قسط وار ناول
وہ ہندوستان کا ایک بڑا شہر تھا۔ اُس وقت بھی بڑا تھا، آج کل تو بہت بڑا ہے۔ وہاں کا ایک مسلمان خاندان تھا۔ میں ان لوگوں کی شناخت پر وہ ڈالنے کے لئے شہر کا نام نہیں لکھوں گا اور مردوں اور عورتوں کے نام صحیح نہیں لکھوں گا کیونکہ اس خاندان کے تمام یا بعض افراد آزادی کے بعد پاکستان میں آگئے ہوں گے۔
اس خاندان پر پنجاب کا یا ایسے کہہ لیں کہ پنجابیت کا زیادہ اثر تھا اور یہ بہت امیر خاندان تھا۔ شہر میں ان لوگوں کے بہت سے مکان اور دکانیں کرانے پر چڑھی ہوتی تھیں اور شہر سے سو سوا سو میل دور سینکڑوں ایکٹر زرخیز اراضی تھی۔ اس علاقے میں فوجیوں کو حکومت برطانیہ نے اراضی کے مرلے بطور انعام دے رکھے تھے ۔ وہاں غیر فوجیوں کی بھی اراضی تھی۔ اس خاندان کے لوگ شہر میں رہائش پذیر تھے اور ان کے مکان کبھی کبھار کی عارضی رہائش کے لئے اراضی پر بھی تھے۔ اس خاندان کا ایک آدمی جس کا میں نام خالد رکھوں گا، چار پانچ دن بیمار رہ کر مر گیا۔ اُس کی عمر تیس سال سے زیادہ تھی ۔ اُس کی بیوی تھی اور ایک بچہ جس کی عمر سات سال کے لگ بھگ بتی خالد اپنی بیوی اور اس بچے کے ساتھ الگ مکان میں رہتا تھا۔
وہ جب مر گیا تو اُس کا باپ بھائی وغیرہ تھانے گئے اور یہ رپورٹ دی کہ خالد طبعی موت نہیں مرا جبکہ اسے زہر دیا گیا ہے۔ یہ لوگ چونکہ تعلیم یافتہ تھے اور سوسائٹی میں اونچی پوزیشن کے لوگ تھے اس لئے وہ کچھ شہادت اپنے ساتھ لے آتے تھے۔ انہوں نے دو ڈاکٹروں اور ایک حکیم کے نام اور پتے دیتے جنہوں نے خالد کا علاج کیا تھا۔ تھانہ انچارج نے دونوں ڈاکٹروں اور حکیم کو تھانے بلایا اور ان کی رائے لی کہ وہ مقتول کا علاج کس تشخیص پر کرتے رہے ہیں ۔ اس نے ان تینوں سے الگ الگ رپورٹ لی۔
دونوں ڈاکٹروں کی رپورٹ تقریبا ایک جیسی تھی، لیکن دونوں اس تک میں تھے کہ تشخیص صحیح نہیں ہوتی۔ ان کے بیانات کے مطابق خالد معدے اور جگر کے مقام پر تلخی کی شکایت کرتا تھا۔ یہ دولت مند لوگ تھے۔
اپنے مریض کو بہت جلد صحت یاب کرنا چاہتے تھے۔ ڈاکٹروں کا علاج ہو رہا تھا اور وہ حکیم کو بھی گھر لے آتے مریض کی حالت بگڑتی جارہی تھی ۔
