پاگل عشق

رومانوی داستان

از قلم ۔ پری خان

قسط وار ناول

views
0
Pagal Ishq By Pari Khan پاگل عشق از پری خان

قسط_1

سحر بیٹا ساری تیاریاں ہو گئ ہے تمہارے پاپا اور حماد آتے ہی ہو گئے تم نے بھائ صاحب والا پورشن اچھے صاف کروا دیا ہے اور حماد کا کمرہ وہ بھی اچھے سے صاف کروا دیا ہے تمہیں پتہ ہے نہ صفائی کتنی پسند ہے اسے
ماما میں نے سب کروا دیا ہے آپ ریلکس ہو جائے اتنا ہائپر کیو ہو رہی ہے سحر رخسانہ کو کندھوں سے پکڑ کر صوفے پر بیٹھاتی ہوئ خود بھی ساتھ بیٹھ گئ ۔
بیٹا تم تو جانتی ہو کتنے سالوں بعد واپس آ رہا ہے میرا بچہ جب سے بھابی اور بھائ صاحب اس دنیا سے گئے تب سے وہ ہم سب سے دور چلا گیا تھا پتہ نی کیسے اتنا بڑا غم اس بچے نے برداشت کیا ہو گا ۔
ماما اب کیو اداس ہو رہی ہے اب تو وہ واپس آ گیا ہے اب وہ ہم سب سے کبھی دور نہیں جائے گا
اب میں اسے واپس جانے بھی نہیں دو گی بہت سال رہ لیا اپنی ماں سے دور
تمہاری اس کے ساتھ رخصتی کر کے اسے ہمیشہ کہ لیے یہاں پر باندھ دو گی ۔۔
رخصتی کے نام پر سحر کے گال لال ٹماٹر ہوئے ماما آپ بھی کونسی باتیں لے کر بیٹھ گئ ہے میں تانی کو بولتی ہو جلدی سے ریڈی ہو جائے پتہ ہے کتنی خوش تھی حماد کے واپس آنے کا سن کر اور اب بارہ بجنے والے اور میڈم ابھی تک سوئ ہوئ ہے
سحر اپنی لاج شرم چھپاتے ہوئے اپنے اور تانی کے کمرے کی طرف بھاگی اگر دو منٹ مزید رخسانہ کے پاس بیٹھتی تو وہ ضرور اسے شرماتے ہوئے پکڑ لیتی ۔
تانی اٹھ جاوں حماد آنے والا ہے اگر تم ایسے ہی سوتی رہ گئ تو حماد سے پہلے میں ملنے چلی جاوں گئ پھر نہ کہنا آپی میں نے پہلے حماد سے ملنا تھا سحر تانیہ کی نکل اتارتی ہوئ بولی ۔
تانیہ جو بڑے مزے سے کمبل اوڑھے سو رہی تھی سحر کی بات سنتے ہی ایک جھٹکے سے اٹھی ۔
آپی حماد سے پہلے میں ہی ملو گئ آپ جلدی سے میرے کپڑے نکال دے بلیک ڈریس ہی نکالنا حماد کو بلیک ڈریس بہت پسند ہے میں آج وہی پہنوں گئ تانیہ کہتی ہوئ واش روم میں بند ہو گئ اور سحر اسے دیکھتے مسکرا گئ
کس کدھر حماد کو پسند کرتی تھی یہ لڑکی حماد کے باہر جانے کہ باوجود اس کا بھوت نہیں اترا تھا اس کے دماغ سے ۔۔
سحر اور تانیہ اقبال اور رخسانہ کی بیٹیاں تھی تانیہ کی پیدائش پر کچھ پچیدگیوں کی وجہ سے دوبارہ ماں نہیں بن پائ تھی لیکن حماد نے انہیں کبھی بیٹے کی کمی محسوس نہیں ہونے دی تھی حماد اقبال کے بڑے بھائ کا بیٹا تھا چند سال پہلے ہی ان کے بھائ اور بھابی کار ایکسیڈنٹ میں اس دنیا سے رخصت ہو گئے تھے
حماد اپنے ماں باپ کے جانے کا غم برداشت نہ کر سکا اور سب چھوڑ چھاڑ کے چار سال کے لیے لندن چلا گیا پڑھائی کے لیے ۔
لیکن اقبال کے بڑے بھائ باقی سب کی رضا پر سحر اور حماد کا نکاح اپنی زندگی میں ہی کروا گئے تھے ۔۔
