مکمل ناول
ہر وہ شخص جسے مشرقی انگلستان میں سفر کرنے کا موقع ملا ہے ضر در جانتا ہو گا کہ اس علاقے میں دیہاتی لوگوں کے چھوٹے چھوٹے اور مربوب سے مکانات بکھرے نظر آتے ہیں جو عام طور پر اطالوی طرز تعمیر کے آئینہ دار ہیں۔ ان کے گرداشی سے سو ایکڑ تک کے سبزہ زار پھیلے ہوتے ہیں۔ میرے لیے ہمیشہ ان سبزہ زاروں میں بے حد جاذبیت رہی ہے جن کے چاروں طرف جنگے کے طور پر شاہ بلوط کے بھورے رنگ کی لکڑیاں گڑتی ہوتی ہیں، عمدہ قسم کے درخت اُگے ہوتے ہیں، اور اس سے پرے جنگل کی حد نظر آتی ہے۔ اس کے بعد مجھے وہ ستون دار پیش دہلیریں پسند ہیں جو شاید سرخ اینٹوں رائے ، ملکه این کے دور کے بنے ہوئے مکانات کا نمایاں حصہ ہیں اور جن پر اٹھارھویں صدی کے اواخر کے ذوق اور یونانی طرز کی استرکاری کی ہوئی ہے۔ ان عمارات کے اندر بڑے بلند ہال ہوتے ہیں جن کی گیلریاں ار فنون سے آراستہ ہوتی ہیں مجھے یہاں کی لائبریریاں بھی پسند ہیں جہاں تیرھویں صدی کی کتاب مناجات سے شیکسپیئر کی کوارٹو زنگ ہر چیز دستیاب ہو سکتی ہے۔ یہاں کی تصویر میں مجھے واقعی اچھی لگتی ہیں۔ ان میں سے اکثر تصویریں اس دور کی زندگی کے عکاس ہیں جب یہ عمارات تعمیر کی ہوئی تھیں ان تصویروں سے جاگیر داروں کی خوشحالی کا عہد جھالا ہے اور یہ بھی عیاں ہوتا ہے کہ ان دنوں دولت اگر چہ اتنی فراواں نہ تھی اور رجحانات آج کی نسبت مختلف تھے تاہم زندگی کچھ کم دلچسپ نہ تھی۔ میری خواہش ہے کہ ایک ایساسی مکان میرے پاس ہوتا اور بہت ہی دولت بھی ہوتی تاکہ میں اپنے دوستوں کی تواضع بڑی شان سے کرتا۔
خیر یہ تو ایک جملہ معترضہ تھا۔ مجھے تو یہ بتاتا ہے کہ ایک ایسے ہی مکان میں، جس کی تفصیلات کا ذکر کرنے کی میں نے کوشش کی ہے ، عجیب و غریب واقعات کا سلسلہ ظہور پذیر ہوا۔
اس عمارت کا نام کا شٹر حکیم ہال ہے جو سلوک میں واقع ہے۔ میرا خیال کہ میری کہانی کا دور جہاں سے شروع ہوتا ہے اس وقت سے اب تک اس عمارت میں کافی تبدیلی واقع ہو چکی ہے تاہم وہ سب ضروری چیزیں اب بھی موجود ہیں جن کا میں نے ذکر کیا ہے اطالوی طرز کی محرابی و الیز ، سفید رنگ کی مرکزی عمارت، سبزہ زار جس کے کنارے جنگل کی حد شروع ہو جاتی ہے اور مکان کا اندر سے نسبتا زیادہ قدیم دکھائی دیتا البتہ ایک چیز اب موجود نہیں ہے یعنی میر ہزار کی طرف سے دیکھا جاتا تو مکان کی دائیں طرف ایک پرانا بلوط کا درخت نظر آتا جس کا تنا مکان کی دیوار سے بمشکل چھ گڑ کے فاصلے پر تھا۔ اس کی شاخنیں عمارت کو تقریبا چھوری تھیں۔ میرا خیال ہے کہ یہ درخت یہاں اس وقت سے موجود تھا جب سے کا شٹر حکیم قلعہ بند شمارت نہ رہی اور جب سے ارد گرد کی کھائی پر کر دی گئی اور یہ بلکہ ایلز بتھ کے دور کا رہائشی مکان بنا۔ بہر حال یہ درخت 1990ء میں اپنے پورے پھیلاؤ کو پہنچا تھا۔
اسی سال اس ضلع میں جس میں یہ ہال واقع ہے جادوگرنبیوں کے کچھ مقدمات پیش ہوئے۔
میں سمجھتا ہوں کہ اس ٹھوس واقعیت کا صحیح تخمینہ لگانا بہت وقت طلب کام ہے جو زمانہ قدیم سے جادو گرنیوں کے عالمگیر خوف کی تہ میں مضمر ہے۔ بہت سے سوالات ہیں جو میر کی دانست میں بھی تک حل نہیں ہو سکے۔ مثلاً کیا وہ اشخاص جن پر اس جرم کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔ واقعی یہ خیال کرتے ہیں کہ انہیں کسی قسم کی غیر معمولی طاقت حاصل ہے۔ یا اگر طاقت نہیں تو کم از کم ان کی قوتِ ارادی ہی اس نوعیت کی ہے کہ وہ اپنے ہمسایوں کو کوئی نقصان پہنچا سکتے ہیں یا ان کے اعترافات محض ان کے مخالفوں کے ظلم سے اگلوائے جاتے ہیں ؟ میں ان تمام سوالوں اہم کا جواب اپنی طرف سے نہیں دیتا بلکہ قارئین آگے چل کر خود صحیح اندازہ لگالیں گے ۔
کاسٹر نہم نے عوامی عدالت کو ایک شکار ” ہم پہنچایا۔ مسز مد رسول اس کا نام تھا۔ اور وہ دیہاتی جادو گرنیوں کے معمولی غول سے صرف اس حد تک مختلف تھی کہ ان سے قدرے بہتر تھی اور زیادہ اثررسکوک رکھتی تھی۔ علاقے کے کئی مشہور زمینداروں نے اسے بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی اور اس کے نیک کردار کی تصدیق کی اور بعد میں جیوری کے فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
