قسط وار ناول
جولائی کا مہینہ قریب اہم تھا۔ ساؤن کی گھن گھور گھٹا میں پورے آسمان پر خیمہ زن تھیں اور موسم برسات کی اٹکھیلیوں کا آغاز ہو چکا تھا۔ ایسی ہی چھما چھم برستی ایک صبح میں تھانے پہنچا تو پتا چلا کہ بڑی شہر کے اس پار درختوں کے جھنڈ میں کسی پرویسی کی لاش پائی گئی تھی۔ میں نے اطلاع دینے والے شخص کو فورا اپنے کمرے میں بلا لیا ۔
اس شخص کا نام حیات علی تھا۔ عمر لگ بھگ پینتالیس سال تھی اور صورت شکل و جلتےسے کوئی جفاکش مزدور دکھائی دیتا تھا۔ میرے استفسار پر اس نے بتایا کہ پیشے کے اعتبار سےایک چرواہا ہے۔
میں نے سوال کیا : ”حیات علی ! اس چھا جوں برستی بارش میں بھی تم مال مویشی چرانے جنگل کی طرف نکل گئے تھے؟”
،، نہیں جناب وہ لجاجت آمیز لہجے میں بولا ۔ میں آج ڈنگر لے کر اس طرف نہیں گیا تھا۔“
پھر کیوں گئے تھے؟ میں نے پوچھا۔
ایک منٹ کے توقف سے اس نے جواب دیا ۔ تھانے دار صاحب! بات دراصل یہ ہے کہ کل شام جب میں مال مویشی چرا کر جنگل سے واپس آ رہا تھا تو بڑی نہر کے پاس پہنچ کر معلوم ہوا کہ ایک بج (بھینس) مویشیوں کے قافلے میں کم تھی۔ اس وقت سورج غروب ہو چکا تھا۔ پہلے میں نے جنگل میں جا کر حج کو تلاش کرنے کا ارادہ کیا لیکن اندھیرا اس قدرپھیل چکا تھا کہ مجھے اپنا ارادہ ملتوی کرنا پڑا۔ میں نے تھوڑی دیر د میں کھڑے ہو کر انتظار کیا اور پھر واپس آ گیا۔ اس نے چند لمحے رک کر اپنی سانس کو درست کیا پھر سلسلہ بیان کو جاری رکھتے ہوئے کہا۔ آج صبح جیسے ہی سورج طلوع ہوا اور روشنی چاروں طرف پھیل گئی تو میں فوراً جنگل کی طرف روانہ ہو گیا ۔”
رات کو کھو جانے والی بھینس کو تلاش کرنے ؟ “
جی ہاں جی ہاں ۔ اس نے برق رفتاری سے اثبات میں سر ہلایا۔
حیات علی نے جس جنگل کا ذکر کیا تھا وہ حقیقی معنوں میں جنگل نہیں تھا بس ہوں.
سمجھیں کہ بڑی نہر کی دوسری طرف گھنے درختوں کا سلسلہ خاصی دور تک چلا گیا تھا جو ایک چھوٹے موٹے جنگل کا نظارہ پیش کرتا تھا اور اسی جنگل میں حیات علی نے کسی پردیسی کی لاش دیکھی تھی۔
میں نے حیات علی سے مزید دو چار ضروری سوالات کیے اور اسے باہر برآمدے میں بیٹھنے کو کہا۔ اس کے بعد میں نے اے ایس آئی صداقت حسین کو اپنے کمرے میں بلالیا۔ صداقت حسین نے میرے پاس آکر سلیوٹ کیا اور جوشیلے لہجے میں بولا ۔ جی حکم ملک صاحب!
ہمیں نے کہا۔ ”ہمیں اس وقت بڑکی شہر کے اس پار درختوں کے ذخیرے میں جانا باہر اتبھی خاصی تیز بارش ہو رہی ہے جناب۔ وہ پر تشویش لہجے میں بولا ۔
” یہ بات تو مجھے بھی معلوم ہے۔” میں نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔ اسی تیز بارش میں ہمیں جائے وقوعہ پر پہنچنا ہے.. اور اس کا انتظام تم کرو گے ۔ میرا انداز دوٹوک اور حتمی تھا۔
وہ پر خیال انداز میں سر ہلاتے ہوئے بولا۔ آپ فکر نہ کریں ملک صاحب! میں اس کا بڑا تسلی بخش انتظام کرتا ہوں جناب ” پھر وہ سلیوٹ کر کے میرے کمرے سے نکل گیا۔
ٹھیک آدھے گھنٹے کے بعد ہم ایک تانگے میں بیٹھ کر مذکورہ جنگل کی طرف جارہے
تھے۔ تانگے کے علاوہ اے ایس آئی صداقت حسین نے تین چار چھتریوں کا بھی بندو بست کرلیا تھا۔ اگر چہ اس وقت بارش قدرے دھیمی ہو چکی تھی مگر یہ بات بعید از امکان نہیں تھی کہ یہی بوندا باندی آگے چل کر موسلا دھار بارش کی شکل اختیار کر سکتی تھی۔ تانگے میں اس وقت میرے اور اے ایس آئی کے علاوہ دو کا نشیل اور لاش کی اطلاع دینے والا حمر را با حیات علی موجود تھایاپھر تانگے کا کوچوان تھا۔
ہم نے بڑی نہر لوئر باری دو آپ کو بذریعہ پل عبور کیا اور حیات علی کی راہ نمائی میں تانگے کا رخ مذکورہ جنگل کے اس حصے کی جانب موڑ دیا جہاں حیات علی کے بقول اس نے کسی اجنبی شخص کی لاش دیکھی تھی۔ نہر لوئر باری دو آپ کو تکنیکی زبان میں بلو کی سلیمان کی رابطہ نہر ” بھی کہا جاتا ہے۔ مذکورہ نہر دریائے راوی اور دریائے ستلج کو ملانے کے لیے رابطے کا کام کرتی ہے۔ دریائے راوی پر بلو کی ہیڈور کسی اور دریائے ستلج پر سلیمان کی ہیڈورکس کے درمیان بہنے والی یہ رابطہ نہر زیریں باری دوآبہ کے علاقے کو سیراب کرتی ہے۔ میں ان دنوں ہیرا سنگھ ضلع اوکاڑہ کے ایک معروف قصبے اٹاری میں تعینات تھا۔ نہر لوئر باری دوآب مارے قصبے کے نزدیک ہی سے گزرتی تھی۔
انیس سو ساٹھ عیسوی میں عالمی بینک کی کوششوں سے پاکستان اور بھارت کے درمیان نہری پانی کی تقسیم سے متعلق ایک معاہدہ ہوا تھا جس کی رو سے بھارت کو مشرقی دریاؤں کے پانی کا پورا اختیار حاصل ہے جب کہ مغربی دریاؤں کے پانی کا اختیار پاکستان کے حصے میں آیا۔ اس دریائی تقسیم کے نتیجے میں پاکستان میں پیدا ہونے والی پانی کی کمی کو سندھ طاس منصوبے کے ذریعے پورا کیا گیا۔ مذکورہ منصوبے کے تحت متعدد ٹیوب ویل اور نئے ہیڈ ورکس کی تعمیر کے علاوہ سات رابطہ نہروں کا نظام بھی قائم کیا گیا تا کہ مغربی دریاؤں کا پانی مشرقی دریاؤں میں ڈالا جاسکے۔ بلو کی سلیمانی کی رابطہ نہر یعنی لوئر باری دو آب ” اسی سلسلے کی کڑی ہے۔
خیر یہ تو جملہ معترضہ تھا ہم نے تانگے کو ایک جگہ روک دیا کیونکہ گھنے درختوں کے باعث اس کا آگے جانا ممکن نہیں تھا۔ ہم تانگے سے اتر کر پیدل ہی اس جنگل میں داخل ہو گئے۔ اس وقت تک بارش تھم چکی تھی لیکن آسمان پر کالی گھٹا میں بدستور قبضہ جمائے ہوئے تھیں۔ صبح کے ساڑھے نو کا وقت تھا مگر دور دور تک دھوپ کا نام دنشان نہیں تھا۔
حیات علی چرواہے کی راہ نمائی میں ہم جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ اس وقت تک وہاں اچھے خاصے لوگ جمع ہو چکے تھے۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ حیات علی نے تھانے آنے سے پہلے یہ خیر کافی لوگوں کو سنا دی تھی جو بارش تھمتے ہی جائے وقوعہ کی طرف چل پڑے۔ کسی دیہاتی نے فذ کر و لاش کو خاکی رنگ کی ایک چادر سے ڈھانپ دیا تھا۔ میرے استفسار پر انہوں نے مجھے بتایا کہ ان میں سے کسی نے لاش کو چھوا نہیں تھا۔
میں نے آگے بڑھ کر لاش پر سے خا کی چادر ہٹا دی۔ وہ ایک خوبرو مرد کی لاش تھی
مگر اس وقت اس کی خوب صورتی بھیانک شکل اختیار کر چکی تھی۔ وہ چاروں شانے چنت پڑا تھا۔ اس کی شہ رگ کسی تیز دھار آلے سے کاٹ دی گئی تھی ۔ وہ رونگٹے کھڑے کر دینے والا منظر تھا۔ پہلی نظر میں اس کی عمر کا اندازہ میں سال کے اریب قریب لگایا جو بعد ازاں درست ثابت ہوا۔ مذکورہ مردہ شخص نے گہرے نیلے رنگ کی پتلون پر آدمی آستین کی چیک دار شرٹ چکنا رکھی تھی۔ پاؤں میں “باسکو” کے فیتوں والے بند جوتے تھے۔ مردہ شخص میں نے اس لیے کہا کہ ایک ہی نظر میں اس کی حالت دیکھ کر مجھے یقین ہو گیا تھا کہ وہ قید حیات سے آزاد ہو چکا تھا۔ شورگ کتنے کے بعد زندگی کا کیا سوال!
شکل صورت اور وضع قطع سے وہ کوئی سرکاری ملازم دکھائی دیتا تھا۔ میں نے الٹ پلٹ کر لاش کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس نا معلوم شخص کی کلائی میں ویسٹ اینڈ واچ کی موجودگی اسے ایک آسودہ حال شخص ثابت کرتی تھی ۔ علاوہ ازیں اس کے گلے میں دل کی شکل والا ایک طلائی لاکٹ بھی دکھائی دے رہا تھا۔ مزید جامہ تلاشی کے بعد اس کی پتلون کی آپ پاکٹ میں سے ساڑھے آٹھ سو روپے کی نقدی بھی برآمد ہوئی۔ اس زمانے میں ساڑھے آٹھ سو روپے معمولی رقم نہیں سمجھی جاتی تھی۔
مقتول کے ہاتھوں اور چہرے پر کسی تیز دھار آلے کے متعدد زخم موجود تھے۔ یوں معلوم ہوتا تھا جیسے وہ اپنے آپ کو دونوں ہاتھوں سے سفاک قاتل کے مہلک وار بچانے کی کوشش کرتا رہا ہو۔ مقتول کے سر کا بغور معائنہ کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ اس کے سر کے پچھلے حصے میں کسی وزنی چیز سے وار کیا گیا تھا۔ کھو بڑی چلی گئی تھی اور زخم سے نکلنے والا خون ایک کھرنڈ کی شکل میں جم چکا تھا۔
جہاں پر نا معلوم شخص کی لاش پائی گئی تھی، میں نے اس زمین کا تفصیلی جائزہ لیا۔ مجھے آس پاس کئی گز تک خون کا ایک دعا بھی نظر نہ آیا۔ لاش کے نزدیک بھی زمین صاف تھی۔ فوری طور پر میرے ذہن میں یہی خیال آیا کہ مذکورہ شخص کو کسی اور جگہ قتل کیا گیا تھا اور بعد ازاں لاش یہاں پھینک دی گئی تھی۔
اے ایس آئی صداقت حسین نے شاید میرے چہرے کے تاثرات سے انداز ہ لا لیا تھا کہ اس وقت میں کیا سوچ رہا تھا۔ وہ جلدی سے بولا ۔ ملک صاحب ! شاید آپ یہ سونا رہے ہیں کہ قتل کسی اور جگہ پر ہوا اور لاش کو …
“میں نے اس کی بات کانتے ہوئے کہا۔ ” بالکل میں یہی سوچ رہا ہوں ۔ مقبول کی شہ رگ کو بڑی بے دردی سے کاٹا گیا ہے۔ مقتول کے چہرے اور ہاتھوں پر پائے جانے والے زخموں کے نشانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ ابن نے اپنی زندگی بچانے کے لیے کافی جد و جہد کی
تھی۔ اپنی صورت میں جائے وقوعہ پر خون کا پایا جانا لازمی تھا لیکن تم دیکھ رہے ہو کہ یہاں کی زمین خون کی موجودگی سے نا آشنا ہے۔ گویا میں نے اس کے خیالات کی ترجمانی کر دی ہے۔
آپ ایک بات بھول رہے ہیں ملک صاحب ! اے ایس آئی نے عقل مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جوشیلے لہجے میں کہا۔ .
میں نے پوچھا۔ “کون سی بات ؟
رات بھرہ قفے وقفے سے بارش ہوتی رہی ہے ۔ انے اپنی آئی نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا۔ ایسی صورت میں جائے وقوعہ پر خون کے آثار پائے جانے کےامکانات نہ ہونے کے برابر رہ جاتے ہیں۔“ ۔
میں نے پر سوچ انداز میں کہا۔ “تمہاری بات میں وزن ہے صداقت حسین لیکن میں پھر وہی کہوں گا کہ مقتول کو کسی اور جگہ قتل کرنے کے بعد یہاں پھینکا گیا ہے اور یہ کہ اس نا معلوم شخص کو موت کے گھاٹ اتر تے ہوئے کم از کم چھیتین گھنٹے گزر چکے ہیں ۔
اے ایس آئی ابھی ہوئی نظر سے مجھے دیکھنے لگا۔ میں نے کہا۔ زیادہ الجھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس نکتے پر ہم بعد میں بات کریں گے ۔ پہلے ضروری کام نمٹا لیں۔
جیسے آپ کی مرضی جناب ” اے ایس آئی نے سرسری انداز میں کہا اور میری ہدایت کے مطابق عمل کرنے لگا۔
میں نے پہلی فرصت میں جائے وقوعہ کا تفصیلی نقشہ تیار کیا۔ اس سلسلے میں اے این آئی نے میری بھر پور مدد کی۔ اس کے بعد میں نے سرکاری فوٹو گرافر کو بلا کر مختلف زاویوں سے لاش کی چند تصاویر بنوائیں اور ضابطے کی کارروائی مکمل کرنے کے بعد لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ضلع ہسپتال بھجوا دیا ۔ ۔
موقع پر موجود افراد کے بیانات اور قصبے کے دیگر باخبر لوگوں سے ملنے کے بعد ایک بات پایہ ثبوت کو پہنچ گئی تھی کہ مقتول کا ہمارے قصبے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ وہ قصبے اور قصبے کے باسیوں کے لیے بالکل اجنبی تھا۔ مقتول کی جامہ تلاشی سے بھی ایسی کوئی چیز برآمد نہیں ہوئی تھی
جس کی مدد سے اس کی شناخت ہو سکتی یا یہ معلوم ہو سکتا تھا کہ وہ کہاں سے آیا ہے اور کس مقصد سے اس گھنے جنگل میں پہنچا تھا۔
بہر حال ایک بات طے تھی کہ نا معلوم مقتول کا قتل کسی راو زن کا کارنامہ نہیں ہو سکتا تھا۔ ایسی صورت میں مقتول کی کلائی پر ویسٹ اینڈ واچ’ گلے میں طلائی زنجیر والا قیمتی لاکٹ اور چلون کی جیب میں ساڑھے آٹھ سو کی نقدی ضرور غائب ہو جاتی پھر مقتول کو جسہریانہ انداز میں ذبح کیا گیا تھا’ اسے کسی ڈاکو لٹیرے اور راہ زن سے منسوب نہیں کیا جاسکتا تھا۔ ظاہر یہی ہوتا تھا کہ قاتل اپنے دل میں مقتول کے لیے گہرا عناد رکھتا تھا۔
ایک بارث کا ذکر کرنا شاید میں بھول گیا ہوں۔ تلاش بسیار کے باوجود بھی جائے وقوعہ سے آلہ قتل دستیاب نہیں ہو سکا تھا۔
اگلے روز میں نے ایس پی علاقہ کو اس واردات کی رپورٹ روانہ کر دی۔ علاوہاز میں مقتول کی تصاویر ارد گرد کے علاقوں مثلا فیصل آباؤ کلیر کلاں تھیا نہ جیٹھ پور کھرل کلاں اور شاہ پور وغیرہ کے متعلقہ تھانوں کو بھیج کر مقتول کی شناخت کے سلسلے میں تعاون کی درخواست کی۔ میں نے تھانے کے چند سپاہیوں کو بھی مقتول کی تصویر میں دے کر یہ ہدایت کر دی تھی کہ وہ بڑی ہوشیاری سے تانگا اسٹینڈ الارکی الہا اور ریلوے اسٹیشن اناری پر مقتول کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ جب یہ طے ہو گیا تھا کہ مقتول کا تعلق ہمارے قصبے سے نہیں تھا تو پھر وہ یقینا کسی ٹانگے بس یا ٹرین کے ذریعے وہاں پہنچا تھا۔ مجھے امید تھی کہ بہت جلد اس سلسلے میں کوئی پیش رفت ہوگی۔
پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق نامعلوم مقتول کی موت تئیس جولائی کی شب دی اور گیارہ بجے کے درمیان واقع ہوئی تھی۔ موت کا سبب سر کے عقبی حصے میں لگنے والی وہ جان لیوا چوٹ تھی جس نے مقتول کی کھوپڑی کو چٹھا دیا تھا۔ میڈیکل افسر کے مطابق مقتول کے ہاتھوں اور چہرے پر پائے جانے والے زخم اس کی موت کے بعد لگائے گئے تھے
حتی کہ جب مقتول کی شہ رگ کاٹی گئی اس وقت وہ بہ قید حیات نہیں تھا۔ میڈیکل رپورٹ میں یہ بات واضح طور پر لکھی ہوئی تھی کہ جب مقتول کی شہ رگ پر کوئی تیز دھار آلہ آزمایا گیا اس وقت اسے جہانِ فانی سے کوچ کیسے کم از کم میں گھنٹے گزر چکے تھے۔ میرا اندازہ بھی کم وبیش یہی تھا جو میں نے لاش کو دیکھتے ہی قائم کر لیا تھا۔ اسی سنسنی خیز رپورٹ نے میرے بہت سے اندازوں کی تصدیق کر دی تھی۔ جس روز ہمیں نا معلوم مقتول کی لاش ملی وہ پچیس جولائی کی صبح تھی۔ اس سے یہ بات ثابت ہو جاتی تھی کہ مقتول کی موت کے قریبا چھتیس گھنٹے بعد ہمیں اس کی لاش ملی تھی ۔
اچانک میرے ذہن میں روشنی کا ایک جھما کا سا ہوا اور میں نے اپنے خیال کی تصدیق کے لیے ایک سپاہی کو اپنے کمرے میں بلا لیا۔
“عارف مذکورہ سیاہی میرے سامنے آ کر امین شن ہوا تو میں نے اس سے کہا۔
” حیات علی کو نور ایہاں لے کر آؤ۔”
کون حیات علی ملک صاحب!”