سحر تب ایف ایس سی کے فسٹ ائیر میں تھی اور حماد ایف ایس سی کمپلیٹ کر چکا تھا اور تانیہ ابھی میٹرک میں تھی ۔۔۔
کیسے ہو بیٹا رخسانہ حماد کو گلے لگائے رو پڑی رخسانہ نے حماد کو بیٹا کہا ہی نہیں مانا بھی تھا اتنی لمبی جدائی کے بعد حماد کا چہرہ دیکھ رو پڑی چاچی میں بلکل ٹھیک ہو دیکھے اب تو پہلے سے بھی زیادہ فٹ ہو گیا ہو حماد اپنے بازو کو اوپر کئے بولا ۔
یہ کہنا غلط نہ تھا کہ وہ پہلے سے زیادہ ہینڈسم ہو گیا تھا چوڑا سینا چھ فٹ لمبا قد سفید رنگت کالے بال جو باری مہارت سے جیل سے سیٹ کئے ہوئے تھے پتلا ناک درمیانی کالی آنکھیں ہلکی ہلکی بیرڈ کالے براون ہونٹ اور آنکھوں پر چشمہ لگائے بلکل ہیرو لگ رہا تھا رخسانہ بلائے لاتے نہ تھک رہی تھی ۔
حماد بیٹا اندھر چلو ورنہ تمہاری چاچی سارا دن یہاں کھڑے ہو کر تمہاری نظر اتارتی رہے گئ اقبال رخسانہ کو بس ہوتا نہ دیکھ بول کر ہسنے لگے حماد بھی ہلکا سا مسکرایہ۔۔
آپ چپ ہی رہے تو اچھا ہے میرا بیٹا اتنے سالوں بعد آیا ہے نظر تو اتارنی پڑے گئ پتہ نی کس کس کی بری نظر لگی ہو گئ رخسانہ جلدی سے اندھر سے سات ریڈ مرچیں لا کر اس کے اوپر سے گھماتی ہو منہ میں کچھ پڑتی ہوئ اس پر پھونک گئ اب آجاوں اندر آپ لوگ اندر چلے میں چائے لے کر آتی ہو ۔۔
تمہاری چاچی نہ پاگل ہو گئ ہے اتنے سال بعد تمہیں دیکھا ہے نہ پتہ نی کون کون سی نظر اتار رہی ہے آو اندر چلتے ہیں اقبال حماد کو لیے اندر کی طرف بڑھ گئے ۔۔
حماد آپ آ گئے تانیہ بھاگتی ہوئی حماد کے گلے لگ گئ حماد کو تانیہ کا اقبال کے سامنے یو گلے ملنا تھوڑا عجیب لگا ۔
آپ کیسے ہو تانیہ ایسے ہی گلے لگی بولی اقبال صاحب کو بھی تانیہ کی یہ حرکت ناگوار گزری اب سب بچے تھوڑا تھے جوان ہو گئے تھے تانیہ بھی اب بچی نہیں رہی تھی
ہاں میں ٹھیک ہوں تم کیسی ہو حماد تانیہ کو خود سے تھوڑا دور کر گیا ۔۔
میں بھی ٹھیک ہو لیکن آپ کی بہت یاد آتی تھی تانیہ اس کا ہاتھ پکڑے اس کے ساتھ ہی صوفے پر بیٹھ گئ ۔
تانی بیٹا جاوں ماما کی مدد کرو اقبال کو تانیہ کا یو حماد کا ہاتھ پکڑنا نا گوار گزرا
پاپا سحر ان کی مدد کر رہی ہے مجھے حماد سے باتیں کرنی ہے
سحر کے نام پر حماد کا دل دھڑکا ان چار سالوں میں بہت کچھ بدل گیا تھا صرف بدلا نہ تھا تو حماد کا سحر کے لیے پاگل پن سحر نام کا خمار ابھی بھی حماد کے حواسوں پر چھایا ہوا تھا ان چار سالوں میں یہ سوچ کر صبر آ جاتا تھا کہ وہ صرف اس کی ہے ان چار سالوں میں وہ اس کے لیے کتنا تڑپا تھا صرف یہی جانتا تھا ۔۔
یہ لے ماما اور سحر آ گئ سحر کہ نام پر حماد کی نظریں اس کی طرف اٹھی وہ پلٹنا بھول گئ ۔
