سولہ سالہ نمل

رومانوی داستان

مکمل ناول

views
0
سولہ سالہ نمل

مکمل ناول

یہ گاؤں کے جرگے کا منظر تھا جہاں سارے گاؤں کے آدمی کھڑے تھے قتل تو ہوا ہے اس لیے بدلہ تو لیا جائے گا سردار صاحب اپنے ازلی سخت لہجے میں بول رہے تھے اور ایک سائیڈ گاؤں کا غریب کسان کرم دین کھڑا تھا ٹھیک ہے سردار صاحب وہ اپنا سر جھکا چکا تھا سردار صاحب کچھ دیر سوچتے رہے جیسے کہ تم ہماری زمینوں پر ہی کام کرتے ہو تو ہم تمہاری جان نہیں لیں گے کیونکہ تم ساری زندگی ہماری زمینوں پر ہی کام کرتے رہو گے یہی تمہاری سزا ہے لیکن قتل کا بدلہ تمہیں اپنی بیٹی ونی میں دینی ہوگی ان کی بات سن کر ایک پل کے لیے سارے جرگے میں سناٹا چھا گیا کرم دین بے حد حیرت اور بے یقینی سے دیکھا وہ سردار صاحب کے فیصلے پر اف بھی نہیں کر سکتا تھا کیونکہ یہی ان لوگوں کے رواج تھے۔

اگلے آدھے گھنٹے بعد وہ اپنے گھر گیا اور اپنی بیوی نسیمہ سے کہا کہ جلدی سے بیٹی کو چادر دو نسیمہ بڑی حیران ہوئی کیوں کیا ہوا ہے تو کرم دین ساری بات نسیمہ کو بتا دی اور نسیمہ کا دل ڈھڑکنا بھول گیا یہ کیا کہہ رہے ہیں کیا مطلب وہ میری بیٹی کو ونی لے جانا چاہتے ہیں ابھی میری بیٹی کی عمریں کتنی ہے وہ صرف 14 سال کی بچی ہے نسیمہ کا تو جیسے سانس اٹک گیا تھا میں کچھ نہیں کر سکتا مجبور ہوں ان لوگوں کو میری جان نہیں چاہیے یہ ان کی شرط ہے کہ انہیں ونی ہی چاہیے وہ سر جھگا گئے اور دروازے میں کھڑی 14 سالہ نمل نے حیرت سے اپنے ماں بآپ کو دیکھا ابا کیا بات ہے آپ کیوں رو رہے ہیں وہ فورا ان کے پاس ائی تھی کرم دین نے اس کے سر پر۔ہاتھ رکھا میری بیٹی میری ہر بات مانتی ہو نا تو میری ایک بات مانو گی انہوں نے اسے بہلاتے ہوئے پوچھا تو نمل نے سر ہلایا گاؤں والے چاہتے ہیں کہ تمہیں بڑی حویلی لے جائیں پھر تمہیں وہیں رہنا ہوگا اس کے بعد تمہیں ہم سے ملاقات کی اجازت نہیں ہوگی اگر تم نہیں گئی تو وہ پھر مجھے مار دیں گی اور ان کی بات سن کر نمل کے چہرے پر ایک رنگ آ رہا تھا ایک رنگ جا رہا تھا وہ اپنے بآپ کو مرتا ہوا نہیں دیکھ سکتی تھی اس لیے مان گئی ٹھیک ہے ابا میں چلوں گی لیکن آپ کو کچھ نہیں ہونے دوں گی صحیح کہتے ہیں کہ بیٹیاں ہی والدین کے لیے قربانی کا بکرا بن جاتی ہیں وہ چادر لے کر اپنے بآپ کے ساتھ جرگے میں جانے کے لیے نکل چکی تھی وہ اتنی چھوٹی تھی کہ اسے یہ۔ ونی اور نکاح کا شاید علم بھی نہ ہو اور وہ تھی بھی بہت معصوم خیر کرم دین اسے لے کر حاضر ہو چکا تھا اور ایک سائیڈ کھڑا سردار صاحب کا پوتا بے حد حیرت اور بے یقینی سے اس چھوٹی سی لڑکی کو دیکھ رہا تھا وہ خود ابھی محض 18 سال کا تھا لیکن دادا زبردستی اسے حویلی سے بلا کر یہاں لے کر ائے تھے اور اسے زبردستی نے کہا کے لیے راضی بھی کر چکے تھے حالانکہ وہ یہ نکاح کرنا ہی نہیں جاتا تھا کچھ ہی دیر میں 18 سالہ دراب شاہ کا نکاح 14 سالہ نمل سے ہو چکا تھا اس نکاح کا کیا انجام ہونا تھا اور اس کے بڑوں نے کیا سوچ کر یہ فیصلہ کیا تھا یہ کوئی نہیں جانتا تھا اور اس وقت دراب شدید پریشان تھا کیا یہ اس کی شادی کی عمر تھی ابھی تو اسے پڑھنا۔ تھا کچھ بننا تھا لیکن یہ دادا نے اسے کہاں پھنسا دیا بس گاؤں کے سردار تھے رحیم صاحب ان کا ایک ہی بیٹا تھا رحمان خان اس کے تین بیٹے تھے بڑا بیٹا فیصل خان تھا چھوٹا بیٹا دراب خان اور اس سے چھوٹا سا ابراہیم خان کھیتوں میں کام کرتے ہوئے ادھی رات کے وقت غلطی سے کرم دین کی بندوق سے گولی چلی اور فیصل خان کو لگتی ہے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا تھا اور کرم دین کو لگا شاید کوئی لٹیرا کھیتوں میں گھس گیا ہے وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ سردار صاحب کا پوتا ہے اور اسی وجہ سے اب اس کے جرگے میں پیشی ہو رہی تھی ان کا دل بہت تکلیف میں تھا نسیمہ بیگم نے کس طرح دل پر پتھر رکھ کر اپنی بیٹی کو جدا کیا تھا وہی جانتی تھی اس کے بآپ نے اخری بار بیٹی۔.کو دیکھا شاید اب ساری زندگی اسے دیکھ نہ سکے

ونی کا مطلب کیا ہوتا ہے وہ بہت اچھے سے جانتی تھی وہ لوگ اسے حویلی لے گئے اور وہ بآپ خالی ہاتھ گھرلوٹ گیا اسے لگ رہا تھا جیسے آج سب کچھ ہار گیا ہوں نمل ان سب کے ساتھ اتنی بڑی حویلی میں داخل ہوئی وہ کسی چھوٹی سےبچے کی طرح ایکسائیٹڈ ہوتی ساری حویلی دیکھ رہی تھی اس کی آنکھوں میں جگنو چمک رہی تھی اس نے زندگی میں پہلی بار حویلی کو اندر سے دیکھا تھا ورنہ ہر بار بس دور سے ہی دیکھتی تھی کیونکہ خان حویلی گاؤں سے کچھ فاصلے پر تھی کافی بڑی تھی اور بہت خوبصورت تھی اس کے پیچھے ہی دو ملازمہ تھی دادا اور دراب کہاں گئے تھے فی الحال کسی کو نہیں پتہ تھا اور نمل تو یہ بھی نہیں جانتی تھی کہ وہ اس گھر کی۔بہو بن گئی ہے بس اسے اتنا پتہ تھا یہاں رہنا ہے اماں نے بس یہی کہا تھا کہ اگر وہ کوئی بھی کام کہیں تو کر دینا جس طرح ملازمہ کام کرتی ہیں اس طرح کام کرنا ہے کیونکہ ونی کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ لڑکی کو بدتر سے بدتر سلوک برداشت کرنا پڑتا ہے وہ ملازمہ کی سنگت میں چلتی ہوئی حویلی کے اندر داخل ہو چکی تھی اور بہت خوشی سے ساری حویلی کو دیکھ رہی تھی حویلی کے لاونج میں ہی ایک خاتون اور ایک پچیس سالہ خوبصورت اور جوان لڑکی بیٹھی ہوئی تھی وہ تو ابھی تک گھوم کے ساری حویلی دیکھے جا رہی تھی وہ گول گول گھومتی ہوئی آس پاس دیکھ رہی تھی سلام بی بی جی ایک ملازمہ نے اس عورت کو سلام کیا وعلیکم السلام کون ہیں یہ ان کے لہجے میں ایک نرمی اور ٹھہراؤ تھا بی بی جی کرم۔دین کی بیٹی ہے اور سردار صاحب نے اس کا نکاح اس کا نکاح چھوٹے بابا سے کر دیا ہے ان کی بات سنتے ہی شگفتہ بیگم کے چہرے کا رنگ اڑ گیا انہیں یقین نہیں آیا اتنی چھوٹی بچی کا نکاح کر دیا یہ ابو جی نے کیسا فیصلہ کر دیا خیر تم جاؤ انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے ملازمہ کو جانے کا بولا لیکن ملازمہ حیران تھی لیکن بی بی جی اس کا کیا کرنا ہے نوکرانی کی بات سن کےبیگم صاحبہ غصے سے بولیں ادب سے بات کرو اس حویلی کی بہو ہے جاؤ یہاں سے ملازمہ سر ہلاتی چلی گئی اور وہ لڑکی جو ساری باتیں سن چکی تھی ایک ہی جھٹکے سے اٹھی اور آگے بڑھتے نمل کے چہرے پر ایک تھپڑ دے مارا یہ سب اتناچانک ہوا کہ نمل سمجھ تک نہ سکی شگفتہ بیگم فورا اٹھی اور اس تک پہنچی یہ کیا کر رہی ہو بیٹا حوصلہ۔رکھو انہوں نے اس لڑکی کو دونوں کندھوں سے پکڑا اور نمل پھٹی پھٹی نگاہوں کے ساتھ اس لڑکی کو دیکھ رہی تھی امی آپ مجھے کہہ رہی ہیں میں حوصلہ کروں اس لڑکی کے باپ کی وجہ سے میرا شوہر مجھ سے جدا ہو گیا میرا بچہ یتیم ہو گیا اور آپ کہہ رہی ہیں میں صبر رکھوں وہ لڑکی غصےاور بے بسی سے چیختے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر روپڑی بے ساختہ نمل کو دکھ ہوا اسے تھپڑ پڑنے سے وہ تکلیف نہیں ہوئی جو اس لڑکی کی حالت دیکھ کر ہوئی شگفتہ بیگم نے اسے اپنے گلے لگا لیا بیٹا صبر کرو خدا صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے اور وہ بس ایک حادثہ تھا اور اس میں اس لڑکی کا کیا قصور ہے وہ شدید صدمے سے پوچھ رہی تھی تو کیا کروں اماں میرے دل کو سکون نہیں مل رہا آپ جانتی ہیں نا۔میں فیصل کے بنا جینے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی اور انہیں مجھ سے چھین لیا گیا ہے وہ وہیں صوفے پر بیٹھ گئی اور پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی نمل قدم قدم چلتی اس کے پاس آئی اور اس کندھے پر ہاتھ رکھاکیا ہوا باجی اس نے اتنی معصومیت سے پوچھا کہ شگفتہ بیگم کی آنکھوں میں نمی چمک پڑی اور اریبہ نے ایک منٹ سے پہلے اس کا ہاتھ اپنے کندھے سے دور جھٹکا خبردار اگر میرے قریب آئی یا مجھے ہاتھ لگانے کی کوشش کی انگلی اٹھاکر اس نے نمل کو اتنے غصے سے تنبی کی کہ نمل کے چہرے پر خوف نمودار ہوا ۔وہ اٹھی اور اپنے کمرے میں جا کر بند ہو گئی اور نمل صوفے پر بیٹھی ہوئی بے یقینی سے اس کی پشت کو دیکھ رہی تھی پھر اس نے چہرہ پلٹ کر شگفتہ بیگم کو دیکھا انہیں کیا ہوا وہ کیوں رو رہی تھی اس۔کی اتنی معصومیاں دیکھ کر شگفتہ بیگم کے لبوں پر تبسم بکھر گیا کچھ نہیں بیٹا اس نے اپنا شوہر کھو دیا ہے اس لیے وہ تکلیف میں ہے تم اسے معاف کر دینا وہ بہت اچھی ہیں بس غم سے برا بنا دیا ہے انہوں نے نرمی سے نمل کی وہیں گال تھپ تھپائی جس پر عریبہ نے تھپڑ مارا تھا نمل نے بنا کچھ کہے اس بات پر سر ہلایا بالکل ویسے جیسے اچھے بچے بات مانتے ہیں اور آپ کون ہیں اور وہ کون تھی اس نے معصومیت سے اشارہ کرتے سوال پوچھا اور شگفتہ بیگم نہ چاہتے ہوئے بھی ہنس پڑی تم مجھے اماں کہہ سکتی ہو کیونکہ رشتے میں تمہاری اماں لگتی ہوں اور جو ابھی گئی ہے اس کا نام عریبہ ہے تم اسے اپنی ہی آپی کہہ سکتی ہو نمل حیران نگاہوں سے شگفتہ بیگم کو دیکھ رہی تھی لیکن آپ میری۔اماں کیسے ہو سکتی ہیں میری اماں تو وہ ہیں جو گھر میں ہمارے ساتھ رہتی ہیں اس کی اتنی معصوم باتیں سن کر شگفتہ بیگم کو ناچاہتے ہوئے بھی ہنسی ا ٓرہی تھی دیکھو ہر لڑکی کی دو اماں ہوتی ہیں ایک وہ جس نے آپ

کو پال پوس کا بڑا کیا ہوتا ہے اور ایک اماں وہ ہوتی ہے جہاں آپ

کی شادی ہو کر جاتی ہوں اس گھر میں ایک اماں ہوتی ہے اور لفظ شادی پر نمل پھر حیران رہ گئی کیا میری شادی ہو گئی ہے اس نے اتنی معصومیت اور حیرت سے پوچھا کہ شگفتہ بیگم کا قہقہ لاونج میں گونج اٹھا بالکل تمہاری شادی ہو گئی ہے ان کی بات سنتے ہی نمل کے چہرے کا رنگ اڑ گیا ہیں لیکن شادی کہاں ہوئی میرا ہیرو کہاں ہے میں تو تیار بھی نہیں ہوں میں دلہن ہی نہیں بنی تو شادی کیسے ہو۔گئی وہ بے حد بدہواس ہوئی تھی اور شگفتہ بیگم نے بہت مشکلوں سے اپنی ہنسی روکی تھی دیکھو ضروری نہیں ہوتا کہ شادی تب ہی ہو جب آپ