حکیم کی رپورٹ یہ بھی کہ پہلے اُسے یہ شک ہوا کہ مریض پر یرقان کا حملہ ہوا ہے لیکن علامات ذرا مختلف ہو گئیں تو کیم کو شک ہوا۔ اس نے تھانہ انچارج کو بتایا کہ وہ ایسی بات اپنی زبان سے نہیں کہنا چاہتا تھا، لیکن اُس کا شک پختہ تھا کہ مریض کو زہر دیا گیا ہے یا اس نے غلطی سے کوئی زہوئی چیز کھالی ہے۔ حکیم نے زہر کو مارنے کی دوائی بھی دی لیکن مریض بیچ نہ سکا۔تھانہ انچارج نے اپنی تسلی کر کے لاش اپنے قبضے میں لے لی اور پوسٹ مارٹم کے لئے بھجوادی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں لکھا گیا کہ مقتول کو زہر دیا گیا ہے۔ معدے اگر وغیرہ کئے ٹکڑے ماہرین کے پاس بھی بھیج دیتے گئے۔ ان کی رپورٹ تیسرے دن آتی جس میں زہر خورانی کی تصدیق کی گنتی تھی۔ زہر کا اثر کچھ دیر بعد شروع ہوا تھا اور اس نے اپنا پورا اثر پانچ دنوں میں دکھایا ۔
اب خالد مقتول تھا۔ اس کے باپ اور بھائیوں وغیرہ نے اس کی بیوسی پر شک لکھوایا تھا۔ تھانہ انچارج نے ڈیڑھ دو ہفتے تفتیش کی ۔ پھر یہ کیس ہمارے پاس آگیا۔ میں جب اس واردات کی تفتیش کے لئے متعلقہ تھانے میں پہنچا تو مقتول کو مرے سترہ اٹھارہ روز گزر چکے تھے ۔
میں نے جب متعلقہ سب انسپکٹر سے واردات کی تفصیلات زبانی سنیں اور فاتل دیکھی تو یہ راز کھلا کہ اس نے دونوں طرف سے رشوت لی ہے یا دونوں پارٹیوں سے اتنامرعوب ہوتا رہا ہے کہ تفتیش کو صحیح لائن پر نہیں چھلا سکا۔ اس نے مقتول کی بیوی کو مشتبہ کی حیثیت میں شامل تفتیش کیا تھا اور تفتیش کو کچھ آگے بڑھایا تھا۔ اس عورت کا خاندان بھی دولت مند اور اثر و رسوخ والا تھا۔ بہر حال وجوہات ایسی پیدا ہو گئیں کہ یہ کیس ہمارے پاس آگیا۔ تفتیش کا انچارج میں ہی تھا۔ میرے ساتھ ایک ہندو اے۔ ایس آئی اور ایک مسلمان ہیڈ کانسٹیبل تھا۔
میں نے سب سے پہلے مخبروں کی اور دو تین معزز منبروں کی رپورٹوں پر غور کیا۔ تھانہ انچارج نے میرے کہنے پر انہیں پھر بلا لیا تھا۔ ان سب سے رپور میں لینے میں ایک دن اور رات کا کچھ حصہ گزر گیا ان سے یہ پتہ چلا کہ مقول خوبر و آدمی تھا۔ دولت مند بھی تھا اور خاصا عیاش آدمی تھا۔ میاں بیوی میں اکٹر لڑائی جھگڑا اور نا چاتی رہتی تھی۔ بیوی خاوند کے پاس اتنا زیادہ نہیں رہتی تھی جتنا اپنے ماں باپ کے گھر رہتی تھی۔ وہ بھی ستائیس اٹھائیس سال کی عمر کی پرکشش عورت بھتی اور ہوشیار بھی تھی۔ مجھے بتایا گیا کہ یہ عورت پال چین کی تو بری نہیں تھی لیکن قریبا دو سال پہلے اُس نے اپنی برادری کے ایک آدمی کے ساتھ تعلقات پیدا کر لئے تھے۔ یہ معلوم نہ ہو سکا کہ تعلقات صرف دوستی کی حد تک تھے یا نا جائز تھے۔