اس عورت کے حقیا میں سب سے زیادہ مہلک گواہی کا مسٹر نگہم ہال کے مالک سر میںتھیو فیل نےد کی۔ انہوں نے حلفیہ بیان دیتے ہوئے کہا کہ میں نے اسے اپنے کمرے کی کھٹر کی سے تین مختلف موقعوں پر دیکھا ہے۔ ہر موقع پر وہ پورے چاند کی روشنی میں میرے مکان کے قریب بلوط کےپاس دکھی گی ھے وہ
صرف ایک لمبی قمیض پہنی ہوئی ، اور ایک عجیب سے خمید چاقو سے شہنیاں کاٹنے لگتی۔ ایسے موقع پر یوں معلوم ہوتا تھا جیسے وہ اپنے آپ سے باتیں کر رہی ہو۔ ہر بار سر میتھیو فیل نے اس عورت کو پکڑنے کی بڑی کوشش کی لیکن ہمیشہ اسے کسی حادثاتی شور سے اس کا علم ہو جاتا اور جب دو باغ میں پہنچتے تو انہیں صرف ایک خرگوش نظر آتا جو گاؤں کی طرف پگڈنڈی پر بھاگ رہا ہوتا۔
تیسری رات انہوں نے ہمت کر کے اپنی پوری رفتار سے اس کا پیچھا گیا اور سیدھے منتر ندرسول کے مکان پر جاپہنچے۔ تقریبا چدرہ منٹ تک انہیں در واتر ہے پر زور دار دستک دیتے ہوئے رکنا پڑا اور جب باہر نکلی تو بظاہر اس کی آنکھیں نیند سے بوجھل تھیں جیسے وہ ابھی بستر سے نکل کر آئی ہو ، اور وہ اپنی آمد کی اچھی طرح وضاحت کرنے سے بھی قاصر ہے۔
زیادہ تر اسی شہادت کی بناء پر اور دوسرے کلیسائی طلاقوں کی جانب سے کم و بیش اسی انداز کی تائید کے باعث مزید رسول پر فرو جرم عاید کردی گئی اور اسے موت کی سزا سنادی گئی مقدمے کے ایک ہفتہ بعد اسے پانچ یا چھ اور افراد کے ساتھ سینٹ ایڈ منڈ ر کے قبرستان کے پاس پھانسی دے دی گئی۔
سر میتھیو فیل، جو اس وقت عدالت کے نائب افسر تھے، پھانسی دینے کے موقع پر موجود تھے۔
مارچ کی ایک مرطوب صبح تھی جب ہلکی ہلکی بوندا باندی میں ایک پھکڑ اگھاس سے ڈھکی ہوئی بھدی پہاڑی پر شمالی دروازے کے باہر آکر رکا جہاں پھانسی دی جانے والی تھی۔ دوسرے ملزم بڑے بددل اور خستہ حال نظر آرہے تھے۔ لیکن مستر مد رسول کا مزاج سب سے مختلف تھا۔ اس عہد کے ایک نامہ نگار کے لفظوں میں اس کازہر آلود غصہ تماشائیوں پر ، حتی کہ جلاد پر، اس بری طرح اثر انداز ہوا کہ سب کی متفقہ رائے میں وہ کسی جنونی شیطان کا زندہ عکس نظر آرہی تھی۔ تاہم اس نے قانون کی بیجا آوری کرنے والے افسروں کی کوئی مزاحمت نہیں کی۔ وہ محض اپنے مخالفوں کو اس قدر خوفناک اور زہر آلود نظروں سے دیکھتی رہی کہ ان میں سے ایک شخص نے بعد میں مجھے بتایا کہ اس منظر کے تصور ہی سے چھ ماہ تک اس کے ذہن پر اضطرابی کیفیت طاری ہو جاتی تھی۔
اطلاعات سے پتہ چلتا ہے کہ آخری وقت وہ کچھ کہہ رہی تھی جو بظاہر بے معنی الفاظ تھے : ”ہال میں مہمان آنے والے ہیں۔ اس نے یہ فقرہ دبی زبان سے دو ایک دفعہ دوہرایا تھا۔ سر میتھیو فیل اس عورت کے آخری طرز عمل سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ انہوں نے اپنے علاقے کے پادری سے اس موضوع پر کچھ گفتگو بھی کی تھی جو ان کے ساتھ پھانسی کے معاملے سے فارغ ہو کر گھر واپس آرہا تھا۔ مقدمے میں ان کی گواہی کچھ زیادہ خوشی سے نہیں دی گئی تھی اور نہ وہ خاص طور پر جادو گرنتیوں کو ڈھونڈنے کا خبط رکھتے تھے۔ تاہم انہوں نے اس وقت اور بعد میں بھی نہیں کہا کہ وہ اس معاملے کی جس قدر تفصیل بیان کر چکے ہیں اس کے علاوہ اور کچھ کہتا نہیں جاتے اور اس امر کا ہر گز امکان نہیں کہ جو کچھ انہوں نے دیکھا تھا۔ اس میں انہیں کوئی نقاط فہمی پیدا ہوئی ہو۔ البتہ یہ سب کاروائی اگر چہ ان کی طبع کے خلاف تھی مگر انہوں نے اس معاملے کو اپنے ہاتھ میں لینا اپنا فرض سمجھا اور اسے سر انجام دیا۔ ان کے جذبات کا بظاہر یہی خلاصہ تھا جس کی پاور کی نے تعریف کی۔ کوئی بھی معقول شخص یہی کچھ کرتا۔
چند ہفتے بعد جب کسی کا پورا چاند نکلا ہو اتھا، یاد رکی اور جاگیر دار ایک بار پھر با نیچے میں ملے اور اکٹھے ہال کی طرف آئے۔ لیڈی فیل کی والدہ سخت بیمار تھیں لہذا وہ اپنے میکے گئی ہوئی تھیں اور سر مجھے گھر میں اکیلے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ پادری کروم رات کا کھاناپر میں کھانے پر با آسمانی رضا مند ہو گیا۔