سحر پہلے سے بھی زیادہ سندر ہو گئ تھی پینک ڈریس پٹیلا شلوار اور شارٹ قمیض میں سفید رنگت اور بھی نکھر رہی تھی بال بے نیاز کمر پر جھول رہے تھے بڑی براون آنکھیں چھوٹی ناک پتلے ہونٹ اور ان پر لگی پینک لیپسٹک حماد کا ضبط آزمانے لگے ڈوپٹہ گلے میں ڈالے رخسانہ کے پیچھے چلتی ہوئ اونچی آواز میں سلام کر کے کپ میں چائے ڈالتے ہوئے سب کو دینے لگی حماد بنا پلک چھپکائے اس کو دیکھے جا رہا تھا رخسانہ اور اقبال کی باتوں کو سنے بغیر ہو ہاں میں جواب دے رہا تھا اس دوران ایک بار بھی سحر نے اس کی طرف نہ دیکھا تھا ۔
سحر چائے کا کپ لے کر اس کی طرف بڑھی تھی کہ تانیہ بیچ میں ہی کپ لے گئ
حماد کو چائے میں دیتی ہو تانیہ کپ لیے حماد کی اوڑھ بڑھی جہاں یہ حرکت حماد کو ناگوار گزری وہاں رخسار اور اقبال کو بھی تانیہ کی یہ بات اچھی نہ لگی کپ پکڑاتے ساتھ ہی تانیہ حماد کے ساتھ ہی بیٹھ گئ سحر رخسانہ کے ساتھ جا بیٹھی ۔۔
حماد کی نظریں ابھی بھی سحر پر ہی تھی جبکہ سحر کی آنکھیں نیچے اپنی گود پر جھکی ہوئ تھی ۔۔
سحر جاوں حماد کو کھانے کے لیے بولاوں تب تک میں کھانا لگواتی ہو ماما تانی کو بول دے وہ حماد کو بولا لائے گئ
تانی کو کیو بولوں تم کیو نہیں جاوں گی جاوں جلدی سے بلا کر آو بچہ جب سے آیا ہے بھوکا ہے جلدی جاوں تم ابھی تک گئ نہیں رخسار سحر کو ٹی وی کے آگے ابھی تک بیٹھا دیکھ گویا ہوئ جانے لگی ہو سحر ریموٹ صوفے پر پٹکتی ہوئ حماد کے پورشین کی طرف بڑھی ۔
سحر حماد کے کمرے داخل ہوئ تو کمرےمیں حماد کو نہ پا کر ادھر ادھر نظریں دھرانے لگی کمرے میں تو نہیں ہے باہر دیکھتی ہوں سحر ابھی دروازے کی اوڑھ بڑھی ہی تھی کہ واش روم کا دروازہ کھولنے کی آواز پر پلٹی لیکن حماد کو بنا شرٹ کے دیکھ کر جیسے پلٹی تھی ویسے ہی دوبارہ رخ پھیر گئ ۔
کیا ہوا تم نے رخ کیو پھیر لیا حماد چلتا ہوا سحر کے قریب گیا ۔۔
تم نے شرٹ نہیں پہنی جاوں جلدی سے شرٹ پہن کر آو تمہیں مجھ سے شرم آ رہی ہے یہ پھر میری باڈی کو دیکھ شرم آ گئ تمہیں پتہ ہے باہر لڑکیاں میری اس باڈی پہ مرتی تھی حماد سحر کے کان میں سرگوشی کئے اسے دیکھے گیا جو ابھی بھی اپنا چہرہ ہاتھوں سے چھپائے کھڑی تھی ۔۔
میں سننے یہاں نہیں آئ کہ لڑکیاں تمہاری کس چیز پر مرتی ہے میں یہاں ماما کے کہنے پر تمہیں کھانے کے لیے بلانے آئ تھی جلدی سے آ جانا شرٹ پہن کئے ماما انتظار کر رہی ہے سحر جلدی سے بولے دروازے کی طرف بڑھی ۔
ناراض ہو مجھ سے حماد سحر کا ہاتھ پکڑے روک گیا نہیں میں کون ہوتی ہو ناراض ہونے والی میرا ہاتھ چھوڑوں مجھے جانا ہے اتنا ناراض ہو کہ میری طرف دیکھو گئ بھی نہیں دیکھو گئ نہیں تمہارا حماد کتنا ہینڈسم ہو گیا ہے ویسے تم بھی کافی بدل گئ ہو سندر ہو گئ ہو لیکن مجھ سے زیادہ نہیں ۔۔
مجھے نہیں دیکھنا کچھ میرا ہاتھ چھوڑوں مجھے بس جانا ہے یہاں سے سحر ویسے ہی کھڑی اپنا ہاتھ چھوڑانے لگی ایسے کیسے چھوڑ دو چار سال بعد تو ہاتھ لگی ہو اب تو کبھی نہیں چھوڑوں گا حماد سحر کو بازوں سے گھما کر اپنے سینے سے لگا گیا حماد یہ کیا حرکت ہے چھوڑوں مجھے سحر کی نظریں ابھی بھی نیچے ہی تھی