تھانہ انچارج نے اس آدمی کو بھی شامل تفتیش کیا تھا لیکن جب بھی اُسے تھا نے طلب کیا تو یہ جواب آیا کہ وہ شہر سے باہر گیا ہوا ہے۔ میں نے دیکھ لیا تھا کہ تفتیش نہ ہونے کے برابر ہوتی تھی اور اب یہ سارا کام میں نے الف سے شروع کرنا تھا۔ مجھے یہ سہولت حاصل تھی کہ میری بر اپنے کو اتنے اختیارات حاصل تھے جنہیں لامحدود بھی کہا جا سکتا ہے۔ میں نے تفتیش شروع کر دی مقتول کی بیوی اور اُس کے دوست کو معلوم نہیں تھا کر گفتیش از سر نو شروع کرنے کے لئے کوئی اور آگیا ہے ۔ وہ دونوں شاید خوش ہو رہے ہوں گے کہ تفتیش ڈھیلی پڑ گئی ہے اور یہ واردات عدم پتہ قرار دے دی جائے گی۔ میں نے اپنے اے۔ ایس۔ آتی اور ہیڈ کانسٹیبل کو تھانے کے ایک ہیڈ کانسٹیبل کے ساتھ مقتول کی بیوہ اور اس کے دوست کو تھانے لانے کے لئے بھیج دیا۔ میں نے انہیں کہا تھا کہ ان میں سے کوئی گھر نہ ملے تو اس گھر کے کسی ذمہ دار آدمی کو ساتھ لے آئیں اور وہاں تھانے کا یہ پیغام دے آتیں کہ مطلوبہ ہر فرد کو تھانے اور پیش نہ کیا گیا تو قانونی کارروائی کی جائے گی۔
چونکہ میرے آدمی اچانک جا پہنچے تھے اس لئے مقتول کی بیوہ جس کا نام پر دین تھا، گھر میں ہی مل گئی ۔ وہ ابھی اپنے خاوند کے گھر میں بھی اور اُس کا دوست بھی اُس کے گھر میں مل گیا۔ میرے آدمی جب ان دونوں کو ساتھ لانے کے لئے بجا چکے تھے، مجھے یاد آگیا کہ مقتول کے بیٹے کو بھی ساتھ لانا تھا
جس کی عمر سات سال کے لگ بھگ بتائی گئی سنتی ۔ میں یہ ایک کانسٹیبل کو پیچھے دوڑا یا گروہ اس لڑکے کو بھی ساتھ لے آتے۔
آشنائی بہت گہری تھی
تینوں آگئے۔ میں نے تفتیش اپنے ہیڈ کوارٹر میں کرنی تھی جو اسی شہر میں تھا لیکن میں کچھ وقت تھانے میں گزارنا بہتر سمجھتا تھا۔ میں نے سب سے پہلے مقتول کے بیٹے کو اپنے پاس بٹھایا ۔ اس کے ساتھ پیار محبت کی باتیں کیں ۔ وہ دوسری جماعت میں پڑھتا تھا۔ اُس سے اُس کے سکول کی باتیں پوچھیں اور اس طرح اُسے اپنے ساتھ بے تکلف کر کے اُس کے ماں باپ کے آپس کے تعلقات پوچھے۔ وہ بچہ تھا پھر بھی میں نے اپنے شک کے مطابق اس سے کچھ کام کی باتیں معلوم کرلیں۔ اس نے بتایا کہ اس کی ماں اس کے باپ کے ساتھ لڑتی جھگڑتی رہتی تھی۔
تمہارے ابو تمہاری امنی کو مارتے پیٹتے نہیں تھے ؟ میں نے پوچھا۔
ایک بار ابو نے امتی کو بہت مارا تھا۔ بچے نے جواب دیا پھراتی نانا ابو کے پاس چلی گئی تھی اور بہت دنوں بعد واپس آئی تھی یہ یہ کب کی بات ہے ؟”
پہنچے نے جو جواب دیا اس سے میں نے اندازہ لگا یا کہ یہ پندرہ سولہ دان پہلے کا واقعہ ہے۔ بچہ ابھی ہفتوں اور مہینوں کا حساب اچھی طرح نہیں بتا سکتا تھا۔ میں نے اُس کے ساتھ بہت باتیں کی تھیں اور پیار بھی بہت کیا تھا تا کہ کوئی میرے مطلب کی بات اُس کے منہ سے نکلے۔ ان باتوں میں میرا ایک سوال یہ بھی تھا کہ اُسے ابو اچھے لگتے تھے یا امتی۔ بچہ ذہین تھا اور وہ میرے ساتھ بے تکلف ہو گیا تھا۔
