قسط وار ناول
وہ گھر سے ہاسٹل جانے کے لیے نکلی تھی تو بارش کے قطعی آثار نظر نہیں آ رہے تھے ۔ اگر چہ بادلوں کی کچھ آوارہ ٹکڑیاں آسمان پر منڈلا رہی تھیں مگر وہ برسنے کے موڈ میں نہیں لگ رہی تھیں۔ اماں نے کہا بھی کہ شفیق (ڈرائیور) کا انتظار کر لو مگر اس خیال سے کہ کہیں ٹرین نہ چھوٹ جائے وہ آن لائن کیب کروا کر اسٹیشن چلی آئی۔ ابھی اپنا چھوٹا سا ٹرالی بیگ گھسیٹتی ہوئی سیڑھیاں چڑھ رہی تھی جب رم جھم شروع ہوگئی۔ وہ تیزی سے ایک بینچ کی طرف بڑھی جس پر پلاسٹک شیٹ کی چھت تھی۔ اس نے اپنے بال اور کپڑے جھاڑے۔ اپنا بیگ بنچ کے نیچےسر کایا اور خود ذرا آرام سے بیٹھ گئی۔ ٹرین آنے میں ابھی کچھ وقت تھا۔ اسٹیشن پر وہی مخصوص گہماگہمی تھی۔ سامان اٹھائے ادھر ادھر دوڑتے بھاگتے مسافر اور آوازیں لگاتے چھابڑی فروش۔ پچھلے دو سالوں سے ٹرین کے ذریعے گھر سے ہوسٹل اور ہوسٹل سے گھر آتے جاتے وہ ان نظاروں کی عادی ہو چکی تھی۔ ابھی بھی وہ غیر دلچسپی سے ادھر ادھر دیکھ رہی تھی۔ سامنے سے ایک خوش باش سامان سے لدی پھندی فیملی اس جانب چلی آئی۔ دو ادھیڑ عمر کے مرد او عورت غالباً میاں بیوی تھے اور ان کے پیچھے پیچھے ایک صحت مندی نوجوان لڑکی چلی آرہی تھی۔ اس نے ایک تقریباً تین چار سال کی بچی کا ہاتھ تھام رکھا تھا اور ایک گپلو سا چھوٹا بچہ گود میں اٹھا رکھا تھا۔ ارے بیٹا ذرا اسی جگہ دینا۔ ادھیڑ عمر کی خاتون تو آتے ہی اس کے پاس بینچ پر ڈھے سی گئی۔ ہائے اللہ ! میں تو بہت تھک گئی۔ اتنی تو سیڑھیاں چڑھنی پڑتی ہیں ۔ وہ بری طرح سے ہانپ رہی تھیں۔ ان کے میاں نے تو اپنے ساتھ لائے ایک بڑے سارے بیگ کو سیدھا کیا اور اس پر تشریف فرما ہو گئے ۔ اس نے مزید سرک کرلڑکی کے لیے بھی جگہ بنائی۔ نہیں سسٹر میں کھڑی ہی ٹھیک ہوں۔ اگر بیٹھ گئی تو منا رونا شروع کر دے گا۔ لڑکی خوش دلی سے مسکرائی۔ ارے گڈو کے ابا اتم تو بیگ پر ہی بیٹھ گئے۔ اس میں میرے کانچ کے گل دان رکھے ہیں، وہ ٹوٹ جائیں گے۔ خاتون کے حواس بحال ہوئے تو ان کی نظر اطمینان سے بیگ پر تشریف فرما اپنے میاں پر پڑی تو وہ چیخ اٹھیں ۔ نہیں اماں ! گل دان تو دوسرے بیگ میں رکھے ہیں۔ لڑکی نے ان کو تسلی دی۔ بیٹی تم کہاں جارہی ہو؟ اب خاتون نے اس کی جانب اپنا رخ کیا۔ وہ چشمے کی اوٹ سے اسے ٹولتی نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔ آنٹی میں لاہور جارہی ہوں۔ اچھا! ہم بھی لاہور جارہے ہیں۔ وہ سب الرٹ ہو گئے۔ چھک چھک انجن پلیٹ فارم کی جانب آ رہا تھا۔ پھر بو گیاں پلیٹ فارم سے آلگیں۔ شور و غل مزید بڑھ گیا۔
