مکمل ناول
حجام کی دکان پر ہونے والی لڑائی عموما خطرناک ثابت ہوتی ہے۔ یہ بھی ایک ایسی ہی لڑائی تھی۔ ایک نوجوان لڑکا ڈاڑھی منڈوارہا تھا۔ ساتھ ساتھ وہ اپنے ایک دوست سے باتیں بھی کرتا جار ہا تھا۔ دونوں کے درمیان گفتگو کچھ اس قسم کی ہو رہی تھی کہ بال کٹوانے کے انتظار میں بیٹھا ہوا ایک ادھیڑ عمر شخص مشتعل ہو گیا۔ در اصل دونوں نوجوان جس لڑکی کے بارے بات کر رہے تھے وہ اُس ادھیڑ عمر شخص کی کچھ لگتی تھی ۔ اُس نے طیش میں آکر ڈاڑھی منڈوانے والے لڑکے کا گریبان پکڑ لیا اور دو تین تھپڑ لگائے ۔ بات بڑھ گئی ۔ لڑکا بھی گرمی کھا گیا اُس نے سامنے ٹیبل پر رکھا ہوا اُسترا پکڑا اور ادھیڑ عمر شخص پر پل پڑا۔ چھڑانے کی کوشش میں نائی اور اُس کا ایک ملازم زخمی ہو گئے ۔ لڑکے نے اُسترے کا ایک وار ادھیڑ عمر شخص پر کیا لیکن خوش قسمتی سے اُس نے کوٹ پہن رکھا تھا۔ کندھے پر معمولی زخم آنے کے علاوہ کوئی نقصان نہیں ہوا۔ ہاں بے چارے نائی کی دو انگلیاں کٹ گئیں۔
یہ ایک شہری تھانے کا واقعہ ہے۔ اُن دنوں میں نیا نیا انسپکٹر ہوا تھا۔ سہ پہر کا وقت تھا۔ میں روانگی لکھوا کر ایک تفتیش پر جانے کا ارادہ کر ہی رہا تھا کہ چار پانچ افراد تھانے میں داخل ہوئے ۔ اُن کی صورتیں اور پھٹے ہوئے لباس یہ بتانے کے لیے کافی تھے کہ وہ لڑ جھگڑ کر آئے ہیں۔ پہلے تو میں نے سوچا کہ یہ معاملہ سب انسپکٹر کے حوالے کر کے اپنے کام پر چلا جاؤں لیکن پھر مجھے اُن میں ایک ایسی صورت نظر آئی جسے دیکھ کر میں رک گیا۔
میں نے فریقین کی بات سنی۔ لڑکا جس نے اُسترا چلایا تھا درزیوں کا کام کرتا تھا۔ شہر کے ایک کاروباری علاقے میں اُس کے باپ کی دکان تھی ۔ اُس کا نام غفور تھا۔ لڑکے کا چال چلن کچھ مشکوک تھا۔ صحبت بھی اچھی نہیں تھی۔ میں یہ باتیں اس لیے یقین سے کہہ رہا ہوں کہ یہ لڑکا اس محلے میں رہتا تھا جہاں میری رہائش تھی۔ میں نے اکثر اسے گلی کے موڑ پر کھڑےدیکھا تھا۔ اسی لڑکے کو دیکھ کر میں تھانے سے جاتے جاتے رک گیا تھا۔
مجھے کوئی ایک ماہ پہلے کی بات یاد آ رہی تھی۔ میری بیوی نے بتایا تھا کہ یہ لڑکا ہمارے مالک مکان کی بیٹی پر نظر رکھتا ہے۔ دراصل اُن دنوں میں کرائے کے مکان میں رہتا تھا۔ مکان کچھ اس طرح کا تھا کہ مالک مکان کا اور ہمارا صحن ایک ہی تھا۔ ایک دوسرے کے گھر میں عام آنا جانا رہتا تھا۔ تعلقات کافی قریبی ہو گئے تھے۔ مالک مکان کی چار بیٹیاں تھیں۔
بڑی لڑکی فرزانہ کی عمر کوئی پندرہ سال رہی ہوگی ۔ وہ دسویں یا نویں میں پڑھتی تھی ۔ میری بیوی نے بتایا تھا کہ یہ لڑ کا فرزانہ کے چکر میں دکھائی دیتا ہے۔ ان کا گھر چند گھر چھوڑ کر تھا لیکن اتنا اونچا تھا کہ وہاں سے با آسانی ہمارے صحن میں نظر پڑ سکتی تھی ۔ میری بیوی کا کہنا تھا کہ لڑکا اکثر چھت پر کھڑا ادھر دیکھتا رہتا ہے۔ گلی میں بھی ہمارے گھر کے سامنے گھومتا ہے۔ بہر حال مجھے اس سلسلے میں تردود کی ضرورت نہیں تھی ۔ یہ مالک مکان کا معاملہ تھا اور جب اُس نے مجھ سے کچھ نہیں کہا تھا تو میں اس پھڈے میں ٹانگ کیوں اڑاتا۔ تاہم اب اُس
لڑکے کو تھانے میں دیکھ کر میں نے اندازہ لگایا کہ ہو نہ ہو یہ اسی لڑکی کا معاملہ ہے۔ تھوڑی ہی دیر میں بات کھل گئی۔ ادھیڑ عمر شخص (جس کا نام شریف تھا) نے بتایا کہ یہ لڑکا نائی کی دکان میں اُس کی بھتیجی کے خلاف نازیبا کلمات ادا کر رہا تھا۔ پہلے تو وہ برداشت کرتا رہا پھر اُس نے لڑکے کو منع کیا جس پر مشتعل ہو کر اُس نے اُسترا پکڑ لیا اور بے دریغ گھمانے لگا۔ یہ شخص جس بھتیجی کا ذکر کر رہا تھا وہ میرے مالک مکان کی بیٹی ہی تھی۔ لڑکے نے کہا۔ ” تھانیدار صاحب ! یہ شخص بات بدل رہا ہے۔ اسے صرف اس بات پر غصہ تھا کہ میں پہلے کیوں ڈاڑھی منڈوانے لگا ہوں ۔ باقی ساری باتیں اس نے اپنی طرف سے گھڑی ہیں ۔” میں نے نائی ، اُس کے ملازم اور ساتھ آنے والے دو آدمیوں سے پوچھ گچھ کی۔ انہوں نے بھی لڑکے کے بیان کی تصدیق کی۔ انہوں نے کہا کہ جھگڑا باری کا تھا۔ بہر حال مجھے جلد ہی اندازہ ہو گیا کہ نائی اور اُس کے دونوں گا ہک دراصل غفورے کے دوست ہیں۔ اس لیے اُس کی تائید کر رہے ہیں ۔ ورنہ اُس سمجھدار شخص کو کیا ضرورت تھی اپنی بھتیجی کے بارے میں ایسی بات اچھالنے کی ۔ اسی دوران میرا مالک مکان بھی تھانے پہنچ گیا ۔ وہ چھوٹی چھوٹی ڈاڑھی والا ایک دبلا پتلا شخص تھا۔ اُسے سب حاجی کہتے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اُس نے حج نہیں کیا تھا۔ لیکن اسے “حاجی” کہنے لگے۔ اب یہ لقب اتنا پرانا ہو چکا تھاکہ کسی کواس کا نام بھی پانیہ تھا۔ شہر کے معروف بازار میں اُس کی سلے سلائے کپڑوں کی دکان تھی۔ کافی کھاتا پیتا شخص لیکن ایک کھٹارہ سائیکل پر سفر کرتا تھا۔ فطر نا وہ خاموش طبع اور امن پسند شخص تھا۔ شاید بیٹیوں کی کثرت نے اُس کے مزاج میں عاجزی پیدا کر دی تھی ۔ میں نے اٹھ کر اُس کا استقبال کیا۔ وہ اس مصیبت میں خاصا پریشان دکھائی دے رہا تھا۔ میں نے علیحدہ کمرے میں اُس سے اگر جھگڑے کی بابت پوچھا۔ اُس نے بتایا کہ شریف اُس کا دور کا عزیز ہے اور یہیں قریب ہی رہتا ہے۔ اُس نے جو کچھ کہا ہے درست ہے۔
میں نے کہا ۔ آپ کا مطلب ہے یہ لڑکا واقعی فرزانہ پر ہاں ہاں ۔ حاجی امین نے بے چینی سے کہا۔ ” میں ایک دفعہ اسے سختی سے منع بھی کر چکا ہوں لیکن یہ باز نہیں آیا۔ کچھ عرصہ پہلے فرزانہ نے بھی شکایت کی تھی کہ یہ اسکول جاتے وقت اُس کا پیچھا کرتا ہے۔“ حاجی امین یہ بات کہتے کہتے بری طرح لرز رہا تھا۔ شریف آدمی کے دل پر ایسے موقعوں پر جو بیتتی ہے وہی جانتا ہے۔ اُس کا رنگ ہلدی کی طرح زرد ہورہا تھا۔ میں نے اُسے تسلی دی اور کہا۔ ” حاجی صاحب! آپ بے فکر رہیں۔ اس لڑکے کے کس بل اب میں نکالوں گا۔ یا تو محلہ چھوڑ جائے گا یا انسان کا بچہ بن جائے گا۔“ میں نے حاجی امین اور اُس کے عزیز کو واپس بھیج دیا۔ غفور اور اُس کے دوست جن میں نائی بھی شامل تھا رحم طلب نظروں سے مجھے دیکھ رہے تھے۔ میں نے غفورے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سب انسپکٹر کو کہا کہ اس ” را نجھے کو الٹکا لٹکا کر ایسی مرلی پھیرو کہ سارے نر ٹھیک ہو جائیں۔ سب انسپکٹر میرا اشارہ سمجھ رہا تھا۔ اُس نے غفورے کو پکڑا اور برآمدے میں لے گیا۔ یہاں چھت سے ایک رسہ لٹک رہا تھا۔ اُس نے غفور ے کو الٹکا لٹکایا اور بید کی چھڑی سے شروع ہو گیا۔ ابھی تین چار چیچنیں ہی میرے کانوں تک پہنچی تھیں کہ میں باہر آ گیا۔ میں نے ہیڈ کانسٹیبل کو ہاتھ سے رکنے کا اشارہ کیا۔ الٹالٹکنے سے غفورے کی پنڈلیوں پر سے شلوار کھسک گئی تھی اور وہاں بیدوں کے سرخ نشان نظر آرہے تھے ۔ ہیڈ کانٹیبل چھڑی تھامے میرے حکم کا منتظر تھا لیکن میں نے اُسے غفورے کو اتارنے کی ہدایت کی ۔ نہ جانے کیوں مجھے اس کو ترس آگیا تھا۔ وہ سترہ اٹھارہ سال عمر کا تھا۔ یہ عمر ہوتی ہی بڑی ظالم ہے۔ ذہن ناپختہ جذبات کی فراوانی اور اندھی خواہشیں، یہ سب کچھ مل کر نو جوانوں کو عجیب و غریب حرکات اکساتا رہتا ہے۔
تھوڑی ہی دیر کے بعد غفورے کے وارث بھی پہنچ گئے ۔ وہ میری منتیں سماجتیں کرنے لگے۔ میں نے حاجی امین وغیرہ کو بھی بلا لیا۔ لڑکے نے معافی مانگی۔ اُس کے وارثوں نے اُس کے آئندہ چال چلن کی ضمانت دی۔ قصہ مختصر فریقین میں صلح نامہ ہو گیا۔ یہ واقعہ چوتھے یا پانچویں روز کا ہے۔ میں صبح کے وقت اٹھا۔ میری بیوی چار پائی پر نظر نہیں آئی ۔ تھوڑی ہی دیر بعد وہ گھبرائی ہوئی اندر داخل ہوئی۔
” کچھ سنا آپ نے ؟ اُس نے ہراساں لہجے میں کہا۔ ” درزیوں کا لڑکا غفورا مر گیا۔ اس کی لاش ملی ہے۔”
کیا کہہ رہی ہو؟ میں نے حیرت سے کہا۔
اس دوران شکیل بھی اندر گیا۔ شکیل میری بیوی کا چھوٹا بھائی تھا اور اُن دنوں ہمارے پاس ہی رہتا تھا۔ اس نے بھی گھبرائے ہوئے انداز میں اس خبر کی تصدیق کی ۔ وہ بولا ۔ میں کالج جانے کے لیے نکلا تھا۔ غفورے کے گھر کے سامنے لوگوں کا ہجوم ہے اور عورتیں بین کر رہی ہیں ۔“
اب شبے کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ میں نے جلدی جلدی لباس تبدیل کیا اور موقع کی طرف چل دیا۔
غفور کی لاش ایک چھوٹے سے کمرے میں پڑی تھی۔ یہ الگ تھلگ کمرہ محلے کے منچلے لڑکوں کی آماجگاہ تھا۔ وہ اکثر رات گئے تک یہاں بیٹھے گئیں ہانکتے اور تاش کھیلتے تھے ۔ فرش پر دری بچھی ہوئی تھی کونے میں ایک چارپائی پڑی ہوئی تھی ۔ لاش اسی چار پائی پرتھی ۔ ایک دو معزز افراد کمرے کے اندر تھے۔ باہر لوگوں کا ہجوم تھا۔ پولیس کو باضابطہ طور پر اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ میں نے احتیاط سے موقعہ کا معائنہ کیا۔ دری ممکن شکن تھی ۔ سگریٹوں کے ٹوٹے، خالی پیٹ، پان کی پچکاریاں جا بجا دکھائی دے رہی تھیں ۔ لاش اکڑ چکی تھی اور رنگ سیاہی مائل نیلا تھا۔ ہونٹوں سے خون کی ایک پتلی لکیر نکل کر کان کے اندر چلی گئی تھی ۔ بظاہر ایسا لگ رہا تھا کہ متوفی کوز ہر دیا گیا ہے۔ میں نے موقع پر موجود افراد سے پوچھ گچھ کی۔ معلوم ہوا کہ یہ کمرہ شاہ’ نامی ایک نوجوان کا ہے۔ وہ یہاں شہر میں ملازمت کرتا ہے۔ پچھلے ایک ہفتے سے وہ گاؤں گیا ہوا ہے۔ اُس کی غیر موجودگی میں اُس کے دوست اس کمرے میں محفل جماتے تھے۔ کمرے کی چابی متوفی کے
پاس ہی ہوتی تھی ۔ معلوم ہوا کہ کل رات بھی یہاں چار پانچ لڑکے موجود تھے۔ متوفی کے والد نے روتے ہوئے کہا۔ ” صبح مجھے اُس کی ماں نے کہا کہ غفورا رات بھر گھر نہیں آیا۔ اُس سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا تھا۔ زیادہ سے زیادہ رات نو بجے تک گھر آجاتا تھا۔ میں نے پہلے اُس کے چھوٹے بھائی کو بھیجا پھر خود تلاش کرنے نکلا۔ یہاں بیٹھک میں پہنچا تو دروازہ بند تھا لیکن میں نے دباؤ ڈالا تو کھل گیا۔ میرا بیٹا چار پائی پر مردہ پڑا تھا۔ اُس کا آدھا دھڑ چار پائی سے نیچے لٹک رہا تھا۔ میں یہ منظر برداشت نہ کر سکا اور بے ہوش ہو کر دہلیز ہی میں گر گیا۔ ہوش آئی تو دوسرے لوگ جمع ہو چکے تھے ۔“موقع کے معائنے کے دوران ہی میرا سب انسپکٹر سپاہیوں کے ساتھ پہنچ گیا۔ میں نے اُسے ضروری ہدایات دیں اور تھانے چل دیا۔ تھوڑی ہی دیر بعد سب انسپکٹر متوفی کے تین دوستوں کو لے کر تھانے پہنچ گیا۔ یہ تینوں بیس سال سے کم عمر تھے ۔ ایک پڑھتا تھا اور دو کام کرتے تھے۔ میں نے اُن تینوں کو ایک ساتھ کھڑا کر کے کہا۔
دیکھو! میں تم سے علیحدہ علیحدہ سوال کروں گا ۔ کوشش کرنا کہ جھوٹ نہ بولو۔ اگر تمہارے جوابات ایک دوسرے سے نہ ملے تو تینوں کو اندر کر دوں گا ۔ لڑکے کم عمر تھے اس لیے کافی خوفزدہ دکھائی دیتے تھے ۔ اُن میں سب سے چھوٹا بمشکل پندرہ سولہ سال کا رہا ہوگا۔ میں نے اُسے اپنے کمرے میں چلنے کا اشارہ کیا۔ میں نے کہا۔ ”غفورے کی موت سے قبل تم تینوں اُس کے ساتھ موجود تھے۔ ظاہر ہے تم تینوں میں سے ہی کسی نے اُسے زہر دیا ہے۔ اب اگر تم مجھے صاف صاف بتا دو گے تو میرا کام آسان ہو جائے گا۔ ہوسکتا ہے اس سے تمہاری مشکل بھی آسان ہو جائے۔ دوسری صورت میں قاتل کا پتہ تو مجھے چلانا ہی ہے۔“ لڑکے نے کہا۔ تھانیدار صاحب! میرا اس قتل سے کوئی تعلق نہیں۔ جو کچھ مجھے معلوم ہے میں سچ سچ بتا دیتا ہوں۔ میں کل رات ساڑھے سات بجے کے قریب بیٹھک میں گیا تھا۔ یونس اور منظور پہلے سے وہاں موجود تھے۔ تینوں تاش کی بازی لگارہے تھے۔ میں بھی شریک ہو گیا۔ اس دوران کوئی خاص بات نہیں ہوئی سوائے اس کے کہ غفورے نے ایک دفعہ اٹھ کر پانی پیا۔ میں نے کہا۔ ” مجھے یہ بتاؤ اُس دوران تم میں سے کسی نے اُسے کوئی چیز کھلائی ؟“ لڑکے نے فورا نفی میں جواب دیا لیکن پھر کچھ سوچ کر بولا ۔ ہاں … یاد آیا یونس ایک دفعہ اٹھ کر گیا تھا اور گلی کے پان والے سے سگریٹ اور پان لے کر آیا تھا۔“ غفورے نے بھی پان کھایا تھا ؟“ میں نے پوچھا۔