دونوں اچھے لگتے ہیں۔ اُس نے جواب دیا لیکن امتی کہتی ہیں کہ ابو کو اچھا نہ کہا کرو۔ وہ کہتی ہیں کہ چا افتخار کو اچھا کہا کر دیا
افتخار وہی شخص تھا جس کے ساتھ پر دین کی دوستی بیان کی گتی تھی ۔
وہ اس لڑکے کا بچا نہیں تھا نہ اس کا مقتول کے ساتھ خون کا کوئی رشتہ تھا۔
چا افتخار تمہارے گھر آتے رہتے ہیں ؟ میں نے پوچھا۔
کار ہی بچے نے جواب دیا کبھی کبھی آتے ہیں اور میرے لئے بڑی اچھی چیزیں لاتے ہیں “
تمہارے ابو بھی اس وقت گھر میں ہوتے تھے ہم نہیں بچے نے جواب دیا ” چچا افتخار اُس وقت آتے تھے
جب ابو زمین پر گتے ہوتے ہوتے تھے “
پولیس والوں کو چونکہ ایک خاص بات معلوم کرنی ہوتی ہے اس لئے وہ گھما پھرا کر اس بات پر آتے ہیں ۔ پوٹن کے اس اندازہ کو عام لوگ نہیں سمجھ سکتے۔ یہ ایک خاص طریقہ ہوتا ہے جو ٹریمنگ اور تجربے سے ہی حاصل ہوتا ہے۔ یہ بچہ تھا۔ بیچارہ سمجھ نہیں سکتا تھا کہ میں کیا جال پھینک رہا ہوں۔ اس کی باتوں سے یہ ثابت ہو گیا کہ پروین کی آشنائی یا دوستی افتخارہ کے ساتھ بہت گہری تھی۔ یہاں تک پتہ چل گیا کہ دو تین بار افتخار مقتول کی غیر حاضری میں بھی رات کو بھی پر دین کے پاس آیا ہے۔
انتخار کے ساتھ بات ہوتی تو اس نے جیسے محسوس ہی نہ کیا ہو کہ میں ایک شخص کے قتل کی تفتیش کر رہا ہوں اور وہ مقتبہ ہے۔ میں نے اُسے کہا کہ پروین کے ساتھ اس کے قریبی مراسم میں تو اُس نے ان الفاظ میں جواب دیا عجیب بکواس ہے ۔
افتخار بھائی ! میں نے شگفتہ سے لہجے میں کہا۔ یہ میں آپ کو علیم یافتہ اور معزز آدمی سبھا تھا لیکن آپ اچھے خاصے گنوار معلوم ہوتے ہیں۔
میں نے اُس سے اپنا تعارف کرایا اور کہا ذرا ہوش میں آئیں۔ بڑے شوق سے جھوٹ بولیں۔ مجھے گمراہ کرنے کی ہر ترکیب استعمال کریں لیکن سوچ سمجھ کرہ اور کوشش کریں کہ میں آپ کی عزت کرتا ہوں “
لیکن مجھے آپ نے کیا سمجھ کر بلایا ہے ” ۔ اُس نے پوچھا۔
مشتبہ سمجھ کر میں نے جواب دیا ویسا ہی مشتبہ جیسا چوری کی واردات میں ہوتا ہے، لیکن جناب قتل کی واردات میں مشتبہ ہیں …. آپ مقتول کی غیر حاضری نہیں رات کے وقت کتنی بار اس کی بیوی سے منے گتے ہیں ؟”
ایک بار بھی نہیں اُس نے جواب دیا ۔
