مکمل ناول
جولائی کا مہینہ اوپر سے سخت گرمی
ایم اے کا پیپر دیے کر میں امتحانی مرکز سے باہر نکلا
تو اچانک موسم تبدیل ہونے لگا
اور تیز ہوا چلنے لگی
پیپر سیکنڈ ٹائم ہونے کی وجہ سے اب شام ہونے لگی تھی
بارش کا امکان سوفیصد تھا
اس لئے میں نے شارٹ کٹ راستے سے واپس جانے کا فیصلہ کیا
ویسے بھی ھمارا گاؤں شھر سے تقریباً ستر کلومیٹر
کے فاصلے پر واقع تھا۔
میں نے اس راستے پر کار ڈال تو دی
مگر یہ علاقہ حد سے زیادہ سنسان نظر آرہا تھا
ہلکی ہلکی بوندا باندی بھی ہونے لگی
سڑک سے ملحقہ علاقے بلکل غیر آباد تھے
کہیں کہیں کوئی آدمی نظر آجاتا
ویران علاقہ دیکھ کر اب مجھے بھی اپنی غلطی کا
احساس ہونے لگا تھا کہ مجھے اس راستے کا انتخاب
نہیں کرنا چاہیے تھا
مگر اب میں کافی دور نکل آیا تھا
اس لئے چلتے رہنے میں ہی افیت جانی۔
بجلی کی شدید کڑک کے ساتھ بارش بھی تیز ہونے لگی
میں نے گاڑی کی اسپیڈ بڑھادی۔
تھوڑا ہی فاصلا طے کرنے کے بعد سڑک کے دائیں جانب
بہت بڑے پیپل کے درخت کے نیچے کسی نے مجھے
ھاتھ کے اشارے سے روکنے کی کوشش کی
پہلے تو میں نے چور وغیرہ سمجھ کر رکنا مناسب نہ سمجھا
مگر وہ سڑک پر پہنچ کر مجھے رکنے کا اشارہ کرنے لگا
میں نے یہ سوچتے ہوئے کہ کوئی ضرورت مند ہوگا
گاڑی روک دی۔
جب اسے قریب سے دیکھا تو وہ ایک خوبصورت لڑکی تھی
سرخ ہونٹ ، معصوم چہرا ،نرم و ملائم گال نیلے لباس
میں ملبوس مجھ سے مخاطب ہوئی ” ھلو “
میں نے پوچھا ۔ ” فرمائیں میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں ”
وہ حسین چہرے پر مسکراہٹ سجائے بولی
” دراصل میں اپنی سہیلی کے گھر آئی تھی مگر واپسی
پر تیز بارش شروع ہوگئی اب مجھے گھر واپس جانے
میں دیر ہورہی ہے ، میرا گاوں بس تھوڑے سے فاصلے پر ہے
برائے مہربانی مجھے میرے اسٹاپ تک چھوڑ دیں “
میں نے کجھ سیکنڈ سوچنے کے بعد
اسے اگلی سیٹ پر بٹھایا اور اسے بارشِ سے
بھیگے بدن کو خشک کرنے کے لئے تولیہ دیا ۔
وہ کافی حد تک بھیگ چکی تھی
اس لئے اپنے خوبصورت اور بکھرے ہوئے بالوں کو تولیے سے خشک کرنے لگی
میں نے بےشمار لڑکیاں دیکھی تھیں مگر یہ سب سے
زیادہ خوبصورت تھی ۔
وہ خود ہی بولی! ” میرا نام ۔۔ نور جہاں۔ ہے اور آپ کا ؟ “
میں نے اسے بتایا کہ میرا نام حمزہ ہے
پھر کچھ رسمی باتیں ہونے لگی کجھ فاضلہ طے ہونے کے بعد اس نے کہا ” پلیز رک جائیں میرا اسٹاپ آگیا ہے “
میں ابھی تک اس کے حسن میں کھویا ہوا تھا
اور کھل کر بات بھی نہیں کرسکا تھا ۔
