کنواری_ماں
بچے یہ کہانی نہ پڑھیں
(یہ ایک سچی کہانی ہے۔ اسی وجہ سے اس کہانی میں کچھ نازیبا الفاظ استعمال کئے گیے ہیں ۔ برائے کرم کہانی کے مقصد کو سمجھیں اور ان نا زیبا الفاظ کو اگنور کریں)
سمیہ ایک 14,15 سال کی لڑکی اپنے سر پر پانی بھرا مٹکا لیئے ۔ ایک ہاتھ میں کچے کیلے اور دوسرے ہاتھ میں کچھ جڑی بوٹیاں لیئے اپنی سوچ میں مگن چلی جا رہی ہے۔ دھوپ کی تپش سے سمیہ کا دودھ جیسا چہرہ سر خ پڑ گیا ہے۔ اور نیلی آ نکھیں چندیا گئ ہیں۔۔۔۔
چلتے چلتے ایک نالے کے کنارے واقع کچھ جھونپڑیاں ہیں۔ ان میں سے ایک جھونپڑی میں داخل ہوتی ہے۔۔۔۔
آ پی۔ ۔۔۔۔ کیسی ہیں آ پ۔۔۔ ؟ اپنے سر سے پانی کا مٹکا اتارتے ہوئے
سمیہ اپنی بہن سے پوچھتی ہے۔ اس کی بڑی بہن غزالہ ہے۔ جوکہ آدھے بدن سے جل چکی ہے۔۔ پھٹے پرانے پستر پر لیٹے ہوئے۔۔غزالہ کہتی ہے۔۔ ٹھیک ہے ۔۔۔
سمیہ غزالہ کے پاس جا کر بیٹھ جاتی ہے۔ اور جڑی بوٹیاں غزالہ کے بدن پر ملنے لگتی ہے ۔
بہت درد ہو رہا ہے آ پی؟
ہاں۔۔۔۔۔۔ تم یہ اتنی مہنگی جڑی بوٹیاں کہاں سے لائ اتنے پیسے کہاں سے آئے تمہارے پاس ؟
سمیہ جواب دیتی ہے۔۔ بنیا کے 40 مٹکے پانی بھرا تھا۔ اس کے گھر میں شادی ہے تو پانی بھرنے والی کی ضرورت تھی اور مجھے آ پ کی دوا لینی تھی سو بھر لیا پانی ۔
کیا۔۔۔۔۔۔۔؟ تم نے 40 مٹکے پانی بھرا بنیا کا گھر تو کوئیں سے اتنی دور ہے۔۔ غزالہ سمیہ کو گلے لگا لیتی ہے۔۔۔
آ پی ایک بات پوچھوں؟
ہاں پوچھو۔۔۔۔۔
سمیہ غزالہ کے مرہم لگاتے ہوئے کہتی ہے۔۔۔
آ پی آ پ کے ساتھ جیجو نے یہ سب کیوں کیا؟ وہ اتنا ظلم کرتے ہیں آ پ پر پھر بھی آ پ کچھ نہیں کہتی؟
بیٹا اب تم بڑی ہوگئ ہو سمجھدار ہو آ ج میں تمہیں سب بتائوں گی۔۔ بیٹا یہ بنگلہ دیش ہے۔ یہاں ہم غریبوں کا کوئ والی نہیں ۔۔۔ ہمارے یہاں لڑکیاں بکتی ہیں ۔۔۔ بڑے امیر لوگ جو شرافت کا چولا اوڑھ کر دنیا کے سامنے ہوتے ہیں حقیقت میں کچھ نہیں۔۔۔
حقیقت میں رنڈی بازی کرنے کے لیئے اور اپنی حوس پوری کرنے کے لیئے غریبوں کی لڑکیاں خریدتے ہیں۔۔۔۔۔ اور مجھے اس بات پر حیرت ہوئ کہ ماں باپ باخوشی اپنی بیٹیوں کو بیچ دیتے ہیں۔۔۔
بیچاری معصوم لڑکیاں جن کی کھیلنے کودنے کی عمر ہوتی ہے۔۔۔ جوانی کی پہر تک پہنچتے ہوئے۔ یا تو رکھیل کہلاتی ہیں یا تو غلام۔۔۔
بس میں رنڈی نہیں بننا چاہتی تھی ۔۔۔۔ تھک گئ تھی میں۔۔۔۔ پھر میری زندگی میں ندیم آ یا اور ہم نے بھاگ کر شادی کرلی۔۔۔ میں صرف ندیم کا ظلم اس لیئے سہتی ہوں کہ میں شرافت اور پاک دامنی کی زندگی گزارنا چاہتی ہوں ۔۔۔۔
تو کیا آ پی امی مجھے بھی اور خالدہ کو بھی بیچ دینگی؟
غزالہ روتے ہوئے سمیہ کو گلے لگا لیتی ہے۔۔۔۔
آپی جب تک آ پ ٹھیک نہیں ہوجاتی میں آ پ کے پاس رہوں گی۔۔۔ سمیہ کہتی ہے۔۔۔۔
ٹھیک ہے۔۔۔
اتنے میں ندیم آ جاتا ہے۔۔۔ سمیہ کو دیکھتا ہے اور سمیہ کی گھورتا ہے۔۔۔ اسلام علیکم جیجو۔۔۔۔
ندیم۔۔۔۔ خوش دلی سے کہتا ہے۔۔۔۔ واعلیکم السلام کیسی ہو گڑیا؟ ندیم کا بدلہ رویہ دیکھ کر غزالہ حیران ہوجاتی ہے۔۔ مگر کچھ نہیں کہتی ۔۔۔
کچھ دن دن گزر جاتے ہیں۔۔۔ ندیم کا بدلہ بدلہ رویہ غزالہ کو حیران کر رہا تھا ۔۔۔
ہر وقت سمیہ کے پیچھے پیچھے۔۔۔
ندیم کے من کی کالی کرتوت اسے ہی پتہ تھے۔۔۔۔
غزالہ کی طبیعت بہتر ہو جاتی ہے۔۔۔۔
غزالہ سمیہ سے کہتی ہے۔۔۔۔ سمیہ میں نہانے کوئیں جارہی ہوں تم گھر کی صفائی کر دو۔۔۔ ندیم وہی پر ہوتا ہے۔۔۔
ندیم کہتا ہے۔۔۔ ارے تم فکر نہیں کرو غزالہ تم جائو۔۔۔
مسکراتے ہوئے ندیم کہتا ہے۔۔
غزالہ کو لگتا ہے ندیم کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے۔۔۔
غزالہ چلی جاتی ہے۔۔۔
سمیہ صفائ کر رہی ہوتی ہے ۔۔۔
ندیم باہر سے میٹھا پان لاتا ہے۔ اس میں بیہوشی کی دوا ملادیتا ہے۔۔
سمیہ ادھر آ ئوں گڑیا۔۔۔۔
جی جیجو آ ئ۔۔۔۔
سمیہ دوڑتی ہوئی ندیم کے پاس آ تی ہے۔۔۔
پان کھائو گی۔۔۔۔
نہیں جیجو۔۔۔۔ آ پی نے بولا تھا پان نہیں کھانا چاہئے اچھی لڑکیاں پان نہیں کھاتی۔۔۔
ندیم کہتا ہے کچھ نہیں ہوتا ارے ایسا کھا کے تو دیکھو میٹھا پان ہے اتنا اچھا۔ میٹھا بھئ تم نہیں کھا رہی تو میں کھا لیتا ہو۔۔۔
آ خری بار پوچھ رہا ہوں کھائو گی؟
سمیہ پان کھا لیتی ہے اور تھوڑی دیر میں بیہوش ہوجاتی ہے۔۔۔۔
ندیم موقع کا فائدہ اٹھا کر سمیہ کے ساتھ زیادتی کر دیتا ہے۔۔۔
دو سے تین دن تک سمیہ کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے غزالہ جب بھی کہیں جاتی ندیم ایسا ہی کرتا سمیہ بچی تھی اس وجہ سے اسے پتہ نہیں چلتا۔۔ ایک دن جب غزالہ واپس آ تی ہے وہ دیکھتی ہے سمیہ بستر پر لیٹی کراہ رہی ہے۔ غزالہ دوڑ کے سمیہ کے پاس جاتی ہے کیا ہوا سمیہ ۔؟
غزالہ پوچھتی ہے۔۔
آ پی میرے درد ہو رہا ہے۔ جب آ پ باہر جاتی ہیں جیجو مجھے پان کھلاتے ہیں اور پھر میں سو جاتی ہوں اور جب اٹھتی ہوں تو درد ہوتا ہے ۔
غزالہ سمجھ جاتی ہے کہ ندیم نے کیا کیا ہے۔
جب ندیم گھر واپس آ تا ہے۔ تو غزالہ اس کے غریبان پکڑ کر کہتی ہے۔۔۔ یہ تم نے کیا کیا ظالم انسان ۔۔۔۔
بچی ہے۔ میں تمہیں نہیں چھوڑونگی پولیس کے حوالے کرونگی
ندیم یہ سنتا ہے اور بھاگ جاتا ہے۔
(جن کی یہ کہانی ہے وہ بتاتی ہیں کہ اس کے بعد انہوں نے اس شخص (ندیم) کو کبھی نہیں دیکھا)
غزالہ سمیہ کو لے کر گھر آ جاتی ہے۔
7 مہینے گزر جاتے ہیں سمیہ 7 مہینے کی حاملہ ہو جاتی ہے۔
اسی طرح 7 ماہ گزار گیے اب سمیہ 7 ماہ کی حاملہ تھی اس کی ماں نے اسے دنیا والوں کی نظر سے چھپا کر گھر میں رکھا ہوا تھا تاکہ کسی کو معلوم نہ ہو جائے کہ ثمیہ پریگننٹ ہے ..ورنہ اسے کوئی نہ خریدتا ۔۔۔
ایک دن سمیہ گھر پر سو رہی تھی اور اس کی بہن غزالہ کھیت میں کاشت کاری کرنے گئ ہوئ تھی تاکہ ایک وقت کی روٹی کا بندوست ہوسکے۔
ساجدہ جوکہ سمیہ اور غزالہ کی ماں ہے۔ باہر سے حمل ضائع کرنے کی کوئی جڑی بوٹی لے آئی ۔ماں نے اپنی بیٹی سمیہ کو کسی نہ کسی طرح وہ جڑی بوٹی کھلا دی ۔۔۔ جڑی بوٹی کھانے کے کچھ ہی گھنٹے بعد سمیہ کی طبیت بگڑنے لگی اور تھوڑی دیر بعد کا الٹا اثر ہوگیا ۔(لکھتے ہوئے مجھے شرمندگی محسوس ہو رہی ہے )
سمیہ کے بچے سمیت اسکا سارا زنانہ نظام باہر آ آگیا ۔۔۔ سات مہینے کا زندہ بچہ ساجدہ اور سمیہ کے سامنے تڑپ رہا تھا ۔۔۔۔سمیہ درد کے مارے چیخ رہی تھی ۔ اسی اثنا میں ساجدہ نے سمیہ کا منہ اپنے ہاتھ سے دبا دیا تاکہ اسکی چیخیں گھر سے باہر نہ جاسکیں ۔۔۔تھوڑی دیر بعد سمیہ درد کی شدت سے اپنے حواس کھو بیٹھی اور بے ہوش ہوگی ۔۔۔
سمینہ کو بے ہوش ہوتا دیکھ کر سآجدہ نے یہ موقع غنیمت جانا اور اپنے ہاتھوں سے بچے کا گلا گھونٹ کر اسے مار دیا ۔۔اور پھر اس بچے کو کہیں پھینک کر واپس گھر لوٹ آئی ۔۔
شام کو جب غزالہ گھر آئی تو سمیہ ابھی تک بے ہوش پڑی تھی اسکا خون بہ بہ کر خود ہی رک گیا تھا ۔
ساجدہ سمینہ کے پاس ہی کھاٹ پر بیٹھی مزے سے حقہ پی رہی تھی غزالہ کی طرف دیکھ کر بولی اگر کسی کو پتہ چل جاتا کہ یہ پیٹ سے ہے تو تو کون خریدتا اسے؟ اتنی خوبصورت ہے۔ اس بچے کی وجہ سے اسکی قیمت کم لگتی۔۔۔۔ وہ تو شکر ہے میں نے کسی کو پتہ نہیں چلنے دیا کہ یہ پیٹ سے ہے۔۔۔
غزالہ سمیہ کو دیکھ کر پہلے ہی اپنے حواس کھو چکی تھی . اب اپنی ماں کو ایسی باتیں کرتی دیکھ کر آگ بگولا ہوگئیں اور اسے ایک زور دار تھپڑ مار دیا ۔۔۔
ارے تو کیسی ماں ہے۔۔۔۔؟ بے حیا زلیل عورت بیٹی ہے تیری۔۔
اس کی حالت تو دیکھ مرنے کی كگار پر ہے یہ اور تجھے زرا بھی رحم نہیں آ رہا؟ ارے بہت رنڈیاں دیکھی پر تجھ جیسی کوئی نہیں ۔۔۔ تجھے ابھی بھی اس کی قیمت کی پڑی ہے؟ خدا کے قہر سے ڈر۔۔
ساجدہ غزالہ کی بات سن کر شرمندہ ہوتے ہوئے بولی اگر بکی نہیں تو ویسے بھی وہ چھین کر لے جائیں گے۔۔
اتنے میں سمیہ کو ہوش آ جاتا ہے
سمیہ زمین پر لیٹی کن آنکھوں سے سب دیکھ اور سن رہی تھی۔
پھر غزالہ نے ہی خود ہمت کی اور صاف صفائی کرنے کے بعد اس کا زنانہ نظام واپس اندر ڈال دیا ۔۔۔
کافی دنوں تک سمیہ کی طبیعت خراب رہی لیکن دیسی دواؤں نے اس کی جان بچا لی ۔۔۔
ان دیسی دواوں کے حصول کے لیے بھی غزالہ نے ساتھ والے گاؤں کے پنساری کو اپنی عزت دے کر انکی قیمت چکائی تھی ۔۔۔
اسکے ساتھ جو بھی ہوا اسے اس کا ملال نہیں تھا لیکن اس نے کسی نہ کسی طرح اپنی بہن کی جان بچا لی تھی ۔۔
اسی طرح کچھ سال گزر گیے ۔۔۔ سمیہ کی خوبصورتی کے چرچے دور دور کے گاؤں تک پھیلے ہوئے تھے ۔۔
اسی دوران لکھنؤ کے ایک بہت بڑے رئیس سراج ملک بنگلہ دیش کے دورے پر آیے ہوے تھے۔۔دورہ تو بس ایک بہانا تھا اسکا اصل مقصد یھاں آخر عیاشی کرنا ہوتا تھا ۔۔۔ کیوں کہ اس دور میں بنگلہ دیشی عورتوں کو صرف عیاشی کا سامان سمجھا جاتا تھا ۔۔انتہائی کم قیمت میں کنواری لڑکیاں میسر آ جاتی تھی ۔۔۔۔اسی لئے انڈیا اور مغربی پاکستان کے مالدار لوگ اکثر اسی سلسلہ میں یہاں آتے جاتے رہتے تھے ۔۔۔۔اس زمانے میں بنگلہ دیشی لڑکیوں کی سمگلنگ بھی بہت عام تھی ۔۔۔۔۔یہاں سے خریدی ہوئی لڑکیوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح عالمی مارکیٹ میں فروخت کردیا جاتا تھا ۔۔۔۔
جب ملک سراج کو اپنے گماشتوں کے ذریعہ سمیہ کی خوبصورتی کا پتہ چلا تو اس کی رال ٹپکنے لگی اسنے فوراً اپنے چیلے کو ساجدہ کے پاس بھیج کر بات چلای کہ رائيس صاحب سمیہ کو خریدنا چاہتے ہیں۔ ساجدہ خوشی کے مارے پھولی نہیں سما رہی تھی ۔۔۔
ملک سراج کے گماشتوں نے سمیعہ کی قیمت پچیس ہزار روپے لگائی تھی ۔۔اس زمانے میں یہ ایک بہت بڑی رقم تھی ۔۔لیکن ساجدہ کو یہ قیمت بھی بہت کم لگ رہی تھی ۔
جب ساجدہ ملک سراج کے گماشتوں سے ثمیہ کی قیمت سے متعلق بحث و تکرار کر رہی تھی تو اسی دوران سمیہ اور غزالہ نے اس کی باتیں سن لے ۔۔
ساجدہ کے مطابق سراج کے گماشتے اس کی بیٹی کی قیمت بہت ہی کم لگا رہے تھے جب کہ اس کے مطابق تو اس کی بیٹی لاکھوں میں ایک اور انمول تھی ۔۔۔
جب ساجدہ کم قیمت پر اپنی بیٹی فروخت کرنے پر راضی نہ ہوئی تو ملک سراج کے گماشتے واپس لوٹ گئے اور کہا کے اب ملک صاحب خود ہی دیکھ کر تمہاری بیٹی کی قیمت لگایں گے ۔۔
اب ساجدہ رائيس کی آمد کا انتظار کرنے لگی کہ کب وہ آئے اور اس کی بیٹی کی اچھی قیمت دے کر اسے اپنے ساتھ لے جائے۔۔
