہ وہ خوفناک نہیں ہے اسکی سمجھ نہیں آیا تھا کہ وہ اسکی بات کا کیا جواب دے اسلئے خاموش رہنا مناسب سمجھا تھا اسکی خاموشی پر وہ

 

اپنی جگہ سے اٹھا تھا وہ کھانا کھا چکی تھی اسکا یہاں کام ختم ہوا تھا

 

مجھے اس کمرے اور اس گھر میں اور کتنے دن قید رہنا پڑے گا جبکہ میں آپ سے وعدہ کر چکی ہوں کہ آئندہ ایسی غلطی نہیں کرونگی “

 

دروازے کی جانب اٹھتے اسکے قدم حورین کی آواز پر رکے تھے کچھ دیر وہ یوں ہی

 

خاموشی سے کھڑا رہا

 

بہت جلد تمھیں اس کمرے اس گھر سے ہی نہیں بلکہ مجھ سے بھی آزادی مل جائے

 

وہ بغیر پلٹے بولا اور پھر وہاں رکا نہیں تھا تیزی سے اسکے روم سے لگاتا چلا گیا

 

جبکہ اسکا جواب سن کر حورین کے دل نے ایک بیٹ مس کی تھی وہ اس کمرے سے تو

 

آزادی چاہتی تھی مگر اسکی قید سے نہیں۔۔۔

 

اپنے چہرے پر نرم گرم سالمس محسوس کر کے اسکی بند چلکوں میں ہلکی سی لرجش سہی ہوئی تھی وہ اپنی آنکھوں کو کھولنے کی کوشش کرنے لگی مگر سر میں اٹھتی درد کی ایک تیز لہر نے اسکو پھر سے آنکھیں بند کرنے پر مجبور کر دیا تھا

 

وہ کچھ دیر یوں ہی آنکھیں بند کئے لیٹی رہی تھی کہ اچانک اسکو ایسا لگا کہ کوئی اسکو پکار رہا ہے اس بار جیسے بہت ہمت کر کے اسے بمشکل اپنی آنکھوں کو کھولا

 

پہلے تو اسکو کچھ صاف نظر نہیں آیا شاید سر میں اٹھتی درد کی میں کی وجہ سے اسکو اپنی آنکھیں کھولنا مشکل لگ رہا تھا جب منظر صاف ہو اتو وہ کچھ لئے یوں ہی چھت کو گھورتی رہی وہ سمجھ نہیں پارہی تھی کہ وہ اس وقت کہاں موجود ہے

 

یکھیں داد و اینجل اٹھ گئی ہے جلدی یہاں آئیں “

 

جانے وہ یوں ہی کب تک لیٹی خود اسے سوال کرتی رہتی جب ایک خوشی سے بھری اور پیاری سی آواز نے اسکی توجہ اپنی جانب کھینچی تھی حفصہ نے گردن موڑ کر دیکھا تو ایک چھوٹا خوبصورت سا بچہ اسکے قریب کھڑا تھا اس نے حفصہ کے ایک ہاتھ کو اپنے چھوٹے

 

چھوٹے ہاتھوں میں پکڑا ہوا تھا

 

اللہ کا شکر ہے بیٹی تمہیں ہوش آگیا میں اور میر اپو تاتوڈر ہی گئے تھے “

 

حادی کی بات سن کر حیات صاحب صوفہ سے اٹھ کر بیڈ کی جانب بڑھے انکے چہرے

 

پر ایک سکون سا اتر گیا تھا اسکو ہوش میں دیکھ کر

 

معاف کرنا میں آپکو پہچانی نہیں اور میں کہاں ہوں

 

حفصہ اپنا چکر انا سر تھامتی ہوئی اٹھ کر بیٹھی اور ایک نظر اپنے چاروں طرف ڈالی کمرہ

 

بہت ہی شاندار تھا جو کہیں سے بھی ہسپتال کا نہیں لگ رہا تھا

 

میں اس بچے کا دادا ہوں جسکی جان تم نے بچائی ہے تم بے ہوش ہو گئی تھی تو میں تمھیں اپنے گھر لے آیا بیٹا میں تمہارا کتنا احسن مند یہ میں لفظوں میں بیان نہیں کر سکتا

 

و بیڈ کے قریب اسٹول پر بیٹھتے بولے

 

اور پاس ہی کھڑے حاد کو اپنے ساتھ لگا یا جو اپنی معصوم آنکھوں سے اپنی اینجل کو دیکھے

 

رہا تھا

 

انکی بات سن کر اب حفصہ نے اس بچے کی طرف دیکھا جو بہت ہی معصومیت سے اسکو تک رہا تھا اور یکدم سے سب یاد آتا چلا گیا

 

وہ دو دن سے اپنی یونی کی ایک دوست کے پاس ہوسٹل میں رہ رہی تھی مگر وہاں کی سخت وارژن کی وجہ سے اسکی دوست زیادہ دن اسکو وہاں رکھ نہیں سکی اس لئے وہ وہاں

 

سے نکل کر اپنے لئے رہنے کی کوئی جگہ تلاش کرنے میں لگی ہوئی تھی جب سڑک پر دوڑتے اس بچے نے اسکی توجہ اپنی جانب کھینچی اور وہ بغیر سوچے سمجھے اسکی جان بچانے کے لئے بھاگی حفصہ نے اسکی جان تو بچائی مگر اس کے سر پر کافی چوٹ لگی تھی جس وجہ