اس شام سر میتھیو رفاقت کا حق اچھی طرح ادا نہ کر سکے۔ گفتگو زیادہ تر خاندان اور کلیساء کے معاملات کے بارے میں ہوئی اور پھر سر میتھیو نے اپنی جائیداد کے متعلق اپنی خواہشات اور عزائم کی یادداشت تحریر کی جو اتفاق سے بعد میں بڑی مفید ثابت ہوئی۔
جب پادری کردم نے گھر چلنے کا ارادہ کیا تو رات کے ساڑھے نو بج چکے تھے۔ سر میتھیو اور وہ عمارت کے پچھواڑے پختہ گذر گاہ کی طرف مڑے ہی تھے کہ رک گئے۔ جس واقع سے پادری چونک اٹھا وہ یہ تھا: وہ دونوں بلوط کے درخت کے سامنے تھے جس کی شاخیں عمارت کی کھڑ کیوں تک پھیلی ہوئی تھیں۔ سر میتھیو نے اچانک کہا:
یہ کیا چیز ہے جو بلوط کے درخت پر کبھی چڑھ رہی ہے اور کبھی نیچے اتر رہی ہے ؟ گبری تو ہر گز نہیں ہو سکتی، کیونکہ گلہریاں تو اس وقت اپنے ٹھکانوں میں چلی جاتی ہیں۔“
پادری نے اس طرف دیکھا۔ کوئی چیز متحرک تھی، لیکن دو چاند کی روشنی میں اس کا رنگ نہ پہچان سکا تاہم ایک لمحے کے لیے اس نے اس کی بہیت کی جھلک دیکھی جو اس کے ذہن پر ثبت ہو گئی اور وہ حتمی طور پر یہ کہہ سکتا تھا کہ متحرک جاندار ، خواہ وہ گلہری ہو یا کوئی اور چیز، چار سے زیادہ ٹانگوں والا تھا۔
اس کے باوجود وہ دونوں اس منظر سے کسی خاص نتیجے پر نہ پہنچ سکے اور جلد ہی ایک دوسرے سے جدا ہو گئے۔ اس واقعہ کے بعد ان کی ملاقات نہ ہو سکی۔
اگلے دن سر میتھو فیل چھ بجے صبح نیچے نہ اترے، جیسا کہ وہ ہر روز کیا کرتے تھے۔ سات بجے، حتی کہ آٹھر بچ گئے۔ اس پر ملازم او پر گئے اور ان کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ میں یہ تفصیل بیان کرنے کی ضرورت نہیں سمجھتا کہ انہوں نے تشویشناک انداز سے کمرے میں سے کچھ سننے کی کو شش کی اور بار بار در واترے کو زور سے پیتے رہے۔ آخر دروازہ باہر کی طرف سے کھلا اور انہوں
نے دیکھا کہ ان کا مردہ پڑا ہے اور اس کا رنگ سیاہ ہو چکا ہے۔ اتنا سیاہ، جتنا کہ آپ قیاس کر سکتے ہیں۔
جائے واردات پر تشدد کے کوئی آثار نظر نہ آتے تھے۔ البتہ کمرے کی کھڑ کی عملی تھی۔ ایک آدمی مادر ی کو ملا لایا اور پھر اس کی بداعات کے مطابق غیر طبعی موت کی تفتیش کرنے والے افسر کو اطلار یا دینے کے لیے چلا گیا۔ پادری کردم تیزی سے ہال میں پہنچا اور پھر اسے اس کمرے میں لے جایا گیا جہاں لاش پڑی تھی۔ پاور کی نے اپنے کاغذات میں کچھ یادداشتیں چھوڑی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے دل میں سر میتھیو کے لیے کسی قدر مخلصانہ احترام اور اس حادثے پر گہرا افسوس تھا۔ اس کے علاوہ مندرجہ ذیل عبارت بھی ملی جو میں اس خیال سے نقل کر رہا ہوں کہ
اس سے نہ صرف نے کورہ واقعات پر روشنی پڑتی ہے بلکہ اس وقت کے عام اعتقادات بھی منظر عام پر آتے ہیں۔
کمرے میں کسی کے بزور واخل ہونے کی کوئی علامت نہیں پائی جاتی تھی مگر کھڑ کی ضرور کھلی تھی جیسا کہ میرے مرحوم دوست کا اس موسم میں عام طور پر دستور تھا۔ رات کو وہ چاندی کے ایک جام میں تھوڑی سی شراب پیا کرتے تھے۔ لیکن گزشتہ رات انہوں نے جام بالکل خالی نہیں کیا تھا۔ باقی ماندہ شراب کا قریب کے ایک ڈاکٹر مسٹر ہو جکنس سے معائنہ کرایا گیا جس نے تفتیش کرنے والے افسر کی تحقیقات سے پہلے ہی بتا دیا کہ لاش کی سیاہ رنگت اور بدن پھولیے کے پیش نظر ہمسایوں میں زہر کے متعلق چہ نے گوئیاں ہو رہی تھیں۔ میت بستر میں بڑی بے نظمی سے مڑی ہوئی پڑی تھی، جس سے غالباً نہی قیاس کیا جاسکتا تھا کہ میرے لا کی دوست اور عربی کی موت بڑی
اذبیت اور روحانی تکلیف سے واقع ہوئی ہو گی۔ اور جو بات اب بھی وضاحت طلب ہے اور جس سے اس وحشیانہ قتل کا ارتکاب کرنے والوں کے مکروہ اور عیارانہ ارادے کا پتہ چلتا تھا یہ ہے کہ جن دو عورتوں کو میت کے کفن دفن پر مامور کیا گیا تھا، وہ میرے پاس آئیں۔ انہیں ذہنی کوفت کے علاوہ جسمانی تکلیف بھی تھی۔ جو کچھ انہوں نے کہا اس سے میرے پہلے نظریے کی تصدیق ہوتی تھی کہ جو نہی انہوں نے لاش کی چھاتی کو اپنے نگے ہاتھوں سے چھوا ان کی ہتھیلیوں میں درد سا ہونے لگا جو
بڑھتے بڑھتے ان کے بازوؤں تک جا پہنچا۔ تھوڑی ہی و یہ بعد ان کے ہاتھ اور باز و متورم ہو گئے اور درو بھی بڑھتا گیا۔ حتی کہ بعد میں کئی ہفتوں تک جو اپنے فرائض انجام دینے سے قاصر رہیں۔ البتہ ان کی جلد پر کوئی نشان نہ تھا۔
