Mysterious killer پراسرار قاتل

Crime Story _ کراہم کی دنیا

تحریر کنول

قسط وار ناول

views
0
Mysterious killer پراسرار قاتل

مکمل ناول

وقت کا پہیا قدرت کی مقرر کردہ رفتار کے ساتھ مسلسل گھومتا رہتا ہے۔ گردش شام و سر عجب تماشے دکھلاتی ہے۔ وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا۔ یہ صورتیں بدل بدل کر ہماری زندگی رقم کرتا ہے۔ مستقبل لمحہ بہ لمحہ ماضی کے سانچے میں ڈھلتا رہتا ہے۔ ماضی انسان کا سرمایہ ہے اس کا ہم سایہ ہے جو کبھی اور کسی بھی حال میں اس کا پیچھا نہیں چھوڑتا۔ حال کو نکھارنے اور مستقبل کو سنوارنے کے ہزاروں ڈھنگ ہو سکتے ہیں لیکن دنیا کی کوئی طاقت ماضی کو تبدیل نہیں کر سکتی۔

میں نے انتہائی مصروف پیشہ ورانہ زندگی گزاری ہے۔ اس لیے میرا ماضی بھر پور اور توانا ہے۔ پولیس ڈیپارٹمنٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد میں ایک عرصہ تک کراچی میں بھی رہائش پذیر رہا ہوں۔ اس دوران میں چند مواقع ایسے بھی آئے جو بالواسطہ یا بلاواسطہ مجھے میر نے ماضی میں لے گئے اور برسوں پہلے بیتے ہوئے واقعات کسی سنسنی خیز فلم کے مانند پلک جھپکتے میں میری نگاہ تصور میں گھوم گئے۔ زمانہ گزشتہ کا کوئی بھولا بسرا کردار جب اچانک سامنے آجائے تو ذہن میں یادوں کا ایک دریچہ ساکھل جاتا ہے۔

وہ بھی ایک ایسا ہی کردار ہے۔

اس پر نظر پڑتے ہی میں چونک اٹھا تھا۔ میرے ذہن میں شناسائی کی کرن پیدا ہوئی اور جب میں نے ایک بھر پور نگاہ اس پر ڈالی تو اس سے متعلق میری یاد داشت تازہ ہو گئی۔ میں لگ بھگ پینتیس سال بعد اسے دیکھ رہا تھا۔ وہ اسی کی دہائی کا کوئی وسطی سال تھا۔

میں اپنی بیٹی اور تو اسی کے ساتھ عید کی شاپنگ کرنے صدر آیا تھا۔ اس وقت ہم زیب النساء اسٹریٹ سے گزر رہے تھے جب میں نے اسے دیکھا تھا۔ ہم گاڑی میں تھے اور وہ پریڈی وزیب النساء اسٹریٹ کے اتصال پر براجمان۔ اس کے بیٹھنے کا انداز بھکاریوں ایسا تھا اور حلیہ بھی خاصی حد تک بھیک مانگنے والوں سے مشابہ۔ اس وقت اس کی عمر کم و بیش ساٹھ سال رہی ہوگی۔

ہمیں واپسی کی جلدی تھی۔ ہم اس پروگرام کے تحت شاپنگ کرنے گئے تھے کہ انظار واپس گھر آکر گریں گے۔ وہ ماہ رمضان کے اختتامی دن تھے اور افطار میں صرف آدھا گھنٹہ باقی رہ گیا تھا۔ اس لیے میں نے اپنی بیٹی کو گاڑی روکنے کے لیے نہیں کہا۔ مذکورہ گاڑی میرے داماد کی تھی جو میری بیٹی کے تصرف میں رہتی تھی۔ اس وقت ڈرائیونگ بھی وہی کر رہی تھی۔ ان دنوں وہ عید منانے میرے پاس آئی ہوئی تھی۔

رات کو میں نے جب گھر والوں کے سامنے ماضی کے اس کردار کا ذکر کیا جسے آج میں نے صدر کے علاقے میں بھکاریوں کے روپ میں دیکھا تھا تو سب اصرار کرتے لگے کہ میں اس کے بارے میں تفصیلاً انہیں بتاؤں۔ خاص طور پر میری بیٹی اور خاص الخاص طور پرمیری نواسی وہ کہانی سننے کے لیے بیتاب تھی میں نے ان کی پر زور فرمائش پر اپنے ماضی کو

آواز دی ۔ پہلی ہی صدا پر میر نے ذہن نے کتاب ماضی کو کھول کر میرے سامنے رکھ دیا۔ میں صفحه به صفحه رقم اپنی یادداشت کو پڑھ کر سنانے لگا۔

وہ موسم سرما کی ایک ٹھنڈی ٹھار صبح تھی ۔

ان دنوں میں کوٹ اور (ضلع مظفر گڑھ) نے ایک تھانے میں تعینات تھا۔ میں حسب معمول تھانے پہنچا تو پتہ چلا کہ گزشتہ رات علاقے میں خودکشی کی ایک واردات ہو گئی تھی ۔ جس کا نسٹیبل نے مجھ تک یہ خبر پہنچائی میں نے اس سے پوچھا :

طفیل احمد ا کس نے خودکشی کی ہے بھئی؟”

” جناب ! وہ کوئی عورت ہے” کا نشیبل نے بتایا ” اس نے خود کو آگ لگا کر اپنی جان دی ہے۔”

میں نے پوچھا: اطلاع دینے تھانے کون آیا تھا؟“

اس بدبخت عورت کا بیٹا کانسٹیبل نے جواب دیا اس وقت بھی وہ باہر برآمدے میں بیٹھا ہوا ہے؟”

الحمد

وہ کب سے تھانے میں بیٹھا ہوا ہے؟”

“جناب! تقریبا دو گھنٹے ہو گئے ہیں اسے یہاں آئے ہوئے کانسٹیبل نے بتایا وہ صبح صبح ہی یہاں آ گیا تھا۔“

اب تک کیا کارروائی کی گئی ہے؟ میں نے قدرے سخت لہجے میں پوچھا:

” کچھ بھی نہیں جناب!”

کچھ بھی کیوں نہیں ؟ میں نے اسے گھورا اور گھنٹے اچھا خاصا وقت ہوتا ہے طفیل رہ جزبز ہوتے ہوئے بولا : “و و جی – ہم آپ کا انتظار کر رہے تھے۔”

“اگر میں مزید دو گھنٹے تک تھانے نہ پہنچتا تو تم لوگ یونہی ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھےہتے ؟ میں نے طنز آمیز لہجے میں کہا۔

کا تشکیل نے کوئی جواب نہیں دیا۔ سر جھکائے خاموش کھڑا رہا۔

میں نے درشت لہجے میں پوچھا: اے ایس آئی افضل شاہ کہاں ہے؟”

وہ ادھر تھانے ہی میں ہیں جناب!

اسے نور امیر نے پاس بھیجو میں نے تکا سمانہ لہجے میں کہا۔

وہ جانے کے لیے مڑا تو میں نے اضافہ کیا اور بہاں اطلاع دینے والے جس شخص کو تم لوگوں نے برآمدے میں بھا ر کھا نے اسے بھی اندر بھیجو رجی سر کانسٹیبل نے مودبانہ انداز میں کہا اور کمرنے سے باہر نکل گیا۔

اس تھانے میں متعین ہوئے مجھے زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا۔ یہاں کا نظام بہت بگڑا ہوا تھا اور خاص طور پر مجھے اوپر سے یہ کہہ کر یہاں بھیجا گیا تھا کہ ڈیوٹی کے ساتھ ساتھ مجھے اس تھانے کا رنگ ڈھنگ بھی بدلنا ہوگا۔ میں انے گزشتہ دو ماہ کی کوششوں سے اچھی خاصی کامیابی حاصل کرنی تھی۔ تھانے کے عملے میں اے این آئی افضل شاہ کے علاوہ دو تین کانسٹیبل ہی کام کے بندے تھے جن پر بھروسا کیا جا سکتا تھا۔ وہ واقعی فرض شناس اور دیانتدار پولیس اہلکار تھے۔ میں کسی لمبی چوڑی اکھاڑ پچھاڑ کے بغیر دھیرے دھیرے اس تھانے کا مزاج بدلنا چاہتا تھا۔ میں اس سلسلے میں اپنی گزشتہ کارکردگی سے مطمئن تھا۔ ان دنوں میں تھانے والے کوارٹر کے بجائے کینال کالونی کے ایک چھوٹے سے مکان میں رہائش پذیر تھا

لہذا روزانہ آنا جانا پڑتا تھا۔ جو میں گھنٹے تھانے کی جو حدی میں موجود رہنا ممکن نہیں تھا۔

کا تیل طفیل انکاری دکھانے سے باز نہیں آیا تھا۔ بقول اس کے اطلاع دینے والا شخص پر آمدے میں بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے اس شخص کو اندر بھیجنے کے لیے بھی کہا تھا مگر ہوا یہ ہے اے ایس آئی میرے پاس پہنچا۔ حالانکہ اصولی طور پر اگر کانسٹیبل نے برآمدے والے شخص کو میرے پاس بھیج دیا ہوتا تو وہ محض چند سیکنڈ بعد میرے سامنے ہوتا۔ خیر ان تمام بے اعتدالیوں اور بدنظمیوں کو ہی سدھارنے کے لیے مجھے یہاں بھیجا گیا تھا۔

اے ایس آئی افضل شاہ نے میرے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہا: ” جی حکم ملک صاحب ! آپ نے مجھے یاد فرمایا ۔”

فضل شاؤ! میں نے اس کے چہرے پر نگاہ جماتے ہوئے کہا: ” مجھے پتہ چلا ہے کہ لگ بھگ دو گھنٹے سے کوئی شخص ایک واردات کی اطلاع لے کر یہاں آیا ہوا ہے۔ ابھی تک کوئی کارروائی کیوں نہیں ہوئی ؟”

بس جناب! مجھے بھی ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی پتہ چلا ہے۔ وہ کھسیانا ہو کر بولا

آپ کے آنے کا وقت ہو گیا تھا اس لیے میں نے کسی قسم کی سرگرمی نہیں دکھائی ۔”

میں نے کہا: تمہیں ابھی کیوں پتہ چلا ۔ وہ شخص تو دو گھنٹے پہلے”

،،میں نے دانستہ جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔ وہ میرا مقصد سمجھتے ہوئے بولا: “جناب!

در اصل میں تھوڑی دیر کے لیے تھانے سے باہر چلا گیا تھا اس لیے خیر ! میں نے اس کی بات کاٹ دی اور کہا: ” فضل شاہ! تم سے میری جو امیدیں وابستہ ہیں، مجھے یقین ہے کہ تم ان پر ضرور پورا اترو گئے ایک لمحے کے توقف سے میں نے استفسار کیا: ” یہ خود کشی والا معاملہ کیا ہے؟“

اے ایس آئی نے جواب دینے کے لیے لب کھولے ہی تھے کہ کا نشیبیل الفیل احمد خودکشی کی اطلاع دینے والے شخص کو لے کر اندر آ گیا۔ میں نے کانسٹیبل کو واپس جانے کا اشارہ کرتے ہوئے متذکر ہ شخص کو اپنی میز کے سامنے بچھی کرسیوں میں سے ایک پر بیٹھنے کو کہا۔

وہ کرسی پر بیٹھ چکا تو اے ایس آئی افضل شاہ نے کہا: ” بندہ آپ کے سامنے حاضر ہو گیا ہے۔ اب آپ خود ہی اس سے سب کچھ پوچھ لیں ۔”

میں کچھ پوچھنے سے قبل اپنے سامنے بیٹھے ہوئے شخص کا یہ غور جائزہ لینے لگا۔

انداز اس کی عمر پچپیس اور تمہیں کے درمیان رہی ہوگی۔ قد درمیانہ صحت تسلی بخش اور شکل وصورت قابل تعریف تھی۔ اس کی شخصیت متاثر کن تھی۔ بلاشبہ اسے ایک وجہ شخص کہا جا سکتا تھا مگر اس وقت اس کے چہرہ حزن و ملال کی عملی تغییر پیش کر رہا تھا۔ پریشانی اور دکھ نے اس کی رعنائی کو گہنا دیا تھا۔

میں نے نرم لہجے میں دریافت کیا : ” جوان ! تمہارا نام کیا ہے؟”

جمیل احمد ! اس نے مختصر سا جواب دیا۔

میں نے کہا: مجھے پتہ چلا ہے، تمہاری ماں نے خود کشی کر لی ہے!”

خود کشی! اس نے الجھن آمیز بھی ہوئی نظر سے مجھے دیکھا۔

میں نے وضاحتی لہجے میں کہا: ”ہاں خود کشی مجھے بتایا گیا ہے کہ گزشتہ رات اس نے خود کو آگ لگا کر موت کے حوالے کر دیا ہے۔ تم اسی واقعے کی رپورٹ درج کروانے آئے ہونا ؟“

“حج جی! وہ کبت زدہ لہجے میں بولا ” آیا تو میں اس واقعے کی رپورٹ ذرج کروانے ہوں جناب .. بل لیکن اس نے جملہ ادھورا چھوڑ کر سوالیہ نظر سے مجھے دیکھا۔

ولیکن کیا؟” میں نے سنجیدہ لہجے میں کہا جناب یہ خودکشی کا معاملہ نہیں ہے اس نے دوٹوک انداز میں کہا: ”آپ کو غلط اطلاع دی گئی ہے۔”

میں نے پوچھا: “کیا یہ بات خود تم نے نہیں بتائی ؟“

بتائی؟“ہر گز نہیں جناب! اس کے لہجے میں قطعیت تھی۔

ہوں” میں نے پر سوچ انداز میں کہا: ” تو اس کا مطلب ہے کا تشکیل نے مجھے سے غلط بیانی کی ہے۔”

یہی بات ہو سکتی ہے جناب ! جمیل احمد نامی اس مصیبت زدہ شخص نے اظہار!” من خیال کیا۔ حالانکہ میں نے تو خود کشی کا لفظ تک منہ سے نہیں نکالا ۔”

میں نے جمیل سے پوچھا: ”پھر تم کس سلسلے میں رپورٹ درج کروانے آئے ہو؟”

وہ بولا : ” تھانیدار صاحب! میری چھوٹی امی کو حادثہ پیش آگیا ہے۔ رات اتفاقا ان کے بستر میں آگ لگ گئی جس میں جل کر وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی ہیں۔ سمر میں اسی واقعے کی اطلاع دینے “ وہ رک رک کر بول رہا تھا کسی نے مشور و دیا تھا

کہ ایسے واقعات میں پولیس کو ضرور خبر کرنا چاہیے اس لیے میں یہاں چلا آیا تھا بات کے اختام تک پہنچتے پہنچتے اس کی آواز بھرا گئی تھی ۔

مجھے کا نسٹیبل طفیل پر رہ رہ کر غصہ آ رہا تھا۔ اس نے خودکشی کے حوالے سے غلط بیان کر کے میری طبیعت مدر کر دی تھی۔ میں نے جھنجلاہٹ میں پہلے اس کو طلب کر لیا۔ کانسٹیبل کی گوشمالی ضروری تھی۔ اس قسم کے بیشمار واقعات میں نے گزشتہ دو ماہ میں بھگتائے تھے جب اپنے تھانے کے عملے کو ڈانٹ ڈپٹ کرنا پڑی تھی۔ تھوڑی دیر بعد طفیل احمد میرے سامنے امینشن کھڑا تھا۔

جی حکم ملک صاحب ! اس نے فدویانہ انداز میں کہا۔

“اوئے حکم کے غلام ! میں نے تیز نظر سے اسے گھورتے ہوئے کہا: “میں سختی پر اتر آیا تو تمہیں جو کہ بنا دوں گا پھر تم تاش کی گڈی سے باہر ہو جاؤ گے ۔ کسی کھیل میں تمہیں شریک نہیں کیا جائے گا۔ نکتے کی ڈبیا کے اندر کسی جو کر کے ساتھ پڑے آہیں بھرتے رہنا.

چاہے ٹھنڈی چاہے گرم ۔ میرا مطلب سمجھ رہے ہو نا مسٹر سمجھ دار ؟”.

آخری جملہ میں نے طنزیہ انداز میں کہا تھا۔ اس کے چہرے کے تاثرات سے میں ..

نے اندازہ لگایا کہ وہ میری بات کا مفہوم بخوبی جان گیا تھا اگرچہ جب وہ بولا تو اس کے لہجےمیں مکاری کی آمیزش تھی تاہم انداز انتہائی انکسارا نہ تھا۔۔

میں کچھ سمجھا نہیں ملک صاحب !