 

سے وہ بے ہوش ہو گئی تھی

 

احسان والی بات نہیں ہے انکل آپکے اتنے ہینڈ سم سے پوتے کی جان بچانے کے

 

لئے میری جگہ کوئی اور بھی ہوتا تو وہ بھی یہی کرتا

 

اس نے ہاتھ بڑھا کر حاد کے نرم ملائم ہی ر خسار کو چھوا پہلی بار وہ اس بچے کو غور سے دیکھے رہی تھی کہ اچانک اسکی نیلی آنکھوں پر نظر پڑتے ہی حفصہ کی نظروں کے سامنے ایک

 

چہرہ گھوم گیا تھا

 

تم پانچ گھنٹے تک بے ہوش رہی میرا پوتا ایک لمحے کے لئے بھی تمہارے پاس سے دور نہیں ہوا نہ ہی کھانا کھایا یہ اپنی بنجل کے اٹھنے کا انتظار کر رہا تھا

 

حیات صاحب کی آواز پر حفصہ سے اپنی سوچ سے باہر نکلی اور سر درد کو نظر انداز ہوئے

 

ہاتھ بڑھا کر حاد کو اپنے قریب کیا تھا

 

تو میں آپکی اینجل ہوں تو آپ اپنی پینجل کو اپنا نام نہیں بتاؤ گے

 

وہ بہت محبت سے اسکے بالوں میں ہاتھ چلاتی ہوئی بولی جانے کیوں یہ بچہ اسے کسی کی یاد

 

دلار ہا تھا

 

میر انام هاد اسفند یار خان ہے اور میں پورے پانچ سال کا ہوں ” حادی نے اسکی بات کا جواب پر جوش انداز میں دیا تھا جبکہ اسکا نام سن کر حاد بالوں میں چلاتے حفصہ کے ہاتھ ایک لمحے کے لئے رکے تھے

 

یہ صرف اتفاق ہی ہو سکتا ہے ہاں ایسا ہی ہے اس نے جیسے اپنے دل کو سمجھا یا تھا

 

بیٹا رات کافی ہو گئی ہے تمہارے گھر والے تمہارے لئے پریشان ہور ہے ہونگے تم

 

مجھے انکا نمبر دوتا کہ میں انہیں بتا سکو کہ تم کہاں ہو

 

اسکو کسی سوچ میں گم دیکھ کر حیات صاحب اس سے مخاطب ہوئے تھے اپنے گھر والوں

 

کا سن کر حفصہ نار کنے والے آنسوؤں کا سلسلاشروع ہو گیا تھا جبکہ اسکو یوں روتا ہوا دیکھے کر حیات صاحب کے ساتھ ھاد بھی پریشان سا اسکو دیکھنے لگا

 

کیا ہوا پیٹا ایسے کیوں رورہی ہو کوئی پریشانی ہے تو تم مجھے بتاؤ”

 

انہونے نرمی سے اسکو چپ کروایا تھاتو وہ بہت مشکل سے اپنے آنسو ضبط کرتی ہوئی انہیں سب بتاتی چلی گئی اسکی بات پر حیات صاحب کچھ دیر خاموشی سے اسکو دیکھنے لگے

 

تھے

 

بیٹا تمہارا بہت احسان ہے ہم پر جو شاید میں ادانہ کر پاؤ پر میں اتناتو کر سکتا ہوں تم جب تک چاہو میرے گھر میں رہ سکتی ہو مجھ پر بھروسہ رکھو میں کسی کو کچھ نہیں بتاؤ گا ” وہ سر پر ہاتھ رکھ کر بہت محبت سے بولے تو حفصہ کے اندر ایک سکون سا اثر تا چلا گیا تھا اسے سہارےکی ضرورت تھی جو اسکومل گیا تھا

 

واو دادوکتنا اچھا ہو گیا نہ میری اینجل اب میرے ہی پاس رہے گی ” کب سے خاموش کھڑ ا حادی خوشی سے چہکا تھا ا سکے انداز پر حیات صاحب اور حقہ

 

دونوں مسکرادئے

 

وہ تینوں کافی دیر تک بیٹھے باتیں کرتے رہے حیات صاحب اسے اپنی فیملی کے بارے میں بتانے لگے وہیں کمرے میں حادنے اسکے ساتھ کھانا بھی کھایا کافی رات ہو جانے کی

 

وجہ سے وہ اسکو آرام کا کہہ کر اسکے کمرے سے چلے گئے۔۔

 

کچھ دیر کروٹ بدلتے رہنے کے بعد اسکو نیند آگئی تھی پر کچھ دیر بعد پیاس کی وجہ سے اسکی آنکھ کھلی تھی سائیڈ ٹیبل پر جنگ میں پانی موجود نہیں تھا وہ بیڈ سے اٹھ کر کمرے سے باہر کچن کی تلاش میں نکلی قسمت سے وہ اسکو مل گیا پانی پینے کے بعد وہ نیند میں

 

جھولتی پھر سے کمرے میں آکر لیٹ گئی

 