لڑکی کے دونوں بچوں نے گھبرا کر رونا شروع کر دیا۔ بچی تو چیخیں مار کر اس کی ٹانگوں سے لپٹ گئی۔ وہ شاید پہلی بار ٹرین میں سوار ہو رہی تھی۔پلیز آپ ذرا منے کو پکڑنا۔ میں اسے لے کر چڑھتی ہوں تو لڑکی نے اپنا بچہ اس تھمایا وہ اپنے ٹرالی بیگ کو گھسیٹی احتیاط سے بچے کو گود میں لیے ڈبے کے اندر گھس گئی۔ باقی سب بھی اس کے ساتھ سوار ہونے لگے۔ ابھی وہ کسی خالی سیٹ وغیرہ کی تلاش میں ادھر ادھر دیکھ رہی تھی جب اسے اپنی پشت پر ایک بھاری سی مردانہ آواز سنائی دی محترمہ ! آپ کے بچے کا ایک جو تا نیچے گرا ہوا تھا۔اس نے پلٹ کر دیکھا تو جینز شرٹ میں ملبوس ایک لمبا ترنگا سا لڑکا ایک چھوٹا سا جوتا اس کی طرف بڑھا رہا تھا۔ اس کی نظر بچے کے پاؤں پر پڑی۔ ایک جو تا واقعی غائب تھا۔ وہ بری طرح جھینپ گئی ۔ شکریہ بھیا! یہ ان کا نہیں میرا بچہ ہے۔ اس کے پیچھے سوار ہوتی اسی لڑکی نے جوتا اس لڑکے کے ہاتھ سے لیتے ہوئے کہا اور ساتھ ہی اپنا منا بھی اس کے کندھے سے اتار کر اپنی گود میں منتقل کر لیا۔ تمہارا بھی شکریہ بہن وہ سامنے والی بینچ خالی پڑی ہے۔ وہیں چلتے ہیں ۔ اب شرمندہ ہونے کی باری لڑکے کی تھی۔ وہ اپنا بیگ سنبھالتا آگے بڑھ گیا۔ تھوڑی دیر بعد وہ سب سیٹ ہو کر بیٹھ چکے تھے۔ وہ لڑکی کے ساتھ ونڈو سائیڈ پر بیٹھ گئی۔ وہ دونوں میاں بیوی سامنے والی دو نشستوں پر قبضہ جما چکے تھے۔ جینز شرٹ والا لڑ کا دائیں جانب ایک سنگل سیٹ پر براجمان ہو گیا۔ ٹرین نے اب آہستہ آہستہ رفتار پکڑنی شروع کر دی تھی۔ بارش کی پھوار کھڑکی کے راستے اندر تک آرہی تھی ۔ اس کا دوپٹہ بھیگتا جا رہا تھا۔ اس نے گرل نیچے کرنی چاہی مگر وہ پورا ز ور لگا کر بھی اسے ایک انچ نہ سر کا سکی۔ محترمہ ایہ فکس ہوتی ہے۔ آپ صرف شیشہ نیچے کرسکتی ہیں ۔ اس کو گرل سے نبرد آزما دیکھ کر لڑکے نے نرمی سے ٹو کا۔ اس نے شیشہ نیچے گرایا۔ اور بیگ سے اپنا موبائل نکال لیا۔ بیگم تم چائے تو لائی تھیں نا فلاسک میں ۔ وہ پی لیتے ہیں ۔ میاں صاحب نے فرمائش کی۔ ابھی تو رحیم یار خان گزرا ہے گڈو کے ابا۔ بہاول پور جا کر پیئیں گے ۔ عورت نے ترنت میاں کی فرمائش رد کر دی۔ مگر بہاولپور آنے میں تو ابھی تین گھنٹے ہیں۔ تب تک تو چائے ٹھنڈی ہو جائے گی۔ بڑے میاں کی شاید چائے کے لیے طبیعت مچل رہی تھی۔ اچھا ابا ! میں فلاسک نکالتی ہوں ۔ لڑکی نے ایک بار پھر اپنا منا اس کی گود میں ڈالا اور برتن نکالنے گئی۔ مرد اور عورت کو چائے کے کپ دینے کے بعد اس لڑکی نے اس کی جانب بھی ایک چھوٹا سا مگ بڑھایا۔ یہ لو سسٹر ، انعم ! اس نے دھیرے سے اپنا نام بتایا اور ساتھ ہی انکار میں سر ہلا دیا۔ ارے نہیں ! میں اس وقت چائے بالکل نہیں پیتی ۔ اس نے وہی مگ لڑکے کی جانب بڑھا دیا۔ اس نے شکریہ کہہ کر کچھ جھجکتے ہوئے تھام لیا۔ اب وہ اس کی جانب وزدیدہ نظروں سے دیکھتے ہوئے کپ کو ہاتھوں میں لیے بیٹھا تھا۔ بے فکر ہو کر پیئیں ! ہم نے اس میں کچھ نہیں ملایا ۔ لڑکی ہنس کر بولی تو لڑکا جلدی جلدی چائے کے گھونٹ لینے لگا۔ اور وہ اپنی جگہ چورسی بن گئی۔ پھر اس نے بڑے میاں کی جانب دیکھا وہ مزے سے چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے باہر کے نظاروں کا لطف لے رہے تھے۔ انہوں نے اپنی جیب سے بسکٹ کا ایک پیکٹ بھی برآمد کر لیا تھا اور اب وہ چائے میں پیکٹ ڈبو ڈبو کر کھاتے ہوئے کتنے خوش اور آسودہ سے نظر آرہے تھے۔ اس نے ایک گہری نظر ان پر ڈالی۔ اس کے دل میں ایک ہوک سی اٹھی۔ بے اختیار اس کی ذہنی رو بھٹک کر اپنے ابا کی طرف چلی گئی۔ وہ بھی یونہی ٹرین کے سفر میں کھانے پینے کے بے حد شوقین تھے۔ ایک دو بار اس نے بچپن میں ان کے ہمراہ سفر کیا تھا یہ دھندلی دھندلی سی چند یادیں باقی تھیں۔ وہ فراٹے بھرتی ٹرین اور کھانے پینے میں مشغول شفیق چہرے والے اس کے ابا۔ اب تو نجانے کیسے تھے ؟ کس حال میں تھے ؟ کافی عرصے سے ان کے ساتھ کوئی رابطہ ہی نہیں رہا تھا۔ در اصل اس کے بچپن میں ہی اس کے اماں ابا کی طلاق ہو گئی تھی۔ وہ اماں کے ہمراہ نانی کے گھر میں رہتی تھی۔ طلاق کے بعد اس کی ماں شدید ڈپریشن میں چلی گئی تھی۔ ان کے دل میں یہ خوف بیٹھ گیا تھا کہ ابا اسے ان سے چھین لیں گے۔ وہ ہمہ وقت اسے خود سے لپٹائے رکھتیں۔ ابا اس سے ملنے آتے تو انہیں غش آجاتا۔ ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو جاتے ۔ وہ اسے خود سے چمٹالیتیں ۔ نانی بامشکل الگ کر کے ابا سے ملنے کے واسطے گلی میں بھیج دیتیں۔ پھر ابا نے بھی دوسری شادی کر لی۔ ان کا آنا کم ہو گیا۔ نانی اکثر جتاتیں۔ دیکھ لو تمہارے باپ نے تو جھٹ بیاہ رچا لیا مگر ماں نے تم پر اپنی جوانی وار دی ۔وہ ابا سے اور بھی متنفر ہو جاتی وہ فون کرتے تو سرد مہری سے بات کرتی ۔ ابا اس کے خرچ کے واسطے کچھ رقم بھی بھجواتے تھے۔ ان ماں بیٹی کو ان معمولی روپوں کی کچھ خاص ضرورت نہ ہوتی کیونکہ انہیں نانی کی پینشن اور نانا کے اثاثوں کا بڑا آسرا تھا۔ پھر ابا کے فون بھی کم سے کم ہوتے گئے۔ گرما گرم پکوڑے گرما گرم پکوڑے لے لوجی مزیدار پکوڑے۔ وہ ہڑ بڑا اٹھی۔ ٹرین بہاول پور اسٹیشن پر کھڑی تھی۔ بارش ہنوز ہو رہی تھی۔ بھائی پکوڑے تازہ ہیں۔ خاتون نے اشتیاق سے پوچھا۔ جبکہ لڑکی سوتے ہوئے اپنے دونوں بچوں کو گود میں لیے خود بھی اونگھ رہی تھی۔ ہاں خالہ جی بالکل تازہ اور خستہ ہیں۔ پکوڑے والا لپک کر آیا۔ سوندھی سوندھی سی مہک ہر طرف پھیل گئی۔ عورت نے پکوڑے خرید لیے۔ لو بیٹا ! چکھو تو سہی، کیسے ہیں ؟ عورت نے شاپر اس کی جانب بڑھایا۔ شکریہ انٹی اس نے ایک پکوڑا اٹھایا۔ پہلے وہ چائے کے لیے انکار کر چکی تھی۔ اس لیے اب اسے منع کرنا اچھا نہیں لگا۔ عورت نے پھر وہی شاہرلڑکے کی جانب بڑھایا۔ لڑکے نے بھی تھینک یو انٹی ! کہتے ہوئے دو پکوڑے اٹھائے اور اسے مسکراتی نظروں سے دیکھتے ہوئے کھانے لگا۔ اس نے گھبرا کر جلدی سے پکوڑا منہ میں ڈالا – اف توبه اس کے چودہ طبق روشن ہو گئے۔ اس نے پکوڑے کے ساتھ ہری مرچ بھی کھائی تھی۔ ہوسٹل کے پھیکے کھانے کھا کھا کر مرچ مسالے کی تو عادت ہی نہیں رہی تھی۔ ہری مرچ تو اسے ویسے بھی بہت چھبتی تھی۔ برا حشر ہو گیا۔ آنکھوں سے پانی بہنے لگا منہ لال ٹماٹر سا سرخ ہو گیا۔ پانی کی بوتل خالی پڑی تھی۔ لڑکے نے جلدی سے ایک چھوٹی سی پانی کی بند بوتل اس کی جان بڑھائی۔ وہ انکار کرنے کی پوزیشن میں نہ تھی۔ اس نے غٹاغٹ ساری بوتل چڑھائی۔ کچھ حواس بحال ہوئے۔ عورت پکوڑے کھاتے ہوئے تبصرہ فرمارہی تھی۔ ایسے ہوتے ہیں پکوڑے کیا !! سادہ بیسن میں نمک مرچ کھول دیا۔ ارے پکوڑے تو میں بناتی ہوں۔ اتنے سارے لوازمات ڈلتے ہیں ۔ ہرا مسالہ، ہر الہسن، تازہ پودینے کی چٹنیاں، پالک، آلو، بند گوبھی باریک کٹی ہوئی سوکھا دھنیا، انا ر دانہ املی کا گودا اور … بس بیگم بس اتنی مہنگائی میں اتنے ڈھیرلوازمات ڈالنا بہت مشکل ہے۔ سادہ آلوبیسن پرہی گزارا کرو۔ لڑکے کے چہرے پر مسکراہٹ رینگ گئی۔ آنٹی آپ شاید پکوڑے بہت شوق سے کھاتی ہیں۔ انعم شائستگی سے پوچھنے لگی۔ ہاں بیٹا مگر اب تو صرف ساون رت میں کھاتی ہوں۔ ڈاکٹر نے بلڈ پریشر کی وجہ سے زیادہ کھانے سے منع کر رکھا ہے۔ اور تم بیٹا لاہور کس کے پاس جارہی ہو ؟ آنٹی ! میں تو اپنے ہوسٹل جا رہی ہوں ۔ اچھا! تو پڑھتی ہو وہاں؟ وہ کچھ سوچ کر بولیں۔ جی آنٹی لاہور یونیورسٹی میں بی ایس فائن آرٹس کی اسٹوڈنٹ ہوں ۔ اس نے ان کی تسلی کے لیے تفصیل سے جواب دیا۔ سامنے بیٹھا لڑکا بے زاری سے اپنے موبائل کو دیکھ رہا تھا ۔ محترمہ آپ کے پاس کوئی بک ہوگی۔ میرے موبائل کی بیٹری ڈیڈ ہو چکی ہے۔ وہ اچانک انعم سے مخاطب ہو کر بولا ۔ اللہ کرے نوجوان نسل کے تمام موبائلوں کی بیٹریاں ہمیشہ کے لیے ڈیڈ ہو جائیں تاکہ وہ کسی طرح کتاب کی جانب تو مائل ہوں۔ بڑے میاں بڑبڑائے۔ اس کے پاس مستنصر حسین تارڑ کا ایک سفر نامہ موجود تھا۔ اس نے جلدی سے وہی بیگ سے نکال کر لڑکے کی جانب بڑھا دیا مبادا بڑے میاں کوئی کتاب وغیرہ نہ ہونے پر اسے بھی چار باتیں سنا دیں ۔ ٹرین اب تیزی سے ملتان سے ہوتی ہوئی لاہور کی جانب محو سفر تھی۔ نجانے کیسے بیٹھے بیٹھے اس کی آنکھ بھی لگ گئی پھر جب لاہور آیا تو ٹرین ایک جھٹکے سے رکی۔ لڑکی کے دونوں بچوں نے ایک ساتھ رونا شروع کر دیا۔ وہ بھی ہڑ بڑا کر اٹھ گئی۔ سب ہی اپنا اپنا سامان سمیٹ رہے تھے۔ اس نے بھی اپنا ٹرالی بیگ نکالا۔ ایک افراتفری سی مچی تھی۔ دروازے کے قریب بہت رش تھا۔ وہ عورت اور لڑکی کے ہمراہ راستہ صاف ہونے کا انتظار کر رہی تھی جب اس لڑکے نے شکریہ کہ کر اس کی کتاب لوٹائی پھر اس پر ایک گہری الوداعی نظر ڈال کر اپنا بیگ سنبھالتا ہوا تیزی سے باہر نکل گیا۔ اس فیملی کو تو ان کے رشتے دار لینے آئے تھے۔ عورت اور لڑکی دونوں گرم جوشی سے اسے خدا حافظ کہتے ہوئے رخصت ہوئے اور اس نے ست قدموں سے ٹیکسی اسٹینڈ کا رخ کیا۔