سمجھ جاؤ گے بڑی اچھی طرح سمجھ جاؤ گئے میں نے معنی خیز لہجے میں کہا۔

دائیں سمجھانے کے ایک سو ایک فارمولے جانتا ہوں۔ میں ذرا مختلف قسم کا تھانیدار ہوں۔ آہستہ آہستہ تمہیں پتہ چل جائے گا۔ فی الحال تو تم صرف اتنا بتاؤ کہ تم نے مجھ سےدروغ گوئی کیوں کی ؟”

کیسی دروغ گوئی ملک صاحب؟“ وہ مصنوعی لہجے میں بولا ۔

میں نے ڈانٹ آمیز انداز میں کہا: ” تم نے مجھے یہی بتایا تھا نا کہ ایک عورت نے خود کو آگ کے سپرد کر کے خودکشی کر ڈالی ہے مگر یہ شخص میں نے جمیل احمد کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: “بتا رہا ہے کہ اس والدہ ایک اتفاقی حادثے کا شکار ہو کر چل بسی ہے۔“

” جناب ! لوگ تھانے میں آ کر ایسی ہی غلط بیانیاں کرتے ہیں، طفیل نے فلسفیانہ انداز میں کہا: ”اپنے جرم کو چھپانے کے لیے کچی جھوٹی کہانیاں سناتے ہیں اور من گھڑت تاویلیں پیش کرتے ہیں۔ ان سے سختی سے پیش آنا چاہیے ورنہ یہ تو پولیس کو انگلیوں پر نچا کر میں نے غصیلے لہجے میں کہا: ” تو تم مجھے آداب تھانے داری سکھاؤ گے؟”

“جناب میں نے تو محض ایک بات کی تھی وہ مسکین سی صورت بنا کر بولا۔

طفیل احمد خلیفہ قسم کا پولیس اہلکار تھا۔ مجھے معلوم ہوا تھا کہ وہ سابق تھانیدار کی آنکھوں کا تارا تھا۔ ہر اچھے برے کام میں وہ شامل رہتا تھا۔ تھانہ انچارج کا لاڈلا ہونے کے سبب وہ خاصا بدتمیز بھی ہو گیا تھا تاہم میں نے اسے کیل ڈالنے کا حتمی فیصل کر لیا تھا۔ یا تو ادہ سدھر جاتا یا پھر کسی اور تھانے میں بھیج دیا جاتا۔

میں نے سرزنش آمیز انداز میں کہا: طفیل احمد! میں تمہیں آخری موقع دے رہا ہوں۔ آج کے بعد اگر تم نے کوئی شکایتی فعل کیا تو پھر مجھ سے شکوہ نہ کرنا۔ میں پہلے بھی تمہیں کئی بار تنبیہ کر چکا ہوں۔”

وہ اپنے عمل پر ندامت کا اظہار کرنے کے بجائے ڈھٹائی سے خاموش کھڑا رہا۔

میں نے تحکمانہ لہجے میں کہا: “جاؤ جا کر اپنا کام کرو۔”

میں اگر چاہتا تو جارحانہ اقدام کر کے تھانے کی صورتحال کو ٹھیک کر سکتا تھا۔ میری ذراسی شکایت پر حکام بالا نورا کارروائی کرتے مگر میں طاقت سے نہیں بلکہ لیاقت سے کام کرنا چاہتا تھا۔ میں اس تھانے کے جوتے میرے اہلکاروں کو سدھارنا چاہتا تھا اور سدھار ہمیشہ نرمی درگزر اور محبت سے پیدا ہوتا ہے۔ زبردستی طاقت کا استعمال اور انتقامی کارروائی ہمیشہ بغاوت کو جنم دیتی ہے۔ جس سے نتیجتا بگاڑ ہی کی توقع رکھی جاسکتی ہے۔

میں اپنے سامنے بیٹھے ہوئے جمل احمد کی جانب متوجہ ہو گیا : ” تم نے بتایا ہے کہ تمہاری چھوٹی امی کو حادثہ پیش آیا ہے۔ یہ چھوٹی امی سے تمہاری کیا مراد ہے؟”

چھوٹی امی میری سوتیلی ماں تھیں اور دکھ بھرے لہجے میں بولا آٹھ نو ماہ پہلے ایا جی نے دوسری شادی کر لی تھی ۔”

” کیا تمہاری سنگی والدہ ہم”

میں نے دانستہ جملہ نامکمل چھوڑ دیا۔ وہ میری بات کا مطلب سمجھ گیا’ جلدی سے بولا : نہیں جناب! خدا کے فضل و کرم سے میری بڑی امی یعنی میری سنگی والدہ بقید حیات ہیں ۔ بس ذرا گوشہ نشین ہو گئی ہیں ۔”

اچھا اچھا! میں نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔

وہ بولا: ”جناب! میں کافی دیر سے تھانے میں بیٹھا ہوا ہوں۔ کیا اب مجھے جانے کی اجازت ہے۔ میں نے آپ کو اس سانحے کی اطلاع دے کر اپنا فرض پورا کر دیا ہے۔ کیا آپ کسی قسم کی کارروائی کریں گے یا ہم اپنے طور پر چھوٹی امی کی تجہیز و تجمعین کا بندو بست وغیرہ کرلیس؟”

جمیل احمد ! میں نے کھنکار کر گلا صاف کرتے ہوئے کہا: ” تم نے ہمیں اطلاع دے کر اپنا فرض پورا کر دیا ہے۔ اب ہم نے بھی اپنا فرض نبھانا ہے۔ میں ابھی تمہارے ساتھ جائے وقوعہ پر چلتا ہوں۔ اس سلسلے میں قانونی کاروائی بہت ضروری ہے۔ ایک لمحے کے توقف سے میں نے پوچھا: ” تمہارا گھر کس طرف ہے جمیل احمد ؟

شمال کی طرف ہم کھو کھر آباد میں رہتے ہیں جناب! اس نے جواب دیا۔

” کیا تمہارا والد اس وقت گھر میں ہے؟”

نہیں جی! اس نے نفی میں گردن ہلائی ابا جی تو کل صبح سے گئے ہوئے ہیں ۔“

” کہاں گئے ہوئے ہیں؟”

ڈیرہ غازی خان جناب!

ڈیرہ غازی خان میں کسی جگہ ؟

“کوٹ قیصرانی! ” اس نے جواب دیا تونسہ سے تھوڑا آگے یہ کوٹ واقع ہے

ہاں ہاں میں نے دیکھا ہے ۔” میں نے تصدیقی انداز میں کہا توفہ کوٹ قیصرانی جھونک بلڈ شاہ زندہ وغیرہ وغیرہ ایک لمحے کو رک کر میں نے سوال کیا : ” تمہارا باپ کوٹ قیصرانی کیا لینے گیا ہے؟“

بیو پاری اشرف علی سے ملنے اس نے بتایا۔

” کیا تمہارا باپ بھی کوئی بیو پار کرتا ہے؟”

ادھر مین بازار میں ہماری بہت بڑی دکان ہے جناب!‘ جمیل احمد نے جواب دیا ” فضل ایجنسی کے نام ہے۔“

یہ کس قسم کی ایجنسی ہے؟”

”جناب! ہم تھوک کا کاروبار کرتے ہیں، اس نے بتایا ‘ہماری دکان پر بناسپتی گھی مختلف قسم کے تیل اور کپڑے دھونے کا صابن فروخت کیا جاتا ہے۔”

میں نے پوچھا: “جمیل احمد ا یہ “ہم” اور “ہماری” سے تمہاری کیا مراد ہے۔ کیا تم بھی اپنے والد کے ساتھ ہی ایجنسی پر کام کرتے ہو؟”

بولا ۔آپ کا اندازہ بالکل درست ہے جناب! ” وہ اثبات میں گردن ہلاتے ہوئے” تمہارے والد کا نام کیا ہے؟”

و فضل کریم و کوب قیصرانی سے واپس کب آئے گا ؟”

آج شام تک ابا جی واپس آجائیں گئے وہ پرو شوق لہجے میں بولا۔

میں نے کہا: ” اس کا مطلب ہے فضل کریم اپنی دوسری بیوی کو پیش آنے والے حادثے سے بے خبر ہے؟”

ظاہر ہے جناب! ابا جی کو تو اسی وقت پتہ چلے گا جب وہ واپس کوٹ ادو پہنچیں گئے جمیل احمد نے کہا: خدا خیر کرنے پتہ نہیں، آج کیا ہونے والا ہے؟”

میں نے کہا: ” جو کچھ ہو چکا اس سے زیادہ کچھ نہیں ہوگا جمیل احمد۔ تم حوصلہ رکھو اللہ بہتر کرے گا۔”

دہ تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد افسوسناک انداز میں سر ہلانے لگتا تھا۔ آئندہ آدھے گھنٹے میں میرے مختلف سوالات کے جواب نہیں جمیل احمد نے جو معلومات بہم پہنچا ئیں ان کا خلاصہ کچھ اس طرح سے تھا۔ میں نے غیر متعلقہ اور غیر ضروری یا توں کو از خود حذف کر دیا ہے تا کہ آپ کسی قسم کی بوریت محسوس نہ کریں۔

جمیل احمد فضل کریم کی اکلوتی اولاد تھا۔ اکلوتی اولاد ان معنوں میں کہ جمیل کے بعد اس کے پانچ بہن بھائی ( تین بہنیں دو بھائی) پیدائش کے فورا بعد وفات پاگئے ۔ ان پے در پے سانحات نے جمیل کی والدہ زیتون بی بی کو بری طرح متاثر کیا تھا۔ وہ صدمات جھیلتے جھیلتے چار پائی سے جا لگی تھی اور آج کل تو اس کی سماعت بھی جاتی رہی تھی گویا وہ مکمل طور پر

بہری ہو چکی تھی۔ بینائی بھی خاص حد تک کمزور ہو گئی تھی بعض اوقات چہرے پہچاننے میں بھی اسے دقت کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ جمیل کا گھر دو منزلہ تھا اور پختہ بنا ہوا تھا۔ زیریں منزل پر پہلو بہ پہلو دو کمرے بنےہوئے تھے ان کے آگے برآمدہ تھا پھر کشادہ کمرہ تھا۔ دوسری منزل پر صرف دو کمرے تھے۔

ہاتھ روم اور باورچی خانہ وغیرہ من ہی میں ایک جانب بنے ہوئے تھے۔

جمیل احمد احمد شادی شدہ تھا اور اپنی بیوی زرینہ کے ساتھ زیریں منزل کے ایک کمرے میں رہتا تھا۔ زرینہ کا تعلق موضع چین والا غازی گھاٹ (ضلع مظفر گڑھ) سے تھا۔

غازی گھاٹ دریائے سندھ کے کنارے پر واقع ہے۔ دریا کی دوسری جانب ڈیرہ غازی کازرخیز علاقہ ہے۔

زیریں منزل کے دوسرے کمرے میں کلی بہری اور جزوی اندھی خاتون زیتون بی نی کی رہائش تھی۔ فضل کریم اپنی دوسری بیوی کے ساتھ گھر کی بالائی منزل پر رہتا تھا۔ دوسری بیوی کا نام سلمی تھا ۔ بیل کے مطابق اس کی عمر میں سال سے زیادہ نہیں تھی جبکہ فضل کریم پچپن کر اس کر چکا تھا۔ فضل کریم کی دوسری شاد گویا نو جوانی اور بڑھانے کا مقابلہ تھا۔ ایسے انوکھے اور یادگار مقابلوں کی ایک آدھ مثال ہر علاقے میں مل جاتی ہے. اپنی سنسنی کہانی کےساتھ ۔

“فضل کریم نے جب سے دوسری شادی کی تھی اس کے بعد سے زیتون بی بی سے اس کی رہی سہی دلچسپی بھی ختم ہو گئی تھے۔ زچون بی بی راضی بہ رضا ستم کی ایک صابر و شاکرعورت تھی جس نے فضل کریم کی دوسری شادی پر اف تک نہیں کی تھی حالانکہ وہ اگر چاہتی تو اچھا خاصا ہنگامہ کھڑا کر سکتی تھی۔ اس کا تعلق شجاع آباد (مضلع ملتان) کے ایک طاقتور زمیندار گھرانے سے تھا مگر اس نے اسے اپنی قسمت میں لکھا سمجھ کر خاموشی اختیار کر لی تھی۔

سلمی نہ صرف کم عمر تھی بلکہ حسین و خوبصورت بھی تھی۔ وہ دلکشی میں اپنی مثال آپ تھی۔ لوگ اسے موم کی گڑیا بھی کہتے تھے ۔ یہی مرتع حسن و جمال اب ناپید ہو چکا تھا۔ ظالم آگ نے اس کے گل ایسے بدن کو ھلا کر رکھ دیا تھا۔ آئن کی پیاسی زبان نے اس کی زندگی حیات ملی تھی۔

یہ آگ بھی عجیب شے ہے۔ کہیں یہ اپنی تپش ہے سونے کو کندن میں بدل دیتی ہے اور کہیں مرمرین بدن کا کوئلہ بنا کر رکھی دیتی ہے۔ حاسد شخص اپنی ہی آگ میں جل کر نتا ہو جاتا ہے اور جن کے سینے میں عشق و محبت کا شعلہ روشن ہوتا ہے ان کی نگاہ سے پردے اٹھ جاتے ہیں۔ وہ اس شعلے کی روشنی میں بہت دور تک دیکھنے کی قدرت حاصل کر لیتے ہیں۔ آتش عشق بصارت کو بصیرت میں ڈھال کر انسان کو امر کر دیتی ہے۔ وہ عشق ہی تھا جس نے آتش نمرود کو بہشت زار بنا دیا تھا۔

میں جمیل احمد کے ساتھ جب جائے وقوعہ پر پہنچا اس وقت دو پہر ہو چکی تھی۔ اے ایس آئی افضل شاہ بھی میرے ساتھ تھا۔ کھوکھر آباد میں فضل کریم کا مکان اپنی گلی کا سب سےنمایاں مکان تھا کیونکہ باقی تمام مکان ایک منزلہ تھے ۔ علاوہ ازین فضل کریم کا مکان بنا ہوا بھی بہت اچھا تھا۔

جمیل ہمیں مکان کی بالائی منزل پر لے گیا۔ ہم سیدھے اس کمرے میں پہنچے جہاں سلمنی کو دہ حادثہ پیش آیا تھا۔ میں نے جائے وقعہ کا بغور جائزہ لیا اور چونک اٹھا۔ سب سے پہلا جو خیال میرے ذہن میں آیا وہ یہ تھا کہ سلنی کسی اتفاقی حادثے کا شکار نہیں ہوئی تھی۔ یہ خیال بڑا سنسنی خیز تھا اور انکشاف انگیز ہو سکتا تھا۔

وہ سردیوں کا موسم تھا اور رات کو سونے کے لیے لحاف وغیرہ ضرور استعمال کیے

جاتے تھے۔ سلمیٰ اپنے بستر سمیت جل کر کوئلہ ہو گئی تھی۔ اس کی چارپائی بھی تقریبا جل چکی تھی

بس پایوں کی ادھ جلی کچھ لکڑی باقی تھی۔ اتفاقی حادثے میں کوئی یوں چپ چاپ موت کو گلے نہیں لگا لیتا۔ جلنے کے اس عمل میں کم از کم آدھا گھنٹہ تو ضرور لگا ہو گا۔ اگر وہ اتفاقی حادثہ تھا تواس دوران میں سلمی نے خود کو بچانے کی کوشش کیوں نہیں کی۔ کیا وہ اتنی بے خبر سوئی ہوئی تھی کہ آگ اسے دھیرے دھیرے کھاتی رہی اور اسے مطلق خبر نہ ہو سکی۔ یہ بے خبری سمجھ میں آنے والی نہیں تھی۔

میرا ذہن چونکہ ہوشیار ہو چکا تھا اس لیے میرے تیور بھی بدل گئے ۔ میں نے اےایس آئی کو جائے وقوعہ کا تفصیلی نقشہ تیار کرنے کی ہدایت کی اور خود جمیل احمد سے پوچھ کچھ شروع کر دی۔ میں لاش کا مکمل معائنہ کر چکا تھا اس لیے میرے ذہن میں متعدد سوالات سراٹھا رہے تھے۔

میں نے جمیل احمد کو گھورتے ہوئے پوچھا: تم اسے اتفاقی حادثہ کہتے ہو؟“

“جناب! یہ حادثہ نہیں تو اور کیا ہے؟ وہ الجھن زدہ لہجے میں بولا۔

میں نے کہا: “دیکھو جمیل احمد ! ایک بات کان کھول کر سن لو اور وہ یہ کہ میں اس واقعے کو اتفاقی حادثہ مانے کو تیار نہیں ہوں اس لیے …

میں نے جملہ ادھورا چھوڑ کر اسے سرد نظر سے دیکھا اور اپنی بات مکمل کرتے ہوئے کہا: “اگر تم اپنے بیان میں کہیں کوئی گڑبڑا کر رہے ہو تو ابھی وقت ہے مجھے سب کچھ بتا دو ورنہ اگر وقت گزر گیا تو پھر تم برے پھنسو گے۔”

,میری سمجھ میں نہیں آرہا کہ آپ کیا کہنا چاہتے ہیں۔”

میں یہ کہنا چاہتا ہوں برخودار! میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے۔

نرمی سے کہا: ” کہ کوئی بھی انسان یوں خاموشی سے جل کر ختم نہیں ہو جاتا۔ وہ اپنی جان بچانے کے لیے ہاتھ پاؤں مارتا ہے واویلا مچاتا ہے۔ اور کچھ نہیں تو چیختا چلاتا ہے۔ کیا تم نے سلمنی کے چیخنے چلانے کی آواز سنی تھی . اور اگر سی تھی تو پھر تم نے اسے بچانے کی کوشش کیوں نہیں کی؟”

ابونت آمیز لہجے میں بولا : ” تھانیدار صاحب ! آپ میری بات کا یقین کریں میں نے سلمی یعنی چھوٹی امی کے چیخنے چلانے کی کوئی آواز نہیں سنی۔ وہ تو اگر اف بھی کر دیتیں تو میں بھاگا بھاگا اور پہنچ جاتا۔ میں نے ہمیشہ ان کا بہت خیال رکھا ہے۔”

میرے ذہن میں یہ خدشہ بار بار سر ابھار رہا تھا کہ سلمی، جمیل احمد کی سوتیلی ماں تھی

اس حوالے سے جمیل اسے کوئی بھی نقصان پہنچانے کی پوزیشن میں تھا۔ خاص طور پر اس صورت میں کہ اس کی سنگی ہاں زیتون بی بی نے چپ سادھ لی تھی۔ اپنی ماں کے دل پر گزر جانے والی قیامت کا جمیل کو بخوبی اندازہ ہوگا ۔ اس کے ذہن میں انتقامی خیالات آسکتے تھے۔

میں نے کہا: ” تم نے واقعی بہت خوب خیال رکھا ہے اپنی چھوٹی امی کا ! ” جناب! آپ خوانخواہ میری نیت پر شک کر رہے ہیں۔ وہ شکایتی لہجے میں بولا اگر مجھے پتہ چل جاتا تو میں اپنی جان قربان کر دیتا چھوٹی ای پر ۔”

جمیل احمد ا میں خوانخواہ کوئی کام نہیں کرتا میں نے ظہیرے ہوئے لہجے میں کہا اگر نہیں اس واقعے کے سلسلے میں تم پر شک کر رہا ہوں تو اس کی ٹھوس وجہ بھی ہے اور شواہدے بھی ظاہر ہوتا ہے۔ اگر نہیں تو میں نے بات نا مکمل چھوڑ کر جمیل کی آنکھوں میں دیکھا اور سخت لہجے میں پوچھا: ” بتاؤ یہ آگ کسی طرح لگ سکتی ہے؟ اگر آگ لگ ہی گئی تھی تو سلمی کو اس کا احساس کیوں نہیں ہوا؟ اس نے آگ کی تپش کیوں محسوس نہیں کی؟ اپنی جان بچانے کے لیے جدو جہد کیوں نہیں کی؟ کیوں نہیں آخر کیوں نہیں؟“

میرے پے در پے سوالیاتی حملوں نے اسے بوکھلا دیا’ کپکپاتے ہوئے لہجے میں بولا : تھانیدار صاحب! میں زیادہ عقل مند نہیں ہوں اس لیے ہو سکتا ہے آپ کو میرا جواب پسند نہ آئے۔“

میں نے جملہ ادھورا چھوڑ کر اس کی آنکھوں میں جھانکا اور وہ ایک جھرجھری لے کررہ گا۔ معلوم نہیں یہ میری نظر کا کمال تھا یا اس کے دل ہی میں کوئی چور چھپا بیٹھا تھا۔ میں نے بدستور اس کی آنکھوں میں گھورتے ہوئے کہا: ” پوسٹ مارٹم کی رپورٹ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دے گی ۔“

پوسٹ مارٹم ؟” وہ کانپ کر رہ گیا۔

ہاں پوسٹ مارٹم میں نے ٹھوس لہجے میں کہا۔

آپ اس سوختہ جاں کی چیر پھاڑ کر دا ئیں گئے وہ بوئے ہوئےلیجے میں بولا ” اب اس میں بچا ہی کیا ہے تھانیدار صاحب! میں ہاتھ جوڑ کر آپ سےدرخواست کرتا ہوں ۔ اس نے باقاعدہ ہاتھ جوڑ دیئے اور سماجت آمیز لہجے میں بولا : ” خداکے واسطے تھانیدار صاحب! پوسٹ مارٹم کروا کر چھوٹی امی کی بے حرمتی نہ کریں۔ یہ پہلے ہی بڑی بیکسی کی موت مری ہیں۔ کاش مجھے پتہ چل جاتا’ کاش میں جان جاتا کہ وہ کتنے بڑے حادثے کا شکار ہونے جارہی ہیں ۔ کاش!”