” لگتا ہے تمہاری یادداشت بڑی کمزور ہے۔ میں نے ڈانٹ آمیز لہجے میں کہا۔ اگر پولیس کے محکمے میں رہ کر ترقی کرنا چاہتے ہو تو آنکھوں اور دماغ کو کھلا رکھا کرو۔”
وہ بڑی معصومیت سے بولا۔ ” جناب آنکھیں تو میں کھلی رکھتا ہی ہوں ۔ دماغ کو کھلا کیسے رکھا جاتا ہے؟“
صاف ظاہر تھا کہ وہ میری بات کی تہہ تک نہیں پہنچ سکا تھا۔ میں نے اس کو مزید الجھانے کی بجائے سادہ الفاظ میں کہا۔ میں اس حیات علی کا ذکر کر رہا ہوں جس نے چند روز قبل ہمیں ایک لاش کی اطلاع دی تھی اور جو ڈھور ڈنگر چرانے کا کام کرتا ہے۔ حیات علی چرواہا بات آئی سمجھ میں؟گیا تھا۔“
بالکل سمجھ گیا جناب۔ وہ جلدی سے بولا۔ بس ذرا یہ نام میرے ذہن سے اتر میں نے قدرے سخت لہجے میں کہا۔ اس سے پہلے کہ تمہاری بیٹی اتر جائے فوراً حیات علی کو بلا کر لاؤ۔
اس نے دونوں پاؤس جوڑ کر کھناک” سے مجھے سلیوٹ کیا اور کمرے سے نکل حیات علی نے مجھے بتایا تھا کہ چوبیس جولائی کی شام ایک بھینس جنگل میں رہ گئی تھی
جس کی تلاش میں اور دوسری صبح یعنی پچیس جولائی کو موسلا دھار بارش کے باوجود جنگل کی طرف پلا گیا تھا۔ بھینس تو اسے مل ہی گئی تھی۔ اس کے ساتھ ہی اس نے ایک لاش بھی دریافت کر لی تھی۔ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ ظاہر کرتی تھی کہ مقتول تئیس جولائی کی رات دس اور گیارہ بجے کے درمیان موت کو گلے لگا چکا تھا۔ میں حیات علی سے صرف یہ تصدیق کرنا چاہتا تھا کہ چومیں جولائی کا پورا دن وہ جنگل کے کسی حصے میں مویشی چراتا رہا تھا۔ عین ممکن تھا کہ اس نے کوئی پر اسرار نقل وحمل دیکھی ہو۔
حیات علی سے ایک گھنٹے کی پوچھ تاچھ کے بعد بھی کوئی ایسی اہم بات معلوم نہیں ہوسکی جس سے تفتیش میں کوئی مددمل سکتی ۔ آخر میں نے اسے جانے کی اجازت دے دی۔
تھوڑی ہی دیر کے بعد حوالدار مرات خان میرے کمرے میں آیا۔ اس کے چہرے پر دبا دیا جوش واضح دکھائی دے رہا تھا۔ مروت خان سرخ و سپید رنگت کا مالک ایک صحت مند اور قد آور جو ان تھانہ میں نے اس کے کچھ بولنے سے پہلے ہی پوچھ لیا۔
خان صاحب ! بڑے خوش نظر آ رہے ہو ۔ کوئی خاص بات ہو گئی ہے کیا ؟”
بہت خاص خبر لا ہوں جناب ” وہ چیکا ۔ میں سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ ایسی کون سی خبر ہے بھئی؟”
خبر ادھر باہر برآمدے میں بیٹھی ہوئی ہے
“خبر بیٹھی ہوئی ہے؟ میرے لیے میں الجھن نمایاں تھی۔
وہ گڑ بڑا گیا ۔ جلدی سے بولا۔ میرا مطلب ہے ملک صاحب! وہ لڑکا باہر برآمدے میں بیٹھا ہوا ہے۔”
تم کسی لڑکے کی بات کر رہے ہو مروت خان؟”
وہ میری بات کا جواب دینے کے بجائے باہر کی جانب منہ کر کے زور سے پکارا۔
جانب منہ کر کے زور ۔ اولا کا پھوری بچہ ! ادھر اندر آئو۔”
اس کی پکار بڑی سودمند ثابت ہوئی۔ دوسرے ہی لمحے بارہ تیرہ سال کا ایک غریب صورت بچہ میرے کمرے میں داخل ہوا۔ مروت خان نے اس بچے کا تعارف کرواتے ہوئےکہا۔
ملک صاحب! اس کا نام پھوری ہے۔ یہ ادھر ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر مختلف چھوٹی موٹی چیزیں بیچتا ہے۔”
میں نے کہا۔ ” تم اسے میرے پاس کیوں لائے ہو؟“
یہ بہت کام کی چیز ہے جناب۔ حوالدار مروت خان نے وضاحت آمیز لہجے میں بتایا۔ اس نے چند روز قبل اس پر دیسی مقتول کو ٹرین سے اترتے ہوئے دیکھا تھا۔ اس کے ساتھ ایک نوجوان لڑکی بھی تھی۔”
اس سنسنی خیز انکشاف نے مجھے پھوری نامی اس بچے میں دلچسپی لینے پر مجبور کر دیا۔
میں نے اپنی میز کے سامنے بچھی ہوئی کرسیوں میں سے ایک کی جانب اشارہ کرتے ہوئے
“نرم لہجے میں کہا۔ ” بچے ادھر بیٹھ جاؤ ۔“
پھوری نے الجھن آمیز نظر سے حوالدار کو دیکھا۔ مروت خان نے تائیدی لہجے میں کیا۔ شاباش کرسی پر بیٹھ جاؤ اور ملک صاحب جو سوال کریں اس کا ٹھیک ٹھیک جواب دو۔“
ایک لمحے کی ہچکچاہٹ کے بعد پھوری کرسی پر بیٹھ گیا ۔ حوالدار کی زبانی مجھے معلوم ہوچکا تھا کہ مقتول کی تصویر کو دیکھتے ہی پھوری نے اپنے پہچان لیا تھا۔ اسے چند روز پہلے والے وہ دونوں مسافر یاد آ گئے تھے جو ٹرین سے اترے تھے اور اس نے ان کا سامان تا نگا اسٹینڈ تک پہنچایا تھا۔
میں حتی الامکان نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے پھوری سے زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرنا چاہتا تھا، اس لیے میں نے ادھر ادھر کی باتوں سے پوچھ کچھ کا آغاز کیا تا کہ بھر پور انداز میں اس کا اعتماد حاصل کرسکوں ۔
میں نے کہا۔ بھوری ! تمہارا یہ نام مجھے مجیب سا لگ رہا ہے۔ کیا یہ تمہارا اصلی نام ہوں۔“
نہیں جی اصلی نام تو غفور ہے۔ اس نے بے پروائی سے جواب دیا۔
غفور سے غفوری اور پھر بگڑتے بگڑتے پھوری بن گیا۔ اب یہی میرا نام ہے۔“
” تم رہتے کہاں ہو؟“
ریلوے لائن کے ساتھ جو جھگیاں بنی ہوئی ہیں انہی میں سے ایک جنگی میں رہتا میں نے پوچھا۔ ”کون کی جماعت میں پڑھتے ہو؟“
میں نہیں پڑھتا۔ وہ مٹی سے بولا ۔
“کیوں نہیں پڑھتے؟”
ایک لمحے کے تذبذب کے بعد اس نے جواب دیا ۔ بس نہیں پڑھتا۔”
تمہارا باپ کیا کرتا ہے ۔ ” میں نے سوال کیا۔
وہ میری اماں کو مارتا ہے۔ اس کا لہجہ زہر میں بجھا ہوا تھا۔ ” مجھے گالیاں دیتا ہے۔ ہم دونوں کی کمائی چھین لیتا ہے۔ شراب پیتا ہے۔ جوا کھیلتا ہے اور خدا جانے کیا کیا کرتاہے۔
پھوری کا لہجہ کرب میں ڈوبا ہوا تھا۔ جھگیوں میں رہنے والے اکثر بچوں کا نہیں المیہ ہوتا ہے۔ میں نے محبت آمیز انداز میں پوچھا۔ ” کیا تمہاری ماں بھی کہیں کام کرتی ہے؟“
بڑے لوگوں کے برتن مانجھتی ہے۔ ان کے کپڑے دھوتی ہے اور گھر کا کام کاج کرتی ہے۔”
اس کے چہرے پر بکھرے ہوئے دکھوں کے رنگ کئی المناک کہانیاں سنا رہے
تھے۔ اس سلسلے میں میں نے اسے زیادہ کرید نا مناسب نہ سمجھا اور زاد یہ سوالات کو تبدیل کرتے ہوئے پوچھا۔
غفور المعروف بھوری اتم ریلوے اسٹیشن پر کیا بیچتے ہو؟”
وہ ایک ٹھنڈی سانس خارج کرتے ہوئے بولا۔ جناب بس چھوٹی موٹی کھانے پینے کی چیزیں فروخت کرتا ہوں۔ مثلا ایسکٹ، ٹافیاں کھٹی میٹھی املی کیک، پیسٹری اور کھیل مرونڈ اوغیرہ۔
“تم نے حوالدار مروت خان کو بتایا ہے کہ کچھ روز قبل تم نے تصویر والے آدمی کو ٹرین سے اتر تے ہوئے دیکھا تھا؟“
جی ہاں۔ اس نے اثبات میں سر ہلایا اور پھر بولا ۔ اس شہری باؤ کے ساتھ ایک نوجوان لڑکی بھی تھی۔ وہ ٹرین سے اتر کر ادھر پلیٹ فارم پر ہی ایک بینچ پر بیٹھ گئے تھے۔ جب رین روانہ ہوگئی اور پلیٹ فارم پر لوگوں کا ہجوم قدرے کم ہو گیا تو اس باؤ نے اشارے سےمجھے اپنے پاس بلا لیا۔”
” کیا مطلب؟” میں نے کہا۔ ” کیا تم یہ کہنا چاہتے ہو کہ وہ پلیٹ فارم سے باہرنہیں گئے تھے؟
بے تالی تھی۔
جی ہاں۔ وہ کافی دیر تک ادھر بیچ پر ہی بیٹھے رہے تھے۔”
انہوں نے اشارے سے تمہیں اپنے پاس بلا کر کیا کہا تھا؟” میرے لہجے میں پھوری نے بتایا ”میں سمجھا تھا شاید وہ مجھ سے کوئی چیز خریدنا چاہتے ہیں لیکن جب میں ان کے پاس پہنچا تو معاملہ کوئی دوسرا ہی نکلا ۔”
کون سا دوسرا معاملہ؟ میں نے جلدی سے پوچھا۔
اس شہری باؤ نے جس کا نام مجھے معلوم نہیں پھوری نے جملہ ادھور چھوڑ کرسوالیہ نظر سے مجھے دیکھاتھا؟
میں نے کہا۔ “نام ہمیں بھی معلوم نہیں ہے اس کا۔ تم یہ بتاؤ کہ وہ دوسرا امعاملہ کیا پھوری نے ایک لمحے کے توقف سے بتانا شروع کیا۔ اس باؤ نے مجھ سے کہا کہ میں اس کا سامان اٹھا کر باہر لے چلوں۔ اس کے پاس دو بڑے سائز کے انیچی کیس تھے۔ میں نے جوابا اس سے کہا وہ اپنا سامان کسی قلی سے اٹھوالے لیکن اس نے نفی میں گردن ہلاتے ہوئے کہا کہ وہ کسی قلی کے بجائے مجھے ہی سے مدد ملے گا۔ اس نے مجھے یقین دلایا کہ وہ اس کام کا مجھے معاوضہ بھی دے گا۔ اس وقت تک ٹرین پلیٹ فارم سے روانہ ہو چکی تھی اور گھنٹے ڈیڑھ گھنٹے تک کسی ٹرین کی آمد متوقع نہیں تھی اس لیے میں نے سوچا کہ اس شخص کی مدد کرنے میں کوئی حرج نہیں تھا۔ اس طرح مجھے اضافی آمدنی بھی ہو جاتی۔ میں نے اپنا خوانچہ چائے کی کینٹین میں رکھا اور اس مسافر کا ایک اٹیچی کیس اپنے سر پر رکھ لیا۔ میں نے دوسرا اٹیچی کیس اٹھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو اس نے منع کر دیا اور وہ اٹیچی کیس خود اٹھا کر میرے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔ میں نے ان دونوں کو اسٹیشن کی عمارت کے باہر پہنچایا۔ اپنی محنت کا معاوضہ وصول کیا اور دوبارہ پلیٹ فارم پر چلا گیا ۔ اس روز میں کافی دیر تک ان دونوں مسافروں کے بارے میں سوچتا رہا تھا۔”
یہاں تک بتا کر پھوری خاموش ہو گیا تو میں نے پوچھا۔ “تم ان مسافروں کے بارے میں کیا سوچتے رہے تھے؟“
سب سے عجیب بات تو یہ تھی کہ اس شخص نے مجھے اس معمولی سے کام کا معاوضہ پورے دس روپے دیا تھا۔ پھوری نے بتاتے ہوئے کہا۔ ” جب کہ قلی یہی کام روپئے سواروپے میں کر دیا۔ میں نے جب دس روپے کا نوٹ لینے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا تو اس بار نے کہا تھا رکھ لو۔ یہ تمہاری محنت کے علاوہ اس بات کا معاوضہ بھی ہے کہ تم اس کا ذکر کسی سے نہیں کرو گے ۔ ابھی اور اسی وقت سے تم ہم دونوں کو بھول جاؤ گے۔ انہی باتوں کی وجہ سے میں خاصی دیر تک ان دونوں مسافروں کے بارے میں سوچتا رہا تھا۔”
میں نے پوچھا۔ اور تم نے حسب وعدہ کسی سے ان مسافروں کا ذکر بھی نہیں کیا ہوگا۔”
بالکل نہیں جناب ” و نفی میں گردن ہلاتے ہوئے بولا ۔ آج پہلی مرتبہ آپ کے سامنے زبان کھولی ہے۔“
ہوں! میں نے پر سوچ انداز میں کہا، پھر پوچھا ۔ ” پھوری’ تم نے ان دونوں مسافروں کو اسٹیشن کی عمارت کے باہر کہاں چھوڑا تھا ؟”
میں نے ان کا سامان تا نگا اسٹینڈ پر پہنچایا تھا۔”
کیا وہ کسی تانگے میں بیٹھے تھے یا ؟
میں نے دانستہ جملہ نا مکمل چھوڑ کر استفار یہ نظر سے پھوری کی آنکھوں میں دیکھا۔
اس نے بتایا ۔ میں ان دونوں کو تا نگا اسٹینڈ پر چھوڑ کر دیں روپے کا نوٹ لے کر وہاں سے ہٹ گیا تھا لیکن چونکہ ان کے بارے میں میرے دل میں جس جاگ اٹھا تھا، اس لیے ایک پھل فروش کی دکان کی آڑ میں کھڑے ہو کر میں ان کو دیکھتا رہا۔ کچھ دیر تک وہ آپس میں با قیمں کرتے رہے۔ میں ان کی آواز تو نہیں سن سکا لیکن اس بات کا مجھے اندازہ ہو گیا کہ وہ کسی اختلافی معاملے پر بات کر رہے تھے۔ کچھ دیر بعد وہ ایک تانگے میں بیٹھ کر وہاں سے روانہ ہو گئےتھے؟
میں نے سوال کیا: پھوری’ کیا تم بتا سکتے ہو کہ وہ تانگے میں بیٹھ کر کس طرف گئے
میں بالکل ٹھیک تو نہیں بتا سکتا جناب “ پھوری سر کھجاتے ہوئے بولا۔ لیکن مجھے یاد ہے کہ ان کا تانگا بڑی نہر کی طرف جانے والے راستے کی طرف گیا تھا۔”
بڑی نہر کے ذکر پر میں چونک اٹھا اور بے چین نظر سے پھوری کو دیکھنے لگا۔ شاید وہ میری بے قراری کو بھانپ گیا تھا۔ جلدی سے بولا ۔
تھانے دار صاحب ! اس سلسلے میں چا چا نی کا آپ کو بہت کچھ بتا سکتا ہے۔”
“کون چا چافیر کا ؟” میں نے پوچھاتھے۔
پھوری نے بتایا۔ ” جناب وہ دونوں مسافر چا چا نیکا کے تانگے میں ہی بیٹھ کر گئے یہ ایک نہایت اہم انکشاف تھا۔ اگر ہم فی کا تانگے والے کو تھانے بلا کر اس سے ان مسافروں کے بارے میں پوچھ گچھ کرتے تو یہ معلوم ہو سکتا تھا کہ فیر کا نے انہیں کہاں چھوڑاتھا۔ میں نے اپنی تسلی کے لیے پھوری سے پوچھا۔
پھوری ! کہیں تم بھول تو نہیں رہے ہو۔ کیا تمہیں یقین ہے کہ دو دونوں فیر کا کے تانگے میں ہی بیٹھے تھے؟”
” مجھے پکا یقین ہے جناب۔” وہ پروٹوق لیجے میں بولا ۔ چا چافی کا کو میں اچھی طرح پہچانتا ہوں۔”
میں نے کمرے میں موجود حوالدار مروت خان کو حکم دیا کہ وہ فوراً چا چافی کا کو چوان کو ڈھونڈ کر تھانے لائے ۔ حوالدار کے جانے کے بعد میں پھوری کی طرف متوجہ ہو گیا۔ وہ مجھے خاصا مضطرب نظر آیا۔ میرے کچھ بولنے سے پہلے ہی دو لحالت آمیز لہجے میں گویا ہوا۔
تھانے دار صاحب! آپ مجھے اور کتنی دیر بٹھا ئیں گے؟”
” کیوں یہاں تمہیں کیا تکلیف ہو رہی ہے؟“
تکلیف تو کوئی نہیں ہے جناب۔” وہ بیچارگی سے بولا ۔ لیکن میرا اچھا خاصا نقصان ہو رہا ہے۔”
“میں نے حیرت آمیز نظر سے ات دیکھا اور پوچھا۔ “کیسا نقصان پھوری؟”
جناب ٹرین کے آنے کا وقت ہونے والا ہے۔“ پھوری نے ملتجیانہ لہجے میں کہا۔ “اگر میں یہاں بیٹھا رہا تو ظاہر ہے ٹرین تو میرے انتظار میں پلیٹ فارم پر رکی نہیں رہ سکتی نا!”
تمیں اس کی بات کی تہہ تک پہنچ گیا۔ میں نے کہا ۔ پھوری۔ بس تم میرے چند سوالات کے جواب دے دو پھر چلے جانا ۔”
میں نے پھوری سے پوچھا۔ اچھی طرح سوچ کر بتاؤ وہ دونوں مسافر کتنے دن پہلے اٹاری ریلوے اسٹیشن پر پہنچے تھے؟”
دن اور تاریخ تو مجھے یاد نہیں رہی جناب ” تھوڑی دیر سوچنے کے بعد بولا۔
ویسے میرا خیال ہے آٹھ دس دن تو ہو ہی گئے ہوں گے ۔
میں نے سوال کیا۔ وہ کون سی ٹرین سے اترے تھے؟”
پاک پتن شریف والی ٹرین سے۔“
ٹرین پاک پتن سے آرہی تھی یا وہاں جارہی تھی ؟“
آ رہی تھی جناب۔ پھوری نے پر اعتاد لہجے میں جواب دیا۔ یہ ٹرین روزانہ ایوقت پاک پتن شریف سے آتی ہے اور تصور تک جاتی ہے۔ ہمارے اسٹیشن پر یہ ٹرین پورے پانچ منٹ تک رکتی ہے جناب۔”
پھوری کے بیان کے مطابق وہ دونوں پاک پتن سے آنے والی ٹرین سے اترے تھے۔ اس کا واضح مطلب یہی تھا کہ وہ پاکین سے یہاں پہنچے تھے یا پھر راستے میں کسی اسٹیشن سے ٹرین میں سوار ہوئے تھے ۔ پاکپتن سے اٹاری پہنچنے تک راستے میں صرف دو بڑے اسٹیشن پڑتے تھے یعنی حویلی لکھا اور بصیر پور ۔ اب یا تو وہ دونوں مسافر حویلی لکھا تے یا بصیر پور سے ٹرین میں سوار ہوئے تھے یا پھر پاک چین سے۔ یہ بھی ممکن تھا کہ وہ پاک تین سے بھی پیچھے نہیں اور سے آئے ہوں۔ مثلاً عارف والا وغیرہ سے۔
میں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا اور پوچھا۔ پھوری! تم نے حوالدار مروت خان کے پاس اس مسافر کی تصویر دیکھ کر فوراً اسے پہچان لیا تھا۔ اگر تمہیں مسافر کی ساتھی لڑکی کی تصویر دکھائی جائے تو تم اسے بھی پہچان جاؤ گے؟”
” کیوں نہیں جناب میں تو اسے ایک ہی نظر میں پہچان لوں گا۔“
اس لڑکی کا حلیہ مجھے بتاؤ۔”
علیہ ! اس نے اجمن آمیز نظر سے مجھے دیکھا۔ میں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا۔ “میرا مطلب ہے اس کا چہرہ مہرہ کیسا تھا۔
نقش نین کسی طرح کے تھے۔ تم نے اس کی تصویر دیکھ کر پہچانے کا جو دعویٰ کیا ہے اس دعوے کی بنیاد کیا ہے؟“
ہوں۔ وہ اثبات میں سر ہلانے لگا۔ میری بات اس کی سمجھ میں آگئی تھی۔ اس نے بتایا۔ وہ لڑکی دبلی پتلی اور خوب صورت تھی۔ رنگ گورا آنکھیں موٹی موٹی اور اوپر کے ہونٹ پر دائیں طرف ایک موٹا سا کا لائل تھا۔ اس کے چہرے پر نظر پڑتے ہی سب سے پہلے وہ تل دکھائی دیتا تھا۔”
پھوری نے مبینہ لڑکی کا جو حلیہ بیان کیا تھا وہ خاصی اہمیت کا حامل تھا۔ میں نے مزید دو چار سوالات کے بعد اسے جانے کی اجازت دے دی تاہم میں نے اسے تاکید کردی تھی کہ ضرورت پڑنے پر میں اسے دوبارہ تھانے میں بلا سکتا ہوں اس لیے وہ مجھے اطلاع دیے
بغیر اٹاری سے باہر کہیں نہ جائے اور یہ بھی کہ اگر اس نے کوئی جھوٹ بولا ہو گا تو میں اس کا برا حشر کروں گا۔
اس روز میں ڈیوٹی سے اٹھنے کا ارادہ کر ہی رہا تھا کہ حوالدار مروت خان، فیر کاکو چوان کو پکڑ کر تھانے لے آیا۔ میں نے اپنے کوارٹر میں جانے کا ارادہ سر دست شرک کیا اورفیکا کو چوان کو فوراً اپنے کمرے میں بلا لیا۔
اس کا نام محمد رفیق تھا لیکن وہ چاچافی کا کے نام سے مشہور تھا۔ اس کی عمر چالیس اور پینتالیس سال کے درمیان رہی ہوگی۔ صورت شکل سے وہ ایک صلح جو اور امن پسند شخص نظر آتا تھا۔ حوالدار سے تمام صورت حال سے آگاہ کر چکا تھا اس لیے مجھے زیادہ محنت نہیں کرنی پڑی۔
میں نے اس سے لڑکی کے ملئے کے بارے میں چند سوالات کیے۔ اس کے جوابات نے پھوری کے بیان کی تصدیق کر دی۔ اس کے بعد میں نے نہایت ہی اہم سوال کیا۔
میں نے پوچھا۔ چاچافی کا ! تم نے ان دونوں مسافروں کو کہاں چھوڑا تھا ؟“
اللہ آپ کا بھلا کرے۔ چاچا فیکا نے اپنے مخصوص انداز میں جواب دیا۔
انہوں نے سالم تا نگا کروایا تھا۔ میں نے انہیں ریسٹ ہاؤس پہنچا دیا تھا۔”
ریسٹ ہاؤس ؟ میں نے سوالیہ نظروں سے فیریکا کو چوان کو دیکھا۔
جی سرکار وہ ریسٹ ہاؤس تک گئے تھے۔ وہ تائیدی لہجے میں بولا ۔ وہی ریسٹ ہاؤس جو بڑی نہر کے کنارے بنا ہوا ہے۔ سرکاری افسر اکثر وہاں قیام کرتے ہیں۔“
فیکا کو چوان جس سرکاری ریسٹ ہاؤس کا ذکر کر رہا تھا وہ نہر لوئر باری دو آپ کے کنارے واقع تھا اور درختوں کا وہ ذخیرہ جہاں سے نامعلوم پردیسی کی لاش دریافت ہوئی تھی
ریسٹ ہاؤس سے تقریباً تین ساڑھے تین فرلانگ کے فاصلے پر تھا۔ مذکورہ سرکاری ریسٹ ہاؤس کینال ریسٹ ہاؤس کے نام سے موسوم تھا۔ میں نے اپنے ذہن میں کینال ریسٹ ہاؤس کو ٹارگٹ بناتے ہوئے فیکا کو چوان سے سوال کیا ۔
چا پانی کا! جس ریسٹ ہاؤس کا تم نے ذکر کیا ہے وہ اٹاری ریلوے اسٹیشن سے اچھے خاصے فاصلے پر ہے۔ اس نے کچھ نہ سمجھنے والی نظر سے مجھے دیکھا۔ میں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا۔ اتنا طویل فاصلہ طے کرتے ہوئے تمہاری ان سے گپ شپ تو ہوئی ہوگی۔”
کوئی خاص نہیں جناب فیکا کو چوان نے متاسفانہ انداز میں جواب دیا۔ میں نے کئی مرتبہ ان سے بات چیت کرنے کی کوشش کی تھی لیکن مرد نے بس ہوں ہاں ” کر کے مجھے ٹال دیا تھا۔ بس مجھے اتنا ہی معلوم ہو سکا کہ وہ شخص کوئی سرکاری ملازم تھا جو اپنی بیوی کے ساتھ چند روز تفریح کی غرض سے ریسٹ ہاؤس میں ٹھہرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔“
” کیا اس شخص نے تمہیں خود یہ بات بتائی تھی کہ اس کے ساتھ جوڑ کی تھی، اس کی بیوی تھی؟”
ہاں جی اس شخص نے خود مجھے بتایا تھا۔ لیکا کو چوان نے اثبات میں جواب دیا۔ لیکن مجھے یقین نہیں آیا تھا جناب۔”
” کیوں یقین نہیں آیا تھا؟”
جناب دولڑ کی خاصی کم عمر تھی۔ فیکا کو چوان نے کہا۔ “میرے خیال میں پندرہ سولہ سال کی ہوگی “
میں نے کہا۔ تمہارے خیال میں پندرہ سولہ سال کی لڑکی کی شادی نہیں ہو سکتی؟
بات یہ نہیں ہے جناب۔ اس کے لیجے میں الجھن کی آمیزش تھی۔
میں نے پوچھا۔ پھر کیا بات ہے؟”
بس جی انہیں دیکھ کر مجھے عجیب سا لگا تھا۔ فیر کا کوچوان نے بدستو را الجھے ہوئے لہجے میں کہا۔ ” یہ بات میرے دل کو نہیں لگی تھی کہ وہ دونوں میاں بیوی تھے۔”
میں نے پوچھا۔ راستے میں ان دونوں نے آپس میں تو باتیں کی ہوں گی۔”
فیر کا کوچوان نے نفی میں سر ہلایا۔ نہ ہی وہ دونوں بالکل خاموش رہے تھے۔ یہ بات بھی مجھے خاصی عجیب سی لگی تھی۔ میں نے محسوس کیا تھا کہ جیسے ان کے درمیان کسی بات پر ناراضگی چل رہی تھی۔ لڑی کے چہرے کے تاثرات میں کافی بیزاری اور اکتاہٹ پائی جاتی تھی۔
چا جانی کا میں نے کچھ سوچتے ہوئے سوال کیا۔ ” کیا تم بنا سکتے ہو کہ یہ کتنے دن پہلے کا واقعہ ہے؟”
، اس نے انگلیوں پر حساب لگانے کے بعد جواب دیا۔ ” مجھے جنگی طراں یاد ہے
جناب۔ میں نے میں تاریخ کو انہیں ریسٹ ہاؤس میں پہنچایا تھا۔
“تمہارا مطلب ہے میں جولائی کو ؟”
جی ہاں اسی مہینے کی میں تاریخ کو “
“
میں نے پوچھا۔ خیر کا چاچا’ تم نے انہیں ریسٹ ہاؤس کے باہر ہی چھوڑ دیا تھا یا ان کا سامان پہنچانے ریسٹ ہاؤس کے اندر بھی گئے تھے؟”
میں نے ان کا سامان ریسٹ ہاؤس کے اندر رکھوایا تھا۔“
ریسٹ ہاؤس میں اس وقت کون تھا ؟”
ریسٹ ہاؤس کا چوکیدار “
” کیا تم اسے جانتے ہو؟“
فیکا کو چوان نے جواب دیا۔ صرف اس حد تک جانتا ہوں کہ اس کا نام غلام قادر ہے اور وہ آٹھ سال سے اس ریسٹ ہاؤس میں چوکیدار کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہا ہے۔ میں اس سے پہلے بھی پانچ مرتبہ سرکاری افسروں کو اپنے تانگے میں ریسٹ ہاؤس پہنچا چکا ہوں۔ غلام قادر سے میر کی تھوڑی بہت سلام دعا ہے۔”
میں نے ایک فوری خیال کے تحت پوچھا۔ یہ غلام قادر کیسا آدمی ہے؟””
میں آپ کے سوال کا مطلب نہیں سمجھا جناب مطلب یہ ہے کہ تمہارے خیال میں اس کا کردار کیسا ہے؟“ میں نے وضاحت آمیز لہجے میں کہا۔ “معالمات کا کھرا ہے یا کھویا ؟ “
فیر کا کوچوان نے ایک لمحے کے توقف نے جواب دیا۔ ” جناب! میرا اس سے آج تک کوئی معاملہ نہیں پڑا اس لیے اس بارے میں تو میں کچھ نہیں جانتا البتہ دیکھنے میں دو سیدھا سادہ بھلا مانس نظر آتا ہے۔ میں نے اس کے بارے میں کبھی کوئی ایسی ویسی بات نہیں سنی ۔” یکا چاچا میں نے اس کے چہرے پر نگاہ جماتے ہوئے کہا۔ کل صبح تم
میرے ساتھ ریسٹ ہاؤس چلو گے۔“
جو حکم سرکار وہ عاجزی سے بولا ” کچھ مجھ سے کوئی غلطی ہوگئی ہے؟”
اس کا فیصلہ فوری طور پر نہیں کیا جاسکتا ۔ ” میں نے مبہم انداز میں جواب دیا ۔ ” کیا تمہیں میر نے ساتھ وہاں جانے پر کوئی اعتراض ہے؟”
دو نہیں مائی باپ ۔” وہ لجاجت سے بولا ۔ میری کیا مجال جو اعتراض کروں۔ میں تو اس لیے پوچھ رہا تھا کہ جس بندے کو میں نے میں تاریخ کو ریسٹ ہاؤس پہنچایا تھا، پچیس تاریخ کو جنگل سے اس کی لاش ملی تھی۔ میں خواہ مخواہ کسی چکر میں نہیں پڑنا چاہتا ۔”
میں تمہیں کسی چکر میں نہیں ڈال رہا۔ میں نے تسلی آمیز لہجے میں کہا۔ “اگر تم
نے کوئی جرم نہیں کیا یا کسی بھی طرح کسی جرم میں شریک نہیں رہے تو تمہارا بال بھی بالکا نہیں ہوگا۔ تمہیں اس سلسلے میں فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔“
وہ چھت کی طرف دیکھتے ہوئے دعائیہ انداز میں بڑبڑایا۔ سوہنا رب مجھے جرم اور مجرموں سے دور ہی رکھے۔”
” تم صبح کتنے بجے تھانے پہنچ جاؤ گے ؟ میں نے پوچھا۔
جتنے بجے سرکار کا حکم ہو؟ وہ فرماں برداری سے بولا ۔ ” میں تو صبح تڑکے تانگا نکال لیتا ہوں۔”
میں نے کہا۔ ٹھیک ہے تم نو بجے تک یہاں پہنچ جانا ۔”
“اچھا جی میں پہنچ جاؤں گا۔”
میں نے تحریری انداز میں کہا۔ تحیر کا چاچا’ تم اس پر دیسی مقتول کے بارے میں اگر اور کچھ جانتے ہو تو مجھے بتا دو۔ یاد رکھو اگر بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ تم نے دانستہ کوئی بات چھپانے کی کوشش کی تھی تو میں تمہارے ساتھ برا سلوک کروں گا۔”
حضور میں جو کچھ جانتا ہوں’ وہ آپ کو بتا دیا ہے۔ فیکا کو چوان نے عاجزی سے کہا۔ اس کے سوا مجھے اور کچھ معلوم نہیں ہے۔ ہاں میں آپ سے یہ وعدہ کرتا ہوں کہ یاد کرنے کی کوشش کروں گا۔ اگر کوئی خاص بات یاد آ گئی تو صبح آپ کو بتا دوں گا ۔”
میں نے کہا۔ ٹھیک ہے میری نصیحت کو یاد رکھنا اور صبح ٹھیک نو بجے اپنے تانگے کے ساتھ تھانے پہنچ جانا ۔ اب تم جاسکتے ہو۔”
دہ اٹھ کر کھڑا ہو گیا پھر رخصت ہونے سے پہلے اس نے سوالیہ نظر سے مجھے دیکھا اور بولا ۔ ملک صاحب! اگر آپ ناراض نہ ہوں تو میں آپ سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں؟“
“ہاں پوچھو۔ میں نے معتدل لجے میں کہا۔ لیکن بات مختصر ہونی چاہیے۔”
وہ بولا ۔ ” جناب اس پر دیسی باؤ کی لاش تو جنگل میں سے مل گئی ہے لیکن ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ کون تھا، کہاں سے آیا تھا اور اسے کس نے کیوں قتل کیا ؟
یہ وہ تمام سوالات تھے جو اٹاری اور گردو نواح کے قصبات کے لوگوں کے ذہنوں میں رات دن سر ابھارتے رہتے تھے ۔ ابھی تک میں ان سوالات کے جواب تلاش کرنے میں ناکام رہا تھا لیکن ریسٹ ہاؤس والے معاملے اور نا معلوم مقتول پر ایسی کے ہمراہ کسی نو عمر لڑکی کا ذکر بہ حیثیت اس کی بیوی سن کر مجھے امید ہو چلی تھی کہ جلد ہی اس الجھی ہوئی ڈور کا سرا میرے ہاتھ آجائے گا۔
میں نے فیر کا کوچوان کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے مختصراً کہا۔ ابھی اس سلسلے میں تفتیش جاری ہے۔”
اور …. مقتول پر دیسی کی نوعمر بیوی کا کچھ پتا چلا ؟”
اس کا بھی عنقریب پتا چل جائے گا۔”
!
