مکمل ناول
اس لڑکی نے اپنے بازو پر زور سے کاٹا تو اس کے بازو سے خون بہنے لگا اس نے اپنے بازو کا رخ زمین کی طرف کر دیا جیسے ہی اس کے خون کا ایک قطرہ زمین پر گرا تو وہاں سے دھواں اٹھنا شروع ہو گیا۔ جیسے جیسے اس کا خون زمین پر گر رہا تھا دھواں اتنا ہی تیز ترہورہا تھا فیضان کا تمام جسم پسینے سے شرابور ہو گیا خوف اور دہشت کی وجہ سے وہ کانپ اٹھا دھویں سے ایک غراہٹ کی آواز ابھری اور ایک بہت ہی بھیا نک چہرہ دھویں سے باہر نکلا اس کا قد تقریبا دس فٹ ہو گا اس کے پورے جسم پر کالے کالے لمبے بال تھے اور اس کا منہ بھیڑیے کی طرح خوفناک تھا وہ غراتا ہوا دھویں سے باہر نکلا اور فیضان کو گھور گھور کر دیکھنے لگا اس کے دیکھنے کا انداز بہت ہی خوفناک تھا اسکی سرخ آنکھوں میں وحشت ہی وحشت تھی اس کے اس انداز سے لگ رہا تھا کہ یہ پورے ویرانے کو تباہ کر دے گا پھر اس بھیڑیے نمار درندے نے اپنا ایک پاؤں اوپر اٹھا کر زمین پر مارا تو زمین میں دراڑیں پڑنے لگیں فیضان ڈری ڈ بی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا اس کی زبان سے ورد کے الفاظ بھی مشکل سے ادا ہو رہے تھے دیکھا میری طاقت کو یہ آج تمہاری وہ حالت کرے گا کہ کوئی اس ویرانے کی طرف آنے کا نام تو کیا دیکھنے کی بھی کوشش نہیں کرے گا ۔۔
آہ رات کے پر سکون ماحول میں فیضان کی شیخ بلند ہوئی اور وہ گھبرا کر اٹھ بیٹھا فیضان کی شیخ سن کرعیب بھی اٹھ بیٹھا کیا ہوا فیضان شعیب نے دوڑ کر اس کے پاس آکر پوچھا ۔ فیضان کا دل زور زور سے دھڑہا تھا پورا بدن پسینے سے شرابور تھا اور وہ بڑی گہری گہریانسیں لے رہا تھا شعیب نے پاس رکھے ہوئے ٹیبل سے جگ اٹھا کر گلاس میں پانی انڈیلا یہ لو پانی پیئو
شعیب نے پانی کا گلاس فیضان کی جانب بڑھایا ضان نے پانی لیا اور ایک ہی سانس میں سارا پانی پی گیا
ب بتا یار کیا ہوا تھا شعیب نے فیضان کو سنبھالتے ہوئے چھا۔
یار بہت ہی ڈراؤنا خواب دیکھا ہے اس وجہ سےر گیا تھا فیضان نے اپنے چہرے سے پسینا صاف کرتے ہوئے کہا آج کل تو تم روز ہی خواب میں : رجاتے ہو للہ کا ذکر کر کے سویا کرو تو پھر ڈروانے خواب نہیں آئیں کے شعیب نے اسے مشورہ دیا اف اللہ کتنا بھیانک خواب تھا فیضان بڑبڑایا کیا دیکھا تھا خواب میں شعیب نے پوچھا۔
یار شعیب میں ایک ہی خواب مسلسل کئی روز سے دیکھ رہا ہوں میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک بہت
ہی ویران کی جگہ پر کھڑا ہوا وہ جگہ بہت ہی وحشت ناک تھی ہر طرف ویرانی ہی ویرانی تھی وہاں کسی ذی روح کا نام و نشان تک نہ تھا میں جس جگہ کھڑا تھا وہاں میرے سامنے ایک قبر بنی ہوئی تھی میں اس قبر کو دیکھ رہا ہوتا ہوں
کہ مجھے اس قبر سے آواز آتی ہے فیضان مجھے بچالو باہر نکالو مجھے یہاں سے میں زندہ ہوں مجھے بچالو میں مرنا نہیں چاہتی ہوں اور پھر اچانک ہی قبر پھٹ جاتی ہے اور میں ذرگر دو قدم پیچھے ہٹ جاتا ہوں قبر میں ایک
اور ذرگربہت ہی حسین دوشیزہ کفن میں لپٹی ہوتی ہوتی ہے وہ بہت ہی حسین تھی اس کا چمکتا ہوا رنگ بڑی بڑی کانی سیاہ
آنکھیں اور لمبے لمبے بال اس کے حسین چہرے پر بھرے ہوئے تھے وہ مجھ سے کہتی ہے فیضان مجھے یہاں سے باہر نکالو ورنہ میں مرجاؤں گی وہ یہ الفاظ میں بار بار کہہ رہی تھی لیکن میں نے اس کی ایک نہ سنی اور ا سے ڈری ڈری نظروں سے دیکھتا رہا اور پھر میں نے ایک بہت ہی بھیا نک منظر دیکھا جسے دیکھ کر میرے رونگھٹے کھڑے ہو گئے۔
قبر آہستہ آہستہ بند ہورہی تھی اور اس دوشیزہ کی ہا۔چیچنیں بلند ہونے لگیں فیضان مجھے یہاں سے باہر نکالو ورنہ میں مرجاؤں گی وہ چیخ چیخ کر یہ الفاظ کہہ رہی تھی
اور میں اسے ڈر رہا تھا اچانک ہی اس دوشیزہ نے ہاتھ سے اوپر اٹھایا تو اس کا باز د بڑھنے لگا میں یہ منظر دیکھ کر کانپ و
گیا اس دوشیزہ کا باز داتنا لمبا ہو گیا کہ اس کا ہاتھ میری گردن تک آپہنچا اس نے گردن سے پکڑ کر ز در سے کھینچا
تو میری ایک تیغ بلند ہوئی اور میں قبر میں جا گرا اور قبر بند ہو گئی اس کے ساتھ ہی میری آنکھ بھی کھل گئی یا رشعیب یہ خواب میں مسلسل کئی روز سے دیکھ رہا ہوں اس نے خواب نے میرا آرام چھین لیا ہے میری امی کہتی تھی کہ جو