و تم جھوٹ کہہ رہے ہو۔ میں نے اُسے ٹھکانے پر لانے کے لئے آپ کی بجائے تم کہنا شروع کر دیا اور کہا کوئی بھی لفظ جو تم یہاں منہ سے نکالو گے وہ عدالت میں تمہارے خلاف استعمال ہوگا۔ تم اپنے آپ کو بجا نہیں پھنسا ر ہے ہو “
وہ ٹھنڈا پڑنے لگا۔ میں نے اُسے بتایا کہ میں اُسے اپنے ہیڈ کوارٹر میں لے جاؤں گا اور وہاں اُس کے ساتھ جو سلوک ہوگا اسے وہ تصور میں بھی نہیں لا سکتا اور اگر وہ وہاں مر بھی گیا تو ہم سے کوتی باز پرس نہیں کرے گا۔
ہم اپنے بچاؤ کے طریقے جانتے ہیں۔ میں نے اسی طرح جب اپنا آپ اُسے دکھایا تو وہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا اور اس نے تسلیم کرلیا کہ پروین کے ساتھ اس کے تعلقات میں جو ڈیڑھ پونے دو سال پہلے شروع ہوتے تھے۔ اُس نے میرے بہت سے سوالوں اور جرح کے بعد یہ بھی مان لیا کہ پر دین اپنے خاوند سے تنگ بھی اور طلاق تک
سوچ چکی تھی۔
افتخار نے میری بہت سی مغز کھپاتی کے بعد یہ بھی تسلیم کر لیا کہ وہ پروین کی خاطر اپنی بیوی کو طلاق دینے پر آگیا تھا لیکن یہ معاملہ اس طرح آگے بڑھانا تھا
کہ پہلے پر دین مقتول سے طلاق ہے، لیکن مقتول طلاق دینے پر آمادہ نظر نہیں آتا تھا۔
کیا پروین نے مقتول سے طلاق کا مطالبہ کیا تھا؟”
نہیں افتخار نے کچھ دیر سوچ کر جواب دیا ۔ وہ ایسی جرآت نہیں کر سکتی تھی”
پھر تمہیں کیسے پتہ چلا کہ مقتول طلاق دینے پر آمادہ نہیں تھا ؟”
میرا یہ سوال سن کر افتخار کے چہرے پر گھبراہٹ سی آگئی جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ اس کے پاس کوئی جواب نہیں یا وہ غلط جواب دینے کی سوچ رہا ہے۔
افتخار میاں ! میں نے کہا میں اپنے سوال کا جواب خو دہی دے دیتا ہوں پر دین نے طلاق مانگی تھی اور مقتول نے انکار کرنے کی بجاتے اُس کی پٹائی کر دی معنی اور یہ دو اڑھاتی ہفتے پہلے کا واقعہ ہے۔
مجھے معلوم نہیں افتخار نے کہا ۔
تمہیں معلوم ہے میں نے کہا اور یہ بھی سوچ لو کہ میں نے ابھی پر دین سے یہی کچھ پوچھنا ہے۔ اُس کے جواب تمہار سے جوابوں سے ملاؤں گا۔
بال برابر بھی فرق ہوا تو تم دونوں حوالات میں بند ہو جاؤ گے اس لئے میں تمہیں راستہ دکھاتا ہوں۔ اپنے جرم کا اقبال کر لو۔ اگر مجھے تفتیش کی مزید پریشانی سے بچاؤ گے تو میں تمہیں بری ہونے کا راستہ دکھا دوں گا۔ کوئی معینی شاہد نہیں ہے۔ صرف یہ ثابت ہوا ہے
کہ مقتول کو زہر دیا گیا ہے۔
اُس نے ہر مشتبہ کی طرح مقسمیں کھانی شروع کر دیں اور یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ اس واردات کے ساتھ اُس کا کوئی تعلق نہیں، بہت کچھ کہا میری منت سماجت