ٹھیک ہے جناب۔ میں صبح نو بجے حاضر ہو جاؤں گا۔ ٹھیکا کو چوان یہ کہتے ہوئے میرے کمرے سے نکل گیا۔
میں آرام کرنے اپنے کوارٹر میں چلا گیا۔
فیکا کو چوان کا تانگا خاصا سجا سنورا ہوا تھا۔
وہ چالیس کا ہندسہ عبور کر چکا تھا مگر اپنے بیٹے کے معاملے میں وہ خاصا شوقین دکھائی دیتا تھا۔ اس نے تانگے کے گھوڑے کے سر پر ایک رنگین اور خوبصورت پھند نا لگا رکھا تھا۔ صحت مند گھوڑے کی گردن میں چھوٹے چھوٹے گھنگھروؤس والا پنا بڑا خوش نما نظر آتا تھا۔
جب گھوڑا مناسب رفتار سے قدم اٹھاتا تو گھنگھر دؤں کی چھن چھن ” سے بڑا دل فریب اور کیف آگئیں سماں بندھ جاتا تھا۔ تانگے کی چھت کے ساتھ ساتھ چاروں طرف رنگ به رنگ جھالریں آویزاں تھیں۔ بیچ میں تھوڑے تھوڑے فاصلے نے پراندے شراندے بھی لٹک رہے تھے۔ علاوہ ازیں گھوڑے کو چلانے والا چھانٹا ( چابک ) بھی منفرد نوعیت کا تھا جس کی چھڑی پر مختلف رنگوں کے ٹیپ لیٹے ہوئے تھے۔
میں اے ایس آئی صداقت حسین کے ساتھ فیر کا کے تانگے میں بیٹھ کر کیتال ہاؤس کی جانب رواں دواں تھا۔ تانگے کی سجاوٹ نے اے ایس آئی کو خاصا متاثر کیا تھا۔ اس نے فیکا کو چوان سے کہا۔
“یا جا لگتا ہے تمہیں تانگے گھوڑے سے کچھ زیادہ ہی لگاؤ ہے؟”
چاچا نیکا نے جواب دیا۔ لگاؤ تو بہت چھوٹا لفظ ہے جناب۔ میں تو اپنے وسیلہ روزگار سے محبت کرتا ہوں ۔“
“واہ بھئی کیا شاعرانہ بات کی تم نے۔ میں نے داد دینے والے انداز میں کہا۔
سرکار! میں کہاں اور شاعری کہاں۔“ اس کا لہجہ انکسار سے معمور تھا۔ بس میں نے تو اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے۔ یہ تانگا اور گھوڑا میرے پورے گھرانے کو رزق فراہم کرتا ہے۔ اصل رازق تو اوپر والا ہے لیکن وسیلہ رزق کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ اوپر والا بھی
کسی بہانے اور وسیلے ہی سے دیتا ہے۔“
اے ایس آئی کچھ دیر تک فیر کا تانگے والے کے جذبات اور خیالات کو سراہتا رہا پھر میری جانب متوجہ ہو گیا۔ .
ہاں تو ملک صاحب ! اب بتا ئیں وہ نکتہ کیا تھا ؟
میں نے سر سر کیا سے لہجے میں پوچھا۔ ” کون سا نکتہ؟”
و ہی سر جی جس کے بارے میں آپ نے فرمایا تھا کہ بعد میں بات کریں گے۔“
اے ایس آئی نے مجھے چند روز پہلے والی بات یاد دلانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔ ” جب آپ نے پورے وثوقی سے دعوئی کیا تھا کہ اجنبی مقتول کو موت کے منہ میں اترے ہوئے کم از کم چھتیس گھنٹے گزر چکے ہیں۔”
میں نے ایک طویل سانس خارج کرتے ہوئے کہا۔ وہ سب کچھ میں نے مقتول کی طبعی حالت کے پیش نظر کہا تھا ۔”
میں سمجھا نہیں جناب۔ ” اس کے لیے میں حیرت مترشح تھی۔
اس میں نہ سمجھنے والی کون سی بات ہے۔ صراقت حسین ۔ میں نے اس کی حیرت سے کھلونا ہوتے ہوئے کہا۔ در اصل میں نے مقتول کی لاش کو چھو کر اور الٹ پلٹ کر دیکھا تھا۔ لاش میں موجود ایک مخصوص اکڑاؤ کے باعث مجھے فورا اندازہ ہو گیا تھا کہ اس کی موت واقع ہوئے ایک ڈیڑھ دن گزر چکا تھا۔ تم نے چوں کہ لاش کو صرف دار ہی سے دیکھا تھا ہاتھ لگانے کی ضرورت محسوس کی تھی اور نہ ہی نوبت آئی تھی اس لیے تم اس بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے تھے ۔ تمہارے ذہن میں بس یہی بات بیٹھی ہوئی تھی کہ بارش کی وجہ سے خون کے نشانات ضائع ہو گئے ہوں گے ۔“
ہاں میرا دھیان تو واقعی اسی طرف لگا ہوا تھا۔ ” اے ایس آئی نے صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے کہا۔
میں نے سمجھانے والے انداز میں کہا۔ “صداقت حسین! پیشہ ورانہ زندگی میں مشاہدہ اور تجربہ بہت اہمیت رکھتا ہے جو بات میں سب سے کہتا رہتا ہوں، وہی تم سے بھی کہوں گا۔ پولیس ڈیپارٹمنٹ میں رہتے ہوئے اگر ترقی کرنا چاہتے ہو تو اپنے مشاہدے کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے کی کوشش کرو۔ معمولی سے معمولی بات کو بھی نظر انداز نہ کرو ۔ اگر اپنے حواس اور عقل کا بھر پور استعمال کرو گے تو بہت جلد اپنی منزل پالو گے۔“
ممنونیت آمیز لہجے میں بولا ۔
میں نے آپ کی نصیحت کو ذہن میں نقش کر لیا ہے ملک صاحب ۔ اے ایس آئی پھر ہمارے درمیان نا معلوم پردیسی مرڈر کیس کے بارے میں گفتگو ہونے لگی۔
مقتول سے متعلق فیکا کو چوان اور پھوری کی زبانی کچھ تازہ ترین معلومات حاصل ہو چکی تھیں مگر ہنوز وہ ہمارے لیے نا معلوم ہی تھا۔
کچھ دیر بعد ہم مطلوبہ ریسٹ ہاؤس پہنچ گئے ۔ یہ ریسٹ ہاؤس نہر لوئر باری دوآب کے کنارے سے ذرا ہٹ کے تعمیر کیا گیا تھا اور یہاں سے جائے وقوعہ لگ بھگ تین فرلانگ کے فاصلے پر تھی۔ جب تک مجھے یہ معلوم نہ ہو جاتا کہ اجنبی مقتول کو کس جگہ موت کے گھاٹ برآمد ہوئی تھی۔
اتارا گیا تھا، اس وقت تک میری نظر میں جائے وقوعہ وہی جگہ تھی جہاں سے مقتول کی لاش ریسٹ ہاؤس کے چوکیدار غلام قادر نے ہمارا استقبال کیا۔ میں اور اے ایس آئی سرکاری وردی میں تھے۔ غلام قادر ہم پر نظر پڑتے ہی ایک لمحے کے لیے گھبرا گیا۔ کوچوان چاچافی کا نے ہمارا تعارف کرواتے ہوئے کہا۔
غلام قادر! یہ ملک صفدر حیات صاحب ہیں۔ اس نے میری جانب اشارہ کیا۔
یہ ہمارے علاقے کے تھانے دار ہیں اور ان کے ساتھ اسٹنٹ سب انسپکٹر صداقت حسین ہیں ۔
تانگے میں سفر کے دوران میں میرے اے ایس آئی اور فیکا کے درمیان کافی گپ شپ ہوتی رہتی تھی۔ جب فیر کا نے ہمارا تعارف کروایا تو میں نے واضح طور پر محسوس کیا کہ چوکیدار غلام قادر کا چہرہ کچھ دیر کے لیے متغیر ہو گیا تھا لیکن دوسرے ہی لمحے وہ منجل گیا ۔
است بسم اللہ جی۔ وہ ہونٹوں پر مصنوعی مسکراہٹ سجاتے ہوئے بولا ۔ ” میرے تو نصیب کھل گئے ۔ اتنے بڑے بڑے لوگ یہاں آئے ہیں۔“
غلام قادر کی عمر میں اور بتیس سال کے درمیان تھی۔ وہ صورت شکل سے ایک سیدھا سادہ اور بھولا بھالا دیبائی دکھائی دیتا تھا۔ اس کا قد چھ فٹ سے نکلتا ہوا تھا۔ رنگ سانولا بدن کرتی اور ہاتھ پاؤں خاصے مضبوط تھے۔ وہ چوکیدار سے زیادہ کوئی پہلوان نظر آتا تھا۔ ہم اس کی راہ نمائی میں ریسٹ ہاؤس کے اندر پہنچے ۔
اس نے ہمیں ایک کمرے میں بٹھایا اور جلدی سے ہمارے لیے ٹھنڈا پانی لے آیا۔
ہم پانی پی چکے تو اس نے قدرے بوکھلا ہت آمیز لہجے میں پوچھا۔
تھانے دار صاحب! اگر آپ کا حکم ہو تو کچھ کھانے وغیرہ کا بندوبست کروں!“میں نے اس کے چہرے پر نگاہ جماتے ہوئے کہا۔ “ہم یہاں کھانے پینے نہیں بلکہ تم سے کچھ ضروری باتیں کرنے آئے ہیں اور پھر ابھی کھانے کا وقت بھی نہیں ہوا ہے۔”
” جیسی آپ کی مرضی جناب ” وہ فدویانہ انداز میں بولا ۔ ” ہم تو حکم کے غلام ہیں۔ جو آپ کو پسند ہم اسی میں خوش۔“
میں نے پوچھا۔ ” غلام قادر! مجھے پتا چلا ہے کہ آٹھ دس روز قبل ایک جوڑا ریسٹ ہاؤس میں آکر خبرا تھا؟”
اس کے چہرے پر ایک رنگ را آ کر گزر گیا’ لکنت آمیز لہجے میں بولا۔
ج جی ہاں جی وہ میاں بیوی تھے ۔”
وہ دونوں کس تاریخ کو یہاں پہنچے تھے؟”
ایک لمحے کو سوچنے کے بعد اس نے جواب دیا۔ ” شاید میں تاریخ کو وہ یہاں آئے تمہارا مطلب ہے دس روز پہلے ؟ میں نے پوچھا: ” آج میں جولائی ہے۔”
اس نے اثبات میں جواب دیا۔ میں نے سوال کیا۔ وہ کتنے دن تک اس ریسٹ ہاؤس میں میرے تھے۔”
میں نے واضح طور پر محسوس کیا جواب دینے سے پہلے وہ کسی کش مکش کا شکار ہو گیا ۔
پہلی ہی نظر میں وہ مجھے مشکوک دکھائی دیا تھا۔ لیکن میں نے سوچا تھا شاید یہ میری وردی کا اثر اور اکثر سیدھے سادے افراد پولیس کو اپنے رو بہ رو دیکھ کر گھبراہٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔
میں نے ذراسخت لہجے میں کہا۔ “تم نے میرے سوال کا جواب نہیں دیا غلام قادر کیا وہ دونوں افراد ابھی تک ریسٹ ہاؤس میں موجود ہیں۔”
ن نہیں سرکار دو شکستہ لہجے میں گویا ہوا ۔ دو یہاں نہیں ہیں۔”
وہ اس کا مطلب ہے جاچکے ہیں؟ میں نے اس کے چہرے پر نظر گاڑتے ہو۔
کہا۔
“جی ہاں جا چکے ہیں۔ وہ قدرے مضبوط لہجے میں بولا۔
وہ یہاں سے کب روانہ ہوئے تھے؟“
پتو بیس جولائی کو “
اس کا جواب میرے لیے غیر متوقع تھا۔ میں نے ڈانٹ آمیز لہجے میں کہا۔ دیکھو نام قادر ! ابھی تو میں زمی کے ساتھ پیش آرہا ہوں لیکن اگر تم نے عدم تعاون کا مظاہرہ کیا تو میں سخت ترین رویہ اپنانے سے بھی دریغ نہیں کروں گا۔”
میری اس دھمکی کا خاطر خواہ اثر ہوا۔ وہ خوف زدہ نظر آنے لگا۔ میں نے کہا۔ اگر تم مجھے سب کچھ بیچ بیچ بتا دو گے تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ تمہیں کچھ نہیں کہوں گا۔ کیا وہ دونوں واقعی چوٹیں تاریخ کو یہاں سے گئے تھے؟”
میں پورے وثوق سے نہیں کہہ سکتا جناب۔”
” کیا مطلب ہے تمہارا؟”
جناب سچی بات تو یہ ہے کہ ان دونوں نے مجھے چکرا کے رکھ دیا ہے ۔ غلام قادر نے بے چارگی سے کہا۔ ” میرا ذ ہن ابھی تک انہی میں الجھا ہوا ہے۔”
پوری وضاحت سے بتاؤ۔“
اس نے انکشاف انگیز لہجے میں بتایا۔ ” جناب ! میں نے خدا کو جان دینی ہے اس لیے آپ سے بالکل جھوٹ نہیں بولوں گا۔ ایک لمحے کے توقف سے اس نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا۔ وہ دونوں میں تاریخ کو ریسٹ ہاؤس پہنچے تھے ۔ چاچا یہ کا ہی انہیں اپنے تانگے میں اسٹیشن سے لے کر یہاں آیا تھا۔ مرد جس کا نام جمیل فاروقی تھا اس نے مجھے بتایاتھا کہ وہ ایک ہفتے تک ریسٹ ہاؤس میں قیام کریں گے ۔ جمیل فاروقی کے مطابق اس کی نئی نئی شادی ہوئی تھی اور وہ تفریح کی غرض سے یہاں آئے تھے۔ جمیل فاروقی کی بیوی کا نام بعدمیں مجھے معلوم ہوا۔ زحمس اس کی قریبی رشے دار تھی۔ جمیل فاروقی نہروں کے محکمے میں کوئی افر تھا۔“
تھوڑی دیر کو رک کر اس نے اپنی سانس درست کی۔ میں خاموشی سے اس کی طرف دیکھتا رہا۔ وہ بات جاری رکھتے ہوئے بولا۔ جناب تھانے دار صاحب اتئیس تاریخ تک تو سب کچھ ٹھیک ہی رہا تھا لیکن اسی شام ایک غنڈہ صورت شخص ان میاں بیوی سے ملنے آ گیا۔
جمیل نے اس شخص کو لیا تو کہہ کر مخاطب کیا تھا اور اس کی آمد سے ہراساں نظر آ رہا تھا۔ جمیل نے مجھے بتایا کہ لیا تو نامی وہ شخص رات کو ریسٹ ہاؤس ہی میں رکے گا۔ میں نے واضح طور پر محسوس کیا کہ ان کے درمیان خاصا کھنچاؤ پایا جاتا تھا۔ جمیل کی بیوی نرگس تو لیا قو کے سامنے بھی نہیں آئی تھی۔ رات کے کھانے کے بعد نرگس تو بیڈروم میں جا کر لیٹ گئی جب کہ جمیل اور لیا تو باہر والے کمرے میں بیٹھے باتیں کرتے رہے۔ میرے دل میں لیا تو کے بارے میں ایک
عجیب سا تجس جاگ اٹھا تھا۔ اس لیے کھانے کے برتن اٹھانے کے بعد ایک جگہ چھپ کران کی باتیں سننے کی کوشش کرنے لگا۔ وہ دھیمی آواز میں کسی اختلافی موضوع پر گفتگو کر رہے تھے ۔ بات چیت کی نوعیت تو میری سمجھ میں نہیں آئی، البتہ بعض الفاظ ان کی گفتگو میں بار بار آتے رہے۔ مثلاً نکاح شادی اغواء عزت غیرت انتقام بد قسمت اور مک مکا وغیرہ۔”
” کچھ دیر بعد انہوں نے گفتگو سمیٹ دی اور جمیل فاروئی اٹھ کر اس کمرے کی جانب بڑھ گیا جہاں زکس موجود تھی۔ راستے میں مجھ پر نظر پڑی تو جمیل نے کہا کہ اس کا مہمان لیا تو آج رات ریسٹ ہاؤس ہی میں رکے گا اور صبح واپس چلا جائے گا۔ میں اس کے لیے اس کمرے میں منجی بستر کا انتظام کر دوں جہاں وہ بیٹھا ہوا ہے۔
میں نے پوچھا۔ ” صاحب میں خیر تو ہے نا؟”
ہاں سب خیر ہے۔ جمیل نے بے پروائی سے کہا۔ ”کوئی فکر کی بات نہیں صاحب جی ایک بات کہوں ۔ میں نے اجازت طلب لہجے میں کہا۔
ہاں کہو۔”
صاحب جی! آپ کا مہمان مجھے ٹھیک بندہ نہیں لگتا۔ میں نے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ۔ کہیں کوئی گڑ بڑ تو نہیں ہو جائے گی ۔ اگر خطرے والی کوئی بات ہے تو مجھے بتا ئیں تا کہ میں کوئی بندو بست کروں۔”
جمیل فاروقی نے اطمینان آمیز لہجے میں کہا۔ انہیں غلام قادر ایسی پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے۔ دراصل لیاقت عرف لیا تو سے میرا لین دین کے معاملے میں خاصا پرانا جھگڑاچلا آرہا ہے۔ وہ اسی سلسلے میں یہاں آیا ہے۔ وہ صبح واپس چلا جائے گا۔ تم اپنے ذہن سے تمام اندیشے نکال دو اور جا کر اپنے کمرے میں آرام کرو ۔ میں بھی اب سونے جا رہا ہوں۔”
ایک لمحے کے توقف سے اس نے اضافہ کیا ۔ اور ہاں سونے سے پہلے لیا قو کے لئے بستر وغیرہ ضرور بچھا دینا۔
میں نے جمیل فاروقی کی ہدایت کے بہ موجب اس کے مہمان لیا قو کے لیے بستر کا انتظام کیا اس کے سرہانے پانی کا جنگ رکھا اور جا کر اپنے کمرے میں لیٹ گیا۔ جلد ہی میری آنکھ لگ گئی ۔”
صبح میں سو کر اٹھا تو ریسٹ ہاؤس میں میرے سوا اور کوئی بھی نہیں تھا۔ میں نے ایک ایک کمرے میں جھانک کر دیکھ لیا۔ وہ تینوں غائب تھے ۔“
یہاں پہنچ کر غلام قادر خاموش ہو گیا۔
” غائب تھے ؟ کیا مطلب؟ میں نے جلدی سے پوچھا۔
غلام قادر نے بتایا ۔ کیا قو کے بارے میں تو رات کو ہی جمیل صاحب نے بتا دیا تھا کہ وہ صبح واپس چلا جائے گا لیکن جمیل فاروقی اور نرگس کو غیر موجود پاکر میں پریشان ہو گیا۔
ان کا سامان بیڈروم میں موجود تھا لیکن وہ خود کہیں دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ میں نے ان کے سامان کو کمرے میں ہی بند کر دیا اور انہیں تلاش کرنے ریسٹ ہاؤس سے باہر نکل گیا۔”
میں کافی دیر تک انہیں آس پاس کے علاقے میں ڈھونڈتا رہا، پھر نا کام ہو کر واپس لوٹ آیا۔ مجھے حیرت اس بات پر تھی کہ وہ بغیر بتائے کہاں چلے گئے تھے اور اپنا سامان بھی ریسٹ ہاؤس ہی میں چھوڑ گئے تھے۔ بار بار میرے ذہن میں لیا تو کا خیال آتا رہا۔ وہ شکل وصورت اور چال ڈھال سے کوئی بد معاش ہی نظر آتا تھا۔ میں جمیل فاروقی اور اس کی
بیوی نرگس کے بارے میں پریشان ہوتا رہا اور ان کی واپسی کا انتظار کرتا رہا لیکن دس دن گزر جانے کے بعد بھی ان کی صورت نظر نہیں آئی۔ ان کا سامان ابھی تک کمرے میں بند پڑا غلام قادر کے طویل بیان میں بہت سی باتیں غور طلب تھیں۔ اگر اس نے کسی دروغ گوئی سے کام نہیں لیا تھا تو جمیل فاروقی اور نرگس کی گمشدگی میں لیا تو کا ہاتھ ہو سکتا تھا۔
نامعلوم پردیسی مقتول کا نام اب مجھے معلوم ہو چکا تھا۔ میں نے غلام قادر سے حاصل ہونے والی معلومات پر غور کیا تو بہت سی باتیں مجھے ہضم نہیں ہوئیں۔ مثلاً پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے مطابق مقتول جمیل فاروقی کی موت تئیس جولائی کی رات دس اور گیارہ بجے کے درمیان واقع ہوئی تھی جب کہ اس کی لاش پچیس جولائی کو دریافت ہوئی تھی۔ غلام قادر کے بیان کے مطابق تئیس جولائی کی رات وہ سب ٹھیک ٹھیک ہوئے تھے اور چو میں جولائی کی صبح جب غلام قادر سوکر اٹھا تو وہ تینوں غائب تھے۔ میں نے ان معاملات کو ذہن میں رکھتے ہوئے غلام قادر -پوچھا۔
غلام قادر اچھی طرح سوچ کر بتاؤ۔ لیاقت عرف لیا تو نامی وہ غنڈہ صورت شخص کس تاریخ کو ریسٹ ہاؤس پہنچا تھا۔”
وہ پر یقین لہجے میں بولا ۔ ” مجھے اچھی طرح یاد ہے جناب۔ وہ تئیس جولائی کی شام کو یہاں پہنچا تھا۔”
ہو گئے تھے۔”
میں نے پوچھا ۔ اور اگلی صبح یعنی چوبیس جولائی کو وہ تینوں تمہیں بغیر بتائے غائب جی ہاں ایسا ہی ہوا تھا۔”
میں نے منقول جمیل فاروقی کی موت کے وقت کو ذہن میں رکھتے ہوئے سوال کیا۔ رات کے کھانے کے بعد تم نے چھپ کر جمیل اور لیاتو کی باتیں سنی تھیں ۔ کیا ان میں ہاتھا پائی وغیرہ بھی ہوئی تھی۔”
نہیں جناب۔ میں نے ایسی کوئی بات محسوس نہیں کی تھی۔”
محسوس نہیں کی تھی کیا مطلب؟”
اس نے جواب دیا۔ ” میں جس جگہ چھپ کر ان کی اننگو سن رہا تھا وہاں سے وہ مجھے نظر نہیں آرہے تھے۔ میں نے ان کی باتوں سے اندازہ لگایا تھا کہ کسی نجی موضوع پر ان کے مابین تلخ کلامی ہوئی تھی۔ ہاتھا پائی وغیرہ اگر ہوئی ہوتی تو مجھے ضرور محسوس ہو جاتا ۔”
