Porisrar Biwi Urdu Story پراسرار بیوی

خوفناک کہانیاں

اردو افسانے

مکمل ناول

views
0
Porisrar Biwi Urdu Story پراسرار بیوی

مکمل ناول

جرم و سزا کا یہ کیس بھی انہی دنوں کا ہے جب میں دہلی میں سی آئی اے میں تھا۔ میری بدبختی یہ تھی کہ میں انگریزی بولتا اور سمجھتا تھا۔ دوسری بدبختی یہ کہ مجھے دل و دماغ سے کام کرنے کا خبط تھا اور مجھ میں ایک یہ دماغی خرابی بھی تھی کہ میں رشوت اور سفارش کو قبول نہیں کرتا تھا۔ ۔ میرے ساتھ ایک انگریز انسپکٹر جوزف تھا۔ ہم دونوں کو قتل کا ایک کیس دیا گیا۔ چودہ پندرہ دن پہلے ایک جوان ہندو ریوالور کی گولیوں سے قتل ہو گیا تھا۔ اس خاندان میں کالجوں کی تعلیم بھی تھی اور ٹھیکیداری کی دولت بھی۔ یہ اس سطح کا خاندان تھا جس

 

کے ہاں سول اور فوج کے افسروں کی ٹی پارٹیاں اور ڈنر وغیرہ ہوتے تھے اور اس خاندان کی جوان عورتیں انگریز افسروں کے ساتھ فری ہوتی تھیں اور فری ہونے والی عورتوں کو مدعو بھی کیا جاتا تھا۔ ہندو کا عام طور پر تصور یہ ہے کہ یہ تجارت پیشہ قوم ہے۔ پیسہ اس کا دیوتا اور دھرم ہے۔ ہندو تنگ نظر اور فریب کار ہے، فطری طور پر بنیا اور کنجوس ہے۔ ہندو کا صحیح تصور یہی ہے لیکن جنگِ عظیم میں مختلف ٹھیکیداریاں عام ہو گئیں تو روپے پیسے کی فراوانی ہو گئی۔ ہندوؤں کی ایک کلاس ابھری جس نے فوجی ہیڈ کوارٹروں سے ٹھیکے لینے کے لیے مخصوص ہند و آنہ گھٹن اور تنگ نظری ترک کر دی اور اپنے آپ کو ماڈرن بنا لیا۔ یہ لوگ گوشت بھی کھاتے اور شراب بھی پیتے تھے۔

وہ ہندو جو قتل ہو گیا تھا وہ اسی ماڈرن ہندو کلاس کے ایک ٹھیکیدار کا بیٹا تھا۔ اس

 

قتل کی تفتیش اسی وجہ سے سی آئی اے کو دی گئی تھی کہ مقتول کا میل جول بڑے افسروں سے تھا۔ اس نے کہا تھا کہ علاقہ تھانیدار دو ہفتے گزر جانے کے باوجود قتل کا سراغ نہیں لگا سکا۔ سی آئی اے کے اختیارات لامحدود ہوتے تھے اور اس برانچ میں انگریز افسر بھی تھے جن سے کوتاہی اور بد دیانتی کی توقع نہیں رکھی جاسکتی تھی۔ میں اور انسپکٹر جوزف متعلقہ تھانے میں گئے اور فائل دیکھی۔ قتل کی اور مقتول کی جو تفصیلات مجھے یاد ہیں، وہ اس طرح تھیں کہ دو ہفتے پہلے رات گیارہ بجے کے لگ بھگ مقتول واپس گھر آیا۔ وہ ٹیکسی پر آیا تھا۔ ٹیکسی ڈرائیور سکھ تھا جس کا بیان یہ تھا کہ مقتول ریلوے سٹیشن سے اس کی ٹیکسی میں بیٹھا۔ اپنی کوٹھی کے سامنے اس نے ٹیکسی روکائی اور ٹیکسی سے اتر کر اس نے پیسے دیے، پھر کوٹھی کے گیٹ کی طرف گیا۔

 

ٹیکسی ڈرائیور نے ٹیکسی چلائی اور وہ ٹیکسی ادھر ہی موڑنے لگا جہڑ سے آیا تھا کہ پیچھے سے ایک موٹر سائیکل آیا۔ سکھ نے گاڑی روک لی کہ موٹر سائیکل گزر جائے لیکن موٹر سائیکل سامنے سے گزرنے کی بجائے گاڑی کے پیچھے سے گزرنے لگی۔ سکھ اسے دیکھ رہا تھا۔ موٹر سائیکل آہستہ ہو گئی۔ مقتول ابھی گیٹ تک پہنچا ہی تھا کہ موٹر سوار والے نے ریوالور سے دو فائر کیے اور یکلخت موٹر سائیکل تیز کر دی۔ سکھ تیزی سے گاڑی سے نکلا۔ مقتول گر پڑا تھا اور موٹر سائیکل بہت ہی تیز رفتاری سے غائب ہو گئی تھی۔ سکھ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ موٹر سائیکل والا رک کر مقتول پر چھری چاقو سے حملہ کرتا اور موٹر سائیکل پر سوار ہو کر بھاگتا تو وہ ٹیکسی میں اس کا تعاقب کرتا لیکن قاتل کے پاس ریوالور تھا اس لیے اس نے تعاقب کی جرات نہ کی۔ اس نے گیٹ کے اندر جا کر

 

آوازیں دیں تو گھر والے باہر آئے۔ سکھ نے انہیں بتایا کہ یہ واردات ہو گئی ہے۔ تھانے رپورٹ ہوئی۔ سکھ وہیں موجود رہا۔ علاقہ تھانیدار آیا تو اس نے پہلا شبہ سکھ پر ہی کیا جو اس بنا پر غلط ثابت ہوا کہ سکھ نے ہی کوٹھی میں جا کر واردات کی اطلاع دی تھی۔ دوسری بات یہ کہ مقتول کی جیب میں اس کا بٹوہ موجود تھا جس میں بہت سی رقم تھی۔ اس کی کلائی میں گھڑی اور انگلیوں میں سونے کی دو انگوٹھیں تھیں۔ سکھ اسے قتل کرتا تو اس کا مقصد مقتول کو لوٹنا ہی ہو سکتا تھا۔ سکھ نے اسے لوٹا نہیں تھا اور اس کے پاس ریوالور بھی نہیں تھا۔ سکھ تو موقعہ کا گواہ تھا۔

قتل کی واردات جس کوٹھی میں ہوئی وہاں آبادی گنجان نہیں تھی۔ شہر سے پالام ایئرپورٹ کی طرف سڑک جاتی تھی۔ اس وقت ایئرپورٹ پر آج والی ہوائی جہازوں کی

 

آمد و رفت نہیں تھی اس لیے یہ سڑک شام کے بعد ویران اور سنسان ہو جاتی تھی۔ زیادہ تر علاقہ خالی پڑا تھا۔ آج تو وہاں ایک انچ جگہ بھی خالی نہیں ہوگی۔ رات کو سڑک کے ویران ہونے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ پرائیویٹ کاروں میں بہت ہی کم تھیں۔ موٹر سائیکل نہ ہونے کے برابر تھے۔ اس وقت ٹھیکیداریوں کی دولت سے چند ایک ہندوؤں نے پرانی دہلی کے قدیم مکانوں سے نکل کر اس علاقے میں کوٹھییں بنالی تھیں۔ ان کی تعداد زیادہ نہیں تھی۔ سکھ ٹیکسی ڈرائیور نے موٹر سائیکل سوار کا چہرہ نہیں دیکھا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ موٹر سائیکل فوجی تھی۔ اس وقت پرائیویٹ موٹر سائیکل بھی خاصے بڑے ہوا کرتے تھے اور انجن کی طاقت آج کی طرح سی سی کے حساب سے نہیں بلکہ ہارس پاور کے حساب سے ہوتی تھی۔ عام طور پر پانچ ہارس پاور کا موٹر سائیکل ہوتا تھا لیکن

 

فوجی موٹر سائیکل بھی بڑے ہوتے تھے۔

موٹر سائیکل سوار نے پتلون پہن رکھی تھی۔ قمیض پر جیکٹ تھی یا کوٹ۔ وہ پالام ایئرپورٹ کی طرف سے آیا اور شہر کی طرف چلا گیا تھا۔

گولیاں اتنی قریب سے فائر ہوئی تھیں کہ جسم سے پار ہو گئیں اور گیٹ سے لگ گئی تھیں جو لوہے کا تھا۔ تھانیدار نے رات کو گولیوں کے نشان برآمد کر لیے تھے۔ ایکسپرٹ کی رپورٹ تھی کہ یہ بور کے ریوالور سے فائر ہوئی ہیں۔ گولیوں کے خول وہاں نہیں تھے جو وہاں ہو بھی نہیں سکتے تھے کیونکہ وہ ریوالور کے سلنڈر میں ہی چلے گئے تھے۔

ہم نے پوسٹ مارٹم رپورٹ دیکھی۔ ایک گولی دل کے قریب لگی اور کلیجے میں سے گزر گئی تھی اور دوسری ریڑھ کی ہڈی کو کاٹتی دونوں گردوں کے درمیان سے گزری اور جسم کے پار ہو گئی۔ مقتول موقعہ پر ہی ہلاک ہو

 

گیا تھا۔

دو پہلو ہمارے سامنے آئے۔ ایک یہ کہ رائفل اور بندوق کی گولیاں نشانے پر مارنا مشکل نہیں ہوتا کیونکہ ان کے بٹ کندھے کے ساتھ دبا کر انہیں دونوں ہاتھوں کی گرفت میں رکھا جاتا ہے لیکن ریوالور صرف ایک ہاتھ میں پکڑ کر فائر کیا جاتا ہے۔ کوئی اناڑی اس کا ٹریگر دباتا ہے تو اس کی نالی نیچے ہو جاتی ہے لہٰذا گولی نشانے پر لگنے کی بجائے نیچے لگتی ہے۔ مقتول پر چلتی موٹر سائیکل سے فائر کیا گیا تھا اور گولیاں نشانے پر لگیں۔ اس سے یہ پہلو سامنے آیا کہ قاتل ریوالور کے فائر کا ماہر تھا۔ ماہر وہی ہو سکتا تھا جس کے پاس اپنا ریوالور تھا اور ریوالور فائر کرتا رہتا تھا۔ یہ کوئی اناڑی نہیں تھا۔

دوسرا پہلو اس واردات کا یہ تھا کہ ہندوؤں میں قتل کی وارداتیں اس طرح نہیں ہوا کرتی تھیں جس طرح مسلمانوں کے ہاں ہوتی چلی آ

 

رہی ہیں۔ دیہات اور قصبوں میں دیرینہ عداوت کی بنیاد پر مسلمان قتل سے کم کوئی کارروائی نہیں کرتے۔ آج کل پاکستان کے شہروں میں اسلحہ اتنا زیادہ ہو گیا ہے کہ سر پھرے نوجوان شوقیہ قتل کرتے پھرتے ہیں۔ ہندوؤں میں یہ بات نہیں تھی۔ شہر کا ہر ہندو قتل کے نام سے ہی لرزتا تھا پھر بھی کبھی برسوں میں ایک ہندو کسی ہندو کے ہاتھوں قتل ہو جاتا تھا جس سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ قاتل انتقام کے جذبے سے پاگل ہو گیا تھا۔

اس واردات کی تفتیش میں مجھے پہلا خیال آیا کہ یہ انتقامی کارروائی ہوئی۔ میرے اس خیال کو تقویت یوں ملی کہ مقتول لوٹا نہیں گیا تھا۔ لہٰذا سب سے پہلے تو یہ دیکھنا تھا کہ قتل کا باعث کیا تھا۔

ابھی تو ہم تھانے میں بیٹھے فائل دیکھ رہے تھے اور تھانیدار سے معلومات لیتے جا رہے تھے۔ تھانیدار ہندو تھا۔ سب انسپکٹر رتن کمار۔

 

اس نے پندرہ دنوں کی تفتیش میں کوتاہی نہیں کی بلکہ بہت محنت کی تھی لیکن قتل کا باعث معلوم نہیں کر سکا تھا۔ اس نے مصدقہ طور پر معلوم کر لیا تھا کہ مقتول کی کسی کے ساتھ ذاتی یا خاندانی دشمنی نہیں تھی۔

تھانیدار سے ضروری معلومات یہ ملیں کہ مقتول کی شادی کو ابھی چار ہی مہینے ہوئے تھے۔

“آپ نے اس کی بیوی سے پوچھ گچھ کی ہوگی۔” میں نے سب انسپکٹر رتن کمار سے پوچھا، “یہ تو بہت ہی ضروری تھا۔”

رتن کمار نے کہا، “مقتول کے باپ سے ملنے کے بعد میں اس کی بیوی سے ملا تھا۔ بہت خوبصورت لڑکی ہے۔ وہ صرف اس لیے مظلوم نہیں کہ بیوہ ہو گئی ہے بلکہ اسے یہ غم کھا رہا ہے کہ اب اس کی دوسری شادی نہیں ہوگی۔”

 

قارئین شاید جانتے ہوں گے کہ ہندو لڑکی خواہ نوجوانی میں ہی بیوہ ہو جائے اس کی دوسری شادی نہیں ہو سکتی۔ اسے منحوس سمجھا جاتا ہے۔ شادی کی پہلی رات ہی خاوند اچانک بیمار ہو کر مر جائے، اچانک حرکت قلب بند ہو جائے یا کسی اور وجہ سے مر جائے اور اس نے دلہن کے جسم کو ابھی ہاتھ بھی نہ لگایا ہو تو بھی کوئی اور خاندان اسے قبول نہیں کرتا۔ وہ اپنے والدین کے گھر چلی جاتی ہے۔ اسے زیورات سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ اسے چوڑیاں پہننے کی اجازت نہیں ہوتی۔ اس کے سر پر میلا اور پھٹا ہوا دوپٹہ ڈال دیا جاتا ہے۔ اس کی سہیلیوں کو اس سے ملنے سے روک دیا جاتا ہے کیونکہ اس کے سائے کو منحوس سمجھا جاتا ہے۔ ہندوؤں میں تو ستی کی رسم ہوا کرتی تھی۔ بیوی کو اس کے خاوند کی لاش کے ساتھ چتا پر بٹھا کر زندہ جلا دیا جاتا تھا۔ مغلیہ خاندان کے دورِ

 

حکومت میں اس رسم پر پابندی عائد ہوئی لیکن دیہاتی علاقوں میں یہ ظالمانہ رسم جاری رہی۔ انگریزوں نے آکر اس رسم پر بڑی سختی سے پابندی عائد کی اور ستی کا کوئی واقعہ ہو جاتا تو لڑکی کو زندہ جلانے والے لواحقین کو قتل کے جرم میں سزا دی جاتی۔

بھارت کی موجودہ حکومت نے ستی کو قتل کا جرم قرار دے رکھا ہے پھر بھی چند برس گزرے آپ نے ستی کے ایک واقعہ کی خبر اخباروں میں پڑھی ہوگی۔ ایک جوان عورت کو اس کے خاوند کی لاش کے ساتھ زندہ جلا دیا گیا تھا۔ اس کا فوٹو پاکستان کے بڑے اخباروں میں شائع ہوا تھا۔ جلانے والوں کو قتل کے جرم میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ آپ کی دلچسپی کے لیے لکھتا ہوں کہ ایک طرف قتل کے جرم میں گرفتاریاں ہوئیں اور دوسری طرف ہندوؤں کی توہم پرستی اور باطل پرستی کا یہ عالم کہ دور دور سے ہندو جوق

 

در جوق اس جگہ آکر ماتھے ٹیکنے لگے جہاں اس عورت کو جلایا گیا تھا۔ وہ اس مظلوم عورت کو دیوی سمجھتے ہیں جس نے اپنے مرے ہوئے خاوند کے ساتھ اپنے آپ کو زندہ جلا دیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ ہندو جن میں عورتیں زیادہ ہوتی ہیں، وہاں جا کر پھول چڑھاتے اور کھانے پینے کی مختلف اشیاء رکھتے اور وہاں سجدہ کرتے ہیں۔ ہندو ماڈرن تو ہو گئے ہیں لیکن بیوہ کو وہ منحوس سمجھتے ہیں اور اس کی دوسری شادی نہیں کرتے۔ اگر بیوہ کے والدین اس کی شادی کرنا چاہیں تو بھی اسے کوئی قبول نہیں کرتا۔ ایسی جوان ہندو بیوہ عورتوں کی زندگی جس طرح گزرتی ہے، وہ ذرا لمبی بات ہے۔ یہ ایک باطل مذہب کی بدی کی داستان ہے جس کا شکار یہ جوان بیوہان ہوتی ہیں اور آشرموں میں پنڈتوں کی ہوس کاری کے جال میں بوڑھی ہو جاتی ہیں۔ اب ایک نوجوان

 

ہندو بیوہ میرے سامنے آ رہی تھی۔ میں نے کہا ہے کہ قتل کی اس واردات سے تعلق رکھنے والے ہندو خاندان ماڈرن تھے۔ گوشت بھی کھاتے اور شراب بھی پیتے تھے لیکن اپنی بیوہ بہو بیٹیوں کے لیے وہ قدامت پسند اور دقیانوسی تھے۔ میں اپنے قارئین سے بھائی صابر حسین راجپوت کی طرح معذرت کے ساتھ عرض کرتا ہوں کہ بڑھاپے میں سب سے بڑی خرابی یہ ہوتی ہے کہ بوڑھا آدمی بات سے بات نکالتا چلا جاتا اور اصل بات سے دور چلا جاتا ہے۔ واردات قتل کی سناتے لگا تھا اور قصہ چھیڑ بیٹھا جو ان ہندو بیوہوں کا۔ مشکل یہ ہے کہ زندگی میں اتنے واقعات، باتیں اور ایسے رنگا رنگ تماشے دیکھے ہیں کہ ایک کی بات کرو تو بیسیوں یاد آ جاتی ہیں۔ ہندو بیوہوں کی تو بہت سی کہانیاں میری ڈائریوں میں اور میرے ذہن میں محفوظ ہیں۔ زندگی نے وفا کی تو سناؤں گا۔