کچھ دن بعد ملکی حالات تھوڑے بگڑ گئے اور رئیس کے آنے میں تھوڑی مشکلات درپیش آگئیں ۔۔۔
یہ وہ زمانہ تھا جب پاکستان اور بنگلادیش کا بٹوارا شروع ہونے والا تھا ۔۔۔۔اسی دوران بنگلہ دیش میں دنگے فساد پھوٹ پڑھے ساجدہ کو تو صرف اسی بات کی فکر کھائے جارہی تھی کہ کب رائيس آے اور اس کی ہے بیٹی کی اچھی قیمت لگاکر اسے مالامال کر دے ۔۔
سب کو ہی معلوم تھا کہ جب کوئی ریس کسی لڑکی کی منہ مانگی قیمت دے کر اسے لے جائے تو اس کا کیا حال کرتا ہے ۔۔۔
جب سے سمیہ اور غزالہ کو پتہ چلا تھا کہ اب ساجدہ سمیعہ کو فروخت کرنے والی ہے تب سے ہی سمیہ بہت پریشان اور خوفزدہ رہتے تھی ۔۔
غزالہ سمیہ کو گلے لگا کر خوب روتی اور اسے تسلیاں دیتے ہوئے کہتی کہ میں تمہارے ساتھ ایسا کچھ نہیں ہونے دوں گی ۔
لیکن انھیں معلوم بھی تھا کہ اگر وہ اسے فروخت کرنے پر راضی نہ ہوئے تو ملک سراج اسے زبردستی اٹھا لے جائے گا پھر سمیہ کی قیمت بھی نہیں ملے گی۔۔
اس وقت پاکستان اور بنگلہ دیش کا بٹوارا ہوجاتا ہے۔اور بہت سے لوگ حجرت کرکے مغربی پاکستان کی طرف جانے لگتے ہیں ۔۔۔
ان لوگوں کو کہیں سے معلوم پڑا تھا کہ مغربی پاکستان میں کئی بڑے بڑے کارخانے اور ملیں ہیں جہاں عورتوں کے لیے بھی روزگار کے اچھے مواقع موجود ہیں ۔۔
غزالہ نے بھی پکا ارادہ کرلیا تھا کہ وہ سمیعہ کو کسی نہ کسی طرح مغربی پاکستان بھیج دے گی پھر شاید وہاں جا کر اس کی بہن کی قسمت بدل جائے اور وہ باقی زندگی آرام و سکون سے گزار سکے ۔۔۔ کیونکہ اس وقت مغربی پاکستان کے حالات بنگلہ دیش سے کافی بہتر تھے ۔۔۔۔
کچھ دنوں کی دوڑ بھاگ کے بعد غزالہ نے مغربی پاکستان کی طرف ہجرت کرنے والے ایک قافلے کا پتہ لگا لیا وہ لوگ اسی رات پاکستان کے لیے نکلنے والے تھے ۔۔۔
رات کو غزالہ نے سمیيہ کو اپنے دو سونے کے جھمکے اتار کر دیے اور اس کے دو جوڑے اور کچھ کھانے پینے کا سامان بھی ایک گٹھڑی میں باندھ دیا ۔۔۔دونوں کسی بہانے سے گھر سے روانہ ہوئیں اور قافلے میں پہنچ گئیں ۔۔ اسی قافلے میں غزالہ کی ایک جاننے والے بھی شامل تھی اس نے سمیہ کو کچھ ضروری باتیں سمجھائیں اور پھر اس عورت کے حوالے کردیا ۔۔۔
غزالہ نے آخری بار اپنی بہن کو گلے لگایا اور روتے ہوے کہنے لگی میری بچی تو پاکستان بھاگ جا ورنہ تیرا انجام بہت برا ہوگا ویسے ہی تیرے ساتھ بہت برا ہوا ہے اب میں مزید تجھے دکھ سہتے نہیں دیکھ سکتی ۔۔دونوں بہنیں زارو قطار رونے لگیں ۔۔سمیع کو بھی اپنی بہن غزالہ کی فکر تھی وہ اس سے کہنے لگی
مگر آ پی آپ میرے ساتھ چلو نا ۔ میں آپ کے بغیر اکیلے کیسے رہوں گی ۔
تو میری فکر مت کر میں بھی جلد آ جاوں گی۔
بس کسی طریقے سے تو پاکستان کے شہر کراچی پہنچ جائیو وہاں شاید تیری مدد ہو جائے ۔
قافلے میں موجود اس عورت نے غزالہ کے علم میں اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ سنا ہے مغربی پاکستان میں مہاجر کیمپ کام کر قائم کر دیئے گئے ہیں جہاں رہائش خوراک اور روزگار کا بندوبست بھی کیا جا رہا ہے ۔۔۔
پھر غزالہ سمیہ کو گلے لگا کر سر پر بوسہ دیتی ہے اور اسے پاکستان روانہ کر دیتی ہے ۔۔
سمیع کو روانہ کر کے جب غزالہ گھر واپس لوٹ رہی تھی تو اسے اپنے قدم منوں وزنی محسوس ہو رہے تھے ۔۔اس کے ذہن میں بس یہی بات گھوم رہی تھی کہ میری بہن کا کیا بنے گا ۔۔۔وہ پاکستان پہنچ گیا اس سے پہلے ہی کسی درندے کے ہتھے چڑھ جائے گی ۔۔۔۔۔کہیں پاکستان پہنچنے کے بعد بھی اس کا یہی حشر ہوا جس سے میں اسے بچا رہی ہوں تو پھر اسکا کیا بنے گا ۔۔
یہاں تو اس کی غمگساری کے لئے میں موجود تھی وہاں اسے کون حوصلہ دے گا اور اس کی مدد کرے گا ۔۔۔
غزالہ نے نظریں اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا اور دل ہی دل میں اللہ تعالی سے دعا مانگنے لگی ۔۔یا اللہ میں مجبور ہوں تو ہی میری معصوم بہن کی مدد فرما ۔۔۔۔۔
لیکن یہاں آکر انھیں معلوم ہوا کہ جیسے سنہرے حالات کا سن کر وہ لوگ یہاں آئے تھے یہاں تو ایسا کچھ بھی نہیں تھا ۔
وہ لوگ کچھ دن تک گھروں سے بچا کچا کھانا مانگ کر گزارا کرتے رہے اور جہاں بھی سر چھپانے کا اسرا ملتا چادر بچھا کر سو جاتے ۔۔
غزالہ نے سمیعہ کو جس عورت کے حوالے کیا تھا اس کا نام آفتاب بیگم تھا ۔۔۔۔سمیہ تو بالکل الھڑ تھی اسے زمانے کی اونچ نیچ کی کہاں خبر تھی ۔۔۔۔کتنے دنوں تک آفتاب نے سمیہ کو سہارا دیے رکھا اور حوس کے بجاریوں سے اسکی حفاظت کرتی رہی ۔۔۔۔۔آفتاب سمیہ کو ہاتھ کا چھالہ بنا رکھا تھا وہ ایک پل بھی اسے اپنی نگاہوں سے اوجھل نہ ہونے دیتی تھی ۔۔۔۔۔ورنہ پتہ نہیں اس کا اس نیے دیش میں کیا بنتا ۔۔۔۔
.اسی طرح دن گزرتے رہے ۔۔۔ایک دن آفتاب بیگم کو ایک فیکٹری کا پتہ چلا جہاں عورتوں کے لئے ملازمت کے مواقع موجود تھے ۔۔۔
فیکرٹری کی مالکہ ایک نیک دل خاتون تھی جس کا نام سمیرا نیاز تھا ۔۔۔
آفتاب بیگم اگلے دن اس فیکٹری پہنچی اور فیٹری کی مالکن سمیرا سے ملاقات کی جب اسنے سمیرا سے اپنے حالات کا ذکر کیا تو سمیرا نیاز اسے نوکری دینے پر رضامند ہوگئی ۔۔۔سمیرا نے بتایا کہ میری کوشش ہے کہ کسی بھی طرح بے سہارا عورتوں کی ہر ممکن کوشش کی جا سکے ۔۔۔جب تک آپ میرے پاس رہو گی آپ کا پوری طرح سے خیال رکھا جائے گا ۔۔میں یھاں آپ کو کسی قسم کی کوئی تکلیف نہیں ہونے دوں گی ۔۔آپ لوگوں کو بھی وہی کام کرنا ہوگا جو فیکٹری کی باقی عورتیں کرتی ہیں ۔۔
اسکی تنخواہ 20 روپے ماہوار تھی ۔۔۔ساتھ میں رہنے کے لئے کمرہ اور تین وقت کا کھانا فیکٹری کی طرف سے ملنا تھا ۔۔۔
اپنا کام ہو جانے کے بعد آفتاب بیگم نے سمیرا سے سمیہ کی نوکری کی بات کی تو سمیرا اسے بھی نوکری دینے پر راضی ہو گئی ۔۔۔۔اور آفتاب بیگم سے کہا کہ صبح سمیہ کو لے آنا اور مجھ سے ایک بار ملوا دینا ۔۔۔۔
اگلے دن جب آفتاب بیگم سمیعہ کو لے کر فیکٹری پہنچی تو ملازم نے انھیں کمرے میں جانے سے روک دیا اور بتایا کہ آپ تھوڑا انتظار کریں اندر رومان صاحب آئے ہوئے ہیں ۔۔
اس وقت سمیہ نے اپنا چہرہ چادر سے ڈھانپا ہوا تھا صرف اس کے آنکھیں ہی نظر آ رہی تھیں ۔۔۔۔۔۔۔آفتاب بیگم نے محسوس کیا کہ ان کے ارد گرد سے گزرنے والا ہر مرد ایک نظر سمیہ پر ضرور ڈالتا تھا ۔۔۔۔۔
رومان صاحب سمیرا کی مرحوم دوست کے بیٹے تھے ۔۔۔۔تھوڑی دیر بعد رومان کمرے سے باہر نکلا تو اس نے بھی ایک نظر سمیہ پر ڈالی اور تیزی سے آگے بڑھ گیا ۔۔۔۔۔۔
رومان صاحب کے جانے کے بعد ملازم نے انہیں کمرے میں جانے کی اجازت دے دی ۔۔جب وہ دونوں کمرے میں پہنچیں تو سمیرا میڈم بھی ٹکٹکی باندھ کر سمیعہ کو دیکھتی رہ گئی ۔۔۔۔سمیرا میڈم نے سمیہ کی خوبصورتی کی بہت تعریف کی اور اسے کہا کہ تم صرف میرے آفس کے ہی کام کرو گی ۔۔۔۔
اصل میں سمیرا میڈم کو اس بات کا ڈر تھا کہ سمیہ ابھی نو عمر ہے اور اوپر سے بلا کی حسین بھی ہے ۔۔ کہیں کسی مرد ملازم کی نیت اس پر خراب ہوگئی تو خوام خواہ کی ٹینشن بن جائے گی ۔۔۔یہاں یہ میری نظروں کے سامنے رہے گی تو میں خود اس کا پورا خیال رکھوں گی ۔۔۔
سمعیہ فوراً راضی ہوگئی
اسی طرح آفس میں کام کرتے ہوئے کئی دن گزر جاتے ہیں ۔۔۔ایک دن میڈم نے محسوس کیا کہ سمیہ کافی دنوں سے کچھ پریشان پریشان سی رہتی ہے ۔۔۔۔جب سمیرا میڈم نے اس سے استفسار کیا تو سمیہ ٹال مٹول سے کام لینے لگی ۔۔۔۔ سمیرا میڈم بھی اپنی دھن کی پکی تھی انکے محبت بھرے لہجے نے آخر کر سمیہ کو اپنی زبان کھولنے پر مجبور کر ہی دیا ۔۔
سمیہ نے شروع سے لے کر آخر تک پوری کہانی سمیرا میڈم کو سنا دی۔۔۔سمیہ نے صرف بچے والی بات ہی میڈم سے چھپائی تھی ۔۔۔سمیعہ کی کہانی سننے کے بعد میڈم نے اسے تسلی دی اور کہا کہ اللہ بہتر کرے گا ۔۔تم پریشان نہ ہو میں ہر حال میں تمہارے ساتھ ہوں ۔۔۔۔
ایک دن رومان صاحب دوبارہ کسی کام کے سلسلے میں آفس آتے ہیں تو اس وقت سمیرا میڈم اپنے آفس میں موجود نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔۔ رومان کی نظر سمیہ پر پڑتی ہے جو کہ آفس کی صاف صفائی میں مصروف تھی ۔۔۔۔رومان وہیں کرسی پر بیٹھ گیا اور سمیہ کو بڑے غور سے دیکھنے لگا ۔۔۔
اس وقت سمیعہ کی جوانی اپنے جوبن پر تھے ۔۔۔۔۔اونچا قد ، بھرا بھرا جسم ، بڑی بڑی خوبصورت آنکھیں ، دودھ جیسا سفید رنگ لمبے سیاہ بال ، اور بلا کی معصومیت ،،
وہ سترہ آٹھرہ سال کی دوشیزہ کسی افسرا سے کم نہی تھی ۔۔۔رومان تو اسے دیکھتے ہیں اپنے ہوش کھو بیٹھا ۔۔۔
تھوڑی دیر بعد جب سمیہ کے شباب کا نشہ تھوڑا کم ہوا تو رومان صاحب بہانے بہانے سے سمیہ سے بات کرنے لگے لیکن سمیہ نے انہیں سرسری سا جواب دیا اور کہا کہ سمیرا میڈم آج نہیں ہیں وہ کسی کام کے سلسلے میں شہر سے باہر گئی ہے آپ کل آ جائیں تو ان سے ملاقات ہو جائے گی ۔۔
رومان صاحب کمرے سے باہر جاتے جاتے روکے اور مڑ کر ایک گہری نظر سمیعہ پر ڈالی جو دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہو چکی تھی ۔۔
رومان صاحب کی عمر 28 تیس سال کے لگ بھگ ہوگی ۔۔وہ بھی اچھی شکل و صورت کا پڑھا لکھا نوجوان تھا ۔۔۔كماتا بھی اچھا تھا ۔۔۔۔
اگلے دن رومان صاحب دوبارہ واپس آگئے اور سمیرا میڈم سے ملاقات کے دوران اس نے پوچھا کہ آنٹی یہ لڑکی کون ہے جو کل آپ کے آفس میں کام کر رہی تھی ۔۔۔
سمیرا میڈم نے سمیہ کی پوری کہانی رومان کو سنائی اور کہا کہ بہت ہی شریف بچی ہے ۔۔۔۔اس کا دھیان میں خود رکھتی ہوں اسی لئے سمیہ کے ذمے صرف اپنے ہی آفس کا کام لگایا ہے ۔۔
اس دن کے بعد تو رومان صاحب نے فیکٹری آنے کا معمول بنا لیا وہ روزانہ کسی نہ کسی بہانے سے فیکٹری پہنچ جاتے ۔۔جب سمیرا میڈم اردگرد موجود نہ ہوتی تو وہ سمیہ سے بات کرنے کی کوشش کرتا رہتا اور میڈم سمیرا کے سامنے بھیگی بلی بن جاتا ۔۔
جب سمیہ کسی کام کے سلسلے میں میڈم کے آفس آتی تو رومان صاحب کو وہاں دیکھ کر جھنجلاہٹ کا شکار ہوجاتی ۔۔۔کیوں کہ جب تک وہ آفس میں موجود رہتی اسے رومان صاحب کی نظریں اپنے جسم میں چبھتی ہوئی محسوس ہوتیں ۔۔۔۔کئی بار اس نے سوچا کہ سمیرا میڈم سے رومان صاحب کی شکایت کرے لیکن پھر وہ سوچتی کہ کہیں سمیرا میڈم ناراض ہی نہ ہو جائے اور اسے اس نوکری سے ہاتھ دھونا پڑے ۔۔۔۔ویسے بھی رومان صاحب نے ایسی ویسی کوئی حرکت نہیں کی تھی کہ جس کی شکایت لگائی جا سکے ۔۔۔۔ایسے لیے سمیہ نے خاموش رہنے میں ہی اپنی عافیت سمجھی ۔۔۔۔ہاں مگر وہ رومان صاحب کی طرف سے تھوڑی چوکس ضرور ہو گئی تھی ۔۔