خواب بار بار آئے وہ اصل میں حقیقت بن جاتا ہے
فیضان پریشانی سے کہتا چلا گیا ہاں یار میں نے بھی سن رکھا کہ جو خواب بار بار آئے حقیقت میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے شعیب نے فیضان کو دیکھتے ہوئے کہا اب کیا ہوگا
شعیب مجھے بہت ڈرلگ رہا ہے فیضان نے پریشان ہو کر کہا۔
فیضان تم پریشان مت ہو اس کا کوئی نہ کوئی حل تو ہو ہی گاناں ہو سکتا ہے کسی نے تم پر جادو کر دیا ہو پر کسی نے شعیب پریشانی سے بولا تو فیضان اور زیادہ پریشان ہو گیا اچھا چھوڑو اس بات کو رات بہت گہری ہوگئی ہے اب تم سو جاؤ صبح کالج بھی جاتا ہے شعیب نے کہا اور اٹھ کر اپنے بستر پر آ گیا اور ہاں صبح تمہارے خواب کے مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل بھی تلاش کروں گا شعیب نے کہا فیضان بھی بستر پر لیٹ گیا اورشعیب کی باتوں پر غور کرنے لگا شعیب کہہ رہا تھا کہ کہیں کسی نے مجھ پر جاو تو نہیں کیا لیکن مجھ پر جادو کس نیکیا ہے میری تو کسی سے کوئی دشمنی بھی نہیں ہے فیضان نے دل ہی دل میں سوچا اور پھر اللہ کا ذکر کرتا ہوا دوبارہ سو گیا۔
ارے فیضان تم یہاں بیٹھے ہوئے ہو میں تمہیں پورے کالج میں ڈھونڈتی پھر رہی ہوں زار یہ نے فیضان کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا فیضان نے اس کی بات کا کوئی جواب نہ دیا وہ پریشان سا بیٹھا ایک جگہ کو مسلسل دیکھے جا رہا تھا پریشانی اس کے چہرے پر نمایاں تھیں فیضان آج شعیب نہیں آیا کیا زاریہ نے پوچھا
آیا ہے فیضان نے مختصر کہا مجھے تو نہیں لگتا کہ وہ آیا ہے ور نہ تم یوں اکیلے نہ بیٹھے ہوتے زاریہ نے اسے دیکھتے
ہوئے کہا وہ ابھی میرے ساتھ ہی تھا اسے کوئی کام یاد آگیا تھا کہہ رہا تھا ابھی آتا ہوں فیضان نے بے زاری سے کہا۔
فیضان تم پلیز زار یہ ابھی تم یہاں سے جاؤ میں پہلے ہی بہت پریشان ہوں فیضان نے زار یہ کی بات کا شکر کہا فیضان یہ آج تمہیں کیا ہو گیا ہے کوئی پریشانی ہے تو مجھے بتاؤ ناں زار یہ نے بے تابی سے کہا پلیز زار یہ تم اس وقت یہاں سے چلی جاؤ مجھے اکیلا چھوڑ دو فیضان نے غصے سے کہا تو زاریہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے کیونکہ آج سے پہلے فیضان نے بھی اس سے اس لیجے میں بات نہیں کی بھی اتنے میں شعیب بھی وہاں آ گیا اسنے بھی ان کی بات سن لی تھی فیضان تم تو
ابھی مجھ سے تنگ آگئے ہوزار یہ آنکھوں سے آنسو صاف کرتے ہوئے بولی اور اٹھ کر وہاں چل دی ایرے زار یہ رکو شعیب نے اسے آواز دی لیکن وہ رکی نہ تھی بس چند ہی لمحوں میں اس کی نظروں سے اوجھل ہوگئی ۔ ارے فیضان تم بھی ناں ایسے ہی اپنا غصہ دوسروں پر نکالتے ہو کے دیکھو اب وہ تم سے ناراض ہو کر چلی گئی ہے شعیب نے کہا اس کے پاس بیٹھ کر کہا یار میں کیا کروں مجھے کچھ بھی سمجھ نہیں آرہی ہے کسی سے بات کرنے کو ذرا بھی دل نہیں کرتا ہے فیضان نے بیزاری سے کہا لیکن پھر بھی تم نے زاریہ سے طرح سے اس طرح بات نہیں کرنی چاہیے تھی
وہ تو تم سے بے پناہ پیار کرتی ہے شعیب نے اسے دیکھتےہی کہا اچھا چھوڑ وا سے میں اسے منا لوں گا اور وہ مان بھی
جائے گی تم یہ بتاؤ کہ میرا کام کیا کہ نہیں ۔ فیضان نےپوچھا ۔
ہاں پار ایک لڑکے نے ایک بزرگ کا بتایا ہے
لیکن وہ بزرگ صرف اسی سے ملتے ہیں جو بیچ میں مصیبت میں ہو شعیب نے اسے بتایا یار شعیب وہ دوسرے عاملوں کی ہی طرح جھوٹا ہوگا ان کا تو کام ہی پیسے اکھٹا کرنا ہے اس ایک ہفتے میں پندرہ ہزار روپے ان عاملوں کی نظر ہو گیا ہے فیضان نے آہستہ سے کہا نہیں یا روہ لڑ کا کہہ رہا تھا کہ وہ بزرگ پیسے نہیں لیتے ہیں اور کام بھی کر دیتے ہیں شعیب نے اس کندھے
پر ہاتھ رکھ کر کہا مجھے تو نہیں لگتا ہے کہ وہ پیسے بھی نہ لے اور کام بھی کر دے فیضان نے بے زاری سے کہا ۔ لیکن
یار ہمیں ، ان کے پاس جانا چاہیے ہو سکتا ہے وہ تمہارا کام کردیں شعیب نے کہا فیضان نے سر ہلایا فیضان اور
شعیب آپس میں گہرے دوست ہیں دونوں کے ماں باپ اب اس دنیا میں نہیں ہیں اس لیے دونوں ایک
ساتھ رہتے ہیں اور ایک ہی کالج میں پڑھتے ہیں جبکہ
فیضان کی ملاقات زاریہ سے اس کالج میں ہوئی تھی اب دونوں ایک دوسرے سے بے پناہ محبت کرتے اور ایک