 

میں سناتا رہا کہ میں اور انسپکٹر جوزف علاقہ تھانیدار کی فائل پڑھ رہے تھے اور ساتھ ساتھ اس سے تفصیلات بھی پوچھتے جا رہے تھے۔ بجائے اس کے کہ پہلے اس کی بتائی ہوئی تفصیلات سناؤں پھر اپنی تفتیش کی بات کروں، میں سیدھے طریقے سے آپ کو کہانی سنا دیتا ہوں۔

تفتیش تو ہم نے اپنے انداز سے کرنی تھی۔ سب انسپکٹر رتن کمار سے ہم نے راہنمائی لے لی اور اسے کہا تھا کہ اپنے مخبروں کو ہمارے حوالے کر دے۔

یہ تو بتا چکا ہوں کہ مقتول کا باپ ٹھیکیدار تھا۔ مقتول باپ کے ساتھ کام کرتا تھا۔ ان کی ٹھیکیداری وسیع پیمانے کی تھی۔ زیادہ تر میکے تعمیراتی ہوتے تھے۔ ان دنوں دہلی سے پندرہ سولہ میل دور ان کے پاس ایک فوجی تعمیر کا کافی بڑا ٹھیکہ تھا۔ مقتول جس کا نام مہندر پال تھا اس جگہ چلا جاتا تھا اور

 

رات کی ریل گاڑی سے واپس آتا تھا۔ ہفتے میں دو راتیں ایسی آتی تھیں جو اسے باہر ہی گزارنی پڑتی تھیں۔

قتل کے وقت اس کی عمر چھبیس سال اور کچھ مہینے تھی۔ وہ حسب معمول قتل کی رات ریل گاڑی سے آیا تھا اور اپنی کوٹھی کے گیٹ پر قتل ہو گیا۔ وہ اس کوٹھی میں اپنے ماں باپ کے ساتھ رہتا تھا۔ شادی ہوئی تو پندرہ دنوں بعد ماں باپ سے الگ ہو گیا اور اپنی بیوی کے ساتھ ایک فلیٹ میں کرائے پر رہنے لگا۔ یہ دو منزلہ فلیٹ تھے۔ میں نے مقتول کی رہائش تفتیش کے دوران دیکھی تھی۔ اس فلیٹ میں اپر کلاس کے لوگ رہتے تھے۔ یہ عمارت نئی نئی بنی تھی۔ اس روز وہ اپنے ٹھیکے پر جانے لگا تو بیوی نے اسے کہا کہ آج دن کو ٹھیکے میں گزارنا چاہتی ہے اور رات کو وہ ادھر ہی آجائے اور اسے اپنے گھر لے جائے۔ یہ وجہ کہ وہ رات اپنے ماں باپ کے گھر

 

گیا تھا۔

ہمیں یہ باتیں مقتول کا باپ بتا رہا تھا۔ میں اور انسپکٹر جوزف اس کی کوٹھی میں جا بیٹھے۔ ہم نے تفتیش کا آغاز اسی سے کیا تھا۔ اس نے سامنے وہ جگہ دکھائی تھی جہاں اس کے بیٹے کی لاش پڑی ہوئی تھی۔ ہم نے اس سے دشمنی کے متعلق پوچھا۔ اس نے وثوق سے کہا کہ نہ اس کی کسی کے ساتھ دشمنی ہے نہ اس کے بیٹے کا کوئی دشمن تھا۔ “کاروباری دشمنی بھی ہوتی ہے۔” میں نے کہا، “اس ٹھیکے کا ٹینڈر کسی اور کا منظور ہونا چاہیے تھا لیکن آپ نے اثر و رسوخ سے یا دے دلا کر اپنا ٹینڈر منظور کرا لیا۔”

“ایسی بھی کوئی دشمنی نہیں۔” مقتول کے باپ نے جواب دیا، “آپ اس طرف دھیان نہ دیں۔ میں غور کر چکا ہوں۔ میں آپ کو بتاتا ہوں۔ ہم کاروباری لوگ ہیں۔ کاروبار میں رقابتیں ہوتی ہیں۔ کمپیٹیشن ہوتی ہے۔ ایک

 

دوسرے کو قتل نہیں کیا جاتا۔ میرے بیٹے کے قتل کی وجہ کوئی اور ہے۔ یہ میں جانتا ہوں کہ میرے بیٹے کے قتل کے جرم میں اگر ایک درجن آدمیوں کو پھانسی دے دی گئی تو میرا بیٹا زندہ نہیں ہو جائے گا۔ مجھے ڈر یہ ہے کہ قتل کی وجہ معلوم نہ ہوئی اور قاتل نہ پکڑا گیا تو میرا بڑا بیٹا بھی ہے، میں ہوں، ہم بھی قتل ہو سکتے ہیں۔”

“ہو سکتا ہے یہ وجہ آپ کے گھر میں ہو۔” میں نے کہا، “مثلاً آپ کی بہو ہے۔ کیا آپ نے اس پر بھی غور کیا ہے؟”

“کیا ہے۔” اس نے جواب دیا، “کوئی ہندو لڑکی اپنے خاوند کو قتل نہیں کراتی کیونکہ ہندو لڑکی بیوہ ہو جائے تو اسے ساری عمر بیوگی میں گزارنی پڑتی ہے۔”

“میں ایک بات واضح طور پر آپ سے کہہ دینا ضروری سمجھتا ہوں۔” میں نے کہا، “ہم قاتل کا سراغ لگا رہے ہیں۔ ہمیں آپ سے کچھ ایسی

 

باتیں پوچھنی پڑیں گی کہ آپ اپنی بے عزتی محسوس کریں گے۔ ہم آپ کی بے عزتی نہیں کرنا چاہتے۔ یہ ہماری ضرورت ہے۔”

“بلکہ یہ آپ کی ضرورت ہے۔” انسپکٹر جوزف نے کہا، “کسی بات پر پردہ ڈالنے کی کوشش نہ کرنا۔”

“آپ مجھے پسماندہ آدمی نہ سمجھیں۔” اس نے مسکراتے ہوئے کہا، “میں انگریز اور اینگلو انڈین افسروں کی سوسائٹی میں اٹھنے بیٹھنے والا آدمی ہوں۔ میرے گھر کی کسی بھی لڑکی کے متعلق کچھ پوچھتا ہے تو بے تکلفی سے پوچھیں۔”

“آپ نے کہا ہے کہ کوئی ہندو لڑکی اپنے خاوند کو قتل نہیں کرائے گی۔” میں نے کہا، “کیونکہ اسے ساری عمر بیوہ رہنا پڑے گا۔ میں آپ کو ایسی تین وارداتیں سنا سکتا ہوں کہ ہندو لڑکی نے اپنے خاوند کو قتل کروایا اور مسلمان آشنا کے ساتھ بھاگ کر مسلمان ہو گئی اور اس

 

کے ساتھ شادی کر لی۔ ایک نے اپنے خاوند کو زہر دیا تھا اور دو نے اپنے خاوندوں کو دوسرے طریقوں سے مروایا تھا۔”

“آپ میری بہو کے متعلق جاننا چاہتے ہیں۔” اس نے کہا، “اسے بھی ذہن سے اتار دیں۔ یہ لڑکی زندہ دل ہے۔ بڑی کھلی طبیعت والی ہے۔ میرے بیٹے کے ساتھ اسے دلی محبت تھی جو بیویوں کو اپنے خاوندوں سے ہوتی ہے۔”

“یہ بھی ذہن سے اتار دیں۔” انسپکٹر جوزف بول پڑا، “وہ بھی ذہن سے اتار دیں۔ اب آپ کہیں گے کہ یہ بھی ذہن سے اتار دیں کہ آپ کا بیٹا اخلاقی لحاظ سے ٹھیک نہیں تھا۔ آپ کہیں گے کہ وہ تو بڑا ہی شریف لڑکا تھا۔ تارک الدنیا تھا۔ دیکھو مسٹر! آپ کہیں تو ہم آپ کے بیٹے کے قتل کو بھی ذہن سے اتار دیں گے۔ ہمیں معلوم ہے کہ یہ کیس آپ کے اثر و رسوخ سے ہمارے پاس آیا ہے۔ آپ ہمیں کوئی گائیڈ لائن دیں گے تو ہم آگے بڑھیں گے۔ آپ کا

 

بیٹا کیریکٹر کے لحاظ سے کیسا تھا؟”

“میں آپ کو بالکل صحیح بات بتاتا ہوں۔” مقتول کے باپ نے، جس کا نام جوگندر پال تھا، کہا، “وہ صرف کاروباری معاملات میں تیز اور بیدار تھا۔ سوشل طور طریقوں میں وہ ٹھیک نہیں تھا۔ یوں کہیں کہ اس میں زندہ دلی نہیں تھی۔ اس کی کمی اس کا بڑا بھائی پوری کرتا تھا۔ مہندر (مقتول) کو ہم کاروباری کاموں میں ہی لگائے رکھتے تھے اور وہ خوش رہتا تھا۔ اس کی حالت یہ تھی کہ راج مزدور کام کر رہے ہیں تو یہ ان کے سر پر سوار ہے۔ لکڑی کے کام کے لیے کیل منگواتا تو ایک ایک کیل گن کر کام کرنے والوں کو دیتا اور پورا حساب رکھتا تھا۔ بچت تو اسی طرح ہوتی ہے۔”

“اپنی بیوی کے ساتھ بھی ایسا ہی کاروباری رویہ رکھتا ہوگا۔” انسپکٹر جوزف نے پوچھا۔

“میاں بیوی شادی کے فوراً بعد ہم سے الگ ہو گئے تھے۔” جوگندر پال نے کہا، “میں ان کی

 

پرائیویٹ لائف کے متعلق صحیح رائے نہیں دے سکتا۔”

“بیوی زندہ دل اور سمارٹ۔” میں نے کہا، “خاوند گھٹی ہوئی طبیعت کا کاروباری آدمی۔”

میں نے یہ بات ایسے کی جیسے کوئی اپنے آپ سے باتیں کرتا ہے۔ ہم ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے۔ میں انگیٹھی پر رکھی ہوئی دو تصویروں کو بار بار دیکھتا تھا۔ ایک انگیٹھی کے ایک سرے پر اور دوسری دوسرے سرے پر رکھی ہوئی تھی۔ دونوں فریم میں تھیں اور دونوں نئے شادی شدہ جوڑوں کی تھیں۔ جوگندر پال کے دو ہی بیٹے تھے۔ ان میں سے ایک مقتول کی تھی۔ تصویریں بڑے خوبصورت سنہری فریموں میں لگی ہوئی تھیں۔ “ان میں مہندر پال کا فوٹو کون سا ہے؟” میں نے پوچھا۔ مقتول کا باپ اٹھا اور ایک فوٹو اٹھا کر مجھے دے دیا۔ لڑکی کی شکل و صورت تو بہت ہی اچھی تھی لیکن

 

اس کا قد کاٹھ ایسی موزوں حد تک لمبوٹرا تھا کہ میں نے دل ہی دل میں اس کی تعریف کی۔ کمر پتلی اور گردن لمبوتیری تھی۔ تصویر میں دل موہ لینے والی ایک اور چیز تھی۔ یہ اس کے ہونٹوں کا تبسم تھا۔ اس کی تو آنکھیں بھی مسکرا رہی تھیں۔ یہ پورے جسم کی تصویر تھی جو شادی سے اگلے روز سٹوڈیو میں اتروائی گئی تھی، یعنی دلہا دلہن کھڑے تھے۔ میں نے دلہن کا جسمانی حسن بیان کیا ہے۔ اس کے ساتھ دلہا کھڑا تھا۔ دلہا کے کپڑے اچھے تھے۔ باقی جو کچھ تھا وہ یوں تھا کہ جتنا حسین جسم دلہن کا تھا اس سے زیادہ بھدا جسم دلہا کا تھا۔ اسی عمر میں اس کا پیٹ لٹک آیا تھا۔ اس کا قد دلہن سے چار پانچ انچ کم تھا۔ گردن تو اس شخص کی تھی ہی نہیں۔ جہاں گردن ہونی چاہیے تھی وہاں گوشت اور چربی کی افراط تھی۔ یوں کہہ لیں کہ ایک روایتی دکاندار نے بڑا قیمتی سوٹ

 

پہن رکھا تھا۔

میں نے فوٹو انسپکٹر جوزف کو دے دی اور میں اس کے چہرے کو دیکھنے لگا۔ جوزف کے ہونٹوں پر طنزیہ سا تبسم آگیا۔ معلوم نہیں یہ میری چھٹی جس تھی یا مجھ میں پولیس والی ایک رگ فالتو تھی کہ میرے ذہن میں یہی ایک شبہ جم کے رہ گیا کہ اس شخص کے قتل کا باعث یہ لڑکی ہے۔ قتل اس نے کروایا ہے یا قتل کے ساتھ اس کا کچھ نہ کچھ تعلق ضرور ہے لیکن ہم نے اور امکانات بھی دیکھنے تھے۔

علاقہ تھانیدار سب انسپکٹر رتن کمار نے اس خاندان کے متعلق وہ تمام معلومات پہلے ہی اکٹھی کر لی تھیں جو تفتیش کے لیے ضروری ہوتی ہیں۔ اس نے بتایا تھا کہ ان دو بھائیوں کی بیویاں اور ان بھائیوں کی دو بہنیں بھی ہیں۔ ایک کی عمر پندرہ سولہ سال اور دوسری کی انیس بیس سال ہے۔ خاص طور پر

 

خوبصورت تو نہیں لیکن ان کے رنگ گورے ہیں اور نقش برے بھی نہیں۔ ان کی خوشیاں مشہور ہیں۔ دونوں چلبلی ہیں۔ چھوٹی سکول میں پڑھتی ہے اور بڑی فورٹھ ایئر میں ہے۔ میں نے رتن کمار سے ان کے چال چلن کے متعلق پوچھا تھا۔ اس نے اپنے مخبروں کے حوالے سے بتایا تھا کہ یہ دونوں بہنیں کالج کے لڑکوں کو اپنے پیچھے لگانے کے فن کی ماہر ہیں۔ شیطان اتنی ہیں کہ ان سے لڑکے بھی گھبراتے ہیں۔ “کیا ایسا کبھی ہوا ہے کہ ان کی ایسی کوئی حرکت یا بات ان کے گھر تک پہنچی ہو؟” میں نے رتن کمار سے پوچھا تھا۔

“نہیں۔” رتن کمار نے جواب دیا تھا، “یہ تو میں نے گہرائی میں جا کر معلوم کرنے کی کوشش کی تھی لیکن ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا۔ میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اس خاندان کی لڑکیوں کا کردار کچھ ایسا ویسا ہی ہے۔”

میں نے اور انسپکٹر جوزف نے مقتول کے باپ

 

کو باہر بھیج کر آپس میں تبادلہ خیالات کیا اور مقتول کی بیوی سے ملنے کا فیصلہ کیا۔ جوگندر پال کو اندر بلا کر کہا کہ اپنی بہو کو ہمارے پاس بھیج دے۔

“وہ یہاں تو نہیں۔” اس نے جواب دیا، “مہندر کے قتل کے پانچویں روز یہاں سے چلی گئی تھی۔”

“اپنے ماں باپ کے گھر چلی گئی؟”

“نہیں!” اس نے جواب دیا، “اسی فلیٹ میں رہتی ہے جس میں خاوند کے ساتھ رہتی تھی۔”

“کب تک وہاں رہے گی؟”

“وہ جانے اور فلیٹ والے جانیں۔” اس نے کہا، “وہاں رہے گی تو کرایہ خود ہی دے گی یا اس کے ماں باپ دیں گے۔ ہمارے ساتھ تو اس کا کوئی تعلق نہیں۔ لڑکی تو ٹھیک تھی لیکن منحوس نکلی۔ میری بیوی نے اسے خود ہی کہہ دیا تھا کہ وہ یہاں سے چلی جائے۔”

“ایک بات بتائیں۔” میں نے پوچھا، “ایسا بھی

 

تو ہو سکتا ہے کہ اس لڑکی کی بات کہیں اور پکی ہو گئی تھی اور آپ نے یا آپ کے بیٹے مہندر نے لات ماری اور ادھر سے طے شدہ رشتہ منسوخ کرا کے آپ لڑکی کو بیاہ لائے۔”

“اس لڑکی کے تین امیدوار تھے۔” اس نے کہا، “یہ کوئی لڑائی جھگڑے والا معاملہ نہیں تھا۔ لڑکی کے ماں باپ نے دیکھا تھا کہ زیادہ امیر کون ہے۔ یہ دیکھ کر انہوں نے رشتہ ہمیں دے دیا۔” ذرا سوچ کر اس نے کہا، “ہم ہندوؤں میں ایسے نہیں ہوتا کہ رشتے سے جواب مل گیا تو اس کے دشمن ہو گئے جسے یہ رشتہ ملا ہے۔ ہندو کاروباری قوم ہے جناب! ہم لوگ پیسے سے پیسہ کماتے ہیں۔ ہم اپنے قریبی رشتہ داروں کو پیسہ دیتے ہیں تو بھی اس کا سود لیتے ہیں۔ ہم مقدمہ بازی میں روپیہ پیسہ برباد کرنے والی قوم نہیں۔”