بھی کی کہ میں اُس پر صرف اس وجہ سے شک نہ کروں کہ اس کی پروین کے ساتھ دوستی ہے۔ پولیس کی مجبوری یہ ہے کہ سموں پر یا کسی کے آنسووں پر یا کسی کی
منت سماجت پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ میں نے اسے کہا کہ وہ ثابت کر دے کہ اُس نے پروین کے ساتھ مل کر مقتول کو نہ ہر نہیں دیا۔
مصاحب، میں کیسے ثابت کروں اس نے اندھی ہوئی آواز میں کہا اگر آپ کے پاس میرے خلاف کوئی شہادت ہے تو اس پر مجھے گرفتار کر لیں”
میں گرفتاری کے بغیر ہی نہیں جب تک ضرورت محسوس کروں گا، اپنے پاس رکھوں گا میں نے کہا تم میری بات نہیں سمجھ رہ ہے۔ بہتر ہے کہ تم با ہر بیٹھ جاؤ اور اپنا اچھا برا سوچ لو-
میں نے اُسے باہر بھیج دیا اور پروین کو اندر بلالیا۔
وہ جذ باقی ہو گئی تھی پر دین کے چہرے کی خوبصورتی تو اپنی جگہ تھی لیکن اُس کے لمبوتر ے قد اور جسم کی ساخت میں زیادہ کشش تھی۔ میں حیران تھا کہ اس حسین عورت
کا خاوند عباس تھا اور وہ دوسری عورتوں کے پیچھے جھک مارتا پھرتا تھا۔ اسی سے میں نے اندازہ کر دیا کہ مقتول اخلاقی لحاظ سے بہت پست تھا۔ میں نے پروین کے چہرے کو غور سے دیکھا۔ مجھے غم کا وہ تاثر نظر نہ آیا جو ایک بیوہ کے چہرے پر ہوا کر تا ہے۔ میں نے اس کے ساتھ ہمدردی اور اپنائیت کی باتیں کیں تا کہ وہ گھبراہٹ سے نکل سکے۔
پر دین ! میں نے کہا۔ باقی باتیں تو ہوتی رہیں گی، بڑا نہ جانو تو ایک بات کہوں … جسے تم جیسی بیوی مل جائے وہ تو ساری دنیا کو بھول جائے۔
معلوم ہوتا ہے خالد گناہوں میں ڈوب گیا تھا۔ کمبخت اندھا ہو گیا تھا جو تمہاری قدر نہ کر سکا ہے
اُس نے آہ بھری اور سر جھکا لیا ۔
کیا وہ شروع سے ہی ایسا تھا ؟” میں نے پوچھا ۔
شروع سے ہی پروین نے جواب دیا ” بزرگوں کا فیصلہ تھا
کہ میری شادی اسی کے ساتھ ہو گی یہ و معلوم ہوتا ہے افتخار کے ساتھ تمہاری دوستی انتقامی کارروائی ہے”
میں نے کہا یہ قدرتی معاملہ ہے۔ میں تمہاری مجبوری کو سمجھتا ہوں “
اُس نے مجھے یوں چونک کر دیکھا جیسے میں نے اُسے بے خبری میں سوتی جیھودی ہو۔
میں بھی انسان ہوں پر دین ! میں نے کہا انسانی جذبات کو سمجھتا ہوں .. کہیں ایسا تو نہیں کہ تم افتخار کے ساتھ شادی کرنا چاہتی تھیں لیکن خالد کے ساتھ ہوگئی؟ میرا خیال ہے تم نے خالد کو دل سے قبول نہیں کیا نقاء اُس کی تو جیسے زبان اکٹڑ گئی تھی۔ بولتی ہی نہیں تھی۔
ر دین ! میں نے اُس کے سر کو اپنے ہاتھ سے ذرا ہلا کر کہا۔ کہاں کھوگتی ہو ! مجھے تمہارے حالات کا علم ہے۔ تم شاید حیران ہورہی ہو کہ
