قسط وار ناول
نومبر کی سرد رات تھی۔ شام ہوتے ہی آسمان کو سیاہ اور گہرے بادلوں نے اپنی آغوش میں لے لیا تھا۔ ہوائیں چلنے لگی تھیں، اور رفتہ رفتہ ہوا میں آندھی کی شکل اختیار کر گئیں اور دیکھتے ہی دیکھتے ایسی شدید آندھی چلنے لگی کہ ہر چیز کوگر دو غبار نے اپنے حصار میں لے لیا۔ لگتا تھا کہ یہ آندھی ہر چیز کو اڑا کر اپنے ساتھ لے جائے گی۔ عجیب سی چیخوں کی آواز میں سنائی دینے لگی تھیں۔ جنہیں سن کر خوف محسوس ہوتا تھا۔ آندھی کی شدت ایسی تھی کہ کئی کمزور درخت اپنی جگہ سے اکھڑ کر زمین بوس ہو گئے تھے ، سائن بورڈ اپنی جگہ چھوڑ چکے تھے، اور سڑک پر پڑے دکھائی دینے لگے تھے-
اور کچھ ایک طرف سے ٹوٹ کر لٹک کر ہوا میں جھول رہے تھے ۔ تیز ہوا میں جب وہ جھولتے ہوئے دیوار یا کسی اور چیز سے ٹکراتے تو اُن کی آواز بھی خوف پیدا کر دینے کا حصہ بن جاتی تھی۔ ایسی شدید غیر متوقع آندھی تھی۔
اس شدید آندھی میں بس یہ مشکل اپنے اسٹاپ تک پہنچی۔ بس کے ڈرائیور کو آندھی اور گرد و غبار کی وجہ سے بس چلانے میں وقت پیش آرہی تھی۔ تیز ہیڈ لائیٹس میں بھی پتہ نہیں چل رہا تھا کہ سامنے کیا ہے۔ ایک چھوٹا بورڈ نہ جانے کہاں سے اڑ کر بس کے اگلے حصے سے ایک دھماکے سے ٹکرایا تو اندر بیٹھی ہوئی سواریوں کے ساتھ ساتھ ڈرائیور بھی ڈر کر چونک گیا تھا۔ کچھ خواتین کی تو چینیں نکل گئی تھیں۔ اگر وہ بورڈ بس کی اسکرین پر آکر لگتا تو شاید وہ اسکرین کو توڑتا ہوا بس کے اندر آجاتا اور جانے کیا نقصان پہنچا دیتا۔ جیسے ہی بس اسٹاپ پررکی، مسافر با ہر نکلنے لگے۔ اس جگہ پانچ مسافر اترے تھے۔ اُن میں سے ایک اولیس احمد بھی تھا۔
مسافر اُتار کر بس چلی گئی۔ اولیس کے ساتھ اُترنے والے مسافر دائیں بائیں نکل گئےتھے۔ وہ اکیلا ہی اس جبکہ کھڑا آندھی میں دیکھنے کی کوشش کرتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ اس
صورتِ حال میں کیا وہ اگلے چوک تک چل کر جا سکے گا؟ مٹی اس کی ناک، منہ اور آنکھوں میں جارہی تھی کہ جس سے آنکھیں مسلسل کھول کر رکھنا بھی دوبھر ہورہا تھا۔ وہ اپنی آنکھیں بار بار کھول اور بند کر رہا تھا۔ دور تک تو کیا بنزدیک دیکھنا بھی اس کے لئے ناممکن ہورہا تھا۔
اچانک اُس نے اپنے عقب میں گردن گھمائی اُسے خیال آیا کہ اس جگہ ایک جنرل اسٹور ہے۔ بجائے اس کے کہ اس آندھی میں چلنے کی کوشش کی جائے اس جنرل اسٹور میں
رک کر آندھی کی شدت میں کمی ہونے کا انتظار کر لینا چاہئے ۔ ورنہ تو چلنا تقریبا ناممکن ہے۔ وہ جنرل اسٹور بس اسٹاپ کے سامنے ہی سڑک عبور کر کے تھا۔ یہ سوچتے ہی وہ اس جنرل اسٹور کی طرف گھوما اور یہ مشکل آنکھیں بند کرتا اور کھوتا ہٹی اور گرد و غبار سے بغل گیر ہوتا اُس جنرل اسٹور کے دروازے تک جا پہنچا۔ جنرل اسٹور کا صحت مند اور گول مٹول سامالک اپنے کاؤنٹر کے پیچھے کرسی پر براجمان تھا۔ جبکہ تین سیلز مین اپنی اپنی جگہ کاؤنٹر کے پیچھے کھڑے تھے۔ اُس نے جنرل اسٹور کے شیشے کے دروازے کو اندر دھکیل کر کھولنا چاہا وہ اندر سے مقفل تھا۔ اویس کو دروازے کے ساتھ لگا دیکھ کر ایک سیلز مین دروازے کے پاس آیا اوراد پر لگی چھوٹی کھڑ کی کھول کر پوچھا۔