اس کے بعد ہم نے مقتول کی ماں کو بلایا۔ وہ خاصی دیر لگا کر آئی۔ اس کی عمر پچاس

 

برس سے اوپر ہی ہوگی، کم نہیں تھی۔ اس کے بیٹے کو قتل ہوئے ابھی دو ہفتے ہی ہوئے تھے لیکن وہ پورا میک اپ کر کے اور نوجوان لڑکیوں جیسے کپڑے پہن کر آئی۔ وہ آخر ماں تھی۔ اپنے بیٹے کا نام سنتے ہی اس نے رونا شروع کر دیا۔ اس زمانے میں ٹشو پیپر نہیں ہوا کرتے تھے۔ اس عورت نے تین چار بار دوپٹے سے ناک اور آنسو پونچھے تو آنکھوں سے کاجل اور چہرے سے میک اپ بھی صاف ہو گیا۔ ہمیں توقع تھی کہ کاجل اور سرخی پاؤڈر کی تہہ میں سے جو عورت برآمد ہوئی ہے یہ اپنی بہو کے خلاف بولے گی اور اس بات پر تو اسے ضرور کصُو دے گی کہ وہ اس کے بیٹے کو چھین کر لے گئی اور الگ جا آباد ہوئی تھی لیکن اس عورت نے بہو پر کوئی الزام عائد نہ کیا سوائے اس کے کہ وہ منحوس تھی، میرے بیٹے کو کھا گئی ہے۔ میں نے اور انسپکٹر جوزف نے اسے بہت کریدا اور اسے بہو کے

 

خلاف مشتعل بھی کیا لیکن اس کے منہ سے کوئی ایسی بات نہ نکلی جو مقتول کی بیوی کے خلاف شبہ پیدا کرتی۔ مقتول کے ماں باپ نے ہمیں ذرا سا بھی اشارہ نہ دیا جس سے ظاہر ہوتا کہ قتل کا باعث یہ ہو سکتا یا فلاں شخص پر قتل کا شبہ کیا جا سکتا ہے۔ ہمارے ذہن میں جو ممکن باعث آسکتے تھے وہ جوگندر پال کے آگے رکھے لیکن اس نے قابل قبول دلائل دے کر ہمارے ہر شک کو صاف کر دیا۔

اس نے اتنی طویل گفتگو میں ہمیں بتایا تھا کہ مقتول جس کام پر جایا کرتا تھا وہ بہت بڑا تعمیراتی ٹھیکہ تھا۔ اس نے اپنے مقتول بیٹے کی تعریف کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اس کام پر ایک سو سے زیادہ مزدور کام کرتے ہیں۔ راج اور ترکھان الگ ہیں۔ اس نے یہ بھی بتایا تھا کہ ان مزدوروں میں عورتیں بھی ہیں۔

“میرا بیٹا اس فوج کو بڑی عظمت سے کنٹرول

 

میں رکھتا تھا۔” جوگندر پال نے کہا تھا اور اس کے آنسو نکل آئے تھے۔

ہم جب مقتول کی ماں اور اس کے باپ سے مایوس ہو گئے تو اس کے باپ کی مجھے یہ بات یاد آئی کہ مقتول ایک سو سے زیادہ مزدوروں کو اپنے کنٹرول میں رکھتا تھا۔ میرے ذہن میں دو شکوک آئے۔ ایک یہ کہ مقتول نے کسی مزدور راج یا ترکھان کو کام سے ہٹا دیا ہوگا اور اس نے یہ انتقامی کارروائی کی ہوگی کہ اسے گولی مار دی یا مروا دی۔ مجھے یہ خیال بھی آیا کہ مزدور ایسی کارروائی نہیں کر سکتا۔ اگر وہ کرتا تو پیدل آتا اور چھری یا چاقو سے قتل کرتا۔ غریب آدمی موٹر سائیکل کہاں سے لا سکتا تھا۔ یہ انتظام کوئی راج یا لکڑی کا کام کرنے والا کاریگر کر سکتا تھا۔ یہ لوگ اچھا خاصا پیسہ کما لیتے تھے۔ دوسرا شک ان عورتوں کے متعلق تھا جو مزدوری کرتی تھیں۔ پاکستان

 

میں مکان یا کسی عمارت کی تعمیر میں عورتیں مزدوری نہیں کرتیں جس طرح مرد کرتے ہیں۔ یہ رواج ہندوستان میں نہ جانے کس صدی سے چلا آ رہا ہے کہ مردوں کے ساتھ عورتیں بھی اینٹ گارا اٹھانے کی مزدوری کرتی ہیں۔ یہ دیہات میں یا شہروں کے مضافات میں خانہ بدوشوں کی نسل جیسی ایک قوم خیموں میں رہتی ہے۔ یہ لوگ شہروں میں مزدوری کی تلاش میں لگے رہتے ہیں۔ کام مل جائے تو یہ لوگ اپنی عورتوں اور نوجوان لڑکیوں کو بھی اپنے ساتھ کام میں لگا دیتے ہیں۔ ان میں بعض لڑکیاں بڑی اچھی شکل و صورت والی بھی ہوتی ہیں۔

 میں نے جب سنا کہ مقتول ایک سو سے زیادہ مزدوروں کو کنٹرول میں رکھتا تھا تو میرا دماغ کسی اور طرف چلا گیا۔ میں نے جوگندر پال سے اس کی بہو کے فلیٹ کا ایڈریس نوٹ کیا اور ہم وہاں سے آگئے۔ مجھے یاد ہے کہ شام

 

کے چار بج رہے تھے۔ گاڑی میں انسپکٹر جوزف کو میں نے اپنا شک بتایا۔ ایک شک تو یہ تھا کہ مقتول نے کسی کو نوکری یا مزدوری سے محروم کر دیا ہوگا۔

لیکن میں نےجوزف کے ساتھ دوسرے شک پر زیادہ بات کی۔ میرا خیال یہ تھا کہ مقتول نے کسی مزدور لڑکی کے ساتھ دوست درازی کی ہوگی اور لڑکی کے آدمیوں نے اس سے انتقام لیا۔ “نہیں مسٹر ملک۔” انسپکٹر جوزف نے کہا، “جن لوگوں کی عورتیں بھی روٹی کی خاطر مزدوری کرتی ہیں وہ لوگ موٹر سائیکل اور ریوالور کہاں سے لے آئے ہوں گے؟ اس کے علاوہ یہ بھی ذہن میں رکھو کہ مقتول اس کے باپ کے کہنے کے مطابق صرف کاروباری معاملات میں دلچسپی رکھتا تھا۔ ایسے آدمی بزدل اور تنگ نظر ہوا کرتے ہیں، عورتوں میں دلچسپی نہیں لیا کرتے۔”

“انسپکٹر جوزف!” میں نے کہا، “اگر تم ناراض

 

نہ ہو جاؤ تو کہوں۔ تمہارے پادری ہمارے مولوی اور ہندوؤں کے مندروں کے پنڈت بھی عورتوں میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ کیا خیال ہے تمہارا؟ ہم وہاں چلیں گے۔ اپنے ملک کے مقتول جیسے سیدھے سادے آدمیوں کو میں بڑی اچھی طرح جانتا ہوں۔”

“مقتول کی بیوی سے ملنا زیادہ ضروری ہے۔” جوزف نے کہا اور کچھ سوچ کر بولا، “مسٹر ملک میں کچھ ایسا محسوس کر رہا ہوں کہ ہم قاتل کو جلدی پکڑ لیں گے حالانکہ ہمیں ابھی ذرا سا بھی کوئی اشارہ نہیں ملا۔ تمہارا کیا خیال ہے؟”

“میں تو اپنے خدا سے راہنمائی لیا کرتا ہوں۔” میں نے کہا، “خدا نے میری ہمیشہ مدد کی ہے۔”

“تم مسلمان تو ہر بات میں خدا ہی خدا اور اللہ ہی اللہ کرتے رہتے ہو۔” جوزف نے کہا، “اور مجرم زمین کے نیچے چلے جاتے ہیں۔ میں اپنے دماغ سے راہنمائی لیا کرتا ہوں۔”

 

“لیکن انسپکٹر جوزف۔” میں نے کہا، “خدا صرف ان کی راہنمائی کرتا ہے جن کے دلوں میں بھی خدا ہوتا ہے۔”

اور اس نے اکتائے ہوئے لہجے میں کہا، “تم تو کبھی کبھی مولوی بن جاتے ہو۔”

قتل کے اس کیس کے تھوڑا ہی عرصہ بعد ہم دونوں کو ایک عیسائی عورت کے قتل کا کیس دیا گیا تھا۔ اس میں جوزف کے دماغ نے اس کی ایسی راہنمائی کی تھی کہ سزا کے طور پر اس کی چار سال کے لیے ترقی رک گئی اور اسے واپس انگلینڈ بھیج دیا گیا تھا۔ مجھ پر اللہ نے یہ کرم کیا کہ مجھے ترقی دے کر سب انسپکٹر سے انسپکٹر بنا دیا گیا تھا۔ میں اس کہانی میں اس کیس کا پہلے بھی حوالہ دے چکا ہوں۔ اس کا عنوان “ملل، ڈیزی اور ڈسپنسر” ہے۔

ہم جب جوگندر پال کے گھر سے نکلے تھے اس وقت شام کے ساڑھے چار بج چکے تھے۔

 

انسپکٹر جوزف نے کہا کہ مقتول کی بیوی کے پاس ابھی چلتے ہیں۔ میں تو چاہتا ہی یہی تھا کہ کام ساتھ ساتھ ہوتا چلا جائے تو اچھا ہے۔ قتل کو پہلے ہی پندرہ سولہ دن گزر گئے تھے۔ اتنے عرصے میں شہادت کے بیشتر اور اہم حصوں پر پردے پڑ جاتے ہیں۔ قاتل اگر واردات کے فوراً بعد یا دو تین دنوں میں پکڑا جائے تو اس سے اقبالِ جرم آسانی سے کر دیا جا سکتا ہے۔

 

میں ذاتی طور پر یہی خطرہ محسوس کر رہا

 

تھا کہ قاتل زمین میں اتر چکا ہوگا اور اگر وہ مل بھی گیا تو اسے قاتل ثابت کرنے کے لیے شہادت نہیں ملے گی۔ میں نے انسپکٹر جوزف سے کہا کہ ہمیں ایک منٹ بھی ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ وہ وہی کچھ سوچ رہا تھا جو میں سوچ رہا تھا۔

“مسٹر ملک۔” جوزف نے پوچھا، “تمہارا کیا خیال ہے مقتول کو بیوی نے قتل کروایا ہے؟”

“ہو سکتا ہے۔” میں نے جواب دیا، “اگر یہ لڑکی خاوند سے آزاد ہونے کی کوشش میں تھی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی پسند کا آدمی موجود ہے اور یہ آدمی قاتل ہے۔ اور میں یہ بھی بتا دیتا ہوں کہ یہ آدمی مسلمان ہوگا۔ وہ ہندو اس لیے نہیں ہو سکتا کہ کوئی ہندو کسی بیوہ کے ساتھ شادی نہیں کرتا۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہندو قتل کرنے والی قوم نہیں۔ ہندو قتل کیا کرتے ہیں لیکن صرف مسلمانوں کو۔ وہ اس طرح کہ چند ایک مسلمانوں کو قتل کرنے کے

 

لیے سینکڑوں ہندو ان مسلمانوں پر اپنے مذہب کی توہین کا الزام لگا کر ان پر حملہ کر دیں گے۔ ہندو ایک مسلمان کو قتل کرنے کے لیے بلوائیوں کے ایک ہجوم کی صورت میں حملہ کیا کرتے ہیں اور اسے وہ فرقہ وارانہ فساد کہتے ہیں۔”

“میرا خیال بھی یہی ہے۔” جوزف نے کہا، “قاتل مسلمان ہو سکتا ہے لیکن میں سوچتا ہوں کہ لڑکی اب تک غائب کیوں نہیں ہوئی۔”

“وہ عقل والی معلوم ہوتی ہے۔” میں نے کہا، “بیوقوف ہوتی تو اپنے دوست کے ساتھ اُسی رات غائب ہو جاتی اور اب تک پکڑی بھی جاچکی ہوتی۔ اگر تین چار مہینوں بعد غائب ہوئی اور اسلام قبول کر کے اس نے قاتل آشنا کے ساتھ شادی کر لی تو پکڑے جانے کی صورت میں کہے گی کہ اس شخص سے وہ کچھ دن پہلے ملی تھی اور وہ بالغ ہے اس لیے وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کر سکتی ہے۔

 

پولیس کے لیے یہ ثابت کرنا ناممکن ہوگا کہ اس کا یہ مسلمان خاوند اس کے ہندو خاوند کے قتل سے پہلے سے اس کا دوست ہے۔”

وہ فلیٹ بڑی مشہور جگہ تھا جس میں مقتول کی نوجوان بیوہ رہتی تھی اس لیے ہمیں آسانی سے مل گیا۔ بیوہ اوپر کی منزل میں رہتی تھی۔ ہم نے دروازے پر دستک دی تو تقریباً تیس سال عمر کے ایک آدمی نے دروازہ کھولا۔ لباس، چہرے اور انداز سے وہ اپر کلاس کا آدمی معلوم ہوتا تھا۔ اس فلیٹ میں سب اپر کلاس کے ہی لوگ رہتے تھے۔ یہ اس وقت کے جدید فلیٹ تھے۔ کرایہ اتنا زیادہ کہ مڈل کلاس فیملی یہاں نہیں رہ سکتی تھی۔

میں نے اپنا اور انسپکٹر جوزف کا تعارف کرایا تو “یہ کیس کرائمز برانچ میں چلا گیا ہے۔” اس نے کہا، “یہ تو بہت اچھا ہوا۔ تھانے والے تو کچھ بھی نہیں کر سکے۔ آیئے۔ یہ میری بہن کا گھر ہے جو مہندر پال کی بیوی تھی۔ وہ یہیں

 

ہے۔”

اندر لے جا کر اس نے ہمیں ڈرائنگ روم میں بٹھایا۔ یہ فلیٹ نہیں بلکہ جدید کوٹھی لگتی تھی۔ ڈرائنگ روم کے فرنیچر وغیرہ سے ان لوگوں کے سوشل سٹینڈرڈ کا اندازہ ہوتا تھا۔ ہمارے میزبان نے اپنا نام سدھیر بتایا۔ “کنول کو بلاؤں؟” سدھیر نے پوچھا، “اپنی بہن کو؟”

“ابھی نہیں۔” انسپکٹر جوزف نے کہا، “آپ بیٹھیں۔ کچھ باتیں آپ سے پوچھنی ہیں۔” وہ بیٹھ گیا تو جوزف نے کہا، “عجیب بات ہے ہمیں کوئی گائیڈ لائن نہیں دی جا رہی۔ آپ نے یقیناً سوچا ہوگا کہ قاتل کون ہو سکتا ہے۔”

“بہت سوچا ہے۔” اس نے کہا، “کچھ سمجھ نہیں آتی۔ ظاہری طور پر قتل کی کوئی وجہ نہیں تھی۔”

“مقتول کے ساتھ آپ کے تعلقات کیسے تھے؟” میں نے پوچھا۔

“وہ تھا تو میرا بہنوئی۔” اس نے کہا، “لیکن

 

تعلقات دوستوں جیسے تھے۔”

“کیا وہ خوش طبع اور زندہ دل تھا؟”

“نہ خوش طبع تھا نہ زندہ دل۔” اس نے جواب دیا، “لیکن آدمی ٹھیک ٹھاک تھا۔”

ہم مقتول کے باپ اور اس کی ماں سے مل آئے تھے۔ ان کے ساتھ جو باتیں ہوئی تھیں وہ سنا چکا ہوں۔ اس شخص سدھیر پر ہم یہ ظاہر کر رہے تھے کہ ہم ابھی اس کی بہن کے سسرال نہیں گئے۔

“آپ کی بہن کے سسرالی لوگ کیسے ہیں؟” میں نے پوچھا۔

“اچھے لوگ ہیں۔” اس نے جواب دیا، “پہلے پولیس سٹیشن کا تھانیدار تفتیش کرتا رہا تھا۔ ہمیں ڈر تھا کہ مہندر کا باپ یا اس کی ماں یہ نہ کہہ دے کہ ان کے بیٹے کو بیوی نے قتل کروایا ہے لیکن انہوں نے ایسی کوئی بات نہیں کی۔ میں تھانیدار سے ملا تھا۔ اس نے بھی میری بہن کے سسرال کی تعریف کی تھی۔ اب

 

آپ ان سے ملیں گے تو دیکھیں گے کہ۔” وہ اسی قسم کی باتیں کرتا رہا۔ ہم اس کوشش میں تھے کہ اس سے کوئی اشارہ ملے۔ ہم دونوں نے باتوں اور سوالوں کے ذریعے بہت کوشش کی کہ اس کے منہ سے کوئی مطلب کی کوئی بات نکل آئے لیکن ہمیں کامیابی نہ ہوئی۔ ہمارے سوالوں کے جواب دینے میں وہ کئی ہیر پھیر کر رہا تھا۔ شانتی اور سادگی سے جواب دیتا تھا۔

“بہن کو یہاں کیا کیوں رکھا ہوا ہے؟” میں نے پوچھا، “اسے اپنے گھر نہیں لے جائیں گے؟”

