مکمل ناول
ایک مکمل اور ناقابلِ یقین سچا واقع
دوستو آج میں پھر سے ایک بہت ہی دردناک سچا واقع بتانے جا رہا ہوں اور یہ ایسا واقع ہے کہ آج بھی اگر کوئی اس کے بارے میں جا کر پتا کرنا چاہیے تو اس کے بعد اس شخص کو اس واقعے کی سچائی پر یقین آجائے تو یہ واقع ہے مغلپورہ اور لال پل کے درمیان ریلوے لائن کے اطراف بنے ایک گھر کا ہے جہاں ابرار نامی شخص رہتا تھا اور اس کے ساتھ اس کی بیوی اور پانچ بچے رہتے تھے ابرار یوں تو بڑا خاموش اور نرم طبیعت کا بندہ تھا اور محلے میں کافی لوگوں سے اس کی بہت اچھی سلام دعا تھی لیکن اس کے ساتھ ابرار ایک کبوتر باز بھی تھا اور اس نے کافی سارے طرح طرح کے کبوتر رکھے ہوئے تھے جن سے ابرار بہت ہی زیادہ پیار کرتا تھا اور وہ کبوتروں کے لیئے کسی سے بھی بھڑ جاتا تھا اس کی بیوی کے ساتھ کبوتروں کو لے کر اکثر نوک جھونک بھی رہتی تھی اور وہ اپنے کام کے بعد زیادہ سے زیادہ وقت اپنے کبوتروں کے ساتھ چھت پر ہی گزارتا تھا یہاں تک کہ وہ اکثر اپنا کھانا بھی اوپر چھت پر لے جا کر کھاتا تھا وقت ایسے ہی گزر رہا تھا پھر ایک دن ابرار اپنے کام سے واپس آیا اور چھت پر کبوتروں کے پاس گیا تو اس نے دیکھا کہ ایک کافی بڑی سی کالے رنگ کی بلی اس کے کبوتروں کے پاس بیٹھی ہوئی ہے ابرار نے خاموشی سے ایک چھڑی پکڑی اور آہستہ آہستہ سے اس بلی کے قریب جا کر بہت ہی بری طرح سے اس بلی پر چھڑی سے وار کیا جس سے بلی کی ٹانگ ٹوٹ گئی اور لنگڑاتی ہوئی وہاں سے سیڑھیوں کی طرف بھاگ گئ اس کے بعد ابرار کبوتروں کو دانہ ڈال کر بیٹھ گیا اور شام کو کبوتروں کو بند کر کے نیچے آگیا پھر بیوی کو بلی کے بارے میں بتایا ۔ بیوی نے کہا آپ نے بلی کو کیوں مارا آپ اس کو ڈرا کر بھگا دیتے؟؟۔ ابرار نے کہا ہاں ہاں تاکہ بلی پھر سے آتی اور میرے کبوتروں کو کھا جاتی اور تمہیں سکون مل جاتا بیوی نے کہا آپ ہمیشہ الٹا ہی سوچتے ہیں میرا وہ مطلب نہیں تھا۔ ابرار نے کہا بس کرو اب۔۔۔ مجھے جو ٹھیک لگا میں نے کر دیا اور آج کی پھینٹی کے بعد اس بلی کا باپ بھی ادھر دوبارہ آنے کی غلطی نہیں کرے گا یہ کہنے کے بعد ابرار نے کھانا کھایا اور گھر سے باہر چلا گیا اور رات کو واپس آکر سو گیا۔ پھر اگلے دن ابرار کام سے واپس آیا حسبِ معمول اپنی چھت پر گیا تو اس نے دیکھا کہ اس کا ایک کبوتر بنا گردن کے خون میں لت پت مرا پڑا ہے اس نے فوراً ادھر اُدھر دیکھا دیکھا کہ کوئی بلی وغیرہ تو چھت پر نہیں آگئ جس نے اس کے کبوتر کا یہ حال کر دیا ہے لیکن چھت پر کوئی نہیں تھا یہ دیکھ کر ابرار اپنی بیوی کو کوستے ہوئے برا بھلا کہنے لگا پھر غصے میں بلی کو ڈھونڈ رہا تھا پر بلی کہیں نظر نہیں آئی پھر تھک کر بیٹھ گیا کہ اتنے میں اس کو کوئی عجیب سی آواز سنائی دی جیسے کوئی اور بھی اس کے آس پاس غصے سے تیز تیز سانس لے رہا ہو ۔ ابرار نے اس آواز پر غور کرنا شروع کر دیا اور حیرانی سے اپنے ارد گرد دیکھنا شروع کر دیا لیکن اس کو کوئی بھی نظر نہ آیا پھر اچانک اس کی نظر واپس زمین پر پڑی تو دیکھا کہ اس کا جو کبوتر زمین پر مرا پڑا تھا وہ بھی کہیں غائب ہو چکا تھا یہ سب دیکھ کر ابرار بہت ہی حیران ہو رہا تھا پھر ابرار نے اپنی بیوی کو آواز دی اس کی بیوی چھت پر آئی تو ابرار نے اس کو سارا کچھ بتایا تو اس کی بیوی بھی سوچ میں پڑ گئی اور وہ حیرت سے کبھی ابرار کے طرف اور کبھی زمین پر گرے اس کبوتر کے خون کی طرف دیکھنے لگی پھر اس نے ابرار کو کہا آپ پریشان نہ ہوں ہو سکتا ہے کہ کوئی بلی ہو جس نے یہ سب کیا ہے اور جب آپ ادھر اُدھر دیکھ رہے ہونگے تو وہ اس کو اٹھا کر لے گئی ابرار نے کہا یہ کیسے ممکن ہے جبکہ میں نے ہر جگہ دیکھا تھا مجھے کوئی بلی نظر نہیں آئی تھی بس ایک عجیب سی سانسوں کی آواز آئی اور اس کے بعد کبوتر کا باقی حصہ بھی غائب ہو گیا ۔ اس کی بیوی نے کہا چھوڑیں یہ سب آپ بس پریشان نہ ہوں اور چلیں کھانا کھا لیں ۔ پھر ابرار اور اس کی بیوی چھت سے نیچے آگئے ۔ ابرار کھانا کھاتے ہوئے اچانک رک جاتا اور کسی سوچ میں پڑ جاتا اس کی نے اسے ٹوکتے ہوئے کہا آپ کھانا تو آرام سے کھالیں چھوڑیں بھول جائیں اس واقعے کو آپ کے پاس ابھی بھی بہت سے کبوتر ہیں کوئی بات نہیں اگر ایک چلا گیا تو ؟؟۔ ابرار نے پھر سے بیوی کو برا بھلا بولتے ہوئے کہا یہ سب تمہاری وجہ سے ہی ہوا ہے اگر میرے جانے کے بعد تم نے میرے کبوتروں کا خیال کیا ہوتا تو ایسا نہ ہوتا سارا دن گھر میں ہوتی ہو کم سے کم ایک بار چھت پر نظر ڈال لیا کرو جب میں باہر ہوتا ہوں تو یہ کہتے ہوئے ابرار کھانا چھوڑ کر واپس چھت پر چلا گیا اور اپنے کبوتروں کو دانہ وغیرہ ڈال کر ان کے پاس بیٹھ گیا پھر شام کو کبوتروں کو بند کر کے نیچے آگیا اور جلدی ہی سو گیا اگلے دن ابرار پھر اٹھا اور چھت پر کبوتروں کو دانہ پانی ڈال کر کچھ کبوتروں کو اڑانے لگا جب کبوتر آسمان پر چلے گئے تو ابرار اپنے کام پر جانے لگا اور بیوی سے کہا کہ چھت پر چکر لگاتی رہنا کبوتر کھلے ہوئے ہیں اور کچھ کبوتر پر آسمان ہیں جب وہ نیچے آجائیں گے تو طاہر (یعنی ابرار کا سب سے بڑا بیٹا) سے کہا ان کو بند کر دے۔ اور ہاں اس بار محتاط رہنا کبوتروں کو کوئی نقصان نہ ہو۔ اب میں چلتا ہوں یہ کہہ کر وہ چلا گیا ۔پھر بیوی تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد چھت پر چکر لگاتی رہی اس دوران کوئی بلی بھی چھت پر آتی رہی اور ابرار کی بیوی اس بلی کو بھگاتی رہی اور جب آسمان والے کبوتر بھی واپس آکر چھت پر بیٹھ گئے تو ابرار کی بیوی نے اپنے بیٹے طاہر کو آواز دیتے ہوئے کہا کہ کبوتروں کو بند کردو اور کچھ دیر میں طاہر اوپر آیا اور اس نے کبوتروں کو بند کر کے کھڈے یعنی (پنجرے) پر کو تالا لگا دیا اور نیچے جا کر اپنے کاموں میں مصروف ہو گیا دوپہر کو ابرار اپنے کام سے واپس آیا اور روز کی طرح چھت پر گیا تو اس نے دیکھا کہ اس بار دو کبوتر کھڈے کے باہر مرے پڑے تھے اور ان کی بھی گردنیں ان کے دھڑ سے غائب تھیں اور کچھ خون بھی اس جگہ پر پڑا ہوا تھا ۔ یہ دیکھ کر ابرار آگ بگولہ ہو گیا اور اس نے غصے میں چھت سے نیچے دیکھتے ہوئے صحن میں کام کرتی ہوئی اپنی بیوی کو آواز دی اس کی بیوی نے چونک کر اس کی طرف دیکھا اور بولی اب کیا ہوا ہے ؟؟ ابرار نے کہا اوپر آؤ دکھاتا ہوں اور جب بیوی اوپر آئی تو ابرار اس کو وہ دو کبوتروں دکھانے کے لیئے اس طرف گیا جہاں کبوتر مرے پڑے تھے تو ابرار حیران ہو گیا کیونکہ وہاں وہ دو کبوتر جو مرے ہوئے تھے وہ وہاں سے غائب تھے اور اس بار ان کا خون بھی غائب ہو گیا تھا ۔ بیوی نے ابرار سے پوچھا کیا ہوا اور تم کیا دکھانے والے تھے مجھے ؟؟ ابرار خاموشی سے اک جگہ جام ہو کر کچھ سوچ رہا تھا بیوی نے اسے ہاتھ لگا کر جھنجھوڑا اور پھر سے پوچھا کیا کیا سوچ رہے ہو کیا ہوا ہے مجھے بتاؤ ؟؟ ابرار کچھ نہ بولا اب بیوی نے پھر سے تلخ انداز میں پوچھا آخر مجھے بھی بتاؤ ہوا کیا ہے تم نے مجھے غصے سے کیوں بلایا تھا؟؟ ابرار نے کہا ابھی ادھر میرے دو کبوتر مرے پڑے تھے ان کی گردنیں کسی نے کھالیں تھیں اور وہی دکھانے کے لیئے میں نے تمہیں اوپر بلایا تھا پر اب وہ کبوتر یہاں نہیں ہیں اور نہ ہی ان کا خون ہے ۔ بیوی نے حیرت سے ابرار کی طرف دیکھا اور کہا کیا آپ نے واقعی میں کبوتروں کو یہاں دیکھا تھا ؟ ابرار نے اکتا کر جواب دیتے ہوئے کہا ہاں یار میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا کبوتروں ادھر ہی پڑے ہوئے تھے اور تمہیں کیا میں پاگل نظر آتا ہوں جو تم مجھ سے ایسے پوچھ رہی ہو؟؟ ۔ بیوی نے کہا مجھے تو بہت ڈر لگ رہا ہے کہیں یہ جن یا آسیب وغیرہ کا چکر تو نہیں ہے ؟ ابرار نے غصے سے بیوی نے طرف دیکھتے ہوئے کہا یار تم سے تو بات کرنا ہی سو کا گھاٹا ہے اب یہ جن ون کہاں سے آگئے میں خود بہت بڑا جن ہوں اور اب تم چپ چاپ نیچے چلی جاؤ اور میرا دماغ خراب مت کرو ۔ بیوی منہ میں کچھ بولتی ہوئی نیچے چلی گئی اور ابرار واپس کبوتروں کو دانہ ڈال کر ان میں مصروف ہو گیا اور جب شام کے وقت کبوتروں کو بند کر کے نیچے جانے لگا تو اچانک اسے کسی کے ہنسنے کی آواز اپنے ارد گرد سے آنے لگی ابرار غصے سے ادھر اُدھر دیکھنے لگا لیکن اس کو کوئی نظر نہیں آیا ابرار نے دائیں بائیں طرف دیکھتے ہوئے گالیاں دینی شروع کر دیں کیونکہ وہ سمجھ رہا تھا کہ کو اس کے ساتھ مزاق کر رہا ہے وہ دیواروں کے قریب جا کر آس پڑوس کی چھتوں پر دیکھنے لگا کہ کہیں کوئی ہمسایہ تو مذاق نہیں کر رہا لیکن کوئی نظر نہ آیا پھر ابرار نے آس پڑوس کی چھتوں پر دیکھتے ہوئے گالیاں نکالی اور بڑبڑاتا ہوا چھت سے نیچے آگیا۔ بیوی نے پوچھا اب کیا ہو گیا ہے اب کس کو گالیاں دے رہے ہو ؟ ابرار نے کہا ایک تو میں اپنے کبوتروں کے مرنے کی وجہ سے پریشان ہوں اور ایسے میں کوئی میرے ساتھ مذاق کر کے مجھے تنگ کر رہا تھا ۔ بیوی نے کہا کون تھا وہ ؟ ابرار نے کہا پتا نہیں کون تھا اگر وہ مجھے نظر آ جاتا تو آج میں نے اس کی کتوں والی کر دینی تھی لیکن اس کی قسمت اچھی تھی جو وہ چھپ گیا ورنہ آج وہ میرے ہاتھ سے نہیں بچتا بیوی نے کہا چلیں چھوڑیں اس کو آپ کھانا کھائیں اب آرام سے ۔ یہ سنتے ہی ابرار نے کھانا کھایا اور روز کی طرح باہر ٹہلنے کے لیئے چلا گیا اور جب رات ابرار گھر میں واپس آیا تو اچانک اس کی نظر چھت کی طرف جاتی ہوئی سیڑھیوں پر پڑی تو اس نے دیکھا کہ ایک لمبا سا بہت ہی عجیب شکل والا کوئی شخص سیڑھیوں پر بیٹھا ہوا تھا اس نے کالے رنگ کا لباس پہنا ہوا تھا اور اس کے پاؤں بہت ہی زیادہ بڑے تھے جن میں جوتی نہیں تھی اور اس بندے نے اپنی گود میں وہی کالی بلی اٹھا رکھی تھی جس کو ابرار نے پیٹا تھا اسے دیکھتے ہی ابرار کو وحشت ہو رہی تھی ابرار نے ہمت کر کے اس کو پوچھا کون ہے وہاں ؟ وہ شخص کچھ نہیں بولا بس اس نے ابرار کی طرف دیکھا تو اس کی بڑی بڑی آنکھیں تھیں جو کہ رات میں بلی کی طرح چمک رہی تھیں اور وہ ابرار کو گھورے جا رہا تھا ۔ یہ دیکھ کر ابرار تھوڑا ڈر گیا اس کے رونگٹے کھڑے ہو گئے اتنے میں ابرار نے پھر سے کانپتے ہوئے پوچھا کون ہو تم اور میرے گھر میں کیا کر رہے ہو سیدھی طرح بتا دو ؟؟۔ یہ سنتے ہی وہ شخص جب اٹھ کر کھڑا ہوا تو ابرار کی چیخیں نکل گئیں کیونکہ اس شخص کا قد عام انسانوں سے تین گنا بڑا تھا اسی وقت ابرار چیخیں مارتا ہوا اندر کمرے کی طرف بھاگا اور اس کی چیخوں سے کمرے کے اندر بیٹھے ہوئے بیوی بچے بھی چونک کر ڈر گئے بیوی نے گھبراتے ہوئے پوچھا کیا ہوا ؟ ابرار کی آواز جیسے حلق میں ہی رہ گئی تھی ابرار نے بولنے کی کوشش کی پر بول نہیں پا رہا تھا اس نے کانپتے ہوئے ہاتھ سے باہر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بیوی کی طرف دیکھا بیوی نے فوراً بھاگ کر کمرے کا دروازہ بند کر کے اندر سے کنڈی لگا لی اور واپس ایک پانی کا گلاس لے کر ابرار کو دیتے ہوئے بولا یہ لو پہلے آرام سے پانی پیو ۔ ابرار نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے پانی کا گلاس پکڑ کر کچھ پانی پیا اور پھر دبی ہوئی آواز میں بولا وہ باہر ہی ہے وہ مجھے نہیں چھوڑے گا یہ سنتے ہی بیوی نے حیرت انگیز نظروں سے ابرار کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کون ہے وہاں ؟؟ ۔ ابرار نے کہا پتا نہیں لیکن وہ مجھے مار دے گا ۔۔۔ یہ سن کر بیوی نے ابرار کا ہاتھ تھاما اور کہا دیکھیں آپ ڈریں مت ہم سب ہیں آپ کے پاس اور کچھ نہیں ہوگا سب ٹھیک ہے آپ آرام سے بیٹھیں کوئی نہیں مارے گا آپ کو آپ ڈریں مت ۔اتنے میں بچوں نے جلدی سے ابرار کے ہاتھ پاؤں دبانے شروع کر دیئے کہ اچانک سے صحن میں بھاری سے قدموں کی دھمک سنائی دینے لگی اور وہ آواز کبھی ان کے کمرے کے قریب آجاتی اور کبھی دور سے آنے لگی جیسے کوئی صحن میں ٹہلتا ہوا ان کے کمرے کے پاس آ جاتا اور زور زور سے سانس لینے کے بعد پھر دور چلا جاتا ہو ۔ یہ آواز ایسی خوفناک تھی کہ اسے سن کر سب کے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور سب ڈر کر ایک جگہ سمٹ کر بیٹھ گئے اور دروازے کی طرف دیکھنے لگے اتنے میں ابرار کی بیوی نے ہلکی سی آواز میں آئیت الکرسی پڑھنا شروع کر دی اور باقی لوگوں بھی کلمے پڑھنے لگے دھمک کی آواز کافی دیر تک آتی رہی اور سب آئیت الکرسی اور کلمے پڑھتے رہے پھر اچانک وہ آواز تھم گئی اور کمرے میں اتنی خاموشی تھی کہ ابرار اور اس کے گھر والوں کی سانوں کی آوازیں بھی آسانی سے سنی جا سکتیں تھیں اس رات سب ڈرتے ہوئے ہی سو گئے اگلے دن جب ابرار کی آنکھ کھلی تو اس نے آس پاس دکھا تو کوئی نہیں تھا کہ اچانک کچن سے اس کے بیوی بچوں کی آوازیں سنائی دیں ابرار جلدی سے اٹھ کر کمرے سے باہر کچن کی طرف گیا تو دیکھا اس بیوی بچوں کو ناشتہ بنا کر دے رہی تھی اس نے بیوی سے پوچھا تم کب جاگیں ؟ بیوی نے کہا دودھ والا بھائی کافی دیر سے باہر کھڑا دروازہ کھٹکھٹا رہا تھا کہ میری آنکھ کھل گئی میں نے آہستہ سے دروازہ کھول کر پہلے صحن میں دیکھا تو کوئی نہیں تھا اس کے بعد میں آئیت الکرسی پڑھتی ہوئی باہر گئ اور دودھ والے بھائی سے دودھ لے کر ناشتہ بنانے لگ گئی ابرار حیرت سے بولا اچھا تو باہر تمہیں کوئی لمبا سا شخص دکھائی نہیں دیا جو گزشتہ رات ہمارے صحن میں پھر رہا تھا بیوی نے کہا نہیں پر وہ تھا کون ؟؟ میں نے گزشتہ رات تم سے اس لیئے زیادہ نہیں پوچھا تھا کہ تم ڈرے ہوئے تھے اور وہ بھاری سے قدموں کی آوازیں کس کی تھیں ؟؟ ابرار نے کہا وہ کوئی بھیانک سا شخص تھا جو گزشتہ رات ہماری سیڑھیوں پر بیٹھا ہوا تھا اور اس کی گود میں وہی کالی بلی تھی جس کو میں نے مارا تھا ۔ بیوی نے کہا کہیں وہ کوئی ہوائی چیز تو نہیں تھی ؟ ابرار نے کہا یہ تو میں نہیں جانتا پر وہ شخص انسانوں سے کافی الگ تھا اس کی آنکھیں رات میں بلی کی طرح چمک رہی تھیں اور اسی کو دیکھ کر میں ڈر کے اندر بھاگا تھا ۔ بیوی نے کہا مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے کہیں وہ دوبارہ سے نہ آ جائے ابرار نے کہا ایسا کچھ نہیں ہوگا میں آج ہی اس بارے میں کسی سے بات کروں گا ۔ پھر ابرار نے ناشتہ کیا اور کام پر چلا گیا وہاں پر ابرار نے اپنے ایک دوست کو یہ سب بتاتا تو اس کے دوست نے کہا یار یہ تو کوئی ہوائی چیز کا معاملہ لگتا ہے اور میں ایک پیر بابا کو جانتا ہوں جو کہ ان چیزوں کو قابو میں کرتا ہے ابرار نے کہا تو پھر ہم آج ہی اس پیر بابا سے ملنے جائیں گے اس کے دوست نے کہا ٹھیک ہے پھر ابرار اور اس کا دوست کام سے چھٹی کے بعد سیدھا کسی پیر بابا کے پاس چلے گئے اور ان کو ابرار نے سارا واقع بتایا اور اس پیر بابا نے کہا مجھے اپنے ساتھ وہاں لے چلو جہاں سے یہ سب شروع ہوا اور ابرار پیر بابا کو اپنے ساتھ گھر لے کر آگیا پھر پیر بابا نے پورے گھر کا معائنہ کیا اور ابرار سے کہا دیکھو گزشتہ رات جس کو تم نے دیکھا تھا وہ ایک جن تھا اور اس جن کی جان اسی کالی بلی میں ہے جو تم نے اس کی گود میں دیکھی تھی اور اگر ہم نے اس جن سے پیچھا چھڑانا ہے تو ہمیں اس جن کو مارنا ہو گا کیونکہ یہ جن قابو میں آنے ولا نہیں ہے اس لیئے اس کو مارنا ضروری ہے جس کے لیئے تمہیں اس کالی بلی کو مارنا ہو گا ایک بار بلی مر گئی تو سمجھو جن بھی مر جاۓ گا ۔ ابرار نے کہا پیر بابا یہ جن میرے گھر میں کیسے آگیا ؟؟ پیر نے کہا یہ ہوئی چیزیں کبھی بھی کسی بھی جگہ پر آجاتیں ہیں اور اپنا شکار کرتی ہیں جیسے کہ وہ بلی نے تمہارے کبوتر کا شکار کیا تھا اب تمہیں اس بلی کو مارنا ہو گا ۔ ابرار نے کہا پیر بابا پر وہ بلی اب ہمیں ملے گی کہاں کیونکہ وہ تو اس جن کی گود میں تھی ۔ پیر بابا نے کہا وہ سب مجھے نہیں معلوم ۔ میں نے جو کہنا تھا وہ کہہ دیا اب تمہیں اس بلی کو ڈھونڈ کر اسے مارنا ہو گا یہ کہہ کر پیر بابا نے کہا اب مجھے کچھ پیسے دو تاکہ میں تمہارے لیئے تعویذ بنا کر لا سکوں ۔ یہ کہتے ہوئے پیر بابا نے ابرار سے کچھ پیسے بٹورنے اور چلا گیا۔ پھر ابرار چھت پر کبوتروں کے پاس گیا اور شام کو جب ابرار اپنے کبوتروں کو بند کرنے لگا تو اچانک ایک کبوتر اڑ کر دیوار پر بیٹھ گیا اس سے پہلے ابرار اس کو پکڑ کر بند کرتا کہ اتنے میں وہی کالی بلی کہیں سے نمودار ہوئی اور اس بلی نے ابرار کے کبوتر کی گردن اپنے منہ میں لے کر دھڑ سے الگ کر دی اور کبوتر تڑپتے ہوئے مر گیا اور بلی کسی طرف چھلانگ لگا کر بھاگ گئی یہ دیکھ کر ابرار نے غصے میں باقی کبوتر بند کیئے اور نیچے آگیا ۔ اگلے دن ابرار کہیں سے ایک عجیب سا پنجرا لے کر آیا جو کہ شاید بلی یا کتے کو پکڑنے والا پنجرا لگتا تھا اور اس میں اس نے دو کبوتروں کو ڈال کر ان کے پنجوں کسی موٹے سے دھاگے سے باندھ دیا تاکہ کبوتر باہر نہ نکل سکیں اور پھر ابرار نے ایک ڈوری لے کر اس پنجرے کے دروازے پر اس طریقے سے باندھ دی کہ اگر ڈوری کو کھینچا جائے تو پنجرے کا دروازا بند ہو جائے پھر ابرار نے وہ پنجرا چھت پر اک جگہ رکھ دیا اور پنجرے کا دروازا کھول کر ڈوری پکڑ کر چھپ گیا اور ڈوری کو ڈھیلا چھوڑ دیا کافی دیر کے بعد جب شام ہوئی تو اچانک وہی کالی بلی کہیں سے آئی اور وہ سیدھے اس کھلے پنجرے میں داخل ہو گی اور اس میں موجود ایک کبوتر کی گردن کو منہ سے پکڑ کر کھانے لگی اسی وقت ابرار نے جلدی سے پنجرے کے دروازے سے بندھی ہوئی ڈوری کھینچ دی جس سے دروازہ بند ہو گیا اور بلی قید ہو گئی اس کے بعد ابرار نے پنجرے کے دروازے پر لگی کنڈی لگا کر پنجرے کو اچھے سے بند کر دیا اور جلدی سے ایک پلاسٹک کی بوتل پکڑی جس میں شاید پٹرول تھا اس نے وہ سارا پٹرول پنجرے کے اوپر سے ہی بلی پر چھڑکنا شروع کر دیا اس دوران بلی بہت پھڑ پھڑا تی رہی پر پنجرے سے باہر نہ نکل پائی اس دوران ابرار نے بلی کو پوری طرح سے پٹرول سے نہلا دیا پھر ماچس کی تیلی جلا کر اس بلی کو آگ لگا دی اور بلی حولناک چیخیں مارنے لگی جس کو سن کر ایک دو ہمسائے بھی جو آس پاس کی چھت پر موجود تھے وہ بھی ابرار کی چھت کی طرف دیکھنے لگے پر ان کو کچھ نظر نہیں آرہا تھا کیونکہ آگے ابرار کی چھت کی دیواریں تھیں اور وہ ابرار کو پوچھتے رہے کہ ابرار بھائی یہ آوازیں کہاں سے آرہی ہیں جس پر ابرار نے کہا مجھے نہیں معلوم اس کے بعد وہ ہمسائے واپس ادھر اُدھر دیکھنے لگے اور کچھ ہی دیر میں بلی پوری طرح جل کر خاکستر ہو گئی پھر ابرار پرسکون انداز میں چھت سے نیچے اتر رہا تھا کہ اچانک اس کو ایک بھیانک سی آواز آئی جس میں کوئی ابرار کو کہہ رہا تھا یہ تو نے اچھا نہیں کیا ابرار نے ادھر اُدھر دیکھا پر کوئی نہیں تھا اور ابرار خاموشی سے نیچے جا کر بیٹھ گیا ۔ اس کی بیوی نے پوچھا کیا ہوا آج بڑے چپ چاپ ہو اور یہ بلی کی آوازیں کہاں سے آرہی تھیں ؟ ابرار نے کوئی جواب نہیں دیا اور بیوی سے کہا جلدی سے کھانا لگاؤ مجھے بہت بھوک لگی ہے۔۔ تحریر دیمی ولف۔ ۔ بیوی نے کھانا لگا دیا اور ابرار کھانا کھا کر روز کی طرح گھر سے باہر چلا گیا اور جب رات کو واپس گھر آیا تو اس نے دیکھا کہ اس کا سب سے بڑا والا بیٹا سیڑھیوں پر گرا پڑا ہے اور جب وہ اسے اٹھانے کے لیئے اس کے قریب گیا تو ابرار کے پاؤں تلے سے زمین کھسک گئی کیونکہ اس کے بیٹے کی گردن پوری طرح سے گھوم کر کمر کی طرف مڑی ہوئی تھی اور وہ مر چکا تھا ایسا رہا تھا کہ جیسے کسی نے اس کو گردن مڑوڑ کر مار دیا ہے ابرار اپنے بیٹے کی اس دل دہلا دینے والی موت کو دیکھ کر اتنی اونچی آوازوں میں چیخا کہ آس پاس کے سب ہمسائے دوڑ کر اس کے گھر آگئے اور سب نے وہ منظر دکھا تو ان کے ہوش اڑ گئے اور ابرار کے گھر صف ماتم بچھ گئی پھر جنازہ وغیرہ پڑھ کر ابرار اپنے بیٹے کو دفنانے کے بعد گھر آیا بیوی اور بچوں کے ساتھ مل کر پھر سے زارو قطار رونے لگا پھر ( قل ) والے دن جب سب لوگ فارغ ہو کر اپنے گھروں کو چلے گئے تو شام کے وقت ابرار صحنِ میں بیٹھا رو رہا تھا کہ اچانک اس کو پھر سے وہی خوفناک آواز سنائی دی جس میں کوئی کہہ رہا تھا اگلی جمعرات کو تو پھر سے روئے گا جیسے تو نے مجھے رلایا ہے ۔ کیونکہ کے جس دن ابرار کا بیٹا فوت ہوا وہ جمعرات کا دن تھا یہ سنتے ہی ابرار جلدی سے رونا بند کر کے ادھر اُدھر دیکھنے لگا اور بولا کون ہے ؟؟ پر کوئی آواز نہیں آئی اور ابرار اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا اس کے بعد کچھ دن سوگ میں گزر رہے تھے کہ پھر سے جمعرات کا دن آگیا اور اس دن پھر سے ابرار کا بڑے سے چھوٹا بیٹا چارپائی پر مرا ہوا پایا گیا ایسا لگ رہا تھا کہ کسی نے اس کا گلا گھونٹ کر اس کو مار دیا ہو ایک بار پھر سے ابرار خون کے آنسوں رویا اور کفن دفن سب کچھ کرنے کے بعد ابرار جب بیہوش پڑا تھا تو اس کو پھر سے وہی خوفناک آواز سنائی دی اس بار کسی نے کہا کہ آنسو بچا کر رکھنا یہ جمعرات کو کام آئیں گے ابرار جلدی سے بیوی کے پاس گیا اور اس کو اس خوفناک آواز کے بارے میں بتایا تو بیوی زارو قطار رونے لگی اور اپنے بچوں کو چوم چوم کر روتی ہوئی بولی یہ کیا ہو رہا ہے ہمارے ساتھ کوئی کچھ تو بتاؤ ابرار جلدی سے اٹھ کر باہر گیا اور محلے داروں کو اس بارے میں بتایا کسی نے کچھ کہا تو کسی نے کچھ ایک بندے نے کہا کوئی فلاں شخص ہے جو اس بارے میں ابرار کی مدد کرے گا یہ سنتے ہی ابرار کے رشتے دار اس شخص کو ابرار کے گھر کے کر آئے ابرار نے اسے بھی سارا واقع بتایا تو اس شخص نے بھی کہا کہ وہ جن اپنا انتقام لے کر رہے گا میں اس بارے میں آپ لوگوں کی کوئی مدد نہیں کر سکتا یہ کہہ کر وہ شخص چلا گیا پھر کچھ دن گزرنے کے بعد پھر سے جمعرات کا دن آگیا اس دوران ابرار کے رشتے دار بھی ان کے پاس ہی موجود تھے اور وہ ابرار اور اس کے بیوی بچوں کو دلاسہ دے رہے تھے کہ اتنے میں اچانک ایک کالی سی پرچھائی ان کے کمرے