وہ کوشش کرتی تھی کہ جب تک رومان صاحب آفس میں موجود ہیں وہ وہاں نہ جائے ۔۔۔لیکن کچھ دن بعد اس کی یہ کوشش بھی رائیگاں گئی ۔۔۔اب رومان صاحب اسے ڈھونڈتے ڈھونڈتے آفس کے باہر بھی چکر لگانے لگے تھے ۔۔۔سمعیہ کا کمرہ سمیرا میڈم کے آفس کے ساتھ ہی تھا ۔۔فارغ وقت میں سمیہ کے ذمے سمیرا میڈم سے ملاقات کے لیے آنے والی خواتین کا استقبال کرنا تھا ۔۔یا پھر فيكٹری کی خواتین ملازمین کی طرف سے اگر کوئی ضروری پیغام ہوتا تو سمیہ ہی میڈم تک پہنچایا کرتی تھی چونکہ سمیعہ کے کمرے کا دروازہ ہر وقت کھلا رہتا تھا اسی لیے رومان صاحب بہانے بہانے سے اس کے روم کے سامنے سے گزرتے اور اس پر ایک گہری نگاہ ضرور ڈالا کرتے تھے ۔۔۔
رومان صاحب کا تو بس نہیں چل رہا تھا ورنہ وہ تو ہر وقت سمیعہ کو اپنے سامنے بیٹھا کر تكتے رہتے ۔۔۔
جب رومان صاحب کی لاکھ کوششوں کے باوجود سمیعہ اس کی طرف مائل نہ ہوئی تو رومان صاحب کو ایک اور ترقیب سوجھی ایک دن موقع دیکھ کر رومان صاحب نے سمیرہ میڈم سے بات کی مجھے سمیہ بہت پسند ہے اور میں اس سے شادی کر کے اس کا سہارا بننا چاہتا ہوں ۔۔۔
یہ بات سن کر سمیرا میڈم بہت خوش ہویں ۔۔۔اور رومان کی فیصلے کو سراہا کے تم نے بہترین فیصلہ کیا ہے ۔لیکن کیا تمھارے گھر والے اس رشتہ کے لئے مان جائیں گے ۔۔۔تم تو تمھارے خاندان والوں کو جانتے ہو نہ کہ وہ کتنے مغرور ہیں ۔۔۔۔۔مجھے نہی لگتا کہ وہ سمیہ جیسی غریب اور بے سہارا لڑکی سے تمہارا رشتہ کرنے پر راضی ہو جائیں ۔۔۔۔
یہ سن کر رومان کچھ دیر کے لئے سوچ میں پڑ گیا اور پھر خاموشی توڑتے ہوے بولا کہ آنٹی پہلے آپ سمیہ سے بات کر لیں اگر وہ اس رشتہ کے لئے راضی ہے تو پھر میں اپنے گھر والوں سے بات کروں گا اور کسی نہ کسی طرح انھیں ضرور منا لونگا ۔۔۔۔۔۔آپ میری فکر نہ کریں ۔۔۔اگر وہ لوگ نہ مانے تو میں کوئی اور حل نکال لونگا ۔۔۔۔۔مگر میں۔ سمیہ سے شادی ضرور کرونگا ۔۔۔۔۔۔۔
یہ سن کر سمیرا میڈم ایک ٹھنڈی آہ بھرتے ہوے کہنے لگیں۔۔۔۔۔ٹھیک ہے رمان بیٹے اگر تمہیں اتنا ہی خود پر یقین ہے تو میں سمیہ سے ضرور بات کروں گی ۔۔۔مجھے پورا یقین ہے کہ سمیہ بھی اس رشتہ پر راضی ہوجائے گی اور تمہارے ساتھ بہت خوش رہے گی ۔۔۔۔۔
آنٹی سمیرہ کی بات سن کر رومان بھی خوش ہو گیا اور کچھ دن بعد واپس آنے کا کہ کر آفس سے باہر نکلنے لگا ۔۔جاتے جاتے وہ ایک بار پھر واپس مڑا اور سمیرا میڈم سے مخاطب ہوتے ہوے بولا ۔۔۔انٹی مجھے جواب ہاں میں چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔۔
شام کو سمیرا میڈم نے سمیہ کو اپنے روم میں بلایا اور رومان کی بات سمیہ کے سامنے رکھ دی ۔۔۔۔اور کہا کہ جب بات چل ہی نکلی ہے تو میں ساری حقیقت کھول کر تمھارے سامنے رکھنا چاہتی ہوں تاکہ تمہیں فیصلہ کرنے میں آسانی رہے ۔۔۔۔۔میڈم نے اسے بتایا کہ رمان کی ماں اسکے بچپن میں ہی فوت ہو گئی تھی . . . اسکے ابو نے رمان کی ماں کے فوت ہوجانے کے بعد دوسری شادی کر لی ۔۔۔رمان تو بہت اچھا لڑکا ہے مگر اسکے ماں باپ تھوڑے سخت مزاج لوگ ہیں ۔
روپے پیسے کی انھیں کوئی کمی نہی ہے ۔پورے پاکستان میں ان لوگوں کے کاروبار ہیں ۔انکا پورا خاندان اکٹھے ہی رہتا ہے ۔۔۔۔یہ لوگ تھوڑا مذہبی رجهان بھی رکھتے ہیں ۔۔۔رمان کی اسکی پہلی بیوی سے طلاق ہوچکی ہے اسکے بچے بھی ہیں ۔۔
میرے حساب سے تو اچھا گھرانہ ہے اور تم یھاں بہت خوش رہو گی ۔۔۔۔۔
لیکن انکے ساتھ زندگی تو تم نے ہی گزارنی ہے اس لئے یہ فیصلہ میں تم پر چھوڑتی ہوں ۔۔تمہارا جو بھی فیصلہ ہوا مجھے منظور ہوگا ۔۔۔
سمیرا میڈم کی باتیں سن کر سمیہ بہت پریشان ہوگئی ۔۔۔سمیہ کی پریشانی کو بھانپتے ہوے سمیرا میڈم نے سمیہ کو بتایا کہ تم کسی قسم کی پریشانی میں مبتلا نہ ہو ۔۔۔میں تمہیں سوچنے کا وقت دیتی ہوں اچھی طرح سوچ لو ایسے اچھے رشتے بار بار نہیں آیا کرتے ۔بعض اوقات حالات ایسے ہو جاتے ہیں کہ لڑکیوں کو نبھا کرنا ہی پڑتا ہے۔۔۔
اگر تم رشتہ کے لئے ہاں کرتی ہوتو تمھاری شادی کا سارا خرچ میں خود اٹھاؤں گی اور تمہارے مستقبل میں بھی ایک ماں کی طرح تمھارے ہر معملے میں تمھارے ساتھ کھڑی رہوں گی ۔۔۔تمہیں کبھی بھی میری ضرورت پیش آئے تو بلا خوف میرے پاس چلی آنا ہمیں ہر طرح سے تمہارے ساتھ کھڑی رہوں گی ۔۔۔
چلو اب تم جا کر آرام کرو اور اچھی طرح سوچ لو ۔۔جو تمہیں بہتر فیصلہ لگے مجھے اس سے اگاہ کر دینا ۔۔۔۔۔۔
یہ رات ثمینہ پر بہت بھاری تھی اسے اپنی زندگی کا ایک اہم فیصلہ کرنا تھا ۔۔۔آج اسے اپنی بہن غزالہ کی یاد شدت سے ستا رہی تھی ۔۔۔۔
ثمینہ دیر گئے تک سوچتی رہی . ۔۔لیکن اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا ۔۔۔۔۔۔آخرکار اس نے خود کو حالات کے دھارے پر چھوڑ دینے کا فیصلہ کیا ۔۔۔۔اسی طرح سوچتے سوچتے رات کے کسی پہر اس کی آنکھ لگ گئی ۔۔۔
اگلے کئی دنوں تک میڈم سمیرا نے اس معاملے پر کوئی بات نہیں کی ۔۔۔۔شاید میڈم سمیرا اس بات کا انتظار کر رہی تھی کہ سمیہ انھیں خود ہی اپنے فیصلے سے آگاہ کرے گی۔۔ لیکن جب کئی دنوں تک سمیہ نے میڈم کو اپنا فیصلہ نہی سنایا تو آخرکار میڈم سمیرا نے خود ہی سمیعہ سے پوچھ لیا ۔۔۔
سمیعہ نے میڈم سے کہا کہ میڈم جب میرے پاس کوئی سہارا نہیں تھا تو آپ نے ہی مجھے سارا دیا ۔،۔آپ نے ایک ماں کی طرح میرا خیال رکھا ۔۔۔میرے پاس تو آپ کے سوا اور کوئی نہیں جس سے میں مشورہ کر سکوں ۔۔۔اب آپ کو میرے متعلق جو بہتر فیصلہ لگے آپ کرلیں ۔۔۔
میڈم سمیہ کی بات سن کر بہت خوش ہوئی ۔۔اور سمیہ سے کہا کہ جب رومان اے گا تو میں اسے تمہارے فیصلے سے آگاہ کر دوں گی ۔۔۔ابھی تو اس نے اپنے ماں باپ کو بھی راضی کرنا ہے ۔۔۔
اللہ تعالی سے دعا کرتی ہوں کہ تمہارے نصیب اچھے کرے ۔۔۔
اگلے ہی دن میڈم نے رومان صاحب کو سمیہ کے فیصلے سے آگاہ کر دیا ۔۔اب رومان کو اپنے ماں باپ اور فیملی کو راضی کرنا تھا ۔۔
رومان نے گھر جا کر اپنا فیصلہ اپنی فیملی کے سامنے رکھ دیا ۔۔چونکہ وہ لوگ بہت امیرکبیر تھے ۔۔وہ بھلا ایک غریب بے سہارا لڑکی کو اپنے گھر میں کیسے برداشت کرتے ہیں ۔۔۔سمیعہ کا بیک گراؤنڈ سننے کے بعد انہوں نے شادی سے انکار کر دیا ۔۔۔
رومان کافی دنوں تک بہت کوشش کرتا رہا لیکن اس کی فیملی کسی صورت راضی نہیں ہو رہی تھی ۔۔۔ہر اک طرح کی کوشش کر لینے کے بعد جب رومان مایوس ہوگیا تو اس نے اپنے خاندانی پیر صاحب سے مدد لینے کی ٹھانی کیونکہ اس سے معلوم تھا کہ اگر پیر صاحب اس کی فيمlلی سے بات کرے تو اس کی فیملی کبھی بھی رشتہ سے انکار نہیں کر سکے گی ۔۔
اگلے دن رومان پیر صاحب کے پاس موجود تھا ۔۔اس نے پیر صاحب کو پوری بات بتائی اور کہا کہ آپ سمیہ سے میری شادی کرا دیں ورنہ میں گھر چھوڑ کے چلا جاؤں گا یا پھر خود کشی کر لوں گا ۔۔پیر صاحب نے اسے تسلی دی اور کہا کے میں شام کو تمہارے گھر آ کر بات کروں گا ۔۔۔تم پریشان نہ ہو مجھے امید ہے کہ تمھاری فیملی مان جائے گی ۔۔۔
شام کو پیر صاحب گھر پر موجود تھے ۔۔پوری فیملی بما مرد عورت ان کے سامنے سر جھکا کر ہاتھ باندھے کھڑے تھے ۔۔پیر صاحب رومان کے حوالے سے مخاطب تھے ۔۔۔۔اجمل صاحب آپ کے پاس اللہ کا دیا سب کچھ ہے ۔عزت دولت شہرت سب کچھ تو ہے ۔۔پھر آپ لوگ اپنے بچے کی خوشی میں خوش کیوں نہیں ہو رہے۔۔آپ لوگ کیا چاہتے ہو کہ آپ کی اولاد باغی ہو جائے یا پھر گھر چھوڑ کر چلی جائے ۔۔میری بات مانو اور جہاں رومان کہہ رہا ہے وہاں اس کی شادی کردو ۔۔اگر مزید کسی کو کچھ کہنا ہے تو ابھی کہہ سکتا ہے ۔۔۔
پوری فیملی ابھی تک پیر صاحب کے سامنے سر جھکائے کھڑی تھی ۔۔رمان کے والد پیر صاحب سے احترامً مخاطب ہوئے ۔۔ٹھیک ہے سرکار آپ نے جو فیصلہ کردیا ہمیں منظور ہے ۔۔۔
شادی بیاہ کے معاملات کس طرح سرانجام پائے یہ ایک الگ کہانی ہے ۔۔آپ کا وقت ضائع نہ کرتے ہوئے سیدھا مدے کی طرف بڑھتے ہیں ۔۔
آگے کی کہانی سمیعہ کی زبانی سنتے ہیں ۔۔۔
سسرال فیملی کا تعارف + بیک گراٶنڈ
۔۔میری سسرال فیملی میں چھ دیور ، ایک جیٹھ ، ساس سسر اور دو نندیں تھی ایک بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ایک بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی ۔۔۔۔سب سے بڑی نند شادی شدہ تھی چار بچے تھے ان کے ۔۔۔یہ انتہائ امیر بلکہ امیر کبیر گھرانہ تھا ۔۔ ان لوگوں کے کئ کاروبار تھے، انکی ٹرانسپورٹ چلتی تھی پٹرول پمپ تھے ، اپنی ذاتی دوکانیں ملک کے کئ بڑے بڑے شہروں میں تھیں ۔۔۔گھر پلاٹس زمینیں پولٹری فارم الیکٹرانکس اشیاءکی بڑی شاپس تھیں ۔۔۔ایک میڈیسن ایجنسی تھی ۔۔ ۔۔۔16 ولرز ٹرانسپورٹ تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔بہت سے کیمیکل سنگاپور سے ڈائرکٹ منگوا کر پورے پاکستان میں سیل کرتے تھے ۔۔۔سرخ مرچوں کی فیکٹری تھی ۔۔بہت بہت کچھ تھا
میری بڑی نند کی جہاں شادی ہوئی تھی وہ لوگ بھی انہی کی طرح امیرکبیر تھے ۔۔اسی لئے میری بڑی نند ہر وقت غروروتکبر سے بھری رہتی ہے ۔جب بولتی تو منہ سے زہر اگلتی تھی ۔۔
ایک نند جو سب سے چھوٹی تھی وہ میٹرک کی سٹوڈنٹ تھی یعنی میری ہم عمر ہی تھی ۔۔۔۔
دیور میرے سارے ہی مختلف کام کیا کرتے تھے جو کے کپڑے چاولوں گاڑیوں اور پراپرٹی کے کاروبار سے منسلک تھے ۔۔
ان ساری چیزوں چیزوں کو کاؤنٹ کرکے پھر باری آتی تھی گھر کی جو کہ مارکیٹ کے اوپر تھا۔۔۔یہ پچاس دوکانوں کے اوپر بنا ہوا گھر تھا ۔۔۔۔اس شاندار گھرانے کے آگے بھلا میری کیا اوقات تھی ۔۔میری طرف سے تو کوئی میں لوگوں کی جانچ پڑتال کرنے والا بھی نہیں تھا۔۔ویسے بھی پیسہ سب سے بڑا سرٹیفکیٹ ہوتا ہے ہر انکوائری کا ۔۔
میرے ہذبنڈ کا تعارف
صرف اس وقت تک اتنا تھا کہ لڑکا سلجھا ہوا پڑھا لکھا اور خوبصورت ہے کسی اینگل سے شادی شدہ نہیں لگتا ۔۔۔۔ھاں عمر میں ذرا سا بڑا ہے مگر لڑکا میچور ہے ۔۔۔۔۔
پھر یوں ہوا کہ میں رخصت ہو کر میاں گھر آگئی ۔۔۔۔مجھے یہاں وہ تمام رشتے ملے جن کا تعارف میں اوپر کروا چکی ہوں
رشتے کیا تھے کچھ کردار سمجھ لیں جو مجھے رشتوں کے نام پر ملے ۔۔۔۔