حج جی ہاں۔ وہ ہکلا کر بولا ۔
تم کہتے ہو کہ تاش کھیلنے کے دوران دو تین دفعہ اٹھ کر پانی پینے گیا تھا۔ ایسا پان کھانے سے پہلے ہوا تھا یا بعد میں؟“
لڑکا ذہن پر زور دیتا ہوا بولا۔ جناب میرا خیال ہے پان کھانے کے بعد ایسا ہوا
تھا۔ اور ہاں، مجھے لگ رہا تھا کہ کھیل میں بھی اُسے مزہ نہیں آ رہا۔“
لڑکے کی آنکھیں حیرت سے پھیل رہی تھیں۔ شاید اُسے بھی یونس کے کردار پر شبہ ہورہا تھا۔ میں نے ایک دو باتیں کر کے اُس کے شبے کو ابھارا۔ میں نے پوچھا۔ ” کیا اس سے پہلے یونس اور غفورے میں کوئی تنازعہ موجود تھا؟“
لڑکے نے ذہن پر زور دیا لیکن کوئی ایسی بڑی وجہ دریافت نہ کر سکا جو غفورے کے قتل کا سبب بن سکتی تھی ۔
میں نے اُس سے کہا۔ ” جو سوال میں اب پوچھ رہا ہوں اُس کا جواب نہایت سوچ سمجھ
کر دینا۔ مجھے یہ بتاؤ فرزانہ والے چکر کا غفورے کے قتل سے کوئی تعلق ہوسکتا ہے؟“ لڑکے نے پریشانی سے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری اور بولا ۔ ” مجھے اس بارے میں زیادہ کچھ معلوم نہیں جناب لیکن اگر یہ کام یونس کا ہے تو یہ کوئی اور ہی چکر ہوگا ۔ میں غور سے لڑکے کا چہرہ دیکھ رہا تھا۔ دفعتنا اُس کے چہرے کا رنگ تبدیل ہو گیا اور آنکھوں میں سخت حیرت دکھائی دینے لگی۔ اُس نے غور سے میری طرف دیکھا پھر بولا ۔ ” جناب! مجھے جو کچھ معلوم ہے میں آپ کو بتا دیتا ہوں لیکن آپ وعدہ کریں کہ مجھے چھوڑ دیں گے ۔“ میں بھانپ چکا تھا کہ لڑکا کسی اہم نتیجے پر پہنچا ہے۔ میں نے اُس کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے کہا۔ برخوردار! میں کہہ چکا ہوں کہ اگر میرے لیے آسانی پیدا کرو گے تو تمہارے لیے بھی آسانی ہوگی۔ اگر تم بے قصور ہو تو تم پر کوئی آنچ نہیں آئے گی ۔”
لڑکا بولا۔ تھانیدار صاحب! ابھی ابھی میرے ذہن میں ایک بات آئی ہے۔ ہوسکتا ہے آپ کی بات درست ہی ہو۔ غفور ے کا قتل …. اس لڑکی کی وجہ سے بھی ہوسکتا ہے۔ آپ کو پتہ ہوگا کہ اس لڑکی کے چچا سے غفورے کا کچھ روز پہلے جھگڑا ہوا تھا۔ اب مجھے یاد آ رہا ہے کہ یونس کا اُس شخص کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہے۔ پرسوں ہی میں نے اُن دونوں کو اکٹھے سائیکل پر جاتے دیکھا تھا۔ میں نے سوچا بھی تھا کہ یونس سے اُس بارے میں پوچھوں گا لیکن پھر مجھے یاد ہی نہیں رہا۔ اب مجھے یاد آ رہا ہے کہ اُس وقت یونس مجھے دیکھ کر گھبرا سا گیا تھا۔ اُس سے پہلے بھی ایک دفعہ میں نے اُن دونوں کو سینما ہال میں دیکھا تھا۔“
میں نے کہا۔ ” تمہارا مطلب ہے کہ یونس اُس شخص کے کہنے پر غفورے کو زہر کھلا سکتا ؟؟
لڑ کا گڑ بڑا کر بولا۔ میں یہ نہیں کہہ رہا لیکن لیکن ہوسکتا ہے کہ غفورے کی موت اس لڑکی کی وجہ سے ہوئی ہو۔“
میری اگلی گفتگو یونس عرف یونی سے ہوئی۔ وہ بھی درزیوں کا کام کرتا تھا۔ غفورے کے ساتھ اُس کی دوستی پرانی تھی۔ میں نے شکل و شباہت سے اندازہ لگایا کہ وہ ہوشیار اور گہرال ہے۔ اُس نے بھی کم و بیش وہی باتیں دہرائیں۔ اُس نے تسلیم کیا کہ وہ گلی کی دکان سے چار الائچی سپاری پان لے کر آیا تھا۔ اُس سے فرزانہ کے بارے میں بھی کچھ مزید باتیں معلوم ہوئیں۔ اُس نے بتایا کہ غفورا اُس کا دیوانہ تھا، تھانے کی ہوا کھا کر اُس کا عشق کچھ اور بھڑک گیا تھا۔ پچھلے دو تین دن سے وہ بہت زیادہ پریشان تھا اور اس پریشانی کا سبب فرزانہ ہی تھی۔ اُس نے مزید بتایا کہ فرزانہ کے بارے میں اُس کی زیادہ گفتگو منظور سے ہوا کرتی تھی۔ وہ اُس سے فرزانہ کو خط بھی لکھوایا کرتا تھا۔ یونس نے جو ایک نئی بات بتائی وہ یہ تھی کہ فرزانہ نے غفورے کو خطوط بھی لکھے تھے ۔ میں نے یونس عرف یونی پر پولیس والوں کا مخصوص داؤ آزمانے کی کوشش کی۔ میں نے اُسے کہا کہ فدا حسین (اس کے پہلے دوست) نے مجھے بہت کچھ بتا دیا ہے اور اگر وہ ساری بات سچ سچ نہیں بتائے گا تو اُس کا کیس اور خراب ہو جائے گا۔ وہ خوفزدہ ہو کر قسمیں کھانے لگا کہ اُس معاملے میں اُس کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ میں نے اُسے کہا کہ وہ پچھلے دو تین روز سے فرزانہ کے چچا سے ملاقاتیں کر رہا ہے آخر کیوں؟ وہ پہلے تو گھبرایا پھر بولا۔ ”جناب! چاچے شریف سے میری پرانی سلام دعا ہے ہمارے گھر قریب قریب ہی ہیں۔ راہ میں آتے جاتے آمنا سامنا ہو جاتا ہے۔“ غرض میں نے اُسے کئی طرح سے گھیر نے کی کوشش کی لیکن وہ میرے ڈھب پر نہیں آیا۔ میں نے اُسے باہر بھیج کر منظور کو اندر بلایا۔ یہ ایک دبلا پتلا نو جوان تھا۔ عمر کوئی اٹھارہ سال رہی ہوگی۔ دونوں رخسار غیر معمولی طور پر ابھرے ہوئے تھے ۔ میٹرک پاس تھا اور اب پرائیویٹ امتحان کی تیاری کر رہا تھا۔ اُس نے تسلیم کیا کہ وہ غفورے کا راز داں تھا اور غفور نے ایک دو بار اُس سے فرزانہ کو خط بھی لکھوائے تھے۔ اُس نے اپنے پہلے دو ساتھیوں کے بیانات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ رات قریبا سات بجے تک وہ تینوں غفورے کے ساتھ موجود تھے۔ پھر نو ساڑھے نو کے درمیان فداحسین اور یونس گھروں کو چلے گئے اور وہ غفور ) کے ساتھ رہا لیکن دس پندرہ منٹ بعد وہ بھی اپنے گھر کو روانہ ہو گیا۔ اُس نے کہا۔
انسپکٹر صاحب ! میں آپ کو ایک اہم بات بتانا چاہتا ہوں ۔ ایسی بات جو فدا حسین اور یونس کو بالکل معلوم نہیں ۔ پھر کچھ دیر سوچ کر بولا۔ انسپکٹر صاحب! میں ڈرتا ہوں کہ آپ اس بات پر یقین نہیں کریں گے … اور ہو سکتا ہے آپ کو مجھ پر غصہ آجائے میں نے تحکمانہ لہجے میں کہا۔ ”دیکھولڑ کے! میرے پاس پہیلیاں بوجھنے کا وقت نہیں جو کچھ معلوم ہے صاف صاف بتا دو۔ ہو سکتا ہے جو تم بتانے جارہے ہو مجھے پہلے سے معلوم ہو۔“ منظور نے تھوک نگلا اور ڈرامائی لہجے میں بولا۔ انسپکٹر صاحب ! کل رات منا، غفورے سے ملنے آیا تھا۔”
یہ اطلاع میری سماعت کے لیے بم کے دھماکے سے کم نہیں تھی ۔ جیسا کہ میں نے آپ کو بتایا ہے اُن دنوں بیوی کا چھوٹا بھائی یعنی میرا سالا میرے گھر میں رہ رہا تھا اُس کا نام شکیل تھا لیکن سب مُنا منا کہتے تھے۔ اُس نے مقامی کالج میں داخلہ لے رکھا تھا۔ کافی ہونہار لڑکا تھا۔ مجھے اُس میں کبھی کوئی برائی نظر نہیں آئی۔ میری بیوی تو اُس پر جان چھڑکتی تھی۔ یوں بھی اُس کا اکلوتا بھائی تھا۔ میری شادی کو قریباً دو سال ہوئے تھے ۔ اُن دو سالوں میں وہ ہمارے پاس ہی رہا تھا۔ مجھے بہنوئی سے زیادہ وہ بڑے بھائی کی طرح سمجھتا تھا اور اسی طرح عزت. کرتا تھا۔ چند لمحے میں سکتے کے عالم میں بیٹھا رہا۔ پھر میرا ہاتھ بڑھا اور میں نے منظور کا گریبان پکڑ لیا۔ ” کیا بکتے ہو؟” میں زور سے دھاڑا ۔
منظور نے اپنے حواس درست کیسے اور بولا ۔ ”جناب! میں بالکل سچ کہتا ہوں ۔ اگر میری بات جھوٹ نکلے تو جو جی چاہے سزا دیں۔“ میں نے کہا۔ ” کیا تم یہ کہنا چاہتے ہو کہ غفورے کے قتل میں منے کا ہاتھ ہے لیکن کیوں ۔
وہ کیوں قتل کرنے لگا اُسے؟“ منظور نے خوفزدہ نظروں سے میری طرف دیکھا اور جھجک کر بولا ۔ انسپکٹر صاحب! وہ بھی فرزانہ سے محبت کرتا ہے۔ یہ میرے لیے دوسرا ذہنی جھٹکا تھا۔ میرے گھر کے اندر یہ کھیل ہورہا تھا اور مجھے معلوم ہی نہیں تھا نہیں یقینا یہ لڑ کا جھوٹ بول رہا ہے۔ میں نے اُسے گریبان سے جھنجھوڑا ۔ دیکھو! اگر تمہارے یہ الزامات غلط ثابت ہوئے تو برا حشر ہوگا تمہارا۔“ ”جناب! میں آپ کو ثبوت پیش کر سکتا ہوں میرے پاس فرزانہ کے خطوط ہیں جو اُس نے غفورے کو لکھے تھے اور جن میں منے کا ذکر بھی ہے۔” میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا لیکن ایک بات یقینی تھی کہ منظور جو کچھ کہ رہا تھا اس میں کچھ نہ کچھ حقیقت ضرور تھی۔ میں نے اُس کا گریبان چھوڑتے ہوئے خود پر قابو پایا اور اُسے اپنے الزامات کی وضاحت کرنے کو کہا۔ اُس نے کہا۔
”جناب! یہ چکر کوئی ایک سال سے چل رہا ہے۔ پہلے منے اور فرزانہ کا چکر شروع ہوا۔ یہ دونوں کافی عرصہ چپکے چپکے ایک دوسرے کو خط لکھتے رہے۔ پھر غفورا بھی فرزانہ سے دل لگا بیٹھا۔ منا شروع شروع میں ذرا خاموش طبع اور شرمیلا تھا۔ اُس کے مقابلے میں غفور ذرا تیز طرار اور بے باک تھا۔ دونوں جانتے تھے کہ وہ ایک ہی لڑکی سے محبت کر رہے ہیں اور وہ اُن دونوں کو دھوکا دے رہی ہے اُس کے باوجود دونوں مجبور تھے ۔ جہاں تک فرزانہ کا تعلق ہے وہ دونوں کی محبت کا جواب محبت سے دے رہی تھی لیکن ملتی کسی سے بھی نہیں تھی ۔ اپنے خطوں میں اُس نے غفورے کی حوصلہ افزائی کی ہے اور ظاہر ہے منے کی بھی کی ہوگی۔ دونوں اُس کے عشق میں دیوانے تھے۔ جہاں تک میں جانتا ہوں منے کو یہ بات بالکل پسند نہیں تھی کہ فرزانہ اُس کے ساتھ ساتھ غفورے سے بھی تعلق رکھے۔ کوئی ایک ماہ پہلے وہ غفورے سے ملا بھی تھا۔ دونوں نے اس معاملے میں کھل کر بات کی تھی۔ اس ملاقات کے بعد وہ اکثر ایک دوسرے سے ملتے تھے۔ میں نے دو تین بار انہیں اکٹھے دیکھا لیکن کبھی مجھے یہ محسوس نہیں ہوا کہ وہ ایک دوسرے کے دشمن یا رقیب ہیں۔ کل رات بھی منا غفورے سے ملنے آرہا تھا۔ غفورے نے مجھے بتایا تھا کہ وہ کوئی اہم بات کرنا چاہتا ہے۔ میں نے غفورے سے کہا تھا کہ میں تمہارے ساتھ رہتا ہوں لیکن وہ کہنے لگا کہ نہیں ہم تنہائی میں بات کرنا چاہتے ہیں۔ ویسے بھی منا پسند نہیں کرتا تھا کہ اُن دونوں کی گفتگو میں کوئی تیسرا شخص شریک ہو۔ میں نے غفورے کومحتاط رہنے کا مشورہ دیا اور ساڑھے نو بجے کے قریب بیٹھک سے گھر چلا آیا۔ اُس کے بعد کیا پیش آیا، مجھے کچھ معلوم نہیں۔“
میں نے کہا۔ ”تمہارے خیال میں وہ کیا بات ہو سکتی ہے جو مُنا اُس سے کرنا چاہتا تھا۔“ منظور نے تھوڑی دیر توقف کیا پھر بولا ۔ انسپکٹر صاحب ! وہ تینوں میرا مطلب ہے غفورا، منا اور فرزانہ عجیب و غریب حرکتیں کرتے رہتے تھے ۔ پچھلے دنوں مجھے غفورے نے بتابا تھا کہ کشمکش کا فیصلہ ہونے والا ہے۔ میں نے پوچھا کہ کون سی کشمکش کا کیا فیصلہ ہونے والا ہے۔ غفورے نے بتایا کہ اگلے ہفتے فرزانہ ہم دونوں میں سے کسی ایک کو گھر سے باہر ملے گی۔ جو بھی اُس سے ملاقات کرنے میں کامیاب ہوا وہ دوسرے کو لڈو کھلائے گا اور لڈو کھلانے والا ہمیشہ کے لیے فرزانہ کے راستے سے ہٹ جائے گا۔ میرا خیال ہے کہ یہ کوئی ایسا ہی معاملہ تھا۔
ہو سکتا ہے مُنا، فرزانہ سے ملاقات میں کامیاب ہو گیا ہو اور وہ کامیابی کے لڈو لے کر غفورے کے پاس آیا ہو۔ میں اس بارے جاننے کے لیے بہت بے چین تھا لیکن صبح ہوئی تو غفورا مجھے یہ سب کچھ بتانے کے لیے زندہ نہیں تھا۔“
منظور کی باتیں بظاہر عجیب سی تھیں لیکن مجھے یہ نا قابل یقین اس لیے نہیں لگیں کہ منا اور غفورا وغیرہ جس عمر سے تعلق رکھتے تھے اس میں ایسی بے وقوفیاں عام سرزد ہوتی ہیں۔ اوائل شباب میں کسی پر عشق کا بھوت سوار ہو جائے تو بڑی مضحکہ خیز حرکات دیکھنے میں آتی ہیں لیکن یہاں جو حرکت سرزد ہوئی تھی وہ مضحکہ خیز نہیں ، نہایت سنگین تھی۔ ایک نوجوان ہلاک ہو چکا تھا اور مجھے اُس کی موت کا سبب ڈھونڈ نا تھا۔ اگر اُسے کسی نے قتل کیا تھا تو قاتل کی تلاش ضروری تھی۔ یہ سوچ کر میں لرز گیا کہ اس قتل کا ذمے دار اگر واقعی منا ہوا تو ؟ ابتدائی تفتیش اور رپورٹ کے بعد لاش پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوا دی گئی۔ دو پہر کے وقت میں تھانے سے گھر پہنچا۔ منا گھر ہی میں تھا۔ وہ چار پائی پر بیٹھا کھانا کھارہا تھا اور میری بیوی دوپٹے کا پہلو ہلا ہلا کر مکھیاں دور ہٹا رہی تھی۔ میرے تیور دیکھ کر وہ کچھ چونکا اور لقمہ اس کے حلق میں اٹکنے لگا۔ بسم اللہ بسم اللہ ” میری بیوی نے جلدی سے پانی کا گلاس اُس کی طرف بڑھایا۔ اُس نے پانی کے دو گھونٹ بھر ہے اور سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھنے لگا۔ میری بیوی بھی اب میرا چہرہ تک رہی تھی۔ مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ میرے سامنے بیٹھا ہوا یہ لڑکا قاتل ہے. لیکن حالات کی انگلی دھیرے دھیرے جس شخص کی طرف اٹھ رہی تھی وہ یہی تھا۔ میں نے گھمبیر لہجے میں اُسے کہا کہ وہ کھانا کھا کر فورا میرے کمرے میں آئے۔