غلام قادر ! میں نے اس کی آنکھوں میں گھورتے ہوئے پوچھا۔ ” تم جب لیا تو کے لیے بستر بچھا کر اپنے کمرے میں گئے تھے تو اس وقت رات کا کیا بجا تھا میرا مطلب ہے
اس وقت کیا ٹائم ہوا تھا۔“
میرے خیال میں تو نو ساڑھے نو کا وقت ہوگا۔“
اور تم اپنے کمرے میں لیٹتے ہی سو گئے تھے؟”
جی ہاں خلاف معمول بہت جلد میری آنکھ لگ گئی تھی۔”
اس کا مطلب ہے تم عام طور پر دیر سے سوتے ہو؟“
اس نے جواب دیا۔ ”جناب آج کل گرمیوں کا موسم ہے۔ ویسے تو میں محسن میں سوتا ہوں لیکن جس رات کا آپ ذکر کر رہے ہیں اس رات بارش ہوتی رہی تھی اس لیے مجبوراً کمرے میں سونا پڑا۔ وہ پورا دن میں ریسٹ ہاؤس کی صفائی کرتا رہا تھا اس لیے میں بہت تھک گیا تھا۔ شاید اس لیے بھی مجھے جلدی نیند آگئی تھی۔ دیسے میں گیارہ بجے تک تو جاگتا ہی ہوں۔
مقتول جمیل فاروقی تئیس جولائی کی رات دس اور گیارہ بجے کے درمیان موت سے ہمکنار ہوا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب ریسٹ ہاؤس کا چوکیدار غلام قادر اپنے کمرے میں سو رہا تھا۔ مقتول کی لاش پچیس جولائی کو دریافت ہو گئی تھی لیکن زکس اور لیا تو کا ہنوز کوئی سراغ نہیں مل سکا تھا۔ ان حالات کی روشنی میں یہ بات واضح نظر آ رہی تھی کہ جمیل فاروقی کے قتل میں لیا تو با لواسطہ یا بلا واسطہ ملوث تھا اور مقتول کی بیوی نرگس کو غائب کرنے میں بھی اسی کا ہاتھ ہوسکتا تھا۔ اگر لیا تو اور نرگس یا ان دونوں میں سے کوئی ایک میرے مجھے چڑھ جاتا تو یہ کیس یہ آسانی حل ہو سکتا تھا۔
میں تھوڑی دیر تک انہی خیالات میں الجھا رہا پھر ریسٹ ہاؤس کے چوکیدار غلام قادر کی جانب متوجہ ہو گیا۔
غلام قادر! یہ بات تو تمہیں معلوم ہی ہوگی کہ جمیل فاروقی کو کسی نے بڑی بے دردی سے قتل کر دیا ہے؟”
جی یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ؟ اس کا منہ حیرت سے کھل گیا۔
مجھے اس کی بے خبری پر حیرت کے ساتھ ساتھ غصہ بھی آیا۔ میں نے ذرا سخت لہجے بے خبری پر ساتھ
میں کہا۔ ” کیا تم اس بارے میں کچھ نہیں جانتے؟”
“ائن نہیں جی وہ ہونق بنا مجھے دیکھ رہا تھا۔
میں نے کہا۔ غلام قادر، جمیل فاروقی کی کئی پھٹی لاش ہمیں پھیس جولائی کو جنگل سے ملی۔ یہ خبر پورے قصبے میں پھیلی ہوئی ہے اور تمہیں کچھ پتا ہی نہیں ۔”
میں واقعی اس بارے میں کچھ نہیں جانتا جناب۔‘ وہ سادہ سے لہجے میں بولا ۔
پھر کچھ دیر سوچتے ہوئے پوچھنے لگا۔ آپ کو جمیل فاروقی کی لاش کب ملی ہے؟“
” پچپیس جولائی کی صبح ۔”
او دا اس نے اطمینان بخش سانس خارج کی۔ جناب اس تاریخ کو تو میں اپنے گاؤں چلا گیا تھا۔”
میں نے سخت لہجے میں پوچھا۔ ” تم وہاں کیا کرنے گئے تھے؟”
جناب میری ماں کافی عرصے سے بیمار ہے ۔ ” اس نے مسکین کی صورت بنا کر کہا۔ ”میں نے پہلے تو یہی سوچا تھا کہ جمیل فاروقی اور نرگس کے جانے کے بعد اپنے گاؤں جاؤں گا لیکن جب وہ اچانک غائب ہو گئے اور ایک روز کے انتظار کے بعد بھی واپس نہ آئے تو میں اپنے گاؤں روانہ ہو گیا۔
پریشانی ہوگی ؟
” تم نے یہ نہیں سوچا کہ اگر وہ تمہاری غیر موجودگی میں واپس آگئے تو انہیں کتنی سوچا تھا جناب؟” وہ بے چارگی سے بولا ۔ لیکن بیمار ماں کا خیال بار بار آتا تھا اس لیے مجبور ہو کر میں نے ریسٹ ہاؤس کو بند کیا اور ماں کو دیکھنے گاؤں چلا گیا۔”
تم واپس کب آئے ہو؟ میں نے پوچھا۔ تھا۔“
اس نے جواب دیا۔ ایک دن وہاں گزار کے میں ستائیس جولائی کو واپس آ گیا یہاں آکر تمہیں جمیل ناروقی کے قتل کے بارے میں کچھ پتا نہیں چلا؟”
گاؤں سے واپس آکر میں ریسٹ ہاؤس ہی میں رہا ہوں۔“ اس نے بتایا۔
میں تھے کی طرف گیا نہ ہی وہاں سے کوئی شخص ادھر آیا ۔ شاید اسی لیے میں جمیل فاروقی کو پیش آنے والے حادثے سے بے خبر رہا ہوں۔ کیا آپ نے اس کے قاتل کو گرفتار کر لیا ہے۔ کہیں لیا تو ہی نے تو …
اس نے جملہ ادھورا چھوڑ کر میری طرف دیکھا۔ میں نے کہا جمیل فاروتی کے قاتل کی تلاش جاری ہے اور اس کیلئے ہمیں تمہارے تعاون کی ضرورت ہے۔
میں ہر قسم کے تعاون کے لیے تیار ہوں جناب۔”
میں نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔ ” غلام قادر اگر چہ ہمیں جمیل فاروقی کی لاش چھپیس جولائی کی صبح کوئی ہے لیکن پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے مطابق اس کی موت تئیس جولائی کی رات دس اور گیارہ بجے کے درمیان واقع ہوئی تھی۔ یہ وہی رات ہے جب لیا تو اس ریسٹ ہاؤس میں پہنچا تھا ۔ اب تم بتاؤ ” حقیقت کیا ہے؟”
وہ خاصا پریشان نظر آنے لگا۔ غلام قادر کے تاثرات اور رویے نے مجھے تذبذب میں مبتلا کر دیا تھا۔ کبھی وہ مجھے بالکل معصوم اور بے گناہ نظر آنے لگتا اور کبھی یوں محسوس ہوتا جیسے وہ مجھ سے کچھ چھپانے کی کوشش کر رہا ہو۔ میں کسی نتیجے پر پہنچنے کی کوشش کر رہا تھا۔
اس نے میرے سوال کا جواب دیتے ہوئے بتایا۔ جناب حقیقت کیا ہے یہ تو خدای جانتا ہے ۔ مجھے تو وہ لیا تو نامی شخص خاصا خطر ناک لگا تھا۔
تمہار نے خیال میں لیا تو ہی نے جمیل فاروقی کو قتل کیا ہوگا ؟
” مجھے تو ایسا ہی لگتا ہے جناب۔” وہ جلدی سے بولا ۔ اس کے تیور مجھے خاصے بگڑے ہوئے نظر آتے تھے۔“
ہوں ۔ ” میں گہری سوچ میں ڈوب گیا پھر پوچھا۔ ” غلام قادر یاد کرنے کی کوشش کرو۔ تیس جولائی کی رات تم نے کوئی غیر معمولی بات نوٹ کی تھی ؟”
وہ بیزاری سے بولا ۔ میں نے جو کچھ دیکھا محسوس کیا اور سنا وہ سب آپ کو بتا چکا ہوں۔ اس کے سوا مجھے اور کوئی بات معلوم نہیں ہے۔ اس رات میں ایسی گہری نیند سویا تھا کہ صبح ہی آنکھ کھلی تھی۔ اس وقت تک وہ تینوں ریسٹ ہاؤس سے غائب ہو چکے تھے۔ ایک لمحے کو رک کر اس نے اضافہ کیا۔
لملک صاحب ! اگر آپ کو میر کی بات کا یقین نہیں آیا تو جس طرح چاہیں، تصدیق کرلیں۔“
اے ایس آئی نے کڑے لہجے میں کہا۔ “ہم تمہارے بیان کی تصدیق کے لیے تمہیں حوالات میں بند بھی کر سکتے ہیں۔“
وہ سادگی سے بولا ۔ اگر اس طرح آپ کی تسلی ہوتی ہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ پھر اس نے معصومیت سے دونوں بازو میرے سامنے پھیلا دیئے۔ ملک صاحب! اگر آپ مجھے جھکڑی لگانا چاہیں تو میرے ہاتھ حاضر ہیں۔”
فی الحال اس کی ضرورت نہیں ہے غلام قادر ۔ میں نے قدرے نرم لہجے میں کہا۔
اگر کسی مرحلے پر یہ ثابت ہوا کہ تم نے مجھ سے غلط بیانی کی ہے یا دانستہ حقائق چھپانے یا بگاڑنے کی کوشش کی ہے تو میں کسی رو رعایت سے کام نہیں لوں گا اور تمہارا وہ حشر کروں گا کہ دنیا دیکھے گی ۔”
وہ ہم گیا اور جلدی سے دونوں ہاتھ پیچھے بنا لیے۔ میں نے اس سے پوچھا ۔ غلام قادرا ریسٹ ہاؤس میں قیام کرنے والے تین افراد اچانک غائب ہو گئے تھے۔ لیاقو کے بارے میں تو تمہیں بتایا گیا تھا کہ وہ چو ہیں جولائی کی صبح واپس چلا جائے گا لیکن جمیل فاروقی اورنگی کے بارے میں تو تمہیں تشویش ہونا چاہیے تھی ۔ تم . “
وہ میری بات پوری ہونے سے پہلے ہی بول اٹھا۔ جناب میں نے چوبیس جولائی ہونے سے اٹھا۔
کا پورا دن انہیں تلاش کرنے کی کوشش کی تھی۔”
جب وہ واپس نہیں آئے تھے تو تمہیں تھانے میں ان کی گمشدگی کی رپورٹ درج کروانا چاہیے تھی ۔ میں نے قدرے غصیلے لہجے میں کہا۔ مگر بجائے تھانے کا رخ کرنے کے تم اپنی ماں سے ملنے گاؤں روانہ ہو گئے ۔”
” جناب اس غلطی کے لیے میں معافی چاہتا ہوں۔” وہ ندامت آمیز لہجے میں بولا ۔ “ہاں کی بیماری نے مجھے چینی طور پر بہت پریشان کر رکھا تھا۔ مجھے چاہیے تھا کہ پہلے تھانے آ کر آپ کو اطلاع دیتا لیکن میری مت ماری گئی تھی کہ سیدھا گاؤں چلا گیا ۔”
تمہارا تعلق کسی علاقے سے ہے؟ میں نے پوچھا۔
اس نے جواب دیا۔ رینالہ خورد سے۔“
“رینالہ خورد تو بہت بڑا علاقہ ہے۔ میں نے کہا ۔ رینالہ خورد میں کس جگہ رہتے
یک انتیس
48چک انتیس میں کسی طرف؟”
ابلی والے کھوہ کے پاس۔”
میں نے اس کے گاؤں کا نام پتا اپنی ڈائری میں نوٹ کرنے کے بعد پوچھا۔
” تمہارا باپ کیا کرتا ہے؟”
غلام قادر نے جواب دیا۔ “میرا ابا فوت ہو چکا ہے۔”
گھر میں تمہاری ماں کے علاوہ اور کتنے افراد رہتے ہیں؟
میری چھوٹی بہن ہے۔ اس نے بتایا۔ اس کا نام فردوس ہے ۔ وہ بیمار ماں کی دیکھ بھال کرتی ہے۔ اگر چہ اس کی عمر ابھی بارہ سال ہی ہے لیکن وہ گھر کا تمام کام کاج کرنا جاتی ہے۔”
میں نے پوچھا۔ ” تمہاری ماں کا کیا نام ہے؟“
حیفہ بی بی ۔ اس نے جواب دیا۔
تمہاری ماں کو کیا بیماری ہے؟“
اسے سانس کا مرض ہے۔“
میں نے کہا۔ یہ تو بڑا خطرناک مرض ہے۔ کسی وقت بھی مریض کی حالت اچانک خراب ہو سکتی ہے۔ تم رینالہ خورد سے اتنی دور یہاں پڑے ہو۔ تمہیں چاہیے کہ کسی قریبی علاقہ میں اپنا تبادلہ کر والو۔“
جی میں نے کوشش تو بڑی کی ہے لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی ۔”
یہاں چوکیداری کرتے ہوئے کتنا عرصہ ہوا ہے؟“۔
پورے آٹھ سال ہو گئے ہیں جناب۔“ اس نے آٹھ انگلیاں ہوا میں اٹھاتے ہوئے کہا۔ اس سے پہلے میں قلعہ تارا سنگھ دیپالپور میں تھا۔“
میں نے کہا۔ “اگر تم اپنی بیمار اور بوڑھی ماں کے قریب نہیں رہ سکتے تو اپنی ماں اور چھوٹی بہن کو ہی اپنے پاس بلا لو۔“
میں نے بہت کوشش کی ہے جناب لیکن ماں نہیں مانتی۔ وہ بے بسی سے بولا۔
ماں کا کہنا ہے جس گاؤں میں اس کے خاوند رستم علی کی ہڈیاں دفن ہیں وہ اس جگہ کو کیسے چھوڑ سکتی ہے۔”
میں نے چوکیدار غلام قادر کے نجی معاملات کو سمیٹتے ہوئے اچانک سوال کیا ۔ غلام قادر با تمهین یہ تو معلوم ہی ہوگا کہ جمیل فاروقی اور اس کی بیوی نرگس کا تعلق کسی علاقے سے تھا؟”
نہ میں نے پوچھا اور نہ ہی اس نے بتایا۔ غلام قادر نے جواب دیا۔ ریسٹ ہاؤس میں آ کر ٹھہر نے والے سرکاری افسر اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ ان کے ذاتی معاملات میں دلچسپی لی جائے۔ مجھے دو ایک بار تلخ تجربہ ہو چکا ہے۔ اس لیے خاص محتاط رہتا ہوں۔ اپنے نام بھی انہوں نے خود ہی بتادیے تھے ورنہ میں تو انہیں صاحب جی اور بیگم صاحبہ” کہہ کر مخاطب کر رہا تھا۔“
غلام قادر ! تم نے تھوڑی دیر پہلے بتایا تھا کہ جمیل فاروقی اور نرگس کے غائب ہونے کے بعد تم نے ان کا سامان ایک کمرے میں بند کر دیا تھا۔ میں نے معتدل لہجے میں کہا۔ ”میں وہ سامان دیکھنا چاہتا ہوں۔“
کر دی ضرور دیکھیں جناب وہ سامان ان کے کمرے میں ہی رکھا ہوا ہے۔”
میں اور اے ایس آئی صداقت حسین چوکیدار غلام قادر کے ساتھ اس کمرے میں پہنچے جہاں چند روز قبل مقتول جمیل فاروقی اور اس کی مبینہ بیوی نرگس نے قیام کیا تھا۔
وہ ایک عام سائز کا بیڈروم تھا۔ کمرے کے وسط میں ایک بڑے سائز کی مسہری بچھی ہوئی تھی۔ مسہری کی چادر سے محسوس ہوتا تھا جیسے وہاں سونے والا ابھی ابھی اٹھا ہو۔
کمرے کے ایک کونے میں وہ دونوں اٹیچی کیس موجود تھے جن کا ذکر پہلے پھوری اور بعد ازاں چاچانہ کا نے کیا تھا۔ دونوں انیچی کیس کھلے ہوئے تھے یعنی ان میں تالا نہیں لگایا گیا تھا۔
میں نے ایک اٹیچی کیس کو کھول کر اندر جھانکا۔ اس میں زنانہ ملبوسات بھر ہے ہوئے تھے۔ دو تین زیورات کے ڈبے بھی تھے لیکن ان کے اندر زیور موجود نہیں تھا۔ اس کے علاوہ عورتوں کے استعمال کی چھوٹی موٹی چند دیگر اشیاء بھی تھیں ۔ واضح طور پر وہ نرگس کا اٹیچی کیسی تھا۔ میں نے اٹیچی کیس کی جیبوں میں ہاتھ ڈال کر انہیں بھی چیک کر لیا لیکن کوئی قابل ذکر چیز برآمد نہ ہو گی۔ میں نے وہ اٹیچی کیس بند کر کے دوسرا کھول لیا۔
اس اٹیچی کیس میں چند جوڑے مردانہ استعمال کے تھے جن میں ایک شلوار قمیص کے علاوہ تین پتلونیں اور چار پانچ شرٹس شامل تھیں۔ علاوہ ازیں ایک دھلا ہوا تو لیا چند جیبی رو مال موزوں کے دو جوڑے اور شیونگ کا سامان بھی نظر آ رہا تھا۔ مذکورہ اٹیچی گنجائش کے اعتبار سے نرگس والے اٹیچی کیس سے قدرے بڑا تھا۔ اس اٹیچی کیس کی ایک جیب سے مجھے ایک کارآمد چیز مل گئی تھی۔ یہ ریلوے کے دو ٹکٹ تھے۔
میں نے ان ٹکٹوں کا بغور جائزہ لیا ۔ ٹکٹ میں جولائی کے سفر کے لیے جاری کیسے گئے تھے جو حویلی لکھا ( ضلع اوکاڑہ) سے نگن پور (ضلع قصور ) تک کارآمد تھے۔ جمیل فاروقی کے اٹیچی کیس سے ان ٹکٹوں کے ملنے کا واضح مطلب یہی تھا کہ ان دونوں مبینہ میاں بیوی نے انہی ٹکٹوں پر سفر کیا تھا مگر ایک بات میری سمجھ میں نہیں آ رہی تھی کہ وہ کنگن پور جانے کے بجائے اٹاری ریلو نے اسٹیشن پر کیوں اتر گئے تھے ۔ بہر حال یہ پتا چل گیا تھا کہ ان دونوں کا تعلق حویلی لکھا یا گردو نواح کے کسی علاقے سے تھا۔
میں نے وہ دونوں ٹکٹ اپنی جیب میں ڈال لیے اور کمرے میں موجود دیگر چیزوں کا جائزہ لینے لگا۔ مسمری کے نیچے ایک مردانہ چہل اور دو زنانہ سینڈل پڑے ہوئے تھے۔
کمرے کی ایک دیوار میں دو پٹ والی ایک چوبی الماری نصب تھی۔ میں نے وہ الماری کھول کر دیکھی۔ اس کے اندر چند دواؤں والی شیشیاں استعمال شدہ بیڈ اور کنگھے، خوشبو دار تیل کی بوتل اور ایک آئینہ وغیرہ رکھا ہوا تھا۔ یقینا یہ سامان مقتول جمیل فاروقی اور نرگس ہی کا تھا۔
میں نے کمرے میں موجود اشیاء کی ایک فہرست مرتب کی اور غلام قادر کو حکم دیا کہ وہ دوبارہ کمرے کو بند کر دے۔ اس نے میرے حکم کی تعمیل کی۔ میں نے ریسٹ ہاؤس سے رخصت ہونے سے پہلے غلام قادر سے تنبیبی لہجے میں کہا۔
نظام قادر! ابھی تو میں جا رہا ہوں۔ ضرورت پڑی تو پھر آؤں گا تم کسی وقت تھانے آ کر اپنا بیان لکھوا دینا ۔“
آپ جو کہیں گے میں ویسا ہی کروں گا سر کار “
اور ہاں، اس دوران میں اگر تمہیں نرگس یا لیا تو کے بارے میں کوئی سن گن ملے تو پہلی فرصت میں مجھے آگاہ کرنا ۔ ” میں نے کہا۔
وہ فرماں برداری سے بولا۔ بالکل جناب آپ فکر نہ کریں میں آپ کے حکم کے مطابق عمل کروں گا۔“
میں نے اسے آخری تاکید کی۔ غلام قادر! جب تک جمیل فاروقی کے قتل کا معماحل نہیں ہو جاتا تم مجھے اطلاع دیے بغیر علاقے سے باہر نہیں جاؤ گے۔ یہ بات اچھی طرح یاد رکھنا۔“
بہتر، جناب میں یاد رکھوں گا۔“
اس روز جب ہم ریسٹ ہاؤس سے باہر نکلے تو دن کے تقریبا بارہ بج چکے تھے۔
کچھ دیر پہلے ہی سورج نکلا تھا لیکن آسمان پر دبیز گھٹا میں بدستور موجود تھیں۔ ابھی ہم واپس تھانے نہیں پہنچے تھے کہ اچانک بوندا باندی شروع ہوگئی پھر دیکھتے ہی دیکھتے موسلا دھار مینہ یر سنے لگا۔ ساون کی برسات اسی طور آنکھ مچولی کھیلتی ہے۔
وہ تو خیریت گزری کہ ہم اپنے ساتھ چھتریاں لے کر تھانے سے نکلے تھے ورنہ شرابور واپس لوٹتے۔ ہماری وہ احتیاط کام آگئی تھی۔ چاچائی کا نے اپنا سجیلا تانگا تھانے کی چوھدی کے اندر داخل کیا اور اندرونی عمارت کے بالکل سامنے جا کر روکا۔ ہم چھلانگیں لگا کرنیچے اتر آئے۔
فیکا کو چوان نے استفسار کیا۔ اور کوئی حکم سرکار؟”
میں نے اپنی جیب خاص سے پانچ روپے کا ایک نوٹ نکال کر اس کی جانب بڑھا دیا۔ یہ رکھ لو چا چا ۔ ہماری وجہ سے تمہارا آدھا دن ضائع ہو گیا ہے۔“
میں تو آپ کا خادم ہوں جناب فیر کا کوچوان کے متذبذب لہجے میں کہا اور نوٹ کی جانب ہاتھ نہیں بڑھایا۔
اس تکلف کی کیا ضرورت ہے۔” وہ مسکین کی صورت بنا کر بولا ۔ کوئی اور خدمت ہو تو بتا ئیں؟“
تکلف تم کر رہے ہو چاچا۔” میں نے تہرے ہوئے لہجے میں کہا۔ “تمہیں یہ نوٹ لینا ہی پڑے گا۔ میری طرف سے اپنے گھوڑے کی سجاوٹ کا سامان خرید لیا . اور ہاں اگر ضرورت پڑی تو تمہیں مزید خدمت کا موقع بھی دیں گے۔”
تھوڑی سی ہچکچاہٹ کے بعد اس نے میرے ہاتھ سے نوٹ لے کر اپنی جیب میں ڈال لیا اور ممنونیت سے لب ریز لہجے میں کہا۔ ” میں اس رقم کو آپ کی جانب سے نبرد کے لیے انعام کجھوں گا ۔
یہ گیرو کون ہے بھئی ۔ ” میں نے چونک کر پوچھا۔