دوسرے کے بغیر جینے کا تصور بھی کہیں کر سکتے ہیں لیکن فیضان ایک خواب مسلسل کئی روز سے دیکھ دیکھ کر پریشان اور خوفزدہ ہو گیا تھا شعیب اور فیضان کئی عاملوں کے۔ پاس گئے پیسوں کا نذرانہ دیا لیکن کچھ بھی نہ ہو سکا آج وہ دونوں کسی بزرگ سے ملنے جارہے تھے۔
فیضان اور شعیب اس وقت بزرگ کے گھر کے 1 سامنے کھڑے تھے فیضان اگر بزرگ نے ہم سے ملنے سے انکار کر دیا تو شعیب نے دروازے پر دستک دے کر تے فیضان سے کہا تو پھر ہم گھر واپس چلے جائیں گے فیضان ہو نے ہنس کر کہا اچانک ہی دروازہ کھلا جی کون ایک بچے ہے نے سر باہر نکال کر کہا ہمیں رحمن بابا سے ملنا ہے شعیب نے جلدی سے کہا کون ہے بیٹا ۔ اندر سے آواز سنائی دی دادا اب کوئی آپ سے ملنے آیا ہے۔ بچے نے اندر دیکھ کر نے کہا اندر لے آؤ ا نہیں آواز دوبارہ سنائی دی آئیے انکل بچے نے آگے سے ہٹتے ہوئے کہا فیضان اور شعیب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور اندر داخل ہو گئے
اسلام علیکم ۔
فیضان اور شعیب نے ایک ساتھ کہا۔ وعلیکم السلام
بیٹھو بیٹا رحمن بابا نے چار پائی کی طرف اشارہ کیا دونوں ادب سے چار پائی پر بیٹھ گئے رحمن بابا تسبیح پڑھنے میں
مصروف تھے اور وہ فیضان کو بہت غور غور سے دیکھ رہے، تھے فیضان اور شعیب کی نظریں بھی انہی کے چہرے پر تھیں انکے چہرے پر نوری نور تھا ان کے سر اور ڈارھی کے بال سفید تھے اور آنکھوں میں ایک کشش تھی باباجی میں بہت مشکل میں ہوں آپ میری مدد کریں فیضان نے احترام سے کہا بیٹا مجھے لگ رہا ہے کہ تم مصیبت میں ہو اللہ پر بھروسہ رکھو سب ٹھیک ہو جائیگا پہلے تو تم اپنا مسئلہ بتاؤ رحمن بابا نے فیضان کو دیکھتے ہوئے کہا تو فیضان نے تمام بات انہیں بتادی بیٹا تم کو روزانہ ایک ہی خواب آتا ہے مجھے لگ رہا ہے کہ اس میں کوئی نہ کوئی راز ہے اور میں آج رات عمل کر کے اس رازتک انشاء اللہ پہنچ جاؤں گا تم حوصلہ رکھو اللہ سب ٹھیک کر دے گا اب جاؤ اور کل میرے پاس آثار حمن بابا نے کہا تو وہ دونوں دہاں سے اٹھ کھڑے ہوئے
رات کی تاریکی ہر طرف پھیلی ہوئی تھی فیضان اور شعیب نے رات کا کھانا کھایا اور آپس میں باتیں کرنے لگے ۔ یار شعیب مجھے وہ بزرگ بہت ہی اچھے لگے ہیں اور مجھے لگ رہا ہیکہ وہ میرا مسئلہ حل کردیں گے فیضان نے پرسکون ہو کر کہا ہاں یار مجھے بھی لگ رہا ہے کہ وہ تمہارا مسئلہ ضرور حل کریں گے میں نے تو انہیں دیکھتے ہی انداز و لگا لیا تھا کہ وہ دوسرے عاملوں کی طرح نہیں میں شعیب نے مسکراتے ہوئے کہا ہاں یار آج وہ سارا دن پریشان کی تھی تم منا لیتے اسے مجھے تو وہ پریشان بالکل بھی نہیں اچھی لگتی شعیب نے برا منہ بنا کر کہا ویسے تمہیں اس کے ساتھ اتنی ہمدردی کیوں ہے فیضان نے شرارتی لہجے میں کہا وہ میری ہونے والی بھا بھی ہے اس لیے شعیب نے خدا سے کہا اچھا جی فیضان نے مسکراتے ہوئے کہا ہاں جی اس نے بھی مسکراتے ہوئے کہا کچھ دیر تک وہ بیٹھ کر باتیں کرتے رہے اور پھر سو گئے۔
فیضان نے پورا کالج چھان مارا لیکن اسے زاریہ کہیں بھی نظر نہ آئی تو وہ تھک ہار کر ایک جگہ پر بیٹھ گیا
بیٹھے ہی اس کی نظر سامنے پڑی تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی کیونکہ اس سے کچھ ہی فاصلے پر ایک
دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے وہ کھڑی تھی فیضان جلدی سے اٹھا اور اس کے پاس آ گیا ہائے زار یہ کیس ہی
فیضان نے اس کے سامنے کھڑے ہو کر کہا ٹھیک ہوں زاریہ نے نظریں جھکا کر کہا آئی ایم سوری زار یہ مجھے تم
سے اس طرح بات نہیں کرنی چاہیے تھی میں بہت شرمندہ ہوں اگر تم مجھ سے اسی طرح ناراض رہی تو
میں مرجاؤں گا پلیز فیضان ایسی باتیں مت کرو کون کہہ رہا ہے کہ میں تم سے ناراض ہوں پیار کرنے والے بھی
بھی ناراض نہیں ہوتے ہیں بلکہ اس پر اعتبار کرتے ہیں لیکن تم نے مجھے پر اعتبار نہیں کیا زاریہ نے فیضان نے
حیران ہو کر پوچھا ۔
فیضان کل جب میں نے تم سے پوچھا تھا کہ تم پریشان کیوں ہو تم نے مجھے نہیں بتایا تھا اس کا یہ ہی مطلب ہے ناں کہ تم مجھ پر اعتبار نہیں کرتے ہو زار یہ نے اسے دیکھتے ہوئے کہا زار یہ ایسی بات نہیں ہے مجھے تم پر اعتبار ہے بس میں تمہیں پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا فیضان نے زاریہ کو گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا
فیضان میں تو تم کو اس طرح پریشان دیکھ کر پریشان ہو جاتی ہوں تم مجھے بتاؤ کہ تم آج کل کیوں پریشان رہتے ہو زاریہ نے پوچھا تو فیضان نے ساری بات زاریہ کو بتادی جسے سن کر وہ اور زیادہ پریشان ہو گئی تھی
لیکن زار یہ اب تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے رحمن بابا میری مدد کرنے کو تیار ہو گئے ہیں فیضان
نے زاریہ کا ہاتھ آہستہ سے دباتے ہوئے کہا۔ تو زاریہ مسکرادی تمیں کب سے دیکھ رہا ہوں تم دونوں ہاتھ میں ہاتھ تھامے مسکرار ہے ہو شادی کی تاریخ طے ہو گئی ہے کیا
شعیب نے شرارت سے کہا ارے شعیب تم کب آئے فیضان نے پوچھا میرے خیال میں میں آج سے تقریبا
بائیس سال پہلے اس دنیا میں آیا تھا شعیب نے سنجیدہ ہو کر کہا شعیب تم بھی ناں زار یہ نے بنتے ہوئے کہا اتنے
میں کلاس کا ٹائم ہو گیا تو وہ تینوں کلاس کی طرف بڑھ گئے
فیضان اور شعیب اس وقت رحمن بابا کے پاس بیٹھے ہوئے تھے بیٹا کل رات میں نے عمل کیا تھا اور میں
سب کچھ جان گیا ہوں رحمن بابا نے فیضان کو گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔ سچ بابا جی آپ کرے خواب کا راز جان گئے ہیں فیضان نے خوش ہوتے ہوئے کہا ہاں بیٹا میں تمہارے خواب کا راز جان گیا
ہوں تمہارے خواب کے پیچھے ایک کہانی چھپی ہوئی ہے جسے میں جان گیا ہوں رحمن بابا نے کہا کیسی کہانی باباجی
شعیب نے جس سے پوچھا۔ بیٹا آج سے ایک سوسال پہلے ایک گاؤں میں سادھو رہتا تھا وہ ہندو تھا اس کے
پاس بہت طاقتیں تھیں اس نے یہ طاقتیں چلے کر کے اور بے گناہ اور معصوم انسانوں کو قتل کر کے حاصل کی تھیں سیا دھو کے گھر ایک بیٹی پیدا ہوئی وہ بہت ہی خوبصورت تھی اس لیے سادھو نے اس کا نام حسینہ رکھ دیا حسینہ جب جوان ہوئی تو اس کے حسن میں مزید اضافہ ہو گیا گاؤں کے تمام لڑکے اس کے عشق میں گرفتار ہو گئے لیکن وہ کسی
کو بھی پسند نہیں کرتی تھی پھر ایک دن اس گاؤں میں ایک لڑکا آیا اس کا نام فیضان تھا گاؤں کے تمام لڑکوں سے زیادہ خوبصورت تھا اور وہ مسلمان تھا فیضان نے حسینہ کو دیکھا ہوا تھا لیکن وہ اسکا عاشق نہ تھا کیونکہ اس کے دل میں صرف اور صرف مومنہ تھی مومنہ اس کی کزن تھی اور وہ دونوں ایک دوسرے کو پسند بھی کرتے تھے
حسینہ نے جب فیضان کو دیکھا تو وہ اسی کی ہو کر رہ گئی وہ دل میں صرف اور صرف فیضان کے لیے پیار تھا وہ اسے دیوانگی کی حد تک چاہنے لگی تھی ۔
پھر ایک دن سادھو نے حسینہ کو اپنے پاس بلایا اور اپنی تمام طاقتیں حسینہ کو دے دیں اور اس کے کچھ ہی دنوں بعد وہ مرگیا حسینہ اب اس دنیا میں اکیلی رہ گئی تھی
اس کی ماں تو اس کے پیدا ہونے کے بعد ہی انتقال کر گئی تھی حسینہ نے اپنے باپ سادھو کے ادھورے چلے کو کمل
کئے اور کیں نے سو جان کی بڑی طافتیں کی کردی ۔ ایک دن سے وہ کہ اس کے محبت ہے لہذا اس نے منتر پڑھا اور فیضان کے دل کا حال جاننے لگی لیکن جب اسے پتہ چلا کہ فیضان کے دل میں صرف اور صرف مومنہ کے لیے پیار ہے تو وہ غصے سے سرخ ہو گئی اس نے بہت ہی بھیانک طریقے سے مومنہ کو قتل کر دیا۔ کسی کو شک بھی نہ ہوا کہ یہ کام حسینہ نے کیا ہے وہ سب کے سامنے معصوم بنی ہوئی تھی اور پھر اس کے کچھ ہی دنوں بعد حسینہ نے فیضان کے ساتھ اظہار محبت کر دیا لیکن فیضان نے انکار کر دیا اس کے انکار کی دو وجوہات تھیں ایک تو اس کے دل میں صرف مومنہ کے لیے پیار تھا اور دوسرا حسینہ ہند تھی اور اس کے باپ نے اپنے چلے مکمل کرنے کے لیے کئی مسلمانوں کو قتل کیا تھا
حسینہ سے فیضان کا یہ انکار برداشت نہ ہوا اور حسینہ فیضان کو اپنی آنکھوں کے سحر سے ایک ویرانے میں لے
آئی اور فیضان سے کہا۔ ایک تو وہ اس سے شادی کرلے اور دوسرا وہ ہندو ہو جائے لیکن فیضان نے یہ سب کرنے سے