تمہارے راز مجھ تک کیسے پہنچ گئے ہیں تم تلیم یافتہ ہو جاسوسی ناول اور کہانیاں پڑھتی ہوگی میں انہی کہانیوں والا سراغرساں ہوں ۔ زمین میں دفن کہتے ہوتے راز بھی نکال لیا کرتا ہوں۔ کہہ دو میں غلط کر رہا ہوں”
وہ پھر بھی چپ رہی ۔
کیا تم نے دیکھا نہیں کہ میں نے تمہارے بچے کو آپنے پاس بیٹھا تے رکھا ہے ؟” میں نے کہا اور تم نے یہ بھی دیکھا ہے
کہ افتخار سے میں نے اڑھائی گھنٹے پوچھ گچھ کی ہے۔ وہ عقل والا ہے۔ میری بات سمجھ گیا تھا۔ اس نے کوئی راز نہیں رہنے دیا۔ تم بھی پردہ اٹھا دو۔ کئی باتیں تو تمہار سے بچے کے منہ سے میں نے کہلوالی ہیں۔ اب میں تمہاری زبان سے کچھ سننا چاہتا ہوں“
کیا آپ کو یہ شک ہے کہ اپنے خاوند کو میں نے زہر دیا ہے ۔ اُس نے کہا۔
نہیں پروین ! میں نے کہا سمجھنے کی کوشش کرو۔ میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ تم نے اپنے خاوند کو زہر نہیں دیا لیکن میں تمہارے تعاون کے بغیر یہ کیسے ثابت کر سکتا ہوں یہ مجھے بتائیں اس نے کہا آپ کو کیسے تعاون کی ضرورت ہے “
میں جو کچھ پوچھوں وہ سچ سچ بتا دو میں نے اُس کی طرف جھک کر کہا میری تمہارے ساتھ کیا دشمنی ہے؟ بلکہ میری ہمدردیاں تو تمہارے ساتھ میں مظلوم تم ہو۔ یہ تومیں بھی برداشت نہیں کر سکتا کہ طوائفوں کے کوٹھوں پر جانے والا خاوند تم جیسی بیوی کو مارے پیٹے ۔… افتخار کے ساتھ جو تمہاری دوستی ہے، اس پر مجھے کوئی اعتراض نہیں ۔ قانون کو بھی اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ اس پر پردہ ڈالنے کی کوشش نہ کرو تم اب عدت پوری کر کے آسانی سے افتخار کے ساتھ شادی کر سکتی ہو لیکن میرا شک رفع کر دو۔ چونکہ افتخار نے سب کچھ بتا دیا ہے تم بھی بتادو میں تمہیں بچا لوں گا
میں لے یا افتخار نے خالد کو زہر نہیں دیا پروین نے کہا وہ زمینوں پر گیا ہوا تھا۔ ڈیڑھ مہینہ وہاں رہا۔ واپس آیا تو اسی رات اُسے یہ تکلیف شروع ہوتی جس سے وہ فوت ہوا ہے …. اس کے ساتھ میرے تعلقات تو کئی سالوں سے ٹھیک نہیں تھے۔ زہر دے کر مار نا ہوتا تو پہلے ہی اُسے زہر دے دیتی “
تمہاری یہ باتیں مجھ پر اثر نہیں کر رہیں۔ میں نے کہا ” افتخار کے ساتھ تمہارے تعلقات تھوڑے ہی عرصے سے شروع ہوتے تھے۔ اس کے ساتھ شادی کرنے کے لئے تم نے خالد سے طلاق مانگی سنتی لیکن اُس نے تمہیں مارا پیٹا۔ اس کے بعد یہی ایک طریقہ رہ گیا تھا کہ خالد کو زہر دے دیا جائے۔
افتخار کے لئے اپنی بیوی کو طلاق دینا مشکل نہیں تھا “