یہ سن کر میں نے ڈاکٹر کو بلا بھیجا، جو ابھی مکان میں تھا اور پھر ہم نے ایک چھوٹے سے آتشی شیشے کی مدد سے جسم کے اس حصہ کا بغور معائنہ کرنے کی کوشش کی مگر اس آنے سے ہم سوائے دو باریک سوراخوں کے جلد پر اور کوئی اہم چیز معلوم نہ کر سکے جن کے بارے میں ہم نے سوچا کہ ان ہی سوراخوں سے جسم میں زہر پھیلا ہو گا۔ ہمیں یاد آیا کہ پچھلی صدی میں اٹلی میں پر اسرار قاتل ایک قسم کی انگوٹھی کی مدد سے مقتول کے جسم میں زہر پہنچایا کرتے تھے۔
یہاں تک تو لاش پر علامات کا ذکر تھا۔ میں اس ضمن میں جو کچھ اضافہ کر رہا ہوں۔ وہ محض میرا ذاتی تجربہ ہے جسے میں آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ کر رہا ہوں تا کہ وہ خود محسوس کریں کہ اس میں کوئی اہمت سے یا نہیں۔ میرے دوست کے بستر کے پاس میز پر ایک چھوٹی تقطیع کی انجیل پڑی تھی جس میں سے مرحوم رات کو اور صبح اٹھ کر کچھ حصہ پڑھا کرتے تھے۔ میں نے اسے اٹھالیا۔ معاًمیرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ اشارہ نہیں معلوم کرنے کی غرض سے مقدس کتاب سے استفادہ کیا جائے کیونکہ بے بی کے ایسے موقعوں پر ہم اس مہلکی سی جھلک کی طرف بھی مائل ہو جاتے ہیں جس سے ہمیں روشن کی امید ہوتی ہے۔ فال نکالنے کے اس قدیم طریق کار کو میں نے آزمانے کا ارادہ کر لیا جس کی ایک بڑی مثال شاہ چارلس اور میرے کرم فرما فاکلینڈ کے واقعہ سے ملتی ہے۔ میں تعلیم کرتا ہوں کہ مجھے اس کوشش سے کچھ زیادہ مدد نہ ملی تاہم میں اس خیالی کے پیش نظر کہ ان خوف ناک واقعات کا اصل باعث بعد میں دریافت ہو جائے گا، نال نکالنے کے تاریخ تحریر کرتا ہوں۔ اس ضمن میں یہ کہنا بجا ہو گا کہ ان سے مذ کو رو واقعہ کی طرف واضح اشارہ ملتا ہے جو د مین افراد فور ابھائپ لیں گے۔
قال نکالنے کے لیے میں نے انجیل کو تین بار کھولا اور کہیں انگلی رکھ کر ان لفظوں کو پڑھا پہلی بار لو قی۔ ۱۳ے کے یہ الفاظ تھے اسے کاٹ ڈالو۔ دوسری دفعہ یسعیاہ ۲۰/۱۳ کی یہ عبارت تھی یہ کبھی آباد نہ ہو گا۔ اور تیسری کوشش سے ایوب ۳۰/۲۹ کی یہ آیت نکلی اس کے بچے بھی خون چوس لیتے ہیں۔”
پادری کردم کے کاغذات میں سے اتنے ہی بیان کا حوالہ ضروری تھا۔ سر میںچھوٹیل کی میت کو مناسب طریقے سے تابوت میں رکھ کر دفن کر دیا گیا۔ انگلی اتوار کو مجلس با تم میں پادری کروم نے جو تقریر کی اسے نا قابل تفتیش راستہ یا انگلستان کا خطرہ اور عیسائیت کے دشمن کی مردہ حرکت” کےعنوان سے چھپوا دیا گیا۔ یہ پادری کا نظریہ تھا، جس سے قرب وجوار کے لوگ بھی متفق تھے کہ جاگیر دار کسی نذر نہی سازش کا شکارہ ہوئے ہیں۔
ان کے بیٹے سر میٹھیو نانی کو خطاب اور جاگیر سے نواز ا گیا اور اس طرح کا سٹر مہم کے ایسے کا پہلا باب ختم ہوا۔ یہاں ایک امر قابل ذکر ہے۔ اگر چہ یہ کوئی تعجب انگیز بات نہیں کہ مئے جاگیر دار صاحب کبھی اس کمرے میں نہیں رہے، جہاں ان کے والد فوت ہوئے تھے نہ کبھی ان کے دور میں کوئی اور ہی رہاں سویا البتہ کبھی کبھار کوئی ملاقاتی یہ کمرہ دیکھنے کے لیے آجاتا تھا۔ ان کی موت ۳۵ ۷اءمیں واقع ہوئی اور ان کے دور اقتدار میں کوئی خاص طور پر اہم واقعہ رونما نہیں ہو سوائے اس کے کہ ان کے مویشی ایک موقع پر ایک ایک کر کے مرتے لگے تھے۔ اور اس میں بتدریج اضافہ ہوتا گیا۔
انہوں نے آخر کار اس کے لیے ایک سادہ سی تدبیر کی یعنی ہدایت کی کہ تمام مویشی رات کو باڑے میں بند کئے جائیں اور کوئی جانور بان یہ میچ میں نہ رہے۔ کیونکہ انہوں نے یہ مشاہدہ کیا تھا کہ بند جانوروں کو کوئی گزند نہیں پہنچتا۔ اس کنند آفت جنگلی پرندوں اور شکاری جانوروں کی طرف ہوتی۔
ہو گئی۔ لیکن ہمیں چونکہ مویشیوں کی بیمار ، الا علامات کی کچھ زیادہ تفصیل نہیں ملی اور راتوں کو جاگ کر جو مزاری کرنے کا نتیجہ بھی خاطر خواہ نہیں نکالا، ابتدا میں اس اسرار میں زیادہ بحث نہیں کرتا جسے سفوک کے کسان کاسٹر ناہم کی بیماری ” کہتے تھے۔