جمیل احمد کا لہجہ مجھے الجھا رہا تھا۔ اس کی باتوں سے یہی ظاہر ہوتا تھا کہ اس احمد معاملے میں اس کے ہاتھ صاف تھے مگر میرے ذہن کو جب تک اس سوال کا کوئی تسلی بخش جواب نہ مل جاتا کہ جلنے کے دوران میں سلمی نے زندگی بچانے کی کوشش کیوں نہیں کی اس وقت تک میں کسی اور انداز میں نہیں سوچ سکتا تھا۔ ایک مکنہ جواب تو یہی ہو سکتا تھا کہ وہ ایسی کوشش یا جدو جہد کے قابل ہی نہیں تھی۔ اس قرین قیاس جواب پر سوال اٹھتا تھا کہ اپنی جان بچانے کی وہ جدو جہد نا قابل” کیوں تھی کیا اسے نا قابل بنانے میں کسی کا ہاتھ تھا؟ آخر کس کا ؟”

میں نے جمیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا : ” حقائق تک پہنچنے کے لیے بعض اوقات ہمیں ایسے عمل سے بھی گزرنا پڑتا ہے جو دوسروں کی نظر میں ناخوشگوار ہو سکتے ہیں مگر یہ ہماری مجبوری ہوتی ہے ۔ ہم خوامخواہ کسی کی دل آزاری نہیں کرتے ۔“

چھوٹی امی کا پوسٹ مارٹم آپ کیوں کروانا چاہتے ہیں؟“ اس نے پوچھا ”اس سلسلے میں آپ کو کونسی مجبوری در پیش ہے، تھانیدار صاحب؟

ہوں!”میں نے کہا : ” بر خوردار! میں تمہاری چھوٹی امی کی موت کا سبب معلوم کرنا چاہتا لے لی۔”

سب تو صاف ظاہر ہے وہ بیزاری سے بولا ظالم آگ نے چھوٹی امی کی جان میں نے کہا: اس خیال میں نہ رہنا کہ میں تمہاری رائے سے اتفاق کرلوں گا۔ یہ بات دو اور دو چار کی طرح ہے کہ جس وقت سلمی کا بستر جل رہا تھا اس وقت یا تو وہ زندہ نہیں۔ تھی یا پھر مزاحمت کے قابل نہیں تھی۔ اگر وہ زندہ نہیں تھی تو اس کی زندگی کس نے چھینی؟ اور

اگر زندہ تھی مگر جد و جہد کے قابل نہیں تھی تو اسے اس حال کو کس نے پہنچایا ؟ ایک لمحے کو رک کر میں نے اپنی بات مکمل کر دی جمیل احمد ! ان سوالات کے جوابات پوسٹ مارٹم کی رپورٹ دے گی!

کیا اس حالت میں پوسٹ مارٹم ممکن ہو سکے گا” جمیل نے سلمنی کی لاش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے شکستہ لہجے میں پوچھا: ” اس کے جسم پر بچا ہی کیا ہے؟”

میں نے کہا: “پوسٹ مارٹم کے لیے تو ایک ہڈی ہی کافی ہوتی ہے۔”

وہ بے بسی سےنفی میں سر ہلانے لگا۔

میں نے ذرا مختلف زاد یے سے سوالات شروع کیے: ” جمیل احمد ! تمہیں کس وقت پتہ چلا کہ بالائی منزل پر یہ واقعہ پیش آچکا ہے؟”

آج صبح جناب! اس نے بتایا ” جب حسب معمول چھوٹی امی نیچے نہیں آئیں تو زرینہ نے مجھے اوپر جا کر دیکھنے کو کہا۔ میں نے بالائی منزل پر جا کر چھوٹی امی کے کمرے کا دروازہ تھپتھپایا پھر اندر سے کوئی جواب آیا اور نہ ہی کسی قسم کے رد عمل کا مظاہرہ کیا گیا۔ یہ سب کچھ خلاف معمول تھا اس لیے میں مجھے تشویش ہوئی ۔ ابا جی تو کل ہی کے گئے ہوئے تھے۔ رات کو چھوٹی امی اپنے کمرے میں سوئی تھیں۔ میں نے جس آمیز پریشانی کے ہاتھوں مجبور ہو کر دروازے کو اندر کی جانب دھکیلا تو وہ کھلتا چلا گیا پھر جب کمرے کے اندرونی منظر پر میری نگاہ گئی تو میں کانپ کر رہ گیا۔ چھوٹی امی اپنے بستر سمیت جل کر راکھ ہو چکی تھیں۔ میں جانتا تھا رات انہوں نے دہکتے ہوئے کوئلوں والا دا بڑا اپنی چار پائی کے قریب رکھا تھا۔ میں یہی سمجھا کہ لحاف کا کوئی کونا سوتے میں دا بڑے کی آگ سے چھو گیا جس سے بستر نے آگ یکڑ لی اور .. اور وہ روہانسا ہو گیا اور بات ادھوری چھوڑ کر متوحش نظر سے مجھے دیکھنے لگا۔

،،میں نے پوچھا: تم لوگ صبح کتنے بجے ناشتہ کرتے ہو؟”

سورج نکلنے کے ساتھ ہی اس نے جواب دیا۔

آج کل سردیوں کا موسم ہے میں نے کہا “سورج لگ بھگ صبح سات بجےطلوع ہو جاتا ہے۔ تمہارے کہنے کا مطلب یہ ہوا کہ تم اپنی چھوٹی امی کو دیکھنے سات سوا ساتبجے بالائی منزل پر گئے تھے؟”

کیا؟”جی ہاں، یہی وقت ہو گا ۔“

میں نے کہا: “بالائی منزل کے کمرے کا لرزہ خیز منظر دیکھنے کے بعد تم نے کیا تھوڑی دیر تک تو میری سمجھ میں کچھ بھی نہیں آیا کہ کیا کروں وہ بے چارگی سے بولا ” پھر کسی نے مجھے مشورہ دیا کہ اس اندوہ ناک واقعے کی فورار پورٹ کروانا چاہیے۔ میں بھاگا بھاگا تھانے پہنچا۔ اس کے بعد کے واقعات آپ کے سامنے ہیں۔“

مجھے بتایا گیا تھا کہ جمیل احمد کم وبیش پونے آٹھ بجے تھانے آیا تھا۔ اس روز مجھے تھانے پہنچنے میں ذرا تاخیر ہو گئی تھی اس لیے بھی اسے طویل انتظار کرنا پڑا تھا۔ ہم ساڑھے دس بجے تھانے سے جائے وقوعہ کی جانب روانہ ہوئے تھے۔

ای دوران میں اے ایس آئی انکل شاہ نے مجھے مطلع کیا کہ وہ جائے وقوعہ کاتفصیلی نقشہ تیار کر چکا تھا۔ میں نے اپنی تسلی کے لیے اے ایس آئی کی تحریری کار کردگی پر ایک تنقیدی نگاہ ڈالی اور اثبات میں سر ہلا دیا۔ اس کے بعد میں سرسری انداز میں کمرے کا جائزہ لینے لگا۔ ایک بات حیرت انگیز تھی اور وہ یہ کہ کمرے میں بھڑ کنے والی آگ نے صرف سلمی اس کی چارپائی اور بستر ہی جلایا تھا۔ کمرے میں لکڑی کی بنی ہوئی اور بھی کئی چیزیں رکھی تھیں مگر ان تک رسائی حاصل کرنے سے پہلے آگ بجھ گئی تھی گویا وہ اپنا کام کرنے کے بعد ٹھنڈی ہوگئی تھی۔ وہ کام جس کا تعلق مسلمی کی موت سے تھا۔ حادثاتی یا سازشانی موت؟

اس کا فیصلہ آنے والے وقت اور پوسٹ مارٹم کی رپورٹ ہی نے کرنا تھا۔

میں نے سلمی کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے سرکاری اسپتال بھجوا دیا اور مزید سوالات کے لیے جمیل احمد کی جانب متوجہ ہو گیا۔ اے ایس آئی لاش کے ساتھ ہی وہاں سے چلا گیا تھا لہذا صرف ہم دونوں کمرے میں رہ گئے تھے۔ میں نے اس سے پوچھا:

“آج آٹھ جنوری ہے۔ سلمیٰ یعنی تمہاری چھوٹی امی کی موت گزشتہ رات میں کسی وقت واقع ہوئی ہے۔ کیا تم بتا سکتے ہو کہ وہ کل رات کتنے بجے سونے کے لیے اوپر گئی تھیں ؟”

اس نے جواب دیا: رات کے کھانے کے بعد ؟

مثلاً کتنے بے؟”

” یہی کوئی سات آٹھ بجے تک ۔”

سات اور آٹھ میں ایک گھنٹے کا فرق ہے؟“

وہ بولا: “ہم رات کا کھانا مغرب کی نماز کے فورا بعد کھا لیتے ہیں۔ آج کل سوا پانچ بجے تک نماز ہوتی ہے۔ یوں سمجھ لیں کہ ہم چھ بجے کھانا کھاتے ہیں’ ساڑھے چھ بجے تک فارغ ہو جاتے ہیں ۔ اسی حساب سے میں نے آپ کو وقت بتایا تھا۔ آپ سات بجے کا وقت۔۔ ای حساب =سمجھ لیں۔“

” کیا تم اس وقت گھر میں موجود تھے جب سلٹی کھانا کھانے کے بعد بالائی منزل پر گئی تھی؟ میں نے تیز لہجے میں استفسار کیا۔

اس نے بتایا: نہیں جناب میں اس وقت تک گھر نہیں پہنچا تھا۔“

پھر تم نے سات اور آٹھ بجے کا وقت کس طرح بتایا ہے”

تم اس وقت گھر میں نہیں تھے تو پھر کہاں تھے۔”

دکان میں تھا اس نے جواب دیا ابا جی کی غیر موجودگی کے سبب مجھے دیر تک دکان میں رکنا پڑا تھا۔ کام کی زیادتی کی وجہ سے میں خاصی تاخیر سے گھر پہنچا تھا۔“

میں نے پوچھا: ” تم کتنے بجے گھر پہنچے تھے ؟”

لگ بھگ نو بجے جناب!”

جمیل کے جواب نے مجھے چونکنے پر مجبور کر دیا۔ میں نے کریدنے والے انداز میں پوچھا: ” عام طور پر تم کتنے بجے گھر آجاتے ہو؟“

ہم مغرب کی نماز گھر آ کر ہی پڑھتے ہیں جناب !“

میں نے کہا: “یہ تو بہت بڑا فرق ہے۔ پانچ سوا پانچ اور نو بجے رات میں پورے چار گھنٹے کا فرق ہے۔ کل ایسا کیا کام تھا کہ تمہیں اتنی دیر تک دکان پر رکھنا پڑا ؟”

میں نے بتایا ہے نا اباجی کی غیر حاضری کی وجہ سے اس نے بات نا مکمل چھوڑ دی اور نظر چرا کر دوسری جانب دیکھنے لگا۔ میں نے واضح طور پر محسوس کیا کہ وہ مجھ سے کچھ چھپانے کی کوشش کر رہا تھا۔

میں نے ذراسخت لہجے میں کہا: ” جمیل احمد ! اگر تم حقائق کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہو تو میں تمہیں ایسی کسی کوشش میں کامیاب نہیں ہونے دوں گا ایک لمحے کی توقف سے میں نے اضافہ کیا: ” میں ابھی تم سے ان لوگوں کے نام اور پتے دریافت کروں گا جن سے کل شام پانچ اور نو بجے کے درمیان تم نے دکان پر ملاقات کی۔ پھر میں ان لوگوں سے مل کر تمہارے بیان کی تصدیق کروں گا تو تمہارے جھوٹ کی قلعی کھل جائے گی ۔ بہتر یہی ہے کہ تم سیدھی اور کی بات بتاؤ ہیر پھیر کرنے والوں کے ساتھ میں رعایت کرنے کا قائل نہیں ہوں۔

تھوڑے سے تذبذب کے بعد وہ تعاون پر آمادہ ہو گیا۔ دھیمی آواز میں بولا: ”اگرآپ وعدہ کریں کہ ابا جی کو کچھ نہیں بتائیں گئے تو میں آپ کو ساری بات سچ سچ بتا دوں گا ۔”

میں تمہاری پوری بات سننے سے پہلے ایسا کوئی وعدہ نہیں کر سکتا میں نے روکھے لیجے میں کہا: ہاں اگر تمہاری بات کا موجودہ معاملے یعنی تمہاری چھوٹی امی کو پیش آنے والے واقعے سے کوئی تعلق نہ ہوا تو میں تمہاری مدد کی کوشش کروں گا۔”

وہ مطمئن ہو گیا اور پراعتماد لہجے میں بولا : پھر تو ٹھیک ہے۔ میں جو کچھ آپ کو بتانے جارہا ہوں وہ بالکل ایک علیدہ معاملہ ہے۔اور وہ معاملہ کیا ہے؟“ میں نے اسے تیز نظر سے گھورا۔

وہ تھوک نگلتے ہوئے دھیمی آواز میں بتانے لگا: تھانیدار صاحب! در اصل بات یہ ہے کہ میں کل دکان بند کر کے حاجی پور چلا گیا تھا۔ الیاس احمد بھی میرے ساتھ تھا۔“

یہ الیاس احمد کون ہے؟” میں نے پوچھا ” اور تم حاجی پور کیا لینے گئے تھے ؟”

وہ تامل کرتے ہوئے بولا : الیاس احمد میرا دوست ہے۔ ادھر ہماری دکان کے قریب ہی اس کی کپڑے کی دکان ہے … میرا مطلب ہے وہ کپڑے کی دکان پر ملازم ہے۔ ہم حاجی پور میں عنایت حسین کے ڈیرے پر گئے تھے۔”

” تم نے میرے سوال کا مکمل جواب نہیں دیا میں نے سخت لہجے میں کہا: “میں نے پوچھا تھا، تم حاجی پور کیا لینے گئے تھے؟ ایک لمحے کے توقف سے میں نے اضافہ کیا۔ اور اب یہ بھی بتاؤ یہ عنایت حسین کون ہے اور اس کے ڈیرے پر تم کیوں گئے تھے؟”

وہ جزبز ہوتے ہوئے بولا: ” میں نے آپ سے سچ بولنے کا وعدہ کیا ہے جناب؟”

میں اور الیاس احمد وہاں منگ پتا ( تاش کا ایک کھیل کھیلنے گئے تھے۔”

میں نے اسے گھورتے ہوئے کہا: “کوئے نامراد ! “منگ پتا پر تو عموماً جوا کھیلا جاتا ہے۔ کیا عنایت حسین کے ڈیرے پر جوا ہوتا ہے؟“

حج جی ” وہ انکتے ہوئے بولا “ہم تو کبھی کبھار ہی وہاں جاتے ہیں۔ ابا جی جب بھی دکان سے غیر حاضر ہوتے ہیں، مجھے حاجی پور جانے کا موقع مل جاتا ہے لیکن مین نے ہمیشہ یہ کوشش کی ہے کہ وقت پر گھر پہنچ جاؤں اس لیے جس روز مجھے حاجی پور جانا ہوتا ہے میں ذرا جلدی دکان بند کر دیتا ہوں۔ کل بھی میں نے سیار بجے دکان کو تالا لگا دیا تھا اور الیاس احمد کے ساتھ سیدھا عنایت حسین کے ڈیرے کی جانب روانہ ہو گیا تھا مگر وہاں ایسی بازی جمی کہ وقت گزرنے کا احسان ہی نہیں ہوا۔ جب میں اپنے گھر پہنچا تو رات کے نو بجنے والےتھے۔”

میں نے تحمل سے اس کی بات سنی پھر سخت لہجے میں کہا: ” جمیل اس قسم کا جو ا عموماً

رات میں کھیلا جاتا ہے۔ کیا عنایت حسین کے ڈیرے پر دن دہاڑے یہ دھندا چل رہا ہے؟“

جناب اعنایت حسین بہت پہنچی ہوئی چیز ہے وہ متاثرہ لہجے میں بولا ” حاجی پور میں کوئی اس سے الجھنے کی کوشش نہیں کرتا۔ اس کا بڑا نہ کا ہے وہاں نائن کے ڈیرے پر کسی بھی وقت جوا کھیلا جا سکتا ہے۔”

میں نے کہا: اس پھنے خال عنایت حسین سے میں بعد میں نمٹ لوں گا۔ تم یہ بتاؤکہ تم وہاں کیا کارنامہ انجام دے کر آئے ہو ؟؟

کارنامہ اس کے لہجے میں الجھن تھی۔

انداز میں کہا۔

ہوئے میں پوچھ رہا ہوں کل تم نے جوئے میں کتنی رقم جیتی تھی ؟ ؟ میں نے وضاحتی جمیل اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بولا : اچھا’ آپ یہ پوچھ رہے ہیں پھر نفی میں گردن جھٹکتے ہوئے بولا : کل تو جناب قسمت میرے ساتھ نہیں تھی۔ جب مقدر ساتھ نہ دے۔ تو پھر آدمی کیسے جیت سکتا ہے کل میرے ہارنے کا دن تھا۔“

میں نے پوچھا : ” تم نے کتنی رقم ہاری تھی ؟”

رو سورو پے ! وہ مایوسی سے بولا۔

دو سو روپے؟” میں نے اس کے جواب کو دہرایا۔ اس کی بات سن کر مجھے حیرت ہوئی تھی کیونکہ اس زمانے میں دو سو رو اپنے بہت بڑی رقم تھی۔ میں نے سرزنش آمیز لہجے میں کہا: ” تم نے اتنی بڑی رقم بار دی۔ کیا تمہارا باپ اسی لیے کماتا ہے۔ ظاہر ہے یہ رقم تم نےدکان میں سے نکالی ہو گی !”