“آپ مسلمان ہیں۔” اس نے کہا، “آپ بیوہ کی دوسری شادی کر دیتے ہیں۔ ہم نہیں کرتے۔ صرف اتنا ہی ہو کہ بیوہ کو کوئی دوسرا آدمی قبول نہ کرے تو قابلِ برداشت ہے لیکن ہمارے ہاں بیوہ کے ساتھ ایسا ظالمانہ سلوک کیا جاتا ہے جیسے اپنے خاوند کی اس نے خود جان کی ہو۔ اسے دھتکار دیا جاتا ہے۔ اپنی ماں اور اپنی

 

سگی بہنیں بھی اسے حقارت کی نظروں سے دیکھتی ہیں۔”

“آپ تو روشن دماغ ہیں۔” انسپکٹر جوزف نے کہا، “آپ ان فرسودہ رسموں کی پابندی کیوں کرتے ہیں؟”

“آپ اسے رسم کہتے ہیں؟” سدھیر نے کہا، “ہمارے مذہبی پیشواؤں نے بیوہ کو نجس اور منحوس قرار دینا ہی حکم بنا رکھا ہے۔ بیوہ کو مندر میں بھی داخل نہیں ہونے دیا جاتا۔ میں جب سوچتا ہوں کہ میری بہن کی جس زندگی کا آغاز ہو چکا ہے یہ کس قدر اذیت ناک ہے تو مجھے یوں پتہ چلتا ہے کہ ہارٹ اٹیک ہو گیا ہے اور میں کچھ دیر بعد مر جاؤں گا۔ آپ غور کریں کہ بہن کی شادی کو ابھی چار مہینے ہی ہوئے تھے کہ بیوہ ہو گئی ہے۔ یہ بھی سوچیں کہ لڑکی روشن خیال اور سوشل ہے۔ میں اس کے لیے بہت پریشان ہوں۔ اس بہن کے ساتھ مجھے روحانی محبت ہے۔”

 

اس نے رونا شروع کر دیا تھا۔ اس کی بہن کے ساتھ ہمیں کوئی ہمدردی نہیں تھی نہ ہم ان کے مذہب کی اچھائیاں اور برائیاں سننے آئے تھے۔

“میں اپنی بہن کے لیے جو کچھ کر سکتا ہوں کر رہا ہوں۔” وہ کہے جا رہا تھا، “میں نے اسے کہا کہ یہیں رہو، کرایہ میں دوں گا۔ میں چاہتا ہوں کہ یہ ذہنی اور جذباتی لحاظ سے سنبھل جائے تو سوچوں گا کہ اسے زندگی کے کسی راستے پر ڈالوں کہ یہ ذرا سکون سے رہے۔ اسے نوکرانی رکھ دی ہے۔ میں سارا دن اپنے کام اور کاروبار کے لیے باہر رہتا ہوں۔ شام کو اس کے پاس آجاتا ہوں اور رات کو اپنے گھر چلا جاتا ہوں۔”

“اپنی بہن کو بلائیں۔” میں نے کہا۔

وہ ساتھ والے کمرے میں گیا اور واپس آگیا۔

“وہ سوئی ہوئی ہے۔” اس نے کہا، “آپ کہیں تو جگا لیتا ہوں لیکن ڈاکٹر نے سختی سے کہہ

 

رکھا ہے کہ یہ سوئی ہو تو اسے جگانا نہیں۔”

“ڈاکٹر کیوں؟” جوزف نے پوچھا، “کیا آپ کی بہن بیمار ہے؟”

“اسی عمر میں بیوہ ہو جانے کا صدمہ۔” سدھیر نے کہا، “ڈپریشن بھی ہے اور نروس بریک ڈاؤن بھی ہے۔ ڈاکٹر اسے گھر دیکھنے آجاتا ہے۔ یہ تکلیف چار پانچ دنوں سے ہے۔ پہلے اس نے بیوگی کا صدمہ برداشت کر لیا تھا لیکن چار پانچ دن پہلے اسے اچانک کچھ ہو گیا۔ اتنی زیادہ روئی کہ اسے غشی آنے لگی۔”

“نہ جگاؤ۔” جوزف نے کہا، “ہم پھر کسی وقت آئیں گے۔” میں نے احتیاطاً ڈاکٹر کا نام اور ایڈریس معلوم کر لیا اور ہم وہاں سے آگئے۔ میں نے جوزف سے پوچھا کہ اس شخص سدھیر کے متعلق اس کی کیا رائے ہے۔

“اگر یہ شخص بیوقوف نہیں تو بہت ہی عیار اور لومڑی جیسا چالاک ہے۔”جوزف نے کہا، “کوئی ہندو اتنا سیدھا سادہ نہیں ہو سکتا۔ اگر

 

یہ شخص سیدھا یا بدھو ہوتا تو ہم سے ڈرتا اور اس کے بولنے کا انداز کچھ اور ہوتا۔ اسے ہم نظر انداز نہیں کر سکتے۔ تمہارا کیا خیال ہے؟”

“مجھے اس کی بہن کی بیماری مشکوک نظر آتی ہے۔” میں نے کہا۔

اگلے روز ہم دہلی سے پندرہ میل دور اس جگہ چلے گئے جہاں مقتول کے باپ کے ٹھیکے کا کام ہو رہا تھا۔ کافی بڑا تعمیراتی پروجیکٹ تھا۔ بے شمار مزدور کام کر رہے تھے۔ ٹھیکیدار کے گھر کا کوئی آدمی نہیں تھا۔ معزز قسم کا ایک آدمی ہمیں دیکھ کر آیا۔ ہم پولیس کی وردی میں نہیں تھے۔ سی آئی اے کے افسر اور دیگر عملہ عام کپڑوں میں رہتا تھا۔ میرے ساتھ چونکہ ایک انگریز تھا اس لیے یہ آدمی دوڑتا آگیا تھا۔

میں نے اپنا اور انسپکٹر جوزف کا تعارف کرایا تو اس نے بتایا کہ وہ مینیجر ہے۔ پہلے مقتول

 

صبح ہی یہاں آجاتا کرتا تھا۔ وہ قتل ہو گیا تو اس کا بڑا بھائی یا باپ دن کو کسی وقت یہاں آتے اور دو تین گھنٹے وہیں رہتے تھے۔ اس مینیجر کا تو سارا دن یہیں گزرتا تھا۔ وہ ادھیڑ عمر ہندو تھا اور روایتی ہندوؤں جیسا تھا۔ ہاتھ جوڑ کر بات کرتا تھا۔ میں نے اسے بتایا کہ ہم مہندر پال کے قتل کی تفتیش کے لیے آئے ہیں۔

وہ ہمیں دفتر میں لے گیا۔ یہ دو کمرے تھے جو عارضی طور پر بنائے گئے تھے۔ ان میں ایک کمرہ تو اندر سے بہت ہی خوبصورت تھا۔ نہایت اچھی میز اور کرسیوں کے علاوہ ایک دیوان بھی پڑا تھا جس پر پلنگ پوش بچھا ہوا تھا۔ یہ مقتول کا کمرہ تھا۔

میں نے جوزف سے کہا کہ پہلے ذرا گھوم پھر کر مزدوروں وغیرہ کو دیکھ لیں۔ چنانچہ ہم دونوں اس تعمیراتی کام میں لگے ہوئے مزدوروں کے درمیان گھومنے پھرنے لگے۔ میں

 

جو چیز دیکھنا چاہتا تھا وہ مجھے نظر آنے لگی۔ یہ عورتیں تھیں جو مزدوری کر رہی تھیں۔ ان میں ادھیڑ عمر عورتیں بھی تھیں اور نوجوان لڑکیاں بھی۔

بھارت میں اس نسل کی عورتیں آج بھی موجود ہیں اور مزدوری کرتی ہیں۔ یہ ٹخنوں سے ذرا اونچے گھنگرے اور بلاؤز پہنتی ہیں۔ بلاؤز اتنا چھوٹا ہوتا ہے کہ ان کے پیٹ کچھ کچھ ننگے رہتے ہیں۔ سروں پر دوپٹے لیتی ہیں۔ ان کے رنگ سانولے نہیں بلکہ سیاہ ہوتے ہیں۔ کچھ تو ان کا رنگ قدرتی طور پر ایسا ہی ہوتا ہے اور زیادہ تر دھوپ میں محنت مزدوری کرنے سے رنگ بالکل سیاہ ہو جاتا ہے۔ ان میں نوجوان لڑکیاں بھی ہوتی ہیں جن میں سے بعض کے رنگ گندمی اور نقش و نگار بڑے اچھے ہوتے ہیں۔ ان میں کوئی بھی لڑکی اکیلی نہیں ہوتی۔ یہ پورا پورا کنبہ ہوتا ہے۔ یہ لڑکیاں مالکوں کی ہوس کاری کے کام آتی ہیں۔

 

مجھے اب یہ معلوم کرنا تھا کہ مقتول کی بھی ان لڑکیوں کے ساتھ دلچسپی تھی یا نہیں۔ میں اس شک کا پہلے اظہار کر چکا ہوں۔ آپ کہیں گے کہ اپر کلاس کے اتنے امیر آدمی کے لیے یہی کالی پیلی، میلے کچیلے کپڑوں والی بدبودار رہ گئی تھیں؟

یہ ایک نفسیاتی معالمہ ہے۔ مقتول کی شخصیت جو ہمارے سامنے آئی تھی وہ گھٹی ہوئی اور اپنی ذات کے خول میں بند شخصیت تھی۔ مقتول بھدے اور پھولے ہوئے جسم کا آدمی تھا۔ ایسی شخصیت احساسِ کمتری میں مبتلا ہوتی ہے۔ ذہنِ لاشعور انہیں سوسائٹی میں مقبولیت والا مقام حاصل کرنے ہی نہیں دیتا۔ اس قسم کے لوگ جنہیں سیدھا سادہ کہا جاتا ہے، ذہنی لذت پرستی میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ان کے لیے اس قسم کی لڑکیاں قابلِ قبول ہوتی ہیں جو ان کی زر خرید لونڈیاں ہوں، غریب ہوں اور پیٹ کی خاطر انہیں اپنا

 

دیوتا سمجھیں۔ اس احساسِ کمتری کا دوسرا پہلو دیکھیں۔ مقتول کو بڑی خوبصورت، زندہ دل، نئے فیشن کی دلدادہ اور مالدار خاندان کی لڑکی مل گئی تھی جو اس کی بیوی تھی۔ 

میں نے انسپکٹر جوزف کو یہ تجزیہ سنایا۔ وہ انگریز تھا، انسپکٹر تھا اور سکاٹ لینڈ یارڈ کا تربیت یافتہ تھا۔ وہ مجھ سے زیادہ عالم تھا۔ اس نے میرا تجزیہ قبول کر لیا۔ وہاں ایک تو مینیجر تھا۔ اس نے بتایا کہ مزدوروں پر دو میٹ بھی ہیں۔ اس نے یہ دو آدمی اور بھی رکھے ہوئے ہیں جو شہر کے غنڈے اور جرائم پیشہ ہیں۔ یہ نظر رکھتے ہیں کہ کوئی یہاں بدمعاشی نہ کرے۔ مینیجر نے بتایا کہ انہیں مقتول کے باپ جوگندر پال نے اپنی اور اپنے کاروبار کی حفاظت کے لیے رکھا ہوا ہے

“وہ کون ہیں؟” میں نے پوچھا، “کہاں ہیں؟”

“آنے ہی والے ہیں۔” مینیجر نے جواب دیا، “اپنی مرضی سے آتے اور اپنی مرضی سے چلے جاتے

 

ہیں۔”

یہ دونوں غنڈے اور جرائم پیشہ آدمی ہمارے لیے عجوبہ نہیں تھے۔ جوگندر پال جیسے بڑے کاروباری لوگ کرائے کے غنڈوں اپنے ساتھ رکھتے تھے۔ ٹھیکیداریوں میں دشمنی اور رقابت لگی رہتی ہے۔ اس مقصد کے لیے غنڈے رکھے جاتے تھے۔ پاکستان کی سیاسی پارٹیوں میں غنڈے موجود ہوتے ہیں۔ سیاسی لیڈر بلکہ اکثر اسمبلیوں کے ممبر بھی اپنے ساتھ دو تین غنڈے بطورِ محافظ رکھتے ہیں۔ بڑے زمینداروں نے باقاعدہ غنڈے پالے ہوئے ہوتے ہیں۔ کارخانہ دار فیکٹریوں میں دو تین غنڈے رکھتے ہیں۔ کل اور آج میں فرق یہ ہے کہ آج کے غنڈوں کے پاس کلاشنکوفیں اور ریوالور ہوتے ہیں اور ہمارے زمانوں میں چاقو اور خنجر ہوتے تھے یا کسی کسی کے پاس ریوالور بھی ہوتا۔

ہم مینیجر کو اس کمرے میں لے آئے جو

 

مقتول کا دفتر تھا۔

“میری بات غور سے سن لو لالہ جی۔” میں نے مینیجر سے کہا، “تمہارا چھوٹا سیٹھ قتل ہو گیا ہے۔ یہ دیکھ لو کہ ایک انگریز افسر تفتیش کر رہا ہے۔ تم جو کچھ جانتے ہو وہ ٹھیک ٹھیک بتا دینا۔ کوئی بات چھپانے کی کوشش نہ کرنا۔”

میں نے پہلے بتایا ہے کہ مینیجر روایتی ہندو تھا۔ اپنے سے کم درجہ ملازموں کے لیے شیر اور اپنے سے اوپر والوں یا ذرا طاقت والوں کے آگے بھیگی بلی، یعنی کمزوروں کے لیے بادشاہ اور طاقتوروں کے لیے غلام۔ اس نے میری اتنی سی بات پر ہی ہاتھ جوڑ دیے۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ “ہم تو نوکر چاکر ہیں سرکار۔” اس نے کہا، “یہ بڑے سیٹھوں کے معاملات اور رگڑے ہم جھیلتے ہیں۔ آپ جو پوچھیں گے وہ میں سولہ آنے سچ بتاؤں گا۔”

“لیکن سرکار ہم غریبوں کا خیال رکھنا۔ سیٹھ

 

کو یہ پتہ نہ چلے کہ میں نے کوئی بات بتائی ہے۔”

میں نے اسے جھوٹی سچی تسلیاں دیں اور سوال جواب کا سلسلہ شروع کر دیا۔ اس نے مقتول کی شخصیت کی بالکل وہی تصویر پیش کی جو اس کا باپ ہمیں دکھا چکا تھا، یعنی صرف کاروبار میں دلچسپی رکھنے والا بدھو ٹائپ، دنیا کے ساتھ کوئی دلچسپی نہیں۔ اس مینیجر سے میں نے جو باتیں کیں اور جو اس نے بتائیں وہ ساری کی ساری سنانے کی ضرورت نہیں۔ میں اصل بات پر آنا چاہتا ہوں۔ میں مقتول کی دوستی اور دشمنی معلوم کرنے کی کوشش میں تھا۔ کہیں بھی اس کی دشمنی کا پتہ نہیں چل رہا تھا۔ مقتول نے کسی راج مزدور یا کسی کاریگر کو کام سے نہیں ہٹایا تھا۔ “اب لالہ جی سولہ آنے سچ بولنا؟” میں نے کہا، “میں نے مزدور عورتوں میں تین نوجوان لڑکیاں دیکھی ہیں۔”

 

“سرکار!” مینیجر نے میری پوری بات سنے بغیر حسبِ عادت ہاتھ جوڑ کر بھکاریوں کے لہجے میں کہا، “میں حضور کا مطلب سمجھ گیا ہوں۔ یہ بات بار بار میری زبان پر آتی تھی لیکن میں بولتا نہیں تھا۔ اگر مجھے پردے میں رکھیں تو یہ بات بھی بتا دیتا ہوں۔ یہ تینوں لڑکیاں آج کام کر رہی ہیں۔ چھوٹے سیٹھ بھی مارے گئے تو انہوں نے کام شروع کیا ہے۔ ان کی زندگی میں یہ کام پر صرف آتی تھیں۔ ذرا سا ہاتھ پاؤں ہلا دیتی تھیں اور سارا دن مزدور عورتوں میں گھومتی پھرتی رہتی تھیں۔ ان میں سے ایک لڑکی نہا دھو کر آتی اور دو پہر کو چھوٹے سیٹھ (مقتول) کے پاس اس کمرے میں آجاتی تھی۔ کم از کم تین گھنٹے کمرے میں گزارتی تھی۔ چھوٹے سیٹھ کی ٹانگیں دباتی اور سارا جسم سہلاتی اور پھر دستِ حال کام ہوتا تھا۔ لڑکیوں کی باریاں لگی ہوئی تھیں۔ ہر روز ایک لڑکی۔ یہ لڑکیاں

 

اسی کام کی دیہاڑی لیتی تھیں۔ مہندر سیٹھ انہیں الگ پیسے بھی دیتا تھا۔”

میرا نفسیاتی تجزیہ بالکل صحیح نکلا۔ انسپکٹر جوزف بالکل خاموش بیٹھا مسکرا رہا تھا۔ مان گیا تھا کہ میں صحیح لائن پر چل رہا ہوں۔ اس نے مینیجر کے ساتھ صرف ایک بات کی۔

“خیال کرو مینیجر۔” اس نے کہا، “تم ٹھیک بولے گا تو ہم تمہارے ساتھ ٹھیک رہیں گے۔ سچ بولو۔ کسی کو مطلع نہیں ہونے دیں گے۔”

“ان لڑکیوں کے ساتھ ان کے مرد بھی یہاں کام کرتے ہوں گے؟” میں نے مینیجر سے پوچھا۔

“ہاں سرکار!” اس نے جواب دیا، “ان کے بھائی یہاں کام کرتے ہیں۔ ایک کا باپ بھی ہے۔”