اپنے کمرے میں پہنچ کر میں بے چینی سے ٹہلنے لگا۔ ذرا دیر بعد میری بیوی اندر داخل ہوئی۔ وہ کچھ ڈری ہوئی تھی۔ کہنے لگی ۔ ” کیا بات ہے۔ آپ کچھ غصے میں ہیں ۔ منے سے کوئی غلطی ہوئی ہے۔” میں نے کہا۔ ” تم باہر جاؤ اور اسے میرے پاس بھیجو ۔ ابھی تمہیں سب کچھ پتہ چل جائے گا۔ بیوی میرے لہجے پر اور بھی ڈر گئی۔ اس دوران منا کپڑے سے ہاتھ پونچھتا اندر آگیا۔ میں نے بیوی کو باہر بھیج کر دروازہ بند کر لیا۔ جب وہ میری ہدایت پر چار پائی پر بیٹھ گیا تو میں نے کہا ۔ کل رات ساڑھے نو اور گیارہ بجے کے درمیان تو کہاں تھا؟“ اُس کا چہرہ تاریک ہو گیا۔ ہکلا کر بولا ۔ ” میں میں اپنے کمرے میں پڑھ رہا تھا ۔” بکواس بند کر ۔ ” میں دھاڑا ۔۔۔۔ ( اس کیس میں انسپکٹر نواز خان کی کی لاچارگی اور بیگم کا پریشر دیکھنے لایک ہو گا۔۔ انسپکٹر نواز خان مکمل بےبس ہو جاے گا۔۔۔) دیکھتے ہیں ہوتا ہےمیں نے منے سے پوچھا ” کل رات تم ساڑھے نو سے 11 کے درمیان کہاں تھے”؟؟
اس کا چہرہ تاریک ہو گیا۔۔حق لا کر بولا۔۔ مم میں اپنے کمرے میں پڑھ رہا تھا۔۔۔
“بکواس بند کر” میں دہاڑا۔۔ “تو اپنے کمرے میں پڑھ نہیں رہا تھا بلکہ شاہ کی بیٹھک میں غفورے کے پاس تھا۔“
ی یہ غلط ہے بھائی صاحب ۔ میرا ایک زور دارتھپٹر اس کے منہ پر پڑا اور وہ چکرا کر رہ گیا۔ میں نے غصے سے کہا۔
اور یہ بھی غلط ہے کہ تو نے حاجی صاحب کی لڑکی سے یارانہ لگا رکھا ہے اور یہ بھی غلط ہے کہ تو اسے خط لکھتا ہے اور ملاقاتیں کرتا ہے. دیکھ مجھے ٹھیک ٹھیک بتا دے کل رات تو کہاں تھا اور کیا گل کھلایا ہے۔“
وہ قدرے تیزی سے بولا ۔ تو آپ کا خیال ہے کہ غفورے کو میں نے مارا ہے ۔ حیرانگی ہے آپ اتنی آسانی سے مجھ پر یہ الزام لگا رہے ہیں ۔“
میں نے چلا کر کہا۔ اگر یہ الزام ہے تو بتا کل رات کہاں تھا تو ۔ میں نے خود ان آنکھوں سے تجھے کمرے سے نکلتے دیکھا تھا۔“
میں صرف ایک بار پیشاب کرنے باہر نکلا تھا۔“ ” پھر وہی جھوٹ ۔ مجھے طیش آ گیا۔ میں نے اُس پر تھپڑوں اور مکوں کی بارش کر دی۔ اس دوران میری بیوی دروازہ پیٹنے لگی۔ میں نے دروازہ کھولا ۔ وہ ہائے میرا الال“ کہتی ہوئی بھائی سے لپٹ گئی۔ میں نے کہا۔ ” اسے اچھی طرح گلے سے لگا کر چوم چاٹ لے۔ ہوسکتا ہے کل تک یہ سلاخوں کے پیچھے چلا جائے ۔“
” کیوں کیا کیا ہے اس نے ؟“ وہ ڈر کر بولی۔ اللہ کرے اس نے کچھ نہ کیا ہو. لیکن مجھے ایسا لگتا نہیں۔“ میں یہ کہتا ہوا تیز قدموں سے باہر نکل گیا۔ تھانے میں پہنچ کر میں نے اپنا کمرہ بند کیا اور نہایت پریشانی کے عالم میں سوچ بچار کرنے لگا۔ حالات و واقعات سے ظاہر ہوتا تھا کہ تفتیش صرف تین راستوں پر چل سکتی ہے۔ پہلا راستہ اس واقعے سے نکلتا ہے جو چند روز پہلے نائی کی دکان پر پیش آیا تھا جس میں غفور نے اُسترے کے وار سے شریف نامی شخص کو زخمی کیا تھا۔ دوسرا راستہ خود میرے اپنے گھر سے شروع ہوتا تھا اور اگر یہ راستہ درست تھا تو اس کے دوسرے سرے پر میں اپنے سالے کو پھانسی کے تختے پر لٹکتا ہوا دیکھ سکتا تھا۔ تیسری صورت یہ ہو سکتی تھی کہ متوفی نے کسی واقعے سے دل برداشتہ ہو کر خودکشی کی ہو، لیکن اس کا فیصلہ پوسٹ مارٹم رپورٹ اور دوسری شہادتوں کے بعد ہی ہو سکتا تھا۔ غیر ارادی طور پر میرا دل چاہ رہا تھا کہ تفتیش کا پہلا راستہ ہی درست ثابت ہو اور میں اس طوفان سے بچ جاؤں جو میرے گھر کے دروازے پر دستک دے رہا تھا ۔ لیکن ایسا ہوا نہیں۔ اوپر تلے ایسے واقعات ہوئے جنہوں نے میرے گھر کا سکون درہم برہم کر دیا ۔ موجودہ حالات میں فرزانہ سے پوچھ گچھ ضروری ہو چکی تھی۔ اگلے روز میں نے اُس کے باپ کو بلایا اور تمام صورت حال سے آگاہ کیا۔ وہ بھلا مانس شخص پیش آنے والے حالات کے تصور سے تھر تھر کانپ رہا تھا۔ میں نے حتی المقدور اُس کی ڈھارس بندھائی اور اپنے پورے تعاون کا یقین دلایا۔ تھوڑی دیر بعد فرزانہ میرے کمرے میں بیٹھی تھی ۔ وہ کافی پرکشش اور شوخ لڑکی تھی لیکن اُس وقت بے حد سہمی ہوئی تھی ۔ چہرے پر نیل پڑے ہوئے تھے لگتا تھا باپ نے اسے میرے پاس بھیجنے سے پہلے بری طرح پیٹا ہے۔ وہ مجھے چچا کہہ کر بلاتی تھی۔ میں نے بڑے پیار محبت سے اُس کا خوف دور کیا اور دھیرے دھیرے اسے بولنے کے لیے تیار کر لیا۔ مشکل میں اُس کو ڈھارس بندھانے والا ملا تو وہ زار و قطار رونے لگی۔ میں آہستہ آہستہ اس کے سر پر ہاتھ پھیرتا رہا۔ کچھ بھی تھا وہ ایک نیم پختہ ذہن کی بچی تھی۔ اُس سے غلطیاں ہوئی تھیں اور نہایت سنگین ہوئی تھیں، لیکن اس میں جہاں وہ قصور وار تھی وہاں اُس کے ارد گرد کا ماحول اور والدین بھی قصور وار تھے۔ اُس کا باپ صبح کا گیا رات گئے گھر آتا تھا، ماں کو گھومنے پھرنے سے فرصت نہیں تھی۔ نہ مناسب روک ٹوک اور نہ غیر ضروری آزادی۔ ایسے میں کچا ذہن اِدھر اُدھر نہیں بھٹکے گا تو کیا ہوگا۔ بہر حال میں نے لڑکی کا ہمدرد بن کر اُس کے دل کی بات جاننے کی کوشش کی۔ پہلے تو وہ جھجکتی رہی لیکن جب میں نے اُسے اپنی معلومات سے آگاہ کیا تو وہ آہستہ آہستہ ذہن کی گرہیں کھولنے لگی۔ اُس کی طویل گفتگو کا لب لباب یہ ہے۔ منظور کی کہی ہوئی زیادہ تر باتیں درست تھیں ۔ لڑکی منے اور غفور ے دونوں کی حوصلہ افزائی کر رہی تھی ۔ یہ سب کچھ اُس نے شغل کے طور پر شروع کیا تھا لیکن آہستہ آہستہ معاملہ سنجیدہ ہوتا گیا تھا۔ وہ دونوں اُسے اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش میں لگے رہتے تھے۔ پچھلے چند دنوں سے یہ دوڑ اور بھی شدید ہوگئی تھی ۔ منے اور غفور نے اسے کئی خط لکھے تھے جن میں اسے گھر سے باہر ملنے کی درخواست کی گئی تھی۔ فرزانہ یہ سمجھتی تھی کہ اب وہ مرحلہ آ گیا ہے جہاں اسے دونوں دوستوں میں سے ایک کا انتخاب کر لینا چاہیے۔ کئی روز فیصلے کی سُولی پر لٹکنے کے بعد اُس نے دو دن پیشتر منے سے ملاقات کی تھی۔ یہ ملاقات ایک معروف تاریخی سیر گاہ میں ہوئی تھی۔ میں نے اندازہ لگایا کہ لڑکی کو اس معاہدے کا کوئی علم نہیں تھا جس میں دونوں لڑکوں نے اپنے طور پر فیصلہ کیا تھا کہ جو فرزانہ سے ملنے میں کامیاب ہوا وہ اس کھیل کاتنہا کھلاڑی تسلیم ہو گا ۔
فرزانہ سے پوچھ گچھ کے بعد منے کے متعلق میرے شبہات کو تقویت ملی … زہن پہ تھوڑا سا زور ڈالا تو بہت سی کڑیاں آپس میں مربوط ہونے لگیں۔ اگر فرزانہ چند روز پہلے سے ملی تھی تو منظور کا لگایا ہوا اندازہ درست ثابت ہوتا تھا۔ فرزانہ سے ملنے کے بعد منا رات غفورے سے ملا تھا۔ وہ شرط جیت گیا تھا اور شرط کے مطابق اُس کے پاس لڈوؤں والا لفافہ تھا لیکن یہ لڈو در اصل قتل کے ہتھیار تھے۔ منے نے زہر یلے لڈو کھلا کر غفورے کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا لیکن یہاں سوچنے کی بات تھی اگر منا شرط جیت گیا تھا تو پھر اے زہر یلے لڈو کھلانے کی کیا ضرورت تھی ۔ اُس کے راستے کی رکاوٹ تو خود بخود دور ہورہی تھی۔ غفورا ان دونوں کے درمیان سے نکل رہا تھا۔ پھر ایک اور خیال میرے ذہن میں آیا اور امید کی ایک روشن کرن دکھائی دی۔ اگر یہ اس کھیل میں کامیاب رہا تھا تو زیادہ امکان اس بات کا تھا کہ غفورے نے دل برداشتہ ہوا۔ خود کشی کی کوشش کی ہو. میں نے اس پہلو سے غور کیا تو گتھی سلجھی ہوئی محسوس ہوئی۔ یقینا خود کشی کا مرتکب ہوا تھا۔ منے نے اُسے اپنی کامیابی کی اطلاع دی تھی اور یہ اطلاع اسکی تمام امیدوں پر پانی پھیر گئی تھی۔ منے کے جانے کے بعد وہ گھر نہیں گیا تھا۔ اس نے بیٹھک کا دروازہ بند کر کے زہر کھایا تھا اور و ہیں چار پائی پر لیٹ رہا تھا۔
اُسی روز شام کے وقت پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی آگئی۔ رپورٹ میں موت کی وجہ از خورانی بتائی گئی تھی۔ زہر رات دس اور گیارہ کے درمیان دیا گیا تھا۔ موت کوئی بارہ بجے ہوا۔ تھی۔ معدے سے ملنے والے مواد میں پان، لڈو اور چائے کے اجزاء موجود تھے۔ میرا سابقہ معلومات کی روشنی میں یہ بات ثابت ہو جاتی تھی کہ مُنا اُس رات متوفی سے ملا تھا ۔ اُس نے اسے لڈو کھلائے تھے۔ کیمیکل ایگزامینر کی رپورٹ یہ بات بتانے سے قاصر نظر تھی کہ متوفی کے معدے اور انتڑیوں میں پایا جانے والا زہر کس چیز میں ملا کر کھلایا گیا تھا۔
میں چونکہ خودگشی کی لائن پر سوچ رہا تھا اس لیے میں نے اگلے روز غفورے کے تم دوستوں اور ملنے جلنے والوں سے ملاقات کی اور مذکورہ شک ذہن میں رکھتے ہوئے ان سے سوالات کیے۔ اس مغز کھپائی سے پتہ چلا کہ وہ اس سے پہلے بھی خود کشی کی ایک کوشش کر چکا تھا۔ یہ واقعہ جس طرح میرے کانوں تک پہنچا میں من وعن آپ کو بتا دیتا ہوں ۔ پتہ چلا کہ کچھ عرصہ پہلے غفورے نے اپنے بڑے بھائی کی بیوی سے ناجائز تعلق قائم کرنے کی کوشش کی تھی۔ اُس کا بڑا بھائی دوسرے شہر میں کام کرتا تھا۔ اس کی غیر موجودگی میں یہ شاخسانہ شروع ہو گیا۔ ایک رات غفورے نے مبینہ طور پر گھر کے تمام افراد کو کوئی نشہ آور چیز پلا دی۔ رات گئے جب وہ بری نیت سے بھائی کی بیوی کے پاس پہنچا تو اُس نے غفورے کو بری طرح پیٹ ڈالا ۔ شور سن کر گھر کے کچھ اور افراد بھی جاگ گئے۔ اس واقعے کی خبر گھر سے باہر بھی نکلی اور محلے میں خوب چرچا ہوا تھا۔ غفورے کو سخت سرزنش کا سامنا کرنا پڑا۔ یقینا اسی واقعہ سے متاثر ہو کر اس نے خودکشی کی کوشش کی تھی ۔ اُس نے نیلا تھو تھا کھا لیا تھا لیکن بروقت طبی امداد سے جان بھی گئی۔ اس شہادت سے دو باتیں سامنے آئیں غفورا ڈھیلے کردار کا لڑکا تھا اور اس سے پہلے بھی اُس نے خود کشی کی کوشش کی تھی۔
میں نے منے سے ایک بار پھر تفصیلی بات چیت کی ۔ اُس روز میں نے اُسے تھانے ہی بلا لیا۔ وہ اب تک سخت خوفزدہ تھا۔ ایک روز پہلے اُس نے اپنی بہن کے سامنے اعتراف کر لیا تھا کہ وہ رات کو غفور کے پاس گیا تھا اور اسے لڈو بھی کھلائے تھے لیکن اس سے زیادہ اُس نے اور کچھ نہیں کہا تھا۔ اُس کی بہن یعنی میری بیوی بھی بڑی بڑی قسمیں کھا رہی تھی کہ اُس کا بھائی ایسا نہیں ہو سکتا۔ میں نے منے سے کہا کہ اگر غفورے کی ہلاکت میں اُس کا ہاتھ نہیں تو پھر اُس کی موت کی کیا وجہ ہو سکتی ہے۔ منے نے جو جواب دیا وہ میری توقع کے عین مطابق تھا اور اُس سے میری کافی تسلی بھی ہوئی۔ اُس نے کہا۔ ”بھائی صاحب! میں سوچتا ہوں اُس نے خود کشی کی ہے۔ مجھ سے ملنے کے بعد وہ سخت پریشان ہو گیا تھا۔ اُس وقت مجھے امید نہیں تھی کہ وہ اپنی جان لینے کی کوشش کرے گا۔ کاش مجھے اُس وقت اُس کے ارادے کا علم ہو جاتا ۔ منے نے یہ بھی بتایا کہ اُس کے آنے کے بعدبیٹھک ہی میں رہا تھا اور اُس نے اندر سے کنڈی لگائی تھی۔
بہر حال غفورے کی ہلاکت کے بعد چوتھے دن کی شام تک میں اس نتیجے پر پہنچ چکا تھا کہ یہ خود کشی کا کیس ہے لیکن پھر جیسا کہ میں نے بتایا ہے، اوپر تلے چند واقعات ایسے ہوئے جنہوں نے میری تفتیش کی عمارت دھڑام سے نیچے گرا دی اور ایک بار پھر میری نظریں منے پر جم گئیں۔ اُس روز شام کے وقت تھانے کے پتے پر ایک خط موصول ہوا۔ پتے کے ساتھ میرا نام بھی لکھا ہوا تھا۔ میں نے لفافہ چاک کیا۔ یہ ایک گمنام خط تھا لیکن مفصل اور حیرت انگیز حد تک مدلل ۔ لکھنے والے نے اپنے خیالات نہایت مؤثر طریقے سے بیان کیے تھے۔ مضمون کچھ یوں تھا۔