میں داخل ہوئی اور اس نے سب کے سامنے ابرار کی تیسرے نمبر والی بیٹی کو ہوا میں اوپر اٹھا کر اتنی زور سے زمین پر پٹخ دیا کہ اس کا سر بری طرح سے پھٹ گیا اور بچی کی اسی ٹائم ہی موت ہو گئی اور یہ بات آگ کی طرح پورے علاقے میں پھیل گئی اور دور دور سے لوگ ابرار کے گھر کو دیکھنے کے لیئے آنے لگے اور کچھ پیر فقیر اور پولیس والے بھی اس گھر میں آئے لیکن کوئی کچھ نہ کر سکا اور ایک بار پھر سے جان لیوا جمعرات آگئ اور رات کا وقت تھا کہ اچانک ابرار کے صحن میں سے کسی کے بھاری بھاری پاؤں کی دھمک سنائی دینے لگی ابرار نے جب ڈرتے ہوئے باہر دیکھا تو یہ وہی خوفناک جن تھا جس کو ابرار نے اپنے گھر کی سیڑھیوں پر بیٹھے دیکھا تھا لیکن اس بار اس کی شکل بہت ہی زیادہ بھیانک اور وحشت ناک لگ رہی تھی اس کا چہرہ پوری طرح سے خون سے لت پت تھا اس کے ہاتھ کی انگلیوں سے خون ٹپک رہا تھا اس کی آنکھیں اور بھی زیادہ خوفناک لگ رہی تھی اس سے پہلے ابرار اس خوفناک جن سے کوئی بات کر پاتا اس نے باہر سے ہی کھڑے ہو کر اس کے کمرے میں بیٹھے ہوئے چار نمبر والے بیٹے کا دل نکال کر اپنے منہ سے چبا ڈالا اور ابرار کا بیٹا مر گیا جس کو دیکھ کر ابرار کو دل کا دورا پڑ گیا اور ابرار ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی مر گیا اس دن ابرار کے گھر سے دو جنازے اٹھے اور ابرار کی فیملی میں سے اس کی بیوی اور ایک سب سے چھوٹا بیٹا ہی میں رہ گئے پھر ایک عالم صاحب کہیں سے آئے اور انہوں نے ابرار کے رشتے داروں سے کہا کہ آپ جتنا جلدی ہو سکے ابرار کی بیوی اور اس کے بیٹے کو اس گھر سے دور لے جائیں یہ سنتے ہی ابرار کے رشتے داروں نے ایسا ہی کیا ابرار کی بیوی اور اس کے بچے کو ابرار کا سالا اپنے گھر لے گیا اور عالم صاحب نے پھر گھر میں کچھ پڑھ کر ہر جگہ پانی چھڑکا اور جب وہ چھت پر گئے تو ادھر انہوں نے دیکھا کہ ایک پنجرے میں کسی جانور کی جلی ہوئی ہڈیاں پڑی تھیں عالم صاحب نے ایک جگہ گڈا کھود کر وہ ہڈیاں اس گڈے میں ڈال کر ان کو دفن کر دیا اور اس پر بھی کچھ پڑھ کر پانی چھڑک دیا اس کے بعد گھر کی ساری لائٹیں جلا کر اس گھر کو تالا لگا دیا اور کہا کہ اس گھر کو سات دن ایسے ہی بند رہنے دیں اس کے بعد جیسے چاہیں اس گھر میں رہائش کر لیں کیونکہ مرنے والے شخص یعنی ( ابرار ) نے اس جانور کی شکل میں آئے اس جن کے بچے کو جلا کر مار ڈالا تھا اور اس وجہ سے اس جن نے اپنا انتقال لیا ہے اتنے میں ابرار کے سالے نے عالم صاحب سے پوچھا کہ کیا اب ابرار کی بیوی اور بچہ کو کوئی خطرہ ہے ؟ عالم صاحب نے کہا نہیں کیونکہ شاید اس جن کا غصہ ابرار کے پہلے بیٹے کو مار کر ہی اتر جاتا پر چھت پر پڑی ہوئی اس جن کے بیٹے کی ہڈیوں کو دیکھ کر ہی جن ہر زور ہی غصے میں رہتا تھا کیونکہ جب بھی وہ ان ہڈیوں کو دیکھتا تھا تو اس کی موت کا منظر دوبارہ اس جن کو غصہ دلا دیا کرتا تھا اس وجہ سے میں نے ان ہڈیوں کو دفنا دیا ہے ابرار نے اپنی بیوقوفی اور جلدبازی اور غصّہ کی وجہ سے اپنی جان بھی گنوائی اور اپنے بچوں کی بھی 😔