میں نے اسے پروٹوکول دینے کے خاطر باہر نکل کر دروازا کھولا اور پیار سے کہا ” آپ سے ملکر بہت خوشی ہوئی
یقیناً آپ بہت خوبصورت ہیں “
وہ حسین لبوں پر مسکراہٹ بکھیرتی ہوئی بولی
” مسٹر حمزہ موسم بہت خراب ہے اور آپ میرے
مہمان بھی ہیں لہذا آج کی رات میرے ہاں ٹھہریں
میں آج گھر میں اکیلی ہوں خوب باتیں کریں گے اور ۔۔۔۔۔
گھر جلدی پہنچنے کی وجہ سے میں نے نہ چاہتے ہوئے بھی
انکار کردیا اور کہا۔ ” اگر قسمت کو منظور ہوا تو پھر
ملیں گے ”
میں گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا تو وہ جواب دے گئی
کافی جدوجہد کے بعد بھی وہ اسٹارٹ نہ ہوئی ۔
نور جہاں ابھی تک وہیں موجود تھی اور اب بارش
بھی تھم چکی تھی موسم خوش گوار۔ بلکہ عاشقانہ
ہورہا تھا ، جب میری ہر کوشش ناکام ہوگئی تو وہ
بڑے پیار سے بولی ” لگتا ہے آپ کی گاڑی بھی نہیں
چاہتی کے آپ میری چائے پئے بغیر چلے جائیں”
اور میں مسکرا کر اسے دیکھنے لگا۔۔
میں مجبور ہوکر اس کے ساتھ جانے لگا
ریلوے لائن عبور کرکے ھم دونوں ایک چھوٹے سے
قبرستان کے پاس سے گزرے تو میں نے اس سے کہا
“نور جہاں جی آپ کو اس وقت اکیلے یہاں سے گزرتے
خوف محسوس نہیں ہورہا ؟”
اس نے مسکرا کر میرا ہاتھ پکڑ کر کہا
“ارے حمزہ میں کوئی ڈرپوک لڑکی نہیں ہوں بہت بہادر ہوں
اور ڈر کس بات کا ؟”
اس کے چھونے سے میرے وجود میں ایک عجیب سی
کیفیت طاری ہوگئی
اب ھم دونوں ایک بہت بڑی حویلی کے سامنے موجود تھے
“حمزہ یہ ہماری حویلی ہے ” وہ بولی
میں حویلی کی طرف دیکھنے لگا جو بہت بڑی اور خاصی
پرانی لگ رہی تھی
میں اس کے ساتھ اندر داخل ہوا
مرکزی دروازے سے ھال تک پہنچنے کے لئے ایک خوبصورت
راہداری بنی ہوئی تھی اس نے مجھے ہال میں بٹھا دیا
جہاں کھڑکیوں پر پرانے طرزِ کے خوبصورت نقش تھے
فرش پر خوبصورت قالین اور آرام دہ صوفے اور کرسیاں
موجود تھیں
تھوڑی دیر بعد نور جہاں چائے بنا کر لائی
جو ھم نے ملکر پی ۔۔ میں نے اس سے کہا” آپ چائے
تو بہت اچھی بناتی ہیں”
تو وہ شرماتے ہوئے بولی ” کیا آپ ھمیشہ میرے ہاتھوں
کی ایسی چائے پینا پسند کریں گے”
اور میں جواب میں صرف مسکرا ہی سکا۔۔
بعد ازاں وہ مجھے اپنے کمرے میں لے گئی
اس کا کمرا قدرے چھوٹا مگر صاف ستھرا تھا
ایک سنگل بیڈ , میز اور کرسی ، مطالعہ کے لئے بہت سی
کتب البتہ سب ہارر لیٹریچر کتابوں پر جنات چڑیلوں اور
بد روحوں کے ساتھ ساتھ انسانی کھوپڑیوں وغیرہ
کی تصاویر تھیں میں اس سے کہا
“لگتا ہے آپ کو خوفناک ادب سے کافی لگاؤ ہے” تو
اس نے مسکرا ہاں میں سر ہلایا۔۔۔
