مکمل ناول
رات کا وقت تھا۔ گاؤں کی خاموشی ایسی گہری تھی کہ درختوں کی سرسراہٹ بھی صاف سنائی دے رہی تھی۔ آسمان پر بادلوں کی دبیز تہہ چاند کو مکمل طور پر چھپا چکی تھی، اور زینب کے کمرے میں اندھیرا کچھ زیادہ ہی گہرا محسوس ہو رہا تھا۔
زینب کی آنکھ اچانک کھل گئی۔ اس نے خود کو ہلتے جلتے کمبل میں لپیٹا، کمرے کی خاموشی کو سننے لگی۔ کچھ تھا، کوئی آواز… جیسے کسی کے ننگے پیر لکڑی کے فرش پر آہستہ آہستہ چل رہے ہوں۔
کچھ ہی لمحوں بعد اسے محسوس ہوا کہ وہ آواز اس کے کمرے کے دروازے کے باہر رُک گئی ہے۔ دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ اس نے آنکھیں بند کر لیں، لیکن کان پوری طرح چوکس تھے۔
چررررر۔۔۔
دروازے کے ہینڈل میں ہلکی سی حرکت ہوئی۔ زینب کی سانس رک گئی۔
“کک… کون ہے؟” اس نے دھیمی آواز میں پوچھا، مگر جواب نہیں آیا۔
پھر اچانک دروازہ آہستہ آہستہ کھلنے لگا، جیسے ہوا کے زور سے نہیں… کسی کے ہاتھ سے۔
زینب اٹھ بیٹھی۔ چاندنی کی غیر موجودگی میں کمرہ مکمل تاریک تھا۔ دروازے کی درز سے ہلکی سی ٹھنڈی ہوا اندر آئی۔ لیکن باہر کچھ نظر نہیں آیا، صرف سیاہی۔ اور تب… کمرے کی ایک دیوار پر سایہ حرکت کرتا نظر آیا — ایک انسانی شکل کا سایہ، جو بغیر کسی آواز کے سرک رہا تھا۔
زینب نے چیخنے کی کوشش کی، لیکن آواز جیسے گلے میں اٹک گئی ہو۔
اچانک وہ سایہ دیوار میں غائب ہو گیا۔ اور ہر چیز خاموش ہو گئی۔
زینب کئی منٹ تک وہیں بیٹھی رہی۔ ہاتھ سرد، پیشانی پسینے سے بھیگی ہوئی۔ اس نے جلدی سے دروازہ بند کیا، کنڈی چڑھائی اور بستر پر لیٹ گئی۔
مگر نیند… وہ اس رات واپس نہ آئی۔
صبح کی روشنی جیسے ہی کھڑکی سے اندر آئی، زینب کی آنکھیں کھل گئیں، مگر نیند اُس کی پلکوں سے کوسوں دور تھی۔ رات کی وہ آہٹ، وہ سایہ… سب کچھ جیسے ابھی تک اس کے ذہن میں زندہ ہو۔ اس نے بستر سے اٹھ کر چادر اوڑھی اور دھیرے دھیرے کچن کی طرف چلی گئی، جہاں اس کی ماں چولہے پر چائے بنا رہی تھی۔
ماں نے زینب کے چہرے کو دیکھا اور فوراً پہچان گئی کہ کچھ ٹھیک نہیں۔
“کیا ہوا زینب؟ رات کو ٹھیک سے سوئی نہیں؟”
زینب نے چند لمحے سوچا، پھر ہمت کر کے بولی:
“اماں… وہ جو صحن کے پیچھے ایک پرانا کمرہ ہے نا…”
ماں کی سانس رک سی گئی۔ ہاتھ میں چمچ ساکت ہو گیا، جیسے وقت تھم گیا ہو۔
“تم نے وہاں جانا تو نہیں؟” آواز میں گھبراہٹ تھی، اور آنکھوں میں برسوں پرانے ڈر کی جھلک۔