آپ بار بار میرے اور افتخار کے تعلقات کی بات کرتے ہیں۔ اُس نے کہا خالد نے کئی عورتوں کے ساتھ جو تعلقات بنا رکھے تھے، اُن کا آپ نام نہیں لیتے ۔ آپ کو شاید معلوم نہیں کہ وہ کس قماش کا آدمی تھا۔ مجھے پتہ چلتا رہتا تھا کہ وہ باہر کیا کر رہا ہے۔ اپنی زمینوں پر جا کر بھی وہ عیاشیاں کرتا تھا۔ میں تو کہتی ہوں کہ اُسے وہیں کسی نے زہر دے دیا تھا جس کا اثر گھر اگر ہوا میں آپ کو مکالمے ہی نہیں سناتا رہوں گا۔ کہانی کو آگے بڑھا ؤں گا۔
سوال اور جرح کر کر کے میں نے پروین کا دماغ خراب کر دیا تھا۔ آپ یوں سمجھیں کہ وہ جس طرف سے بھی نکلنے کی کوشش کرتی تھی، میں اُسے آگے سے روک لیتا تھا۔ اپنے بعض سوالوں کا اُس سے جواب سن کہ میں ویسے ہی کہہ دیتا کہ افتخار نے تو مجھے کچھ اور بتایا ہے ۔ وہ آخر اس قدر تنگ آگتی کر کہنے لگی کہ وہ سارے حالات سنادیتی ہے۔ اُس نے اُس دن سے بات شروع کی جس دن وہ خالد کی دلہن بن کر آتی تھی۔
اُس پہلی رات بھی اُس کے مُنہ سے شراب کی بو آرہی تھی”
پروین نے کہا اُس نے کوئی جذباتی یا رومانی بات نہ کی۔ اس وقت اُس کی عمر باتیں یا تیس سال تھی لیکن وہ پختہ کار بدمعاش لگتا تھا۔ بخدا میں ایسے محسوس کرنے لگی تھی کہ میں طوائف ہوں اور یہ میرا گاہک ہے۔ میں تو کچھ اور ارمان لے کر آتی تھی۔ میں نے اُس کے ساتھ جذباتی باتیں کیں جن کی اُس نے ذراسی بھی قدر نہ کی …
تین چار دنوں میں ہی مجھے پتہ مل گیا کہ یہ مجھے اپنی داشتہ سمجھتا ہے کچھ دن مجھے سیر سپاٹے کے لئے لے جاتا رہا۔ زمینوں پر بھی لے گیا۔ وہ جگہ مجھے زیادہ اچھی لگی۔ ہر طرف سبزہ ہی سبزہ تھا اور خالد نے وہاں بڑا خوبصورت مکان بنایا ہوا ہے۔ پھر وہ مجھے زمینوں پر تین چار بار لے گیا۔ ہر بار وہاں پندرہ بیس دن رہے
اور آگئے۔ یہ پہلے پانچ چھ سالوں کی بات ہے۔ چار سال گزرگتے ہیں، وہ مجھے وہاں نہیں لے گیا۔ خود جاتا تھا اور ڈیڑھ دو مہینے گزار کر آتا تھا …..
وہ اس شہر میں جو کچھ کرتا تھا وہ مجھے جلدی ہی معلوم ہو گیا تھا۔ انیسہ اور نجر یہاں کی مشہور گانے اور ناچنے والیاں ہیں۔ کچھ عرصے سے ان کے ہاں جاتا تھا۔ سنا ہے نجمہ بہت خوبصورت ہے اور خالد اُس کا عاشق بنا ہوا ہے۔ یہ بھی تنا ہے کہ خالد جیسا ایک اور شہزادہ بھی نجمہ کا ہی چاہنے والا ہے اور ان کی آپس میں رقابت پر لڑائی بھی ہوتی محنتی اور شاید ان کی آپس میں دشمنی بھی چلتی رہی ہے۔ آپ اگر معلوم کرنا چاہیں تو خالد کے دوستوں سے معلوم کر سکتے ہیں،