انکار کر دیا تو حسینہ نے فیضان کو بہت ہی بھیا تک طریقے آسے قتل کر دیا اسے پھر بھی چین نہ آیا تو وہ فیضان آکا سارا گوشت نوچ نوچ کر کھا گئی اور اس کے ڈھانچے یہ کو وہاں قبر کھود کر دفن کر دیا پھر حسینہ نے ایک بھیانک چلہ کرنے کے بارے میں سوچا وہ فیضان کو دوبارہ زندہ کرنا چاہتی تھی لہذا اس نے فیضان کی قبر میں بیٹھ کر چلہ شروع کر دیا وہ چلہ بہت ہی خطر ناک تھا چلہ نا کام ہونے کی صورت میں وہ خود اس قبر میں زندہ دفن ہو جاتی آخر کار بہت ہی محنت کے بعد حسینہ نے وہ چلہ تو معمل کر لیا لیکن وہ فیضان کو دوبارہ زندہ نہ کر سکی لیکن اس چلے ور کا اسے ایک فائدہ ہوا تھا وہ یہ کہ اسے یہ علم ہو گیا تھا کہی آج سے ایک سو سال بعد اس دنیا میں ایک لڑکا پیدا ہو گا وہ بالکل فیضان کی طرح ہوگا بلکہ اس کا نام بھی فیضان ہوگا اگر وہ اس لڑکے یعنی فیضان کو اس قبر میں دفین کر دے تو اس کا فیضان دوبارہ زندہ ہو سکتا تھا لہذا حسینہ اس قبر میں بیٹھ کر آج تک چلہ کر رہی ہے وہ کوئی اور نہیں بلکہ تم ہی ہو ۔
رحمن با با تمام کہانی سنا کر خاموش ہو گئے فیضان اور شعیب ایک دوسرے کو حیران ہو کر دیکھنے لگے ۔ اور
اب حسینہ میں سو سال کے چلے کے بعد اتنی طاقت آگئی
ہے کہ وہ تم کو خواب میں بھی نظر آنے لگی ہے وہ بار بار تمہارے خواب میں تمہیں ڈرانے کے لیے آتی ہے
اور کچھ ہی دنوں بعد وہ تم کو اس ویرانے میں بھی نے جائے گی رحمن بابا نے فیضان کو دیکھتے ہوئے کہا۔ لک
کیا فیضان نے ڈرتے ڈرتے کہا لیکن بیٹا تم پریشان مت ہو میں اسے ایسا نہیں کرنے دوں گا لیکن اس کے
لیے تمہیں بھی محنت کرنا پڑے گی رحمن بابا نے آہستہ سے کہا کیسی محنت بابا جی فیضان نے حیران ہو کر کہا اسکے لیے تمہیں ایک چلہ کرنا پڑے گا اور چلہ تم نے اسی ویرانے میں قبر کے پاس کرنا ہوگا رحمن بابا نے اسے بتایا کیا فیضان نے تقریبا چیختے ہوئے کہا رحمن بابا چلہ آپ کرلیں ناں فیضان چلہ کیسے کر سکتا ہے شعیب نے رحمن بابا کو بغور دیکھتے ہوئے کہا نہیں بیٹا میں وہ چلہ نہیں کر سکتا اگر میرے بس میں ہوتا تو میں چلہ ضرور کرتا اگر تم اپنے آپ کو بچانا چاہتے ہوتو وہ چلہ کرنا ہو گا چلہ ایک ہی رات کا ہے لیکن بہت ہی بھیانک ہے رحمن بابا نے فیضان نے پر جوش انداز میں کہا تمہارا جوش دیکھ کر مجھے لگ رہا ہے کہ تم ضرور چلہ کرنے میں کامیاب ہو گئے رحمن بابا نے مسکراتے ہوئے کہا کس بابا آپ مجھے چلا کا ورد
اور اسے کرنے کا طریقہ بتادیں فیضان نے رحمن بابا کودیکھتے ہوئے کہا بیٹا چلہ تم نے اسی ویرانے میں بیٹھ کرنا مجھے
ہو گا تم نے اس قبر سے تھوڑی مٹی اٹھانی ہے اور اس مٹی کو حوصہ تم نے حصار کے اندر رکھ کر اس پر چلہ کرنا ہو گا جب تمہارا فیض چلہ مکمل ہو جائے تو تم وہ مٹی دونوں ہاتھوں میں اٹھا کر ہار۔ پا ہر آجانا جب تم حصار سے باہر آؤ گے تو قبر پھٹ جائے آنے گی تو تم نے وہ مٹی اس پر پھینک دینی ہے پھر وہ ہمیشہ زار کے لیے اس قبر میں دفن ہو جائیگی چلے کے دوران حسینہ نہیں کی غلام بدروحیں جن اور بھوت تمہیں ڈرانے کی کوشش ضرہاورکریں گے لیکن تم نے حصار سے باہر نہیں نکلنا ہے حصار سے باہر جو کچھ بھی ہوگا نظر کا دھوکا ہوگا اگر تم حصار سےباہر نکلے تو تمہاری موت یقینی ہوگی رحمن بابا نے فیضان کو ن مجھایا ۔
بابا آپ بے فکر رہیں میں حصار سے باہر زنہیں نکلوں گا چاہے کچھ بھی ہو جائے فیضان نے اہل میں لہجے میں کہا لیکن فیضان میں تمہیں وہاں اکیلا نہیں جانے ۔
دوں گا میں بھی تمہارے ساتھ چلوں گا میں ان دوستوں 11 میں سے نہیں ہوں جو مصیبت کے وقت ساتھ چھوڑ دیتے تے ہیں شعیب نے فیضان کی طرف دیکھیت کر کہا بیٹا ہر کسی کو تم جیسے بہت کم ملتے ہیں فیضان بینا تم بہت خوش قسمت
ہو کہ تمہیں شعیب جیسا دوست ملالیکن شعیب بیٹا تم اس کے ساتھ نہیں جاسکتے ہو اسے اکیلے ہی وہاں جانا ہوگا
رحمن بابا نے شعیب کی طرف دیکھتے ہوئے کہا شعیب تم بے فکر رہو میں چلہ کرلوں گا مجھے تم جیسے، دوست پر فخر ہے
اور میں اس حسینہ کو ہمیشہ کے لیے قبر میں دفین کر دوں گا وہ نہ تو فیضان کو اس وقت حاصل کر سکی تھی اور نہ اب کر سکے گی میں اس کی ہر خواہش پر پانی پھیر دوں گا
فیضان نے شعیب کے کند لمحے پر ہاتھ رکھ کہا انشاء اللہ تم غرور کامیاب ہو گئے ۔