مجھے برقعہ پہنایا گیا اور مکمل حجاب میں دولہے والی گاڑی میں بیٹھایا گیا۔۔۔جس گاڑی میں رخصتی ہوئ اس میں میرا دولہا نہیں تھا ۔۔۔میرے جیٹھ جی گاڑی ڈرائیو کر رہے تھے یہ بات مجھے بعد میں پتہ چلی ۔۔۔۔۔
مجھے عروسی کمرے تک ایک عورت نے پہنچایا اور میرا میک اپ وغیرہ درست کیا اور قدرے ترش لہجے میں میرے ھاتھوں کی طرف دیکھا اور کہنے لگی کہ منع بھی کیا تھا آپکو کے آپ نے مہندی نہیں لگانی ہمارے پیر صاحب نے سختی سے حکم فرمایا تھا کہ لال جوڑا نہیں پہننا اور مہندی نہیں لگانی مگر آپ نہیں مانیں سب فیملی والے طرح طرح کی باتیں کر رہے ہیں ۔۔۔پتہ نہیں اب کیا ہو گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں حیران سی تھی کہ کون پیر بابا کون سا لال جوڑا اور کیوں نہیں پہننا فیملی والے باتیں کیوں کر رہے ہیں وہ بھی طرح طرح کی کیا کوئ ایک نئی نویلی دولہن سے ایسا کہتا ہے ۔ ایک دم میری آنکھیں بھر آئیں کے کیوں کیا میرے ساتھ یہ سب ؟ ؟؟
میں نے لاکھ چاہا کہ میں دل میں آئے سوالوں کا جواب مانگوں مگر میں چاہ کر بھی کوئ سوال نہیں کر پائی ۔۔۔۔۔۔
وہ خاتون جلدی سے کمرے سے نکل گئی ۔۔۔
میں کمرے میں بلکل اکیلی تھی تو میں کمرے کا جائزہ لینے لگی۔۔ یہ سادہ سا کمرہ تھا جس میں ڈیکوریشن کے نام پر صرف ایک بیڈ تھا ۔۔۔۔مجھے جہیز تو ملا نہیں تھا ۔۔۔۔میری شادی میں ہفتوں کا فرق نہیں تھا دنوں کا فرق تھا ۔۔۔
ایک اور بات جو مجھے شدت سے حیران کر رہی تھی وہ یہ تھی کہ گھر میں اتنے نفوس موجود تھے مگر کہیں سے ایک پتہ تک ہلنے کی آواز نہیں آ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
اچانک کمرے کا دروزاہ کھلا میں سمٹ سی گی کہ شاید دولہا جی آ گے ہوں جن کو میں بس نام کی حد تک جانتی تھی ۔۔۔۔۔
آنے والی خاتون میری ساس تھی جنہوں نے مجھے سلام کیا میرے سر پر ھاتھ پھیرا ۔۔انکے پیچھے پیچھے چھ دیوروں اور دو نندوں کا ٹولہ ایسے انداز میں کھڑے تھے جیسے پتھر کے مجسمے ہوں اتنے میں میرے جیٹھ اور نندوئ ایک بابا کو بانہوں کے گھیرے میں لیے میرے کمرے میں آئے ۔۔۔۔
میرے جیٹھ کہنے لگے یہ ہمارے بابا جی سرکار ہیں ہم نے ان کے ھاتھ مبارک پر بعیت کر رکھی ہے ۔۔مگر آج آپ نے انکی شان اقدس میں گستاخی کی ہے ۔۔انہوں نے حکم صادر فرمایا تھا کہ دلہن نے ھار سنگھار نہیں کرنا باقی شادی جیسے چاہیں کریں مگر آپ نے انکی بات نہ مان کر ہمیں بہت شرمندہ کروایا ہے ۔۔۔مگر یہ بابا جی کی عظمت اور بڑا پن ہے کہ یہ پہلی غلطی سمجھ کر آپکو معاف کرنے کو تیار ہیں ۔۔۔۔
لیکن یہ آپکی پہلی ہی غلطی ہونی چاہیے ۔۔۔۔
بابا سرکار کے ھاتھ پر مجھے بھی بیعت کرنا تھی ۔۔مگر مجھے قطعی سمجھ نہیں آ رہی تھی یہ بیعت کرنا کہتے کس کو ہیں ۔۔۔مجھے یوں لگ رہا تھا جیسے میں اچانک روشنیوں کے شہر سے کسی اندھیرے تاریک جنگل میں پھینک دی گی ہوں جہاں مجھے کچھ سجھائ نہیں دے رہا تھا ۔۔۔
بابا جی سرکار نے میرے کندھے پر ھاتھ رکھا ۔۔۔اور میرے جیٹھ نے مجسمہ نما تمام انسانوں کو کمرے سے نکل جانے کا اشارہ کیا ۔۔۔سب کے سب جس طرح کمرے میں آئے تھے اسی طرح باہر نکل گیے مجھے تو یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے یہ لوگ بولنا تو دور سانس بھی روک کر کھڑے ہیں ۔۔۔
اب کمرے میں صرف میں میری ساس میرے جیٹھ اور بڑی سرکار تھے ۔۔۔۔
اگلا حیرت کا شدید ترین جھٹکا تب لگا جب بڑی سرکار یعنی بابا جی میرے بلکل قریب بیٹھ گئے اور تھوڑی سے پکڑ کر میرا منہ اوپر کیا اور ماشااللہ بولے ۔۔۔۔
مجھے جیسے بچھو نے ڈنک مارا ہو چیخ نکلتے نکلتے روکی کے کہیں میری شادی اسی بڈھے سے تو نہیں ہو گئی کیونکہ خاوند نام کا کوئ شخص وہاں موجود نہیں تھا ۔
بابے نے کہا ڈرو نہیں گڑیا ہم سب تمھارے اپنے ہیں ۔۔۔۔۔۔
بابے نے مجھے کہا کہ میرے ھاتھ پر ھاتھ رکھو ۔۔۔۔۔۔۔۔
نہ چاہتے ہوے بھی مقناطیسی انداز میں میرا ھاتھ بابا سرکار کے ھاتھ میں تھا بابا سرکار نے مہندی لگے ھاتھوں کو پرجلال انداز میں دیکھا اور کہا کہ آئندہ مہندی نہ دیکھوں ھاتھوں پر ۔۔۔دل سے پھر آواز ابھری کیا میری شادی اس بڈھے سے ہوئ ہے؟؟؟؟؟ ۔۔
۔اگر نہیں تو دلہا کہاں ہے میرا ؟؟؟؟؟؟
میری اپنی ہی سوچ تھی جو مجھے اس بھیانک حقیقت سے تھوڑی تھوڑی دیر بعد نکال لیتی تھی یہ سوچ بھی کبھی کبھی ہمارے لیے کتنی بڑی نعمت بن جاتی ہے ۔۔۔۔۔بابا جی کی آواز نے مجھے چونکا دیا چھ کلمے دہرانے ہیں میرے ساتھ ساتھ
میں نے کلمہ طیبہ پڑھنا چاہا رہی تھی مگر کلمہ منہ سے نکل ہی نہیں رہا تھا ۔۔۔کہ میرے جیٹھ میری ساس اور بابے نے کلمہ طیبہ پڑھا میری بھی زبان پرکلمہ جاری ہو گیا ۔۔۔۔
پھر مجھے 6 كلمے پڑھواے گئے ۔۔
یوں ایک طرح سے میں نے بابے کی آواز پر بیعت کر لی اور دل میں کلمہ توحید ایک بار پھر دہرایا ۔۔۔۔۔۔
بابے کے مطابق اب میں پاک ہو چکی تھی اور اپنی سسرال فیملی کے قابل تھی ورنہ جس لڑکی کو کلمہ تک نہ آتا ہو وہ بھلا کیا پاک ہو گی ۔۔۔۔۔بابا جی نے اگلا حکم نامہ جاری کیا کہ رمان صاحب جو کہ میرے ہذبنڈ تھے دو دن تک بابا سرکار کے ساتھ ہی قیام کریں گے۔۔کیونکہ میک اپ مہندی کی صورت میں جو کبیرہ گناہ میں میں نے کیا تھا اس کی معافی کے لئے میرے شوہر کو دو دن مجھ سے دور رہنا ہوگا ۔۔۔۔تب جا کر مجھے تسلی ہوئ کے میرا خاوند یہ بڈھا نہیں رومان ہی ہے ۔۔
باباجی سرکار نے میرے سر پر ہاتھ رکھا اور روانہ ہوگئے ۔۔۔۔ان کے جانے کے بعد گھر میں ہنگامہ سا جاگ اٹھا یوں جیسے سب لوگ گہری نیند کے بعد جاگے ہوں ۔۔۔۔
سب کے سب میرے کمرے میں گھس آئے
پورا خاندان دیور جیٹھ جیٹھانی نندیں ساس اور جو مہمان تھے گھر میں ۔۔۔طرح طرح کی بولیاں تھی ہنسی مذاق ہلا گلا تھا ۔۔۔۔
مگر پھر وہی کہوں گی کے سوچ منظر سے گم ہونے کی تیز ترین سواری ہے میں بھی سوچ کی سواری پر سفر کر رہی تھی یہ میری سهاگ رات تھی جہاں بیک وقت میں نے کئ سالوں پر محیط زندگی جی لی تھی جو نہیں دیکھا تھا وہ بھی دیکھ لیا اور عربی کلموں کو دہرا کر یا پڑھوا کرمسلمان بھی کر دی گی تھی۔۔
دینیات سے متعارف کروائ گی تھی پلید تھی پاک کر دی گی تھی ۔۔۔۔
کیا یہ ہوتی ہے شادی جہاں دولہا تک موجود نہیں تھا ۔۔۔جہاں پھول تھے نہ خوشبو نہ رنگ و نور کی برسات تھی ۔۔میں تھی اور میری سوچیں تھی تھوڑی دیر پہلے کیا ہوا کچھ سمجھ نہیں آیا تھا ۔۔۔۔۔۔یا میں سمجھ کر بھی سمجھنا نہیں چاہ رہی تھی ۔۔
مگر کون جانتا تھا کہ تقدیر میرے قریب کھڑی میری
حالت زار پر ایک اور قہقہہ لگانے کو تیار تھی ۔۔۔۔
دو بچے لئیے میری سوتيلی ساس آئیں اور مجھ سے تعارف کرواتے ہوئے بولیں لو بچو تم لوگوں کی نئی مما آ گی ۔۔۔میرے سر پر گویا کسی نے بم پھوڑا تھا یا آسمان گرا تھا کوئ زمین پھٹی تھی بھونچال آیا تھا یا طوفان کی زد میں میری نازک ذات تھی ۔۔۔۔
بچے مجھے اجنبی نظروں سے دیکھ رہے تھے ۔۔
پہلا بچہ پانچ سال کا تھا
اور دوسرا دو سال کا تھا
جو بچہ دو سال کا تھا اسے میری گود میں ڈال کر سب بھنگڑا ڈالنے لگے سب تالیاں بجا رہے تھے ۔۔۔۔میں پتھر کا بت بنی بچے کو گود میں لیے ساکت بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔بچہ شور کی وجہ سے رونے لگا مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کیا کروں کوئ روتے بچے کی طرح دھیان نہیں دے رہا تھا ۔۔کہ میرے گھٹنے جو کچھ پل پہلے ساکت تھے ایک دم سے ہلنے لگے جیسے بچے کو بہلا رہے ہوں ۔۔۔مجمعے میں ایک خاتون کی آواز گونجی اوئے ہوئے بڑا تجربہ ہے بچے سنبھالنے کا ۔۔۔ایک اور آواز گونجی چھوٹے گھر کی لڑکیاں تجربہ دار ہوتی ہیں پھر سے قہقہے گونجے ۔۔۔اور میرے دل نے شدت سے دعا کی یا اللہ رحم ۔۔۔
اس دوران کب میں نے ہوش کا دامن چھوڑا پتہ ہی نہیں چلا شاید مجھے بے ہوش ہی ہو جانا چاہیے تھا ہوش میں رہتی تو شاید مر جاتی شاید اللہ سے رحم مانگا تھا تو اس کی رحیم ذات نے بے ہوش کرکے رحم فرما دیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
بابا سرکار کو کال کی گی میری بے ہوشی کی خبر دی گی
بابا سرکار نے فرمایا کہ ابھی نجاست دور ہوئ ہے تو اسلیے بے ہوش ہو گی ہوں صبح تک ہوش آ جائے گا ۔۔۔۔
پھر موکلات بھی ناراض ہیں اسلیے یہ سب تو ہونا ہی تھا یہ معلومات بعد کی ہیں کہ بابا سرکار نے یہ فرمایا تھا
خیر جیسے تیسے وہ رات گزر گی ۔۔۔۔۔
کون کب تک رکا بعد میں کیا ہوا تھا کچھ یاد نہیں
صبح شادی والے گھر کے ہنگاموں سے میری آنکھ کھلی ۔۔۔۔
ایک ہی رات میں میرا سب کچھ بدل گیا تھا میں تھی اور میری بدنصیبی تھی۔۔۔۔۔
میں کمرے میں اکیلی تھی کہ ایک بچی میرے کمرے میں آئ اور کہنے لگی چچی ناشتہ کچن میں کریں گی یا اپنے کمرے میں ۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟؟؟؟ کمرے میں کام والی صفائ کے لیے آئ تو میں کچن میں چلی آئ سبھی تھے کچن میں ۔۔۔وہ تمام کردار جو میں تعارفی قسط میں بتا چکی ہوں
دل عجیب سا ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔
سب مجھ سے بات کرنا چاہ رہے تھے ۔۔۔۔مگر نجانے میرے ہونٹوں پر چپ کے کونسے تالے پڑے تھے کہ کچھ بولنے بات کرنے یہاں تک کے ہوں ھاں کو بھی دل نہیں چاہ رہا تھا ۔۔۔
مگر یہاں کونسا کام میری مرضی سے ہوا تھا جو بولنے میں مرضی چلتی ۔۔۔۔۔
میری سوتيلی ساس بولی بیٹا ولیمہ تو تم لوگوں کا اگلے جمعے کو ہو ہوگا ۔۔۔۔۔بابا سرکار کا حکم ہے کہ جب تک وہ نہ کہیں ولیمہ نہیں ہوگا ۔۔۔
میری بڑی نند بولی میری ساس سے کہ امی بھائی کو بس یہی لڑکی ملی تھی ساری دنیا میں مجھے تو اسکی صحت دیکھ کر لگتا ہے ٹی بی کی مریض ہے ۔۔۔
میری ساس بولی وہ تو بابا سرکار نے سفارش کی کہ جہاں رمان کہ رہا ہے وہاں اسکی شادی کر دو ۔۔۔۔۔۔۔۔ورنہ اللہ کی قسم مجھے تو یہ لڑکی قطعی پسند نہیں تھی ۔۔۔۔۔
یا خدا یہ لوگ کیسی باتیں کر رہے تھے میرے متعلق کیا ایک دن کی دلہن سے کوئ ایسی باتیں کرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خیر جیسے تیسے کر کے مجھے کھانا ملا اور میں نے خاموشی سے کھا لیا ۔۔۔کھانا کھانے کے بعد میں واپس اپنے کمرے میں لوٹ گئی ۔۔۔۔ابھی میں کمرے میں پہنچی ہی تھی کہ دونوں بچے بھی میرے پیچھے پیچھے کمرے میں آ گئے ۔۔۔۔وہ دونوں سہمی سہمی نگاہوں سے میری طرف دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔چھوٹے بچے نے تو شاید ابھی ابھی چلنا سیکھا تھا ۔۔۔۔۔