کیا چاہئے؟”
نہیں کچھ نہیں آندھی کے رک جانے کے انتظار میں ادھر آ گیا ہوں۔ اولیس نے اپنا گلا صاف کرتے ہوئے صاف گوئی سے کام لیا۔
اس کی بات سنتے ہی اُس سیلز مین نے وہ چھوٹی کھڑکی بند کی اور پھر اپنی جگہ کی طرف چلا گیا۔ جبکہ اولیس کو امید تھی کہ اس کی بات سن کر ہمدردی کے تحت وہ دروازہ کھول کر اندر بیٹھنے کی پیشکش کرے گا لیکن ایسا نہیں ہوا اور وہ باہر ہی ایک طرف دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑا ہو گیا۔
اُس کی بے اعتنائی پر اولیس کو غصہ بھی آرہا تھا۔ اس کم ظرف نے تو انکار میں بھی جواب دینا گوارا نہیں کیا تھا۔ گرد و غبار سے بچنے کے لئے اس نے اپنا دفتری بیگ اپنے چہرے کے آگے کر لیا۔ تیز آندھی میں کوئی کمی نہیں آئی تھی۔
جب اولیس دفتر سے نکلا تھا تو بہت انتظار کے بعد اس کے روٹ کی ایک ہی بس آئی تھی، اور وہ بھی اس طرح سے بھری ہوئی تھی کہ تل رکھنے کے لئے جگہ نہیں تھی۔ اگلی بس کے انتظار میں اُسے بہت دیر اس جگہ رکنا پڑا تھا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اس روٹ کی بسیں کہاں چلی گئی ہیں اور جب دوسرے روٹ کی بس آئی جو کچھ فاصلے پر اتارتی تھی تو اس نے موسم کا تغیر دیکھتے ہوئے اُس بس میں بیٹھنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ اس لئے وہ اس طرف اُتر گیا تھا اور نہ دوسری طرف اُتر تا تو چند قدم پر ہی اس کا فلیٹ تھا۔
اولین اپنے آفس اپنی موٹر سائیکل پر ہی آتا جاتا تھا لیکن آج صبح آفس جانے کے لئے جیسے ہی اس نے اپنی موٹر سائیکل نکال کر اسٹارٹ کرنے کی کوشش کی تھی باوجود بے شمار لگیں لینے کے وہ موٹر سائیکل اسٹارٹ ہی نہیں ہوئی تھی۔ اچانک پتہ نہیں کیا ہو گیا تھا۔ حالانکہ وہ نئی موٹر سائیکل تھی ، چھ ماہ قبل ہی اس نے اُسے خریدا تھا اور وہ اس کی بہترین دیکھ بھال میں تھی۔
اگر اُس وقت وہ موٹر سائیکل کسی مکینک کو دکھانے کے لئے لے جاتا تو اُسے آفس سے دیر ہو جاتی۔ لہذادہ موٹر سائیکل کھڑی کر کے بس پر ہی آفس چلا گیا تھا۔
اویس کو پندرہ بیس منٹ ہو گئے تھے اس جنرل اسٹور کے سامنے کھڑے ہوئے ۔ آندھی کی شدت میں کمی آگئی تھی۔ گرد و غبار بھی کسی حد تک کم ہو گیا تھا۔ اب ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھیں ۔ آسمان پر چھائے ہوئے بادل گرجنے لگے تھے۔ آسمان پر بجلی چمکتی تو یک دم جیسے ہر چیز روشن ہو جاتی تھی۔ اس نے پہلے دور تک دیکھا۔ اس علاقے کی وہ مین سڑک تھی۔
اس سڑک پر زیادہ تر پراپرٹی ڈیلرز، اور کچھ دوسرے اداروں کے آفس کے ساتھ کوٹھیاں اور بنگلے بنے ہوئے تھے ، دفاتر تقریباً بند ہو چکے تھے۔ جبکہ اس علاقے کی صحیح کمرشل مارکیٹ دوسری جانب تھی اور اُسی طرف وہ فلیٹ تھا جہاں اس کی رہائش تھی۔
آندھی اور گرد و غبار میں کمی آجانے سے اب وہ دیکھ سکتا تھا اس لئے اس نے فیصلہ کیا کہ مجھے اب یہاں سے جانا چاہئے۔ وہ اُس جگہ سے نکلا اور چوک کی طرف بھاگا۔ وہ چاہتا تھا کہ گرد و غبار میں تو اس نے نہا ہی لیا ہے اس سے پہلے کہ بارش شروع ہو وہ فلیٹ تک پہنچ جائے تا کہ بارش سے بچ سکے۔ سردی میں اور وہ بھی ٹھنڈے پانی میں کھلے آسمان کے نیچے نہانے کا اولیس کو بالکل بھی شوق نہیں تھا۔