“نہیں اماں… بس… کل رات کچھ عجیب سا محسوس ہوا۔ کسی کے چلنے کی آواز آئی۔ اور دروازہ…”
ماں نے فورا ہاتھ پکڑ کر اسے چپ کرا دیا۔
“بس! کچھ مت بولو۔ اس کمرے کا نام بھی نہ لو۔ تمہیں نہیں معلوم وہ کیا جگہ ہے۔”
زینب کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔
“آخر وہاں ہے کیا؟ کوئی رہتا ہے؟ یا پہلے کوئی رہتا تھا؟”
ماں نے آہستہ سے چولہا بند کیا، اور پاس بیٹھ گئی۔
“یہ باتیں بہت پرانی ہیں زینب۔ جب تم پیدا بھی نہیں ہوئی تھیں۔ یہ گھر جب ہم نے خریدا تھا، تب بھی وہ کمرہ بند تھا۔ تب بھی ہم نے اسے کبھی نہیں کھولا۔”
“کیوں؟ کسی نے منع کیا تھا؟”
“نہیں۔ مگر جو بھی اس کمرے میں گیا… واپس وہی نہیں رہا۔ یا تو پاگل ہو گیا… یا غائب۔”
زینب کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔
“مگر اماں… اگر صرف ایک پرانا کمرہ ہے، تو…”
“زینب!” ماں کی آواز سخت ہو گئی۔
“یاد رکھو، کچھ دروازے صرف بند ہی اچھے لگتے ہیں۔ وہ جو کمرہ ہے نا… وہ ہمارے گھر کا حصہ نہیں ہے۔ وہ کسی اور کی جاگیر ہے۔ پرانی، اندھی، اور بھولی نہیں۔ وہ جاگ سکتی ہے… بس تم اُسے مت جگانا۔”
زینب کچھ نہ بولی۔ ماں کی باتوں نے خوف کو اور گہرا کر دیا۔ مگر اس کے دل میں ایک اور جذبہ بھی جاگ رہا تھا… تجسس۔
دن گزرتے رہے، مگر زینب کا دل رات کی آہٹ اور ماں کی باتوں سے آزاد نہ ہو سکا۔ وہ جب بھی صحن سے گزرتی، اُس پرانے کمرے کے دروازے کو دیکھتی، جیسے وہ دروازہ خود اسے اپنی طرف بلا رہا ہو۔
کمرے کا دروازہ بوسیدہ لکڑی کا تھا، جس پر وقت کی مہر لگی تھی۔ زنگ آلود کنڈی، ٹوٹی ہوئی چوکھٹ، اور دیواروں پر پھپھوندی کے نشان — سب کچھ خوفناک مگر پراسرار لگتا تھا۔ مگر زینب کا تجسس، اُس کے خوف سے زیادہ طاقتور ہو چکا تھا۔
ایک دن ایسا آیا جب گھر کے سب افراد ایک قریبی عزیز کی شادی پر گئے۔ زینب کی طبیعت خراب تھی، اس لیے وہ گھر پر رہ گئی۔ مگر دل میں کچھ اور ہی تھا۔
دن کے دوسرے پہر جب ہر طرف سناٹا تھا، زینب چپکے سے صحن کے پچھلے حصے میں پہنچی۔ اس کے قدم جیسے خودبخود اُسے اس پرانے دروازے تک لے گئے۔ دروازے کی کنڈی کو ہاتھ لگایا تو وہ ٹھنڈی اور نم محسوس ہوئی۔
چررر۔۔۔
دروازہ ایک ہلکی سی چرچراہٹ کے ساتھ کھل گیا۔
کمرے کے اندر گہرا اندھیرا تھا۔ ایک بوسیدہ سی بو، جو بند جگہوں میں برسوں سے جمع ہو جاتی ہے، اس کی ناک میں اتر گئی۔ زینب نے ایک ماچس جلائی، اور کمرے کو دیکھنے لگی۔