دلہن بن کر تیار ہوں نکاح کا مطلب شادی ہے اور تمہارا نکاح ہو چکا ہے میرے بیٹے کے ساتھ ابھی کچھ دیر میں آتا ہی ہوگا تو تم اسے مل لینا وہ تمہارا شوہر ہے اور اچھی بیویاں شوہر کی عزت کرتی ہیں سمجھ رہی ہو نا شگفتہ بیگم نے اسے سمجھایا اور اس نے اس بات میں سر ہلایا اتنے میں حویلی میں دادا جان اور دوراب خان داخل ہو چکے تھے دراب کی دادا سے کافی بحث ہوئی تھی اور دادا کا یہ کہنا تھا کہ یہی مناسب حل تھا کیونکہ سارے جانتے تھے کہ وہ قتل نہیں بس ایک حادثہ تھا اس لیے انہوں نے نہ ہی کرم دین کو قتل کیا اور نہ ہی جرگے۔کے اصولوں کے خلاف گئے تھے اس طرح ان کی بیٹی ونی ہو کر اگئی لیکن اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ اس کے ساتھ ونی والا

سلوک کریں گے۔۔

ادھر ا ٓو۔ آپشگفتہ بیگم نے اسے مخاطب کیا وہ فورا اماں کے پاس آیا نمل یہ تمہارا شوہر ہے اس کا نام دوراب خان ہے تمہیں اس کی عزت کرنی ہے اماں تو بس شروع ہو چکی تھی اور دوراب کا دل چاہا اپنا سر پیٹ لے یا یہاں سے بھاگ جائیں نہ جانے اسے کیا کیا سمجھا رہی تھیں بات کے آخر میں وہ دوراب کی طرف پلٹی جاؤ اسے کمرے میں لے کر جاؤ اور اپنا کمرہ دکھاؤ اور یہ بات سنتا درا ب بے حد حیرت اور بے یقینی کا شکار ہوا کیا یہ میرے کمرے میں رہے گی اسے حیرت کا شدید جھٹکا لگ چکا تھا ہاں بھئی کیوں تمہارے کمرے میں رہے گی۔اخر تمہاری بیوی ہے اماں پرسکون تھی لیکن اسے سمجھ نہیں ارہی تھی ایک تو کم عمری میں نکاح اوپر سے وہ اس کے کمرے میں بھیج رہی تھی وہ دانت پیس کر رہ گیا اماں پلیز اس حویلی میں اتنے سارے کمرے ہیں کہیں بھی اسے ٹھرا دیں لیکن میرے سر پر سوار مت کریں نمل جواس کی باتیں بہت غور سے سن رہی تھی اس کی آنکھوں میں نمی سی اکھٹی ہوئی اسے پہلے ہی نظر میں دراب کافی مغرور لگا ان کے ساتھ نہیں رہوں گی وہ جو ماں سے بحث کر رہا تھا اچانک ہی وہ درمیان میں خفی سے منہ پھیلاتی بول اٹھی یہ دونوں ماں بیٹے نے حیرت سے اسے دیکھا کیوں بیٹا تم اس کے ساتھ کیوں نہیں رہو گی شگفتہ بیگم نے سوال پوچھا دیکھ نہیں رہی انہیں بالکل پسند نہیں ہوں کس طرح کہہ۔ رہے ہیں کہ میں ان کے سر پر سوار ہو گئی ہوں نمل کسی کے سر پر سوار نہیں ہوتی مجھے کوئی شوق نہیں لوگوں کی زندگیوں میں زبردستی گھسنے کا اس نے اتنی گہری بات کر دی کہ ایک پل کے لیے اماں اور دراب دونوں کے چہروں کی ہوائیاں اڑی تھیں اتنی چھوٹی سی عمر میں اتنی سمجھداری کی بات کی اسے توقع نہیں تھی اماں نے جن نظروں سے دوراب کو دیکھا وہ شرمندہ سا ہو کر رہ گیا اچھا ٹھیک ہے وہ جیسے ہار مان گیا تھا اور ماں کی ہر بات تو وہ پہلے ہی مان لیا کرتا تھا شگفتہ بیگم کے شوہر کا انتقال ہو چکا تھا حویلی میں صرف دادا جان شگفتہ بیگم ان کے دو بیٹے اور ان کی بہو عریبہ تھی کیونکہ فیصل کا انتقال ہو چکا تھا اور فیصل کا ایک شیرخواہ اور بچہ تھا بہت چھوٹا تھا۔اسی لیے تو عریبہ نے فیصل کی موت کا اتنا غم لیا تھا ۔وہ اس کے آگے آگے چل رہا تھا اور نمل خفگی سے منہ پھلاتی اس کے پیچھے پیچھے چل رہی تھی یقینا اسے ابھی تک دوراب کی وہ بات سر پر چڑھنے والی پسند نہیں آئی تھی وہ کمرے میں داخل ہوا تو وہ بھی اس کے پیچھے ہی داخل ہو گئی اور کمرہ دیکھ کر تو نمل کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں وہ بہت ہی بڑا اور بہت ہی شہانہ بیڈ روم تھا اور نمل تو کسی بچے کی طرح خوش ہو گئی تھی یہ میرا کمرہ ہے اور دھیان رکھنا میری کسی بھی چیز کو ادھر ادھر مت کرنا مجھے اپنی چیزیں بکھری ہوئی پسند نہیں ہیں وہ تو اس طرح ہدایت دے رہا تھا جیسے وہ سارا کمرہ بکھیر دے گی اس کی بات سنتے نمل کا چہرہ غصے سے پھول گیا۔

میں کوئی بگڑی ہوئی بچی نظر آتی ہوں جو سارے کمرے کا سامان بکھیر دوں گی وہ غصے سے بولی تھی اور دوراب نےحیرت سے اس کو دیکھا ایک تو پتہ نہیں دادا نے کہاں پھسا دیا تھا وہ بس نفی میں سر ہلاتا رہ گیا ہے بنا کچھ کہیں وہ سٹیڈیبل پر بیٹھ چکا تھا اور وہ بیڈ پر بیٹھی اچھل کود کر رہی تھی دوراب ڈسٹرب ہو رہا تھا پلیز تم یہ اچھلنا کودنا بند کر دو ایک جھٹکے سے اپنی کرسی گھماتا وہ غصے سے بولا اور نمل کے منہ کے زاویے بھی بگڑ گئےوہ بیڈ پر ایک سائیڈ ہو کر بیٹھ گئی اور دوراب نے سکون کا سانس لیا۔وہ کافی وقت سے پاکستانی ڈرامہ دیکھتی تھی اس لیے اتنا تو پتہ ہی تھا کہ ہیرو کیسے ہوتے ہیں لیکن اسے دورا ب بالکل بھی۔

 

پسند نہیں آرہا وہ بہت زیادہ سخت تھا وہ سٹڈی ٹیبل پر بیٹھا اپنی پڑھائی کر رہا تھا نہیں اب میرے دوست کیا کہیں گی یونیورسٹی جانے کی عمر میں میری ایک قدر بی بی بھی آ چکی ہے کیا قسمت ہے یار اہستہ آواز میں ہڑ بڑا رہا تھا۔سنیں جب اچانک ہی وہ اس کے کان میں بولی اور دوراب لمحوں میں سیدھا ہوا اس کے بالکل پاس کھڑی تھی اور سٹڈی ٹیبل پر جھانک رہی تھی دوراب کو جیسے ہار ٹ اٹیک آتے آتے بچا اس نے اچانک آ کر اس طرح ڈرایا کہ وہ واقعی خوف زدہ ہو گیا تھا اب کیا مسئلہ ہے وہ جھنجھلاہی گیا تھا وہ مجھے بھوک لگ گئی ہیں اس نے بہت ہی معصومیت سے کہا اس کی چادرگھرتی ہوئی کندھوں تک ا ٓچکی تھی اور پہلی بار دوراب نے اس کا چہرہ بہت غور سے دیکھا

ایک پل کے لیے ساکت رہ گیا وہ 14 سال کی عمر میں ہی کافی خوبصورت تھی گہری سرمئی آنکھیں سفید گندمی رنگت اس کے گہرے بھورے بال اس کے نقش نین کچھ ایسے تھے کہ وہ بہت خوبصورت تھی دوراب کچھ لمحوں کے لیے جیسے اس کے خوبصورت چہرے میں کھو گیا مجھے بھوک لگی ہے نمل کو لگا شاید وہ سن نہیں رہا اس لیے دوبارہ اپنی بات پر زور دیا تو دوراب ہوش میں آیا ہاں رکو ملازمہ سے کہہ کر تمہارے لیے کچھ منگواتا ہوں کیا مصیبت ہے یار اب سکون سے پڑھ بھی نہیں سکوں گا پڑھنے کی عمر میں ایک بچی سنبھالنی پڑے گی شدید پریشانی کا شکار تھا اور ایک بار پھر نمل کو غصہ ا ٓگیا کتنی بار کہا ہے میں کوئی چھوٹی بچی نہیں ہوں پوری 14 سال کی ہوں ایٹ کلاس میں پڑھتی ہوں اپ۔

کو کیا پتا اور دراب نے بہت دلچسپی سے اس کی سرخ ہوتی ناک کو دیکھا جیسے سارا غصہ اس کا ناک میں سمٹ آیا ہو وہ کچھ ہی گھنٹوں میں جان گیا تھا اس لڑکی کو اپنی ناک بہت عزیز ہے کس طرح اپنی انا کی خاطر کیسے بار بار بولتی تھی کچھ ہی دیر بعد نوکرانی کھانا دے کر جا چکی تھی اور ایک سائیڈ بر پر بیٹھی وہ کھانا کھا رہی تھی وہ جو سکون سے بیٹھا پڑھائی تھا رہا تھا اچانک اس کا فون بج اٹھا اس نے فون اٹھایا اس کےکسی کلاس فیلو کا فون تھا فون پر بات کرنے کے بعد اس کے چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہوئی تھی وہ فورا سے باہر نکلا اور بھاگتا ہوا دادا کے پاس پہنچا باہر ہی لاونج میں دادا اور اماں باتوں میں مصروف تھی ماما مجھے آپ

کو بہت۔ضروری خبر دینی ہے خوشی اس کی لہجے سے ایا ں تھی ارے بھائی کیا ہو گیا ہے اماں نے حیرت سے پوچھا وہ اماں کے پاس ہی بیٹھ گیا اماں میں نے لندن یونیورسٹی میں گریجویشن کے لیے اپلائی کیا تھا اور وہاں سے مجھے سلیکشن کی کال اگئی ہے مجھے کال آگئی ہے مجھے اسی ہفتے لندن جانا ہوگا اماں میں بہت خوش ہوں میں اپنی ڈگری لوں گا اس کی بات سنتے ہی اماں اور دادا دونوں کے چہرے کے رنگ اڑگئے تھے یہ کیا کہہ رہے ہو تم ملک سے باہر جا کر پڑھائی کرو گے دادا بھی کافی حیران تھے ہاں دادا وہاں کی ڈگری زیادہ اچھی ہے بس آپ

لوگ سمجھے نا مجھے اپنی پڑھائی کرنی ہی کرنی ہے اور کب تک واپس اؤ گے اماں نے دہل کر پوچھا چار پانچ سال تو لگ ہی جائیں گی اور اس ماں نے حال ہی۔نے اپنا ایک بیٹا کھویا تھا اور اب دوسرا بیٹا کسی نے اماں کو کلیجے کو ہاتھ مارا تھا لیکن شگفتہ بیگم نے دل پر پتھر رکھ دیا وہ اپنے بیٹے کے چہرے پر سارے جہان کی خوشی دیکھ سکتی تھی اور نمل کا کیا ہوگا انہوں نے اپنی سنجیدگی سے پوچھا اماں کیا ہو گیا وہ بھی چھوٹی بچی اسے پڑھائیں لکھائیں اور مجھے بھی پڑھنے دیں خدارا اس کے لہجے میں نمل کا ذکر کرتے ہوئے جھنجھلاہٹ نمایاں ہو گئی تھی اس کے بعد اماں نے کوئی بحث نہیں کی اس نے ایک ہفتے میں بھاگ دوڑ کی اور اپنے سارے ڈاکومنٹس کی ہار کے لیے اس ایک ہفتے میں وہ بالکل ہی نمل کو فراموش کر بیٹھا تھا نمل سارا سارا دن شگفتہ بیگم کے پاس بیٹھی ان سے بات کرتی رہتی پھر انہوں نے خود ہی سوچا کہ نمل کا ایڈمیشن کروا دیتے ہیں انہوں۔نے نمل کا ایڈمیشن سکول میں کروا دیا تو وہ وہاں بزی ہو گئی لیکن اسے دراب کا رویہ چھبتا تھا بے شک وہ 14 سالہ بچی تھی لیکن پھر بھی دل میں یہ بات کہیں نہ کہیں کہ چونکہ مار کر بیٹھ گئی تھی کہ وہ اس کا شوہر ہے اور اس کے ساتھ بے رخی والا سلوک برت رہا ہے وہ رات کو کمرے میں اتا تو نمل ایک سائیڈ پر بیڈ پر پڑی سوئی ہوتی ہیں اور کم سے کم نمل کے ساتھ یہ کمرے میں رہنے کا تو سوچنے والا بھی نہیں تھا اس لیے خاموشی سے نیچے والے کمرے میں چلا گیا اور بالاخر چھ دن بعد وہ لندن کے لیے چلا گیا پانچ سالوں کے لیے اسے نمل کو ایک بار خدا حافظ کہنا بھی گوارا نہیں کیا اس کی طرف دیکھا تک نہیں اور نمل بے شک وہ بچی تھی لیکن پھر بھی۔