اچانک کمرے کی لائٹ چلی گئی ۔
جاری ہے۔۔۔……………..👺 میں اندھیرا ہونے پر گھبرا کر اسے آواز دی
“نور جہاں کیا تم یہاں ہو”
اچانک روشنی ہوئی میں نے دیکھا کہ اس کے ہاتھ میں
لالٹین تھی اور لالٹین کی روشنی میں اس کا خوبصورت
چہرا بھی کسی شعلے کی طرح آگ برسا رہا تھا
وہ میری طرف مسکراتے دیکھ کر بولی
“چلو کھانا کھائیں”
اب کمرے میں لالٹین کی روشنی اور بہتریں خوشبو
پھیلی ہوئی تھی ھم دونوں نے مل کر کھانا کھایا
اچانک میرے دل میں خیال آیا
کیوں نہ گھر والوں کو اطلاع کردوں
کہ بارش میں پھنسے کے باعث اب صبح ہی گھر پہنچو گا
مگر یہ کیا میرا موبائل تو گاڑی میں ہی رہ گیا تھا
اوپر سے بارش پھر شروع ہوگئی تھی
گاڑی بھی یہاں سے بہت دور تھی
مجبوراً مجھے اپنا ارادہ ترک کرنا پڑا۔۔
دھیرے دھیرے وہ میرے قریب آنے لگی
وہ مختلف اداؤں اور حرکات سے میرے جذبات بھڑکانے
لگی اور ممکن تھا میں بھی گناہ عظیم میں شامل ہوجاتا
لیکن جب اس کی نظر میرے بازوں میں بندھے امام ضامن
پر پڑی تو وہ گھبراکر کر مجھ سے دور ہوگئی
میں بہت حیران ہوا
کے وہ مجھ سے چھٹکے سے دور کیوں ہوگئی
میں اس وقت اس بات کو سمجھ نہ سکا اور پریشانی
سے اس سے پوچھا “کیا ہوا؟” تو وہ بولی
اسے اتار دو کیونکہ ھم دونوں کے ملن میں یہ رکاوٹ ہے
یہ سننا تھا کہ مجھے جیسے ہوش آگیا
یہ امام ضامن تو میری ماں نے مجھے باندھا تھا اور
کہا تھا ” بیٹا یہ تمہیں ہر آفت اور برائی سے بچائے گا”
اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے میں ھمیشہ گناہ سے
بچتا آرہا تھا , پھر آج میرے قدم کیوں ڈگمگائے
یہ احساس ہوتے ہی
میں نے جلدی سے شرٹ پہنی اور اسے کہا کہ
“میں جارہا ہوں میں یہاں نہیں ٹھہر سکتا “
وہ یہ سن کر حیران ہوئی اور بولی
“اتنے حسیں موسم میں اتنا سنہری موقع ضائع کرنا
بے وقوفی ہے اور تم کیوں جارہے ہو میں نے تو صرف
یہ تعویذ اتارنے کا کہا تھا اور تم غصہ کر گئے
میں نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا
“دیکھو نور جہاں نکاح سے پہلے یہ سب ھمارے دین میں
حرام ہے ” یہ سن کر وہ مجھ پر ہنسنے لگی اور بولی
“چھوڑو یہ دین کی باتیں یہ زندگی تو چار دنوں کا کھیل
ہے اسے انجوائے کرکے گزارنا چاہئے۔
اور آج تو کوئی بیوقوف ہی ہوگا جو ایک حسین و جمیل
لڑکی جو خود اپنا آپ سونپنے کو تیار ہو ۔۔۔اور وہ اس
سے فیض یاب ہوئے سے انکاری ہو۔
اب مجھے اس کی باتوں پر غصہ آنے لگا
اور میں نے اس کی غلیظ بات ماننے سے انکار کردیا
جسے سن کر وہ آگ بگولہ یوگئی