کمرہ چھوٹا تھا، اور تقریباً خالی۔ صرف ایک پرانا لکڑی کا تخت، کونے میں ایک ٹوٹا ہوا بکس، اور سامنے دیوار پر ٹنگا ہوا ایک بڑا، قدآور آئینہ۔ آئینہ گرد سے اَٹا ہوا تھا، مگر زینب کو اس کی سطح پر کوئی حرکت سی محسوس ہوئی۔
وہ قریب گئی، اور اپنے دپٹے سے آئینے کی سطح صاف کی۔
لیکن جیسے ہی گرد ہٹی… زینب کا دل دھک سے رہ گیا۔
آئینے میں اس کا عکس موجود نہیں تھا۔
وہ وہیں کھڑی تھی، ماچس کی روشنی اُس کے چہرے پر تھی، مگر آئینے میں کچھ اور دکھائی دے رہا تھا — ایک اور عورت… لمبے بکھرے ہوئے بال، جلا ہوا چہرہ، خالی آنکھیں… اور ایک آہستہ سی، کپکپاتی ہوئی مسکراہٹ۔
زینب کے قدم جیسے زمین میں دھنس گئے۔ وہ کچھ کہنا چاہتی تھی مگر زبان بند۔ وہ عورت، وہ عکس… جیسے آہستہ آہستہ اُس کی طرف بڑھ رہا ہو۔
پھر یکایک — ماچس بجھ گئی۔
کمرے میں مکمل اندھیرا چھا گیا۔
اور دروازہ… خودبخود بند ہو گیا۔
دروازہ زور سے بند ہوا تو زینب کی چیخ گلے میں ہی دب گئی۔ کمرے میں مکمل تاریکی چھا چکی تھی۔ وہ کچھ لمحوں تک وہیں ساکت کھڑی رہی، جیسے زمین نے اُسے جکڑ لیا ہو۔
اس کی سانسیں تیز ہو چکی تھیں، اور دل کی دھڑکن اتنی بلند ہو گئی تھی جیسے سارا کمرہ اسے سن سکتا ہو۔ اندھیرے میں ہر طرف ایک بھاری، بھیگی ہوئی خاموشی چھائی ہوئی تھی۔
پھر اچانک…
آہستہ آہستہ آئینے سے سرسرانے کی آواز آنے لگی۔
زینب نے وہیں سے پلٹ کر آئینے کی طرف دیکھا — اب وہ خود کو بالکل بھی نہیں دیکھ پا رہی تھی، لیکن آئینے کی سطح پر ایک چہرہ آہستہ آہستہ ابھرنے لگا۔ وہی جلا ہوا چہرہ، وہی راکھ زدہ جلد، اور… وہی جان لیوا، زہریلی مسکراہٹ۔
مگر اب… اُس عورت نے صرف مسکرانا نہیں کیا — اس نے آنکھ جھپکائی۔
زینب نے چیخنے کی کوشش کی، لیکن منہ جیسے بند ہو گیا ہو۔ جسم کی ہڈیوں میں سنسناہٹ دوڑ گئی۔ اور پھر…
آئینے کی سطح ہلکی ہلکی دھند کی طرح کپکپانے لگی، جیسے وہ شیشہ نہ ہو، بلکہ پانی کی کوئی سطح ہو… یا کوئی دروازہ۔
زینب نے دیکھا — آئینے کے اندر اب صرف چہرہ نہیں، پورا کمرہ دکھائی دے رہا تھا۔ مگر وہ کمرہ یہ نہیں تھا۔ وہ جگہ سیاہ تھی، راکھ سے بھری ہوئی، دیواروں پر خون جیسے نشان، اور فرش پر کوئی پرانا لکڑی کا جھولا آہستہ آہستہ جھول رہا تھا۔
پھر، وہ عورت جو آئینے میں تھی، آہستہ آہستہ زینب کی طرف بڑھنے لگی… مگر آئینے کے اندر نہیں — شیشے سے باہر۔
زینب نے پیچھے ہٹنے کی کوشش کی، مگر اس کے پاؤں جیسے زمین سے چپک چکے تھے۔ کمرے کی فضا میں سردی بڑھتی گئی، سانس سے بھاپ نکلنے لگی۔