اس کا دل بہت زیادہ اداس ہو گیا تھا گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ اریبہ کا رویہ نمل کے ساتھ ٹھیک ہونے لگا وہ اکثر اریبہ کے بیٹے کے ساتھ کھیل بھی اور باقاعدگی سے سکول جاتی تھی گزرے عرصے میں وہ کبھی اپنے ماں بآپ سے نہیں ملی لیکن وہ اس حویلی میں بہت اچھے طریقے سے رچ بچ گئی تھی دادا اماں ابراہیم اور عریبہ ساری اسے بہت عزت اور محبت دیتی تھی وہ دل لگا کر اپنی پڑھائی کر رہی تھی دورآپ مون بھی کٹتا تو صرف اماں سے بات ہوتی یا دادا اور ابراہیم سے اس نے کبھی فون پر نمل کا پوچھا ہی نہیں تھا جیسے اسے یاد ہی نہیں تھا کہ وہ ایک نسوانی وجود کو اپنے نکاح میں لے کر چھوڑ کر ا چکا ہے وہاں جا کر بہت زیادہ خوش رہنے لگا تھا گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ نمل نے کبھی اس۔

کا ذکر نہیں کیا اس کا دل چاہتا تھا وہ پوچھے وہ کیسا ہے لیکن اس نے کبھی بھی شگفتہ بیگم سے یہ جاننے کی کوشش نہیں کی یہ دورآپ کیسا ہے وہ اس کا ذکر ہی نہیں کرتی تھی جیسے وہ اس حویلی کا فرد ہی نہ ہو اسی طرح کرتے کرتے پانچ سال گزر گئے نمل جو پہلے ہی بہت خوبصورت بچی تھی اب ایک جوان دو شیزا میں بدل چکی تھی اس کی خوبصورتی مزید بڑھ گئی تھی اس نے ایف ایس سی بہت اچھے مات کے ساتھ بات کی تھی اتنی محنت کی تھی شگفتہ بیگم چاہتی تھی کہ اریبہ دوسری شادی کر لی لیکن اس نے صاف صاف منع کر دیا اور یہ کہہ دیا کہ وہ فیصل کے علاوہ زندگی میں کسی دوسرے مرد کا تصور بھی نہیں کر سکتی وہ اپنے بیٹے کو نہ تو چھوڑ کر جائے گی نہ ہی کوئی سوتیلاباپ۔دے گی وہ بہت اچھی اور بہت مضبوط لڑکی تھی اماں نے بھی کوئی بحث نہیں کی اور نمل اب کافی سمجھدار ہو گئی تھی اس کی معصومیت تو شاید اب کہیں دفن ہو گئی تھی یا پھر وہ معصومیہ صرف دوراب کے سامنے نمایاں ہوتی تھی وہ بہت سلجھ گئی تھی سمجھدار تھی اسے اپنے ماں بآپ

اتنے یاد نہیں آتے تھے جتنا دوراب یاد ا ٓتا تھا جب بہت زیادہ یاد آتی اور تکلیف ہوتی تو اس کے کمرے میں ا کر اس کی تصویر کے سامنے کھڑی ہو کر اپنے دل کی تکلیف کو قابو کرنے کی کوشش کرتی وہ جانتی تھی دوراب اسے پسند نہیں کرتا اور بچپن میں وہ نکاح صرف مجبوری میں ہوا تھا شاید وہ واپس آتے ہی اسے طلاق نامہ تھما دے کر چلتا کرے گااور نمل کو اس دن سے بہت ڈر لگتا تھا گزرے عرصے کے ساتھ ساتھ اس کے دل۔میں دوراب خان کے لیے محبت پیدا ہوتی گئی تھی وہ کسی صورت نہیں چاہتی تھی اس نے کبھی نہیں چاہا کہ دوراب اسے چھوڑ دیں لیکن دوراب اسے پسند نہیں کرتا تھا اور یہ بہت بڑی حقیقت تھی جسے وہ جھٹلا بھی نہیں سکتی تھی دوراب کے جانے کے بعد اس نے اماں سے درخواست کی تھی کہ وہ اس کمرے کو ہمیشہ کے لیے بند کر دیں وہ نہیں چاہتی تھی دوراب کی کوئی چیز آگے پیچھے ہو وہ چاہتی تھی جب دوراب واپس آئے تو اس کی ہر چیز اسی جگہ پر ملی یہ پانچ سال دوراب نے کیسے گزارے یہ نمل نہیں جانتی تھی لیکن اس نے ہر ایک پل کانٹوں کی سیج پر گزارہ تھا جہاں صرف تکلیفیں ہی تکلیفیں تھی اب وہ 19 سالہ سمجھدار لڑکی تھی وہ بچی نہیں رہی تھی ایک دن اماں اور اریبہ آپی بازار گئی ہوئی تھی اور وہ لاؤنج میں بیٹھی۔ٹی وی پر کوئی ڈرامہ دیکھتی تھی جب لاؤنج کا ٹیلی فون تھا تھرا اٹھا وہ ریموٹ رکھتی ہوتی ہے صوفے سے اٹھی اور ٹیبل تک آئی پھرفون کان سے لگایا تو دوسری طرف ہیلو کی آواز ابھری ۔ جی کون کس سے بات کرنی ہے سنجیدگی سے سوال پوچھا اس کی آواز سن کر کچھ پل کے لیے دوسری طرف خاموشی چھاگئی۔ ارے بھائی جب بات ہی نہیں کرنی تو فون ہی کیوں کیا تھا نمل جیسے جھنجلا ہی گئی اسے پہلے ہلے وہ فون کاٹتی سپیکر سے آواز آئی دوراب خان بات کر رہا ہوں اماں سے بات کرواؤ اس کے لہجے میں حکم تھا اس کی آواز گزرے سالوں میں کچھ بھاری سی ہو گئی تھی اور نمل کی جان کچھ پل کے لیے رک گئی سالوں بعد اس کی آواز سنی لیکن پھر وہ ہوش میں آئی اور بنا اسے کوئی جواب دیے فون ٹھک۔سے بند کر دیا پانچ منٹ بعد دوبارہ فون آنے لگا لیکن اس بار نمل نے تو فون کو ہاتھ تک نہیں لگایا فون بار بار آ رہا تھا اور وہ ڈرتی صوفے پر جا کر بیٹھ گئی اس کا موڈ بہت ہی زیادہ اداس ہو گیا تھا سارے کام چھوڑتی ہوئی وہ اپنے کمرے میں جا کر بند ہو گئی وہ دوپہر کی سوئی تھی اور اب مغرب ڈھل گئی تھی وہ جب کمرے سے باہر نکلی تو اس نے دیکھا حویلی میں کافی خوش گپیوں کی آواز آرہی تھی وہ حیرت سے ڈائننگ ٹیبل تک آئی لیکن وہاں کا منظر دیکھ کر نمل کا سانس رک گیا پورے پانچ سال بعد وہ واپس آگیا تھا ہاں نمل اسے پہچان سکتی تھی بے شک اس کا حلیہ کچھ بدل گیا تھا لیکن نمل نے اس کی تصویروں کو اتنا دل میں بسا لیا تھا کہ وہ اسے دیکھ۔

 

کر پہچان سکتی تھی وہ مسکرا مسکرا کر دادا جان شہگفتہ بیگم اریبہ ابراہیم سے باتیں کر رہا تھا اور اچانک عمر کی نظر نمل پر پڑی وہ اریبہ کا بیٹا تھا چاچی اس کی آواز سے سارے خاموش ہو گئے اور نمل جیسے ہوش میں آئی فورا پلٹ کر اوٹ میں چھپ گئی آنکھوں کے سامنے پانچ سال پرانا منظر ابھرا جب اسے چھوڑ کر لندن چلا گیا تھا نہ اسے یہ کہا کہ وہ واپس آئے گا نہ اسے خدا حافظ کہا کیا وہ اتنی عام اور بےکار تھی کہ اسے اس طرح اگنور کیا جیسے اس کا کوئی وجود ہی نہ ہو۔ کیا ہوا عمر بیٹا اماں نے اس سے پوچھا کچھ نہیں دادی ابھی تو چاچی یہیں کھڑی تھی وہ حیرت سے خالی لاونج کو دیکھ رہا تھا وہ تو پھر اوٹ میں چھپ چکی تھی ایک بار کے لیے دراب خان کی نظریں پلٹ کر اس سے دوچار ہوئی۔لیکن پھر وہ دوبارہ ان کی طرف متوجہ ہو گیا کچھ منٹ بعد ہی نمل نے جھانک کر دیکھا سارے اس طرف متوجہ تھے وہ دوبارہ کمرے میں بھاگ گئی نہ جانے کیوں اسے اتنا رونا آ رہا تھا دل چاہ رہا تھا پھوٹ پھوٹ کرروئے اس نے کچھ نہیں کھایا تھا تو اماں نے ملازمہ کے ہاتھ کمرے میں کھانا بھجوا دیا وہ کھانا تو کھا چکی لیکن ساری رات روتے ہوئے سوئی تھی نہ جانے اسے اتنی تکلیف کیوں ہو رہی تھی اس نے ایک بار بھی نہیں پوچھا کہ نمل کہاں ہے وہ واقعی اس کے لیے اہم نہیں تھی رات کو نہ جانے کب اس کی انکھ لگ گئی تھی اس لیے وہ گئے دن تک سوتی رہی شایدگیارہ بجے کا وقت تھا جب وہ کمرے سے باہر نکلی اور بس دل میں دعائیں کر رہی تھی کہ اس سے سامنا نہ ہی لیکن نہیں۔

 

جانتی تھی کہ قسمت اتنی جلدی اس کو دوبارہ سامنا کرا دے گی۔وہ سیڑھی اتر کر نیچے بھاگنے کی کوششوں میں تھی جب سیڑھیوں کے درمیان میں وہ اس چوڑے وجو سے جا کر ٹکرائی اہ سر پھوڑ دیا لگتا ہے کسی دیوار سے ٹکرا گئی وہ آہستہ آواز میں بڑبڑائی دوراب

ہوئی اپنا سرمسل رہی تھی اور دوراب

کی نظریں اس کے آر پار ہو رہی تھی دوسری جانب مکمل خاموشی محسوس کی اس نے چہرہ اٹھا کر دیکھا اور اپنے سامنے دوراب کو دیکھ کر وہ پتھر ہی ہو گئی اس کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا سانس نیچے رک گیا اس کے اتنے قریب تھا اور اتنے قریب سے اس کا چہرہ دیکھنے کے بعد نمل فیصلہ نہ کر سکی کہ وہ دور سے خوبصورت لگتا ہے یا قریب سے اچانک دوراب نے چٹکی بجائی تو وہ جیسے ہوش میں ہے بنا دوراب کی۔

 

طرف دیکھیں بنا کوئی بات کریں وہ نیچے بھاگ گئی اس کے جانے کے بعد اور دوراب کے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ رقص کر گئی وہ جانتا تھا نمل اس سے ناراض ہے ناشتہ کرنے کے بعد وہ کچن میں ہی ہوتی تھی یہ اس کی عادت تھی وقتا دوپہر کو کھانا اپنی مرضی کا بنا کر ساری حویلی والوں کو کھلاتی تھی مہرون رنگ کی فراک پہن رکھی تھی دوپٹہ گلے میں جھول رہا تھا بالوں کا جوڑا کیے وہ بریانی بنا رہی تھی جب اچانک اسے لاونج سے کسی کی باتوں کی آواز آئی وہ تجسس کے مارے باہر نکلی لیکن سامنے کا منظر دیکھ کر کسی نے اس کی آنکھوں میں مرچیاں سی بھر دی۔ دوراب لاونج کے صوفے پر بیٹھا ہوا تھا اور اس کے سامنے ہی ایک 20 ،21 سالہ لڑکی پینٹ شرٹ پہنے میک آپ

کیے کافی امیر اور۔

 

سٹائل کی وہ لڑکی قہقے لگا لگا کر کسی بات پہ ہنس رہی تھی اور دوراب مسلسل مسکرا رہا تھا ہاں یہ منظر دیکھتی اس کی سرمئی آنکھوں میں تکلیف ابھری تھی تو یقین ہو چکا تھا کہ وہ دوراب کی زندگی میں کوئی اہمیت رکھتی نہیں ہے اپنی تکلیف اور آنسو روکتی ہوئی وہ دوبارہ کچن میں بھاگ گئی دوپہر اتر آئی تھی وہ ملازمہ کے ہاتھوں سارہ کھانہ ٹیبل پر لکھوا چکی تھی سارے حویلی والے تو سوائے دادا جان کے اس وقت ٹیبل پر ہی موجود تھی وہ جو کچن سے نکلی اور اوپر جانے کی تگ و دو میں تھی شگفتہ بیگم نے اسے مخاطب کر لیا نمل ادھر آؤ وہ رکی اور پھر ان کی طرف واپس پلٹ گئی کہاں جا رہی ہو یہاں آؤ بیٹھ کے کھانا کھا لو اماں کے لہجے میں آج بھی ممتا جیسی محبت تھی وہ چاہ۔

 

کر بھی ان کو منع نہ کر پائی حیرت تب ہوئی جب اس نے دوراب کے پہلو میں اسی لڑکی کو بیٹھے ہوئے دیکھا جو دوپہر سے کچھ دیر پہلے تو دوراب سےباتیں کرتی ہوئی یہاں بیٹھی تھی نمل کے اندر جیسے کسی نے آگ کی چنگاری بھڑکادی اماں مجھے بھوک نہیں میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے اس کی تو بھوک ہی مر گئی تھی انہیں یہ کہتے ہوئے وہ واپس سیریاں چڑھتی اوپر چلی گئی اور دوراب نے افسوس سے اس کی پشت کو دیکھا دو منٹ تک وہ ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھا رہا لیکن پھر سکون نصیب نہیں ہو رہا تھا فور اڈائننگ ٹیبل سے اٹھ گیا تم کہاں جا رہے ہو عریبہ نے پوچھا بھابھی میں اسے دیکھ کر آتا ہوں اس کے لہجے میں کتنی بے چینی تھی اماں اور اریبا نے صاف محسوس کیا دونوں کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رقص ہوئی وہ اس کے۔

 

کمرے کی طرف بڑھا کمرے میں داخل ہوا تو وہ بیڈ پر بیٹھی بے آواز آنسو بہا رہی تھی اس کی آنکھوں کے سامنے وہ منظر نمایاں ہو رہا تھا کہ کس طرح وہ لڑکی قہقے لگا لگا کر دوراب خان سے باتیں کر رہی تھی وہ اس کے پاس بیڈ پر ا ٓکر بیٹھ بھی چکا تھا لیکن نمل اپنے خیالوں میں اتنی کھوئی ہوئی تھی کہ اس کا آنا بھی محسوس نہ کر سکی دوراب نے دیکھا اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا دوراب نے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھا تو وہ بخار سے تپ رہی تھی دراب کے ہاتھ رک رکھنے سے جیسے وہ چونک کر خیالوں سے باہر نکلی اور بے یقینی سے اپنے کمرے میں دوراب کو دیکھا آپ