انسپکٹر صاحب ! غفورے کو قتل کیا گیا ہے۔ قاتل آپ کے گھر میں ہے۔
میں آپ کو اس بات کا ثبوت فراہم کر سکتی ہوں ۔ بدھ کی دو پہر یعنی غفورے کے قتل سے ایک روز پہلے ایک برقعہ پوش عورت شہر سے باہر کچی آبادی میں پہنچی تھی۔ وہاں راول“ نامی ایک جوگی سے اُس نے زہر خریدا تھا۔ یہ برقعہ پوش دراصل آپ کا برادر نسبتی شکیل عرف منا تھا۔ اُس نے جو زہر خریدا تھا اُس کا کچھ حصہ اب بھی اُس کے پاس موجود ہے۔ اگر آپ کوشش کریں گے تو منے کے سائیکل کی گدی کے نیچے ایک چھوٹی سی پیڑیا آپ کومل جائے گی لیکن ہو سکتا ہے وہ پڑیا آپ کو نہ ملے۔ میں ایک دوسرا ثبوت فراہم کرتی ہوں۔ وہی برقعہ پوش عورت آپ کے محلے میں مختار نامی حلوائی کے پاس بھی گئی تھی۔ اُس نے کہا تھا کہ اُسے لڈو چاہئیں۔ حلوائی کے پاس بوندی کے سخت لڈو تھے۔ اس عورت نے کہا تھا کہ اسے موتی چور کے نرم لڈو چاہئیں ۔ حلوائی نے کہا تھا کہ وہ موتی چورلڈو نہیں بناتا لیکن موٹی بوندی کے تازہ لڈو بننے والے ہیں۔ عورت تازہ لڈوؤں کے انتظار میں آدھ گھنٹہ دکان پر کھڑی رہی تھی ۔ تازہ لڈو نرم ہوتے ہیں اور توڑ کر با آسانی بنائے جاسکتے ہیں۔ آپ میری بات سمجھ رہے ہوں گے۔ ایک تیسرا ثبوت اب میں آپ کو فراہم کرتی ہوں اور آپ اسے جھٹلا نہیں سکیں گے ۔ آپ ایک ذہین پولیس والے ہیں لیکن یہ بات آپ کی سمجھ میں نہیں آئی ۔ ظاہر ہے آپ کا برادر نسبتی دو یا تین لڈو لے کر تو مقتول کے پاس نہیں گیا تھا۔ اس کے پاس کم از کم ایک آدھ سیر لڈو ہوں گے ۔ مقتول نے تمام لڈو تو نہیں کھائے ہوں گے ۔ پھر باقی لڈو کدھر گئے۔ جی ہاں وہ لڈو موقعہ سے اٹھا لیے گئے تھے اس لیے کہ وہ زہر یلے تھے۔ اب آپ سوچ رہے ہوں گے وہ لڈو کہاں ہیں۔ میں آپ کو بتاتی ہوں ۔ آپ کے گھر کے پچھواڑے کوڑے کرکٹ سے بھرا ہوا ایک چھوٹا سا گڑھا ہے۔ یہ لڈو لفافے میں بند اسی کوڑے میں پڑے ہیں۔ اب ایک ایسا ثبوت آپ کو فراہم کرتی ہوں جو اس قتل کا معمہ صاف صاف حل کر دے گا۔ محلہ سادھو نگر میں ایک دوائیوں کی دکان ہے ڈاکٹر مہتا وہاں بیٹھتے ہیں۔ قتل کی رات وہ آپ کے محلے میں ایک مریض کو دیکھ کر سائیکل پر سوار واپس جارہے تھے ۔ انہوں نے شکیل عرف منے کو دیکھا۔ وہ ایک گلی سے نکلا اور گھبراہٹ میں ان کی سائیکل سے آٹکرایا۔ ڈاکٹر مہتا سے ایک دو بار اس نے دوائی کی تھی۔ وہ اسے پہچان گئے ۔ انہوں نے اس سے پریشانی کی وجہ پوچھی وہ کچھ نہ بتا سکا۔ اس کے ہاتھ میں وہی لفافہ تھا جو
اس وقت آپ کے گھر کے پچھوڑاے پڑا ہے اور جس میں سے اس نے غفور کو زہر یلے لڈو کھلائے تھے۔ سائیکل سے ٹکرانے کے بعد یہ لڈوگر گئے تھے اور ڈاکٹر مہتا نے اپنے ہاتھوں سے دوبارہ لفافے میں ڈالے تھے۔ وہ اس لفافے اور ان لڈوؤں کو با آسانی پہچان سکتے ہیں ۔ میرے خیال میں یہ شہادتیں جرم کو بے نقاب کرنے کے لیے کافی ہوں گی۔
آپ سوچتے ہوں گے میں کون ہوں اور مجھے یہ سب باتیں کیسے معلوم ہیں۔ آپ یہ بھی سوچتے ہوں کہ میں یہ سب کچھ منے کو پھنسوانے کے لیے کسی کی ایماء پر لکھ رہی ہوں۔ یقین جانیے میں نے جو کچھ لکھا ہے اپنی مرضی سے لکھا ہے۔ آپ کے ذہن میں اٹھنے والے پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ منے سے میرا قریبی تعلق رہا ہے اور میں ایک مظلوم لڑکی ہوں اور یہی مظلومیت میرے قلم اٹھانے کا سبب بنی ہے۔”
یہ خط ایک دھماکے سے کم نہیں تھا۔ میں فورا تھانے سے اٹھا اور خط کے الزامات کی تصدیق کے لیے چل دیا۔ مختصر سب سے پہلے میں کچی آبادی میں پہنچا۔ وہاں سے حلوائی مختار کی دکان پر آیا اور وہاں سے اپنے گھر کا پچھواڑو دیکھا۔ تینوں اطلاعات بالترتیب درست ثابت ہوئیں۔ یقیناً چوتھی اطلاع بھی درست تھی ۔ منے کی سائیکل کی گدی کے نیچے ایک پڑیا موجود تھی لیکن وہ پھٹ گئی تھی اور اسپر نگوں میں کاغذ کا ایک ٹکڑا انکارہ گیا تھا۔ آخری ثبوت کے لیے میں قریبی محلے سادھو نگر گیا۔ ڈاکٹر مہتا کھچڑی ڈاڑھی والا ایک شریف النفس سکھ تھا۔ وہ محض ایک کمپاؤنڈر تھا مگر خاصا قابل معالج تھا۔ اس لیے گاؤں والے اسے ڈاکٹر ہی کہتے تھے۔ میں نے اسے کوڑے سے برآمد ہونے والا لفافہ دکھایا اور تفصیلی گفتگو کی ۔ جب میں اس کی دکان سے نکلا میرے ذہن سے منے کے قاتل نہ ہونے کا ہر شبہ دور ہو چکا تھا۔ تھانے آکر میں بے دم سا ہو کر کرسی پر گر گیا۔ میرا سب انسپکٹر میری ہدایات کے مطابق غفورے کے تمام خطوط جمع کر چکا تھا۔ ان میں سے کچھ خطوط منظور کے پاس تھے اور کچھ اس کے اپنے سامان میں۔ میں خالی خالی نظروں سے یہ خطوط دیکھتا رہا۔ آخر میں ایک ایسا خط نظر سے گزرا جس سے یہ بات مزید یقینی ہوگئی کہ غفورے نے خود کشی نہیں کی ۔ یہ خط غفورے نے اپنی موت کے روز صبح کے وقت لکھا تھا۔ یہ خط اس کی اپنی لکھائی میں تھا۔ غفورا خود بھی لکھ سکتا تھالیکن شکستہ ہینڈ رائٹنگ کے علاوہ اردو بھی واجی ہی آتی تھی ۔ یہی وجہ تھی کہ وہ فرزانہ کے خط اپنے دوست منظور سے لکھواتا تھا۔ مذکورہ خط اس نے اپنے جگری یار شاہ کو لکھا تھا۔ یہ وہیشاہ ہے جس کے کمرے میں وہ مُردہ پایا گیا۔ خط کا مفہوم یہ تھا۔
فرزانہ کا قصہ انجام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ میرا خیال ہے کہ وہ منے سے ملی ہے۔ آج رات منا مجھ سے ملنے آرہا ہے بہر حال کچھ بھی ہے میں ہار ماننے والا نہیں۔ شرط ہار بھی گیا تو فرزانہ کو نہیں ہاروں گا۔ موت سے چند گھنٹے قبل لکھا گیا یہ خط صاف بتارہا تھا کہ غفورے کا ارادہ خود کشی کا بالکل نہیں تھا۔ وہ یہ بھی جانتا تھا کہ منا فرزانہ سے ملا ہے۔ لہذا اس کے دل برداشتہ ہونے کی بھی کوئی وجہ نہیں تھی۔ اس خط سے اس سوال کا جواب بھی مل جاتا تھا کہ فرزانہ کی محبت جیت کر بھی منے نے غفورے کو قتل کیوں کیا۔ در حقیقت وہ جان چکا تھا کہ غفورا ان دونوں کا پیچھا نہیں چھوڑے گا۔ شدید رقیبانہ جذبات کے تحت اس نے اسے قتل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اب انتظار فضول تھا۔ شواہد چلا چلا کر کہہ رہے تھے کہ مُنا مجرم ہے۔ صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ جس لڑکی نے منے کا بھانڈا پھوڑا ہے وہ نہ صرف اس کی گہری راز داں تھی بلکہ دلی طور پر اس سے متنفر بھی تھی۔ اس نے اپنے خط میں واضح طور پر اشارہ دیا تھا کہ اگر میں نے اپنی بیوئی کے بھائی کے خلاف کارروائی سے دریغ کیا تو وہ اس خط کی ایک نقل میرے اعلیٰ افسران کو بھیجے گی۔ اگر اس کے خط میں یہ دھمکی نہ بھی ہوتی تو بھی میں مجرم کو چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا۔ یہ میرے کردار کی کڑی آزمائش تھی اور مجھے اس آزمائش سے گزرنا تھا۔ میں تھانے سے فورا گھر کی طرف روانہ ہوا۔ گھر پہنچا تو پتہ چلا کہ منا غائب ہے۔ میری بیوی نے بتایا کہ وہ سہ پہر کا گیا واپس نہیں آیا، لیکن میں جانتا تھا کہ وہ واپس آیا ہوگا۔ دراصل میری بیوی بھانپ چکی تھی کہ میں اس کے بھائی کے خلاف کوئی کارروائی کرنے والا ہوں۔ اس نے اسے مطلع کر دیا تھا اور وہ بھاگ گیا تھا۔ میرے غصے کی کوئی انتہاء نہ رہی۔ نہ جانے میرے منہ سے کیا کیا نکلا۔ وہ سنتی رہی اور آنسو بہاتی رہی۔ میں اس کی مجبوری سمجھ رہا تھا۔ وہ ایک اکلوتے بھائی کی بہن تھی لیکن وہ جذبات میں اپنا دوسرا رشتہ فراموش کر رہی تھی ۔ اس کا یہ رشتہ ایک ذمے دار پولیس اہلکار سے تھا۔ یہ میرا خانگی جھگڑا تھا اور شاید قارئین کو اس سے دلچسپی بھی نہ ہو۔ لہذا میں تفصیل میں نہیں جاؤں گا۔ بہر حال میرے سسرال والے اس معاملے میں کود پڑے اور انہوں نے جھگڑے کو سنگین تر بنا دیا۔ ایک سسرالی رشتہ دار جو خود پولیس میں تھا اور میرا ہم منصب بھی، اس معاملے کو بگاڑنے کا خاص سبب بنا۔ اس نے کہا کہ نواز خان جان بوجھ کر کیس خراب کر رہا ہے۔ وہ با آسانی منے کو مشکوک افراد کی فہرست سے خارج کر سکتا ہے. اس پر صرف دیانتداری کا بھوت سوار ہے۔ اس نے کچھ ایسے نکتے بیان کیے جن سے منا بالکل بری الذمہ ہو جاتا تھا۔
اسی دوران اس گمنام لڑکی نے حسب تنبیہہ ایک خط افسران بالا تک پہنچا دیا۔ جیسا کہ میں بتا چکا ہوں گمنام ہونے کے باوجود وہ ایسا مدلل خط تھا کہ اگر کسی اور انسپکٹر کے خلاف ہوتا تو اسے صفائی کا موقع دیئے بغیر لائن حاضر کر دیا جاتا لیکن افسران بالا میرے بارے میں بڑے اچھے خیالات رکھتے تھے۔ ایس پی صاحب نے مجھے ہیڈ کوارٹر بلایا اور بڑی نرمی سے بتایا کہ بھئی تمہارے خلاف ایک چٹھی آئی ہے۔ میرا ہندو سب انسپکٹر بھی وہیں موجود تھا۔ میری آمد سے قبل اس سے بھی پوچھ گچھ کی گئی تھی۔ وہ ایک کینہ پرور شخص تھا۔ مجھے توقع تھی کہ اس نے میرا دفاع کرنے کی بجائے ایک آدھ بات زیادہ ہی لگائی ہوگی ۔ وہاں جو گفتگو ہوئی وہ مکہ بحث کے زمرے میں آتی ہے۔ میں اس کی تفصیل بیان کر کے واقع کو طول نہیں دوں گا۔ مختصر یہ کہ ایس پی صاحب نے کہا۔ انسپکٹر نواز! مجھے تم پر مکمل بھروسہ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ملزم کے رشتے دار ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ تم اپنا فرض پوری دیانتداری اور مہارت سے انجام دو گے۔ بہر حال میں تمہیں بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ اس معاملے کی بھنک اوپر تک پہنچ چکی ہے۔“ میں ایس پی صاحب کی بات سمجھ رہا تھا۔ ہر پیشے اور شعبے میں خیر خواہ اور بدخواہ موجود ہوتے ہیں۔ میرے وہ ساتھی جو میری فرض شناسی کا ذکر تلخ الفاظ میں کیا کرتے ہیں۔ افواہ سازی کے اس سنہری موقع کو ہاتھ سے گنوانا نہیں چاہتے تھے۔ ان کی عنایات سے یہ خبر افسران بالا کے کانوں تک پہنچ چکی تھی اور اب ایس پی صاحب مجھے تنبیہ کر رہے تھے کہ نواز خان ! ذرا سنبھل کے ۔“ میں ایک طویل سانس لے کر اٹھا اور ایس پی صاحب سے کہا۔ ”سر! آپ کو یہ وردی کبھی دھوکا نہیں دے گی ۔ پھر سیلوٹ کر کے میں تیز قدموں سے باہر نکل آیا۔
میری بیوی میرے سامنے بیٹھی تھی ۔ رورو کر اس کی آنکھیں سُرخ ہو رہی تھیں ۔ وہ جانتی تھی میں اس کے پاس کیوں آیا ہوں ۔ میں اس سے شکیل عرف منے کا پتہ پوچھنے آیا تھا۔ مجھے اچھی طرح معلوم تھا کہ منے کو اس نے بھیجا ہے اور وہی اس کے ٹھکانے سے آگاہ ہے۔ ایک عورت کے لیے یہ ایک بہت بڑا امتحان تھا ایک طرف اس کا بھائی تھا جو مجرم تھا لیکن جسے وہ اپنے بچوں کی طرح چاہتی تھی، جس کے پسینے پر وہ خون بہانے کو تیار رہتی تھی اور دوسری طرف اس کا شوہر تھا۔ جس کے چہرے پر ہمدردی اور رحم کا شائبہ تک نہیں تھا۔ جسے صرف اپنے فرض سے غرض تھی …. اور جو اس کے بھائی کو پھانسی کے تختے تک پہنچانا چاہتا تھا۔ ہم دونوں کے درمیان کافی دیر ایک بوجھل خاموشی حائل رہی۔ پھر میں نے سنبھل سنبھل کر کہا۔ ”منے کا ملنا بہت ضروری ہے۔ میں تم سے صرف یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ تم میری
مدد کرو گی یا مجھے اپنے طور پر اس کا پتہ چلانا ہو گا ۔“
کیا کوئی تیسرا راستہ نہیں؟“ میری بیوی نے پوچھا۔ نہیں ۔ میں نے فیصلہ کن لہجے میں کہا۔ میری بیوی نے اس وقت منے کے بارے میں کچھ نہایت جذباتی باتیں کیں لیکن میرے پایه استقامت میں لغزش نہیں آئی۔ میں نے اسے کہا۔ یوں آنسو بہانے اور گریہ زاری سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ وہ ملزم ہے اور اگر مجرم ثابت ہوتا ہے تو اسے کیے کی سزا ملے گی۔“ چاہے وہ پھانسی ہو ۔ میری بیوی نے پوچھا۔
