سہراب دل ناول

رومانوی داستان

زارا رایٹڑ

قسط وار ناول

views
0
Sohrahab E Dil Romantic Novel

قسط_1

شہر پر نومبر کی پہلی شام اتر رہی تھی، اور اس شام میں ایک عجیب سی اداسی اور رومانیت گھلی ہوئی تھی۔ ارحم احمد، بتیس سالہ آرکیٹیکٹ، اس وقت شہر کے مصروف ترین علاقے میں واقع “دی بک کیفے” کی کھڑکی کے پاس بیٹھا تھا۔ یہ کیفے اس کے لیے محض کافی پینے کی جگہ نہیں تھا، بلکہ اس کی تنہائی کا ایک پرسکون گوشہ تھا، جہاں وہ اپنے منصوبوں کے خاکے بناتا اور زندگی کی یکسانیت میں سکون تلاش کرتا۔

آج کا دن بھی معمول کے مطابق تھکا دینے والا تھا؛ کلائنٹس کے مطالبات، ڈیڈ لائنز کا دباؤ، اور دفتر کی سیاست۔ ارحم نے ایک گہرا سانس لیا اور اپنی ایسپریسو کا ایک گھونٹ بھرا۔ گرم کافی اس کے حلق سے نیچے اترتے ہی نس نس میں تازگی دوڑا گئی۔ باہر بارش کی ہلکی پھوار شروع ہو چکی تھی، جس نے سڑکوں کو ایک سیاہ، چمکیلی سطح میں بدل دیا تھا۔ نیون لائٹس پانی میں منعکس ہو کر ہزاروں رنگ بکھیر رہی تھیں۔

ارحم کی زندگی ایک سیدھی لکیر کی طرح چل رہی تھی—گھر، دفتر، اور یہ کیفے۔ اس کی زندگی میں کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی۔ وہ کامیاب تھا، خوشحال تھا، لیکن اس کی روح میں ایک خلا تھا جو کسی نامعلوم چیز کا متلاشی تھا۔

اسی سوچ میں گم، اس کی نظریں بے اختیار کھڑکی سے باہر سڑک پر جم گئیں۔ لوگ تیزی سے اپنی منزلوں کی جانب گامزن تھے، چھتریاں سنبھالے، دنیا و مافیہا سے بے خبر۔

پھر، جیسے کسی نے وقت کا پہیہ روک دیا ہو، اس کی نظر ایک لڑکی پر پڑی۔

وہ سڑک پار کر رہی تھی۔ بارش کی بوندیں اس کے گلابی دوپٹے سے الجھ رہی تھیں۔ اس کا چہرہ مکمل طور پر نظر نہیں آ رہا تھا، مگر اس کی چال میں ایک خاص قسم کا ٹھہراؤ اور نزاکت تھی۔ ارحم کو لگا جیسے اس نے کوئی چلتا پھرتا شعر دیکھ لیا ہو۔ ایک لمحے کے لیے، جب وہ سڑک کے بیچوں بیچ رکی، اس کی آنکھیں ارحم کی آنکھوں سے مل گئیں۔

یہ ایک غیر معمولی لمحہ تھا۔ نہ کوئی بات ہوئی، نہ کوئی اشارہ، بس دو نگاہیں ملیں۔ ارحم کو لگا جیسے اس کی برسوں کی خاموشی اس ایک نظر میں ٹوٹ گئی ہو۔ ان آنکھوں میں ایک گہرائی تھی، ایک کہانی تھی جو سنائی جانے کی منتظر تھی۔

ارحم کا دل بے ترتیب دھڑکنوں کے ساتھ شور مچانے لگا۔ اس کے اندر ایک عجیب سی کشش پیدا ہوئی۔ وہ بے اختیار اپنی کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا۔ اس کا سارا وجود اس لڑکی کی طرف کھینچا جا رہا تھا۔ اس نے اپنا کافی کا کپ میز پر چھوڑا اور کیفے سے باہر نکل آیا۔

بارش اب تیز ہو چکی تھی۔ ارحم کو اپنے بھیگنے کا ہوش نہیں تھا۔ وہ مجمع میں اسے تلاش کرنے لگا۔ “وہ کدھر گئی؟” اس نے دل ہی دل میں خود سے پوچھا۔ لوگ اس کے اردگرد سے گزر رہے تھے، ہارن بج رہے تھے، مگر اسے صرف وہ گلابی دوپٹہ نظر آ رہا تھا۔

مگر قسمت کو شاید کچھ اور ہی منظور تھا۔ چند لمحوں کی تاخیر اور وہ لڑکی بھیڑ میں غائب ہو گئی۔ جیسے کوئی حسین خواب جو آنکھ کھلتے ہی ٹوٹ جائے۔

ارحم وہیں سڑک کے کنارے بے بسی سے کھڑا رہ گیا۔ اس کا دل مایوسی سے بھر گیا۔ اسے نہیں معلوم تھا کہ وہ کون تھی، کہاں سے آئی تھی، اور اب کہاں چلی گئی۔ مگر وہ جانتا تھا کہ یہ ملاقات اس کی زندگی کا ایک اہم موڑ تھی۔ وہ واپس کیفے کی طرف مڑا، مگر اب اس کی دنیا بدل چکی تھی۔ اس کے اندر ایک امید نے جنم لیا تھا—اسے اس اجنبی کو دوبارہ تلاش کرنا تھا۔