اس بات سے انجان کی اسکے علاوہ بھی کوئی اس کمرے میں موجود تھا ایک کمرے میں دو لوگ ایک دوسرے کی موجودگی سے ناواقف تھی اور وہ غلط وقت پر غلط جگہ موجود

 

تھی۔



میں نے سب پتہ لگالیا ہے وہ بلکل پر فیکٹ ہے ویسے بھی میں اسکے باپ کو تمہارے ڈیڈ کے ٹائم سے جانتا ہوں ان لوگوں کی طرف سے تم بلکل مطمعین ہو جاؤ ” داؤد مرزا کی آواز پر اسکے پنچنگ بیگ پر پیچ کرتے ہاتھ ایک لمحے کے لئے رکے تھے اس وقت وہ اپنے جم روم میں تھا مسلسل پنچنگ کرنے کی وجہ سے اسکا جسم پسینے میں شور و ہار تھا اسکے کسرتی جسم کو دیکھ کر داؤد کور شک محسوس ہوا تھا بے شک وہ ایک

 

شاندار پرسنالٹی کا حامل تھا گی

میں مطمعین تب ہو نگا جب حورین با حفاظت اس ملک کو چھوڑ کر چلی جائے گی

 

وہ اپنے ہاتھوں میں پہنے گلوکوز اتارنا ان سے مخاطب ہوا اور حورین کیا اسکو معلوم ہے تمہارے اس فیصلے کے بارے میں وہ راضی ہو جائے داؤد نے اپنا صد شہ ظاہر کیا تھا

 

وہ نکاح کر کے اس ملک سے چلی جائے اس میں اسکی ہی بہتری ہے مجھے اسکی مرضی سے کوئی غرض نہیں رہی بات اسکو بتانے کی تو کل تم اسے میرے فیصلے کے بارے میں بتا دینا وہ بے تاثرات چہرا لئے انکی طرف مڑا تھا

 

اس نے یہ فیصلہ بہت پہلے لے لیا تھا بس اسے صحیح وقت اور صحیح شخص کی تلاش تھی جو اب اسکی پوری ہو چکی تھی

 

اور ہاں داؤد یہ کام اتنی خاموشی اور چھپ کر ہو نا چاہیے کہ تمہاری پر چھائی کو بھی خبر نہ ہو تم جانتے ہو نہ میں حورین کے معملے میں کوئی بھی غلطی برداشت نہیں کرتا

 

حورین ۔۔۔ حوریں۔۔ ان پانچ سالوں میں کچھ نہیں بدلا تمھیں جہاں چھوڑ کر گئی تھی تم آج تک وہیں موجود ہو وہی تم اور وہی تمہاری اسکے لئے فکر “”

 

وہ ٹیبل پر رکھا ناول اٹھانے کے لئے آگے بڑھا تھا جب دروازہ کھول کر کوئی اندر داخل ہوا تھا

 

جانی پہچانی آواز پر دونوں نے مڑ کر دیکھا لیک ٹائٹ چین پر لائٹ پنک کلر کا ٹاپ پہنے اپنے دونوں ہاتھوں کو سینے پر بندھے وہ سامنے ہی کھڑی تھی اسکو یہاں دیکھ کر مصطفی ایک لمحے کے لئے حیران ہوا تھا

 

میری حورین کے لئے فکر آخری سانس تک رہیگی اسکی حفاظت کرنامیری زندگی کا خالص مقصد ہے سال گزرنے سے میرا مقصد نہیں بدلنے والا

 

وہ سپاٹ نظروں سے اسکی طرف دیکھتا گہری سنجیدگی سے بولا

 

پانچ سال گزرنے کے بعد بھی وہ بلکل ایسی ہی تھی جیسی پانچ سال پہلے تھی

 

حیرت ہوتی ہے مجھے یہ دیکھ کر کہ تمھیں اپنے خون کے رشتوں سے زیادہ اپنے فرض کارشتہ عزیز ہے “

 

وہ استہاز یہ مسکراتی ہوئی مزید اس کے قریب ہوئی تھی جبکہ اسکی بات اور انداز سے مصطفی کی رکے تن گئی تھی

 

یہ تمہاری سوچ ہے ورنہ میرے لئے خون کا رشتہ بھی اتنا ہی عزیز ہے ورنہ جو کچھ تم کر چکی ہو اسکے بعد تم اس وقت یہاں میری نظروں کے سامنے موجود نہ ہوتی رباب زمان

 

وہ ایک ایک لفظ پر زور دیتا ہو ابولا

 

ارباب زمان شاہ نہیں رباب اسفند یار خان

 

مصطفی کا جواب سن کر وہ تیزی سے اسکی جانب بڑھی مگر اسکے قریب آتے ہی مصطفی اسکی گردن کو اپنی گرفت میں لیتا اسکو سختی سے دیوار سے لگا چکا تھا

 

تمہارا اس سے اب کوئی رشتہ نہیں ہے رہاب نہ ہی اسکے بیٹے پر تم پہلے ہی اسکی زندگی برباد کر چکی ہو تمہاری بہتری اسی میں ہے کہ تم اسے اکیلا چھوڑ دو وہ اسکی نازک گردن پر اپنی گرفت سخت کرتا ہوا بولا اسکے لیے اور انداز میں نرمی بلکل بھی نہیں تھی

 