اس نے اثبات میں جواب دیا پھر بولا : ” جناب! ابا جی اکیلے تو نہیں کماتے میں بھی ان کے برابر ہی محنت کرتا ہوں۔ دکان میں جو کچھ بھی ہے وہ ہم دونوں کی کاوشوں کا ثمر ہے۔”

میں تمہاری دلیل سے متاثر ہونے والا نہیں ہوں جمیل احمد ! میں نے اکھڑے ہوئے لہجے میں کہا یہ ٹھیک ہے کہ تم دونوں باپ بیٹا مل کر فضل ایجنسی ” چلاتے ہو لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم جوئے میں بڑی بڑی رقمیں ہار کر کاروبار کو تباہ کرتے رہو۔”

وہ ڈھٹائی سے بولا : ”جناب! میں ہمیشہ ہارتا نہیں اکثر جیتا رہتا ہوں۔“

میں اس موضوع پر اس سے بحث نہیں کرنا چاہتا تھا اس لیے گفتگو کا رخ موڑتے ہوئے کہا : ” جمیل احمد ! تم یہ نہ سمجھنا کہ میں آنکھیں بند کر کے تمہاری کہانی پر یقین کر لوں گا۔

اگر ضرورت محسوس ہوئی تو میں حاجی پور میں عنایت حسین کے ڈیرے پر بھی جاؤں گا تا کہ تمہاری باتوں کی تصدیق ہو سکے اور الیاس احمد سے میں کل ہی ملوں گا ایک لمحے توقف سے میں نے پوچھا : وہ کپڑے کی کسی دکان پر کام کرتا ہے۔ میرا مطلب ہے اس دکان کا نام کیا ہے؟

مدینہ کلاتھ مرچنٹ ! اس نے بتایا۔

میں نے اپنی ڈائری میں نوٹ کر لیا۔ اس نے کہا : آپ جہاں سے چاہیں اورجس طرح چاہیں میری باتوں کی تصدیق کر لیں لیکن میں ہاتھ جوڑ کر آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ ابا جی کو ان معاملات کا پتہ نہ چلے۔

اگر تمہارے بیان کی تصدیق ہو گئی تو میں تمہاری درخواست پر ضرور غور کروں گا

میں نے آمادگی آمیز لہجے میں کہا: ‘فی الحال تو میرے سامنے سب سے اہم مسئلہ سلمنی کو چین آنے والا اندوہناک واقعہ ہے۔ اس کے بارے میں تم اور کچھ بتا سکتے ہو تو ضرور بتاؤ”

وہ بے بسی سے بولا : ” میں جتنا جانتا تھا وہ تو آپ کو بتا چکا ہوں جناب! آپ نہیں آپ مجھ سے اور کیا پوچھنا چاہتے ہیں۔ ویسے اگر آپ برا نہ مانیں تو نیچے جا کر بیٹھک میں بیٹھتے ہیں۔ باقی باتیں وہیں ہو جائیں گی۔

اس کی تجویز معقول تھی۔ میں اس کی رہنمائی میں متوفی سلمی کے کمرے سے نکل آیا۔ زینے کی جانب بڑھتے ہوئے ہم بالائی منزل کے دوسرے کمرے کے سامنے سے گزرے۔ مذکورہ کمرے کی کنڈی باہر سے لگی ہوئی تھی۔ ایک فوری خیال کے تحت میں نےجمیل احمد سے سوال کیا:

اس کمرے میں کون رہتا ہے جمیل احمد ؟”

وہ تامل کرتے ہوئے بولا : اس وقت تو کوئی بھی نہیں ہے۔“

یہ تو مجھے بھی نظر آرہا ہے میں نے کہا “کمرنے کے بند دروازے کو باہر سےکنڈی چڑھی ہوئی ہے جس کا یہی مطلب ہے کہ اس وقت اندر کوئی بھی نہیں ہو گا مگر میرےپوچھنے کا مقصد یہ تھا کہ یہ کمر کس کے استعمال میں ہے؟

یہاں ہمارا ایک مہمان ٹھہرا ہوا تھا وہ بیزاری سے بولا۔

ٹھہرا ہوا تھا کیا مطلب؟”

“مطلب یہ کہ وہ آج صبح چلا گیا ہے ، جمیل نے بتایا۔

میرے ذہن میں کھلبلی مچ جمنی تھی ۔ جمیل احمد کے جوابات بہت کچھ سوچنے پر مجبور کررہے تھے۔ میں نے پوچھا: “وہ مہمان کون تھا اور آج صبح کہاں چلا گیا ہے؟”

اس نے بتایا: ‘وہ میری پھوپھی کا لڑکا ہے جناب … ریاض احمد ! “

پھوپھی کا لڑکا! میں نے چونکتے ہوئے کہا ” اس کی عمرکتنی ہوگی؟””

یہی کوئی پندرہ سولہ سال “

’ہوں میں گہری سوچ میں ڈوب گیا پھر پوچھا: ” تم نے یہ نہیں بتایا کہ وہ آج صبح کہاں چلا گیا ہے؟

جمیل احمد نے جواب دیا: “وہ واپس اپنے پنڈ (گاؤں) چلا گیا ہے۔”

وہ کب سے یہاں رہ رہا تھا۔

” تقریباً چار ماہ سے۔”

اتنے لمبے عرصے سے ! میں نے کھو چتی ہوئی نظر نے اسے دیکھا۔

وہ بولا : ” ابا جی کو اپنے اکلوتے بھانجے سے بڑی محبت ہے۔ ریاض احمد نے چارہ یتیم لڑکا ہے۔ وہ جب بھی اپنے ماموں یعنی اباجی سے ملنے آتا ہے تو کافی دنوں تک ٹھہرتاہتا۔

اس کے گاؤں کا نام کیا ہے؟” میں نے پوچھا۔

جمیل نے بتایا: بی کلاں۔”

یہ گاؤں ضلع مظفر گڑھ میں تو نہیں ہے۔”

اس نے اثبات میں سر ہلایا اور بتایا: “آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں جناب!

موضع بی کلاں تحصیل کہروڑ ( ضلع لیہ ) ہے۔ وہاں ریاض کی نانی کا گھر ہے۔ ریاض کے ماں باپ کا انتقال ہو چکا ہے۔ وہ اپنی نانی جنت بی بی کے پاس رہتا ہے۔”

ہم باتیں کرتے ہوئے زینہ اتر کر زیریں منزل پر آگئے۔ میں نے بیٹھک میں داخل ہوتے ہوئے سوال کیا : ” جمیل احمد ! ایک بات میری سمجھ میں نہیں آئی ؟”

کون سی بات جناب ؟ اس نے میری طرف دیکھا۔

یہی کہ تمہارا پھوپھی زاور یاض احمد آج صبح اپنے گاؤں موضع بی کلاں واپس چلا گیا حالانکہ تمہارا باپ گھر میں موجود نہیں ہے۔ ریاض تو اپنے ماموں یعنی فضل کریم کے پاس رہنے کے لیے آیا ہوا تھا نہ ؟”

وہ الجھن زدہ لہجے میں بولا: یہ بات مجھے بھی کھٹکی تھی تھانیدار صاحب اگر میں نے اس معاملے میں اپنے ذہن کو تھکانے کی کوشش نہیں کی۔ دراصل اباجی کے لاڈ پیار نے ریاض کو بڑی حد تک خود سر اور مغرور بنا دیا ہے۔ وہ مجھے بھی اتنا احترام نہیں دیتا جو اس کا فرض بنتاہے۔ بس جی اباجی کی وجہ سے سب کچھ برداشت کرنا پڑتا ہے پھر یہ بھی خیال آتا ہے کہ یتیم بچہ ہے۔ کہیں ہم سے کوئی زیادتی ہو گئی تو بہت بڑا گناہ ہو جائے گا اس لیے بھی درگزر سے کام لینا پڑتا ہے۔”

میں جمیل احمد سے گفتگو بھی کر رہا تھا اور ساتھ ہی میرا ذہن حالات کی گمشدہ کڑیوںکو بھی تلاش کرنے اور ڈھونڈ کر ملانے کی کوشش میں مصروف تھا۔ گزشتہ رات اس گھر کی بالائی منزل کے ایک کمرے میں سلمی نامی ایک عورت جل کر مر گئی تھی۔ اس کے برابر ذوسرے کمرے میں ایک تو جوان لڑکا موجود تھا لیکن مسلمی کی جان بچانے کے لیے کسی قسم کی کوئی عملی کوشش سامنے نہیں آئی تھی پھر وہ نوجوان لڑکا صبح اپنے گاؤں بھی چلا گیا تھا۔ یہ سب کچھ غیر منطقی اور غیر حقیقی لگتا تھا۔ اس صورتحال میں ریاض احمد کی ذات شکوک و شبہات کے گھیرے میں آجاتی تھی۔ میں نے اس نکتے کو ذہن میں رکھتے ہوئے جمیل احمد سے سوال کیا۔

” جمیل احمد ! کیا تم مجھے بتاؤ گے کہ ریاض آج صبح کتنے بجے گھر سے نکلا تھا ؟”

اس نے جواب دیا: ” جناب ! جب میں سو کر اٹھا تو وہ گھر سے رخصت ہو چکا تھا۔

وہ مجھ سے مل کر نہیں گیا ۔“

یہ بات اور بھی چونکا دینے والی تھی۔ میں نے پوچھا : ” تم آج کتنے بجے بیدار ہوئے تھے؟”

تقریباً چھ بجے اس نے بتایا۔

اس وقت تو بالکل اندھیرا ہوگا میں نے کہا: ” اور سردی بھی نصب کی پڑ رہی ہے۔ اتنی صبح ریاض کا گھر سے نکل جانا سمجھ میں نہیں آرہا؟“

” مجھے بھی یقین نہیں آیا تھا ” جمیل احمد نے کیا لیکن جب زرینہ نے مجھے بتایا کہ وہ جاچکا ہے تو یقین کرنے کے سوا میرے پاس کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔“

کیا رہ جاتے ہوئے زرینہ سے مل کر گیا تھا ؟“ میں نے پوچھا۔ نہیں جناب !”

پھر تمہاری بیوی زرینہ نے اتنے وثوق سے یہ بات کیسے کہی ؟ “

جمیل نے بتایا: “زرینہ مجھ سے پہلے بیدار ہو جاتی ہے۔ آج صبح وہ لگ بھگ ساڑھے پانچ بجے اٹھ گئی تھی۔ وہ ہاتھ روم جانے کے لیے جب محسن میں آئی تو بیرونی دروازے کی کنڈی کھلی دیکھ کر سمجھ گئی کہ ریاض منہ اندھیرے ہی جا چکا ہے۔ ایک لمحے کو رک کر اس نے مجھے دیکھا اور اپنا بیان جار رکھتے ہوئے بولا: “زرینہ کی زبانی مجھے معلوم ہوا کہ وہ کل دن میں بتا چکا تھا کہ اگلے روز یعنی آج وہ اپنے گاؤں چاہا جائے گا مگر زرینہ کو یہ توقع نہیں تھی کہ وہ اتنی صبح گھر سے نکل جائے گا۔”

“کیا زرینہ نے تمہیں کل رات یہ بات نہیں بتائی تھی ؟

نہیں جناب اس نے کل رات ایسا کوئی ذکر نہیں کیا تھا، جمیل احمد نے کیا ممکن ہے اس کی یہ وجہ رہی ہو کہ میں گزشتہ رات خاصی تاخیر سے گھر پہنچا تھا۔ آپ تو جانتے ہیں جناب گاؤں دیبات میں موسم سرما میں تو بجے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آدمی رات گزر گئی ہو۔

“اس کی دلیل میں وزن تھا میں نے پوچھا : ” جمیل احمد ! تمہاری بیوی زرینہ نے بیرونی دروازے کی کنڈی کھلی دیکھ کر یقین کر لیا کہ ریاض وہاں سے جا چکا ہے یا اس نے اوپرریاض کے کمرے میں جا کر اس بات کی تصدیق بھی کی تھی ؟

نہیں کی تھی۔”مجھے معلوم نہیں جناب!” وہ بے بسی سے بولا زرینہ نے اس حوالے سے کوئی بات میں نے پوچھا: ”جمیل احمد ! کیا تمہیں یہ بات نجیب سی نہیں لگتی کہ گزشتہ رات ایک کمرے میں تمہاری چھوٹی امی کے ساتھ آتش زدگی کا جان لیوا واقعہ پیش آیا اور اسی رات دوسرے کمرے میں تمہارا پھوپھی زاد آرام نے سوتا رہا۔ پھر اگلی صبح وہ منہ اندھیرے چپ چاپ گھر سے نکل گیا ۔ تم کیا محسوس کرتے ہو ان واقعات سے؟”

کچھ بھی نہیں جناب! ” وہ ہونقوں کی طرح میرا چہرہ دیکھتے ہوئے بولا: “ریاض کو آج جانا تھا، وہ چلا گیا اور چھوٹی امی کی قسمت میں شاید ایسی ہی بے کسی کی موت لکھی ہوئی تھی۔ انسان اپنے مقدر سے تو نہیں لڑ سکتا نا تھانیدار صاحب! آخری جملہ ادا کرتے ہوئے اس کی آواز بھرا گئی۔

میں اس رائے پر اس کی عقل کا ماتم کرنے کے سوا اور کچھ بھی نہیں کر سکتا تھا۔ اس کی جذباتیت سے بعض اوقات مجھے لگتا تھا کہ اس کے من میں کوئی کھوٹ نہیں اور وہ جو کچھ کہہ رہا ہے بیچ کہہ رہا ہے لیکن کسی کسی وقت مجھے یوں محسوس ہونے لگتا تھا جیسے وہ مکمل اور بھر پور اداکاری کر رہا تھا۔ ریاض احمد رات کے جس حصے میں گھر سے نکلا تھا اس سے ذہن بہت دور

تک سوچ سکتا تھا اور وہ بھی پھر کپکپی طاری کر دینے والی ٹھنڈی ٹھار رات میں ۔ موسم سرماکے ان دنوں میں تو لوگ لحافوں میں گھس کر سورج طلوع ہونے کا انتظار کرتے ہیں۔

میں نے جمیل سے پوچھا: ” تم نے بتایا ہے کہ صبح زرینہ کی زبانی تمہیں معلوم ہوا تھا

کہ ریاض اپنے گاؤں چلا گیا تھا اور یہ بھی تمہارا ہی بیان ہے کہ جب ناشتے کے وقت تمہاری چھوٹی امی نیچے نہیں اتریں تو تم نے اپنی بیوی کے کہنے پر اوپر جا کر دیکھا تھا ؟”

وہ میری بات پوری توجہ سے سننے کے بعد بولا : ”جی ہاں میں نے یہی بتایا تھا۔“

میں نے استفسار کیا: ” جمیل احمد اذرا سوچ کر بتانا۔ جب تم اپنی چھوٹی امی کو دیکھنےبالائی منزل پر گئے تو اس وقت ریاض احمد اپنے کمرے میں موجود تھا یا نہیں؟“ میں نے ایک مختلف زاویے سے اسے گھنے کی کوشش کی۔

جناب یہ آپ نجیب بات پوچھ رہے ہیں وہ متعجب لہجے میں بولا۔

” کیوں اس میں عجیب کیا ہے؟”

وہ بولا: ” جب ریاض منہ اندھیرے گھر سے چلا گیا تھا تو پھر سوا سات بجے وہ اپنے کمرے میں کیسے موجود ہو سکتا تھا۔”

تو تم یہ کہنا چاہتے ہو کہ وہ کمرے میں موجود نہیں تھا ؟“

“جی ہاں میں یہی کہنا چاہتا ہوں۔”

” کیا تم نے اس کے کمرے کے اندر جھانک کر دیکھا تھا ؟”

”جی ہاں دیکھا تھا۔“

کیا اس وقت اس کے کمرے کا دروازہ کھلا ہوا تھا یا تم نے اسے کھولا تھا ؟ ” میں نے سلسلہ سوالات کو جاری رکھتے ہوئے کہا۔وہ ایک طویل سانس خارج کرتے ہوئے بولا : “ریاض والے کمرے کا دروازہ اس وقت چوپٹ کھلا ہوا تھا۔ ریاض کے چلے جانے کے بارے میں معلوم ہو چکا تھا اس لیے میں نے وہ دروازہ بند کر کے باہر سے کنڈی لگا دی تھی۔”

ہوں” میں نے ہنکاری بھری پھر کہا : ” تم نے پہلے ریاض والے کمرے کے دروازے کی کنڈی چڑھائی تھی یا چھوٹی امی کے کمرے میں داخل ہوئے تھے ؟”

اس نے جواب دیا : ” پہلے میں نے ریاض والے کمرے کا دروازہ بند کر کے اسے کنڈی لگا دی تھی۔ بعد ازاں چھوٹی امی والے کمرے میں گیا تھا۔”

” کیا تمہاری بیوی زرینہ اس وقت گھر میں موجود ہے؟“

“جی ہاں وہ گھر میں ہی ہے۔“

میں اس سے بھی چند سوالات کرنا چاہتا ہوں۔“

ہٹ کے بغیر اس نے مجھے زرینہ سے پوچھ تاچھ کی اجازت دے دی اور پوچھا: تھانیدار صاحب! آپ گھر کے اندرونی حصے میں چلیں ہے یا زرینہ کو میں ہی بلالوںوہ اگر یہیں بیٹھک میں آجائے تو زیادہ اچھا ہے۔ میں نے کہا: “مگر ایک بات ذہن میں رکھنا کہ میں بالکل تنہائی میں اس سے پچھ پرتیت کروں گا۔ تم ہمارے درمیان موجود میں رکھنا کچھ گا۔ تم

نہیں ہو گئے !”

