مخمور جذبات

رومانوی داستان

اردو افسانے

مکمل ناول

views
0
Makmoor Jazbat Urdu Romantic Story مخمور جذبات

مکمل ناول

 

کل ایک لڑکی سے بات ہو رہی تھی جو انتہائی سمجھدار ، پڑھی لکھی اور اپنے تمام تر معاملات کو بخوبی انجام دینے والی ہے ۔۔۔بلکہ جس چیز کو بھی شروع کرتی ہے اسے احسن طریقے سے مکمل بھی کرتی ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ” میں زندگی میں جتنی بھی کامیاب سہی ۔۔مگر اپنی ذات کے ایک پہلو سے انتہائی پریشان ہوں اور یہی پہلو اکثر مجھے اپنی نظروں میں ہی گرا دیتا ہے ۔۔پھر اپنی ذات پر ہی اعتماد بحال کرنے میں مجھے کئی دن لگ جاتے ہیں۔۔”

 

پھر وہ وضاحت سے ہر بات بتانے لگی ۔۔کہ ” میری زندگی میں کچھ ایسے لوگ ہیں جن پر میں نے اپنے جذبات انویسٹ کیے اور تکلیف بھی بہت اٹھائی۔۔تکالیف کو مدنظر رکھتے ہوئے جب میں اپنے آپ کے لیے ہی کچھ اصول بناتی ہوں کہ اب مجھے ان لوگوں سے دور رہنا ہے یا ربط کم رکھنا ہے تو کچھ عرصہ ہی ان باتوں پر عمل ہو پاتا ہے اور میں تھوڑے عرصے بعد اپنے جذبات یا فطرت کے ہاتھوں مجبور ہو کر دوبارہ ان سے رابطہ کر لیتی ہوں اور انہیں احساس دلانے لگتی ہوں کہ وہ میرے لیے کس قدر اہم ہیں اور جب جواباً مجھے انتہائی برا رسپانس ملتا ہے تو میں اپنی ہی نگاہوں میں گر جاتی ہوں کہ میں تو اپنے ہی وعدے کا پاس نہ رکھ سکی ۔۔۔ حالانکہ میں تو دوسروں کو گائیڈ کرتی ہوں اور انہیں بہتری کی راہ سمجھاتی ہوں ۔۔مگر اپنی ذات میں اٹک جاتی ہوں۔۔”

اس دوران اس کے آنسو بہہ رہے تھے ۔۔بات کو جاری رکھتے ہوئے اس نے کہنا شروع کیا کہ ۔۔”ایسا نہیں کہ مجھ سے کبھی غلطی نہیں ہوئی۔۔رشتے اور تعلقات نبھانے میں مجھ سے بھی کچھ خطائیں ہوئی ہیں مگر میں معافی مانگنے میں ہمیشہ پہل کر لیتی ہوں ۔۔حالانکہ میرے غلطی سامنے والے کی نسبت بہت چھوٹی ہوتی ہے مگر پھر بھی ان لوگوں کا رویہ اور رسپانس انتہائی نامناسب ہوتا ہے جو مجھے اعتماد کی سیڑھی سے منہ کے بل گرا دیتا ہے اور مجھے یوں لگتا ہے کہ میں دوبارہ کبھی کوئی فیصلہ نہیں کر پاؤں گی یا کیا بھی تو اس پر عمل ہی نہیں ہو سکے گا۔۔۔ابھی کل کی بات بتاتی ہوں ۔۔میں نے جس دوست سے رابطہ انتہائی لمٹ میں رکھنے کا فیصلہ کیا تھا ۔۔اس کی یاد آنے پر میں نے اسے بے ساختہ کال ملا دی اور اسے اس کی اہمیت بتلانے لگی کہ” بہت اہم ہو تم میرے لیے ۔۔اس لیے میرے ساتھ اپنائیت والا رویہ رکھو”۔۔۔ حالانکہ میں بات کے دوران یہ بھی محسوس کر رہی تھی کہ میں اہمیت جتلانے والے جملے کہتے ہوئے تھک رہی ہوں اور دل میں اب اس دوست کی قدر بھی پہلے والی نہیں ۔۔پھر حیران بھی ہو رہی تھی کہ جب میرے دل میں اب اس کا مقام پہلے والا نہیں ہے تو میں کیوں یہ سب بول رہی ہوں ۔۔پھر وہی ہوا جو ہمیشہ ہوتا آیا ۔۔یعنی ناقدری والے جملے سنے اور کال ڈسکونکٹ ہو گئی۔۔

ایسا کیوں ہوتا ہے آخر میرے ساتھ۔۔۔۔؟؟؟؟”

 