ہاں چاہے وہ پھانسی ہو ۔ میں نے کہا۔ اس نے عجیب نظروں سے مجھے دیکھا۔ ان نظروں میں دنیا جہاں کی عورتوں کا دکھ سمٹ آیا تھا۔ ان تمام عورتوں کا دکھ جو مردوں سے پیار کرتی ہیں ۔ سخت گیر باپوں سے، خود غرض بھائیوں سے، پیٹنے والے شوہروں سے اور رات دیر سے لوٹنے والے بیٹوں سے۔ وہ سب انہیں دکھ دیتے ہیں کوئی کسی طرح اور کوئی کسی طرح ۔ ہاں ان تمام عورتوں کا دکھ اس کی آنکھوں میں تھا۔ پھر اس نے کہا۔ میں آپ کو اس کا پتہ دیتی ہوں . لیکن اس کے بعد میں کبھی آپ کو اپنی شکل نہیں ، دکھاؤں گی۔“ میں نے بیوی سے اس کے بھائی کا پتہ پوچھا اور ایک چھاپہ مار پارٹی کے ساتھ روانہ ہو گیا۔
: ملزم کو ایک گاؤں سے گرفتار کیا گیا۔ میری بیوی نے اسے اپنی ایک منہ بولی بہن کے پاس بھیج دیا تھا۔ گرفتاری کے دوران کوئی اہم واقعہ پیش نہیں آیا سوائے اس کے کہ جب ہم منے کو گرفتار کرنے گھر میں داخل ہوئے تو ایک پہلوان نما شخص نے پولیس پارٹی پر حملہ کر دیا۔ بہر حال تھوڑی سی کوشش سے اسے قابو کر لیا گیا۔ یہ شخص اس عورت کا خاوند تھا جس نے منے کو پناہ دے رکھی تھی۔
منے کو عدالت میں پیش کر کے میں نے ریمانڈ لے لیا۔ بعد ازاں تین چار روز میں چالان مکمل کر کے عدالت میں پیش کر دیا۔ اپنی طرف سے میں نے فرض نبھانے میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔ ملزم کے خلاف شہادتیں کافی مضبوط تھیں ۔ سیشن جج سے اسے سزائے موت ہوئی۔ ان لوگوں نے ہائی کورٹ میں اپیل کردی۔ مقتول پارٹی بھی پورا زور لگا رہی تھی ۔ امید نہیں تھی کہ سزا میں تخفیف ہو سکے گی۔
میری بیوی اس روز اپنے گھر واپس چلی گئی تھی جس روز میں نے ملزم کا چالان مکمل کیا تھا۔ سسرالی عزیزوں کی طرف سے مجھے خطرناک نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئیں لیکن میں اپنے کام میں جتا رہا۔ میں جانتا تھا کہ سچ پر ہوں اور سچ کو آنچ نہیں۔اس واقعہ کو تقریبا ڈیڑھ برس گزر گیا۔ حالات جوں کے توں رہے۔ وہ گرمیوں کی ایک تاریک رات تھی۔ اداس اور حبس زدہ ۔ میں نو بجے کے قریب گھر آیا ہوٹل کے پکے ہوئے کھانے کو دوبارہ گرم کیا۔ چند لکمے لیے پھر خودہی چار پائی بچھائی اور لیٹنے کی تیاری کرنے لگا۔ اس وقت دروازے پر دستک ہوئی۔ میں نے وہیں صحن سے آواز دے کر کہا۔ ” دروازہ کھلا ہے آجاؤ ۔ آنے والا ایک درمیانی عمر کا سکھ تھا۔ کسی گھر کا نوکر دکھائی دیتا تھا۔ اس نے ست سری اکال کر کے کہا۔
تھانیدار صاحب! آپ کو ڈاکٹر صاحب نے بلایا ہے. ڈاکٹر مہتا نے ۔ ان کی حالت بہت خراب ہے۔ وہ ہسپتال میں ہیں۔” میں نے تفصیل پوچھی تو اس نے بتایا کہ آج شام سائیکل پر آتے ہوئے ان کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے۔ انہیں سخت چوٹیں آئی ہیں۔ وہ آپ سے کوئی ضروری بات کرنا چاہتے ہیں اور تاکید کی ہے کہ آپ کو لے کر آؤں۔ میں تھکا ماندہ آیا تھا لیکن نہ جانے جی میں کیا آئی کہ اس کے ساتھ چل دیا۔ ہسپتال، مہتا کے پاس پہنچا تو وہ پٹیوں میں جکڑا پڑا تھا۔ لاری نے ٹکر ماری تھی ۔ ٹانگوں اور چھاتی پر شدید چوٹیں آئی تھیں۔ خون اور گلوکوز لگا ہوا تھا۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ ان کی حالت بار بار خراب ہو جاتی ہے۔ آپ جلد بات کر لیں۔ میں مہتا کے پاس پہنچا تو وہ پہچان کر پھیکے سے انداز میں مسکرایا ۔ کہنے لگا۔ انسپکٹر صاحب ! کرسچکن لوگ اعتراف گناہ کر کے دل کا بوجھ ہلکا کرتے ہیں۔ میں بھی آپ کے سامنے ایک اعتراف کرنا چاہتا ہوں ۔“ اس کی آواز دھیمی تھی۔ میں اسٹول پر بیٹھ کر آگے کو جھک گیا۔ وہ دھیرے دھیرے ۔
میں نے منے سے پوچھا ” کل رات تم ساڑھے نو سے 11 کے درمیان کہاں تھے”؟؟
اس کا چہرہ تاریک ہو گیا۔۔حق لا کر بولا۔۔ مم میں اپنے کمرے میں پڑھ رہا تھا۔۔۔
“بکواس بند کر” میں دہاڑا۔۔ “تو اپنے کمرے میں پڑھ نہیں رہا تھا بلکہ شاہ کی بیٹھک میں غفورے کے پاس تھا۔“
ی یہ غلط ہے بھائی صاحب ۔ میرا ایک زور دارتھپٹر اس کے منہ پر پڑا اور وہ چکرا کر رہ گیا۔ میں نے غصے سے کہا۔
اور یہ بھی غلط ہے کہ تو نے حاجی صاحب کی لڑکی سے یارانہ لگا رکھا ہے اور یہ بھی غلط ہے کہ تو اسے خط لکھتا ہے اور ملاقاتیں کرتا ہے. دیکھ مجھے ٹھیک ٹھیک بتا دے کل رات تو کہاں تھا اور کیا گل کھلایا ہے۔“
وہ قدرے تیزی سے بولا ۔ تو آپ کا خیال ہے کہ غفورے کو میں نے مارا ہے ۔ حیرانگی ہے آپ اتنی آسانی سے مجھ پر یہ الزام لگا رہے ہیں ۔“
میں نے چلا کر کہا۔ اگر یہ الزام ہے تو بتا کل رات کہاں تھا تو ۔ میں نے خود ان آنکھوں سے تجھے کمرے سے نکلتے دیکھا تھا۔“
میں صرف ایک بار پیشاب کرنے باہر نکلا تھا۔“ ” پھر وہی جھوٹ ۔ مجھے طیش آ گیا۔ میں نے اُس پر تھپڑوں اور مکوں کی بارش کر دی۔ اس دوران میری بیوی دروازہ پیٹنے لگی۔ میں نے دروازہ کھولا ۔ وہ ہائے میرا الال“ کہتی ہوئی بھائی سے لپٹ گئی۔ میں نے کہا۔ ” اسے اچھی طرح گلے سے لگا کر چوم چاٹ لے۔ ہوسکتا ہے کل تک یہ سلاخوں کے پیچھے چلا جائے ۔“
” کیوں کیا کیا ہے اس نے ؟“ وہ ڈر کر بولی۔ اللہ کرے اس نے کچھ نہ کیا ہو. لیکن مجھے ایسا لگتا نہیں۔“ میں یہ کہتا ہوا تیز قدموں سے باہر نکل گیا۔ تھانے میں پہنچ کر میں نے اپنا کمرہ بند کیا اور نہایت پریشانی کے عالم میں سوچ بچار کرنے لگا۔ حالات و واقعات سے ظاہر ہوتا تھا کہ تفتیش صرف تین راستوں پر چل سکتی ہے۔ پہلا راستہ اس واقعے سے نکلتا ہے جو چند روز پہلے نائی کی دکان پر پیش آیا تھا جس میں غفور نے اُسترے کے وار سے شریف نامی شخص کو زخمی کیا تھا۔ دوسرا راستہ خود میرے اپنے گھر سے شروع ہوتا تھا اور اگر یہ راستہ درست تھا تو اس کے دوسرے سرے پر میں اپنے سالے کو پھانسی کے تختے پر لٹکتا ہوا دیکھ سکتا تھا۔ تیسری صورت یہ ہو سکتی تھی کہ متوفی نے کسی واقعے سے دل برداشتہ ہو کر خودکشی کی ہو، لیکن اس کا فیصلہ پوسٹ مارٹم رپورٹ اور دوسری شہادتوں کے بعد ہی ہو سکتا تھا۔ غیر ارادی طور پر میرا دل چاہ رہا تھا کہ تفتیش کا پہلا راستہ ہی درست ثابت ہو اور میں اس طوفان سے بچ جاؤں جو میرے گھر کے دروازے پر دستک دے رہا تھا ۔ لیکن ایسا ہوا نہیں۔ اوپر تلے ایسے واقعات ہوئے جنہوں نے میرے گھر کا سکون درہم برہم کر دیا ۔ موجودہ حالات میں فرزانہ سے پوچھ گچھ ضروری ہو چکی تھی۔ اگلے روز میں نے اُس کے باپ کو بلایا اور تمام صورت حال سے آگاہ کیا۔ وہ بھلا مانس شخص پیش آنے والے حالات کے تصور سے تھر تھر کانپ رہا تھا۔ میں نے حتی المقدور اُس کی ڈھارس بندھائی اور اپنے پورے تعاون کا یقین دلایا۔ تھوڑی دیر بعد فرزانہ میرے کمرے میں بیٹھی تھی ۔ وہ کافی پرکشش اور شوخ لڑکی تھی لیکن اُس وقت بے حد سہمی ہوئی تھی ۔ چہرے پر نیل پڑے ہوئے تھے لگتا تھا باپ نے اسے میرے پاس بھیجنے سے پہلے بری طرح پیٹا ہے۔ وہ مجھے چچا کہہ کر بلاتی تھی۔ میں نے بڑے پیار محبت سے اُس کا خوف دور کیا اور دھیرے دھیرے اسے بولنے کے لیے تیار کر لیا۔ مشکل میں اُس کو ڈھارس بندھانے والا ملا تو وہ زار و قطار رونے لگی۔ میں آہستہ آہستہ اس کے سر پر ہاتھ پھیرتا رہا۔ کچھ بھی تھا وہ ایک نیم پختہ ذہن کی بچی تھی۔ اُس سے غلطیاں ہوئی تھیں اور نہایت سنگین ہوئی تھیں، لیکن اس میں جہاں وہ قصور وار تھی وہاں اُس کے ارد گرد کا ماحول اور والدین بھی قصور وار تھے۔ اُس کا باپ صبح کا گیا رات گئے گھر آتا تھا، ماں کو گھومنے پھرنے سے فرصت نہیں تھی۔ نہ مناسب روک ٹوک اور نہ غیر ضروری آزادی۔ ایسے میں کچا ذہن اِدھر اُدھر نہیں بھٹکے گا تو کیا ہوگا۔ بہر حال میں نے لڑکی کا ہمدرد بن کر اُس کے دل کی بات جاننے کی کوشش کی۔ پہلے تو وہ جھجکتی رہی لیکن جب میں نے اُسے اپنی معلومات سے آگاہ کیا تو وہ آہستہ آہستہ ذہن کی گرہیں کھولنے لگی۔ اُس کی طویل گفتگو کا لب لباب یہ ہے۔ منظور کی کہی ہوئی زیادہ تر باتیں درست تھیں ۔ لڑکی منے اور غفور ے دونوں کی حوصلہ افزائی کر رہی تھی ۔ یہ سب کچھ اُس نے شغل کے طور پر شروع کیا تھا لیکن آہستہ آہستہ معاملہ سنجیدہ ہوتا گیا تھا۔ وہ دونوں اُسے اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش میں لگے رہتے تھے۔ پچھلے چند دنوں سے یہ دوڑ اور بھی شدید ہوگئی تھی ۔ منے اور غفور نے اسے کئی خط لکھے تھے جن میں اسے گھر سے باہر ملنے کی درخواست کی گئی تھی۔ فرزانہ یہ سمجھتی تھی کہ اب وہ مرحلہ آ گیا ہے جہاں اسے دونوں دوستوں میں سے ایک کا انتخاب کر لینا چاہیے۔ کئی روز فیصلے کی سُولی پر لٹکنے کے بعد اُس نے دو دن پیشتر منے سے ملاقات کی تھی۔ یہ ملاقات ایک معروف تاریخی سیر گاہ میں ہوئی تھی۔ میں نے اندازہ لگایا کہ لڑکی کو اس معاہدے کا کوئی علم نہیں تھا جس میں دونوں لڑکوں نے اپنے طور پر فیصلہ کیا تھا کہ جو فرزانہ سے ملنے میں کامیاب ہوا وہ اس کھیل کاتنہا کھلاڑی تسلیم ہو گا ۔
فرزانہ سے پوچھ گچھ کے بعد منے کے متعلق میرے شبہات کو تقویت ملی … زہن پہ تھوڑا سا زور ڈالا تو بہت سی کڑیاں آپس میں مربوط ہونے لگیں۔ اگر فرزانہ چند روز پہلے سے ملی تھی تو منظور کا لگایا ہوا اندازہ درست ثابت ہوتا تھا۔ فرزانہ سے ملنے کے بعد منا رات غفورے سے ملا تھا۔ وہ شرط جیت گیا تھا اور شرط کے مطابق اُس کے پاس لڈوؤں والا لفافہ تھا لیکن یہ لڈو در اصل قتل کے ہتھیار تھے۔ منے نے زہر یلے لڈو کھلا کر غفورے کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا لیکن یہاں سوچنے کی بات تھی اگر منا شرط جیت گیا تھا تو پھر اے زہر یلے لڈو کھلانے کی کیا ضرورت تھی ۔ اُس کے راستے کی رکاوٹ تو خود بخود دور ہورہی تھی۔ غفورا ان دونوں کے درمیان سے نکل رہا تھا۔ پھر ایک اور خیال میرے ذہن میں آیا اور امید کی ایک روشن کرن دکھائی دی۔ اگر یہ اس کھیل میں کامیاب رہا تھا تو زیادہ امکان اس بات کا تھا کہ غفورے نے دل برداشتہ ہوا۔ خود کشی کی کوشش کی ہو. میں نے اس پہلو سے غور کیا تو گتھی سلجھی ہوئی محسوس ہوئی۔ یقینا خود کشی کا مرتکب ہوا تھا۔ منے نے اُسے اپنی کامیابی کی اطلاع دی تھی اور یہ اطلاع اسکی تمام امیدوں پر پانی پھیر گئی تھی۔ منے کے جانے کے بعد وہ گھر نہیں گیا تھا۔ اس نے بیٹھک کا دروازہ بند کر کے زہر کھایا تھا اور و ہیں چار پائی پر لیٹ رہا تھا۔
اُسی روز شام کے وقت پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی آگئی۔ رپورٹ میں موت کی وجہ از خورانی بتائی گئی تھی۔ زہر رات دس اور گیارہ کے درمیان دیا گیا تھا۔ موت کوئی بارہ بجے ہوا۔ تھی۔ معدے سے ملنے والے مواد میں پان، لڈو اور چائے کے اجزاء موجود تھے۔ میرا سابقہ معلومات کی روشنی میں یہ بات ثابت ہو جاتی تھی کہ مُنا اُس رات متوفی سے ملا تھا ۔ اُس نے اسے لڈو کھلائے تھے۔ کیمیکل ایگزامینر کی رپورٹ یہ بات بتانے سے قاصر نظر تھی کہ متوفی کے معدے اور انتڑیوں میں پایا جانے والا زہر کس چیز میں ملا کر کھلایا گیا تھا۔
میں چونکہ خودگشی کی لائن پر سوچ رہا تھا اس لیے میں نے اگلے روز غفورے کے تم دوستوں اور ملنے جلنے والوں سے ملاقات کی اور مذکورہ شک ذہن میں رکھتے ہوئے ان سے سوالات کیے۔ اس مغز کھپائی سے پتہ چلا کہ وہ اس سے پہلے بھی خود کشی کی ایک کوشش کر چکا تھا۔ یہ واقعہ جس طرح میرے کانوں تک پہنچا میں من وعن آپ کو بتا دیتا ہوں ۔ پتہ چلا کہ کچھ عرصہ پہلے غفورے نے اپنے بڑے بھائی کی بیوی سے ناجائز تعلق قائم کرنے کی کوشش کی تھی۔ اُس کا بڑا بھائی دوسرے شہر میں کام کرتا تھا۔ اس کی غیر موجودگی میں یہ شاخسانہ شروع ہو گیا۔ ایک رات غفورے نے مبینہ طور پر گھر کے تمام افراد کو کوئی نشہ آور چیز پلا دی۔ رات گئے جب وہ بری نیت سے بھائی کی بیوی کے پاس پہنچا تو اُس نے غفورے کو بری طرح پیٹ ڈالا ۔ شور سن کر گھر کے کچھ اور افراد بھی جاگ گئے۔ اس واقعے کی خبر گھر سے باہر بھی نکلی اور محلے میں خوب چرچا ہوا تھا۔ غفورے کو سخت سرزنش کا سامنا کرنا پڑا۔ یقینا اسی واقعہ سے متاثر ہو کر اس نے خودکشی کی کوشش کی تھی ۔ اُس نے نیلا تھو تھا کھا لیا تھا لیکن بروقت طبی امداد سے جان بھی گئی۔ اس شہادت سے دو باتیں سامنے آئیں غفورا ڈھیلے کردار کا لڑکا تھا اور اس سے پہلے بھی اُس نے خود کشی کی کوشش کی تھی۔