واہ کیا طریقہ ہے ناراضگی جتانے کا میڈیم تو میری طرف دیکھنا بھی گوار نہیں کر رہی پر دیکھنا تو پڑے گا حماد سحر کو تھوڑی سے پکڑ کر اس کا چہرہ اوپر کر گیا چہرہ اوپر ہونے پر سحر اپنی آنکھیں زور سے بند کر گئ ۔
اوف تمہاری ادائیں ایسے تو نہیں مجھے تم نے اپنا دیوانہ کیا تھا تمہاری انہیں اداوں پر میں اپنا دل ہار بیٹا تھا بلکل نہیں بدلی تم لیکن تب سے لے کر اب تک ہمارا رشتہ ضرور بدل گیا ہے اور میرا پاگل پن بھی بڑھ گیا ہے حماد کہتے ساتھ سحر کے ہنٹوں پر جھکا شدت بھرا لمس چھوڑ کر پیچھے ہوا یہ سب اتنا اچانک ہوا کی سحر فٹ سے اپنی کھولے حماد کو دیکھنے لگی بولا تھا اپنی یہ ادائیں نہ دیکھاوں مجھے یہ تم پر ہی بھاڑی پڑنے والی ہے حماد اپنی کالی گہری آنکھیں براون آنکھوں میں ڈالے بولا ۔
ویسے میں نے سوچا نہیں تھا اتنی سندر ہو جاو گئ تمہیں پتہ ہے مجھے آج تمہیں دیکھ کر پہلی نظر والا عشق ہوا ہے
تم کتنے بے شرم ہو گئے ہو چھوڑوں مجھے مجھے نہیں تم سے کوئ بات کرنی اور نہ ہی تم سے کوئ بات سننی ہے جاوں واپس چلے جاوں اپنی ان گوری میموں کے پاس یہاں واپس کیا کرنے آئے ہو سحر تڑپ گئ سالوں کی بھڑاس تھی جو من میں بھری پڑی تھی۔
تمہارے لیے واپس آیا ہو میں دن رات میرے حواسوں پر چھائ رہتی ہو
میں کیو ان گوری میموں کے پاس جاوں میں تو اپنی بیوی کے پاس ہی رہو گا اب حماد کا لہجہ بھی اٹل تھا ۔
حماد میں آخری بار کہہ رہی ہو چھوڑوں مجھے ورنہ اچھا نہیں ہو گا کیا کرو گئ یہ دھمکی کسے دے رہی ہو تم پتہ ہے نہ دھمکی دینے والوں کا میں کیا انجام کرتا ہو لگتا ہے بھول گئ ہو سب کچھ ان چار سالوں میں بڑی ہمت آ گئ ہے تم میں ہاں آ گئ ہے ہمت جیسے تم میں ہمت آ گئ تھی مجھے چھوڑ کر جانے میں اب چھوڑوں مجھے آتے ساتھ ہی انگریزوں کی طرح چھچھوڑی حرکتیں کرنا شروع کر دی ہے سحر حماد کی شدت بھری گستاخی یاد کرتے تلملا گئ ۔

ابھی تو میں نے کچھ کیا ہی نہیں ہے یہ تو وہاں پر عام بات ہوتی تھی جیسے تم چھچوڑی حرکت کہہ رہی ہو ابھی تو بہت ساری چھچھوڑی حرکتیں کرنی باقی ہے حماد مسکرا گیا سحر کے تاثرات دیکھ کرحماد چھوڑوں مجھے سحر اپنے آپ کو چھوڑانے لگی نہیں چھوڑوں گا جو کرنا ہے کر لو حماد سحر کی کمر میں اپنے دونوں ہاتھ ڈالے اسے اپنے اور قریب کر گیا
آ آ ۔۔۔ سحر حماد کے بازوں پر زور سے کاٹ گئ یہ کیا کیا جنگلی بلی حماد اپنے بازوں کو پکڑے درد سے تلملا گیا ۔
بولا تھا نہ چھوڑ دو اب میں وہ سحر نہیں رہی جو تم سے ڈر جاتی تھی بچ کے رہنا مجھ سے ورنہ خشر بھگاڑ دو گئ سحر کہتے باہر بھاگ گئ
میں تو چاہتا ہو تم میرا خشر بھگاڑ دو اتنا کہ میں اپنے ہوش میں ہی نہ رہو