میں میرے شہر زادے کا نام ہے۔ اس نے تانگے میں جتے ہوئے گھوڑے کی پیٹھے پر تھپکی دیتے ہوئے بتایا ۔ ” میں اسے پیار سے گبرد کہتا ہوں ملک صاحب ۔“ میں نے مسکرا کر ذریکا کو جو ان کی طرف ستائشی نظر سے دیکھا اور اے ایس آئی کے
ساتھ اپنے کمرے میں آگیا۔
دن کا باقی حصہ میں نے اپنی اب تک کی کارکردگی کی رپورٹ تیار کرنے میں گزارا۔ دوسری صبح میں نے وہ تازہ ترین رپورٹ اپنے علاقے کے ایس پی کو روانہ کردی۔
میں نے اس رپورٹ میں علاقہ ایس پی کو مطلع کر دیا تھا کہ مزید تفتیش کے لیے میں پہلی فرصت
میں حویلی لکھا جانے کا ارادہ رکھتا ہوں۔
اس روز اے ایس آئی صداقت حسین چھٹی پر تھا۔ وہ اپنی بیوی کو لینے اپنی سسرال چک بیتیں موضع شیر گڑھ گیا ہوا تھا۔ میں نے چند نہایت ہی اہم قسم کے کام نمٹائے اور ایک دوسرے اے ایس آئی فتح علی کو اپنے ساتھ لے کر حویلی لکھا روانہ ہو گیا۔ تھانے کے معاملات میں نے سب انسپکٹر نور خان کو اچھی طرح سمجھا دیے تھے۔ نورخان پر میں بہت بھروسا کرتا تھا۔ وہ سمجھ دار اور نہایت ہی ذمے دار سب انسپکٹر تھا۔ اس نے کبھی مجھے شکایت کا موقع نہیں دیا تھا۔
حویلی لکھا ضلع اوکاڑہ کی حدود میں آتا تھا اس لیے میں نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر میں رپورٹ کرنے کے بجائے براہ راست متعلقہ تھانے جانے کا فیصلہ کیا۔ حویلی لکھا کا تھاناانچارج رائے نواز کھرل میرا دیرینہ واقف کار تھا۔ اس نے ہمارا پر تپاک استقبال کیا اور ہماری آمد کی غرض و غایت دریافت کی۔ میں نے تفصیلاً ! سے صورت حال سے آگاہ کیا اور اپنے آنے کا مقصد واضح کیا۔ جو انبا رائے نواز کھرل نے ایک دوسری ہی کہانی سنائی۔ اس نے کہا ملک صاحب! ہم تو خودنگس کی تلائل میں ہیں۔ نرگس کے باپ نے اس کے اغوا کی رپورٹ درج کروارکھی ہے۔”
اغوا کی رپورٹ … ! یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ؟”
میں بالکل ٹھیک کہہ رہا ہوں ملک صاحب نواز کھرل نے یقینی لہجے میں کہا۔
جس میں جولائی سے غائب ہے۔ اس کے باپ ظہور احمد نے لیاقت عرف لیاقو کے خلاف نرگس کے اغوا کی رپورٹ لکھوائی تھی۔ ہم نے یہ مشکل تمام لیا تو کو بائیس جولائی کی رات موضع کمال کوٹ سلیمان ہیڈورکس سے گرفتار کیا تھا۔ چھبیس جولائی تک ہم نے اسے حوالات میں رکھا اور اس سے زکس کے بارے میں پوچھتے رہے لیکن اس سلسلے میں کوئی کامیابی نہ ہوسکی۔
جب مجھے یقین ہو گیا کہ نرگس کے اغواء میں لیا تو کا کوئی ہاتھ نہیں تو میں نے چھبیس جولائی کی صبح اسے چھوڑ دیا۔ لیا تو دو تین مرتبہ پہلے بھی بد معاشی اور بلوے کے کیس میں حوالات کی ہوا کھا چکا ہے۔”
نواز کھرل تھانا انچارج حویلی لکھا کی فراہم کردہ اطلاعات حیرت انگیز تھیں ۔ میں نے اپنی تسلی کے لیے سوال کیا۔
کھرلی صاحب! آپ نے واقعی بائیس جولائی کی رات لیا تو کو گرفتار کیا تھا؟”
بالکل ملک صاحب اس دن بائیس تاریخ ہی تھی۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے۔”
رائے نواز کھرل نے جواب دیا۔ اس روز صبح ہی سے بارش ہو رہی تھی۔ ہم رات آٹھ بجےکمال کوٹ پہنچے تھے۔ مخبر کی فراہم کردہ اطلاع درست ثابت ہوئی تھی اور ہم لیا تو کو دو روز کی جان توڑ محنت اور کوشش کے بعد گرفتار کرنے میں کامیاب رہے تھے۔“
میں نے پوچھا۔ “اور چھبیس جولائی کی صبح آپ نے اسے چھوڑ دیا تھا؟”
اس نے اثبات میں جواب دیا۔ میں نے سوال کیا ۔ کھرل صاحب ! کیا آپ کو یقین ہے کہ لیا تو بائیس جولائی کی رات سے چھبیس جولائی کی صبح تک آپ کے تھانے کی حوالات میں رہا تھا ؟“
“جی ہاں ۔ مجھے یقین کامل ہے ۔ وہ پورے وثوق سے بولا۔ اس دوران میں وہ ایک لمحے کے لیے بھی باہر نہیں نکلا تھا۔”
میں گہری سوچ میں ڈوب گیا۔ ریسٹ ہاؤس کے چوکیدار نے یقینی لہجے میں مجھے بتایا تھا کہ تئیس جولائی کی شام لیا تو مقتول جمیل فاروقی سے ملنے ریسٹ ہاؤس پہنچا تھا اور چو میں جولائی کی صبح غائب ہو گیا تھا۔ تھانا انچارج نواز کھرل کے بیان کی روشنی میں یہ بات واضح تھی کہ ریسٹ ہاؤس کے چوکیدار غلام قادر نے صریحاً غلط بیانی سے کام لیا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ لیا تو کینال ریسٹ ہاؤس میں نہیں گیا تھا یا تو وہ کوئی اور شخص تھا یا پھر غلام قادر
نے مجھ سے دانستہ جھوٹ بولا تھا۔
جب کوئی شخص جھوٹ بولتا ہے تو اس کے پیش نظر عام طور پر تین مقاصد ہوتے ہیں۔ جھوٹ بول کر وہ کوئی بڑا فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہے یا وہ اس جھوٹ کے توسط سے کسی بڑی پریشانی اور نقصان وغیرہ سے بچنا چاہتا ہے یا پھر وہ اپنی جھوٹی آن بان اور ٹورشور بنانے کے لیے غلط بیانی سے کام لیتا ہے۔
میں اس ناظر کی روشنی میں غلام قادر کے بارے میں سوچنے لگا۔ اگر اس نے لیا تو کی وہاں آمد کے بارے میں جھوٹ بولا تھا، تو وہ اس جھوٹ سے کیا فائدہ اٹھا سکتا تھا؟ وہ کون سے نقصان اور پریشانی سے بچنا چاہتا تھا ؟ اس کی شان بڑھانے کا کون سا پہلو رکھتا تھا؟ ایک امکان میرے ذہن میں یہ بھی تھا کہ ہو سکتا ہے لیا تو وہاں نہ پہنچا ہو۔ وہ کوئی اور ہی شخص ہو اور مقتول جمیل فاروقی نے اس شخص کا تعارف لیا تو کے حوالے سے کروایا ہو۔
کن خیالوں میں کھو گئے ملک صاحب؟” تھانا انچارج نواز کھرل کی آواز نے
مجھے چونکا دیا۔
میں نے ایک فوری خیال کے تحت پوچھا۔ کھرل صاحب! آپ مجھے لیا توبدمعاش کا ذرا حلیہ بتائیں۔“
نواز کھرل نے جو حلیہ بیان کیا وہ غلام قادر کے بتائے ہوئے جلتے کے عین مطابق تھا۔ بے اختیار میری زبان سے نکل گیا۔ یہ کیسے ممکن ہے۔ ایک شخص ایک ہی وقت میں ” دور دراز مختلف جگہوں پر کیسے پایا جا سکتا ہے؟”
“میرا خیال ہے ریسٹ ہاؤس کے چوکیدار نے آپ سے جھوٹ بولا ہے۔”
نواز کھرل نے میری الجھن دور کرتے ہوئے کہا۔
اس کے جھوٹ بولنے کی کوئی وجہ بھی تو نظر نہیں آرہی ۔ ” میں واقعی الجھ کر رہ گیا نواز کھرل نے کہا۔ میرے پاس تو یہ رپورٹ درج کروائی گئی تھی کہ نرگس نامی اس لڑکی کو لیا تو نے اغوا کر لیا ہے لیکن آپ بتا رہے ہیں نرگس، جمیل فاروقی کی بیوی کی حیثیت سے ریسٹ ہاؤس پہنچی تھی۔ یہ کیا معاملہ ہے جناب۔ میری معلومات کے مطابق تو نرگس ایک کنواری لڑکی ہے۔ اس کی شادی نہیں ہوئی ۔“
و جمیل فاروقی کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟”
یہ کردار پہلی مرتبہ اس کہانی میں آیا ہے۔”
میں نے کہا۔ ریلوے ٹکٹ کے مطابق نرگس اور جمیل فاروقی میں جولائی کو کنگن پور جانے کے لیے حویلی لکھا سے ٹرین میں بیٹھے تھے لیکن وہ بیچ میں ہی اٹاری ریلوے اسٹیشن پر اتر گئے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ جمیل فاروقی نامی یہ شخص قتل ہو چکا ہے اور نرگسی لاپتا ہے۔”
رگس تو میں جولائی ہی سے لاپتا ہے جناب۔” کھرل نے ایک ایک لفظ پر زور دے کر کہا۔ “ہمارے ریکارڈ کے مطابق اسے اغوا کیا گیا ہے۔ ملزم لیا تو میری تفتیش کے مطابق اس اغوا میں ملوث نہیں ہے اس لیے میں نے اسے چھوڑ دیا۔ نرگس کی تلاش ہنوز جاری ہے۔”
میں نے پوچھا۔ ” مس کا تعلق حویلی لکھا ہی سے ہے نا؟”
نواز کھرل نے اثبات میں جواب دیا۔ میں نے سوال کیا ۔ ” کیا لیا تو بھی نرگس کے قریب ہی کہیں کا رہنے والا ہے؟”
دا کیا تو کی رہائش موضع پیر غمنی میں ہے۔”
میں چونک اٹھا۔ موضع پیر غنی اور حویلی لکھا میں تو اچھا خاصا فاصلہ ہے۔”
آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں ملک صاحب “
میں نے کہا۔ آپ نے بتایا ہے کہ نرگس کے والد ظہور احمد نے اپنی بیٹی کے اغوا کا الزام لیاقت عرف لیا تو پر عائد کیا تھا۔ اس کی کوئی خاص وجہ ہے ؟”.
بڑی خاص الخاص وجہ ہے جناب۔ نواز کھرل نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا پھر وہ وجہ بھی بیان کر دی۔
رائے نواز کھرل کے مطابق لیا تو بد معاش ساکن موضع پیرغنی نے کسی شادی کی تقریب میں نرگس کو دیکھ لیا تھا۔ وہ پہلی ہی نظر میں نرگس پر عاشق ہو گیا۔ اس نے پہلے تو سیدھے طریقے سے زگی کے باپ سے زگی کا رشتہ مانگا لیکن جب ظہور احمد نے اس کا مطالبہ ماننے سے صاف انکار کر دیا تو لیا تو دھمکیاں دینے لگا۔ اس نے واضح الفاظ میں ظہور
احمد کو باور کروا دیا تھا کہ اگر اس نے لیاتو کی بات نہ مانی تو وہ نرگس کو اٹھا کر لے جائے گا۔ اس جمکی کے کچھ ہی روز بعد نرگس غائب ہو گئی تھی۔ اسی بنا پر ظہور احمد نے لیا تو کے خلاف اغواء کی رپورٹ درج کروائی تھی جس کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہو سکا تھا۔
پوری بات سننے کے بعد میں نے کہا ۔ کھرل صاحب انرگس کی اغوا نما رو پوشی اور جمیل فاروقی کا قتل کسی ایک ہی سلسلے کی کڑیاں نظر آ رہی ہیں۔ نرگس کا اغوا آپ کے تھانے کی حدود میں ہوا ہے اور جمیل فاروقی کا قتل میرے تھانے کی حدود میں ۔ ہمیں مل جل کر اس کیس کو حل کرنا ہوگا۔ آپ کا کیا خیال ہے؟”
میں آپ کے خیال سے اتفاق کرتا ہوں ملک صاحب نواز کھرل نے دوستانہ لہجے میں کہا۔ ” اور اس سلسلے میں میں ہر قسم کے تعاون کے لیے تیار ہوں۔”
میں نے کہا۔ تین کرداروں (زگی، جمیل فاروقی اور لیا تو ) میں سے ایک یعنی جمیل فاروقی قتل ہو چکا ہے۔ لیا تو پر آپ محنت کر چکے ہیں اور نرگس کا کچھ اتا پتا نہیں ہے۔ اگر جمیل فاروقی کے بارے میں یہ معلوم ہو جائے کہ وہ کون تھا اور اس کا نرگس سے کیا تعلق تھا۔ ظاہر ہے آپ کے بقول وہ میاں بیوی تو نہیں تھے تو ہم کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔
نواز کھرل نے کیا۔ جمیل فاروقی اگر حویلی لکھا کا ہی رہنے والا ہے تو میں اس کے بارے میں معلومات حاصل کر لیتا ہوں۔ اس علاقے کا انسائیکلو پیڈیا میرے تھانے میں موجودہے۔
،،انسائیکلو پیڈیا !
جی ہاں ۔ نواز کھرل نے اثبات میں سر ہلایا۔ اپنے تھانے کے ہیڈ محرر تا ظرفشی کو میں انسائیکلو پیڈیا ہی کہتا ہوں۔ بڑا باخبر بندہ ہے۔ حویلی لکھا کے ایک ایک بندے کی ہسٹری جانتا ہے۔”
پھر وہ بڑے کام کا بندہ ہے۔ میں نے سراہنے والے انداز میں کہا۔ “میرا خیال ہے ناظر غشی کے علاوہ نرگس کے باپ ظہور احمد سے بھی اس سلسلے میں پوچھ کچھ کرنا چاہیے۔”
آپ کا مشورہ سر آنکھوں پر ۔ ” نواز کھرل نے خوش دلی سے کہا۔ “اگر ناظر فشی ہماری کوئی مدد نہ کر سکا تو ہم ظہور احمد کو بھی چیک کریں گے۔ ویسے میں بھی آپ کو ایک مشورہ دوں گا۔
جی ضرور کھرل صاحب! ہم اس وقت ایک ہی کشتی میں سوار ہیں ۔ “
وہ دھیمے لہجے میں بولا ۔ میری نظر میں کینال ریسٹ ہاؤس کا چوکیدار بری از شک نہیں ہوسکتا۔ اگر اس نے تئیس جولائی کو لیا تو کو ریسٹ ہاؤس میں دیکھا ہے تو وہ سراسر جھوٹا ہے آپ اسے نظر انداز نہ کریں۔”
سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جناب۔ میں نے ٹھوس لہجے میں کہا۔ “غلام قادر پر میں نے بڑی گہری نظر رکھی ہوئی ہے۔ آپ فکر نہ کریں۔ یہاں سے واپسی پر وہی میرا ٹارگٹ ہوگا۔ ذرا جمیل فاروقی کا عقدہ حل ہو جائے پھر میں غلام قادر کی اچھی طرح خبر لوں گا۔“
رائے نواز کھرل نے ایک سپاہی کو بھیج کر اپنے ہیڈ محرر ناظر فش کو اپنے کمرے میں بلا لیا۔ وہ اندر آ کر ہوشیار باش کھڑا ہو گیا تا ظرفی کی عمر چالیس سے متجاوز تھی۔ وہ ایک دبلا پتلا شخص تھا۔ اس کے چہرے سے ذہانت پکتی تھی مگر اس ذہانت میں چالا کی اور مکاری کی آمیزش واضح طور پر دیکھی جاسکتی تھی۔ رائے نواز کھرل نے میری فراہم کردہ مقتول جمیل فاروقی کی تصویر ناظر مٹی کو دکھاتے ہوئے پوچھا۔
ناظر منشی، کیا یہ شخص ہمارے ہی علاقے کا رہنے والا ہے؟“
اس نے دو چار زایوں سے تصویر کو گھما پھرا کر دیکھا اور نواز کھرل کے سوال کا جواب دینے کے بجائے روکھے پھیکے لہجے میں پوچھا۔ رائے صاحب! اس بندے کو کیا ہوا ہے؟
” تم سوال نہیں کرو میری بات کا جواب دو۔‘ نواز کھرل نے برہمی سے کہا۔
ناظر منشی فلسفیانہ انداز میں بولا ۔ آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ یہ بندہ حویلی لکھا کا وسنیک نہیں ہے لیکن”
اس نے دانستہ جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔ نواز کھرل نے مضطر بانہ انداز میں پوچھا۔
لیکن کیا تا ظرفشی ؟”
وہ بولا۔ لیکن جناب رائے صاحب! یہ بندہ رہتا یہیں ہے۔“
” کیا الٹی سیدھی باتیں کر رہے ہو ۔ ” نواز کھرل نے قدرے غصیلے لہجے میں کہا۔
اس بات سے تمہارا کیا مطلب ہے کہ یہ بندہ یہاں کا رہنے والا نہیں ہے لیکن یہ نہیں رہتا ہے؟
میں بالکل ٹھیک کہہ رہا ہوں جناب۔ نا ظرفشی اپنے مخصوص انداز میں بولا۔
میں نے کہا۔ ذرا اپنی بات کی وضاحت تو کرو۔“
وضاحت ! اس نے ہونٹ دیا کر کہا۔ ” وضاحت میری بات کی یہ ہے کہ اس ہندنے کا نام جمیل فاروقی ہے۔ یہ ضلع قصور کے کسی علاقے کا رہنے والا ہے۔ اس کی نوکری یہاں حویلی لکھا میں ہے اس لیے رہتا بھی نہیں ہے۔ یہ محکمہ انہار میں کوئی چھوٹا موٹا افسر ہے شاید ایک لمحے کے توقف سے اس نے اضافہ کیا۔ اس تصویر کو دیکھ کر تو میں یہی کہوں گا کہ جمیل فاروقی ہے ہے ہے نہیں بلکہ تھا تھا تھا تھا۔ اس کی کئی ہوئی گردن بتا رہی ہے کہ اب یہ اس دنیا میں نہیں ہے۔ پھر وہ رائے نواز کھرل کی طرف دیکھتے ہوئے شکایتی لہجے میں بولا۔
رائے صاحب ! آپ چاہے نہ بتائیں مگر تصویر بول رہی ہے کہ اس بندے کو کیا ہوا ہے۔“
نواز کھرل نے اس کے شکوے کو نظر انداز کرتے ہوئے پوچھا۔ ” جمیل حویلی لکھامیں کس جگہ رہتا تھا؟“
ظہور احمد کے پڑوس میں ۔ اس نے جواب دیا۔
کیا ؟ نواز کھرل کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔
میں بھی بولے بغیر نہ رہ سکا۔ تمہارا مطلب ہے نرگس کا باپ ظہور احمد ؟”
جی ہاں، میں اسی ظہور کی بات کر رہا ہوں ۔”
یہ بات تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتائی ؟ نواز کھرل کے لیے میں نکلی تھی۔
اس لیے جناب رائے صاحب وہ عام سے لہجے بولا ۔ کہ آپ نے اس سے پہلے جمیل فاروقی کے بارے میں پوچھا ہی نہیں تھا۔ آپ کی تفتیش کا پور از دریافت عرف لیا تو پر تھا کیونکہ نرگس کے باپ نے لیا تو کے خلاف ہی رپورٹ درج کروائی تھی۔”
ہاں تم ٹھیک کہہ رہے تھے۔ نواز کھرل کو اپنی غلطی کا فوراً احساس ہو گیا۔
میں نے کہا ۔ کھرل صاحب ! اس کا تو یہ مطلب ہوا کہ نرگس کو کسی نے اغوا نہیں کیا تھا بلکہ وہ اپنی مرضی سے جمیل فاروقی کے ساتھ گئی تھی۔ ریلوے کے ٹکٹ بھی اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وہ حویلی لکھا سے لنکن پور جانے کا ارادہ رکھتے تھے لیکن یہ وجوہ انہیں انار کی ریلوے اسٹیشن پر اترنا پڑا۔ کنگن پور ضلع قصور میں ہے۔ آپ کے ہیڈ محرر ناظرفشی عرف انسائیکلو پیڈیا کی معلومات سے بھی یہی بات سامنے آئی ہے کہ مقتول جمیل فاروقی ضلع قصور کا رہنے والا تھا۔“
میں کہا۔
میں بھی انہی خطوط پر سوچ رہا ہوں ملک صاحب ! نواز کھرل نے پر خیال انداز میرے لیے کیا حکم ہے رائے صاحب؟”
اچانک ہیڈ محرر ناظر منشی نے نواز کھرل کو مخاطب کیا تو وہ چونک اٹھا پھر سنبھل کر بولا۔ ناظر منشی کسی ہوشیار قسم کے کانٹیل کو بھیج کر ظہور احمد کو تھانے بلوالو “
او کے سرا نا ظرفشی نے سلیوٹ کیا اور کمرے سے نکل گیا۔
میں نے کہا۔ ” کھرل صاحب! آپ کا کیا خیال ہے ظہور احمد ندگی اور اپنے پڑوسی جمیل فاروقی کے تعلقات سے واقف ہوگا؟
“ہونا تو چاہیے ۔ وہ معنی خیز انداز میں سر ہلاتے ہوئے بولا۔
۔میں نے پوچھا۔ “آپ ظہور احمد کے بارے میں کتنا جانتے ہیں؟“
بہت زیادہ نہیں۔ نواز کھرل نے جواب۔ نرگس کے اغواء کے سلسلے میں پہلی مرتبہ میرا اس سے واسطہ پڑا ہے۔ ویسے بھی اس تھانے میں تعینات ہوئے مجھے زیادہ عرصہ نہیں ہوا ۔ آپ تو جانتے ہی ہیں، قبل از میں منڈی صادق گنج ، ضلع بہاولنگر میں تھا۔“
میں نے کہا۔ پھر تو آپ اپنے انسائیکلو پیڈیا سے بھر پور استفادہ کرتے ہوں گے!”