و۔ وہ میرا بھی بیٹا ہے میرا حق مانگنے سے مجھے کوئی نہیں روک سکتا “” اسکی سختی کا اس پر کوئی اثرانداز نہیں ہو رہا تھا دم گھٹنے کی وجہ سے اسکی آنکھوں سے آنسوں نکل رہے تھے پر ہونٹوں پر ایک دل جلانے والی مسکراہٹ تھی جو مصطفی کا غصہ مزید بڑھا گئی تھی اگر وہ درندہ تھاتو وہ بھی اسکی ہی بہن تھی

 

مصطفی چھوڑ و بہن ہے تمہاری کیا اسکی بھی جان لے لو گے

 

ان دونوں کے جنونی انداز کو خاموشی سے دیکھتاد اؤ د یکدم سے آگے بڑھا تھا

 

میں نے اسے انہیں ہاتھوں سے پال کر بڑا کیا ہے اگر اسکی غلطی سے کسی بھی معصوم کی زندگی برباد ہو تو میں اپنے انہیں ہاتھوں سے اسکی جان لینے میں دیر نہیں

 

کرونگا “

 

وہ اسکی نازک گردن کو ایک جھٹکے میں چھوڑ تا دیوار پر اسکے چہرے کے برابر ایک

 

زور دار پانچ مار چکا تھا

 

میں تمہاری حورین نہیں ہوں جو خاموشی سے تمہارے ہر حکم مانتی رہوں گی وہ میرا بیٹا ہے اور میں اسے اسفند سے لیکر رہو گی تم مجھے روک نہیں سکتے

 

وہ اپنی گردن کو سہلاتی ہوئی بولی اسکی گردن پر مضبوط پکڑ سے نشان پڑ چکے تھے پر اسے کوئی فکر نہیں تھی وہ اپنے بھائی کی طرح سخت تھی اور اسکے سخت انداز کی عادی بھی اتنے سال گزرنے کے بعد تمہارے اندر بھی کچھ نہیں بد لہ تم آج بھی وہی

 

خد غرض رباب زمان شاہ ہو صرف اپنے بارے میں سوچنے والی “

 

وہ سی کی بات او نا تا ایک حصے بھری نظر اس پر ڈالنا تیزی سے وہاں سے لٹکاتا چلا گیا تھا

 

جبکہ داؤد افسوس بھری نظروں سے ان دونوں بھائی بہن کو دیکھتے رہ گئے تھے

تھکا دینے والی بزنس پارٹی کے بعد وہ رات دیر سے گھر لوٹا تھا وہ جانا تو نہیں چاہتا تھا پر یہ پارٹی اسکے کمپنی کے لئے ضروری تھی اس لئے نہ چاہتے ہوئے بھی اسکو جانا پڑا

 

سب سے پہلے وہ ھادی کے کمرے میں آیا ایک نظر اسکے نے سوئے ہوئے وجود پر ڈالی اسکو سوتا دیکھ کر ایک سکون اسکے اندر اترا تھا

 

پارٹی کے درمیان جب اس نے اپنے بابا کو فون کیا تو انہونے ھاد کے ساتھ ہونے والے حادثے کے بارے میں اسکو بتادیا وہ فورا ہی وہاں سے آناچاہتا تھا پر نکل نہیں پایا تھا

 

اسکے بیٹے کو کوئی چوٹ نہیں لگی تھی یہ بات اسکے لئے سکون کا بائس بنی تھی کچھ دیر یوں ہی کھاڑا اسکو دیکھتا رہا پھر پلٹ کر بھاری قدم اٹھانا اپنے کمرے میں داخل

 

اس وقت اسکے کمرے میں نیم اند میرا تھا اس نے لائٹ اون کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی اپنا کوٹ پیڈ پر ڈال کرہ واشروم میں جا  گھساتھا

 

کچھ دیر بعد وہ فریش ہو کر واشروم سے نکلنا سیدھا بیڈ پر گرنے سہی کے انداز میں آلیتا تھا نرم ملائم بستر کا احساس ہوتے ہی اسکی پلکیں بھاری ہونے لگی تھی گہری نیند میں جانے سے پہلے اس نے کروٹ بدلی ہی تھی کہ نیند میں ایک الگ سے احساس کہ تحت اسکے حواس جاگے تھے پر اپنے اپنی آنکھیں بند ہی رکھی تھی اسے لگا کہ کوئی اسکے قریب ہے بہت ہی قریب وہ آنکھیں بند کئے تھوڑا اور قریب ہوا تو اپنے عقب سے آتی ایک دلفریب خوشبوں نے ابکہ بار اسکے حواس کو پوری طرح

 

بےدار کیا تھا ایکدم ہی اسکی بند آنکھوں کے پیچھے کسی کا چہرہ ہرایا تھا

 

اسے لگ رہا تھا نیند میں ہونے کی وجہ سے اسکا وہم ہے مگر اگلے ہی لئے جب اسے اپنے سینے پر کیسی کے ہاتھ کا لمس محسوس ہو تو اسکی آنکھیں یکدم سے کھلی تھی وہ بے دردی

 

سے اس ہاتھ کو ہٹانا ایک جھٹکے میں اٹھ بیٹھا تھا

 