شعیب نے مسکراتے ہوئے کہا پھر رحمٰن بابا نے اسے چلے کا ورد بتایا اور وہ دنوں گھر واپس آگئے گھر آکر فیضان نے زاریہ کو بھی گھر بلالیا فیضان اگر تمہیں کچھ ہو گیا تو میں جیتے جی مر جاؤں کی تمہارے بغیر جینے کا تصور بھی نہیں کر سکتی زاریہ نے روہانسی لہجے میں کہا زار یہ مجھے کچھ نہیں ہو گا ہاں اگر تم اس طرح روبی رہی تو میں حوصلہ ہار جاؤں گا اور میں چلہ بھی بھی نہیں کروں گا
فیضان نے جذباتی لہجے میں کہا نہیں فیضان تم ہمت نہیں ہارو گے میں ہر دم تمہارے ساتھ ہوں زار یہ نے اپنے
آنسو صاف کرتے ہوئے کہا فیضان مسکرا دیا شعیب زار یہ کا خیال رکھنا اور اگر مجھے کچھ ہو گیا تو نہیں فیضان نہیں تمہیں کچھ نہین ہوگا اور انشاء اللہ تم چلہ کرنے میں ضرور کامیاب ہو جاؤ گے شعیب نے فیضان کی بات کاٹ کر کہا۔
انشاء اللہ فیضان نے مسکراتے ہوئے کہا اور فیضان تم بھی اپنا بہت خیال رکھنا میری دعائیں ہر دم
تمہارے ساتھ ہوں گی زاریہ نے اسے دیکھتے ہوئے کہا
زار یہ اور شعیب تم دونوں نے ہی تو اتنا حوصلہ دیا ہے کہ میں چلہ کرنے کے لیے تیار ہو گیا ہوں اگر تم دونوں میرا ساتھ نہ دیتے تو شاید میں کبھی بھی چلہ نہ کر پاتا اور اس اللہ کا بہت بڑا کرم ہے میرے اوپر وہ مجھے اس چلے میں ضرور کامیاب کرے گا وہ تو بڑا غفور ہے ہمیں اس کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے فیضان نے مسکراتے ہوئے کہا تو زار یہ اور شعیب بھی مسکرا دیئے پھر فیضان شعیب سے گلے ملا اور موٹر سائیکل پر بیٹھ کر ویرانے کی طرف روانہ ہو گیا کافی ڈھونڈنے کے بعد فیضان کو وہ قبر مل ہی گئی فیضان نے اپنا موٹر سائیکل ایک درخت کے نیچے کھڑا کیا اور رات کا انتظار کرنے لگا شام کے سائے گہرے ہونے لگے تھے اندھیرا آہستہ آہستہ بڑھ رہا تھا
جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا فیضان کا دل اتنی ہی تیزی سے دھڑک رہا تھا وہ بے چینی سے ادھر ادھر ٹہل رہا تھا ایک
انجانا سا خوف اسے محسوس ہو رہا تھا آخر اللہ اللہ کر کے وہ وقت بھی آ گیا جس کا فیضان کو بے چینی سے انتظا تھا
فیضان نے ایک نظر پورے ویرانے میں دوڑائی تو ویرانہ چاند کی ہلکی ہلکی روشنی میں بہت ہی پر اسرار اور وحشت
ناک لگ رہا تھا۔ فیضان نے ڈرتے ڈرتے قبر سے مٹی کا اٹھائی اور مٹی کو حصار میں رکھ کر چلہ شروع کر دیا ابھی
اسے چلہ شروع کئے ایک گھنٹہ ہی گزرا تھا کہ اس خاموشی من بی ای فیضان نےدھر کتے ہوئے دل کے ساتھ ساتھ ادھر ادھر دیکھا تو اسے دور ہی ایک سایہ بڑھتا ہوا محسوس ہوا فیضان کا دل ایک انجانے خوف سے دھڑ کا اس نے اپنی نگاہیں اسی پر مرکوز کر دیں ۔
جیسے جیسے وہ سایہ قریب آرہا تھا گھنگھر ڈب کی چھن چھن بھی تیز ہورہی تھی فیضان نے ایک گہرا سانس لیا اور
آنکھیں بند کر کے ورد پڑھنے لگا اچانک ہی فیضان کو اپنے بدن میں ایک سرد لہر اٹھتی ہوئی محسوس ہوئی کیونکہ
اس بار ا سے گھنگھروں کی آواز بالکل قریب سے بنائی دی تھی دوسرے ہی لمحے فیضان نے اپنی آنکھیں کھولیں
سامنے دیکھتے ہوئے فیضان کا دل بری طرح دھڑ کا ایک نہایت ہی حسین اور نوجوان لڑکی اس کے سامنے کھڑی تھی وہ گھور گھور کر فیضان کو دیکھ رہی تھی اے نوجوان چلاجا یہاں سے ورنہ مارا جائیگا اگر اپنی زندگی چاہتے ہو تو یہاں سے بھاگ جا وہ غصے سے بولی لیکن فیضان نے اس پر توجہ نہ دی اور اپنا ورد پڑھتا رہا میں کہتی ہوں چلے جاؤ یہاں سے ورنہ تمہارا وہ حال کروں گی کہ کسی کو تمہاری ہڈیاں تک نہیں ملیں گی وہ غضبناک ہو کر بولی تو ایسے نہیں مانے گا ابھی تجھے بتاتی ہوں اتنا کہہ کر اس لڑکی خوق
نے اپنے بازو پر زور سے کاٹا تو اس کے بازو سے خون دور بہنے لگا اس نے اپنے بازو کا رخ زمین کی طرف کر دیا کا جیسے ہی اس کے خون کا ایک قطرہ زمین پر گرا تو وہاں خوفته سے دھواں اٹھنا شروع ہو گیا۔
جیسے جیسے اس کا خون زمین پر گر رہا تھا دھواں اتنا ویرہی تیز تر ہورہا تھا فیضان کا تمام جسم پسینے سے شرابور ہو گیا آہت
خوف اور دہشت کی وجہ سے وہ کانپ اٹھا دھویں سے فٹ ایک غراہٹ کی آواز بھری اور ایک بہت ہی بھیانک ایک چہرہ دھویں سے باہر نکلا اس کا قد تقریبا دس فٹ ہوگا اس لڑکی۔ کے پورے جسم پر کالے کالے لمبے بال تھے اور اس کا فیضان منہ بھیڑیے کی طرح خوفناک تھا وہ غراتا ہوا دھویں سے باہر نکلا اور فیضان