نا ظرفشی کی اہمیت سے میں انکار نہیں کروں گا ۔“ اس نے کھلے دل سے تسلیم کیا۔
اس کی ذات سے مجھے بڑی سہولت حاصل ہے۔“
اپنے ہانتوں کی صلاحیتوں کا اعتراف کرنا ایک صحت مند رویہ ہوتا ہے۔ میں نے ہمیشہ اس بات کا خیال رکھا۔ اس عمل سے نہ صرف اپنے ساتھ کام کرنے والے ماتحت عملے کا حوصلہ بڑھتا ہے بلکہ وہ ذوق و شوق سے اپنی صلاحیتوں کو بڑھانے کی کوششیں بھی کرتے ہیں جو ان کی ترقی کے دروازے کھولتی ہیں۔
میں نے نواز کھرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ کھرل صاحب! ظہور احمد کے یہاں پہنچنے میں تو ذرا دیر لگے گی کیوں نہ اس دوران میں ہم آپ کے ہیڈ محرر سے کچھ معلومات حاصل کر لیں؟”
بڑی خوشی سے جناب۔ وہ تعاون آمیز انداز میں بولا ۔ ” میں ابھی اسے بلاتا ہوں۔
“کچھ دیر بعد ناظر فنٹی ہیڈ محرر تھا نا حویلی لکھا ہمارے پاس دوبارہ موجود تھا۔ اس مرتبہ نواز کھرل نے اسے ایک کرسی پر بیٹھنے کے لیے کہا اور میری طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا۔
ناظر فشی ملک صاحب تم سے کچھ پوچھنا چاہتے ہیں۔“
اس نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے انتہائی سادگی سے کہا۔ ”ضرور پوچھیں جناب جو مجھے معلوم ہوگا ضرور بتاؤں گا۔“
میں نے کہا ۔ کھرل صاحب تمہیں اس علاقے کا انسائیکلو پیڈیا سمجھتے ہیں۔ کیا تم ظہور احمد اور اس کی بیٹی نرگس کے بارے میں مجھے بتا سکتے ہو۔ علاوہ ازیں محکمہ انہار کے افسر مقتول جمیل فاروقی کے بارے میں تمہاری معلومات کیا کہتی ہیں؟”
میں آپ کو جہاں تک میری معلومات میں اس علاقے کے ہر شخص کے بارے میں کچھ نہ کچھ ضرور بنا سکتا ہوں۔ وہ انتہائی سنجیدہ لہجے میں بولا ۔ لیکن اس سے پہلے میں آپ سے ایک سوال کرنا چاہتا ہوں۔ اگر آپ کو جواب دینے میں کوئی اعتراض نہ ہو تو ۔ اس طرح میری ایک الجھن دور ہو جائے گی اور میں زیادہ بہتر انداز میں آپ کے سوالوں کے جواب دے سکوں گا۔“
“تم کیا پوچھنا چاہتے ہو نا نظر فنی ؟ ” رائے نواز کھرل نے اپنے ہیڈ مکرر سے سوال کیا۔ اور ہاں .. کیا تم نے ظہور احمد کی طرف کسی کو بھیج دیا ہے ؟“
رجی رائے صاحب “نا ظرفشی نے اثبات میں جواب دیا ” کانسٹیبل آفتاب احمد ظہور احمد کو بلانے کے لیے تھانے سے روانہ ہو چکا ہے۔“
اچھا ٹھیک ہے۔ کھرل نے اطمینان بخش لہجے میں کہا۔ “آب پوچھو کیا پوچھنا چاہتے ہو ؟
ناظر منشی نے پوچھا۔ ظہور احمد نے لیاقت عرف لیا تو بدمعاش کے خلاف اپنی لڑکی رگس کے اغوا کی رپورٹ درج کروائی تھی۔ وہ قصہ تو رب دیا گیا۔ لیا تو قصور وار ثابت نہیں ہوکا اور نرگس ابھی تک غائب ہے۔ اب یہ خبریں گرم ہیں کہ اٹاری میں کسی ریسٹ ہاؤس کے نزد یک جنگل میں سے جمیل فاروقی کی لاش ملی ہے۔ یہ کیا معاملہ ہے؟ میں اس وجہ سے سخت الجھن کا شکار ہوں؟”
میں نے مختصر الفاظ میں اسے … نرگس اور تجمیل فاروقی کے اٹاری پہنچنے ریسٹ ہاؤس میں قیام کرنے جمیل فاروقی کی لاش کی دستیابی اور نرگس کی روپوشی کے بارے میں بتایا اور آخر میں کہا۔ ” ہم ابھی اسی الجھی ہوئی ڈور کو سلجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔”
وہ متاسفانہ لہجے میں بولا ۔ ” جناب ان واقعات سے تو صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ لیا قو واقعی نرگس کے اغوا کے سلسلے میں ملوث نہیں تھا اور یہ کہ نرگس اپنی مرضی سے جمیل فاروقی کے ہے۔
ہمارا بھی یہی خیال ہے ۔ ” میں نے کہا۔ لیکن جمیل فاروقی قتل ہو چکا ہے اور زگی غائب ہے۔ ہم نرگس کی بازیابی کے ساتھ ساتھ جمیل فاروقی کے قاتل کو بھی گرفتار کرنا چاہتے ہیں۔
ہوں ۔ “ناظر منشی نے ایک طویل ہنکارا بھرا پھر کسی گہری سوچ میں ڈوب گیا۔ نواز کھرل نے کہا۔ ” ناظر شی! کیا تم نرگسی اور جمیل فاروقی کے باہمی تعلقات کے بارے میں بھی کچھ جانتے ہو؟“
پہلے نہیں جانتا تھا اب جان گیا ہوں ۔ ” اس نے ذومعنی لہجے میں کہا پھر اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے بولا۔ “زگی، جمیل فاروقی کے ساتھ گھر سے بھاگی تھی تو اس کا واضح مطلب یہی تھا کہ ان دونوں کے درمیان عشق بازی پہلے ہی سے چل رہی تھی۔ ویسے بھی ایک طوائف کی بیٹی سے اچھائی کی بھلا کیا توقع رکھی جاسکتی ہے؟”
طوائف کی بیٹی ! میں نے اور نواز کھرل نے بہ یک آواز کہا پھر نواز کھرل نے استعجابیہ لہجے میں پوچھا۔ ” تم کس طوائف کا ذکر کر رہے ہو؟”
نرگس کی ماں فیروزہ کا ذکر کر رہا ہوں جناب۔“
میں نے پوچھا۔ ” کیا ظہور احمد کی ہوئی پہلے طوائف رو چکی ہے؟”
جی ہاں ظہور احمد فیروزہ کو بازار حسن کے ایک کوٹھے سے خرید کر لایا تھا۔”
ناظر منشی نے جواب دیا۔ پھر طنزیہ لہجے میں بولا ۔ “زگی فیروزہ کے جہیز میں آئی تھی۔”
اس کا مطلب ہے نرگس ظہور احمد کی تنگی بینی نہیں ہے؟”
;بالکل نہیں جناب وہ قطعیت سے بولا۔
ناظر غشی انکشاف در انکشاف کر رہا تھا۔ میرے اور نواز کھرل کے مختلف سوالوں کے جواب میں اس نے ظہور احمد اور فیروزہ کے بارے میں جو مختصر کہانی سنائی میں اپنے الفاظ میں آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔“
ظہور احمد عنفوان شباب ہی سے خاصا رنگین مزاج ثابت ہوا تھا۔ جلد ہی اس کے قدموں نے طوائفوں کے کوٹھے کا راستہ دیکھ لیا۔ ظہور احمد کا باپ منظور احمد بیٹے کی سرگرمیوں“ سے بے خبر نہیں تھا۔ اس نے ظہور احمد کی منہ زوریوں کا حل یہ نکالا کہ خاندان کی ایک لڑکی اللہ رکھی سے اس کی شادی کر دی۔ اس شادی کے نتیجہ میں ظہور احمد کی غیر نصابی سرگرمیاں قدرے کم ہو گئیں مگر بالکل ختم نہ ہوسکیں ۔ منظور احمد کی تدبیریں اور اللہ رکھی کی کوششیں بھی ظہور احمد کو راہ راست پر نہ لا سکیں۔ ستم بالائے ستم یہ کہ ایک طویل عرصہ گزر جانے کے بعد بھی اللہ رکھی کی گود ہری نہ ہوسکی۔
پھر منظور احمد کا انتقال ہو گیا اور اس کی زمین و جائیداد اور کاروبار سب کچھ ظہور کے تصرف میں آ گیا۔ اب اسے من مانی کرنے سے روکنے والا کوئی نہیں تھا۔ اس کی اکثر شامیں اور راتیں بازار حسن میں گزرنے لگیں۔
اللہ رکھی کی مزاحمت کو وہ کسی خاطر میں نہیں لاتا تھا اور
گاہے بہ گا ہے اسے بانجھ ہونے کا طعنہ دیتا رہتا تھا۔
ای معمول پر پندرہ سال گزر گئے ۔ اللہ رکھی ماں نہ بن سکی اور ظہور احمد کو ٹھے کا ہو کر رہ گیا۔ پھر ظہور احمد کی ملاقات نیروزہ سے ہوئی۔ وہ جان و دل سے فیروزہ پر فدا ہو گیا اور اسے شادی کی پیشکش کر دی۔ فیروزہ کوٹھے کے ماحول سے بیزار ہو چکی تھی۔ وہ نہایت ہی حسین اور پرکشش عورت تھی۔ اس کی عمر سینتیس سال تھی مگر وہ پچیس سے زیادہ کی دکھائی نہیں
دیتی تھی۔ فیروزہ اپنے پیشے سے تائب ہو کر شریفانہ گھر یاد زندگی گزارنا چاہتی تھی اس کے لیے اسے مالی تحفظ اور مضبوط سہارے کی ضرورت تھی ۔ وہ خود جس ماحول کی پروردہ تھی اپنی بیٹی رگس کو اس آلودہ ماحول سے دور رکھنا چاہتی تھی۔ نرگس کی عمر اس وقت لگ بھگ پندرہ سال تھی
ظہور احمد کی صورت میں فیروزہ کو ایک شان دار مضبوط اور محفوظ مستقبل کی جھلک نظر آئی تو اس نے ظہور احمد کی شادی والی پیش کش کو منظور کر لیا۔ ظہور احمد کے پاس مال ودولت کی کمی نہیں تھی۔ اس نے کوٹھے کی نائیکا پیلی ہائی کو منہ مانگی رقم ادا کی اور فیروزہ کو نرگس سمیت اپنے گھر لے آیا ۔ چند روز بعد اس نے فیروزہ سے شادی کرلی۔
اللہ ر کھی نے اس شادی پر خاموش احتجاج کا مظاہرہ کیا اور شوہر کا گھر چھوڑ کر اپنے میکے جانبیٹھی ۔ ظہور احمد نے اسے منانے یا واپس لانے کی کوئی کوشش نہ کی اور اپنی دنیا میں مگن ہو گیا۔
میرے استفسار پر ناظر منشی نے بتایا کہ ظہوراحمد کی دو مربع زمین تھی جسے اس نے ٹھیکے پر دے رکھا تھا۔ اس کی ساری توجہ اپنے کاروبار پر تھی۔ حویلی لکھا کے مین بازار میں اس کا کپڑے کا وسیع کاروبار تھا۔ علاوہ ازیں وہ غلے کی آڑھت بھی کرتا تھا اور بھی چھوٹے موٹے کئی کاموں میں اس نے خود کو پھنسا رکھا تھا۔
میں نے پوچھا۔ “ناظر منشیا تم نے مقتول جمیل فاروقی کے بارے میں کچھ نہیں بتایا ؟“
جناب! اس کے بارے میں جتنا میں جانتا تھا وہ آپ کو بتا چکا ہوں ۔ اس نے جواب دیا۔ ” جمیل فاروقی محکمہ انہار میں کسی اچھے عہدے پر فائز تھا۔ وہ مضلع قصور کا رہنے والا تھا اور مہینے دو مہینے میں گھر کا چکر لگاتا تھا۔ آج کل وہ ظہور احمد کے پڑوس میں کرائے کے ایک مکان میں رہتا تھا۔“
اس کے دفتر کے بارے میں کچھ جانتے ہو؟
” جی میں نے اس کا دفتر دیکھا ہوا ہے۔ نا ظرفتی نے اثبات میں جواب دیا۔
میں نے اپنی دستی گھڑی پر نگاہ ڈالتے ہوئے رائے نواز کھرل سے کہا۔ “کھل صاحب! ابھی دفتر کا وقت ختم نہیں ہوا۔ میرا خیال ہے جمیل فاروقی کے بارے میں اس کے دفتر سے کافی معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔ کم از کم اس کے پتے ٹھکانے کے بارے میں ہی معلوم ہو جائے تا کہ اس کی لاش کو اس کے ورثاء کے حوالے کیا جاسکے ۔“
آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں ۔ نواز کھرل نے تائیدی لہجے میں کہا۔ ” میں ابھی ایک اے آئی ایس کو مقتول کے دفتر بھیجتا ہوں۔”
پھر اس نے ایک کانسٹیبل سے کہا کہ وہ اے ایس آئی افتخار احمد کو اندر بھیجے ۔ تھوڑی دیر کے بعد مذکورہ اے ایس آئی کمرے میں موجود تھا۔ ہیڈ محرر نے اے ایس آئی کو مقتول جمیل فاروقی کے دفتر کا پا سمجھایا ۔ پھر رائے نواز کھرل نے اے ایس آئی کو بتایا کہ وہاں جا کر کیا کرتا ہے۔
پوری بات سننے کے بعد اے انہیں آئی نے کہا۔ رائے صاحب ! وہاں سے کسی کو پکڑ کر بھی لانا ہے یا صرف معلومات حاصل کرنا ہیں؟“
فی الحال تمہیں جو کچھ کہا ہے وہی کرو ۔ نواز کھرل نے روکھے لہجے میں کہا۔ اگر کسی کو گرفتار کرنے کی ضرورت پڑی تو میں تمہیں یہ شوق پورا کرنے کا موقع ضرور دوں گا اور ہاں ۔ اپنے ساتھ دو سپاہیوں کو بھی لے جاؤ ۔ دفتر کا وقت ختم ہونے سے پہلے وہاں پہنچو
اور مطلوبہ معلومات حاصل کر کے فورا واپس آؤ۔”
اے ایس آئی نے یقین دلایا کہ وہ جلد ہی کامیاب واپس لوٹے گا اور کمرے سے نکل گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد ایک کانسٹیبل ظہور احمد کو لے کر تھانے پہنچ گیا۔ نواز کھرل نے اسے فورا کمرے میں بلا لیا۔
“نرگس کا کچھ پتا چلا رائے صاحب ۔ ” اس نے کمرے میں داخل ہوتے ہی سوال
کیا پھر اس کی نظر مجھ پر پڑی تو وہ چونک اٹھا اور سوالیہ انداز میں نو از کھرل کو دیکھنے لگا ۔
نواز کھرل نے اس کے سوال کا جواب دینے کے بجائے کہا۔ یہ ملک صفدر حیات صاحب ہیں ۔ اٹاری سے آج ہی آئے ہیں۔ وہاں ملک صاحب ایک تھانے کے ایس ایچ او ہیں۔
ایس ایچ او ملک صفدر حیات ! اس نے میری جانب دیکھتے ہوئے زیر لب دہرایا اور بولا ۔ لیکن رائے صاحب آپ مجھے یہ سب کچھ بتا رہے ہیں؟“
اس لیے کہ آپ نے پوچھا ہے۔ نواز کھرل نے جواب دیا۔
رگس کا ان سے کیا تعلق جناب ؟”
ملک صاحب نرگس کے بارے میں ایک اہم اطلاع لائے ہیں۔“
” کیا میری نرگس مل گئی ہے ؟” اس کی آنکھوں میں امید کی چمک نظر آئی۔
نواز کھرل نے خشک لہجے میں کہا۔ “ر کس لی تو گئی تھی لیکن دوبارہ لاپتا ہوگئی ہے۔”
میں آپ کا مطلب نہیں سمجھا جناب ظہور احمد کی آنکھوں میں الجھن تیرگئی۔
مطلب تو میں تمہیں اچھی طرح سمجھاؤں گا ظہور احمد نواز کھرل نے سنسنانے ہوئے لہجے میں کہا۔ ” پہلے یہ بتاؤ کہ تم نے حقائق چھپانے کی کوشش کیوں کی تھی ؟”
یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں رائے صاحب؟”
“سوال نہیں کرو ظہور احمد نواز کھرل نے تلخ لہجے میں کہا۔ ” تم نے لیا تو کے خلاف نرگس کے اغوا کی رپورٹ درج کروا کے حقائق کو چھپانے کی کوشش کی ہے۔“
ظہور احمد نے لجاجت آمیز انداز میں کہا۔ ” تھانے دار صاحب الیا تو نے میرا جینا عذاب کر رکھا تھا۔ اس نے واضح الفاظ میں مجھے دھمکی دی تھی کہ اگر میں نے نرگس سے اس کی شادی کے لیے تہان نہ کی تو وہ نرگس کو اٹھا کر لے جائے گا۔ آپ ہی بتا ئیں میں ایک لچے لفنگے شخص سے اپنی پھول جیسی بیٹی کی شادی کیسے کر سکتا تھا۔ میں نے جب صاف انکار کر دیا تو اس نے اپنی دھمکی پر عمل “
” تمہارے اس الزام میں کوئی حقیقت نہیں ہے ظہور احمد نواز کھرل نے ٹھوس لہجے میں کہا۔ ” تمہاری بیٹی نرگس کو کسی نے اغوا نہیں کیا بلکہ وہ اپنی مرضی سے اپنے آشنا کے ساتھ فرار ہوئی ہے۔”
” جناب ! یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ اس نے شرمندہ سے لہجے میں کہا۔ ” آپ اتنی بڑی بات کسی بنا پر کہ رہے ہیں۔ میری بیٹی تو “
نواز کھرل نے اس کی بات کاٹ دی۔ ظہور احمد ! تم جسے بار بار اپنی بیٹی کہہ رہے ہو مجھے پتا چلا ہے کہ وہ تمہاری سگی بینی نہیں ہے۔ یہ بات تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتائی تھی ؟”
وہ جذباتی لہجے میں بولا ۔ ” رائے صاحب میں نرگس کو اپنی بیٹی ہی سمجھتا ہوں۔ میں نے کبھی اسے۔
اگر واقعی تم اسے اپنی بیٹی سمجھتے ہو تو پھر اس کے معالمات بھی تم سے پوشیدہ نہیں ہوں گے؟ نواز کھرل نے ظہور احمد کا جملہ پورا ہونے سے پہلے ہی کہا۔
کس قسم کے معاملات جناب؟”
کیا نرگس کسی سے محبت وغیرہ کرتی تھی ؟“
ایسی کوئی بات میرے علم میں تو نہیں ہے۔ ظہور احمد نے نفی میں سر ہلایا۔
نواز کھرل نے کہا۔ ” تم نے فیروزہ سے کب شادی کی تھی؟
ڈیڑھ سال پہلے “
” جس کی عمر اس وقت کتنی تھی ؟”
ظہور احمد نے جواب دیا۔ ساڑھے چودہ سال ایک لمحے کے توقف سے اس نے اضافہ کیا۔ اس وقت نرگس پورے سولہ سال کی ہو چکی ہے لیکن آپ یہ سب کچھ کیوں پوچھ رہے ہیں جناب۔
میں یہ سب کچھ اس لیے پوچھ رہا ہوں ترلڑکیوں کے لیے یہ بڑی خطرناک عمر ہوتی ہے۔ نواز کھرل نے اس کے چہرے پر نظر جماتے ہوئے کہا۔ “تیرہ سے انیس سال تک لڑکیوں پر بڑی گہری نگاہ رکھنی چاہیے۔ والد کو چاہیے کہ وہ اپنی لڑکیوں کو گھر میں تنہا نہ چھوڑیں انہیں ایسی سہیلیوں کے گھر نہ جانے دیں جہاں جوان لڑکے موجود ہوں یا ریمین مزاج
بوڑھے ہوں حتی کہ ان کے سونے جاگنے اٹھنے بیٹھنے کھانے پینے اور اوڑھنے کچھونے ہر ہر چیز کا خیال رکھنا چاہیے۔ لیکن لگتا ہے تم نے اپنے فرائض سے زبر دست کوتاہی کی ہے جو تمہیں نرگس کے محبت کے معاملات کی کچھ خبر ہی نہیں۔”
اس کا چہرہ شرم سے سرخ ہو گیا ۔ شکستہ لہجے میں بولا ۔ ”جناب آپ واضح الفاظ میں بتائیں کہنا کیا چاہ رہے ہیں۔ میں واقعی نرگس کے ایسے کسی معاملے سے آگاہ نہیں ہوں۔”
نواز کھرل نے پوچھا۔ “کیا تم جمیل فاروقی کو بھی نہیں جانتے؟”
وہ چونک اٹھا پھر بولا ۔ ” جمیل فاروقی میرے پڑوس میں رہتا ہے۔ محکمہ انہار میں افر ہے۔ آج کل وہ اپنے گاؤں گیا ہوا ہے۔”
ہمارا اکثر آمنا سامنا ہوتا رہتا ہے۔ اس نے جواب دیا ۔ اٹھارہ جولائی کو جب ہماری ملاقات ہوئی تو اس نے مجھے بتایا تھا کہ وہ کل یعنی انیس جولائی کو ایک ماہ کی چھٹی پر گاؤں جا رہا ہے۔“
کیا انیس جولائی کو بھی وہ تم سے ملا تھا؟”
نہیں، اس روز ہماری ملاقات نہیں ہوئی ۔ “ ظہوراحمہ نے جواب دیا۔ انیس جولائی کو جب میں گھر سے نکلا تو اس وقت جمیل فاروقی کے گھر کے بیرونی دروازے پر تالا پڑا ہوا تھا۔ میں یہی سمجھا کہ وہ حسب پروگرام گاؤں چلا گیا ہو گا۔“
میں نے پوچھا۔ ” کیا اس سے تمہاری اکثر بات چیت ہوتی رہتی تھی؟”
ہاں جب بھی آمنا سامنا ہوتا تھا دو چار کلمات کا تبادلہ بھی ہو جاتا تھا۔ ظہور احمد نے بتایا اور کچھ پریشان نظر آنے لگا۔
ہی ہوگاقصور
جمیل فاروقی کسی گاؤں کا رہنے والا ہے؟ میں نے پوچھا۔ اتنا تو تمہیں معلوم ظہور احمد نے الجھن آمیز لہجے میں جواب دیا۔ ” موضع شام کوٹ کنگن پور (ضلع اس کا مطلب یہی تھا کہ جمیل فاروقی نرگس کو اپنے ساتھ کنگن پور لے جانا چاہتا تھا لیکن کسی مسئلے نے انہیں اتاری ریلو بے انٹیشن پر اترنے پر مجبور کر دیا تھا۔ ایسی کیا مجبوری ہو سکتی تھی اس کا جواب نرگس ہی دے سکتی تھی لیکن وہ ہماری دسترس میں نہیں تھی۔ جمیل فاروقی بھی جہاں پہنچ چکا تھا وہاں سے وہ ہمارے کسی سوال کا جواب نہیں دے سکتا تھا۔
ملک صاحب ظہور احمد نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے پوچھا۔ ” آپ نے جمیل فاروقی کے بارے میں ڈھیروں سوال کر ڈالے لیکن ابھی تک میں آپ کا مقصد نہیں سمجھ سکاہوں؟”
نواز کھرل نے کہا۔ ظہور احمد ملک صاحب کا مقصد میں تمہیں سمجھاتا ہوں ۔ جمیل فاروقی تمہاری بیٹی نرگس کو بھگا کر لے گیا تھا۔”
یہ نہیں ہو سکتا جناب وہ تیزی سے نفی میں گردن ہلانے لگا۔
یہ ہو چکا ہے ظہور احمد نواز کھرل نے یقینی لہجے میں کہا۔ ” تمہاری زمن جمیل فاروقی کے ساتھ فرار ہوئی تھی۔”
وہ بدستور نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولا۔ “جمیل فاروقی ایسا تو نظر نہیں آتا تھا۔ وہ تو بڑابی یا بندہ ہے رائے صاحب۔ آپ کو یقینا کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔”
ہمیں کوئی غلط نہیں نہیں ہوئی ظہور احمد ” میں نے کہا۔ اس بی بے بندے نے آپ کے گھر میں نقب لگائی ہے بلکہ یوں کہیں کہ گھر کے بھیدی نے لنکا ڈھائی ہے۔ تم میری بات سمجھ رہے ہونا ؟“
وہ قدرے اکھڑے ہوئے لہجے میں بولا ۔ آپ کے پاس کیا ثبوت ہے کہ میری من جمیل فاروقی کے ساتھ گھر سے اپنی مرضی سے بھاگی ہے؟”
ثبوت بڑا پکا ہے ہمارے پاس۔ میں نے گھمبیر لہجے میں کہا۔ پھر مختصر اسے تمام حالات سے آگاہ کرنے کے بعد ریلوے کے دونوں ٹکٹ میں نے اسے دکھاتے ہوئے کہا۔
یہ ٹکٹ جمیل فاروقی کے اٹیچی کیس سے ملے ہیں اور جمیل فاروقی کی کٹی پھٹی کلاش ریسٹ ہاؤس کے نزدیک جنگل سے ملی تھی۔”