ابھی وہ کچھ ہی آگے گیا تھا کہ اویس کو لگا جیسے کوئی پھنسی پھنسی آواز میں بولنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بالکل ایسا لگتا تھا جیسے کوئی انسان کسی جگہ پھنسا ہوا ہے۔ اس کے قدم رک گئے ۔
اس نے دائیں بائیں دیکھا۔ ایک بہت بڑی کمپنی کا بھاری بھر کم سائن بورڈ اس انداز میں گرا ہوا تھا کہ اس کا ایک حصہ زمین کے ساتھ لگا ہوا تھا جبکہ دوسرا حصہ دیوار کے ساتھ جڑا ہوا تھا۔
اولیس کو لگا کہ آواز میں اس بورڈ کے پیچھے سے آرہی ہیں۔ اُسے شک ہوا کہ کوئی اس بورڈ کےنیچے ہے۔ اس نے دیکھنے کی کوشش کی۔ بورڈ اس انداز میں گرا تھا کہ اس سے یہ دیکھنا مشکل ہو رہا تھا کہ دیوار کے ساتھ کیا ہے۔ اگر بورڈ کو اس جگہ سے کچھ ہٹایا جاتا تو وہ یہ دیکھنے میں کامیاب ہوسکتا تھا کہ وہاں کون ہے۔
موسم اور بھی خراب ہو گیا تھا۔ بادلوں کے گرجنے کی آواز میں اس سنسان جگہ پر خوف پیدا کر رہی تھیں اور جب بجلی اپنی گرج کے ساتھ چمکتی تو فورا وہاں سے بھاگ جانے کو دل چاہتا تھا۔ آسمان سے پانی کے چھینٹے بھی برسنے لگے تھے جو کسی بھی لمحے تیز بارش کا روپ اختیار کر سکتے تھے۔
ادلیس کا دل چاہتا تھا کہ وہ اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے بھاگ جائے لیکن اس کے اندر کا جذبہ ہمدردی اس میں مانع تھا۔ اس نے دائیں بائیں دیکھا اُسے کوئی بھی پاس یا دور
دکھائی نہ دیا کہ جس کے ساتھ مل کر وہ اس بھاری بھر کم سائن بورڈ کو ایک طرف ہٹا سکتا۔ دور تک کوئی ذی روح دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ اس جگہ وہ اکیلا ہی کھڑا تھا۔ وہ آواز میں مسلسل آ رہی تھیں، اور اولیس چاہتا تھا کہ اگر وہ اس کی مدد کر سکتا ہے تو ضرور کرے۔
اولیس نے اپنا دفتری بیگ ایک طرف رکھا اور سائن بورڈ کو ایک طرف سے دیوار سے کچھ آگے کرنے کے لئے زور لگانے لگا۔ وہ اپنی پوری قوت صرف کر رہا تھا۔ ایک دم اُسے لگا جیسے وہ بھاری بھر کم سائن بورڈ خود بخودہی ایک طرف ہٹ گیا ہے۔ ایسا اس کا واہمہ ہی ہو سکتا تھا کیونکہ وہ اس سائن بورڈ کو ہٹانے کے لئے اپنی پوری قوت لگا رہا تھا۔ اس کا خود بخود ایک طرف ہٹنا کیسے ممکن ہو سکتا تھا۔
اب اتنی جگہ بن گئی تھی کہ وہ جھانک کر اندر دیکھ سکتا تھا کہ اس سائن بورڈ کے پیچھے کون ہے۔ یک دم بجلی چمکی روشنی ہوئی اور اس نے دیکھا کہ بورڈ کے پیچھے دیوار کے ساتھ کوئی بھی نہیں ہے۔ اولیس نے متحیر نگاہوں سے پھر دیکھا، کچھ بھی نہیں تھا۔ سائن بورڈ کے ہٹتے ہی اب کسی بھی قسم کی پھنسی پھنسی آواز میں نہیں آرہی تھیں ۔ اس نے ایک بار پھر غور سے دیکھا، وہاں کوئی بھی دکھائی نہیں دیا۔
بارش شروع ہو گئی تھی۔ اولیس نے کھیسانا سا ہو کر سائن بورڈ کی طرف دیکھا اور اپنا دفتری بیگ اٹھا کر جیسے ہی سیدھا ہوا ایک بار پھر اُس نے اپنے فلیٹ کی طرف بھاگنے کے لئے رخ کیا ہی تھا کہ، وہ یک دم گھبرا کر چونک پڑا۔
اس سے دوفٹ کے فاصلے پر بالکل اس کے سامنے ایک شخص کھڑا اس کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرا کر رہا تھا۔ اویس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ اچانک وہ شخص کہاں سے آ گیا ؟ جبکہ دور تک کوئی بھی دکھائی نہیں دیا تھا۔ اولیس نے متحیر نگاہوں سے اُسے سر سے پاؤں تک دیکھا۔