بھولی بلی چھوڑ کر گیا تھا اور کیسے جنگلی بلی بن گئ ہے تمہیں تو میں منا کر ہی رہو گا میری جنگلی بلی حماد سحر کے کاٹی ہوئ جگہ کو اپنے لبوں سے گیا ۔۔
حماد بیٹا میں نے تمہارے آنے کی خوشی میں گھر میں ایک چھوٹی سی پارٹی رکھی ہے جہاں آفس کے اور فیملی کے کچھ لوگ ہو گئے چاچو آپ نے کیو رکھی پارٹی ابھی میں کچھ دن ریسٹ کرنا چاہتا تھا بیٹا سب تم سے ملنے کی ضد کر رہے تھے تو مجھے یہی ٹھیک لگا اس طرح سب تم سے مل لے گئے کچھ گھنٹوں کی تو بات ہے پھر تم ریسٹ کرنا جتنے دن تم کرنا چاہتے ہو پھر آفس آ جانا ۔
اوکے چاچو ۔

واو کتنے مزہ آئے گا میں اور حماد ایک جیسا ڈریس پہنے گئے تانیہ خوش ہوتی بولی حماد کی نظریں سحر پر پڑی جو سب سے بے نیاز کھانا کھانے میں مصروف تھی ایسے شو کر رہی تھی جیسے اکیلی بیٹھ کر کھا رہی ہو حماد کو اس وقت اس پر ٹوٹ کر پیار آیا جو روٹنے پر بھی ایسی حرکتیں کر رہی تھی کہ ابھی اگر یہاں کوئ نہ ہوتا تو حماد ضرور اسے کی سانسوں کو پی جاتا ۔۔
ماما میرا ہو گیا میں اپنے روم میں جا رہی سونے سحر خود کو حماد کی نظروں کے حصار میں محسوس کرتے وہاں سے اٹھ کر جانے لگی ۔
چاچی میرا بھی ہو گیا حماد بھی اسکے پیچھے اٹھ کر اپنے پورشین کی طرف چلا گیا ۔۔
تانی تم اس وقت میرے روم میں حماد جو صوفے پر بیٹھا لیپ ٹاپ پر بزی تھا تانیہ کو اپنے روم میں آتا دیکھ بولا ۔۔
ابھی تو صرف آٹھ ہی ہوئے ہیں اور تم اتنے سالوں بعد باہر سے آئے ہو
ڈھیر ساری باتیں کرنی ہے مجھے تم سے میں نے تو سحر سے بھی بولا لیکن اس نے آنے سے منع کردیا تانیہ حماد کے ساتھ ہی صوفے پر بیٹھ گی ۔
یہ تمہارے بازو پر کیا ہوا لگتا ہے کیسی جانور نے کاٹا ہے تانیہ حماد کے بازوں کا جائزہ لیتی ہوئ فکر مندی سے بولی ۔۔
جنگلی بلی نے کاٹا ہے حماد وہ لمحہ یاد کرتے ہوئے مسکرا کر سحر کے کاٹے ہوئے نشان پر انگلی پھیر گیا ۔
او مائ گارڈ پھر تو تمہیں ڈاکٹر کے پاس جانے چاہیے کہی انفیکشن نہ ہو جائے
نہیں مجھے ڈاکٹر کی ضرورت نہیں ہے معمولی سا نشان ہے ٹھیک ہو جائے گا حماد اپنا بازوں تانیہ کے ہاتھ سے چھوڑا گیا ۔
ڈاکٹر کے پاس نہیں جانا تو مت جاوں مگر میڈیسن ضرور لے لینا ۔
اچھا بتاوں ہمارے لیے گفٹ لائے ہو اگر نہیں لائے ہوئے نہ تو بہت برا ہونے والا ہے تمہارے ساتھ تانیہ حماد کو دوبارہ لیپ ٹاپ پر کھوئے دیکھ گویا ہوئ
لایا ہو سب کے لیے گفٹ لایا ہو میری ماں پھر دیکھاو کیا گفٹ لائے ہو تانیہ خوشی سے بولی ۔
ابھی نہیں صبح دو گا سب کو تب دیکھ لینا ابھی مجھے بہت نید آ رہی ہے تم جاوں یہاں سے صبح دیکھاوں گا حماد لیپ ٹاپ بند کرتے ہوئے اٹھا ۔
اچھا تم ریسٹ کرو صبح ملتے ہیں تانیہ گڈ نائٹ بولتی ہوئ چلی گئ ۔