کو گھور گھور کر دیکھنے لگا اس کے دیکھنے کا انداز بہت ہی خوفناک تھا اسکی سرخ آنکھوں میں وحشت فیضان اور وشخص کی نے ہی وحشت تھی اس کے اس انداز سے لگ رہا تھا کہ یہ کھا تو پورے ویرانے کو تباہ کر دے گا پھر اس بھیڑیے نماادل درندے نے اپنا ایک پاؤں اوپر اٹھا کر زمین پر مارا تو زمین میں دراڑیں پڑنے لگیں فیضان ڈری ڈری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا اس کی زبان سے ورد کے الفاظ بھی مشکل سے ادا ہو رہے تھے دیکھا میری طاقت کو یہ آج تمہاری وہ حالت کرے گا کہ کوئی اس ویرانے کی طرف کو آنے کا نام تو کیا دیکھنے کی بھی کوشش نہیں کرے گا ۔ وہ نکہ لڑکی مسکراتے ہوئے بولی۔
فیضان مشکلی باند ھے اسے دیکھنے لگا لیکن اب بھی میں تمہیں ایک موقع دیتی ہوں اگر تو جانا چاہتا ہے تو چلا جا اس لڑکی نے مسکراتے ہوئے کہا لیکن فیضان نے اسی کی ایک نہ سنی اسے انداز ہو گیا تھا یہ سب اسے حصار سے باہر نکالنے کی چال ہے لیکن اتنی جلدی فیضان بھی تو ہار ماننے والا نہیں تھا اسے یہ بھی اندازہ ہو گیا تھا کہ جب نے تک وہ حصار میں ہے اسے کوئی بھی نقصان نہیں پہنچا سکتا ہے جب اس لڑکی نے دیکھا کہ فیضان اس کی بات مانے کو تیار نہیں ہے وہ غصے سے سرخ ہونے لگی ماردو اسے وہ لڑکی اس درندے کی طرف دیکھ کر بولی تو اس خوفناک درندے نے ایک شیخ ماری اور فیضان کی طرف دوڑ لگا دی اسکی چینچ سے سارا ویرانہ لرز اٹھا تھا اور فیضان کا دل بھی اس کی چیخ سن کر دہل گیا تھا جیسے ہی وہ
خوفناک درنده حصار سے ٹکرایا اسے ایک کرنٹ سالگا اور وہ دور جا گرا اس کی بھیانک چیخوں سے پورے ویرانے کو بلا کر رکھ دیا اس خوفناک درندے کا جسم اب آہستہ آہستہ سکڑنے لگا تھا کچھ ہی دیر بعد اس کا قد ایک فٹ کا ہو گیا تھا پھر اچانک ہی اس کے جسم سے آگ کا ایک شعلہ بھڑ کا اور اس کے جسم کو آگ لگ گئی جب اس لڑکی نے یہ منظر دیکھا تو چینی ہوگی وہاں سے غائب ہو گئی
فیضان نے اللہ کا شکر ادا کیا اور اپنا ورد پڑھتا رہا کچھ ہیے بعد فیضان نے سر اٹھا کر سامنے دیکھا تو اسے کوئی نص اپنی طرف آتا ہوا دیکھائی دیا جب وہ قریب آیا توفیضان نے اسے پہنچان لیا۔ وہ شعیب تھا فیضان اسےپڑھ رہا تھا۔
.حیرت زدہ نظروں سے دیکھ رہا تھا اور ساتھ ہی ورد بھی فف ۔ فیضان وہ ۔ وہ زاریہ کی طبیعت بہت ڈھ خراب ہے وہ بے ہوش ہے میں اور بار بار تمہارا نام لے اس رہی ہے تم جلدی سے میرے ساتھ چلور حمن بابا کہہ رہے اور تھے کہ تم اپنا چلہ کل مکمل کر لینا شعیب نے جلدی جلدی کہا وا۔
فیضان نے جب یہ سنا تو وہ لرز اٹھا وہ اپنی جگہ سے اٹھنے.
والا تھا کہ اسے رحمن بابا کی بات یاد آگئی کہ جو کچھ بھی ہوگا نہیں نظر کا دھوکہ ہوگا لہذا فیضان یہ سوچ کر بیٹھا رہا اور ورد ہو۔ پڑھتا رہا جلدی کر و فیضان ورنہ زار یہ مر جائے گی اس کی حالت بہت ہی خراب ہے شعیب نے بے تابی سے کہا لیکن فیضان اپنی جگہ سے نہ اٹھا اچانک ہی اس قبر تے سے آگ کا ایک شعلہ اٹھا اور شعیب سے ٹکرایا تو اسے آگ لگ گئی اور شعیب کی خوفناک اور درد بھری چینیں –
وہاں گونجنے لگیں فیضان نے اپنے جگری دوست کی یہ حالت دیکھی تو اس کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہوگئیں
آنسو ا سکی آنکھوں سے رکنے کا نام ہی نہ لے رہے تھے فیضان نے جب سامنے دیکھا تو اسے اپنا دل حلق میں اٹکتا ہوا محسوس ہوا کیونکہ شعیب اس کے سامنے کھڑا اسے گھور رہا تھا اس کی حالت بہت ہی خراب تھی
اس کا تمام جسم کو نکلے کی مانند جلا ہوا تھا اور گوشت اسکے جسم سے پکھل کر نیچے گر رہا تھا۔
کچھ ہی دیر بعد اسکا سارا جسم پگھل کر زمین میں جذب ہو گیا ۔ فیضان نے اپنے آنسو صاف کئے
اور ورد پڑھنے لگا ساری رات فیضان کے ساتھ ایسے ہی واقعات پیش آتے رہے بھی خون کی بارش شروع
ہو جاتی بھی کوئی خوفناک سایہ اسے اپنے ارد گرد نظر آتا تو کبھی زمین پھٹتی ہوئی اور ایسے ایسے خوفناک
درندے باہر آتے جسے دیکھ کر فیضان کانپ اٹھتا ابھی بھی چلہ ختم ہونے میں ایک گھنٹہ باقی تھا فیضان ورد پڑھنے میں مصروف تھا اچانک ہی فیضان کو ایک طرف سے کسی لڑکی کی چیخنے کی آواز سنائی دی فیضان نے اس
طرف دیکھا تو اس کے جسم پر کپکپی طاری ہو گئی