اگلے کئی دن ارحم نے ایک جنونی کیفیت میں گزارے۔ اس کا فوکس اپنے کام سے ہٹ چکا تھا۔ اس کی ہر سوچ، ہر کوشش صرف اس ایک چہرے کے گرد گھوم رہی تھی جسے اس نے صرف چند سیکنڈز کے لیے دیکھا تھا۔

وہ روز شام ٹھیک پانچ بجے “دی بک کیفے” پہنچ جاتا۔ وہی میز، وہی کھڑکی، وہی ایسپریسو۔ وہ گھنٹوں وہاں بیٹھا رہتا، باہر سڑک پر نظریں جمائے اس گلابی دوپٹے والی لڑکی کا انتظار کرتا۔ مگر مایوسی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آ رہا تھا۔

اس کے دوستوں نے اس تبدیلی کو محسوس کیا۔ اس کے قریبی دوست، زین نے ایک شام اس سے پوچھا، “یار ارحم! تم آج کل کہاں کھوئے رہتے ہو؟ تمہارے ڈیزائنز میں بھی وہ چمک نہیں رہی۔ کیا مسئلہ ہے؟”

ارحم نے ہچکچاتے ہوئے اسے اس شام کی کہانی سنائی۔ زین نے پہلے تو اسے مذاق سمجھا، پھر جب ارحم کی آنکھوں میں سنجیدگی دیکھی تو خاموش ہو گیا۔ “ایک لمحے کی نظر پر تم نے اپنی زندگی الٹ پلٹ کر دی؟ یہ فلموں میں ہوتا ہے، حقیقت میں نہیں، میرے دوست۔ آگے بڑھو۔”

مگر ارحم کا دل ماننے کو تیار نہیں تھا۔ اسے یقین تھا کہ یہ کوئی عام اتفاق نہیں تھا۔

ایک ہفتہ گزر چکا تھا۔ ارحم اس دن بھی معمول کے مطابق کیفے میں بیٹھا تھا، مگر اب کی بار اس کی امید جواب دے رہی تھی۔ اس نے سوچا کہ آج آخری دن ہے، اگر آج بھی وہ نظر نہ آئی تو وہ اس سراب کا پیچھا چھوڑ دے گا۔

شام گہری ہو رہی تھی۔ وہ اپنا لیپ ٹاپ بند کر کے جانے کے لیے اٹھا ہی تھا کہ اس کی نظر برابر والی میز پر پڑی، جو ابھی ابھی خالی ہوئی تھی۔ میز پر ایک چھوٹی، میرون رنگ کی چمڑے کی ڈائری اور ایک نفیس سا فاؤنٹین پین رکھا ہوا تھا۔ ظاہر ہے کوئی گاہک اسے بھول گیا تھا۔

ارحم نے تجسس سے ڈائری اٹھائی۔ اس کا دل ایک بار پھر تیزی سے دھڑکا۔ اس ڈائری کا تعلق کس سے ہو سکتا ہے؟ اس نے احتیاط سے پہلا صفحہ کھولا۔

اندر ایک خوبصورت، نستعلیق خطاطی میں ایک نام لکھا تھا: “سحر خان”۔

اور اس نام کے نیچے ایک چھوٹی سی تاریخ درج تھی—وہی تاریخ جس شام ارحم نے اسے پہلی بار دیکھا تھا!

ارحم کے ہاتھ کانپنے لگے۔ کائنات نے جیسے اس کی پکار سن لی تھی۔ یہ کوئی عام ڈائری نہیں تھی، یہ اس کی سحر کی ڈائری تھی۔ اس نے فوراً ڈائری اپنے بیگ میں رکھی اور کیفے سے باہر نکل آیا۔ وہ جانتا تھا کہ سحر واپس آئے گی اسے لینے کے لیے۔

اب اس کے پاس انتظار کرنے کی ایک ٹھوس وجہ تھی۔ اگلے دن وہ ڈائری لے کر اسی جگہ پہنچ گیا۔ اس نے سوچا کہ وہ ڈائری سحر کو واپس کرے گا اور اس سے بات کرنے کی کوشش کرے گا۔

لیکن اس کے ذہن میں ایک اور خیال آیا۔ اس نے ڈائری کھولی اور آخری خالی صفحے پر اپنے قلم سے ایک مختصر مگر بامعنی پیغام لکھا:

“میں روز یہاں تمہارا انتظار کرتا ہوں۔ تمہاری ڈائری میرے پاس محفوظ ہے۔ – ارحم”

اس نے ڈائری واپس اسی میز پر رکھ دی اور اپنی میز پر جا کر بیٹھ گیا، دل تھام کر انتظار کرنے لگا۔ اب کھیل شروع ہو چکا تھا، اور وہ اس کے اگلے موڑ کے لیے تیار تھا۔

نوٹ / Note:

آپ کا نام اور *ای میل* محفوظ ہیں اور کسی بھی صورت میں پبلک نہیں کیے جائیں گے۔

براہِ کرم ناول پڑھنے کے بعد اپنا قیمتی کمنٹ ضرور کریں۔
آپ کی رائے ہمارے لیے بہت اہم ہے اور لکھاری کی حوصلہ افزائی کا باعث بنتی ہے۔
Your *name* and *email* are secure and will not be shown

Please make sure to leave your valuable comment after reading the novel.
Your feedback is very important to us and motivates the writer. to other users.

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments
error: Content is protected !!
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x