میں نے سب سے پہلے اسے نارمل کیا اور بتایا کہ ہم انسانوں نے کچھ تعلقات نشے کی طرح پالے ہوتے ہیں ۔۔جیسے کسی کو شراب یا سگریٹ کا نشہ ہوتا ہے ۔۔بالکل اسی طرح کچھ تعلقات ایسے بن جاتے ہیں جن کو چھوڑنا ناممکن سا لگتا ہے ۔۔

 

انسان  کا  نشہ



تعلقات نشے کا درجہ تب اختیار کرتے ہیں جب ہم ان پر بہت انحصار کرتے ہیں اور ہر ہر بات ان سے شیئر کرنے کے عادی ہوجاتے ہیں ۔۔پھر جب ایسے لوگ ہماری زندگی میں نہیں رہتے تو ان سے رابطے کی ہمیں کریونگ ہونے لگتی ہے بالکل نشے کی طرح۔۔اور ایسا زیادہ تر ڈیپنڈنٹ پرسنیلٹی والوں کے ساتھ ہوتا ہے کیونکہ وہ اپنی رائے ، اپنی پسند اور یہاں تک کہ اپنی ذات کو بھی کبھی فوقیت نہیں دیتے ۔۔بلکہ سامنے والے کی ہر چیز کو اہمیت دیتے ہیں ۔۔

حقیقت یہ ہے کہ جس طرح نشہ چھوڑنے کے بعد دوبارہ نشے میں پڑ جانے کے چانسز ہوتے ہیں ۔۔بالکل اسی طرح انسان ان نشہ آور تعلقات میں بھی دوبارہ انوالو ہو سکتا ہے ۔۔اس لیے زیادہ پریشان ہونے کی بجائے اپنی شخصیت کی مضبوطی پر کام کیا جائے اور اپنے آپ کو ہر معاملے میں خود کفیل بنایا جائے ۔۔جب ناقدری ہو تو ہر ہر احساس کو لکھ لیا جائے تاکہ آئندہ کے پچھتاووں سے بچا جا سکے ۔۔جب بھی ایسا لگے کہ جذبات حاوی ہو رہے ہیں تو خود کو کسی ایسی چیز میں انگیج کر لیا جائے جو مکمل توجہ چاہتی ہے ۔۔تاکہ دھیان بٹ جائے اور دماغ کے وہ کیمیکلز جو رابطے پر ابھار رہے ہیں وہ ٹھنڈے ہو جائیں۔۔اس کی بار بار مشق بہت کار آمد ہو گی اور ساتھ ہی پہلی ناقدری پر لکھی گئی کیفیات کو بھی پڑھ لیا جائے ۔ 

 

ایک بات اور جو قابل ذکر ہے کہ ہر ناقدری کے بعد دوبارہ رابطے میں لمبا وقفہ ہو گا ۔۔اس لیے ہر بار کی ناقدری آپ کے فیصلے کو مضبوط بناتی جائے گی ۔۔اس لیے ہمت نہیں ہارنی۔۔کہ میں شاید عمل کر ہی نہیں سکتی ۔۔علاج بہترین ہو تو ہر مسئلہ حل ہو سکتا ہے ۔

نشے کے مریض بھی جب دوبارہ نشے میں پڑتے ہیں تو بعد میں آنے والا گلٹ ان کے وقفے کے دورانیے کو لمبا کرتا جاتا ہے پھر ایسا بھی ہوتا کہ کبھی جذبات میں آکر نشہ کرنے تو لگتے ہیں مگر اب کی بار یہ نشہ لذت سے خالی ہوتا ہے اور پھر ایک دن ایسا آتا ہے کہ شخصیت پختہ اور ارادے مصمم ہو جاتے ہیں ۔

جس طرح توبہ کی تو سچے دل سے جاتی ہے مگر دوبارہ گناہ ہوجائے تو یہ نہیں کہا جاتا کہ اب توبہ ہی نہیں کرنی۔۔بلکہ دوبارہ کی گئی توبہ پہلے والی سے مضبوط ہوتی ہے ۔

 

جن تعلقات کو رب نے جوڑنے کا حکم دیا ہے ۔۔وہ بھی نقصان دیں تو انہیں بھی لمٹ کر دیں تاکہ سلام دعا باقی رہے اور قطع تعلقی کا گناہ نہ ہو اور اگر تکلیف غیروں کی جانب سے ہے تو انہیں چھوڑ دیں ۔۔تاکہ آپ سلامت رہ سکیں ۔۔۔اگر آپ کی ذات ہی پارہ پارہ ہو گئی تو یہی لوگ آپ کا سب سے پہلے تمسخر اڑائیں گے ۔۔۔!

5 1 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments
error: Content is protected !!
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x