یہاں کیا کر رہے ہیں وہ بے حد بدحواس ہوئی تھی تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے تمہیں اتنا تیز بخار ہوا ہے تم نے کسی کو بتایا کیوں نہیں اس کی بات۔

 

کو اگنور کیے فکر مندی سے سوال پوچھ رہا تھا۔ کیوں بتاؤں کسی کو کون سا میری پرواہ ہے اور میں لگتی ہی کیا ہوں ان سب کی وہ اچانک ہی غصے سے چیخ پڑی اور دوراب جانتا تھا کہ اتنے سالوں کی بے رخی کا نتیجہ ہے نمل تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے چلو میڈیسن لینے چلتے ہیں دوراب۔

 

نے اس کی بات کو اگنور کیے سنجیدگی سے جیسے حکم سنایا ۔نہیں جانا مجھے کہیں بھی آپ کے ساتھ جائیں یہاں سے پانچ سال بعد آگئے ہیں مجھ پر اپنا حق جتانے دوسری بات وہ خفی سے منہ ہی منہ میں بڑبڑائی لیکن اس کی اواز ۔۔اتنی تھی کہ دوراب



سن سکا اس کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی تم مجھ سے ناراض کیوں ہو بتا ہیدو دوراب نے جیسے ہتھیار پھینکے اور نمل نے میں یقینی سے اسے دیکھا اچھا تو یہ بھی میں آپ بتاوں پانچ سالوں آپ کو ایک بار یہ یاد نہیں آیا کہ۔

 

کوئی بیوی بھی ہے اس کے لہجے میں تکلیف تھی آنکھوں سے انسو جھلک رہے تھے اور دوراب اس کی تکلیف کو سمجھ سکتا تھا تمہیں کس نے کہا کہ تم مجھے یاد نہیں آئی پورے پانچ سال تک میں تم سے بات کرنے کے لیے ترستا رہا جب بھی اماں یا آپی سے کہتا تم سے بات کروا دوںوہ ایک ہی بات کہتی تم بات نہیں کرنا چاہتی تو بتاؤ اس میں میرا کیا قصور ہے پورے پانچ سال میں نے صرف ایک بات کہی یہ صرف ایک بار نمل کو کہیں کہ مجھ سے بات کر لی لیکن ان کا یہی جواب ہوتا تھا کہ تم بات نہیں کرنا چاہتی اور نمل کی آس پاس دھماکے ہونے لگے اسے یاد آیا شگفتہ بیگم اور اریبا بھابھی نے تین چار بار اسے۔

 

کہا تھا کہ اگر تم چاہو تو ہم تمہاری دوراب سے بات کروا دیں گے لیکن اس نے کہہ دیا تھا کہ اسے اس شخص کا ذکر ہی نہیں کرنا نمل ایک دم سے شرمندہ ہو کر رہ گئی ہاں میں جانتا ہوں تب میں بہت چھوٹا تھا لڑکپن کی عمر تھی فیصلے کرنے کی سمجھ بوجھ نہیں تھی میں نے تمہیں یہاں رہتے ہوئے اگنور کیا وہ الگ بات تھی لیکن وہاں جا کر مجھے اپنی غلطی کا ہر گزرتے دن پچھتاوا ہوتا تھا میں تم سے اتنا غصہ تھا کہ دل چاہتا تھا تم سے بات ہی نہ کروں کل جب تم نے فون اٹھایا تو میں پہچان گیا تھا کہ تم بات کر رہی ہو لیکن میں نے اماں سے بات کرنے کے لیے فون کیا تھا کیونکہ تمہارے لیے تو میرے پاس وقت ہی نہیں تھا لیکن جب واپس آیا تو تمہیں ایک نظر دیکھنے۔

 

کے بعد ہی ساری ناراضگی ہوا ہو گئی چلو اب تم اپنا منہ ٹھیک کرو دیکھو تمہاری غلطی تھی تو غلطی میری بھی ہے دواراب اس کے پاس بیٹھا اور اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا لیکن پھر بھی آپ

کو معاف نہیں کروں گی وہ اچانک ہی سوں سوں بولی تو دوراب حیران ہوا اور اب کیا مسئلہ ہے وہ جو نیچے لڑکی بیٹھی ہے جس کے ساتھ ہنس کر باتیں کر رہے ہیں وہ لڑکی آپ

کو نظر آگئی اور اپنی بیوی نظر نہیں آئی آپ

 

نے مجھ سے میری خیریت جاننے کی بھی کوشش نہیں کی وہ وہ جیلس ہو رہی تھی یہ دیکھ کر کے دوراب کے ہونٹوں پہ مسکراہٹ نمودار ہوئی ارے کچھ بھی نہیں ہے وہ کہہ رہی تھی کہ میں اسے بہت اچھا لگتا ہوں تو میں نے کہا کہ میں بھی شادی شدہ ہوں اگر یہ یقین نہیں ہوتا۔



تو میری بیوی کو ا کر دیکھ لو تو بس وہ تمہیں دیکھنے کے لیے ہی آئی تھی میں اسے بتانا چاہتا تھا کہ میری بیوی سے زیادہ حسین لڑکی اس دنیا میں کوئی نہیں ۔دوراب کی آنکھوں میں شرارت تھی اور نمل حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی جو اس کے مزید قریب ہوتا اس کے کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنے سینے سے لگا چکا تھا سچ کہوں تو تمہیں پہلی نظر میں دیکھا تھا تو سیدھی دل کے اندر اتر گئی تھی لیکن تب میں اپنی کیفیت سمجھنے سے انجان تھا پانچ سال دور رہا تو قدر اگئی ہے وہ اہستہ سے سرگوشی کرتے ہوئے اس کے ماتھے پر لب رکھ چکا تھا اور یہ تو تاریخ گواہ تھی کہ انسان کا رویہ گزرتے وقت کے ساتھ بدل جاتا ہے اور وہ تو پانچ سال حویلی سے باہر رہ کر ایا تھا اور پانچ سالوں میں اس کا بیہیویئر۔

 

اس کا سوچنے سمجھنے کا انداز اس کا سلوک سب کچھ بدل گیا تھا چلو میرے کمرے میں آ جاؤ میرا کمرہ تمہیں بہت مس کرتا ہے دورآپ

نے اس کے بال کانوں کے پیچھے کرتے ہوئے کہا نہیں مجھے نہیں آنا آپ

تو ہر وقت پابندیاں لگاتے ہیں یہاں نہ بیٹھو اس چیز کو ہاتھ نہ لگاؤ یہ اور وہ وہ برے برے منہ بناتی بہت کیوٹ لگ رہی تھی نہیں تم جس چیز کو مرضی ہاتھ لگانا جیسے مرضی رہنا چاہے تو سارا کمرہ تباہ کر دینا میں کچھ نہیں کہوں گا دوراب نے اس کے ہاتھ کو مضبوطی سے اپنے ہاتھوں کی گرفت میں لیا اور نمل سارے غم بھول کر جیسے مسکرا اٹھی اس نے ایک لمبا انتظار کیا تھا اور انتظار کا پھل اتنا اچھا ہوتا ہے اسے اندازہ نہیں تھا بے شک ہر مشکل کے بعد آسانی ہے.۔




ہو گئے بگڑےرئیس زادے جس کے پاس بڑی بڑی گاڑیاں ہوں گی ہم غریب ماں باپ کی بیٹیاں ہیں پڑھائی کرنے کے لیے مشقتیں اٹھانی پڑھائی کرنے کے لیے مشقتیں اٹھانی پڑتی ہیں اس لیے ہمیں ایسے ہی پیدل جانا اور انا پڑتا ہے چل ہی خود سے اسے ڈانٹتے ہوئے بات کی اخر میں اس نے ہیر کا ہاتھ پکڑا اور اس شخص کو بت بنا چھوڑ کر وہ دوبارہ راستے کی طرف چل پڑی وہ واپس پلٹا اس کی سرمئی انکھیں چمکی دی اس کے ہونٹ ہلے ہیر اس کی مسکراہٹ بتا رہی تھی تو یہ تھی ہیر وقار جس کی ماں بچپن میں ہی انتقال کر گئی تھی اس کے باپ نے دوسری شادی کی تھی اس کی سوتیلی ماں شگفتہ بیگم کو ہیر کو زیادہ پسند نہیں تھی مگر پھر بھی اسے برداشت کر لیتی تھی اس کے دو بہن بھائی مزید 16 سالہ نمرا۔ اور 15 سالہ حسن وہ اپنے دونوں بہن بھائیوں سے بہت پیار کرتی تھی مگر اس کی سوتیلی ماں ان دونوں کو اس کے قریب بھی بھٹکنے نہیں دیتی تھی اس کے لیے سب کچھ اس کا باپ ہی تھا اس لیے وہ ان کے لیے کچھ بھی کر سکتی تھی وہ جب گھر میں داخل ہوئی تو وہ کون ان کا بیٹا حماد دونوں بھر میں موجود تھے ہیر کا دل ایک دم ویران اور اداس ہو گیا پھوپو اپنے بیٹے حماد کا رشتہ ہیر سے کروانا چاہتی تھی مگر وہ یہ شادی نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن وہ منع بھی نہیں کر سکتی تھی اسے اپنے باپ کا مان رکھنا تھا ارے لو ہیر بھی ا گئی پپو نے لہجے میں چاشنی گول کر اسے مخاطب کیا مٹی کیا نہ کرتی اب وہ دیکھ چکی تھی اس لیے وہ سیدھی ان کے پاس ہی ا گئی ارے وہاں۔ کیوں بیٹھی ہو ادھر اؤ میرے پاس میری بچی ادھر بیٹھو اس سے پہلے اپنے باپ کے پہلو میں بیٹھی انہوں نے ہیر کو بیٹھنے سے منع کر دیا وہ خون کے انسو حلک میں ہی اتار کر ان کے پاس ا کر بیٹھی وحشت ہو رہی تھی دل جا رہا تھا ایسے رشتے سے بہتر ہے مر جائیں مگر اپنے باپ کی خوشی کے لیے وہ یہ گھونٹ بھی بھر سکتی تھی پپو نے اب اپنے ہاتھ سے سونے کی انگوٹھی اتار کر ہیر کے ہاتھ میں پہنائی یہ ہماری خاندانی انگوٹھی ہے اج سے تم ہماری امانت ہو اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پوپو نے مسکرا کر بتایا سب کے چہروں پر مسکراہٹ تھی اور وہ حماد شیطانی مسکراہٹ کے ساتھ ہی کو گھور رہا تھا ہیر کا دل چاہا کہیں غائب ہو جائیں مگر وہ یہاں سے ہل نہیں سکتی تھی اس کی انکھیں لمحوں۔