وہ سرتا پاؤں کانپ اٹھا ایک ڈپکڑ کر گھسیٹتے ہوئے فیضان کی طرف بڑھ رہا تھا اسڈھانچے کے دوسرے ہاتھ میں خنجر تھا قریب آتے ہی اس ڈھانچے نے زاریہ کو زمین پر بیچ دیا چھوڑ دو یہ چلہ ور نہ اس لڑکی کا گلہ کاٹ دوں گا اس ڈھانچے نے خنجر والے ہاتھ سے زاریہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
فیضان تم یہ چلہ چھوڑ دو مجھے اس سے بچالو میں مرنا نہیں چاہتی ہوں بلکہ میں تو تمہارے ساتھ جینا چاہتی
ہوں۔زاریہ نے روتے ہوئے کہا لیکن فیضان نے اس کی طرف توجہ نہ دی اور ورد پڑھتا رہا کیونکہ اسے یقین
تھا کہ یہ اس کی زار یہ نہیں ہے اگر اسکی زار یہ ہوتی تو وہ کبھی اسے چلہ چھوڑنے کو نہ کہتی وہ ڈھانچہ غصے کے عالم
میں زاریہ کی طرف بڑھا پلیز فیضان مجھے بچالو زار یہ رورو کر فیضان کی منتیں کر رہی تھی اتنے میں ڈھانچہ زار یہ
کے سر پر پہنچ گیا اس نے زاریہ کو بالوں سے پکڑا اور زور سے اس کی گردن پر خنجر کا وار کیا تو زار پہ کا سراس
ڈھانچے کے ہاتھ میں رہ گیا اس کا ڈھر کافی دیر تک و پتا رہا پھر ٹھنڈا ہو گیا فیضان کو اب دھویں کے علاوہ کچھ
بھی نظر نہیں آرہا تھا کچھ دیر بعد جب دھواں ختم ہوا تو وہاں کچھ بھی نہیں تھا پھر جب فیضان کا چلہ مکمل ہوا تو
فیضان نے مٹی دونوں ہاتھوں میں اٹھائی اور حصار سے باہر آ گیا اچانک ہی آسمانی بجلی اس قبر پر پڑی تو قبر ایک
دھماکے کے ساتھ پھٹ گئی فیضان کو قبر کے اندر ایک حسینہ دکھائی دی وہ لیٹی ہوئی تھی فیضان مجھے یہاں سے باہر نکالو ورنہ میں مرجاؤں گی میں زندہ ہوں فیضان مجھے باہر نکالو حسینہ نے بے تابی سے کہا اور پھر اچانک ہی اس کے ہاتھ بڑھنے لگے جیسے ہی اس کے ہاتھ قبر سے باہر آئے تو فیضان نے وہ مٹی حسینہ پر پھینک دی جیسے ہی مٹی حسینہ پر پڑی تو اس کی چیخوں کا سلسلہ شروع ہو گیا اور قبر ایک دھما کے ساتھ دوبارہ بند ہوگئی اور فیضان سجدے میں گر کر رونے لگا۔
پھر فیضان اٹھا جیسے ہی اس نے سامنے دیکھا تو انھیں بھی کی اچھی کوہ میں کیونکہ فیضان کے سامنے اس کا ہم شکل کھڑا تھا جو مسکرارہا تھا شکر یہ دوست تم نے مجھے حسینہ سے بچالیا اگر حسینہ مجھے دوبارہ حاصل کر لیتی تو وہ مجھ سے انسانوں کا خون کرواتی اور میں :-
چاہتے ہوئے بھی انسانیت کا دشمن بن جاتا لیکن تم نے مجھے بچالیا ہے اب میری روح پر سکون ہے یہ کہتے ہی
فیضان کے ہم شکل کے گرد دھواں پھیلنے لگا اور پھر وہ دھویں کے ساتھ آسمان کی طرف چل پڑا سب سے پہلے دہ رحمن بابا کے گھر گیا اور ان کا شکر یہ ادا کیا رحمن بابا نے بھی فیضان کو چلے میں کامیابی پر بہت بہت مبارک بادد کی اور اسے گلے لگالیا اور کہا۔
بیٹا تم نے بہت ہی اچھا کام کیا ہے حسینہ کو مار کر تم نے انسانیت کو بچالیا ہے تم نے محنت کی اور اللہ تعالیٰ نے
تمہیں اس کا اجر دیا خوش رہو بیٹا رحمن بابا سے ملنے کے بعد جب وہ گھر پہنچا تو شعیب اور زار یہ اس کا بے چینی
سے انتظار کر رہے تھے جیسے ہی شعیب کی نظر فیضان پر پڑی وہ دوڑ کر اس کے گلے لگ گیا بہت بہت مبارک ہو
میرے دوست میں خوش ہوں مجھے لگ رہا تھا کہ دینا کی سب بڑی خوشی مجھے آج ملی ہے میں اس دن کو کبھی بھی
نہیں بھول پاؤں گا فیضان نے مسکراتے ہوئے کہا زار یہ کہاں ہے فیضان نے بے تابی سے پوچھا انے لوجی زاری اتنی چھوٹی ہوگئی ہے کہ تمہیں نظر ہی نہیں آرہی ہے
شعیب نے فیضان سے الگ ہو کر شرارت سے کہا تو زار یہ قہقہے لگا کر بننے لگی فیضان اور شعیب بھی زاریہ”
کو دیکھ کر بننے لگے۔
لمبی باتیں کیا کرنی ہیں قصہ مختصر کچھ ماہ بعد فیضان نے زاریہ سے شادی کر لی اور شادی کے بعد زاریہ
شعیب کے پیچھے پڑگئی کہ اب تمہیں بھی شادی کر لیتی چاہیے شعیب پہلے تو انکار کرتا رہا پھر بار بار زاریہ کا مجبور کرنے پر وہ مان گیا اور شعیب نے بھی اسے کہہ . دیا کہ وہ خود ہی اسکے لیے لڑکی پسند کرے مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے یہ بات سن کر فیضان اور زار یہ بہت ہی خوش ہوئے اور زار یہ نے اس کے رشتہ تلاش کرنا شروع کر دیا ۔ اور پھر زار یہ نے اپنی ایک دوست عشنا کو شعیب کے لیے پسند کر لیا اور پھر کچھ ہی دنوں بعد اس سے شعیب کی شادی کردی اور اب چاروں دوست
بہت ہی خوش حال زندگی گزار رہے ہیں ۔