“وہ اپنی لڑکیوں کو روکتے نہیں؟” میں نے پوچھا، “یا انہیں معلوم ہی نہیں کہ ان کی لڑکیوں سے کیا کام لیا جا رہا ہے؟”

“آپ انہیں کیا سمجھتے ہیں سرکار؟” مینیجر

 

نے کہا، “ان لوگوں نے پیسہ کمانا ہے۔ یہ ہر کام کر لیتے ہیں۔ ان کے باپ اور بھائی مقتول سیٹھ کو جھک کر سلام کرتے ہیں کہ وہ ان کی لڑکیوں کو بہت پیسے دیتا ہے۔”

وہ ٹھیک کہہ رہا تھا۔ میں اس کلاس کو اچھی طرح جانتا تھا۔ یہ لوگ چھوٹے موٹے جرائم بھی کر لیتے تھے۔ میں نے یہ سوچا تھا کہ دشمنی کا ایک باعث یہ بھی ہو سکتا ہے۔ میں نے مینیجر سے کہا کہ باہر جا کے دیکھے کہ سیٹھوں کے وہ غنڈے آگئے ہوں تو انہیں ہمارے پاس لے آئے۔

“مسٹر ملک۔” مینیجر کے جانے کے بعد انسپکٹر جوزف نے مجھے کہا، “میرا خیال ہے ہم یہاں وقت ضائع کر رہے ہیں۔”

“نہیں۔” میں نے کہا، “اس مینیجر سے ہمیں کچھ کام کی باتیں معلوم ہوئی ہیں۔ یہ پتہ چل گیا ہے کہ مقتول کا کردار کیا تھا۔ میرا خیال ہے کہ مقتول کسی اور عورت کے چکر

 

میں آکر قتل ہوا ہے۔ یہ جو دو غنڈے آ رہے ہیں، ان سے بھی کچھ نہ کچھ معلوم ہو جائے گا۔”

“وہ آگئے ہیں سرکار۔” مینیجر نے اندر آکر اطلاع دی۔

“انہیں اندر بھیج دو۔” میں نے کہا، “آپ باہر بیٹھیں۔”

دو آدمی اندر آئے۔ ایک کی عمر چالیس سال کے لگ بھگ اور دوسرا تیس سال۔ دونوں نے صاف ستھرے اور قیمتی کپڑے پہن رکھے تھے۔ دونوں کے چہروں پر رونق اور خود اعتمادی تھی۔ دونوں نے ہمیں جھک کر سلام کیا۔ بڑے کے چہرے کا تاثر بدل گیا۔ وہ مجھے دیکھ کر گھبرا گیا تھا اور حیران بھی ہو رہا تھا۔ میں نے اسے غور سے دیکھا تو اس کا چہرہ مانوس لگا۔

“کیا میں تمہیں جانتا ہوں؟” میں نے اس سے پوچھا۔

 

“ہاں صاحب۔” اس نے مسکرا کر جواب دیا، “آگرہ میں ملاقات ہوئی تھی۔ تین سال سے کچھ اوپر عرصہ ہو گیا ہے۔” اس نے مجھے ڈکیتی کی ایک واردات سنائی۔ یہ اس علاقے کا وارداتیا تھا اور کرائے کی غنڈہ گردی کا ماہر تھا۔ اس نے بڑی اچھی مخبری اور پھر نشاندہی کی تھی۔ میں نے اس کی راہنمائی سے ملزموں کو پکڑا تھا۔ دو ملزموں کو سزا ہوئی تھی۔ اس گینگ کے ایک آدمی نے اس سے انتقام لینا چاہا تھا۔ دونوں کی چاقوؤں سے لڑائی ہوئی تھی اور دونوں بری طرح زخمی ہوئے تھے۔ دونوں چاقو زنی کے مجرم تھے۔ دونوں نے تیز دھار ہتھیار سے ایک دوسرے کو زخمی کیا تھا لیکن میں نے اسے اس طرح بچا لیا تھا کہ دوسرے کو قاتلانہ حملے کا مجرم قرار دے دیا تھا اور اس کے متعلق میں نے موقف اختیار کیا تھا کہ اس نے اپنے دفاع (حفاظتِ خود اختیاری) میں حملہ آور کو

 

زخمی کیا ہے۔ میں نے کیس ایسا ہی تیار کیا تھا۔ اسے بچایا اور اس کے دشمن کو چار سال سزائے قید دلا دی تھی۔ نام ابراہیم تھا اور ابرا کے نام سے مشہور تھا۔

“میں تمہارا نام بھول گیا ہوں؟” میں نے کہا۔

“نام ابرا ہے صاحب!” اس نے جواب دیا، “ابراہیم۔ دو اڑھائی سال سے دہلی میں ہوں۔ یہ دارا ہے۔ پورا نام دلدار سنگھ ہے۔ موٹا سکھ ہے۔”

“کیا کرتے ہو یہاں؟”

“کوئی اچھا کام تو نہیں کرتا صاحب۔” اس نے جواب دیا، “بھاڑے (کرائے) پر چلتا ہوں۔ اچھی گزر بسر ہو رہی ہے۔ اللہ آپ کو ترقی دے۔ آپ کا احسان یاد ہے۔”

میں نے اس کے ساتھی سے کہا، “تم باہر آگے بیٹھ جاؤ۔”

میں سگریٹ نہیں پیتا تھا۔ انسپکٹر جوزف کے پیکٹ سے ایک سگریٹ نکال کر ابرے کو دیا۔

“یار تمہارے چھوٹے سیٹھ کو کون مار گیا

 

ہے؟” میں نے کہا، “اس کے گھر والے کہتے ہیں کسی سے دشمنی تھی ہی نہیں۔”

“ذرا ہمارا خیال رکھنا صاحب!” ابرے نے کہا، “ہماری گواہی نہ ڈال دینا۔ اعتبار قائم رہے تو اچھا ہوتا ہے۔ سیٹھ جوگندر پال ہمارا بہت خیال کرتا ہے۔ ہم نے اس کا رعب دبدبہ ایسا رکھا ہوا ہے کہ کسی کی جرات نہیں جو اس خاندان کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھے۔ یہ بالکل صحیح ہے ملک صاحب کہ ان کا کوئی دشمن نہیں لیکن قتل گھر سے کروایا گیا ہے۔”

“بیوی نے؟”

“آپ سمجھ گئے۔” اس نے کہا، “معلوم نہیں آپ نے اس کی بیوی کو دیکھا ہے یا نہیں۔ مہندر کو تو آپ نے دیکھا ہی نہیں ہوگا۔ یہ کوئی جوڑ نہیں تھا۔ جسم کے لحاظ سے بھی اور مزاج کے لحاظ سے بھی۔ یہ کوئی جوڑ نہیں تھا۔ دارا ان کے گھر کی باتیں مجھ سے زیادہ جانتا ہے۔ میں اسے بلا لیتا ہوں۔ سب کچھ

 

بتائے گا۔” وہ باہر گیا اور اپنے ساتھی کو ساتھ لے آیا۔ اسے آگرہ کی واردات سنائی اور کہا کہ وہ میرا احسان مند ہے۔

“ملک صاحب جو پوچھتے ہیں وہ بتا دینا۔” ابرے نے دارے سے کہا، “یہ ہمیں پردے میں رکھیں گے۔ یہ ملک صاحب میرے بڑے پرانے مہربان ہیں۔ یہ کرائم برانچ میں ہیں۔ مہندر کے قتل کی تفتیش کے لیے آئے ہیں۔”

“پردے میں نہیں رکھیں گے تو کیا ہو جائے گا؟” دارے نے کہا، “ان سیٹھوں نے ہمارا کیا بگاڑ لینا ہے۔ ملک صاحب بھی آپ کی بات تو ہم رد نہیں کر سکتے۔ مہندر کی بیوی کو میں نے دو بار ایک مسلمان کے ساتھ کہیں جاتے دیکھا بڑا خوبصورت جوان ہے۔ ایک بار وہ فوجی وردی میں تھا۔ میں یہ نہیں بتا سکتا کہ وہ لیفٹیننٹ ہے، کپتان ہے یا میجر ہے۔ وہ ہے افسر۔”

“یہ تم کیسے جان سکتے ہو کہ وہ مسلمان

 

ہے؟” میں نے کہا، “فوجی افسر ہندو ہو یا مسلمان، وردی ایک ہی جیسی ہوتی ہے۔”

“یہ اسے میں نے بتایا تھا۔” ابرے نے کہا، “ایک بار میں نے مہندر کی بیوی کو اس فوجی افسر کے ساتھ کناٹ پلیس میں دیکھا تھا۔ میں ان کے پیچھے تھا۔ آپ جانتے ہیں کناٹ پلیس میں ذرا رش ہوتا ہے۔ اس روز یہ جوان فوجی وردی میں تھا۔ آگے سے اس جیسے دو فوجی افسر آ رہے تھے۔ مہندر کی بیوی والا افسر انہیں دیکھ کر رک گیا۔ مہندر کی بیوی آگے نکل گئی۔ اس افسر نے ان دونوں افسروں کو بڑی زور سے السلام علیکم کہا اور ہاتھ ملایا۔ میں آگے نکل گیا۔”

“یہ مہندر کی شادی سے دس بارہ دن پہلے کی بات ہے۔ لڑکی اتنی خوبصورت تھی کہ میں نے اسے بہت ہی اچھی طرح دیکھا۔ تھوڑی دیر بعد میں نے ان دونوں کو پھر دیکھا۔ وہ ایک ٹیکسی کے قریب کھڑے تھے۔ میں انہیں نئے

 

بیاہے ہوئے میاں بیوی سمجھ رہا تھا اور میں نے دل میں کہا کہ کتنا خوبصورت جوڑا ہے۔ دس بارہ دنوں بعد مہندر کی شادی ہوئی تو وہ اپنی دلہن کو یہاں لایا اور اسے گھمایا پھرایا یہ کام دکھایا جو چل رہا ہے۔”

“ملک صاحب! میں نے لڑکی کو دیکھا تو مجھے اس پر یقین نہیں آ رہا تھا جو میں دیکھ رہا تھا۔ یہ وہی لڑکی تھی جسے میں نے اس فوجی افسر کے ساتھ دیکھا تھا۔ پھر میں نے کہا کہ بعض انسانوں کی شکلیں آپس میں اتنی زیادہ ملتی ہیں کہ آدمی دھوکے میں آجاتا ہے لیکن میرا دل کہتا تھا کہ یہ وہی لڑکی ہے، پھر جب ہم نے شادی کے بعد اس لڑکی کو آزادی سے باہر نکلتے اور گھومتے پھرتے دیکھا تو مجھے یقین ہو گیا کہ یہ وہی ہے۔ شادی کے بعد دارے نے دوبارہ مجھے بتایا کہ اس نے مہندر کی بیوی کو ایک بڑے خوبصورت اور جوان فوجی افسر کے ساتھ

 

دیکھا تو میں نے اسے کہا کہ وہ مسلمان ہے کہنے لگا کہ سیٹھ کو بتا دیتے ہیں کہ یہ لڑکی ٹھیک نہیں۔ میں نے اسے کہا کہ یہ بڑے لوگ ہیں، یہ الٹا ہم پر الزام دھر دیں گے کہ ہم ان کی لڑکی کو بدنام کر رہے ہیں۔ یہ ہماری بات نہیں مانیں گے۔”

“تم یہ تو نہیں بتا سکتے کہ یہ میاں بیوی آپس میں کس طرح رہتے تھے؟” میں نے پوچھا۔

“میں بتا سکتا ہوں۔” دارے نے کہا، “میں مسلمان نہیں، سکھ ہوں۔ چونکہ میں نے داڑھی نہیں رکھی اور کیس (سر کے بال بھی نہیں) اس لیے یہ لوگ مجھے ہندو سمجھتے ہیں۔ میرا ان کے گھر آنا جانا لگا رہتا ہے۔ ان کے دو نوکر میرے یار ہیں۔ کچھ تو میں نے خود دیکھا ہے اور زیادہ باتیں نوکروں نے بتائی ہیں۔ مہندر اپنی بیوی کا غلام بنا ہوا تھا۔ بیوی اس پر اپنا حکم چلاتی تھی۔ کچھ دن ہی گزرے تھے وہ مہندر کو ماں باپ سے الگ کر کے لے

 

گئی۔ اتنی ہوشیار لڑکی ہے کہ اس نے مہندر کے ماں باپ اور اس گھر کے ہر فرد کے ساتھ تعلق اتنا پیارا رکھا کہ ہر کوئی اس کی تعریف کرتا تھا۔”

میں نے انسپکٹر جوزف سے کہا کہ مقتول کی بیوی اسے اس فلیٹ میں صرف اس مقصد کے لیے لے آئی تھی کہ اس فوجی افسر سے ملنے میں سہولت رہے۔ مقتول تو صبح کا گیا ہوا شام کے بعد واپس آتا تھا۔ اس کے سوا اس کا اور کوئی مقصد ہو ہی نہیں سکتا تھا۔

جوزف نے کہا، “نہ اس فلیٹ میں رہنے والے ان کے پڑوسیوں سے معلوم کیا جا سکتا ہے۔ اس کی نوکرانی بھی ہے۔ اس سے ڈرا دھمکا کر پوچھیں گے۔”

“اب اس لڑکی نے غائب ہونا ہے۔” میں نے کہا، “اور اس آرمی آفیسر کے ساتھ شادی کرنی ہے۔” ہم نے یہ بات انگریزی میں کی تھی تاکہ ابرا اور دارا نہ سمجھ سکیں۔ ان دونوں نے

 

ہمیں راستے پر ڈال دیا تھا۔ ان سے میں نے چند اور ضروری باتیں پوچھیں۔

“سیٹھ بھی کوئی آدمی تھا ملک صاحب؟” ابرے بولا، “خدا نے اتنی خوبصورت بیوی دی اور یہ سیٹھ صاحب اس کمرے میں مزدور لڑکیوں کے ساتھ جھک مار رہے ہیں۔”

میں نے ان دونوں سے کہا کہ وہ چاہیں تو سی آئی اے میں انفارمر (مخبر) بن جائیں، انہیں بہت معاوضہ دلاؤں گا۔ سیٹھ کا کام بھی جاری رکھیں۔ انسپکٹر جوزف نے انہیں کہا کہ اس کیس میں انہوں نے ہماری جو مدد کی ہے اس کا انہیں انعام ملے گا اور دو تین دنوں میں مل جائے گا۔

اب ہمیں وہاں مزید رکنے کی ضرورت نہیں تھی۔ مینیجر کو بھی میں نے اندر بلا لیا اور ان تینوں سے کہا کہ جوگندر پال یہاں آئے تو اسے یہ بتا دیں کہ ہم یہاں آئے تھے اور گھوم پھر کر یہ کمرہ دیکھ کر چلے گئے تھے۔ یہ نہ

 

بتائیں کہ ان کے ساتھ کیا باتیں ہوئی تھیں۔ ہم واپس آگئے۔ اب ہمارے ذہن سے بوجھ کم ہو گیا تھا۔ ہم نے تین افراد کو اپنے ہیڈ کوارٹر میں بلانے کا پروگرام بنا لیا۔ ان میں سے سب سے زیادہ اہم مقتول کی بیوی کی نوکرانی تھی جو اس کے ساتھ فلیٹ میں رہتی تھی۔ ہم جب وہاں گئے تھے تو چائے کی ٹرے وہی لائی اور ہمارے آگے رکھی تھی۔ میں نے اسے پولیس کی نظروں سے دیکھا تھا۔ اس کی عمر کم و بیش چالیس سال تھی۔ اس کا رنگ گندمی اور نقش تیز تھے۔ اس کی آنکھوں میں کوئی خاص بات تھی۔ صاف محسوس ہوتا تھا کہ یہ آنکھیں اپنے اندر کوئی ایسا تاثر یا اثر رکھتی ہیں کہ کوئی عام سا آدمی ان آنکھوں کا سامنا نہیں کر سکتا۔ مختصر یہ کہ یہ عورت عام گھریلو نوکرانیوں سے بالکل مختلف تھی اور یہ قابلِ تعریف کردار کی عورت نہیں تھی۔

 

میں نے باہر آکر انسپکٹر جوزف سے کہا تھا کہ یہ نوکرانی شاید کسی وقت ہمارے کام آئے۔ اس کی آنکھوں میں کچھ راز ہیں۔ باقی جن دو افراد کو بلانا تھا وہ مقتول کی بیوی کے پڑوسی تھے۔ ایک دائیں طرف کے گھر والا اور ایک بائیں طرف رہنے والا۔ “تینوں کو ایک ہی بار نہیں بلائیں گے۔” انسپکٹر جوزف نے کہا، “پہلے نوکرانی کو بلائیں گے۔ اگر اس نے راز اگل دیا تو پڑوسیوں کی ضرورت نہیں رہے گی۔” ہم نے اُسی دن کے پچھلے پہر اپنی برانچ کے ایک اے ایس آئی کو تحریری سمن دے کر بھیج دیا کہ اس نوکرانی کو ساتھ لے آئے۔

جہاں تک مجھے یاد ہے، یہ نوکرانی چار بجے سے کچھ پہلے آگئی۔ اے ایس آئی نے بتایا کہ مقتول کی بیوہ کو بتایا کہ اس کی نوکرانی کو اپنے ساتھ تفتیش کے لیے لے جاتا ہے تو یکلخت اس کے چہرے کا رنگ پیلا پڑ گیا اور آنکھیں سفید ہو گئیں۔