وہ مجھے مختلف حرکات اور باتوں سے اپنی طرف
مائل کرنا چاہتی تھی، مگر میں اپنے فیصلے پر
ڈٹا رہا جب وہ ہر طرح سے مایوس ہوئی تو
یکدم اس کی حالت بدلنے لگی
نور جہاں کا جسم حد سے بڑا ہونے لگا
بال کھڑے ہوگئے آنکھیں خون کی طرح سرخ ہونے لگیں
ناخن تقریباً تین فٹ باہر نکل آئے اس کے سارے
جسم سے پیپ پہنے لگی دو بازوؤں کے بجائے
اس کے مزید بازو نمودار ہوگئے
اور وہ بھیانک چڑیل کی صورت اختیار کر گئی
اس کی خوفناک حالت دیکھ کر میرے بھی رونگھٹے
کھڑے ہوئے اور میں کمرے سے باہر کی جانب بھاگ
کھڑا ہوا ، آج پہلی بار احساس ہوا کہ غیر مرئی طاقتوں
کی اصل صورتوں کے سامنے انسان کی حالت کیسی
ہوجاتی ہے اس سے پہلے میں نے بہت سی ڈراؤنی
کہانیاں پڑھیں اور سنیں تھیں واقعی ان کا سامنا
کرنا دل گردے کا کام ہے.
مگر یہ کیا ؟
حویلی میں موجود سارے خارجی دروازے سرے سے
غائب تھے ہر طرف صرف دیواریں نظر آرہی تھیں
اتنے میں وہ چڑیل بھی ہال میں پہنچ گئی
اور صوفے پر آرام سے بیٹھ کر بولی
“لڑکے تم نے میری بات نہ ماں کر بہت برا کیا ہے
درحقیقت میں ایک “پیاسی” بدروح ہوں
میں خوبصورت نوجوانوں کو ورغلا کر حویلی میں لاتی
ہوں بعد ازاں اپنی خوبصورت جوانی کا لالچ دیکر
ان کا خون پیتی ہوں پھر ان کی بلی شیطان کو
چڑھاتی ہوں اس سارے عمل کا مقصد شیطان کو
خوش کرنا اور شیطانی شکتیوں کا حصول ہے
میں اب تک سیکڑوں شکار کر چکی ہوں
پر جتنی محنت مجھے تم پر کرنی پڑی اتنی کسی پر نہیں”
اس کے ساتھ ہی اس کے شیطانی قہقہے حویلی کے
چاروں طرف گونجنے لگے۔
پھر ہوا میں اڑتی ہوئی میری جانب لپکی میں بے اختیار
حویلی میں بھاگنے لگا
ایک بڑا کمرہ کھلا پاکر میں اس میں گھس گیا
وہاں غلیظ بدبو پھیلی ہوئی تھی۔
انسانی ہڈیاں فرش پر بکھری ہوئی تھیں
اور ایک جانب انسانی کھوپڑیوں کا ڈھیر پڑا ہوا تھا
اتنے میں وہ پیاسی بد روح بھی کمرے میں داخل ہوئی
حیران کن طور پر اس کا قد اب لمبا ہوکر چھت سے
ٹکرانے لگا تھا وہ ہوا میں کھڑی مجھ پر اپنے مونہ سے
سرخ گولے برسانے لگی جن کی تپش دور سے محسوس
ہونے لگی تھی
اسی لمحے میری منہ سے آیت الکرسی کا ورد شروع
ہوگیا اور گولے مجھ تک پہنچنے سے پہلے ہی ٹھنڈے
ہوگئے اس کے بعد اس نے مجھے ختم کرنے کی بہت
سعی کی مگر میں نے قرآنی آیتوں کا ورد جاری رکھا
کمرے کا دروازا کھل گیا
بد روح زمین پر بے بس بیٹھی ہوئی تھی
میں کمرے سے باہر آیا تو کمرے کے سارے خارجی
دروازے نمودار ہوئے ۔ دراصل اب وہ مجھے باہر جانے