حفصہ جسکی ابھی آنکھ ہی لگی تھی بری طرح سے جھٹکادینے پر اسکی آنکھ کھلی تھی اپنے قریب ہی کسی کو بیٹھاہوا دیکھ کر خوف سے اسکی نیند یکدم ہی اڑی اس نے ڈر کر چیخ مارنی چاہی تھی پر وہ جیسے اکا ارادہ بھانپ چکا تھافور ہی اسکے منہ پر اپنابھاری ہاتھ رکھتاہے اسکی چیخ کا کالا گھونٹ چکا تھا

 

کون ہو تم اور یہاں میرے کمرے میں کیا کر رہی ہو میں تمہارے منہ پر سے ہاتھ

 

ہٹا رہا ہوں بغیر شور کئے میر کی بات کا جواب دینا

 

اس نے اپنی ر عبدار آواز میں اس سے استفسار کیا تھا اگر وہ کوئی چور ہوتی تو اس طرح تو

 

بلکل بھی سو نہیں رہی ہوتی

 

پر یہ لڑکی کون تھی اسکو تفتیش ہوئی تھی۔۔۔

 

دوسری طرف حفصہ جو خوف کے مارے کانپ رہی تھی سامنے والی کی آواز سن کر جیسے

 

سکتے میں آگئی تھی

 

یہ آواز لب لہجہ جسکو و لا کھوں میں بھی پہچان سکتی تھی اتنے سال بعد یہ آواز سن کر وہ

 

اپنی جگہ گنگ سی بیٹھی رہ گئی تھی

 

میں کچھ پوچھ رہا ہوں تم سے کون ہو تم

 

اسکی خاموشی پر اسفند اپنی جگہ سے اٹھا اور کمرے کی لائٹ اون کی

 

مگر اگلے ہی لمے اسکی نظریں بیڈ پر بیٹھی ہستی پر پڑی تو وہ بھی اپنی جگہ سکت کھڑا رہ گیا تھا

 

دونوں ایک دوسرے کو بس خاموشی سے نکلتے جارہے تھے کتنے ہی لمحے یوں ہی

 

خاموشی سے گزر گئے مگر دونوں کے منہ سے ایک لفظ تک نہیں نکلا تھا

 

وہ پورے 6 سال بعد اسے دیکھ رہا تھا اور ان گزرے سالوں میں کوئی ایسا لمحہ نہیں تھا جس میں اسفند یار خان نے اس لڑکی سے نفرت نہ کی ہو

 

ان گزرے سالوں میں وہ بلکل بھی نہیں بدلی تھی بلکہ اسکی خوبصورتی میں مزید نکھار آگیا تھا

 

اسکی حیرانی سے کھلی بڑی بڑی جھیل سی آنکھوں میں اسفند کو اپنا آپ ڈوبتا ہوا محسوس ہوا تھا اس نے فورا ہی خود کو ڈپٹا تھا

 

تم اس وقت میرے گھر اور میرے کمرے میں کیا کر رہی ہو “

 

وہ اپنی کیفیت پر قابو پا تا چہرے پر نگواری لئے اس سے پوچھ رہا تھا

 

اسکے پوچھے گئے سوال سے حفصہ کو اپنے اندر چلتے سوالوں کے جواب مل گئے تھے یہ کوئی اتفاق نہیں تھا ھاد کا باپ اور کوئی نہیں اسکا اسفی تھا اسکی پہلی اور آخری محبت

 

تمہارے ڈیڈ کے اسرار پر میں یہاں رکی ہوں مجھے نہیں معلوم تھا یہ تمہارا گھر ہے اور ھاد تمہار ا بیٹا اپنے آخری جملہ بہت مشکل سے ادا کیا اور ایک نظر اس پر ڈالی

 

بلیک ٹی شرٹ اور گرے ٹراؤزر میں اسکا کسرتی جسم نمایا تھا ان 6 سال میں اسکی شخصیت مزید نکھر گئی تھی وہ بغیر پلکیں جھپکائے بس اسکو تک رہی تھی

 

اور اسفند جو چہرے پر پتھر جیسی سختی لئے کھڑا اسکو دیکھ رہا تھا حفصہ کے جواب پر جیسے اسکو ساری بات سمجھ آگئی تھی اسکے بیٹے کی جان بچانے والی لڑکی اور کوئی نہیں حفصہ ہی تھی۔۔

 

عجیب بات ہے نہ تمہارے جیسے سنگدل اور لوگوں کو تکلیف دینے والے انسان بھی کسی کی جان بچا سکتے ہیں

 

وہ تلخی سے کہتا مسکرایا جیسے اسکامذاق اڑارہا ہو جبکہ اسکے اس انداز اور حفصہ کی آنکھیں

 

نم ہوئی تھی وہ تڑپ کر اپنی جگہ سے اٹھی

 

” میں نے کسی کو تکلیف نہیں دی

 

وہ اپنے آنسوں بمشکل ضبط کرتی ہوئی ہوئی جبکہ اسکی بات پر اسفند زور سے ہنسا تھا اور پھر کتنی ہی دیر ہنستا ہی چلا گیا یہاں تک کہ اسکی آنکھ سے آنسوں ٹوٹ کر کار پیٹ میں

 

جذب چکا تھا مگر اسکو خبر نہیں ہوئی تھی

 