ان معصوموں کو امید بھری نظروں سے یوں میری طرف تكتا دیکھ کر میرا دل پسیج گیا ۔۔۔۔۔میں نے بڑے بیٹے کو اپنے پاس بلایا تو تو دوڑ کر میرے قریب آ گیا ۔۔۔پھر میں نے چھوٹے بچے کو بھی اٹھا کر اپنے پاس بٹھا لیا ۔۔۔۔۔۔بڑا بچہ تھوڑا سمجھ دار تھا ۔۔۔۔میں نے اس سے اسکا کا نام دریافت کیا تو اس نے اپنا نام عبداللہ بتایا ۔۔پھر چھوٹے بچے کا نام اس نے پر پتہ چلا کہ اس کا نام سیف اللہ ہے ۔۔۔۔۔۔دونوں بچے بہت پیارے اور معصوم تھے ۔۔۔۔۔
مجھے ان پر بہت ترس آ رہا تھا ۔۔۔نہ جانے دونوں بچے کب سے ماں کے پیار کو تڑپ رہے تھے ۔۔۔تھوڑی دیر تک دونوں بچے مجھ سے کافی مانوس ہو چکے تھے ۔۔۔
میں نے ان دونوں کو اپنے آپ سے لگا لیا ۔۔۔۔انھیں خود سے لگاتے ہی میری ممتا جاگ اٹھی ۔۔۔میں نے دل نے پکارا ارادہ کرلیا تھا کہ ان دونوں کا ہر طرح سے خیال رکھ کر انہیں ہرممکن ماں کا پیار دینے کی کوشش کروں گی ۔۔۔۔
شاید ڈیڈھ دو سال تک اپنی ماں سے جدا رہنے کے بعد بچوں کو ماں کے بغیر ہی رہنے کی عادت ہو چکی تھی ۔۔۔یا پھر وہ اپنی دادی کو ہی ماں سمجھتے تھے ۔۔۔۔دن میں بچے کبھی میرے پاس آ جاتے اور کبھی واپس لوٹ جاتے ۔۔۔۔رات کو تو بچے بالکل میرے پاس نہیں آتے تھے ۔۔۔ وہ اپنی دادی کے ساتھ سوتے تھے ۔۔۔
میں بھی زیادہ تر اپنے کمرے میں موجود رہتی تھی ۔۔کیونکہ مجھے معلوم پڑ چکا تھا کہ تمام گھر والے اپنے آپ میں مگن رہنے والے لوگ ہیں ۔۔۔
میرا دل اندیشوں میں ڈوبا ہوا تھا پتا نہیں رومان کا مجھ سے کیا رویہ ہوگا ۔۔۔کہیں ان کا رویہ بھی ان کے گھر والوں جیسا ہوا تو ۔اسی کشمکش میں دو دن بیت گئے ۔۔۔میں اب بھی اس گھر میں اجنبیوں کی طرح رہی تھی ۔۔۔۔صرف کھانے کے وقت ہی مجھے بلا لیا جاتا ہے ۔۔۔رومان کا مجھے کچھ اتا پتہ نہیں تھا ۔۔۔۔
یہ شادی کا تیسرا دن تھا ۔۔میں آج بھی اجنبیوں کی طرح اپنے عروسی کمرے میں بیٹھی ہوئی تھی ۔۔۔اچانک کمرے کا دروازہ کھلا اور کوئی اندر آیا ۔۔میں نے دروازے کی طرف دیکھا تو رومان صاحب موجود تھے ۔۔۔۔رومان صاحب نے آتے ہی مجھے سلام کیا اور میرے ساتھ بیڈ پر بیٹھ گئے ۔۔۔
رومان صاحب نے میرے چہرے کی طرف دیکھا تو میں خالی خالی نظروں سے انہیں ہی تک رہی تھی ۔۔۔۔۔۔تھوڑی دیر تک رومان صاحب ٹکٹکی باندھ کر مجھے دیکھتے رہے ۔۔۔اور پھر گویا ہوئے ۔۔۔۔۔۔سمیہ مجھے پتا ہے میری وجہ سے تمہیں کافی پریشانی اٹھانی پڑی ہوگی مجھے معاف کر دو میں مجبور تھا ۔۔۔۔باباجی سرکار نے تم سے شادی کرنے کے سلسلے میں میری بہت مدد کی ہے . اگر وہ میرا ساتھ نہ دیتے تو شاید میں تمہیں کبھی نہ پا سکتا ۔۔۔۔ان کی بات ماننا میری مجبوری تھی ۔۔۔۔۔تمہارے بغیر میں بھی بہت پریشان تھا اور مجھے پل پل تمہاری یاد ستا رہی تھی ۔۔۔۔میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ آیندہ تمہیں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا ۔۔۔
تم ایک کام کرو مجھے بہت زور کی بھوک لگی ہے پلیز کھانا لگا دو ۔۔۔
میں اٹھ کی کچن طرف چلی گئ تاکہ رمان کے لیے کچھ کھانے کو لا سکوں ۔۔۔۔۔تھوڑی دیر بعد ہم اکٹھے کھانا کھا رہے تھے ۔۔۔رومان نے مجھے اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلایا ۔۔۔۔
رومان کا پیار بھرا رویہ دیکھ کر میری پریشانی قدرے کم ہو گئی تھی ۔۔۔۔کھانا کھانے کے دوران رومان بہانے بہانے سے میرا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں پکڑ لیتا اور مجھے اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلانے لگتا تھا ۔۔۔۔میں تو شرم سے پانی پانی ہوئی جا رہی تھی جب ہم کھانا کھا چکے تو رومان نے کہا کہ چلو سمیہ ہم کہیں گھوم پھر کر آتے ہیں ۔۔۔۔تم بھی بور ہو چکی ہوگی ۔۔۔۔۔۔تم ایسا کرو پہلے نہا کر فریش ہو جاؤ پھر میں تمہیں اپنے ہاتھوں سے تیار کرونگا ۔۔۔۔۔۔
جب میں نہا کر کے واش روم سے باہر آئی تو ۔۔۔رومان کے ہاتھوں میں سرخ رنگ کے دو ڈبے اور دو شاپنگ بیگ موجود تھے اور ایک بڑا سا باکس بیڈ پر موجود تھا ۔۔۔۔رومان نے آنکھ کے اشارے سے مجھے اپنی طرف بلایا ۔۔۔پھر ایک شاپنگ بیگ میری طرف بڑھاتے ہوئے مجھے کہا کہ تم جلدی سے یہ کپڑے پہن کر آؤ ۔۔۔
مجھے اس بات کی حیرانی ہوئی کہ یہ اتنی جلدی نیے کپڑے کہاں سے لے آئے ۔۔۔۔شاید گھر آنے سے پہلے ہی وہ یہ سامان خرید لاۓ ہونگے اور روم سے باہر کہیں رکھ آئے ہوں گے ۔۔۔
جب میں چینج کر کے باہر نکلی تو ۔۔رومان صاحب نے مجھے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بٹھا دیا ۔۔۔پھر وہ بیڈ پر موجود بڑا سا ڈبہ اٹھا کر لاۓ ۔۔۔اس ڈبے میں ميك اپ کا بہت سارا سامان موجود تھا ۔۔۔مجھے ميك اپ سے تیار کرنے کے بعد رومان نے سرخ رنگ کے دو ڈبے کھول کر میرے سامنے رکھ دیے ۔۔جب وہ ڈبے کھلے تو میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ۔۔ان دونوں ڈبووں میں سونے کے زیورات موجود تھے ۔۔زیورات دیکھ کر تو میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ۔ ۔دوسرے ڈبے میں ایک بڑا سا ہار تھا جس پر شاید ہیرا جڑا ہوا تھا ۔۔۔۔میں نے رومان سے پوچھا کہ کہ یہ کس کے لئے ہیں تو رمان نے جواب دیا کہ یہ میں منہ دکھائ کے طور پر تمہارے لئے لایا ہوں ۔۔۔
رمان نے مجھے اپنے ہاتھوں سے سجایا ، میرے بالوں میں کنگھی کی ، مجھے زیورات پہناے ۔۔۔ مجھے اپنے ہاتھوں سے جوتے تک پہناے جن پر نگینے جڑے ہوئے تھے ۔۔ جب میں نے اپنے آپ کو آئینے میں دیکھا تو میں خود کو پہچان نا سکی ۔۔۔۔ایک پل کے لیے تو میں سوچ میں پڑ گئی کہ کیا یہ وہی سمیہ ہے جو کراچی کی سڑکوں پر مانگ کر ایک وقت کا کھانا کھایا کرتی تھی ۔۔۔
نعمان صاحب کی نظریں تو میرے چہرے سے نہیں ہٹ رہی تھیں ۔۔۔ انھیں اپنی طرف یوں ترسی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے مجھے بہت لجا آ رہی تھی اور میں خود میں ہی سمٹی جا رہے تھی ۔۔۔۔۔
رومان نے میرے ماتھے پر بوسہ دیا اور پھر مجھے لے کر کمرے سے باہر نکلے تو رات کی تاریکی چھا چکی تھی ۔۔۔سب لوگ اپنے اپنے کمروں میں تھے ۔۔۔باہر اکا دکا ملازمایں کام کر رہی تھیں ۔۔۔
جب ہم گھر کی سیڑھیاں اتر کر نیچے پہنچے تو رمان مجھے لے کر سڑک پر پیدل چلنے لگے ۔۔۔گھر کے بالکل ساتھ والے احاطہ میں گيٹ لگا ہوا تھا جہاں ایک باوردی چوکیدار موجود تھا ۔۔۔رمان اور مجھے اس طرف آتا دیکھ کر چوکیدار نے گیٹ کھول دیا ۔۔جب ہم گيٹ سے اندر داخل ہوئے تو وہ ایک گیرآج تھا تھا جس میں آٹھ دس گاڑیاں موجود تھیں ۔۔۔میں بھی رومان کے پیچھے پیچھے چلتے ہوئے ایک گاڑی کے قریب پہنچ گئی ۔۔۔رمان نے گاڑی کے اندر بیٹھنے کے بعد دوسری طرف کا دروازہ کھول دیا اور مجھے اندر بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔۔۔میں بھی اگلی سیٹ پر رمان کے ساتھ بیٹھ گئی ۔۔۔
تھوڑی دیر بعد گاڑی تیزی سے سڑک پر گامزن تھی ۔۔۔رمان ایک ہاتھ سے گاڑی ڈرائیو کر رہے تھے اور دوسرے ہاتھ میں میرا ہاتھ پکڑے میری خوبصورتی کی تعریف کر رہے ہیں تھے ۔۔۔۔انہوں نے میرے ہاتھ کی انگلیوں کو اپنے انگلیوں کے درمیان جكڑا ہوا تھا ۔۔۔اس دوران کبھی کبھی وہ اپنی انگلیوں کے پور سے میری انگلیوں کو مسلنے لگتے ۔۔ ان کی اس حرکت سے مجھے بہت شرم آ رہی تھی ۔۔سچ بتاؤ تو میرے ہاتھ پاؤں کانپ رہے تھے ۔۔۔رمان نے میری یہ حالت میں محسوس کر لی اور میرا ہاتھ چھوڑ دیا ۔۔۔لیکن وہ بار بار میری طرف مسکرا کر دیکھ رہے تھے ۔۔۔شاید میری حالت پر انہیں ہنسی آ رہی تھی ۔۔۔
کچھ دیر بعد ہم ایک ہوٹل میں موجود تھے میں نے تو زندگی میں پہلی بار ایسا ہوٹل دیکھا تھا ۔۔۔رمان صاحب نے کھانے کا آرڈر دیا ۔۔۔۔۔تھوڑی سی دیر میں ويٹر مزے مزے کے کھانے لے آیا ۔۔۔میں نے زندگی میں پہلی بار ایسا کھانا کھایا تھا ۔۔کچھ کھانوں کا تو مجھے پتا بھی نہیں تھا کہ انھیں کھانا ہے یا پینا ہے ۔۔۔خیر جی بھر کے کھانا کھانے کے بعد ہم ہوٹل سے باہر آ گئے ۔۔۔
پھر رمان صاحب مجھے لے کر ایک مارکیٹ میں پہنچ گئے ۔۔یہ ملبوسات اور جوتوں کی مارکیٹ تھی ۔۔۔رمان صاحب نے مجھے بہت ساری شاپنگ کرآئی اور اپنی مرضی کے مہنگے مہنگے سوٹ جوتے اور پتا نہیں کیا کیا لے کر دیا ۔۔۔پھر مجھ سے پوچھنے لگے تم نے کچھ اور خریدنا ہے تو مجھے بتاؤ ۔۔۔میں انھیں بھلا کیا بتاتی مجھے تو بنا کہے سب کچھ مل گیا تھا ۔۔۔
مجھے خاموش دیکھ کر رومان صاحب نے کہا کہ اگر کچھ نہیں خریدنا تو پھر گھر چلتے ہیں ویسے بھی رات بہت ہوگئی ہے ۔۔۔جو سامان رہ گیا ہے تم مجھے بتا دینا ہم دوبارہ آ جائیں گے ۔۔۔
رومان کا ساتھ پا کر میں بہت خوش تھی ۔۔۔اپنی قسمت پر یقین نہیں آ رہا تھا ۔۔جہاں پچھلے دو دن سے میں صرف یہی سوچ رہی تھی کہ پتا نہیں کس قیدخانے پھنس گئی ہوں ۔۔۔اب رومان کا ساتھ پا کر مجھے وہی قید خانہ کسی جنت سے کم نہیں لگ رہا تھا ۔۔
تھوڑی دیر بعد ہم گھر پہنچ گئے ۔۔۔ مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے میں ہواؤں میں اڑ رہی ہوں ۔۔میرا دل کر رہا تھا کہ یہ لمحات یہیں ٹھہر جائیں اور میں ساری زندگی یونہی رومان کے ساتھ چلتے چلتے گزار دوں ۔۔۔۔
وہ نظریں جو کبھی مجھے اپنے جسم میں تیروں کی طرح چبھتی ہوئی محسوس ہوتی تھی ۔۔آج انہیں نظروں کا لمس میرے جسم میں گد گدی طاری کر رہا تھا ۔۔۔
رمان میرا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں پکڑے روم میں داخل ہوئے تو مجھے فریش ہونے کا کہہ کر خود باہر نکل گئے ۔۔۔
رومان کو گئے ہوئے کافی دیر ہو چکی تھی ۔میں بیڈ پر بیٹھی ان کے آنے کا انتظار کرتے ہوئے اپنی قسمت پر رشک کر رہی تھی ۔۔۔
رومان کافی دیر بعد روم میں اے تو میں مونہ دھو کر ميك اپ وغیرہ اتار چکی تھی اور بيڈ پر بیٹھی انکا انتظار کر رہی تھی ۔۔۔۔۔
رومان مسکراتے ہوئے آگے بڑھے اور بیڈ پر مجھ سے کچھ فاصلے پر بیٹھ گیے اور زیور وغیرہ اتارنے میں میری مدد کرنےلگے ۔۔۔۔۔ پھر میرے کان میں شرارت سے بولے آج آپ تھک تو نہی گئیں ۔۔۔۔مزہ آیا گھوم کر ۔۔۔۔۔
نہی میں بلکل ٹھیک ہوں ۔۔۔۔۔آپ سنائیں ۔۔۔۔
رومان نے مسکراتے ہوئے کہا ۔۔۔۔تمہارے پاس آ کر بالکل ٹھیک ہو گیا ہوں ۔۔۔۔انکے اس انداز پر میں شرما گئی ۔۔۔