کا راستہ فراہم کر رہی تھی وہ جان چکی تھی
کہ وہ میرا کجھ نہیں بگاڑ سکتی ۔
میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوا باہر جانے والی راہداری پر
چل پڑا۔۔
مرکزی دروازے پر پہنچنے سے پہلے ہی اچانک میرے
ذہن میں ایک خیال آیا میں نے اپنی جیب سے لوح قرآنی
نکال کر اونچی آواز میں آیت قرآنی کا ورد کرتا ہوا
بد روح کی طرف بڑھا ۔ تو وہ مجھے اپنی طرف آتا ہوا
دیکھ کر گھبرا گئی میں نے اور میں نے زور سے اس کے بال
پکڑ لئے وہ درد سے چلائی میں آیات پڑہ پڑہ کر
اس پر پھونکنے لگا تو اس نے اپنے بچاؤ کی ہر ممکن
کوششیں کی مگر وہ ناکام رہی
دھیرے دھیرے اس کے بدبودار جسم میں آگ لگنا شروع
ہوئی اس کی دردناک اور دلخراش چیخوں سے
حویلی میں ایک خوفناک سا سماں پیدا ہوگیا
وہ غصہ اور بے بسی کے ملے جلے تاثرات سے بولی
“کاش میں آج شکار کی تلاش میں نہ نکلتی
میری سوچ غلط تھی کہ آج میں نے شکار کے لئے تجھے چنا
میں نے نفررت سے جواب دیا ” تونے جتنے بے گناہوں
کو لقمہ اجل بنایا ان کا حساب تو تجھے دینا ہوگا
یہاں بھی اور آخرت میں بھی ۔۔۔ میں تو واپس چل ہی
پڑا تھا اور اگر میں واپس چلا جاتا تو تیرا یہ شیطانی
کھیل نہ جانے کب تک جاری رہتا اس لئے میں نے
تجھے ختم کرنے کا فیصلہ کیا”
پھر وہ آہستہ آہستہ جل کر راکھ میں تبدیل ہونے لگی
بعد ازاں دھواں بن کر اڑ گئی اور میں بھی حویلی سے
باہر نکل آیا اور میرے باہر آتے ہی حویلی زمین بوس ہوگئی
پھر غیبی آواز آئی ۔۔۔۔ ” اے نیک نوجوان تم سے پہلے
جتنے بھی نوجوان اس منحوس حویلی میں آئے
اپنی ہوس کے پجاری بن کر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے
لیکن تمہاری پرہیزگاری اور دین داری نہ صرف تیری
جان بچائی بلکہ پیاسی بدروح بھی ہمیشہ کے لئے
جہنم رسید ہوگئی۔۔۔۔۔۔
گاڑی کے قریب پہنچتے ہی ماحول یکسر تبدیل ہوکر
ویسا ہوگیا جیسے حویلی کی جانب آتے ہوئے تھا
میں نے گاڑی اسٹارٹ کرنے کی کوشش کی تو وہ فوراً
اسٹارٹ ہوگئی۔
میں نے اپنا موبائل اٹھایا تو اس میں وہی وقت تھا
جو نور جہاں کے ساتھ حویلی میں جانے وقت تھا
بس تیس مِنٹ کا فرق تھا ۔۔
میں سوچنے لگا کہ اتنا وقت جو میں نے حویلی میں
گزارا وہ کیسے ۔۔۔۔۔۔۔۔
البتہ میں خوش تھا کہ قدرت نے میرے ہاتھوں سے ایک
نیک کام کروایا اور مجھے گناہ سے بھی بچایا
اب وہ پیاسی بد روح کسی بے گناہ کی بلی نہیں چڑھائے
گی۔۔ پھر میں نے اپنی گاڑی اپنے گاؤں کی طرف بڑھادی۔
ختم۔۔۔
اختتام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
