مکمل ناول
نغمہ کی شادی کو ابھی چار دن ہی ہوئے تھے کہ اس کے شوہر جمال نے اپنے سابقہ معاشقوں کے قصے اپنی محبوباؤں کے جسمانی خدو خال کی تفصیلات کے مطابق
سنانا شروع کر دیے۔
بیتے لمحوں کی داستانیں وہ تمام جزئیات کے ساتھ یوں بیان کرتا گویا اس نے بڑی محنت سے ہر موضوع پر لیکچر تیار کر رکھا ہو اور اسے ڈر ہو کہ کوئی پوائنٹ میں ہو گیا تو
اس کے نمبر کٹ جائیں گے۔
نغمہ سر جھکائے خاموشی سے سنتی رہتی اور جمال کے ہاتھ اس کے سراپے پر رینگنے لگتے۔ اس کا دل چاہتا کہ وہ جلدی سے یہ ہاتھ جھٹک دے کیونکہ ان ہاتھوں
کے لمس سے اسے کراہت سی محسوس ہوتی۔ اسکا ذہن اس کے جسم کا ساتھ نہ دیتا اور وہ اپنے آپ کو سپردگی کیلئے تیار نہ کر پاتی۔
جمال حسب دستور اس کے ہر ہر خدو خال کو چھوتے ہوئے اپنی کسی نہ کسی سابقہ محبوبہ کی تعریفوں میں زمین اور آسمان سمو دیتا اور اسے اپنی طرف متوجہ نہ پا کر جھنجھلا
اٹھتا۔
تم تو بالکل ٹھنڈی عورت ہو”
نغمہ کو اپنے جسم کے اندر برف کی سلوں جیسی ٹھنڈک کا احساس ہوتا اور وہ محض اس خیال سے جمال کے پہلو میں لیٹی رہتی کہ اسے مذہبی اور قانونی فریضہ ادا
کرتا ہے۔
فرض کی ادائیگی اگر خوشی سے کی جائے تو وہ باعث سکون و طمانیت ہوتا اور اگر مجبوری کی طرح فرض نبھایا جائے تو وہ ذہنی الجھنوں میں اضافہ کا باعث بنتا ہے۔
لہذا اس کی ذہنی الجھنیں بڑھتی گئیں۔
حالانکہ اسکے گھر میں اور بہت سی عورتیں تھیں ۔ ساٹھ سالہ ساس جو شادی کےچوالیس سال گزارنے کے بعد بھی اپنے شوہر کے رات کو پاس بلانے کا اعلان کرتے
ہوئے مسکرا کر اسے دیکھتی گھر میں جتنے کمرے تھے سب میں اس کی نندیں اپنے اپنے شوہروں کے ساتھ براجمان تھیں اور چونکہ سب کے پاس شادی شدہ ہونے کا
سرٹیفکیٹ یعنی لائسنس موجود تھا۔ لہذا جب جس کا جی چاہتا کمرے کے اندر کنڈی چڑھا لیتا۔
اس کا بھی جی چاہتا کہ وہ اپنے شوہر جمال سے لپٹ جائے اور خوب پیار کرے۔ جمال اس کا شوہر ہی نہیں محبوب بھی تھا۔ اس نے اسے پانے کیلئے ہزاروں تیں مانگی تھیں اور جب وہ اس کے ہاتھ میں نکاح کی انگوٹھی پہنا رہا تھا تو وہ خود کو دنیا ما خوش قسمت ترین عورت سمجھ رہی تھی ۔ مگر جمال کے کمرے میں آتے ہی نجانے کہاں سے کوئی زرینہ، فریحہ یا غزل بھی ساتھ ہی کمرے میں آجاتیں اور اپنے جسم کے ان حصوں کی نمائش کرنے لگتیں جن کی تعریفیں کرتے ہوئے جمال کسی انجانی دنیا میں پہنچ جاتا تھا۔ سردی کی لہریں نغمہ کے جسم کے اندر دوڑنے لگتیں اور وہ بالکل بے حس و حرکت بستر پر پڑی رہتی۔ جمال کے وجود کی گرمی بھی اس برف کو نہ پکھلا سکتی اور وہ جھنجھلا کر کہتا ۔ ” تم تو بالکل ٹھنڈی عورت ہو”
دن مہینوں اور پھر سالوں میں بدلنے لگے۔ اس کے آنگن میں دو پیارےپیارے بچے عرفان اور نعمان کھیلنے لگے۔ وہ بچوں اور گھر داری میں مصروف ہو گئی۔