اُس کے سر پر تنکوں کا بنا ہوا ہیٹ تھا۔ جو شاید کسی بار یک دکھائی نہ دینے والے دھاگے سے باندھا ہوا تھا کہ تیز ہوا میں بھی وہ اس کے سرسے نہیں اُڑ رہا تھا۔ اُس کا رنگ گندمی تھا۔
چہرے پر چھوٹی چھوٹی داڑھی اور مونچھیں تھیں ، جیسے اُس نے کئی دنوں سے شیو نہ بنائی ہو۔ آنکھوں کی رحمت نیلی تھیں اور اُس کا جسم عام سا تھا۔ اُس کے بدن پر کالی ٹی شرٹ اور اوور کوٹ تھا ، کالے رنگ کی پتلون کے ساتھ پاؤں میں پرانے بغیر پالش کئے ہوئے بوٹ تھے۔
اُس نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے اوور کوٹ کی جیب میں ڈالے ہوئے تھے۔
ہمت کرنے پر آؤ تو تم اپنی قوت کا مظاہرہ کر ہی دیتے ہو۔ وہ اولیس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔ اُس کی آواز میں بھاری پن تھا، لیکن ایسا نہیں کہ بولتے ہوئے عجیب سا لگے۔اس کا لہجہ صاف اور واضح تھا۔
” آپ مجھے دیکھ رہے تھے؟ اولیس نے پوچھا اس کی نگاہیں اس کے چہرے پر بدستور مرکوز تھیں اور وہ اُس کا جائزہ لئے جارہا تھا۔
”ہاں پاس ہی تھا۔ اس نے بتایا۔ تمہیں دیکھ رہا تھا کہ تم کیا کر رہے ہو ۔ یہ بورڈ ہلانا ا کیلئے آدمی کا کام تو نہیں ہے لیکن تم نے ہلا دیا اور حیرت ہے کہ اس مضبوطی سے لگا بورڈ ٹوٹ کر کیسے گر گیا ؟ آندھی کا کمال ہے یا کسی دوسری طاقت کا مظاہرہ ہے ۔ وہ کہہ رہا تھا اور اولیس کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اُس کا اشارہ کس جانب ہے۔
” مجھے لگا تھا کہ کوئی اس بورڈ کے نیچے یا دیوار کی طرف پھنسا ہوا ہے ۔ ” اولیس بولا۔
اس لئے میں نے اُسے نکالنے کے لئے اتنی زور آزمائی کی تھی ۔”
کوئی نہیں تھا۔ وہ دھیرے سے بولا ۔ اس کے چہرے کی مسکراہٹ بھی نہیں معدوم ہوئی تھی اور اس کا جسم بھی ساکت تھا۔ تیز ہوا چل رہی تھی اور تنکوں کا بنا ہیٹ اُس کے سر پر جما ہوا تھا۔ وہ دو قدم چل کر وہ اولیس کے کچھ اور قریب ہو گیا۔
“وہاں کوئی بھی نہیں تھا۔ اولیس نے کہتے ہوئے سردی سے ایک جھرجھری لی۔ بارش تیز ہوگئی تھی۔ وہ بارش میں شرابور ہو گیا تھا۔ اُسے اچانک اپنے پاس دیکھ کر اور باتوں کے دوران بارش سے بچنے کا بھی اُسے خیال نہیں رہا تھا۔ اولیس نے اپنے ہاتھ سے آنکھیں صاف کیں، تا کہ بارش کے پانی سے آنکھوں کے ارد گرد کی مٹی صاف ہو سکے ۔ اُسے سردی لگنے لگی تھی ۔ جونہی اس نے آنکھوں سے ہاتھ ہٹا کر پھر سامنے دیکھا تو وہ بُری سے چونک پڑا، وہ اس کے سامنے نہیں تھا۔
اویس نے اپنی گردن گھما کر آس پاس اور پھر دور تک دیکھا وہ کہیں دکھائی نہیں دیا۔
آپ کا نام اور *ای میل* محفوظ ہیں اور کسی بھی صورت میں پبلک نہیں کیے جائیں گے۔
براہِ کرم ناول پڑھنے کے بعد اپنا قیمتی کمنٹ ضرور کریں۔
آپ کی رائے ہمارے لیے بہت اہم ہے اور لکھاری کی حوصلہ افزائی کا باعث بنتی ہے۔
Your *name* and *email* are secure and will not be shown
Please make sure to leave your valuable comment after reading the novel.
Your feedback is very important to us and motivates the writer. to other users.