جیسا کہ بیشتر ازیں بیان کیا جا چکا ہے سر میتھیو مانی ۷۳۵ او میں فوت ہو گئے اور پھر ان کے بیٹے سر ریڑھ جانشین ہے۔ ان کے عہد میں علاقے کے گرجے کی شمالی جانب ایک عظیم خاندانی نشست گاہ تعمیر ہوئی۔ جاگیر دار کے منصوبے اتنے وسیع تھے کہ عمارت کے اس رخ پر کئی قیروں کو وہاں سے ہٹا کر ان کی ضروریات کی تسکین کی گئی۔ ان میں مزید رسول کی قبر بھی شامل تھی جس کا محل و قوع پادری کروم کے بنائے ہوئے نقشے سے اچھی طرح واضح تھا۔
جب یہ بات گاؤں کے لوگوں کو معلوم ہوئی کہ مشہور جادو گرنی کی قبر کھودی جائے گی۔ جس کی یاد اب بھی کسی حد تکہ باقی تھی تو ان میں سنسنی کی ایک تیز لہر دوڑ گئی اور جب یہ معلوم ہوا کہ اس کا تابوت مضبوط اور صحیح و سالم ہونے کے باوجود اندر سے خالی تھا اور اس میں اس کی ہڈیوں یا خاک کا کوئی نشان نہ تھا، تو سب بڑے منتخب ہوئے اور واقعی یہ بڑی عجیب بات تھی۔ کیونکہ جب اسے دفن کیا گیا تھا تو یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا کہ کوئی اس تابوت کو یہاں سے ہٹائے گا۔ لاش کو نکالنے کی کوئی معقول وجہ تحریک بھی سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ اگر وہ پھانسی کے بجائے کسی اور طریقے سے
مرتی تو پیر نے پھاڑنے کے لیے ہسپتال لے جانے کی ضرورت ہی پیش آسکتی تھی۔ مگر ایسا نہ ہوا ر ناقہ سے جادو گرنیوں کے مقدمات اور ان کی معرکوں کی تمام کہانیاں کچھ دیر کے لیے کھار گئیں جو چالیس سال سے محو ہو چکی تھیں۔ سر رچرڈ نے حکم دیا کہ تابوت کو جلا دیا
جائے۔ ا ر کر کی جھیل تو ہو گئی لیکن اکثرلوگ اسے ایک معقول باشنہ سمجھتے تھے۔ یہ بات یقینی تھی کہ سر رچرا پسندیدہ قسم کے جدت طراز تھے۔ ان کے اقتدار سے پہلے ہال سرخ اینٹوں کی ایک عمدہ عمارت کی لیکن سر رچہ ڈائی کی سیاحت کر چکے تھے اور اطالوی ذوق سے بے حد متاثر تھے۔ اس کے علاوہ ان کے پاس دولت بھی اپنے آباؤ اجداد کی نسبت زیادہ تھی۔ لہذا انہوں نے انگریزی طرز کے مکان کو ایک اطالوی محل بنانے کا پکا ارادہ کر لیا۔ اینٹوں کو منگریزوں کے
پلستر سے ڈھک دیا گیا۔ ڈیوڑھی اور باغوں میں بے رنگ قسم کے اطالوی سنگ مرمر کا کام کیا گیا۔
جھیل کے کنارے طیوٹی میں واقع سبیل کے گرجے کا نمونہ بنا دیا گیا اور کا سٹر حکیم نے بالکل بھی نئی صورت اختیار کرلی مگر اس کی دلکشی کم ہو کر رہ گئی۔ بعد کے زمانے میں قرب وجوار کے لوگوں نے البتہ اس کی بڑویی تعریف کی اور اسے ایک مثالی عمارت قرار دیا۔
۷۵۴ اور نہیں ایک صبح جب سر رچرڈ جاگے تو رات کی بے چینی سے ان کی طبیعت بڑ کی پراگندہتھی۔ گزشتہ رات ہو اندر سے چلتی رہی تھی اور چونکہ سردی بہت زیادہ تھی اس لیے انہیں آگ جلائے رکھنا پڑی جس سے دھواں بکھر تاریخ اس کے علاوہ کوئی چیز کھڑکی سے اس طرح حکمرانی رہی کہ کسی کے لیے اس کمرے میں ایک لمحے کے لیے بھی سونا دشوار تھا۔ اور پھر اگلے دن کچھ معترز مہمانوں کے آنے کی توقع بھی تھی جو شکار وغیرہ کھیلنے کا پروگرام رکھتے تھے اور چونکہ سر رچرڈ اس ضمن میں خاصی شہرت رکھتے تھے اس لیے وہ قدرے فکر مند ہو رہے تھے۔ لیکن دراصل انہیں اس بات کی زیادہ فکر تھی کہ رات کی نیند حرام ہوئی۔ انہوں نے ارادہ کر لیا کہ وہ اس کمرے میں پھر نہیں سوئیں گے۔
ناشتے کے وقت ان کے غور و فکر کا اہم موضوع نہیں رہا اور اس کے بعد انہوں نے مختلف کروں کا باقاعدہ معائنہ شروع کیا تاکہ دیکھیں کہ کونسا کمرہ ان کے خیال کے مطابق موزوں رہے گا۔ کافی دیر بعد انہیں ایک کمرہ کچھ بچا۔ مگر اس کی ایک کھڑ کی مشرق کی جانب کھلتی تھی اور اس سے دروازے کے سامنے سے نوکروں کی آمد ورفت رہتی تھی۔ وہ اپنا پلنگ اس کمرے میں لانا پسند نہ کرتے تھے وہ چاہتے تھے کہ کمرے کی کھٹر کی مغرب کی جانب کھلتی ہو تا کہ سورج کی کرنیں انہیں صبح سویرے نما نہ جگادیں اور کمرہ باقی مکان سے ذرا علیجہ وہی ہو تو اچھا ہے۔ گھر کی منتظمہ سے رائے کی ہے۔
ر رچرڈ اس نے کہا۔ “آپ جانتے ہی ہوں گے کہ مکان میں ایک ہی کمرہ ہے جو اس قسم کا وہ کونسا ہے ؟ سر رچرڈ نے پوچھا۔ ”سر میتھیو والا ۔ مغربی کمرہ” ٹھیک ہے ، مجھے ادھر لے چلو۔ میں آج رات وہیں سونا چاہتا ہوں۔“ انہوں نے کہا۔ “
کدھر ہے وہ کمرہ ؟ میں دیکھ لوں۔ “اور وہ لا ھر مڑ گئے۔
لیکن سر رچرڈ اس کمرے میں تو چالیس سال سے کوئی بھی نہیں سویا۔ جب سے سر میتھیو فوت ہوئے ، اس کی تو ہوا بھی شاید ہی تبدیل ہوئی ہو۔” یہ کہہ کر وہ ان کے پیچھے ہوئی۔