 

“آپ اتنی زیادہ نروس کیوں ہو گئی ہیں؟” اے ایس آئی نے اسے کہا، “اس سے کچھ باتیں پوچھنی ہیں پھر میں اسے خود یہاں چھوڑ جاؤں گا۔ آپ کو ذرا سا بھی پریشان نہیں ہونا چاہیے۔” ہمیں اس کی پریشانی کا کوئی خیال نہیں تھا۔ یہ تو ڈپلومیسی تھی کہ اے ایس آئی اسے تسلیاں دے رہا تھا۔ پولیس جس کسی کو بھی شاملِ تفتیش کرتی ہے اس کے گھر والے پریشان ہوتے ہیں۔ منتیں کرتے ہیں، رشوت بھی پیش کرتے ہیں کہ ان کے آدمی کو تھانے نہ بلایا جائے۔ نوکرانی آئی۔ انسپکٹر جوزف نے مجھے کہا کہ میں اکیلا اس سے پوچھ گچھ کروں کیونکہ انگریز افسر کی موجودگی میں یہ عورت گھبرائے گی۔ یہ اللہ کا کرم تھا کہ میری ساکھ ایسی بن گئی تھی کہ انگریز افسر مجھ پر بھروسہ کرتے اور میری رائے اور میرے فیصلوں کو مانتے تھے۔

میں نوکرانی کو تفتیش کے کمرے میں لے گیا اور کرسی پر بٹھا دیا۔

اس نے اپنا نام رانی بتایا اور میرے اس سوال کے جواب میں کہ وہ کب سے ان لوگوں کے ہاں ملازمہ ہے، بڑی اہم بات بتائی کہ وہ مقتول کے گھر کی نوکرانی نہیں بلکہ وہ کنول (مقتول کی بیوہ) کے میکے گھر میں اُس وقت سے نوکری کر رہی ہے جب کنول چودہ پندرہ سال کی تھی۔ کنول کی شادی ہوئی تو کنول اپنے خاوند کے ساتھ فلیٹ میں آگئی۔ یہاں آتے ہی اس نے اپنے میکے گھر سے اس نوکرانی کو بلالیا۔ “کیوں؟” میں نے پوچھا، “تمہارے ساتھ کنول کو بہت پیار تھا؟”

“یہ چھوٹی سی تھی جب میں اس گھر میں آئی تھی۔” اس نے جواب دیا، “یہ میرے دل کو بڑی اچھی لگتی تھی۔ اس کے دل میں میرا پیار پیدا ہو گیا۔”

“دیکھو رانی۔” میں نے کہا، “گھبرانا نہیں اور یہاں اپنے آپ کو نوکرانی نہ سمجھنا۔ ہم تمہاری عزت کریں گے لیکن شرط یہ ہے کہ تم نے جھوٹ نہیں بولنا۔ اگر جھوٹ بولو گی یا کوئی بات چھپا لو گی تو یہ بات ہمیں دوسرے ذرائع سے معلوم ہو جائے گی۔ ہم کل تمہارے مالکوں کے گھر گئے تھے۔ کنول کے بھائی نے ہمیں بہت سی باتیں بتائی ہیں۔ کچھ باتیں تمہارے پڑوسیوں سے معلوم ہوئی ہیں۔ اگر تم کوئی بات چھپا کر رکھو گی تو پھر تمہیں یہاں سے ہم جانے نہیں دیں گے۔ پولیس کے آگے جھوٹ بولنا جرم ہے جس کی سزا ملتی ہے۔ تم نوکرانی ہو، غریب عورت ہو۔ ان امیر لوگوں کے معاملات میں نہ پڑو۔ میں تمہارے مالکوں کو پتہ نہیں چلنے دوں گا کہ تم نے ہمیں کیا بتایا ہے۔”

اس طرح میں نے اسے بڑے پیارے انداز میں ڈرایا اور چند اور ایسی باتیں کیں جن سے اسے پھونک ملی اور اس کے چہرے کا کھچاؤ کم ہو گیا۔ میں نے اپنے شک کے مطابق ہوا میں تیر چلایا۔ “ہمیں یہ معلوم ہو چکا ہے کہ تمہاری مالکہ کنول کی دوستی ایک مسلمان کے ساتھ ہے۔” میں نے کہا، “وہ فوجی افسر ہے اور کبھی کبھی وہ فلیٹ میں بھی کنول کے پاس آیا کرتا ہے۔ اب اگر تم اپنی مالکن پر پردہ ڈالنے کے لیے جھوٹ بولو گی کہ نہیں یہ غلط ہے تو اس میں تمہارا ہی نقصان ہے۔ ہم جانتے ہیں یہ بات سچ ہے۔ پھر یہ ہوگا کہ ہم تمہیں جھوٹ بولنے کے جرم میں گرفتار کرلیں گے۔” 

 “میں اتنے بڑے افسروں کے آگے جھوٹ کیوں بولوں کی مہاراج!” اس نے مرعوب آواز میں کہا، “ایک عرض کروں گی۔ میں بچوں والی ہوں۔ خاوند کو بڑا بخار (ٹائی فائیڈ) ہوا تھا۔ اس سے اس کا دایاں بازو اکڑ گیا تھا۔ وہ گھر میں بچوں کی دیکھ بھال کے سوا کوئی اور کام نہیں کر سکتا۔ کنول دیوی کی مہربانی ہے کہ میں معذور خاوند اور تین بچوں کا پیٹ پال رہی ہوں۔ اگر کنول کو پتہ چل جائے کہ میں نے اس کا بھید کھول دیا ہے تو میرے بچوں کا کیا بنے گا؟ نہ آپ کا حکم ٹال سکتی ہوں نہ اپنی مالکن کا۔ اس کا حکم ہے کہ اس کی کوئی بات کسی کو نہیں بتائی جائے۔”

 

نوکروں اور مزارعوں کی یہ بہت بڑی مجبوری ہوتی ہے کہ وہ اپنے آقاؤں کو ناراض کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے لیکن یہ بد قسمت لوگ جب پولیس کے ہاتھوں میں آجاتے ہیں تو ان پر نزع جیسی حالت طاری ہو جاتی ہے۔ انہیں موت نظر آتی ہے پر کچھ کر نہیں سکتے۔ تفتیش کرنے والے افسر کو ایک انسان کی حیثیت سے ان کی رحم آتی ہے لیکن اس کی ذمہ داری ایسی ہوتی ہے جسے وہ انسانی ہمدردی پر قربان نہیں کر سکتا۔

میں ایسے نوکروں چاکروں کو تسلیاں دینا جانتا تھا۔ میری کوشش یہ بھی ہوتی تھی کہ ان نوکروں اور مزارعوں کو پردے میں ہی رکھوں کیونکہ ان کے آقا ان کے خلاف انتقامی کارروائیاں کرتے تھے جو انتہائی ظالمانہ ہوتی تھیں۔ یہ کارروائیاں آج بھی ہوتی ہیں۔ راز فاش کرنے والے مزارعے کی جوان بیٹی اغوا ہو جائے گی۔ گاؤں میں اس کا حقہ پانی بند کر دیا جائے گا۔ اس کے بچوں کو بھوکا مار دیا جائے گا۔ یہ نوکرانی جو میرے سامنے بیٹھی تھی، کوئی سادہ طبیعت کی بدھو عورت نہیں تھی۔ اس کا چہرہ، آنکھیں اور اس کا انداز بتا رہا تھا کہ ذہنی طور پر زندہ و بیدار اور حاضر دماغ ہے اور اگر اسے اپنے اثر میں لے لیا جائے تو سمجھو قارون کا خزانہ ہاتھ آگیا۔ میں نے اسے اپنے مخصوص پر اثر انداز سے یقین دلایا کہ اس کی مالکن کو پتہ نہیں چلے گا۔ “آپ کو ٹھیک بتایا گیا ہے۔” اس نے کہا، “میں آپ کو ساری بات بتا دیتی ہوں۔ میں تو کنول کی نوکرانی ہوں لیکن اس کی رازدار ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے مجھے اپنے ساتھ رکھا ہوا ہے۔ یہ جب کالج پڑھتی تھی تو بھی میں اس کی رازدار تھی۔ میں آپ کو یہ بتادوں کہ راز صرف اتنا سا ہے کہ اس کی دوستی ایک مسلمان فوجی افسر کے ساتھ ہے جو شادی سے پہلے کی ہے۔ یہ بھی بتا دیتی ہوں کہ ان کی دوستی ناجائز تعلقات والی ہے۔ میں یہ نہیں بتا سکتی کہ شادی سے پہلے بھی ان کے تعلقات جسمانی تھے یا نہیں۔ یہ یقین سے کہتی ہوں کہ شادی کے بعد ان کے تعلقات میاں بیوی والے ہو گئے تھے۔”

میں نے اس سے کچھ باتیں پوچھیں جو اس نے صاف صاف بتا دیں۔ اس نے ایک عجیب بات سنائی۔ شادی کے بعد کنول اپنے خاوند کو اس کے گھر والوں سے الگ کر کے لے آئی تھی۔ یہ فلیٹ کنول کے بھائی نے اسے کرائے پر لے دیا تھا۔ کنول نے فلیٹ میں آتے ہی اس نوکرانی کو اپنے والدین کے گھر سے بلا کر اپنے پاس رکھ لیا تھا۔ کنول کا خاوند صبح گھر سے نکلتا اور رات کو واپس آتا تھا۔ فلیٹ میں آنے کے ایک ہفتے بعد مقتول کو کاروبار کے سلسلے میں لاہور جانا پڑا۔ وہ دوپہر کی ریل گاڑی سے گیا۔ کنول نوکرانی کو بتا کر کہیں چلی گئی۔ ڈیڑھ دو گھنٹے بعد واپس آئی اور نوکرانی کو بتایا کہ آج ہوٹل میں ظفر کے ساتھ جائے گی اور ظفر رات یہیں رہے گا۔ ظفر اس کے آشنا فوجی افسر کا نام تھا۔ کنول نے نوکرانی سے کہا کہ وہ بیڈ روم کو بہت اچھی طرح صاف کرے اور شام کو کناٹ پلیس سے گلاب اور موتی کے پھولوں کے چھ ہار لا کر بیڈ روم میں رکھ دے۔ سورج غروب ہونے کے کوئی ایک گھنٹہ بعد کنول نے خاص طور پر بناؤ سنگار کیا اور وہ کپڑے پہنے جن میں وہ دلہن بن کر اپنے سسرال آئی تھی۔ “تم کھانا کھا لینا رانی۔” اس نے نوکرانی سے کہا، “ادھر سے (یعنی سسرال سے) کوئی آجائے تو کہنا کہ کنول کی دو پرانی کلاس فیلو آگئی تھیں اور وہ اسے زبردستی پکچر دیکھنے کے لیے لے گئی ہیں۔ انہیں چلتا کرنا۔ واپسی پر ظفر میرے ساتھ ہوگا۔ اگر گھر میں کوئی ہوا تو تم باہر برآمدے میں رہنا۔” کنول نے اسے اپنی واپسی کا اندازِ وقت بتایا۔

 

کنول ڈیڑھ دو گھنٹوں بعد واپس آگئی۔ ظفر اس کے ساتھ تھا۔ دونوں بیڈ روم میں چلے گئے اور سحر کے وقت باہر نکلے۔ ظفر ناشتہ کیے بغیر چلا گیا۔ کنول عروسی لباس میں تھی۔ اس نے نوکرانی کو پچیس روپے انعام دیا۔ اسے آج کا پانچ سو روپیہ کہہ لیں۔ نوکرانی نے بتایا کہ اگلی رات ظفر پھر آیا اور رات بارہ بجے کے بعد گیا تھا۔ پھر مہندر پال (مقتول خاوند) آگیا۔ اس کے بعد ظفر دن کے وقت ہفتے میں ایک بار آتا اور جلد ہی چلا جاتا تھا۔ وہ نوکرانی کو ہر بار دس روپے دے جاتا تھا۔

“کنول بڑی ہوشیار لڑکی ہے۔” نوکرانی نے بتایا، “اس نے اپنے سسرال کے بچے سے لے کر بوڑھے تک کو اتنا خوش رکھا ہوا تھا کہ وہ تو اس پر جان چھڑکتے تھے۔ ہسنے اور ہسانے والی لڑکی ہے۔ تیسرے چوتھے دن سسرال والوں کے گھر چلی جاتی تھی۔”

 

“خاوند کے ساتھ کس طرح رہتی تھی؟” میں نے پوچھا۔

“کچی کچی رہتی نہیں مہاراج۔” نوکرانی نے جواب دیا، “گھر کی نوکرانی تو میں ہوں۔ مہندر جی کی جو خدمت مجھے کرنی چاہیے تھی وہ کنول کرتی تھی۔ وہ شام کو آتے تو کنول ان کے جوتوں کے تسمے کھولنے بیٹھ جاتی تھی۔ مہندر جی اسے ہر روز منع کرتے تھے لیکن کنول زبردستی ان کے تسمے کھولتی تھی۔ وہ رات کو جتنی بھی دیر سے آتے کنول ان کے ساتھ کھانا کھاتی تھی۔ ان کے ساتھ ہوکر ان کے کپڑے تبدیل کراتی تھی۔ وہ صبح تیار ہو کر نکلتے تو کنول ان سے بغلگیر ہوکر انہیں رخصت کرتی تھی۔”

“لیکن رانی؟” میں نے کہا، “میں نے سنا ہے کنول کا خاوند تو مٹی کا مدھو تھا۔”

“مہاراج جی!” رانی نے جواب دیا، “مٹی کا مدھو اگر کسی نے بنایا تھا تو اچھا ہی بنایا ہوگا لیکن مہندر جی کا کیا بتاؤں۔ جس طرح اس کے جسم میں غبارے کی طرح ہوا بھری ہوئی تھی اسی طرح اس کے دماغ میں بھی ہوا ہی بھری ہوئی تھی۔ ایک شام وہ ذرا جلدی گھر آگیا۔ کنول کو اطلاع ملی تھی کہ اس کی ماں کو تیز بخار ہے۔ وہ مجھے یہ بتا کر چلی گئی کہ شام کو آجائے گی۔ اس کے آنے سے پہلے مہندر آگیا۔ میں نے اسے بتایا کہ کنول کچھ دیر تک آجائے گی۔ مہندر نے مجھے ہی کنول سمجھ لیا اور اپنے بازوؤں میں مجھے لے کر گود میں بٹھایا۔ پھر مجھے پانچ روپے دیے۔”

“میرا تو خیال ہے کہ کنول اس سے نفرت کرتی ہوگی۔” میں نے کہا۔

“یہ گول گپا نفرت کے قابل ہی تھا۔” نوکرانی نے کہا، “لیکن اس کے ساتھ کنول کا جو سلوک اور رویہ تھا وہ آپ کو بتایا ہے۔ اس کے جواب میں مہندر جی کا یہ حال تھا کہ کنول کی پوجا کرتے تھے۔ میرا خیال ہے کہ تنہائی میں کنول کے پاؤں بھی چاٹتے ہوں گے۔ کنول کے منہ سے بات نکلی اور مہندر جی نے پوری کی۔ وہ تو کنول کا غلام تھا۔ شادی کے کچھ ہی دنوں بعد کنول نے کہا کہ وہ علیحدہ رہنا چاہتی ہے تو مہندر جی نے اسے ایک بار بھی نہ کہا کہ ماں باپ سے الگ ہو جانا ٹھیک نہیں ہوتا۔ انہوں نے اگلے ہی روز کرائے کی رہائش کا بندوبست کر لیا اور اس فلیٹ میں آگئے۔” اس طرح کچھ اور واقعات اور باتیں سنا کر رانی نے بڑی اچھی طرح واضح کر دیا کہ کنول اپنے خاوند کے ساتھ غلامانہ حرکات کر کے اسے الو بناتی رہتی تھی اور خاوند صحیح میں اس کا غلام بن کر اسے خوش رکھنے کی کوشش میں لگا رہتا تھا۔ یہ تو نوکرانی نے ثابت کرہی دیا تھا کہ کنول اپنے خاوند کے ساتھ بے وفائی کر رہی تھی۔

“اب ایک اور ضروری بات بتاؤ رانی۔” میں نے پوچھا، “مہندر رات کو قتل ہوا تھا۔ اس دن کنول کہیں باہر گئی تھی؟”

“نہیں۔” اس نے جواب دیا، “اس سے ایک روز پہلے ظفر آیا تھا اور ایک گھنٹہ کنول کے ساتھ گزار گیا تھا۔ دوسرے دن مہندر جی صبح اپنے کام پر جانے کے لیے تیار ہو گئے تو کنول نے مجھے بتایا کہ وہ ان کے ساتھ جا رہی ہے اور آج دن وہ سسرال میں گزارے گی اور رات ہم دیر سے واپس آئیں گے۔ مہندر جی اسے اپنے گھر چھوڑ گئے۔ مجھے دوسرے دن خبر ملی تھی کہ مہندر جی کو کسی دشمن نے گولی مار دی ہے۔ میں نے گھر کو تالا لگایا اور وہاں چلی گئی۔”

“کنول کس حالت میں تھی؟” میں نے پوچھا۔

“دکھاوے کے آنسو بہاتی ہوگی۔”