صحیح کہا تم نے حفصہ تم کسی کو تکلیف نہیں دیتی سیدھا اسکا قتل کرتی ہو ” وہ لہو ر نگ آنکھیں لئے اسکی طرف پلٹا تھا اتنے سالوں سے اسکے دل میں دبی نفرت

 

اسکے سامنے آجانے پر یکدم سے جیسے باہر نکل آئی تھی

 

حفصہ نے کتنی دعا کی تھی کہ اسکا کبھی اسفند سے سامنا نہ ہو مگر آج وہ اسکے کمرے میں اسکے سامنے موجود تھی

 

اسفی تم مجھ پر ایسے الزام نہیں ابھی اسکی بات مکمل نہیں ہو پائی تھی جب وہ بیچ میں انگلی کا اشارہ کر کے اسے روک چکا

 

حفصہ ابراهیم خان تمہارے سامنے جو کھڑا ہے وہ اسفند یار خان ہے اسفی نہیں۔۔ اس اسفی کا تم 6 سال پہلے قتل کر چکی ہو اسکے لجے کی سرد مہری سے اسکا تھا سا دل ٹوٹ سا گیا تھا

 

وہ اسکے اس لہجے کی عادی کہاں تھی پر سامنے کھڑا شخص بھی غلط نہیں تھاوہ اسی کا دیا ہوا

 

درو اسکو لو ٹارہا تھا

 

وہ اپنے آنسوؤں کو ضبط کرنے کی کوشش کرنے لگی تھی مگر انہیں بھی جیسے آج ضدی ہو گئی تھی

 

تم نے میرے بیٹے کی جان بچائی ہے اس لئے تم یہاں اب تک موجود ہو ورنہ میرا بس چلتا تو تمھیں یہاں ایک لمحے کے لئے بھی رکھنے نہیں دیتا اس لئے تم اس کمرے

 

سے چلی جاؤ میری نظروں سے دور

 

اسکو مسلسل آنسوں بہاتا دیکھ کر وہ سنگدلی سے بولا تھا ہاتھ کی مٹھی بیچی وہ جیسے اپنے

 

غصے کو ضبط کر رہا تھا

 

اگر مجھے معلوم ہوتا کہ یہ تمہارا گھر ہے تو میں خود یہاں نہ رکتی ویسے بھی میں کسی کی تکلیف کی وجہ نہیں بننا چاہتی “

 

وہ اپنی بات کہہ کر وہاں رکی نہیں تھی تیزی سے اس روم سے نکلتی چلی گئی تھی

 

اسکے جانے کے بعد اسفند نے غصے میں پاس رکھی ٹیبل پر ایک زور دار لات ماری تھی

 

اور اس جگہ کو دیکھا جہاں کچھ دیر پہلے وہ کھڑی تھی

 

وہ دعا کر رہا تھا کہ یہ سب ایک خواب ہو اور وہ اس خواب سے جاگ جائے پر ایسا نہیں تھا اسکا تکلیف دہ ماضی اسکے سامنے آکھڑا ہوا تھا جسے بھولانے کی کوشش میں وہ آجتک

 

ناکام رہا تھا

 

اسکی زندگی میں دو عور تیں آئی تھی اور دونوں نے اسے چھوڑا تھا

 

و ہ

 

ر باب سے اتنی نفرت نہیں کرتا تھا جتنی نفرت اسے حفصہ سے تھی

 

کیونکہ حفصہ ابراہیم خان سے اسے شدید محبت تھی لکن اب وہ اس سے اتنی ہی نفرت

 

کرتا تھا۔۔۔۔



یہ میں کیا سن رہا ہوں تم جانے سے انکار کر رہی ہو

 

وہ کسی آندھی طوفان کی طرح دند نا تا ہوا اسکے کمرے میں داخل ہوا تھا

 

وہ جو بیڈ پر بیٹھی ڈر سے اپنی انگلیاں چٹکار ہی تھی کمرے کی خاموشی میں مصطفی کی ر عبدار آواز پر ڈر کے مارے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی اور خوفزدہ نظروں سے اسکو

 

دیکھنے لگی جو ماتھے پر بل ڈالے اسکی طرف بڑھ رہا تھا۔

 

منہ میں زبان نہیں ہے کیا پوچھ رہا ہوں میں اپنے نا جانے کی وجہ بتانا پسند کرو گی ” آج اسے حورین کو لیکر اس لڑکے سے ملنے جانا تھا جس سے وہ اسکا نکاح فکس کر چکا تھا پر اسکے انکار سے وہ غصے میں کھولتا اسکے پاس آیا

 

ایک تو اسکاد ماغ رباب کی حرکتوں کی وجہ سے پہلے ہی گھوما ہوا تھا پر سے یہ لڑکی اسکے

 

صبر کا امتحان لے رہی تھی۔۔۔

 

مجھے نہیں جانا آپکے ساتھ اور اس بار آپ میرے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتے

 

اس بار وہ اپنے ڈر کو پیچھے رکھ کر بے خوف ہو کر بولی تھی

 

جب داؤد صاحب نے اسے اسکے نکاح کے بارے میں بتا بات وہ کتنے ہی لمحہ بولنے کے قابل نہیں رہی تھی وہ جانتی تھی مصطفی اسکے لئے کتنا پور یوتھ پر اسکے تو وہم گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ اسکی زندگی کا فیصلہ اتنی آسانی سے بغیر اسکی مرضی جانے لے لیگا