وه پر اعتماد لہجے میں بولا: “آپ فکر نہ کریں تھانیدار صاحب اجیسا آپ چاہتے ہیں بالکل ویسا ہی ہوگا۔ میں ابھی زرینہ کو یہاں لے کر آتا ہوں۔”

پھر وہ گھر کے اندرونی حصے میں غائب ہو گیا۔

میں بیٹھک میں بیٹھا موجودہ حالات اور پس پردہ حقائق پر غور کرتا رہا۔ جمیل احمد سے میں نے خاصی تفصیلی پوچھ کچھ کر لی تھی اور ایک محتاط اندازے کے مطابق وہ اس معاملے میں مجھے زیادہ قصور وار نظر نہیں آیا تھا۔ ممکن ہے بعد ازاں میرا یہ انداز و سراسر غلط ثابت ہو جاتامگر سر دست وہ مجھے بے گناہ دکھائی دے رہا تھا البتہ اس وقت میرے شک کا دائر و ریاض احمد کو اپنے گھیرے میں مقید کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس وقت اس گھر میں جمیل اور زرینہ کے علاو و فضل کریم کی پہلی بیوی زیتون بی بی موجود تھی تاہم اس سے بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ مجھے معلوم ہو چکا تھا کہ وہ مکمل طور پر بہری اور جزوی طور پر اندھی ہو چکی تھی۔ لہذا اس سے مغز ماری کرنا وقت ضائع کرنے کی مترادف تھا۔

تھوڑی دیر بعد زرینہ سر پر دوپٹا درست کرتے ہوئے بیٹھک میں داخل ہوئی۔ اسکے پیچھے جمیل احمد بھی نظر آ رہا تھا تا ہم وہ دروازے میں ہی رک گیا تھا۔ وہیں سے اس نے تھانیدار صاحب ! آپ زرینہ سے جو بھی پوچھنا چاہیں پوچھ لیں۔ اس دوران میں، میں بیٹھک سے باہر ہی رہوں گا ۔“

ٹھیک ہے، تم سمجھ داری کا مظاہرہ کر رہے ہو میں نے سراہنے والے انداز میں کہا میں زرینہ کو مشکل سوالات سے زیادہ پریشان نہیں کروں گا ۔“

جمیل احمد کا چہرہ دروازے میں سے غائب ہو گیا۔

میں زرینہ کی جانب متوجہ ہو گیا۔ وہ سانولی رنگت کی مالک ایک واجبی سی شکل و صورت کی عورت تھی۔ عمر میں جمیل سے دو تین سال رہی ہو گی ۔ وہ اپنی وضع قطع سے اور بات چیت سے مکمل دیبا تن لگتی تھی۔ ایہ بات مجھے پہلے ہی معلوم ہو چکی تھی کہ زرینہ کا تعلق مظفر گڑھ دیہاتی ہی کے علاقے غازی گھات دیتے تھا۔ وہ موضع چین والا کی رہنے والی تھی۔ ان کی شادی کو لگ بھنگ ڈھائی سال ہو چکے یہی ہے اگر وہ اولاد ایسی نعمت سے ابھی تک محروم ہی تھے۔

رسمی گفتگو کے بعد میں فوراً اپنے مطلب کے موضوع پر آ گیا۔ میں نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا: زرینہ ابھی تھوڑی دیر پہلے میں نے تمہارے شوہر جمیل احمد سے ڈھیروں سوال پوچھے ہیں اور اب تمہاری باری ہے۔ مجھے امید ہے میں جو کچھ تم سے پوچھوں گا تم اس کا سیدھا اور کیا جواب دو گی ۔”

” آپ پوچھیں جی! وہ سنجیدگی سے بولی: میں رتی برابر جھوٹ نہیں بولوں گی ۔“

میں نے پوچھا : کل رات جمیل کتنے بجے گھر آیا تھا؟”

میں ابتدائی سوالات کے ذریعے جمیل کے بیان کو چیک کرنا چاہتا تھا۔

وہ بولی : ”بڑی دیر سے آیا تھا جناب!”

مثلا کتنی دیر سے؟”

شاید اس وقت نو بجے تھے اس نے جواب دیا۔

” کیا وہ پہلے بھی بھی اتنی تاخیر سے گھر آیا ہے؟”

عام طور پر ایسا نہیں ہوتا ” زرینہ نے بتایا: “جمیل اور چاچا فضل ایک ساتھ ہی شام میں گھر آ جاتے ہیں مگر کبھی کبھار جمیل کو دیر بھی ہو جاتی ہے۔”

میں نے کہا : ” کل صبح تمہارا چاچا فضل ( زرینہ کا سر فضل کریم ) کوٹ قیصرانی ضلع ڈیرا غازی خان چلا گیا تھا۔” میری بات پوری ہونے سے پیشتر، یہی وہ بول اٹھی: ‘ وہ اکثر کوٹ ادو سے باہر آتا جاتا رہا ہے۔ قیصرانی (کوٹ قیصرانی) میں وہ بیو پاری اشرف علی کے پاس گیا ہے۔ آج واپس آ جائے گا۔”

یہ بات مجھے معلوم ہو چکی ہے ” میں نے کہا پھر پوچھا: ” تم ذرا سوچ کر بتاؤ کیا پہلے جب کبھی جیل سے دیر سے گھر آیا ہے تو تمہارا چاچا نہیں کوٹ ادو میں موجود ہوتا تھا ؟ “

وہ چند لمحے غور و فکر کرنے کے بعد بولی: میں نے کبھی پہلے اس بات پر توجہ نہیں کہیں باہر گیا ہوتا ہے ۔”

دی تھی مگر اب مجھے یاد آ رہا ہے کہ جمیل انہیں دنوں دیر تک دکان پر رہتا ہے جب چاچا فضل میں نے پوچھا: ” جمیل نے کبھی اس تاخیر کی وجہ بھی بتائی ہے؟”

وہ تو یہی کہتا ہے چاچا کے جانے کے بعد دکان پر کام زیادہ ہو جاتا ہے۔“

اور تم اس بات کا یقین کر لیتی ہو؟”

ہاں جی ۔ یقین کر لیتی ہوں۔”

مجھے اس کی سادگی پر حیرت نہیں ہوئی۔ میں نے اسے جمیل کی غیر نصابی سرگرمیوں کے بارے میں بتانا ضروری نہیں سمجھا اور دوبارہ اصل موضوع کی طرف آتے ہوئے سوال کیا:

زرینہ ! جمیل نے مجھے بتایا ہے کہ کل رات تمہاری سوتیلی ساس یعنی متوفی سلمی ٹھیک ٹھاک اپنے کمرے میں گئی تھی ؟”

“جی ہاں وہ معمول کے مطابق ہی اوپری منزل پرگئی تھی اس نے جواب دیا۔

میں نے پوچھا: ” رات کا کھانا تم دونوں نے ایک ساتھ ہی کھایا تھا ؟ “

دونوں نے نہیں بلکہ چاروں نے ایک ساتھ کھایا تھا۔”

“کون چاروں؟”

میں مسلمی زیتون چاچی اور ریاض زرینہ نے جواب دیا: “کھانا کھا کر چاچی تو اپنے کمرے میں چلی گئی تھی اور ریاض گھر سے باہر نکل گیا تھا۔ تھوڑی دیر بعد سلمی اوپر اپنے کمرے میں چلی گئی تھی اور … اپنے ساتھ دیکھتے ہوئے کوئلوں والا دابڑ بھی لے گئی تھی۔

میں نے کہا: اس کا مطلب ہے رابڑے ( تگاڑی) میں آگ اس نے کمرے میں جا کر نہیں جلائی تھی بلکہ نیچے سے وہ کو ملے دہکا کر اپنے ساتھ لے گئی تھی۔”

“جی ہاں ایسے ہی ہوا تھا۔”

ریندا” میں نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں اسے مخاطب کیا: ” تمہارا کیا خیال ہے سلمی جن حالات میں موت کا شکار ہوئی ہے۔ اس میں کہیں کوئی گڑ بڑ نہیں ہے؟”

کیسی گڑ بڑ جناب! اس نے چونک کر ہراساں نظر سے مجھے دیکھا۔

میں نے وضاحتی انداز میں کہا: ” مثلاً یہ کہ سلمنی آگ میں جل کر مرگئی اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ کیا اس گھر کے مکین بھنگ پی کر سو رہے تھے یا سلمی ہی نے چپ چاپ موت کو گلے لگا لیا۔ اپنی چار پائی اور بستر کے ساتھ جل کر کوئلہ ہو گئی لیکن چیخنا چلانا تو دور کی بات ہے اس نے منہ سے اف تک نہیں کی۔ کیا تمہارا ذہن اس بات کو تسلیم کرتا ہے؟“

وہ بے چینی سے پہلو بدلتے ہوئے بولی: ” پتہ نہیں بھی یہ سب کچھ کیسے ہو گیا پر کچی بات تو یہ ہے کہ ہمیں واقعی صبح ہی خبر ہوئی تھی۔”

وہ ایک جھرجھری لیتے ہوئے بولی: ”جناب ! میں نے آپ کو سب کچھ ٹھیک اور سچ بتایا ہے۔”

میں نے پوچھا: ” آج صبح سب سے پہلے سلمی کے کمرے میں کون گیا تھا ؟ “

جمیل ہی گیا تھا جی وہ جلدی سے بولی ” بلکہ اسے میں نے ہی بھیجا تھا اوپر ۔”

” تم نے جمیل کو او پر کیوں بھیجا تھا؟ “

سلمنی کو دیکھنے جی۔”

سلمی کو دیکھنے کی کیوں ضرورت پیش آگئی تھی ؟”

وہ وہ جی ناشتے کا وقت ہو گیا تھا وہ رک رک کر بولی “سلمی عام طور پر بجے نیچے اتر آتی تھی کیونکہ چاچا فضل صبح جلدی اٹھنے کے عادی ہیں۔ آج جب سات بیج گئے اور سلمی نیچے نہیں آئی تو میں نے جمیل کو اوپر بھیجا تاکہ پتہ چلے وہ ابھی تک اوپر ہی کیوںبیٹھی ہے ؟ ایک لمحے کو رک کر اس نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا : ” مجھے کیا معلوم تھا کہ وہ بچاری اب اٹھنے بیٹھنے کے قابل ہی نہیں رہی۔”

میں نے سنجیدہ لہجے میں پوچھا: “زرینہ !تم نے بتایا ہے کہ گزشتہ رات تم چاروں نے ایک ساتھ رات کا کھانا کھایا تھا۔ یعنی تم زریاض، سلنی اور تمہاری ساس اول زیتون بی بی ایک لمحے کو رک کر میں نے اس کے چہرے کے تاثرات کا جائزہ لیا اور کہا: ” کیا تم سب صبح ناشتہ بھی ایک ساتھ ہی کرتے ہو؟“

اس نے اثبات میں جواب دیا۔

میں نے پوچھا: ” جب تم نے جمیل کو بالائی منزل پر سلمی کو دیکھنے کے لیے بھیجا تھا تو اس وقت ریاض ناشتے پر موجود تھا؟”

نہ جی ! وہ نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولی: ” وہ تو وہاں موجود نہیں تھا۔“

اس نے نفی میں گردن ہلائی۔

کیوں؟ میں نے قدرے سخت لہجے میں دریافت کیا۔

وہ بولی : ” اس لیے جی کہ ریاض اس وقت گھر میں تھا ہی نہیں۔”

یہ بات مجھے جمیل سے معلوم ہو چکی تھی تاہم میں پوری طرح تصدیق کرنا چاہتا تھا۔

میں نے استفسار کیا: ”وہ گھر میں کیوں نہیں تھا جبکہ تم بتا چکی ہو کہ تم پاروں نے ایک ساتھ رات کا کھانا کھایا تھا ؟ “زرینہ نے کہا : تھانیدار جی میں نے آپ کو بتایا ہے نا کھانا کھانے کے بعدتھوڑی دیر بعد ریاض گھر سے باہر چلا گیا تھا۔”

“ہاں” مجھے یاد ہے۔ تم نے یہ بات بتائی تھی۔ میں نے سر کو اثباتی جنبش دیتے ہوئے کہا: “تو کیا اس سے تمہارا مطلب یہ ہے کہ ریاض احمد رات گھر واپس نہیں آیا تھا ؟”

وہ جلدی سے بولی : ” نہ جی میرا یہ مطلب بالکل نہیں ہے۔”

پھر؟ میں نے سوالیہ نظر سے اسے دیکھا۔

وہ تھوک نگلتے ہوے بولی: “ریاض رات کو گھر واپس آیا تھا جی۔ در اصل بات یہ ہے کہ وہ رات کے کھانے کے بعد تھوڑا وقت گھر سے باہر اپنے دوستوں کے ساتھ گزارتا ہے۔

یہ اس کا معمول ہے ۔ کل رات بھی وہ جمیل سے پہلے گھر آ گیا تھا۔ میں نے خود اسے سیڑھیوں سے اوپر جاتے دیکھا تھا۔ اس کی واپسی کے بعد بھی باہر والے دروازے کی کنڈی کھلی رہی تھی۔ جمیل کے آنے کے بعد ہی میں نے دروازے کو کنڈی لگائی تھی۔” ” تم نے بتایا ہے کہ نبیل کل رات لگ بھگ نو بجے واپس گھر آیا تھا ” میں نے کہا:

تمہارے ہی بیان کے مطابق ریاض، جمیل سے پہلے گھر آ گیا تھا۔ کیا تم مجھے بتاؤ گی کہ وہ کتنا پہلے آیا تھا؟”

تقریبا آدھا گھنٹہ پہلے ۔”

یعنی ساڑھے آٹھ بجے تک؟”

“جی ہاں یہی وقت ہوگا زرینہ نے بتایا۔

میں واپس اصل نکتے کی جانب آتے ہوئے مستفسر ہوا ” تمہارے بیان میں اتنا تضاد کیوں ہے زرینہ بیگم؟”

یہ کیا ہوتا ہے جی ! وہ تیزی سے پلکیں جھپکاتے ہوئے بولی۔

غالبا وہ تضاد” کا مطلب نہیں سمجھ سکی تھی۔ میں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا:

میں یہ پوچھ رہا ہوں زرینہ کہ ایک طرف تم کہتی ہو کہ ریاض گزشتہ رات تقریباً ساڑھے آٹھ بجے گھر واپس آگیا تھا ۔ تم نے خود اپنی آنکھوں سے اسے بالائی منزل پر جاتے ہوئے دیکھا تھا۔

 ایک لمحے کے توقف سے میں نے اپنی بات جاری رکھی دوسری جانب تمہارا بیان ہے کہ آج صبح ریاض گھر میں موجود نہیں تھا۔ یہ کیا چکر ہے؟”

اگر چہ جمیل مجھے اس بارے میں بہت کچھ بتا د کا تھا تا ہم میں اطمینان کرنا چاہتا تھا

کیونکہ ریاض احمد کا کردار جس طرح اس کیس میں داخل ہوا تھا اس سے سوچ کر بہت سی راہیں

کھل رہی تھیں۔ ریاض احمد کی منہ اندھیرے روانگی نظر انداز نہیں کی جاسکتی تھی ۔ جمیل کا موقف تھا کہ اس کے ابا جی یعنی فضل کریم کے لاڈ پیار نے ریاض کو کافی حد تک بگاڑ دیا تھا۔ پندرہ سولہ سال کا بگڑا ہوا لڑ کا کوئی بھی گل کھلا سکتا ہے خاص طور پر اگر وہ لڑکا ” رات دیر تک اپنے دوستوں میں بھی اٹھتا بیٹھتا ہو۔

زرینہ نے میرے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا: ” کوئی چکر نہیں ہے تھانیدار صاحب! بات اتنی سی ہے کہ ریاض آج صبح واپس اپنے پنڈ چلا گیا ہے۔ اس لیے ناشتے کے وقت اس کے گھر میں موجود ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔

” وہ آج صبح کتنے کے گھر سے نکلا تھا؟” میں نے پوچھا۔

ہمار را شھر یہ بہت پیار”گیا ہو گا؟”

کیا رہ جاتے ہوئے تم سے یا کسی اور سے مل کر نہیں گیا تھا ؟”

اس نے نفی میں جواب دیا۔ .

میں نے پوچھا: ” پھر تم اتنے وثوق سے کس طرح کہہ سکتی ہو کہ وہ اپنے گاؤں ہی اس نے مجھے کل دن ہی میں بتا دیا تھا وہ اپنے شوہر کے بیان کی تصدیق کرتے ہوئے بولی: مگر مجھے توقع نہیں تھی کہ وہ اتنی صبح نکل جائے گا۔ میں تو سمجھ رہی تھی کہ وہ آرام

سے ناشتہ وغیرہ کر کے جائے گا۔”

تمہیں آج صبح کس طرح پتہ چلا کہ ریاض اپنے گاؤں جاچکا ہے؟”

میں صبح سب سے پہلے اٹھ جاتی ہوں ” زرینہ نے بتایا ” جب میں محسن میں بنے ہوئے ہاتھ روم کی طرف گئی تو بیرونی دروازے کی کنڈی کھلی دیکھ کر چونک اٹھی۔ مجھے اچھی طرح یاد تھا کہ رات میں نے خود دروازے کی کنڈی لگائی تھی جمیل کے گھر آنے کے بعد ۔ اور اس کے بعد گھر کا کوئی فرد گھر سے باہر نہیں گیا تھا۔ ان حالات میں میں نے یہی سوچا که ریاض مند اندھیرے ہی گھر سے نکل گیا ہو گا ۔“

” کیا یہ بات نجیب سی نہیں لگتی؟

بات عجیب لگے یا غریب جی کیا کیا جا سکتا ہے” وہ بیزاری سے بولی ” چاچا فضل کے سامنے کون زبان کھول سکتا ہے۔ چاچا نے ریاض کو اتنا سر چڑھا رکھا ہے کہ وہ گھر میں کسی بھی وقت کچھ بھی کر سکتا ہے ۔ کسی کی مجال نہیں ہے اسے روکنے ٹوکنے کی۔ میں تو تنگ آگئی ہوں چاچا کے بھانجے کی حرکتیں دیکھ دیکھ کر ۔“

“اس نے آخری جملہ ایک خاص انداز سے ادا کیا تھا۔ میں نے جلدی سے پوچھا تم کون سی حرکتوں کا ذکر کر رہی ہو زرینہ !“چھڑو جی تھانیدار صاحب! وہ بات بدلتے ہوئے بولی۔

اس کے احتراز نے میرے اندر جس کو ابھارا۔ میں نے اسے گھیرنے کے لیے ذرا مختلف انداز میں وار کیا: “زرینہ ! تم نے آج صبح بیرونی دوازے کی کنڈی کھلی دیکھ کر یقین کر لیا تھا کہ ریاض جاچکا ہے یا اوپر جا کر اس کے کمرے میں دیکھا تھا۔ کیا تم نے اس کے جانے کی تصدیق کی تھی؟”

نہیں جناب میں اوپر نہیں گئی تھی وہ دو ٹوک لہجے میں بولی۔

جمیل نے مجھے بتایا کہ وہ بالائی منزل پر ریاض کو دیکھنے نہیں گیا تھا تا ہم اس سلسلےمیں اس نے زرینہ کی جانب سے لاعلمی کا اظہار کیا تھا اور اب زرینہ بھی اوپر جا کر تصدیق کرنے سے انکاری تھی۔ میرے اندر پیدا ہونے والا جس لمحہ بہ لمحہ بڑھ رہا تھا۔ ریاض کے حوالے سے زرینہ کے رویے میں عجیب سی بیزاری پائی جاتی تھی۔ ان بیزاری میں ناپسندیدگی

کا عنصر نمایاں تھا۔ میں نے اپنی کرید جاری رکھتے ہوئے کہا:

زرینہ ! تمہارا بیان ہے کہ سلمیٰ کو پیش آنے والے افسوسناک واقعے کی تم لوگوں کو تطلق خبر نہ ہوئی لیکن کیا تم ایسا سمجھتی ہو کہ ریاض بھی بے خبر رہا ہو گا ۔ ایک لمحے کے توقف سے میں نے اضافہ کیا: “وہ تو سلمی کے ساتھ والے کمرے میں موجود تھا؟“

میں اس بارے میں کیا کہہ سکتی ہوں تھانیدار صاحب! وہ روکھے لہجے میں بولی:

میں ریاض کے معاملات میں زیادہ دخل نہیں دیتی ۔ پتہ نہیں، کس وقت کون کی بات اسےبری لگ جائے اور چا چا فضل کی ناراضی مول لینا پڑے۔”

میں نے کہا: مجھے پتہ چلا ہے کہ ریاض ایک یتیم و پیر لڑکا ہے۔ وہاں موضع بھی کلاں (ضلع لیہ) میں اپنی نانی کے پاس رہتا ہے تین واکثر یہاں آتا رہتا ہے؟”

آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں وہ جلدی سے سر ہلاتے ہوئے بولی : “وہ زیادہ

تر اپنے ماموں جان ( فضل کریم) کے پاس ہی رہتا تھا زرینہ کے لہجے میں طنز کی آمیزش تھی وہ پچھلے چار ماہ سے یہاں ڈیرا ڈالے ہوئے تھا ۔ پتہ نہیں بیٹھے بٹھائے واپس جانے کا خیال کس طرح اس کے دل میں آگیا حالانکہ چاچا فضل بھی گھر میں نہیں ہے۔” ” کیا ریاض نے واپس جانے کے بارے میں فضل کریم کو بتا دیا تھا ؟”

مجھے پتہ نہیں جناب!”