“آؤ دروازہ کھولو منز چوک میں کمرے کو ایک نظر دیکھ تو لوں۔”
آخر دروازہ کھلا اور واقعی اندر سے عجیب گھٹی ہوئی اور سیلی سیلی یو آئی۔ سریہ چھڈ کھڑکی کی طرف گئے اور جلدی سے چھٹی گراکر کھڑکی کے پٹ کھول دیئے۔ یہ کمرہ مکان کے اس سرے پر تھا
جس میں بہت کم تبدیلیاں ہوتی تھیں اور بلوط کے عظیم درخت سے کسی حد تک چھپا ہوا تھا۔ آج اسے بالکل صاف کر در چنوک اور میر اپلنگ وغیرہ شام سے پہلے ہی یہاں لے آؤ اور کلموں کے پادری کو میرے پرانے کمرے میں ٹھہرا دینا ۔”معاف کیجئے گا سر رچرڈ ایک بنی آواز نے گفتگو کو قطع کرتے ہوئے کہا۔ ”کیا آپ مجھے تھوڑا سا وقت دیں گے ؟”
سر رچرڈ نے مڑ کر دیکھا۔ ایک شخص سیاہ کپڑوں میں ملبوس دروازے میں کھڑا تھا۔ اس نے
چھک کر سلام کیا۔
میں اس بے جا مداخلت پر آپ سے چشم پوشی کی درخواست کروں گا سر رچرڈ۔ آپ نے غالبا مجھے نہیں پہچانا ہو گا۔ میرا نام و نیم کروم ہے اور میرے دادا آپ کے دادا کے دور میں اس علاقے کے پادری تھے۔“
بہت خوب “سمر رچرڈ نے کہا۔ “کروم کا نام ہمیشہ کاسٹر نہم کے لیے ایک پاسپورٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔ مجھے اس دوستی کی تجدید سے خوشی ہے جو تین پشتوں سے قائم ہے۔ میں آپ کی کیا
خدمت کر سکتا ہوں؟ آپ کے انداز سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ بڑی جلدی میں ہیں۔“
” آپ کا قیاس درست ہے جناب۔ میں ناروچ سے آرہا ہوں اور بری سیٹسٹ ایڈ منڈ جانے والا ہوں۔ راہ میں اس لیے ٹھہرا ہوں کہ آپ کو کچھ ضروری کا غذات دیے دوں۔ یہ کاغذات میرے دادا نے چھوڑے تھے۔ میں نے سوچھا کہ آپ شائد ان میں سے کچھ خاندانی نوعیت کے معاملات پڑھنے سے دلچسپی لیں۔”
“آپ کا بہت شکریہ مسٹر کروم اور اگر آپ کچھ دیر توقف کریں تو بیٹھک میں چل کر اکٹھے کچھ ہیں۔ اس اثناء میں ہم دونوں ان کا غذات کو ایک نظر دیکھ لیں گے۔ اور سر چڈوک ، تم اس کمرے کو صاف کرانے کا بندوبست کرو یہ ٹھیک ہے کہ اس کمرے میں میرے دادا فوت ہوئے تھے اور یہ بھی درست ہے کہ اس درخت کے سائے کی وجہ سے جگہ کچھ مرطوب کی ہو گئی ہے
لیکن میں اس قسم کی اور باتیں بننا نہیں چاہتا۔ مہربانی سے مجھے خائف کرنے کی کو شش مت کرو۔ اب تم جاؤ اور جو کچھ میں نے کہا ہے اس پر عمل کرو. کیا آپ میرے ساتھ آئیں گے
جناب؟
وہ دونوں مطالعہ گاہ میں پہنچے۔ نوجوان مستر کروم جو پلندہ لائے تھے۔ اس میں مرحوم پادری نے سر میتھیو فیل کی موت کے بارے میں بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا۔ اور سر رچرڈ کو پہلی بار انجیل سے فال نکالنے کے معاملے سے سابقہ پڑا جس کا حال آپ پڑھ چکے ہیں۔ ان باتوں میں انہوں نے خاصی دلچسپی لی۔
ہاں تو انہوں نے کہا۔ ” میرے دادا مر حوم کی انجیل نے بڑی عمدہ نصیحت کی ہے اسے کاٹ ڈالو ۔ اگر اس کا اشارہ بلوط کے درخت کی طرف ہے تو انہیں مطمئن رہنا چا ہیے کہ میں اس کام کو
نظر انداز نہیں کروں گا۔ ایسانہ لے اور بخار کا گھر تو کبھی دیکھنے میں نہ آیا ہو گا۔“
بیٹھک میں کئی خاندانی کتابیں موجود تھیں جو تعداد میں بہت زیادہ نہیں تھیں۔ سر رچرڈ نے اٹلی میں ایک ذخیرہ جمع کیا تھا۔ مگر ان کے لیے ایک خاص کمرہ بنانے کے پروگرام پر تاحال عمل نہیں ہوا تھا۔
سرو پرڈنے کا غذات سے نظر اٹھا کر کتابوں کی الماری کی طرف دیکھا۔
کے انہوں نے کہا۔ ” آمادہ برانی پیشین گوئی اب بھی نہیں ہے یا نہیں۔ میرا خیال ہے کہ وہ اب بھی ہمیں کچھ بتا سکتی ہے۔”
ود اٹھے اور ایک تعمیم انجیل نکال لائے جس کے سرورق پر اب بھی تحریر تھا۔ میتھیو فیل کیلئے ، اس کی پیار کرنے والی ویٹی ماں ، این آلاس کی طرف سے ۲ تمبر ۱۹۵۹ء “
اسے اگر پھر آزمایا جائے تو کیسا ہے ، مسٹر کروم ؟ لیجئے میں اسے کھولتا ہوں۔ ہوں ! یہ کیا نکلا ہے ؟ تو صبح کو مجھے تلاش کرے گا لیکن میں نہیں ہوں گا۔ بہت خوب! آپ دادا اس سے بڑی محمد و فال لیتے۔ ٹھیک ہے نا؟ لیکن مجھے کسی فال کی ضرورت نہیں ! یہ سب قصہ کہانی کی باتیں ہیں۔
بہر حال مسٹر کردم ، میں ان کا غذات کے لیے آپ کا شکر گزار ہوں۔ مجھے خیال ہے کہ آپ جلدی جانا چاہتے ہیں۔ اجازت دیجئے کہ آپ کو ایک گلاس اور پیش کروں۔”