یہ کہہ کر رمان نے میرے کا ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیا ۔۔۔اور محبت بھرے انداز میں بولے ۔۔۔۔
دیکھا آخر میں نے تمہیں اپنا بنا لیا نہ ۔۔۔تم بہت ظالم ہو ۔۔تم نے کبھی مجھے سے بات تک نہ کی تھی ۔۔۔۔۔بھلا کیا کمی تھی مجھ میں ۔۔۔۔کیا میں اس قابل بھی نہی تھا کہ مجھ سے بات ہی کر لی جاتی ۔۔۔۔۔
نہی ایسی کوئی بات نہی ہے آپ غلط مت سوچیں ۔۔۔۔
رمان مسکرایے اور جیب سے ایک طلائی انگھوٹی نکال کر میری انگلی میں پہناتے ہوے بولے ۔۔۔۔۔
‘ آج تو آپ بہت خوبصورت لگ رہی ہو ۔۔۔ ‘
میں نے بھی خفگی سے کہا ۔۔۔۔
‘ کیوں میں پہلے خوب صورت نہیں لگتی تھی ۔۔۔۔۔
اس بات پر رمان نے میرا ہاتھ اپنے ہونٹوں سے لگا لیا ۔۔۔
‘ آپ تو پہلے دن سے ہی میرے دل کی رانی بنی ہوئی تھیں لیکن آج کچھ زیادہ ہی خوبصورت لگ رہی ہو ۔۔۔۔ ‘ سمیہ میں۔ تم سے ببھٹ محبت کرتا ہوں ۔۔۔۔۔کبھی مجھ سسے جدہ نہ ہونا ۔۔۔۔۔۔۔
پھر رمان مجھے سمجھانے کے انداز میں بولے ۔۔۔دیکھو سمیہ پہلی بیوی سے میری طلاق ہوچکی ہے اور اس سے میرے دو بچے ہیں ۔۔۔اب ان دونوں بچوں کی ذمہ داری تمھیں اٹھانی ہے ۔۔۔۔۔مجھے امید ہے کہ تم سگی ماں کی طرح ہی ان کا خیال رکھو گی ۔۔۔۔
جی رمان آپ بالکل فکر نہ کریں آپ کو میری طرف سے کوئی شکایت نہیں ہوگی ۔۔میں ان دونوں کو اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھوں گی ۔۔۔۔
اور ہاں ایک اور بات میرے گھر والے تھوڑا سخت مزاج ہیں ۔۔۔لیکن اگر تم ان کے ساتھ پیار محبت اور احترام سے پیش آؤ گی تو ان کے دل بہت جلد پگھل جائیں گے ۔۔۔۔میرے والد صاحب تو اب بوڑھے ہو چکے ہیں اور زیادہ تر اپنے کمرے میں رہتے ہوے اپنے کام سے کام رکھتے ہیں ۔۔۔لیکن میری سوتیلی ماں شاید تم سے بغض رکھے گی ۔۔۔۔تم ان کی کڑوی باتوں کو بھی خوش اسلوبی سے برداشت کر لینا ۔۔۔تم دیکھنا آہستہ آہستہ ان کا رویہ بھی بدل جائے گا ۔۔
چونکہ تم بھی اب اس گھر کا حصہ ہو تو اسے جنت بنانے میں تمہیں بھی اپنا کردار ادا کرنا ،۔ایسی بہت سی باتیں برداشت کرنا ہونگیں جس سے اس گھر کا سکون برقرار رہ سکے ۔۔۔۔
میں بھی کوشش کروں گا کہ تمہیں بھی گھر کے کسی فرد کی طرف سے کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے گا ۔۔۔
جی رومان آپ جیسا کہہ رہے ہیں بالکل ویسا ہی ہوگا ۔۔۔
پھر رمان نے مجھے اپنی باہوں کے حسار میں سمیٹ کر میرے گالوں کو چوم لیا ۔۔۔۔۔ ۔۔۔یہ لمحات میری زندگی کے حسین ترین لمحات تھے ۔۔۔ رمان نے ہاتھ بڑھا کر کمرے کی لائٹ آف کر دی ۔۔۔ ۔۔۔پھر ہم دونوں پوری شدت سے لذت کی دنیا میں ڈوب گئے ۔۔۔۔رمان کا ساتھ پا کر میں بہت خوش تھی ۔۔۔۔میں نے کبھی سوچا بھی نہی تھا کہ رومان اتنی محبت کرنے والے ہونگے ۔۔۔
میں نے اگلے دن سے ہی رومان صاحب کی بتائی ہوئی باتوں پر عمل کرنا شروع کردیا ۔۔۔رومان کے گھر والے مجھ سے جتنا بھی برا رویہ رکھے ۔۔۔میں ان کی کسی بات کا برا نہیں مناتی تھی اور حسن سلوک سے پیش آتی رہی ۔۔۔اپنی سوتیلی ساس اور سسر کی تو میں بے انتہا خدمت کرتی تھی ۔۔۔۔۔رمان اپنے ماں باپ کی یہ خدمت دیکھ کر مجھ سے بہت خوش ہوتے اور مجھ سے بے انتہا محبت کرتے تھے ۔۔۔۔
عبداللہ اور سیف اللہ مجھ سے بہت مانوس ہو چکے تھے اور مجھے اپنی ماں ہی سمجھتے تھے ۔۔اب تو وہ ہر وقت میرے ساتھ ساتھ رہتے اور رات کو بھی میرے ساتھ ہی سویا کرتے تھے ۔۔۔۔عبداللہ دوسری کلاس میں پڑھتا تھا جبکہ سیف اللہ ابھی چھوٹا تھا اس لیے ہم نے اسے سکول داخل نہیں کرایا تھا ،۔۔۔رومان کبھی کبھی مجھے سمیرا میڈم سے ملوانے بھی لے جایا کرتے تھے ۔۔۔سمیرا میڈم مجھ سے مل کر بہت خوشی ہوتی تھیں ۔۔۔
اسی طرح ہنسی خوشی دو سال کا عرصہ گزر گیا ،چھوٹا سیف اللہ بھی اب سکول جانے لگا تھا ۔۔۔۔پچھلے دو سالوں میں رومان کا کاروبار کافی بڑھ چکا تھا ۔۔۔
ایک دن میں نے رومان سے زد کی کہ ۔۔مجھے اپنی بہن خالدہ کی بہت یاد آرتی ہے ۔۔۔نا جانے وہ کس حال میں ہوگی ۔۔۔بنگلہ دیش سے یہاں آنے کے بعد مجھے اس کی کوئی خبر نہیں ۔۔۔۔میرا دل کر رہا ہے کہ میں ایک بار بنگلہ دیش ضرور جاؤں اور اپنی بہن سے ملاقات کروں ۔۔۔۔شاید وہ بھی میری یاد میں اسی طرح تڑپتی ہوگی ۔۔۔
رمان نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تمہیں اپنے شہر کا نام یاد ہے ۔۔۔۔تمہیں گاؤں کا رستہ یاد ہے ۔۔۔۔نہی رستہ تو یاد نہی ہے لیکن مجھے اتنا پتہ ہے کہ ڈھاکہ سے 10 گھنٹے کا سفر کرنے کے بعد ایک شہر لکشمی پور آتا ہے پھر وہاں سے آگے دریا کے کنارے ہمارا گاؤں کمال پور ہے ۔۔۔۔۔
رمان بولے چلو شکر ہے تمہیں گاؤں کا نام تو یاد ہے آگے ہم خود پتہ کر لیں گے ۔۔۔۔
رمان نے مجھ سے وعدہ کیا کہ تھوڑا صبر کر لو میں بہت جلد بہت خود تمہیں بنگلہ دیش لے جاؤں گا ۔۔۔
رومان کے منہ سے ہاں سن کر میں بہت خوش ہوئی ۔۔۔اب مجھے بے صبری سے اس دن کا انتظار تھا جب میں اپنی بہن سے ملاقات کروں گی ۔۔۔میں نے تو اپنی بہن کے لیے تحفے تحائف بھی خریدنا شروع کر دیے تھے ۔۔۔کبھی کبھی تو میرے دل میں عجیب طرح کے اندیشے جاگ اٹھتے تھے ۔۔مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے میں اب کبھی اپنی بہن سے نہیں مل سکوں گی ۔۔۔۔۔
اگلے ہی لمحے میں ان خیالات کو اپنا دماغ سے جھٹک دیتی اور مستقبل کے تانے بانے بننے لگتی ۔۔۔
کچھ ہی دن بعد مجھے رومان نے خوشخبری سنائی کہ میں نے ہمارے بنگلہ دیش جانے کا بندوبست کر لیا ہے ۔۔۔دو دن بعد ہماری روانگی ہے ہم ہوائی جہاز کے ذریعے ڈھاکہ پہنچیں گے ۔۔۔۔ہوائی جہاز کا سن کر تو مجھے اور بھی خوشی ہوئی کیوں کہ میں زندگی میں کبھی ہوائی جہاز میں نہیں بیٹھی تھی بٹھنا تو دور کی بات میں نے تو کبھی ہوائی جہاز قریب سے بھی نہی دیکھا تھا ۔۔۔۔ ۔۔۔۔
دو دن بعد دونوں بچوں کو ان کی دادی کے پاس چھوڑ کر ہم بنگلہ دیش روانہ ہوگئے ۔۔۔خالدہ کے لئے لئے ہوئے سارے تحفے تحائف بھی میرے پاس تھے ۔۔صبح صبح ہم ڈھاکہ پہنچ چکے تھے ۔۔جب میں نے بنگلہ دیش کی زمین پر قدم رکھا تو مجھے اپنے جسم میں بجلیاں کوندتی ہوی محسوس ہویں ۔۔۔۔۔میرا بس نہیں چل رہا تھا ورنہ میں اڑ کر اپنے گاؤں پہنچ جاتی ۔۔۔۔۔
ائرپورٹ سے نکلنے کے بعد ہم ایک بڑی گاڑی میں بیٹھ کر میرے گاؤں کی طرف روانہ ہو چکے تھے ۔۔۔۔تقریبا سپہر کے وقت ہم پوچھتے پچھاتے کسی نہ کسی طرح ہمارے گاؤں پہنچ گئے ۔۔۔۔گاؤں کی کچی پکی گلیوں سے ہوتے ہوئے جب میں اپنے گھر کے سامنے پہنچی تو وہاں صرف مٹی کا ڈھیر تھا ۔۔یہ منظر دیکھ کر میرے دل میں طرح طرح کے وسوسے آنے لگے اور میری آنکھیں نم ہو گئیں مجھے ایسے لگا جیسے واقعی اب میں کبھی اپنی بہن سے نہیں مل سکوں گی ۔۔۔میں نے مایوس نظروں سے رومان کی طرف دیکھا تو رومان بولے ۔سمیہ تم پریشان نہ ہو ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری بہن کو ضرور دھونڈھ لیں گے ہوسکتا ہے اس نے مکان تبدیل کرلیا ہو ۔۔
اتنی دیر میں گاؤں کی دو چار عورتیں مجھے ایسی طرف آتے نظر آئیں ۔۔میں ان کے تھوڑا نزدیک ہوگی اور خالدہ اور اپنی ماں سے متعلق پوچھنے لگی ۔۔۔لیکن گاؤں کی عورتوں نے پوچھا کہ تم کون ہو اور انہیں کیسے جانتی ہوں ۔۔۔بنگلہ دیش میں رہتے ہوئے اول تو میں گھر سے ہی بہت کم نکلتی تھی اور ویسے بھی تین سال کا عرصہ گزر جانے اور میرے وضع قطع میں واضح فرق آجانے کی وجہ سے بھلا مجھے کون پہچان سکتا تھا ۔۔۔میرا پہناوا دیکھ کر بھلا کون یقین کرتا کہ یہ وہی سمیہ ہے جو ایک ایک نوالے کو ترستی تھی . ۔۔
جب میں نے ان لوگوں سے اپنا تعارف کرایا کہ میں خالدہ کی چھوٹی بہن سمیہ ہوں تو وہ لوگ حیران رہ گئے ۔۔۔
پہلے تو ان عورتوں نے یہ ماننے سے صاف انکار کر دیا کہ میں ہی سمیہ ہوں ۔۔۔لیکن جب میں نے انھیں گاؤں کے لوگوں اور اس دور میں پیش آنے والے چند واقعات کے بارے میں بتایا تو انہیں میرا یقین کرنا ہی پڑا ۔۔۔
ان میں سے ایک عورت نے بتایا کہ جب نواب سراج کو پتہ چلا کہ خالدہ نے تمہیں پاکستان فرار کرا دیا ہے تو اسے بہت غصہ آیا اور اس نے بدلہ لینے کے لیے اپنے کارندوں کے ذریعے خالدہ اور تمہاری ماں کو قتل کروا دیا ۔۔۔۔
میری ماں اور بہن کو کہاں دفن کیا گیا ؟؟
ہمیں صرف اتنا معلوم ہے کہ انھیں گاؤں کے ہی قبرستان میں دفن کر دیا گیا تھا ۔۔۔۔ان کی قبر کہاں ہے ہمیں یہ معلوم نہیں ۔۔۔۔
اگر تم نے ان کی قبر پر جانا ہے تو منشی ندیم ہی تمہاری مدد کر سکتا ہے ۔۔۔۔ منشی ندیم کی گاؤں میں کریانے کی دکان ہوا کرتی تھی اسے میں اچھے سے جانتی تھی بڑا بھلا انسان تھا ۔۔۔۔۔عورتوں سے رخصت ہو کر ہم چلتے چلتے منشی ندیم کی دکان پر پہنچ گئے ۔۔۔۔۔منشی ندیم کو میں نے اپنا تعارف کروایا تو اس نے مجھے پہچان لیا ۔۔۔۔۔منشی ندیم کی عمر چالیس پچاس سال کے لگ بھگ تھی ۔۔۔۔۔وہ ایک اچھا انسان تھا اور گاؤں کے لوگوں کا کافی خیال رکھتا تھا ۔۔۔۔۔
منشی ندیم نے ہمیں بتایا کہ ۔۔۔چونکہ تمہاری ماں اور بہن لاوارث تھے اسی لیے میں ہی انکا وارث بن گیا اور ان کے کفن دفن کا انتظام بھی کیا ۔۔چلو میں تمہیں ان کی قبروں پر لے چلتا ہوں ۔۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد ہم گاؤں کے قبرستان میں پہنچ چکے تھے ۔۔۔۔ندیم ایک جگہ دو خستہ حال قبروں کے پاس جا کر رک گیا ۔۔۔۔۔پھر ہاتھ کے اشارے سے مجھے بتانے لگا کہ یہ تمہاری ماں اور یہ تمہاری بہن خالہ کی قبر ہے ۔۔۔۔۔منشی ندیم قبروں کی نشاندہی کے بعد ہم سے اجازت لے کر وہاں سے رخصت ہوگیا ۔۔۔۔
میری ماں اور بہن کی قبروں کی دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے قبریں شدید خستہ حال ہو چکی تھیں ۔۔۔بنگلہ دیش میں تو ویسے بھی بہت بارش ہوتی ہیں ۔قو
قوی امکان تھا کہ اگر میں یہاں آنے میں مزید دیر کر دیتی تو پھر شاید مجھے ان کی قبروں کا نام و نشان بھی نہ ملتا ۔۔۔۔
میں کافی دیر تک اپنی ماں اور بہن کی قبروں پر بیٹھی فاتحہ خوانی کرتی آنسو بہاتی رہی ۔۔۔۔۔ماضی کے بیتے لمحات کسی فلم کی طرح میرے ذہن سے گذر رہے تھے ۔۔۔۔