تانیہ بچپن سے سحر کی وجہ سے حماد کو بھائ کی بجائے حماد ہی کہتی تھی سحر تو حماد کو بھائ ہی کہتی تھی لیکن حماد سحر کو ڈرا دھماکہ کر بھائ کہنے سے منع کرتا تھا اس لیے سحر نے حماد کو بھائ بولنا چھوڑ دیا تھا اور تانیہ کا کہنا تھا اگر سحر حماد کو بھائ نہیں بولتی تو وہ کیو بولے حماد اور سحر کا صرف دو سال کا ہی فرق تھا لیکن تانیہ حماد سے چار سال چھوٹی تھی سب کہ سمجھانے کہ بعد بھی تانیہ نے حماد کو بھائ نہیں بولا تھا اسے نام سے ہی بولاتی تھی ۔۔
اس کی ضد کے آگے گھر والے کچھ نہیں بولے حماد کو بھی کوئ اعتراض نہیں تھا ۔۔۔
بیٹا اتنے سارے گفٹ لانے کی کیا ضرورت تھی ہمارے لیے بس تم ہی آ گئے یہی کافی تھا
چاچی یہ سب میں اپنی پسند سے لایا ہو مجھے یہ سب اچھا لگا تو میں نے لے لیا اب آپ لینے سے انکار نہیں کر سکتی لے لو رخسار بیگم بچہ بہت پیار سے لایا ہے اقبال اپنا گفٹ پکڑتے ہوئے وہی صوفے پر بیٹھ گئے ۔

حماد میرا گفٹ کدھر ہے میں کب سے انتظار کر رہی ہو تانیہ کب سے انتظار میں بیھٹی اپنی باری کا انتظار کرتے ہوئے بولی تمہارے لیے تو میں بہت اہم چیز لایا ہو اب تمہیں سحر کا موبائل یوز کرنے کی کوئ ضرورت نہیں کیو کہ میں تمہارے لیے نیو موبائل لایا ہو وہ بھی بلکل نیو ماڈل حماد موبائل تانیہ کے آگے کر گیا ۔۔
تانیہ نے موبائل پکڑ تو لیا مگر کچھ خاص خوش نہیں ہوئ اسے حماد سے کچھ سپیشل چیز کی توقع تھی سحر کے لیے کیا لائے ہو تانیہ موبائل پکڑے گویا ہوئ ۔
سحر کے لیے تو میں کچھ سپیشل چیز لایا ہو حماد اپنے پینٹ کی جیب سے ایک ڈبیہ نکالتے ہوئے سحر کی طرف بڑھا سحر جو رخسار کے ساتھ بیٹھی تھی حماد کو اپنی طرف آتا دیکھ گڑ بڑا گئ
یہ میں تمہارے لیے لایا ہو حماد ڈبیہ سحر کے آگے کئے اسے کے چہرے کو دیکھنے لگا ۔۔
مجھے نہیں چاہیے سحر کا انکار حماد کو سخت نا گوار گزرا کتنے ارمانوں سے اس کے لیے لے کر آیا تھا اسے دیکھنے کے بعد سب سے پہلا خیال ہی اسے سحر کا آیا تھا ۔
لے لو بیٹا ایسے انکار نہیں کرتے چلو پکڑ لو رخسار کہ کہنے پر سحر حماد کے ہاتھ سے ڈبیہ تھام گئ ۔
سحر کھول کر دیکھو کیا ہے اس میں تانیہ بھاگتی ہو اس کے سر پر جا پہنچی سحر نے جب ڈبیہ کھولی تو بیچ بہت خوبصورت ہارٹ شیپ پینڈنٹ تھا ۔
واو کتنا پیار ہے مجھے تو بہت پسند آیا ہے سحر تم یہ موبائل رکھ لو اور مجھے یہ دے دو تانیہ سحر سے پینڈنٹ لیتے ہوئے اسے موبائل پکڑا گئ
حماد کا غصہ ہائ ہوا وہ پینڈنٹ صرف وہ سحر کے لیے لایا تھا ایسے کیسے کوئ اور لے سکتا تھا ۔
تانی وہ میں سحر کے لیے لایا ہو اگر تمہیں پسند ہے تو میں تمہیں دوسرا لا دو گا حماد اپنا غصہ بیچے بولا
نہیں مجھے یہی والا چاہیے آپ سحر کو دوسرا لا دیجائے گا ۔
تانی بیٹا یہ غلط بات ہے یہ حماد بھائ سحر کے لیے لایا ہے چلو سحر کو واپس کرو حماد بول رہا ہے نہ کہ وہ تمہیں دوسرا لا دے گا ۔