 

کل سے اسکار ور و کر برا حال تھا اسکی سرخ آنکھیں اس بات کی گواہ تھی

 

اور تمھیں ایسا کیوں لگتا ہے کہ میں یہاں تمہاری مرضی جاننے آیا ہوں فورا تیار ہو

 

جا کر ہمیں دیر ہو رہی ہے “

 

وہ ا سکی سرخ آنکھیں دیکھ کر ایک لمحے کے لئے ٹھٹکا تھا پر چہرے کے تاثرات کو نارمل

 

بناتے ہوئے فورا بولا

 

میں نے کہہ دیا ہے میں آپکے ساتھ کہیں نہیں جاؤ گی اور نہ ہی یہ نکاح کرو گی سنا آپ نے۔۔ آپ میرے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتے “

 

اس بار وہ حلق کے بل چلاتے ہوئے بولی

 

زندگی میں پہلی بار اور شاید آخری بار وہ اسکے سامنے یوں مضبوطی سے بولی تھی کیونکہ وہ جن خونخار نظروں سے کھڑا اسکو گھور رہاتھا حورین کو لگ رہا تھا کہ آج اسکا یہ شاید

 

آخری دن ہو گا

 

یہ نکاح تو ہو گا حورین چاہے زبردستی ہی سہی”

 

وہ آنکھیں سکیڑ تا اسکی جانب بڑھا آج اسکارویہ دیکھ کر وہ حیران ہوا تھا پہ ظاہر نہیں

 

نہیں ہونے دیا

 

آپکے ایک بات سمجھ میں کیوں نہیں آتی میں یہ نکاح نہیں کرو گھی بلکہ میں کسی سے

 

بھی نکاح نہیں کرونگی سمجھے آپ “

 

وہ بہت مضبوط لہجے میں بولی تیز بولنے کی وجہ سے اسکا بدن دھیرے دھیرے لرج رہا رھا پر وہ آج خود کو کمزور نہیں پڑنے دینا چاہتی تھی کم از کم آج کے دن تو بلکل بھی نہیں

 

” کیوں نہیں کرنا تمھیں یہ نکاح “

 

وہ اپنے حصے کو ضبط کرتا ہوا بولا مگر اسکے جواب پر حورین نے سختی سے اپنے لب بھینچ

 

لے تھے

 

میں کچھ پوچھ رہا ہوں حورین جواب دو مجھے کیوں نہیں کرنا نکاح

 

اس بار دھاڑا تھا

 

اپنے غصے کو زیادہ دیر ضبط کرنا اسکے بس میں نہیں تھا

 

کیونکہ میں آپ سے محبت کرتی ہوں اور اگر میں نکاح کرو گی تو صرف آپ

 

ہے۔۔ سنا آپ نے

 

وہ اپنی نازک انگلی اسکے سینے پر رکھتی ہوئی چلائی تھی

 

وہ نہیں جانتی تھی کہ آج اس میں اتنی ہمت کہاں سے آگئی تھی

 

شاید اپنی اس محبت کے کھو جانے کا ڈر تھا جو وہ بچپن سے اس سے کرتی آرہی تھی اسے اچھی طرح یاد تھا اس نے جب سے ہوش سنبھالا تھا مصطفی رباب اور داؤد صاحب کو ہی اپنے قریب پایا تھا اسکے والیدین کون تھے وہ نہیں جانتی تھی نہ ہی اس نے پوچھنے

 

کی کبھی کوشش کی

 

اسے رہاب سے بھی محبت تھی پر وہ حورین کو اسکی محبت کا جواب محبت سے نہیں دیتی

 

تھی

 

جب تھوڑی سمجھدار ہوئی تو اسکور باب نے ہی بتا یا تھا کہ وہ مصطفی کی بس ذمہداری ہے جسے وہ بخوبی نبھارہاتھا اور بس تبھی سے اسکے دل میں مصطفی کے لئے ایک الگ مقام بن

 

گیا تھا

 

مصطفی کا خود کے لئے پوزیسو ہو ناہمیشہ فکر مند رہنا کب اسکے دل میں محبت کے پھول

 

کھلا گیا تھا اسے خبر بھی نہیں ہوئی

 

کہیں نہ کہیں اسکو بھی لگتا تھا کہ شاید مصطفی بھی اسکے لئے جذبات رکھتا ہے مگر کل اسکی یہ اس ٹوٹ ہی گئی تھی مگر اسے بھی فیصلہ کر لیا تھا وہ اپنی محبت کو یوں کھونے نہیں دیگی

 

اسکے لئے چاہے اسے سٹون مین کے آگے مضبوط ہی کیوں نہ بننا پڑے

 

وہ تو اپنی بات کہہ کر خاموش ہو گئی تھی مگر مصطفی کتنی ہی دیر اسکو سکت نظروں سے دیکھتا رہا اسکے کبھی وہم گمان میں نہیں تھا کہ وہ اس لڑکی کے منہ سے یہ لفاظ سنے گا

 

تم جانتی بھی ہو کیا بکواس کر رہی ہو ” اور تمہارے اس چھوٹے سے دماغ میں یہ

 

بات آئی بھی کیسے

 

وہ خود کو پوری طرح کمپوز کرتا بتاثرات چہرہ لئے سرد لہجے میں بولا تھا

 