اس قسم کی مہمان نواز فضا میں جو واقعی بے لوث تھی کیونکہ سر رچرڈ نوجوان مہمان کے مرتبے اور حقوق سے واقف تھے ) وہ ایک دوسرے سے وداع ہوئے۔سہ پہر کو متوقع مہمان آگئے جن میں کلمور کا پادری لیڈی میری ہرونی سر ولی کی فیلڈ وغیرہ
شامل تھے۔ پانچ بجے شام کا کھانا ہوا۔ پھر شراب تاش اور رات کے ہلکے طعام کا دور چلا اور سب مونے کے لیے منتشر ہوگئے۔
اگلی صبح سر رچرڈ نے سب کے ساتھ اپنی بندوق اٹھانے سے متامل کیا۔ وہ کلمنور کے پادری سے گفتگو کرتے رہے۔ یہ پادری اپنے زمانے کے کئی آئرستانی پادریوں کے بر عکس اس علاقے کی میر کر چکا تھا اور کافی عرصے تک قیام بھی کر چکا تھا۔ اس صبح جب دونوں باغیچے کی گذرگاہ پر مہلتے ہوئے مکان کی ترمیم اور تبدیلی کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے تو پادری نے مغربی کمرے کی کھڑکی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:
” آپ میرے آئرستانی گروہ میں سے کسی بھی شخص کو اس کمرے میں سونے پر آمادہ نہیں کر سکتے ، سر رچوڈ۔”
یہ کیسے ہو سکتا ہے ، میر محترم ؟ یہ تو میر اکر د ہے۔”
خوب لیکن ہمارے آئرستانی دہقان تو ہمیشہ یہی سمجھتے ہیں کہ بلوط کے درخت کے قریب سونا محرومت لاتا ہے اور آپ کے قریب تو خوب پھولا پھلا ہو اہلوں کا درخت ہے جو آپ کے کمرے کی کھڑکی سے ہمشکل دو گز کے فاصلے پر ہو گا۔ شاید پادری نے مسکرا کر کہا۔ یہ آپ کو اپنی عفت کا کرشمہ پہلے ہی دکھا چکا ہو گا کیونکہ آپ کی حالت سے ظاہر ہو رہا ہے کہ آپ گزشتہ رات کی نیند کے بعد ترو تازہ نظر نہیں آرہے ، جیسا کہ آپ کے دوست آپ کو دیکھنا پسند کرتے ۔ “
ہاں کچھ ایسی ہی بات ہے جناب، میں بارہ بجے سے غائبا چار بجے تک ہی سویا ہوں گا۔ لیکن یہ درخت کل ضرور کٹ جائے گا، لہذا مجھے اس کے متعلق کچھ اور سنتا ہی نہیں پڑے گا۔ “
ر مجھے آپ کا ارادہ معلوم کر کے خوشی ہوتی ہے۔ تازہ ہوا تو اتنے گنجان بتوں سے چھن کر مشکل ہی سے آسکتی ہے۔ اور آپ یہاں سانس لیتے رہے ہیں۔”
آپ بجا فرماتے ہیں، جناب۔ لیکن گزشتہ رات تو میں نے یہ کھٹر کی بند ہی رہنے دی تھی۔ کچھ شور سا ہو تا رہا جس سے مجھے نیند نہ آئی۔ شاید شہنیاں کھڑکی کے شیشوں سے ٹکراتی رہیں۔”
میرا خیال ہے کہ ایسا نہیں ہوا ہو گا سر رچہ ڈ۔ یہاں سے دیکھئے۔ قریب ترین شاخیں بھی آپ کی کھڑکی سے نہیں چھو سکتیں تاوقتیکہ آندھی نہ چل رہی ہو اور گذشتہ رات ایسی کوئی بات نہ تھی یہ شانھیں کم از کم ایک ٹے پڑے رہتی ہیں۔”
نہیں تو الیکن ٹھیک ہے جناب۔ تو پھر وہ کیا چیز او سکتی ہے جس نے کھٹر کی پر خراشیں ڈالیں اور اسے کھٹکھٹایا اور کھڑکی کی چوکھٹ پر دھوٹی ڈالی جس پر لکیریں اور نشان ہیں ؟”
آخر کار دونوں اس بات پر متفق ہو گئے کہ جو ہے عشق پیچان کی میل کے ذریعے اوپر چڑھ آئے ہوں گے۔ یہ پادری کا خیال تھا جس پر سر رچر ڈا چھل پڑے۔
دن بڑے آرام سے گزرا اور رات ہوئی۔ سب لوگ سر رچو ڈ کو شب بخیر کہہ کر اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے۔
اور اب ہم ان کے سونے کے کمرے میں ہیں۔ روشنی بجھ چکی ہے اور دو اپنے بستر میں ہیں۔
چونکہ یہ کمرہ باورچی خانے کے اوپر ہے، اور با ہر ہوا سا کن اور گرم ہے اس لیے کھڑکی کھلی ہے۔ پلانگ کے قریب بہت ہی کم روشنی ہے۔ لیکن وہاں ایک عجیب سی حرکت ہو ر تی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے
کہ سر زچہ ڈ اپنا سر تیزی سے ادھر ادھر ہما ر ہے ہیں اور یہ جسم کی آواز آرہی ہے۔ نیم تاریکی اس قدر مغالطہ خیز ہے کہ آپ اب یہ قیاس کریں گے کہ ان کے کئی سر ہیں پھول اور بھورے جو پیچھے اور آگے کی طرف ، حتی کہ نیچے ان کی چھاتی کی جانب حرکت کر رہے ہیں۔ یہ منظر بڑاوہ شناک ہے۔
کیا یہ کوئی اور چیز تو نہیں ہے ؟ یہ لیجئے کوئی چیز نیچے فرش پر ہلکی سی آواز کے ساتھ گری، جیسے بلی کودتی ہے، اور تیزی سے کھڑکی کے راستے باہر نکل گئی۔ پھر اسی طرح ایک اور حتی کہ چار …
اور پھر خاموشی چھا گئی۔
تو صبح کو مجھے تلاش کرے گا۔ لیکن میں نہیں ہوں گا۔”
سر مجمع کی طرح سر رچرڈ بھی اپنے بستر میں مردہ اور سیاہ پائے گئے!