میں بھیگی تھی مگر وہ اپنی انکھوں کی نمی کو اندر ہی اندر دھکیل رہی تھی بہت مشکل کے بعد جب اسے یہاں بیٹھنا دو بھر ہوا تو اس نے پھپو کو مخاطب کیا پپوں میں جاؤں اصل میں کالے سے ائی ہوں تو یونیفارم چینج کرنا ہے بہت مشکل سے اپنی اواز کو بھیگا ہونے سے روک نہ پائی ہاں ہاں کیوں نہیں میری بیٹی جاؤ پپو نے اجازت دی وہ تو فورا وہاں سے بھاگی کیونکہ حماد کی نظریں وہ مزید برداشت نہیں کر پا رہی تھی پیچھے پپو ابیر کے باز سے کہہ رہی تھی بس میں چاہتی ہوں اگلے ہی مہینے تم رخصتی کی تاریخ دے دو وہ کچھ حیران ہوئے مگر اپا یہ کوئی زیادہ جلدی نہیں ہے بیٹی کا باپ تھا پریشان ہونا لازم تھا ارے نہیں نہیں تمہیں کوئی بھی جہیز وغیرہ دینے کی ضرورت نہیں ہے ماشاءاللہ سے حماد کی بہت اچھی۔ جاب لگ چکی ہے بہت جلد کمپنی اسے گھر کے ساتھ ایک گاڑی بھی دے گی بس تم اپنی بیٹی ہمیں دے دو یہی ہیرے جیسی ہیں اور وقار صاحب کا مان بڑھ گیا انہوں نے فورا دن پکے کر دیے اور ہیٹ جو کمرے کے باہر کھڑی تھی ساری باتیں کانوں میں پڑھتے ہی اس کا سانس رک گیا مجھے لگ رہا تھا کہ پپو اس کی موت کا پروانہ سنا رہی ہیں اسے حماد ایک انکھ بھی نہیں بھاتا تھا 26 والا حماد شکل سے ہی لوفر تھا اس کی حرکتیں بھی ایسی ہی تھی اور 18 سالہ ہیر خوبصورتی کی مثال تھی اس کی گہری بری انکھیں اس کا سفید دودھیا چہرہ اس کے گول نقش نین وہ بہت خوبصورت تھی اور اس کی اسی خوبصورتی سے تو سارا خاندان جلتا تھا خاندان میں تھا ہی کون ایک تایا تھا وہ کافی امیر تھے اس لیے کبھی۔ منہ نہیں لگایا وہ تو سالوں پہلے ہی اپنا ہر رشتہ دوڑ کر جا چکے تھے دوسری بہن جن کا اکلوتا بیٹا تھا جس کی کچھ ماہ پہلے ہی کمپنی میں کافی اچھی جاب لگ گئی تھی پھپو کے تو پاؤں گویا زمین پر ٹک ہی نہیں رہے تھے اور وقار صاحب بھی کچھ دب سے گئے اس لیے فورا اپنی بیٹی کا رشتہ طے کر دیا وہ اپنے من من بھاری قدم اٹھاتی ہوئی واپس کمرے میں ائی اور بند ہو گئی انکھیں بہنے کے لیے بے تاب تھیں اسی ماں کے اخر میں اس کے سیکنڈ ایئر کے پیپرز تھے وہ اگے پڑھنا چاہتی تھی مگر جانتی تھی پپو کبھی بھی ایسا نہیں ہونے دیں گی اور حماد کا بچنا چلتا وہ تو ابھی سے ہیر کو اپنی دسترس میں لے لیتا وہ اپنے بیڈ سے ٹیک لگائے چھت کو گھو رہی تھی انکھوں سے انسو بہتے ہوئے سارا۔ چہرہ گیلا کر رہے تھے وہ بہت مجبور تھی اپنے باپ کے سامنے انکار تو ہرگز نہیں کر سکتی تھی دل پر پتھر رکھ کر اس نے یہ فیصلہ قبول کرنا چاہا اور سب کچھ خدا کی امان میں دے دیا بے شک وہ خدا بہترین کارساز ہے اگلے دن جب وہ کالج سے واپس ا رہی تھی تو راستے میں پھر دوبارہ اسے وہ شخص مل گیا جس نے کل ہیر کو ان دونوں بائیکر سے بچایا تھا ثانیہ بھی اس کے ساتھ ہی تھی دونوں نے حیرت سے اس شخص کو دیکھا جو اپنی بڑی سی بلیک مر سے ڈی سے اترا اور قدم قدم چلتا ان دونوں کے پاس ایا ثانیہ تو اسے غصے سے گھر رہی تھی مگر ہیر اضطراب کی کیفیت میں اسے دیکھ رہی تھی وہ ان کے پاس ا چکا تھا پھر اپنی انکھوں سے سٹائلش گوگل سوتائے اور اسے کینے لگا۔ میں سیدھی اور صاف بات کرنے کا روادار ہوں تو مجھے پہلی نظر میں پسند ائی ہو اپنا ایڈریس دو تاکہ میں تمہارے گھر رشتہ بھیجوں میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں ہیرکی انکھوں میں انکھیں گاڑی وہ پرسکون لہجے میں اسے بتا رہا تھا جیسے کوئی کہانی تو نہ رہا اور ہیر پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ رہے تھے اس کا دل اقبال کے لیے دھرکنا بھول گیا مگر پھر انکھوں کے سامنے اپنے باپ کا چہرہ ایا وہ فورا اپنے خیالوں سے باہر نکلی اس کے لیے یہ فینٹسی دنیا نہیں تھی اسے حقیقت میں جینا تھا سامیہ اگے بڑھی اور اس شخص کو گورا دیکھو مسٹر تم جو کوئی بھی ہو اج کے بعد ہیر سے سو اٹھ کے فاصلے پر رہنا اس کی مدنی ہو چکی ہے اور اج کے بعد ہیر سے 100 فٹ کے فاصلے پر رہنا اس کی منگنی ہو چکی۔ ہے اور اگلے ماہی اس کی شادی ہے خبردار اگر اج کے بعد ہمارا راستہ روکنے کی کوشش کی تو تمہیں پولیس پیشن میں قصیحت دوں گی انگلی اٹھائے اسے اوارڈ کیا مگر سامنے کھڑے شخص کو کوئی خاص فرق نہ پڑا ہاں اگر اس نے انکھوں میں غصہ ضرور ایا تھا تم اج اور اسی وقت سے میری امانت ہو خبردار اگر کسی دوسرے سے شادی کرنے کی کوشش کی تو تمہارے سارے خاندان کا نام و نشان مٹا دوں گا اس نے انگلی اٹھائے اتنے سخت لہجے میں وارڈ کیا کہ ہیر کا سارا جسم خوف سے کپکپا اٹھا وہ خوفزدہ انکھوں کے ساتھ اس امیر شخص کو دیکھ کر رہ گئی ثانیہ نے غصے سے ہیر کا ہاتھ پکڑا اور اسے لے کر چل پڑی ہیر کے تو دماغ میں دھماکے ہو رہے تھے وہ اس کے خاندان کو تباہ کرنے کی بات کر رہا تھا اور۔ ایک طرف اس کا باپ تھا جو اسے اتنی ساری امیدیں لگائے بیٹھا تھا نہیں ہیر کبھی بھی کسی غلط راہ پر نہیں چل سکتی وہ وہی کرے گی جو سب باپ چاہے گا وہ خود سے عہد کر چکی تھی دن ایک ایک کر کے گزرنے لگے وہ ساری فکروں کو چھوڑ کر صرف اپنے پیپرز دے رہی تھی گھر میں شادی کی تیاریاں زور و شور سے جاری تھیں مگر ہیر کو تو کوئی فرق ہی نہیں پڑتا تھا اس کے لیے تو یہ شادی نہیں موت تھی کیا فرق پڑتا تھا سفید کفن کی جگہ وہ سرخ لہنگے میں جاتی اس دن کے بعد سے وہ امیر شخص اسے دوبارہ نظر نہیں ایا ہیر کچھ پرسکون تھی مگر اس شخص کی انکھوں میں کچھ تھا جو اج بھی ہیر بھلا نہیں پا رہی تھی ایسا لگتا تھا جیسے وہ ضرور کچھ نہ کچھ کرے گا اور اخر۔ کار وہ دن بھی اگیا جب ہیر کی زندگی کا فیصلہ ہونا تھا وہ دولہن بنی بیٹھی تھی مگر چہرے پر مسکراہٹ رسمی تک نہیں تھی اس کی انکھیں اداس تھیں دل ویران تھا اس کا دل چاہ رہا تھا وہ یہاں سے اٹھ کر بھاگ جائیں مگر وہ کچھ نہیں کر سکتی تھی ثانیہ اس کے پاس بیٹھی بس افسوس ہی کر سکتی تھی ہیروی بھی وقت ہے اپنے ابا سے بات کر لو اس نے ایک اخری کوشش کرنی چاہی اور ہیر نے اس کی طرف ایسے دیکھا جیسے اسے ثانیہ کی دماغی حالت پر شبہ ہو تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے یہ تم کیسی باتیں کر رہے ہو یہ سارا گھر مہمانوں سے بھرا ہوا ہے ایسے میں میں اپنے باپ کو کہوں کہ مجھے شادی نہیں کرنی کیا عزت رہ جائے گی میرے باپ کی بھرے مجمع میں تم نہیں جانتی ثانیہ یہ بہت مشکل ہے۔