جمیل فاروقی کی لاش ! وہ لرزیدہ لہجے میں بولا ۔ ” جمیل کو کس نے قتل کیا ہے؟”
میں نے لاش کی تصویر ظہور احمد کے سامنے رکھ دی اور پوچھا۔ یہ جمیل فاروقی ہی ہے نا ؟
اس نے جلد ہی جمیل فاروقی کو پہچان لیا اور پھر اثبات میں سر بلاتے ہوئے بولا۔
ہاں ہاں ۔ یہ وہی ہے لی لیکن اس کی گردن کس نے کائی ہے۔ ہم میرا مطلب ہے جمیل فاروقی کو کس نے قتل کیا ہے؟”
” قاتل کی تلاش جاری ہے ۔ ” میں نے کہا۔
وہ کانپتی ہوئی آواز میں گویا ہوا۔ “نرگس… کا کیا ہوا؟ اس کے بارے میں آپکو کچھ پتا چلا ۔”
ہم اس کے بارے میں پتا چلانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ ” میں نے تشفی آمیز نجے میں کہا۔ ” میں اس سلسلے میں حویلی لکھا آیا ہوں لیکن ابھی تک اس کا سراغ نہیں ملا۔”
آخر وہ کہاں غائب ہو گئی ہے ؟ ظہور احمد کا لہجہ احساس زیاں سے معمور تھا۔ وہ نواز کھرل کو مخاطب کرتے ہوئے بولا۔ تھانے دار صاحب! آپ میری بیٹی کو جلد از جلد تلاش کریں۔ اگر واقعی وہ جمیل فاروقی کے ساتھ گھر سے چلی گئی تھی تو جمیل فاروقی کے قتل کے بعد اسے واپس گھر آ جانا چاہیے تھا۔ وہ اب تک واپس کیوں نہیں آئی؟”
ظہور احمد ! میں نے سنجیدہ لہجے میں کہا۔ تھانے دار صاحب صرف سوال کرتے ہیں سوالوں کے جواب نہیں دیتے۔ تم خاطر جمع رکھو۔ ہم تمہاری زگی کو تلاش کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ نرگس ہی ہمیں بتا سکتی ہے کہ ریسٹ ہاؤس میں کیا واقعات پیش آئے تھے۔“
میں نے کہا ۔ کھرل صاحب کی بات میں وزن ہے۔ محبت کرنے والے ایک ساتھ جینے اور مرنے کی قسمیں بھی کھایا کرتے ہیں ۔“
ن نہیں ” وہ نفی میں گردن ہلاتے ہوئے بولا۔ ”نرگس ایسی حماقت نہیں کر سکتی۔ وہ اپنی جان اسے کچھ نہیں ہوگا۔ میرا مطلب ہے نرگس زندہ ہے۔ وہ ضرورمجھے مل جائے گی۔
ظہور احمد اس قدر بوکھلا گیا تھا کہ اس کے منہ سے بے ربط باتیں خارج ہو رہی تھیں۔ میں نے ٹھوس لہجے میں کہا۔
ظہور احمد ! تمہاری بیٹی نے گھر سے بھاگ کر جتنی بڑی حماقت کا ثبوت دیا ہے
اس کے بعد اس سے کسی بھی احمقانہ بات کی توقع کی جاسکتی ہے۔ تمہیں ہر قسم کی خبر کے لیے ہنی طور پر تیار رہنا چاہیے۔”
اس کے چہرے پر زردی کھنڈ گئی ۔ خوف زدہ لہجے میں بولا ۔ ملک صاحب! دل دہلانے والی باتیں نہ کریں۔ خدا کے واسلے کسی طرح نرگس کو ڈھونڈ نکالیں۔ آپ جتنی رقم کہیں گئے میں دینے کو تیار ہوں۔ اس کے علاوہ بھی اگر کوئی خدمت شدمت” میں نے قطع کلامی کرتے ہوئے کہا ۔ کسی رقم یا خدمت کی ضرورت نہیں ہے ظہور احمد نرگس کو تلاش کرنا ہمارا فرض ہے۔ تم پریشان نہ ہو۔ ہم اپنے فرض سے غافل نہیں ہیں۔“
اسی وقت اے ایس آئی افتخار احمد کمرے میں داخل ہوا اور نواز کھرل کو مخاطب کرتے ہوئے بولا۔
رائے صاحب! کام ہو گیا ہے جناب!“
سپنس پیدا نہ کرو ۔ نواز کھرل نے سنجیدہ لہجے میں کہا۔ “جمیل فاروقی کے بارے میں تمہیں کیا معلومات حاصل ہوئیں ہیں؟”
” جناب معلومات بھی لایا ہوں اور وہاں سے ایک بندہ بھی میرے ساتھ آیا ہے۔” افتخار احمد نے ڈرامائی انداز میں کہا۔ ” پہلے بندہ یا معلومات؟جاری کیا۔
ر پہلے معلومات اگلو پھر بندے کو اندر بھیجو۔ نواز کھرل نے افسرانہ انداز میں حکم اے ایس آئی افتخار احمد نے بتایا ”سر جی! جمیل فاروقی گزشتہ ایک سال سے حویلی لکھا میں ڈیوٹی کر رہا ہے۔ وہ کنگن پور ضلع قصور کے ایک گاؤں شام کوٹ کا رہنے والا ہے ۔ وہ شادی شدہ ہے۔ گاؤں میں اس کی ہوئی اور دو بچے ہیں ۔ آج کل وہ اپنے گاؤں گیا ہوا ہے۔
دفتر سے اس نے ایک ماہ کی چھٹی لی ہوئی ہے۔ یعنی انیس جولائی سے اٹھارہ اگست تک ۔ وہ انیس اگست کو ڈیوٹی پر حاضر ہو گا ۔ افتخار احمد جمیل فاروقی کے قتل کے بارے میں نہیں جانتا تھا۔
میں اور نواز کھرل حیرت اور دلچسپی سے اے ایس آئی کی فراہم کردہ اطلاعات من رہے تھے۔ اس میں سب سے اہم اور سنسنی خیز خبر یہ تھی کہ مقتول جمیل فاروقی شادی شدہ اور دو بچوں کا باپ بھی تھا۔
اور تمہارے ساتھ جو بندہ آیا ہے وہ کون ہے؟ نواز کھرل نے استفسار کیا۔
وہ جمیل فاروقی کا دوست ہے۔ اس کے ساتھ ہی دفتر میں کام کرتا ہے۔ “اےایس آئی نے جواب دیا۔ ” اس کا نام اشرف ہے اور وہ بھی کنگن پور ہی کا رہنے والا ہے۔”
” کیا اشرف بھی کنگن پور کے گاؤں شام کوٹ کا رہنے والا ہے؟ میں نے اےایس آئی سے سوال کیا ۔ ” یعنی جمیل فاروقی کے گاؤں کا ؟”
اے ایس آئی نے جواب دیا۔ اشرف کے گاؤں کا نام لاندیاں والا ہے۔
ایسے لاندیاں والا اور شام کوٹ میں زیادہ فاصلہ نہیں ہے اور دونوں کا ایک دوسرے کے گھروں میں بھی آنا جانا ہے۔”
اے ایس آئی سلیوٹ کر کے کمرے سے باہر چلا گیا۔
میں اور نواز کھرل کافی دیر تک اشرف سے مختلف سوال کرتے رہے لیکن مزید کوئی نئی بات معلوم نہ ہوگی۔ اشرف نرگس اور مقتول جمیل فاروقی کے عشقیہ معاملات سے واقف نہیں تھا۔ باہمی مشاورت کے بعد ہم نے یہ طے کیا کہ اشرف کو شام کوٹ روانہ کیا جائے تا کہ وہ جمیل فاروقی کے اواحقین کو یہ جان کسل خبر پہنچا دے۔ نواز کھرل نے کہا کہ وہ آج ہی دو سپاہیوں کے ہمراہ اشرف کو شام کوٹ بھیج دے گا۔
اشرف اپنے دوست کو پیش آنے والے سانحے کے بارے میں جان کر اداس ہو گیا تھا۔ اس کی حالت دیکھ کر یہ خوبی اندازہ ہو رہا تھا کہ اسے جمیل فاروقی کی ناگہانی موت سے گہرا صدمہ پہنچا تھا۔ ایسا ہونا بھی چاہیے تھا۔ آخر کو دہ جمیل فاروقی کا گہرا دوست تھا۔ میں نے اور رائے نواز کھرل نے آئندہ لائحہ عمل تیار کیا پھر میں اور اے ایس آئی فتح علی واپس اٹاری آگئے۔ جب ہم واپس اپنے تھانے پہنچے تو مغرب کی اذان ہو رہی تھی۔
وہ یکم اگست کی ایک ابر آلود دو پہر تھی۔ میں نے آج ہی ایس آئی نورخان کی سربراہی میں ایک پولیس پارٹی کینال ریسٹ ہاؤس روانہ کر دی تھی تا کہ چوکیدار غلام قادر کو گرفتار کر کے جلد از جلد میرے پاس لایا جائے اور اس وقت زکورہ چوکیدار مسکین صورت بنائے میرے سامنے کھڑا تھا۔
مجھے اس کی اداکاری پر حیرت ہو رہی تھی۔ اس کے رویے اور چہرے کے تاثرات سے یہی ظاہر ہو رہا تھا کہ جیسے وہ اس بات پر ہراساں اور پریشان ہو کہ ہم نے اسے گرفتار کیوں کیا ہے۔ بالآخر یہی سوال اس کی زبان سے بھی نکل آیا۔
تھانے دار صاحب ! اس نے نحیف کی آواز میں پوچھا۔ ”آپ نے مجھے کیوں گرفتار کروایا ہے؟”
تم سے ایک اسٹیج ڈرامے میں ایک بے گناہ کردار کی ایکٹنگ کروانی ہے۔ ” میں نے زہر خند لہجے میں کہا۔
جی کیا کروانی ہے؟ اس نے آنکھیں جھپکا کر پوچھا۔
میں نے سخت لہجے میں کہا۔ غلام قادر ! میں نے تمہیں وارننگ بھی دی تھی کہ اگر تم نے میرے ساتھ غلط بیانی سے کام لیا تو میں تمہارا حشر خراب کر دوں گا۔ میں نے ایسا کہا تھایا نہیں؟“
کہا تھا جی۔ اس کے چہرے پر معصومیت برقرار تھی۔
پھر تم نے مجھے بے وقوف بنانے کی کوشش کیوں کی ؟
” جناب آپ کو کوئی غلہ نہی ہوتی ہے۔”
میں نے غصے کو ضبط کرتے ہوئے پوچھا۔ “جمیل فاروقی اور نرگس میں جولائی کو ہی ریسٹ ہاؤس پہنچے تھے نا؟”
ہاں جی ۔ اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
اور لیا تو بد معاش تئیس جولائی کی شام ان سے ملنے آیا تھا؟”
” میں نے آپ کو یہی بتایا تھا جناب”
” تم نے یہ بھی بتایا تھا کہ جو میں جولائی کی صبح جب تم سو کر اٹھے تو وہ تینوں غائب تھے؟ میں نے اسے کڑے تیوروں سے گھورا۔ جی بالکل جناب ایسا ہی ہوا تھا۔”
میں نے غلام قادر کے منہ پر ایک زنا نے دار تھپڑ رسید کرتے ہوئے کرخت لہجے میں کہا۔ حرامزادے! میں نے تمہیں تاکید کی تھی کہ اگر مجھ سے جھوٹ بولو گے تو میں تمہیں نمونہ عبرت بنادوں گا۔ میری بات تمہاری سمجھ میں نہیں آئی تھی؟”
وہ پہلی بار سراسیمہ نظر آیا۔ اپنے گال کو سہلاتے ہوئے ڈھٹائی سے بولا ۔ ” جناب میں نے آپ سے کون سا جھوٹ بولا ہے۔“
وہ تمہاری ماں کا یار لیا تو بدمعاش’ میں نے اسے ایک زور دار لات رسید کرتے ہوئے کہا۔ بائیں سے چھیس جولائی تک حویلی لکھا کے تھانے کی حوالات میں بند تھا۔ تم کہتے
ہو کہ تئیس جولائی کو وہ تمہارے ریسٹ ہاؤس میں آیا تھا؟“
وہ خوفزدہ نظر آنے لگا جیسے اس کی کوئی چوری پکڑی گئی ہو۔ دوسرے ہی لئے وہ سنبھل کر بولا ۔ ” جناب کیا تو بد معاش سے میری کوئی جان پہچان تو تھی نہیں۔ جمیل فاروقی نے مجھے بتایا تھا کہ ان سے ملنے کے لیے آنے والا لیا تو ہے۔ میں نے یقین کر لیا۔ ممکن ہے وہ کوئی دوسرا شخص ہو۔“
میں نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑ دیں اور خاموشی سے اسے گھورنے لگا۔
دوسرے ہی لمحے وہ نظر چرا کر دائیں بائیں دیکھنے لگا۔ اس کے بدن کی حرکات وسکنات سے اضطراب کی عکاسی ہوتی تھی۔
میں نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔ ” غلام قادر! جب میں کوئی کیس حل کر لیتا ہوں تو معاملے کی تہ تک پہنچنے میں مجھے دیر نہیں لگتی۔ بہتر ہوگا کہ تم خود ہی سب کچھ بتادو ۔ مجھے مجبور نہ کرو کہ میں تمہاری بوڑھی ماں اور چھوٹی بہن کو گرفتار کر کے حوالات میں بند کردوں۔“
ان بے چاریوں کا کیا قصور ہے جناب ؟ وہ منمنایا۔
میں نے کہا۔ وہ تمہارے قصور کی سزا بھگتیں گی۔” میں نے کیا کیا ہے؟”
تم نے جمیل فاروقی کو قتل کیا ہے۔ میں نے سنسناتے ہوئے لہجے میں کہا۔ اور نرگس کی روپوشی میں بھی تمہارا ہاتھ ہے۔”
وہ چلایا ۔ ” میں نے کسی کو قتل نہیں۔
“
اس کے پیچھے کھڑے ہوئے حوالدار نے اس کی کمر میں ٹھوکر لگائی تو وہ جملہ پورا نہ کر سکا اور منہ کے بل میری میز پر گرا۔
ملک صاحب کے سامنے زبان چلاتے ہو ۔ حوالدار نے کالر سے پکڑ کر اسے گھسیٹا اور سیدھا کرتے ہوئے بولا۔ اگر زندگی پیاری ہے تو سب کچھ سچ سچ بتا دو ورنہ اتنا ماروں گا کہ ہاتھ لگا لگا کر روڈ گے۔“
غلام قادر تھر تھر کانپنے لگا مگر اپنے بیان پر ڈٹا رہا۔ ” تھانے دار صاحب میں نے جمیل فاروقی کو قتل نہیں کیا۔ آپ میری بات کا یقین کریں۔ مجھے نہیں پتا نرگس کہاں اور …
ملک صاحب ! یہ ایسے نہیں مانے گا ۔ حوالدار نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا۔
اسے ایک دن کے لیے میرے حوالے کر دیں۔ میں اس کی ساری ٹیڑھیں نگار ہوں۔”
میں نے حوالدار کی خواہش پوری کرتے ہوئے کہا۔ جہار احمد ایک بات کا خاص خیال رکھنا بندہ ضائع نہیں ہونا چاہیے۔”
آپ فکر نہ کریں ملک صاحب ! ” حوالدار جبار احمد نے یقینی لہجے میں کہا ۔ اس کا انگ انگ آپ کو سلامت ملے گا۔“
حوالدار غلام قادر کو لے جانے لگا تو میں نے غلام قادر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔
غلام قادر ریسٹ ہاؤس کی چابیاں کہاں ہیں؟”
“میرے پاس ہیں ۔ ” اس نے جواب دیا اور تعجب خیز نظر سے مجھے دیکھنے لگا جیسے میں نے کوئی عجیب و غریب سوال پوچھ لیا ہو۔
د و چابیاں مجھے دے دو۔ میں نے تحکمانہ لہجے میں کہا۔
آپ چابیوں کا کیا کریں گے جناب ؟ اس کا تعجب گہری پریشانی میں تبدیل ہو گیا۔ اس کی پریشانی میں خوف کا عنصر شامل تھا۔
میں نے کہا۔ “تم جتنی راتیں حوالات میں بندر ہو گئے میں اتنی ہی راتیں تمہارے ریسٹ ہاؤس میں مکمل ریسٹ کروں گا ۔“وہ کچھ نہ سمجھنے والے انداز میں ابھی ہوئی نظر سے مجھے دیکھنے لگا۔ میں نے گرج دار
آواز میں کہا۔ ” تم نے سنا نہیں میں تم سے ریسٹ ہاؤس کی چابیاں مانگ رہا ہوں۔”
جناب آپ مجھ پر شک نہ کریں۔ وہ گڑ گڑانے لگا۔ “میں نے جمیل فاروقی کو قتل نہیں کیا۔“
حوالدار نے اسے دائیں بائیں دو چار زوردار جھٹکے دیے پھر اس کی پنڈلی پر اپنے بوٹ سے ایک مہلک ٹھڈا مارتے ہوئے خوف ناک لہجے میں بولا ۔ ” جمیل فاروقی کے سائے ملک صاحب کی بات نہیں سنی تم نے۔ وہ ریسٹ ہاؤس کی چابیاں مانگ رہے ہیں۔ اپنی بات ختم کرتے ہی حوالدار نے اسے ایک جھانپڑ بھی رسید کر دیا۔
نظام قادر نے ریسٹ ہاؤس کی چابیوں کا گچھا اپنی جیب میں سے نکال کر میری طرف بڑھا دیا ۔ حوالدار سے دھکے دیتا ہوا میرے کمرے سے باہر لے گیا۔
میں نے وہ چابیاں ایک خاص مقصد کے تحت حاصل کی تھیں۔ میں غلام قادر کے غیاب میں ریسٹ ہاؤس کی مکمل تلاشی لینا چاہتا تھا۔ جب سے میری نظر میں غلام قادر کی ذات مشکوک ہوئی تھی میں یہ یک وقت کئی زاویوں سے جمیل فاروقی کے قتل کے بارے میں غور وفکر کر رہا تھا۔
میں نے اسی وقت اے ایس آئی صداقت حسین کو اپنے ساتھ لیا اور کینال ریسٹ ہاؤس کی جانب روانہ ہو گیا۔ احتیاطاً دو سپاہیوں کو بھی ہم نے اپنے ساتھ رکھ لیا۔
تقریباً ایک گھنٹے تک ہم ریسٹ ہاؤس کی تلاشی لیتے رہے۔ میں نے تلاشی کا آغاز اس کمرے سے کیا تھا جہاں مقتول تجمیل فاروقی اور نرگس کا سامان رکھا ہوا تھا۔ ہر چیز جوں کی توں موجود تھی۔ بعد ازاں میں نے دوسرے کمروں کو بھی کھنگال ڈالا ۔ اکثر کروں کی حالت سے اندازہ ہوتا تھا کہ وہاں کی صفائی ہوئے کافی عرصہ گزر چکا تھا۔ ایک بڑے سائز کے کمرے میں آتش دان بھی بنا ہوا تھا۔ سردیوں کے موسم میں وہاں آگ بھی جلائی جاتی ہوگی
لیکن اس وقت وہ آتش دان سرد اور ویران پڑا تھا۔
میں نے ایک فوری خیال کے تحت اے ایس آئی سے کہا۔ “صداقت کیوں نہ اس آتش دان کی چمنی کو بھی چیک کر لیا جائے!”
آئیڈیا تو اچھا ہے ملک صاحب ! وہ تائیدی لہجے میں بولا۔
تم کسی لمبی سی چھڑی کا انتظام کرو ۔ میں نے کچھ سونچتے ہوئے کہا۔
اے ایس آئی نے ایک سپاہی کو مخاطب کرتے ہوئے مطلوبہ چھڑی ڈھونڈنے کا حکم جاری کیا اور اس ہال نما کمرے کے پرانے فرنیچر کو الٹ پلٹ کر دیکھنے لگا۔ دونوں سپاہی چھڑی تلاش کرنے نکل گئے ۔
تھوڑی ہی دیر بعد ایک سپاہی وہاں نمودار ہوا ۔ اس کے ہاتھ میں کسی بیلچے کا دستہ تھا۔ وہ مذکورہ دستہ میری جانب بڑھاتے ہوئے بولا ۔ یہی مل سکا ہے جناب۔“
میں نے بیلچے کا دستہ ہاتھ میں لیا تو چونک اٹھا۔ اس کے ایک سرے پر جھے ہوئے خون کا دھبا واضح طور پر نظر آ رہا تھا۔ میں نے بیلچے کے اس سرے کا بغور معائنہ کیا۔ خون جمنے کے بعد سیاہی مائل رنگت اختیار کر چکا تھا۔ میں نے پہلی نظر میں ہی اندازہ لگا لیا کہ اس خون کو جھے ہوئے ایک ہفتے سے زیادہ نہیں گزرا۔ تے ہو ئے خون کے وہے کے آس پاس چند انسانی بال بھی چپکے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔
یہ دستہ تمہیں کہاں سے ملا ہے؟” میں نے بیلچے کا دستہ لانے والے سپاہی سے کہا۔
جناب ادھر اسٹور روم کی ترچھی (دو چھتی) پر سے اتار کر لایا ہوں ۔”
اے ایس آئی بھی میرے نزدیک آ گیا تھا۔ میں اس وقت پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے بارے میں سوچ رہا تھا جس کے مطابق مقتول جمیل فاروقی کی موت سر کے عقبی حصے میں لگنے والی چوٹ کے سبب واقع ہوئی تھی۔ اے ایس آئی میرے چہرے کے تاثرات سے بھانپ گیا تھا کہ میں کن خطوط پر سوچ رہا ہوں۔
وہ جو شیلے لہجے میں بولا۔ ملک صاحب ! لگتا ہے ہم نے آلہ قتل بر آمد کر لیاہے۔
ہاں کسی حد تک کہہ سکتے ہیں۔ ” میں نے گھمبیر لہجے میں کہا۔ صحیح صورت حال کا اندازہ تو اس دستے کے لیبارٹری ٹیسٹ کے بعد ہی ہوگا ۔”
اس وقت دوسرا سپاہی بھی وہاں پہنچ گیا۔ وہ ایک لمبی سی چھڑی کہیں سے ڈھونڈ لایا تھا۔ سپاری نے وہ چھڑی اے ایس آئی کو تھماری اور کہا۔ ” جناب ایک مچھر دانی سے نکال کر لایا ہوں ۔
“میں نے اے ایس آئی سے کہا۔ “تم اس چھڑی کو آتش دان کی چمنی کے اندر داخل کر کے ادھر ادھر ہلاؤ۔
آپ ذرا ادھر جا کر کھڑے ہو جا ئیں ملک صاحب ! اے ایس آئی نے کمرے کے ایک کونے کی جانب اشارہ کیا۔ چمنی کے اندر سے کا لک کا ایک طوفان برآمد ہو گا ۔“
میں نے اے ایس آئی کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے کہا۔ ” ذرا احتیاط کے ساتھ ہاتھ چلانا بلکہ میرا تو خیال ہے تم چھڑی کا نشیبل طارق محمود کو دے دو۔ و و قد آور ہے۔ یہ کام زیادہ آسانی سے کر لے گا۔“ اے ایس آئی نے ایک لمحے سوچا اور چھری طارق محمود کو پکڑا کر اسے ضرور ہی ہدایات دینے کے بعد میرے پاس آ گیا۔
سپاری مذکورہ نے مچھر دانی والی پکی اور لمبی چھڑی آتش دان کی چینی میں داخل کر کے چاروں طرف گھمائی۔ اچانک چھڑی کسی بھاری چیز سے ٹکرائی۔ دوسرے ہی لمحے پوٹلی نماشے دھپ سے نیچے آگری۔ اس کے ساتھ ہی چمنی کے اندر سے کا لک کا ایک بگولا سا برآمدہ ہوا جو دیکھتے ہی دیکھتے پھیلنے لگا۔ کانسٹیبل طارق محمود بھی الٹے قدموں دوڑتے ہوئے ہمارے پاس آن کھڑا ہوا۔
تھوڑی ہی دیر میں کالک کا طوفان بیٹھ گیا تو میری ہدایت پر طارق محمود نے وہ پوٹلی اٹھائی اور باہر برآمدے میں اسے اچھی طرح جھاڑ کر میرے پاس لے آیا۔ میں نے فورا وہ پوٹلی کھول کر دیکھی۔ اس کے اندر سے ایک پھول دار زنانہ سوٹ برآمد ہوا جسے لپیٹ کر ایک بنڈل کی شکل دے دی گئی تھی۔ جب میں نے مذکورہ زنانہ سوٹ کو زور سے جھٹ کا تو اس کی تہوں
میں سے ایک کنگ سائز چھری برآمد ہوئی۔ اس چھری کا پھل کم و بیش دس انچ تھا اور اس پر خون جما ہوا تھا۔
میں نے پھول دار زنانہ لباس کو اچھی طرح چیک کیا۔ ایک دو جگہ مجھے خون کے خشک دھبے نظر آئے جو میرے خیال میں خون آلود چھری لیٹنے کی وجہ سے بن گئے تھے۔
ملک صاحب ! سارا مسئلہ ہی حل ہو گیا ۔ اے ایس آئی نے فیصلہ کن لہجے میں کہا۔ یہ غلام قادر بڑا ہی مینا بندہ ہے۔ اس نے جمیل فاروقی کو قتل کیا اور نرگس کے لباس کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ غلام قادر اس کا کام بھی تمام کر چکا ہے۔“
میں نے مذکورہ لباس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا۔ ” اس پر نرگس کا نام لکھا ہوا تمہیں کہیں نظر آیا ہے؟”
وہ گڑ بڑا گیا۔ “میرا مطلب ہے.