جب یہ خبر پھیلی تو زرد رو اور خاموش مہمان اور ملازم کھڑکی کے نیچے جمع ہو گئے۔ جتنے منہ اتنی باتیں، قیاس آرائیوں میں اطالوی زہر خوران، پوپ کے سازشی اور گندی ہو ا و غیرہ کا ذکر آیا۔
کلمور کے پادری نے درخت کی طرف دیکھا، جس کے نچلے حصے میں ایک دو شاخ پر ایک بلی جھکی ہوئی درخت کے تنے میں بنے ہوئے سوراخ میں جھانک رہی تھی، جیسے وہ درخت کے اندر کسی چیز کو بڑی دلچسپی سے دیکھ رہی ہو ۔
راد ایک روا تھی اور گردن مزید آگے بڑھائی اتفاقا تے کی چھال کا وہ حصہ جس پر وہ کھڑی تھی۔ بوسیدہ ہونے کی وجہ سے گر گیا اور اس کے ساتھ ہی بلی بھی پھسل کر اس سوراخ میں جا پڑی۔
کرنے کی آواز سن کر ہر شخص نے اوپر کی طرف دیکھا۔
ہم میں سے اکثر لوگ یہ جانتے ہیں کہ بلیاں روتی ہیں لیکن میرا خیال ہے کہ جیسی آواز بلوط کے منے سے آئی بہت ہی کم لوگوں نے بنی ہوگی۔ دو یا تین تیز چیخوں کی آواز سنائی دی اور ایسا معلوم ہوا جیسے کوئی گتھم گتھا ہو رہا ہو۔ لیڈی میری ہروی کو تو وہیں خش آگیا اور گھر کی منتظمہ اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ کر بھاگی لیکن با نیچے کی گزر گاہ تک پہنچ کر گر پڑی۔
کلمور کا پادری سرولیم کی ٹھمانڈو میں کھڑے رہے۔ اگر چہ یہ صرف ایک ملی کے بیٹے کی آواز تھی۔ اس کے باوجود وہ بھی کسی حد تک ہم سے گئے تھے۔ سرولیم نے دو ایک دفعہ جیسے کچھ لگنے کی:
کوشش کی اور کہا:
معلوم ہوتا ہے کہ اس درخت کے اندر ہمارے عمل سے کچھ زیادہ ہی اہم معاملہ در پیش ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اس کا پتہ چلاؤں۔”
اور وہ اس پر متفق ہو گئے۔ ایک میٹر کی لائی گئی اور ایک مالی نے اس پر چڑھ کر نیچے سوراخ میں جھانکا۔ لیکن اسے صرف اتنا ہی نظر آیا کہ کچھ ہل رہا ہے۔ ایک لائین منگوائی گئی تاکہ اسے ایک رہی سے درخت کے کھوکھلے تنے میں لٹکایا جائے۔
ہمیں اس کھوہ کی تہ میں دیکھنا چاہیے۔ میری زندگی بے شک چلی جائے میرے آقا ملیکن ان د ہشت ناک موتوں کا نہ از ضرور نہیں ہے۔“
مانی لائین لے کر پھر میٹر تھی پر چڑھا اور اسے بڑی احتیاط سے سوراخ میں لٹکانے لگا۔ وہ سوراخ پر جھکا۔ زرد روشنی اس کے چہرے پر پڑرہی تھی۔ اچانک اس کے چہرے پر دہشت ذکر اہت کے آثار نمودار ہوئے اور وہ خوفناک آواز سے چینچتا ہوائیر ھی سے گر پڑا خوش قسمتی سے دو آدمیوں نے اسے دبوچ لیا۔ لالٹین چھوٹ کمر درخت کے سوراخ میں گر گئی۔
بے حد خوفزدہ ہو گیا تھا۔ کافی دیر تک اس کے منہ سے ایک بھی لفظ نہ نکل سکا۔ اتنے میں انہوں نے ایک اور چیز دیکھی۔ لائین عالما گرتے ہی ٹوٹ گئی تھی ، جس سے اندر پڑے سوکھے پتوں کو آگ لگ گئی۔ چند منٹ بعد سیاہ و ھواں اوپر اٹھتا ہو او کھائی دیا اور پھر شعلے نیپکنے لگے۔ آگ کے شعلوں نے بلوط کے درخت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
تماشائیوں نے کچھ فاصلے پر رہتے ہوئے ایک بے ترتیب سا حلقہ بنا لیا۔ سرولیم اور پادر کی نے چند آدمیوں کو بھیجا کہ وہ کچھ ہتھیار وغیرہ لے آئیں کہ آگ سے مجبور ہو کر درخت کے اندرونی جھٹ سے لگنے والے موڈیوں کے خلاف استعمال کئے جا سکیں۔ اور ایسا ہی ہوا۔ پہلے تو درخت کے دو شاخ پر انہیں آگ سے لیٹی ہوئی ایک گول سی نیز نظر سے واپس کر پڑی۔ اس طرح پانچ چھ مرتبہ یہ عمل دھر لیا گیا۔ پھر ایک اس قسم کا گیند ساہوا میں اچھلا اور گھاس پر آرہا۔ جہاں وہ ایک لمحے کے بعد ہی ساکت ہو گیا۔ پادری نے ہمت سے کام لے کر اس کے قریب تر جا کر دیکھل۔ ایک عظیم الحسیہ زہر ملی مکڑی کا پر مردہ لاشہ تھا جب ذرا آگ دھیمی ہوئی تو اس قسم کے اور بھی کئی دہشت ناک جسم بلوط کے درخت کی کھود سے نکلنے شروع ہوئے۔ ان کے بانی بھورے تھے۔
سارادن درخت جلتا رہا اور لوگ اس کے گرد کھڑے رہے۔ وقتا نو قتایا ہر نکلنے والی مکڑیوں کو مار دیا جاتا۔ حتی کہ ان کا سلسلہ بند ہو گیا اور انہوں نے پاس جا کر درخت کی جڑوں کا احتیاط سے جائزہلمیا۔
کلمور کے پادری کا کہنا ہے کہ اس کے نیچے زمین میں ایک گہر اگڑ ھا تھا جہاں اسی قسم کے تین چار لاشے پڑے تھے جن کی موت غالباً دھوئیں سے گھٹ کر واقع ہوئی تھی۔ اور جس چیز سے زیادہ تعجب ہو اور یہ تھی کہ گڑھے میں ایک طرف ایک انسانی ڈھانچہ جھکا ہوا کھڑا تھا جس کی ہڈیوں پر سوکھی ہوئی جلد مڑھی تھی اور کچھ سیاہ بال بھی نظر آرہے تھے۔ اس ڈھانچے کا معائنہ کیا گیا تو پتہ چلا کہ وہ ایک عورت کا جسم تھا۔ اور یہ بھی ظاہر ہوتا تھا کہ اس کی موت پچاس سال پیشتر ہوئی تھی۔