پھر وہ عورت، آہستہ آہستہ آئینے سے باہر نکل آئی — صرف چہرہ نہیں… پورا وجود۔ اُس کی انگلیاں لمبی، جلی ہوئی، ناخن سیاہ… اور آنکھوں میں کوئی روشنی نہیں، صرف خلا۔
زینب کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اس نے آنکھیں بند کر لیں، کلمہ پڑھنا چاہا… لیکن زبان سے ایک لفظ بھی نہ نکلا۔
اور جب اس نے دوبارہ آنکھ کھولی…
وہ عورت سامنے نہیں تھی۔
نہ کمرے میں، نہ آئینے میں۔
بس ایک گہری، بھیانک خاموشی… اور دیوار پر جلتا ہوا ایک لفظ:
شام ڈھل چکی تھی، اور گھر کے سب لوگ شادی سے واپس آ چکے تھے۔ سب خوش تھے، تھکے ہوئے، اور ہنستے ہوئے اندر داخل ہوئے۔ مگر جیسے ہی اماں نے زینب کا نام پکارا، کچھ لمحے بعد ان کا چہرہ سنجیدہ ہو گیا۔
“زینب؟… زینب بیٹی؟ کہاں ہے تُو؟”
کمرے، باورچی خانہ، چھت، صحن — پورے گھر کا کونہ کونہ چھان مارا گیا، مگر زینب کا کوئی نشان نہ ملا۔ وہ چپل جو ہمیشہ دروازے کے قریب رکھی ہوتی تھی، وہیں موجود تھی۔ چادر بستر پر پڑی تھی۔ جیسے وہ ابھی ابھی یہاں سے گئی ہو…
تب ابّا کی نظر صحن کے پچھلے حصے پر گئی۔
“اسے کہیں اُس کمرے کا خیال تو نہیں آ گیا؟”
سب کے چہروں پر خوف کی ایک جھلک سی دوڑ گئی۔
ماں نے کانپتی آواز میں کہا:
“نہیں… وہ اتنی نادان نہیں…”
مگر وہ دروازہ — جو برسوں سے بند تھا — آج کھلا تھا۔
جب وہ سب وہاں پہنچے تو دروازہ ہولے سے جھول رہا تھا، جیسے کسی نے ابھی ابھی ہاتھ چھوڑا ہو۔ اندر داخل ہونے کی کسی کی ہمت نہ ہوئی۔ مگر ابّا نے بسم اللہ پڑھ کر قدم اندر رکھا۔
کمرے میں ٹھنڈک تھی، گہرا سناٹا، اور وہی پراسرار بو۔ فرش گرد سے بھرا ہوا، اور دیواروں پر جالے تن چکے تھے۔
لیکن پھر ان کی نظر آئینے پر پڑی۔
اور جو وہ آئینے میں دیکھ رہے تھے، اس نے سب کے قدم روکے دیے۔
زینب… آئینے کے اندر کھڑی تھی۔
بال بکھرے ہوئے، آنکھیں نم، اور چہرے پر ایسی بے بسی جو الفاظ سے بیان نہیں ہو سکتی۔ وہ سب کو دیکھ رہی تھی — مدد مانگ رہی تھی۔ جیسے وہ آواز دے رہی ہو، مگر کچھ سنائی نہ دے رہا ہو۔
ماں نے روتے ہوئے آئینے کی طرف ہاتھ بڑھایا:
“زینب! بیٹی!…”
مگر ہاتھ شیشے سے ٹکرا کر پیچھے پلٹ گیا۔ اندر سے کوئی آواز نہ آئی، صرف زینب کی آنکھوں میں جمے ہوئے آنسو، اور پیچھے کھڑے وہی سایے — جو آہستہ آہستہ زینب کے گرد جمع ہو رہے تھے۔
پھر، آئینے پر ہلکا سا دھندلاہٹ چھا گئی، اور تصویر آہستہ آہستہ غائب ہونے لگی۔ جب چند لمحے گزرے…
زینب اب آئینے میں بھی نہیں تھی۔