تمہارے سر فضل کریم کی دوسری شادی کو کتنا عرصہ ہوا ہے؟ میں نے تیز لہجے میں دریافت کیا۔

وہ تھوڑا حساب لگاتے ہوئے بولی “کوئی آٹھ ماہ ہوئے ہوں گے۔” .

میں نے واضح طور پر محسوس کیا کہ فضل کریم کی دوسری شادی کے ذکر پر زرینہ کے لجے میں ایک خاص قسم کی تلخی عود کر آتی تھی۔ میں نے اس کی دکھتی رگ کو دباتے ہوئے کہا۔

زرینہ ! یہ تمہارے چاچا فضل کو بڑھے ہارے دوسری شادی کرنے کی کیا سوجھی تھی اور وہ بھی ایک نو جوان لڑکی سے!”

وہ منہ بگاڑ کر بولی بس جی بندے کا دماغ خراب ہوتے ہوئے دیر تھوڑی لگتی ہے یہ بات اس نے بے ساختہ کہی تھی پھر فورا ہی سنجل گئی اور محتاط انداز میں کہنے لگی ” کیا کہہ سکتے ہیں جی چاچا جی کی اپنی مرضی ہے۔“

میں نے کرید جاری رکھی ” میں نے سنا ہے مسلمی کی عمر زیادہ سے زیادہ میں سال ہوگی۔ یہ تو فضل کریم سے لگ بھگ تین گنا کم عمر ہوئی نا !

شاید میں اس کے دل کی باتیں کہہ رہا تھا اس لیے وہ زیادہ دیر تک احتیاط کا دامن تھامے نہیں رہ سکی، جل کر بولی ” تھانے دار صاحب! اگر چاچا کی سب سے بڑی بیٹی زندہ ہوتی تو وہ سلمی کی ہم عمر ہی ہوتی۔”

میں نے کہا سلنی سے تمہارے تعلقات کس قسم کے تھے ایک لمحے کے توقف سے میں نے وضاحت کردی “میرا مطلب ہے تم دونوں کی آپس میں بنتی تھی یا نہیں ؟“

ایک گھر میں رہتے ہوئے بنانا تو پڑتی ہے ناجی !” وہ ناگواری سے بولی۔اس کا مطلب ہے تم سلمنی سے زیادہ خوش نہیں تھیں؟”

” کہتے ہیں مرنے والے کو اچھے الفاظ میں یاد کرنا چاہیے وہ بات بدلتے ہوئےبولی ” خوشی اور غم تو نصیب سے ملتے ہیں ۔”

میں نے پوچھا ” فضل کریم کی پہلی بیوی زیتون بی بی کی کیا رائے ہے؟”

کس بارے میں جی!”

فضل کریم کی دوسری شادی کے بارے میں؟“

وہ بے چاری کیا رائے دے گی زرینہ نے اکتائے ہوئے لہجے میں کہا نہ تو وہ سن سکتی ہے اور نہ ہی پوری طرح دیکھ سکتی ہے۔“

میرا مطلب تھا تمہارے چاچے کی دوسری شادی پر زیتون بی بی نے کسی قسم کا کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا تھا؟“ میں نے پوچھا۔وہ بیزاری سے بولی ” اس گھر میں چاچا فضل کی چلتی ہے جی وہ جو چاہیں کر سکتے ہیں ۔”

” کیا تمہارے شوہر نے بھی کوئی اعتراض یا احتجاج نہیں کیا تھا؟“ میں نے معاملے کے ہر پہلو کو ذہن میں رکھتے ہوئے سوال کیا۔وہ بولی ” جو کچھ بھی کیا ہو گا دل ہی دل میں کیا ہوگا جی۔ انہوں نے اس سلسلے میں مجھ سے بات کی اور نہ ہی چاچا فضل کے سامنے زبان کھولی تھی۔“

ایک فوری خیال کے تحت میں نے پوچھا “زرینہ! کیا اس اندوہناک واقعے کی اطلاع ملٹی کے وارثوں کو بھی دی گئی ہے یا نہیں؟”

کون سے وارث اور کیسی اطلاع جناب ؟ ” وہ شیخ کر بولی۔

میں نے کہا بھئی میں سلمی کے میکے والوں کی بات کر رہا ہوں۔”

اون کا وہ تحقیر آمیز لہجے میں بولی۔

سمی سمجھا نہیں زرینہ؟”

وہ جی تھانیدار صاحب وہ بدستور ناگوار لہجے میں گویا ہوئی ” میکا تو ان لوگوں کا ہوتا ہے جن کا کوئی آگے پیچھے ہو۔ سلمی تو جی نے

وہ کچھ کہتے کہتے رک گئی اور جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔ میں نے الجھن زدہ لہجے میں کہا میری معلومات کے مطابق سلمی کا تعلق موضع رنگ پور کے چک نمبر پانچ سونو ۔ ٹی ڈی اے سے ہے۔ ظاہر ہے وہاں اس کے جسکے والے تو ہوں گے نا ؟

اللہ ہی جانے جی!” وہ ذو معنی انداز میں بولی۔

میں نے کہا اللہ تو جانتا ہے مگر یہ بتاؤ تم کیا جانتی ہو؟”

میں جو کچھ جانتی تھی، آپکو بتا دیا ہے وہ رو کے لہجے میں بولی۔

میں نے واضح طور پر محسوس کیا وہ سلمی کے میکے والوں کے ذکر سے کنی کترا رہی تھی۔ میں نے بھی اس سلسلے میں زیادہ پوچھ تاچھ مناسب نہ سمجھی اور کہا۔

زرینہ ! تم نے ابھی تک میرے سوال کا جواب نہیں دیا ؟

کون سا سوال تھانیدار صاحب !” وہ انجان بنتے ہوئے بولی۔

وہی سوال ! میں نے تیز نظر سے اسے گھورا اسلمی کے میکے والوں کو اطلاع دینے کے بارے میں جو کچھ میں نے پوچھا تھا۔”

وہ تامل کرتے ہوئے بولی “میرا خیال ہے سلمی کے بارے میں رنگ پور تک ایسی کوئی اطلاع نہیں پہنچائی گئی اور .. اور نہ ہی ایسی کسی اطلاع کی ضرورت ہے۔”

میں نے موضوع کو ذرا تبدیل کرتے ہوئے پوچھا یہ ریاض احمد کا کیا چکر ہے؟”

” کیسا چکر صاحب! اس نے الجھن آمیز لہجے میں دریافت کیا۔

“میرا مطلب ہے وہ کس قسم کا لڑکا ہے؟”

” مجھے تو ذرا پسند نہیں ہے وہ بے ساختہ بولی ” بس جی چاچا فضل کی وجہ سے برداشت کرنا پڑتا ہے۔“

” تم میری بات کا مقصد نہیں کبھی ہو؟” میں نے آواز دبا کر معنی خیز انداز میں کہا

میں یہ پوچھنا چاہ رہا تھا کہ وہ بھی تو بالائی منزل کے کمرے میں ٹھہرا ہوا تھا اور سنا ہے.

میں نے از خود جملہ نا مکمل چھوڑ دیا۔ وہ فوری ردعمل کے طور پر بولی ” بس جی زبان کھولتے ہوئے ڈر لگتا ہے ورنہ “.

اس نے بھی پر اسرار انداز میں بات ادھوری چھوڑ دی اور ایسی نظر سے مجھے دیکھتے لگی جیسے میری بات کی تہ تک پہنچ چکی ہو حالانکہ میں نے تو اس کی زبان کھلوانے کے لیےاندھیرے میں تیز چھوڑا تھا۔ اب مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے میرا تیر نشانے پر لگا ہو۔ ریاض احمد کے حوالے سے میرے ذہن میں شک جڑ پکڑ چکا تھا۔ میں نے اعداز و لگایا کہ زرینہ نہ تو ریاض کے بارے میں اچھے جذبات رکھتی تھی اور نہ ہی سلمی کو پسندید و نظر سے دیکھتی تھی۔ اس حوالے سے زرینہ کو کرید نا مفید ثابت ہو سکتا تھا مگر جب میں نے مزید سوالات کیے تو اس نے ایک خاص حد سے آگے تعاون نہیں کیا۔ میں نے اس کے ادھورے جملے کے جواب میں پوچھاتھا۔

جواب دو۔زرینہ ا زبان کھولتے ہوئے تمہیں ڈر کیوں لگتا ہے؟“

وہ نگاہ چراتے ہوئے بولی چھوڑیں جی کیا فائدہ اس ذکر کا۔“ ” تم فائدے نقصان کو رہنے دو میں نے کہا میں تم سے جو کچھ پوچھ رہا ہوں اس کا” تھانے دار صاحب ! وہ میجی انداز میں بولی ” اس ذکر کو زیادہ نہ پھیلا ئیں ۔ سلمی اب اس دنیا میں نہیں رہی اور وہ زندہ بھی ہوتی تو چاچا فضل اس کے بارے میں ایک لفظ نہیں سن سکتے تھے اور پھر ریاض بھی تو چاچا فضل کا بڑا لاڈلا بھانجا ہے۔”

میں نے اسے کھوجتی ہوئی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا ” تو اس کا مطلب ہے تم جو کچھ بھی جانتی ہو اس کا تعلق سلئی اور ریاض کے تعلقات سے ہے؟” آپ خود سمجھ دار ہیں تھانے دار صاحب ! وہ مہم لہجے میں بولے۔

میں زرینہ کی بات کو بہ خوبی سمجھ رہا تھا۔ وہ اگر چہ کھل کر کچھ بیان نہیں کر رہی تھی

تاہم میں اس کے واضح اشارے جان گیا تھا۔ میں نے کہا زرینہ! موجود و صورتحال میں، میں جو کچھ سمجھ رہا ہوں وہ تمہاری سوچ سے قریب تر ہے۔ خاص طور پر ریاض کا اچانک منہ اندھیرے یہاں سے چلے جانا ۔“

وہ کچھ نہیں بولی۔ خاموشی سے مجھے دیکھتی رہی۔ میں نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے دوٹوک لہجے میں پوچھا “زرینہ ! تمہارے خیال میں سلمیٰ کو پیش آنے والے حادثے سے ریاض کا کوئی تعلق ہو سکتا ہے؟”

وہ ہراساں نظر آنے لگی پھر گھبراہٹ آمیز لہجے میں بولی میں اس سلسلے میں کچھ نہیں کہہ سکتی جناب!

اس کی گھبراہٹ اور پریشانی مجھے بہت دور تک سوچنے پر مجبور کر رہی تھی ۔ زرینہ نے بڑے واضح انداز میں اس بات کی تصدیق تو کر دی تھی کہ ریاض اور سلنی کے بیچ کوئی معاملہ”

چل رہا تھا۔ موجودہ حالات میں یہ ناممکن بھی نہیں تھا۔ سلمی کی عمر کم و بیش بیس سال تھی اور

ریاض پندرہ سولہ سال کا تھا۔ یہ عمر کا بڑا اخطر ناک حصہ ہوتا ہے۔ اگر چہ وہ بھلا زمانہ تھا۔ ٹی وی کیبل اور ڈش انٹینا کی سہولیات میسر نہیں تھیں عمر اٹھتی ہوئی جوانی کے اپنے ہی تقاضے ہوتےہیں ۔ انسانی جبلت کو کسی ٹریننگ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر سلمی اور ریاض میں واقعی کسی نوعیت کے مراسم پیدا ہو گئے تھے تو اس میں اچنبھے کی کوئی بات نہیں تھی۔ بہر حال ابھی توامکانات کی بات ہو رہی تھی۔ یہ بھی ہو سکتا تھا آگے جا کر کوئی اور ہی نقشہ سامنے آئے۔ تفتیش

کی گاڑی کے لیے شک کے پیٹرول کی ضرورت ہوتی ہے۔ موجودہ کیس میں ریاض کی ذات پر شک کے لیے بڑی ٹھوس وجوہات موجود تھیں۔

زارینہ اس موضوع پر گفتگو سے کترا رہی تھی مگر میں بھی آسانی سے اسے چھوڑنے والا نہیں تھا۔ میں نے کہا تم سلمیٰ اور ریاض کے تعلقات کے بارے میں جس انداز سے سوچ رہی ہو اس سلسلے میں ایک قباحت ہے۔”

دہ کیا جی؟ وہ چونک کر مجھے دیکھنے لگی۔

میں نے کہا ” “ریاض فضل کریم کا سگا بھانجا ہے اس رشتے سے سلنی اس کی ممانی ہوئی۔ ان دونوں کے درمیان …

ہے عمر سلمی تو ۔وہ میری بات کاٹتے ہوئے بولی ” تھانے دار صاحب ! ریاض تو چاچا فضل کا بھانجا

“زرینہ کی بات ادھوری رہ گئی۔ اسی وقت باہر ہے جبیل کی آواز آئی باجی تھانیدارصاحب ادھر بیٹھک میں ہیں ۔“

ہے۔بولی۔زرینہ ایک جھٹکے سے اٹھ کر کھڑی ہوگئی اور بولی ” لگتا ہے، چاچا فضل واپس آ گیا در جمیل کی بات سے تو یہی اندازہ ہوتا ہے میں نے تائیدی لہجے میں کہا۔

میں اب چلتی ہوں وہ بیٹھک کے دروازے کی جانب قدم بڑھاتے ہوئے جیسے ہی اس نے دروازے کو چھوا، دروازہ کھل گیا۔ اس کے ساتھ اپنی جمیل احمد اور اس کا باپ فضل کریم بیٹھک میں داخل ہوئے۔ اسی اثنا میں زرینہ باہر نکل گئی۔

جمیل باپ کو یہاں پیش آنے والے واقعے سے آگاہ کر چکا تھا۔ رمی علیک سلیک –

کے بعد فضل کریم نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا ” تھانے دار صاحب ایہ سب کیسے ہو گیا ؟

میں یہی معلوم کرنے کی کوشش کر رہا ہوں’ میں نے تسلی آمیز لہجے میں کہا۔

فضل کریم کی عمر پچپن اور ساتھ کے درمیان تھی نہ وہ مضبوط کاٹھی کا مالک ایک درمیانہ قامت شخص تھا۔ اس کی بیوی سلمی کو پیش آنے والے واقعے نے لگتا تھا’ اس کی کمر توڑ دی تھی۔ اس کا رنگ سرسوں کی طرح پیلا ہورہا تھا۔ اس کے چہرے پر کرب کے آثار واضح طور پر دیکھے جاسکتے تھے۔

وہ دکھی لہجے میں بولا تھانید از صاحب ! میں نے سنا ہے آپ نے سلمی کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال بھیج دیا ہے۔”

” تم نے بالکل ٹھیک سنا ہے فضل کریم ! میں نے مضبوط لہجے میں کہا ” یہ ضابطےکی کارروائی ہے جو کہ بہت ضروری ہوتی ہے۔”

و و افسوس ناک انداز میں سر ہلانے لگا۔

تھوڑی دیر تک بیٹھک میں خاموش رہی پھر میں نے جمیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ” جمیل، تمہیں تھوڑی دیر کے لیے باہر جانا ہوگا۔ میں تنہائی میں فضل کریم سے بات کرنا چاہتا ہوں۔”

وہ کوئی بات کیسے بغیر خاموشی سے اٹھ کر باہر چلا گیا۔

میں نے کھنکار کر گلا صاف کیا اور فضل کریم کی جانب متوجہ ہو گیا: فضل کریم اسلمی کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کا مجھے دلی افسوس ہے لیکن میں اپنے فرائض سے مجبور ہوں اس لیےتمہیں میرے سوالوں کے جواب دینا ہوں گے۔“

” کیا آپ کے سوالوں کے جواب دینے سے میری ملٹی واپس آجائے گی ؟” وہ زخمی لہجے میں بولا ۔

میں نے کہا: ” فضل کریم ! تم ماشاء اللہ خاصے سیانے ہو ۔ اچھی طرح جانتے ہو جو ایک بار دنیا سے چلا جاتا ہے پھر واپس نہیں آتا ۔“

تو پھر اس سوال جواب کا کیا فاکہہ ؟ .