میں نے منے سے ایک بار پھر تفصیلی بات چیت کی ۔ اُس روز میں نے اُسے تھانے ہی بلا لیا۔ وہ اب تک سخت خوفزدہ تھا۔ ایک روز پہلے اُس نے اپنی بہن کے سامنے اعتراف کر لیا تھا کہ وہ رات کو غفور کے پاس گیا تھا اور اسے لڈو بھی کھلائے تھے لیکن اس سے زیادہ اُس نے اور کچھ نہیں کہا تھا۔ اُس کی بہن یعنی میری بیوی بھی بڑی بڑی قسمیں کھا رہی تھی کہ اُس کا بھائی ایسا نہیں ہو سکتا۔ میں نے منے سے کہا کہ اگر غفورے کی ہلاکت میں اُس کا ہاتھ نہیں تو پھر اُس کی موت کی کیا وجہ ہو سکتی ہے۔ منے نے جو جواب دیا وہ میری توقع کے عین مطابق تھا اور اُس سے میری کافی تسلی بھی ہوئی۔ اُس نے کہا۔ ”بھائی صاحب! میں سوچتا ہوں اُس نے خود کشی کی ہے۔ مجھ سے ملنے کے بعد وہ سخت پریشان ہو گیا تھا۔ اُس وقت مجھے امید نہیں تھی کہ وہ اپنی جان لینے کی کوشش کرے گا۔ کاش مجھے اُس وقت اُس کے ارادے کا علم ہو جاتا ۔ منے نے یہ بھی بتایا کہ اُس کے آنے کے بعدبیٹھک ہی میں رہا تھا اور اُس نے اندر سے کنڈی لگائی تھی۔
بہر حال غفورے کی ہلاکت کے بعد چوتھے دن کی شام تک میں اس نتیجے پر پہنچ چکا تھا کہ یہ خود کشی کا کیس ہے لیکن پھر جیسا کہ میں نے بتایا ہے، اوپر تلے چند واقعات ایسے ہوئے جنہوں نے میری تفتیش کی عمارت دھڑام سے نیچے گرا دی اور ایک بار پھر میری نظریں منے پر جم گئیں۔ اُس روز شام کے وقت تھانے کے پتے پر ایک خط موصول ہوا۔ پتے کے ساتھ میرا نام بھی لکھا ہوا تھا۔ میں نے لفافہ چاک کیا۔ یہ ایک گمنام خط تھا لیکن مفصل اور حیرت انگیز حد تک مدلل ۔ لکھنے والے نے اپنے خیالات نہایت مؤثر طریقے سے بیان کیے تھے۔ مضمون کچھ یوں تھا۔
انسپکٹر صاحب ! غفورے کو قتل کیا گیا ہے۔ قاتل آپ کے گھر میں ہے۔
میں آپ کو اس بات کا ثبوت فراہم کر سکتی ہوں ۔ بدھ کی دو پہر یعنی غفورے کے قتل سے ایک روز پہلے ایک برقعہ پوش عورت شہر سے باہر کچی آبادی میں پہنچی تھی۔ وہاں راول“ نامی ایک جوگی سے اُس نے زہر خریدا تھا۔ یہ برقعہ پوش دراصل آپ کا برادر نسبتی شکیل عرف منا تھا۔ اُس نے جو زہر خریدا تھا اُس کا کچھ حصہ اب بھی اُس کے پاس موجود ہے۔ اگر آپ کوشش کریں گے تو منے کے سائیکل کی گدی کے نیچے ایک چھوٹی سی پیڑیا آپ کومل جائے گی لیکن ہو سکتا ہے وہ پڑیا آپ کو نہ ملے۔ میں ایک دوسرا ثبوت فراہم کرتی ہوں۔ وہی برقعہ پوش عورت آپ کے محلے میں مختار نامی حلوائی کے پاس بھی گئی تھی۔ اُس نے کہا تھا کہ اُسے لڈو چاہئیں۔ حلوائی کے پاس بوندی کے سخت لڈو تھے۔ اس عورت نے کہا تھا کہ اسے موتی چور کے نرم لڈو چاہئیں ۔ حلوائی نے کہا تھا کہ وہ موتی چورلڈو نہیں بناتا لیکن موٹی بوندی کے تازہ لڈو بننے والے ہیں۔ عورت تازہ لڈوؤں کے انتظار میں آدھ گھنٹہ دکان پر کھڑی رہی تھی ۔ تازہ لڈو نرم ہوتے ہیں اور توڑ کر با آسانی بنائے جاسکتے ہیں۔ آپ میری بات سمجھ رہے ہوں گے۔ ایک تیسرا ثبوت اب میں آپ کو فراہم کرتی ہوں اور آپ اسے جھٹلا نہیں سکیں گے ۔ آپ ایک ذہین پولیس والے ہیں لیکن یہ بات آپ کی سمجھ میں نہیں آئی ۔ ظاہر ہے آپ کا برادر نسبتی دو یا تین لڈو لے کر تو مقتول کے پاس نہیں گیا تھا۔ اس کے پاس کم از کم ایک آدھ سیر لڈو ہوں گے ۔ مقتول نے تمام لڈو تو نہیں کھائے ہوں گے ۔ پھر باقی لڈو کدھر گئے۔ جی ہاں وہ لڈو موقعہ سے اٹھا لیے گئے تھے اس لیے کہ وہ زہر یلے تھے۔ اب آپ سوچ رہے ہوں گے وہ لڈو کہاں ہیں۔ میں آپ کو بتاتی ہوں ۔ آپ کے گھر کے پچھواڑے کوڑے کرکٹ سے بھرا ہوا ایک چھوٹا سا گڑھا ہے۔ یہ لڈو لفافے میں بند اسی کوڑے میں پڑے ہیں۔ اب ایک ایسا ثبوت آپ کو فراہم کرتی ہوں جو اس قتل کا معمہ صاف صاف حل کر دے گا۔ محلہ سادھو نگر میں ایک دوائیوں کی دکان ہے ڈاکٹر مہتا وہاں بیٹھتے ہیں۔ قتل کی رات وہ آپ کے محلے میں ایک مریض کو دیکھ کر سائیکل پر سوار واپس جارہے تھے ۔ انہوں نے شکیل عرف منے کو دیکھا۔ وہ ایک گلی سے نکلا اور گھبراہٹ میں ان کی سائیکل سے آٹکرایا۔ ڈاکٹر مہتا سے ایک دو بار اس نے دوائی کی تھی۔ وہ اسے پہچان گئے ۔ انہوں نے اس سے پریشانی کی وجہ پوچھی وہ کچھ نہ بتا سکا۔ اس کے ہاتھ میں وہی لفافہ تھا جو
اس وقت آپ کے گھر کے پچھوڑاے پڑا ہے اور جس میں سے اس نے غفور کو زہر یلے لڈو کھلائے تھے۔ سائیکل سے ٹکرانے کے بعد یہ لڈوگر گئے تھے اور ڈاکٹر مہتا نے اپنے ہاتھوں سے دوبارہ لفافے میں ڈالے تھے۔ وہ اس لفافے اور ان لڈوؤں کو با آسانی پہچان سکتے ہیں ۔ میرے خیال میں یہ شہادتیں جرم کو بے نقاب کرنے کے لیے کافی ہوں گی۔
آپ سوچتے ہوں گے میں کون ہوں اور مجھے یہ سب باتیں کیسے معلوم ہیں۔ آپ یہ بھی سوچتے ہوں کہ میں یہ سب کچھ منے کو پھنسوانے کے لیے کسی کی ایماء پر لکھ رہی ہوں۔ یقین جانیے میں نے جو کچھ لکھا ہے اپنی مرضی سے لکھا ہے۔ آپ کے ذہن میں اٹھنے والے پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ منے سے میرا قریبی تعلق رہا ہے اور میں ایک مظلوم لڑکی ہوں اور یہی مظلومیت میرے قلم اٹھانے کا سبب بنی ہے۔”
یہ خط ایک دھماکے سے کم نہیں تھا۔ میں فورا تھانے سے اٹھا اور خط کے الزامات کی تصدیق کے لیے چل دیا۔ مختصر سب سے پہلے میں کچی آبادی میں پہنچا۔ وہاں سے حلوائی مختار کی دکان پر آیا اور وہاں سے اپنے گھر کا پچھواڑو دیکھا۔ تینوں اطلاعات بالترتیب درست ثابت ہوئیں۔ یقیناً چوتھی اطلاع بھی درست تھی ۔ منے کی سائیکل کی گدی کے نیچے ایک پڑیا موجود تھی لیکن وہ پھٹ گئی تھی اور اسپر نگوں میں کاغذ کا ایک ٹکڑا انکارہ گیا تھا۔ آخری ثبوت کے لیے میں قریبی محلے سادھو نگر گیا۔ ڈاکٹر مہتا کھچڑی ڈاڑھی والا ایک شریف النفس سکھ تھا۔ وہ محض ایک کمپاؤنڈر تھا مگر خاصا قابل معالج تھا۔ اس لیے گاؤں والے اسے ڈاکٹر ہی کہتے تھے۔ میں نے اسے کوڑے سے برآمد ہونے والا لفافہ دکھایا اور تفصیلی گفتگو کی ۔ جب میں اس کی دکان سے نکلا میرے ذہن سے منے کے قاتل نہ ہونے کا ہر شبہ دور ہو چکا تھا۔ تھانے آکر میں بے دم سا ہو کر کرسی پر گر گیا۔ میرا سب انسپکٹر میری ہدایات کے مطابق غفورے کے تمام خطوط جمع کر چکا تھا۔ ان میں سے کچھ خطوط منظور کے پاس تھے اور کچھ اس کے اپنے سامان میں۔ میں خالی خالی نظروں سے یہ خطوط دیکھتا رہا۔ آخر میں ایک ایسا خط نظر سے گزرا جس سے یہ بات مزید یقینی ہوگئی کہ غفورے نے خود کشی نہیں کی ۔ یہ خط غفورے نے اپنی موت کے روز صبح کے وقت لکھا تھا۔ یہ خط اس کی اپنی لکھائی میں تھا۔ غفورا خود بھی لکھ سکتا تھالیکن شکستہ ہینڈ رائٹنگ کے علاوہ اردو بھی واجی ہی آتی تھی ۔ یہی وجہ تھی کہ وہ فرزانہ کے خط اپنے دوست منظور سے لکھواتا تھا۔ مذکورہ خط اس نے اپنے جگری یار شاہ کو لکھا تھا۔ یہ وہیشاہ ہے جس کے کمرے میں وہ مُردہ پایا گیا۔ خط کا مفہوم یہ تھا۔
فرزانہ کا قصہ انجام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ میرا خیال ہے کہ وہ منے سے ملی ہے۔ آج رات منا مجھ سے ملنے آرہا ہے بہر حال کچھ بھی ہے میں ہار ماننے والا نہیں۔ شرط ہار بھی گیا تو فرزانہ کو نہیں ہاروں گا۔ موت سے چند گھنٹے قبل لکھا گیا یہ خط صاف بتارہا تھا کہ غفورے کا ارادہ خود کشی کا بالکل نہیں تھا۔ وہ یہ بھی جانتا تھا کہ منا فرزانہ سے ملا ہے۔ لہذا اس کے دل برداشتہ ہونے کی بھی کوئی وجہ نہیں تھی۔ اس خط سے اس سوال کا جواب بھی مل جاتا تھا کہ فرزانہ کی محبت جیت کر بھی منے نے غفورے کو قتل کیوں کیا۔ در حقیقت وہ جان چکا تھا کہ غفورا ان دونوں کا پیچھا نہیں چھوڑے گا۔ شدید رقیبانہ جذبات کے تحت اس نے اسے قتل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اب انتظار فضول تھا۔ شواہد چلا چلا کر کہہ رہے تھے کہ مُنا مجرم ہے۔ صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ جس لڑکی نے منے کا بھانڈا پھوڑا ہے وہ نہ صرف اس کی گہری راز داں تھی بلکہ دلی طور پر اس سے متنفر بھی تھی۔ اس نے اپنے خط میں واضح طور پر اشارہ دیا تھا کہ اگر میں نے اپنی بیوئی کے بھائی کے خلاف کارروائی سے دریغ کیا تو وہ اس خط کی ایک نقل میرے اعلیٰ افسران کو بھیجے گی۔ اگر اس کے خط میں یہ دھمکی نہ بھی ہوتی تو بھی میں مجرم کو چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا۔ یہ میرے کردار کی کڑی آزمائش تھی اور مجھے اس آزمائش سے گزرنا تھا۔ میں تھانے سے فورا گھر کی طرف روانہ ہوا۔ گھر پہنچا تو پتہ چلا کہ منا غائب ہے۔ میری بیوی نے بتایا کہ وہ سہ پہر کا گیا واپس نہیں آیا، لیکن میں جانتا تھا کہ وہ واپس آیا ہوگا۔ دراصل میری بیوی بھانپ چکی تھی کہ میں اس کے بھائی کے خلاف کوئی کارروائی کرنے والا ہوں۔ اس نے اسے مطلع کر دیا تھا اور وہ بھاگ گیا تھا۔ میرے غصے کی کوئی انتہاء نہ رہی۔ نہ جانے میرے منہ سے کیا کیا نکلا۔ وہ سنتی رہی اور آنسو بہاتی رہی۔ میں اس کی مجبوری سمجھ رہا تھا۔ وہ ایک اکلوتے بھائی کی بہن تھی لیکن وہ جذبات میں اپنا دوسرا رشتہ فراموش کر رہی تھی ۔ اس کا یہ رشتہ ایک ذمے دار پولیس اہلکار سے تھا۔ یہ میرا خانگی جھگڑا تھا اور شاید قارئین کو اس سے دلچسپی بھی نہ ہو۔ لہذا میں تفصیل میں نہیں جاؤں گا۔ بہر حال میرے سسرال والے اس معاملے میں کود پڑے اور انہوں نے جھگڑے کو سنگین تر بنا دیا۔ ایک سسرالی رشتہ دار جو خود پولیس میں تھا اور میرا ہم منصب بھی، اس معاملے کو بگاڑنے کا خاص سبب بنا۔ اس نے کہا کہ نواز خان جان بوجھ کر کیس خراب کر رہا ہے۔ وہ با آسانی منے کو مشکوک افراد کی فہرست سے خارج کر سکتا ہے. اس پر صرف دیانتداری کا بھوت سوار ہے۔ اس نے کچھ ایسے نکتے بیان کیے جن سے منا بالکل بری الذمہ ہو جاتا تھا۔
اسی دوران اس گمنام لڑکی نے حسب تنبیہہ ایک خط افسران بالا تک پہنچا دیا۔ جیسا کہ میں بتا چکا ہوں گمنام ہونے کے باوجود وہ ایسا مدلل خط تھا کہ اگر کسی اور انسپکٹر کے خلاف ہوتا تو اسے صفائی کا موقع دیئے بغیر لائن حاضر کر دیا جاتا لیکن افسران بالا میرے بارے میں بڑے اچھے خیالات رکھتے تھے۔ ایس پی صاحب نے مجھے ہیڈ کوارٹر بلایا اور بڑی نرمی سے بتایا کہ بھئی تمہارے خلاف ایک چٹھی آئی ہے۔ میرا ہندو سب انسپکٹر بھی وہیں موجود تھا۔ میری آمد سے قبل اس سے بھی پوچھ گچھ کی گئی تھی۔ وہ ایک کینہ پرور شخص تھا۔ مجھے توقع تھی کہ اس نے میرا دفاع کرنے کی بجائے ایک آدھ بات زیادہ ہی لگائی ہوگی ۔ وہاں جو گفتگو ہوئی وہ مکہ بحث کے زمرے میں آتی ہے۔ میں اس کی تفصیل بیان کر کے واقع کو طول نہیں دوں گا۔ مختصر یہ کہ ایس پی صاحب نے کہا۔ انسپکٹر نواز! مجھے تم پر مکمل بھروسہ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ملزم کے رشتے دار ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ تم اپنا فرض پوری دیانتداری اور مہارت سے انجام دو گے۔ بہر حال میں تمہیں بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ اس معاملے کی بھنک اوپر تک پہنچ چکی ہے۔“ میں ایس پی صاحب کی بات سمجھ رہا تھا۔ ہر پیشے اور شعبے میں خیر خواہ اور بدخواہ موجود ہوتے ہیں۔ میرے وہ ساتھی جو میری فرض شناسی کا ذکر تلخ الفاظ میں کیا کرتے ہیں۔ افواہ سازی کے اس سنہری موقع کو ہاتھ سے گنوانا نہیں چاہتے تھے۔ ان کی عنایات سے یہ خبر افسران بالا کے کانوں تک پہنچ چکی تھی اور اب ایس پی صاحب مجھے تنبیہ کر رہے تھے کہ نواز خان ! ذرا سنبھل کے ۔“ میں ایک طویل سانس لے کر اٹھا اور ایس پی صاحب سے کہا۔ ”سر! آپ کو یہ وردی کبھی دھوکا نہیں دے گی ۔ پھر سیلوٹ کر کے میں تیز قدموں سے باہر نکل آیا۔