“نہیں مہاراج!” اس نے جواب دیا، “اس کا رونا دکھاوے کا نہیں تھا۔ ایک دن میں وہ دو بار بے ہوش ہوئی۔ اس کے دانت بڑی مشکل سے اکھاڑے گئے تھے۔ دانتوں کے درمیان دو چھوٹے چمچ پھنسا دیے گئے تھے۔ اسے ہوش آتی تھی تو اپنے بال نوچتی اور اپنے منہ پر زور زور سے دوہتر مارتی تھی۔ اس کا چہرہ گہرا لال ہو گیا تھا۔ ڈاکٹر کو بلا کر انجکشن دیا گیا تو اس کی حالت ذرا سی سنبھل گئی۔”

اس نے تفصیل سے سنایا کہ کنول کی حالت اتنی زیادہ بگڑ گئی کہ ڈاکٹر ایک دن اور ایک رات ان کے گھر میں رہا۔ میں نے سوچا کہ یہ نوکرانی اگر مبالغہ نہیں کر رہی تو یہ ایکٹنگ نہیں تھی۔ ایکٹنگ کی ایک حد ہوتی ہے۔

“وہ ابھی تک سنبھلی نہیں۔” رانی نے کہا، “پہلے والی حالت ہے۔ اس نے تو رو رو کر بے ہوش ہونا ہی ہے مہاراج۔ اس کا یہ خاوند اچھا تھا، بڑا تھا، چاہے بہت ہی برا تھا۔ کنول کو اب ساری عمر دوسرا خاوند نہیں مل سکتا۔ اس کی زندگی اس طرح اندھیر ہو گئی ہے کہ وہ دھتکاری گئی ہے۔ عورتیں اس سے دور ہٹ گئی ہیں۔ اس نے تمام زیور اتار پھینکے ہیں اور اب نہایت معمولی قسم کے کپڑے پہنتی ہے۔ اسے تو اپنے گھر تک نہیں مل سکتا۔ یہ خوش قسمت ہے کہ اس کے بھائی سدھیر جی کے دل میں زیادہ پیار ہے کہ انہوں نے اسے کہا کہ اسی فلیٹ میں رہو اور وہ کرایہ دیتا رہے گا۔”

“ظفر آیا ہوگا؟” میں نے کہا۔

“کنول مہندر جی کے مرنے کے تیسرے روز فلیٹ میں آگئی تھی۔” رانی نے کہا، “اس کے دو تین دن بعد ظفر آیا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ سدھیر جی صبح اپنے کاروبار پر چلے جاتے ہیں اور شام کو آتے ہیں۔ اس کے بعد ظفر دو بار آیا تھا۔”

“ان کی آپس کی باتیں تم نے نہیں سنیں؟”

“نہیں مہاراج جی۔” رانی نے جواب دیا، “وہ دونوں بیڈ روم میں بیٹھتے ہیں اور دروازہ اندر سے بند کر لیتے ہیں۔ میری ڈیوٹی یہ ہوتی ہے کہ پہرہ دوں۔ کوئی آجائے تو انہیں اطلاع

 

دوں۔ فلیٹ کے پیچھے لوہے کی گول سیڑھی ہے۔ ظفر ادھر سے آسانی سے بھاگ سکتا ہے لیکن ابھی تک ایک بار بھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی آگیا ہو۔ آنا بھی کس نے ہے؟ کنول کی بڑی گہری سیلیاں بھی نہیں آتیں۔”

“اب ایک ایسی بات پوچھوں گا جو تم نہیں بتاؤ گی۔” میں نے کہا، “جہاں تم نے کوئی راز چھپا نہیں رہنے دیا وہاں یہ راز بھی دے دو۔ تم عقل والی عورت ہو۔ کیا تم نے یہ نہیں سوچا کہ کنول نے اپنے خاوند کو ظفر کے ہاتھوں مروایا ہوگا اور کچھ وقت گزرنے کے بعد وہ ظفر کے ساتھ غائب ہو کر مسلمان ہو جائے گی اور اس کے ساتھ شادی کرلے گی؟ تم کنول کی رازدار ہو۔ میرا خیال ہے اس نے تمہیں یہ راز بھی دے دیا ہوگا۔”

“نہیں مہاراج!” اس نے جواب دیا، “کنول نے مجھے ایسا کوئی راز نہیں دیا۔ میں نے خود بہت سوچا ہے کہ کنول کو کس نے ہلاک کیا ہے۔ گھوم پھر کر خیال یہیں پر آکر رک جاتا ہے کہ کنول نے قتل کروایا ہے اور ظفر نے قتل کیا ہے۔ پھر میں نے یہ بھی سوچا کہ کنول نے اگر ظفر کے ساتھ ہی شادی کرنی تھی تو شادی سے پہلے اس کے ساتھ بھاگ جاتی۔ شادی کر کے خاوند کو قتل کرانے کی کیا ضرورت تھی؟ ویلکن مہاراج ہی کبھی یہ شک بھی ہوتا ہے کہ ظفر قاتل نہیں اور کنول اپنے خاوند کو قتل نہیں کروانا چاہتی تھی۔ مجھے اس کا رونا بے ہوش ہو جانا اپنے بال اور چہرہ نوچنا یاد آتا ہے تو میں کہتی ہوں کہ کنول اپنے خاوند کو زندہ رکھنا چاہتی تھی۔ ایک اور بات مہاراج میں نے بھی دنیا کو آنکھیں کھول کر دیکھا ہے لیکن آپ زیادہ تجربے والے ہیں۔ آپ خود غور کریں۔ مہندر جی کے مرنے کے بعد ظفر کنول کے پاس آتا رہا اور وہ بیڈ روم میں بیٹھے رہتے تھے۔ ہر بار دو گھنٹے تو ضرور بیٹھتے تھے پھر کنول دروازے تک اس کے ساتھ جاتی تھی۔

 

تین چار دن پہلے یعنی جس دن آپ ہمارے گھر آئے اس سے دو دن پہلے ظفر دن کے وقت آیا اور پہلے کی طرح کنول کے ساتھ بیڈ روم میں چلا گیا۔ کنول کی ذہنی حالت بہتر ہو گئی تھی۔”

میں ڈرائنگ روم میں قالین پر صفائی والی مشین پھیر رہی تھی۔ کنول اور ظفر کو بیڈ روم میں گئے ابھی آدھا گھنٹہ بھی نہیں گزرا تھا کہ اس کمرے سے کنول کی بڑی اونچی اونچی آوازیں آنے لگیں۔ وہ غصے میں بول رہی تھی۔ بیڈ روم کا دروازہ کھلا تو کنول غصے کی حالت میں کہہ رہی تھی، “نکل جا یہاں سے۔ میں پھر کبھی تمہاری صورت نہ دیکھوں۔” ظفر کہہ رہا تھا، “ذرا ہوش میں آؤ کنول!” لیکن کنول اس کی سن ہی نہیں رہی تھی۔ اس نے کہا، “اگر تو یہاں سے نہ نکلا تو میں پولیس کو بلالوں گی۔ تجھے کس نے کہا تھا کہ مجھے بیوہ کر دے۔” اس نے ظفر کو دھکے دے کر گھر سے نکال دیا اور دروازہ بند کر کے اتنی روئی کہ اس کی ہچکی بندھ گئی۔ بیڈ روم میں پلنگ پر اوندھے منہ لیٹی اور بچوں کی طرح روتی چلی گئی۔ میں نے اسے بہلانے کی کوشش کی۔ وہ اور زیادہ رونے لگی۔ وجہ پوچھی لیکن اس نے جیسے میری بات سنی ہی نہ ہو۔

“اس کی حالت بگڑتی ہی گئی۔ شام کو اس کے بھائی سدھیر جی آئے تو اس کی یہ حالت دیکھ کر ڈاکٹر کو لے آئے۔ ڈاکٹر نے انجکشن تو نہیں دیا دوائیاں دی تھیں۔ اب کنول یہ دوائیاں لیتی ہے اور زیادہ وقت سوئی رہتی ہے۔ کل بھی ڈاکٹر آیا تھا۔ کنول کے ساتھ بند کمرے میں بہت دیر بیٹھا رہا تھا۔ اس کے جانے کے بعد میں نے دیکھا کہ کنول کی حالت بہتر ہو گئی تھی۔” رانی نے ہمارا کام کر دیا تھا۔ انسپکٹر جوزف دوسرے کمرے میں بیٹھا تھا۔ میں نے اسے جا کر تفصیل سے سنایا کہ اس نوکرانی نے کیا بیان دیا ہے اور میں نے اس سے اور کیا کچھ اگلوایا ہے۔ جوزف اتنا خوش ہوا کہ اس نے جیب سے دس روپے نکالے اور کہا، “اسے دے دو، ہم محکمے سے وصول کرلیں گے۔” میں نے رانی کے پاس آکر اسے دس روپے دیے اور اچھی طرح سمجھا دیا کہ وہ کنول اور اس کے بھائی کو نہ بتائے کہ اس نے ہمیں کیا کیا بتایا ہے، بلکہ یہ کہے کہ دو گھنٹے تو انتظار میں باہر بٹھائے رکھا پھر اندر بلا کر صرف دس منٹ گھر کی دو تین باتیں پوچھیں اور دس روپے خرچہ دے کر واپس بھیج دیا۔

اس کے جانے کے بعد میں نے جوزف کے ساتھ صلاح مشورہ کیا۔ اب کنول کے پڑوسیوں کی ضرورت نہیں رہی تھی۔ اب اس ڈاکٹر سے ملنا ضروری ہو گیا تھا جو کنول کا علاج کر رہا تھا۔ رانی نے بتایا تھا کہ خاوند کے قتل پر کنول کی ذہنی حالت بہت بری ہوئی تھی پھر سنبھل گئی تھی پھر ظفر کے ساتھ اس کی کوئی گڑ بڑ ہوئی تو اس کی ذہنی حالت پھر اتنی بگڑ گئی کہ ڈاکٹر کو بلانا پڑا۔ ہم جب کنول کے گھر گئے تھے تو میں نے اس کے بھائی سے اس ڈاکٹر کا ایڈریس لے لیا تھا۔ میں اور جوزف اسی روز اس کے کلینک کے وقت کلینک میں جا پہنچے اور اپنا تعارف کرایا۔ وہ تقریباً پچاس برس عمر کا آدمی تھا۔ دماغی امراض کا ڈاکٹر تھا۔ ایک سرکاری ہسپتال میں ملازمت بھی کرتا تھا۔ وہ ہندو تھا۔ اس وقت کے ڈاکٹروں کے متعلق کچھ بتانا ضروری سمجھتا ہوں۔ آج کے ڈاکٹر علاج معالجہ نہیں کاروبار کرتے ہیں۔ اس وقت کے ڈاکٹر صحیح معنوں میں مسیحا تھے۔ ان کے دلوں میں انسانوں کی ہمدردی تھی اور اپنے پیشے کے تقدس کا خیال رکھتے تھے۔ آج کل دماغی امراض کے ڈاکٹر مریض سے صرف اتنا سنتے ہیں کہ اسے کوئی ذہنی تکلیف ہے۔ یہ نہیں پوچھتے کہ اس تکلیف کا باعث کیا ہے۔ ذرا سی بھی تحقیقات نہیں کرتے اور ذہنی سکون کی گولیاں (ٹرانکولائزر) دے دیتے ہیں۔ ہمارے زمانوں کے ذہنی امراض کے ڈاکٹروں کا انداز کچھ اور ہوتا تھا۔ پولیس کی طرح بیماری کی بڑی محنت سے تفتیش کرتے تھے۔ ذہنی سکون کی گولیاں تو وہ کسی ایسے ذہنی مریض کو دیتے تھے جو واقعی ضروری ہوتا تھا۔ بات یہ ہے کہ اس دور میں ذہنی مریض بہت ہی کم ہوتے تھے۔ ڈپریشن سے بھی کوئی واقف نہیں تھا۔ آج کل تو ہر تیسرا آدمی ڈپریشن کا مریض ہے۔ عورتوں میں یہ مرض زیادہ ہے۔ ڈاکٹروں کی چاندی ہے۔

ہم اس ہندو ڈاکٹر کے پاس گئے اور مقتول کی بیوہ کا حوالہ دیا۔ یہ تو اسے معلوم تھا کہ کنول کا خاوند قتل ہو گیا ہے۔ پہلے دن کنول بے ہوش ہوئی تو اسی ڈاکٹر نے وہاں جا کر اسے انجکشن دیا تھا۔ اس نے ہمیں بتایا کہ کنول پر صدمے کا اثر تھا۔ “اتنا تو ہم بھی سمجھتے ہیں کہ یہ صدمے کا اثر ہے۔” انسپکٹر جوزف نے کہا، “ہم قاتل کی تلاش میں ہیں۔ ہمیں شک ہے کہ آپ کی مریضہ کو معلوم ہے کہ قاتل کون ہے۔”

ہم نے دیکھا کہ ڈاکٹر کے ہونٹوں پر تعجب کا تاثر آیا اور وہ سوچ میں پڑ گیا۔

“کل پر سوں کنول کے ساتھ آپ کی بڑی لمبی گفتگو ہوئی ہے۔” میں نے کہا، “اس کے بعد وہ خاصی بہتر ہو گئی تھی۔” میں نے اسے ہندو سمجھتے ہوئے کہا، “ہمیں یہ بھی شک ہے کہ قاتل مسلمان ہے۔ اس قاتل کو زیادہ دیر آزاد نہیں رہنا چاہیے۔” مجھے معلوم تھا کہ مسلمان کا لفظ سن کر ہی یہ ہندو بچھو کی طرح ڈنک کھڑا کر لے گا۔

“مریضہ کے ضمیر پر جرم کا بوجھ ہے۔” ڈاکٹر نے کہا، “میں نے خود اس سے پوچھا تھا۔ خاوند کی موت کا غم تو ہے ہی۔ ہندو عورت کے لیے یہ صدمہ دوہرا ہوتا ہے۔ وہ اس طرح کہ اسے ساری عمر بیوہ رہنا ہوتا ہے لیکن اس مریضہ کو میں نے کریدا تو پتہ چلا کہ یہ کوئی ایسا کام کر بیٹھی ہے جو اسے نہیں کرنا چاہیے تھا۔”

“کیا آپ نے محسوس نہیں کیا کہ اس نے اپنے خاوند کو قتل کروایا ہے؟” انسپکٹر جوزف نے کہا، “آپ تجربہ کار سائیکاٹرسٹ ہیں اور ایک ذمہ دار ڈاکٹر ہیں۔ مجھے آپ سے صرف یہ توقع ہے کہ آپ ہمارے ساتھ تعاون کریں گے۔”

“میں تعاون سے انکار نہیں کر رہا۔” اس نے کہا، “میں سوچ رہا ہوں کہ آپ کو کس طرح سمجھاؤں کہ مریضہ کی ذہنی کیفیت کیا ہے۔ یہ انسانی فطرت کا عجیب سا کیس رہا ہے جو بہت کم دیکھنے میں آتا ہے یا یوں کہنا چاہیے کہ بہت کم لوگ اپنی اس قسم کی ذہنی حالت کا اظہار کرتے ہیں۔”

اس نے ڈاکٹری زبان میں بڑی لمبی بات کی۔ میں یہ سارا تجزیہ یا تشخیص پیش نہیں کر سکتا۔ اس نے کہا کہ یہ مریضہ اپنے خاوند کی موت اور اپنے آشنا کے درمیان اس طرح پس رہی ہے جیسے چکی کے دو پتھروں میں دانہ آجاتا ہے۔ وہ دونوں کو زندہ دیکھنا چاہتی تھی لیکن اس کے آشنا نے اس کے خاوند کو درمیان سے اٹھا دیا۔ اس سے اس کی ذہنی حالت پاگل پن تک جا پہنچی۔

“کیا اس نے بتایا ہے کہ اس کا آشنا کون ہے؟”

“نہیں۔” ڈاکٹر نے جواب دیا، “میں نے پوچھا بھی نہیں۔ یہ بھی خیال رکھیں کہ کوئی انسان اس طرح اقبالِ جرم نہیں کیا کرتا۔ یہ اس دوائی کا اثر تھا جو میں نے اسے دی تھی۔”

“کیا آپ ہماری مدد کریں گے؟” میں نے کہا، “یہ دوائی اسے پھر دیں۔”

“میرا خیال ہے اس دوائی کی ضرورت نہیں ہوگی۔” ڈاکٹر نے کہا، “آپ اس کے پاس چلے جائیں۔” اس نے مجھے کہا، “آپ اکیلے جائیں تو زیادہ بہتر ہے۔ برٹش آفیسر کے ساتھ شاید بے تکلف نہ ہو۔ اگر آپ کے ساتھ بات نہ کرے تو میں آپ کی مشکل آسان کر دوں گا۔” ڈاکٹر کے ساتھ بڑی لمبی گفتگو ہوئی تھی جس سے رانی کے بیان کی تصدیق ہو گئی۔ میرے لیے یہ بڑا عجیب کیس تھا۔

میں اگلے روز صبح دس بجے کے قریب کنول کے گھر چلا گیا۔ اس کا بھائی گھر میں نہیں تھا۔ رانی مجھے اندر لے گئی اور ڈرائنگ روم میں بٹھایا۔ میں نے پہلی بار کنول کو دیکھا۔ ہر لحاظ سے خوبصورت لڑکی تھی۔ اس کے چہرے پر اداسی کا گہرا تاثر تھا اور اس کی چال جیسی تھی۔ وہ ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی تو میں اٹھ کھڑا ہوا۔

“آپ پولیس انسپکٹر ہیں۔” اس نے کہا، “آپ یہاں آئے تھے۔ بھائی نے مجھے جگایا نہیں۔”