بس ایک ساکت آئینہ، اور اس کے نیچے لکھی ہوئی ایک لکیر:
“قید ختم نہیں ہوئی… ابھی تو آغاز ہے۔”
کئی سال گزر چکے تھے۔ زینب کے لاپتا ہونے کو اب محض ایک افسانہ سمجھا جانے لگا تھا۔ محلے میں نئے لوگ آ چکے تھے، پرانے واقعات صرف بڑوں کی سرگوشیوں اور بچوں کی ڈراونی کہانیوں تک محدود رہ گئے تھے۔
مگر کمرہ… وہ اب بھی ویسے ہی بند تھا۔
گھر کے موجودہ مکینوں نے وہ کمرہ ہمیشہ بند رکھا۔ دروازے پر تالہ لگا دیا گیا۔ کوئی بھی وہاں جانا پسند نہ کرتا — نہ دن میں، نہ رات میں۔
مگر ایک دن، گھر کے دس سالہ بچے عرفان نے وہ پرانی کہانی سن لی۔ وہی زینب والی۔ وہی آئینے والی۔ تجسس اُس کی ننھی سی عقل پر حاوی ہو گیا۔ اس کی ماں اکثر کہتی،
“بیٹا، پچھلے کمرے کے پاس بھی نہ جانا۔ وہاں صرف خاموشی نہیں، کوئی سانس بھی لیتا ہے۔”
مگر بچوں کے دل تجسس سے بھرتے ہیں، ڈر سے نہیں۔
ایک سہ پہر، جب گھر والے سو رہے تھے، عرفان چپکے سے پچھلے حصے میں چلا گیا۔ دیوار پر لگی زنجیر کو چھیڑا۔ پرانا زنگ آلود تالا زور لگانے پر کھل گیا — ایک بھاری سی کلیک کے ساتھ۔
دروازہ چرچراتے ہوئے کھلا۔ اندر اندھیرا تھا، ٹھنڈی بو آ رہی تھی۔ کمرے کی حالت پہلے جیسی ہی تھی — پرانا فرش، گرد بھری چھت، اور… سامنے دیوار پر وہی آئینہ۔
عرفان اس کے قریب گیا، اور حیران رہ گیا۔
آئینے میں وہ خود کو دیکھ سکتا تھا — مگر اکیلا نہیں تھا۔
اس کے پیچھے، ایک لڑکی کھڑی تھی۔ آنکھیں سوجھی ہوئی، چہرے پر خراشیں، اور کپڑے مٹی میں اَٹے ہوئے۔ وہ دھیرے سے مسکرا رہی تھی۔
عرفان پلٹ کر پیچھے دیکھنے لگا… لیکن وہاں کوئی نہیں تھا۔
جب اس نے دوبارہ آئینے کی طرف دیکھا — وہ لڑکی اب قریب آ چکی تھی۔ بالکل آئینے سے چپکی ہوئی۔ اور اس نے عرفان کے کان میں کچھ کہا… آہستہ، سرگوشی میں…
“میں تنہا ہوں… کیا تم میرے ساتھ آؤ گے؟”
پھر اچانک آئینہ لرزنے لگا، کمرہ اندھیرے میں ڈوب گیا، اور دروازہ… بند ہو گیا۔
جب عرفان کی ماں جاگی، تو وہ اسے کہیں نہ ملی۔ پورے گھر میں تلاش کیا گیا، محلے میں اعلانات ہوئے… لیکن کوئی سراغ نہیں ملا۔
پھر ایک دن، ایک نیا خاندان وہ گھر خریدنے آیا۔ صفائی کے دوران کسی نے پرانے کمرے کا دروازہ کھولا۔
کمرہ ویسا ہی تھا۔ پرانا، خاموش، اور پراسرار۔
بس ایک چیز نئی تھی۔
آئینے میں اب دو عکس تھے۔
ایک لڑکی کا، اور ایک… ننھے عرفان کا۔
اور نیچے خون سے لکھی ایک نئی تحریر:
“ہم تنہا نہیں… ہم انتظار میں ہیں۔”۔