میری بیوی میرے سامنے بیٹھی تھی ۔ رورو کر اس کی آنکھیں سُرخ ہو رہی تھیں ۔ وہ جانتی تھی میں اس کے پاس کیوں آیا ہوں ۔ میں اس سے شکیل عرف منے کا پتہ پوچھنے آیا تھا۔ مجھے اچھی طرح معلوم تھا کہ منے کو اس نے بھیجا ہے اور وہی اس کے ٹھکانے سے آگاہ ہے۔ ایک عورت کے لیے یہ ایک بہت بڑا امتحان تھا ایک طرف اس کا بھائی تھا جو مجرم تھا لیکن جسے وہ اپنے بچوں کی طرح چاہتی تھی، جس کے پسینے پر وہ خون بہانے کو تیار رہتی تھی اور دوسری طرف اس کا شوہر تھا۔ جس کے چہرے پر ہمدردی اور رحم کا شائبہ تک نہیں تھا۔ جسے صرف اپنے فرض سے غرض تھی …. اور جو اس کے بھائی کو پھانسی کے تختے تک پہنچانا چاہتا تھا۔ ہم دونوں کے درمیان کافی دیر ایک بوجھل خاموشی حائل رہی۔ پھر میں نے سنبھل سنبھل کر کہا۔ ”منے کا ملنا بہت ضروری ہے۔ میں تم سے صرف یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ تم میری
مدد کرو گی یا مجھے اپنے طور پر اس کا پتہ چلانا ہو گا ۔“
کیا کوئی تیسرا راستہ نہیں؟“ میری بیوی نے پوچھا۔ نہیں ۔ میں نے فیصلہ کن لہجے میں کہا۔ میری بیوی نے اس وقت منے کے بارے میں کچھ نہایت جذباتی باتیں کیں لیکن میرے پایه استقامت میں لغزش نہیں آئی۔ میں نے اسے کہا۔ یوں آنسو بہانے اور گریہ زاری سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ وہ ملزم ہے اور اگر مجرم ثابت ہوتا ہے تو اسے کیے کی سزا ملے گی۔“ چاہے وہ پھانسی ہو ۔ میری بیوی نے پوچھا۔
ہاں چاہے وہ پھانسی ہو ۔ میں نے کہا۔ اس نے عجیب نظروں سے مجھے دیکھا۔ ان نظروں میں دنیا جہاں کی عورتوں کا دکھ سمٹ آیا تھا۔ ان تمام عورتوں کا دکھ جو مردوں سے پیار کرتی ہیں ۔ سخت گیر باپوں سے، خود غرض بھائیوں سے، پیٹنے والے شوہروں سے اور رات دیر سے لوٹنے والے بیٹوں سے۔ وہ سب انہیں دکھ دیتے ہیں کوئی کسی طرح اور کوئی کسی طرح ۔ ہاں ان تمام عورتوں کا دکھ اس کی آنکھوں میں تھا۔ پھر اس نے کہا۔ میں آپ کو اس کا پتہ دیتی ہوں . لیکن اس کے بعد میں کبھی آپ کو اپنی شکل نہیں ، دکھاؤں گی۔“ میں نے بیوی سے اس کے بھائی کا پتہ پوچھا اور ایک چھاپہ مار پارٹی کے ساتھ روانہ ہو گیا۔
: ملزم کو ایک گاؤں سے گرفتار کیا گیا۔ میری بیوی نے اسے اپنی ایک منہ بولی بہن کے پاس بھیج دیا تھا۔ گرفتاری کے دوران کوئی اہم واقعہ پیش نہیں آیا سوائے اس کے کہ جب ہم منے کو گرفتار کرنے گھر میں داخل ہوئے تو ایک پہلوان نما شخص نے پولیس پارٹی پر حملہ کر دیا۔ بہر حال تھوڑی سی کوشش سے اسے قابو کر لیا گیا۔ یہ شخص اس عورت کا خاوند تھا جس نے منے کو پناہ دے رکھی تھی۔
منے کو عدالت میں پیش کر کے میں نے ریمانڈ لے لیا۔ بعد ازاں تین چار روز میں چالان مکمل کر کے عدالت میں پیش کر دیا۔ اپنی طرف سے میں نے فرض نبھانے میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔ ملزم کے خلاف شہادتیں کافی مضبوط تھیں ۔ سیشن جج سے اسے سزائے موت ہوئی۔ ان لوگوں نے ہائی کورٹ میں اپیل کردی۔ مقتول پارٹی بھی پورا زور لگا رہی تھی ۔ امید نہیں تھی کہ سزا میں تخفیف ہو سکے گی۔
میری بیوی اس روز اپنے گھر واپس چلی گئی تھی جس روز میں نے ملزم کا چالان مکمل کیا تھا۔ سسرالی عزیزوں کی طرف سے مجھے خطرناک نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئیں لیکن میں اپنے کام میں جتا رہا۔ میں جانتا تھا کہ سچ پر ہوں اور سچ کو آنچ نہیں۔
اس واقعہ کو تقریبا ڈیڑھ برس گزر گیا۔ حالات جوں کے توں رہے۔ وہ گرمیوں کی ایک تاریک رات تھی۔ اداس اور حبس زدہ ۔ میں نو بجے کے قریب گھر آیا ہوٹل کے پکے ہوئے کھانے کو دوبارہ گرم کیا۔ چند لکمے لیے پھر خودہی چار پائی بچھائی اور لیٹنے کی تیاری کرنے لگا۔ اس وقت دروازے پر دستک ہوئی۔ میں نے وہیں صحن سے آواز دے کر کہا۔ ” دروازہ کھلا ہے آجاؤ ۔ آنے والا ایک درمیانی عمر کا سکھ تھا۔ کسی گھر کا نوکر دکھائی دیتا تھا۔ اس نے ست سری اکال کر کے کہا۔
تھانیدار صاحب! آپ کو ڈاکٹر صاحب نے بلایا ہے. ڈاکٹر مہتا نے ۔ ان کی حالت بہت خراب ہے۔ وہ ہسپتال میں ہیں۔” میں نے تفصیل پوچھی تو اس نے بتایا کہ آج شام سائیکل پر آتے ہوئے ان کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے۔ انہیں سخت چوٹیں آئی ہیں۔ وہ آپ سے کوئی ضروری بات کرنا چاہتے ہیں اور تاکید کی ہے کہ آپ کو لے کر آؤں۔ میں تھکا ماندہ آیا تھا لیکن نہ جانے جی میں کیا آئی
کہ اس کے ساتھ چل دیا۔ ہسپتال، مہتا کے پاس پہنچا تو وہ پٹیوں میں جکڑا پڑا تھا۔ لاری نے ٹکر ماری تھی ۔ ٹانگوں اور چھاتی پر شدید چوٹیں آئی تھیں۔ خون اور گلوکوز لگا ہوا تھا۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ ان کی حالت بار بار خراب ہو جاتی ہے۔ آپ جلد بات کر لیں۔ میں مہتا کے پاس پہنچا تو وہ پہچان کر پھیکے سے انداز میں مسکرایا ۔ کہنے لگا۔ انسپکٹر صاحب ! کرسچکن لوگ اعتراف گناہ کر کے دل کا بوجھ ہلکا کرتے ہیں۔ میں بھی آپ کے سامنے ایک اعتراف کرنا چاہتا ہوں ۔“ اس کی آواز دھیمی تھی۔ میں اسٹول پر بیٹھ کر آگے کو جھک گیا۔ وہ دھیرے دھیرے ۔۔۔۔ جاری ہے۔۔۔ اگلی لاسٹ ہے پر بہت سنسنی خیز ۔۔ پوسٹ کو لائک اور کمنٹ کر دیا کرو یار۔۔۔۔ تا کہ پوسٹ اوپر رہے۔۔۔
وہ دھیرے دھیرے بولنے لگا۔ میں اسی طرح جھکا رہا اور وہ بولتا رہا۔ قریبا نصف گھنٹہ گزر گیا۔ بیچ بیچ میں میں نے کچھ سوالات بھی کیے۔ اس گفتگو کا خلاصہ یہ ہے۔ آج سے ڈیڑھ برس پہلے مہتا سنگھ نے غفورے کے قتل میں جو گواہی دی تھی وہ جھوٹی تھی۔ ایسے معتبر شخص نے یہ جھوٹ کیوں بولا؟ اس کا جواب یہ تھا کہ اسے اس گواہی پر مجبور کیا گیا تھا۔ واقعہ کچھ یوں تھا کہ غفورے کے قتل سے کوئی دو ماہ پہلے ڈاکٹر مہتا ایک نوجوان لڑکی کے چکر میں پھنس گیا تھا۔ یہ برقعہ پوش لڑکی ایک گرم اور سنسان دو پہر کو اس سے دوائی لینے آئی ۔ مہتا سنگھ اکیلا تھا۔ وہ لاکھ بھلا مانس اور ادھیڑ عمر سہی بہر حال ایک مرد تھا۔ لڑکی نے اسے ایسے ناز نخرے دکھائے کہ وہ طبیعت پر قابو نہ رکھ سکا۔ اس نے لڑکی کے جسم کو ہاتھ لگایا تو وہ برا مان گئی اور اٹھ کر چل دی۔ ڈاکٹر مہتا کچھ دن اپنے کئے پر پشیمان رہا۔ پھر ایک روز سے لڑکی کا خط ملا۔ اس حوصلہ افزاء خط نے ڈاکٹر مہتا کے شوق کو بھڑکایا۔ ان دونوں کے درمیان خط و کتابت شروع ہوگئی۔ تنہائی کے چند لمحے میسر ہوئے اور ڈاکٹر مہتا اس کے قریب پہنچا۔ اس لمحے اس پر انکشاف ہوا کہ برقعے میں عورت نہیں بلکہ مرد ہے۔ وہ بری طرح چونک کر پیچھے ہٹا۔ ایک مردانہ قہقہہ سنائی دیا اور برقعہ پوش، ڈاکٹر مہتا کو حیران و پریشان چھوڑ کر دکان سے نکل گیا۔ اس کے بعد مہتا کو جو خط ملا وہ سراسر ایک بلیک میلر کا خط تھا۔ اس میں ڈاکٹر کا مذاق اُڑایا گیا تھا اور بھانڈا پھوڑنے کی دھمکیاں دی گئی تھیں۔ ڈاکٹر نے اپنے طور پر بلیک میلر کا کھوج لگانے کی کوشش کی لیکن یہ جان کر اسے مایوسی ہوئی کہ جس پتے پر وہ خط لکھتا تھا وہاں کوئی بنگالی کرائے دار رہتے تھے جو مکان چھوڑ کر جاچکے تھے پھر ایک دن ڈاکٹر کو برقعہ پوش لڑکے کا طویل خط پہنچا۔ اس میں اسے مذکورہ گواہی پر مجبور کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر بال بچے دار آدمی تھا۔ گلی محلے میں اس کی عزت تھی۔ وہ بدنامی کے خوف سے کانپ گیا۔ بلیک میلر نے وعدہ کیا تھا کہ اس کے بعد اسے تنگ نہیں کرے گا۔ بہت سوچ بچار کے بعد ڈاکٹر نے اس کی بات ماننے کا فیصلہ کیا۔
میں نے ڈاکٹر کا پورا بیان غور سے سنا۔ حالات ایک پر اسرار رنگ اختیار کر گئے تھے۔ اس پورے واقعے میں ایک برقعہ پوش ملوث دکھائی دیتا تھا۔ اور پھر وہ لڑکی جس نے مجھے گمنام خط لکھا تھا۔ کہیں وہ بھی تو لڑکا نہیں تھا؟ میرا ذ ہن آہستہ آہستہ اس نتیجے پر پہنچ رہا تھا کہ منے کو منظم طریقے سے پھنسانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ایک بے قراری سی میرے رگ و پے میں اتر گئی۔ میں نے ڈاکٹر مہتا سے چند اور ضروری سوال پوچھے اور ہسپتال سے نکل آیا۔
میں نے ڈاکٹر مہتا کو موصول ہونے والے خطوں کی تحریر کا گمنام لڑکی کے خط سے موازنہ کیا اور انکشاف ہوا کہ دونوں تحریریں ایک ہیں ۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ اس برقعہ پوش لڑ کے کا سراغ کیونکر لگے۔ جس نے پہلے ڈاکٹر مہتا کو اپنے دام میں پھنسایا تھا اور پھر مجھے خط لکھ کر منے کے خلاف شہادت میں فراہم کی تھیں ۔ میں نے ایک بار پھر نئے سرے سے تفتیش شروع کی ۔ غفورے کے تمام دوستوں سے فردا فردا پوچھ گچھ کی۔ (شاید میں بتانا بھول گیا کہ ڈاکٹر مہتا زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسا تھا)
میں نے اپنے سب انسپکٹر کو ہدایت کی کہ وہ علاقے میں کسی ایسے نوجوان کا سراغ لگائے جسے عورتوں جیسا حلیہ بنانے کا شوق ہو اور خاص طور پر غفورے کے ملنے جلنے والوں میں ایسے لڑکے کو تلاش کرے۔ میں نے ان بنگالی کرائے داروں کا سراغ لگانے کی کوشش بھی کی جن کے پتے پر برقعہ پوش لڑکے کے خطوط آتے تھے۔ اس سلسلے میں چند بنگالیوں کو گرفتار بھی کیا گیا لیکن مطلوبہ لوگ ہاتھ نہیں آئے ۔ آپ میری بے قراری کا اندازہ بخوبی لگا سکتے ہیں۔ میری تفتیش کی بنیاد پر بے ایک بے گناہ کو پھانسی ہونے کا خدشہ تھا اور وہ بے گناہ میرا نہایت قریبی عزیز تھا۔ ان دنوں مجھے کھانے پینے کا ہوش تھا نہ آرام کا ۔ بس ایک ہی خواہش تھی کہ کسی طرح اس گتھی کا کوئی سراغ ہاتھ آجائے۔
تلاش بسیار اور سخت کوشش کے باوجود میری تفتیش کی کشتی کسی کنارے پر نہیں لگی۔ آہستہ آہستہ مجھ پر مایوسی غالب آنے لگی۔ پھر شاید میں ہمت ہار کے کوشش ترک کر ہی دیتا کہ ایک صبح میرے لیے کامیابی کی نوید لے آئی ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے وہ دسمبر کی پہلی تاریخ تھی۔ رات کی موسلا دھار بارش کے بعد نرم دھوپ گلی کوچوں میں پھیلی ہوئی تھی۔ میں دو سپاہیوں کے ساتھ پیدل ہی تھانے کی طرف جارہا تھا ، دفعتاً ایک لڑکی کو دیکھ کر چونک گیا۔ اس نے سیاہ برقعہ پہن رکھا تھا اور تیزی سے سڑک کے کنارے جارہی تھی۔ اس کی چال میں مجھے ضرورت سے کچھ زیادہ ہی نسوانیت اور لچک محسوس ہوئی۔ جیسی آپ نے بھی ہیجڑوں میں دیکھی ہوگی۔ موہوم شک کے تحت میں نے لڑکی کا پیچھا شروع کر دیا۔
وہ اپنے تعاقب سے بے خبر چلتی رہی اور آخری لڑکیوں کے سکول کے سامنے پہنچ گئی۔ میں نے دیکھا کہ لڑکیاں اپنی مخصوص یو نیفارم کی بجائے رنگ برنگے کپڑوں میں نظر آرہی ہیں۔ دراصل اس دن اسکول کے اندر کوئی میلہ وغیرہ تھا۔ لڑکی تیزی سے چلتی ہوئی اندر داخل ہوگئی۔ میں گیٹ پر پہنچا۔ چوکیدار مجھے دیکھ کر کھڑا ہو گیا۔ اسکول کے وسیع احاطے میں شامیانے لگے تھے۔ لڑکیاں، عورتیں، بچے اور بچیاں کثیر تعداد میں دکھائی دے رہے تھے۔ میں نے مطلوبہ لڑکی کو دیکھنے کی کوشش کی لیکن وہ ہجوم میں گم ہو چکی تھی ۔ میری چھٹی حس مجھے خبرار کر رہی تھی۔ اتنے میں اسکول کی ہیڈ مسٹریس بھی درواز ہے پر آگئی۔ میں نے اس پر اپنا شک ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان لڑکیوں میں کوئی برقعہ پوش مرد گھس گیا ہے۔ مسٹریس کے چہرے پر ہر اس دکھائی دینے لگا۔ وہ مجھے ساتھ لے کر احاطے میں آگئی ۔ اسکول کی لڑکیوں نے ایک باوردی پولیس والے کو اپنے قریب دیکھا تو شوخی پر اُتر آئیں۔ بڑی عمر کی کچھ تیز طرارلڑکیوں نے آوازے بھی کے۔ ایک آواز آئی ۔ ”فلاں استانی کا شوہر ہے۔“
ایک نے کہا ۔ ” یہ چوری کی گائے ڈھونڈ نے آئے ہیں۔“