“میں نے ہی آپ کے بھائی کو روک دیا تھا۔” میں نے کہا، “ایک تو آپ اتنے بڑے صدمے میں ہیں دوسرے میں آپ کو پریشان کرنا شروع کر دوں۔” یہ تو رسمی باتیں تھیں۔ میں بچ بچ کر آہستہ آہستہ اپنے کام کی باتوں کی طرف آنے لگا۔ میں نے اسے بتایا کہ میں اس کے ڈاکٹر سے مل آیا ہوں اور ڈاکٹر نے مجھے خاص طور پر اس کے پاس بھیجا ہے۔ وہ خاموشی سے سنتی رہی۔ میں نے پولیس سروس میں بعض ایسے پیشہ ور مجرموں سے اقبالیِ بیان صرف زبان کا جادو چلا کر لے لیے تھے جن کے متعلق مشہور تھا کہ ان کی ہڈیاں توڑ دو تو بھی نہیں بولتے۔ میں نے ان کے جسموں کو ہاتھ نہیں لگایا تھا لیکن اس لڑکی سے راز کی بات اگلوانا مجھے ناممکن نظر آ رہا تھا۔ میں وہ ساری باتیں نہیں لکھ سکتا جو میں نے اس کے ساتھ کی تھیں۔ بہت لمبی گفتگو تھی۔ یہ ذہن میں رکھیں کہ میرے انداز میں، اپنائیت اور بے تکلفی تھی۔ بہر حال یہ میرے لیے بڑا ہی سخت امتحان تھا۔

 

اس کی ذہنی حالت بہت ہی کمزور ہو چکی تھی۔ میں نے جب اس کی اس کمزوری کو بھانپ لیا تو میں نے پیار پیار میں سیدھی باتیں شروع کر دیں۔ مثلاً میں نے ایک بات یہ کہی، “اس میں ذرا سا بھی شبہ نہیں رہا کہ آپ قاتل کو جانتی ہیں۔ قاتل کو جانتا اور پولیس سے چھپائے رکھنا جرم ہے۔ آپ کو اس جرم میں گرفتار کیا جا سکتا ہے۔”

“مجھے مشورہ دینے والا کوئی نہیں۔” اس نے کہا، “میرا دماغ اتنا کمزور ہو گیا ہے کہ میں کوئی فیصلہ نہیں کر سکتی۔”

“مجھے بتاؤ کنول۔” میں نے کہا، “بھول جاؤ کہ میں پولیس آفیسر ہوں۔ مجھے اپنا ہمدرد ہندوستانی سمجھو۔ اپنے آپ کو نہ جلاؤ۔ بتا دو۔ ایک بات یاد رکھو کنول! یہ مشہور ہوتا چلا جا رہا ہے کہ کنول نے اپنے خاوند کو خود مروایا ہے۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ وہ مسلمان ہے اور وہ آرمی آفیسر ہے۔”

 

اس نے چونک کر میرے منہ پر نظریں گاڑ دیں۔

“یہ بھی مشہور ہو گیا ہے۔” میں نے کہا، “کہ تم اس سے شادی کر لوگی۔ تم نے اپنے خاوند کو اس کے ہاتھوں مروایا ہے۔”

“میں نہیں وہ میرے ساتھ شادی کرنا چاہتا ہے۔” اس نے کہا، “میں اس کے ساتھ شادی نہیں کروں گی۔”

“اس کا نام ظفر ہے نا!” میں نے کہا۔

“ہاں!” اس نے جواب دیا، “ظفر۔ وہ کیپٹن ہے۔ میں اسے گرفتار کرانا چاہتی ہوں۔”

اس کے یہ الفاظ سن کر میں اس کے سوا اور کوئی رائے نہیں دے سکتا تھا کہ یہ لڑکی دماغی توازن کھو بیٹھی ہے۔ میں آج بھی یہی کہتا ہوں کہ یہ ان دوائیوں کے اثرات تھے جو ڈاکٹر اسے دے رہا تھا۔ شعوری طور پر وہ بیدار نہیں تھی۔ اس کا ذہنِ لاشعور بیدار تھا۔ گناہ اور گناہوں کے اعتراف ذہنِ لاشعور میں پوشیدہ ہوتے ہیں۔ کوئی نشہ جب شعور کو سلا دیتا ہے تو انسان کا ذہنِ لاشعور اپنے دروازے کھول دیتا ہے۔ وہ جب ہوش میں آتا ہے یعنی جب اس کا شعوری ذہن بیدار ہوتا ہے تو اسے بالکل یاد نہیں رہتا کہ وہ نشے میں کیا باتیں کرتا رہا ہے۔

کنول نے اپنی اور ظفر کی محبت کا قصہ شروع کر دیا۔ اس وقت وہ کالج میں تھرڈ ائیر میں پڑھتی تھی۔ ظفر فورٹھ ائیر میں تھا۔ کالج ایک ہی تھا۔ وہیں ان کی محبت شروع ہوئی تھی اور یہ محبت پاک نہیں تھی۔ ظفر نے بی اے پاس کیا تو اسے فوج میں کمیشن مل گئی۔ یہاں میں یہ بتانا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ جنگِ عظیم میں انگریزوں کو روپے پیسے کی ضرورت تھی۔ انہوں نے چندہ اکٹھا کرنے کے لیے “وار فنڈ” کا اجرا کیا تھا۔ ہندوستان کے جاگیرداروں، ہندو سیٹھوں اور بڑے ٹھیکیداروں نے اتنا زیادہ چندہ دیا تھا کہ انگریز حیران رہ گئے تھے۔ پھر یوں ہونے لگا کہ کسی سیٹھ وغیرہ نے اس درخواست کے ساتھ چالیس ہزار روپیہ چندہ دیا کہ اس کے بیٹے کو فوج میں کمیشن دیا جائے۔ اس طرح انڈین آرمی میں افسروں کی یہ نسل شامل ہو گئی جسے عام زبان میں “وار فنڈ لیفٹیننٹ” کہتے تھے۔ انہیں چند مہینوں کی ٹریننگ دے کر یونٹوں میں بھیج دیا جاتا تھا۔ بعض باپ مزید چندہ دے کر بیٹے کو کسی ہیڈ کوارٹر میں بھیجوا دیتے تھے جہاں محاذ پر جانے کا امکان نہیں ہوتا تھا۔ ظفر اسی نسل کا کیپٹن تھا۔ اس کا باپ دلی کے نواح کا رہنے والا جاگیردار تھا۔ اس نے کور کے ہیڈ کوارٹر میں ظفر کی پوسٹنگ کروائی تھی۔ اس طرح ظفر اور کنول کی ملاقاتیں میں پھر سے شروع ہو گئیں۔ کنول کو وہ کہتا رہتا تھا کہ وہ اس کے ساتھ شادی کرنا چاہتا ہے اور وہ مسلمان ہو جائے۔ کنول اسے وعدے پر ٹالتی رہتی تھی۔ پھر کنول کی شادی ہو گئی۔ پڑھنے والے شاید

 

یقین نہ کریں لیکن یہ کنول کا اپنا بیان تھا کہ شادی کے بعد کنول نے اپنے خاوند کو صرف اس لیے اس کے ماں باپ سے الگ کر لیا تھا کہ ظفر کے ساتھ ملنے ملانے کا سلسلہ جاری رہے۔ کنول کی نوکرانی نے مجھے سنایا تھا کہ فلیٹ میں آتے ہی کنول نے ظفر کو رات کو بلایا تھا۔ کنول کا خاوند دو تین دنوں کے لیے چلا گیا تھا۔ کنول نے گلاب اور موتی کے ہار منگوائے تھے جو اس نے بیڈ روم میں سجائے تھے۔ اس نے ظفر کے ساتھ اس کمرے میں ہنی مون منایا تھا اور ظفر سے کہا تھا کہ میرے اصلی خاوند تم ہو۔ ظفر نے کنول سے ضد شروع کر دی کہ وہ اس کے ساتھ بھاگ چلے اور مسلمان ہو کر اس کے ساتھ شادی کر لے۔ کنول نے اسے کہا کہ وہ مہندر کے ساتھ شادی کر کے پچھتا رہی ہے لیکن جب تک یہ زندہ ہے وہ اس سے آزاد نہیں ہو سکتی۔ کنول نے مجھے بتایا کہ اس نے ظفر سے کہا تھا کہ وہ بیوی جس کسی کی بھی بنادی گئی وہ کچھ نہیں کہے گی لیکن دلی طور پر دوستی ظفر کے ساتھ رکھے گی۔

میرا خیال ہے کنول کی خوبصورتی اور اس کا زندہ دلانہ انداز ایسا طلسماتی تھا کہ ظفر کا اس کے پیچھے پاگل ہو جانا قدرتی امر تھا۔ ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ظفر بہت امیر باپ کا بگڑا ہوا بیٹا تھا اور بیوقوف بھی تھا۔ مہندر قتل ہو گیا تو کنول کو ذرا سا بھی شبہ نہ تھا کہ قاتل ظفر ہے۔ قتل کے بعد ظفر اس سے تین چار بار ملا اور اسے اپنے ساتھ بھاگ چلنے کو اکساتا رہا لیکن کنول اسے کہتی رہی کہ ابھی غائب ہو گئے تو ہم پر قتل کا الزام لگ جائے گا۔ آخری ملاقات میں ظفر اسے بتا بیٹھا کہ اس نے اس کے خاوند کو قتل کیا ہے۔ یہ سننا تھا کہ کنول بگڑ گئی۔ اس نے ایک بار بھی ظفر سے نہیں کہا تھا کہ وہ مہندر کو قتل کر دے۔

 

“میں اپنے خاوند کے ساتھ خوش تھی۔” کنول نے مجھے بیان دیتے ہوئے کہا، “وہ میرا غلام بنا ہوا تھا۔ میرے اشاروں پر ناچتا تھا مگر ظفر نے مجھے بیوہ کر دیا۔ مجھے میرے گھر سے نکال دیا۔ آپ کہیں گے کہ تمہارے سامنے بڑا اچھا راستہ تھا۔ مسلمان ہو جاتی اور ظفر کے ساتھ شادی کر لیتی۔ لیکن میرے دل کی آواز کچھ اور تھی۔ میں نے اس پر عمل کیا۔”

“یہ تمہارا ذاتی معاملہ ہے کنول!” میں نے کہا، “میں ویسے پوچھ رہا ہوں۔ کیا ظفر کو سزائے موت یا عمر قید دلوا کر تمہیں خوشی ہوگی؟”

“نہیں۔” اس نے کہا، “یہ میرے لیے اتنا ہی بڑا صدمہ ہے جتنا اپنے خاوند کی موت کا ہے۔”

“کیا تم کورٹ میں یہ بیان دوگی؟” میں نے پوچھا۔

“اگر میں نے کورٹ میں بیان نہ دینا ہوتا تو آپ کو یہ راز کیوں دیتی؟” اس نے جواب دیا، “میں کورٹ میں یہی بیان دوں گی۔”

 

اُسی روز ہم ظفر کے ہیڈ کوارٹر میں جاپہنچے اور کمانڈنٹ سے ملے۔ وہ انگریز کرنل تھا۔ اسے یہ واردات سنائی تو اس نے بھی کہا کہ عجیب لڑکی ہے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ یہ لڑکی دماغی طور پر صحیح معلوم نہیں ہوتی۔

کرنل نے کیپٹن ظفر کو اپنے دفتر میں بلا لیا اور ہمارے حوالے کر دیا۔ ہم اسے اپنے ساتھ لے آئے۔

“کیپٹن ظفر۔” میں نے اسے کہا، “تمہارے لیے صرف ایک راستہ رہ گیا ہے۔ اقبالِ جرم کر لو۔ ہمارے پاس شہادت مکمل ہے۔” پہلے تو اس نے پس و پیش کی پھر جب ہم نے اس کے آگے شہادت رکھ دی اور یہ بھی بتایا کہ ایک ٹیکسی ڈرائیور نے اسے دیکھا تھا اور یہ سکھ اسے پہچانتا ہے تو وہ کچھ ڈھیلا پڑ گیا۔ ہم نے ٹیکسی ڈرائیور کو بلا کر ظفر کا چہرہ دکھا دیا تاکہ عدالت میں وہ کہہ سکے کہ اس نے ظفر کو سرکاری موٹر سائیکل پر آتے دیکھا،

 

مقتول پر گولیاں چلاتے بھی دیکھا۔ ظفر چونکہ امیر باپ کا بیٹا تھا اس لیے وہ سمجھتا تھا کہ دولت سے ہر چیز خریدی جا سکتی ہے۔ اس کی کپتانی بھی خریدا ہوا عہدہ تھا۔ اس کے باپ نے وار فنڈ کو ادا کیا تھا۔ اب ہم نے اس کے آگے قتل کا الزام اور شہادت رکھ دی تو عقل سے اپنی وکالت کرنے کی بجائے اس نے رشوت پیش کی۔ اس نے کہا کہ میں بلینک چیک دستخط کر کے دے دوں گا، جتنی مرضی رقم لکھ لینا۔ حقیقت یہ تھی کہ اس کے خلاف شہادت کمزور تھی لیکن وہ نہ سمجھ سکا کہ رشوت پیش کرنے کا مطلب ہوتا ہے اقبالِ جرم۔ ہم نے اسے حوالات میں بند کر دیا اور شہادت اکٹھی کرنے لگے۔ اس کے ہیڈ کوارٹر سے شہادت مل گئی کہ وہ واردات کی رات سرکاری فوجی موٹر سائیکل لے گیا تھا۔ رجسٹر پر اس کے دستخط موجود تھے۔ رجسٹر میں موٹرسائیکل کی واپسی کا وقت بھی درج تھا۔

بور کا ریوالور اس کا اپنا تھا۔ اس کا لائسنس تھا۔ فوج میں ذاتی ہتھیار مثلاً ریوالور یا شکاری بندوق، اپنے پاس نہیں رکھے جاتے یہ الماری میں رکھے جاتے ہیں اور ریکارڈ پر ہوتے ہیں۔ مالک اپنا اسلحہ لے جائے تو رجسٹر پر دستخط کر کے لے جاتا ہے۔ واپسی پر یہ پھر رجسٹر پر لکھا جاتا ہے۔ ہم نے ریکارڈ دیکھا تو واردات والے دن ظفر اپنا ریوالور لے گیا تھا اور اگلے روز رجسٹر میں واپسی لکھی ہوئی تھی۔ ریکارڈ میں پہلے چوبیس گولیاں تھیں۔ واپس بائیں گولیاں کی گئیں۔ ہم نے موٹر سائیکل، ریوالور، گولیاں اور ریکارڈ کی کاپیاں قبضے میں لے لیں۔ ہمارے پاس دو بڑے مضبوط اور قیمتی گواہ تھے۔ ایک تھی کنول اور دوسری اس کی نوکرانی۔ گواہوں کا ہمیں کوئی غم نہیں تھا، اس کا انتظام ہم کر سکتے تھے۔ میں اور انسپکٹر جوزف نے ان دونوں عورتوں کو گواہی کے لیے تیار کر لیا اور ہم مقدمہ تیار کرنے میں مصروف ہو گئے۔ کیپٹن ظفر ایک عام ملزم کی حیثیت سے ہماری حوالات میں بند تھا۔ اس کے باپ نے اوپر تک رسائی حاصل کر لی تھی۔ ہم تک بھی پہنچا۔ اس کے پاس دولت تھی جو وہ ہر کسی کو پیش کرتا پھرتا تھا لیکن سوائے دھتکار کے اسے کچھ بھی حاصل نہ تھا۔ ایک مہینے بعد مقدمہ عدالت میں چلا گیا۔ علاقہ تھانیدار سب انسپکٹر رتن کمار پھر میری اور انسپکٹر جوزف کی گواہی ہوئی۔ اس کے بعد اس کیس کی سب سے زیادہ اہم گواہ کنول گواہی دینے کے لیے عدالت میں آئی۔ یہ ذہن میں رکھیں کہ اب کیس مجسٹریٹ کی کورٹ سے سیشن کورٹ میں آگیا تھا جہاں اس کا فیصلہ ہونا تھا۔ پبلک پراسیکیوٹر کنول سے گواہی دلوانے لگا تو کنول نے کچھ اور ہی حرکتیں اور باتیں شروع کر دیں۔ جج نے اسے وارننگ دی کہ وہ سیشن کورٹ میں کھڑی ہے اور قتل کے کیس کی گواہ ہے لیکن کنول نے ہنسنا شروع کر دیا۔ اس نے جو حرکتیں اور باتیں کیں وہ بہت ہی لمبی ہیں۔ میں ضرورت نہیں سمجھتا کہ یہ سب کی سب لکھی جائیں۔ مثال کے طور پر ایک بات سناتا ہوں۔ پبلک پراسیکیوٹر نے اسے کہا کہ آپ کا خاوند قتل ہو گیا تھا۔ کنول نے جواب دیا کہ میرے دو خاوند تھے۔ ایک قتل ہو گیا ہے اور دوسرا یہ کھڑا ہے۔ مختصر یہ کہ اپیل دائر ہوئی۔ ہائی کورٹ نے صرف اتنی مہربانی کی کہ سزائے موت عمر قید میں تبدیل کر دی۔ تقریباً اڑھائی سال بعد پاکستان معرضِ وجود میں آگیا۔ ظفر کا خاندان چونکہ انگریز نواز تھا بلکہ میں انہیں ہندو نواز بھی کہوں گا، اس خاندان میں سے کوئی ایک بھی فرد پاکستان نہیں آیا تھا۔ کنول کے متعلق کیس ختم ہونے کے ڈیڑھ دو مہینے بعد ہی پتہ چل گیا تھا کہ اسے آگرہ کے پاگل خانے میں بھیج دیا گیا تھا۔

 

5 1 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments
error: Content is protected !!
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x