مگر اس وقت اسکے اندر ایک جنگ ہی چل رہی تھی

 

میں نے کوئی بکواس نہیں کی میں نکاح کرو گی تو صرف آپ سے یہ میرا آخری فیصلہ ہے

 

وہ اٹل انداز میں بولی

 

آج اس لڑکی کا لب و لہجہ بلکل الگ ہی تھا مصطفی کو آج یہ کہیں سے بھی اپنی ھورین لگ ہی نہیں رہی تھی۔

 

تم میرے لئے صرف ایک ذمہ داری ہو ایک وعدہ ہو تمہاری حفاظت کرنا تھیں

 

محفوظ رکھنا میرا فرض ہے اس سے آگے اور کچھ نہیں

 

وہ سختی سے کہتا اپنے لب بھینچ گیا تھا

 

اسے آج بھی اچھے سے یاد ہے جب پندرہ سالہ بچے نے تین سال کی حورین کو گود میں

 

لیکر اسکی حفاظت کا وعدہ کیا تھا

 

اس نے یہ وعدہ کس سے کیا تھاوہ اسکو نہیں بتا سکتا تھا اگرو بتا یا تو اسکے بعد حورین کے جو سوال ہوتے ان سوالوں کے جو اب وہ اسکو نہیں دے سکتا تھا شاید زندگی میں کبھی

 

نہیں

 

اگر میری حفاظت آپکے لئے اتنی ضروری ہے تو آپ مجھے خود سے اتنی دور کیوں

 

بھیج رہے ہے

 

مصطفی کے الفاظ سن کر اسکا دل ٹوٹ کر بکھرا تھا مگر وہ خود کو سنبھالتی پھر سے گو یہ ہوئی

 

تھی۔

 

کیونکہ اس میں تمہاری بہتری ہے

 

وہ اسکی سرخ آنکھوں سے نظریں چراتا ہوا بولا اسکے دل نے ایک بیٹ مس کی تھی یہ

 

سب اسکے لئے بھی مشکل تھا پر وہ اپنی کیفیت پر قابورکھنے میں ماہر تھا

 

گر آپکو ایسا لگتا ہے کہ میں اس بار آپکا حکم مان لو گی تو ایسا نہیں ہے میں آپکے علاوہ کسی سے نکاح نہیں کرونگی یہ میرا بھی آخری فیصلہ ہے

 

وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ضدی انداز میں بولی۔۔

 

مصطفی کی گہری کالی آنکھوں نے گرین آنکھوں میں دیکھا جہاں اس وقت اسکا اپنا

 

عکس صاف نظر آرہا تھا اس نے گھبرا کر نظریں پھیر لی تھی

 

تو تم میرا بھی فیصلہ سن لونہ میں تم سے محبت کرتا ہوں نہ تم سے نکاح کا خواہشمند

 

ہوں

 

وہ سنگدلی سے کہتا جانے کے لیے پلٹنا تھا

 

میں آپکو خود سے نکاح کرنے پر مجبور کر دو گی اور محبت بھی

 

حورین کی بات سن کر دروازے کی طرف اسکے بڑھتے قدم رکے تھے

 

اپنے الفاظ سنبھال کر رکھو حورین کہیں ایسا نہ ہو کہ ایک دن تم اپنے کہے لفاظوں پر پچھتاو

 

اپنی بات کہتا وہ وہاں رکا نہیں تھا جبکہ پیچھے کھڑی حورین کتنی ہی دیر اسکی بات پر غور

 

کرتی رہ گئی تھی

 

اینجل یہ دیکھو میں نے کیا بنایا ہے اچھا ہے نہ

 

حفصہ جو اپنی سوچوں میں گم بیٹھی تھی ھادی کی آواز پر جیسے ہوش میں آئی تھی اور گردن موڑ کر اسکی طرف دیکھا جو معصومیت سے اسکی طرف دیکھ رہا تھا اسے یکدم ہی اس پر بے انتہا پیار آیا تھا اسے یہاں رہتے ہوئے ایک ہفتہ ہو چکا تھا اور اس ایک ہفتے میں اس دن کے بعد اسکا اسفند سے سامنانہ ہونے کے برابر ہی ہوا تھا

 

حفصہ تو اگلے دن ہی وہاں سے جارہی تھی مگر حیات صاحب اسکے یوں اچانک جانے سے پریشان ہوئے تھے پر وہ انکو اپنے جانے کی اصل وجہ نہیں بتاسکتی تھی مگر اسکے منع کرنے کے باوجود اور حاد اسکوروک چکے تھے اسے ائی اتنی محبت کے آگے ہار ماننی پڑی

 

تھی

 

دوسرا وہ وہاں رکنے کے لئے مجبور بھی تھی

 

اس نے اس سچ کو بھی تسلیم کر لیا تھا کہ اسفند اپنی زندگی میں آگے بڑھ چکا تھا وہ اسکے لئے رکتا بھی کیوں وہ اسکی زندگی سے اپنی واپسی کے سارے راستے بند جو کر کے

 

جاچکی تھی

 

پر دل کے کسی کونے میں ایک چھن سی تھی جو اسے سکون نہیں لینے دے رہی تھی۔۔۔



5 1 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments
error: Content is protected !!
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x