تم خود بھی ایک بیٹی ہو اور بیٹی اپنے باپ کے مان کے سامنے اپنا سر جھکا دیتی ہیں یہ میرے باپ کی عزت کا معاملہ ہے میں ان کی عزت پر کوئی حرف نہیں انے دوں گی سنجیدگی و سختی سے کہتی ہوں کہ اس نے خود کو پتھر کا لینا چاہا وہ کمرے میں بیٹھی تھی ساری تیاریاں چھوٹے سے صحن میں ہی کی گئی تھیں پھپو نے کہا تھا بارات پر زیادہ لوگ نہیں ائیں گے مگر ہیر کو کوئی فرق نہیں پڑتا تھا تو اس کانٹے گزر گئے مگر اب تک بارات نہیں ائی تھی پھر کافی دیر بعد شور اٹھا کہ بارات اگئی ہیں اور ہی کو لگ رہا تھا جیسے موت کا فرشتہ اس کے قریب ا رہا ہے ہیر کی ماں اور ثانیہ دونوں نے اسے کرسی سے اٹھایا اور پھر باہر کی جانب بڑھی سٹیج پر لا کر بٹھا دیا گیا مگر۔ دولہا کہیں نہیں تھا اپا یہ دولہے کے بغیر کون سی بارات ہیں وقار صاحب نے کچھ پریشانی سے اپنی بہن سے پوچھا سلمہ بیگم کے کچھ پریشان ہوئی وہ گھر سے تو سیلون کے لیے نکلا تھا اور کہہ رہا تھا کہ وہ سیدھا یہیں ائے گا مگر یہاں اب تک پہنچا کیوں نہیں ان کی بہن سلمہ بیگم بھی پریشان ہو چکی تھی غلط گزرتا جا رہا تھا مگر حماد کا کہیں کوئی پتہ نہیں تھا اور ہیر اپنے باپ کے چہرے کو دیکھ رہی تھی جس پر تکلیف کے اثار تھے اب تو مجمے میں بھی لوگ باتیں کرنے لگے تھے کہ دولہا بارات چھوڑ کر بھاگ گیا اچانک شور اٹھا پھر ان کے صحن کا دروازہ کھلا پھر ایک شخص مغرور چال چلتا ہوا مجمعے کی طرف مرنے لگا اس کے ساتھ کافی سارے گارڈ تھے وقار صاحب نے حیرت سے اتنے سارے لوگوں کو اپنے۔ گھر میں دیکھا دولہا نہیں ائے گا کیونکہ وہ میرے قبضے میں ہے اس نے اتنی دیدہ دلیری اور پرسکون لہجے میں بتایا کہ سب حیران رہ گئے اور سلمہ بیگم کا لے جا منہ کو ایا کون ہو تم کیا کیا تم نے میرے بیٹے کے ساتھ وہ شخص کا گریبان پکڑے چھیکی اس کی سرمئی انکھوں میں غصہ اتارا اس نے ایک ہی جھٹکے میں ان کے دونوں ہاتھ ہٹائے اور انہیں خود سے دور کیا وہ اس لیے کیونکہ ہیر صرف میری ہے اس پر زیرف میرا حق ہے اور ابھی اسی وقت میں اسے نکاح کروں گا خبردار اگر کسی نے نکاح کو روکنے کی کوشش کی تو یہاں لاشیں بے چینی اس کے الفاظ میں اتنی سفاکیت تھی کہ ہیر کپکپا اٹھی وقار صاحب نے پھٹی پھٹی نگاہوں سے ہیر کو دیکھا وہ فورا اس نشست سے اٹھی ابا میں نہیں جانتی یہ کون ہے۔ میرا یقین کریں وہ اپنے باپ کے پاس ائی اور انہیں یقین دلانا چاہا مگر وقار صاحب کی عزت پر حرف ایا تھا لوگ باتیں کرنا شروع ہو چکے تھے ہر طرف چائے مگوئیاں ہونے لگی تھیں ابا قسم لے لیں میں نہیں جانتی وہ روتی ہوئی انہیں اپنی بے گناہی کا یقین د** رہی تھی ابا نے تو کچھ نہیں کہا مگر اس کی ماں جو حقیقت میں سوتیلی تھی اس نے ایک تماچہ کھینچ کر ہیر کے منہ پردے مارا اس لیے تمہیں کالج بھیجتے تھے کہ یہ گل کھلاتی پھرو اپنے باپ کا نام ڈبوتے ہوئے تمہیں شرم نہیں ائی وہ غصے سے چیخیں اس سے پہلے وہ دوسرا تھپڑ ہیر کے منہ پر دے مارتی درمیان میں ہی وہ شخص اگیا خبردار اگر اج کے بعد ہیر پر ہاتھ اٹھانے کے بارے میں سوچا اپ رشتے میں اس کی ماں ہیں اس لیے لحاظ کر رہا۔ ہوں شگفتہ بیگم کا بڑا ہوا ہاتھ اس نے ہوا میں ہی روک دیا وہ بے یقینی اور پھٹ پھٹی نگاہوں کے ساتھ اس شخص کو دیکھ کر رہ گئی مولوی صاحب نکاح شروع کروائیں ون سب کو پتھر بنا چھوڑ کر مولوی کوئی ترپ ایا ہرگز نہیں میں یہ نکاح نہیں کروں گی نکل جاؤ یہاں سے ہیر اپنی پوری طاقت جاؤ یہاں سے ہیر اپنی پوری طاقت سے چلائی وہ کبھی بھی اپنے باپ کی عزت پر کوئی داغ برداشت نہیں کر سکتی تھی ان کی عزت اور مان کے لیے ہی تو وہ حماد سے شادی کرنے کے لیے مانی تھی تمہارے پاس انکار کا اختیار نہیں ہے وہ شخص اس کے کان میں جھک کر دبا دبا سا گھر ایا ہیر نے بہتے انسوؤں کے درمیان اس شخص کو دیکھا جو سفاکیت کے انتہا کر چکا تھا پھلوں میں ہی اس نے نفرت ہو گئی جو۔ اس کے باپ کا بھرے مجمعے میں تماشہ لگا رہا تھا میں مرنا تو منظور کروں گی مگر یہ نکاح نہیں کروں گی اس کی انکھوں میں انکھیں گاڑے غصے سے جلائی اس شخص نے حیرت سے ہیر کی یہ جرات دیکھی کرسی پلوں کا کھیل تھا اس نے اس بات میں سر ہلایا پھر اپنے گارڈز کو اشارہ کیا اے گارڈ نے ہیر کے باپ کے ماتھے پر گن رکھی اور دوسرے گارڈ نے ہیر کے 15 سالہ بھائی کے سر پر اور ہیر اگلا سانس نہیں لے سکی خوف سے اس کا چہرہ سفید پڑ گیا یقینا تمہیں اپنے باپ اور بھائی سے بہت محبت ہوگی اگر چاہتی ہو کہ ان دونوں کی جان بخش دوں تو یہ نکاح کر لوں ہی ان وقار تو ساقت رہ گئی ایک نظر اپنے باپ اور اپنے بھائی پر ڈالی جو بے بسی سے کھڑے تھے شگفتہ بیگم فورا اگے بڑھی۔ شکل کیا دیکھ رہے ہو جلدی سے نکاح کرو دیکھ نہیں رہی وہ تمہارے باپ پر بھائی کی جان لینے کے در پہ ہے بے حیا لڑکی شرم نہیں ائی اپنے باپ کا نام ب** کرتے ہوئے وہ دبے دبے غصے سے چلائی تھی ہیر نے خالی خالی نگاہوں سے اپنے باپ کی طرف دیکھا جن کی انکھوں میں مان ٹوٹنے کی کرچیاں تھی ہیر کے دل کو کچھ ہوا اسے لگا اس کی روح پرواز کر چکی ہے نکاح شروع کریں مولوی صاحب اس بار وہ شخص کچھ غصے سے چلایا انہوں نے بے بسی سے وقار صاحب کی طرف دیکھا وقار صاحب نے انکھوں ہی انکھوں میں مثبت اشارہ دیا تو مولوی صاحب نے نکاح شروع کیا وہ مولوی صاحب کو اپنا نام بتا چکا تھا ہیر وقار ولد وقار احمد اپ کا نکاح احمد شیرازی ول شیرازی سے کیا جاتا ہے کیا اپ کو قبول ہے مولوی۔صاحب نے تیسری بار پوچھا مگر وہ اپنے باپ کی طرف دیکھ رہی تھی اچانک ہی گارڈ نے اس کے باپ کے سر پر گن کی گرفت سخت کی اس کے باپ نے بے بسی سے سر ہلایا اور پھر کہیں جا کر ہیر کے لا پھر پھڑائے قبول ہیں اس نے اپنے باپ کی مرضی سے یہ نکاح کیا تھا مگر وہ جان چکی تھی کہ اس کا باپ اسے بہت دور جا چکا ہے اس نے اپنے باپ کو تکلیف دی ہے وہ ان کا مان توڑ چکی ہے بے بسی ہی بے بسی تھی خدا نے اسے حماد جیسے سپاک درندے سے تو بچا لیا مگر وہ ایک نئی مصیبت میں پھنس چکی تھی کون تھا یہ احمد شرا تھی وہ تو یہ بھی نہیں جانتی تھی جیسے ہی حجاب و قبول کا مرحلہ طے ہوا وہ شخص اگے بڑھا اور پورے استحصار سے ہیر کا ہاتھ۔ پکڑا اوربینا کسی کی طرف دیکھے اسے لیتا ہوا وہ سہن عبور کر گیا اور ہیر پتھر کی مورت بنی اس کے ساتھ چلتی رہ گئی وہ اخری بار اپنے باپ کو دیکھ نہ سکی ان سے نظر نہ ملا سکی ان سے معافی نہ مانگ سکی اپنے باپ کے سامنے وہ سر اٹھانے کے قابل نہ رہے دوسری طرف ثانیہ کے چہرے پر مسکراہٹ تھی نہ جانے کیوں اسے یہ سب بہت اچھا لگ رہا تھا جو شخص ہیرکے لیے اتنا سا کچھ کر سکتا ہے تو پھر وہ اسے کتنا ٹوٹ کر چاہتا ہوگا وہ جا چکی تھی ایک گارڈ نے اس کا اخری پیغام دیا اور وہ بھی باہر نکل گیا کچھ دیر بعد اپ کا بیٹا واپس ا جائے گا پوپو وہی کرسی پر بیٹھی رو رہی تھیں اور اب ہیر کو برا بھلا کہہ رہی تھیں میرا ہی دماغ خراب تھا جو اپنی اتنی۔ اچھی اور سیدھی بھتیجی کو اپنا بہو بنانی چلی تھی میں کہاں جانتی تھی کہ یہ ایسی نکلے گی پتہ نہیں کس کس کے ساتھ چکر چلاتی ہوگی پھوپھو اب بھی رو رو کر اپنی بھڑاس نکال رہی تھی سارے مہمان جا چکے تھے اور اس کا باپ نڈھال سا ہوتا ہوا وہیں کرسی پر گرسا گیا ثانیہ ان کے پاس ائی اور انہیں ساری بات بتائی وہ جانتی تھی ان کے لیے اس کا باپ کتنا خاص ہے ساری بات سن کر وقال صاحب کی انکھوں سے انسو بہنے لگے ان کی بیٹی اتنی اچھی تھی انہیں یقین نہ ہوا ان کی خاطر وہ اپنی ناپسندیدگی کو بھی قبول کر رہی تھی انہیں افسوس ہوا وہ اپنی بیٹی کی مرضی کیوں نہ جان پائے انہیں تو لگا ہیر نے اپنی مرضی سے اس رشتے کے لیے ہاں کی ہوگی اب انہیں اچھا لگ رہا تھا کہ ہیر کی شادی۔ حماد سے نہیں ہوئی مگر وہ شخص جو اسے زبردستی نکاح کر کے لے کر گیا ہے وہ اس کے ساتھ کیسا سلوک کرے گا بس وہ یہی سوچ کر رہ گئے وہ اس کے ساتھ گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھی ہوئی تھی اور وہ گاڑی چلا رہا تھا وہ اسے کہاں لے کر جا رہا تھا ہیر کو کوئی ہوش نہیں تھی وہ تو بس اپنے باپ کی ان انکھوں میں ہی اٹک گئی تھی جن میں مان ٹوٹنے کی کرچیاں تھی وہ اسے لے کر اپنے گھر میں ا چکا تھا گاڑی پارک کی گاڑی سے باہر نکلا دوسری سائیڈ ا کر دروازہ کھولا ہیر کا کندھا ہلایا تو وہ ہوش میں ائے چلو اترو گھر ا چکا ہے سنجیدگی سے اسے ہدایات دی اس کی انکھوں میں ابدی دبا دبا غصہ تھا ہیرکا دل ویران ہو چکا تھا وہ بنا کچھ کہے اتر ائی جیسے اس کی نظر بنگلے کی طرف اٹھی پھر ہیر کی پلکیں جھپکنا بھول گئی وہ اتنی خوبصورت سفید رنگ کا محل تھا لمبی روش پر چلتا ہوا وہ محل میلوں کے احاطے پر پھیلا ہوا تھا وہ کم سے کم تین منزلہ عمارت تھی بہت خوبصورت محل تھا اور رات کے اس پہر وہ چاند سے زیادہ روشن تھا کچھ پلوں کے لیے ہیر اپنے سارے غام بھول کر اس محل کی خوبصورتی میں کھو گئی تھی ایمر نے اس کا ہاتھ پکڑا تو وہ ہوش میں ائی وہ اسے اپنے ساتھ لیا اندر کی طرف جا رہا تھا ہیر نہیں جانتی تھی اس کی زندگی کیسی ہوگی مگر بس وہ اللہ پاک نے صرف دعا ہی کر سکتی تھی محل کا اندرونی ایسا بیرونی حصے سے زیادہ خوبصورت تھا ہیرکو لگ رہا تھا وہ کسی جنت میں اگئی ہے اپنے سارے غم بھول گئی تھی عارضی طور پر۔ ہی صحیح مگر وہ حیرت کی زیادتی سے دنگ رہ گئی تھی وہ لاون سے ہوتا ہوا سیڑھیوں کی طرف بڑھا پھر دوسری منزل پر ا کر اپنے کمرے کا دروازہ کھولا ہیر کو لے کر اندر داخل ہوا دروازہ لاک کیا اس کا ہاتھ اب تک مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا وہ تو کسی کٹھپتلی کی طرح اس کے ساتھ چلتی جا رہی تھی اس نے ہیر کو بیڈ پر بٹھایا پھر اس کے سامنے بیٹھا میں نے کہا تھا نا کسی دوسرے کی بیوی بندے کے بارے میں سوچنا بھی مت اس کے لہجے میں اب بہت زیادہ غصہ تھا جو ہیر صاف محسوس کر سکتی تھی ڈریسنگ روم میں جاؤ وہاں تمہارے لیے ایک سے بڑھ کر ایک ڈریس موجود ہے سب سے پہلے اس ڈریس کو اپنے جسم سے جدا کرو مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا تم کسی دوسرے کے لیے سجی ہوئی میرے سامنے بیٹھی ہو اس شخص کی انکھوں میں نفرت کیا حقارت نہیں تھی بہت غصہ تھا وحشت تھی اور سپاکت کی ہیر اپنے انسو پونچھتی ہوئی اٹھی تم زبردستی نکاح کر سکتے ہو مگر زبردستی مجھ پر حکم نہیں چلا۔ سکتے میں تمہاری زر خرید غلام نہیں ہوں تم نے میرے باپ کی جان لینے کی کوشش کی ہے اور جو شخص میرے باپ کو تکلیف دے وہ میرا سب سے بڑا دشمن ہے ہیر بھی غصے سے پھٹ پڑی ایمر ایک ہی جھٹکے میں بیڈ سے اٹھا ہیر کا منہ دبوچا تم نے ابھی تک میرا سر نوب دیکھا نہیں ہے سب سے پہلے مجھے تم کہنا بند کرو تمہارے منہ سے میرے لیے صرف اپ نکلنا چاہیے اور یہ میرا پہلا حکم ہے اور یہ جو کچھ پل کے لیے بہادر بنی تھی اس نے اس کو اتنے قریب غصے اور وحشت میں دیکھ کر وہ فورا پہلے جیسی خوفزدہ ہیر بن گئی اور ڈرتے ہوئے اس بات میں سر ہلایا اس نے ایک جھٹکے سے ہیر کا گال چھوڑا تو ہیر وارن ڈرتی ہوئی ڈریسنگ روم میں بھاگ گئی چند منٹ بعد وہ باہر نکلی تو ایک۔ سادہ سا غلابی رنگ کا سوٹ پہن رکھا تھا اس نے اپنی طرف سے سب سے ہلکا سوٹ نکالا تھا مگر پھر بھی وہ کافی مہنگا اور کامدار تھا وہ اس کی طرف بڑھ رہا تھا اور یہ ڈرتی ہوئی پیچھے ہو رہی تھی وہ اس لیے بہت پاس ا چکا تھا اتنا کیک ہاتھ ہیر کی کمر میں ڈال کر اس نے ہیر کو اپنی طرف کھینچا وہ کسی کٹی دال کی طرح اس کے سینے سے اٹکرائی تو میں پہلی نظر دیکھا تو پھر تم میرے خیالوں میں انے لگی میں یہ محبت اور اس جیسے فلسفے نہیں مانتا مگر تم نے مجھے کسی کام کے لائق نہیں چھوڑا ہر وقت تمہارا خیال ستانے لگا اور مجھے شاید پہلی نظر میں عشق ہو گیا تھا یہ بھی تمہاری ہی غلطی ہے تمہیں میرے سامنے انا ہی نہیں چاہیے تھا جو چیز احمر شیرازی کو پسند ا جائے پھر۔ وہ اسے حاصل کر کے ہی رہتا ہے اور اب تو میری دسترس میں ہو تم پر پورا حق رکھتا ہوں جب میرا دل چاہے گا اور جتنا چاہے گا اپنا عشق اور جنون اتارنے کا وہ میں اتاروں گا تمہیں میں پسند نہیں تو پسند کر لوں تمہیں میری عادت نہیں تو ڈال دو اج سے سارے محل کی تم مالکن ہو میرے ساتھ خوشی خوشی رہو گی تو ساری دنیا کی اسائشیں تمہارے قدموں میں ڈھیر کر دوں گا لیکن اگر دل میں کسی اور کو بسا کر میرے ساتھ بے وفائی کرنا چاہی تو تمہاری سانسیں روک دوں گا وہ اس کے کان میں چپ کر ایک ایک لفظ سخت لہجے میں بتاتا تنبیہ کا رہا تھا ہیر کو سمجھ نہ ائی وہ محبت کا اظہار کر رہا تھا یا پھر موت کا پروانہ سنا رہا تھا وہ تو کچھ بھی کہنے کے قابل نہ رہی وہ۔ تو اس کے رحم و کرم پر ا چکی تھی جو اس کے چہرے پر جھکا اسے قید کی اپنے لبوں سے لمس چھوڑ رہا تھا ہیر نے محسوس کیا اس کے عمل میں شدت ضرور تھی مگر محبت ہی محبت تھی کوئی ہوس جنون یا درندگی نہیں تھی کچھ ہی پلوں بعد اسے محسوس ہوا وہ زمین سے اوپر اٹھ چکی ہے ہیر حیرت کی زیادتی سے گنگ رہ گئی وہ اسے اپنی باہوں میں اٹھائے اب بیڈ کی طرف بڑھ رہا تھا اور ہیر کو اپنے سر پر سارازمان گھومتا محسوس ہو رہا تھا وہ اتنی بری طرح اس کی قید میں تھی کہ نفی میں سر تک نہلا پا رہی تھی وہ اسے نرمی اور محبت سے چھو رہا تھا ایسا کہ ہیر حیران رہ گئی اس نے ہیر کو ایسے چھوا جیسے وہ کوئی نازک سا پھول ہو اپنے سارے حقوق لے چکا ایسے کہ ہیر کوئی مزامت۔ بھی نہ کر سکی اسے اپنی محبت سے روشناز کرا چکا تھا اور ہیر کتنے ہی پل یہ سوچتی رہی کہ کیا وہ واقعی اتنی خاص تھی کہ کوئی اسے دیوانوں کی حد تک جا سکتا تھا اس کے عمل میں شدت پسندی ضرور تھی مگر کوئی درندگی نہیں تھی جس نے ہیر کو سکون پہنچایا تھا اگلی صبح کا اغاز ہو چکا تھا وہ اس وقت شیشے کے سامنے بیٹھی اپنے بال سکھا رہی تھی جب ایمر اس کے پیچھے ا کر کھڑا ہوا پھر اس کے گلے میں ایک نازک مگر نفیس اور خوبصورت ڈائمنڈ کا نیکلس پہنایا یہ تمہاری منہ دکھائی ہے ہین نے اسی بے تاسے لہجے کے ساتھ دوبارہ اپنے بال کنگھی کرنا شروع کیے ایمر نے کچھ حیرت سے ہیر کا یہ رویہ دیکھا ایک بات تو وہ جان چکا تھا اس لڑکی کو دولت میں کوئی انٹرسٹ نہیں ہے وہ اسے زبردستی اپنے۔ ساتھ باندھ چکا تھا اور اسے زبردستی اپنے ساتھ محبت کرنا سکھا رہا تھا مگر وہ اپنے زبردستی نہیں ہوتی دن ایک کے بعد ایک گزرنے لگے ہیر بہت خاموش ہو گئی تھی وہ کوئی بات نہیں کرتی تھی وہ کہتا بیٹھ جاؤ تو بیٹھ جاتی وہ کھڑی رہنے کو کہتا تو کھڑی رہتی مطلب وہ اتنی زیادہ خاموش ہو چکی تھی اس کے ہر عمل پر خاموشی سے سر جھکاتی اسے کوئی بھی بات نہیں کرتی تھی شاید ہی ایک ہفتے میں اس نے ہیر کی اواز بھی سنی ہو اج ہی صبح سے بے چین تھی پورا ایک ہفتہ ہو چکا تھا اس نے اپنے باپ کی شکل نہیں دیکھی تھی وہ بدگمانی دور کرنا چاہتی تھی وہ اپنے باپ کو سرچ بتانا چاہتی تھی احمد شیرازی ایک بزنس مین تھا اس کا کروڑوں کا کاروبار تھا مگر وہ اکیلا تھا اس کے والدین کا کوئی ساتھ پہلے۔ ہی انتقال ہو گیا تھا یہ سارا محل صرف اس اکیلے کی ملکیت تھا اور اس کے جانے کے بعد ہیر درجن و ملازموں کے ساتھ یہاں اکیلی ہوتی تھی اج ایمر افس نے جلدی گھر اگیا تھا پورے ایک ہفتے بعد ہیر نے اسے بات کرنے کی ٹھانی وہ جو کمرے کے صوفے پر بیٹھا اپنے موبائل میں مصروف تھا پھر اس کے سامنے ا کر کھڑی ہوئی پھر بہت مشکل سے کچھ کہنے کے لیے لب کھولیں میں اپنے گھر والوں سے ملنا چاہتی ہوں کہیں نہ کہیں اس کے اندر ایمر کا خوف تھا جب وہ غصے میں ہو تو کچھ بھی تباہ کر سکتا تھا تھا ارے واہ تم تو بولتی بھی ہو مجھے لگا تھا شاید اپنی اواز وہیں کہیں چھوڑ ائی ہوں اور میں ہی تمہارا گھر والا ہوں مجھ سے تو بات کرتے ہوئے بھی تمہاری اواز نہیں نکلتی اور میرے علاوہ دوسروں کے ساتھ منگ گزارنا چاہتی ہوں وہ جانے کی غصے میں ایا تھا پیر سہم کر پیچھے ہٹی وہ میرے ماں باپ اور بہن بھائی ہیں اس نے کچھ تکلیف سے کہا انسو بہتے ہوئے مگر وہ خاموش رہا وہ ہیر کو ایک منٹ کے لیے بھی خود سے دور نہیں جانے دے سکتا تھا وہ اس طرح سے اس کے سینے میں بس گئی تھی کہ اگر ایک پل بھی نہ دیکھتا تو سکون نہیں ملنا تھا یہ کیسی محبت ہے اپ کی جس میں اپ کو میرا ذرا سا بھی احساس نہیں محبت قربانی مانگتی ہیں مگر اپ کی محبت میں تو انا بھی ہے ہیر دبے۔ دبے غصے سے چلائی احمر صوفے سے اٹھا وہ ڈر کے مارے پیچھے قدم لینے لگی تو تمہیں میری محبت کا ثبوت چاہیے سنجیدہ اور سخت لہجے میں کہتے ہوئے اس کی طرف بڑھنے لگا یہ جانتی تھی اس نے اج خود ہی شیر کی خچار میں ہاتھ ڈالا ہے اب اس کا رویہ بھی بھگتنا پڑے گا وہ اس کے اتنے پاس ا کر کھڑا ہو چکا تھا کہ اس کی سانسیں ہیر کے چہرے پر پڑ رہی تھی ہیر کے انسو بہتے جا رہے تھے اج کے بعد میں تمہاری انکھوں سے ایک انسو بھی بہتا نہ دیکھوں ورنہ جن کی وجہ سے یہ ٹیسٹوے بہا رہی ہوں ان کو ہی ختم کر دوں گا اس کے کان کے پاس چھپ کر دبا دبا سا گھر ایا اور ہیر کو مزید رونا انے لگا اپ کے لیے محبت صرف قید کرنے کا نام ہے محبت قید کرنے کا۔ نام نہیں محبت قربانی مانگتی ہے محبت اعتبار مانگتی ہے محبت ساتھ مانگتی ہے مگر اپ جیسا شخص کیا سمجھیں محبت کو وہ اپنے سارے انسو پونچتی ہوئی واش روم میں بند ہو گئی مگر احمر اس کے اخری الفاظ میں ہی سٹک ہو گیا مگر احمر اس کے اخری الفاظ میں ہی سٹرک ہو گیا اپ جیسا شخص کیا سمجھے محبت کو اے میری سرمئی انکھیں غصے کی زیادتی سے لال ہو گئیں وہ اپنا چہرہ دھو کر باہر نکلی تو وہ غصے سے کمرے میں چکر کاٹ رہا تھا ایک ہی جست میں اس تک پہنچا تو تمہیں اپنے ماں باپ سے ملنا ہے اس نے اپنا غصہ ضبط کرتے ہوئے پوچھا ہیر نے ہاں میں سر ہلا سکی اور نہ نفی میں سر ہلا سکییرنا ہاں میں سر ہلا سکینہ نقیب میں سر ہلا سکی ٹھیک ہے چلو صرف ایک گھنٹہ رکنے دوں گا اگر اس سے۔ زیادہ تو مجھ سے دور رہی تو یہ دل برداشت نہیں کر پائے گا وہ کس قدر دل برداشتہ لہجے میں بولا تھا ہیر سن رہ گئی اس کے لہجے میں بے بسی اذیت اور تکلیف تھی ہیر نے حیرت سے اس مغرور شخص کو تکلیف میں دیکھا وہ اس کا ہاتھ بکری اب کمرے سے باہر نکل رہا تھا ہیر کسی کٹی ڈال کی طرح اس کے ساتھ کھینچتی گئی اگلے ادھے گھنٹے بعد وہ دونوں ہیر کے بعد کے گھر کے باہر موجود تھے مگر گھر کو تالا لگا ہوا تھا ہیر کے سر پر زمین و اسمان گھومنے لگے اخر گھر کیوں بند تھا وہ فورا ثانیہ کے گھر کی طرف بھاگی ان کا گھر ساتھ ساتھ ہی تھا ہیر کو دیکھ کر تو ثانیہ خوشی سے پھولے نہ سما پائی ثانیہ گھر کیوں بند ہے ابا کہاں ہے اس نے بے چینی سے پوچھا ثانیہ کے۔ چہرے پر تکلیف کے تاثرات ابھرے ہی حسن کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے وہ سب اس وقت ہاسپٹل میں ہے یہ سن کر تو ہیر کو اپنی سانسے رکتی ہوئی محسوس ہوئی کیا ایکسیڈنٹ میرا بھائی کیسا ہے وہ میں نہیں جانتی ہی بس نمرا بتانے ائی تھی ہیر کا سر چکرانے لگا کس ہاسپٹل میں ہے ہیٹ نے فورا اگلا سوال پوچھا ثانیہ نے فورا اسے ہاسپٹل کا نام بتایا وہ ان کے گھر سے باہر نکلی باہر ہی احمر کھڑا تھا وہ روتے ہوئے اس کے پاس ائی پلیز مجھے ہاسپٹل لے کر چلیں میرے بھائی کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے خدا کا واسطہ وہ روتے ہوئے سفر یاد کرنے لگی ایمر تو اسے اتنی بری طرح روتے ہوئے دیکھ کر پریشان ہو گیا اچھا چلتے ہیں پہلے رونا تو بند کرو اس نے فورا ہیر کو اپنے سینے میں سمایا ہیر کو جاننے کی ڈھارس ملی اسے۔ اج یہ شخص بالکل بھی برا نہیں لگا وہ اس کی تکلیف سمجھ رہا تھا یہی بہت بڑی بات تھی وہ فورا اس کے ساتھ ہاسپٹل پہنچی ایمر نے ریسرشن اس نے کمرہ نمبر پوچھا وہ اس وقت کچھ بھی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت میں نہیں تھی وہیر کا ہاتھ پکڑے مطلوبہ کمرے تک لایا باہر ہیر کے ماں باپ اور بہن بیٹھی ہوئی تھی وہ فورا اپنے باپ کی طرف بھاگی ابا حسن کہاں ہے کیا ہوا ہے اسے اس کے لہجے میں تڑپ تھی اس کا باپ جو محسوس کر سکتا تھا اس وقت وہ بھی بھول گیا کہ ہیر کی وجہ سے کتنی رسوائی ملی پتہ نہیں بیٹا سکول سے اتے ہوئے سڑک راز کر رہا تھا ایک گاڑی ہٹ کرتی ہوئی بھاگ گئی یقینا کوئی امیر رہی زیادہ ہوگا یہ بگڑے ہوئے رئیس ساتھ تھے اس سے پہلے اس کا باپ پوری بات کرتا احمر کو۔ دیکھ کر ان کی زبان تالو سے چپک گئی اپ فکر مت کریں ابا اتنے میں ڈاکٹرز باہر نکلے دیکھیں اپ کے بیٹے کے سر پر کافی گہری چوٹ ائی ہے اپ دو گھنٹے تک 10 لاکھ کا ارینجمنٹ کریں ان کی کریٹیکل سریجونی ہونی ہے دعا کریں وہ کامیاب رہے ڈاکٹر سنجیدگی سے کہتا راہداری میں غائب ہو گیا مگر ہیر کا باپ اس کا تو سانس ہی رک گیا تھا وہ 10 لاکھ اتنی بڑی رقم کہاں سے لائے گا ہیر جانتی تھی اس کے باپ کے پاس تو بہت مشکل ایک لاکھ بھی نہیں ہوں گے تو یہ 10 لاکھ کہاں سے ائیں گے شگفتہ بیگم ہیر کے پاس ائی دیکھو ہی ہماری اپ سے ہی رنجشیں جتنی بھی ہوں مگر وہ تمہارا بھائی ہیں اور یہ رشتہ کوئی نہیں جھٹلا سکتا میری بچی پلیز اپنے شوہر کو کہو ہماری مدد کریں میرے حسن کی جان بچا۔لو تمہارے ہاتھوں میں ہے عثمان نے اج بے بسی سے ہاتھ ہی جوڑ دیے ہیر کو تکلیف ہوئی وہ جیسی بھی عورت ہو مگر ہیر نے اسے ماں ہی سمجھا تھا اپ کیسی باتیں کر رہے ہیں میں حسن کے لیے اپنی جان بھی قربان کر سکتی ہوں میں بات کرتی ہوں وہ فورا احمر کی طرف بھاگی جو راہداری میں کچھ دور ہی کھڑا ہو گیا تھا کیونکہ اسے یہ رونا دھونا نہیں دیکھا جا رہا تھا وہ اس کے پاس ائی اج پہلی بار ہیر نے نے اس کا ہاتھ پکڑا ایمر نے حیرت سے اس کا یہ رویہ دیکھا میرے بھائی کی زندگی اور موت اپ کے ہاتھوں میں ہے پلیز اسے بچا لیں میں وعدہ کرتی ہوں ساری زندگی اپ کی مرضی سے گزاروں گی ڈاکٹرز نے کہا ہے 10 لاکھ روپے چاہیے اس کی سرجری ہوگی مگر میرے ابا کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں خدارا یہ اس سے پہلے ہاتھ جوڑتی ایمر نے فورا اس کے دونوں ہاتھ پکڑے خبردار تم حکم کرنے کا حق رکھتی ہو مجھ پر حکم چلاؤ تم میرے دل کی ملکہ ہو تمہاری خاطر میں ساری سلطنت لٹا سکتا ہوں ایمریانات تو وہیں کہیں دب گئی وہ ہیر کو ایک سیکنڈ کے لیے بھی روتا ہوا نہیں دیکھ سکتا تھا اخر وہ اس کا عشق اور جنون تھی فکر مت کرو اگلے ادھے گھنٹے میں تمہارے بھائی کا اپریشن شروع ہو جائے گا اسے تسلی دیتی ہوئی۔ ایمر وہاں سے نکل گیا اور پھر واقعی اگلے ادھے گھنٹے میں حسن کی سرجری شروع ہو گئی تھی ہاسپٹل کا سارا خرچہ اور ڈاکٹرز کے ساتھ ہر قسم کی بات ایمر نہیں کی تھی ہیر ان کے پاس ہی تھی شام سے رات ہو چکی تھی مگر ہیر ہلنے سے انکاری تھی ایمر نے بھی زیادہ زور نہیں دیا کیونکہ کہیں نہ کہیں اسے بھی اپنے مرے ہوئے ماں باپ یاد ائے تھے جو اسی طرح ایکسیڈنٹ میں موت کی نظر ہوئے تھے اسے یاد ایا وہ 18 سالہ بچہ لوگوں سے فریاد کر رہا تھا کہ اس کے ماں باپ کی جان بچا لی جائے کیونکہ ان کے اپریشن کے لیے پیسے چاہیے تھے مگر کوئی اس کی مدد کرنے کے لیے تیار نہیں تھا اس دن اس نے تہیہ کیا تھا وہ اتنا کمائے گا کہ لوگ اس کے سامنے نظریں جھکا کر جائیں حسن کا اپریشن۔ کامیاب ہوا تھا ڈاکٹرز نے کہا اسے 12 گھنٹوں تک ہوش ا جائے گا رات کافی گہری ہو چکی تھی ہی چلو گھر چلتے ہیں تمہارا ہاسپٹل رہنا مناسب نہیں اس نے اس بار نرمی سے مخاطب کیا ہیر جو ویران اکیلی ہاسپٹل کے کوریڈور میں بینچ پر بیٹھی تھی اس نے تکلیف سے امر کی طرف دیکھا پلیز مجھے یہیں رہنے دیں میرا بھائی وہ اپنی بات پوری نہیں کر پائی کیونکہ حلق میں انسوؤں کا گولا اٹک چکا تھا صبح ہوتے دوبارہ ا جائیں گے مگر اس وقت تم یہاں نہیں رکو گی اے میں رب بھی نرمی سے ہی کہہ رہا تھا ہیر کے ابا ان کے پاس ہی کھڑے ان کی ساری بات سن چکے تھے بیٹا وہ ٹھیک کہہ رہا ہے جاؤ اپنے گھر ویسے بھی بیٹیاں شادی کے بعد اپنے گھر میں ہی اچھی لگتی ہیں ابا کے لہجے میں نرمی تھی ہیر کو۔ کچھ حوصلہ ملا ایمن کھڑا ہوا پھر ہیر کے ابا کے پاس ایا میں جانتا ہوں بھلے ہی میرا طریقہ غلط تھا مگر میری نیت غلط نہیں تھی اس وقت مجھے غصہ بہت زیادہ ایا تھا اور جب مجھے غصہ اتا ہے تو میرا دماغ میرے قابو میں نہیں رہتا مجھے ہیر پہلی نظر میں پہچان ائی تھی یہ میری پہلی نظر کا عشق ہے اور میں اسے ساری زندگی خوش رکھوں گا اتنا بھروسہ رکھیں اور ہو سکے تو مجھے معاف کر دیجئے گا شاید ایمر نے پہلی بار کسی کے سامنے عاجزی اپنائی تھی وقار صاحب نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تم نے میرے بیٹے کی جان بچا کر جو مجھ پر احسان کیا ہے تو ہر غلطی کی تلافی ہو چکی ہیں ہیمر کے چہرے پر رسمی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی جاؤ بیٹا اپنے گھر جاؤ انہوں نے دوبارہ ہیر کو مخاطب کیا ہیر بنا۔