رومان نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے مجھے تسلی دی ۔۔ پھر رومان نے قریب ہی موجود گاؤں کے دو گورکنوں کو بلایا اور جیب سے کچھ پیسے نکال کر ان کی طرف بڑھاتے ہوے کہا جتنا جلدی ہو سکے مجھے ان دونوں کی قبروں کی مرمت کر دو ۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد گورکن دونوں قبروں کی مرمت کرنے میں مصروف تھے ۔۔۔جب گورکن اپنا کام ختم کر چکے تو ہم ان کی بخشش کے لیے دعا مانگ کر قبرستان سے باہر نکال اے اور گاڑی میں بیٹھ کر واپسی کے لیے روانہ ہوگئے ۔۔۔۔
ہم لوگ آدھی رات کو کاکا پہنچے تھے اسی لئےہم نے ایک دن ڈھاکہ میں ہی قیام کیا اور اگلے دن پاکستان کے لیے روانہ ہوگئے ۔۔۔۔۔گھر واپس آنے کے بعد میں کئی دنوں تک بوجھل رہی۔۔۔مجھے اپنی بہن اور ماں کی موت کا شدید غم تھا ۔۔۔۔۔انکی یاد مجھے رہ رہ کر ستا رہی تھی ۔۔ میری بہن میری حفاظت کرتے کرتے اپنی جان گنوا بیٹھی ۔۔۔اسکے سوا میرا اس دنیا میں اور تھا ہی کون میں تو بالکل لاوارث ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔۔
خیر وقت بہت بڑا مرہم ہوتا ہے ۔۔۔آہستہ آہستہ میں بھی نارمل زندگی کی طرف لوٹ آئی تھی ۔۔۔
شادی کے ڈھائی سال گزرنے کے باوجود مجھے ابھی تک حمل نہیں ٹھہرا تھا ۔۔۔۔۔مجھے تو اولاد کی کوئی خاص خواہش نہیں تھی۔۔میں عبداللہ اور سیف اللہ کے ساتھ بہت خوش تھی ۔۔۔۔انہیں hiآئ اپنی اپنی اولاد سمجھتی تھی ۔۔۔۔لیکن رومان چاہتے تھے کہ میرے بتن سے بھی انہیں اولاد ہو ۔۔۔
ہم کئی ایک ڈاکٹروں سے چیک اپ کروا چکے تھے ۔۔اور ہر طرح کی دیسی انگریزی ادویات استعمال کر چکے تھے ۔۔۔۔۔لیکن میرا حمل ٹھہرنے کے کوئی امکانات نظر نہ آیے ۔۔۔۔
ایک دن رومان نے مجھے بتایا کہ امریکہ سے ایک ڈاکٹرنی پڑھائی کر کے آئی ہے …مجھے کسی نے بتایا کہ وہ بہت قابل ہے اور جدید آلات سے مرض کی تشخیص کرتی ہے ۔۔۔۔۔۔میں سوچ رہا ہوں کہ تمہیں ایک بار اسے ضرور دکھا لیا جائے ۔۔۔۔ہوسکتا ہے اللہ اس کے ذریعہ کوئی وسیلہ بنا دے اور مجھے تمہارے بتن سے بھی کوئی بچہ مل جائے ۔۔۔۔۔
میں نے رومان سے کہا کہ جیسے آپ بہتر سمجھیں ۔۔۔۔۔۔
کچھ دن بعد رومان مجھے اس ڈاکٹرنی کے پاس لے گئے ۔۔۔رمان نے اسے بتایا کہ ہماری شادی کو ڈھائی سال گزر چکے ہیں لیکن میری بیوی کو حمل نہیں ٹھہر رہا ۔۔ ہم نے بہت علاج کیا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا اور اب آخری امید لے کر آپ کے پاس آئے ہیں ۔۔۔۔۔میری بیوی کا اچھے سے علاج کریں جتنے پیسے لگیں میں دینے کو تیار ہوں ۔۔۔۔
ڈاکٹر صاحبہ نے اچھے سے میرا چیک اپ کیا ۔۔۔تھوڑی دیر بعد رومان اور میں دوبارہ ڈاکٹر صاحبہ کے سامنے بیٹھے تھے ۔۔۔۔ڈاکٹر صاحبہ کے چہرے پر حیرانگی کے آثار نمایاں تھے ۔۔۔۔
ڈاکٹر صاحبہ ایک گہری نگاہ ہم دونوں پر ڈالتے ہوئے رومان سے مخاطب ہوئیں ۔۔۔۔
آپ تو کہہ رہے تھے کہ ہماری شادی کو ڈھائی سال ہو چکے ہیں اور میری بیوی کو ابھی تک حمل نہیں ٹھہرا ۔۔۔۔لیکن میرے تجربہ اور رپورٹس سے پتہ چلا ہے کہ آپ کی بیوی ایک بار ماں بن چکی ہے اور اسكات حمل کی وجہ سے اس کے جسم میں کئی پیچیدگیاں بھی رونما ہوچکی ہیں ۔۔۔۔ان پیچیدگیوں کی وجہ سے اب بہت دیر ہو چکی ہے آپ کی بیوی اب دوبارہ کبھی ماں نہیں بن سکے گی ۔۔۔۔۔۔کیا آپ کو ان کے اسكات حمل کے بارے معلوم نہیں تھا ۔۔۔۔
یہ خبر سن کر ایک دم رمان کے چہرے کا رنگ اڑ گیا اور وہ کھا جانے والی نظروں سے میری طرف دیکھنے لگے۔۔رومان کی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا ۔۔۔۔ان کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر میری روح تک کانپ گئی ۔۔۔۔ میں شدید ندامت کا شکار تھی اور سوچ رہی تھی کہ زندگی نے مجھے کس دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے ۔۔۔
زمان صاحب میں نے کوئی جواب نہیں دیا اور ڈاکٹر صاحبہ کی باتیں خاموشی سے سنتے رہے ۔۔
پھر ہم نے ڈاکٹر صاحبہ سے اجازت لی اور گاڑی میں بیٹھ کر گھر کی طرف روانہ ہوگے ۔۔۔
اس دوران رومان کا چہرہ بالکل سپاٹ تھا ۔۔وہ شدید غصے میں گاڑی چلا رہے تھے ۔۔۔۔۔میرا دل بھی اندیشوں سے بھرا ہوا تھا ۔۔پتہ نہی رومان میرے بارے میں کیا سوچ رہے ہوں گے ۔۔۔۔شاید سوچ رہے ہوں کہ میں ایک بد چلن عورت ہوں اور شادی سے پہلے میرے کسی کے ساتھ ناجائز تعلقات رہ چکے ہونگے ۔۔۔۔۔یا پھر ان سے شادی کے بعد مجھے اولاد ہوئی اور میں نے انہیں بتائے بغیر اسقاط حمل کروا لیا ۔۔۔اندیشوں کا ایک طوفان میرے ذہن میں برپا تھا ۔۔۔
گھر پہنچ کر جیسے ہی میں اور رومان کمرے میں داخل ہوئے ۔۔۔رومان نے جھٹ سے کمرے کی چٹکنی لگا دی ۔۔۔وہ غصے سے سے بپھرے ہوئے تھے ان کے ہاتھ پاؤں کانپ رہے تھے ۔۔۔پھر شدید سرد لہجے میں مجھ سے گویا ہوئے ۔۔۔۔سمیعہ تم نے مجھے اتنا بڑا دھوکا دیا ۔۔۔تم نے میرا بھروسہ توڑا ہے ۔۔۔۔کتنا پیار کرتا تھا میں تم سے ۔۔کبھی میں نے تمہیں کسی قسم کی تکلیف دی ۔۔۔۔کیا تمہاری کوئی ایسی خواہش تھی جو میں نے پوری نہ کی ہو ۔۔۔۔۔میری محبت کا یہ صلہ دیا ہے تم نے ۔۔۔۔۔
رمان میری بات تو سنیں ۔۔۔۔۔۔آپ غلط سوچ رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔
بکواس بند کرو اپنی ۔۔۔رومان کی گرجدار آواز سن کر میں ایکدم سے کانپ گئی اور خاموش ہوگئی ۔۔۔
بدچلن عورت آج کے بعد مجھے اپنی شکل مت دکھانا ۔۔یہ کہتے ہوئے رومان روم سے باہر نکل گئے ۔۔۔
رومان خدا کا واسطہ ہے میری بات تو سنیں ۔۔۔۔ایسا مت کریں میرے ساتھ ۔۔۔۔۔میں نے پیچھے سے آوازیں دیں مگر وہ ان سنی کرتے ہوئے چلے گئے ۔۔۔
میں خاموشی سے اپنی قسمت پر آنسو بہانے لگی ۔۔۔۔تقدیر نے میرے ساتھ کتنا برا کھیل کھیلا تھا ۔۔۔مجھے لگا جیسے میرا سب کچھ ایک پل میں ہی مجھ سے چھین لیا گیا ہو۔۔۔جو کچھ بھی ہوا تھا اس میں میرا کوئی قصور نہیں تھا ۔۔۔میں تو معصوم تھی ۔۔۔۔مجھے کیا معلوم تھا کہ یہ دنیا درندوں سے بھری پڑی ہے ۔۔۔۔
جیسے تیسے رو دھو کر میرے دن گزرنے لگے ۔۔۔ میں نے سوچ رکھا تھا کہ رمان کو سب کچھ سچ سچ بتا دوں گی ..پھر ان کی مرضی چاہے تو وہ مجھے اپنے ساتھ رکھیں یا پھر جو سزا دینا چاہیئے مجھے منظور ہے ۔۔۔۔جو کچھ بھی میرے ساتھ ہوا تھا اس میں میرا تو کوئی قصور نہیں تھا ۔۔پھر اس کی سزا مجھے کیوں مل رہی تھی ۔۔۔۔۔
ڈاکٹر صاحبہ والے واقعہ کو ایک مہینہ گزر چکا تھا ۔۔اس دوران مجھ سے بات کرنا تو دور کی بات رومان نے اپنی شکل تک مجھے نہ دکھائی تھی ۔۔۔وہ کبھی کبھار ہی گھر آتے تھے اور مجھ سے ملے بنا واپس لوٹ جاتے تھے ۔۔۔جب تک ملازموں کے ذریعے مجھے ان کے آنے کی اطلاع ملتی تب تک وہ واپس جاچکے ہوتے تھے ۔۔۔۔
گھر والوں نے بھی کافی بار مجھ سے پوچھا کہ رومان کو کیا ہوا ۔۔۔وہ گھر کیوں نہیں آتا ۔۔کیا تم لوگوں کا آپس میں جھگڑا ہوا ہے ۔۔وہ اتنا چپ چپ کیوں رہتا ہے ۔۔۔۔۔۔میں مسلسل لاعلمی کا اظہار کرتی رہی ۔۔۔۔
رومان کے اس رویہ کی وجہ سے میں بیمار پڑ گئی ۔۔۔میں نے خود کو کافی حد تک اپنے ہی کمرے میں قید کر لیا تھا ۔۔اور دن رات آنسو بہاتی رہتی تھی ۔۔۔۔میری آنکھوں کے گرد سیاہ ہلکے آ گئے تھے ۔۔نقاہت سے برا حال تھا ۔۔۔یوں لگتا تھا جیسے میں سالوں سے بیمار ہوں ۔۔۔
رومان مجھ سے کوئی بات کرتے تو ہی میں ان کی بات کا جواب دے دیتی نہ ۔۔۔لیکن انہوں نے تو گھر ہی آنا چھوڑ دیا تھا ۔۔۔ہزاروں وسوسے میرے دل میں گھر کیے بیٹھے تھے ۔۔۔
کبھی کبھی تو میرا دل کرتا تھا کہ میں خود کشی کر لوں اور اس اذیت بھری زندگی سے آزاد ہو جاؤں ۔۔۔لیکن میں حرام موت نہیں مرنا چاہتی تھی ۔۔۔اسی لئے خود کو روکے رکھا ۔۔۔
جب میں رومان کی طرف سے بالکل مایوس ہو چکی اور مجھے کوئی راستہ نظر نہیں آرہا تھا تو میں نے آنٹی سمیرا سے مدد لینے کا فیصلہ کیا ۔۔۔
ایک دن میں گھر سے نکلی اور رکشہ میں بیٹھ کر چپکے سے آنٹی سمیرا کی فیکٹری پہنچ گئی ۔۔خوش قسمتی سے آنٹی سمیرا وہاں موجود تھیں ۔۔۔۔
جب میں آفس میں داخل ہوئی تو ۔۔۔آنٹی سمیرا میری حالت دیکھ کر پریشان ہو گئیں ۔۔۔وہ تیزی سے میری طرف آییں اور مجھے سہارا دے کر کرسی پر بٹھا دیا ۔۔سمیرا تمہیں کیا ہوا ہے اتنی پریشان اور اداس کیوں ہو ۔۔۔یہ کیا حالت بنا رکھی ہے اپنی ۔۔۔۔۔۔رومان کہاں ہے۔۔۔ سب ٹھیک تو ہے نا ۔۔
جی آنٹی کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔ہنستا بستا گھر بکھر گیا ہے ۔۔۔میں نے ایک مہینے سے رومان کی شکل تک نہیں دیکھی ۔۔۔وہ مجھ سے بات کرنا تک گوارا نہیں کرتے ۔۔۔۔
آنٹی میں بہت امید لے کر آپ کے پاس آئی ہوں ۔۔۔اب آپ ہی ہیں جو میرے گھر کو آجڑنے سے بچا سکتی ہیں ۔۔۔آپ میری مدد کریں گی نہ ۔۔۔۔
ہاں میرے بچے میں تمہاری مدد کیوں نہیں کرو گی مجھے بتاؤ کیا ہوا ہے ۔۔۔
پھر میں نے آنٹی سمیرا کو ڈاکٹر صاحبہ والی بات بتائی۔۔۔
یہ بات سن کر آنٹی سمیرا حیرت زدہ رہ گئیں ۔۔۔سمیہ یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔
جی انٹی یہ بالکل سچ ہے ۔۔آنٹی کو بتاتے ہوئے میری آنکھوں میں آنسو بھر آئے تھے …
آنٹی ایک بات میں نے آپ سے چھپائی تھی ۔۔۔مجھے لگا ایسی بات بتانے کے قابل نہیں ہے بس اسی لئے ۔۔۔
جب میں تیرا 14 سال کی تھی تو اپنی بڑی بہن خالدہ کے گھر رہنے گی ۔۔۔
پھر میں نے آنٹی کو پورا واقعہ سنایا کہ کس طرح میرے اپنے سگے رشتوں نے ہی میری عزت کو تار تار کیا ۔۔۔۔اور پھر میری ماں نے میرا کیا حشر کیا تھا ۔۔۔۔۔
میری کہانی سننے کے بعد آنٹی سمیرا رونے لگیں اور مجھے گلے لگا لیا ۔۔۔آنٹی سمیرا کے آغوش میں آکر مجھے بہت سکون ملا بس چپ کر آجا میری بچی سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔
میں ابھی رمان کو کال کرکے بلاتی ہوں ۔۔۔۔اور اسے سمجھآتی ہوں ۔۔۔۔
یہ کہہ کر سمیرہ میڈم نے ٹیلی فون اٹھایا اور رومان کے آفس کال کی ۔۔تھوڑی دیر بعد ہی رومان نے کال اٹھا لی تو میڈم سمیرا نہیں رمان سے حال احوال لینے کے بعد انھیں فورا اپنے آفس آنے کو کہا ۔۔۔۔اور پھر کال کاٹ دی ۔۔۔۔
آنٹی نے مجھے بتایا کہ ایک گھنٹہ تک رمان آ جائے گا ۔۔۔۔۔پھر آنٹی نے آفس بوائے کو آواز دے کر جوس وغیرہ لانے کے لیے کہا ۔۔۔۔۔ہم جوس پیتے پیتے آپس میں باتیں کرتی رہیں ۔۔۔۔
آنٹی کی تسلیوں کے بعد اب مجھے کچھ بہتر محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد رومان آنٹی کے آفس میں داخل ہوئے تو مجھے وہاں دیکھ کر کھا جانے والی نظروں سے میری طرف گھورنے لگے ۔۔۔آنٹی سمیرا نے رومان کو بیٹھنے کا اشارہ کیا..