جمال کی گھر سے باہر مصروفیات بڑھنے لگیں اور پھر اس نے راتوں کو دیر سے آنا شروع کر دیا۔ نغمہ کے احتجاج پر جواب ملتا تمہیں کیا فرق پڑتا ہے تم بچوں کے ساتھ جلدی
سو جاتی ہو۔ میں گھر رہوں یا باہر تمہارا کیا بگڑتا ہے”
آدھی رات سے بڑھ کر جمال کے آنے کا وقت صبح پانچ چھ بجے تک پہنچ گیا۔
نغمہ کے احتجاج پر لڑنا جھگڑنا اور مار پیٹ کرنا جمال کا معمول بن گیا اور اس نے ٹھنڈی عورت کے کمرے سے اپنا بستر بھی ہٹا لیا۔ کیونکہ اس کی کاروباری مصروفیات بڑھ چکی
تھیں اور رات بھر اس کے کاروباری ٹیلیفون آنا ہوتے تھے۔
بچے گھر کے اس ماحول سے خوفزدہ رہنے لگے۔ باپ جب بھی گھر آتا وہ سہمے رہتے کہ ابھی کوئی ہنگامہ ہوگا۔
آخر کار نغمہ نے جمال کو پوچھنا چھوڑ دیا۔ وہ اس کے کمرے کی طرف بھی نہ جاتی اور یوں دونوں ایک دوسرے سے کوئی بات نہ کرتے ۔ جمال کو کھانا اور ناشتہ
وغیرہ دینا نوکرانی کے ذمہ تھا۔ نغمہ اس سے بالکل ہی بے تعلق ہی ہو گئی۔
اور پھر ایک دن اچانک حیدر علی نغمہ کی زندگی میں چلا آیا۔ نغمہ کی سہیلی شہلا کے بھائی کی شادی تھی اور اسکا دوست حیدر علی اسلام آباد سے شادی میں شرکت کے لئے
آیا تھا۔
حیدر علی مردانہ وجاہت کا بھر پور شاہ کار تھا۔ لمبا قد ، کھلتا ہوا رنگ ، بڑی سیاہ آنکھیں اور بالوں میں چمکتے ہوئے تھوڑے سے چاندی کے تار۔ جو اسکے وقار میں
اضافہ کر رہے تھے۔
نغمہ نے اسے دیکھا تو دیکھتی ہی رہ گئی۔ وہ بھی اس کے قریب آ گیا۔ بہت ساری باتیں کرتا رہا۔ اس کے لہجے کی اپنائیت آواز کی گرمی اور ذہانت سے وہ اس کی گردیدہ ہوگئی۔
پھر یوں ہوا کہ وہ فرصت ملتے ہی بہانے بہانے شہلا کے گھر جا پہنچتی ۔ بھئی طارق بھائی کے دوست کہاں ہیں؟“
اور شہلا بھی حیدر علی کے آتے ہی اسے بلالیتی ۔
شام کی چائے اور دو پہر کے کھانے پر ملاقات ہوتی۔ باتیں ہوتیں اور نغمہ ایک سکون اور طمانیت کا احساس لئے گھر آجاتی۔
اس کے چہرے کی پژمردگی ختم ہونے لگی اور آپ ہی آپ ایک مسکراہٹ اسکے ہونٹوں پر سج گئی۔ ایک نیا سرور اس کے وجود پر گیا اور اسے احساس ہوا جیسے اس نے دوبارہ زندگی سے دوستی کر لی ہے۔
ور نہ وہ تو کبھی کی مردہ ہو چکی تھی اور بے دلی سے زندگی گزار رہی تھی ۔ اسکو ہر وقت ہر لمحہ حیدر علی کا انتظار رہنے لگا اور وہ اس کی آمد کے لئے اپنے کپڑوں اور میک اپ پر بھی توجہ دینے لگی۔
اور پھر وہ دن آیا جب شہلا کے گھر حیدر علی اور وہ بالکل ہی اکیلے تھے۔ حیدر علی صوفے پر اس کے قریب آگیا۔ دھیمے لہجے میں باتیں کرتے ہوئے اس نے آہستگی سے نغمہ کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ نغمہ کے جسم میں انگارے بھر گئے ۔
حیدر علی نے اس کے بالوں کو ، گالوں کو گردن کو آہستہ آہستہ چھوا اور وہ آپ ہی آپ اس کے چوڑے چکلے سینے میں دھنستی چلی گئی۔ اس کی تیز ہوتی سانسوں اور جلتے ہونٹوں کو چھوتے ہوئے حیدر علی نے سرگوشی کی۔و تم تو بہت گرم ہو۔ تمہارے اندر اتنی گرمی ، انتا الاوا ہے میں نے تو سوچا بھی نہ