کچھ کہے اٹھ گئی اور ایمر کے ساتھ ہاسپٹل سے باہر نکل گئی وہ سہارا راستہ بہت خاموش تھی ایمر محسوس کر سکتا ہے گھر انے کے بعد بھی وہ سیدھا بیڈ پر لے گئی اور کچھ یہ منٹوں میں سو گئی شاید پریشانی سے اس کے سر میں درد ہو رہا تھا ایمر نے بھی اسے تنگ کرنا مناسب نہیں سمجھا اگلے دن بہت مشکل سے اس نے ہی کو ناشتے کے لیے راضی کیا اگر ناشتہ کرو گی تب ہی چلیں گے جب وہ کچھ بھی کھانے کے لیے نہیں مانی تو احمر نے اسے دھمکی دی اور پھر وہ فورا اچھی بچی کی طرح کھانا کھانے لگی پھر وہ فورا اسے اپنے ساتھ ہاسپٹل لے ایا حسن کو ہوش اگیا تھا اور اپنی بہن کو دیکھ کر وہ بہت خوش تھا نمرا اور حسن بھی اس نے بہت پیار کرتے تھے مگر بس اپنی ماں کے ڈر۔ سے اسے دور رہتے تھے ہیمر نے عید کو اپنی بہن بھائیوں کے ساتھ خوش دیکھا تو اسے اچھا لگا اب اسے سمجھ جانے لگی تھی کہ محبت میں قید نہیں کیا جاتا محبت میں ازاد چھوڑا جاتا ہے اگر وہ اپ کے پاس لوٹ ائے تو اپ کا اور اگر نہیں لوٹا تو کبھی اپ کا تھا ہی نہیں یہ سارا دن ہاسپٹل میں ہی رہی پھر شام کو اس نے خود ہی ایمر کو کہا ہمیں گھر چلنا چاہیے ایمر اپنے سارے کام چھوڑ کر ہاسپٹل میں ہی تھا وہ ہیر کو ایک منٹ کے لیے بھی اکیلا نہیں چھوڑ سکتا تھا ہیر کی اس بات پر نہ جانے کیوں ایمر کو بہت اچھا لگا وہ جیسے اس کا رویہ اس کی طبیعت سمجھنے لگی تھی واپس گھر اگئی اگلے دن حسن بھی ڈسچارج ہو کر گھر جا چکا تھا دو دن مزید گزر گئے ہیرے اپنے ابا۔ کے ساتھ رابطے میں تھی ایمر نے اسے موبائل ا کر دیا تھا مگر اس نے چار پانچ دنوں سے اسے ہاتھ بھی نہیں لگایا مگر اب اس نے موبائل چلانے کا فیصلہ کیا تھا اس محل میں ہر سہولت تھی مگر اپنے ماں باپ سے ملنے کے بعد ہیر خوش ہوئی تھی تین دن بعد اتوار تھا اج اس نے ایمر سے فرمائش کی کہ وہ گھر جانا چاہتی ہیں بس کچھ گھنٹوں کے لیے پھر وہ واپس ا جائے گی وہ اب اسے فرمائشیں کرنے لگی تھی اس کی باتیں بھی ماننے لگی تھیں اس سے باتیں بھی کرنے لگی تھیں وہ اہستہ اہستہ خود کو بدل رہی تھی اس رشتے میں ایڈجسٹ کر رہی تھی عمر نے حسن کی جان بچانے کے لیے جو کچھ کیا اس کے بعد تو اس کی مقروض تھی ٹھیک ہے مجھے ایک میٹنگ میں جانا ہے میں تمہیں جاتے ہوئے ڈراپ۔ کر دوں گا اور اتے ہوئے لے اؤں گا ہیر خوش ہو گئی اس کے چہرے پر پہلی بار احمر کی وجہ سے خوشی ائی تھی ایمر نے تو نہ جانے اس کی کتنی بھلائی لے ڈالی وہ اس کے پاس ہی کھڑی تھی جب وہ شیشے کے سامنے کھڑا اپنے بال بنا رہا تھا ایمر اس کی طرف پلٹا پھر محبت سے اس کے ماتھے پر لب رکھے اور اج پہلی بار ہی مسکرائی تھی وہ خوشی میں خود ہی اگے بڑھی اور اس کے سینے سے لپٹ گئی ایمل کو دلی خوشی نہیں اسے لگا اج وہ اپنی محبت کو اصل معنوں میں حاصل کر چکا ہے شکریہ مجھے سمجھنے کے لیے ہیر نے بہت مان سے کہا.۔ احمد نے دوبارہ اس کے ماتھے پر لب رکھیں اسے بہت سکون محسوس ہو رہا تھا میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں جب چاہے ثابت کروا لینا وہ جیسے کہہ رہا تھا میں دوبارہ بھی تمہارے لیے کچھ بھی کر سکتا ہوں یر بس مسکرا کر رہ گئی پھر اس کے ساتھ وہ ابا کے گھر اگئی اور احمر اسے ڈراپ کیے چلا گیا وہ حسن کے پاس ہی تھی اسے خود اپنے ہاتھوں سے سوپ بنا کر پلا رہی تھی اسے یہاں ائے دو گھنٹے ہو گئے تھے جب دروازے پر دستک ہوئی اسے لگا شاید احمر ا گیا ہوگا وہ اپنا حلیہ ٹھیک کرتی ہوئی دروازے تک ائی دروازہ کھولا مگر ایمر کی جگہ سامنے حماد کھڑا تھا اسے دیکھ کر ہیر کا حلق تک کڑوا ہو گیا تو وہیں ہیر کو دیکھ کر حماد کے چہرے پر تنزیہ مسکراہٹ نمودار ہوئی ارے واہ مجھے امید نہیں۔ تھی اتنے بڑے ادمی سے شادی کر کے تم دوبارہ اس جھونپڑی کا رخ کرو گی اس نے تنز میں لپٹے تیر ہیر کے سینے میں مارنے چاہے اپنی ب** بند کرو یہ میرے ماں باپ کا گھر ہے یہاں جب دل چاہے گا میں ا جاؤں گی ہیر کو بھی غصہ ایا ارے واہ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے ایک تو پہلے مجھے اپنی اس عاشق کی گھنٹوں سے کہہ کے کرنیپ کروایا پھر اسے نکاح رچا لیا پھر اتنے بڑے ادمی کی بیوی بن گئی اور اب مجھ پر ہی روب جا رہی ہوں تمہیں اپنی اوقات سے باہر ملا ہے میں تمہیں ہر چیز دے سکتا تھا تمہیں دنیا کی ہر خوشی دیتا مگر تم نے مجھے دھوکہ دے کر اچھا نہیں کیا وہ غصے سے بات کرتا ہوا ہیر کی طرف قدم لینے لگا ہیر پیچھے ہونے لگی تمہیں کیا لگا تھا میں تم سے شادی۔ کروں گی وہ تو خدا کا شکر ہے مجھے خدا نے ایک اچھا انسان شوہر کے رکن عطا کر دیا اگر اس دن وہ زبردستی ا کر نکاح نہیں کرتا تو شاید میں اسی رات مر جاتی ہوں کیونکہ تم جیسے شخص سے شادی کرنا مرنے کے مترادف ہی تھا حماد کا چہرہ تذلیل سے سرخ ہوا اپنی ب** بند کرو وہ بھی چلایا اماں اور ابا اندر حسن کے پاس تھے شاید ان تک اواز نہیں جا رہی تھی کیونکہ اندر ٹی وی فل والیوم میں لگا ہوا تھا ب** نہیں کر رہی سچ کہہ رہی تمہاری انکھوں میں تو عورت کے لیے حیا ہی نہیں ہے تم کن خلیف نظروں سے مجھے گرتے تھے کیا مجھے اندازہ نہیں تھا ایک بات یاد رکھنا اللہ پاک نے عورت کو بہت خاص حص عطا کی ہے وہ ہر مرد کی نظریں پہچان جاتی ہیں تمہاری نظروں کی ہوس بھی جانتی۔ تھی میں صرف اپنے باپ کی عزت رکھنے کی خاطر شادی کے لیے مانی تھی ورنہ تم جیسے گھٹیا انسان سے شادی کرنے سے بہتر میں خودکشی کیے حرام موت کو گلے لگا لیتی ہیر بھی کچھ بھوسرے سے چلائی اس سے پہلے حماد کا ہاتھ اٹھتا اور ہیر کا منہ دبوش تھا راستے میں کسی نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا ہیر نے حیرت سے دیکھا احمر غصے سے لال ببوکا چہرہ لیے کھڑا تھا یقینا وہ ان کی ساری باتیں سن چکا تھا اور یہ بھی جان چکا تھا کہ ہیر نے کبھی کسی دوسرے کو اپنے دل میں بچایا ہی نہیں تھا حماد نے جیسے ہی احمر کو دیکھا اس کا خون خشک ہوا سر اپ یہاں حماد کے چہرے پر پہلی بار خوف نمودار ہوا تمہاری ہمت کیسی ہوئی میری بیوی کو ہاتھ لگانے کی وہ اتنی اونچی اواز میں چلایا کہ اس کے چھوٹے صحن۔ کے در و دیوار ہل کر رہ گئے اور حماد کو یہ نہیں پتہ تھا کہ ہیر کس کی بیوی بنی ہے وہ اپنے باس اپنے سامنے دیکھ کر حیران رہ گیا اس سے پہلے وہ کچھ کہنے کے لیے لب کھولتا اے عمر کا ہاتھ اٹھا اور ایک مکہ حماد کے منہ پر دے مارا اگر اج کے بعد تم اس گھر میں دکھائی دیے تو اگلے دن دیکھنے کے لیے نہیں بچوں گے ایمر غصے سدھاڑا اور تم ابھی اور اسی وقت صرف فارغ ہو کل سے کام بنانے کی ضرورت نہیں حماد کو ایمر کی کمپنی میں ہی اچھی پوسٹ پر جاب ملی تھی مگر اج اس کی بیوی پر گندی نظر ڈال کر وہ خود یہ گنوا چکا تھا نہیں پلیز سر مرزا ایسا مت کریں حماد فورا گرگرانے لگا جس شخص کی انکھوں میں حیا نہیں وہ میری کمپنی میں کام کرنے کا بھی روادار نہیں وہاں بہت ساری فیمیل ایمپلائیز کام کرتی ہیں تمہارا کیا بھروسہ کل کسی لڑکی کے ساتھ غلط حرکت کرو ہر لڑکی میرے لیے میری بہن جیسی ہے اب دفع ہو جاؤ یہاں سے ایمر غصے سے چلایا شوہر کی اواز سن کر اماں اور ابا بھی باہر ا چکے تھے ہیر کی انکھیں نم تھی انکھوں میں مان تھا اور وہ ماں نے احمر کیل کے تھا ابا نے خاموشی سے اماں کا ہاتھ پکڑا اور کمرے میں چلے گئے وہ ساری باتیں سن چکے تھے ابا تو بہت پہلے ہی کو معاف کر چکے تھے اماں نے بھی اپنا دل صاف کر لیا تھا اخر ہیر کی وجہ سے ہی تو ان کا حسن زندہ بچا تھا ہیر کی انکھوں میں نمی تھی مگر وہ نمی اج خوشی کے انسو تھے حماد کے جانے کے بعد وہیل کی طرف متوجہ ہوا تم ٹھیک تو ہو اس نے فکر۔میں ڈوبے لہجے میں پوچھا ہیر نے فورا زور شور سے اس بات میں سر ہلایا چھوٹے سے صحن میں وہ دونوں کھڑے تھے عصر کا وقت تھا ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھی ہیر اپنی نا ماںکوں سے اج اسے محبت سے دیکھ رہی تھی پھر وہ اگے بڑھی اور اس کے سینے سے لگ گئی میں بہت خوش قسمت ہوں جسے اپ جیسا شوہر ملا ہے بے شک تب میں اپ سے نکاح نہیں کرنا چاہتی تھی کیونکہ میں اپنے باپ کی عزت پر کوئی داغ نہیں لگنے دینا چاہتی تھی مگر خدا کی قسم میرے دل میں اپ سے پہلے کوئی شخص نہیں ایا اور ایمر حیران رہ گیا یعنی کہ وہ اس کے دل تک ا چکا تھا تم تم سچ کہہ رہی ہو نا اس نے بے یقینی سے پوچھا کہر نے فورا اس بات میں سر ہلایا میرے دل میں اور میری زندگی میں انےوالے اپ ہی پہلے اور اپ ہی اخری مرد ہیں اور احمر شیرازی کو لگا کسی نے اس کے کانوں میں چاشنی گھول دی ہو اس نے ہیر کو پوری قوت سے اپنے سینے میں بھینچا ہیر مسکرا کر رہ گئی پھر اس نے ہیر کے ماتھے پر لب رکھیں اپنے گھر چلے ایمر نے اس کے کان میں سرگوشی کی ہیر نے اس بات میں سر ہلایا اپ جہاں چاہیں گے وہاں چلوں گی اے میری ساری زندگی صرف اپ کے نام ہے وہ محبت سے.۔ بوجھل لہجے میں اپنے جذبات کا اظہار کر رہی تھی کیونکہ یہ وہ شخص تھا جس نے اسے عزت دی تھی ہاں اس کا نکاح کرنے کا طریقہ غلط تھا مگر اس نے ہیر کے دل میں اپنی مخلصی سے جگہ بنائی تھی نہ کہ زبردستی وہ اماں رب سے مل کر چلے گئے اج پہلی بار ہی گھر جانے کے لیے خوش تھی اج پہلی بات وہ اس گھر کو گھر سے اج پہلی بار اس نے خود کو خوش محسوس کیا تھا بے شک خدا بہترین کارساز ہے

 

error: Content is protected !!
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x