میں اس کے درد کو سمجھ رہا تھا اور کسی حد تک محسوس بھی کر رہا تھا۔ ایک بوڑھے شخص کے لیے نو جوان اور حسین وجمیل بیوی کی جدائی کو برداشت کرنا بہت مشکل اور کٹھن ہوتا ہے۔

اس کرب کا انداز ہوہی لوگ لگا سکتے ہیں جو کبھی اس کیفیت سے گزرے ہوں۔ اپنی عزیز ترین شے کی جدائی ابدی جدائی خون کے آنسو رلاتی ہے۔

میں نے متحمل لہجے میں کہا: ” فضل کریم ! جانے والوں کو کوئی واپس نہیں لا سکتا مگر میں اپنی تفتیش سے تو ثابت کر سکتا ہوں کہ اس سانحے کا اصل ذمے دار کون ہے؟”

اصل ذمے دار اور خلا میں گھورتے ہوئے بولا سلمی اپنی بے احتیاطی کے سبب ایک حادثے کا شکار ہو گئی ۔ آپ تفتیش اور تحقیق کا دروازہ بند ہی کر دیں تو بہتر ہے۔”

میں نے کہا: ” فضل کریم ! حالات ویسے نہیں ہیں جیسا تم سمجھ رہے ہو۔”

پھر کیسے حالات ہیں؟ اس نے سرسری انداز میں پوچھا۔

واقعات وشواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ ایک اتفاقی حادثہ نہیں ہے میں نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا: ” مجھے تو اس سانچے کے پس پردہ کوئی اور ہی کہانی نظر آ رہی ہے۔

و و طنزیہ لہجے میں بولا : ” وہ کہانی کیا ہے ذرا مجھے بھی سنادیں!”.

” کہانی کا ایک بڑا حصہ تو پوسٹ مارٹم کی رپورٹ سے ظاہر ہو جائے گا فضل کریم !

” میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا: “باقی اگر تم تعاون کرو تو میں چند حقائق تمہار ہے سامنے لا سکتا ہوں۔“

آپ مجھ سے کسی قسم کا تعاون چاہتے ہیں؟”

“راست گوئی کا تعاون “

ہیں کچھ سمجھا نہیں، وہ الجھن زدہ انداز میں بولا۔

میں نے کہا: میں جو کچھ تم سے پوچھوں اس کا سیدھا اور سچا جواب دینا۔ بس میں تم سے یہی چاہتا ہوں۔”

تھوڑے سے پس و پیش کے بعد وہ تعاون پر آمادہ نظر آنے لگا کیولا: “آپ پوچھیں کیا پوچھنا چاہتے ہیں؟”

میں نے اب تک حاصل ہونے والی تمام معلومات اور اپنے تئیں اخذ کردہ نتائج کی روشنی میں اسے تمام حالات و واقعات سے آگاہ کیا اور آخر میں پوچھا: ” فضل کریم ! تم ہی دیانتداری سے بتاؤ کہ کیا یہ ممکن ہے ایک انسان آگ سے جل کر اپنی جان دے دے اور گھر میں موجود کسی فرد کو کانوں کان خبر نہ ہو میں نے اس کے چہرے پر نگاہ جماتے ہوئے اپنی بات مکمل کی خاص طور پر جب اس بد قسمت انسان کے ساتھ والے کمرے میں ایک نوجوان بھی موجود ہو؟“

میرے اس سوال پر وہ گہری سوچ میں ڈوب گیا پھر شک آمیز نظر سے مجھے دیکھتے ہوئے بولا : ” آپ کی بات میں اچھا خاصا وزن ہے تھانیدار صاحب مگر اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ آپ اس گھر کے کسی فرد پر شبہ ظاہر کر رہے ہیں ۔”

“تم خاصی سمجھ داری کا ثبوت دے رہے ہو فضل کریم !

وو بولا: ” آپ کو کس پر شک ہے؟”

مجھے صرف شک ہے میں نے صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے کہا: “مشکوک بندے کی نشان دہی تم کرو گے۔”

وہ ایک مرتبہ پھر گہری سوچ میں ڈوب گیا۔

میں نے کہا: ” یہ بات ذہن میں رہے کہ گزشتہ رات اس گھر میں صرف پانچ افراد موجود تھے ایک لمحے کو رک کر میں نے فضل کریم کی آنکھوں میں جھانکا اور اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا : ” نمبر ایک تمہاری پہلی بیوئی زیتون بی بی نمبر دو تمہارا بیٹا جمیل، نمبر تین تمہاری بہو زرینہ نمبر چار تمہارا بھانجا ریاض اور نمبر پانچ تمہاری دوسری بیوی سلمی … جواب اس دنیا میں نہیں ہے۔“

اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ کو باقی چار میں سے کسی ایک فرد پر شک ہے وہ

تشویش ناک لہجے میں بولا ۔

میں نے کہا: “تمہارا اندازہ درست ہے۔”

پھر آپ کی نظر میں مشتبہ شخص کون ہے؟ وہ دلچسپی لیتے ہوئے بولا ۔

میں نے چند لمحے تک اسے ٹواتی ہوئی نظر سے دیکھا اور کہا: ” فضل کریم ! بنیادی بات تو یہ ہے کہ سلمی کی آگ سے موت واقع ہونے کی کہانی پر مجھے قطعا یقین نہیں ہے۔ اس وقت تک کی تحقیق کے مطابق نوے فیصد امکانات اس بات کے ہیں کہ سلمنی کو باقاعدہ قتل کیا گیا ہے۔”

یہی تو میں بھی پوچھ رہا ہوں وہ سنجیدگی سے بولا : رسلمنی کا قاتل کون ہو سکتا ہے

” تمہاری نظر میں کون ہو سکتا ہے؟ میں نے الٹا اس سے سوال کر ڈالا۔

وہ گڑ بڑا گیا پھر بکھرے ہوئے لہجے میں بولا : ”میں کیا کہہ سکتا ہوں جناب! میں ابھی آپ کے سامنے ہی آیا ہوں۔ میں کل صبح یہاں سے گیا تھا۔“

تم کل صبح اپنے ایک دوست بیو پاری اشرف علی سے ملنے کوٹ قیصرانی (ضلع ڈیراغازی خان) گئے تھے اور ابھی وہیں سے واپس آرہے ہو اتنی معلومات تو میں نے حاصل کرلی ہیں ۔ اب تم مجھے یہ بتاؤ گے کہ موجودہ صورتحال میں اگر تمہیں گھر کے کسی فرد پر بحیثیت قابل شک کرنا ہو تو تم کس کے نام پر انگلی رکھو گے؟”

وہ انضطراری انداز میں بولا : ” میں کسی پر شک نہیں کر سکتا جناب!”

اور شک کیسے بنا بات نہیں بنے گی میں نے بدستور سخت لہجے میں کہا۔

پھر آپ ہی بتا دیں وہ بے بسی سے بولا ۔

میں نے کہا: ”دیکھو فضل کریم ! تمہاری پہلی بیوی زیتون بی بی جسمانی اور ذہنی طور پر اس قابل نہیں کہ وہ اپنی سوکن کو نقصان پہنچانے کے لیے اتنا بڑا قدم اٹھانے کی جرات کر سکے۔ اس لیے اسے تو اس فہرست سے خارج ہی سمجھو۔”

ر جمیل اور زرینہ سے بھی میں اتنی گھٹیا حرکت کی توقع نہیں کر سکتا ‘ وہ بے اختیاربولا :

پھر تو ایک ہی فرد باقی رہ جاتا ہے میں نے فورا حملہ کر دیا۔

آپ کا مطلب ہے ریاض ؟ اس نے حیرت بھری نظر سے مجھے دیکھا۔

میں نے اثبات میں سر ہلانے پر اکتفا کیا۔

وہ جلدی سے بولا: ” ایسا نہیں ہو سکتا تھانیدار صاحب!”

ہوں۔“کیوں نہیں ہو سکتا فضل کریم ؟”

ریاض میرا سگا بھانجا ہے وہ قطعیت سے بولا ”میں اس پر پورا بھروسا کرتا” ومیں نے کہا: ” موجودہ حالات میں ریاض کی ذات شکوک و شبہات کی دبیز چادرمیں لپٹی نظر آتی ہے۔”

اس نے کیا کیا ہے؟ فضل کریم نے پوچھا۔

وہ پر اسرار طور پر موقع سے غائب ہے۔”

اس سے کیا ثابت ہوتا ہے؟“ وہ بھانجے کی حمایت کرتے ہوئے بولا ۔

میں نے کہا: اس سے جو کچھ ثابت ہوتا ہے وہ تو میں تمہیں بعد میں بتاؤں گا۔

پہلے تم مجھے یہ بتاؤ کہ اس نے آج کی تاریخ میں تمہیں اپنے گاؤں جانے کے بارے میں کچھ بتایا تھا ؟ “

نہیں اس نے مجھے سے ایسا کوئی ذکر نہیں کیا تھا اس نے بتایا۔

میں نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا: ” فضل کریم ! واقعات کے مطابق کل برات یعنی سات جنوری کو تمہاری چھوٹی بیوی سلنی حسب معمول کھانے وغیرہ سے فارغ ہونے کے بعد بالائی منزل پر اپنے کمرے میں چلی گئی تھی۔ تمہارا بھانجا ریاض جو کھانا کھانے کے بعد اپنے دوستوں کے پاس گھر سے باہر چلا گیا تھا، لگ بھگ ساڑھے آٹھ بجے واپس آیا اور سونے کے لیے بالائی منزل پر اپنے کمرے میں چلا گیا۔ تمہاری بہو زرینہ نے مجھے بتایا ہے

کہ ریاض نے آج صبح یعنی آٹھ جنوری کو اپنے گاؤں جانے کے بارے میں بتایا تھا مگر وہ آٹھ جنوری کا سورج طلوع ہونے سے بہت پہلے ہی گھر سے غائب ہو گیا اور وہ بھی چپ چپاتے کسی کو بتائے بغیر کسی شخص کا منہ اندھیرے گھر کے مکینوں کو بتائے بغیر گھر سے نکل جانا کیا معنی رکھتا ہے فضل کریم اور جب موسم بھی ایسا مرد ہو کہ رگوں میں لہو جم جائے ۔ تم اس سلسلے میں کیا کہتے ہو؟ “

وہ فکر مند نظر سے مجھے دیکھتے ہوئے بولا : ” جناب! میری تو کچھ سمجھ میں نہیں آرہا۔

میں بھلا کیا کہہ سکتا ہوں؟”

تمہاری سمجھ میں آئے یا نہ آئے لیکن میری سمجھ میں “

اچانک میرے دل میں خواہش جاگی کہ میں دوبارہ سلمی والے کمرے میں جھائوں، ہزار کوشش کے باوجود بھی میں اس خواہش کو دبا نہ سکا اور اپنے کمرے سے باہر نکن آیا۔ اس وقت زیرین منزل سے زرینہ اور جمیل کے باتیں کرنے کی آواز آرہی تھی جس ہےاندازہ ہوتا تھا کہ جمیل ابھی گھر آیا تھا اور زرینہ ان کے لیے کھانا وغیر ہ نکال رہی تھی۔ میں نے زیریں منزل کی آوازوں کو نظر انداز کر کے سلمی والے دروازے کی درز سے اندر جھانکنے لگا۔ .

چراغ ہنوز اپنی دھیمی روشنی خارج کر رہا تھا۔ سلمی کی چارپائی کے نزدیک دہکتے ہوئے کوئلوں .. والا وا بڑا رکھا ہوا تھا اور خود سیلمی : موسی کی شدت سے بے نیاز اور زندگی کی قید سے آزاد اپنے بستر پر پڑی تھی۔

تھوڑی دیر بعد میں دوبارہ اپنے کمرے میں موجود تھا۔ یہ بات ہزار سوچنے کے باوجود بھی میری سمجھ میں نہیں آرہی تھی کہ زرینہ نے سلمنی کو کیوں قتل کیا تھا؟ اس بات پر بھی۔

مجھے حیرت ہو رہی تھی کہ اتنا بڑا کارنامہ سرانجام دینے کے بعد وہ کتنے اطمینان سے جمیل کو رات کا کھانا کھلا رہی تھی۔ ان دونوں واقعات کے درمیان زیادہ سے زیادہ آدھے گھنٹے کا۔

تفاوت رہا ہو گا۔ زرینہ کی ذات کا یہ پہلو پہلی بار میرے سامنے آیا تھا۔ تہ میں اس معاملے میں جس قدر سوچ رہا تھا اتنا ہی الجھتا چلا رہا تھا۔ جب کوئی۔

بات میری سمجھ میں نہیں آئی تو میں نے وہاں سے فرار ہونے کے بارے میں سوچا۔ مجھے یقین –

تھا کہ جب دوسری صبح کمرے سے سلیمی کی لاش دریافت ہو گی تو اس سلسلے میں مجھ پر ہی شک . کیا جائے گا۔ زرینہ اور جمیل مجھے پسند نہیں کرتے تھے۔ مجھے اپنی جان پھنستی ہوئی نظر آئی تو میں نے قرار کے بارے میں حتمی فیصلہ کر لیا۔ دن میں زرینہ کو میں بتا چکا تھا کہ کل یعنی آٹھے جنوری کو میں اپنے گاؤن جاؤں گا۔ میں نے سوچا اگر میں راتوں رات ہی گھر سے نکل جاؤں. تو وہ لوگ یہی سمجھیں گے کہ میں صبح کسی وقت گھر سے چلا گیا ہوں۔ یہ خدشہ میرے ذہن کے کسی گوشے میں موجود تھا کہ میری عدم موجودی میں مجھ پر شک کیا جا سکتا ہے لیکن وہاں رہنا

بھی تو خطرے سے خالی نہیں تھا۔ میرے لیے آگے کنواں پیچھے کھائی والا معاملہ ہو گیا تھا یا یوںسمجھ لیں کہ اس وقت میں اتنا زیادہ پریشان ہو گیا تھا کہ ذہن سوچنے سمجھنے کے قابل نہیں رہا تھا۔ بہر حال حماقت یا عقل مندی سے قطع نظر میں خاموشی کے ساتھ آدھی رات کے بعد گھرسے نکل گیا۔ اس ٹھنڈی ٹھار رات میں میں نے میلوں پیدل سفر کس طرح کیا ہو گا اس کااندازہ آپ بخوبی لگا سکتے ہیں ؟

مین ماما فضل کے ندرت فرار ہو کر یہ سمجھ بیٹھا تھا کہ محفوظ ہو گیا ہوں لیکن تھانیدارصاحب! آپ ڈھونڈتے ڈھانہ نے بی کلاں بھی پہنچ گئے اور مجھے گرفتار کر لیا حالانکہ میں اس معاملے میں بالکل بے قصور ہوں۔”

اس نے اپنی بات مکمل کی تو میں نے پوچھا: ” اگر تم سلمی کے قتل میں کسی بھی طرح ملوث نہیں ہو تو پھر جنت بی بی کے گھر واقع نبی کلاں سے تم نے چھت کے ذریعے فرار ہونے کی کوشش کیوں کی تھی ؟؟

آپ اسے میری ایک اور حماقت سمجھ لیں جناب ! وہ اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے بولا ‘ پہلی حماقت میں ماما فضل کے گھر سے فرار ہو کر کر چکا تھا۔ بس یوں کہہ لیں کہ میں پیش آنے والے حالات سے بری طرح خوفزدہ ہو گیا تھا اور پریشانی میں الٹی سیدھی حرکتیں کربیٹھا ہوں۔” ۔

میں نے تنیسی لہجے میں کہا: “اگر تمہارے بیان میں دروغ گوئی ثابت ہو گئی تو سمجھ لو تمہارے لیے سخت سے سخت ترین حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔” ۔

اگر آپ زرینہ کو گرفتار کر کے تھوڑی سختی کریں گئے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا اس نے تجویز پیش کی۔

میں نے کہا: “زرینہ کے ساتھ کیا سلوک کیا جانا چاہیئے یہ میں اچھی طرح جانتاہوں۔

تم اپنے بارے میں ایک مرتبہ پھر اچھی طرح سوچ لو یہ اگر تم نے قانون سے کوئی بات چھپانے کی کوشش کی ہے تو ابھی بتا دو۔ بعد میں کوئی اہم راز منکشف ہوا تو تمہیں لینے کے دینے پڑ جائیں گے ۔

جناب ! میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں ” وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولا ” میں نے آپ کو سب کچھ بیچ بیچ بتا دیا ہے۔”

اس کے لیے میں سچائی کی جھلک نمایاں تھی۔ میں نے حوالدار سے کہا کہ ریاض کو اپنی تحویل میں رکھے۔ جب تک زرینہ سے پوچھ گچھ نہ کر لی جاتی ، ریاض کو چھوڑا نہیں جا سکتاتھا۔ پوچھ کچھ تو میں زرینہ سے پہلے بھی کی تھی مگر اس مرتبہ اقبال جرم کروانے کا مرحلہ در پیش تھا۔ میں نے حوالدار کو تاکید کر دی کہ ریاض کو کسی قسم کی کوئی تکلیف نہ پہنچے البتہ فضل کریم سےملنے کے اجازت نہ دی جائے ۔

حوالدار ریاض کو لے کر میرے کمرے نے چلا گیا تو میں نے کا نشمیل کو بھیج کر اےایس آئی افضل شاہ کو اپنے پاس بلا لیا۔ میں نے اس سے کہا۔

تم فور از درینہ کو گرفتار کر کے تھانے لے آؤ۔”

کیا جمیل کو بھی گرفتار کرنا ہے ملک صاحب؟‘ افضل شاہ نے پوچھا۔

میں نے کہا: ” اس کی ضرورت نہیں البتہ وہ خود اپنی بیوی کے ساتھ آنا چاہیے تو لےآتا اسے بھی۔ بس تم نور روانہ ہو جاؤ۔”

میں ابھی گیا اور ابھی آیا افضل شاہ نے مستعدی سے کہا اور کمرے سے نکل گیا۔

اس کے بعد میں نے فضل کریم کو اپنے کمرے میں بلالیا۔ وہ میرے سامنے کرسی پربیٹھنے لگا تو میں نے ڈپٹ کر کہا ” کھڑے رہو۔ جھوٹ بولنے والوں کو میں اپنے سامنے بیٹھنے کی اجازت نہیں دے سکتا ۔ “

تھانیدار صاحب! میں نے کون سا جھوٹ بولا ہے آپ کے ساتھ ؟” وہ مصنوعی شکوہ کرتے ہوئے بولا۔

میں نے کڑک کر کہا: ”جھوٹ کے بچے ۔ میں ابھی تمہارا پول کھولتا ہوں۔“

پھر میں نے اسے وہ تمام باتیں بتا دیں جو اے ایس آئی افضل شاہ رنگ پور سےسلمی، عبد الواحد وزیر علی اور فضل کریم کے بارے میں معلوم کر کے آیا تھا۔

دہ خجالت آمیز لہجے میں بولا : ” تو آپ کو سب پتہ چل گیا ۔ “

بس جی میں نہیں چاہتا تھا کہ کوئی اس بات سے واقف ہو کہ میں نے سلمی کو پانچ سوروپے میں خریدا تھا وہ ندامت آمیز لہجے میں بولا ” لوگ تو ایسے معاملات میں الٹی سیدھی باتیں بنانے لگتے ہیں جناب!