نہیں میں یہی رکھو گی مجھے نہیں چاہیے دوسرا تانیہ غصے سے بولتے ہوئے اندر کمرے میں چلی گئ ۔۔
کوئ بات نہیں اگر تانی وہ رکھنا چاہتی ہے تو رکھ لے میں موبائل رکھ لو گئ ویسے بھی سحر کا موبائل بھی زیادہ تر تانیہ ہی یوز کرتی تھی ۔۔
تانیہ کو ہر وہ چیز چاہیے ہوتی تھی جو سحر کے لیے آتی تھی یہاں تک ڈریس بھی وہ سحر کے استعمال کرتی تھی ۔۔
حماد غصے سے اپنی مٹھیا بیچے اپنے پورشین کی طرف چلا گیا ۔۔
پتہ نی کب بڑھی ہو گئ یہ لڑکی مجھے تو بہت ٹینشن ہوتی ہے اس کی ماما آپ کیو پریشان ہوتی ہے ابھی بچی ہے آہستہ آہستہ خود ٹھیک ہو جائے گئ
اللہ کرے ٹھیک ہو جائے ورنہ اس کا پاگل پن تو دن پہ دن بڑھتا جا رہا ہے ۔۔

چلو جلدی سے ریڈی ہو جاوں گیسٹ آنا سٹارٹ ہو چکے ہیں سحر یہ لو ڈریس یہ حماد نے بیجھی ہے اور بولا ہے آج رات پارٹی میں تمہیں یہی پہننا ہے رخسانہ ڈریس بیڈ پر رکھے باہر چلی گئ ۔۔
واو کتنی پیاری ڈریس ہے سب اچھے اچھے گفٹ تمہیں ہی دیتے ہے لگتا ہے مجھ سے تو کوئ پیار ہی نہیں کرتا تانیہ ڈریس کو پکڑے دیکھنے لگی
بلیک فیری فراک جس پر بہت عمدہ وائٹ سٹون کا کام ہوا تھا فل فراک سٹون سے بڑھی پڑی تھی ۔
ایسی بات نہیں ہے تانی سب تم سے بہت پیار کرتے ہیں اگر تمہیں یہ ڈریس پسند ہے تو تم یہ پہن لو میں کچھ اور پہن لو گئ
سچ کہہ رہی ہو یہ میں پہن لو ہاں سچ بول رہی ہو تم یہ پہن سکتی ہو
نہیں رہنے دو ماما پھر غصہ کرے گئ کہ تم نے سحر کی ڈریس کیو پہنی تانیہ ڈریس واپس بیڈ پر رکھے کھڑی ہوئ
نہیں کچھ کہتی میں خود ماما سے بات کر لو گئ تم پہن لو اور آئندہ کبھی ایسا سوچا نہ کہ تم سے کوئ پیار نہیں کرتا تو پھر دیکھنا سحر تانیہ کو گلے لگا گئ۔۔
سب مہمان پارٹی میں آ چکے تھے اور حماد بھی پارٹی میں آ چکا تھا ۔
بلیک ٹو پیس پہنے بال جیل سے سیٹ کئے بہت ہینڈسم لگ رہا تھا جو بھی ملا تعریف کئے بنا نہ رہ سکا ۔
حماد سب سے ملتے ہوئے ڈرنک کاونٹر پر جا بیٹھا اور سحر کا انتظار کرنے لگا ۔
سحر کو اپنے دیے گئے ڈریس میں دیکھنے کے لیے اس کی آنکھیں بڑی بے چین ہو رہی تھی ۔۔
حماد میں کیسی لگ رہی ہو تانیہ تیار ہوئے سب سے پہلے حماد کے پاس آئ اور اسے اپنا ڈریس کھول کر دیکھانے لگی
تانیہ کو اپنی دی گئ ڈریس میں دیکھ کر حماد کی آنکھیں غصے سے سرخ ہو گئ ۔
تمہیں کس نے دی یہ ڈریس یہ تو میں نے سحر کے لیے بیجھی تھی نہ حماد دبی آواز میں اپنی لال آنکھیں تانیہ کی آنکھوں میں ڈالے بولا ۔
مجھے سحر نے دی اسے یہ ڈریس پسند نہیں آئ تو اس نے مجھے دے دی میں نے بھولا بھی اس سے کہ حماد نے اتنے پیار سے دی ہے پہن لو لیکن وہ نہیں مانی اس لیے میں نے پہن لی ۔۔
سحر کہا ہے حماد اپنا غصہ کنٹرول کئے بولا ۔
وہ وہاں ماما کے پاس ہے تانیہ اشارہ کرتے ہوئے اپنے ہنٹوں پر مسکراہٹ سجائے اپنی فرینڈز کے پاس چلی گئ جو کب سے کھڑی اس کا ہی انتظار کر رہی تھی ۔۔