پھر آنٹی سمیرہ نے رمان کو سمجھانے کے انداز میں کہا کہ رومان دیکھو تم سمیہ سے خواہ مخواہ بدگمان ہو رہے ہو ۔۔
جیسا تم سوچتے ہو ایسا کچھ بھی نہی ہے ۔۔۔۔پتہ نہیں سمیہ سے متعلق کتنی بدگمانیاں تمہارے دل میں گھر کیے بیٹھی ہیں ۔۔
رمان میری بات غور سے سنو ۔۔۔۔ڈاکٹر صاحبہ نے جو کچھ بتایا وہ بالکل صحیح تھا ۔۔۔جب تم نے پہلی مرتبہ سمیہ سے متعلق مجھ سے پوچھا تھا تو میں نے جان بوجھ کر تم سے سمیہ کے متعلق ایک بات چھپائی تھی ۔۔۔مجھے لگا تھا کہ کسی کو بھی یہ بات بتانا مناسب نہیں ۔۔۔۔اور پھر جب تم نے سمیہ سے شادی کی بات کی تو تب میں تھوڑی سی خود غرض ہو گئی تھی میں نے تمہاری اور سمیہ کی خوشی کے لئے یہ راز اپنے دل میں دفن کر دیا ۔۔۔اور سمیعہ کو بھی سختی سے منع کیا کہ تم یہ بات کبھی رمان کو مت بتانا ورنہ اس کا دل ٹوٹ جائے گا ۔۔۔۔پھر میرے ساتھ گزرا واقعہ سناتے ہوئے سمیرہ میڈم نے رمان سے کہا کہ تم خود بتاؤ بھلا اس سب میں سمیہ کا کیا قصور تھا ۔۔وہ بیچاری تو مظلوم ہے ۔۔۔کیا اسے حق نہیں کہ وہ ایک نارمل زندگی گزار سکے ۔۔۔۔۔کیا اسے اس بات کا حق نہیں کہ اگر اس سے متعلق کوئی اخلاق سے گری ہوئی بات ہو تو وہ اسے چھپاے رکھے اور کسی پر آیاں نہ ہونے دے ۔۔۔۔
کیا اسکی کوئی عزت نفس نہی ہے ؟؟
آنٹی سمیرہ کی باتیں سن کر رمان نے سر جھکا لیا ۔۔۔۔انہیں اپنے رویے پر ندامت محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔۔
حالانکہ آنٹی کو میں نے آج سے پہلے یہ بات بات نہیں بتائی تھی ۔لیکن انہوں نے میرا گھر ٹوٹنے سے بچانے کے لیے یہ بات بھی اپنے سر لے لی تھی کہ میں نے ہی سمیہ کو تمہیں یہ سب باتیں بتانے سے منع کیا تھا . .
بتاؤ رومان اب تمہارا کیا ارادہ ہے ۔۔۔کیا تم اب بھی سمیہ سے ناراض ہو ۔۔۔۔کیا تمہیں اب بھی سمیہ سے اولاد چاہئے ۔۔۔رومان تمہارے پہلے ہی دو بیٹے ہیں ۔۔۔اللہ کا دیا سب کچھ ہے ۔۔۔تم خدا کی رضا کے لئے سمیہ کو معاف کر دو ۔۔۔سمیہ تم سے بہت پیار کرتی ہے ۔۔۔جو کچھ بھی ہوا اسے بھول جاؤ اس میں اس معصوم کا کوئی قصور نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔۔اگر آج تم اس بے بس لڑکی سے راضی ہوگئے تو اللہ بھی تم سے راضی ہو جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔ذرا اس بے چاری کی حالت تو دیکھو ۔۔۔۔تم نے اسے اپنی صفائی تک پیش کرنے کا موقع نہیں دیا اور مورد الزام ٹھرا کر سزا سنا دی ۔۔۔ فرض کیا اگر یہ تمہیں کچھ بتاتی بھی تو بھلا کیا بتاتی ۔۔۔۔۔
آنٹی کی باتیں سن کر رمان کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے ۔۔۔۔رومان ایک جھٹکے سے اٹھے اور میرے پیروں میں بیٹھ گئے ۔۔۔سمیہ مجھے معاف کردو مجھ سے بہت بڑی غلطی ہو گی ۔۔۔۔۔۔میں کرسی سے ایسے اٹھی جیسے مجھے کرنٹ لگ گیا ہو۔۔۔میں ان سے دور ہوتے ہوئے بولی ۔۔۔ارے ارے یہ آپ کیا کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔آپ تو میرے مجازی خدا ہیں ۔۔۔۔بھلا میں کون ہوتی ہوں آپ کو معاف کرنے والی ۔۔۔۔آپ مجھ سے راضی ہوگئے یہی میرے لئے بہت ہے ۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد میں اور رومان گھر کے لئے روانہ ہو رہے تھے ۔۔۔۔آفس سے باہر نکلتے ہوئے میں نے ایک نگاہ مڑ کر آنٹی کی طرف ڈالی تو ۔۔۔۔آنٹی کا چہرہ طمانیت سے سرشار تھا اور وہ میری طرف دیکھ کر مسکرا رہی تھی ۔۔۔۔۔
اس دن کے بعد رومان نے میرا پہلے سے بھی زیادہ خیال رکھنا شروع کر دیا ۔۔وہ میری ہر خوشی کا خیال رکھتے تھے ۔۔۔ان کا ساتھ دوبارہ پاکر میری صحت بھی سنبھل گئی تھی ۔۔۔۔اور میں پہلے جیسی خوش وخرم رہنے لگی ۔۔۔۔
آج میری شادی کو بیس سال گزر چکے ہیں ۔۔ہمارا بڑا بیٹا عبداللہ 25 سال کا ہے ہم نے پچھلے سال ہی اس کی شادی کی ہے چھوٹا بیٹا سیف ابھی پڑھ رہا ہے ۔۔۔۔12 سال پہلے رومان کے ماں باپ کی وفات کے بعد ہم لوگ کراچی والا گھر چھوڑ کر لاہور شفٹ ہو گئے۔۔۔کیونکہ اس وقت کراچی کے حالات بہت خراب ہوچکے تھے ۔۔اور کاروباری افراد کے لیے کراچی کا ماحول پہلے جیسا موضوں نہیں رہا تھا ۔۔۔
اس لیے رومان نے اپنے حصے کا سارا کاروبار کراچی سے لاہور شفٹ کر لیا ۔۔۔۔
رومان آج بھی مجھ سے بے انتہا محبت کرتے ہیں ۔۔۔۔اولاد بھی میری فرمابردار ہے ۔۔۔۔میری بہو بھی میری اسی طرح خدمت کرتی ہے جس طرح میں نے اپنے ساس سسر کی خدمت کی تھی ۔۔۔۔
آنٹی سمیرہ کا انتقال ہوئے بھی کافی عرصہ گزر چکا ہے ۔۔۔میں آج بھی ان کی فاتحہ خوانی اور مغفرت کے لئے دعا کا اہتمام کرتی رہتی ہوں ۔۔۔۔۔انہی کی وجہ سے میری ازدواجی زندگی کی خوشیاں آج تک بر قرار ہیں ۔۔۔
آنٹی میں بہت امید لے کر آپ کے پاس آئی ہوں ۔۔۔اب آپ ہی ہیں جو میرے گھر کو آجڑنے سے بچا سکتی ہیں ۔۔۔آپ میری مدد کریں گی نہ ۔۔۔۔
ہاں میرے بچے میں تمہاری مدد کیوں نہیں کرو گی مجھے بتاؤ کیا ہوا ہے ۔۔۔
پھر میں نے آنٹی سمیرا کو ڈاکٹر صاحبہ والی بات بتائی۔۔۔
یہ بات سن کر آنٹی سمیرا حیرت زدہ رہ گئیں ۔۔۔سمیہ یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔
جی انٹی یہ بالکل سچ ہے ۔۔آنٹی کو بتاتے ہوئے میری آنکھوں میں آنسو بھر آئے تھے …
آنٹی ایک بات میں نے آپ سے چھپائی تھی ۔۔۔مجھے لگا ایسی بات بتانے کے قابل نہیں ہے بس اسی لئے ۔۔۔
جب میں تیرا 14 سال کی تھی تو اپنی بڑی بہن خالدہ کے گھر رہنے گی ۔۔۔
پھر میں نے آنٹی کو پورا واقعہ سنایا کہ کس طرح میرے اپنے سگے رشتوں نے ہی میری عزت کو تار تار کیا ۔۔۔۔اور پھر میری ماں نے میرا کیا حشر کیا تھا ۔۔۔۔۔
میری کہانی سننے کے بعد آنٹی سمیرا رونے لگیں اور مجھے گلے لگا لیا ۔۔۔آنٹی سمیرا کے آغوش میں آکر مجھے بہت سکون ملا بس چپ کر آجا میری بچی سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔
میں ابھی رمان کو کال کرکے بلاتی ہوں ۔۔۔۔اور اسے سمجھآتی ہوں ۔۔۔۔
یہ کہہ کر سمیرہ میڈم نے ٹیلی فون اٹھایا اور رومان کے آفس کال کی ۔۔تھوڑی دیر بعد ہی رومان نے کال اٹھا لی تو میڈم سمیرا نہیں رمان سے حال احوال لینے کے بعد انھیں فورا اپنے آفس آنے کو کہا ۔۔۔۔اور پھر کال کاٹ دی ۔۔۔۔
آنٹی نے مجھے بتایا کہ ایک گھنٹہ تک رمان آ جائے گا ۔۔۔۔۔پھر آنٹی نے آفس بوائے کو آواز دے کر جوس وغیرہ لانے کے لیے کہا ۔۔۔۔۔ہم جوس پیتے پیتے آپس میں باتیں کرتی رہیں ۔۔۔۔
آنٹی کی تسلیوں کے بعد اب مجھے کچھ بہتر محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد رومان آنٹی کے آفس میں داخل ہوئے تو مجھے وہاں دیکھ کر کھا جانے والی نظروں سے میری طرف گھورنے لگے ۔۔۔آنٹی سمیرا نے رومان کو بیٹھنے کا اشارہ کیا..
پھر آنٹی سمیرہ نے رمان کو سمجھانے کے انداز میں کہا کہ رومان دیکھو تم سمیہ سے خواہ مخواہ بدگمان ہو رہے ہو ۔۔
جیسا تم سوچتے ہو ایسا کچھ بھی نہی ہے ۔۔۔۔پتہ نہیں سمیہ سے متعلق کتنی بدگمانیاں تمہارے دل میں گھر کیے بیٹھی ہیں ۔۔
رمان میری بات غور سے سنو ۔۔۔۔ڈاکٹر صاحبہ نے جو کچھ بتایا وہ بالکل صحیح تھا ۔۔۔جب تم نے پہلی مرتبہ سمیہ سے متعلق مجھ سے پوچھا تھا تو میں نے جان بوجھ کر تم سے سمیہ کے متعلق ایک بات چھپائی تھی ۔۔۔مجھے لگا تھا کہ کسی کو بھی یہ بات بتانا مناسب نہیں ۔۔۔۔اور پھر جب تم نے سمیہ سے شادی کی بات کی تو تب میں تھوڑی سی خود غرض ہو گئی تھی میں نے تمہاری اور سمیہ کی خوشی کے لئے یہ راز اپنے دل میں دفن کر دیا ۔۔۔اور سمیعہ کو بھی سختی سے منع کیا کہ تم یہ بات کبھی رمان کو مت بتانا ورنہ اس کا دل ٹوٹ جائے گا ۔۔۔۔پھر میرے ساتھ گزرا واقعہ سناتے ہوئے سمیرہ میڈم نے رمان سے کہا کہ تم خود بتاؤ بھلا اس سب میں سمیہ کا کیا قصور تھا ۔۔وہ بیچاری تو مظلوم ہے ۔۔۔کیا اسے حق نہیں کہ وہ ایک نارمل زندگی گزار سکے ۔۔۔۔۔کیا اسے اس بات کا حق نہیں کہ اگر اس سے متعلق کوئی اخلاق سے گری ہوئی بات ہو تو وہ اسے چھپاے رکھے اور کسی پر آیاں نہ ہونے دے ۔۔۔۔
کیا اسکی کوئی عزت نفس نہی ہے ؟؟
آنٹی سمیرہ کی باتیں سن کر رمان نے سر جھکا لیا ۔۔۔۔انہیں اپنے رویے پر ندامت محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔۔
حالانکہ آنٹی کو میں نے آج سے پہلے یہ بات بات نہیں بتائی تھی ۔لیکن انہوں نے میرا گھر ٹوٹنے سے بچانے کے لیے یہ بات بھی اپنے سر لے لی تھی کہ میں نے ہی سمیہ کو تمہیں یہ سب باتیں بتانے سے منع کیا تھا . .
بتاؤ رومان اب تمہارا کیا ارادہ ہے ۔۔۔کیا تم اب بھی سمیہ سے ناراض ہو ۔۔۔۔کیا تمہیں اب بھی سمیہ سے اولاد چاہئے ۔۔۔رومان تمہارے پہلے ہی دو بیٹے ہیں ۔۔۔اللہ کا دیا سب کچھ ہے ۔۔۔تم خدا کی رضا کے لئے سمیہ کو معاف کر دو ۔۔۔سمیہ تم سے بہت پیار کرتی ہے ۔۔۔جو کچھ بھی ہوا اسے بھول جاؤ اس میں اس معصوم کا کوئی قصور نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔۔اگر آج تم اس بے بس لڑکی سے راضی ہوگئے تو اللہ بھی تم سے راضی ہو جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔ذرا اس بے چاری کی حالت تو دیکھو ۔۔۔۔تم نے اسے اپنی صفائی تک پیش کرنے کا موقع نہیں دیا اور مورد الزام ٹھرا کر سزا سنا دی ۔۔۔ فرض کیا اگر یہ تمہیں کچھ بتاتی بھی تو بھلا کیا بتاتی ۔۔۔۔۔
آنٹی کی باتیں سن کر رمان کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے ۔۔۔۔رومان ایک جھٹکے سے اٹھے اور میرے پیروں میں بیٹھ گئے ۔۔۔سمیہ مجھے معاف کردو مجھ سے بہت بڑی غلطی ہو گی ۔۔۔۔۔۔میں کرسی سے ایسے اٹھی جیسے مجھے کرنٹ لگ گیا ہو۔۔۔میں ان سے دور ہوتے ہوئے بولی ۔۔۔ارے ارے یہ آپ کیا کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔آپ تو میرے مجازی خدا ہیں ۔۔۔۔بھلا میں کون ہوتی ہوں آپ کو معاف کرنے والی ۔۔۔۔آپ مجھ سے راضی ہوگئے یہی میرے لئے بہت ہے ۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد میں اور رومان گھر کے لئے روانہ ہو رہے تھے ۔۔۔۔آفس سے باہر نکلتے ہوئے میں نے ایک نگاہ مڑ کر آنٹی کی طرف ڈالی تو ۔۔۔۔آنٹی کا چہرہ طمانیت سے سرشار تھا اور وہ میری طرف دیکھ کر مسکرا رہی تھی ۔۔۔۔۔
اس دن کے بعد رومان نے میرا پہلے سے بھی زیادہ خیال رکھنا شروع کر دیا ۔۔وہ میری ہر خوشی کا خیال رکھتے تھے ۔۔۔ان کا ساتھ دوبارہ پاکر میری صحت بھی سنبھل گئی تھی ۔۔۔۔اور میں پہلے جیسی خوش وخرم رہنے لگی ۔۔۔۔
آج میری شادی کو بیس سال گزر چکے ہیں ۔۔ہمارا بڑا بیٹا عبداللہ 25 سال کا ہے ہم نے پچھلے سال ہی اس کی شادی کی ہے چھوٹا بیٹا سیف ابھی پڑھ رہا ہے ۔۔۔۔12 سال پہلے رومان کے ماں باپ کی وفات کے بعد ہم لوگ کراچی والا گھر چھوڑ کر لاہور شفٹ ہو گئے۔۔۔کیونکہ اس وقت کراچی کے حالات بہت خراب ہوچکے تھے ۔۔اور کاروباری افراد کے لیے کراچی کا ماحول پہلے جیسا موضوں نہیں رہا تھا ۔۔۔
اس لیے رومان نے اپنے حصے کا سارا کاروبار کراچی سے لاہور شفٹ کر لیا ۔۔۔۔
رومان آج بھی مجھ سے بے انتہا محبت کرتے ہیں ۔۔۔۔اولاد بھی میری فرمابردار ہے ۔۔۔۔میری بہو بھی میری اسی طرح خدمت کرتی ہے جس طرح میں نے اپنے ساس سسر کی خدمت کی تھی ۔۔۔۔
آنٹی سمیرہ کا انتقال ہوئے بھی کافی عرصہ گزر چکا ہے ۔۔۔میں آج بھی ان کی فاتحہ خوانی اور مغفرت کے لئے دعا کا اہتمام کرتی رہتی ہوں ۔۔۔۔۔انہی کی وجہ سے میری ازدواجی زندگی کی خوشیاں آج تک بر قرار ہیں ۔۔۔
ختم شد۔۔۔