میں نے کہا: الٹی سیدھی باتیں تو اب بنیں گی فضل کریم ! حالات سنگین ترین صورت اختیار کر چکے ہیں۔”

کیوں کیا ہوا ہے جی“ وہ گھبراہٹ آمیز لہجے میں بولا: ” کیا ریاض نے اقبال جرم کر لیا ہے۔”

میں نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا: تمہارے بھانجے ریاض نے اتنا بڑا اور سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ بن کر تمہاری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔”

” کیا کہہ دیا ہے اس نے ؟“ وہ پریشان ہو گیا۔

میں نے کہا: “ابھی تھوڑی دیر میں تمہاری بہو زرینہ تھانے پہنچنے والی ہے۔ ریاض نے زرینہ کو سلمی کا گلا دباتے ہوئے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ زرینہ قاتل ہے تمہاری نو عمر بیوی سلمی کی کچھ آیا سمجھ شریف میں ؟ “

بدهم. مگر سلمی تو آگ سے جل کر وہ رک رک کر بولا: “اور آپ گلادبانے کی بات میری تو کچھ سمجھ میں نہیں آرہا “.

مجھے یاد آیا کہ فضل کریم پوسٹ مارٹم کی رپورٹ سے ابھی تک آگاہ نہیں ہوا تھا۔

میں نے دانستہ اسے اس بارے میں نہیں بتایا تھا۔ اب میں نے کچھ بھی چھپانا ضروری نہ سمجھاور فضل کریم کو صورتحال سے آگاہ کر دیا۔ مختصر میں نے اسے ریاض کے حلفیہ بیان کا خلاصہ بھی سنا دیا۔ پوری بات سننے کے بعد افسوس ناک انداز میں سر ہلانے لگا۔

اورپڑے گا۔یہ تو بہت برا ہوا تھانیدار صاحب. بہت ہی برا ۔“

اب اس سے بھی زیادہ برا ہونے والا ہے فضل کریم !”

میرا تو دل ڈوب رہا ہے وہ نحیف کی آواز میں بولا۔

میں نے کہا “دل کو مضبوط رکھو فضل کریم ۔ ابھی تو تمہیں بہت کچھ سننا اور دیکھنا وہ بار بارنفی میں سر ہلا رہا تھا اور ایک ہی جملے کی گردان کرتا چلا جارہا تھا یا اللہ! ارتم کر تو رحیم و کریم ہے۔“

میں نے کہا: ” بے شک وہ رحیم کریم ہے اس سے خیر ہی کی توقع کی جاسکتی ہے عمر اس نے انسان کو جانوروں پر فضیلت اس لیے دی ہے کہ اسے شعور ایسی نعمت سے نوازا ہے۔

سمجھ بوجھ اور سوچنے پر کھنے کی صلاحیت عطا کی ہے۔ انسان کو اگر اشرف المخلوقات بنایا گیا ہے تو اسے جانوروں جیسے رویے کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔ اللہ ہر حال میں رحم کرتا ہے مگر انسان کو اس کے کیے کی سزا ضرور بھگتنا پڑتی ہے۔“

اس کے بعد میں نے فضل کریم کو دوبارہ حوالات میں پہنچا دیا۔

دو گھنٹے بعد اے ایس آئی افضل شاہ زرینہ کو گرفتار کر کے تھانے لے آیا۔ حسب توقع جمیل احمد بھی اس کے ساتھ تھا۔ زرینہ خاصی خوف زدہ دکھائی دیتی تھی ۔ جمیل اور زرینہ کویہ تو معلوم تھا کہ فضل کریم تھانے میں ہے مگر وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ میں نے اسے حوالات میں بند کر رکھا ہے پھر جب انہیں پتا چلا کہ ریاض احمد کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے تو وہ چونکے بغیر

 نہ رہ سکے۔ میں نے ایک بات خاص طور پر محسوس کی تھی اور وہ یہ کہ زرینہ کے خوف میں پریشانی اور تشویش کا عنصر نمایاں تھا جبکہ جمیل صرف حیرت زدہ تھا۔

قصہ مختصر زرینہ پر مجھے زیادہ محنت نہیں کرنا پڑی۔ ابتدائی چند منٹ تک تو وہ اپنےجرم سے انکاری رہی مگر جب تفتیش اور پوچھے کچھ ذرا سخت مراحل میں داخل ہوئی تو ابن کا انکاراقرار میں بدل گیا۔ ریاض احمد نے اپنی آنکھوں سے اسے جرم کرتے ہوئے دیکھا تھا لہذا ریاض کی گواہی نے زرمینہ کا بھٹا بٹھا دیا۔ پھر میر نے تیز وتند سوالات کی تاب نہ لاتے ہوئے

اس نے روہانسے لہجے میں اقبال جرم کر لیا۔

زرینہ نے پہلے مجھے اور بعد ازاں عدالت میں جو بیان دیا وہ کچھ اس طرح دیا۔

میں نے ایک روز پاچا فضل اور بلنی کی گفتگو سن لی تھی۔ وہ گفتگو ہمارے مستقبل کو تباہ کرنے والی تھی اور کوئی بھی شخص یہ نہیں چاہتا کہ اس کا مستقبل تاریک ہو جائے۔ وہ اپنی بساط بھر کوشش کر کے مستقبل کو بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی کوشش میں نے بھی کی تھی۔

اگر میں نے چانا فضل اور سلنی کے درمیان ہونے والی خطرناک باتیں نہ بنی ہوتیں تو ممکن تھا میرے ذہن میں منفی خیالات پیدا نہ ہوتے اور میں سلمی کی جان لینے کی کوشش نہ کرتی۔ چاچا فضل نے بڑے واضح الفاظ میں سلمی کو یقین دلایا تھا بلکہ اس سے قسمیہ وعدہ کیا تھا کہ بہت جلد وہ سب کچھ اس کے نام کر دے گا۔ دو منزلہ مکان فضلن ایجنسی اور و دیگر سب کچھ ۔ میں نے اس مرحلے پر چاچا فضل کو اپنے خلاف باتیں کرتے ہوئے بھی نا یعنی میرے خلاف وہ جمیل کو بھی برا بھلا کہہ رہا تھا۔ اس نے سلمی کے سامنے اپنے اس شک کا اظہار بھی کیا تھا کہ جمیل ایجنسی کی بکری میں سے رقم چرا تا رہتا ہے۔ اس راز چا چا ہم سب کے خلاف باتیں کر رہا تھا۔ وہ ہمارے بارے میں اپنے دلی خیالات کا اظہار کر رہا تھا اور وہ بھی کس کے سامنے۔ اپنی نو بیاہتا بیوی سلمی کے سامنے! چاچا فضل نے اپنی پہلی بیوی زیتون چاچی کی برائی کی تھی مجھے پھوہڑ اور نالائق کہا: جمیل کو بددیانت اور چور گردانا … اپنی اس چہیتی سے وعدہ کیا کہ وہ عنقریب اپنا سب کچھ اس کے نام کروانے گا۔“

جذبات کی شدت نے اسے روہانسا کر دیا تھا۔ چند لمحے بعد وہ اپنی کیفیت پر قابو پاتے ہوئے بولی ” اسی روز سے میرے دل میں سلمی کے لیے نفرت کے پورے نے جڑ پکری۔ سارے فساد کی جڑ یہی عورت تھی جو ہم سب کے مستقبل کو کسی تاریک گچھا میں دھکیلنے والی تھی ۔ تو کیوں نا اس فساد کو ہی جڑ سے ختم کر دیا جاتا !

میں نے چاچا فضل اور سلمی کے درمیان ہونے والی گفتگو کے بارے میں جمیل کو کچھ نہیں بتایا ۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ جمیل بہت بلکہ حد سے زیادہ فرمانبردار بیٹا ہے۔ وہ چاچایا فضل کے خلاف ایک لفظ سنے کا روادار نہیں۔ میں نے بنو چا اگر جمیل سے اس سلسلے میں بات کروں گی تو وہ اسے میر کے دماغ کا نور سمجھے گا یا پھر صبر کی تلقین کرنے گا لیکن میں نے جو کچھ بن گیا تھا اور جو کچھ مجھے نظر آرہا تھا اس کے پیش نظر ہی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ جو کرنا تھا مجھےخود ہی کرنا تھا اور مجھے جو سوجھا وہ میں نے کر ڈالا۔

مین سیلمی کو ٹھکانے لگانے کے بارے میں مسلسل سوچتی رہی اور پھر مجھے ایک موقع مل گیا ۔ چاچا فضل ایک دن کے لیے کوٹ قیصرانی چلا گیا ۔ مجھے معلوم تھا کہ جب کبھی چاچا اپنے علاقے سے باہر جانا تھا تو جمیل دیر سے گھر آتا تھا۔ وجہ تاخیر وہ کام کی زیاد” کو بتاتاتھا۔ میں یہ بھی جانتی تھی کہ رات کے کھانے کے بعد نیا پا کا بھانجا ریاض گھر ہے باہر چلا جاتا۔ ہے اور اس کی واپسی کافی دیر کے بعد ہوتی ہے۔ میں نے اس نہر کی موقع سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کر لیا۔

سلمی جب سونے کے لیے بالائی منزل پر گئی تو تھوڑی دیر بعد میں بھی اوپر پہنچ گئی اور پھر پھر میں نے گلا گھونٹ کر اس کا کام تمام کر دیا اپنے مستقبل کو تاریک ہونے سے بچالیا۔ اپنی دانست میں میں نے بڑا پکا کام کر دیا تھا اگر میں نہیں جاتی تھی کہ ریاض دروازے سےآنکھ لگائے میری یہ کارروائی دیکھ رہا تھا۔ میری قسمت بری تھی کہ آج ایک مجرم ایک قاتل کے

روپ میں تھانے میں موجود ہوں حالانکہ میں نے پوری کوشش بھی تھی کہ شک ریاض پر جائے مگر جب تقدیر ہی ساتھ نہ دے تو انسان کیا کر سکتا ہے۔

اپنا بیان پورا کر کے وہ خاموش ہوگئی تو میں نے پوچھا “زرینہ ! تم نے سلمی کی جان لینے کا اقرار کر لیا ہے مگر ایک بات میری سمجھ میں نہیں آئی ۔”

وہ منہ سے کچھ نہیں بولی بس سوالیہ نظر سے مجھے تکتی رہی۔

میں نے کہا ” جب تم گا اگھونٹ کر سلمی کو موت کی وادی میں دھکیل ہی چکی تھیں تو پھر اسے آگ کے حوالے کرنے کی کیا ضرورت تھی ؟”

30 دن میں ہم تھا کہ ذات نے نہ حرکت محض اس لیے کی :

میں نے اس حوالے سے بھی سوچا کہ زرینہ نے سلمی اور ریاض کے تعلقات کے بارے میں جو اشارہ دیا تھا اس میں کچھ نہ کچھ حقیقت ضرور تھی۔ ریاض نے یہی سوچا ہوگا کہ اگر وہ موقع پر موجود رہا تو بری طرح پھنس جائے گا۔ اگر چہ ریاض نے اپنے فرار کی وجوہات کچھ اور بتائی تھیں۔

مختصری عدالتی کارروائی کے بعد جج نے زرینہ کو میں سال کی سزا سنائی تھی۔ میں نے آج اسے پینتیس سال بعد دیکھا تھا۔ ایک بھکارن کے روپ میں اسے پہچاننے میں مجھے کسی دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔ میں نہیں جانتا تھا کہ اپنی سزا پوری کرنے کے بعد اس نے کہاں کہاں وقت گزارا تھا۔ جب میں نے اسے گرفتار کیا تھا تو وہ لگ بھگ پچیس سال کی تھی۔

اور اب کسی بھی طرح ساٹھ سے کم نہیں تھی۔

جب میں واقعات کی تفصیل سنا چکا تو میری نواسی ضد کرنے لگی کہ وہ اسی وقت زرینہ سے ملنے جائے گی بلکہ اسے اپنے ساتھ گھر لے کر آئے گی تا کہ اس سے بہت سی باتیں سے گی گی تا کر سکے۔

میری بیٹی نے اپنی بیٹی کو سمجھایا ” ابو جی کو تنگ نہ کرو۔ انہوں نے تمہیں زرینہ کے بارے میں سب کچھ بتا دیا ہے۔ اب تم اس سے مل کر کیا کرو گی ؟“

میں ملوں گئی ضرور ملوں گئی بچی مچل گئی۔

میں نے کہا : ٹھیک ہے ہم کل دوبارہ صدر جائیں گے اور زرینہ سے بات بھی کریں گئے اب تم خوش ہوتا ؟

نانا جان زنده باد…… نانا جان زندہ باد! میری آٹھ سالہ نواسی پر پر سرت انداز میں نعرے لگانے لگی۔

آئندہ روز میں حسب وعدہ اپنی نواسی کے ساتھ صدر گیا۔ زردینہ ایک بوڑھی بھکارن کے روپ میں گھڑیوں والی دکان کے سامنے فٹ پاتھ پر موجود تھی۔ میں نے اس سے بات کرنے کی کوشش کی مگر اس کی آنکھوں میں شناسائی کی جھلک نظر نہیں آئی۔ میں نے واضح طور پر محسوس کیا کہ اس نے مجھے پہچانا نہیں تھا پھر دو چار باتوں ہی سے مجھے یقین ہو گیا کہ وہ

اپنا دینی توازن کھو بیٹھی ہے۔ وہ اپنی حرکات و سکنات سے نارمل دکھائی نہیں دیتی تھی۔

تھوڑی سی کوشش کے بعد مایوس ہو گیا اور اپنی نواسی کے ساتھ وہاں سے واپس ہوگی کہ سلمی کی موت ایک حادثہ دکھائی دئے آتش زدگی کا ایک اندوہناک واقعہ ! مگر زرینہ نے میرے سوال کے جواب میں جو کچھ کہا وہ میرے اندازے پر پورا نہیں اترتا تھا۔

وہ بولی میں اپنا کام کر کے خاموشی سے نیچے آگئی تھی۔ اس کے بعد اوپر کیا ہوامجھے معلوم نہیں ۔“

“یعنی آتش زنی کے معاملے میں تمہارا کوئی ہاتھ نہیں ؟“

” مجھے جھوٹ بولنے کی قطعا ضرورت نہیں وہ پر اعتما، لجے میں بولی جہاں میں قتل ایسے فعل کا اقرار کر چکی ہوں تو پھر باقی کمی رہ جاتا ہے؟“

اس کے لہجے کا اعتماد بتا رہا تھا کہ وہ بچ بول رہی ہے۔ واقعی اگر اسی نے سلمی کوسپرد آتش کیا ہوتا تو اس بات کو تسلیم کرنے میں اس کا کیا نقصان تھا جبکہ وہ اپنے قاتل ہونے کا اقرار کر چکی تھی۔

میں بعد میں اس بارے میں غور کرتا رہا مگر آتش زدگی والے معاملے کو حل نہ کرسکا۔ ریاض نے بتایا تھا کہ سلمی کی چارپائی کے پاس دیکھتے ہوئے انگاروں والی تگاڑی اس نے دیکھی تھی۔ جائے وقوعہ پر میں نے بھی وہ اپنی برتن دیکھا تھا اور زرینہ نے بھی اس کی تصدیق کی تھی۔ اب آجا کے یہی سوچا جا سکتا تھا کہ کسی طرح لحاف کا کوئی کونا انگاروں میں جا گرا تھا جس سے سلمی کے بستر نے آئی پکڑ لی اور وہ اس آگ کا ایندھن بن گئی۔

. ممکن ہے اس میں قدرت کی کوئی مصلحت کار فرما ہو کیونکہ قدرت کا کوئی کام مصلحت سے خالی نہیں ہوتا۔ یہ الگ بات ہے کہ اکثر و بیشتر انسانی عقل اسے سمجھنے سے قاصر رہتی ہے۔

میں اپنی ناقص عقل کے مطابق جہاں تک سمجھ پایا ہوں وہ یہ ہے کہ اگر آتش زدگی کا واقعہ نہ ہوتا تو عین ممکن تھا کہ پولیس کو سلٹی کی موت کے بارے میں کچھ پتا نہ چلتا اور قائم سزا سے بچ جاتا ۔ جمیل اور فضل کریم آئے طبعی موت ہی سمجھتے اور بڑی خاموشی کے ساتھ سلمی کی لاش کو زمین میں دبا دیا جاتا۔ ریاض اس واردات کا عینی شاہد تھا مگر اس کے سامنے آنے کی امید نہیں تھی۔ وہ تو اگر میں اس کا پیچھا نہ کرتا تو وہ ہاتھ سے گیا تھا ۔ جب اس واقعے کی گرد بیٹھ جاتی تو وہ بھی خاموشی پر بنے ہی میں عافیت جانتا اور نہ اسے موقع واردات سے فرار ہونے کی ضرورت ہی کیا تھی ۔ وہ زرینہ کی حرکت کے بارے میں جمیل اور فضل کریم کو بتا سکتا تھا۔

آگیا۔ میں اپنے اس میں بھی قدرت ہی کی مرضی کو افضل جانا۔ زرینہ کی یادداشت اور حواس اگر یہ جان نہیں رہے تھے تو یہ ان کے لیے بہتر ہی تھا ورنہ جن حالات سے گزر کر وہ زندگی کی اس منزل تک پہنچی ہو گی ان کے خیال سے وہ ہر روز مرتی۔ ہوش و حواس کی بیگانگی نے اسے زندگی اور موت کی تینوں سے بے نیاز کر دیا تھا۔

مرنے کے بعد انسان ہر غم ہر دکھ اور ہر تکلیف سے نجات پا جاتا ہے۔ زرینہ نے ہوش و حواسن گنوا کر غم زندگی سے نجات پائی تھی۔ میں نہیں جانتا زرینہ اب کہاں ہوگی؟ ہوگی بھی یا نہیں ہو گئی خدا بہتر جانتا ہے۔

ممکن ہے وہ اب بھی کسی فٹ پاتھ پر نظر آ جائے !

5 1 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
2 Comments
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments
error: Content is protected !!
2
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x