واو تانی یار تم تو بہت سندر لگ رہی ہو کتنی پیاری ڈریس ہے کہاں سے لی ۔
میں نے نہیں لی حماد نے گفٹ کی ہے
کیا کہہ رہی ہو یار تمہارا وہ کزن کتنا ہینڈسم ہو گیا ہے ایک منٹ بھی میں اس سے نظر نہیں ہٹا پائ
تمہاری اور اس کی جوڑی بھی کتنی اچھی لگتی ہے پتہ نی تمہارے گھر والوں نے اس کا نکاح تمہاری بڑی بہن کے ساتھ کیسے کروا دیا ۔
وہ دونوں ساتھ میں بلکل بھی اچھے نہیں لگتے لائبہ ہاتھ میں کولڈرنک کا گلاس پکڑے تانیہ کے تاثرات دیکھنے لگی جو اس کی باتوں پر بدل رہے تھے ۔
لائبہ ایک امیر باپ کی بگڑی ہوئ بیٹی تھی ماں تو ہے نہیں تھی اور باپ کام کے سلسلے میں اتنا مصروف رہتا تھا کہ اس پر کبھی توجہ ہی نہ دی تھی
کالج میں دو بار ایک ہی کلاس میں فیل ہو چکی تھی اور ہر لڑکا اس کا دوست تھا ۔
تانیہ کی دوستوں نے اسے اس سے دوستی کرنے سے بہت منع کیا لیکن اس نے ان کی ایک نہ سنی اور لائبہ کے لیے اپنی سچی دوستوں کو بھی کھو دیا ۔۔
اگر تمہاری جگہ میں ہوتی تو ابھی تک ایسے لڑکے کو اپنا بنا چکی ہوتی لائبہ ڈرانک کا ایک سیپ لیتے ہوئے مسکراتی ہوئی بولی حماد مجھ سے ہی پیار کرتا ہے وہ تو گھر والوں نے زبر دستی اس کی شادی سحر سے کروا دی
تم دیکھنا بہت جلد حماد سحر سے طلاق لے کر مجھ سے شادی کرے گا تانیہ حماد کی طرف دیکھتے ہوئے بولی جس کی نظریں سحر پر ٹکی ہوئ تھی ۔۔
اسے دیکھ لگتا تو نہیں ہے اس کی شادی زبردستی ہوئ ہے ابھی بھی وہ تمہاری بہن کی طرف ہی دیکھ رہا ہے ۔۔
میں نے تم سے بولا ہے نہ کہ وہ مجھ سے پیار کرتا ہے تانیہ آنکھوں میں غصے لیے لائبہ کی طرف دیکھ کر بولی ۔
اچھا تم سچ کہہ رہی ہو گئ غصہ کیو ہو رہی ہو ریلکس ڈرلنگ لائبہ تانیہ کو گلے سے لگا گئ ۔۔
سحر کو دیکھنے کہ بعد حماد کا غصہ تھوڑا سے کم ہوا سحر رخسار کی دی ہوئ بلیو ساڑھی پہنے جس کے بلاوز پر موتیوں کا کام ہوا تھا اور پلو بلکل سادہ سا تھا ہاف بلاوز میں اس کا دودھیاں جسم چمک رہا تھا ۔۔
حماد چلتا ہوا رخسار اور سحر کے قریب آیا اور رخسار کے کان میں کچھ کہتے ہوئے اپنے پورشین کی طرف بڑھا ۔۔
تانیہ اسی جگہ جا کر بیٹھ گئ جس جگہ کچھ دیر پہلے حماد بیٹھا ہوا ایک لمبا سا سانس تانیہ نے کھینچا حماد کی پرفیوم کی خوشبو کو اپنے اندر اتار گئ اسی کی بچی ہوئ ڈرنک کے گلاس کو اپنے لبوں سے لگا کر آنکھیں بند کر گئ اور ایسے ری ایکٹ کرنے لگی جیسے حماد کے لبوں کو چھو رہی ہو تانیہ اس وقت کہی سے بھی نارمل نہیں لگ رہی تھی وہ اس قدر حماد کے پیار میں پاگل ہو چکی تھی کہ یہ تک فرموش کر بیٹھی کہ وہ اس کی بہن کا شوہر تھا
Continue. .

5 1 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments
error: Content is protected !!
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x