“میں نے قطع کلامی کرتے ہوئے کہا۔ ” ہمیں فورا تھانے پہنچنا چاہیے۔ باقی اندازے وہیں جا کر قائم کریں گے۔
“اے ایس آئی ان سراغوں کو سمیٹنے میں مصروف ہو گیا جو ریسٹ ہاؤس کی تلاشی کے دوران ہمارے ہاتھ لگے تھے ۔ وہ کرائے کا تانگا مع کو چوان ریسٹ ہاؤس کے باہر موجود تھا جس میں بیٹھ کر ہم یہاں پہنچے تھے۔
ریسٹ ہاؤس کو دوبارہ تالا بند کرنے کے بعد ہم واپس تھانے آگئے ۔ میں نے اپنے کمرے میں پہنچتے ہی حوالدار جبار احمد کو بلا لیا اور پوچھا۔
جبارا تمہاری محنت رنگ لائی یا نہیں ؟”
“ملک صاحب! بندہ خاصا سخت جان ہے۔ حوالدار نے بتایا ” کچھ اپیش”
طریقے استعمال کرنے پڑیں گے۔ بس آپ کی اجازت چاہیے۔“ میں نے کہا۔ شاید اسپیشل طریقے استعمال کرنے کی نوبت نہ آئے ۔ تم غلام قادر کو میرے پاس لے آؤ۔ میں نے اس کی زبان کھولنے والی چابی تلاش کر لی ہے۔”
حوالدار استعجابیہ نظر سے مجھے دیکھتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا ۔ تھوڑی دیر بعد وہ غلام قادر کو لے کر آ گیا۔ غلام قادر نے مجھے دیکھتے ہی رونا شروع کر دیا۔
ملک صاحب! حوالدار نے میرے ساتھ بہت زیادتی کی ہے۔ “ وہ التجا آمیز لہجے میں بولا۔ میں نے جو جرم کیا ہی نہیں اسے کیسے تسلیم کرلوں۔”
میں نے اے ایس آئی صداقت حسین کو اشارہ کیا۔ اس نے ریسٹ ہاؤس سے ملنے والا بیلچے کا خون آلود دسته کنگ سائز خون آلود چھری اور پھول دار زنانہ سوٹ میری میز پر پھیلا دیا۔ غلام قادر کی آنکھیں پھٹ گئیں۔
میں نے کڑک کر غلام قادر سے بوال کیا۔ ان کو پہچانتے ہو؟“
اس کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے وہ ابھی گر جائے گا۔ مذکورہ اشیاء کو دیکھتے ہی اس کی حالت غیر ہو گئی تھی۔ وہ لرزیدہ آواز میں بولا۔
پا “پا پا نییہ اپکا راگ بند کرو ۔ میر الہجہ بغضب ناک تھا۔ میرے سوال کا جواب دو۔ یہ تمام چیزیں ہمیں تمہارے ریسٹ ہاؤس سے ملی ہیں۔ میں اس خون آلود چھری اور بیلچے کے دستے کو معائنے کے لیے ابھی لیبارٹری بھجوا رہا ہوں پھر دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ تمہارے حق میں یہی بہتر ہو گا کہ لیبارٹری کی رپورٹ آنے سے پہلے مجھے حقیقت حال سے آگاہ کر دو ورنہ تمہیں پھانسی کے پھندے سے کوئی نہیں بچا سکے گا ۔”
وہ میرے قدموں میں گر کر قسمیں کھانے لگا اور رو رو کر مجھے یقین دلانے کی کوشش کرنے لگا کہ وہ مذکورہ اشیاء کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔
ملک صاحب! لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔ اے ایس آئی غلام نے قادر کو گھورتے ہوئے کہا۔ اسے ٹرائل روم میں لے چلتے ہیں۔“ہوں۔ میں نے کچھ سوچتے ہوئے ایک طویل سانس خارج کی اور حوالدار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ ” جبار یہ آج کا دن تمہارا مہمان رہے گا۔ اس کی مہمان داری کا خاص خیال رکھنا ۔”
دہ خوش ہوتے ہوئے بولا۔ میں نے تو پہلے ہی کہا تھا کہ جناب کہ یہ اسپیشل کیس ہے۔ دال روٹی سے بات نہیں بنے گی۔ اس کی خاطر تواضع ، اسپیشل چرغے سے کرنا ہوگی۔“
زد تم اسے چرغہ کھلاؤ یا مرغ پلاؤ۔ یہ اب تمہارے حوالے ہے ۔ میں نے کہا۔ یہ تمہاری ہنرمندی کا امتحان بھی ہے جبار احمد ۔“
حوالدار بڑے پر اعتماد انداز میں غلام قادر کو دھکیلتے ہوئے وہاں سے لے گیا۔
تھوڑی دیر بعد ٹرائل روم سے غلام قادر کے چیخنے کی آوازیں آنے لگیں۔ جہار نے مشق سخن” شروع کر دی تھی۔
آؤمیں نے اے ایس آئی سے کہا۔ ” تم فورا یہ چیزیں لیبارٹری ٹیسٹ کے لئے دےاے ایس آئی کے جانے کے بعد میں اپنے کمرے میں بیٹھا اس کیس کی کڑیاں ملانے کی کوشش میں مصروف تھا کہ حوالدار جبار نے آکر بتایا۔
جناب مہمان ” تعاون پر آمادہ ہے۔ وہ آپ کو بلا رہا ہے۔”
میں حوالدار کے ساتھ فورا ٹرائل روم میں پہنچ گیا ۔ غلام قادر کی حالت خاصی ناگفتہ تھی۔ وہ مجھے دیکھتے ہی فریادی لہجے میں بلبلا یا ۔
ملک صاحب! مجھے اس قصاب سے چھڑا ئیں۔ میں سب کچھ آپ کو بتا دوں گا۔”
شروع ہو جاؤ میں نے جارحانہ انداز میں کہا۔
وہ بولا۔ پہلے ایک گلاس پانی “
میں نے غلام قادر کے لیے پانی منگوایا۔ جب اس کے حواس بحال ہوئے تو اس نے جمیل ناروقی کے قتل کا اقرار کر لیا۔ اس نے جو طویل بیان دیا اس کا خلاصہ میں آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔
غلام قادر نے پہلی ہی نظر میں یہ اندازہ لگا لیا تھا کہ جمیل فاروقی اور نرگس میاں بیوی نہیں تھے۔ وہ آٹھ سال سے وہاں قیام کرنے والے سرکاری افسروں کے رنگ ڈھنگ دیکھ رہا تھا اور یہ خوبی پہچان جاتا تھا کہ کون سا افسر اپنی بیوی کے ساتھ آیا اور اور کون سا داشتہ کے ساتھ ۔ نرگس کو دیکھ کر اسے پہلی مرتبہ احساس ہوا کہ وہ نہ تو جمیل فاروقی کی بیوی تھی اور نہ ہی داشتہ ۔ دل میں شک پیدا ہوتے ہی وہ ان کی ٹوہ میں لگ گیا اور ددون ہی میں اسے معلوم ہو گیا کہ جمیل فاروقی، نرگس کو شادی کا خواب دکھا کر گھر سے بھگا کر لایا تھا۔ وہ رات کو اور بعض اوقات دن میں بھی چھپ کر ان کی باتیں سنتا رہتا تھا۔ تئیس جولائی کی رات وہ بھی خفیہ طریقے سے ان کے درمیان ہونے والی گفتگوسن رہا تھا کہ وہ دونوں کسی بات پر بھی جھگڑا کرنے لگے۔ غلام قادر نے پوری توجہ ان کی باتوں پر لگادی۔ ان کی تکرار بڑی سنسنی خیز تھی ۔ جمیل فاروقی ازدواجی تعلقات کے لیے اصرار کر رہا تھا جب کہ نرگس کا موقف یہ تھا کہ جب تک ان کا نکاح نہیں ہو جاتا وہ ایک حد سے آگے نہیں بڑھے گی۔ دونوں کی بحث و تکرار اس قدر بڑھی کہ ہاتھا پائی میں بدل گئی۔ نرگس جمیل فاروقی کونتی الوسع سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی لیکن لگتا تھا، جمیل پر جیسے شیطان سوار ہو گیا تھا۔ وہ اسے بار بار دبوچنے کی کوشش کر رہا تھا۔
یہ صورت حال غلام قادر کی برداشت سے باہر ہو گئی تو اچانک اسے یوں محسوس ہوا جیسے وہ اپنے آپ میں نہ رہا ہو۔ اس کے بعد جو کچھ بھی ہوا وہ سب غیر ارادی عمل کا نتیجہ تھا۔
جانے کہاں سے اس کے ہاتھ میں بیلچے کا دستہ آگیا اور وہ کس طرح ان کے کمرے میں داخل ہوا۔ جب غلام قادر کے ہوش ٹھکانے آئے تو جمیل فاروقی کمرے کے فرش پر بے سدھ پڑا تھا
اور نرگس مسیری کے ایک کونے میں بیٹھی سسکیاں بھر رہی تھی۔
زگی کی دل دوز سسکیوں اور ہچکیوں سے غلام قادر کے حواس پر چھائی ہوئی ہے
اختیاری کی دھند چھٹ گئی اور اسے پہلی مرتبہ احساس ہوا کہ وہ جذبات سے مغلوب ہو کر بے خبرتی میں کیا کر بیٹھا تھا۔ اس نے لاشعوری طور پر نرگس کو جمیل فاروقی کے پنجہ ستم سے چھڑانے کی کوشش کی تھی جس کے نتیجے میں جمیل فاروقی کسی بے جان کیچوے کی طرح فرش پر بے حس ورکت پڑا تھا۔
غلام قادر نے تشویش ناک انداز میں اجمیل فاروقی کے جسم کو ٹول کر اور الٹ پلٹ کر دیکھا اور جلد ہی اسے اندازہ ہو گیا کہ اس میں زندگی کی رمق باقی نہیں تھی۔ اس صورت حال نے غلام قادر کو پریشان کر دیا۔ نرگس تو پہلے ہی مصیبت میں گرفتار تھی ۔ حالات کی سنگینی نے اسے بے بس کر دیا اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رودی۔ رات کا باقی حصہ غلام قادر نے نرگس کی
بتا سکتے ہوئے گزار دیا۔ نرگس نے اس ہم درد انسان سے کوئی بات نہیں چھپائی تھی۔
صبح ہوئی تو نرگس نے تشویش ناک لہجے میں کہا۔ اب کیا ہو گا غلام قادر ؟ سوہنا رب سب ٹھیک کر دے گا۔ غلام قادر نے اسے تسلی دی۔
وہ رونے لگی ۔ ” میں کہاں جاؤں۔ میرا تو کوئی گھر ٹھکانا بھی نہیں رہا۔“
تم چاہو تو میں تمہیں واپس تمہارے ماں باپ کے پاس چھوڑ آؤں گا۔ نہیں ۔” وہ نفی میں سر ہلانے لگی. میں اس جہنم میں دوبارہ قدم رکھنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی۔ میں تمہیں ظہور احمد کی حرکتوں کے بارے میں سب کچھ بتا چکی ہوں ۔
غلام قادر کو اس بد نصیب لڑکی پر ترس بھی آ رہا تھا اور اس سے دلی ہمدردی بھی محسوس ہو رہی تھی۔ اس نے سادگی اور خلوص سے کہا۔ “تمہارے لیے میرا گھر حاضر ہے۔ گھر میں میری ایک بوڑھی ماں اور چھوٹی بہن ہے۔ تمہیں وہاں کوئی تکلیف نہیں ہوگی ۔”
آج کل بغیر مطلب اور غرض کے کوئی کسی کا ساتھ نہیں دیتا “
میرا ساتھ بے غرض اور ہر مطلب سے پاک ہوگا۔“
رگس نے پوچھا۔ ” میں تمہارے گھر میں کسی حیثیت سے رہوں گی ؟“
حیثیت کا تعین بعد میں ہو جائے گا۔ غلام قادر نے سنجیدگی سے کہا۔ فی الحال تو جانے کہاں سے اس کے ہاتھ میں بچے کا دستہ ؟ کیا اور وہ کسی طرح ان کے کمرے میں داخل تمہارا اس مصیبت سے نکلنا بہت ضروری ہے۔“
اس کا کیا ہوگا؟” نرگس نے جمیل فاروقی کی لاش کی جانب اشارہ کرتے ہوئے سہمے ہوئے لہجے میں سوال کیا۔
غلام قادر نے کہا۔ اس کا میں بعد میں کوئی نہ کوئی بندو بست کر ہی لوں گا ۔ فی الحال تمہارا یہاں سے نکلنا زیادہ اہم ہے۔ تم اپنا فیصلہ سناؤ ۔ میرے ساتھ گاؤں چل رہی ہو یاغلام قادر نے دانستہ جملہ ادھور چھوڑ دیا اور جواب طلب نظر سے نرگس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔ وہ چند لمحے متذبذب انداز میں اپنے ہاتھوں کو گھورتی رہی پھر اس نے ایک بھر پور نظر غلام قادر کے چہرے پر ڈالی اور خاموشی سے گردن جھکا دی۔ گویا اس نے غلام قادر کے ساتھ اس کے گاؤں جانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔
غلام قادر نے بتایا کہ اس نے جمیل فاروقی کی لاش کو اسی کمرے میں بند کر دیا اور نرگس کو اپنے ساتھ لے کر رینالہ خور د روانہ ہو گیا۔ پھر اسی روز وہ ریسٹ ہاؤس واپس آ گیا۔
رینالہ خورد اپنی آمد و شد کے بارے میں اس نے مجھے پہلے جو کچھ بتایا تھا وہ منی بر دروغ تھا۔ وہ چو میں جولائی کی صبح ریسٹ ہاؤس سے روانہ ہوا تھا اور اسی روز واپس بھی آ گیا تھا۔
لاش کو ٹھکانے لگانے کے بارے میں پہلے اس نے یہی سوچا تھا کہ کہیں گڑھا کھود کر وہ جمیل فاروقی کے جسد خاکی کو سپردخاک کر دے گا لیکن اچانک اس نے اپنا پروگرام تبدیل کر دیا اور اسی تبدیلی کی وجہ سے وہ ہماری گرفت میں آ گیا۔ اس کی چالا کی نما حماقت یاحماقت نما چالا کی نے اس کا تختہ کر دیا تھا ۔
لیا تو بدمعاش کے بارے میں نرگس نے غلام قادر کو بالتفصیل بتا دیا تھا۔ غلام قادر نے سوچا کہ لیا تو کو کوئی عبرت ناک سزا ضرور ملنی چاہیے چنانچہ اس نے جمیل فاروقی کی لاش کے کہیں دبانے کے بجائے اس کی بڑی بے دردی سے بے حرمتی کی اور بعد ازاں رات کے اندھیرے میں اسے جنگل میں پھینک آیا جو اگلی صبح یعنی پچیس جولائی کو دستیاب ہو گئی۔ اس کارروائی کا سارا الزام لیا تو پر ڈالنے کے لیے غلام قادر نے اس کی ریسٹ ہاؤس میں آمد کی جھوٹی کہانی بھی گھڑی تھی۔ علاوہ ازیں اس نے جمیل فاروقی اور نرگس کا سامان بھی جہاں کا تہاں رہنے دیا تا کہ اس پر کسی قسم کا شبہ نہ کیا جاسکے۔ غلام قادر صرف اور صرف لیا تو کو جمیل فاروقی کے قتل اور نرگس کے اغواء میں ملوث دکھانا چاہتا تھا لیکن لیا تو کی کمال کوٹ سےریلوے اسٹیشن پر تمہیں اپنا سفر ادھورا چھوڑنا پڑا۔”
جمیل فاروقی نے بتایا تھا کہ اس نے ٹرین میں ایک ایسے شخص کی جھلک دیکھی تھی
تمہارا اس مصیبت سے نکلنا بہت ضروری ہے۔”
اس کا کیا ہوگا؟” نرگس نے جمیل فاروقی کی لاش کی جانب اشارہ کرتے ہوئے سہمے ہوئے لہجے میں سوال کیا۔
غلام قادر نے کہا۔ اس کا میں بعد میں کوئی نہ کوئی بندو بست کر ہی لوں گا۔ فی الحال تمہارا یہاں سے نکلنا زیادہ اہم ہے۔ تم اپنا فیصلہ سناؤ ۔ میرے ساتھ گاؤں چل رہی ہو یا غلام قادر نے دانستہ جملہ ادھور چھوڑ دیا اور جواب طلب نظر سے نرگس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔ وہ چند لمحے متذبذب انداز میں اپنے ہاتھوں کو گھورتی رہی پھر اس نے ایک بھر پور نظر غلام قادر کے چہرے پر ڈالی اور خاموشی سے گردن جھکا دی ۔ گویا اس نے غلام قادر کے ساتھ اس کے گاؤں جانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔
غلام قادر نے بتایا کہ اس نے جمیل فاروقی کی لاش کو اسی کمرے میں بند کر دیا اور نرگس کو اپنے ساتھ لے کر رینالہ خورد روانہ ہو گیا۔ پھر اسی روز وہ ریسٹ ہاؤس واپس آ گیا۔
رینالہ خورد اپنی آمد شد کے بارے میں اس نے مجھسے پہلے جو کچھ بتایا تھا وہ مبنی بر دروغ تھا۔ وہ چوبیس جولائی کی صبح ریسٹ ہاؤس سے روانہ ہوا تھا اور اسی روز واپس بھی آ گیا تھا۔
لاش کو ٹھکانے لگانے کے بارے میں پہلے اس نے یہی سوچا تھا کہ کہیں گڑھا کھود کر وہ جمیل فاروقی کے جسد خاکی کو سپردخاک کر دے گا لیکن اچانک اس نے اپنا پروگرام تبدیل کر دیا اور اسی تبدیلی کی وجہ سے وہ ہماری گرفت میں آ گیا۔ اس کی چالا کی نما حماقت یاحماقت نما چالا کی نے اس کا تختہ کر دیا تھا۔
لیا تو بد معاش کے بارے میں نرگس نے غلام قادر کو بالتفصیل بتا دیا تھا۔ غلام قادر نے سوچا کہ لیا تو کو کوئی عبرت ناک سزا ضرور ملنی چاہیے چنانچہ اس نے جمیل فاروقی کی لاش کہ کہیں دبانے کے بجائے اس کی بڑی بے دردی سے بے حرمتی کی اور بعد ازاں رات کے اندھیرے میں اسے جنگل میں پھینک آیا جو اگلی صبح یعنی پچیس جولائی کو دستیاب ہو گئی۔ اس کارروائی کا سارا الزام لیا تو پر ڈالنے کے لیے غلام قادر نے اس کی ریسٹ ہاؤس میں آمد کی جھوٹی کہانی بھی گھڑی تھی۔ علاوہ ازیں اس نے جمیل فاروقی اور نرگس کا سامان بھی جہاں کا تہاں رہنے دیا تا کہ اس پر کسی قسم کا شبہ نہ کیا جاسکے۔ غلام قادر صرف اور صرف لیا تو کو جمیل فاروقی کے قتل اور زکس کے اغواء میں ملوث دکھانا چاہتا تھا لیکن لیا تو کی کمال کوٹ سے گرفتاری اور پھر بائیس جولائی سے چھبیس جولائی تک حویلی لکھا کے تھانے کی حوالات میں موجودگی نے اس کے جھوٹ کی قلعی کھول دی تھی۔ آلہ قتل اور آلہ بے حرمتی بھی برآمد ہو چکا تھا لیکن خون اور چھری اور بیلچے کے دستے کے کیمیائی تجزیے سے قبل ہی جہار کی پوچھ تاچھے”
سے گھبرا کر غلام قادر نے اقبال جرم کر لیا تھا۔ وہ جس بری طرح پھنس چکا تھا ان حالات میں دانش مندی کا تقاضا یہی تھا کہ اپنی ہڈیوں کا سرمہ بنوانے کے بجائے شرافت سے حقیقت کو تعلیم کر لیا جائے۔ یہ بات غلام قادر کی سمجھ میں آگئی تھی۔
میں نے دوسری صبح سب انسپکٹر ز نور خان کو دو سیاہیوں کے ساتھ رینالہ خورد بھیج کر غلام قادر کے گھر سے نرگس کو برآمد کروالیا۔ غلام قادر کی بوڑھی ماں حنیفہ بی بی اور چھوٹی بہن فردوس بھی پریشان حال تھانے چلی آئی تھیں ۔
میں نے نرگس کو پوچھ گچھ کے لیے اپنے کمرے میں بلا لیا۔ وہ ایک خوب صورت اور پرکشش لڑکی تھی۔ پھوری اور فی کا کوچوان کے بیان کے مطابق نرگس کے بالائی ہونٹ کی دائیں جانب سور کے دانے کے برابر ایک خوش نما تل موجود تھا۔ وہ اس وقت خاصے مشکل حالات سے دو چار تھی۔ پریشانی اور گھبراہٹ اس کے چہرے سے عیاں تھی۔ زلفیں پراگندہ اور
آنکھیں ویران تھیں لیکن اس کے باوجود بھی اس کے حسن اور جاذبیت میں رتی برابر فرق نہیں آیا تھا۔ بلکہ اداسی اور سوگوازیت نے اس کی کشش میں اضافہ کر دیا تھا۔
میرے کچھ پوچھنے سے پہلے ہی وہ گلو گیر لہجے میں بولی۔ تھانے دار صاحب! میں جاتی ہوں میرا یہی انجام ہوگا ۔”
انسان جیسا کرتا ہے ویسا ہی بھگتا ہے۔ میں نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا پھر پوچھا۔ ” جمیل فاروقی تو انیس جولائی کو ہی گھر سے نکل گیا تھا۔ تم دونوں میں جولائی کو حویلی لکھا ریلوے اسٹیشن سے ٹین میں سوار ہوئے تھے۔ وہ ایک دن جمیل فاروقی نے کہاں گزارہ تھا؟“
وہ ریلوے اسٹیشن کے قریب ایک ہوٹل میں ٹھہرا ہوا تھا ۔ نرگس نے دھیمے لہجے میں بتایا۔ اس احتیاط کا مقصد صرف یہ تھا کہ کسی کو یہ شک نہ ہو کہ ہم ایک ساتھ غائب ہوئے ہیں۔
میں نے سوال کیا ۔ ” تمہارے سامان سے مجھے جو دو ریلوے ٹکٹ ملے تھے ان کے مطابق تم دونوں مکن پور جانے کا ارادہ رکھتے تھے پھر ایسی کیا مجبوری آن پڑی کہ اٹاری ریلوے اسٹیشن پر تمہیں اپنا سفر ادھورا چھوڑنا پڑا۔”
ر جمیل فاروقی نے بتایا تھا کہ اس نے ٹرین میں ایک ایسے شخص کی جھلک دیکھی تھی
جوان کے فرار کا بھانڈا پھوڑ سکتا تھا۔ نرگس نے جواب دیا۔ اسی لیے ہم مزید سفر کرنے کے بجائے اٹاری ریلوے اسٹیشن پر اتر گئے تھے۔”
اس کے بعد تم لوگ کسی دوسری ٹرین یا بس کے ذریعے کنگن پور جاسکتے تھے۔”
میں نے ٹولنے والے انداز میں پوچھا۔ ریسٹ ہاؤس میں سات روزہ قیام کی کیا ضرورت تھی؟””
یہ بھی جمیل فاروقی ہی کا آئیڈیا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ چلو اسی بہانے کچھ تفریح بھی ہو جائے گی ۔ نرگس اتنا کہہ کر خاموش ہو گئی۔ہوں۔ میں نے گردن ہلاتے ہوئے کہا۔ اس کا مطلب ہے وہ ایک سوچے کمجھے منصوبے کے تحت تمہیں بے وقوف بنا رہا تھا۔” اب اس ذکر کا کیا فائکہ ؟ “
میں نے پوچھا۔ کیا نہیں یہ بات معلوم تھی کہ جمیل فاروقی نہ صرف شادی شدہ تھا بلکہ دو بچوں کا باپ بھی تھا؟”
یہ بات مجھے ریسٹ ہاؤس میں پہنچنے کے اور پتا چلی تھی ۔ نرگس نے شکستہ لہجے میں جواب دیا۔ بے خیالی میں جمیل کے منہ سے ایک ایسی بات نکل گئی تھی کہ اس کی پہلی شادی کے بارے میں مجھے شک ہو گیا ۔ میں نے اسے کریدا تو اس نے کسی قسم کی پردہ پوشی کے بجائے سب کچھ صاف صاف بتا دیا ۔“
” سب کچھ جان لینے کے بعد تمبہ رویہ کیا تھا؟”
میں جمیل کے ساتھ اتنی دور نکل آئی تھی کہ واپسی کا راستہ میری نگاہ سے اور تیل ہوچکا تھا۔ وہ خواب ناک لہجے میں بولی۔ اگر اس رات وہ اخلاقی حدود کو پھلانگنے کا مطالبہ نہ کرتا تو اس کو وہ حادثہ پیش نہ آتا۔ میں اسے چھوڑ کر نہ جاتی بلکہ اس کی دوسری بیوی کی حیثیت سے اس کے ساتھ رہنے کو ترجیح دیتی لیکن وہ نکاح سے پہلے نرگس نے جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔ میں سمجھ گیا کہ کرب کی کس کیفیت نے اس کی زبان پر قتل ڈال دیا تھا۔ میں نے کہا۔ ” جمیل فاروقی ایک فریبی شخص تھا۔ اس نے تمہیں زبردست دھوکا دیا تھا۔
دھو کا اس نے نہیں دیا بلکہ میں نے دھوکا کھایا ہے۔”
ایک ہی بات ہوئی نا۔“
ایک بات نہیں ہوئی تھانے دار صاحب وہ عجیب سے انداز میں مسکرائی پھر بھرائی ہوئی آواز میں بولی۔ اگر جمیل فاروقی مجھے قریب نہ دیتا تو میں کسی اور سے فریب کھائی ۔ میں اس جہنم کوے سے اگلنا چاہتی تھی جو بھی مخلص ہاتھ آگے بڑھتا میں اسے تھام لیتی۔ بعد میں اس کا نتیجہ چاہے کچھ بھی 00 مجھے پروا نہیں تھی۔ اس گھر میں زندگی گزارنا فریب کھانے سے لاکھ درجے بدتر تھا۔“
وہ خاموش ہوئی اور کھوئی کھوئی نظر سے کمرے میں چاروں طرف دیکھنے لگی۔ اس وقت وہ مجھے انتہائی دکھی اور مصیبت زدہ نظر آئی۔ میں نے محبت آمیز ہمدردی سے اسے کریدنا چاہا تو تھوڑی ہی ہچکچاہٹ کے بعد اس نے اپنا چھلنی کلیجا میرے سامنے رکھ دیا۔ اس کی افسوس ناک کہانی نے مجھے بہت متاثر کیا۔ اپنی پرالم داستان کے انتقام پر وہ اشک بار لہجے میں مجھے بتا رہی تھی۔
تھانے دار صاحب! ظہور احمد نے ہم ماں بیٹی کو خریدنے کے لیے جو رقم خرچ کی تھی اس کی وصولی وہ مجھ سے چاہتا تھا۔ وہ ایسی بھوکی اور ہونا کی نظر سے میرے سراپا کو شولتا تھا کہ میں روح کی گہرائیوں تک کانپ اٹھتی تھی۔”
میں نے کہا۔ “مجھے تو پتا چلا ہے کہ ظہور احمد تم دونوں کو کوٹھے سے اس مقصد کے تحت لے کر آیا تھا کہ تم اور تمہاری ماں شریفانہ گھریلو زندگی گزارنا چاہتی تھیں؟”
میں نے بھی یہی سنا تھا۔ وہ پژمردہ لہجے میں بولی۔ اور ابتدا میں ظہور احمد کے رویے سے بھی یہی ظاہر ہوتا تھا لیکن رفتہ رفتہ الفاظ اپنے معنی کھونے لگے اور ظہور احمد کا اصلی چہرہ میری نظر میں آگیا۔ میں اس گھر میں ایسی عذاب ناک زندگی گزار رہی تھی کہ اگر لیا تو بد معاش اپنی دھمکی کے مطابق مجھے اٹھا لے جانے کی کوشش کرتا تو شاید میں مزاحمت نہ کرتی۔“
” کیا تمہاری ماں کو ظہور احمد کے عزائم کی خبر ہے؟”
میں یقینی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتی ۔” وہ مغموم نجے میں بولی ۔ لیکن اس کے رویے سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس صورت حال سے بے خبر ہے۔ نرگس کی آنکھوں سے پ پ آنسو گرنے لگے ۔ دو چیکی آمیز لہجے میں سک اٹھی۔ تھانے دار صاحب! آپ ایسا کیس بنا ئیں کہ غلام قادر کی جگہ میں پھانسی چڑھ جاؤں۔
سب کچھ آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ آپ جمیل فاروقی کے قتل کا الزام مجھ پر ڈال دیں مگر خدا کے واسطے مجھے اس جہنم میں نہ پھینکیں۔”
میں نے کہا۔ “جرم جس نے کیا ہے مزا بھی وہی پائے گا۔ میں تم پر قتل کا جھوٹا مقدمہ کیسے بنا سکتا ہوں۔“
آپ کچھ بھی کریں۔“ وہ روہانسے لہجے میں بولی۔ لیکن میں کسی بھی قیمت پر
واپس نہیں جاؤں گی۔ میں اپنی جان دے دوں گی مگر اس گھر میں قدم نہیں رکھوں گی جہاں
اظہور احمد جیسا بھیٹر یا صبح و شام مجھ پر دانت تیز کرتا ہو۔”
جمیل فاروقی کا قتل غلام قادر کے ہاتھوں ہوا تھا لیکن وہ سب کچھ اس نے بلا ارادہ
اور ایک غیر اختیاری جذبے کے تحت کیا تھا۔ میری نظر میں اس کا جرم اتنا سنگین نہیں تھا کہ اسے
پھانسی پر لٹکا دیا جاتا۔ ایک بے بس لڑکی کی عزت بچانے کے لیے اس نے نادانستگی میں ایک شخص کی جان لے لی تھی، تاہم یہ بھی ممکن نہیں تھا کہ اسے بالکل ہی نظر انداز کر دیا جاتا۔ اس نے بعد ازاں کنگ سائز چھری کی مدد سے جمیل فاروقی کی لاش کا جو حشر کیا تھا وہ نا قابل معافی تھا۔
میں سے ان حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک متوازان، اور مبنی بر انصاف چالان تیار کیا اور غلام قادر کو حوالہ عدالت کر دیا۔
حویلی لکھا کے تھانا انچارج رائے نواز کھرل سے باہمی مشاورت کے بعد نرگس کے بارے میں جو فیصلہ کیا گیا وہ میں آپ کو نہیں بتاؤں گا۔ ذہین قارئین اندازہ لگانے کی کوشش کریں۔
یہ بات ذہن میں رہے کہ نرگس کو اس کی خواہش کے مطابق واپس ظہور احمد کے گھر نہیں بھیجا گیا تھا۔