دوسری بولی۔ ” بہن راستہ بھول گئے ہیں۔“ ہیڈ مسٹریس نے لڑکیوں کو ڈانٹا۔ میں نے غور سے لڑکیوں کے چہرے دیکھے کچھ اندازہ نہ ہوا۔ ہیڈ مسٹریس نے تمام لڑکیوں کو حکم دیا کہ ایک جگہ اکٹھی ہو جائیں۔ لڑکیاں اکٹھی ہو گئیں۔ عورتیں اور بچے بھی ان میں موجود تھے ۔ میں سوچ رہا تھا کہ اگر میرا اشک غلط نکلا اور ان میں کوئی برقعہ پوش مرد نہ نکلا تو یہ میرا مذاق اُڑانے سے باز نہیں آئیں گی۔
دفعتاً میری نظر ایک شامیانے کی طرف اٹھ گئی۔ ایک اسٹال کے عقب میں سیاہ برقعے کی جھلک دکھائی دی تھی۔ میں نے انگلی سے اس طرف اشارہ کر کے ایک استانی کو اطلاع دی۔ میری انگلی اٹھنے کی دیر تھی کہ اسٹال کے عقب سے ایک برقعہ پوش برآمد ہوا۔ اس نے چھلانگ لگا کر کاؤنٹر پار کیا اور تیزی سے مخالف سمت میں بھاگا۔ لڑکیوں کی چیخیں کورس کی صورت میں بلند ہوئیں۔ میں ان کے درمیان سے راستہ بنا تا ہوا تیزی سے مجرم کی طرف لپکا۔ وہ برقعے سمیت سرپٹ دوڑتا ہوا بیرونی دیوار کی طرف بڑھ رہا تھا۔ پھر اس نے کسی چمگادڑ کی طرح چھلانگ لگائی اور منڈیر تھام لی لیکن اس سے پہلے کہ وہ زور لگا کر او پر چڑھتا میں اس کے قریب پہنچ چکا تھا۔ اس نے جب دیکھا کہ میں اسے فرار نہیں ہونے دوں گا تو اس نے منڈیر چھوڑ کر نیچے چھلانگ لگا دی۔ زمین پر گرتے ہی وہ سیدھا کھڑا ہوا۔ پھر اس نے برقعے کے اندر ہاتھ ڈالا اور ایک گراری دار چا تو نکال لیا۔ الٹے قدموں پیچھے ہٹتے ہوئے اس نے چاقو کھولا ۔ چاقو کی آواز سن کر میرے جسم میں سنسنی دوڑ گئی ۔ لڑکیوں اور عورتوں کی دبی دبی چیخیں بھی سنائی دیں۔ اتفاقا اس وقت میرے پاس ریوالور نہیں تھا۔ لمبے پھل کا چا تو ہاتھ میں لیے برقعہ پوش نہایت خوفناک بھی لگ رہا تھا اور کچھ مضحکہ خیز بھی۔ ایک ہاتھ سے اس نے نقاب الٹا اور اپنی ہراساں نگاہیں میرے چہرے پر جما دیں۔ میں اس چہرے کو اچھی طرح جانتا تھا، آپ بھی جانتے ہوں گے لیکن یقین کریں اس وقت میں بالکل نہ پہچان سکا۔ وہ ہو بہو ایک بنی سنوری دوشیزہ دکھائی دے رہا تھا۔ صرف بغور دیکھنے سے ہی اس کی ڈاڑھی کی نیلا ہٹ محسوس کی جاسکتی تھی۔ میں سوچنے لگا اس شخص نے شامیانے میں گھس کر غلطی کی تھی ۔ اگر یہ لڑکیوں کے درمیان رہتا تو بھی شاید اسے میں مشکل سے ہی پہچانا پاتا۔
میں نے نہایت محتاط انداز میں برقعہ پوش کے چاقو پر نگاہیں جمادیں۔ دست بدست لڑائی کا ایک اصول ہوتا ہے کہ مد مقابل کے پاس تیز دھار آلہ ہو تو اس سے فاصلے پر رہنے کی کوشش کی جاتی ہے اگر وہ آتشیں اسلحہ رکھتا ہو تو پھر اس سے گتھم گتھا ہونے میں فائدہ ہوتا ہے۔ اس زمانے میں جوڈو کراٹے اور اس قسم کی باتیں سننے میں نہیں آتی تھیں لیکن تجربہ انسان کو بہت کچھ سکھا دیتا ہے۔ مثلاً مجھے معلوم تھا کہ چاقو زن سے واسطہ پڑنے پر اس انداز ہے کھڑا ہونا چاہیے کہ اس کا چاقو والا ہاتھ آپ کے اسی ہاتھ کے سامنے ہو۔ مثلاً اگر اس کے دائیں ہاتھ میں چاقو ہے تو آپ کا دایاں ہاتھ اس کے دائیں ہاتھ کی سیدھ میں ہو ۔ اس طرح ذرا سا پہلو بدل کر وار سے صاف بچا جا سکتا ہے. میں بالکل اسی انداز میں کھڑا تھا۔ مد مقابل کے انداز سے صاف ظاہر تھا کہ وہ کوئی ماہر چاقو زن نہیں ہے۔ مجھے پورا یقین تھا کہ جس گھڑی اس نے مجھ پر وار کیا وہی گھڑی اس کی گرفتاری کی ہوگی لیکن وہ ایک چالا کی دکھا گیا۔ مجھ پر حملہ آور ہونے کی بجائے اس نے اچانک دوڑ لگا دی۔ لڑکیوں نے اسے اپنی طرف آتے دیکھا تو چیختی چلاتی چاروں طرف بھا گئیں ۔ میں پوری رفتار سے اس کے تعاقب میں تھا۔ میں اس کا ارادہ سمجھ گیا۔ وہ بیرونی دروازے سے نکل جانا چاہتا تھا۔ اس دوڑ کو آپ سو میٹر کی دوڑ بھی کہہ سکتے ہیں۔ بیرونی دروازے سے چند گز ادھر میں نے اس پر چھلانگ لگائی ۔ میرے ہاتھ اس کی کمر پر پڑے اور وہ میرے بوجھ تلے دور تک گھسٹتا چلا گیا لیکن پھر بے حد پھرتی سے اس نے کروٹ بدلی اور چاقو کا وار میرے چہرے پر کیا۔ اضطراری طور پر میری گردن پیچھے کی طرف جھکی اور ایک برق سی آنکھوں کے سامنے لہراگئی ۔ چاقو میری آنکھوں سے ایک انچ کے فاصلے سے گزر گیا۔ اس سے پہلے کہ وہ دوسرا وار کرتا میں نے اس کی کلان تھام لی۔ اب صورت حال یہ تھی کہ وہ بنی سنوری برقعہ پوش جعلی حسینہ چاروں شانے چت زمین پر پڑی تھی۔ میں اس کے سینے پر سوار تھا اور اس کی دونوں کلائیاں میری گرفت میںزمین سے لگی تھیں ۔ وہ اب بھی پیٹ کے زور سے مجھے اچھالنے کی کوشش کر رہا تھالیکن اسکول کا پٹھان چوکیدار خانہ خراب کا بھی خانہ خراب کا بچی پکارتا ہوا اس کے سرآ گیا۔ اس نے لاٹھی کا بھر پور وار اس کے سر پر کیا لڑ کا کراہا۔ چاقو پراس کی گرفت ڈھیلی پری اور میں نے ایک جھٹکے سے اسے غیر مسلح کر دیا۔
آپ یہ سننے کے لیے بے چین ہوں گے کہ اسکول میں گرفتار ہونے والا ملزم کون تھا : قارئین وہ ملزم تھا ابھرے ہوئے رخساروں والا منظور ۔ وہی منظور جو غفورے کا راز داں تھا۔ جس سے غفورا فرزانہ کو خط لکھواتا تھا۔ اپنی تفتیش کے دوران مجھے سب سے کم شک اس لڑکے پر پڑا تھا لیکن آخر میں وہی اصل مجرم نکلا۔ اس وقت وہ میرے سامنے بیٹھا تھا۔ اس کے چہرے پر چوٹوں کے نشان تھے۔ ابھی اس نے اقبال جرم نہیں کیا تھا۔ وہ اس بات پر مصر تھا کہ غفور ے کو کسی نے قتل نہیں کیا۔ اس نے خودکشی کی ہے اور وہ اس حقیقت کا ایک ٹھوس ثبوت بھی فراہم کرنے پر آمادہ ہو گیا تھا۔ تھوڑی ! بعد غفورے کا درزی باپ وہ ثبوت لے کر تھانے پہنچ گیا۔ ایک دو معزز افراد بھی اس کے ساتھ تھے۔ یہ ثبوت ایک کاغذ کی صورت میں تھا اور ان لوگوں نے منظور کی نشاندہی پر حاصل کیا تھا۔
اس کا غذ پر مقتول غفورے کی اپنی تحریر میں چند سطور لکھی تھیں ۔ وہ کچھ یوں تھیں ۔ یہ رقعہ میں پورے ہوش کے ساتھ اپنی مرضی سے لکھ رہا ہوں ۔ اپنی موت کا ذمہ دار میں خود ہوں ۔ میرے بعد کسی پر یہ الزام نہ آئے ۔ کسی کی محبت نے جینا مشکل کر دیا ہے۔۔ بےوفائی کا دکھ اور برداشت نہیں ہوتا ۔ نیچے دو شعر لکھے ہوئے تھے۔ آخر میں لکھنے والے کا نام تھا ۔ غفور احمد بقلم خود تاریخ بھی درج تھی جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ یہ رقعہ غفورے نے ہی لکھا۔
موت سے تھوڑی دیر پہلے لکھا تھا۔ تحریر ہو بہو غفورے کی دوسری تحریر سے ملتی تھی ۔ اگر دیکھا جائے تو اس رقعے کی موجودگی میں غفورے کی خود کشی ثابت ہو جاتی تھی خیر واقعی منظور نے ایک اہم ثبوت مہیا کر دیا تھا لیکن میرے لیے اس ثبوت کی کوئی اہمیت نہیں تھی میں اس معاملے کی تہہ تک پہنچ چکا تھا۔ نہایت لاپرواہی سے میں نے کاغذ کا ٹکڑا پھاڑ کر پھینک دیا۔ منظور کے وارثوں کے چہرے تاریک ہو گئے ۔ منظور بھی پریشانی سے میری طرف دیکھنے لگا۔ میں نے کرسی سے اٹھتے ہوئے کہا۔ منظور ! تم ایک میٹرک پاس ذہین لڑکے ہو لیکن تم نے اپنی ذہانت کا استعمال نہایت ہی غلط طریقے سے کیا ۔۔ منظور ! تم در اصل فرزانہ کے تیسرے عاشق ہو۔ غفورے کے خط لکھتے لکھتے تم خود بھی فرزانہ کے عشق میں گرفتار ہو چکے تھے۔ تمہاری محبت دوسرے دونوں دوستوں کی نسبت خاموش لیکن شدید تھی ۔ تم دل ہی دل میں فرزانہ کو حاصل کرنے کے منصوبے بنایا کرتے تھے۔ فرزانہ تمہیں بھائی جان کہتی تھی اور اپنے خطوں میں تمہاری خیر خیریت بھی دریافت کیا کرتی تھی کبھی بھی نہیں شک ہوتا تھا کہ وہ تم سےمحبت کرتی ہے لیکن تمہاری یہ محبت مئنے اور غفورے کی موجودگی میں پروان نہیں چڑھ سکتی تھی۔
آخر قدرت نے تمہیں ایک سنہری موقع دیا۔ غفورے اور منے کے درمیان فرزانہ سے ملاقات کی شرط لگی اور تمہیں پتہ چلا کہ منا شرط جیت گیا ہے۔ تم نے ایک منصو بہ بنایا تمہیں معلوم تھا کہ آج یا کل منالڈو لے کر غفورے کے پاس آئے گا اور غفورے کو کامیابی کی خبر سنا کر دل گیر کرے گا۔ تم نے غفورے کا راز دار بن کر اسے مشورہ دیا کہ کیوں نہ وہ اپنی خود کشی کا ڈرامہ رچائے تم نے اسے کہا کہ میں تمہیں ایک ہلکا سا ز ہر لا دیتا ہوں ۔ تم تھوڑی مقدار میں کھا لینا۔ میں تمہارے گھر والوں کو اطلاع دوں گا۔ وہ تمہیں ڈاکٹر کے پاس لے جائیں گے۔ تمہاری خود کشی کا ڈرامہ بھی کامیاب رہے گا اور تمہیں نقصان بھی نہیں پہنچے گا۔ فرزانہ کو جب تمہاری محبت کی شدت کا علم ہوگا تو وہ تمہاری طرف مائل ہو جائے گی۔
غفور تمہاری باتوں میں آگیا۔ تم نے اچھی طرح سوچی سمجھی سکیم کے تحت اپنی بہن کے سیاہ برقعے میں کچی بستی کا رخ کیا۔ دراصل تمہیں لڑکیوں کا بھیس بدلنے کی عادت ہے۔ ڈاکٹری زبان میں اسے ذہنی مرض بھی کہا جا سکتا ہے۔ کسی کو معلوم نہیں کہ تم جو اچھے بھلے مرد ہو، بند کمرے میں گھس کر عورتوں کی طرح بناؤ سنگھار بھی کرتے ہو۔ بہر حال یہ ایک علیحدہ کہانی ہے۔ تم بہن کا برقعہ پہن کر کچی بستی پہنچے۔ وہاں سے زہر خریدا پھر حلوائی مختار سے لڈو خریدے اور ان میں زہر ملایا۔ اس کے بعد تم رات کا انتظار کرنے لگے۔
حسب توقع اس رات تمہارے جانے کے بعد مُنا غفورے سے ملنے آیا۔ کچھ دیر غفورے کے پاس بیٹھ کر وہ چلا گیا۔ تم دوبارہ غفورے کے پاس پہنچے تا کہ خودکشی کے ڈرامے کو حقیقت کا رنگ دیا جائے۔ دراصل تم انتہائی مہلک زہر خرید کر لائے تھے اور تمہارا منصوبہ غفور ے کو قتل کرنے کا تھا۔ سب سے پہلے تم نے غفورے سے خود کشی کی تحریر لکھوائی جو تم اب میرے سامنے پیش کر رہے ہو۔ اگر منا، غفورے کے قتل کا ملزم نہ بھی ٹھہرتا تو بھی تم اس قتل میں نہیں پھنس سکتے تھے۔ کیونکہ تحریر تمہارے پاس تھی اور تم کسی بھی مناسب وقت پر اسے پولیس کی نظروں میں لا سکتے تھے۔ اس وقت بھی تمہارے پاس کوئی نہ کوئی بہانہ ہوگا کہ یہ تحریر اب تک کیوں چھپائی۔ بہر حال تحریر لکھوانے کے بعد نہایت سفا کی ہے تم نے۔ غفورے کو وہ زہر یلے لڈو کھلا دیئے ۔ غفورے پر غشی طاری ہونے لگی تو اس نے تمہاری منتیں کیں کہ کسی کو بلواؤ۔ تم بیٹھک سے نکل آئے اور باہر سے گنڈی چڑھا دی۔ غفورا اندر ہی تڑپ تڑپ کر مر گیا۔ جب تمہیں یقین ہو گیا کہ جگری دوست تم سے رحم کی بھیک مانگنے کے لیے زندہ نہیں رہا ہوگا تو تم دوبارہ داخل ہوئے۔ وہاں سے زہریلے لڈو اٹھائے اور اس کے ساتھ ساتھ منے کے لائے ہوئے بھی اٹھا لیے۔ منے کے لائے ہوئے لڈو تم اپنے گھر لے گئے جب کہ زہر یلے لڈو تم میرے گھر کے پچھواڑے پھینک دئیے۔ اس سے اگلے روز تم نے لکھائی بدل کر دو خط لکھے ایک مجھے اور دوسرا ڈاکٹر مہتا کو ۔ تم نے ڈاکٹر مہتا کو مجبور کیا کہ وہ منے کے خلاف گواہی دے۔ اس طرح تم نے ایک تیر سے دو شکار کیے منا جیل پہنچ گیا اور غفورا قبر میں تما منصوبہ بہت کامیاب تھا منظور ۔ اگر تین ہفتے پہلے کچہری روڈ پر ایک حادثہ نہ ہوتا اور ڈاکٹر نہ ہسپتال میں نزعی بیان نہ دیتا تو قانون کے ہاتھ کبھی تمہاری گردن تک نہ پہنچ سکتے ۔“ میری تقریر ختم ہوئی تو منظور کے ابھرواں رخساروں پر موت کی زردی کھنڈی تھی اور اس کے لواحقین کے چہرے لٹک رہے تھے۔
ہائی کورٹ نے میرے برادر نسبتی شکیل عرف کئے باعزت بری کر دیا۔ منظور کے خلاف دوسرے الزامات کے علاوہ دفعہ 302 کے تحت کی درج ہوا۔ سیشن کورٹ سے اسے سزائے موت ہوئی ، لیکن بعد ازاں ہائی کورٹ نے اس کی عمری کے پیش نظر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا۔ حالانکہ اس نے جس سفا کی۔ دوست کو موت کے گھاٹ اتارا تھا، میری خواہش تھی کہ اس کی سزا برقرار رہتی ۔۔ اس کہانی کا ایک کردار فرزانہ تھی۔ وہ ایک نہایت حسین اور پرکشش لڑکی تھی لیکن خراب کردار کی وجہ سے اسے اچھا رشتہ نہیں ملا۔ اپنے ہی خاندان کے ایک سانولے سے لڑکے سے اس کی شادی ہوگئی ۔ منا دوبارہ پڑھائی میں مصروف ہو گیا۔ اس کہانی کا ایک کردار میری بیوی تھی ۔ اس نے عہد کیا تھا کہ کبھی مجھے اپنی شکل نہیں دکھائے گی لیکن اپنے زندہ سلامت بھائی صورت دیکھ کر جہاں اس کے آنسوؤں نے ضبط کے بند توڑے وہاں اس کا عہد بھی ٹوٹ گیا
ختم شد ۔۔۔
